علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
*غلطی ہائے مضامین*
 
*کیا آتشِ نمرود میں عشق خود کودا تھا؟*
 
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
 
ان کالموں میں عموماً ’غلطی ہائے مضامین‘ ہی کی درستی کی جاتی ہے، مگر کبھی کبھی ’غلطی ہائے مفاہیم‘ کی درستی کی فرمائش بھی آجاتی ہے۔ کوئی مضائقہ نہیں۔ مفہوم کی غلط فہمی بھی مضمون کی نافہمی سے ہوتی ہے۔ چناں چہ لاہور سے جناب محمداعظم فرمائش کرتے ہیں:
 
’’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق۔ ایک مذہبی اسکالر کی طرف سے اس شعر پر اعتراض آیا ہے، جس سے سماجی ذرائع ابلاغ میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہے۔ اگر ممکن ہو تو رہنمائی فرمائیں۔ معترض کا کہنا ہے کہ ابراہیم ؑ خود تھوڑا ہی کودے تھے، اُنھیں تو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ لہٰذا یہ بات ہی غلط ہے جو علامہ اقبالؔ نے اس شعر میں باندھی ہے‘‘۔
 
جن ’مذہبی اسکالر‘ صاحب نے اقبالؔ کے اس شعر پر اعتراض فرمایا ہے، اُن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اُن کو ’مذہبی دانشوری‘ جہیز میں ملی ہے۔ اُن کی شہرت بھی اپنی نہیں، اپنے سسر کی مرہونِ منت ہے۔ واللہ اعلم۔ سسر کا ذکر آگیا ہے تو بتاتے چلیں کہ سسر کو اُردو میں خُسر بھی کہا جاتا ہے، اور خُسر عربی میں خسارے کو کہتے ہیں۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِی خُسْرِ۔
 
خسارے کے بعد نفعے کی بات بھی کہتے چلیں۔ جس علم و فن سے آگہی نہ ہو، اُس پر کوئی حکم لگادینا قطعاً غیر علمی رویہ ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4774 میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ کا ایک قول نقل ہوا ہے۔ یہ قول ہر اُس شخص کو ہر وقت پیشِ نظر رکھنا چاہیے، جسے ’عالم‘ ہونے یا ’عالم‘ بننے کا دعویٰ ہو۔ سیدنا ابن مسعودؓ کے اُس قول کا اُردو میں مفہوم یہ ہے کہ
’’یہ کہنا بھی ’علم‘ ہی ہے کہ میں نہیں جانتا‘‘۔
 
اقبالؔ کو جاننے اور اُن کے اشعار کو سمجھنے کے لیے شاعری کی مبادیات کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ اقبالؔ کی استعمال کردہ لفظیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔ اقبال کے شارح کو معلوم ہونا چاہیے کہ ’چراغِ مصطفویؐ‘ سے اقبالؔ کی کیا مراد ہے اور’شرارِ بولہبی‘ وہ کسے کہتے ہیں۔
 
’عشق‘ بھی اقبالؔ کے اکثر اشعار میں محض عشق نہیں ’ایمانِ کامل‘ کا استعارہ ہے اور’مظاہرِ ایمان‘ کی علامت۔ ’ایمان‘ کے مقابلے میں ’عقل پرستی‘ کو اقبالؔ سختی سے رد کرتے ہیں۔ کالم میں زیادہ گنجائش نہیں، نمونے کے چند اشعار دیکھ لیجے کہ اقبالؔ ’عشق‘ کسے کہتے ہیں:
 
صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبرِ حسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا
عشق تمام مصطفیؐ، عقل تمام بولہب
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
شیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی
تو ہے زُنّاریِ بت خانۂ ایّام ابھی
 
تو اقبالؔ کی اصل منزل ’ایمان‘ ہے۔ فلسفی ہونے کے باوجود اقبالؔ ایمان پر ’عقل‘ کی بالادستی قبول نہیں کرتے:
 
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے
 
عقل کی دوڑ تو بس ’حواسِ خمسہ‘ تک ہے۔ اس سے آگے کا اسے کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔ اورعقل اکثر اپنے اِس عجز کا اظہار کرتی رہتی ہے کہ ’یہ بات سمجھ میں آئی نہیں‘۔ عقلیت پسندی یا عقلیت پرستی کے گنبد میں قید رہنے والے ’ایمان‘ کے مظاہر کو حیرت اور اچنبھے سے دیکھتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ عقل تو اسے تسلیم نہیں کرتی۔ عقلاً یہ محال ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ارے بھائی! ’معجزہ‘ تو کہتے ہی اُس مظاہرے کو ہیں جوعقل پرستوں کی عقلِ عاجز کو مزید عاجز کرکے رکھ دیتا ہے۔ بقول مولانا ظفرؔ علی خان:
 
وہ جنس نہیں ایمان، جسے لے آئیں دُکانِ فلسفہ سے
ڈھونڈے سے ملے گی عاقِل کو، یہ قرآں کے سیپاروں میں
 
عقل کے عجز کا یہی مظاہرہ اقبالؔ کے مصرعے ’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق‘ کی ’عقلی تعبیر‘ کرتے ہوئے بھی کیا گیا ہے۔ کتنا سطحی اوربچکانہ اعتراض ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام آتشِ نمرود میں خود کہاں کودے تھے، انھیں تو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ ’’ارے بھئی کیوں پھینکا گیا تھا؟‘‘ کسی کم عقل بچے سے بھی پوچھیے تو یہی جواب دے گا:
’’کیوں کہ آپؑ نے مشرکین کے معبود پاش پاش کردیے تھے‘‘۔
 
بتوں کو پاش پاش کردینے کا یہی عمل تو خطرات میں کودنے کے مترادف تھا۔ وہاں کوئی ’عقل پِیٹا‘ موجودہوتا تو ضرور عقل دیتا کہ
 
’’اے ابنِ آزر! بت پرست طاقتور ہیں، بااختیار ہیں، برسراقتدار ہیں، اُن سے اِس وقت’پنگا‘ لینا خلافِ عقل ہوگا۔ تم اکیلے ہو، کہیں الگ، کسی گوشے میں بیٹھ کر ’اللہ اللہ‘ کرتے رہو۔ ریاست کی ’رِٹ‘ کو چیلنج نہ کرو۔ تم نبی ہو، سیاست کرنا تمھارا کام نہیں ہے‘‘۔ وغیرہ
مگر اُس نوجوان نے جس کا نام ابراہیم ؑ تھا اور جس نے ہر معبودِ باطل سے منہ موڑ کر صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی طرف اپنے آپ کو یکسو کرلیا تھا، تن تنہا وقت کے نمرود سے بھی ’پنگا‘ لے لیا۔جب ’بت شکنی کے جرم‘ میں آپؑ کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا اور اُس نے پوچھا:
 
’’تُو ہمارے باپ دادا کے دین کی مخالفت کیوں کرتا ہے اور مجھ کو رب ماننے سے کیوں انکار کرتا ہے؟‘‘
 
توسیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
’’میں صرف ایک اللہ کو اپنا رب مانتا ہوں۔ کسی کو اُس کا شریک نہیں ٹھہراتا۔ ساری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق و مالک وہی ہے۔تیرا رب بھی وہی ہے‘‘۔
 
نمرود نے کہا:’
’اگر میرے علاوہ کوئی رب ہے تو اُس کی کوئی ایسی صفت بیان کرجو مجھ میں نہ ہو‘‘۔
 
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
’’میرا رب وہ ہے جو لوگوں کو زندگی بخشتا ہے اور وہی لوگوں کو موت دیتا ہے‘‘۔
 
نمرود نے کہا:
’’یہ کام تو میں بھی کرتا ہوں۔میں بھی لوگوں کو زندگی بخشتا ہوں اور لوگوں کو موت دیتا ہوں‘‘۔
 
اب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اُس ’عقل مند‘کو زندگی اور موت کا فلسفہ سمجھانے میں وقت برباد کرنے کے بجائے فرمایا:
 
’’اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، (اگر تُو رب ہے تو) تُو اسے مغرب سے نکال کر دکھا دے‘‘۔
 
یہ سنتے ہی وہ کافر بھونچکا رہ گیا، اُس کے ہوش اُڑ گئے، ہکا بکا اور لاجواب ہو گیا۔تواس ’پنگے‘ کا کیا نتیجہ نکلنا تھا؟ کابینہ نے فیصلہ کیا:
 
’’اگر تم اپنے دیوتاؤں کی مدد کرنا چاہتے ہو توآگ کاایک الاؤ بھڑکاؤ اوراس کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو‘‘۔
 
اس فیصلے پر بھی، عشقِ الٰہی کی مثال بن جانے والے خلیل اللہ ؑ نے ’عقل کے خلاف‘ ہی کام کیا۔کوئی مصالحت کی نہ کسی مصلحت سے کام لیا، کوئی معافی نامہ لکھا نہ اُس نمرود سے جان کی امان چاہی، بلکہ اپنے ایمان پر ڈٹے رہے، آخر:
’’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق‘‘
Https://telegram.me/ilmokitab
👍1
*وفیات مورخہ: 16/مئی*
1926ء  محمد وحید الدین۔  آخری خلیفہ عثمانی
1953ء  خورشید احمد چشتی۔  پروفیسر ،
1983ء  سکندر علی وجد۔  شاعر
1983ء  سکندر علی وجد۔  شاعر
1985ء  سید اعجاز علی۔  خان بہادر ،
2000ء  غلام علی اوکاڑوی۔  شیخ القرآن (بریلوی مکتب فکر)
2005ء  ابرار الحق حقی (ہردوئی)۔  حضرت مولانا شاہ، خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی
2006ء  مجیب اللہ ندوی۔  مولانا ، بانی جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ
2009ء  موہنی حمید۔  ریڈیو اناونسر
2013ء  انوار احمد۔   ،
2019ء  جمیل نقش۔  مصور
2021ء  نسیم ولی خان۔  قائد عوامی نیشنل پارٹی
 
Https://telegram.me/ilmokitab
دہلوی تہذیب کے نمائندہ ڈاکٹر فیروز دہلوی کا انتقال
سہیل انجم
نئی دہلی۔ ذاکر حسین کالج نئی دہلی کے سابق استاد، متعدد کتابوں کے مصنف اور دہلوی تہذیب کے نمائندہ ڈاکٹر فیروز دہلوی کا آج دہلی میں انتقال ہو گیا۔ وہ 84 سال کے تھے اور لاولد تھے۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین ہفتے کی صبح دس بجے دہلی گیٹ قبرستان میں ہوگی۔
وہ ایک عرصے سے صاحب فراش تھے۔ کچھ دنوں قبل ان کو دل کا دورہ پڑا تھا اور انھیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ پھر وہ اپنے گھر آگئے تھے۔ وہ دہلی کی تاریخ، زبان اور تہذیب پر اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ یوں تو انھوں نے متعدد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ لیکن انھیں ”میر مہدی مجروح“ اور ”لندن کی ایک رات کا خصوصی مطالعہ و تجزیہ“ پر فخر تھا۔ انھیں ادبی خدمات کے لیے متعدد ایوارڈ حاصل ہوئے تھے جن میں دہلی اردو اکادمی کا پنڈت دتا تریا کیفی ایوارڈ قابل ذکر ہے۔ متعدد ادیبوں اور صحافیوں نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ بزرگ صحافی مودود صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر فیروز دہلوی کا انتقال دہلی تاریخ و تہذیب کا زبردست خسارہ ہے۔ ان کے شاگرد اور ذاکر حسین کالج میں استا پروفیسر مظہر احمد نے کہا کہ وہ مجھے اپنے بیٹے کی طرح مانتے تھے۔ میں نے ان کی ترغیب پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔ سینئر صحافی سہیل انجم نے کہا کہ دہلی کی تاریخ کے بارے میں ان سے اکثر و بیشتر ہونے والی گفتگو سے میرے معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔
https://telegram.me/ilmokitab
حضرت مولانا ابرار الحق حقی رحمۃ اللہ خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخ وفات مورخہ ۱۶ مئی ۲۰۰۵ء، کی مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک مجلس کی ریکارڈنگ پیش خدمت ہے۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=majlis-dubai-majlis-01, Majlis Dubai Majlis 01
حاصل مطالعہ: ١٠

سکون حاصل کرنے کا راستہ

یہ پیسہ یہ ساز و سامان یہ مال و دولت جو کچھ جمع کر رہے ہو، یہ بذاتِ خود راحت دینے والی چیز نہیں ہے، راحت پیسے سے خریدی نہیں جا سکتی، وہ محض اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ جب تک قناعت پیدا نہیں ہوگی، اور جب تک یہ خیال پیدا نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ حلال طریقے سے جتنا مجھے دے رہے ہیں، اسی سے میرا کام چل رہا ہے، اس وقت تک سکون حاصل نہیں ہوگا، ورنہ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس دولت بے حساب ہے لیکن ایک لمحہ کا سکون نہیں، ایک لمحہ کا قرار نہیں، رات کو نیند نہیں آتی، یہ سب دنیا کی دوڑ کا نتیجہ ہے، اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ: دنیا کے معاملے میں اپنے سے اونچے کو نہ دیکھو کہ وہ کہاں جا رہا ہے، بلکہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھو کیونکہ ان کے مقابلے میں جس میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں رکھا ہے، اس کے ذریعے تمہیں قرار آئے گا، تمہیں راحت ملے گی اور سکون حاصل ہوگا۔ لیکن دین کے معاملے میں اپنے سے اونچے کو دیکھو، کیوں؟ اس لئے کہ اس کے ذریعے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوگا، اور آگے بڑھنے کی بےتابی پیدا ہوگی، لیکن یہ بے تابی بڑی لذیذ بے تابی ہے، اور اس کے مقابلے میں دنیا جمع کرنے کی بے تابی اور بے چینی تکلیف دہ ہے، وہ پریشان کن ہے، وہ راتوں کی نیند اڑا دیتی ہے، وہ بھوک اڑا دیتی ہے،
لیکن دین کے لیے جو بےتابی میں رہے وہ بڑی مزیدار ہے بڑی لذیذ ہے۔ اگر انسان ساری عمر اسی بے تابی میں رہے تب بھی وہ لذت میں رہے گا، راحت اور سکون میں رہے گا، لیکن ہماری ساری زندگی کا پہیہ الٹا چل رہا ہے، اللہ تعالی اس فکر کو درست فرمائے، ہمارے دلوں کو درست فرمائے، جو راستہ اللہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے اس پر اللہ تعالی ہمیں چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب)

اصلاحی خطبات
جلد اول، صفحہ (٧٣- ٧٤)

ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی
*حضرت مولانا ابر ار الحق حقی رحمۃ اللہ علیہ اور بھٹکل*

*تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)*

*قسط (1)*

*مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ سنہ 1977ء میں سرپرستان جامعہ حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ سے لکھنو اور ہردوئی میں ملاقات کرکے آرہے تھے تو مولانا ابرار الحقؒ نے آپ کے ساتھ اشرف المدارس ہردوئی سے تکمیل حفظ کرنے والے ایک تجربہ کار مسترشد پیہانی کے حافظ کبیر الدین صاحب کو ہدایت کی کہ مولانا شہباز صاحب کے ساتھ تین ماہ کے لئے بھٹکل ہوآئیں، اور وہاں پر حفظ قرآن کا درجہ منظم کرنے کی کوشش کریں۔*

مکمل مضمون پڑھیے اس لنک پر

https://links.fikrokhabar.com/05549b9a
❤1
وفیات مورخہ: 19/مئی
1817ء  انشاء اللہ خان انشاء۔ 
1936ء  مار ما ڈیوک پکتھال۔  مترجم قرآن
1936ء  محمد مار ماڈیوک پکتھال۔  مترجم قرآن
1958ء  جادو ناتھ سرکار۔  بنگالی مورخ
1973ء  حسن مامون ۔  شیخ الازہر
1974ء  محمد عبد الجلیل فریدی۔  ڈاکٹر، بانی مسلم مجلس یوپی
2001ء  انتظار حسین ۔  ادیب
2008ء  اقبال مہدی (سید اقبال مہدی نقوی)۔   ،
2010ء  ماجد حسین رضوی۔   ،
2012ء  بیگم اختر بیگانہ۔   ،
2018ء  برنارڈ لویس۔  برطانوی مستشرق
2018ء  صدیق فتح پوری۔  شاعر
2020ء  سعید احمد پالنپوری۔  مولانا مفتی ، شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند
 
Https://telegram.me/ilmokitab
*حضرت مولانا ابر ار الحق حقی رحمۃ اللہ علیہ اور بھٹکل*

قسط (2)

*تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)*

حضرت جب بھٹکل تشریف لاتے تھے تو یہاں کی فضاؤں میں ایک عجیب روحانی ماحول کا احساس ہوتا تھا، آپ ناریل کی مانند تھے جس کا خول سخت ہوتا ہے۔ لیکن اندرون میٹھا ملائم گودا اورقدرتی شربت ہوتا ہے۔ آپ جب آتے------

*مزید پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں👇👇👇*

https://links.fikrokhabar.com/f0a77a52
عہدِ خلافت میں حج کا سیاسی و عدالتی کردار

علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:

مسلمان، ڈیڑھ سو برس تک، جب تک، ایک نظمِ حکومت یا خلافت کے ماتحت رہے، یہ حج کا موسم، ان کی سیاسی اور تنظیمی ادارہ کا سب سے بڑا عنصر رہا۔ یہ وہ زمانہ ہوتا تھا، جس میں امورِ خلافت کے تمام اہم معاملات طے پاتے تھے، اسین سے لے کر سندھ تک، مختلف ملکوں کے حکام اور والی جمع ہوتے تھے۔ اور خلیفہ کے سامنے مسائل پر بحث کرتے تھے۔ اور طریقِ عمل طے کرتے تھے اور مختلف ملکوں کی رعایا آکر اگر اپنے والیوں اور حاکموں سے کچھ شکایتیں ہوتی تھیں۔ تو ان کو خلیفہ کی عدالت میں پیش کرتی تھی۔ اور انصاف پاتی تھی۔

(سیرت النبی ﷺ، جلد پنجم/صفحہ: ۲۰۸/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://telegram.me/ilmokitab
💯1
علامہ محمد البشیر الابراہیمی۔ عظیم مجاہد الجزائری تحریک آزادی
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)


آج مورخہ ۲۰/ مئی جزائری مجاہد و جلیل القدر عالم دین علامہ محمد بن بشیر بن الابراہیمی کا یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات سنہ ۱۹۶۵ء میں ہوئی تھی ۔
"علامہ ابراہیمی فقہ، شریعت، زبان اور ادب کے عالم تھے، اور ایک ایسے جادو بیاں (فصیح و بلیغ) خطیب اور عظیم شاعر تھے جو اپنے الفاظ کی فصاحت و بلاغت سے منبروں کو ہلا کر رکھ دیتے تھے، اور اپنی شاعری کی طاقت سے جذبات کو ابھارتے تھے۔ جب وہ خطبہ دیتے تو اپنی گرج میں حملہ آور شیراور اپنے جوش و خروش میں ابلتے ہوئے آتش فشاں کی مانند ہوتے، جو دلوں کو موہ لیتے اور کانوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے۔ وہ کلمہِ حق کے ساتھ گرجتے تھے اور دلیل کی طاقت، واضح ثبوت، الفاظ کی فصاحت اور بیان کی شیرینی کے ساتھ اسلام کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔"(محمدعبد اللہ العقیل)
آپ کو الجزائر کے علماء کی انجمن (جمعية العلماء المسلمين الجزائريين) کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ وہ قسنطینہ کے علاقے میں واقع سطیف (اصطیف) کے قصبے کے ریغہ قبیلے میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی، یہ قبیلہ اولاد ابراہیم (ابن یحییٰ بن مساہل) کے نام سے مشہور ہے۔ انہوں نے مشرق کے سفر (1911ء) کے دوران فقہ اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ وہ 1917ء تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے، جہاں آپ کو شیخ ابن بادیس (عبد الحمید بن محمد) کی رفاقت حاصل ہوئی، مدینہ منورہ کی اس رفاقت کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ
اور وہ مدینہ منورہ میں اپنے بھائی شیخ عبدالحمید بن بادیس سے اپنی ملاقات کے بارے میں کہتے ہیں: «ہم ہر رات مسجدِ نبوی میں عشاء کی آخری فرض نماز ادا کرتے تھے، اور پھر میرے گھر کی طرف نکل جاتے تھے۔ چناچہ میں رات کے آخری پہر تک شیخ ابن بادیس کے ساتھ تنہائی میں رات کی گفتگو (راز و نیاز) کرتا، پھر ہم مسجد کھلنے پر نمازِ فجر کے لیے سب سے پہلے داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوتے، اور پھر اگلی رات تک کے لیے جدا ہو جاتے۔ یہ سلسلہ ان تین مہینوں کے اختتام تک جاری رہا جو شیخ نے مدینہ منورہ میں گزارے تھے۔ اور یہ مسلسل راتوں کی گفتگو ان ذرائع کی منصوبہ بندی کے لیے تھی جن کے ذریعے الجزائر میں بیداری پیدا کی جائے، اور ان جامع تحریکوں کے لیے مفصل پروگرام وضع کیے جائیں جو اس وقت ہمارے ذہنوں میں محض کچھ تصورات کی شکل میں گھوم رہے تھے۔ پھر نیت کی اچھائی اور اللہ کی توفیق سے، انہوں نے چند سالوں بعد اسے حقیقت کا روپ دے دیا۔ اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ سنہ 1913 عیسوی کی وہی راتیں تھیں جن میں 'جمعیت العلماء المسلمین الجزائریین' (الجزائر کے مسلم علماء کی انجمن) کی پہلی بنیاد رکھی گئی تھی، جو سنہ 1931 عیسوی سے پہلے دنیا کے سامنے ظاہر نہ ہو سکی تھی»۔"
مدینہ منورہ کے اسی قیام کے دوران آپ کے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ سے تعلقات قائم کرنے اور فیض حاصل کرنے کا موقعہ ملا، حضرت مدنی نے آپ کو حدیث کی سند اجازت بھی عطا کی تھی۔ اور اپنے وطن میں رہ کر فرانسیسی سامراج کے خلاف جدو جہد کی تحریک پیدا کی تھی۔ شمالی افریقہ میں فرانسیسی اور اطالوی سامراج کا غلبہ تھا، یہ برطانوی سامراج سے کئی گنا زیادہ سنگدل اور بے درد سامراج تھا، اور شمال افریقہ الجزائر، تونس، اور لیبیا کی جد وجہاد آزادی برصغیر سے کئی گنا ظالم تھا۔
❤1
1921ء تک آپ دمشق میں مقیم رہے، پھر الجزائر واپس آگئے جہاں ان کے دوست ابن بادیس (عبد الحمید بن محمد) کی تحریک سرگرم ہو چکی تھی اور ان کے تقریباً ایک ہزار شاگرد بن چکے تھے۔ 1931ء میں انہوں نے "جمعیت العلماء" قائم کی جس کی صدارت ابن بادیس نے سنبھالی اور الابراہیمی ان کے نائب مقرر ہوئے۔ انہیں 1940ء میں وھران کے صحرا کی طرف جلاوطن کر دیا گیا، اور قید خانے پہنچنے کے ایک ہفتے بعد ہی ابن بادیس کا انتقال ہو گیا، جس پر جمعیت کے ارکان نے الابراہیمی کو اس کا صدر منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ 1940ء سے 1943ء تک "آفلو" قید خانے میں رہے اور پھر رہا کر دیے گئے۔ انہوں نے ایک ہی سال میں 73 مدارس ومکاتب قائم کیے جن کا مقصد عربی زبان کی ترویج تھا۔ انہوں نے سامراجی حکام کی مسلمانوں کے تعلیمی نظام میں مداخلت سے بچنے کے لیے ان مدارس اور مرکز کو حفظ قرآن کریم کو اجاگر کیا۔ جزائری عوام مدارس کی تعمیر کے لیے اس قدر ٹوٹ پڑے کہ ان کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی۔ 1945ء میں انہیں فوجی جیل میں ڈال کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پھر رہا ہونے کے بعد انہوں نے الجزائر کے مختلف حصوں کے دورے کیے تاکہ مدارس اور مکاتب کے قیام کی سرگرمیوں کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ پھر 1952ء میں وہ قاہرہ میں مقیم ہو گئے۔1952ء مصر میں فوجی انقلاب میں شاہی حکومت کا تختہ الٹ دیا، انقلاب کے آغاز میں اخوان المسلمین انقلابیوں کے ساتھ تھی۔ لیکن پھر ان میں اختلافات انتہا کو پہنچ گئے۔ مصر کی انقلابی حکومت نے الجزائر کی تحریک آزادی کا بھر پور ساتھ دیا تھا، یکم نومبر ۱۹۵۴ء کو الجزائر میں تحریک آزادی کا شرارہ پھوٹا تھا، جو ۵ /جولائی ۱۹۶۲ء اس کی فرانس سے آزادی پر منتج ہوا۔ الابراہیمی نے اخوان اور مصر کی انقلابی حکومت میں مصالحت کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن جب انہیں اس میں کامیابی نہ ہوسکی تو پھر آپ نے مصر چھوڑ دیا، اس دوران آپ نے تحریک آزادی کے لئے تعاون حاصل کرنے کے لئے ہندوستان اور دیگر ممالک کا دورہ کیا۔ الجزائر کی تحریک آزادی کی کامیابی کے بعد وہ وطن واپس آئے، لیکن انہیں وہاں کام کرنے کی کوئی گنجائش نہ ملی، چنانچہ وہ گوشہ نشین ہو گئے یہاں تک کہ وفات پا گئے۔ وہ قاہرہ، دمشق اور بغداد کے عرب علمی اداروں کے رکن تھے۔
وہ شاعری بھی کرتے تھے، اس میں سے ایک (رزمیہ نظم) تاریخِ اسلام، جزائری معاشرے اور سامراج سے متعلق ہے، یہ 36 ہزار اشعار پر مشتمل تھا۔ وہ الجزائر کے اخبار "البصائر" میں اپنے مضامین شائع کرتے تھے اور اس کے چیف ایڈیٹر بھی تھے، ان مضامین کو "عیون البصائر" (مطبوعہ) نامی کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔ وہ فی البدہیہ تقریر کرنے والے فصیح و بلیغ خطباء میں سے تھے۔
آپ کی تحریروں کا مجموعہ آثار الامام محمد البشیر الابراہیمی کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوچکا ہے، آپ کے مجلہ البصائر کی فائل کتب خانہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں دستیاب ہے۔
نوجوانوں کے سلسلے میں آپ فرماتے تھے کہ " امت کے نوجوان اس کی زندگی میں نیا خون ہیں، اس لیے واجب ہے کہ اس خون کو فساد کی آمیزشوں سے محفوظ رکھا جائے، اور یہ ضروری ہے کہ ان میں پاکیزگی، فضیلت اور خیر کی جھلک نظر آئے۔ یہ ہراول دستے امت کی امیدوں کو اسی وقت پورا کر سکتے ہیں جب وہ خود کو علم کے لیے وقف کر دیں، اس کے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کریں، پھر مکمل تیاری اور ساز و سامان کے ساتھ میدانِ عمل کی طرف پیش قدمی کریں، علم کی رہنمائی میں قیادت سنبھالیں، اور علم کے ضابطوں کے تحت بہتر انتظام و انصرام کریں۔ یوں وہ اپنی امت کے لیے جہالت کا بدلہ علم سے، فقر کا بدلہ خوشحالی سے، کمزوری کا بدلہ طاقت سے، اور غلامی کا بدلہ آزادی سے لیں۔ اور حق کے میدانوں سے مکار دجالوں کے بچے کھچے اثرات کا، سیاست اور نمائندگی کے میدان سے دلالوں اور سوداگروں کا، اور قیادت کے افق سے شعبدہ بازوں اور ان پڑھ لوگوں کا صفایا کر دیں"۔
اور فرانسیسی سامراج کے بارے میں ان کا فرمان تھا کہ ""بے شک فرانس اس بات سے جاہل رہا یا اس نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا کہ اہل جزائر، دیگر عرب بیٹوں کی طرح، ایسے معزز لوگوں کی پشت سے ہیں جو ذلت کو ناپسند کرتے ہیں اور ظلم پر صبر نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ذلت اور رسوائی کی زندگی پر عزت و وقار کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
اور میں سچے ایمان کے ساتھ یہ یقین رکھتا ہوں کہ ایک مسلمان قوم میں استعمار (نوآبادیاتی نظام) کے قائم رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے؛ کیونکہ اس دین کے اصول، اس کی تعلیمات اور اس کی ہدایات، آزادی کے لیے بہترین ستون اور ذلت و ناانصافی کے خلاف انقلاب کا سب سے مضبوط محرک ہیں۔
بلا شبہ، دین ہمیں اتحاد، تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیتا ہے، اور ہم پر لڑنا اور جدوجہد کرنا اس وقت فرض کرتا ہے جب بھی ہمیں یہ خوف ہو کہ ہماری آزادی چھین لی جائے گی اور ہماری عزت پامال کر دی جائے گی۔ پس استعمار کا بقا ان عظیم اصولوں کے ساتھ کیسے ممکن ہو سکتا ہے جو دین نے مقرر کیے ہیں؟"
آپ کے رفیق شیخ عبد الحمید بن بادیس کا آپ کے بارے میں کہنا تھا کہ "مجھے اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جس نے شیخ الابراہیمی جیسے جلیل القدر انسان کو جنم دیا ہو، جس کے لئے ممکن ہی نہیں کہ وہ دین کے معاملے میں گمراہ ہو جائے، یا دنیا میں رسوا ہو جائے، یا سامراج کے سامنے سرنگوں ہو جائے۔"
شیخ محمد البشیر الابراہیمی کے یوم وفات کی مناسبت سے یاد کرتے ہوئے، بطور نمونہ اردو آڈیو ڈاٹ کام سے آپ کی ایک عربی تقریر کی لنک پیش خدمت ہے۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=al-arabiya-wal-istimar, Al Arabiya Wal Istimar

WA:00919741136475
❤1
*وفیات مورخہ: 21/مئی*
1829ء  میر اکبر علی خان، آصف جاہ سوم۔  نظام حیدرآباد
1948ء  محمد اقبال۔  علامہ، ڈاکٹر،محمد ، والد داؤد رہبر
1962ء  عبدالشکور فاروقی لکھنوی۔  مولانا، بانی دار المبلغین لکھنو
1969ء  نریش کمار شاد۔  شاعر
1985ء  قاضی شمس الدین۔  شیخ الحدیث جامعہ صدیقیہ گوجرانوالہ
1991ء  راجیو گاندھی۔  وزیر اعظم ہند
1991ء  سیف زلفی (سید محمد ذوالفقار حسین)۔ 
2002ء  قاری اجمل خان لاہوری۔  جمعیت علمائے اسلام پاکستان
2016ء  اختر محمد منصور۔  جانشین ملا عمر
2019ء  محمود انصاری۔ 
2021ء  محمد عثمان منصور پوری۔  مولانا، سید، نائب مہتمم دار العلوم دیوبند
 
Https://telegram.me/ilmokitab
بیت اللہ کی مرکزیت:

✍🏻... مولانا غلام رسول مہر

یہ ہے مرکزیت، اسے کہتے ہیں اُمت کو ایک مقام سے وابستہ کرنا، دنیا کا کون سا مذہب ہے جس نے اپنے پیروؤں کے دل میں مرکز کے ساتھ عقیدت، شیفتگی اور عشق کے ایسے گہرے عمیق اور کبھی افسردہ نہ ہونے والے جذبات پیدا کیے اور دنیا کا کون سا مقام ہے جس نے گزشتہ ساڑھے تیرہ سو سال کی مدت میں اتنے بندگانِ خدا کو اپنی طرف کھینچا؟
حجاز ریویرا نہیں، کشمیر نہیں ، لوزان نہیں کہ لوگ سیر و تفریح کے لیے خود بخود کھنچے آئیں؛ بلکہ ہر اعتبار سے تکالیف و مصائب کا مرقع پیش کرتا ہے؛ گرمی بے پناہ، تمازت آفتاب جسم سوز، پانی کم یاب سبزی و روئیدگی ناپید ، درخت مفقود، جسمانی آسائش وراحت کے سامان بے حد قلیل ، لیکن اسلام کے حلقہ بگوش اپنی راحت و آسایش کی زندگیاں چھوڑ کر جماعتوں اور قافلوں کی شکل میں اُدھر جا رہے ہیں۔ ہر سمت سے، ہر ملک سے جارہے ہیں۔ مسلمان آج وہ نہیں رہے جو تیرہ سو سال پہلے تھے؛ لیکن حرمین شریفین کے ساتھ ان کا عشق اب تک شباب پر ہے اور ان شاء اللہ تا قیام قیامت شباب پر رہے گا۔

ان حقایق کو سامنے رکھ کر، اُس ذات بابرکت کے علو منزلت کا اندازہ کیجیے، جو کائنات انسانیت کے فرزندان توحید کو وادی غیر ذی زرع کے ساتھ اس ہر طرح دائما وابستہ کر دینے کا موجب بنی۔ صلی الله علیه وآله واصحابه وسلم تسليما كثيرا كثيرا

یکم مئی ۱۹۳۰ء ( جدہ سے تقریباً بیس گھنٹے کے سفر پر )


(*سفر نامۂ حجاز، صفحہ: 62، طبع: یادگار لائبریری، گوجرانوالہ*)

ناقل: محمد عدنان وقار صدیقی
❤2
Mr Sid
بیت اللہ کی مرکزیت: ✍🏻... مولانا غلام رسول مہر یہ ہے مرکزیت، اسے کہتے ہیں اُمت کو ایک مقام سے وابستہ کرنا، دنیا کا کون سا مذہب ہے جس نے اپنے پیروؤں کے دل میں مرکز کے ساتھ عقیدت، شیفتگی اور عشق کے ایسے گہرے عمیق اور کبھی افسردہ نہ ہونے والے جذبات پیدا کیے…
*مسلمانوں کی مذہبی حمیت*

✍🏻... مولانا غلام رسول مہر

لیکن مسلمانوں کے جوش ایمانی اور حُبِّ بیت اللہ کی یہ حالت ہے کہ کسی تکلیف کی پروا نہیں کرتے ؛بلکہ سفر حج میں تکلیف کے ذکر کو بھی گناہ سمجھتے ہیں، ہر شخص کی زبان سے یہی سنا جاتا ہے کہ اس سفر میں جتنی تکلیفیں پیش آئیں اتنا ہی ثواب زیادہ ہوگا، تکالیف کے ہجوم میں اس نوع کے مذاکرات سُن کر اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات اپنے پیروؤں اور حلقہ بگوشوں کی ذہنیتوں میں کتنا بڑا انقلاب پیدا کر چکی ہے۔ تیرہ سو سال گزر چکے ہیں ، اس دوران صدہا حکومتیں قائم ہوئیں اور مٹیں ، صدہا مقامات پر اسلام کا علَم نصب ہوا اور اُکھڑا۔ صدہا ممالک میں مسلمان توحید کا پیغام لے کر گئے ۔ کامران ہوئے اور کئی ملکوں میں اُن کی فاتحیت مفتوحیت میں بدل گئی، لیکن بیت اللہ الحرام کی شمع جہاں افروز پر پروانگی کا عالم اب بھی وہی ہے، جو آج سے تیرہ سو سال پہلے تھا۔ شمال ، جنوب، مشرق،مغرب، ہر طرف سے کلمہ گویانِ توحید کھنچے چلے آتے ہیں۔

مراکش، الجزائر، مصر، سوڈان، ترکی، تاتار، افغانستان، ایران، ہندوستان، جاوا، یمن، نجد، شام، فلسطین، سمالی لینڈ ، حضرَموت، مسقط، عراق، غرض کہ کون سا مقام ہے جہاں کے فرزندانِ توحید ہزاروں کی تعداد میں ہر سال بیت اللہ شریف نہیں آتے۔
یہ سلسلہ خلافت راشدہ کے عہدِ یُمن و برکت و امن میں قائم رہا۔ تو بعد کے مختلف ادوار بدامنی و قتل و غارت میں بھی جاری رہا اور اب سلطان کے عہد امن و راحت میں بھی جاری ہے۔ جب جہاز چھ چھ مہینے میں ہندوستان سے حجاز پہنچتے تھے، اُس وقت بھی جاری تھا اور اب کہ چھ یا آٹھ دن میں پہنچ جاتے ہیں اب بھی جاری ہے۔ سمندر طوفانوں سے لبریز ہوں یا ان سطح پر سکون عام طاری ہو، جانوں کا خطرہ ہو یا امن ہو ، گردنیں کٹتی ہوں یا خون بہتے ہوں یا جانوں کے علاوہ اموال کی محفوظیت کا بھی یہ عالم ہو کہ ایک حَبَّہ بھی ضائع نہ ہوسکے ، زیارت وحج کا سلسلہ نہ رکا ہے نہ رک سکے گا۔

قرامطہ نے اپنے عہد تسلط میں حج کو روکنے کے لیے بہت کچھ کیا، طاہر قرامطی نے صرف ایک حج کے موقع پر تیس ہزار فرزندان توحید کو حرم میں شہید کردیا۔
زم زم کو لاشوں سے بھر دیا۔ حجر اسود کو اکھاڑ کر اپنے دارالحکومت میں لے گیا۔ لیکن مسلمان اس حالت میں بھی بکثرت بیت اللہ شریف جاتے رہے۔


( سفر نامہ حجاز، صفحہ: 61، طبع: یادگار لائبریری، گوجرانوالہ)
*غلطی ہائے مضامین*
 
*ایک درد ناک کالم*
 
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
 
اِک مردِ بے درد نے پوچھا ہے کہ ’’درد اُٹھنا میں یہ ’اُٹھنا‘ کیا ہے؟‘‘
عرض ہے کہ جسم کے کسی حصے میں اچانک تکلیف شروع ہوجائے تو اس کیفیت کے اظہار کے لیے ’درد اُٹھنا‘ بولا جاتا ہے۔ اُٹھنا ’محاورہ‘ ہے۔ محاورے میں حقیقی معنی نہیں لیے جاتے، مجازی معنی لیے جاتے ہیں۔ عموماً فعل ہی کی کوئی قسم استعمال کی جاتی ہے، لیکن مُراد وہ فعل نہیں ہوتا، کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ عام بول چال میں ہم بہت سے محاورے استعمال کرتے ہیں، مگر ان کے لفظی معنی کبھی نہیں لیتے۔ مثلاً:
 
’’میں گھر میں داخل ہوا تو بچوں نے آسمان سر پر اُٹھا رکھا تھا‘‘۔
(سامان تو سر پر اُٹھا سکتے تھے، بچوں نے آسمان کیسے سر پر اُٹھالیا؟)
 
’’ارے پڑوسی کا لڑکا تو میرے سر پر چڑھا جارہا تھا‘‘۔
(لڑکا سچ مُچ آپ کے چٹیل سر پر چڑھ گیا ہوتا تو فوراً پھسل کر گِرپڑا ہوتا!)
 
’’اُن کے کمرے میں داخل ہوا تو اُستادِ محترم مجھے دیکھتے ہی باغ باغ ہوگئے‘‘۔
آپ نے اُن کے کمرے میں داخل ہوکر کچھ اچھا نہیں کیا۔ داخل نہ ہوتے تو استادِ محترم حسب ِسابق انسان کے انسان ہی رہتے۔ بیٹھے بٹھائے’گاندھی گارڈن‘ نہ بن گئے ہوتے
 
خیر، یہ تو لفظوں کی جُگالی تھی۔ جُگت بازی سے باہرآکرجائزہ لیجے تو پہلے محاورے سے مراد لی جاتی ہے ’’اُدّھم مچانا‘‘۔ دوسرے محاورے کا مفہوم ہے ’’بدتمیزی اور گستاخی کرنا‘‘۔ اور تیسرے محاورے کا مطلب ہے ’’خوشی سے کِھل اُٹھنا‘‘۔
 
اُردو میں اور بھی بہت سے ایسے محاورے ہیں جن میں افعال اپنے اصل معنوں میں نہیں لیے جاتے۔ دیکھیے کھانا، پینا اور مارنا ایسے افعال ہیں جن کا مفہوم بچہ بچہ سمجھتا ہے۔ مگر ’غم کھانا‘ یا ’غصہ پینا‘ اور ’ڈینگ مارنا‘ میں مذکور ’افعال‘ اپنے حقیقی معنوں میں نہیں لیے گئے ہیں۔
 
’درد اُٹھنا‘ میں بھی ’اُٹھنا‘ مجازی معنوں میں لیا جاتا ہے۔ اُن معنوں میں جو سوال کے بعد کی پہلی سطر میں بتادیے گئے ہیں۔ اُستاد شعرا کبھی کبھی محاوروں کے الفاظ سے کھیلتے ہیں اور اشعار میں حسن پیدا کردیتے ہیں۔ اُستاد امیرؔ مینائی نے اس محاورے میں درد کے اُٹھنے سے فائدہ اُٹھایا اور خود اُٹھ کر اس پر حُسن کا جاسوس ہونے کا الزام لگایا۔ کہاکہ درد ایک جاسوس ہے اور ہدف یا نشانے کی نشان دہی پر مامور ہے۔ حُسن کا مشغلہ اپنے شکار پر ناز و انداز کے تیروں کی بوچھار کرنا ہے۔ تیر کو ’ناوک‘ کہا جاتا ہے، اداؤں کو ’ناز‘ کہہ لیجے۔ کہہ لیا؟ اچھا تو اب حضرتِ امیرؔ کا یہ شعر بھی پڑھ لیجے:
 
ناوکِ ناز سے مشکل ہے بچانا دل کا
درد اُٹھ اُٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانا دل کا
 
طبیب صاحبان درد کو ’نعمت‘ قرار دیتے ہیں۔ درد نہ ہو تو کیسے پتا چلے کہ تکلیف کہاں ہے؟ چوٹ لگے اور درد نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ جسم بے حس ہوگیا۔ درد محسوس نہ کرنا جسمانی بے حسی کے علاوہ جذباتی بے حسی کی بھی علامت ہے۔ یہ بے حسی آج کل ہماری امت کے ہر طاقتور فرد میں نظر آتی ہے۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ تو ایسے بے حس شخص کو خدا کی رحمت سے بھی محروم قرار دیتے ہیں:
 
خدا رحم کرتا نہیں اُس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
 
جب کہ شان الحق حقی درد محسوس کرنے کی صلاحیت کو انسان کے صاحبِ احساس ہونے کی علامت جانتے ہیں:
 
حیف وہ وقت کہ احساس کے قابل نہ رہوں
درد اُٹھتا ہے تو کچھ جان میں جاں آتی ہے
 
درد اُٹھتا ہی نہیں، کبھی کبھار چمک بھی اُٹھتا ہے۔ سو،ایک درد مند شاعر کا درد بھرا شعر ہے:
 
اِن اندھیروں میں تو ہر درد چمک اُٹھتا ہے
کن اُجالوں میں کسک دل کی چھپائی جائے
 
(یہ شاعر ہم خود ہیں) دلچسپ بات یہ ہے کہ ’درد‘ کے حروف کو سیدھا پڑھیں یا اُلٹا’ درد‘ تو ’درد‘ ہی رہے گا۔ ’درد ہونا‘ کے ایک معنی رحم کرنا اور ترس کھانا یا ترس آنا بھی ہیں۔ مثال کے طور پر:
’’اے حکمرانو! کیا تمھارے دل میں غریبوں کا کچھ بھی درد نہیں؟‘‘
ذوقؔ کو گلہ تھا:
 
دردِ دل سے لوٹتا ہوں، میرا کس کو درد ہے
ہوں میں حرفِ درد، جس پہلو سے اُلٹو درد ہے
 
ایک بار درد اُٹھ جائے توبار بار ہوتا ہے۔ کبھی کم، کبھی زیادہ۔ درد کو دُکھ کے معنوں میں بھی لیا جاتا ہے۔ کسی بات کا دُکھ ہو تو منہ سے کڑوی کسیلی باتیں بھی نکل جاتی ہیں۔ بعد کو معافی مانگنی پڑتی ہے:
 
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سِوا ہوتا ہے
 
غالبؔ کے برعکس پروفیسر اقبالؔ عظیم اچھی قوتِ برداشت رکھتے تھے، اُنھوں نے ’تلخ نوائی‘ سے گریز کیا۔ معافی مانگنے سے بچ گئے:
 
چپ رہتے تو دم گھٹتا اور درد سِوا ہوتا
کچھ منہ سے نکل جاتا تو کوئی خفا ہوتا
یہ سوچ کے ہم پھر بھی بیٹھے رہے محفل میں
ہم اُٹھ کے چلے آتے تو اور بُرا ہوتا
 
درد کا دوا سے گہر ا تعلق ہے۔ درد ہوتا ہی اس لیے ہے کہ دوا کی جائے۔ سو، ہر دردمند کو فکر رہتی ہے کہ
’’آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟‘‘
ہم جو جمعے کے جمعے ’می نویس و می نویس و می نویس‘ کیے جاتے ہیں تو ہمارے تمام درد آشنا اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کالم اصلاً اُن لوگوں کا درد بٹانے کو لکھے جاتے ہیں جن کے دل میں قومی زبان کا درد ہے۔ قومی زبان قوم کا سرمایہ ہے، قوم کی شناخت ہے۔ قومی پرچم اور قومی ترانے کی طرح قومی زبان بھی قابلِ احترام ہے۔ قومی زبان کی توہین پر بھی سزا واجب ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنے دستور میں اُردو زبان کو قومی زبان قرار دیا ہے۔ قوم و وطن سے محبت کے دعوے داروں کو جاننا چاہیے کہ ہر سطح پر قومی زبان کا استعمال حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ بدیسی زبان میں گٹ پٹ کوئی قابلِ فخرکام نہیں، شرم و ندامت کا سبب بننے والی حرکت ہے۔ چین سے سبق لیجے۔ ’انگریزی گو‘ صدر ٹرمپ کے آگے چینیوں نے چہک چہک کرچینی زبان بولی۔ ٹرمپ صاحب کچھ بھی ’چُوں چاں‘ نہ کرسکے۔
 
ہمارے ہاں سرکاری سطح پر تو بڑی دردناک صورتِ حال ہے۔ مگر عوامی سطح پر اور علمی و ادبی سطح پر ہماری قومی زبان خوب پھل پُھول رہی ہے۔ ہر قسم کے سماجی ذرائع ابلاغ پر، حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی اُردو کی پیش قدمیاں جاری و ساری ہیں۔ کاش ہمارے ملک کا عدالتی نظام، تعلیمی نظام، قانون سازی کا نظام اور تمام تر سرکاری نظام چلانے والے حکام بھی قوم کا درد محسوس کریں۔ غلامی کے سجدوں کا داغ سرکاری پیشانی پر دیکھ کر قوم کو جو دُکھ محسوس ہوتا ہے،کاش وہی دُکھ وہ خود بھی محسوس کریں۔ سرکار دربار میں ہر ہر سطح پر فرنگی راج رائج رکھنے والے ایک ایک فرد سے کہنے کا جی چاہتا ہے کہ انگریزی زبان کی جگہ قومی زبان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے ، اے کاش!
 
تیرے بھی دل میں درد ہو، تیرا بھی چہرہ زرد ہو
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ: 23/مئی*
1933ء  نظم طباطبائی ( سید حیدر علی)۔ 
1937ء  محبوب عالم۔  مدیر پیسہ اخبار لاپور
1943ء  حامد رضا خان۔  بریلوی عالم دین
1948ء  محمد سہول عثمانی بھاگل پوری۔  مولانا مفتی
1959ء  م حسن لطیفی (محمد حسن)۔ 
1960ء  گاما پہلوران (غلام محمد بخش بٹ)۔  رستم زماں
1990ء  شوکت کمال۔   ،
1991ء  عبدالمجید ندوی۔  مولانا
1992ء  حافظ امام خاں میواتی۔ 
1992ء  محمد مجید زبیری۔ 
2002ء  علی امام۔   ،
2003ء  سید محسن علی۔   ،
2024ء  سید حسن سقاف۔  صدر خلیفہ جماعت بھٹکل
   https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
کیا ہم مسلمان ہیں (٤١)  سورج چھپ گیا.... روشنی باقی ہے (چوتھی  قسط)
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
 
ایک بار کچھ لوگ ملنے کے لیے آئے ۔ اُن میں ایک شخص کی خستہ حالی دیکھی نہ جاتی تھی۔ جب یہ سب لوگ اُٹھ کر جانے لگے تو امام صاحبؒ نے اس مفلوک الحال شخص کو روک لیا اور جائے نماز کی طرف اشارہ کرکے اس کے نیچے سے دس ہزار درہم کی تھیلی اُٹھالینے کو کہا۔
"میں ...... میں ...... تو دولت مند ہوں۔" اس شخص نے گھبرا کر جواب دیا "مجھے اس کی ضرورت نہیں۔" حسّاس ترین اور فیّاض ترین امامؒ نے قدرے نا خوش گواری کے ساتھ فرمایا " تو صُورت توایسی نہ بنانی چاہیے کہ دوسروں کو افلاس کا شبہ ہو ۔"
 
ـــــــــــــــ
 
ایک مرتبہ کسی بیمار کی مزاج پرسی کو تشریف لے جارہے تھے کہ راہ میں اپنا ایک مقروض نظر آیا جو کِترا کر نِکلا جا رہا تھا۔ امام صاحبؒ نے اس کو آواز دی اور اس طرح کترا جانے کی وجہ پوچھی ۔
"مَیں آپ کا دس ہزار درہم کا مقروض ہوں ؟" اس شخص نے ندامت سے کہا، " آپ کو دیکھ کر شرم کے بوجھ سے آنکھ نہیں اُٹھتی تھی ــــ اِس لیے ......"
اس شرم و حیا اور ضمیر کی ٹیسں کومحسوس کرتے ہی امام صاحبؒ کانپ اُٹھے اور اعلان کیا:
"میں نے وہ رقم معاف کردی ۔ جاؤ اب تمہیں اس کی ادائیگی کی کوئی فکر نہ کرنی چاہیے۔"
 
 ـــــــــــــــ
 
درس کے درمیان میں کسی نے کوئی مسئلہ دریافت کیا ۔ امام صاحبؒ نے مناسب جواب دیا ۔ سائل نے کہا کہ "حسن بصریؒ نے تو اس مسئلے میں کچھ اور کہا ہے۔ " امام صاحبؒ نے نہایت متانت کے ساتھ فرمایا ۔ ”ہاں حسن نے غلطی کی۔"  اس حلقہ میں کوئی شخص حسن بصریؒ کا عقیدت مند بھی بیٹھا ہوا تھا۔ امام صاحب کی یہ بات سُن کر اس کو فرطِ عقیدت میں طرارہ آگیا اور جامے سے باہر ہو کر بولا "او ابن الفاحشہ ! تو حسن کو خطا کار ٹھہراتا ہے ـــــ" امامؒ کی شان یہ فحش گالی سُن کر تمام مجلس میں ہل چل سی پڑ گئی ، چہرے تمتما گئے اور جذبات کے پیمانے چھلکنے لگے ۔ مگر سامنے وقت کا یہ جلیل القدر امام صبرو سکون کا مجسمہ بنا بیٹھا تھا ۔ آخر جب فضا پُر سکون ہوئی تو صبر و استقلال اور علم و تحمّل کے پہاڑ سے یہ دل نشیں، متین اور پُر سوز آواز آئی ، "وہاں ـــــ حسن نے اس معاملے میں غلطی کی ۔ عبداللہ ابن مسعودؓ نے جو روایت کی ہے وہ اقرب الی الصواب ہے ۔"
 
ــــــــــــ
 
یزید بن کمیت نے ایک بار کا یہ آنکھوں دیکھا حال بیان کیا کہ میں امامؒ کے درس میں خود موجود تھا جب کہ ایک شخص نے امامؒ سے بے ادبی اور دریدہ دہنی کے ساتھ بات چیت شروع کی ۔ اس شخص کے تیور جوں جوں بگڑ رہے تھے امام صاحبؒ کی متانت اور نرم گفتاری میں اضافہ ہورہا تھا ۔ بات بڑھتی گئی اور آخر اس شخص نے امامؒ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ـــــ ان کو "زندیق “ کے ہولناک خطاب سے گھائل کر دیا ۔ یہ بات اس شخص سے کہی گئی تھی جس نے زبان سے کبھی کسی کی آبرو پر حملہ نہیں کیا تھا ۔ لیکن یہ زخم کھانے کے بعد بھی امام نے اس سے زیادہ کچھ بھی تو نہ کہا " خدا تمہاری مغفرت کرے ـــــ وہ خوب جانتا ہے کہ میری نسبت تم نے جو لفظ کہا ہے وہ صحیح نہیں ہے ۔"
امام صاحبؒ خود فرمایا کرتے تھے کہ " مَیں نے کسی پر لعنت نہیں بھیجی۔ کسی سے انتقام نہیں لیا۔ کسی مسلمان یا ذمّی کو نہیں ستایا ۔ کسی سے فریب اور بد عہدی نہیں کی ۔"
 ایک بار حلقۂ درس میں ایک نو عمر لڑکے نے امام صاحبؒ کے جواب کو سُنا اور کہہ بیٹھا "ابو حنیفہؒ ! تم نے غلط جواب دیا۔" بڑے بڑے علماء اس درس میں شریک تھے۔ لڑکے کی اس شوخی پر بھڑک اُٹھے ۔ ابو الخطاب جرجانی نے جلال کے عالم میں پوری مجلس کو لتاڑتے ہوئے کہا ـــــ  "تمہاری بے غیرتی کی حد ہوگئی ـــــ ایک لونڈا امام کی شان میں جو مُنہ میں آتا ہے بک دیتا ہے مگر تمہاری رگِ حمیت نہیں پھڑکتی!"
وہی ابو حنیفہؒ جنھوں نے لڑکے کی اس گستاخی کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سُنا تھا اور کچھ نہ کہا تھا جرجانی کے اس طرزِ گفتگو پر برہم ہو گئے اور کہا "ان لوگوں پر کوئی الزام نہیں آتا ـــــ میں اس جگہ بیٹھا ہوں تو اسی لیے بیٹھا ہوں کہ لوگ آزادانہ میری غلطیاں ثابت کریں اور میں تحمل کے ساتھ ان کو سُنوں بھی  ــــ"
 
 
امام صاحبؒ کے مکان سے متصل ایک رند منش موچی کا گھر تھا۔ رات ہوتی تو وہ اپنے راگ رنگ سے آسمان سر پر اُٹھا لیتا اور اکثر یہ شعر لہرایا کرتا:
" "لوگوں نے مجھ کو ہاتھ سے کھو دیا ـــــ اور کیسے بڑے شخص کو کھو دیا جو جنگ اور رخنہ بندی کے دن کام آتا ــــ
❤1