علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
وفیات مورخہ: 25/ فروری
1949ء سید حسین۔ مجاہد آزادی
1957ء اطہر ہاپوڑی (سید معشوق حسین )۔ شاعر
1962ء شعیب قریشی (علی قدر)۔ کارکن تحریک خلافت
1969ء عبد المعید لکھنوی۔
1969ء عبد المعید لکھنوی۔
1974ء ساگر نگودر بلونت کمار ۔ ،
1981ء امتیازعلی خان عرشی۔ مولانا ، محقق، ماہر اقبالیات
1987ء شمس الہدی بہاری (یس ہچ بہاری)۔
1990ء ٹپال انوار، ایس۔ ،
1995ء سید شمیم رضا ندیم نقوی۔ ،
2006ء رشید حسن خاں۔ محقق، ماہر لسانیات
2012ء سعید طارق۔
2018ء گوہر ملسیانی۔ شاعر
2020ء محمد حسنی مبارک۔ صدر مصر
2020ء نعمت اللہ خان۔ ناظم کراچی

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
2026-02-25 Syed Husain By Rais Jaferi.pdf
1.6 MB
نامور مجاہد آزادی سید حسین کی تاریخ وفات ۲۵ فروری کی مناسبت سے رئیس احمد جعفری کا مضمون۔
Audio
صور من حياة الصحابة --- عامر بن الجراح رضي الله عنه --- بصوت المؤلف الدكتور عبد الرحمن رافت الباشا رحمه الله-
❤3
*اسلاف امت کا رمضان*

*قسط: 07*

*٧/ رمضان ١٤٤٧ ه‍*

*امام زہری رحمہ اللہ*

*امام ابن شهاب الزهري کے بارے میں مروی ہے کہ جب رمضان آتا تو وہ فرماتے: یہ قرآن کی تلاوت اور لوگوں کو کھانا کھلانے کا مہینہ ہے۔ اس لیے وہ اس ماہ خاص طور پر قرآن کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔*

*(لطائف المعارف)*

*امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ*

*امام ابراہیم نخعی رمضان کے داخل ہونے پر اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے کہ اس مہینے کو غنیمت سمجھو اور اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرو، اس لیے کہ یہ مہینہ انسان کے درجات کو بلند کرنے والا ہے۔*

*(لطائف المعارف)*

*امام حماد بن سلمہ رحمہ اللہ*

*امام حماد بن سلمہ رمضان میں اکثر اوقات مسجد میں گزارتے اور قرآن کی تلاوت اور نماز میں مشغول رہتے تھے۔*

*(سير أعلام النبلاء)*
👍3
*اسلاف امت کا رمضان*

*امام زہری رحمہ اللہ*

*امام ابن شهاب الزهري کے بارے میں مروی ہے کہ جب رمضان آتا تو وہ فرماتے: یہ قرآن کی تلاوت اور لوگوں کو کھانا کھلانے کا مہینہ ہے۔ اس لیے وہ اس ماہ خاص طور پر قرآن کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔*
*(لطائف المعارف)*

*امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ*

*امام ابراہیم نخعی رمضان کے داخل ہونے پر اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے کہ اس مہینے کو غنیمت سمجھو اور اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرو، اس لیے کہ یہ مہینہ انسان کے درجات کو بلند کرنے والا ہے۔*
*(لطائف المعارف)*

*امام حماد بن سلمہ رحمہ اللہ*

*امام حماد بن سلمہ رمضان میں اکثر اوقات مسجد میں گزارتے اور قرآن کی تلاوت اور نماز میں مشغول رہتے تھے۔*
*(سير أعلام النبلاء)*

*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
قاری عادل حمید صبری
سابق امام مسجد خدیجۃ بنت خویلد
الانعام : 101-153
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=al-anaam-101-153, Al Anaam 101-153
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=qari-adil-hameed-sabri&t=
مسلمانان برما سے خطاب ۱۹۶۱
بیان وآواز: مولانا سید ابو الحسن ندویؒ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=musalmanan-burma-say-khitab-1961, Musalmanan Burma Say Khitab 1961
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
www.urduaudio.com
*وفیات مورخہ: 27/ فروری*
1928ء ابو محمد خلیل اللہ۔ والد ڈاکٹر محمد حمید اللہ
1931ء چندر شیکھر آزاد ۔ مجاہد آزادی
1962ء سید آل حسن کامل شاہ۔ ،
1984ء ساغر نظامی (صفدر یار خان)۔ شاعر
1985ء عمر ولی جمعہ (او۔ وی۔ جمعہ)۔ ڈاکٹر ،
1989ء نسیم احمد خان۔ ،
1992ء خواجه محمد شفیع دہلوی۔ ادیب
1996ء ابو السعود احمد باقوی۔ مولانا ، امیر شریعت کرناٹک
2000ء السید سابق۔ مصنف فقہ السنہ
2004ء محمد صدیق چودھری، حاجی۔ ،
2009ء شبیر احمد باغوں والی۔ مولانا
2011ء نجم الدین اربکان ۔ ترک وزیر اعظم، تحریکی رہنما
2013ء یاد صدیقی (عبدالمعبود)۔ ،
2022ء محمود اشرف عثمانی۔ مولانا ، صدر مفتی دار العلوم کراچی
2024ء شفیق الرحمن برق۔
2025ء سید مصطفی جیلانی رفاعی ندوی۔ مولانا ، جنرل سکریٹری ملی کونسل

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
* غلطی ہائے مضامین۔۔۔ ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا!*
* احمد حاطب صدیقی*

چند روز قبل فیڈرل بی ایریا، کراچی سے محترمہ انور جہاں نے بہ قائمیِ ہوش و حواس ایک سوال اس حقیر کے پاس بھیجا:
’’السلام علیکم جناب۔ ہوش کے ناخن لینے کا کیا مطلب ہے؟ بتائیے تاکہ میں بھی ہوش کے ناخن لوں یا عقل کے ناخن لوں؟‘‘
دیکھیے! کالم نگار کے بتانے تک کیا کیا ملتوی رکھا جاتا ہے۔ یہ معاملہ تو فوری معلوم ہوتا ہے، لہٰذا زیادہ دیر لٹکانا مناسب نہیں۔ یوں بھی ناخن پر خواتین کا خاصا انحصار ہوتا ہے۔ ضرورت کے مطابق جلد جلد بدلنا بھی ہوتا ہے۔ سو کبھی موم کر لیتی ہیں کبھی آہن بنا لیتی ہیں۔
معاملہ اگرمحض ’ناخن لینے‘ کاہو تو بول چال یا محاورے میں ’ناخن لینے‘ کا مطلب ہے ناخن کاٹنا، ناخن اُتارنا یا ناخن تراشنا۔ ناخن کاٹنے یا تراشنے سے ناخن کی صفائی مقصود ہوتی ہے۔ اوپری حصہ تراش دیا جائے تو اس حصے میں جم جانے والی گندگی منہ میں جانے کا احتمال نہیں رہتا۔ ان معنوں میں ہوش یا عقل کے ناخن لیے جائیں تو گویا ہوش اور عقل کو آلائشوں سے پاک کر لیا جائے اور استعمال کیا جائے۔ مگر ہوش کے ناخن لینے یا عقل کے ناخن لینے کا مفہوم تو سنبھل کر، سوچ سمجھ کر کام کرنا اور جذباتی ہو کر اپنا نقصان کر لینے سے بچ رہنا ہے۔
ناخن، منہ نوچنے کے علاوہ گرہ کھولنے کے کام بھی آتا ہے۔ آپ کا بھی یہی تجربہ ہوگا کہ زندگی کے اکثر معاملات میں گرہ پڑ جاتی ہے، کھولنی پڑتی ہے۔ گرہ کھل جائے تو اُلجھا ہوا معاملہ سلجھ سکتا ہے۔ لیکن گرہ کھولتے وقت پتا چلے کہ آج ہی صبح آپ نے ناخن تراش لیے ہیں یا آپ کے ناخن تراش دیے گئے ہیں تو اُسی قسم کی بے بسی کا سامنا کرنا پڑے گا جیسی درماندگی کا سامنا مرزا اسد اللہ خان غالبؔ کو ہوا تھا:
درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں
جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کُشا تھا
’ہوش کے ناخن لینے‘ کاحقیقی مفہوم یہی ہے کہ اُلجھے ہوئے مسئلے کی گرہ جوش کی تلوار کی بجائے ہوش کے ناخن سے کھولی جائے۔ گرہ کھولنے والے اسی ناخن کو ’ناخنِ تدبیر‘ بھی کہتے ہیں اور ’عقل کا ناخن ‘ بھی لیکن، کسی سے کہا جائے کہ ’’میاں! عقل کے ناخن لو‘‘ تواُس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آخری تاج دارِ ہند بہادر شاہ ظفرؔ کو تو ’بے ہُودہ‘ کی گالی سن کر بھی عقل نہ آئی، سنیے ذرا:
کی جو کچھ عرضِ تمنّا اُن سے میں، تو یہ کہا
بیہُدہ، چل جا یہاں سے، عقل کے ناخون لے
اصل لفظ تو ’ناخون‘ ہی تھا کیوں کہ بیس کی بیس اُنگلیوں کے سرے پر واقع اس ننھے عضو میں خون نہیں ہوتااسی وجہ سے اسے ’ناخون‘ کہا گیا۔ حضرت امیر خسروؔ کی ایک دل چسپ اور مشہور پہیلی میں بھی ’ناخون‘ ہی استعمال کیا گیا ہے’’بیسیوں کا سر کاٹ لیا، نہ مارا، ناخون کیا‘‘۔ اب شاید اتنا لمبا کھینچ کر ’ناخون‘ نہیں بولاجاتا۔ ہاں ناخن ضرور لمبا کر لیا جاتا ہے۔ سو، ناخن بڑھانا، ناخن چبھانا، ناخن کاٹنا، ناخن چبانا، ناخن اُتارنا، ناخن تراشنا اور ناخن ترشوانا سب محاورتاً درست ہیں۔
ایک محاورہ ’ناخن دیکھنا‘ بھی ہے۔ بندہ کھسیا جائے تو مارے شرمندگی کے اپنے ناخن دیکھنا شروع کر دیتا ہے یا کسی کو بہت زور کی ہنسی آرہی ہو، کسی طرح رُک ہی نہ رہی ہو تو اُسے اپنے ناخن پر نظر ڈالنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کہ شاید اس ترکیب سے اُس کا دھیان بٹ جائے اور ہنسی رُک جائے۔
ہنسی روکنے کے لیے ناخن دیکھنے کا تصور اہلِ تصوف کے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ صوفیوں کا کہنا ہے کہ جب انسان کو بہت ہنسی آئے تو اُسے چاہیے کہ اپنے ناخنوں کو دیکھنے لگے، ہنسی تھم جائے گی۔ سبب اس کا یہ بتایا جاتا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے نکلے تھے جسمِ مبارک ایسا صاف اور روشن تھا جیسے ناخن۔ یعنی گورے چٹے ہی نہیں گلابی بھی تھے، جیسے میدہ و شہاب، جیسے دودھ اور شہد۔ مگر دنیا میں آکر رنگ بدلنا شروع ہو گیا۔ باوا آدم کا رنگ بدلا سو بدلا، اولاد کا رنگ تو بدلتے بدلتے بالکل ہی بدل گیا۔ پس جب انسان اپنے موجودہ حال حلیے کے باوجود ہنسے جاتا ہے، ہنسے جاتا ہے تو اُسے چاہیے کہ اپنے جدِ امجد کا رنگ و روپ اور حلیہ یاد کرنے کے لیے اپنے ناخنوں کو دیکھے۔ جب وہ ناخنوں کو دیکھے گا تو اُسے اپنے ماضی (بعید) سے روحانی آگہی حاصل ہوگی، دل متنبہ ہو گا، ہنسی رک جائے گی اور اپنے کرتوتوں پر رونا آنے لگے گا، وغیرہ وغیرہ۔ عزیزانِ گرامی! ’’یہ مسائلِ تصوف اور یہ ہمارا بیان‘‘ پڑھ کر اب آپ اپنے ناخن نہ دیکھنے لگیے گا۔
ذوق ؔنے تو اپنے ناخن اُس وقت دیکھے جب آپریشن تھیٹر میں اُن کے اطبا اور ماہر جراحوں کا پورا بورڈ آپس میں مشورے کر رہا تھا:
ذکر کچھ چاکِ جگر سینے کا سُن سُن اپنے
کر کے میں ضبط ہنسی، دیکھوں ہوں ناخن اپنے
❤1
گویا ناخن دیکھنے سے شرمندگی و ندامت بھی دُور ہوتی ہے اور ہنسی بھی رفو چکر ہو جاتی ہے۔ مگر عشاقِ کرام اور شعرائے عظام کو تو ناخن اپنے زخم نوچنے کے لیے ودیعت کیے جاتے ہیں۔ پس وہ اپنے ناخن دیکھ کر اُن کی موجودگی پر فخر کرتے ہیں۔ اسی تفاخر کا اظہار چچا غالبؔ نے بھی اپنے غم خوار دوستوں سے کیا تھا:
دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا
ناخن، نوچنے کے علاوہ کھجانے کے کام بھی آتا ہے، بالخصوص بالوں بھرا سر کھجانے کے۔ عموماً سر وہی لوگ کھجاتے ہیں جنھیں سر کھجانے کی فرصت مل جاتی ہے۔ ’’فرصت سے محروم‘‘ لوگوں میں مزدور، کسان، کلرک اور کارکن شمار کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک کے بڑے بڑے افسروں اور بڑے بڑے نوکر شاہوں کے لیے، جن کے پاس فرصت ہی فرصت ہوتی ہے، اُردو میں ایک دعائیہ کہاوت کہی گئی ہے:
’’خدا گنجے کو ناخن نہ دے کہ سر کھجائے‘‘۔ (شاید اسی کہاوت کی وجہ سے یہ لوگ اُردو نافذ نہیں ہونے دیتے)
ہر چند کہ ناخن میں خون نہیں ہوتا۔ ناخن تراشنے والا اگر مہارت سے ناخن تراش دے تو درد بھی نہیں ہوتا۔ لیکن ناخن کا گوشت سے گہرا رشتہ ہے۔ گوشت سے ناخن کچھ اس طرح جڑا ہوتا ہے کہ ناخن تراش (Nail Cutter) ذرا بہکا اور خون کی تُلَلّی بندھ گئی۔ جو لوگ جان سے عزیز ہوتے ہیں اور جن سے گہرا دلی تعلق ہوتا ہے اُن کا چھوٹ جانا یا اُن سے جدا ہوجانا گوشت سے ناخن کا جدا ہوجانا قرار دیا جاتا ہے۔ بڑی تکلیف اور بہت اذیت ہوتی ہے۔ جدا ہو جانے والوں کو کیا خبر؟ غالبؔ توفقط خیال ہی مٹ جانے کو اذیت جانتے تھے:
دل سے مٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
ناخن کاٹنے کے اوزار کے لیے ’ناخن تراش‘ یا’ناخن گیر‘ (اور ’ناخن گیری‘) وغیرہ اُردو کے بہت دل کش الفاظ تھے۔ لیکن اب گھر گھر ‘Nail Cutter’ کا راج ہے۔ یہ ننھا سا مشینی اوزاربآوازِ بلند ’کٹ کٹ‘ کر کے ناخن کاٹتا ہے۔ سرسراتی ہوئی نرمی سے ناخن تراشنے والے اوزاروں کے ساتھ ساتھ اب اُن کے دل کش نام بھی گوشت سے ناخن کی طرح ہم سے جدا کر دیے گئے ہیں۔
جدا تو اوربھی بہت سی چیزیں ہوئی ہیں۔ کس کس کا گلہ کیجیے، کس کس کو روئیے۔ مثلاً اُردو کا ایک محاورہ تھا ’’ناخنوں میں ہونا‘‘۔ پہلے جو بات ناخنوں میں ہوتی تھی اب وہ بات ‘Finger Tips’ پر ہوتی ہے۔فرق تو کچھ نہ پڑا۔ ہوگیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا!
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
زاد سفر
بیان وآواز: حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ
سابق مہتمم دار العلوم دیوبند
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=zad-e-safarszty0a6k4vksyd7y7km7yejd3dxit0lz, Zad E Safar
مزید بیانات
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=qari-muhammed-tayyab&t=
❤1
احوالِ دنیا کی بے ثباتی

حضرت الاقدس مولانا میاں سید اصغر حسین رحمۃ اللّٰه علیہ نے ایک مجلس میں بسلسلۂ کلام، آیتِ کریمہ: "مَا عِنۡدَكُمۡ يَنۡفَدُ‌ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ". (النحل: ٩٦) پڑھی۔ جس کا ترجمہ یہ ہے: "جو چیزیں تمہارے پاس ہیں، وہ سب فنا ہونے والی ہیں اور جو چیزیں اللّٰه کے پاس ہیں، باقی رہنے والی ہیں"۔ اور فرمایا کہ عام طور پر لوگ اس کو مال و متاع اور دولت و سامان پر مقصور سمجھتے ہیں، لیکن الفاظ قرآن کے عام ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مکمل احوال و اوصاف اور حوادث و عوارض کا یہی حال ہے کہ سب گذشتنی و گذاشتنی اور سریع الزوال ہیں، جیسے ہمارے مال و متاع کا کوئی قرار و قیام نہیں، اسی طرح دوستی، دشمنی، رنج و خوشی، غصّہ و رضا، جو کچھ دنیا کے لیے ہو، سب کا یہی حال ہے کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ اس لیے نہ کسی کی دوستی اور مہربانی پر پورا اعتماد و اطمینان چاہیے، نہ کسی کی دشمنی و ناراضی کا بہت زیادہ اثر لینا چاہیے۔ نہ دنیا کی کوئی راحت و خوشی اس قابل ہے کہ اس میں انسان مست ہوجاوے اور نہ کوئی بڑے سے بڑا غم اس قابل کہ اُس میں مایوس بیدل ہوجاوے کہ یہ سب خود ختم ہوجانے والی چیزیں ہیں۔

(سوانح حیات، حضرت میاں صاحب محدث دارالعلوم دیوبند، صفحہ: ۵۰/۵۱/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤3
مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ کے معنیٰ

ارشاد: مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ (النحل: ٩٦) اللّٰه تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو تمہارے پاس ہے، وہ تو غیر کی چیز ہے، یعنی امانت چند روزہ ہے، جو ایک وقت میں تم سے چھین لی جاوے گی۔ یا موت کے بعد وارثوں کو ملے گی اور جو ہمارے پاس ہے۔ واقع میں وہ تمہاری چیز ہے، جو ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی۔

(اَنفاسِ عیسیٰ، حصہ اول، صفحہ: ٣٢٢)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
دیوبند کی چار خصوصیات
خطاب صد سالہ اجلاس دار العلوم ۔ ۱۹۸۰ء
بیان وآواز: مولانا سید ابو الحسن ندویؒ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=deoband-ki-char-khususiyat-deobnad-1980, Deoband Ki Char Khususiyat (Deobnad 1980)
*اسلاف امت کا رمضان*

*قسط:09*

*٩ / رمضان ١٤٤٧ ه‍*

*امام اسود بن یزید رحمہ اللہ*

*اسود بن يزيد النخعي رمضان المبارک میں مغرب اور عشاء کے درمیان قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے اور رمضان میں ہر دو رات میں ایک مرتبہ قرآن ختم کرتے تھے۔*

*(سير أعلام النبلاء)*

*امام حماد بن أبي سليمان رحمہ اللہ*

*حماد بن أبي سليمان رمضان میں اپنے ساتھیوں کو جمع کرتے، انہیں کھانا کھلاتے اور رات کو نماز و تلاوت میں مشغول رہتے تھے۔*

*(ابن أبي شيبة)*

*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی*
❤2
وفیات مورخہ: 28/ فروری
1923ء محمد صالح بندھولی۔ مولانا
1936ء کملا نہرو۔ اہلیہ جواہر لال نہرو
1957ء ولایت علی شاہ (حافظ نور احمد انصاری)۔ ،
1963ء را جندر پرشاد۔ ڈاکٹر ، صدر ہند
1968ء صمد بنگلوری (سید عبدالصمد علیگ)۔ ،
1984ء نواب سید شمس الحسن۔ ،
1985ء یوسف صدیقی۔ مدیر ریڈینس دہلی
1987ء نسیم امروہوی (سید قائم رضا)۔ ،
1999ء حسن علی جی رمل۔ ،
2001ء ریاض الدین سہروردی (سید محمد)۔ نعت گو شاعر
2002ء احسان جعفری۔ رکن پارلمنٹ، گجرات
2011ء احمد لاری۔ ڈاکٹڑ
2020ء محمد عمارہ۔ مصری مصنف
2025ء حامد الحق حقانی۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
امانتِ الہٰیہ جوہرِ عقل ہے

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ. (سورة الاحزاب: ۷۲) امانت میں مراد، صحیح عقل ہے، جو انسان کا خاصہ، بلکہ انسانی شرف ہے کہ اس سے دین دنیا کے کاموں میں انسان، کامیاب ہوتا ہے اور یہ جوہر، سوا انسان اور کسی نے قبول نہیں کیا کہ انسان کے علاوہ اور میں اس کی صلاحیت نہ رکھی گئی تھی اور خلافت حامل کا ہونا بھی اس کی بدولت ہے۔

حضرت الاقدس مولانا عبدالقادر رائے پوری علیہ الرحمہ

(مجالسِ حضرت رائے پوریؒ، صفحہ: ٦۵۴)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
کیا ہم مسلمان ہیں (٤١) عرفانِ حق کی وجد آفرینیاں (تيسری قسط)
تحریر: شمس نوید عثمانی
سعد ؓ کو محسوس ہوا جیسے اس مقدس ہاتھ کے لمس سے رحمتِ خُداوندی کا ٹھنڈا ٹھنڈا امرت ان کی نیم جاں دھڑکنوں پر شبنم افشانی کر رہا ہے ___ دل و جگر میں دعائیہ ہوک سے ٹھنڈک سی پڑتی چلی گئی اور پھر حضور ﷺ کی اس بشارت نے تو جیسے ان کے سہمے ہوئے دل کو پھر سے شیر کر دیا ___ " نہیں اے سعد ؓ ! تم اُس وقت تک نہ مرو گے جب تک تم سے ایک قوم کو نقصان اور دوسری کو نفع نہ پہنچ لے ___"
اس وقت سعد ؓ کچھ نہ سمجھے تھے کہ اس بشارت کی تفصیل کیا ہے ___ ؟ لیکن عراق اور قادسیہ کی فوج کشی کی کمان ان کو عطا ہوئی اور عرب نے عجم کو شکست فاش دی تو ان کو پتہ چلا کہ حضور ﷺ نے کیا اشارہ فرمایا تھا۔
عراق کی وہی عظیم مہم جہاں حضرت ابو عبیدہ ؓ جیسے مجاہد کام آچکے تھے ___ جہاں مثنیٰ شیبانی کے آٹھ ہزار جیالوں کو فتح و کامرانی کا کچھ سراغ نہ ملا تھا۔ سوال تھا کہ کون اس محاذِ خوف و خطر پر جست لگانے کا اہل ہو سکتا ہے آخر؟ حضرت عمر ؓ بن خطاب کی بارگاہِ خلافت میں اُمّت کے بڑے بڑے دل و دماغ اسی سوال کی اُدھیڑ بُن میں گم تھے کہ اچانک حضرت عبداللہ ابن عوف ؓ کی ولولہ انگیز آواز نے فکر میں ڈوبے ہوئے سروں کو چونکا دیا ۔
"پالیا ___ !پالیا ___ !! میں نے پا لیا !!!"
"کون ___؟ کس کو پا لیا آخر ؟" ایک ساتھ کئی زبانوں پر یہ حیرت بھرا سوال آگیا "کون ہے وہ جاں باز جو اِس کوہ گراں کو اُٹھا لینے کی صلابت رکھتا ہے ___؟"
"سعد ؓ ابن ابی وقاص !" حضرت عبد الرحمٰن ؓ بن عوف چلائے اور حُسنِ انتخاب پر فخر و مسرت کی ایک نشیلی چمک سے ان کی آنکھوں میں نور کے دیے جل اُٹھے ___ یکایک سننے والوں کے سینے میں ولولہ و خروش کاتلاطم سا اُٹھ کھڑا ہوا اور نعرۂ تکبیر کی فلک شگاف گونج میں کتنی ہی زبانوں پر تائید مچل اُٹھی "بے شک ___ ! تم نے سچ مچ پالیا عبدالرحمن ؓ ___ ! سعد ؓ کے شانوں میں واقعی اتنا کس بل ہے کہ وہ اس پہاڑ سی ذمّہ داری سے کما حقہٗ عہدہ پر آہو سکتا ہے ___!"
______
یُوں اس مجاہد کی مجاہدانہ سپہ سالاری کا شان دار دور شروع ہوا ___ تیس ہزار مجاہدوں کے ٹڈی دَل پر کڑی نظریں جمائے ہوئے یہ بندۂ حق آگاہ چلا تو اس کے عجز و بندگی سے مس ہو کر جنگ کی یہ پتھر یلی وادی پانی پانی ہو گئی ٹھیک اس وقت جب عرق النساء کا ہڈی توڑ دینے والا درد ان کی جان کو نچوڑے ڈالتا تھا وہ فوجوں کی صفیں درست کر رہے تھے ___ جنگ کے خطرناک نقشوں پر جھکے ہوئے خون دل و جگر سے جہاد کے ایک عظیم ترین خاکے میں رنگ بھر رہے تھے جسم کا درد رُوح کی کسک میں دب کر گم ہو چکا تھا ___ رسول خدا ﷺ کی اُمّت کا درد عرق النساء کے درد پر چھایا ہوا تھا ___ نہیں ! وہ صرف مسلمانوں ہی کے لیے دل درد مند لیے ہوئے نہیں تھا ___ اس کو تو خدا کے سارے کنبے ۔ ساری انسانیت کا غم ستا رہا تھا ___ وہ گردنیں کاٹنے سے پہلے بے چین تھا کہ انسانوں کی جیتی جاگتی گردنوں کو اس سنگِ آستاں پر جُھکا ڈالے جس کے سِوا کوئی آستاں انسان کی سجدہ ریزی کے لائق ہی نہیں ہے ___ اس نے بار بار یہ کوشش کی کہ حق و باطل کی جنگ کا فیصلہ تلواروں کے بجائے دل کی دھڑکنیں کر سکیں ___ بار بار اس نے تبلیغی وفد ایرانی حکومت کے پاس روانہ کیے ___ وہ بار بار پُکار اُٹھا کہ "اے لوگو !خدا کی قسم ہم تمہارے مُلک کے بُھو کے نہیں ___ خود تمہارے لیے آسمانی جنّت کی کُنجیاں لے کر تمہارے پاس آنے کے لیے بے تاب ہیں ۔“ لیکن جب صدائے حق نے پتھریلے دلوں پر اثر نہ کیا اور اس ایمانی سوز کے جواب میں رُستم کی یہ حیوانی چنگھاڑ سُنائی دی کہ "کل تمہاری فوجوں کو تہ و بالا کر ڈالوں گا ___" تو دردِ انسانیت سے سُلگتے ہوئے سعد ؓ میں غیرتِ توحید کا ولولہ جاگ اُٹھا اور نعرۂ تکبیر کے فلک شگاف جوش کے ساتھ سعد ؓ نے جنگ کی للکار قبول کرتے ہوئے مجاہدوں سے کہا ۔
"اے اسلام کے جیالو ___! اُٹھ کھڑے ہو اور حق کے دشمنوں پر ہوش اور جوش کی حجّت تمام کر دو ___!"
جہاد کا سیلاب تیز وتند لیے ہوئے سعد ؓ کچھ اس طرح بڑھے کہ ایرانی سلطنت خس وخاشاک کی طرح بہہ گئی ۔ قادسیہ کا سقوط ہُوا ۔ بابل قدموں پر گرا ___ کوثیٰ کی وہ تاریخی بستی خم ہوئی جہاں نمرود نے کبھی ابراہیم علیہ السلام کو سلاسل میں جکڑنے کی کوشش کی تھی ___ مدائن کی طرف رُخ کیا اور ایرانیوں نے دجلہ کے پُل اڑا دیے تو سعد ؓ مجاہدانہ للکار اُٹھے " کود پڑو دریا میں اے خدا کے جاں بازو ___ ! کود پڑو۔" یہ کہا اور سمندر میں گھوڑے دوڑاتے ہوئے اس طرح آگے بڑھے کہ ایرانی سپاہی سراسیمہ حیرت کے عالم میں چیخ اُٹھے " دیو ہا آمدند ___ دیو ہا آمدند ___ ! جن آگئے ___! جنّات آگئے !" لیکن وہی انسان جس کی کمان میں گرجتے چمکتے مجاہدوں پر دیووں اور جنّوں کا شبہ ہوتا تھا ___ ہائے وہ کتنا بڑا انسان تھا ___ ٹھیک اس وقت جب اس کے ہاتھوں میں پہاڑوں کی صلابت نظر آرہی تھی اس کی آنکھوں میں خداشناسی کے عرفان اور عبرت کے سلیقے نے سوز و گداز بھرے آنسوؤں سے چراغاں کر دیا تھا ____ شکست خوردہ مدائن کی سجدہ ریز بستی کو خاموش و دم بخود دیکھ کر اس کو ایک لمحے کے لیے بھی زورِ بازو پر گھمنڈ کرنے کی مہلت نہ دی اس کی خدا شناسی نے ___ ! یہ قرآنی آیات ان کے لبوں پر آگئیں " کس قدر باغ ، چشمے کھیتیاں اور گونا گوں نفیس و عمده محلُات چھوڑ کر (اگلی قومیں) چل دیں جن میں وہ خوش باش زندگی بسر کرتی تھیں اور ہم نے ان چیزوں کا مالک دُوسری قوموں کو بنا دیا-"
(جاری)
***
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*اسلاف امت کا رمضان*

*امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا معمول*

*امام ابوحنیفہؒ کے علمی مرتبے سے کون ناواقف ہوگا؟ ان کے فقہی مقام کا موافقین کے ساتھ مخالفین کو بھی اعتراف ہے۔ تدوینِ فقہ کی مشغولیت، اور تعلیم وتدریس وغیرہ کی مصروفیت کے باوجود رمضان المبارک میں کثرت سے تلاوتِ قرآن کرتے تھے، اور رمضان میں ہر دن اور رات کو ایک ایک ختمِ قرآن کرتے تھے، اور یہی معمول عید الفطر کی رات اور دن کو بھی رہتا تھا، اس طرح کل ملا کے باسٹھ مرتبہ ختمِ قرآن کرتے تھے۔*
*چنانچہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:*
*’’کان أبو حنيفۃ يختم القرآن کل يوم وليلۃ ختمۃ، فإذا کان شہر رمضان ختم فيہ مع ليلۃ الفطر ويوم الفطر اثنتين وستين ختمۃ۔‘‘*
*ترجمہ: ’’امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہر دن اور رات کو ختمِ قرآن کرتے تھے، اور جب ماہِ رمضان ہوتا تو عیدالفطر کی رات اور دن ملاکر باسٹھ ختم کرتے تھے۔‘‘*

*( أخبار أبي حنيفه واصحابه للصميري)*

*امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا معمول*

*امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ایک عالی مقام فقیہ اور بلند پایہ محدث تھے۔ علم کی نشر واشاعت میں ہمہ وقت لگے رہتے تھے، لیکن اس کے باوجود تلاوت ِقرآن بکثرت کرتے تھے، اور رمضان المبارک میں یہ معمول بڑھ جاتا تھا کہ دن کو ایک ختم اور رات کو دوسرا ختم کرتے تھے، اس طرح ماہِ مبارک میں ساٹھ مرتبہ ختمِ قرآن کرتے تھے۔*
*جیساکہ ربیع بن سلیمان کہتے ہیں:*
*’’کان الشافعيؒ يختم في کل ليلۃ ختمۃ، فإذا کان في شہر رمضان ختم في کل ليلۃ منہا ختمۃ وفي کل يوم ختمۃ، فکان يختم في شہر رمضان ستين ختمۃ۔‘‘*
*ترجمہ: ’’امام شافعیؒ ہر رات ختمِ قرآن کرتے تھے، اور جب رمضان ہوتا تو رات کو ایک ختم اور دن کو دوسرا ختمِ قرآن کرتے تھے، لہٰذا ماہِ رمضان میں ساٹھ ختمِ قرآن کرتے تھے۔‘‘*

*(تاريخ دمشق لابن عساكر)*

*ترتیب و پیشکش: محمد حارث ابراہیم اکرمی ندوی*
❤1