علم و کتاب
8.03K subscribers
1.14K photos
82 videos
2.37K files
6.26K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
مورخہ 22 ستمبر 1979ء مفکر اسلام مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ کی رحلت پر بی بی سی اردو پر براڈکاسٹر علی احمد نے مولانا مرحوم پر ایک پروگرام پیش کیا تھا، جس میں الطاف گوہر مرحوم نے اپنا تاثراتی مضمون " عزیز جہاں تھا" پیش کیا تھا۔ جسے ہم نے اس وقت ریڈیو سے ریکارڈ کیا تھا۔
الطاف گوہر کا شمار پاکستان کے دو چار مایہ ناز دماغوں میں ہوتا ہے، آپ نے ایوب خان کے دور میں مشیر اطلاعات کی حیثیت سے بڑی شہرت پائی تھی۔ اور پھر ذو الفقار علی بھٹو کے دور میں ابتلا وامتحان سے بھی گذرے تھے۔
الطاف گوہر مرحوم نے مولانا مودودی پر برجستہ اور سہل ممتنع میں جو تحریر پیش کی تھی، وہ مولانا پر لکھے گئے بہترین خاکوں میں شمار ہوتی ہیں۔ امید کہ یہ تحریر الطاف گوہر کی اپنی آواز میں سامعین کو پسند آئے گی۔
لنک بھٹکلیس ڈاٹ کام
https://www.youtube.com/watch?v=0P_xZBv2aro&list=PL5AFF3B0018DDC975&index=113
❤2
کلام شاعر بزبان شاعر
سید اقبال عظیم
کہاں میں کہاں مدح ذات گرامی
لنک اردو اڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=kahan-main-kahan-madh-zat-e-girami, Kahan Main kahan Madh Zat e Girami
شاعر کی آواز میں مزید (38) نعتیں اور غزلیں سننے کے لئے کلک کریں
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=iqbal-azeem&t=
آج اردو کے مایہ ناز نعت و غزل گو شاعر سید اقبال عظیم کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ 22 ستمبر 2000ء کو ہوئی تھی،اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے، آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ کلام اردو آڈیو ڈاٹ کام سے پیش کیا جارہا ہے۔
عبد المتین منیری
علم وکتاب
❤1
وفیات مورخہ:ستمبر /23
1865ء  رضا علی خان۔  مولانا مفتی ،اعلی حضرت احمد رضا خان کے دادا
1873ء  محمد مہدی واصف مدراسی۔  عالم دین
1966ء  علی عبد الرزاق۔  مصری مصنف
1973ء  تقدس علی (سید)۔   ،
1975ء  غلام حسنین چشتی۔  شاہ
1986ء  الطاف علی بریلوی(سید)۔  ادیب،صحافی
1988ء  سالک الہاشمی (سید عبداللہ ہاشمی )۔  علیگ
1989ء  شاعر لکھنوی (حسن پاشا )۔  شاعر
1989ء  محمد یحییٰ منصور پوری (سید)۔  نواب
1989ء  میاں محمد بشیر۔   ،
1991ء  ایچ بھی کھوکھر۔   ،
2003ء  ہارون اسلام آبادی۔  بنگلہ دیشی عالم دین
2004ء  تابش دہلوی (سید مسعود الحسن)۔  شاعر
2006ء  باقر مہدی۔  شاعر، نقاد
2020ء  نور الدین عتر۔  شامی عالم حدیث
2021ء  امین الحق۔  حاجی
2021ء  محمد عمر خطیبی۔  بھٹکلی عالم دین
 
 
Https://telegram.me/ilmokitab
مہکتی کتابیں

نام کتاب: گنج ہائے گرانمایہ
مصنف: رشید احمد صدیقی
صنف: خاکہ نگاری
ناشر: نگارشات بک اسٹور دیوبند

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

’’کس بلا کے بولنے اور لکھنے والے تھے۔ بولتے تو معلوم ہوتا بوالہول کی آواز اہرام مصر سے ٹکرا رہی ہے، لکھتے تو معلوم ہوتا کرپ کے کارخانے میں توپیں ڈھل رہی ہیں یا پھر شاہجہاں کے ذہن میں تاج کا نقشہ مرتب ہورہا ہے۔‘‘

مولانا محمد علی جوہر کی شان میں مرحوم رشید احمد صدیقی کی یہ تان پڑھ کر کیا طبیعت میں کھلبلی نہیں مچتی کہ آگے بھی پڑھا جائے؟ یہ چند جملے پڑھ کر فیصلہ کیجیے کہ جس قلم نے کسی شخصیت کے بولنے کو بوالہول کی آواز، لکھنے کو توپوں کی ڈھلائی اور فکر کو تاج محل کے نقشے سے تعبیر کیا ہو، وہ قلم محض خاکہ نگار کا قلم ہوسکتا ہے؟

نہیں! یہ قلم آدمی کو صرف دیکھتا نہیں، پکڑ لیتا ہے؛ صرف بیان نہیں کرتا، مجسم کردیتا ہے؛ صرف ہنساتا نہیں، ہنسی کے پردے میں ایک پورا عہد دکھا دیتا ہے۔

رشید احمد صدیقی کی گنج ہائے گرانمایہ اسی کمالِ نظر اور کمالِ فن کا نام ہے۔

بعض کتابیں محض پڑھ لی جاتی ہیں، بعض کتابوں کے کچھ حصے یاد رہ جاتے ہیں اور بعض کتابیں پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے کتاب نہیں پڑھی بلکہ کسی زمانے میں چند ساعتیں زندگی بسر کی ہیں۔ گنج ہائے گرانمایہ اسی آخری قسم کی کتاب ہے۔

یہاں شخصیتیں کاغذ پر کھڑی نہیں ہوتیں، چلتی پھرتی ہیں؛ گفتگو کرتی ہیں، مسکراتی ہیں، کبھی چونکاتی ہیں اور کبھی اپنی کسی چھوٹی سی عادت سے اپنا پورا قد دکھا دیتی ہیں۔ مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی شخص کی پوری سوانح لکھنے نہیں بیٹھتے؛ شخصیت کے کسی ایک روشن گوشے پر انگلی رکھتے ہیں اور پھر وہی ایک گوشہ پورا چہرہ روشن کردیتا ہے۔

رشید احمد صدیقی کے یہاں طنز ہے مگر تضحیک نہیں، مزاح ہے مگر ابتذال نہیں، محبت ہے مگر خوشامد نہیں۔ وہ اپنے آدمیوں کو فرشتہ بنا کر پیش نہیں کرتے؛ ان کی انسانیت سمیت پیش کرتے ہیں۔ خوبی دیکھتے ہیں تو داد دیتے ہیں، کمزوری نظر آتی ہے تو اس پر مسکرا دیتے ہیں، مگر مسکراہٹ میں بھی ایک ایسی تہذیب ہوتی ہے کہ جس پر ہنسی آتی ہے، اس سے محبت کم نہیں ہوتی۔ یہی اس کتاب کا جادو ہے۔

گنج ہائے گرانمایہ میں صرف افراد نہیں، علی گڑھ کی ایک پوری تہذیبی دنیا محفوظ ہوگئی ہے۔ وہ لوگ جن کی آوازیں وقت کے شور اور تحت الشعور کی گہرائیوں میں کہیں گم ہوگئیں، جن کے ساتھ بیٹھکیں ختم ہوگئیں، جن کی محفلیں اجڑ گئیں، جن کے حقے سرد اور شربت کی ضیافتیں قصۂ پارینہ ہوگئیں، رشید احمد صدیقی نے انہیں اپنے قلم کی روشنی اور نظر کے کیمرے سے پھر سے سجا دیا، پھر سے بٹھا دیا۔ قاری صفحات الٹتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی پرانی مگر شاندار محفل کا دروازہ کھل گیا ہو۔

یہاں ایک طرف بڑے بڑے نام ہیں اور دوسری طرف ان ناموں کے پیچھے چھپے ہوئے انسان۔ یہی وجہ ہے کہ رشید صاحب کے خاکے تعریف نامے نہیں بنتے، تصویریں بن جاتے ہیں۔

ان کے یہاں لفظ صرف معنی نہیں دیتے، منظر بھی بناتے ہیں۔ جملہ صرف بات نہیں کہتا، کیفیت پیدا کرتا ہے۔ تشبیہ محض آرائش و زیبائش نہیں رہتی بلکہ شخصیت کی کوئی ایسی خصوصیت پکڑ لیتی ہے جو عام نگاہ سے اوجھل ہوسکتی تھی۔

اسی لیے رشید احمد صدیقی کو پڑھتے ہوئے کبھی قہقہہ بے اختیار نکل جاتا ہے، کبھی لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ٹھہر جاتی ہے اور کبھی اچانک محسوس ہوتا ہے کہ ہم جس شخص کے خاکے پر ہنس رہے تھے، اس کے زمانے کے گزر جانے کا غم بھی ہمارے دل میں اتر آیا ہے۔

خاکہ نگار کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہنساتے ہنساتے رلا دے اور اپنی محبت پاش تعبیرات سے روتوں کو ہنسا دے۔ یہی تو بڑے مزاح نگار اور بڑے خاکہ نگار کی پہچان ہے: وہ آپ کو ہنساتا ہے، مگر ہنسی کے بعد آپ کو اپنے آپ سے بھی ملوا دیتا ہے۔

گنج ہائے گرانمایہ کا نام بھی کتنا موزوں ہے!

گنج یعنی خزانہ، اور گرانمایہ یعنی گراں قدر، قیمتی، انمول۔

واقعی یہ کتاب نام کی طرح ایک خزانہ ہے؛ مگر اس خزانے میں سونا چاندی نہیں، انسان ہیں۔ ایسے انسان جنہیں ایک صاحبِ نظر ادیب نے اپنے حافظے کی تجوری سے نکالا، اپنے مشاہدے کی کسوٹی پر پرکھا، اپنے مزاح کی روشنی میں دیکھا اور اپنے قلم سے اس طرح محفوظ کردیا کہ وقت کی گرد بھی ان کے نقوش کو دھندلا نہ سکی۔

اردو خاکہ نگاری کی دنیا میں بہت سے خاکے لکھے گئے، بہت سی شخصیتیں قلم بند ہوئیں، مگر رشید احمد صدیقی کا امتیاز یہ ہے کہ ان کے یہاں خاکہ شخصیت کا تعارف نہیں، شخصیت سے ملاقات بن جاتا ہے۔

گنج ہائے گرانمایہ کو پڑھتے ہوئے ہمیں بار بار یہ احساس ہوتا ہے:

کتاب ختم ہورہی ہے، مگر محفل ابھی ختم نہیں ہوئی۔

دنیائے اردو کو رشید احمد صدیقی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے الفاظ و تراکیب، استعارات و تشبیہات اور تمثیلات و ترکیبات کو محض کاغذ کی زبان نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں روشنائی کی ایسی تصویر دے دی جس میں زندگی کے رنگ نمایاں ہیں۔
❤3
یہ ایسی تصویر ہے جس سے سیری نہیں ہوتی، ایسی کتاب ہے جس کی یاد ذہن سے محو نہیں ہوتی۔ کچھ تو ایسی بات ہے کہ ہزاروں کتابوں کے مطالعے کے باوجود گنج ہائے گرانمایہ کا وزن مزید بڑھتا محسوس ہوتا ہے، اس کی باتیں مزید پختہ، اس کے مشاہدات مزید گہرے اور اس کا اسلوب مزید شستہ محسوس ہوتا چلا جاتا ہے۔

(دس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
کتاب پڑھیے پیسے کمائیے
کیا ہی اچھا ہو کہ تاریخ کا پہیہ تھوڑا سا الٹا گھوم جائے اور کتب و اخبار بینی کا سنہرا دور پھر واپس آجائے
پسِ آئینہ: سہیل انجم
چند روز قبل ایک بہت اہم خبر پر نظر پڑی۔ اسے عالمی میڈیا نے نمایاں طور پر شائع کیا۔ ہندوستان کے بعض انگریزی اخباروں نے بھی اس کو نمایاں جگہ دی۔ لیکن اردو اخباروں نے اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ وہ خبر ڈیجیٹل میڈیا کے بے تحاشا استعمال کی حوصلہ شکنی اور کتب بینی کی حوصلہ افزائی سے متعلق تھی۔ سنگاپور کی حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو روکنے اور کتب بینی کی روایت کو زندہ کرنے کے لیے ایک اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق حکومت کتاب پڑھنے والوں کو پیسے دے گی۔ اس کی تفصیلات یوں ہیں کہ قاری کو حکومت کی ویب سائٹ پر لاگ اِن کرنا ہوگا اور پندرہ منٹ کے دورانیے پر مشتمل کم از کم پچاس سیشن مکمل کرنے ہوں گے۔ لیکن روزانہ صرف ایک سیشن ہی ریکارڈ کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس پروگرام کا نام ReadSG ہے اور اسے سنگاپور کے ’نیشنل لائبریری بورڈ‘ نے چھ ستمبر کو لانچ کیا ہے۔ یہ ایک پانچ سالہ مہم ہے جس کا مقصد لوگوں کو کتاب خوانی کی طرف واپس لانا ہے۔ اس پروگرام میں شرکت کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ یومیہ کم از کم پندرہ منٹ کتاب پڑھیں اور اسے حکومت کے ایک متعلقہ پلیٹ فارم پر ریکارڈ کریں۔ ہر سیشن پر پچاس ورچوئیل سکے ملیں گے۔ جب ان سکوں کی تعداد ایک ہزار ہو جائے گی تو حکومت ایک سنگاپوری ڈالر دے گی۔ یاد رہے کہ ایک سنگاپوری ڈالر امریکی ڈالر کے 80 پیسے کے مساوی ہے۔ اگرچہ کتاب پڑھنے کا معاوضہ بہت زیادہ نہیں ہے تاہم عادات و اطوار کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے کتب بینی کی عادت کو تقویت حاصل ہوگی۔ حکومت بھی چاہتی ہے کہ عوام تازندگی کتب بینی کی عادت ڈال لیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک تو وہ ڈیجیٹل میڈیا کے بہت زیادہ اور غیر ضروری استعمال سے بچیں گے جس کی وجہ سے ان کے مزاج میں پیدا ہونے والی خرابی دور ہوگی اور دوسرے وہ ملکی ثقافت سے کسی حد تک روشناس ہو سکیں گے۔
کتابوں سے محبت کرنے والے پہلے بھی کم نہیں تھے اور اس زوال آمادہ دور میں بھی کم نہیں ہیں۔ سیریا کے ایک شخص ابو بلال کا واقعہ اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ خبر بھی چند روز قبل میڈیا میں وائرل ہوئی ہے۔ انھوں نے اس خوف سے کہ ان کی کتابیں ضائع نہ ہوں جائیں یا برباد نہ کر دی جائیں اپنی لائبریری کو ایک نقلی دیوار بنا کر چھپا دیا تھا۔ انھیں خدشہ تھا کہ ملک میں چلنے والی خانہ جنگی اور اسد حکومت کی علم دشمنی ان کی لائبریری کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ پندرہ سال قبل یعنی 2011 میں انھوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا اور خود کویت کو نقل مکانی کر گئے۔ اب جبکہ بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو وہ مغربی شہر ہومز میں واقع اپنے گھر واپس آئے اور انھوں نے اس لائبریری کی بازیافت کی۔ اس لائبریری میں بہت سی مذہبی اور فلسفیانہ کتابیں ہیں۔ واپس آکر انھوں نے ایک ہتھوڑے سے مذکورہ دیوار توڑنی شروع کی۔ دیکھتے دیکھتے کتابوں کا خزانہ باہر آگیا۔ سونے چاندی کے خزانے زمین میں گاڑنے یا کہیں چھپا دینے کے واقعات تو عام ہیں لیکن کتابوں کو لٹنے سے بچانے کے لیے انھیں چھپا دینے کا یہ غالباً پہلا واقعہ ہے جو انتہائی سبق آموز اور حوصلہ بخش ہے۔ داد دینی چاہیے اس علم دوست شخص کو جس نے اپنی قیمتی لائبریری کی حفاظت کے لیے ایک انوکھا راستہ اختیار کیا۔ جب نقلی دیوار ٹوٹی تو کتابیں باہر جھانکنے لگیں۔ کتابوں کی ارواح، اگر ہوتی ہیں تو کتنی خوش ہوئی ہوں گی کہ آج وہ پندرہ سالہ قید مسلسل سے آزاد ہو گئیں۔ دیوار کے منہدم ہونے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ کتابیں جوں کی توں ہیں البتہ ان پر گرد و غبار کی ایک پرت چڑھ گئی ہے۔ فلمی نغمہ نگار گلزار نے کتب بینی کی روایت کے دم توڑ دینے اور کتابوں پر گزرنے والی کیفیت کو اپنی ایک نظم میں منظوم کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کی شیشوں سے، بڑی حسرت سے تکتی ہیں، مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں، جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں، اب اکثر گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر، بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں، انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے، بڑی حسرت سے تکتی ہیں، جو قدریں وہ سناتی تھیں، کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے، وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں، جو رشتے وہ سناتی تھیں، وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں۔‘ لیکن سیریا کے مذکورہ باشندے کی کتابوں کو اب یہ شکایت نہیں ہوگی۔ اب وہ الماریوں سے نکالی جائیں گی اور قاری ان سے آنکھیں چار کرکے گفتگو کیا کریں گے۔
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابو بلال ایک علم دوست شخص ہیں۔ ان کے سامنے تاریخ کا وہ بدترین اور تاریک واقعہ ضرور رہا ہوگا جب 1528 میں منگول فاتح ہلاکو خان نے بغداد کو فتح اور تاراج کیا تو اس نے شہر کے عظیم الشان کتب خانوں کی لاکھوں کتابیں د دریائے دجلہ میں پھنکوا دیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان نایاب اور
❤1
قیمتی کتابوں کی تعداد چھ لاکھ سے زائد تھی۔ ایک طرف لاکھوں انسانوں کے قتل عام سے دریا میں بہنے والے خون نے دریا کے پانی کو سرخ کیا اور دوسری طرف کتابوں کی سیاہی نے اس سرخ پانی میں مل کر اسے ایک بھیانک رنگ میں بدل دیا۔ اس بربادی میں بغداد کے مدارس، دارالترجمہ اور علامہ سید رضی موسوی کے کتب خانہ سمیت متعدد ذاتی کتب خانے ختم ہو گئے۔ جس سے اسلامی دنیا کا صدیوں پر محیط علمی اور تہذیبی سرمایہ ضائع ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں کتابیں دریابرد کرنے کی وجہ سے دریا میں پل بن گیا جس پر گھڑ سوار اپنے گھوڑے دوڑاتے تھے۔ بلا شبہ ابو بلال کے ذہن میں یہ واقعہ رہا ہوگا اور ان کو اندیشہ بھی رہا ہوگا کہ کہیں ان کی قیمتی اور نادر کتابوں کا بھی یہی حشر نہ ہو جائے۔ قابل مبارکباد ہیں ابو بلال جنھوں نے کتابوں سے محبت کی ایک نادر پیش کی۔
اس واقعہ نے مجھے اپنے لڑکپن کا وہ واقعہ یاد دلا دیا جب ہم لوگ چھٹے ساتویں درجے کے اسٹوڈنٹ تھے اور ہمارے گاوں میں کتب و اخبار بینی کی توانا روایت موجود تھی۔ اس روایت سے حوصلہ پاکر ہم چند اسٹوڈنٹس نے مل کر ایک ’آزاد لائبریری‘ قائم کی۔ یہ لائبریری لکڑی کی ایک ٹنکی (کھوکھا) میں قائم کی گئی۔ کتابیں ہر قسم کی تھیں۔ مذہبی، ادبی، سماجی، طبی وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ابن صفی، نسیم حجازی اور صادق سردھنوی وغیرہ کے ناول بھی تھے اور کچھ رسائل و جرائد اور اخبارت بھی۔ ناولوں میں سب سے زیادہ قارئین ابن صفی اورنسیم حجازی کے ناولوں کے تھے۔ اس لائبریری نے ہم لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ اور لوگوں کے اندر بھی کتب و رسائل بینی کا شوق پیدا کر دیا۔ کچھ دنوں کے بعد ہم لوگوں کے اگلے درجات میں جانے اور مصروفیات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے لائبریری بند ہو گئی لیکن اخبار بینی کا شوق فزوںتر ہوتا چلا گیا۔ لہٰذا چند برسوں کے بعد گاوں کے لوگوں نے انفرادی طور پر اخبارات و رسائل منگانے شروع کر دیے۔ اس لائبریری نے تقریباً نصف درجن افراد کے اندر ابن صفی اور نسیم حجازی کے ناولوں کو پڑھنے کا ایسا شوق پیدا کر دیا کہ بعد میں بھی وہ کتابیں منگا منگا کر پڑھتے رہے۔ لیکن برا ہو سوشل میڈیا کا جس نے اس شوق کو درگور کر دیا۔ یہ اتفاق ہے کہ اس لائبریری کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں نے اپنی عملی زندگی میں ترقیات کے منازل طے کیے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی آمد نے بچوں سے لے کر بزرگوں تک کے ذوق کو بگاڑ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر انتہائی منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ متعدد ممالک نے پندرہ سولہ سال تک کے بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عاید کر دی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تاریخ کا پہیہ تھوڑا سا الٹا گھوم جائے اور کتب و اخبار بینی کا وہ سنہرا دور پھر واپس آجائے۔
موبائل: 9818195929
❤1
مہکتی کتابیں:

کتاب کا نام: کتب خانہ
مصنف کا نام: رضا علی عابدی
(برصغیر میں قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں)
ناشر: سعد پبلی کیشنز
سن اشاعت: 1985ء
صفحات: 176

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

پہلے زمانے میں لوگ کتابوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔ ایک قلمی نسخہ ہاتھ آتا تو پوری جماعت کے طلبہ اس کی نقلیں تیار کرتے اور اسی سے علم کی پیاس بجھاتے۔ جہاں کہیں کتاب اور اہل علم کا سراغ ملتا، تشنگان علم وہاں پہنچ جاتے؛ کیونکہ

ہر کجا بود چشمۂ شیریں
مردم و مرغ و مور گرد آیند

پھر زمانہ بدلا، حالات بدلے، علم و علما کے انداز بدلے۔ جیبیں بھریں، تجوریاں کھلیں، چھاپہ خانے آباد ہوئے تو کتابوں پر کتابیں چھپنے لگیں، ذاتی ذخیرے کتب خانوں میں بدلنے لگے اور بڑے بڑے علمی مراکز وجود میں آنے لگے۔

یہاں تک کہ رضا علی عابدی جیسے اہل قلم خم ٹھونک کر اٹھے اور برصغیر کے شہر شہر، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ خاک چھانتے پھرے۔

کہیں کتب خانہ ڈھونڈا، کہیں کتاب، کہیں کتاب کا عاشق اور کہیں کتاب کے ساتھ اپنی زندگی گزار دینے والا کوئی گمنام شخص۔

ان کی کتاب ’’کتب خانہ‘‘ کے چوبیس ابواب میں یہی علمی سفر سمٹ آیا ہے۔ کلکتہ، لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری اور دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، خیرپور و بہاولپور کے کتب خانے، پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، رامپور رضا لائبریری، ٹونک کا عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کتب خانے، اقبال اکیڈمی و غالب اکیڈمی کے ذخائر، حیدرآباد سندھ کے علمی ادارے، کراچی، دہلی اور حیدرآباد دکن کے عجائب گھر اور ان سب کے علاوہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور گھروں میں چھپے ہوئے نجی خزانے بھی اس تلاش کا حصہ ہیں۔

عابدی صاحب نے ان بکھرے ہوئے علمی خزانوں کو صرف دیکھا نہیں، ان کی خبر بھی لی اور خبر بھی دی۔ ان کے ماضی کو قلم بند کیا، ان کی اہمیت اجاگر کی اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ نشانیاں محفوظ کردیں کہ ہمارے بزرگوں نے کتاب کے ساتھ کیسا تعلق رکھا تھا اور ہمارے قومی و ملی ورثے میں کیا کچھ موجود تھا۔

یہ محض کتب خانوں کا تعارف نہیں، کتاب سے ہماری تہذیبی نسبت کی ایک مختصر مگر مہکتی ہوئی داستان ہے۔

یہاں کتابیں ہیں، کتاب والے ہیں، کتب خانے ہیں اور ان سب کے بیچ ایک ایسا قلم ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف خزانے جمع کرکے امیر نہیں ہوتیں، اپنی کتابیں محفوظ کرکے بھی زندہ رہتی ہیں۔
تحدیث نعمت کے طور پر مصنف کتاب رضا علی عابدی صاحب سے عرض ہے کہ آپ دہلی اور رامپور تک پہنچ گئے، کاش کہ آپ مظاہرعلوم وقف سہارنپور بھی آتے تو یہاں موجود جدید و قدیم تین لاکھ کتابوں اور ڈیڑھ ہزار قلمی مخطوطات کی زیارت بھی کرتے جاتے۔

بہرحال کتاب لاجواب ہے، ہر پیراگراف خوب سے خوب تر ہے۔ مدت سے میرے ذہن میں ایک بات بار بار آتی تھی کہ انگریز جب بھارت سے بھاگا ہے تو وہ ہیرے، جواہرات اور نادر اشیاء کے ساتھ قلمی مخطوطات بھی کیوں لے اڑا؟ پھر خود ہی اس کے بارے میں غور کرتا رہا، یہاں تک کہ ہاتف نے کہا کہ میاں! وہ اگرچہ لٹیرے ہیں، قزاق سہی، پر وہ قدردان بھی ہیں، کتاب کی چوری اس کا قدردان ہی کرے گا، انگریزوں کے یہاں کتابوں کے رکھ رکھاؤ کا زبردست نظام ہے۔
آج اس کتاب کا تعارف لکھتے لکھتے اچانک اسی کتاب کے ایک اقتباس کو پڑھ کر میرے اعتراض اور اعتراض کا جواب، سب کچھ یہاں بھی پڑھنے کو مل گیا۔ زمانہ ہوگیا یہ کتاب پڑھے ہوئے مگر آج پھر پڑھی اور پڑھ پڑھ کر رویا، رو رو کر پڑھا، واقعی حالات اچھے نہیں ہیں۔

بہت ہوا، اب آپ یہ اقتباس ضرور پڑھئے، ممکن ہے آپ بھی رونے پر مجبور ہوجائیں:

بابائے اردو مولوی عبدالحق کے رفیق کار اور خدمت گزار سکندر علی وجد کہتے ہیں:

’’کتاب کے عشق کے بغیر کتاب محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اب اس میں شک نہیں کہ ہماری کتابیں ملک سے باہر چلی جا رہی ہیں مگر مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہاں انہیں بڑی احتیاط اور اہتمام سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ فیومی گیشن ہوتا ہے، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس کتابوں میں نیم کے پتے رکھ دیتے ہیں، اس لیے اور کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عشق چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ علم کا بھی عشق چاہیے مگر اب علم بھی نہیں ہے اور عشق بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں ریڈیو ہے، ٹی وی ہے، سب کچھ ہے لیکن کتاب نہیں ہے۔‘‘

ناصرالدین مظاہری
(گیارہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
💯1
وفیات مورخہ:ستمبر /24
1938ء  سیٹھ ابراہیم۔  معتمد جامعہ دار السلام عمرآباد
1966ء  بشیر احمد خان بلند شہری۔  مولانا
1985ء  محمد نجيب المطيعي۔  مصنف تکملۃ المجموع شرح المہذب
1986ء  الطاف علی بریلوی( سید)۔  ادیب ، صحافی ، ماہر تعلیم
1996ء  عبدالتواب خان (اے ٹی خان)۔  ڈاکٹر ، پروفیسر
1998ء  ساحر، محمد مراد۔  شاعر
2004ء  راجہ رمنا۔  بھارتی سائنسدان
2010ء  عمید الزماں کیرانوی۔  برادر خورد مولانا وحید الزماں کیرانوی
2011ء  ابو الطیب احمد میاں فرنگی محلی۔  مولانا
2013ء  عبد الحمید السراج۔  شامی سیاست دان
2015ء  اسد مرتضیٰ گیلانی۔ 
2018ء  محمد صالح الریس۔  صاحب خیر دبی
2019ء  محمد سعید طنطاوی۔  شامی ادیب، داعی
 
Https://telegram.me/ilmokitab
👍1
مہکتی کتابیں:

کتاب کا نام: کتب خانہ
مصنف کا نام: رضا علی عابدی
(برصغیر میں قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں)
ناشر: سعد پبلی کیشنز
سن اشاعت: 1985ء
صفحات: 176

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

پہلے زمانے میں لوگ کتابوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔ ایک قلمی نسخہ ہاتھ آتا تو پوری جماعت کے طلبہ اس کی نقلیں تیار کرتے اور اسی سے علم کی پیاس بجھاتے۔ جہاں کہیں کتاب اور اہل علم کا سراغ ملتا، تشنگان علم وہاں پہنچ جاتے؛ کیونکہ

ہر کجا بود چشمۂ شیریں
مردم و مرغ و مور گرد آیند

پھر زمانہ بدلا، حالات بدلے، علم و علما کے انداز بدلے۔ جیبیں بھریں، تجوریاں کھلیں، چھاپہ خانے آباد ہوئے تو کتابوں پر کتابیں چھپنے لگیں، ذاتی ذخیرے کتب خانوں میں بدلنے لگے اور بڑے بڑے علمی مراکز وجود میں آنے لگے۔

یہاں تک کہ رضا علی عابدی جیسے اہل قلم خم ٹھونک کر اٹھے اور برصغیر کے شہر شہر، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ خاک چھانتے پھرے۔

کہیں کتب خانہ ڈھونڈا، کہیں کتاب، کہیں کتاب کا عاشق اور کہیں کتاب کے ساتھ اپنی زندگی گزار دینے والا کوئی گمنام شخص۔

ان کی کتاب ’’کتب خانہ‘‘ کے چوبیس ابواب میں یہی علمی سفر سمٹ آیا ہے۔ کلکتہ، لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری اور دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، خیرپور و بہاولپور کے کتب خانے، پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، رامپور رضا لائبریری، ٹونک کا عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کتب خانے، اقبال اکیڈمی و غالب اکیڈمی کے ذخائر، حیدرآباد سندھ کے علمی ادارے، کراچی، دہلی اور حیدرآباد دکن کے عجائب گھر اور ان سب کے علاوہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور گھروں میں چھپے ہوئے نجی خزانے بھی اس تلاش کا حصہ ہیں۔

عابدی صاحب نے ان بکھرے ہوئے علمی خزانوں کو صرف دیکھا نہیں، ان کی خبر بھی لی اور خبر بھی دی۔ ان کے ماضی کو قلم بند کیا، ان کی اہمیت اجاگر کی اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ نشانیاں محفوظ کردیں کہ ہمارے بزرگوں نے کتاب کے ساتھ کیسا تعلق رکھا تھا اور ہمارے قومی و ملی ورثے میں کیا کچھ موجود تھا۔

یہ محض کتب خانوں کا تعارف نہیں، کتاب سے ہماری تہذیبی نسبت کی ایک مختصر مگر مہکتی ہوئی داستان ہے۔

یہاں کتابیں ہیں، کتاب والے ہیں، کتب خانے ہیں اور ان سب کے بیچ ایک ایسا قلم ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف خزانے جمع کرکے امیر نہیں ہوتیں، اپنی کتابیں محفوظ کرکے بھی زندہ رہتی ہیں۔
تحدیث نعمت کے طور پر مصنف کتاب رضا علی عابدی صاحب سے عرض ہے کہ آپ دہلی اور رامپور تک پہنچ گئے، کاش کہ آپ مظاہرعلوم وقف سہارنپور بھی آتے تو یہاں موجود جدید و قدیم تین لاکھ کتابوں اور ڈیڑھ ہزار قلمی مخطوطات کی زیارت بھی کرتے جاتے۔

مدت سے میرے ذہن میں ایک بات بار بار آتی تھی کہ انگریز جب بھارت سے بھاگا ہے تو وہ ہیرے، جواہرات اور نادر اشیاء کے ساتھ قلمی مخطوطات بھی کیوں لے اڑا؟ پھر خود ہی اس کے بارے میں غور کرتا رہا، یہاں تک کہ ہاتف نے کہا کہ میاں! وہ اگرچہ لٹیرے ہیں، قزاق سہی، پر وہ قدردان بھی ہیں، کتاب کی چوری اس کا قدردان ہی کرے گا، انگریزوں کے یہاں کتابوں کے رکھ رکھاؤ کا زبردست نظام ہے۔
آج اس کتاب کا تعارف لکھتے لکھتے اچانک اسی کتاب کے ایک اقتباس کو پڑھ کر میرے اعتراض اور اعتراض کا جواب، سب کچھ یہاں بھی پڑھنے کو مل گیا۔ زمانہ ہوگیا یہ کتاب پڑھے ہوئے مگر آج پھر پڑھی اور پڑھ پڑھ کر رویا، رو رو کر پڑھا، واقعی حالات اچھے نہیں ہیں۔

اب آپ یہ اقتباس ضرور پڑھئے، ممکن ہے آپ بھی رونے پر مجبور ہوجائیں:

بابائے اردو مولوی عبدالحق کے رفیق کار اور خدمت گزار سکندر علی وجد کہتے ہیں:

’’کتاب کے عشق کے بغیر کتاب محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اب اس میں شک نہیں کہ ہماری کتابیں ملک سے باہر چلی جا رہی ہیں مگر مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہاں انہیں بڑی احتیاط اور اہتمام سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ فیومی گیشن ہوتا ہے، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس کتابوں میں نیم کے پتے رکھ دیتے ہیں، اس لیے اور کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عشق چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ علم کا بھی عشق چاہیے مگر اب علم بھی نہیں ہے اور عشق بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں ریڈیو ہے، ٹی وی ہے، سب کچھ ہے لیکن کتاب نہیں ہے۔‘‘

ناصرالدین مظاہری
(گیارہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
❤4
❤3
جامعہ اسلامیہ بھٹکل کےفارغ مولوی عبد القادر محمد میراں کی مدینہ یونیورسٹی میں تکریم، موصوف مدینہ منورہ سے ماجستیر مکمل کرنے کے بعد اب دکتوراہ کررہے ہیں۔
❤2👍2
بزرگوں کا کمالِ ادب

مولوی لطف اللّٰه صاحب علی گڑھیؒ مصنفین کی غلطی کی بھی ہمیشہ توجیہ کردیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ بڑے لوگ ہیں، ہمارا منہ نہیں ان پر اعتراض کرنے کا۔ آج کل مدرسین اعتراض بھی کرلیتے ہیں۔ پہلے بزرگوں کی طبیعت کا یہ رنگ تھا۔

(ملفوظات حکیم الامت، جلد: ۲/ملفوظ: ۴۱۷/صفحہ: ۲۷۷/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
مہکتی کتابیں:

نام کتاب: گنجینۂ گوہر
مصنف کا نام : شاہد احمد دہلوی
موضوع: قلمی چہرہ
ناشر: مکتبۂ اسلوب
صفحات: 231
مصدر: ریختہ
اردو ادب میں خاکہ نگاری کی روایت بڑی قدیم ہے، مشہور خاکہ نگاروں میں مرزا فرحت اللہ بیگ، محمد حسین آزاد، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، عبدالماجد دریابادی، مولانا عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر، چراغ حسن حسرت، شاہد احمد دہلوی، محمد طفیل، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، ابن انشا، مشتاق احمد یوسفی، سلیم احمد، یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین جیسے نام نمایاں ہیں۔

ان ہی ناموں میں شاہد احمد دہلوی ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ صرف خاکہ نگار نہیں تھے، وہ دہلی کی زبان، تہذیب، محفل، موسیقی اور معاشرتی زندگی کے نباض تھے۔ ان کی نثر میں دہلی کی وہ ٹکسالی زبان ملتی ہے جس میں لفظ صرف معنی نہیں دیتے بلکہ اپنے ساتھ ایک پورا ماحول لے کر آتے ہیں۔ وہ ادبی جریدے ساقی کے مدیر، مترجم، ادیب اور موسیقی کے شناسا بھی تھے۔ 1930ء میں انہوں نے دہلی سے ساقی جاری کیا اور تقسیم کے بعد پاکستان میں بھی اسے جاری رکھا۔

شاہد احمد دہلوی نے جن لوگوں کو قریب سے دیکھا، ان کے ساتھ وقت گزارا اور جن کی محفلوں میں بیٹھے، ان کی یادوں کو محض یاد نہیں رہنے دیا؛ انہیں لفظوں میں محفوظ کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خاکہ نگاری میں صرف کسی شخصیت کا تعارف نہیں ملتا بلکہ اس شخصیت کے گرد پھیلی ہوئی فضا بھی دکھائی دیتی ہے۔

ان کے خاکوں کا پہلا مجموعہ „گنجینۂ گوہر“ 1962ء میں شائع ہوا۔

کتاب کا نام بھی خوب ہے: گنجینۂ گوہر! گویا مختلف شخصیتیں موتیوں کی طرح ہیں اور مصنف نے اپنے قلم سے انہیں ایک خزانے میں جمع کردیا ہے۔ خاکہ نگاری میں یہی تو اصل کمال ہے کہ خاکہ نگار کسی شخصیت کے محض بڑے بڑے اوصاف نہیں گنواتا بلکہ اس کی گفتگو، نشست، انداز، عادت، مزاج، وضع قطع اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایسا نقش اور نقشہ بناتا ہے کہ قاری کے ذہن میں ایک زندہ تصویر بن جاتی ہے۔

شاہد احمد دہلوی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ شخصیت کو اس کے ماحول سے کاٹ کر نہیں دیکھتے۔ آدمی اکیلا آدمی نہیں ہوتا، اس کے پیچھے ایک زمانہ، ایک معاشرہ، ایک تہذیب اور ایک زبان بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کے خاکوں میں شخصیت کے ساتھ دہلئی کہنہ بھی چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ „گنجینۂ گوہر“ محض چند شخصی خاکوں کی کتاب نہیں بلکہ اپنے عہد کی ادبی و تہذیبی زندگی کی ایک جھلک بھی بن جاتی ہے۔ شاہد احمد دہلوی نے جن لوگوں کو دیکھا، ان کے چہروں کے ساتھ ان کے زمانے کے کچھ رنگ بھی محفوظ کرلیے۔

اسی سلسلے کی دوسری اہم کتاب ہے „چند ادبی شخصیتیں“۔ یہ شاہد احمد دہلوی کے لکھے ہوئے سترہ ادبی خاکوں کا مجموعہ ہے، جن میں مختلف ادبی شخصیات سے ان کی ذاتی ملاقاتوں اور مشاہدات کو خاکہ نگاری کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ 242 صفحات پر مشتمل ہے۔

„چند ادبی شخصیتیں“ میں دائرہ نسبتاً زیادہ ادبی ہے۔ یہاں شاہد احمد دہلوی نے ادیبوں اور شاعروں کو موضوع بنایا ہے اور ان سے اپنی شناسائی، ملاقات اور مشاہدے کو خاکے کی صورت دی ہے۔ اس کتاب کی کشش صرف یہ نہیں کہ ہمیں چند مشہور اہل قلم کے حالات معلوم ہوتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم انہیں شاہد احمد دہلوی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔

اچھی خاکہ نگاری سوانح نہیں ہوتی۔ سوانح میں واقعات کا سلسلہ ہوتا ہے، خاکے میں شخصیت کا عکس ہوتا ہے۔ سوانح ہمیں بتاتی ہے کہ فلاں شخص کب پیدا ہوا، کہاں پڑھا، کیا لکھا اور کب دنیا سے رخصت ہوا؛ مگر خاکہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ شخص محفل میں کیسے بیٹھتا تھا، بات کیسے کرتا تھا، ہنستا کیسے تھا، غصہ کیسے کرتا تھا اور دوسروں پر کیا اثر ڈالتا تھا۔

شاہد احمد دہلوی کے یہاں یہی چیز نمایاں ہے۔ وہ شخصیت کے گرد ایک ایسا لفظی آئینہ رکھ دیتے ہیں جس میں صرف چہرہ نہیں بلکہ چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی طبیعت اور خد و خال بھی دکھائی دیتی ہے۔

ان کی زبان اس سلسلے میں ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ شاہد احمد دہلوی کی نثر میں دہلی کی بامحاورہ اور ٹکسالی زبان کا لطف ملتا ہے، اور یہی زبان ان کے خاکوں کو محض معلوماتی تحریر نہیں رہنے دیتی بلکہ انہیں ادبی لطف عطا کرتی ہے۔

شاہد احمد دہلوی کے بعد ان کے خاکوں کے مزید مجموعے بھی سامنے آئے، جن میں „بزم خوش نفساں“ اور „طاق نسیاں“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کتابی مآخذ کے مطابق „بزم خوش نفساں“ شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے، جبکہ „طاق نسیاں“ کو شاہد احمد دہلوی کے بھولے بسرے خاکوں کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاہد احمد دہلوی نے قلم اٹھایا تو صرف آدمیوں کو نہیں لکھا، آدمیوں کے ساتھ ایک زمانہ بھی لکھ دیا۔ ان کے یہاں شخصیات کتاب کے صفحات پر قید نہیں ہوتیں، وہ قاری کے ذہن میں اترتی ہیں، بات کرتی ہیں، مسکراتی ہیں اور کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پرانی دہلی کی کسی محفل کا دروازہ اچانک کھل گیا ہو۔
❤1
„گنجینۂ گوہر“ میں شخصیات کے گوہر جمع ہیں اور „چند ادبی شخصیتیں“ میں اہل قلم کے چہرے۔ دونوں کتابیں ساتھ رکھی جائیں تو شاہد احمد دہلوی کی خاکہ نگاری کا ایک خوب صورت نقش سامنے آتا ہے: ایک طرف شخصیت، دوسری طرف مشاہدہ ان دونوں کے درمیان شاہد احمد دہلوی کا وہ قلم جو گزرتے ہوئے لوگوں کو گزرتے ہوئے زمانے کے ساتھ محفوظ کرگیا۔

کتابیں بہت ہوتی ہیں، مگر ہر کتاب اپنے عہد کی حاضری نہیں لگاتی۔ کچھ کتابیں پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے صرف چند صفحات نہیں پڑھے، بلکہ ایک زمانے سے ملاقات کی ہے۔

لائق ذکر ہے کہ میں چند سال پہلے تک شاہد احمد دہلوی کے نام سے بالکل واقف نہیں تھا لیکن جب واٹسپ پر علم و کتاب گروپ وجود میں آیا اور محترم مولانا عبد المتین منیری نے شاہد احمد کے یکے بعد دیگرے کئی خاکے تواتر کے ساتھ شئیر کئے تو پڑھتے پڑھتے ایسا چسکا لگا کہ پھر ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلاش کرتا پڑھتا اور ان کی ٹکسالی ادبیت پر عبور پر رشک کرتا۔

اگر آپ کو ان کی کوئی بھی کتاب قیمتاً یا عاریتا مل جائے تو ضرور پڑھئے۔

ناصرالدین مظاہری
(تیرہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
❤1
ڈاکٹر محمود احمد غازی
چینل کی لنک زیادہ سے زیادہ عام کریں، عبد المتین منیری۔ اڈمن
شیر شاہ سوری کے نظامِ حکومت کے چار بنیادی ستون

ڈاکٹر کمال اشرف اپنے مقالہ: شیر شاہ سوری، ارض بنگالہ کا عظیم معمار میں ایک جگہ لکھتے ہیں: شیر شاہ کا نظامِ حکومت بنیادی طور پر چار ستونوں پر قائم تھا:

۱۔ معیاری کرنسی اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure):
اُس نے خالص چاندی کا معیاری "روپیہ" جاری کیا، جس نے پورے ملک میں تجارت کو آسان، محفوظ اور منظم بنا دیا۔ ایک متحدہ اور مستحکم کرنسی نے اقتصادی سرگرمیوں کو نئی رفتار دی۔
۲۔ شاہراہوں کا جال:
خصوصاً مشہور Grand Trunk Road، جس نے سلطنت کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ اس شاہراہ نے نہ صرف فوجی نقل و حرکت کو سہل بنایا، بلکہ تجارت، ثقافتی روابط اور سیاسی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا۔
۳۔ معاشی اصلاحات:
غیر ضروری محصولات اور داخلی محصولات (Custom Duties) میں کمی کی گئی، تاکہ تجارت کو فروغ ملے۔ محصولات کی وصولی کو منظم اور شفاف بنایا گیا، جس سے کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہوا۔
۴۔ مذہبی رواداری:
یہ اُس کی پالیسیوں کا سب سے اہم پہلو تھا۔ اگرچہ وہ ذاتی طور پر ایک دیندار مسلمان اور پابندِ صوم و صلوٰۃ تھا، مگر حکمرانی کے معاملات میں اُس نے غیر جانبدار طرزِ عمل اختیار کیا۔ اُس کی پالیسیاں رعایا کے تمام طبقات کے لیے یکساں تھیں، خواہ اُن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اُس دور کے سیاسی ماحول میں یہ رویہ غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔

(معارف، ستمبر ۲۰۲٦ء، صفحہ: ۴۳/۴۴)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
Https://telegram.me/ilmokitab
❤3