سجدے میں سر مارا
(ناصرالدین مظاہری)
ہمارے حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہری رحمہ اللہ بڑے حق گو انسان تھے۔ وہ لومۃ لائم کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اسی حق گوئی کی وجہ سے انھوں نے اپنا بڑا نقصان کیا، بڑے طبقے سے ہٹ کر یکسو ہوئے، بڑی دنیا نے ان سے قطع تعلق کیا، مگر مردِ مجاہد کو بھلا ان ذاتی مفادات کی کب پروا رہی ہے! اگر حق گو طبقہ ذاتی نفع اور وقتی فائدے پر اپنی توجہ دے تو روئے زمین سے حق گوئی کا وجود ختم ہوجائے، اور اللہ پاک ایک جماعت تا قیامِ قیامت ایسی ضرور رکھے گا جو حق دیکھے، حق بولے، حق پر چلے اور حق کی خوگر رہے۔
مولانا اپنی تقریروں اور تحریروں میں ایک جملہ فرمایا کرتے تھے: ’’فسادی عناصر، عنادی اکابر۔‘‘ اس جملے کا کبھی آپ نے ہدف تو متعین نہیں کیا، البتہ ان کی حیات میں بھی اور بعد الممات بھی بعض ایسے نفوس کو دیکھا ضرور، جو ’’أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ‘‘ کا عکس و نقش نکلے۔
ان کی مجالس میں عقیدت مندانہ حاضری تو ہوئی، مگر جب وہاں سے نکلے تو عقیدتوں کا محل مسمار ہوچکا تھا، محبتوں کی دیواروں میں دراڑ پڑ چکی تھی، نبوی تعلیمات کی کھلم کھلا مخالفت اور اتباعِ ہویٰ و ہوس کی پوجا ہورہی تھی۔ حاضرینِ بے چارے ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ کے اندھے پن میں مبتلا نظر آئے۔ ان کی زبانِ مقال پر عقیدتوں کے وزنی تالے جھول رہے تھے۔ ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کا منظر تھا، ورنہ ہم نے تو اپنے بزرگوں کی سیرتیں پڑھی ہیں کہ وہ منبر پر جمعے کے دن خطبہ پیش کر رہے ہیں۔ اسی دوران ایک عام شخص کھڑا ہوتا ہے اور معترض ہوتا ہے کہ جب مالِ غنیمت میں سب کو ایک ایک چادر ملی ہے تو آپ کے پاس یہ دو چادریں کیسے ہیں؟ کیوں ہیں؟
سائل گمنام ہے، مگر مجیب وہ ہستی ہے جس کے نام کا سکہ دنیا میں چلتا تھا، مگر خدا ترسی اور خدا خوفی ان کے قلوب میں ایسی تھی کہ برجستہ جواب دیا کہ ایک چادر میری ہے، دوسری چادر میرے بیٹے نے مجھے دے دی ہے۔
جتنی جلدی اعتراض ہوا، اتنی ہی جلدی جواب دے دیا۔ اگر چاہتے تو جواب نہ دیتے، لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ اسلام کا ابتدائی دور ہے، ریت پر عمارتِ اسلام کھڑی نہیں کی جاسکتی، لوگوں کی زبانوں پر تالے ڈال کر دعوتِ اسلام نہیں دی جاسکتی۔
حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہری سہارنپور تشریف لائے۔ اپنے ایک استاد زادے کی عیادت کے لیے گئے۔ مجھے ساتھ لے گئے۔ استاد زادے نے مجھے دیکھا تو برجستہ گویا ہوئے کہ اچھا، مخالفین بھی ساتھ ہیں!
میں چپ رہ کر اپنے موقف کو کمزور نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے کہا: ’’اس کے باوجود آیا ہوں، کیونکہ ہمارے نبی کی تعلیم یہی ہے۔‘‘
خدا جانے، ہم میں سے کچھ لوگ پوری پوری زندگی خانقاہوں میں گزار دیتے ہیں، پھر بھی نفس و نفسانیت کے اسیر و نخچیر نظر آتے ہیں۔ وہ کسی دوسرے زندہ بزرگ کا تذکرہ سننا نہیں چاہتے، خدمات دیکھنا نہیں چاہتے۔ کسی کو ان سے ملتا دیکھتے ہیں تو ماہئی بے آب ہوجاتے ہیں۔ ملنے کی چاہت رکھنے والوں کی راہ کے روڑے بن جاتے ہیں، حالات ایسے بنادیتے ہیں کہ بندہ مل نہ سکے، جا نہ سکے۔
حالاں کہ ہمارے اکابر کے یہاں ایسا نہیں تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مدنی رحمہ اللہ کے لیے حضرت تھانوی کے یہاں چوبیس گھنٹے کے مرتب اصول الگ تھلگ کردیے گئے تھے۔
میں خود اپنے استاد، حضرت فقیہ الاسلام مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ، کے ساتھ متعدد بزرگوں کے یہاں حاضر ہوا ہوں۔ جانشینِ فقیہ الاسلام حضرت مولانا محمد سعیدی تو بزرگوں کے شیدائی تھے۔ استادِ محترم حضرت مولانا اطہر حسین رحمہ اللہ تو زندہ یا رفتہ بزرگ کی خوب قدر کرتے تھے۔ اپنے معاصر اکابر، بالخصوص حضرت مولانا عبد اللطیف نلہیڑوی، کے پاس بکثرت جاتے تھے، حالاں کہ خود حضرت رحمہ اللہ کمال کے درجے پر فائز تھے۔
مگر آج ہم خوردوں میں ’’خوردن و خفتن اور ریدن و شاشیدن‘‘ کے علاوہ کچھ رہا ہی نہیں۔ عمریں گزار دیتے ہیں، پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
اسی لیے کہتا ہوں کہ خانقاہیں روحانی اسپتال ہیں۔ یہاں نفسانیت، کبر و غرور، نخوت و حسد کا علاج ہوتا ہے۔ انسان کو انسان بنایا جاتا ہے، طالب کا علاجِ شافی کیا جاتا ہے، مگر جو لوگ ڈاکٹر کی دوا ہی نہ کھائیں، اپنی نبض اور رپورٹ ہی نہ دکھائیں، دوائیں کوڑے دان میں پھینک دیں، ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل نہ کریں، وہ کیا خاک صحیح و شفایاب ہوں گے؟
گیا شیطان، مارا ایک سجدے کے نہ کرنے میں
اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا
(ذوقؔ)
(سات جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
(ناصرالدین مظاہری)
ہمارے حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہری رحمہ اللہ بڑے حق گو انسان تھے۔ وہ لومۃ لائم کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اسی حق گوئی کی وجہ سے انھوں نے اپنا بڑا نقصان کیا، بڑے طبقے سے ہٹ کر یکسو ہوئے، بڑی دنیا نے ان سے قطع تعلق کیا، مگر مردِ مجاہد کو بھلا ان ذاتی مفادات کی کب پروا رہی ہے! اگر حق گو طبقہ ذاتی نفع اور وقتی فائدے پر اپنی توجہ دے تو روئے زمین سے حق گوئی کا وجود ختم ہوجائے، اور اللہ پاک ایک جماعت تا قیامِ قیامت ایسی ضرور رکھے گا جو حق دیکھے، حق بولے، حق پر چلے اور حق کی خوگر رہے۔
مولانا اپنی تقریروں اور تحریروں میں ایک جملہ فرمایا کرتے تھے: ’’فسادی عناصر، عنادی اکابر۔‘‘ اس جملے کا کبھی آپ نے ہدف تو متعین نہیں کیا، البتہ ان کی حیات میں بھی اور بعد الممات بھی بعض ایسے نفوس کو دیکھا ضرور، جو ’’أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ‘‘ کا عکس و نقش نکلے۔
ان کی مجالس میں عقیدت مندانہ حاضری تو ہوئی، مگر جب وہاں سے نکلے تو عقیدتوں کا محل مسمار ہوچکا تھا، محبتوں کی دیواروں میں دراڑ پڑ چکی تھی، نبوی تعلیمات کی کھلم کھلا مخالفت اور اتباعِ ہویٰ و ہوس کی پوجا ہورہی تھی۔ حاضرینِ بے چارے ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ کے اندھے پن میں مبتلا نظر آئے۔ ان کی زبانِ مقال پر عقیدتوں کے وزنی تالے جھول رہے تھے۔ ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کا منظر تھا، ورنہ ہم نے تو اپنے بزرگوں کی سیرتیں پڑھی ہیں کہ وہ منبر پر جمعے کے دن خطبہ پیش کر رہے ہیں۔ اسی دوران ایک عام شخص کھڑا ہوتا ہے اور معترض ہوتا ہے کہ جب مالِ غنیمت میں سب کو ایک ایک چادر ملی ہے تو آپ کے پاس یہ دو چادریں کیسے ہیں؟ کیوں ہیں؟
سائل گمنام ہے، مگر مجیب وہ ہستی ہے جس کے نام کا سکہ دنیا میں چلتا تھا، مگر خدا ترسی اور خدا خوفی ان کے قلوب میں ایسی تھی کہ برجستہ جواب دیا کہ ایک چادر میری ہے، دوسری چادر میرے بیٹے نے مجھے دے دی ہے۔
جتنی جلدی اعتراض ہوا، اتنی ہی جلدی جواب دے دیا۔ اگر چاہتے تو جواب نہ دیتے، لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ اسلام کا ابتدائی دور ہے، ریت پر عمارتِ اسلام کھڑی نہیں کی جاسکتی، لوگوں کی زبانوں پر تالے ڈال کر دعوتِ اسلام نہیں دی جاسکتی۔
حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہری سہارنپور تشریف لائے۔ اپنے ایک استاد زادے کی عیادت کے لیے گئے۔ مجھے ساتھ لے گئے۔ استاد زادے نے مجھے دیکھا تو برجستہ گویا ہوئے کہ اچھا، مخالفین بھی ساتھ ہیں!
میں چپ رہ کر اپنے موقف کو کمزور نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے کہا: ’’اس کے باوجود آیا ہوں، کیونکہ ہمارے نبی کی تعلیم یہی ہے۔‘‘
خدا جانے، ہم میں سے کچھ لوگ پوری پوری زندگی خانقاہوں میں گزار دیتے ہیں، پھر بھی نفس و نفسانیت کے اسیر و نخچیر نظر آتے ہیں۔ وہ کسی دوسرے زندہ بزرگ کا تذکرہ سننا نہیں چاہتے، خدمات دیکھنا نہیں چاہتے۔ کسی کو ان سے ملتا دیکھتے ہیں تو ماہئی بے آب ہوجاتے ہیں۔ ملنے کی چاہت رکھنے والوں کی راہ کے روڑے بن جاتے ہیں، حالات ایسے بنادیتے ہیں کہ بندہ مل نہ سکے، جا نہ سکے۔
حالاں کہ ہمارے اکابر کے یہاں ایسا نہیں تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مدنی رحمہ اللہ کے لیے حضرت تھانوی کے یہاں چوبیس گھنٹے کے مرتب اصول الگ تھلگ کردیے گئے تھے۔
میں خود اپنے استاد، حضرت فقیہ الاسلام مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ، کے ساتھ متعدد بزرگوں کے یہاں حاضر ہوا ہوں۔ جانشینِ فقیہ الاسلام حضرت مولانا محمد سعیدی تو بزرگوں کے شیدائی تھے۔ استادِ محترم حضرت مولانا اطہر حسین رحمہ اللہ تو زندہ یا رفتہ بزرگ کی خوب قدر کرتے تھے۔ اپنے معاصر اکابر، بالخصوص حضرت مولانا عبد اللطیف نلہیڑوی، کے پاس بکثرت جاتے تھے، حالاں کہ خود حضرت رحمہ اللہ کمال کے درجے پر فائز تھے۔
مگر آج ہم خوردوں میں ’’خوردن و خفتن اور ریدن و شاشیدن‘‘ کے علاوہ کچھ رہا ہی نہیں۔ عمریں گزار دیتے ہیں، پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
اسی لیے کہتا ہوں کہ خانقاہیں روحانی اسپتال ہیں۔ یہاں نفسانیت، کبر و غرور، نخوت و حسد کا علاج ہوتا ہے۔ انسان کو انسان بنایا جاتا ہے، طالب کا علاجِ شافی کیا جاتا ہے، مگر جو لوگ ڈاکٹر کی دوا ہی نہ کھائیں، اپنی نبض اور رپورٹ ہی نہ دکھائیں، دوائیں کوڑے دان میں پھینک دیں، ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل نہ کریں، وہ کیا خاک صحیح و شفایاب ہوں گے؟
گیا شیطان، مارا ایک سجدے کے نہ کرنے میں
اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا
(ذوقؔ)
(سات جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
*وفیات مورخہ:اکتوبر 20*
1909ء جلال لکھنوی ( حکیم سید ضامن علی)۔ شاعر
1912ء نادر کاکوروی۔ شاعر
1943ء محفوظ علی بدایونی۔ ادیب
1943ء محفوظ علی بدایونی (سید)۔ ادیب
1944ء فضل الرحمن ندوی۔ مولانا ، حافظ
1968ء شبیر علی تھانوی۔ مولانا ، مہتمم خانقاہ امدادیۃ تھانہ بھون
1985ء نسیم متھراوی (حبیب احمد)۔ مولوی
1989ء معین الحق (سید)۔ ڈاکٹر، ادیب ، ماہر، تعلیم ، جامعہ ملیہ دہلی
2003ء ضمیر علی بدایونی۔ ادبی نقاد
2010ء فاروق احمد خان لغاری۔ سردار، صدر پاکستان
2011ء معمر قذافی۔ سربراہ لیبیا
2015ء ڈبل شاہ (سید سبط الحسن)۔ مالیاتی فراڈیا
2018ء محمد اشفاق احمد۔
2020ء مسعود یلماز۔
2021ء سردار محمد یعقوب۔ پاکستانی سیاست دان
2022ء صدف نعیم۔ شاعرہ
2023ء ثروت کریم انصاری۔ سیاست دان
2024ء فتح اللہ گولن۔ رہنما نورسی تحریک
1909ء جلال لکھنوی ( حکیم سید ضامن علی)۔ شاعر
1912ء نادر کاکوروی۔ شاعر
1943ء محفوظ علی بدایونی۔ ادیب
1943ء محفوظ علی بدایونی (سید)۔ ادیب
1944ء فضل الرحمن ندوی۔ مولانا ، حافظ
1968ء شبیر علی تھانوی۔ مولانا ، مہتمم خانقاہ امدادیۃ تھانہ بھون
1985ء نسیم متھراوی (حبیب احمد)۔ مولوی
1989ء معین الحق (سید)۔ ڈاکٹر، ادیب ، ماہر، تعلیم ، جامعہ ملیہ دہلی
2003ء ضمیر علی بدایونی۔ ادبی نقاد
2010ء فاروق احمد خان لغاری۔ سردار، صدر پاکستان
2011ء معمر قذافی۔ سربراہ لیبیا
2015ء ڈبل شاہ (سید سبط الحسن)۔ مالیاتی فراڈیا
2018ء محمد اشفاق احمد۔
2020ء مسعود یلماز۔
2021ء سردار محمد یعقوب۔ پاکستانی سیاست دان
2022ء صدف نعیم۔ شاعرہ
2023ء ثروت کریم انصاری۔ سیاست دان
2024ء فتح اللہ گولن۔ رہنما نورسی تحریک
*اخلاق احمد دہلوی کےمضامین کے مجموعے اور بیان اپنا پر مشہور نقاد ڈاکٹر وقار عظیم کا فلیپ*
*یہ سلسلہ مضامین قسطوار علم وکتاب گروپ پر پیش کئے جارہے ہیں*
دلی کا محاورہ نئے زمانے کے سانچوں میں ڈھلتا ہے تو کتنا مؤثر اور دل نشین ہوتا ہے ۔ اور ۔ ادیب جب بے جھجک ہمارے سامنے آتا ہے تو اس میں کیا شان محبوبی پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ دونوں باتیں اخلاق احمد دہلوی نے اپنے مضامین کے مجموعے ”اور پھر بیان اپنا“ کے ذریعے غیر ارادی طور پر ادبی دنیا کو بتائی ہیں ۔
یہ مضامین مصنف کے مشاہدات ' تجربات و محسوسات کا بے لوث اور پرخلوص بیان ہیں ۔ اس نے اشخاص و اشیاء کے سر بستہ رازوں سے آشنا ہوکر اپنے بیگانے ہر ایک کو جی بھر کے ”رسوا“ کیا ہے ۔ اور ”رسوا کرنے“ کو ایک حسین اور لطیف فن بنایا ہے اس حسن لطافت ' نزاکت اور رعنائی سے دوسروں کو رسوا ہوتے دیکھ کر کون ہے جو رسوا ہونے کی آرزو نہ کرے ۔ اس رسوائی میں عجیب لذت اور عجیب کیفیت ہے ۔
یہ لذت اور یہ کیفیت دو باتوں نے پیدا کی ہے ــ شخصیت کے اس خلوص نے 'جس کی تشکیل جرأت ' بے باکی' سچائی اور محبت سے ہوتی ہے اور بیان کی اس بے تکلفی اور بے ساختگی نے جس میں لفظوں کی مزاج دانی اور مرتبہ شناسی کو بڑا دخل ہے ۔
اخلاق صاحب نے لفظوں کی انفرادی شخصیت ' مزاج اور ماحول کو پہچان کر ان کی بے شمار معنوی تہوں کو ابھارا اور بظاہر معمولی اور حقیر لفظوں اور محاوروں کو معزز ' اور محترم بنایا ہے ۔
موضوع اور بیان دونوں کے ساتھ محبت اور یگانگت کا وہ رشتہ قائم نہ کیا جائے جو اخلاق صاحب نے کیا ہے تو بات کبھی ایسی نہیں بنتی کہ وہ اپنے دل کی بات معلوم ہونے لگے ' ”اور پھر بیان اپنا“ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ہمارے دل کی بات ہے جو اس طرح کہی گئی ہے کہ ہم اسے اس طرح نہ کہہ سکتے ............................. وقار عظیم📝
*یہ سلسلہ مضامین قسطوار علم وکتاب گروپ پر پیش کئے جارہے ہیں*
دلی کا محاورہ نئے زمانے کے سانچوں میں ڈھلتا ہے تو کتنا مؤثر اور دل نشین ہوتا ہے ۔ اور ۔ ادیب جب بے جھجک ہمارے سامنے آتا ہے تو اس میں کیا شان محبوبی پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ دونوں باتیں اخلاق احمد دہلوی نے اپنے مضامین کے مجموعے ”اور پھر بیان اپنا“ کے ذریعے غیر ارادی طور پر ادبی دنیا کو بتائی ہیں ۔
یہ مضامین مصنف کے مشاہدات ' تجربات و محسوسات کا بے لوث اور پرخلوص بیان ہیں ۔ اس نے اشخاص و اشیاء کے سر بستہ رازوں سے آشنا ہوکر اپنے بیگانے ہر ایک کو جی بھر کے ”رسوا“ کیا ہے ۔ اور ”رسوا کرنے“ کو ایک حسین اور لطیف فن بنایا ہے اس حسن لطافت ' نزاکت اور رعنائی سے دوسروں کو رسوا ہوتے دیکھ کر کون ہے جو رسوا ہونے کی آرزو نہ کرے ۔ اس رسوائی میں عجیب لذت اور عجیب کیفیت ہے ۔
یہ لذت اور یہ کیفیت دو باتوں نے پیدا کی ہے ــ شخصیت کے اس خلوص نے 'جس کی تشکیل جرأت ' بے باکی' سچائی اور محبت سے ہوتی ہے اور بیان کی اس بے تکلفی اور بے ساختگی نے جس میں لفظوں کی مزاج دانی اور مرتبہ شناسی کو بڑا دخل ہے ۔
اخلاق صاحب نے لفظوں کی انفرادی شخصیت ' مزاج اور ماحول کو پہچان کر ان کی بے شمار معنوی تہوں کو ابھارا اور بظاہر معمولی اور حقیر لفظوں اور محاوروں کو معزز ' اور محترم بنایا ہے ۔
موضوع اور بیان دونوں کے ساتھ محبت اور یگانگت کا وہ رشتہ قائم نہ کیا جائے جو اخلاق صاحب نے کیا ہے تو بات کبھی ایسی نہیں بنتی کہ وہ اپنے دل کی بات معلوم ہونے لگے ' ”اور پھر بیان اپنا“ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ہمارے دل کی بات ہے جو اس طرح کہی گئی ہے کہ ہم اسے اس طرح نہ کہہ سکتے ............................. وقار عظیم📝