🌟 *MSuffah Online Store* 🌟
*آپ کے لیے بہترین پروڈکٹس، لاجواب قیمتوں پر!*
📚 *اردو کتابیں:* دلکش اور معیاری صفحات پر مشتمل کتابوں کا بے مثال مجموعہ اب رعایتی قیمت پر حاصل کریں۔
👕 *برانڈڈ کپڑے:* امپورٹ و ایکسپورٹ کے جدید اور اعلیٰ معیار کے خام کپڑے جو آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیں۔
🧴 *عطریات:* ہمارے اپنے برانڈ کے خاص اور دیرپا خوشبو والے عطریات جو آپ کے ہر دن کو خوشگوار بنائیں۔
🧢 *جدید ٹوپیاں:* بالکل نئی اور منفرد ڈیزائنز کی خوبصورت اسلامی ٹوپیاں جو آپ کے انداز کو اور بھی بہتر بنائیں۔
ایک بار اسٹور ضرور وزٹ کریں اور بہترین معیار کا خود تجربہ کریں۔
https://wa.me/c/918830665690
🔗 ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں:
🏢 *MSuffah Online Store* 🛒
https://chat.whatsapp.com/JEnnmAbUXpoDO42rfAX19i
*آپ کے لیے بہترین پروڈکٹس، لاجواب قیمتوں پر!*
📚 *اردو کتابیں:* دلکش اور معیاری صفحات پر مشتمل کتابوں کا بے مثال مجموعہ اب رعایتی قیمت پر حاصل کریں۔
👕 *برانڈڈ کپڑے:* امپورٹ و ایکسپورٹ کے جدید اور اعلیٰ معیار کے خام کپڑے جو آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیں۔
🧴 *عطریات:* ہمارے اپنے برانڈ کے خاص اور دیرپا خوشبو والے عطریات جو آپ کے ہر دن کو خوشگوار بنائیں۔
🧢 *جدید ٹوپیاں:* بالکل نئی اور منفرد ڈیزائنز کی خوبصورت اسلامی ٹوپیاں جو آپ کے انداز کو اور بھی بہتر بنائیں۔
ایک بار اسٹور ضرور وزٹ کریں اور بہترین معیار کا خود تجربہ کریں۔
https://wa.me/c/918830665690
🔗 ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں:
🏢 *MSuffah Online Store* 🛒
https://chat.whatsapp.com/JEnnmAbUXpoDO42rfAX19i
WhatsApp.com
View محمد زکریا اچلپوری's Catalog on WhatsApp
Learn more about their products & services
Maktabus Suffah Ⓡ
Photo
*ہندوستان میں پہلی بار چھپی*
*والد کا پیغام اولاد کے نام قدم بقدم*
نیٹ رعایت کے ساتھ : 450
پوسٹنگ : 80
صفحات : 570
ناشر : مکتبہ فاروق 8830665690
_____
🌸 *ایک انمول پیشکش* 🌸
*والد کا پیغام اولاد کے نام*
اولاد، والدین کے دل کا سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ہر والد کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اس کی اولاد نیک، صالح اور کامیاب ہو۔ اسی مقصد کے لئے والدین ہمیشہ اپنی اولاد کو قیمتی نصیحتیں کرتے ہیں، اور یہ وہی سنت ہے جس پر حضراتِ انبیاء علیہم السلام نے بھی عمل کیا۔
قرآنِ کریم میں انبیاء کرام کی اپنی اولاد کے لئے کی گئی نصیحتوں اور وصیتوں کا ذکر موجود ہے۔ اسی راہ پر چلتے ہوئے بزرگانِ دین، مشائخِ عظام اور علماءِ کرام نے بھی اپنی اولاد کو بہترین نصیحتیں اور ہدایتیں دیں تاکہ وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔
انہی انمول نصیحتوں اور وصیتوں کا نچوڑ اور خلاصہ *"والد کا پیغام اولاد کے نام"* کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک رہنمائے حیات ہے بلکہ ایک ایسا قیمتی تحفہ ہے جسے ہر والد اپنے بیٹے اور بیٹی کو دینا اپنے لئے باعثِ فخر سمجھے۔
*✅ یہ کتاب ہر مسلمان گھرانے کے لئے روشنی کا چراغ ہے۔*
*✅ ہر والدین کے لئے اپنی اولاد کو دینے کا بہترین ہدیہ ہے۔*
*✅ ایک ایسی امانت ہے جو نسلوں کو سنوار سکتی ہے۔*
*✅ اولاد کی بہترین تربیت کے لیے اس کتاب کو ضرور لیں ۔*
*✅ ہر نوجوان کو ایک بار ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔*
*✅ ہر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو یہ کتاب ضرور ہدیہ کرے ۔*
*✅ یہ کتاب ہر گھر کی زینت ہونا چاہیے۔*
📖 لہٰذا، آئیے! اس قیمتی پیغام کو گھر گھر پہنچائیں، اور اپنی اولاد کو دین و دنیا کی کامیابی کا حقیقی تحفہ دیں۔
_______
دنیا بھر میں گھر بیٹھے منگوا سکتے ہیں
رابطہ کریں مکتب الصفہ اچلپور
آرڈر کریں
https://wa.me/+918830665690
*والد کا پیغام اولاد کے نام قدم بقدم*
نیٹ رعایت کے ساتھ : 450
پوسٹنگ : 80
صفحات : 570
ناشر : مکتبہ فاروق 8830665690
_____
🌸 *ایک انمول پیشکش* 🌸
*والد کا پیغام اولاد کے نام*
اولاد، والدین کے دل کا سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ہر والد کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اس کی اولاد نیک، صالح اور کامیاب ہو۔ اسی مقصد کے لئے والدین ہمیشہ اپنی اولاد کو قیمتی نصیحتیں کرتے ہیں، اور یہ وہی سنت ہے جس پر حضراتِ انبیاء علیہم السلام نے بھی عمل کیا۔
قرآنِ کریم میں انبیاء کرام کی اپنی اولاد کے لئے کی گئی نصیحتوں اور وصیتوں کا ذکر موجود ہے۔ اسی راہ پر چلتے ہوئے بزرگانِ دین، مشائخِ عظام اور علماءِ کرام نے بھی اپنی اولاد کو بہترین نصیحتیں اور ہدایتیں دیں تاکہ وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔
انہی انمول نصیحتوں اور وصیتوں کا نچوڑ اور خلاصہ *"والد کا پیغام اولاد کے نام"* کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک رہنمائے حیات ہے بلکہ ایک ایسا قیمتی تحفہ ہے جسے ہر والد اپنے بیٹے اور بیٹی کو دینا اپنے لئے باعثِ فخر سمجھے۔
*✅ یہ کتاب ہر مسلمان گھرانے کے لئے روشنی کا چراغ ہے۔*
*✅ ہر والدین کے لئے اپنی اولاد کو دینے کا بہترین ہدیہ ہے۔*
*✅ ایک ایسی امانت ہے جو نسلوں کو سنوار سکتی ہے۔*
*✅ اولاد کی بہترین تربیت کے لیے اس کتاب کو ضرور لیں ۔*
*✅ ہر نوجوان کو ایک بار ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔*
*✅ ہر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو یہ کتاب ضرور ہدیہ کرے ۔*
*✅ یہ کتاب ہر گھر کی زینت ہونا چاہیے۔*
📖 لہٰذا، آئیے! اس قیمتی پیغام کو گھر گھر پہنچائیں، اور اپنی اولاد کو دین و دنیا کی کامیابی کا حقیقی تحفہ دیں۔
_______
دنیا بھر میں گھر بیٹھے منگوا سکتے ہیں
رابطہ کریں مکتب الصفہ اچلپور
آرڈر کریں
https://wa.me/+918830665690
WhatsApp.com
Share on WhatsApp
WhatsApp Messenger: More than 2 billion people
in over 180 countries use WhatsApp to stay in touch with friends and
family, anytime and anywhere. WhatsApp is free and offers simple, secure,
reliable messaging and calling, available…
in over 180 countries use WhatsApp to stay in touch with friends and
family, anytime and anywhere. WhatsApp is free and offers simple, secure,
reliable messaging and calling, available…
❤2
خطاب جمعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔31/ اکتوبر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ موئی کلاں پرتاپگڑھ 9506600725
دوستو بزرگو اور بھائیو!!!!!!
خدائے وحدہ لا شریک کی آخری(آسمانی،ربانی و الہامی) کتاب *قرآن مجید* ،کتاب ہدایت اور قانون شریعت بھی ہے اور اخلاق و موعظت بھی،دعاؤں کا مجموعہ بھی ہے، اور حکمت و دانائی کا خزانہ بھی،اور دیگر آسمانی صحیفوں و کتب الہیہ کی مجموعی صفتوں کا حامل بھی،اس قرآن کریم میں دین کامل کے تمام عقائد بھی ہیں اور مراسم عبادت بھی،تمام معاملات کے اخلاق و قوانین بھی ہیں، اور انسانی زندگی کے ہر شعبے اور گوشے کے لئے کامل ہدایات بھی،اسی لئے اللہ تعالی نے قرآن مجید کے بارے میں فرمایا : *ما فرطنا فی الکتاب من شئ*
ہم نے اس کتاب (ہدایت) میں کوئی چیز تشنہ اور باقی نہیں رکھا ۔
مکاں فانی مکیں آنی ازل تیرا ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے، تو جاوداں تو ہے
دوستو!
قرآن کریم حکمت و معرفت کا خزانہ اور پند و موعظت کا مجموعہ ہے، اس کی آیتیں محکم اور مضبوط سے مضبوط تر ہیں،بعض حکمت و مصلحت کے اعتبار سے مجمل اور متشابہ بھی ،یہ حق کا علم بردار ہے اور اہل تقویٰ اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت و رحمت کا سرچشمہ ہے ۔ *قرآن مجید* حق اور صراط مستقیم کا رہنما اور گائڈ ہے اور گمراہی اور بے راہ روی سے بچنے کا اہم ترین ذریعہ بھی ہے ۔
قرآن مجید اللہ کی سب سے بڑی، آخری اور مکمل کتاب ہے، یہ کسی علاقہ،خطہ، عہد یا رنگ و نسل کے لئے نہیں ہے، بلکہ تمام انسانوں کے لئے نازل کی گئی ہے ،ہر خطے ہر زمانے اور ہر رنگ و نسل کے لوگ اس کے مخاطب ہیں ،اللہ تعالی نے اس کے بارے میں ابتدا ہی میں یہ اعلان فرما دیا، کہ یہ تمام انسانوں کے لئے ہدایت و رہنمائی کی کتاب ہے ۔ جو اس سے ہدایت و رہنمائی حاصل کرنا چاہے ۔ ظاہر ہے کہ دنیا کا کوئی بھی راستہ اسی مسافر کے لئے صحیح اور سیدھا ہو سکتا ہے جو جاننے والوں کے بتانے یا نشان دہی کے مطابق اس پر چلے ۔
*قرآن مجید* کا پیغام عالمگیر آفاقی اور ابدی پیغام ہے، اس کے صفحات ایسی آیات سے لبریز ہیں، جن سے بندگان الہی کے دلوں میں توحید کا نور روشن ہوتا ہے ۔ اس کی آیتیں خدا سے محبت و تعلق میں جوش اور عبادت و ریاضت کا ولولہ پیدا کرتی ہیں ۔ قرآن مجید سے تعلق،اور وابستگی انسان کو اللہ سے جوڑتی اور تقویٰ والی زندگی گزارنے کا راستہ ہموار کرتی ہے اور راہ حق سے بھٹکنے نہیں دیتی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان حق رسالت سے حجة الوداع کے موقع پر فرمایا تھا :
*وانی قد ترکت فیکم ما لن تضلوا بعدہ ان اعتصمتم به کتاب اللہ*
اور بیشک میں نے تمہارے لئے ایسی کتاب چھوڑی ہے کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑ لو تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے ۔ اور وہ ہے کتاب اللہ ۔
اللہ تعالٰی نے اپنے اس کلام میں ایسی تاثیر اور کشش رکھی ہے کہ جو اسے سن لیتا ہے، وہ مسحور ہوجاتا ہے ،تلاوت کی آواز سننے والا بے خود اور مست ہوجاتا ہے، اس کا دل قرآن مجید کی عظمت و رفعت اور تقدس کے سامنے جھک جاتا ہے، اور وہ قرآن کا عاشق اورشیدائئ بن جاتا ہے ۔ تاریخ کے صفحات اور سیرت کے اوراق میں سینکڑوں واقعات و حکایات اس سے پر ہیں ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور طفیل بن عمرو الدوسی رضی اللہ عنہ کو اسی قرآن مجید کی تاثیر اور کشش نے اپنی طرف کھینچ لیا اور فورا حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ۔
دوستو بزرگو اور بھائیو!
*قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے، یہ انسانیت کے لئے ابدی پیغام اور زندہ دستور العمل ہے، یہ بیک وقت دماغ کو بھی مطمئن کرتی ہے اور بربط دل کو چھیڑتی بھی ہے ،یہ ایک انقلاب انگیز کتاب ہے،جیسے سورج کی تمازت میں کبھی کمی نہیں آسکتی اور سمندر کی وسعتوں کو کم نہیں کیا جاسکتا ،اسی طرح اس کتاب کی اثر انگیزی، اس کی تاثیر، دلوں کو زیر و زبر کر دینے کی صلاحیت اور فکر و نظر پر چھا جانے کی طاقت میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی،یہ رواں دواں زندگی میں انسان کی رہنمائی کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، اس لئے اس کی آب و تاب میں کوئی فرق نہیں آسکتا ،خود اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے ،جو اس بات کا اعلان ہے کہ قرآن مجید قیامت تک اپنی تمام تر خصوصیات و امتیازات کے ساتھ محفوظ رہے گا* ۔ ( ملخص و مستفاد حقائق اور غلط فہمیاں صفحہ ۲۲) *قرآن مجید* کی اس عظمت و رفعت اور تقدس و تاثیر کے باوجود آج مسلمانوں کا رشتہ قرآن مجید سے کمزور ہوتا جارہا ہے اور قرآن مجید کی تلاوت اور اس کی تعلیمات و ہدایات سے دوری ہی کا انجام اور نتیجہ ہے کہ ہم مسلمان تمام میدان میں اور زندگی کے ہر دوڑ میں پیچھے ہوگئے ہیں، قرآنی احکامات اور ربانی تعلیمات کو ترک کرنے ہی کی وجہ سے باطل طاقتیں ہمارے اوپر حاوی اور قابض ہیں ،اور ہم محکومی و غلامی کی زنجیروں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ذلیل و خوار ہو کر گمنامی اور بے وقعتی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ مسلمانوں کی رفعت و بلندی اور سرفرازی و
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ موئی کلاں پرتاپگڑھ 9506600725
دوستو بزرگو اور بھائیو!!!!!!
خدائے وحدہ لا شریک کی آخری(آسمانی،ربانی و الہامی) کتاب *قرآن مجید* ،کتاب ہدایت اور قانون شریعت بھی ہے اور اخلاق و موعظت بھی،دعاؤں کا مجموعہ بھی ہے، اور حکمت و دانائی کا خزانہ بھی،اور دیگر آسمانی صحیفوں و کتب الہیہ کی مجموعی صفتوں کا حامل بھی،اس قرآن کریم میں دین کامل کے تمام عقائد بھی ہیں اور مراسم عبادت بھی،تمام معاملات کے اخلاق و قوانین بھی ہیں، اور انسانی زندگی کے ہر شعبے اور گوشے کے لئے کامل ہدایات بھی،اسی لئے اللہ تعالی نے قرآن مجید کے بارے میں فرمایا : *ما فرطنا فی الکتاب من شئ*
ہم نے اس کتاب (ہدایت) میں کوئی چیز تشنہ اور باقی نہیں رکھا ۔
مکاں فانی مکیں آنی ازل تیرا ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے، تو جاوداں تو ہے
دوستو!
قرآن کریم حکمت و معرفت کا خزانہ اور پند و موعظت کا مجموعہ ہے، اس کی آیتیں محکم اور مضبوط سے مضبوط تر ہیں،بعض حکمت و مصلحت کے اعتبار سے مجمل اور متشابہ بھی ،یہ حق کا علم بردار ہے اور اہل تقویٰ اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت و رحمت کا سرچشمہ ہے ۔ *قرآن مجید* حق اور صراط مستقیم کا رہنما اور گائڈ ہے اور گمراہی اور بے راہ روی سے بچنے کا اہم ترین ذریعہ بھی ہے ۔
قرآن مجید اللہ کی سب سے بڑی، آخری اور مکمل کتاب ہے، یہ کسی علاقہ،خطہ، عہد یا رنگ و نسل کے لئے نہیں ہے، بلکہ تمام انسانوں کے لئے نازل کی گئی ہے ،ہر خطے ہر زمانے اور ہر رنگ و نسل کے لوگ اس کے مخاطب ہیں ،اللہ تعالی نے اس کے بارے میں ابتدا ہی میں یہ اعلان فرما دیا، کہ یہ تمام انسانوں کے لئے ہدایت و رہنمائی کی کتاب ہے ۔ جو اس سے ہدایت و رہنمائی حاصل کرنا چاہے ۔ ظاہر ہے کہ دنیا کا کوئی بھی راستہ اسی مسافر کے لئے صحیح اور سیدھا ہو سکتا ہے جو جاننے والوں کے بتانے یا نشان دہی کے مطابق اس پر چلے ۔
*قرآن مجید* کا پیغام عالمگیر آفاقی اور ابدی پیغام ہے، اس کے صفحات ایسی آیات سے لبریز ہیں، جن سے بندگان الہی کے دلوں میں توحید کا نور روشن ہوتا ہے ۔ اس کی آیتیں خدا سے محبت و تعلق میں جوش اور عبادت و ریاضت کا ولولہ پیدا کرتی ہیں ۔ قرآن مجید سے تعلق،اور وابستگی انسان کو اللہ سے جوڑتی اور تقویٰ والی زندگی گزارنے کا راستہ ہموار کرتی ہے اور راہ حق سے بھٹکنے نہیں دیتی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان حق رسالت سے حجة الوداع کے موقع پر فرمایا تھا :
*وانی قد ترکت فیکم ما لن تضلوا بعدہ ان اعتصمتم به کتاب اللہ*
اور بیشک میں نے تمہارے لئے ایسی کتاب چھوڑی ہے کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑ لو تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے ۔ اور وہ ہے کتاب اللہ ۔
اللہ تعالٰی نے اپنے اس کلام میں ایسی تاثیر اور کشش رکھی ہے کہ جو اسے سن لیتا ہے، وہ مسحور ہوجاتا ہے ،تلاوت کی آواز سننے والا بے خود اور مست ہوجاتا ہے، اس کا دل قرآن مجید کی عظمت و رفعت اور تقدس کے سامنے جھک جاتا ہے، اور وہ قرآن کا عاشق اورشیدائئ بن جاتا ہے ۔ تاریخ کے صفحات اور سیرت کے اوراق میں سینکڑوں واقعات و حکایات اس سے پر ہیں ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور طفیل بن عمرو الدوسی رضی اللہ عنہ کو اسی قرآن مجید کی تاثیر اور کشش نے اپنی طرف کھینچ لیا اور فورا حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ۔
دوستو بزرگو اور بھائیو!
*قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے، یہ انسانیت کے لئے ابدی پیغام اور زندہ دستور العمل ہے، یہ بیک وقت دماغ کو بھی مطمئن کرتی ہے اور بربط دل کو چھیڑتی بھی ہے ،یہ ایک انقلاب انگیز کتاب ہے،جیسے سورج کی تمازت میں کبھی کمی نہیں آسکتی اور سمندر کی وسعتوں کو کم نہیں کیا جاسکتا ،اسی طرح اس کتاب کی اثر انگیزی، اس کی تاثیر، دلوں کو زیر و زبر کر دینے کی صلاحیت اور فکر و نظر پر چھا جانے کی طاقت میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی،یہ رواں دواں زندگی میں انسان کی رہنمائی کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، اس لئے اس کی آب و تاب میں کوئی فرق نہیں آسکتا ،خود اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے ،جو اس بات کا اعلان ہے کہ قرآن مجید قیامت تک اپنی تمام تر خصوصیات و امتیازات کے ساتھ محفوظ رہے گا* ۔ ( ملخص و مستفاد حقائق اور غلط فہمیاں صفحہ ۲۲) *قرآن مجید* کی اس عظمت و رفعت اور تقدس و تاثیر کے باوجود آج مسلمانوں کا رشتہ قرآن مجید سے کمزور ہوتا جارہا ہے اور قرآن مجید کی تلاوت اور اس کی تعلیمات و ہدایات سے دوری ہی کا انجام اور نتیجہ ہے کہ ہم مسلمان تمام میدان میں اور زندگی کے ہر دوڑ میں پیچھے ہوگئے ہیں، قرآنی احکامات اور ربانی تعلیمات کو ترک کرنے ہی کی وجہ سے باطل طاقتیں ہمارے اوپر حاوی اور قابض ہیں ،اور ہم محکومی و غلامی کی زنجیروں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ذلیل و خوار ہو کر گمنامی اور بے وقعتی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ مسلمانوں کی رفعت و بلندی اور سرفرازی و
❤1
کامرانی مضمر اور پوشیدہ تھا، قرآن مجید سے وابستگی پر اور جب قران مجید سے ہماری وابستگی اور ہمارا رشتہ و تعلق کمزور ہوگیا تو ذلیل و خوار اور رسوا ہو گئے ،علامہ اقبال مرحوم نے اپنے ایک لافانی شعر اور نغمہ میں کہا تھا :
وہ زمانےمیں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
افسوس آج امت مسلمہ *قرآن مجید* کی طرف سے غفلت کا شکار ہے ،اس کو سمجھنا اس پر غور و فکر کرنا اور اس کے معانی مطالب اور پیغام تک رسائی حاصل کرنا تو دور کی بات ہے، وہ اس کی تلاوت سے بھی بہت حد تک بے نیاز ہوگئ ہے ۔
*آج* قرآن مجید کے ساتھ ہمارا معاملہ، ہمارا سلوک اور ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم نے اس کو ہدایت و رشد کی کتاب نہ سمجھ کر قرآن خوانی کی کتاب اور تعویذ و گنڈے کی کتاب سمجھ بیٹھے ہیں ،گھروں میں تو قرآن موجود ہے، لیکن اس کو صرف کتاب تبرک سمجھ کر خوبصورت، قیمتی اور عمدہ غلافوں میں سجا کر طاقوں کی زینت بنا دیا گیا ۔ قرآن ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟ اس میں کیا پیغام ہے،؟ اور ہماری دنیوی اور اخروی زندگی کی کامیابی کا کیا کیا سامان ہے؟ اس میں ہے، مشکل اور کٹھن حالات میں ہمیں قرآن کیا راہ بتاتا اور کیا رہنمائی کرتا ہے؟ اس کی طرف ہماری کوئی توجہ ہی نہیں ہے ۔ اور نہ اس طرف ہماری نگاہ جاتی ہے ۔ جب کہ *قرآن مجید* کی تلاوت کرنا،اس کے معنی و مفہوم اور پیغام کو سمجھنا اور سمجھانا، اس کی تعلیمات کو انسانوں تک پہنچانا، امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کی ذمہ داری ہے ۔ *قرآن مجید* کا ہم پر یہ ایسا حق ہے ،جس کی جواب دہی سے کوئی بچ نہیں سکتا ۔ اس کے لئے ہر ایک کو اپنی صلاحیت استعداد اور استطاعت کے مطابق اپنے خالق و مالک کے سامنے مسئول ہونا پڑے گا ۔ قرآنی تعلیمات کو فروغ دینا اس کو عام کرنا اور امت تک اس امانت کو صحیح ڈھنگ سے پہنچانا،ہماری زندگی کے اہم فرائض میں سے ہے،یہ کام ہم تحریر تقریر تدریس نجی گفتگوؤں اور عام ملاقات میں مکالموں کے ذریعہ انجام دے سکتے ہیں ۔
*ہم* اپنے اندر یہ یقین اور ایمان بھی پیدا کریں کہ *قرآن مجید* وہ ہتھیار ہے، اور یہ وہ آلہ ہے ،جس کے ذریعے ہم مسلمان عروج و بلندی اور رفعت و ترقی کے مقام کو پا سکتے ہیں ۔ ہماری عظمت و رفعت اور سر بلندی کا راز اسی کتاب ہدایت میں موجود ہے ،اس کی تعلیمات پر عمل کرکے ذلتیں کافور ہوسکتی ہیں ۔ غیر اسلامی طاقتوں کو مہر بند کیا جاسکتا ہے ۔ ان کے اعتراضات اور غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ اپنی پریشانیوں اور مصیبتوں کا اس سے حل نکالا جاسکتا ہے ۔
*انگلینڈ* کی رہنے والی *محترمہ گرفتھس* نے کیا خوب حقیقت کی ترجمانی کی ہے وہ لکھتی ہیں :
*میرے نزدیک قرآن پاک ہیرے جواہرات کی ایسی کان ہے ،جو کبھی ختم نہ ہوگی اور قیامت تک ساری انسانیت کو سیراب کرتی رہے گی ۔ یہ لازوال رہنمائی کا ایک ذریعہ ہے ،جو انسانی زندگی کے متعلق ایک ایک مسئلے میں رہبری کا فریضہ انجام دیتا ہے ،اس سے وابستہ ہوکر نہ کوئی انسان گمراہ ہوگا اور نہ اسے کسی پریشانی سے سابقہ پیش آئے گا ۔* ( قرآن اور ہم از نسیم غازی فلاحی)
اس سلسلے میں *شیخ الھند مولانا محمود حسن رح* کی فکری و قلبی آواز بھی ہمیں مہمیز لگا رہی ہے، آپ جب مالٹا کی اسیری سے رہائی پانے کے بعد واپس آئے تو پورے درد اور طاقت سے یہ فرمایا تھا :
*میں نے جیل ( مالٹا) کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان آج دینی و دنیاوی اعتبار سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو میری سمجھ میں اس کے دو اسباب آئے ۔ ایک تو مسلمانوں کا قرآن مجید کا چھوڑ دینا ، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی ۔ اس لئے میں مالٹا جیل سے عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اسی کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظا و معنا عام کیا جائے ۔ بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مراکز بستی بستی قائم کئے جائیں ۔ بڑوں کو* *عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معنی و مفہوم سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے* ۔ *اس لئے ہر خاص و عام اہل اسلام کو لازم ہے کہ اپنے اپنے درجے کے مطابق کلام اللہ کو سمجھنے میں کوتاہی نہ کرے* ۔ ( مسلمانوں پر قرآن کا حق )
آج ضرورت ہے کہ مسلمان پھر پچھلی زندگی کی طرف واپس آئے اور خیر القرون کی زندگی کو نمونہ بنا کر اس کو اختیار کرے ،قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا مشن بنالے ۔اس کو محض طاق نسیاں کی زینت نہ بنائے بلکہ اس پر عمل کرکے ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ ثابت کردے کہ ابھی مسلمان کے اندر طاقت ہے ابھی اس کا ایمان دنیا کے ظاہر اسباب و وسائل سے زیادہ طاقتور ہے ،شرط ہے کہ وہ قرآن کا شیدائی ہو اور گفتار و کردار کا غازی ہو ۔ اس حقیقت کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ عزت و شوکت اور ہدایت نیک نامی و سرفرازی اقبال مندی و سربلندی صرف اور صرف قرآن کریم جیسی کتاب ہدایت پر عمل کرنے سے حاصل ہوگی، کیونکہ کتاب وسنت کا اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید ہی سے کچھ لوگوں کو رتبئہ بلند عطا کرتا ہے
وہ زمانےمیں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
افسوس آج امت مسلمہ *قرآن مجید* کی طرف سے غفلت کا شکار ہے ،اس کو سمجھنا اس پر غور و فکر کرنا اور اس کے معانی مطالب اور پیغام تک رسائی حاصل کرنا تو دور کی بات ہے، وہ اس کی تلاوت سے بھی بہت حد تک بے نیاز ہوگئ ہے ۔
*آج* قرآن مجید کے ساتھ ہمارا معاملہ، ہمارا سلوک اور ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم نے اس کو ہدایت و رشد کی کتاب نہ سمجھ کر قرآن خوانی کی کتاب اور تعویذ و گنڈے کی کتاب سمجھ بیٹھے ہیں ،گھروں میں تو قرآن موجود ہے، لیکن اس کو صرف کتاب تبرک سمجھ کر خوبصورت، قیمتی اور عمدہ غلافوں میں سجا کر طاقوں کی زینت بنا دیا گیا ۔ قرآن ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟ اس میں کیا پیغام ہے،؟ اور ہماری دنیوی اور اخروی زندگی کی کامیابی کا کیا کیا سامان ہے؟ اس میں ہے، مشکل اور کٹھن حالات میں ہمیں قرآن کیا راہ بتاتا اور کیا رہنمائی کرتا ہے؟ اس کی طرف ہماری کوئی توجہ ہی نہیں ہے ۔ اور نہ اس طرف ہماری نگاہ جاتی ہے ۔ جب کہ *قرآن مجید* کی تلاوت کرنا،اس کے معنی و مفہوم اور پیغام کو سمجھنا اور سمجھانا، اس کی تعلیمات کو انسانوں تک پہنچانا، امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کی ذمہ داری ہے ۔ *قرآن مجید* کا ہم پر یہ ایسا حق ہے ،جس کی جواب دہی سے کوئی بچ نہیں سکتا ۔ اس کے لئے ہر ایک کو اپنی صلاحیت استعداد اور استطاعت کے مطابق اپنے خالق و مالک کے سامنے مسئول ہونا پڑے گا ۔ قرآنی تعلیمات کو فروغ دینا اس کو عام کرنا اور امت تک اس امانت کو صحیح ڈھنگ سے پہنچانا،ہماری زندگی کے اہم فرائض میں سے ہے،یہ کام ہم تحریر تقریر تدریس نجی گفتگوؤں اور عام ملاقات میں مکالموں کے ذریعہ انجام دے سکتے ہیں ۔
*ہم* اپنے اندر یہ یقین اور ایمان بھی پیدا کریں کہ *قرآن مجید* وہ ہتھیار ہے، اور یہ وہ آلہ ہے ،جس کے ذریعے ہم مسلمان عروج و بلندی اور رفعت و ترقی کے مقام کو پا سکتے ہیں ۔ ہماری عظمت و رفعت اور سر بلندی کا راز اسی کتاب ہدایت میں موجود ہے ،اس کی تعلیمات پر عمل کرکے ذلتیں کافور ہوسکتی ہیں ۔ غیر اسلامی طاقتوں کو مہر بند کیا جاسکتا ہے ۔ ان کے اعتراضات اور غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ اپنی پریشانیوں اور مصیبتوں کا اس سے حل نکالا جاسکتا ہے ۔
*انگلینڈ* کی رہنے والی *محترمہ گرفتھس* نے کیا خوب حقیقت کی ترجمانی کی ہے وہ لکھتی ہیں :
*میرے نزدیک قرآن پاک ہیرے جواہرات کی ایسی کان ہے ،جو کبھی ختم نہ ہوگی اور قیامت تک ساری انسانیت کو سیراب کرتی رہے گی ۔ یہ لازوال رہنمائی کا ایک ذریعہ ہے ،جو انسانی زندگی کے متعلق ایک ایک مسئلے میں رہبری کا فریضہ انجام دیتا ہے ،اس سے وابستہ ہوکر نہ کوئی انسان گمراہ ہوگا اور نہ اسے کسی پریشانی سے سابقہ پیش آئے گا ۔* ( قرآن اور ہم از نسیم غازی فلاحی)
اس سلسلے میں *شیخ الھند مولانا محمود حسن رح* کی فکری و قلبی آواز بھی ہمیں مہمیز لگا رہی ہے، آپ جب مالٹا کی اسیری سے رہائی پانے کے بعد واپس آئے تو پورے درد اور طاقت سے یہ فرمایا تھا :
*میں نے جیل ( مالٹا) کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان آج دینی و دنیاوی اعتبار سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو میری سمجھ میں اس کے دو اسباب آئے ۔ ایک تو مسلمانوں کا قرآن مجید کا چھوڑ دینا ، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی ۔ اس لئے میں مالٹا جیل سے عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اسی کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظا و معنا عام کیا جائے ۔ بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مراکز بستی بستی قائم کئے جائیں ۔ بڑوں کو* *عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معنی و مفہوم سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے* ۔ *اس لئے ہر خاص و عام اہل اسلام کو لازم ہے کہ اپنے اپنے درجے کے مطابق کلام اللہ کو سمجھنے میں کوتاہی نہ کرے* ۔ ( مسلمانوں پر قرآن کا حق )
آج ضرورت ہے کہ مسلمان پھر پچھلی زندگی کی طرف واپس آئے اور خیر القرون کی زندگی کو نمونہ بنا کر اس کو اختیار کرے ،قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا مشن بنالے ۔اس کو محض طاق نسیاں کی زینت نہ بنائے بلکہ اس پر عمل کرکے ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ ثابت کردے کہ ابھی مسلمان کے اندر طاقت ہے ابھی اس کا ایمان دنیا کے ظاہر اسباب و وسائل سے زیادہ طاقتور ہے ،شرط ہے کہ وہ قرآن کا شیدائی ہو اور گفتار و کردار کا غازی ہو ۔ اس حقیقت کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ عزت و شوکت اور ہدایت نیک نامی و سرفرازی اقبال مندی و سربلندی صرف اور صرف قرآن کریم جیسی کتاب ہدایت پر عمل کرنے سے حاصل ہوگی، کیونکہ کتاب وسنت کا اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید ہی سے کچھ لوگوں کو رتبئہ بلند عطا کرتا ہے
اور اسی سے کچھ لوگوں کو بے راہ اور گمراہ کردیتا ہے ۔۔
خدا کرے یہ حقیقت ہمارے ذہنوں میں بیٹھ جائے اور ہم سب اس پر عمل کرنا شروع کر دیں ۔ آمین
خدا کرے یہ حقیقت ہمارے ذہنوں میں بیٹھ جائے اور ہم سب اس پر عمل کرنا شروع کر دیں ۔ آمین
👍2
Copied
والدین متوجہ ہوں ⚠️
لڑکا دس سال کا ہوجائے تو اسے والد کے حوالے کردیں عورتوں کی محفلوں سے الگ کردیں....!!
گاڑی کا ٹائر بدلا جا رہا ہے تو اسے سکھاؤ،
مارکیٹ سے سامان لانا ہے تو اسے لے کر جائیں
اور بتائیں کہ جاؤ فلاں فلاں چیزیں لو
اور ساتھ ساتھ سمجھاتے رہو۔
دس سال کے بچے کو پتا ہونا چاہیے کہ
آلو پیاز کی قیمت کیا ہے ؟
قریبی دکان کہاں پر ہے،
فلاں کا گھر کونسا ہے،
کونسا مکینک اچھا کام کرتا ہے،
گھر آئے مرد مہمانوں کا کیسے استقبال کرنا ہے۔
اس کے ساتھ اپنے کپڑے استری کرنا،
اپنا بستر بنانا،
ضرورت کے وقت اپنے لئے کھانا گرم کرنا،
اپنا سبق وقت پر یاد کرنا،
وقت پر سونا وقت پر جاگنا،
یہ صرف کرنی کی باتیں نہیں ہیں اس پر عمل کرنا ہے۔
دس سال کا بچہ اب ایک عشرہ آگے آچکا ہےاب اسے کچھ نیا کرنے کو دل کرتا ہے اب اس کے لئے صرف ماں باپ کا پیار کافی نہیں ہوتا ہے۔
اس عمر میں مخلوط تقریبوں میں لے جانے سے احتیاط کریں اور کوشش کریں کہ جب خواتین کا کوئی پروگرام ہو تو بچے کو کسی اور دلچسپ سے کام میں مصروف کردو اور یہ سب کچھ پیار محبت سے کروانا ہے کہ بچے کو احساس ہو کہ یہ سب میرے خود کے لئے بہتر ہے نہ کہ اسے نوکروں کی طرح حکم دو۔
اگر آپ اسے درست کاموں میں مصروف نہیں کریں گے تو وہ خود اپنے لئے کچھ دلچسپیاں تلاش کرے گا نئے دوست بنائے گا اور ایسی سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرے گا جو والدین اس کے لئے بالکل پسند نہیں کریں گے۔
بچے کی تربیت کریں گے تو کل وہ آپ کو سود سمیت لوٹائے گا اور اگر صرف کھانے پینے پر دھیان دوگے تو پھر چیختے چلاتے رہ جاو گے کہ ہم نے تم پر خرچ کیا ہے پڑھایا لکھایا ہے لیکن ان پر اثر نہیں ہوگا اس لئے ان کو وقت دیں نیندیں قربان کریں۔
یہ کام مشکل ہے، بالکل آسان نہیں ہے لیکن یہ کرنا ہے اگر آپ کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اور والدین کے رتبے پر فائز کیا ہے تو جان مت چھڑائیں، اس عہدے کا پاس رکھیں۔
اچھی تربیت کرنے سے ہی یہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک اور ممکنہ طور پر پرہیزگاروں کی رہنما بن سکتی ہے۔
*ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریاتنا قرہ الاعین وجعلنا للمتقین اماما۔* آمین
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
والدین متوجہ ہوں ⚠️
لڑکا دس سال کا ہوجائے تو اسے والد کے حوالے کردیں عورتوں کی محفلوں سے الگ کردیں....!!
گاڑی کا ٹائر بدلا جا رہا ہے تو اسے سکھاؤ،
مارکیٹ سے سامان لانا ہے تو اسے لے کر جائیں
اور بتائیں کہ جاؤ فلاں فلاں چیزیں لو
اور ساتھ ساتھ سمجھاتے رہو۔
دس سال کے بچے کو پتا ہونا چاہیے کہ
آلو پیاز کی قیمت کیا ہے ؟
قریبی دکان کہاں پر ہے،
فلاں کا گھر کونسا ہے،
کونسا مکینک اچھا کام کرتا ہے،
گھر آئے مرد مہمانوں کا کیسے استقبال کرنا ہے۔
اس کے ساتھ اپنے کپڑے استری کرنا،
اپنا بستر بنانا،
ضرورت کے وقت اپنے لئے کھانا گرم کرنا،
اپنا سبق وقت پر یاد کرنا،
وقت پر سونا وقت پر جاگنا،
یہ صرف کرنی کی باتیں نہیں ہیں اس پر عمل کرنا ہے۔
دس سال کا بچہ اب ایک عشرہ آگے آچکا ہےاب اسے کچھ نیا کرنے کو دل کرتا ہے اب اس کے لئے صرف ماں باپ کا پیار کافی نہیں ہوتا ہے۔
اس عمر میں مخلوط تقریبوں میں لے جانے سے احتیاط کریں اور کوشش کریں کہ جب خواتین کا کوئی پروگرام ہو تو بچے کو کسی اور دلچسپ سے کام میں مصروف کردو اور یہ سب کچھ پیار محبت سے کروانا ہے کہ بچے کو احساس ہو کہ یہ سب میرے خود کے لئے بہتر ہے نہ کہ اسے نوکروں کی طرح حکم دو۔
اگر آپ اسے درست کاموں میں مصروف نہیں کریں گے تو وہ خود اپنے لئے کچھ دلچسپیاں تلاش کرے گا نئے دوست بنائے گا اور ایسی سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرے گا جو والدین اس کے لئے بالکل پسند نہیں کریں گے۔
بچے کی تربیت کریں گے تو کل وہ آپ کو سود سمیت لوٹائے گا اور اگر صرف کھانے پینے پر دھیان دوگے تو پھر چیختے چلاتے رہ جاو گے کہ ہم نے تم پر خرچ کیا ہے پڑھایا لکھایا ہے لیکن ان پر اثر نہیں ہوگا اس لئے ان کو وقت دیں نیندیں قربان کریں۔
یہ کام مشکل ہے، بالکل آسان نہیں ہے لیکن یہ کرنا ہے اگر آپ کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اور والدین کے رتبے پر فائز کیا ہے تو جان مت چھڑائیں، اس عہدے کا پاس رکھیں۔
اچھی تربیت کرنے سے ہی یہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک اور ممکنہ طور پر پرہیزگاروں کی رہنما بن سکتی ہے۔
*ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریاتنا قرہ الاعین وجعلنا للمتقین اماما۔* آمین
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
❤1
السلامُ علیکم
آپ کے خیال میں بچوں کی تربیت میں سب اہم چیز کیا ہے؟
کمینٹ میں بتائیں
آپ کے خیال میں بچوں کی تربیت میں سب اہم چیز کیا ہے؟
کمینٹ میں بتائیں
Maktabus Suffah Ⓡ
Photo
افریقی لوگ
دوسرے درجے کے انسان نہیں ہیں!
وہ ہمارے بھائی ہیں، اور اسلام کے آغاز ہی سے صفِ اوّل میں شامل رہے ہیں۔
اسلام کی پہلی شہیدہ ایک افریقی عورت *سمیہ بنت خیاط* تھیں، جنہیں *ابو جہل* نے نیزہ مار کر ان کی عصمت والے مقام پر شہید کیا۔
اسلام کے پہلے مؤذن *بلال بن رباح* تھے، جو ایک افریقی تھے اور رسول اللہ ﷺ کے مؤذن تھے۔
اسلام قبول کرنے والا پہلا بادشاہ بھی ایک افریقی تھا: *اصحمة النجاشی*۔
رسول اللہ ﷺ کی پرورش اور دیکھ بھال کرنے والی بھی ایک افریقی خاتون تھیں: *ام ایمن*۔
اسلام افریقہ میں اس وقت داخل ہو چکا تھا جب مدینہ میں ابھی اسلام داخل نہیں ہوا تھا، کیونکہ *ہجرتِ حبشہ*، ہجرتِ مدینہ سے پہلے ہوئی تھی۔
*مسَیلمہ کذاب* کو قتل کرنے والا شخص بھی ایک افریقی تھا: *وحشی رضی اللہ عنہ*، جنہوں نے حضرت *حمزہ* کو احد میں شہید کیا تھا لیکن بعد میں مسلمان ہو کر اسلام کے دشمن کو قتل کیا۔
*اسلم الحبشی* چرواہا تھے، جو ایک یہودی کے غلام تھے، *خیبر* کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، اسلام قبول کیا اور اسی دن شہادت کا درجہ پایا۔
*اللہ ان سب سے راضی ہو۔*
افریقہ اور افریقی
اسلام کی تاریخ کی ابتدا سے ہی صفِ اوّل میں موجود رہے ہیں۔
افریقی اور ہم برابر ہیں، بھائی بھائی ہیں۔
ہمیں ان کے قتلِ عام اور مصائب پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
سوڈان سے غزہ تک
دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہم سب ایک امت ہے
ایک جسم کی مانند ہے
ہم میں سے کوئی بھی تکلیف میں ہوگا تو ہم کیسے سکون سے رہ سکتے ہیں
اپنے سوڈانی بہن بھائیوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا
اختک۔۔۔ع۔۔خان
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
دوسرے درجے کے انسان نہیں ہیں!
وہ ہمارے بھائی ہیں، اور اسلام کے آغاز ہی سے صفِ اوّل میں شامل رہے ہیں۔
اسلام کی پہلی شہیدہ ایک افریقی عورت *سمیہ بنت خیاط* تھیں، جنہیں *ابو جہل* نے نیزہ مار کر ان کی عصمت والے مقام پر شہید کیا۔
اسلام کے پہلے مؤذن *بلال بن رباح* تھے، جو ایک افریقی تھے اور رسول اللہ ﷺ کے مؤذن تھے۔
اسلام قبول کرنے والا پہلا بادشاہ بھی ایک افریقی تھا: *اصحمة النجاشی*۔
رسول اللہ ﷺ کی پرورش اور دیکھ بھال کرنے والی بھی ایک افریقی خاتون تھیں: *ام ایمن*۔
اسلام افریقہ میں اس وقت داخل ہو چکا تھا جب مدینہ میں ابھی اسلام داخل نہیں ہوا تھا، کیونکہ *ہجرتِ حبشہ*، ہجرتِ مدینہ سے پہلے ہوئی تھی۔
*مسَیلمہ کذاب* کو قتل کرنے والا شخص بھی ایک افریقی تھا: *وحشی رضی اللہ عنہ*، جنہوں نے حضرت *حمزہ* کو احد میں شہید کیا تھا لیکن بعد میں مسلمان ہو کر اسلام کے دشمن کو قتل کیا۔
*اسلم الحبشی* چرواہا تھے، جو ایک یہودی کے غلام تھے، *خیبر* کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، اسلام قبول کیا اور اسی دن شہادت کا درجہ پایا۔
*اللہ ان سب سے راضی ہو۔*
افریقہ اور افریقی
اسلام کی تاریخ کی ابتدا سے ہی صفِ اوّل میں موجود رہے ہیں۔
افریقی اور ہم برابر ہیں، بھائی بھائی ہیں۔
ہمیں ان کے قتلِ عام اور مصائب پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
سوڈان سے غزہ تک
دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہم سب ایک امت ہے
ایک جسم کی مانند ہے
ہم میں سے کوئی بھی تکلیف میں ہوگا تو ہم کیسے سکون سے رہ سکتے ہیں
اپنے سوڈانی بہن بھائیوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا
اختک۔۔۔ع۔۔خان
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
❤5
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
قناعت کیا ہے؟
استاذ عبدالعزیز ناصر صاحب
فاضل مدینہ یونیور سیٹی
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
استاذ عبدالعزیز ناصر صاحب
فاضل مدینہ یونیور سیٹی
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ
مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ
Maktabus Suffah Ⓡ
👇🔻👇🔻👇🔻👇
www.MSuffah.com
https://telegram.me/MSuffah
https://youtube.com/@msuffah
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماشاءاللہ ۔ اللہ تعالی کے فضل سے چاروں کلاسوں کا پلستر مکمل ہو چکا