علم و کتاب
8.02K subscribers
1.14K photos
82 videos
2.37K files
6.26K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
یہاں ایک اور پہلو قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ ہمیں بعض احباب نے بتایا کہ وہ گجرات میں اپنے متعلقین و مداحین کی تعداد کو دیکھ کر اپنے مختلف علمی وتعلیمی پروجکٹوں کی تکمیل کے لئے تعاون طلب کرنے گئے تھے، لیکن وہاں پر لوگوں نے بتایا کہ ہم زکوۃٰ کے مد سے تعاون دیتے ہیں، زکوۃ سے الگ ہمارے پاس کوئی اور فنڈ نہیں ہے۔
اب جو ادارے مکمل زکات سے چلیں گے تو ان میں عزت نفس پاسدار اور معززین شہر کے بچے کہاں آئیں گے؟۔اس صورت میں وہاں زکوۃ لینے والے ہی آئیں گے۔ جب یہ عالم فاضل بن کر نکلیں تو الا ماشاء اللہ بڑی مشکل سے ان میں مرعوب ہوئے بغیر کلمہ حق کہنے والے پیدا ہونگے۔
ہمارے دینی حلقوں میں تاریخ کتاب المناقب کا نام ہے۔ تجزیاتی تاریخ کی کتابیں تلاش پر بڑی مشکل سے ملتی ہیں، اور جو ملتی ہیں وہ مشورہ دینے والے کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔ لہذا لوگ جان بوجھ کر اس سلسلے میں کسی رہنمائی سے بچنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔
مولانا مسعود عالم ندویؒ کی ایک کتاب ہے الدعوۃ الاسلامیہ فی الھند، مولانا کے نام لیوا شاید ہی اس کتاب کا تذکرہ کرتے ہوں گے، اور شاید ہی کسی کو اس کے ترجمہ کی ہمت ہوگی۔کتاب میں گجرات کی علمی تاریخ کے سلسلے میں آپ نے ایک نکتہ اٹھایا ہے کہ گجرات میں جو بھی علمی بہار تھی، وہ ۱۵۷۳ء میں اکبر اعظم کے دور حکومت میں گجرات کی فتح اور مغلیہ سلطنت میں شمولیت تک تھی۔ گجرات پر شمال کی یلغار کے بعد پھر گجرات کی یہ علمی بہار ختم ہوگئی۔
سننے میں آتا ہے کہ اب گجرات کا مسلمان گجرات وبہار کی عصبیتوں سے بھی آگے بڑھ چکا ہے، برطانیہ، جنوبی افریقہ وغیرہ کے چند گجراتی اہل علم نے ہمیں بتایا کہ اب یہاں سورت، بھروچ، بڑوھرا، وغیرہ کی چہار دیواریاں بن گئی ہیں، مختلف شہروں اور قصبوں کے لوگ اپنے علاقوں کے تعاون تک سمٹ گئے ہیں۔
ممکن ہے ہمارا یہ تاثر سراسر غلط ہو، لیکن جب ان کی سن گن ہوگئی ہے تو ہمارے علماء و داعیان حق کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاشرے میں جن کے دینی تعلیمی اداروں میں مدرسوں کی چہار دیواری کے اطراف بسنے والوں کی تعداد اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے، ان کی صورت حال کے بارے میں غور کرے، اصلاح و دعوت کا کام پہلے اپنے گھر، اہل وعیال، پھر محلے اور شہر سے ہونا چاہئے۔ ان پر اپنی فکر مرکوز کئے بغیر تعداد بڑھانے کے لئے دور دراز علاقوں کے نونہالوں سے اپنے اداروں کو بھر دینا تویہ اپنے گھر اور معاشرے کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔
2026-06-16
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
ہندوستان میں ایک ہفتہ کے لئے ٹیلگرام پر پابندی ہونے کی وجہ سے علم وکتاب ٹیلگرام چینل اپڈیٹ نہیں ہورہا ہے، احباب سے گذارش ہے آپ ٹیلگرام چینل سے جڑے رہیں، اور فی الوقت ہمارے علم وکتاب واٹس اپ چینل کو جوئن کرکے ہمارے علمی مواد سے استفادہ کرتے رہیں۔
لنک علم وکتاب واٹس اپ چینل
عبد المتین منیری
اڈمن چینل
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*بات سے بات: معاصر علماء کے لئے بھاری بھرکم القاب* *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*

کل ہماری بزم علم وکتاب کے ایک معزز ممبر نے اپنے سلسلہ مضامین میں شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ کیا تھا، جس میں آپ کی شان میں جو القاب استعمال کئے تھے، اس پر دوسرے کئی اہل علم نے دوسرے اسلاف کی کسر شان محسوس کی اور اس پر ناقدانہ تبصرے کئے، جس کے بعد موصوف نےاپنی تائید میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کا حوالہ پیش کردیا، اور پھر بحث کا رخ ڈاکٹر صاحب کی طرف پھر گیا۔
ہمارے خیال میں اپنے سے بڑے کسی اہل علم کی رائے سے متاثر ہونا کوئی معیوب بات نہیں، یہ ایک فطری عمل ہے، لیکن جب کسی کی رائے کو قبول کرکے اسے پیش کرنے کی بات ہو تو تحقیق کی سان پر اسے جانچ پرکھ کر قبول کریں، کسی کی شہرت ومقبولیت سے متاثر ہوکر رائے قبول کرنے کے بجائے آپ کو اس کی دلیل سے مطمئن ہو کر بات پیش کرنی چاہئے ، اور جب کوئی اعتراض ہو توپھر اپنی بات کو دوسرے کی طرف منسوب کرکے پلا جھاڑنے کے بجائے، واضح انداز سے اپنا موقف پیش کرنا چاہئے۔ بات آپ نے پیش کی اور پھر ایک غیر حاضر شخص کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے، اور بحث کو اس کی جانب موڑدیا جائے، تواسے سنجیدہ علمی بحث سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔
رہی بات ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی تو وہ ایک پڑھے لکھے انسان ہیں، سات کنؤوں کا پانی انہوں نے پیا ہے، انہوں نے دنیا دیکھی ہےاور کئی بر اعظموں کے علماء و فضلاء سے فیض اٹھایا ہے۔ ان کا ایک علمی وتحقیقی پس منظر اور مقام ہے۔
ان کی جو تحریریں اور کتابیں گذشتہ چند سالوں سے منظر عام پر آرہی ہیں، انہیں دیکھ ہمیں ذاتی طور پر احساس ہورہا ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ لکھنے پر توجہ لگے ہیں۔ اس روئیے سے ایک صاحب قلم اپنی علمی وتحقیقی شناخت بنانے میں کامیاب نہیں ہوپاتا۔
اس کی ایک مثال ہمارے سامنے مولانا سید رئیس احمد جعفری ندوی مرحوم کی ہے، انہوں نے کتنا کچھ نہیں لکھا ، اور کن کن کتابوں کا ترجمہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے اپنے کام میں معیار اور انتخاب کا خیال نہیں رکھا ، علم وادب کی ہرکھیتی کو جوتا۔ نتیجہ آج اتنے بڑے ادیب مورخ ومترجم کا علمی دنیا میں کوئی مقام متعین نہ ہوسکا ہے ۔ حالانکہ ان کے مقابلے میں مولانا ظفر علی خان نے اردو میں صرف جان ولیم ڈریپر کی ایک کتاب کاترجمہ معرکۃ علم وسائنس کے نام سے پیش کیا ہے، جو ایک صدی سے آنے والے مترجمین کے لئے ایک معیار بن گئی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی تصانیف دیکھ کر ہمار ا تاثر یہ ہے کہ:
۔ اپنی کتابوں کو رطب ویابس کا مجموعہ بنادیاہے،اپنے موضوع پر کتابیں تو بڑی ضخیم ترتیب دی ہیں، لیکن یہ ماننا مشکل ہے کہ انہوں نے ان میں اپنے موضوع کا کتنا حق ادا کیا ہے۔ اس کی مثال میں الوفاء في أسماء النساء اور تاریخ ندوۃ العلماء کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ ایسا نہیں کہ ان کی سبھی کتابیں غیر معیاری ہیں، پہلے لکھی گئی کتابیں اور تراجم کافی معیاری بھی ہیں مفید بھی، لیکن ان آخری کتابوں نے ان معیاری کتابوں کی روشنی کو گہنا دیا ہے، اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے ان کے مضامین نے اس رنگ کو اور دھندلا کردیا ہے۔
۔ ڈاکٹر صاحب نے گذشتہ دنوں برصغیر میں حدیث کی اسانید اور اجازات کی خوب پبلسٹی کی ہے، اور ان کے دیکھا دیکھی چند اور اہل علم نے بھی اس کو بہت زیادہ اہمیت دینی شروع کی ہے، اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب نے بعض ایسی شخصیات کو بڑے بڑے القاب دے کر ان کی اجازات واسانید پر مستقل کتابیں ترتیب دی ہیں ، جن میں سے بعض شخصیات کو دو تین عشروں سے زیادہ عرصے سے ہم قریب سے جانتے ہیں، اور ہمارا خیال ہے کہ جس طرح انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، اس کے وہ حقدار نہیں ہیں۔
مشائخ سے کتب حدیث کا مکمل درس لئے بغیر اجازت حدیث کے سلسلے میں ہماری رائے ہے کہ یہ برکت کے لئے ہوسکتی ہے، بزرگوں سے نسبت بھی اچھی بات ہے، لیکن صرف چند منٹ کی مجالس سےاپنی نسبتوں کا ڈھنڈورا پیٹنا یہ احساس کمتری کی علامت ہے، یہ مخصوص حلقوں میں مقبولیت بڑھانے کا باعث تو بن سکتی ہے۔ لیکن ان کی علمی اہمیت اتنی نہیں جتنی بڑھا چڑھا کرپیش کی جارہی ہے۔
جہاں تک ہمارا محدود علم ہے حافظ ذھبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ کے دور کے بعد اس درجہ کے محدث محقق وحافظ حدیث دوبارہ پیدا نہیں ہوئے۔ اس دور کے بعد جنہوں نے بھی علم حدیث کی جیسی بھی خدمت کی ہے وہ ہمارے لئے قابل صد احترام ہے، انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کے مقام کا حق ادا کرتے ہوئے، ان کے مناسب الفاظ و القاب استعمال کئے جائیں، لیکن ایسے القاب سے احتراز کیا جائے، جن سے اسلاف کا درجہ ومقام کم ہوتا ہوا محسوس ہو۔ موازنہ علمی وموضوعاتی ہو، صرف عقیدت و جذبے پر منحصر نہ ہو۔
۔ کئی احباب نے اپنی بحثوں میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی القاب میں بے احتیاطی پر اعتراض کیا ہے، اس سلسلے میں ہمیں اپنے دامن پر بھی کبھی نگاہ ڈالنی چاہئے۔
احباب جانتے ہیں کہ اس ناچیز کو ایک ایسے زمانے میں خلیجی ممالک میں رہنے کو موقعہ ملا تھا، جو حدیث وتفسیر کے مخطوطات کے منظر عام پر آنے کے لحاظ سے ایک سنہرا دور تھا۔ مسلسل اطلاعات ملتی رہتی تھیں کہ فلان حدیث، تفسیر تاریخ وفقہ کی کتاب کا نادر مخطوطہ مل گیا، تو ایسے مواقع بھی آئے کہ ہم اپنے بعض بزرگوں کو کبھی اس کی اطلاع دیتے تو یہ بزرگ آئندہ مجلس و بیان میں ہمارے ہی سامنے کہتے سنائی دیتے کہ اپنے فلان بزرگ یا عالم فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے فلان مخطوطے کو دیکھا ہے، اور ہماری زبان سے لی ہوئی وہ معلومات وہ اپنے ان بزرگ کی طرف منسوب کرکے نقل کرتے۔ ان واقعات کے ہمارے حضرت مفتی شاہ جہاں صاحب بھی شاہد ہیں۔
یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ فیض الباری حضرت علامہ کشمیریؒ کی شہرت کا خاص باعث رہی ہے، اور شاید اس میں دو رائے نہ ہو کہ حضرت کشمیری نے اپنے دو سالہ درس بخاری کی تیاری پر شاید اتنی محنت نہیں کی ہوگی، جتنی محنت آپ کے شاگرد رشید مولانا محمد بدر عالم میرٹھی ؒ نے اس کی نقل ، تسوید اور تبییض میں سالہاسال کی ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت کشمیری ؒکے علوم کو سمجھنے والے اب کتنے رہ گئے ہیں، اور کتنے لوگ فیض الباری کھولتے یا اسے سمجھتے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں؟مولانا مفتی شاہجہاں صاحب کو ہم جب دیکھتے ہیں، تو ان کے علاوہ علامہ کشمیری کے علوم کو سمجھنے والا کوئی اور نظر نہیں آتا، تو کیا ہم علامہ کشمیری ؒ کی طرف منسوب القاب کو شعور کے بجائے عقیدت کا نتیجہ سمجھیں؟َ
یہاں ہمیں مولانا سید صبغۃ اللہ بختیاری رحمۃ اللہ علیہ یاد آتے ہیں، ایک مرتبہ ہم نے ان سے علامہ کشمیری ؒ کی عبقریت اورحافظے کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ ہمارے حضرت مدنی ؒ بھی کچھ کم نہیں تھے، لیکن ان کے علمی آثار کی حفاظت پر توجہ نہیں دی گئی، یہ بات سن کر بار بار یہ گمان ہوتاہے کہ قدرت کی حکمت تھی کہ علامہ کشمیریؒ دیوبند سے نکلیں، اور دابھیل میں انہیں انکے علوم کو حیطہ تحریر میں لانے والے اور اس کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے والے شاگرد ملیں۔ اللہ تعالی ان سب کی خدمات جلیلہ کو قبول کرے۔
رہی بات حضرت مدنی ؒ کی تو ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اپنے معاصرین میں آپ کی عربی زبان سب سے ممتاز رہی ہوگی، کیونکہ آپ نے دس سال تک مدینہ منورہ میں عربوں میں تدریس کی خدمت انجام دی ہے، اور آپ کے فیض یافتگان میں علامہ محمد البشیر الابراہیمی ؒ جیسی عظیم شخصیات رہی ہیں۔ اس زمانے میں ایسا خالص عربی ماحول کسے ملا ہوگا؟۔ اب شاید ہماری بات آپ کے عقیدت مندوں پر سخت گذرے کہ انہوں نے آپ کی ذاتی زندگی ، عبادت ، للہیت، مہمانداری، جدوجہد آزادی میں قید وبند اور قربانی جیسی چیزوں کو یاد رکھ کر اجاگر کیا، لیکن آپ کی علمی زندگی کو محفوظ کرنے اور اسے یاد رکھنے پر کماحقہ توجہ نہیں دی، انسان کی ذاتی زندگی کو یاد رکھنے سے عقیدت باقی رہتی ہے، علمی زندگی کا نمونہ محفوظ کرکے اسے پیش کرنے سے ذاتی زندگی کا رنگ چوکھا ہوجاتا ہے۔ اور باقی رہنے والا قیامت تک فیض پہنچانے والا حقیقی رنگ یہی ہے۔
2026-06-19
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
شاعر: مولانا احسن عزیز شہید


*آبگینے!*

ایک سفر میں غلام نے اونٹوں کو تیز دوڑایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستورات کا خیال رکھنے کے لئے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا : ((رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ لَا تُكْسِرِ الْقَوَارِينَ)) (مسلم، کتاب الفضائل) " آہستہ اے انجشہ! آبگینوں کو توڑ نہ دینا۔

ذرا دھیرے سے تم چلنا کہ یہ تو آبگینے ہیں!

یہی وہ آبگینے ہیں،

کبھی ہو پیاس کی شدت تو یہ پانی پلاتے ہیں
کبھی سورج کی ہو حِدَّت تو یہ سایہ بناتے ہیں
یہ ہیں آنگن کے تارے جو ہمیشہ جگمگاتے ہیں

مکاں کو گھر بناتے ہیں انھی میں وہ قرینے ہیں کہ یہ تو آبگینے ہیں

یہی وہ آبگینے ہیں کہ جو گھر بھر کی زینت بھی
یہی آنکھوں کی ہیں ٹھنڈک
یہی فرحت بھی ، راحت بھی
انھی سے رونق محفل
انھی سے حرمت محمل
بھری شاداب دنیا میں
یہی سر سبز اک حاصل

یہی جنت کے زینے ہیں کہ ہیں یہ ماں یہی بیٹی ،
یہی بہنا،یہی ہیں ہاتھ کا گہنا
محاذوں پر جو نکلو تو
کبھی پیروں کی بیڑی بھی!

بنیں پسلی سے ہیں یہ اس لئے تھوڑی سی ٹیڑھی بھی!

مگر تم توڑ مت دینا انھیں مستور ہی رکھنا
کہ عصمت کے نگینے ہیں کہ یہ تو آبگینے ہیں !

کبھی سوچا بھی ہے تم نے
یہ کتنا دکھ اٹھاتی ہیں؟

تمہاری زندگی کو کس طرح شاداں بناتی ہیں؟

تمہاری راہ کے کانٹے یہ چن لیتی ہیں
پلکوں سے سفر آساں بناتی ہیں
سنور جائیں اگر اک نسل کا ایماں بناتی ہیں!

پھر ان معصوم کلیوں کو یہی بصری، یہی سفیاں بناتی ہیں !
❤2
ہماری عزت و کامیابی کا منبع، ذاتِ رسول ﷺ

مولانا سید ازہر شاہ قیصر صاحب رحمۃ اللّٰه علیہ اپنے مضمون: "پیغمبر اعظم کا منشورِ اعظم" میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

سلام ہو اُس نور الاوّلین والآخرین سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللّٰه علیہ وسلم پر کہ جن کی تعلیماتِ حقانی اور احکاماتِ ایمانی کے طفیل میں ہمیں رب السموات والارضین کی خوشنودی مزاج کی یہ سعادت اور دین و دنیا میں عزت و کامیابی کا یہ مقامِ ارفع نصیب ہوا۔ ہزار ہزار سلام ہوں عرب کے اُس نبی اُمّی پر کہ جس کی حکمتِ بالغہ کے آگے دنیا کے تمام حکماء نادم و عاجز تھے اور جس کے علومِ الہٰیہ کے سامنے سارے تاجدارانِ علوم اور کشور کشایانِ فنون خاموش ہوکر رہ گئے۔ ان کی تعلیمات کا ایک ایک حرف ہماری زندگی میں انقلاب پیدا کرگیا اور ان پر عمل کرکے ہی ہمیں دنیا کی بہت بڑی اور طاقتور قوم اور آخرت میں سب سے زیادہ فائز المرام امت بننے کی عزت ملی۔ حق یہ ہے کہ ہماری یہ تمام سعادتیں، یہ تمام عزتیں، یہ تمام فضیلتیں اور یہ سب شرف اسی نبی الانبیاء ﷺ کی پیغمبرانہ تعلیمات کا صدقہ ہیں، ہمارے پاس جو کچھ ہے، اس کا منبع و مصدر اسی پاک و برتر نبی کی ہستی ہے اور ہمیں جو کچھ ملا ہے اسی سرچشمۂ فیض سے ملا ہے۔

گرچہ خوردیم نسبت است بزرگ
ذرّہ آفتاب تا با نسیم

پھر یہ بیجا نہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وسلم کی تعلیمات و ارشادات کو بار بار پڑھیں اور ان کے خطبات و کلمات کا باہم مطالعہ کریں، ان کا مطالعہ سعادتِ دارین اور فلاحِ کونین کا موجب ہے۔

(ماہنامہ دارالعلوم دیوبند، اکتوبر ۱۹۵۴ء مطابق محرم الحرام ۱۳۷۴ھ/صفحہ: ۲۰/۲۱/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://telegram.me/ilmokitab
❤1
الحمد للہ ٹیلگرام واپس آگیا۔
❤1
احباب کے شکرگذار ہیں کہ انہوں نے بندش کے دور میں ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ عبد المتین منیری ۔ اڈمن علم و کتاب
❤9
سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم
سہیل انجم
سید ازہر شاہ قیصر دسمبر 1920 میں محدث عصر علامہ سید انور شاہ کشمیری کے گھر دیوبند کے محلہ دیوان میں پیدا ہوئے۔ ان کا انتقال 1985 میں ہوا۔ وہ ایک عالم دین مصنف اور صحافی تھے۔ وہ علامہ انور شاہ کشمیری کے بڑے فرزند تھے۔ یوں تو انھوں نے متعدد اخبارات و رسائل میں صحافتی خدمات انجام دیں لیکن ان کا صحافتی امتیاز یہ ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے اردو ماہنامہ ”دار العلوم“ کے 32 سال تک ایڈیٹر رہے۔ انھوں نے اپنی علمیت اور صحافتی لیاقت سے اس رسالے کو بام عروج پر پہنچایا۔
ابتدائی تعلیم کے لیے ان کا داخلہ دار العلوم دیوبند میں کرایا گیا۔ لیکن جب ان کے والد علامہ انور شاہ کشمیری 1927 میں دار العلوم دیوبند سے استعفیٰ دے کر جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل چلے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ وہیں منقتل ہو گئے۔ 1933 میں جب وہ بارہ سال کے تھے تو ان کے والد انور شاہ کشمیری کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال پر ملک بھر کے لوگوں نے اظہار تعزیت کیا۔ ان میں مصنف، صحافی اور شاعر ظفر علی خان بھی شامل تھے۔ اس موقع پر دیوبند کی جامع مسجد میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے لیے خطبہ استقبالیہ بارہ سالہ ازہر شاہ قیصر نے تیار کیا تھا۔ اسے اجتماع میں بلند آواز سے پڑھا بھی گیا۔ ظفر علی خان کو یہ خطاب اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اسے اپنے اخبار ”زمیندار“ کے صفحہ اول پر شائع کیا۔ اس طرح کم عمری ہی میں ان کی ادبی و صحافتی زندگی کا آغاز ہو گیا۔
سید ازہر شاہ قیصر نے اسی سال مضمون نگاری کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ ان کے مضامین سب سے پہلے بجنور سے شائع ہونے والے ماہنامہ ”غنچہ“ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماہنامہ ”پیامِ تعلیم“ میں شائع ہوئے۔ دوسرے رسائل میں بھی ان کی تخلیقات پابندی سے شائع ہوتی رہیں۔1936 میں سہارنپور سے ہفت روزہ ”صداقت“ جاری ہوا تو وہ اس کے مستقل کالم نگار اور ادارتی عملہ کے رکن بن گئے۔ وہ صداقت میں اصلاحی، دینی اور سیاسی مضامین کے ساتھ ساتھ ایک فکاہیہ کالم ”اسرار و لطائف“ بھی پابندی سے لکھتے رہے۔ صداقت نے 1939 میں ان کے مضامین کے انتخاب پر مشتمل ایک خصوصی شمارہ شائع کیا۔ اس وقت ان کی عمر محض 19 سال تھی۔ یہ خصوصی شمارہ ان کی صحافتی زندگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ انھوں نے سلطان الحق قاسمی بجنوری کے ساتھ مل کر ہفت روزہ ”استقلال“ شروع کیا۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ کب جاری ہوا لیکن اس کا عید نمبر دسمبر 1937 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں ازہر شاہ قیصر کا ایک مستقل کالم ”تواضعات“ کے عنوان سے شائع ہوتا رہا۔ اسی طرح پندرہ روزہ ”دیوبند ٹائمز“ میں، جس کے مدیر مولانا اعجاز احمد قاسمی تھے، سیاسی حاشیے کے عنوان سے کالم لکھتے۔ لیکن کالم پر ان کے اصل نام کی بجائے قلمی نام ”غزالی“ شائع ہوتا۔ اس کالم میں پندرہ دن کی ملکی و غیر ملکی خبروں پر تبصرے ہوتے۔
انھوں نے نومبر 1940 میں دیوبند سے دو ماہی ”الانور“ جاری کیا جس نے علامہ انور شاہ کشمیری کی زندگی اور کاموں پر توجہ مرکوز کی۔ یہ ایک دینی و اصلاحی اخبار تھا۔ اس کا مقصد علامہ کشمیری کے کی علمی خدمات سے اردو داں طبقہ کو روشناس کرانا تھا۔ انھوں نے الانور میں ان پر متعدد مضامین لکھے۔ اسی عرصے میں انھوں نے ماہنامہ ”ہادی“ دیوبند کی ادارتی ذمہ داری سنبھالی۔ اس کا پہلا شمارہ مئی 1949 میں منظر عام پر آیا تھا۔ اس کے ادارہ تحریر میں سید ازہر شاہ قیصر کے علاوہ سید محبوب رضوی اور مولانا محمد سالم قاسمی کے نام شامل ہیں۔ مئی 1950 میں شعبہ ¿ ادارت میں علامہ انور صابری کا نام بھی شامل ہو گیا۔ اکتوبر 1950 میں جمیل مہدی بھی اس کی ادارتی ٹیم میں شامل ہو گئے۔
سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی زندگی میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب ان کو 1951میں دارالعلوم دیوبند کے رسالے ”دارالعلوم“ کی ادارت تفویض کی گئی۔ اس ذمہ داری نے ان کے قلمی جوہر کو مزید جلا بخشی اور ان کے قلم سے بے شمار اہم اور قابل ذکر مضامین نکلے۔ انھوں نے ایک طرح سے خود کو اس رسالے کے لیے وقف کر دیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ رسالہ اور ان کا نام ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہو گئے۔ وہ 1982تک اس کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اس ذمہ داری سے سبکدوشی کے بعد انھوں نے دو ماہی ”اجتماع“ سہارنپور،ماہنامہ ”خالد“دیوبند، ماہنامہ ”طیب“ دیوبند“ اور ”اشاعت الحق“ دیوبند کی بھی ادارت سنبھالی تھی۔ جب ان کی ادارت میں دارالعلوم دیوبند کی اشاعت بحال ہوئی تو انھوں نے ”حرف آغاز“ کے عنوان سے اپنے اداریے میں لکھا کہ القاسم کے بعد عرصہ تک دارالعلوم کا اپنا کوئی ترجمان نہیں تھا تاآنکہ 1360ھ میں رسالہ دارالعلوم نکالا گیا جو آٹھ سال تک اپنی بہت سی مجبوریوں کے باوجود اشاعت دین اور تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرتا رہا۔ ہمارا موجودہ رسالہ ”دارالعلوم“ کا دور جدید ہے جو ہمارے حلقے کے مسلسل اصرار اور خواہش پر ازسرنو جاری کیا جا رہا ہے۔ ان کی ادارت میں
دارالعلوم جلد ہی اس مقام پر پہنچ گیا جسے رسالے کا نقطہ عروج کہا جا سکتا ہے۔
”سید صاحب ادب و صحافت کے شہسواروں میں شمار ہوتے تھے جس کی بنا پر وقت کے بڑے بڑے ادیب، شاعر اور کہنہ مشق صحافیوں سے ان کی راہ و رسم بڑی گہری تھی۔ ادھر ان کے با فیض اور لاثانی محقق و محدث والد علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں کی بھی ایک لمبی فہرست تھی جو ان سے عقیدت کی حد تک محبت کرتے اور قلبی تعلق رکھے تھے اور اپنا ہر ممکن تعاون دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔چنانچہ انھوں نے دارالعلوم کی ادارت سنبھالتے ہی اسے شہرت و مقبولیت کے سدرة المنتہیٰ تک پہنچا دیا۔ پہلے اس رسالے کی رسائی عام طور پر اہل علم و نظر اور دینی و مذہبی طبقوں ہی تک محد دو تھی اب اس کی پہنچ جدید تعلیم یافتہ طبقے سے لے کر اد با شعر ایک اور عام قارئین سے لے کر بڑے بڑے صحافت پیشہ حضرات تک ہونے لگی۔ رسالے کا آغاز از ہر شاہ قیصر اپنے علمی، فکری، تحقیقی، ادبی و سیاسی اداریوں سے کرتے جسے وہ ”حرف آغاز“ کے عنوان سے لکھا کرتے تھے ( بعد میں تقریباً سترہ سال تک حرف آغاز مولا نا مفتی ظفیر الدین مفتاحی اور دو ایک دفعہ مولانا ندیم الواجدی نے بھی لکھا)۔ اس کے بعد مقالات کے کالم کے تحت ملک کے شہرہ آفاق علماءمحققین، اسکالرس، اد با اور صحافیوں کی نگارشات کا نمبر ہوتا۔ادبیات کا مستقل گوشہ تھا جس کے تحت ہر ماہ ماہر القادری، حمید صدیقی لکھنوی زائر حرم ، روش صدیقی، الم مظفر نگری، نازش پرتاب گڑھی، جگر مراد آبادی اور ان جیسے دیگر بین الاقوامی شہرت و عظمت کے مالک شعرا کی تازہ بہ تازہ غزلیات شائع کی جاتیں۔ اخبارو افکار کے تحت ہر ماہ ملکی و عالمی پیمانے کی خاص خاص خبریں دی جاتیں۔ تنقید و تبصرہ بھی ایک مستقل کالم تھا جس میں ہر ماہ نئے مصنفین کی کتابوں پر فاضلانہ اور بے باک و حقیقت افروز تبصرے کیے جاتے۔ تبصرے کے لیے چونکہ بہ یک وقت کئی کئی کتا بیں آتی تھیں اس لیے مولانا کے علاوہ آپ کے برادر خرد مولانا سید انظر شاہ، مولانا عبد الرو ¿ف عالی اور مولانا قمر احمد عثمانی وغیرہ بھی تبصرہ نگاری کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے۔ رسالے کے اخیر میں حسب سابق حضرت مہتمم صاحب کے اسفار کی تفصیلات اور کوائف دارالعلوم درج کیے جاتے تھے۔ سیداز ہر شاہ قیصر نے اپنے دور ادارت میں جہاں اپنی قلمی نوازشوں سے دارالعلوم کو مثالی وقار واعتبار بخشا و ہیں وقت کے مشہور اہل قلم و ادب و شعر کو اس رسالے میں لکھنے کی دعوت دی جنھوں نے اپنے رشحات و تخلیقات سے اس کی مقبولیت میں چار چاند لگا دیے۔ الغرض سید از ہر شاہ قیصر کے عرصہ ادارت میں ماہ نامہ دار العلوم ایک مکمل اور ہمہ جہت میگزین تھا جس میں علمی، دینی،ادبی، تنقیدی اور سیاسی ہر قسم کے موضوعات پوری دیدہ وری کے ساتھ برتے جاتے اور ارباب ذوق ان کا والہانہ استقبال کرتے تھے۔ مولانا نے 1951 سے 1982 تک رسالہ ” دار العلوم“ کی ادارت بحسن و خوبی انجام دی۔ مگر جب اس سال دارالعلوم سخت پر آشوب حالات سے گزرا اور اس کے تعلیمی و انتظامی شعبے تشویش ناک حد تک متاثر ہوئے تو رسالہ کی سرگرمیاں بھی ان حالات سے دو چار ہوئیں اور سال بھر بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ اس کی اشاعت تعطل کا شکار رہی۔ پھر جب حادثات اور ہنگاموں کا طوفانِ بلا خیز تھما اور سابقہ معمولات علمی و انتظامی جدید انتظامیہ کے تحت بحال ہوئے تو رسالہ کی اشاعت کی تجدید کا بھی فیصلہ کیا گیا اور ادارت کے لیے پھر مولانا سید از ہر شاہ قیصر کو مدعو کیا گیا۔ مگر حالات و انقلابات کی بے انتہا سنگینی نے ان کی طبع حساس پر غیر معمولی اثر ڈالا تھا اور وہ حد درجہ دل گیر ہو چکے تھے۔ اس لیے انتظامیہ کے اصرار کے باوصف انہوں نے گوشہ تنہائی ہی کو ترجیح دی اور کسی طرح بھی دوبارہ اس رسالے کی ادارت کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس طرح ”دار العلوم“ اپنے ایک عظیم مخلص اور بے لوث خادم سے محروم ہو گیا۔“
(بحوالہ: دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ، مصنف: نایاب حسن قاسمی، ادارہ تحقیق اسلامی دیوبند)
نسیم اختر شاہ قیصر نے ”سید محمد ازہر شاہ قیصر ایک ادیب ایک صحافی“ نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے جس میں سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مفسر قرآن مولانا اخلاق حسین قاسمی نے ”درویش صفت صحافی“ کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ حضرت شاہ جی کا سب سے پہلے میں نے جمعیة علماءہند کے اکابرین ثلاثہ (مولانا حفظ الرحمن، مفتی عتیق الرحمن عثمانی اور مولانا محمد میاں) کی مجلس میں تذکرہ سنا۔ اچھے لکھنے والوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ مولانا محمد عثمان فارقلیط ایڈیٹر الجمعیة اور ہلال احمد صاحب زبیری ایڈیٹر انصاری اخبار بھی مجلس میں موجود تھے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کے مدیر ازہر شاہ قیصر درالعلوم کے اداریے بڑی محنت سے لکھتے ہیں۔ زبان بھی پرشوکت ہوتی ہے اور فکر بھی صائب ہوتا ہے۔ فارقلیط صاحب نے مفتی صاحب کی تائید کی۔ البتہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے مفتی صاحب کی ”پرشوکت زبان“ پر
فرمایا کہ اب دور آسان رادو زبان لکھنے کا ہے۔ ازہر شاہ کے سامنے علما کا طبقہ رہتا ہے۔ اگر وہ مسلم عوام کو سامنے رکھیں تو انھیں احساس ہو۔ مولانا آزاد نے بھی رام گڑھ کانگریس کے خطبہ میں اپنی پرشوکت اور پروقار زبان کی بجائے آسان اور عام فہم زبان استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ازہر شاہ مولانا آزاد کے الہلال و البلاغ کو دیکھتے ہیں۔
اس کتاب کا مقدمہ ڈاکٹر تابش مہدی نے لکھا ہے۔ وہ اپنے مضمون کا آغاز اس طرح کرتے ہیں:
”علامہ ڈپٹی نذیر احمد، مولوی محمد حسین آزاد، خواجہ الطاف حسین حالی اور علامہ شبلی نعمانی اردو ادب کے عناصر اربعہ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے اسلوب تحریر اوراپنی ادبی نظریہ سازی کے ذریعہ اردو شعر وادب کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ ہندوستان کی مردم خیز بستی دیو بند کے شعری و ادبی حوالے سے بھی چار نام بہت نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان میں پہلا نام علامہ انور صابری کا ہے جنھوں نے اپنی شاعری اور بدیہہ گوئی کے ذریعہ شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ دوسرا نام مولانا عامر عثمانی کا ہے جنھوں نے اپنے ماہانہ رسالہ ”تجلی“ کے ذریعہ اپنی تخلیقی، تنقیدی اور صحافتی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔ تیسرا نام جمیل مہدی کا ہے جنھوں نے دیوبند سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیااور اس کے بعد لکھنو چلے گئے۔ انھو ںنے وہاں سے روزنامہ عزائم جاری کیا اور آخری عمر تک عزائم ہی کے ذریعہ اپنی ذہانت و فطانت کا لوہا منواتے رہے۔ اور چو تھا نام ابن الانور مولانا سید محمدازہر شاہ قیصر کا ہے جو اوائل عمری ہی سے صحافت کے دامن گرفتہ ہوئے تو زندگی کی آخری سانس تک اس کی وفاداری سے منہ نہیں موڑا۔“
انھوں نے ان کی تحریری خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
”مولانا سید از ہر شاہ قیصر اردو کے معتبر صحافی بھی تھے اور شگفتہ قلم ادیب وانشا پرداز بھی۔ شاعری اور افسانہ نگاری سے بھی شغف رکھتے تھے .... اگرچہ وہ ایک درویش صفت، قلندر مزاج، گوشہ نشین اور عزلت پسند صحافی تھے تاہم ان کے قلم میں بلا کی شوخی اور دلاویزی تھی۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع اور ہمہ جہت تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے ہمیشہ کشادہ نظری اور وسیع المشربی سے کام لیا۔ جو عمق اور ٹھہر وان کے مشاہدے میں تھا وہ بہت کم لکھنے والوں کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ رسالہ دارالعلوم میں ان کے اداریوں کو بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ متعدد معاصر جرائد انھیں اپنے ہاں نقل کرتے تھے۔“
غرضیکہ مولانا سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جب بھی دیوبند اور دارالعلوم دیوبند کی صحافتی تاریخ لکھی جائے گی تو وہ ان کی خدمات کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔
موبائل: 9818195929 See less
*وفیات مورخہ: 23/جون*
1565ء طور غود رئیس۔ عثمانی امیر البحر
1965ء اسد رستم۔ لبنانی مورخ
1975ء منظر لکھنوی ، سید منظر حسن۔ ،
1980ء سنجے گاندھی۔ کانگریسی لیڈر
1982ء زبیدہ بیگم۔ ،
1989ء میشل عفلق۔ بانی البعث پارٹی
1994ء شوکت جہاں۔ ،
2001ء قمر ساحری (سید علی رضا)۔ پروفیسر ،
2005ء عتیق الرحمٰن (کراچی)۔ مولانا مفتی ،
2007ء ارشاد علی۔ ،
2010ء محمد حامد اکرمی ( سائبو خلفو)۔ قاضی جماعت المسلمین بھٹکل
2014ء سید دبیر الحسن۔ ،
2015ء فہمی عبدالحمید۔ ،
2015ء نرملا جوشی۔
2019ء عبد الستار۔ سفارت کار
2020ء عزیز الرحمن ہزاروی۔ سینیر رہنما جمعیت علمائے اسلام


https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*ہماری زندگی کا مقصد کتاب و سنت کی نشر و اشاعت اور ان پر عمل ہے، نہ کہ اپنی جماعت، تحریک یا مسلک کی ترویج*
*✒️از قلم: محمد حارث اکرمی ندوی*

اگر ہم انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ تمام انبیاء نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی اطاعت اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دی۔ کسی نبی نے لوگوں کو اپنی ذات، کسی شخصیت، جماعت یا گروہ کی طرف نہیں بلایا، بلکہ سب نے انسانیت کو اللہ اور اس کے دین سے جوڑنے کی کوشش کی۔
*اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا:*
*﴿قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي﴾*
"آپ کہہ دیجیے: یہی میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔" (یوسف: 108)

*امتِ مسلمہ کے لیے اصل معیار قرآن و سنت ہیں۔ ہر شخص، ہر جماعت، ہر تحریک اور ہر ادارہ انہی کے تابع ہے۔*
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*

*«تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي»*
*"میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔"*

ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ حق اور سچائی جہاں بھی ملے اسے قبول کرنا چاہیے، اور محض اپنے مسلک، جماعت یا پسندیدہ شخصیت کی وجہ سے کسی صحیح بات کو رد نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں عقیدۂ توحید اور اتباعِ سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی نجات اور کامیابی کا راستہ ہے۔

صحابۂ کرام، تابعین اور سلفِ صالحین کا طرزِ عمل بھی یہی تھا۔ وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، اختلاف کے باوجود اخوت اور محبت کو برقرار رکھتے تھے، اور لوگوں کو اپنی طرف نہیں بلکہ کتاب و سنت کی طرف بلاتے تھے۔ ان کی ساری محنت کا مرکز دینِ اسلام کی اشاعت اور اللہ کی رضا کا حصول تھا۔

ہمیں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ تنظیمیں، جماعتیں، مدارس اور دعوتی ادارے بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ دین کی خدمت کے ذرائع ہیں۔ ان کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دین کی بہت سی خدمات انہی کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔ تاہم اصل وفاداری قرآن و سنت کے ساتھ ہونی چاہیے، نہ کہ کسی جماعت، تنظیم یا شخصیت کے ساتھ۔ کسی ادارے کا نصاب یا طریقۂ کار منزل من اللہ نہیں ہوتا، بلکہ اہلِ علم نے حالات اور ضرورتوں کو سامنے رکھ کر اسے مرتب کیا ہوتا ہے۔

اختلاف کی صورت میں تنقید بھی علم، عدل اور حسنِ اخلاق کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ اگر کسی معاملے میں غلطی نظر آئے تو اس کی اصلاح حکمت، خیرخواہی اور اچھے انداز سے کی جانی چاہیے، خصوصاً عقیدے اور دین کے بنیادی مسائل میں۔

مسلکی اور جماعتی تعصب امت میں تفرقہ، نفرت اور باہمی دوری پیدا کرتا ہے۔
*اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*

*﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾*
*"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103)*

اس کے نتیجے میں امت کی قوت کمزور ہوتی ہے، دعوت کا اثر گھٹتا ہے اور لوگ دین سے دور ہونے لگتے ہیں۔ دعوت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی اشاعت اور بندوں کو اللہ سے جوڑنا ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے حلقے، گروہ یا نام کی شہرت حاصل کرنا۔

آج ہمیں سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری دعوتی کوششوں کا مرکز کیا ہے؟ کیا ہم لوگوں کو قرآن و سنت سے جوڑ رہے ہیں یا صرف اپنی جماعتوں اور شخصیات سے؟ اگر ہمارا مقصد اللہ کی رضا اور دین کی سربلندی ہے تو ہمیں اخلاص، اعتدال، وسعتِ نظر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

*"ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ افراد، جماعتیں اور ادارے بدلتے رہتے ہیں، لیکن قرآن و سنت قیامت تک باقی رہنے والی ہدایت ہیں۔ لہٰذا ہماری دعوت، محبت اور وابستگی کا اصل مرکز بھی یہی ہونا چاہیے۔"*

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ، اخلاصِ نیت اور کتاب و سنت پر چلنے اور دوسروں کو اس کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
❤1
حضرت حسينؓ کی شہادت، مقدس ترین دفینہ ہے

خیر و شر اور حق و باطل کی آویزش و پیکار میں جب معاشروں کو نئے مطالبات اور نئی ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سماج، انسان یا مظلوم، اپنی تاریخ کے قدیم دفینوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ شہادتِ امام حسينؓ ان دفینوں میں سے ایک مقدس ترین دفینہ ہے۔ عظمت، عظمت ہے، سچائی، سچائی ہے، وہ قائم اور دائم رہتی ہے۔

گوپی چند نارنگ

(۳۰ اگست ۲۰۲۱ء، عالمی سہارا نیوز پر کی گئی گفتگو سے ماخوذ/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://telegram.me/ilmokitab
❤2
Forwarded from حسان محمدشیخ
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ مجھے اس کتاب/رسالے کی ضرورت ہے:
"روئدادِ ده سالہ مجلسِ احیاء المعارف النعمانیہ، مطبوعہ: مطبعِ برقی اعظم جاہی، حیدر آباد"
کسی صاحب کے پاس سافٹ کاپی میں ہو تو ارسال فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
وفیات مورخہ: 25/جون
1944ء نواب بہادر یارجنگ (محمد بہادر خان)۔ قائد ملت ، بانی مجلس اتحاد المسلمیں حیدرآباد
1950ء صفی لکھنوی (سید علی نقی زیدی)۔ استاد شاعر
1955ء سید احمد اشرف۔
1973ء جعفر حسن (جافر ہسن)۔
1980ء شیخ علی احمد۔
1988ء رفیق رضوی (باپو)۔
1990ء سید محمد عبدالرشید فاضل۔ پروفیسر
1997ء مرغوب اختر صابری۔
2000ء مبارک حسین صدیقی۔
2003ء محمد ایاز خان قادری۔ صوفی
2008ء سنگین خان ولی۔
2008ء غلام محمود بنات والاً۔ صدر انڈین یونین مسلم لیگ
2009ء کلیم عمر۔
2009ء میاں طفیل محمد۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان
2020ء سید آل عمران۔
2022ء محمود خلیل القاریء۔ استاد قراءات مدینہ منورہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
آج مورخہ : ۲۵ جون قائد ملت نواب بہادر یار جنگ رحمۃ اللہ علیہ بانی مجلس اتحاد المسلمین حیدرآباد دکن کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات ۲۵ جون ۱۹۴۴ء کو ہوئی تھی، اس مناسب سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی نادر ریکارڈنگ اردو آڈیو ڈاٹ کام کی جانب سے پیش خدمت ہے ۔
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=khitab-jalna-1944, Khitab Jalna 1944
ایک بہادر مسلمان کی موت
(قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کی رحلت مورخہ ۲۵ جون ۱۹۴۴ء پر علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کا تعزیتی شذرہ)
چار پانچ ہفتے ہوئے میں ایک گاؤں میں تھا کہ دفعتہ ایک صاحب نے ایک انگریزی اخبار کے حوالہ سے نواب بہادر یار جنگ کی اچانک موت کی اطلاع دی، موت ہر وقت آتی ہے، اور ہر وقت آسکتی ہے، تاہم جن کے مرنے کو دل نہیں چاہتا، ان کے مرنے کی خبر کا یقین بھی دفعتہ نہیں آتا، ان کا ہشاش بشاش تبسم چہرہ، ان کا صحیح و تنومند جسم، ان کا خوبصورت اور دلفریب قد بالا، ہر چیز بجلی کی کوند کی طرح سامنے آئی، اور ان کی موت کی خبر کو جھٹلا کر چلی گئی، خود جا کر اخبار پڑھا، ورقوں کو الٹا پلٹا، روایت نے صدیق کی، اور صدق نے یقین کی، اور یقین نے آنسوؤں کی صورت اختیار کی، اور اناﷲ کے ساتھ دل کی گہرائی سے مغفرت کی دعا نکلی۔
مرحوم سے جان پہچان اور بار بار کی ملاقات تو بارہ تیرہ برس سے تھی، مگر ابھی اسی سال فروری مارچ اور وسط اپریل تک حیدرآباد میں دارالعلوم ندوہ کے سلسلہ سے تقریباً ان سے روزانہ ہی ملنا جلنا اور ساتھ ساتھ لوگوں کے پاس آنا جانا اور گھنٹوں بیٹھ کر ہر موضوع پر اظہار خیال کا اور ہر پہلو سے ان کے جانچنے اور پرکھنے کا موقع ہاتھ آیا، وہ ہر پہلو سے محبوب ہی نظر آئے ارادہ کے پکے، بات کے دھنی، مخلص وفادار، خدا ترس، عاشق رسولﷺ مجاہد اسلام، بہادر مسلمان سپاہی، اور ہر معنی میں سپاہی، بہادر پٹھان اور بہادر مسلمان۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ زبان کے تیز ہاتھوں کے کمزور ہوتے ہیں یعنی باتوں کے دھنی ہاتھوں کے سست ہوتے ہیں۔ مگر وہ زبان اور ہاتھ دونوں کے تیز تھے، اور اسی کا کرشمہ تھا کہ صرف چند سال کے اندر کشمیر کی پہاڑیوں سے لے کر دکن کے کناروں تک پورے ہندوستان پر چھاگئے۔
بارہ تیرہ سال گذرے ہوں گے کہ مجھے ان کا نام حیدرآباد میں پہلے پہل ایک مدراسی فاضل دوست افضل العلماء ڈاکٹر عبدالحق کے ایک تار میں جس کو کرنول سے انھوں نے حیدرآباد میرے نام بھیجا تھا نظر آیا اس تار میں مجھے نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ کرنول کے ایک جدید مدرسہ کے افتتاح میں بلایا تھا آنکھوں نے تار کی سطروں میں نواب بہادر یار جنگ کا نام پڑھا، دل نے کہا نواب! عیش کا پروردہ! دولت کا آفریدہ، راحت کا خوگر، محراب و منبر سے نا آشنا، وہ قومی و مذہبی مجالس کا ہیرو ہو، میرا قیام اپنے عزیز دوستوں مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی، و مولانا عبدالباری صاحب ندوی کے گھر میں تھا، میں نے ان سے حیرت کا اظہار کیا، مولانا گیلانی نے بڑھ کر ان کی تحسین کی، اور فرمایا جی ہاں میں انھیں بچپن سے جانتا ہوں خوب بولتے ہیں، اور بڑی دلنشین تقریر کرتے ہیں، اسکول میں جب پڑھتے تھے، مجھے بلا بلا کر اپنے جلسوں میں لے جاتے تھے، تقریر کے انعامی مقابلوں میں میں انھیں تمغے اور انعام دیا کرتا تھا، آج کل میلاد کی مجلسوں میں ان کی تقریریں بہت پسند کی جاتی ہیں، یہ وہ زمانہ تھا، جب نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خان شروانی صدر الصدور دولتِ آصفیہ تھے، اور ان کے سبب سے میلاد کی محفلوں کی بڑی کثرت اور چہل پہل تھی، شستہ اور محتاط مقررین کی تلاش رہتی تھی، اس سلسلہ میں تازہ وارد نوجوان بہادر خاں کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔
اتفاق دیکھئے کہ چند ہی روز بعد مہاراجہ کشن پرشاد آنجہانی صدر اعظم دولتِ آصفیہ کے یہاں دعوت ہوئی، بہت سے مہمان تھے، کھانے سے فرصت ہوئی، تو ایک خوبصورت سڈول نوجوان شروانی اور ترکی ٹوپی میں ملبوس، بے تکلفی کے ساتھ آگے بڑھا، اور ادب سے ہاتھ ملاکر گویا ہوا، میں خود اپنا تعارف کراتا ہوں میں ہوں آپ کا شاگرد بہادر خاں، آنکھوں نے حیرت سے صورت دیکھی، ناآشنا پایا، تفصیل پوچھی، فرمایا آپ کی کتابوں کو پڑھ کر علم پایا، اور خطبات مدراس کورٹ کر میلاد کی محفلوں کو گرمایا، ان کی اس تواضع سے دل شرمندہ ہوا، اور ان کی اس شرافت سے سننے والے کی گردن جھک گئی۔
اُن کی یہ تواضع اور خاکساری تنہائیوں ہی میں نہیں، ہزاروں کے مجمعوں میں اسی طرح ظاہر ہوتی تھی، مولانا گیلانی کے ساتھ ان کی ممونیت برملا ان کی زبان سے ظاہر ہوتی تھی، مولانا شروانی کی حوصلہ افزائیوں کا اعتراف علی گڑھ یونین کی پہلی تقریر میں خود میرے کانوں نے سنا، دارالمصنفین کی کتابوں کے احسان کی کہانی اسی سال مارچ میں دارالسلام حیدرآباد کے عظیم الشان جلسہ میں سب نے سنی۔
مرحوم کی تقریر میں فصاحت و بلاغت اور بدائع تینوں کے جوہر تھے، شاعری وہ نہیں کرتے تھے، مگر ان کی نثر شاعری کا نمونہ ہوتی تھی، ان کی تقریریں بار ہا سنیں، ان کی اساس تین چیزیں ہوتی تھیں، اسلامی تاریخ کے معلومات، اقبال کے اشعار، ابوالکلام کے الفاظ، انھوں نے اقبالؔ کو بہت پڑھا تھا، اور بہت سمجھ کر پڑھا تھا، بیشتر کلام ان کے حافظ کے خزانہ میں محفوظ تھا، جس کو وہ اپنی تقریروں میں بہت دلنشیں انداز میں موقع موقع سے پڑھتے تھے، اور حاضرین سے خراج تحسین وصول کرتے تھے۔
علی گڑھ یونیورسٹی یونین سے داد پانا آسان نہیں، یونین میں ان کی پہلی تقریر تھی، موضوع حیدرآباد میں مسلمانوں کی سیاسی حیثیت اور دعوائے اقتدار تھا، جب تک وہ تقریر کرتے رہے تاثیر کا دریا بہتا رہا اور ہر شخص کو تسکین ہوگئی کہ حیدرآبادی مسلمانوں کا دعویٰ بالکل صحیح ہے، ایک اچھے مقرر لیڈر کو یہ کہتے سنا کہ انھوں نے اپنے کیس کو بہت خوبی سے پیش کیا، طالب علموں نے ان پر تحسین و آفرین کے پھول برسائے یہ علی گڑھ میں ان کی پہلی جیت تھی۔
جس زمانہ میں حیدرآباد میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی پہلی شورش ہوئی، اور چند مسلمان کسی ہندو محلہ میں شہید کردئیے گئے، تو سارے حیدرآباد میں آگ سی لگ گئی تھی، ان شہیدوں کا جنازہ لاکھوں مسلمانوں نے بڑی دھوم سے اٹھایا، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس مجمع کا جوش سارے شہر میں ہندوئوں کوتہ تیغ کئے بغیر ٹھنڈا نہ ہوگا، سر حیدری کی وزارت تھی، نواب بہادر یار جنگ کو تقریر کی ممانعت تھی، دم بدم مجمع کا جوش بڑھ رہا تھا، اور خطرہ سب کے سامنے تھا، اس وقت اعلیٰ حضرت نظام خلد اﷲ ملکہ کی اعلیٰ سیاست نے اس شخص کو جان لیا جو اس بھڑکتے ہوئے شعلہ پر پانی ڈال سکتا تھا، مرحوم کہتے تھے کہ میں اپنے گھر میں تھا کہ خود اعلیٰ حضرت نے مجھ سے ٹیلیفون پر ارشاد فرمایا، کہ بہادر خاں! میں تم سے خواہش کرتا ہوں کہ تم اس فتنہ کو فرو کرو، عرض کی اعلیٰ حضرت! یوں نہ فرمائیں بلکہ حکم دیں، فدوی ہتھیلی پر سر رکھ کر ابھی جاتا ہے، اور حکم شاہانہ بجالاتا ہے، چنانچہ وہ تنہا اس مجمع میں گئے، اور چند منٹ کی موثر تقریر میں سارا مجمع امن و سکون کے ساتھ منتشر ہوگیا، مسز سروجنی نائیڈو مکان کی چھت سے یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھیں، انھوں نے بعد کو مرحوم سے کہا کہ میں نے امن و سلامتی کی حالت میں اسٹیج کے لیڈر اور مقرر تو بہت دیکھے ہیں، مگر انتقام کی آگ سے مشتعل اور جوش سے بھرے مجمع کو اس طرح قابو میں لے آنا والا لیڈر اور مقرر میں نے آج ہی دیکھا ۔
مرحوم کی تقریروں کا اصلی میدان مسلم لیگ کے اجلاس اور اتحاد المسلمین حیدر آباد کے جلسے ہوتے تھے، مرحوم کا مذاق مذہب آمیز سیاست تھا، اُن پر دینی سیاست کا راز کھل چکا تھا، اور وہ یہی راز سب کو بتانا چاہتے تھے، اور جیسے جیسے زمانہ گذرتا جاتا تھا، ان کا یہ رنگ تیز سے تیز تر ہوتا چلا جاتا تھا، یہاں تک کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کراچی کے بعد سے لیگ کے خالص دنیاوی سیاسیوں پر ان کی تقریر بار ہونے لگی تھی۔
حیدرآباد میں اگر ان پچھلے چند برسوں کے اندر جب سرحیدری کی سیاست حیدرآباد کے دستور کی ترکیب و تحلیل میں مصروف تھی، نواب بہادر یار جنگ کا وجود نہ ہوتا، تو حیدرآباد کے نظم و نسق کا کچھ اور ہی انداز ہوگیا ہوتا، بیرونی ہندو لیڈروں اور دکن کے مرہٹوں نے ریاست کی امن دوست اور وفادار غیر مسلم رعایا کو بھڑکانے میں کوئی کمی نہیں کی، اور یہ دعویٰ کیا، کہ مردم شماری کے مطابق ریاست میں دونوں قوموں کے حقوق مانے جائیں، یہ سب کچھ ہورہا تھا مگر اس ملک کے مسلمان بالکل خواب غفلت میں تھے، اور بجز عیش و آرام ان کا کوئی دوسرا مشغلہ نہ تھا، وہاں کے مسلمان جاگیر دار جو اس ملک کی بڑی قوت ہیں محو استراحت تھے، دکن کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ صدیوں سے حکومت کے سر پر سارا بوجھ رکھ کر آرام طلبی اور بے فکری کے عادی ہوگئے ہیں، اس بیکاری سے ان کے دست و بازوشل اور قوائے عمل معطل ہیں، ان کا کوئی قومی تخیل اور سیاسی جذبہ زندہ نہیں رہا ہے، اور کسی حال میں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ ان کشور ستانوں کی یاد گار ہیں جنھوں نے اپنے کو بڑی مشکلوں میں ڈال کر دکن کی آصفی حکومت کو قائم کیا تھا۔
مرحوم کا بڑا کارنامہ اسی جذبہ کو زندہ کرنا تھا، انھوں نے جاگیر داروں کو جھنجھوڑ کر جگایا، اور بتایا کہ اگر انھوں نے اٹھ کر اپنی زندگی اور ملک کو اپنی ضرورت کا یقین نہیں دلایا، تو زمانہ کا سیلاب ان کے اقتدار کو بہا لے جائے گا، عام مسلمانوں کو یہ یاد دلایا، کہ یہ ملک تمھارا مفتوحہ اور مقبوضہ ملک ہے، اور تم بحیثیت قوم کے اس کے کشور کشا اور فاتح ہو، اور خانوادۂ آصفی کا سرتاج تمھاری حکومت کا نمائندہ، تمھاری طاقت کا مظہر، تمھاری بادشاہی کا ستون اور تمھاری وفاداری کا مرکز ہے۔
مرحوم نے اپنے اس سیاسی تخیل کی بنا پر تکلیفیں بھی اٹھائیں، ان پر پابندیاں بھی عائد ہوئیں انکے متعلق غلط فہمیاں بھی پیدا کرائی گئیں،تاہم انھوں نے ایثار کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا، یہاں تک کہ اپنے خطاب و منصب سے بھی دستبردار ہوگئے، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
مرحوم کی کوششوں سے دکن کے مسلمانوں نے صدیوں کے آرام کے بعد کروٹ لی اور اتحاد المسلمین کے زیر سایہ ایک مرکز پر جمع ہوگئے، اس کی شاخیں سارے ممالک محروسہ میں قائم ہوگئیں، اس کی آواز نے ملت کی آواز کا رتبہ پایا، اس کے سالانہ اجلاس میں بیک دفعہ پچاس ہزار آدمی جمع ہوجاتے تھے۔