احباب کے شکرگذار ہیں کہ انہوں نے بندش کے دور میں ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ عبد المتین منیری ۔ اڈمن علم و کتاب
❤9
سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم
سہیل انجم
سید ازہر شاہ قیصر دسمبر 1920 میں محدث عصر علامہ سید انور شاہ کشمیری کے گھر دیوبند کے محلہ دیوان میں پیدا ہوئے۔ ان کا انتقال 1985 میں ہوا۔ وہ ایک عالم دین مصنف اور صحافی تھے۔ وہ علامہ انور شاہ کشمیری کے بڑے فرزند تھے۔ یوں تو انھوں نے متعدد اخبارات و رسائل میں صحافتی خدمات انجام دیں لیکن ان کا صحافتی امتیاز یہ ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے اردو ماہنامہ ”دار العلوم“ کے 32 سال تک ایڈیٹر رہے۔ انھوں نے اپنی علمیت اور صحافتی لیاقت سے اس رسالے کو بام عروج پر پہنچایا۔
ابتدائی تعلیم کے لیے ان کا داخلہ دار العلوم دیوبند میں کرایا گیا۔ لیکن جب ان کے والد علامہ انور شاہ کشمیری 1927 میں دار العلوم دیوبند سے استعفیٰ دے کر جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل چلے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ وہیں منقتل ہو گئے۔ 1933 میں جب وہ بارہ سال کے تھے تو ان کے والد انور شاہ کشمیری کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال پر ملک بھر کے لوگوں نے اظہار تعزیت کیا۔ ان میں مصنف، صحافی اور شاعر ظفر علی خان بھی شامل تھے۔ اس موقع پر دیوبند کی جامع مسجد میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے لیے خطبہ استقبالیہ بارہ سالہ ازہر شاہ قیصر نے تیار کیا تھا۔ اسے اجتماع میں بلند آواز سے پڑھا بھی گیا۔ ظفر علی خان کو یہ خطاب اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اسے اپنے اخبار ”زمیندار“ کے صفحہ اول پر شائع کیا۔ اس طرح کم عمری ہی میں ان کی ادبی و صحافتی زندگی کا آغاز ہو گیا۔
سید ازہر شاہ قیصر نے اسی سال مضمون نگاری کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ ان کے مضامین سب سے پہلے بجنور سے شائع ہونے والے ماہنامہ ”غنچہ“ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماہنامہ ”پیامِ تعلیم“ میں شائع ہوئے۔ دوسرے رسائل میں بھی ان کی تخلیقات پابندی سے شائع ہوتی رہیں۔1936 میں سہارنپور سے ہفت روزہ ”صداقت“ جاری ہوا تو وہ اس کے مستقل کالم نگار اور ادارتی عملہ کے رکن بن گئے۔ وہ صداقت میں اصلاحی، دینی اور سیاسی مضامین کے ساتھ ساتھ ایک فکاہیہ کالم ”اسرار و لطائف“ بھی پابندی سے لکھتے رہے۔ صداقت نے 1939 میں ان کے مضامین کے انتخاب پر مشتمل ایک خصوصی شمارہ شائع کیا۔ اس وقت ان کی عمر محض 19 سال تھی۔ یہ خصوصی شمارہ ان کی صحافتی زندگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ انھوں نے سلطان الحق قاسمی بجنوری کے ساتھ مل کر ہفت روزہ ”استقلال“ شروع کیا۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ کب جاری ہوا لیکن اس کا عید نمبر دسمبر 1937 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں ازہر شاہ قیصر کا ایک مستقل کالم ”تواضعات“ کے عنوان سے شائع ہوتا رہا۔ اسی طرح پندرہ روزہ ”دیوبند ٹائمز“ میں، جس کے مدیر مولانا اعجاز احمد قاسمی تھے، سیاسی حاشیے کے عنوان سے کالم لکھتے۔ لیکن کالم پر ان کے اصل نام کی بجائے قلمی نام ”غزالی“ شائع ہوتا۔ اس کالم میں پندرہ دن کی ملکی و غیر ملکی خبروں پر تبصرے ہوتے۔
انھوں نے نومبر 1940 میں دیوبند سے دو ماہی ”الانور“ جاری کیا جس نے علامہ انور شاہ کشمیری کی زندگی اور کاموں پر توجہ مرکوز کی۔ یہ ایک دینی و اصلاحی اخبار تھا۔ اس کا مقصد علامہ کشمیری کے کی علمی خدمات سے اردو داں طبقہ کو روشناس کرانا تھا۔ انھوں نے الانور میں ان پر متعدد مضامین لکھے۔ اسی عرصے میں انھوں نے ماہنامہ ”ہادی“ دیوبند کی ادارتی ذمہ داری سنبھالی۔ اس کا پہلا شمارہ مئی 1949 میں منظر عام پر آیا تھا۔ اس کے ادارہ تحریر میں سید ازہر شاہ قیصر کے علاوہ سید محبوب رضوی اور مولانا محمد سالم قاسمی کے نام شامل ہیں۔ مئی 1950 میں شعبہ ¿ ادارت میں علامہ انور صابری کا نام بھی شامل ہو گیا۔ اکتوبر 1950 میں جمیل مہدی بھی اس کی ادارتی ٹیم میں شامل ہو گئے۔
سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی زندگی میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب ان کو 1951میں دارالعلوم دیوبند کے رسالے ”دارالعلوم“ کی ادارت تفویض کی گئی۔ اس ذمہ داری نے ان کے قلمی جوہر کو مزید جلا بخشی اور ان کے قلم سے بے شمار اہم اور قابل ذکر مضامین نکلے۔ انھوں نے ایک طرح سے خود کو اس رسالے کے لیے وقف کر دیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ رسالہ اور ان کا نام ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہو گئے۔ وہ 1982تک اس کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اس ذمہ داری سے سبکدوشی کے بعد انھوں نے دو ماہی ”اجتماع“ سہارنپور،ماہنامہ ”خالد“دیوبند، ماہنامہ ”طیب“ دیوبند“ اور ”اشاعت الحق“ دیوبند کی بھی ادارت سنبھالی تھی۔ جب ان کی ادارت میں دارالعلوم دیوبند کی اشاعت بحال ہوئی تو انھوں نے ”حرف آغاز“ کے عنوان سے اپنے اداریے میں لکھا کہ القاسم کے بعد عرصہ تک دارالعلوم کا اپنا کوئی ترجمان نہیں تھا تاآنکہ 1360ھ میں رسالہ دارالعلوم نکالا گیا جو آٹھ سال تک اپنی بہت سی مجبوریوں کے باوجود اشاعت دین اور تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرتا رہا۔ ہمارا موجودہ رسالہ ”دارالعلوم“ کا دور جدید ہے جو ہمارے حلقے کے مسلسل اصرار اور خواہش پر ازسرنو جاری کیا جا رہا ہے۔ ان کی ادارت میں
سہیل انجم
سید ازہر شاہ قیصر دسمبر 1920 میں محدث عصر علامہ سید انور شاہ کشمیری کے گھر دیوبند کے محلہ دیوان میں پیدا ہوئے۔ ان کا انتقال 1985 میں ہوا۔ وہ ایک عالم دین مصنف اور صحافی تھے۔ وہ علامہ انور شاہ کشمیری کے بڑے فرزند تھے۔ یوں تو انھوں نے متعدد اخبارات و رسائل میں صحافتی خدمات انجام دیں لیکن ان کا صحافتی امتیاز یہ ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے اردو ماہنامہ ”دار العلوم“ کے 32 سال تک ایڈیٹر رہے۔ انھوں نے اپنی علمیت اور صحافتی لیاقت سے اس رسالے کو بام عروج پر پہنچایا۔
ابتدائی تعلیم کے لیے ان کا داخلہ دار العلوم دیوبند میں کرایا گیا۔ لیکن جب ان کے والد علامہ انور شاہ کشمیری 1927 میں دار العلوم دیوبند سے استعفیٰ دے کر جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل چلے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ وہیں منقتل ہو گئے۔ 1933 میں جب وہ بارہ سال کے تھے تو ان کے والد انور شاہ کشمیری کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال پر ملک بھر کے لوگوں نے اظہار تعزیت کیا۔ ان میں مصنف، صحافی اور شاعر ظفر علی خان بھی شامل تھے۔ اس موقع پر دیوبند کی جامع مسجد میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے لیے خطبہ استقبالیہ بارہ سالہ ازہر شاہ قیصر نے تیار کیا تھا۔ اسے اجتماع میں بلند آواز سے پڑھا بھی گیا۔ ظفر علی خان کو یہ خطاب اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اسے اپنے اخبار ”زمیندار“ کے صفحہ اول پر شائع کیا۔ اس طرح کم عمری ہی میں ان کی ادبی و صحافتی زندگی کا آغاز ہو گیا۔
سید ازہر شاہ قیصر نے اسی سال مضمون نگاری کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ ان کے مضامین سب سے پہلے بجنور سے شائع ہونے والے ماہنامہ ”غنچہ“ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماہنامہ ”پیامِ تعلیم“ میں شائع ہوئے۔ دوسرے رسائل میں بھی ان کی تخلیقات پابندی سے شائع ہوتی رہیں۔1936 میں سہارنپور سے ہفت روزہ ”صداقت“ جاری ہوا تو وہ اس کے مستقل کالم نگار اور ادارتی عملہ کے رکن بن گئے۔ وہ صداقت میں اصلاحی، دینی اور سیاسی مضامین کے ساتھ ساتھ ایک فکاہیہ کالم ”اسرار و لطائف“ بھی پابندی سے لکھتے رہے۔ صداقت نے 1939 میں ان کے مضامین کے انتخاب پر مشتمل ایک خصوصی شمارہ شائع کیا۔ اس وقت ان کی عمر محض 19 سال تھی۔ یہ خصوصی شمارہ ان کی صحافتی زندگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ انھوں نے سلطان الحق قاسمی بجنوری کے ساتھ مل کر ہفت روزہ ”استقلال“ شروع کیا۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ کب جاری ہوا لیکن اس کا عید نمبر دسمبر 1937 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں ازہر شاہ قیصر کا ایک مستقل کالم ”تواضعات“ کے عنوان سے شائع ہوتا رہا۔ اسی طرح پندرہ روزہ ”دیوبند ٹائمز“ میں، جس کے مدیر مولانا اعجاز احمد قاسمی تھے، سیاسی حاشیے کے عنوان سے کالم لکھتے۔ لیکن کالم پر ان کے اصل نام کی بجائے قلمی نام ”غزالی“ شائع ہوتا۔ اس کالم میں پندرہ دن کی ملکی و غیر ملکی خبروں پر تبصرے ہوتے۔
انھوں نے نومبر 1940 میں دیوبند سے دو ماہی ”الانور“ جاری کیا جس نے علامہ انور شاہ کشمیری کی زندگی اور کاموں پر توجہ مرکوز کی۔ یہ ایک دینی و اصلاحی اخبار تھا۔ اس کا مقصد علامہ کشمیری کے کی علمی خدمات سے اردو داں طبقہ کو روشناس کرانا تھا۔ انھوں نے الانور میں ان پر متعدد مضامین لکھے۔ اسی عرصے میں انھوں نے ماہنامہ ”ہادی“ دیوبند کی ادارتی ذمہ داری سنبھالی۔ اس کا پہلا شمارہ مئی 1949 میں منظر عام پر آیا تھا۔ اس کے ادارہ تحریر میں سید ازہر شاہ قیصر کے علاوہ سید محبوب رضوی اور مولانا محمد سالم قاسمی کے نام شامل ہیں۔ مئی 1950 میں شعبہ ¿ ادارت میں علامہ انور صابری کا نام بھی شامل ہو گیا۔ اکتوبر 1950 میں جمیل مہدی بھی اس کی ادارتی ٹیم میں شامل ہو گئے۔
سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی زندگی میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب ان کو 1951میں دارالعلوم دیوبند کے رسالے ”دارالعلوم“ کی ادارت تفویض کی گئی۔ اس ذمہ داری نے ان کے قلمی جوہر کو مزید جلا بخشی اور ان کے قلم سے بے شمار اہم اور قابل ذکر مضامین نکلے۔ انھوں نے ایک طرح سے خود کو اس رسالے کے لیے وقف کر دیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ رسالہ اور ان کا نام ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہو گئے۔ وہ 1982تک اس کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اس ذمہ داری سے سبکدوشی کے بعد انھوں نے دو ماہی ”اجتماع“ سہارنپور،ماہنامہ ”خالد“دیوبند، ماہنامہ ”طیب“ دیوبند“ اور ”اشاعت الحق“ دیوبند کی بھی ادارت سنبھالی تھی۔ جب ان کی ادارت میں دارالعلوم دیوبند کی اشاعت بحال ہوئی تو انھوں نے ”حرف آغاز“ کے عنوان سے اپنے اداریے میں لکھا کہ القاسم کے بعد عرصہ تک دارالعلوم کا اپنا کوئی ترجمان نہیں تھا تاآنکہ 1360ھ میں رسالہ دارالعلوم نکالا گیا جو آٹھ سال تک اپنی بہت سی مجبوریوں کے باوجود اشاعت دین اور تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرتا رہا۔ ہمارا موجودہ رسالہ ”دارالعلوم“ کا دور جدید ہے جو ہمارے حلقے کے مسلسل اصرار اور خواہش پر ازسرنو جاری کیا جا رہا ہے۔ ان کی ادارت میں
دارالعلوم جلد ہی اس مقام پر پہنچ گیا جسے رسالے کا نقطہ عروج کہا جا سکتا ہے۔
”سید صاحب ادب و صحافت کے شہسواروں میں شمار ہوتے تھے جس کی بنا پر وقت کے بڑے بڑے ادیب، شاعر اور کہنہ مشق صحافیوں سے ان کی راہ و رسم بڑی گہری تھی۔ ادھر ان کے با فیض اور لاثانی محقق و محدث والد علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں کی بھی ایک لمبی فہرست تھی جو ان سے عقیدت کی حد تک محبت کرتے اور قلبی تعلق رکھے تھے اور اپنا ہر ممکن تعاون دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔چنانچہ انھوں نے دارالعلوم کی ادارت سنبھالتے ہی اسے شہرت و مقبولیت کے سدرة المنتہیٰ تک پہنچا دیا۔ پہلے اس رسالے کی رسائی عام طور پر اہل علم و نظر اور دینی و مذہبی طبقوں ہی تک محد دو تھی اب اس کی پہنچ جدید تعلیم یافتہ طبقے سے لے کر اد با شعر ایک اور عام قارئین سے لے کر بڑے بڑے صحافت پیشہ حضرات تک ہونے لگی۔ رسالے کا آغاز از ہر شاہ قیصر اپنے علمی، فکری، تحقیقی، ادبی و سیاسی اداریوں سے کرتے جسے وہ ”حرف آغاز“ کے عنوان سے لکھا کرتے تھے ( بعد میں تقریباً سترہ سال تک حرف آغاز مولا نا مفتی ظفیر الدین مفتاحی اور دو ایک دفعہ مولانا ندیم الواجدی نے بھی لکھا)۔ اس کے بعد مقالات کے کالم کے تحت ملک کے شہرہ آفاق علماءمحققین، اسکالرس، اد با اور صحافیوں کی نگارشات کا نمبر ہوتا۔ادبیات کا مستقل گوشہ تھا جس کے تحت ہر ماہ ماہر القادری، حمید صدیقی لکھنوی زائر حرم ، روش صدیقی، الم مظفر نگری، نازش پرتاب گڑھی، جگر مراد آبادی اور ان جیسے دیگر بین الاقوامی شہرت و عظمت کے مالک شعرا کی تازہ بہ تازہ غزلیات شائع کی جاتیں۔ اخبارو افکار کے تحت ہر ماہ ملکی و عالمی پیمانے کی خاص خاص خبریں دی جاتیں۔ تنقید و تبصرہ بھی ایک مستقل کالم تھا جس میں ہر ماہ نئے مصنفین کی کتابوں پر فاضلانہ اور بے باک و حقیقت افروز تبصرے کیے جاتے۔ تبصرے کے لیے چونکہ بہ یک وقت کئی کئی کتا بیں آتی تھیں اس لیے مولانا کے علاوہ آپ کے برادر خرد مولانا سید انظر شاہ، مولانا عبد الرو ¿ف عالی اور مولانا قمر احمد عثمانی وغیرہ بھی تبصرہ نگاری کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے۔ رسالے کے اخیر میں حسب سابق حضرت مہتمم صاحب کے اسفار کی تفصیلات اور کوائف دارالعلوم درج کیے جاتے تھے۔ سیداز ہر شاہ قیصر نے اپنے دور ادارت میں جہاں اپنی قلمی نوازشوں سے دارالعلوم کو مثالی وقار واعتبار بخشا و ہیں وقت کے مشہور اہل قلم و ادب و شعر کو اس رسالے میں لکھنے کی دعوت دی جنھوں نے اپنے رشحات و تخلیقات سے اس کی مقبولیت میں چار چاند لگا دیے۔ الغرض سید از ہر شاہ قیصر کے عرصہ ادارت میں ماہ نامہ دار العلوم ایک مکمل اور ہمہ جہت میگزین تھا جس میں علمی، دینی،ادبی، تنقیدی اور سیاسی ہر قسم کے موضوعات پوری دیدہ وری کے ساتھ برتے جاتے اور ارباب ذوق ان کا والہانہ استقبال کرتے تھے۔ مولانا نے 1951 سے 1982 تک رسالہ ” دار العلوم“ کی ادارت بحسن و خوبی انجام دی۔ مگر جب اس سال دارالعلوم سخت پر آشوب حالات سے گزرا اور اس کے تعلیمی و انتظامی شعبے تشویش ناک حد تک متاثر ہوئے تو رسالہ کی سرگرمیاں بھی ان حالات سے دو چار ہوئیں اور سال بھر بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ اس کی اشاعت تعطل کا شکار رہی۔ پھر جب حادثات اور ہنگاموں کا طوفانِ بلا خیز تھما اور سابقہ معمولات علمی و انتظامی جدید انتظامیہ کے تحت بحال ہوئے تو رسالہ کی اشاعت کی تجدید کا بھی فیصلہ کیا گیا اور ادارت کے لیے پھر مولانا سید از ہر شاہ قیصر کو مدعو کیا گیا۔ مگر حالات و انقلابات کی بے انتہا سنگینی نے ان کی طبع حساس پر غیر معمولی اثر ڈالا تھا اور وہ حد درجہ دل گیر ہو چکے تھے۔ اس لیے انتظامیہ کے اصرار کے باوصف انہوں نے گوشہ تنہائی ہی کو ترجیح دی اور کسی طرح بھی دوبارہ اس رسالے کی ادارت کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس طرح ”دار العلوم“ اپنے ایک عظیم مخلص اور بے لوث خادم سے محروم ہو گیا۔“
(بحوالہ: دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ، مصنف: نایاب حسن قاسمی، ادارہ تحقیق اسلامی دیوبند)
نسیم اختر شاہ قیصر نے ”سید محمد ازہر شاہ قیصر ایک ادیب ایک صحافی“ نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے جس میں سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مفسر قرآن مولانا اخلاق حسین قاسمی نے ”درویش صفت صحافی“ کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ حضرت شاہ جی کا سب سے پہلے میں نے جمعیة علماءہند کے اکابرین ثلاثہ (مولانا حفظ الرحمن، مفتی عتیق الرحمن عثمانی اور مولانا محمد میاں) کی مجلس میں تذکرہ سنا۔ اچھے لکھنے والوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ مولانا محمد عثمان فارقلیط ایڈیٹر الجمعیة اور ہلال احمد صاحب زبیری ایڈیٹر انصاری اخبار بھی مجلس میں موجود تھے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کے مدیر ازہر شاہ قیصر درالعلوم کے اداریے بڑی محنت سے لکھتے ہیں۔ زبان بھی پرشوکت ہوتی ہے اور فکر بھی صائب ہوتا ہے۔ فارقلیط صاحب نے مفتی صاحب کی تائید کی۔ البتہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے مفتی صاحب کی ”پرشوکت زبان“ پر
”سید صاحب ادب و صحافت کے شہسواروں میں شمار ہوتے تھے جس کی بنا پر وقت کے بڑے بڑے ادیب، شاعر اور کہنہ مشق صحافیوں سے ان کی راہ و رسم بڑی گہری تھی۔ ادھر ان کے با فیض اور لاثانی محقق و محدث والد علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں کی بھی ایک لمبی فہرست تھی جو ان سے عقیدت کی حد تک محبت کرتے اور قلبی تعلق رکھے تھے اور اپنا ہر ممکن تعاون دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔چنانچہ انھوں نے دارالعلوم کی ادارت سنبھالتے ہی اسے شہرت و مقبولیت کے سدرة المنتہیٰ تک پہنچا دیا۔ پہلے اس رسالے کی رسائی عام طور پر اہل علم و نظر اور دینی و مذہبی طبقوں ہی تک محد دو تھی اب اس کی پہنچ جدید تعلیم یافتہ طبقے سے لے کر اد با شعر ایک اور عام قارئین سے لے کر بڑے بڑے صحافت پیشہ حضرات تک ہونے لگی۔ رسالے کا آغاز از ہر شاہ قیصر اپنے علمی، فکری، تحقیقی، ادبی و سیاسی اداریوں سے کرتے جسے وہ ”حرف آغاز“ کے عنوان سے لکھا کرتے تھے ( بعد میں تقریباً سترہ سال تک حرف آغاز مولا نا مفتی ظفیر الدین مفتاحی اور دو ایک دفعہ مولانا ندیم الواجدی نے بھی لکھا)۔ اس کے بعد مقالات کے کالم کے تحت ملک کے شہرہ آفاق علماءمحققین، اسکالرس، اد با اور صحافیوں کی نگارشات کا نمبر ہوتا۔ادبیات کا مستقل گوشہ تھا جس کے تحت ہر ماہ ماہر القادری، حمید صدیقی لکھنوی زائر حرم ، روش صدیقی، الم مظفر نگری، نازش پرتاب گڑھی، جگر مراد آبادی اور ان جیسے دیگر بین الاقوامی شہرت و عظمت کے مالک شعرا کی تازہ بہ تازہ غزلیات شائع کی جاتیں۔ اخبارو افکار کے تحت ہر ماہ ملکی و عالمی پیمانے کی خاص خاص خبریں دی جاتیں۔ تنقید و تبصرہ بھی ایک مستقل کالم تھا جس میں ہر ماہ نئے مصنفین کی کتابوں پر فاضلانہ اور بے باک و حقیقت افروز تبصرے کیے جاتے۔ تبصرے کے لیے چونکہ بہ یک وقت کئی کئی کتا بیں آتی تھیں اس لیے مولانا کے علاوہ آپ کے برادر خرد مولانا سید انظر شاہ، مولانا عبد الرو ¿ف عالی اور مولانا قمر احمد عثمانی وغیرہ بھی تبصرہ نگاری کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے۔ رسالے کے اخیر میں حسب سابق حضرت مہتمم صاحب کے اسفار کی تفصیلات اور کوائف دارالعلوم درج کیے جاتے تھے۔ سیداز ہر شاہ قیصر نے اپنے دور ادارت میں جہاں اپنی قلمی نوازشوں سے دارالعلوم کو مثالی وقار واعتبار بخشا و ہیں وقت کے مشہور اہل قلم و ادب و شعر کو اس رسالے میں لکھنے کی دعوت دی جنھوں نے اپنے رشحات و تخلیقات سے اس کی مقبولیت میں چار چاند لگا دیے۔ الغرض سید از ہر شاہ قیصر کے عرصہ ادارت میں ماہ نامہ دار العلوم ایک مکمل اور ہمہ جہت میگزین تھا جس میں علمی، دینی،ادبی، تنقیدی اور سیاسی ہر قسم کے موضوعات پوری دیدہ وری کے ساتھ برتے جاتے اور ارباب ذوق ان کا والہانہ استقبال کرتے تھے۔ مولانا نے 1951 سے 1982 تک رسالہ ” دار العلوم“ کی ادارت بحسن و خوبی انجام دی۔ مگر جب اس سال دارالعلوم سخت پر آشوب حالات سے گزرا اور اس کے تعلیمی و انتظامی شعبے تشویش ناک حد تک متاثر ہوئے تو رسالہ کی سرگرمیاں بھی ان حالات سے دو چار ہوئیں اور سال بھر بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ اس کی اشاعت تعطل کا شکار رہی۔ پھر جب حادثات اور ہنگاموں کا طوفانِ بلا خیز تھما اور سابقہ معمولات علمی و انتظامی جدید انتظامیہ کے تحت بحال ہوئے تو رسالہ کی اشاعت کی تجدید کا بھی فیصلہ کیا گیا اور ادارت کے لیے پھر مولانا سید از ہر شاہ قیصر کو مدعو کیا گیا۔ مگر حالات و انقلابات کی بے انتہا سنگینی نے ان کی طبع حساس پر غیر معمولی اثر ڈالا تھا اور وہ حد درجہ دل گیر ہو چکے تھے۔ اس لیے انتظامیہ کے اصرار کے باوصف انہوں نے گوشہ تنہائی ہی کو ترجیح دی اور کسی طرح بھی دوبارہ اس رسالے کی ادارت کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس طرح ”دار العلوم“ اپنے ایک عظیم مخلص اور بے لوث خادم سے محروم ہو گیا۔“
(بحوالہ: دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ، مصنف: نایاب حسن قاسمی، ادارہ تحقیق اسلامی دیوبند)
نسیم اختر شاہ قیصر نے ”سید محمد ازہر شاہ قیصر ایک ادیب ایک صحافی“ نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے جس میں سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مفسر قرآن مولانا اخلاق حسین قاسمی نے ”درویش صفت صحافی“ کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ حضرت شاہ جی کا سب سے پہلے میں نے جمعیة علماءہند کے اکابرین ثلاثہ (مولانا حفظ الرحمن، مفتی عتیق الرحمن عثمانی اور مولانا محمد میاں) کی مجلس میں تذکرہ سنا۔ اچھے لکھنے والوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ مولانا محمد عثمان فارقلیط ایڈیٹر الجمعیة اور ہلال احمد صاحب زبیری ایڈیٹر انصاری اخبار بھی مجلس میں موجود تھے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کے مدیر ازہر شاہ قیصر درالعلوم کے اداریے بڑی محنت سے لکھتے ہیں۔ زبان بھی پرشوکت ہوتی ہے اور فکر بھی صائب ہوتا ہے۔ فارقلیط صاحب نے مفتی صاحب کی تائید کی۔ البتہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے مفتی صاحب کی ”پرشوکت زبان“ پر
فرمایا کہ اب دور آسان رادو زبان لکھنے کا ہے۔ ازہر شاہ کے سامنے علما کا طبقہ رہتا ہے۔ اگر وہ مسلم عوام کو سامنے رکھیں تو انھیں احساس ہو۔ مولانا آزاد نے بھی رام گڑھ کانگریس کے خطبہ میں اپنی پرشوکت اور پروقار زبان کی بجائے آسان اور عام فہم زبان استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ازہر شاہ مولانا آزاد کے الہلال و البلاغ کو دیکھتے ہیں۔
اس کتاب کا مقدمہ ڈاکٹر تابش مہدی نے لکھا ہے۔ وہ اپنے مضمون کا آغاز اس طرح کرتے ہیں:
”علامہ ڈپٹی نذیر احمد، مولوی محمد حسین آزاد، خواجہ الطاف حسین حالی اور علامہ شبلی نعمانی اردو ادب کے عناصر اربعہ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے اسلوب تحریر اوراپنی ادبی نظریہ سازی کے ذریعہ اردو شعر وادب کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ ہندوستان کی مردم خیز بستی دیو بند کے شعری و ادبی حوالے سے بھی چار نام بہت نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان میں پہلا نام علامہ انور صابری کا ہے جنھوں نے اپنی شاعری اور بدیہہ گوئی کے ذریعہ شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ دوسرا نام مولانا عامر عثمانی کا ہے جنھوں نے اپنے ماہانہ رسالہ ”تجلی“ کے ذریعہ اپنی تخلیقی، تنقیدی اور صحافتی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔ تیسرا نام جمیل مہدی کا ہے جنھوں نے دیوبند سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیااور اس کے بعد لکھنو چلے گئے۔ انھو ںنے وہاں سے روزنامہ عزائم جاری کیا اور آخری عمر تک عزائم ہی کے ذریعہ اپنی ذہانت و فطانت کا لوہا منواتے رہے۔ اور چو تھا نام ابن الانور مولانا سید محمدازہر شاہ قیصر کا ہے جو اوائل عمری ہی سے صحافت کے دامن گرفتہ ہوئے تو زندگی کی آخری سانس تک اس کی وفاداری سے منہ نہیں موڑا۔“
انھوں نے ان کی تحریری خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
”مولانا سید از ہر شاہ قیصر اردو کے معتبر صحافی بھی تھے اور شگفتہ قلم ادیب وانشا پرداز بھی۔ شاعری اور افسانہ نگاری سے بھی شغف رکھتے تھے .... اگرچہ وہ ایک درویش صفت، قلندر مزاج، گوشہ نشین اور عزلت پسند صحافی تھے تاہم ان کے قلم میں بلا کی شوخی اور دلاویزی تھی۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع اور ہمہ جہت تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے ہمیشہ کشادہ نظری اور وسیع المشربی سے کام لیا۔ جو عمق اور ٹھہر وان کے مشاہدے میں تھا وہ بہت کم لکھنے والوں کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ رسالہ دارالعلوم میں ان کے اداریوں کو بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ متعدد معاصر جرائد انھیں اپنے ہاں نقل کرتے تھے۔“
غرضیکہ مولانا سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جب بھی دیوبند اور دارالعلوم دیوبند کی صحافتی تاریخ لکھی جائے گی تو وہ ان کی خدمات کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔
موبائل: 9818195929 See less
اس کتاب کا مقدمہ ڈاکٹر تابش مہدی نے لکھا ہے۔ وہ اپنے مضمون کا آغاز اس طرح کرتے ہیں:
”علامہ ڈپٹی نذیر احمد، مولوی محمد حسین آزاد، خواجہ الطاف حسین حالی اور علامہ شبلی نعمانی اردو ادب کے عناصر اربعہ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے اسلوب تحریر اوراپنی ادبی نظریہ سازی کے ذریعہ اردو شعر وادب کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ ہندوستان کی مردم خیز بستی دیو بند کے شعری و ادبی حوالے سے بھی چار نام بہت نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان میں پہلا نام علامہ انور صابری کا ہے جنھوں نے اپنی شاعری اور بدیہہ گوئی کے ذریعہ شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ دوسرا نام مولانا عامر عثمانی کا ہے جنھوں نے اپنے ماہانہ رسالہ ”تجلی“ کے ذریعہ اپنی تخلیقی، تنقیدی اور صحافتی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔ تیسرا نام جمیل مہدی کا ہے جنھوں نے دیوبند سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیااور اس کے بعد لکھنو چلے گئے۔ انھو ںنے وہاں سے روزنامہ عزائم جاری کیا اور آخری عمر تک عزائم ہی کے ذریعہ اپنی ذہانت و فطانت کا لوہا منواتے رہے۔ اور چو تھا نام ابن الانور مولانا سید محمدازہر شاہ قیصر کا ہے جو اوائل عمری ہی سے صحافت کے دامن گرفتہ ہوئے تو زندگی کی آخری سانس تک اس کی وفاداری سے منہ نہیں موڑا۔“
انھوں نے ان کی تحریری خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
”مولانا سید از ہر شاہ قیصر اردو کے معتبر صحافی بھی تھے اور شگفتہ قلم ادیب وانشا پرداز بھی۔ شاعری اور افسانہ نگاری سے بھی شغف رکھتے تھے .... اگرچہ وہ ایک درویش صفت، قلندر مزاج، گوشہ نشین اور عزلت پسند صحافی تھے تاہم ان کے قلم میں بلا کی شوخی اور دلاویزی تھی۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع اور ہمہ جہت تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے ہمیشہ کشادہ نظری اور وسیع المشربی سے کام لیا۔ جو عمق اور ٹھہر وان کے مشاہدے میں تھا وہ بہت کم لکھنے والوں کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ رسالہ دارالعلوم میں ان کے اداریوں کو بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ متعدد معاصر جرائد انھیں اپنے ہاں نقل کرتے تھے۔“
غرضیکہ مولانا سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جب بھی دیوبند اور دارالعلوم دیوبند کی صحافتی تاریخ لکھی جائے گی تو وہ ان کی خدمات کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔
موبائل: 9818195929 See less
*وفیات مورخہ: 23/جون*
1565ء طور غود رئیس۔ عثمانی امیر البحر
1965ء اسد رستم۔ لبنانی مورخ
1975ء منظر لکھنوی ، سید منظر حسن۔ ،
1980ء سنجے گاندھی۔ کانگریسی لیڈر
1982ء زبیدہ بیگم۔ ،
1989ء میشل عفلق۔ بانی البعث پارٹی
1994ء شوکت جہاں۔ ،
2001ء قمر ساحری (سید علی رضا)۔ پروفیسر ،
2005ء عتیق الرحمٰن (کراچی)۔ مولانا مفتی ،
2007ء ارشاد علی۔ ،
2010ء محمد حامد اکرمی ( سائبو خلفو)۔ قاضی جماعت المسلمین بھٹکل
2014ء سید دبیر الحسن۔ ،
2015ء فہمی عبدالحمید۔ ،
2015ء نرملا جوشی۔
2019ء عبد الستار۔ سفارت کار
2020ء عزیز الرحمن ہزاروی۔ سینیر رہنما جمعیت علمائے اسلام
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1565ء طور غود رئیس۔ عثمانی امیر البحر
1965ء اسد رستم۔ لبنانی مورخ
1975ء منظر لکھنوی ، سید منظر حسن۔ ،
1980ء سنجے گاندھی۔ کانگریسی لیڈر
1982ء زبیدہ بیگم۔ ،
1989ء میشل عفلق۔ بانی البعث پارٹی
1994ء شوکت جہاں۔ ،
2001ء قمر ساحری (سید علی رضا)۔ پروفیسر ،
2005ء عتیق الرحمٰن (کراچی)۔ مولانا مفتی ،
2007ء ارشاد علی۔ ،
2010ء محمد حامد اکرمی ( سائبو خلفو)۔ قاضی جماعت المسلمین بھٹکل
2014ء سید دبیر الحسن۔ ،
2015ء فہمی عبدالحمید۔ ،
2015ء نرملا جوشی۔
2019ء عبد الستار۔ سفارت کار
2020ء عزیز الرحمن ہزاروی۔ سینیر رہنما جمعیت علمائے اسلام
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*ہماری زندگی کا مقصد کتاب و سنت کی نشر و اشاعت اور ان پر عمل ہے، نہ کہ اپنی جماعت، تحریک یا مسلک کی ترویج*
*✒️از قلم: محمد حارث اکرمی ندوی*
اگر ہم انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ تمام انبیاء نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی اطاعت اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دی۔ کسی نبی نے لوگوں کو اپنی ذات، کسی شخصیت، جماعت یا گروہ کی طرف نہیں بلایا، بلکہ سب نے انسانیت کو اللہ اور اس کے دین سے جوڑنے کی کوشش کی۔
*اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا:*
*﴿قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي﴾*
"آپ کہہ دیجیے: یہی میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔" (یوسف: 108)
*امتِ مسلمہ کے لیے اصل معیار قرآن و سنت ہیں۔ ہر شخص، ہر جماعت، ہر تحریک اور ہر ادارہ انہی کے تابع ہے۔*
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*
*«تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي»*
*"میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔"*
ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ حق اور سچائی جہاں بھی ملے اسے قبول کرنا چاہیے، اور محض اپنے مسلک، جماعت یا پسندیدہ شخصیت کی وجہ سے کسی صحیح بات کو رد نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں عقیدۂ توحید اور اتباعِ سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی نجات اور کامیابی کا راستہ ہے۔
صحابۂ کرام، تابعین اور سلفِ صالحین کا طرزِ عمل بھی یہی تھا۔ وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، اختلاف کے باوجود اخوت اور محبت کو برقرار رکھتے تھے، اور لوگوں کو اپنی طرف نہیں بلکہ کتاب و سنت کی طرف بلاتے تھے۔ ان کی ساری محنت کا مرکز دینِ اسلام کی اشاعت اور اللہ کی رضا کا حصول تھا۔
ہمیں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ تنظیمیں، جماعتیں، مدارس اور دعوتی ادارے بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ دین کی خدمت کے ذرائع ہیں۔ ان کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دین کی بہت سی خدمات انہی کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔ تاہم اصل وفاداری قرآن و سنت کے ساتھ ہونی چاہیے، نہ کہ کسی جماعت، تنظیم یا شخصیت کے ساتھ۔ کسی ادارے کا نصاب یا طریقۂ کار منزل من اللہ نہیں ہوتا، بلکہ اہلِ علم نے حالات اور ضرورتوں کو سامنے رکھ کر اسے مرتب کیا ہوتا ہے۔
اختلاف کی صورت میں تنقید بھی علم، عدل اور حسنِ اخلاق کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ اگر کسی معاملے میں غلطی نظر آئے تو اس کی اصلاح حکمت، خیرخواہی اور اچھے انداز سے کی جانی چاہیے، خصوصاً عقیدے اور دین کے بنیادی مسائل میں۔
مسلکی اور جماعتی تعصب امت میں تفرقہ، نفرت اور باہمی دوری پیدا کرتا ہے۔
*اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*
*﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾*
*"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103)*
اس کے نتیجے میں امت کی قوت کمزور ہوتی ہے، دعوت کا اثر گھٹتا ہے اور لوگ دین سے دور ہونے لگتے ہیں۔ دعوت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی اشاعت اور بندوں کو اللہ سے جوڑنا ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے حلقے، گروہ یا نام کی شہرت حاصل کرنا۔
آج ہمیں سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری دعوتی کوششوں کا مرکز کیا ہے؟ کیا ہم لوگوں کو قرآن و سنت سے جوڑ رہے ہیں یا صرف اپنی جماعتوں اور شخصیات سے؟ اگر ہمارا مقصد اللہ کی رضا اور دین کی سربلندی ہے تو ہمیں اخلاص، اعتدال، وسعتِ نظر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
*"ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ افراد، جماعتیں اور ادارے بدلتے رہتے ہیں، لیکن قرآن و سنت قیامت تک باقی رہنے والی ہدایت ہیں۔ لہٰذا ہماری دعوت، محبت اور وابستگی کا اصل مرکز بھی یہی ہونا چاہیے۔"*
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ، اخلاصِ نیت اور کتاب و سنت پر چلنے اور دوسروں کو اس کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
*✒️از قلم: محمد حارث اکرمی ندوی*
اگر ہم انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ تمام انبیاء نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی اطاعت اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دی۔ کسی نبی نے لوگوں کو اپنی ذات، کسی شخصیت، جماعت یا گروہ کی طرف نہیں بلایا، بلکہ سب نے انسانیت کو اللہ اور اس کے دین سے جوڑنے کی کوشش کی۔
*اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا:*
*﴿قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي﴾*
"آپ کہہ دیجیے: یہی میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔" (یوسف: 108)
*امتِ مسلمہ کے لیے اصل معیار قرآن و سنت ہیں۔ ہر شخص، ہر جماعت، ہر تحریک اور ہر ادارہ انہی کے تابع ہے۔*
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*
*«تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي»*
*"میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔"*
ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ حق اور سچائی جہاں بھی ملے اسے قبول کرنا چاہیے، اور محض اپنے مسلک، جماعت یا پسندیدہ شخصیت کی وجہ سے کسی صحیح بات کو رد نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں عقیدۂ توحید اور اتباعِ سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی نجات اور کامیابی کا راستہ ہے۔
صحابۂ کرام، تابعین اور سلفِ صالحین کا طرزِ عمل بھی یہی تھا۔ وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، اختلاف کے باوجود اخوت اور محبت کو برقرار رکھتے تھے، اور لوگوں کو اپنی طرف نہیں بلکہ کتاب و سنت کی طرف بلاتے تھے۔ ان کی ساری محنت کا مرکز دینِ اسلام کی اشاعت اور اللہ کی رضا کا حصول تھا۔
ہمیں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ تنظیمیں، جماعتیں، مدارس اور دعوتی ادارے بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ دین کی خدمت کے ذرائع ہیں۔ ان کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دین کی بہت سی خدمات انہی کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔ تاہم اصل وفاداری قرآن و سنت کے ساتھ ہونی چاہیے، نہ کہ کسی جماعت، تنظیم یا شخصیت کے ساتھ۔ کسی ادارے کا نصاب یا طریقۂ کار منزل من اللہ نہیں ہوتا، بلکہ اہلِ علم نے حالات اور ضرورتوں کو سامنے رکھ کر اسے مرتب کیا ہوتا ہے۔
اختلاف کی صورت میں تنقید بھی علم، عدل اور حسنِ اخلاق کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ اگر کسی معاملے میں غلطی نظر آئے تو اس کی اصلاح حکمت، خیرخواہی اور اچھے انداز سے کی جانی چاہیے، خصوصاً عقیدے اور دین کے بنیادی مسائل میں۔
مسلکی اور جماعتی تعصب امت میں تفرقہ، نفرت اور باہمی دوری پیدا کرتا ہے۔
*اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*
*﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾*
*"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103)*
اس کے نتیجے میں امت کی قوت کمزور ہوتی ہے، دعوت کا اثر گھٹتا ہے اور لوگ دین سے دور ہونے لگتے ہیں۔ دعوت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی اشاعت اور بندوں کو اللہ سے جوڑنا ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے حلقے، گروہ یا نام کی شہرت حاصل کرنا۔
آج ہمیں سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری دعوتی کوششوں کا مرکز کیا ہے؟ کیا ہم لوگوں کو قرآن و سنت سے جوڑ رہے ہیں یا صرف اپنی جماعتوں اور شخصیات سے؟ اگر ہمارا مقصد اللہ کی رضا اور دین کی سربلندی ہے تو ہمیں اخلاص، اعتدال، وسعتِ نظر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
*"ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ افراد، جماعتیں اور ادارے بدلتے رہتے ہیں، لیکن قرآن و سنت قیامت تک باقی رہنے والی ہدایت ہیں۔ لہٰذا ہماری دعوت، محبت اور وابستگی کا اصل مرکز بھی یہی ہونا چاہیے۔"*
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ، اخلاصِ نیت اور کتاب و سنت پر چلنے اور دوسروں کو اس کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
❤1
حضرت حسينؓ کی شہادت، مقدس ترین دفینہ ہے
خیر و شر اور حق و باطل کی آویزش و پیکار میں جب معاشروں کو نئے مطالبات اور نئی ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سماج، انسان یا مظلوم، اپنی تاریخ کے قدیم دفینوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ شہادتِ امام حسينؓ ان دفینوں میں سے ایک مقدس ترین دفینہ ہے۔ عظمت، عظمت ہے، سچائی، سچائی ہے، وہ قائم اور دائم رہتی ہے۔
گوپی چند نارنگ
(۳۰ اگست ۲۰۲۱ء، عالمی سہارا نیوز پر کی گئی گفتگو سے ماخوذ/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
خیر و شر اور حق و باطل کی آویزش و پیکار میں جب معاشروں کو نئے مطالبات اور نئی ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سماج، انسان یا مظلوم، اپنی تاریخ کے قدیم دفینوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ شہادتِ امام حسينؓ ان دفینوں میں سے ایک مقدس ترین دفینہ ہے۔ عظمت، عظمت ہے، سچائی، سچائی ہے، وہ قائم اور دائم رہتی ہے۔
گوپی چند نارنگ
(۳۰ اگست ۲۰۲۱ء، عالمی سہارا نیوز پر کی گئی گفتگو سے ماخوذ/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
Forwarded from حسان محمدشیخ
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ مجھے اس کتاب/رسالے کی ضرورت ہے:
"روئدادِ ده سالہ مجلسِ احیاء المعارف النعمانیہ، مطبوعہ: مطبعِ برقی اعظم جاہی، حیدر آباد"
کسی صاحب کے پاس سافٹ کاپی میں ہو تو ارسال فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
عرض یہ ہے کہ مجھے اس کتاب/رسالے کی ضرورت ہے:
"روئدادِ ده سالہ مجلسِ احیاء المعارف النعمانیہ، مطبوعہ: مطبعِ برقی اعظم جاہی، حیدر آباد"
کسی صاحب کے پاس سافٹ کاپی میں ہو تو ارسال فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
وفیات مورخہ: 25/جون
1944ء نواب بہادر یارجنگ (محمد بہادر خان)۔ قائد ملت ، بانی مجلس اتحاد المسلمیں حیدرآباد
1950ء صفی لکھنوی (سید علی نقی زیدی)۔ استاد شاعر
1955ء سید احمد اشرف۔
1973ء جعفر حسن (جافر ہسن)۔
1980ء شیخ علی احمد۔
1988ء رفیق رضوی (باپو)۔
1990ء سید محمد عبدالرشید فاضل۔ پروفیسر
1997ء مرغوب اختر صابری۔
2000ء مبارک حسین صدیقی۔
2003ء محمد ایاز خان قادری۔ صوفی
2008ء سنگین خان ولی۔
2008ء غلام محمود بنات والاً۔ صدر انڈین یونین مسلم لیگ
2009ء کلیم عمر۔
2009ء میاں طفیل محمد۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان
2020ء سید آل عمران۔
2022ء محمود خلیل القاریء۔ استاد قراءات مدینہ منورہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1944ء نواب بہادر یارجنگ (محمد بہادر خان)۔ قائد ملت ، بانی مجلس اتحاد المسلمیں حیدرآباد
1950ء صفی لکھنوی (سید علی نقی زیدی)۔ استاد شاعر
1955ء سید احمد اشرف۔
1973ء جعفر حسن (جافر ہسن)۔
1980ء شیخ علی احمد۔
1988ء رفیق رضوی (باپو)۔
1990ء سید محمد عبدالرشید فاضل۔ پروفیسر
1997ء مرغوب اختر صابری۔
2000ء مبارک حسین صدیقی۔
2003ء محمد ایاز خان قادری۔ صوفی
2008ء سنگین خان ولی۔
2008ء غلام محمود بنات والاً۔ صدر انڈین یونین مسلم لیگ
2009ء کلیم عمر۔
2009ء میاں طفیل محمد۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان
2020ء سید آل عمران۔
2022ء محمود خلیل القاریء۔ استاد قراءات مدینہ منورہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
آج مورخہ : ۲۵ جون قائد ملت نواب بہادر یار جنگ رحمۃ اللہ علیہ بانی مجلس اتحاد المسلمین حیدرآباد دکن کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات ۲۵ جون ۱۹۴۴ء کو ہوئی تھی، اس مناسب سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی نادر ریکارڈنگ اردو آڈیو ڈاٹ کام کی جانب سے پیش خدمت ہے ۔
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=khitab-jalna-1944, Khitab Jalna 1944
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=khitab-jalna-1944, Khitab Jalna 1944
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
ایک بہادر مسلمان کی موت
(قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کی رحلت مورخہ ۲۵ جون ۱۹۴۴ء پر علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کا تعزیتی شذرہ)
چار پانچ ہفتے ہوئے میں ایک گاؤں میں تھا کہ دفعتہ ایک صاحب نے ایک انگریزی اخبار کے حوالہ سے نواب بہادر یار جنگ کی اچانک موت کی اطلاع دی، موت ہر وقت آتی ہے، اور ہر وقت آسکتی ہے، تاہم جن کے مرنے کو دل نہیں چاہتا، ان کے مرنے کی خبر کا یقین بھی دفعتہ نہیں آتا، ان کا ہشاش بشاش تبسم چہرہ، ان کا صحیح و تنومند جسم، ان کا خوبصورت اور دلفریب قد بالا، ہر چیز بجلی کی کوند کی طرح سامنے آئی، اور ان کی موت کی خبر کو جھٹلا کر چلی گئی، خود جا کر اخبار پڑھا، ورقوں کو الٹا پلٹا، روایت نے صدیق کی، اور صدق نے یقین کی، اور یقین نے آنسوؤں کی صورت اختیار کی، اور اناﷲ کے ساتھ دل کی گہرائی سے مغفرت کی دعا نکلی۔
مرحوم سے جان پہچان اور بار بار کی ملاقات تو بارہ تیرہ برس سے تھی، مگر ابھی اسی سال فروری مارچ اور وسط اپریل تک حیدرآباد میں دارالعلوم ندوہ کے سلسلہ سے تقریباً ان سے روزانہ ہی ملنا جلنا اور ساتھ ساتھ لوگوں کے پاس آنا جانا اور گھنٹوں بیٹھ کر ہر موضوع پر اظہار خیال کا اور ہر پہلو سے ان کے جانچنے اور پرکھنے کا موقع ہاتھ آیا، وہ ہر پہلو سے محبوب ہی نظر آئے ارادہ کے پکے، بات کے دھنی، مخلص وفادار، خدا ترس، عاشق رسولﷺ مجاہد اسلام، بہادر مسلمان سپاہی، اور ہر معنی میں سپاہی، بہادر پٹھان اور بہادر مسلمان۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ زبان کے تیز ہاتھوں کے کمزور ہوتے ہیں یعنی باتوں کے دھنی ہاتھوں کے سست ہوتے ہیں۔ مگر وہ زبان اور ہاتھ دونوں کے تیز تھے، اور اسی کا کرشمہ تھا کہ صرف چند سال کے اندر کشمیر کی پہاڑیوں سے لے کر دکن کے کناروں تک پورے ہندوستان پر چھاگئے۔
بارہ تیرہ سال گذرے ہوں گے کہ مجھے ان کا نام حیدرآباد میں پہلے پہل ایک مدراسی فاضل دوست افضل العلماء ڈاکٹر عبدالحق کے ایک تار میں جس کو کرنول سے انھوں نے حیدرآباد میرے نام بھیجا تھا نظر آیا اس تار میں مجھے نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ کرنول کے ایک جدید مدرسہ کے افتتاح میں بلایا تھا آنکھوں نے تار کی سطروں میں نواب بہادر یار جنگ کا نام پڑھا، دل نے کہا نواب! عیش کا پروردہ! دولت کا آفریدہ، راحت کا خوگر، محراب و منبر سے نا آشنا، وہ قومی و مذہبی مجالس کا ہیرو ہو، میرا قیام اپنے عزیز دوستوں مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی، و مولانا عبدالباری صاحب ندوی کے گھر میں تھا، میں نے ان سے حیرت کا اظہار کیا، مولانا گیلانی نے بڑھ کر ان کی تحسین کی، اور فرمایا جی ہاں میں انھیں بچپن سے جانتا ہوں خوب بولتے ہیں، اور بڑی دلنشین تقریر کرتے ہیں، اسکول میں جب پڑھتے تھے، مجھے بلا بلا کر اپنے جلسوں میں لے جاتے تھے، تقریر کے انعامی مقابلوں میں میں انھیں تمغے اور انعام دیا کرتا تھا، آج کل میلاد کی مجلسوں میں ان کی تقریریں بہت پسند کی جاتی ہیں، یہ وہ زمانہ تھا، جب نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خان شروانی صدر الصدور دولتِ آصفیہ تھے، اور ان کے سبب سے میلاد کی محفلوں کی بڑی کثرت اور چہل پہل تھی، شستہ اور محتاط مقررین کی تلاش رہتی تھی، اس سلسلہ میں تازہ وارد نوجوان بہادر خاں کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔
اتفاق دیکھئے کہ چند ہی روز بعد مہاراجہ کشن پرشاد آنجہانی صدر اعظم دولتِ آصفیہ کے یہاں دعوت ہوئی، بہت سے مہمان تھے، کھانے سے فرصت ہوئی، تو ایک خوبصورت سڈول نوجوان شروانی اور ترکی ٹوپی میں ملبوس، بے تکلفی کے ساتھ آگے بڑھا، اور ادب سے ہاتھ ملاکر گویا ہوا، میں خود اپنا تعارف کراتا ہوں میں ہوں آپ کا شاگرد بہادر خاں، آنکھوں نے حیرت سے صورت دیکھی، ناآشنا پایا، تفصیل پوچھی، فرمایا آپ کی کتابوں کو پڑھ کر علم پایا، اور خطبات مدراس کورٹ کر میلاد کی محفلوں کو گرمایا، ان کی اس تواضع سے دل شرمندہ ہوا، اور ان کی اس شرافت سے سننے والے کی گردن جھک گئی۔
اُن کی یہ تواضع اور خاکساری تنہائیوں ہی میں نہیں، ہزاروں کے مجمعوں میں اسی طرح ظاہر ہوتی تھی، مولانا گیلانی کے ساتھ ان کی ممونیت برملا ان کی زبان سے ظاہر ہوتی تھی، مولانا شروانی کی حوصلہ افزائیوں کا اعتراف علی گڑھ یونین کی پہلی تقریر میں خود میرے کانوں نے سنا، دارالمصنفین کی کتابوں کے احسان کی کہانی اسی سال مارچ میں دارالسلام حیدرآباد کے عظیم الشان جلسہ میں سب نے سنی۔
مرحوم کی تقریر میں فصاحت و بلاغت اور بدائع تینوں کے جوہر تھے، شاعری وہ نہیں کرتے تھے، مگر ان کی نثر شاعری کا نمونہ ہوتی تھی، ان کی تقریریں بار ہا سنیں، ان کی اساس تین چیزیں ہوتی تھیں، اسلامی تاریخ کے معلومات، اقبال کے اشعار، ابوالکلام کے الفاظ، انھوں نے اقبالؔ کو بہت پڑھا تھا، اور بہت سمجھ کر پڑھا تھا، بیشتر کلام ان کے حافظ کے خزانہ میں محفوظ تھا، جس کو وہ اپنی تقریروں میں بہت دلنشیں انداز میں موقع موقع سے پڑھتے تھے، اور حاضرین سے خراج تحسین وصول کرتے تھے۔
(قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کی رحلت مورخہ ۲۵ جون ۱۹۴۴ء پر علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کا تعزیتی شذرہ)
چار پانچ ہفتے ہوئے میں ایک گاؤں میں تھا کہ دفعتہ ایک صاحب نے ایک انگریزی اخبار کے حوالہ سے نواب بہادر یار جنگ کی اچانک موت کی اطلاع دی، موت ہر وقت آتی ہے، اور ہر وقت آسکتی ہے، تاہم جن کے مرنے کو دل نہیں چاہتا، ان کے مرنے کی خبر کا یقین بھی دفعتہ نہیں آتا، ان کا ہشاش بشاش تبسم چہرہ، ان کا صحیح و تنومند جسم، ان کا خوبصورت اور دلفریب قد بالا، ہر چیز بجلی کی کوند کی طرح سامنے آئی، اور ان کی موت کی خبر کو جھٹلا کر چلی گئی، خود جا کر اخبار پڑھا، ورقوں کو الٹا پلٹا، روایت نے صدیق کی، اور صدق نے یقین کی، اور یقین نے آنسوؤں کی صورت اختیار کی، اور اناﷲ کے ساتھ دل کی گہرائی سے مغفرت کی دعا نکلی۔
مرحوم سے جان پہچان اور بار بار کی ملاقات تو بارہ تیرہ برس سے تھی، مگر ابھی اسی سال فروری مارچ اور وسط اپریل تک حیدرآباد میں دارالعلوم ندوہ کے سلسلہ سے تقریباً ان سے روزانہ ہی ملنا جلنا اور ساتھ ساتھ لوگوں کے پاس آنا جانا اور گھنٹوں بیٹھ کر ہر موضوع پر اظہار خیال کا اور ہر پہلو سے ان کے جانچنے اور پرکھنے کا موقع ہاتھ آیا، وہ ہر پہلو سے محبوب ہی نظر آئے ارادہ کے پکے، بات کے دھنی، مخلص وفادار، خدا ترس، عاشق رسولﷺ مجاہد اسلام، بہادر مسلمان سپاہی، اور ہر معنی میں سپاہی، بہادر پٹھان اور بہادر مسلمان۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ زبان کے تیز ہاتھوں کے کمزور ہوتے ہیں یعنی باتوں کے دھنی ہاتھوں کے سست ہوتے ہیں۔ مگر وہ زبان اور ہاتھ دونوں کے تیز تھے، اور اسی کا کرشمہ تھا کہ صرف چند سال کے اندر کشمیر کی پہاڑیوں سے لے کر دکن کے کناروں تک پورے ہندوستان پر چھاگئے۔
بارہ تیرہ سال گذرے ہوں گے کہ مجھے ان کا نام حیدرآباد میں پہلے پہل ایک مدراسی فاضل دوست افضل العلماء ڈاکٹر عبدالحق کے ایک تار میں جس کو کرنول سے انھوں نے حیدرآباد میرے نام بھیجا تھا نظر آیا اس تار میں مجھے نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ کرنول کے ایک جدید مدرسہ کے افتتاح میں بلایا تھا آنکھوں نے تار کی سطروں میں نواب بہادر یار جنگ کا نام پڑھا، دل نے کہا نواب! عیش کا پروردہ! دولت کا آفریدہ، راحت کا خوگر، محراب و منبر سے نا آشنا، وہ قومی و مذہبی مجالس کا ہیرو ہو، میرا قیام اپنے عزیز دوستوں مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی، و مولانا عبدالباری صاحب ندوی کے گھر میں تھا، میں نے ان سے حیرت کا اظہار کیا، مولانا گیلانی نے بڑھ کر ان کی تحسین کی، اور فرمایا جی ہاں میں انھیں بچپن سے جانتا ہوں خوب بولتے ہیں، اور بڑی دلنشین تقریر کرتے ہیں، اسکول میں جب پڑھتے تھے، مجھے بلا بلا کر اپنے جلسوں میں لے جاتے تھے، تقریر کے انعامی مقابلوں میں میں انھیں تمغے اور انعام دیا کرتا تھا، آج کل میلاد کی مجلسوں میں ان کی تقریریں بہت پسند کی جاتی ہیں، یہ وہ زمانہ تھا، جب نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خان شروانی صدر الصدور دولتِ آصفیہ تھے، اور ان کے سبب سے میلاد کی محفلوں کی بڑی کثرت اور چہل پہل تھی، شستہ اور محتاط مقررین کی تلاش رہتی تھی، اس سلسلہ میں تازہ وارد نوجوان بہادر خاں کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔
اتفاق دیکھئے کہ چند ہی روز بعد مہاراجہ کشن پرشاد آنجہانی صدر اعظم دولتِ آصفیہ کے یہاں دعوت ہوئی، بہت سے مہمان تھے، کھانے سے فرصت ہوئی، تو ایک خوبصورت سڈول نوجوان شروانی اور ترکی ٹوپی میں ملبوس، بے تکلفی کے ساتھ آگے بڑھا، اور ادب سے ہاتھ ملاکر گویا ہوا، میں خود اپنا تعارف کراتا ہوں میں ہوں آپ کا شاگرد بہادر خاں، آنکھوں نے حیرت سے صورت دیکھی، ناآشنا پایا، تفصیل پوچھی، فرمایا آپ کی کتابوں کو پڑھ کر علم پایا، اور خطبات مدراس کورٹ کر میلاد کی محفلوں کو گرمایا، ان کی اس تواضع سے دل شرمندہ ہوا، اور ان کی اس شرافت سے سننے والے کی گردن جھک گئی۔
اُن کی یہ تواضع اور خاکساری تنہائیوں ہی میں نہیں، ہزاروں کے مجمعوں میں اسی طرح ظاہر ہوتی تھی، مولانا گیلانی کے ساتھ ان کی ممونیت برملا ان کی زبان سے ظاہر ہوتی تھی، مولانا شروانی کی حوصلہ افزائیوں کا اعتراف علی گڑھ یونین کی پہلی تقریر میں خود میرے کانوں نے سنا، دارالمصنفین کی کتابوں کے احسان کی کہانی اسی سال مارچ میں دارالسلام حیدرآباد کے عظیم الشان جلسہ میں سب نے سنی۔
مرحوم کی تقریر میں فصاحت و بلاغت اور بدائع تینوں کے جوہر تھے، شاعری وہ نہیں کرتے تھے، مگر ان کی نثر شاعری کا نمونہ ہوتی تھی، ان کی تقریریں بار ہا سنیں، ان کی اساس تین چیزیں ہوتی تھیں، اسلامی تاریخ کے معلومات، اقبال کے اشعار، ابوالکلام کے الفاظ، انھوں نے اقبالؔ کو بہت پڑھا تھا، اور بہت سمجھ کر پڑھا تھا، بیشتر کلام ان کے حافظ کے خزانہ میں محفوظ تھا، جس کو وہ اپنی تقریروں میں بہت دلنشیں انداز میں موقع موقع سے پڑھتے تھے، اور حاضرین سے خراج تحسین وصول کرتے تھے۔
علی گڑھ یونیورسٹی یونین سے داد پانا آسان نہیں، یونین میں ان کی پہلی تقریر تھی، موضوع حیدرآباد میں مسلمانوں کی سیاسی حیثیت اور دعوائے اقتدار تھا، جب تک وہ تقریر کرتے رہے تاثیر کا دریا بہتا رہا اور ہر شخص کو تسکین ہوگئی کہ حیدرآبادی مسلمانوں کا دعویٰ بالکل صحیح ہے، ایک اچھے مقرر لیڈر کو یہ کہتے سنا کہ انھوں نے اپنے کیس کو بہت خوبی سے پیش کیا، طالب علموں نے ان پر تحسین و آفرین کے پھول برسائے یہ علی گڑھ میں ان کی پہلی جیت تھی۔
جس زمانہ میں حیدرآباد میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی پہلی شورش ہوئی، اور چند مسلمان کسی ہندو محلہ میں شہید کردئیے گئے، تو سارے حیدرآباد میں آگ سی لگ گئی تھی، ان شہیدوں کا جنازہ لاکھوں مسلمانوں نے بڑی دھوم سے اٹھایا، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس مجمع کا جوش سارے شہر میں ہندوئوں کوتہ تیغ کئے بغیر ٹھنڈا نہ ہوگا، سر حیدری کی وزارت تھی، نواب بہادر یار جنگ کو تقریر کی ممانعت تھی، دم بدم مجمع کا جوش بڑھ رہا تھا، اور خطرہ سب کے سامنے تھا، اس وقت اعلیٰ حضرت نظام خلد اﷲ ملکہ کی اعلیٰ سیاست نے اس شخص کو جان لیا جو اس بھڑکتے ہوئے شعلہ پر پانی ڈال سکتا تھا، مرحوم کہتے تھے کہ میں اپنے گھر میں تھا کہ خود اعلیٰ حضرت نے مجھ سے ٹیلیفون پر ارشاد فرمایا، کہ بہادر خاں! میں تم سے خواہش کرتا ہوں کہ تم اس فتنہ کو فرو کرو، عرض کی اعلیٰ حضرت! یوں نہ فرمائیں بلکہ حکم دیں، فدوی ہتھیلی پر سر رکھ کر ابھی جاتا ہے، اور حکم شاہانہ بجالاتا ہے، چنانچہ وہ تنہا اس مجمع میں گئے، اور چند منٹ کی موثر تقریر میں سارا مجمع امن و سکون کے ساتھ منتشر ہوگیا، مسز سروجنی نائیڈو مکان کی چھت سے یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھیں، انھوں نے بعد کو مرحوم سے کہا کہ میں نے امن و سلامتی کی حالت میں اسٹیج کے لیڈر اور مقرر تو بہت دیکھے ہیں، مگر انتقام کی آگ سے مشتعل اور جوش سے بھرے مجمع کو اس طرح قابو میں لے آنا والا لیڈر اور مقرر میں نے آج ہی دیکھا ۔
مرحوم کی تقریروں کا اصلی میدان مسلم لیگ کے اجلاس اور اتحاد المسلمین حیدر آباد کے جلسے ہوتے تھے، مرحوم کا مذاق مذہب آمیز سیاست تھا، اُن پر دینی سیاست کا راز کھل چکا تھا، اور وہ یہی راز سب کو بتانا چاہتے تھے، اور جیسے جیسے زمانہ گذرتا جاتا تھا، ان کا یہ رنگ تیز سے تیز تر ہوتا چلا جاتا تھا، یہاں تک کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کراچی کے بعد سے لیگ کے خالص دنیاوی سیاسیوں پر ان کی تقریر بار ہونے لگی تھی۔
حیدرآباد میں اگر ان پچھلے چند برسوں کے اندر جب سرحیدری کی سیاست حیدرآباد کے دستور کی ترکیب و تحلیل میں مصروف تھی، نواب بہادر یار جنگ کا وجود نہ ہوتا، تو حیدرآباد کے نظم و نسق کا کچھ اور ہی انداز ہوگیا ہوتا، بیرونی ہندو لیڈروں اور دکن کے مرہٹوں نے ریاست کی امن دوست اور وفادار غیر مسلم رعایا کو بھڑکانے میں کوئی کمی نہیں کی، اور یہ دعویٰ کیا، کہ مردم شماری کے مطابق ریاست میں دونوں قوموں کے حقوق مانے جائیں، یہ سب کچھ ہورہا تھا مگر اس ملک کے مسلمان بالکل خواب غفلت میں تھے، اور بجز عیش و آرام ان کا کوئی دوسرا مشغلہ نہ تھا، وہاں کے مسلمان جاگیر دار جو اس ملک کی بڑی قوت ہیں محو استراحت تھے، دکن کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ صدیوں سے حکومت کے سر پر سارا بوجھ رکھ کر آرام طلبی اور بے فکری کے عادی ہوگئے ہیں، اس بیکاری سے ان کے دست و بازوشل اور قوائے عمل معطل ہیں، ان کا کوئی قومی تخیل اور سیاسی جذبہ زندہ نہیں رہا ہے، اور کسی حال میں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ ان کشور ستانوں کی یاد گار ہیں جنھوں نے اپنے کو بڑی مشکلوں میں ڈال کر دکن کی آصفی حکومت کو قائم کیا تھا۔
مرحوم کا بڑا کارنامہ اسی جذبہ کو زندہ کرنا تھا، انھوں نے جاگیر داروں کو جھنجھوڑ کر جگایا، اور بتایا کہ اگر انھوں نے اٹھ کر اپنی زندگی اور ملک کو اپنی ضرورت کا یقین نہیں دلایا، تو زمانہ کا سیلاب ان کے اقتدار کو بہا لے جائے گا، عام مسلمانوں کو یہ یاد دلایا، کہ یہ ملک تمھارا مفتوحہ اور مقبوضہ ملک ہے، اور تم بحیثیت قوم کے اس کے کشور کشا اور فاتح ہو، اور خانوادۂ آصفی کا سرتاج تمھاری حکومت کا نمائندہ، تمھاری طاقت کا مظہر، تمھاری بادشاہی کا ستون اور تمھاری وفاداری کا مرکز ہے۔
مرحوم نے اپنے اس سیاسی تخیل کی بنا پر تکلیفیں بھی اٹھائیں، ان پر پابندیاں بھی عائد ہوئیں انکے متعلق غلط فہمیاں بھی پیدا کرائی گئیں،تاہم انھوں نے ایثار کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا، یہاں تک کہ اپنے خطاب و منصب سے بھی دستبردار ہوگئے، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
مرحوم کی کوششوں سے دکن کے مسلمانوں نے صدیوں کے آرام کے بعد کروٹ لی اور اتحاد المسلمین کے زیر سایہ ایک مرکز پر جمع ہوگئے، اس کی شاخیں سارے ممالک محروسہ میں قائم ہوگئیں، اس کی آواز نے ملت کی آواز کا رتبہ پایا، اس کے سالانہ اجلاس میں بیک دفعہ پچاس ہزار آدمی جمع ہوجاتے تھے۔
جس زمانہ میں حیدرآباد میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی پہلی شورش ہوئی، اور چند مسلمان کسی ہندو محلہ میں شہید کردئیے گئے، تو سارے حیدرآباد میں آگ سی لگ گئی تھی، ان شہیدوں کا جنازہ لاکھوں مسلمانوں نے بڑی دھوم سے اٹھایا، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس مجمع کا جوش سارے شہر میں ہندوئوں کوتہ تیغ کئے بغیر ٹھنڈا نہ ہوگا، سر حیدری کی وزارت تھی، نواب بہادر یار جنگ کو تقریر کی ممانعت تھی، دم بدم مجمع کا جوش بڑھ رہا تھا، اور خطرہ سب کے سامنے تھا، اس وقت اعلیٰ حضرت نظام خلد اﷲ ملکہ کی اعلیٰ سیاست نے اس شخص کو جان لیا جو اس بھڑکتے ہوئے شعلہ پر پانی ڈال سکتا تھا، مرحوم کہتے تھے کہ میں اپنے گھر میں تھا کہ خود اعلیٰ حضرت نے مجھ سے ٹیلیفون پر ارشاد فرمایا، کہ بہادر خاں! میں تم سے خواہش کرتا ہوں کہ تم اس فتنہ کو فرو کرو، عرض کی اعلیٰ حضرت! یوں نہ فرمائیں بلکہ حکم دیں، فدوی ہتھیلی پر سر رکھ کر ابھی جاتا ہے، اور حکم شاہانہ بجالاتا ہے، چنانچہ وہ تنہا اس مجمع میں گئے، اور چند منٹ کی موثر تقریر میں سارا مجمع امن و سکون کے ساتھ منتشر ہوگیا، مسز سروجنی نائیڈو مکان کی چھت سے یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھیں، انھوں نے بعد کو مرحوم سے کہا کہ میں نے امن و سلامتی کی حالت میں اسٹیج کے لیڈر اور مقرر تو بہت دیکھے ہیں، مگر انتقام کی آگ سے مشتعل اور جوش سے بھرے مجمع کو اس طرح قابو میں لے آنا والا لیڈر اور مقرر میں نے آج ہی دیکھا ۔
مرحوم کی تقریروں کا اصلی میدان مسلم لیگ کے اجلاس اور اتحاد المسلمین حیدر آباد کے جلسے ہوتے تھے، مرحوم کا مذاق مذہب آمیز سیاست تھا، اُن پر دینی سیاست کا راز کھل چکا تھا، اور وہ یہی راز سب کو بتانا چاہتے تھے، اور جیسے جیسے زمانہ گذرتا جاتا تھا، ان کا یہ رنگ تیز سے تیز تر ہوتا چلا جاتا تھا، یہاں تک کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کراچی کے بعد سے لیگ کے خالص دنیاوی سیاسیوں پر ان کی تقریر بار ہونے لگی تھی۔
حیدرآباد میں اگر ان پچھلے چند برسوں کے اندر جب سرحیدری کی سیاست حیدرآباد کے دستور کی ترکیب و تحلیل میں مصروف تھی، نواب بہادر یار جنگ کا وجود نہ ہوتا، تو حیدرآباد کے نظم و نسق کا کچھ اور ہی انداز ہوگیا ہوتا، بیرونی ہندو لیڈروں اور دکن کے مرہٹوں نے ریاست کی امن دوست اور وفادار غیر مسلم رعایا کو بھڑکانے میں کوئی کمی نہیں کی، اور یہ دعویٰ کیا، کہ مردم شماری کے مطابق ریاست میں دونوں قوموں کے حقوق مانے جائیں، یہ سب کچھ ہورہا تھا مگر اس ملک کے مسلمان بالکل خواب غفلت میں تھے، اور بجز عیش و آرام ان کا کوئی دوسرا مشغلہ نہ تھا، وہاں کے مسلمان جاگیر دار جو اس ملک کی بڑی قوت ہیں محو استراحت تھے، دکن کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ صدیوں سے حکومت کے سر پر سارا بوجھ رکھ کر آرام طلبی اور بے فکری کے عادی ہوگئے ہیں، اس بیکاری سے ان کے دست و بازوشل اور قوائے عمل معطل ہیں، ان کا کوئی قومی تخیل اور سیاسی جذبہ زندہ نہیں رہا ہے، اور کسی حال میں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ ان کشور ستانوں کی یاد گار ہیں جنھوں نے اپنے کو بڑی مشکلوں میں ڈال کر دکن کی آصفی حکومت کو قائم کیا تھا۔
مرحوم کا بڑا کارنامہ اسی جذبہ کو زندہ کرنا تھا، انھوں نے جاگیر داروں کو جھنجھوڑ کر جگایا، اور بتایا کہ اگر انھوں نے اٹھ کر اپنی زندگی اور ملک کو اپنی ضرورت کا یقین نہیں دلایا، تو زمانہ کا سیلاب ان کے اقتدار کو بہا لے جائے گا، عام مسلمانوں کو یہ یاد دلایا، کہ یہ ملک تمھارا مفتوحہ اور مقبوضہ ملک ہے، اور تم بحیثیت قوم کے اس کے کشور کشا اور فاتح ہو، اور خانوادۂ آصفی کا سرتاج تمھاری حکومت کا نمائندہ، تمھاری طاقت کا مظہر، تمھاری بادشاہی کا ستون اور تمھاری وفاداری کا مرکز ہے۔
مرحوم نے اپنے اس سیاسی تخیل کی بنا پر تکلیفیں بھی اٹھائیں، ان پر پابندیاں بھی عائد ہوئیں انکے متعلق غلط فہمیاں بھی پیدا کرائی گئیں،تاہم انھوں نے ایثار کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا، یہاں تک کہ اپنے خطاب و منصب سے بھی دستبردار ہوگئے، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
مرحوم کی کوششوں سے دکن کے مسلمانوں نے صدیوں کے آرام کے بعد کروٹ لی اور اتحاد المسلمین کے زیر سایہ ایک مرکز پر جمع ہوگئے، اس کی شاخیں سارے ممالک محروسہ میں قائم ہوگئیں، اس کی آواز نے ملت کی آواز کا رتبہ پایا، اس کے سالانہ اجلاس میں بیک دفعہ پچاس ہزار آدمی جمع ہوجاتے تھے۔
مرحوم کا خیال تھا اور بجا خیال تھا کہ کسی ملک کی سرکاری تعلیم سے قومی روح زندہ نہیں ہوسکتی اس لیے حیدرآباد میں وہ ایک خالص قومی اسلامی درسگاہ قائم کرنا چاہتے تھے، جو دکن میں اسلامی روح پیدا کرے اور جب تک یہ درس گاہ قائم نہ ہو، ایک اسلامی بورڈنگ کی بنا ڈالی جائے، جس میں شہر کے ہر اسکول و کالج کے مسلمان طلبہ اقامت پذیر ہوں، اور وہ بورڈنگ کی تعلیم و تربیت میں رہیں، چنانچہ انھوں نے پچھلے ہی سال قومی چندہ سے ایک لاکھ میں حیدرآباد کے گویا وسط میں ایک بہت بڑی عمارت خریدی جس میں آئندہ تعمیرات کے لیے بہت بڑی وسعت ہے یہی عمارت دارالسلام کہلاتی ہے، اور یہی ان کے اتحاد المسلمین کا مرکزی دفتر ہے اسی عمارت میں ایک قومی کتب خانہ اور ایک اسلامی دارالاقامہ اور علوم مشرقیہ کی ایک چھوٹی سی درسگاہ قائم کی تھی، اس سال کے شروع میں یہ ادارے قائم ہوئے، اور اس کے ظاہر کرنے میں مجھے مسرت ہے کہ ان کے سیاسی و مذہبی تخیلات کی آبیاری، اور ان اداروں کی سربراہی میں جو گمنام آدمی کام کررہا ہے، وہ تمام تر دارالعلوم ندوۃ العلماء کی پیداوار ہے، ندوہ کے لیے یہ شکر کا مقام ہے کہ دین و دنیا کی جامعیت کے ساتھ جب کہیں کوئی کام شروع ہوتا ہے تو اس کے فرزند اس کے لیے بہترین اہل ثابت ہوتے ہیں، مولوی عبدالقدوس ہاشمی ندوی جو تکمیل کے بعد ہمیشہ علمی مشاغل میں مصروف رہے، مرحوم کی رفاقت کے لیے وہ بہترین رفیق ثابت ہوئے اور مرحوم بھی ان کی کماحقہ قدر کرتے تھے، بہر حال ان اداروں کی نگرانی ان کے سپرد کی، اور انھوں نے وہیں قیام اختیار کرلیا۔
اس سال فروری اور مارچ اور نصف اپریل کے چند مہینے ندوہ کی قومی امداد کے سلسلہ میں ان کے بہت قریب گذرے ہر دوسرے تیسرے ان کے مکان پر جانا ہوا، جب گیا ان کو مصروف اور بہت مصروف پایا، صبح سے شام تک ضرورت مندوں اور ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، ٹیلیفون سامنے ہوتا اور ڈاک دوسری طرف رکھی ہوتی تھی، معمولی مسلمان سے لے کر، تاجر، بیوپاری، وکیل، اہل سیاست، اہلِ مشورہ اور حکام سب ہی قسم کے اشخاص باری باری سے آتے، اور باتیں کر کے واپس جاتے تھے ملنے ملانے اور کہیں آنے جانے کے لیے کئی کئی روز پہلے وقت مقرر ہوتا اور پھر بھی ان کا کام پورا نہ ہوتا میں نے حیدرآباد کے لیڈروں میں ان سے زیادہ ہر دلعزیز کوئی آدمی نہیں دیکھا جس کا سکہ ہر کہہ و مہہ کے دل پر یکساں چلتا تھا۔
ان کی عربی تعلیم کچھ زیادہ نہ تھی، تاہم حج کے موقع پر حجاز میں اور حج کے بعد مصر میں کچھ روز ان کا قیام رہا تھا، اور اس طرح عربی کی کچھ مہارت بہم پہنچائی تھی، اور چونکہ قرآن پاک کی تلاوت کا سلسلہ برابر جاری تھا، اس لیے قرآن پاک کی آیتوں کے معنی بے تکلف سمجھ لیتے تھے، اور تفسیروں کی مدد سے قرآن پاک کے سمجھنے کی کوشش بلیغ کرتے تھے، صبح کو نماز کے بعد تقریباً نو بجے تک اپنے قریب کی مسجد میں خود ہی لوگوں کو قرآن پاک کا درس سناتے تھے، اور ہفتہ میں ایک دن شام کو ان کے ہاں اقبال کی کتابوں کا درس ہوتا تھا، اور اقبال کے فلسفہ کی گھتی سلجھائی جاتی تھی۔
مرحوم ۱۹۰۵ء میں پیدا ہوئے تھے، وہ نسل کے سدوزئی پٹھان تھے، ان کے آباؤ اجداد ہندوستان کے آخری مغل عہد میں جب ہر شمشیرزن قسمت آزما تھا، کچھ حوصلہ مند سپاہیوں کی جمعیت کے ساتھ ہندوستان وارد ہوئے پہلے ریاست جے پور میں طرح اقامت ڈالی، اور راجہ سے کچھ جاگیر پائی، اور بعدازیں حیدرآباد وارد ہوئے اور جمعدار کے عہدہ پر فائز ہوئے اور تیس ہزار کی نسلاً بعد نسلاً جاگیر پائی، مرحوم نے اپنی یہ خاندانی داستان کئی بار سنائی مگر کیا معلوم تھا کہ یہ داستان گو اب چند ہی روز کا مہمان ہے، ورنہ اس داستان کا حرف حرف محفوظ رکھا جاتا۔
اس سال فروری اور مارچ اور نصف اپریل کے چند مہینے ندوہ کی قومی امداد کے سلسلہ میں ان کے بہت قریب گذرے ہر دوسرے تیسرے ان کے مکان پر جانا ہوا، جب گیا ان کو مصروف اور بہت مصروف پایا، صبح سے شام تک ضرورت مندوں اور ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، ٹیلیفون سامنے ہوتا اور ڈاک دوسری طرف رکھی ہوتی تھی، معمولی مسلمان سے لے کر، تاجر، بیوپاری، وکیل، اہل سیاست، اہلِ مشورہ اور حکام سب ہی قسم کے اشخاص باری باری سے آتے، اور باتیں کر کے واپس جاتے تھے ملنے ملانے اور کہیں آنے جانے کے لیے کئی کئی روز پہلے وقت مقرر ہوتا اور پھر بھی ان کا کام پورا نہ ہوتا میں نے حیدرآباد کے لیڈروں میں ان سے زیادہ ہر دلعزیز کوئی آدمی نہیں دیکھا جس کا سکہ ہر کہہ و مہہ کے دل پر یکساں چلتا تھا۔
ان کی عربی تعلیم کچھ زیادہ نہ تھی، تاہم حج کے موقع پر حجاز میں اور حج کے بعد مصر میں کچھ روز ان کا قیام رہا تھا، اور اس طرح عربی کی کچھ مہارت بہم پہنچائی تھی، اور چونکہ قرآن پاک کی تلاوت کا سلسلہ برابر جاری تھا، اس لیے قرآن پاک کی آیتوں کے معنی بے تکلف سمجھ لیتے تھے، اور تفسیروں کی مدد سے قرآن پاک کے سمجھنے کی کوشش بلیغ کرتے تھے، صبح کو نماز کے بعد تقریباً نو بجے تک اپنے قریب کی مسجد میں خود ہی لوگوں کو قرآن پاک کا درس سناتے تھے، اور ہفتہ میں ایک دن شام کو ان کے ہاں اقبال کی کتابوں کا درس ہوتا تھا، اور اقبال کے فلسفہ کی گھتی سلجھائی جاتی تھی۔
مرحوم ۱۹۰۵ء میں پیدا ہوئے تھے، وہ نسل کے سدوزئی پٹھان تھے، ان کے آباؤ اجداد ہندوستان کے آخری مغل عہد میں جب ہر شمشیرزن قسمت آزما تھا، کچھ حوصلہ مند سپاہیوں کی جمعیت کے ساتھ ہندوستان وارد ہوئے پہلے ریاست جے پور میں طرح اقامت ڈالی، اور راجہ سے کچھ جاگیر پائی، اور بعدازیں حیدرآباد وارد ہوئے اور جمعدار کے عہدہ پر فائز ہوئے اور تیس ہزار کی نسلاً بعد نسلاً جاگیر پائی، مرحوم نے اپنی یہ خاندانی داستان کئی بار سنائی مگر کیا معلوم تھا کہ یہ داستان گو اب چند ہی روز کا مہمان ہے، ورنہ اس داستان کا حرف حرف محفوظ رکھا جاتا۔
بہادر خان سا آدمی صدیوں میں پیدا ہوتا ہے، اور جب پیدا ہوتا ہے انقلاب انگیز ہوتا ہے، اس کی ذات سے امت اسلامی کو بڑی بڑی امیدیں قائم تھیں، اور خصوصیت کے ساتھ دکن کے مسلمانوں کے حق میں اس کا وجود آبِ حیات کا حکم رکھتا تھا، تاہم انسان ناچارہے، اس کی ناچاری کا راز ایسے ہی موقعوں پر کھل جاتا ہے تقدیر کا نوشتہ اور قضا کا حکم ناقابل تغیر ہے۔ فاذا جآء اجلھم لایستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون۔[الاعراف:۳۴] ۲۵؍ جون ۱۹۴۴ء کو دفعتہ وہ حکم آیا اور بندہ نے بلاچون و چرا ایک لمحہ کے اندر اس کی دعوت پر لبیک کہا، اور اس دنیائے دوں سے چل بسا اس پر اﷲ تعالیٰ کی صدہا رحمتیں ہوں اور بے شمار نوازشیں، غالباً مارچ ۱۹۴۴ء کی کوئی تاریخ تھی، نواب دوست محمد خان (جاگیردار) کے یہاں دعوت تھی، جو مرحوم کے بڑے دوستوں میں تھے، احباب کا مجمع تھا، گفتگو علمی اور مذہبی تھی، مرحوم نے بڑے پُر اثر انداز میں کہا، آج قرآن پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے جب وہ مصر سے نکل کر مدین پہنچے ہیں، یہ دعا تلاوت میں آئی۔ رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر[القصص:۲۴] (اے میرے پروردگار! تو میرے لیے بہتری کا جو سامان بھی مہیا فرمائے میں اس کا محتاج ہوں) مرحوم نے اس موثر دعا کے ایک ایک لفظ کو بڑی تاثیر کی حالت میں پڑھا، اور سامعین کے سامنے اس کی تشریح کی، خدائے بے نیاز کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اے بارالٰہا! آج جب اس دعا کا خوستگار تیری حضور میں ہے، اور تیرے گھر مہمان، تو تو اس کے لیے وہی فرما جس کا وہ محتاج ہے۔
(’’س‘‘، اگست ۱۹۴۴ء
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
(’’س‘‘، اگست ۱۹۴۴ء
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
Khaatir
Photo
قواعد املا کمیٹیوں کو غور و فکر پر متوجہ کرنے والی کتاب
جدید قواعد املا کی وجہ سے اردو میں مستعمل بہت سے عربی الفاظ کے مادہ کے حروف تک کٹ جاتے ہیں، جیسے خود ”املاء“ کو ”املا“ اور ”اجراء“ کو ”اجرا“ لکھنا وغیرہ۔ اس کتاب میں اس جیسے کئی موضوعات شامل ہیں۔
بادی النظر میں سرورق دیکھ کر مجھے لگا کہ املا کی کتاب میں سرورق پر ہی املا کی غلطی؟ استفسار پر مصنفِ کتاب نے جواباً لکھا: ”اردو میں رائج عربی کا لفظ ”املاء“ بغیر ہمزہ کے ”املا“ درست نہیں ہے، بغیر ہمزہ کے املا 1944ء میں رائج کرنے کی کوشش کی گئی، جو رائج نہیں ہوسکا، چونکہ بغیر ہمزہ کے املا مہمل ہے، کتاب میں اسی پر بحث ہے، کتاب کا مطالعہ کریں۔ جزاکم اللہ خیرا“
تب مجھے لگا کہ یہ کتاب طلبہ و علماء کے ساتھ زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے ہر قاری کو پڑھنی چاہیے۔ نیز یہ کتاب املا کمیٹیوں کو مزید غور و خوض پر متوجہ کرے گی۔
کتاب کا نام: اردو میں عربی و فارسی کے الفاظ: املاء و رسم الخط
مصنفہ: مولانا ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی شمسی (سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ و مصنف ”تذکرہ علمائے بہار“)
ناشر و ملنے کا پتہ: براؤن بکس شمشاد مارکیٹ علی گڑھ 202001
قیمت: 300 روپے
موبائل: 7088884468
ای میل ایڈریس: bbpulication@gmail.com
محمد روح الامین قاسمی
ضلع میُوربھنج، اڈیشا
10 محرم الحرام 1448ھ مطابق 25 جون 2026ء، بہ روز منگل
جدید قواعد املا کی وجہ سے اردو میں مستعمل بہت سے عربی الفاظ کے مادہ کے حروف تک کٹ جاتے ہیں، جیسے خود ”املاء“ کو ”املا“ اور ”اجراء“ کو ”اجرا“ لکھنا وغیرہ۔ اس کتاب میں اس جیسے کئی موضوعات شامل ہیں۔
بادی النظر میں سرورق دیکھ کر مجھے لگا کہ املا کی کتاب میں سرورق پر ہی املا کی غلطی؟ استفسار پر مصنفِ کتاب نے جواباً لکھا: ”اردو میں رائج عربی کا لفظ ”املاء“ بغیر ہمزہ کے ”املا“ درست نہیں ہے، بغیر ہمزہ کے املا 1944ء میں رائج کرنے کی کوشش کی گئی، جو رائج نہیں ہوسکا، چونکہ بغیر ہمزہ کے املا مہمل ہے، کتاب میں اسی پر بحث ہے، کتاب کا مطالعہ کریں۔ جزاکم اللہ خیرا“
تب مجھے لگا کہ یہ کتاب طلبہ و علماء کے ساتھ زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے ہر قاری کو پڑھنی چاہیے۔ نیز یہ کتاب املا کمیٹیوں کو مزید غور و خوض پر متوجہ کرے گی۔
کتاب کا نام: اردو میں عربی و فارسی کے الفاظ: املاء و رسم الخط
مصنفہ: مولانا ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی شمسی (سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ و مصنف ”تذکرہ علمائے بہار“)
ناشر و ملنے کا پتہ: براؤن بکس شمشاد مارکیٹ علی گڑھ 202001
قیمت: 300 روپے
موبائل: 7088884468
ای میل ایڈریس: bbpulication@gmail.com
محمد روح الامین قاسمی
ضلع میُوربھنج، اڈیشا
10 محرم الحرام 1448ھ مطابق 25 جون 2026ء، بہ روز منگل
❤2
یادوں کا سفر ۔ اخلاق احمد دہلوی ۔ سابقہ قسطیں۔۔۔۔ https://drive.google.com/drive/folders/1RMSP2wbQwBtgWl8VkRgu0AojZ_UV8PFE?usp=sharing
*وفیات مورخہ: 26/جون*
1950ء غلام علی چاگلا۔
1955ء چراغ حسن حسرت۔ ادیب، صحافی
1957ء مجید لاہوری۔ مزاحیہ شاعر
1957ء مجید لاہوری (عبدالمجید چوہان)۔ مزاحیہ شاعر
1963ء اثر صہبائی (عبد السمیع پال)۔ شاعر ،
1963ء بیگم رضا اللہ (امتہ الحمید بیگم)۔ ،
1967ء عبدالکریم پڑھیار۔
1968ء ایوب، ایم۔ ،
1972ء درد کاکوروی (میر نذر علی)۔ نعت گو شاعر
1976ء انور عادل۔ ،
1981ء محمد منیر۔ جسٹس (ر) ،
1987ء عمر منشی۔
1988ء وقار انبالوی (ناظم علی)۔ شاعر، افسانہ نگار، صحافی
1997ء ثروت صولت۔ تاریخ نویس ،
1999ء جمال الدین الفندی۔ سوڈانی ماہر فلکیات
1999ء ممتاز نورانی۔ بیگم
2002ء حمیرا بیگم۔ بیگم ظاہر شاہ افغانستان
2004ء یش جوہر۔ فلم ڈائرکٹر
2010ء سید عاشور کاظمی۔
2017ء انیس شاہ جیلانی، سید۔ ادیب
2018ء محمد انعام اللہ، سید۔ سفارت کار
2020ء منور حسن، سید۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان
2021ء میر ہزار خان کھوسو۔
https://telegram.me/ilmokitab
1950ء غلام علی چاگلا۔
1955ء چراغ حسن حسرت۔ ادیب، صحافی
1957ء مجید لاہوری۔ مزاحیہ شاعر
1957ء مجید لاہوری (عبدالمجید چوہان)۔ مزاحیہ شاعر
1963ء اثر صہبائی (عبد السمیع پال)۔ شاعر ،
1963ء بیگم رضا اللہ (امتہ الحمید بیگم)۔ ،
1967ء عبدالکریم پڑھیار۔
1968ء ایوب، ایم۔ ،
1972ء درد کاکوروی (میر نذر علی)۔ نعت گو شاعر
1976ء انور عادل۔ ،
1981ء محمد منیر۔ جسٹس (ر) ،
1987ء عمر منشی۔
1988ء وقار انبالوی (ناظم علی)۔ شاعر، افسانہ نگار، صحافی
1997ء ثروت صولت۔ تاریخ نویس ،
1999ء جمال الدین الفندی۔ سوڈانی ماہر فلکیات
1999ء ممتاز نورانی۔ بیگم
2002ء حمیرا بیگم۔ بیگم ظاہر شاہ افغانستان
2004ء یش جوہر۔ فلم ڈائرکٹر
2010ء سید عاشور کاظمی۔
2017ء انیس شاہ جیلانی، سید۔ ادیب
2018ء محمد انعام اللہ، سید۔ سفارت کار
2020ء منور حسن، سید۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان
2021ء میر ہزار خان کھوسو۔
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri