Maktabus Suffah Ⓡ
2.81K subscribers
1.07K photos
473 videos
365 files
2.49K links
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
  مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
  ♡ ㅤ    ❍ㅤ     ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ  ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ  ˢᵃᵛᵉ  ˢʰᵃʳᵉ
Download Telegram
بچوں کو جب تک معلم خود پڑھائے گا نہیں تب تک عمدگی نہیں آئے گی۔
اکثر مکاتب میں ہوتا یہ ہے کہ معلم صرف سبق سن لیتے ہیں اور بچوں سے کہہ دیتے ہیں کہ آگے کا یاد کر آجانا اس سے بچہ صحیح سے پڑھ ہی نہیں پاتا اور پانچ پانچ سال بچہ اسی قاعدہ پر ہی رہتا ہے اور اس کا وقت ایسے ہی ضائع ہوتا رہتا ہے ۔

نیچے مثال دیکھیے 👇
❤7
بچوں کو جب تک معلم خود پڑھائے گا نہیں تب تک عمدگی نہیں آئے گی۔
اکثر مکاتب میں ہوتا یہ ہے کہ معلم صرف سبق سن لیتے ہیں اور بچوں سے کہہ دیتے ہیں کہ آگے کا یاد کر آجانا اس سے بچہ صحیح سے پڑھ ہی نہیں پاتا اور پانچ پانچ سال بچہ اسی قاعدہ پر ہی رہتا ہے اور اس کا وقت ایسے ہی ضائع ہوتا رہتا ہے ۔

نیچے مثال دیکھیے 👇

▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
  مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
  ♡ ㅤ    ❍ㅤ     ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ  ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ  ˢᵃᵛᵉ  ˢʰᵃʳᵉ
❤4
4da84eab006a424fb525f32880ce65d7.mp4
5.2 MB
اولاد آخرت کا سکون کب بنے گی؟
مولانا حذیفہ وستانوی صاحب

▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
  مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
  ♡ ㅤ    ❍ㅤ     ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ  ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ  ˢᵃᵛᵉ  ˢʰᵃʳᵉ
* علمی مروت واخلاقیات*
(طلبہ علم کے لیے ایک عرب عالم کی فکر انگیز تحریر)

تحریر: ڈاکٹر عبدالکریم وُرَیࣿکات حفظہ اللہ
اردو ترجمانی: محمد یاسر عبداللہ (جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی)

علم محض حفظِ متون، کثرتِ روایات، مطالعہ کے تنوّع اور کتابیں جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک امانت اور مسئولیت ہے، حقیقی علم نفس کو پاکیزہ، روح کو بلند اور اخلاقی کو ترقی بخشتا ہے، یہ اوصاف، علم سے جدا اضافی امور نہیں، بلکہ علم کا حاصل اور جوہر ہیں، اگر کوئی شخص علمی مروّت سے مزیّن نہیں تو وہ خیر سے محروم اور درست راہ سے بھٹکا ہوا ہے، وہ خود اپنے لیے اور دوسرے انسانوں کے لیے وبالِ جان ہے۔

علمی مروّت، علم کی حقیقت سے جدا نہیں، امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کیا خوب کہہ گئے ہیں: *علم جب تمہارے لیے فائدہ مند نہ ہو تو نقصان دہ ہوگا۔* جو علم، نفس کی تہذیب نہ کرے، اور اسے (برے اخلاق سے) پاک نہ کرے، وہ بے برکت علم ہے، اس کا اثر کم ہوتا ہے، اور وہ جلد ہی رخصت ہوجاتا ہے۔

*عالمِ حقّانی کی پہچان یادداشتوں کی کثرت سے نہیں ہوتی، اس کی علامات یہ اعلی اوصاف ہیں: بلند اخلاق، سچی گفتگو، دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف، مخالفین کی عذر خواہی، ذاتی حملوں پر خاموشی اور حسد کی گندگی سے پاکیزگی۔*

علمی مروّت اور طالبِ علم کی علامت یہ ہے کہ صرف اہلِ علم کا نہیں، دشمنوں کا بھی احترام کرے، وہ مخالف کو بھی عزت دے اور اس کی عزت پر حملہ نہ کرے، وہ رائے پر تنقید کرتا ہو لیکن شخصیت پر کیچڑ نہ اچھالے، وہ جن سے کچھ سیکھے ان کی قدر کرے اور ان کی خوبیوں کا اعتراف کرے، کسی سے بحث مباحثہ کی نوبت آجائے تو اس کی یہی آرزو ہو کہ اللہ اس کی زبان سے حق کا اظہار کرائے۔

یہ ہوتی ہے عالم کی مروّت! علمی مروّت کی وجہ سے وہ ذاتیات تک نہیں پہنچتا، مخالف کی تذلیل نہیں کرتا، اور اپنے معاصروں یا کم عمروں پر بڑائی نہیں جتاتا۔

*دورِ حاضر میں طلبہ علم کی مروّت کو ختم کرنے کا ایک سبب، مشہور لوگوں کے بل بوتے شہرت حاصل کرنے کا مرض ہے،* کتنے طلبہ ہیں جو شہرت کے مذبح خانے میں مروّت کو ذبح کرچکے ہیں! کتنے مدّعیانِ علم ہیں جو صرف ردّ وقدح (اور طنز وتشنیع) کا فن ہی جانتے ہیں! وہ مشہور لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں؛ تاکہ ان کی بدولت اسٹیجوں کی چکا چوند تک رسائی حاصل کرسکیں!

یہ اس دور کی ایک آفت ہے، علمی مروّت ہی طلبہ علم کو اس سے بچاتی ہے، اور انہیں باور کراتی ہے کہ بے فائدہ باتوں سے خاموش رہنا اور دوسروں کا باج گزار نہ بننا بہادری ہے۔ *طنز وتشنیع کے دسترخوانوں اور  عزتوں کو نیلام کرتی مجلسوں سے علم حاصل نہیں ہوتا۔*

طالبِ علم کی مروّت یہ ہے کہ وہ دوسروں کو نفع پہنچائے اور کسی پر طعن وتشنیع نہ کرے، بامروّت عالم وہ ہے جو امتِ مسلمہ پر غیرت کھائے اور لوگوں سے حسد نہ کرے، جو اپنا وقت افکار کی تعمیر میں صرف کرے اور انسانیت کو  تباہی کی جانب نہ دھکیلے، جو نیچ اوصاف اور جذباتیت سے بلند ہو، وہ جانتا ہو کہ اس کا قلم امانت ہے، اور اس کی گفتگو ایک گواہی ہے، اسے یقین ہو کہ ایک روز اللہ تعالی اس سے دریافت کریں گے: تم نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟!

علمی مروّت، اخلاقی عیاشی کا نام نہیں، بلکہ یہ شرعی ضرورت اور فکری ذمہ داری ہے، ڈیجیٹل نمائش کے دور میں یہ اہلِ علم کا حقیقی امتحان ہے؛ کیونکہ اب ردّ وقدح اور طنز وتشنیع، شہرت کی سیڑھی بن چکے ہیں، *اگر کوئی حقیقی اہلِ علم میں شمار ہونا چاہتا ہو تو علم کو عبادت سمجھے، اپنے قلم کو پاک رکھے، اختلاف کو باعثِ رحمت جانے، اور خاموشی کو سببِ وقار خیال کرے۔*

اے اللہ، ہمیں علم سے مزیّن فرما، ہمارے دلوں کو کینہ سے پاک فرما، اور ہمیں بامروّت وباکمال معزّز علماء ربّانیین کی جماعت میں شامل فرما، آمین یا رب العالمین!

کاپی پیسٹ
ناشر
https://t.me/MSuffah
❤6
حقیقت معلوم کرنے ک لیے پڑھنا ضروری ہے، ورنہ وہی خرافات کا دلدل
👍8❤1
‏Maktabus Suffah کی جانب سے تصویر
👍4❤1
‏Maktabus Suffah کی جانب سے تصویر
‏Maktabus Suffah کی جانب سے تصویر
‏Maktabus Suffah کی جانب سے تصویر
‏Maktabus Suffah کی جانب سے تصویر
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہاے ےےے 🥰 ﷺ
جمعہ اسٹیٹس

▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
  مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
  ♡ ㅤ    ❍ㅤ     ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ  ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ  ˢᵃᵛᵉ  ˢʰᵃʳᵉ
یوم عاشوراء 10 محرم کا روزہ!
👆👆👆
ادغام شفوی