علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
*ڈاکٹر فریدی کا روزنامہ 'قائد' — از معصوم مراد آبادی*
(آج روزنامہ آگ میں شائع شدہ کالم )
ابتدائیہ اور اخبار کا آغاز
مسلم مجلس کے بانی ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے جن راستوں کا انتخاب کیا، ان میں ان کا روزنامہ 'قائد' بھی تھا۔ یہ اخبار صحافت سے اس دور کے اہم صحافتی اور قلم کار وابستہ رہے۔ چار صفحات پر مشتمل اس اخبار کا اجرا 23 ستمبر 1966 کو لکھنؤ سے ہوا تھا۔ یہ دور چونکہ لیتھو کی طباعت کا تھا، اس لیے روزنامہ 'قائد' کی اشاعت بھی لیتھو پر شروع ہوئی۔
اخبار کا عملہ اور رفقاء کار
اس کے ابتدائی مدیروں میں بھوپال کے صحافی اشتیاق عارف اور لکھنؤ کے حکیم عبدالقوی دریا بادی کا نام ہے۔ حکیم صاحب مولانا عبدالماجد دریا بادی کے داماد تھے اور ان کا تعلق مولانا دریا بادی کے اخبار 'صدق جدید' سے بھی تھا جبکہ اشتیاق عارف نے اپنا صحافتی سفر بھوپال کے قدیم اخبار 'ندیم' سے شروع کیا تھا۔ ان کے علاوہ 'دعوت' کے سابق ایڈیٹر محفوظ الرحمن اور دہلی کے سرکردہ صحافی پروانہ ردولوی نے بھی 'قائد' میں کام کیا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اشتیاق عارف نے اپنی آپ بیتی 'یادوں کی بازیافت' میں روزنامہ 'قائد' میں گزارے ہوئے اپنے ایام کی تاریخ شیریں روداد کئی صفحات پر بیان کی ہے۔ لکھنؤ کے صحافی تحسین امین نے بھی اس اخبار میں بطور مینیجر خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر فریدی کا جذبہ اور ایثار
'قائد' کی اشاعت کب تک جاری رہی، اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے، البتہ اس کی اشاعت بند ہونے کا اصل سبب مالی دشواریاں تھیں چونکہ اس کے تمام اخراجات ڈاکٹر فریدی اپنی جیب خاص سے پورے کرتے تھے اور اس معاملے میں کسی سے مدد لینے کے روادار نہیں تھے۔
محفوظ الرحمن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے:
"ڈاکٹر فریدی امراضِ سینہ کے مشہور معالج تھے۔ وہ چاہتے تو اس کے سہارے سیم و زر کے انبار لگا سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی اس پیشہ ورانہ صلاحیت کو اپنا بینک بیلنس بڑھاتے چلے جانے کے بجائے خلقِ خدا کی خدمت اور آخرت کی صلاح و فلاح کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔"
مضمون میں ایک واقعے کا ذکر ہے جب ایک ڈاکٹر نے انہیں کچھ پیسے بچانے یا مریضوں سے فیس لینے کا مشورہ دیا تو ڈاکٹر فریدی نے کہا:
"یہ کتنے بیش قیمت اثاثہ ہیں جسے میں اپنے رب کے حضور لے جاؤں گا اور ان کے ہی صلے میں اس کی رحمت کا طلب گار ہوں گا کہ میرے پاس اس کے سوا پیش کرنے کے لیے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ میں نے اپنی ساری زندگی تیری مخلوق کی بے لوث خدمت میں صرف کر دی۔ اب اگر تو چاہے تو میرے گناہوں اور میری خطاؤں کو اس کے عوض معاف کر دے۔"
اخبار کا مقصد اور پالیسی
ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے 'قائد' کا اجراء ایک بڑے مقصد اور مشن کی تکمیل کے لیے کیا تھا۔ انہوں نے پریس نوٹ جاری کیا:
"ایک جمہوری نظام میں غلط فہمیاں پھیلانے والی پبلسٹی اور پروپیگنڈے کا توڑ ہونا ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ گزشتہ سال میں مسلمانوں کا مقدمہ حریفوں کی مخالفت کی بنا پر کم اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے زیادہ کمزور رہا ہے۔ ہم اپنا مقدمہ صحیح طور سے عوام کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نشر و اشاعت کے بیشتر ذرائع ان لوگوں کے قبضہ میں ہیں جو مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھ کر ان کے ساتھ گرا ہوا برتاؤ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس اردو کے چند اخبارات کے سوا ہندی یا انگریزی کا کوئی ایسا اخبار نہیں ہے جو بے خوفی سے اقلیتوں کی ترجمانی کر سکے۔"
وہ لکھنؤ اور کانپور کے اخبارات پر شدید تنقید کرتے تھے جو مسلم اخبارات کی حیثیت ذاتی اور نجی رکھ کر اپنی پارٹی یا ذات کے مفاد کے لیے چلاتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا مسلم اخبار ہو جو بے لوث ہو، اور اسی مقصد کی خاطر انہوں نے اپنی کمائی کا کثیر حصہ اس اخبار پر خرچ کیا۔
اخبار کا زوال اور بند ہونا
روزنامہ 'قائد' کی اشاعت جاری رکھنے کے سلسلے میں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، تو انہوں نے 'چند ضروری باتیں' کے عنوان سے 26 نومبر 1967 کو سرائے میر (اعظم گڑھ) میں مسلم مجلسِ مشاورت کی صوبائی کونسل اور علاقائی کانفرنس کے اجلاس میں کہا:
"اس ضمن میں میں آپ کی توجہ مجلس کے ترجمان 'قائد' کی افسوسناک مالی دشواریوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے ہر فرد 'روزنامہ اخبار' کی اہمیت سے خوب واقف ہے۔ 'قائد' اب تک اہم ستونوں کی طرح مجلس کے نصب العین کو بلند رکھے ہوئے ہے۔ اب تک اس اخبار کا کوئی خسارہ نہیں ہو چکا ہے۔ اگر فوری طور پر اس کی مالی حالت سنبھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر عطیات نہ موصول ہوئے تو میں مجبوراً اس اخبار کو یکم دسمبر (1967) سے بند کرتا ہوں۔"
اس کے بعد بھی حالات سازگار نہ ہوئے اور اخبار بالآخر بند ہو گیا۔ اخبار کا یہ سفر 23 ستمبر 1966 کو شروع ہو کر یکم دسمبر 1967 کو بند ہو گیا۔ اس طرح اس کی اشاعت تقریباً چودہ مہینے جاری رہی۔
❤3👍1
*وفیات مورخہ:جولائی/ 17*
1960ء مطلوب الرحمٰن عثمانی۔ مولانا ،
1969ء محمد حسین صدیقی۔ ،
1969ء ناظر کاکوروی (مشیر احمد علوی)۔ ،
1971ء خیر بھوروی، ابو الخیر۔ ،
1973ء مرزا مہدی پویا۔ مولانا ،
1983ء قاری محمد طیب۔ حکیم الاسلام، مولانا، مہتمم دار العلوم دیوبند
1989ء عاشق حسین بٹالوی۔ مورخ، افسانہ نگار
1992ء عبدالرشید بیگ۔ مرزا
1999ء آغا محمد باقر شمس۔ شاعر وادیب
1999ء باسط عظیم (محمد عبدالباسط)۔ ،
2004ء البیلا (اختر حسین)۔ مزاحیہ اداکار
2015ء نوید احمد۔ حافظ، انجینیر
2020ء سید ولی اللہ قاسمی۔ مولانا

علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
https://youtu.be/FKQbz_x10HE?si=pbc3wPVDFWsDAdYq

آج حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ سابق مہتمم دار العلوم دیوبند کا یوم وصال ہے، آپ کی وفات آج سے(۴۳) سال قبل مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۸۳ء کو ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے مکتب جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے سنگ بنیاد کے موقعہ پر سنہ ۱۹۷۶ء میں ہوئے یاد گار خطاب کا ایک حصہ پیش خدمت ہے،

آپ کے مزید بیانات سننے کے لئے اردو آڈیو ڈاٹ کام کی مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=qari-muhammed-tayyab&t
=
دیندار اور دنیادار، اسلام یہ تفریق لے کر نہیں آیا

نواب صدر یار جنگ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن خان شروانی رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا:

آج صدیوں سے مسلمانوں میں دو گروہ ہیں۔ دیندار اور دنیا دار۔ اسلام یہ تقسیم لے کر نہیں آیا تھا، ایک مسلم کی دنیا، اس کے دین سے ہے اور دین، اس کی دنیا سے علاحدہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت سرورِ عالم صلی اللّٰه علیہ وسلم کی رسالت کا ظہور، انبیاء علیھم السلام کے اس طبقے میں ہوا جو جامعِ نبوت اور حکومت تھے۔ مثلِ حضرت موسیٰ و حضرت داؤد و حضرت سلیمان علیھما السلام۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں سب سے بڑی دنیا دار اور سب سے بڑی دیندار شخصیت ایک ہی ہوتی رہی، یعنی خلیفۂ وقت۔ عشرۂ مبشرہ رضی اللّٰه عنھم اجمعین میں غالب تعداد ایسے بزرگوں کی ہے، جو دولت و معاملت میں ممتاز تھے۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی تجارت، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت سعد بن وقاصؓ کا تمول و تجمل مشہور ہے۔ وادیءِ عتیق کا قصر و ایوان اس بیان کے شاہدِ عدل ہیں۔ فقہ حنفی نے قبولِ امارت و دولت کے آغوش میں پشتوں تک پرورش پائی ہے۔ حضرت حمادؒ کے فضائل میں سخاوت و احتشام بھی شامل ہیں۔ رمضان مبارک میں پانسو روزہ داروں کے دسترخوان پر روزانہ انتظار کرتے تھے۔ امامِ اعظمؒ کی سخاوت کی وسعت مشہورِ روزگار ہے۔ چار سو روپیہ کی قیمت کی چادر ان کے مبارک شانوں پر رہی ہے۔ امام ابویوسفؒ کا تجمل و احتشام محتاجِ بیان نہیں۔

(الندوہ، جون، جولائی: ۱۹۴۲ء/صفحہ: ۳۹/۴۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
Audio
❤1
*صور من حیاۃ الصحابۃ کی آڈیو فائل اور تمرینات محنت سے ہم تیار کرکے صرف اس غرض سے بھیجتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ اپنے طلبہ میں ان کی مشق کروائیں، تاکہ ان میں عربی لکھنے اور بولنے سے مناسبت پیدا ہو۔ اگر ہمارے احباب سے مناسب ریکشن اور اہتمام کا مظاہرہ ہو تو پھر یہ سلسلہ ان شاء ہر ہفتہ جاری رکھنے کی کوشش ہوگی۔ بصورت دیگر اسے جاری رکھنے سے معذرت کردی جائے گی۔ اڈمن علم وکتا ب*
❤6👍5👌1
*غلطی ہائے مضامین*

*کون پڑھا لکھا ہے؟*

*احمد حاطب صدیقی(ابونثر)*

ملک کے ایک ممتاز مفکر، ادیب اور دانشور، جواتفاق سے اور ہمارے ایک عزیز دوست کے رشتے سے ہمارے برادرِ بزرگ بھی ہیں، ڈاکٹر نجیبہ عارف کی ایک تقریر کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
”قومی زبان کی تعریف یہ تسلیم کی گی تھی کہ۔۔۔ وہ اپنا رسم الخط رکھتی ہو، اعلا سطح پر بھی تدریس کی زبان ہو،عدالتی اور سرکاری خط و کتابت میں استعمال ہوتی ہو۔ اردو میں یہ تینوں صفات نہیں ہیں۔ اس کا رسم الخط فارسی ہے۔ یہ میڈیکل انجینیرینگ اور ٹیکنا لوجی کی تعلیم کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ کسی سرکاری دفتر یا عدالت میں استعمال نہیں ہو رہی۔“وغیرہ وغیرہ۔
بعض بزرگوں کی لاعلمی پر تعجب ہی کیا جا سکتا ہے۔ بڑھاپا بھی عجب شے ہے۔ قویٰ ہی مضمحل نہیں ہوتے،بسا اوقات عناصر کی بے اعتدالی سے ذہن بھی ماؤف ہو جاتا ہے، پھر جیسے تیسے اسی سے کام چلانا پڑتا ہے۔بالکل ٹھیک ہو جانا شاید مشکل ہو جاتا ہو، بقول مصحفیؔ:
بھلا دُرستیِ اعضائے پیر کیا ہووے
کہ جیسے رسی سے ٹوٹا کواڑ باندھ دیا
رسم الخط پر بات کرنے کے لیے طویل اظہار خیال کی ضرورت ہے۔ یہاں اس کی گنجائش نہیں ہے۔مگر ذرا بتائیے تو سہی کہ کس زبان کا رسم الخط اپنا ہے؟ اورکیا اُردو کے حروف میں ایسے حروفِ تہجی نہیں ہیں جو فارسی میں استعمال ہی نہیں ہوتے؟ صاحب! آپ مانیں یا نہ مانیں، کم ازکم اتنا تو جانیں کہ اُردو زبان اپنے اظہار کے لیے ایک رسم الخط رکھتی ہے اور اس کے اپنے 54 حروفِ تہجی ہیں۔رومن رسم الخط کوتو اُردو رسم الخط آپ بھی تسلیم نہیں کرتے۔خطِ نستعلیق ہی میں اُردو لکھے جاتے ہیں۔پھر اُردو میں لکھنے پر پچھتاتے ہیں۔
ماضی قریب میں ہمارے ہاں طب، مہندسی اور جدید فنیات کی تعلیم و تدریس اُردو ہی میں ہوتی رہی ہے۔اِنھیں کالموں میں ہم بارہا بتا چکے ہیں کہ اسی ملک میں اور یہیں کی درس گاہوں میں، ہم نے اور ہمارے بہت سے عم عصروں نے علمِ حیاتیات(علمِ حیوانیات+علمِ نباتیات)، علمِ طبیعیات، علمِ کیمیا، علمِ ریاضی، الجبرا،علم الاحصا، علم الہندسہ اور علمِ مثلث سمیت تمام سائنسی علوم کی تعلیم اُردو میں حاصل کی ہے۔ جامعہ کراچی میں ہمیں ”جوہری طبیعیات“ بھی پڑھائی گئی۔ ان علوم کی اُردو نصابی کتب، پاکستان ہی کے نہیں، دنیا کے متعدد کتب خانوں (حتیٰ کہ برٹش میوزیم لائبریری اور امیرکن کانگریس لائبریری) میں بھی موجود ہیں۔ کچھ بچی کھچی کتابیں راقم کے ذاتی کتب خانے کے’زیبِ خانہ‘ ہیں۔ آپ کا ہو یا نہ ہو مگرصاحب!ہمارا مشاہدہ اور تجربہ تو یہی ہے کہ ”بے صلاحیت“ اُردو زبان نہیں ہے۔
رہاسرکاری ’خط کتابت‘ کا معاملہ، تو رونا تو یہی ہے کہ سرکاری سطح پر دستور پاکستان کی دفعہ ۲۵۱ کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے اورواضح حکم کے باوجود پاکستان کے کسی سرکاری دفتر یا خود عدالتوں میں قومی زبان بطور سرکاری زبان استعمال نہیں ہو رہی ہے۔ مگر آزاد کشمیر میں ہورہی ہے اور پاکستان کے تھانوں میں ہو رہی ہے۔ مجموعۂ تعزیرات کا مطالعہ کیجیے تو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اُردوزبان قانونی، عدالتی، دفتری اور سرکاری زبان بننے کی کیسی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اُردو کی عطا کردہ قانونی اصطلاحات کتنی بلیغ اور جامع ہیں۔ صاحبو!اُردو بلا شبہہ باصلاحیت ہےمگر جو لوگ اُردو کی صلاحیتوں کا علم نہیں رکھتے، اُن کی صلاحیتیں بے شک مشکوک ہیں۔
اوپرجو ہم نے ’ماضی قریب‘ کا ذکر کیا ہے، توہمارا ماضی ہمارے لیے کتنا ہی پُرکشش کیوں نہ ہو،مگر ممکن نہیں کہ ’ماضی‘ جوں کا توں ہمارا حال یا مستقبل بن جائے۔گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔ یوں بھی ہمیں ماضی کی مسرتیں یاد رہتی ہیں، مگر ماضی کی مصیبتیں ذہن سے محو ہو جاتی ہیں۔ شاید ہم مادّی طور پر ماضی میں واپس جانا کبھی پسند نہ کریں، کیوں کہ مادّی طور پرآج جو سہولتیں ہمیں حاصل ہیں، ماضی میں اُن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔پھر بھی انسان اپنے فارغ وقت میں، فارغ بیٹھا ’تصور‘ (خانم) سے یہی فرمائش کرتا رہتا ہے کہ
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تُو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تُو
پیچھے کی طرف پلٹ پلٹ کر دیکھنا انسان کی فطرت میں رچا بسا ہے۔ بقول مولانا ابوالجلال ندویؒ:
ہر فکرِ نَو کی، وہمِ کُہن ہی اساس ہے
ماضی گُندھا ہوا ہے بشر کے خمیر میں
جن چیزوں کو آج جدید کہا جاتا ہے، اُن میں سے ہر ایک کی ’اساس‘ قدیم ہے۔ماضی سے ناتا توڑ لیں تو مستقبل بے معنی ہو جاتا ہے۔ سوچیے،جب آپ چلے تھے تو کہاں کے لیے چلے تھے؟ یہ بات ذہن میں نہ رہے تو کبھی منزل پر نہیں پہنچ سکیں گے۔ بھٹکتے رہیں گے۔
بھٹکنے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ’اساس‘ نہ بھولیں۔’بے بنیاد‘ نہ رہیں۔پٹری سے نہ اُتریں۔ اپنی رہ گزر پر چلتے رہیں تاکہ ’منزلِ مُراد‘ تک پہنچ سکیں۔ اُن ’نامُرادوں‘ سے بچ کر رہیں جو آپ کا تشخص آپ سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ آپ کی زبان کھینچ کرآپ کے منہ میں مانگے کی زبان ٹھونس دینا چاہتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں
جو مانگے کی زبان کے حق میں ہمہ وقت ’رطب اللسان‘ رہتے ہیں۔
ہمارے ساتھ ساتھ ہماری زبان بھی ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔اب تک جتنی مادّی ترقیاں ہوئی ہیں، ہماری زبان نے سب سے استفادہ کیا ہے۔ آج جو لوگ ’فیس بُک‘ پر اُردو کے خلاف اُردو ہی میں بقراطیاں کر رہے ہیں، اُن کے دیدۂ کور کو نظر نہیں آتا کہ ہمارے ’ماضی‘ کا ورثہ، ہماری زبان کس طرح ’حال‘ کے تقاضوں کی تکمیل کرتی ہوئی ’مستقبل‘ کی سمت بڑھ رہی ہے۔مانا کہ اب تختی نہیں لکھی جاتی، قلم کو دوات کی روشنائی میں ڈبو کر قرطاس پر حسین حروف نہیں بکھیرے جاتے۔ کاغذ کا استعمال کم ہوتا جارہا ہے۔ مگر جدید آلات کی مدد سے بھی اُردوتو لکھی جا رہی ہے،اُردو بولی جا رہی ہے، اُردو میں صدا بندی اور عکس بندی ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ جدید ذرائع سے اُردو خطاطی بھی سکھائی جا رہی ہے۔ اُردو کے ماضی کی بھلا کون سی خوبی ہے جو جدید شکل میں ہمارے سامنے موجود نہیں؟اُردو کسی زبان سے کاہے میں کم ہے؟اگر کہیں کوئی کمی پائی جاتی ہے تو قصور اُن کا ہے جو یہ کمی پوری کر سکتے ہیں۔
ہاں کمی ہے توہمارے بعض لوگوں میں ’خود اعتمادی‘ کی کمی ہے۔قوتِ عمل کا فقدان ہے۔ ’احساسِ کمتری‘ میں مبتلا افراداپنے آپ سے یہ توقع نہیں کر پا رہے ہیں کہ دیگر اقوام کی طرح تعلیم و تدریس سمیت تمام کاروبارِ حیات ہم اپنی قومی زبان میں سرانجام دے سکتے ہیں۔ چوں کہ وہ اپنی ذات کی حد تک اس کام کو ”ناممکن“ سمجھتے ہیں، لہٰذا سب کے لیے ناممکن گردانتے ہیں۔حضورِ والا! جس کام کو آپ ناممکن سمجھیں گے اُس کے لیے پہلا قدم بھی کبھی نہیں اُٹھائیں گے۔ ہاں جس کام کو آپ سمجھتے ہوں کہ یہ کام ہو سکتا ہے،اسے کرنا چاہیے، اُس کے لیے پہلا قدم اُٹھائیں گے، دوسرا قدم اُٹھائیں گے، تیسرا قدم اُٹھائیں گے اورپھر رواں ہو جائیں گے۔تو اے عزیزانِ من!اہلِ ہمت ”ناممکن کام“ بھی ممکن کاموں ہی کی طرح قدم بہ قدم سر انجام دے کر ”ممکن“ بناتے ہیں۔تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔
ڈاکٹر نجیبہ کی اس بات پر بھی حشر برپا ہے کہ ہمارے زمانے میں اُردو کو بطور ذریعۂ تعلیم زندہ رکھا ہے تو دینی مدارس نے زندہ رکھا ہے۔اس پر تلملانے اور منہ بنانے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے؟ کسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے والے اور کسی دارالعلوم سے فراغت کی سند لینے والے کی اُردو تحریر یااردو گفتگو کا موازنہ کر لیجے۔معلوم ہو جائے گا کہ کون پڑھا لکھا ہے۔
٭٭
آج اردو کے عظیم شاعر فنا نظامی کانپوری کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۱۸/ جولائی ۱۹۸۸ء کو ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ایک غزل پیش خدمت ہے۔
یہ بہار کا زمانہ یہ گلوں کے سائے
کلام وآواز: فنا نظامی کانپوری
لنک اردو اڈیو ڈاٹ کام
فیس بوک کے ناظرین ان بکس میں لنک ملاحظہ فرمائیں
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=saqia-tu-nay-maray-zarf-ko-samjha, Saqia tu nay Maray Zarf ko samjha
مزید کلام کے لئے کلک کریں
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=fana-nizami-kanpuri&t=
*وفیات مورخہ:جولائی/ 19*
1964ء سید هاشمی فرید آبادی۔ مورخ
2006ء محمد یونس خالص۔ اٖفغان کمانڈر
2011ء عمر محمود سلیمان۔ مصری صدر
2012ء انوار احسن صدیقی۔ ادیب ، صحافی ،
2013ء علی احمد اعوان۔ بچوں کے ادیب
2018ء گوپال داس نیرج۔ شاعر

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
اردو میں سیرت النبیﷺ پر پہلی کتاب " فوائد بدریہ" تصنیف قاضی بد رالدولۃ مولانا محمد صبغۃ اللہ مدراسی نائطی
ڈاکٹر محمود احمد غازی کے محاضرات سیرت سے ایک اقتباس
*مطالعہ سیرت۔ پاک و ہند میں*
1857ء سے پہلے اردو میں سیرت پر نثر میں لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ یہ کتابیں پچیس سے کم نہیں ہوں گی ۔ 1857ء سے پہلے کی کتابوں میں دو کتابیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایک 1857ء کے زمانے کی سمجھ لیں اور ایک اس سے پہلے کی ۔ جو کتاب 1857ء سے پہلے کی ہے وہ ایک ایسی شخصیت کی ہے جس کے خاندان میں علم و سیرت ہمیشہ سے رہا ہے اور ماضی قریب میں اس خاندان کے ایک قابل ذکر فرزند نے علم سیرت کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ جنوبی ہندوستان میں حیدرآباد دکن میں ایک بزرگ تھے قاضی بدر الدولہ۔ ان کا خاندان بہت مشہور تھا۔ وہ خود بڑے صاحب علم تھے۔ ان کی ایک کتاب فوائد بدریہ سیرت کے موضوع پر ہے ۔ 404 صفحات پر مشتمل یہ کتاب دو جلدوں میں ہے، اور قدیم اردو زبان یعنی دکنی میں لکھی گئی۔ 1839ء اور 1255ھ یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے میں لکھی گئی۔ کئی بار چھپ چکی ہے۔
قاضی بدرالدولہ خود بہت بڑے فقیہ تھے۔ ریاست کرناٹک کے قاضی القضاۃ تھے ۔ مستند ترین مصادر سے کام لے کر انہوں نے کتاب لکھی ہے۔ زاد المعاد، فتح الباری، عیون الاثر اور المواہب اللدنیہ جیسی بڑی کتابیں ان کے سامنے تھیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اردو زبان میں لکھی گئی یہ کتاب سب سے پہلی مستند کتاب سیرت ہے۔ فارسی میں برصغیر میں سیرت پر پہلی کتاب شیخ عبد الحق نے لکھی تھی۔ اردو میں قاضی بدر الدولہ نے لکھی۔ اگرچہ ان کی اردو قدیم ہے لیکن عام فہم ہے اور آج بھی اس کو سمجھنے میں کوئی خاص دقت محسوس نہیں کی جاتی۔ قاضی بدر الدولہ ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کے جد امجد ہیں جنہوں نے بیسویں صدی میں سب علوم سیرت کو نئی جہتیں عطا کیں، جن کی وجہ سے ان کو بجاطور پر مجدد علوم سیرت کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہی ڈاکٹر حمید اللہ ہیں جن کے نام سے ادارہ تحقیقات اسلامی کا کتب خانہ موسوم ہے۔
قاضی بدر الدولہ کی اس کتاب کے علاوہ جو کتاب عین 1857ء اور 1858ء کے معرکہ میں شریک عالم مجاہد کے قلم سے 1858ء اور 1859ء کے سالوں میں لکھی گئی وہ ایک مشہور مجاہد، فقیہ اور عالم مفتی عنایت احمد کاکوروی کی لکھی ہوئی تھی۔ مفتی عنایت احمد کاکوروی شمالی ہندوستان میں ایک چھوٹا سا شہر کاکوری ہے، وہاں کے رہنے والے ہیں۔ مفتی عنایت احمد 1857ء کی جنگ آزادی میں شریک تھے۔ پہلی مرتبہ جہاد کے وجوب کا فتوی جن لوگوں نے دیا ان میں مفتی عنایت احمد کاکوروی بھی شامل ہیں اور جہاد کے اس تاریخی فتوی پر ان کے دستخط بھی ہیں ۔ انہوں نے فتوی بھی دیا۔ رائے عامہ کو بھی ہموار کیا اور عملاً جہاد میں حصہ بھی لیا۔ چنانچہ جب انگریزوں کو کامیابی ہوئی اور مجاہدین کو شکست ہوئی تو بہت سے لوگوں کو سزائے موت دی گئی۔ کچھ لوگوں کو کالا پانی یعنی جزائر انڈیمان بھیج دیا گیا۔ مفتی عنایت احمد کاکوروی بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن کو جزائر انڈیمان بھیج دیا گیا تھا۔
مفتی عنایت احمد کاکوروی بڑے عالم فاضل انسان تھے۔ لیکن جزائر انڈیمان میں قید با مشقت کے دوران جو کام ان کے سپرد کیا گیا وہ یہ تھا کہ جزائر میں جتنی گندگی لوگوں کے گھروں میں جمع ہو اس کو اٹھا کر آبادی سے باہر پھینکا کریں۔ اُس زمانے میں غسل خانوں وغیرہ کا یہ نظام نہیں تھا۔ مفتی صاحب لوگوں کے گھروں میں جا کر گندگی صاف کرتے اور اس کو ایک بڑے ٹوکرے میں ڈال کر کندھے پر اٹھاتے اور آبادی سے باہر پھینک آتے۔ ظاہر ہے اس زمانے میں ان کے پاس نہ وقت ہوتا تھا نہ مطالعہ کے مواقع اور نہ ہی مصادر اور ماخذ کی کتابیں ۔ اس کے باوجود اس تکلیف دہ دور اسیری میں انہوں نے تین کتابیں لکھیں۔ ان میں سے ایک کتاب سیرت پر ہے۔ یہ کتاب تواریخ حبیب الٰہ کے تاریخی نام سے معروف ہے۔
یہ ساری کتاب انہوں نے جزائر انڈیمان میں بیٹھ کر محض یادداشت کی بنیاد پر لکھی تھی ۔ انہوں نے سوچا کہ جب تک ان معلومات کو دوبارہ چیک نہ کیا جائے اس کتاب کو شائع کرنا ٹھیک نہیں۔ اس لئے مسودہ اپنے پاس رکھ چھوڑا۔ اتفاق کی بات کہ ان کی ملاقات کسی شریف انگریز سے ہو گئی۔ یہ انگریز ان کے علم و فضل سے بہت متاثر ہوا۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ مولانا سابق قاضی اور جج رہے ہیں اور یہاں عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں تو اس نے سفارش کر کے مفتی صاحب کو رہائی دلائی۔ مفتی صاحب تینوں مسودے لے کر ہندوستان واپس آئے ۔ یہاں انہوں نے تواریخ حبیب الٰہ کے مندرجات کو مصادر و ماخذ سے چیک کیا اور کہیں ایک حوالہ بھی غلط نہیں پایا تو اس کو شائع کر دیا۔
❤2
اس کتاب میں تین ابواب ہیں۔ باب اول نور مبارک اور ولادت سے ہجرت تک ہے۔ باب دوم ہجرت سے لے کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دنیا سے تشریف لے جانے تک کے واقعات پر مبنی ہے اور یہ کتاب کا طویل ترین باب ہے۔ تیسرا باب حلیہ مبارکہ اور آپ ﷺ کے اخلاق، عادات اور معجزات کے بارے میں ہے۔ کتاب کے آخر میں ایک خاتمہ ہے جو حضور ﷺ کی شفاعت کبری کے بارے میں ہے۔
یہ دو کتابیں جن میں سے ایک 1857ء سے پہلے لکھی گئی اردو زبان میں سیرت پاک پر قدیم اور مستند کتابیں ہیں۔ ایک 1857ء کے واقعات کے دوران لکھی گئی ۔ تواریخ حبیب الٰہ بھی مستند اور بلند پایہ علمی کتاب ہے۔ لیکن فوائد بدریہ استناد کے اعتبار سے زیادہ اونچا درجہ رکھتی ہے۔ جامعیت بھی اس میں زیادہ ہے اور یہ ضخیم بھی زیادہ ہے ۔ تواریخ حبیب الٰہ نسبتاً مختصر ہے۔ میرے پاس اس کا تیرہویں صدی ہجری کا چھپا ہوا ایک نسخہ موجود تھا جو سو ایک سو بیس صفحات پر مشتمل تھا، لیکن بعد میں جب شائع ہوا تو میں نے سنا ہے کہ کوئی 200 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ فوائد بدریہ پرانے انداز کے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اگر اس کو آج کی کتابت اور کمپیوٹر سے چھاپا جائے تو شائد چھ سو صفحات بن جائیں گے۔ یہ قدیم ترین دو کتابیں ہیں جو اردو میں سیرت پر لکھی گئیں۔
(محاضرات سیرت۔ صفحہ ۶۱۔۶۱۳)
❤1
سچی باتیں (4؍ستمبر 1944ء)۔۔ نسب و قرابت
از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

نذیر احمد، شمس العلماء، مولوی ڈاکٹر نذیر احمدڈپٹی مترجم القرآن کے نام سے کون اُردو خوان ناواقف ہے؟ زندگی کے ایک دور میں ایک شدید اعتراض اور وہ بھی زبان وادب کے بحث میں نہیں، اُن پر یہ وارد رہا کہ وہ دہلوی نہیں، ’’بجنوری‘‘ ہیں!لکھنؤ کے عبد الحلیم شررؔ کے خلاف طنزوتعریض کا سب سے بڑا حربہ یہ مدتوں رہا کہ حریفوں کی تحقیق میں وہ لکھنؤ کے نہیں ’’کرسی‘‘ کے تھے۔ حالیؔ اس لئے بدنام رہے کہ وہ دہلی کے نہیں پانی پت کے تھے ۔ اور اقبال کا اُردو کلام مدّتوں اس لئے مہمل قرار پاتارہا کہ ایک ’’سیالکوٹی‘‘ کا کلام ہے!……گویا متکلم کو کلام سے جانچنے کے بجائے قاعدہ یہ چل گیا کہ کلام کو متکلم سے جانچا جائے ، اور متکلم کی شخصیت کی جانچ پرتال میں اہم عنصر اسے قرار دیاجائے ، کہ وہ اتفاق سے پیداکس سرزمین میں ہوا، یہ وطن اگر بدنام تو وہاں کا ہر ہرباشندہ بدنام، اور جس پر تنقید ہورہی ہے اس کا وطن اگر بدنام نہیں، تو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر اُسے کسی بدنام ہی وطن کی طرف منسوب کیاجائے گا!
مولانا اشرف علی تھانویؒ کو ہم آپ حکیم الامت کہتے ہیں، تو کہہ لیں، تحریکِ خلافت وترکِ موالات کے عروج کے زمانے میں اور اُس کے مدتوں بعد تک ان کے مسلک کی مردودیت کی سب سے بڑی دلیل، واضح وقطعی، اچھے اچھوں کے ہاتھ یہ رہی، کہ مولاناؒ کے ایک (سوتیلے) بھائی گورنمنٹ میں محکمۂ پولیس میں عہدہ دار ہیں!ایسے شخص کے کسی فتوے کی تغلیط کے لئے اب کسی ردوقدح وجرح کی ضرورت ہی کیا؟……مولانا محمد علیؓ نے جب قومی مجرموں کی پردہ دری کرنا چاہی، تو اُن کے خلاف یہ پُرشور آواز دہلی ہی سے بلند ہوئی، کہ چند پشتوں کے آگے ان کے سلسلۂ نسب کا پتہ نہیں چلتا!……وطن کے بعد نسب اور قرابت!تنقید کا یہ دوسرا اور تیسرا معیار بھی خوب ہاتھ آگیا۔ مدتوں یہ ہوابھی خوب زوروں سے چلی، کہ فلاں عالم، ایک ’خان بہادر‘ کا عزیز ہے، ایک ڈپٹی کلکٹر کا بھتیجاہے، ایک پولیس انسپکٹر کا داماد ہے، اس کی کوئی بات قابل اعتنا ہوہی کیسے سکتی ہے!……پھر چند اور معیار کہ فلاں نے اس سن میں دوسری شادی کرلی ہے!فلاں نے قوم کی مرضی کے بغیر اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، اور جو مرد رواجی شریعت کے ایسے ایسے گناہوں کے مرتکب ہوں، وہ کب اس قابل ہیں، کہ کسی مسئلہ میں زبان کھول سکیں، کسی کو منہ دکھاسکیں!
تنقید کے سب معیار اب بھی ختم نہیں ہوئے۔ ’’سیرت وصحت‘‘ کا معیار تو ابھی باقی ہی رہ گیا۔ گفتگو شررؔمرحوم کی بعض تحریروں کے باب میں چلی، اور جواب میں شرر صاحب کے قدوقامت اور گھنی سیاہ داڑھی پر پھبتیاں شروع ہوگئیں!ایک شاعر وناشر صفدرؔمرزاپوری بیچارے حال ہی میں مرحوم ہوئے ہیں۔ آخر عمر میں مفلوج ہوگئے تھے۔ بس خوش ظرف معاصرین کو اُن کی یہ طبعی معذوری ایک خاص عنوان تفریح وتمسخر ہاتھ آگئی تھی……اور پھر پیشۂ سابق کو کیوں بھولئے۔ ایک مشہور پرچہ کے ایڈیٹر کے مقابلہ میں یہ حربہ آج تک استعمال ہورہاہے کہ وہ بدبخت ایڈیٹر کسی زمانے میں کمپونڈر رہ چکاہے!ایک مشہور صاحب قلم کے متعلق یہ بحث ابھی کچھ دن ہوئے اخباروں میں اُٹھی تھی کہ وہ کبھی پولیس میں ہڈ کانسٹبل رہ چکے ہیں!یا ایک ممتاز عالم دین وصاحب قلم ایک زمانہ میں عطاری کا کارخانہ کھول چکے ہیں!……غرض مسائل پر بحث کرتے ہوئے ہماری شریعتِ صحافت یہ بالکل جائز کرچکی ہے، کہ دلائل کو بھول جائیے، اور کام حریف کے صرف وطن، نسب وخانگی حالات، پر ذاتی حملوں اور صورت پر تعریضوں، پھبتیوں سے لیتے رہئے!اخبارات کاکام اگر صرف مذاقِ عوام کی پیروی اور اپنی دوکان کی عارضی گرم بازاری ہے، جب تو خیر عرض کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔ لیکن اصلاحِ مذاق گر کسی وجہ میں بھی مقصود ہے، اور اپنا اخلاقی فریضہ کچھ بھی عزیز ہے تو خدا کے لئے اس طرز عمل پر کچھ تو غور کیاجائے!
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
مرثیہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
کلام: عزیز الحسن مجذوبؒ
آواز: مولانا تنویر الحق تھانویؒ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=marsia-hakimul-ummatfbvwtndg71lqtocrd3jn3mlvpa6vtrbw, Marsia Hakimul Ummat
❤1
*وفیات مورخہ:جولائی/ 22*
1959ء لال شاہ بخاری۔ ،
1978ء حبیب الرحمٰن ، خان بہادر۔ خان بہادر ،
1981ء شفیق بریلوی (شفیق احمد)۔ ادیب ، صحافی ،
1994ء ایاز اسحاقی ۔
1999ء عبد الحمید دہلوی۔ حکیم ، بانی ہمدرد دواخانہ دہلی
2009ء شمیم نسرین (رفیعہ حق)۔ ،
2017ء احسن اکبر کمال۔

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
جلوہ ہائے پابہ رکاب   ( ۵۵ )۔۔۔  مدینے کی گلیاں
 

میں جامعہ اسلامیہ میں پڑھانے کی غرض سے 1969ء میں مدینہ منورہ پہنچا تھا۔ اس وقت یہاں نئے طرز کی عمارتیں تھیں لیکن خال خال۔ قدیم طرز کے مکانات بہت تھے۔ قدیم محلے بھی باقی تھے جن میں شعراء کی ”مدینے کی گلیاں“ بھی تھیں جن میں تاریخ جھلکتی تھی۔ میں عرصے تک رباط بھول میں رہا جس کی عمارت قدیم طرز کی تھی۔ ان عمارتوں کے کمروں میں باہر کی طرف دیوار نہیں ہوتی تھی بلکہ لکڑی کے جھروکے ہوتے تھے جو ”روشان“ کہلاتے تھے۔
مدینہ منورہ کے کچھ قدیم رسم و رواج اس وقت تک رائج تھے۔ ان میں سے ایک مجھے اب تک یاد ہے۔ نصف شعبان کی شام محلے کے لڑکے جمع ہوتے اور گھر گھر جا کر یوں کہتے:
سيدي شاهي يا شربيت
خرقة مرقة يا أهل البيت
إما جواب، إما نكسر هذا الباب
جس کا ترجمہ یوں ہے: جناب! چائے یا شربت کا انتظام کیجیے۔
کچھ کپڑا یا شوربا دیجیے۔ یا (مثبت) جواب ملے یا پھر ہم اس دروازے کو توڑ دیں گے۔
خاتون خانہ ان بچوں کے لیے مٹھائیاں تیار رکھتی تھی جسے پا کر بچے خوش ہوتے اور کہتے:
قارورة يا قارورة، ست البيت غندورة
عربی میں قارورہ کے معنی ہیں شیشہ اور اس کی جمع «قوارير» سورہ دہر میں آئی ہے۔ ایک بار ایک اونٹنی پر بعض خواتین سوار تھیں۔ جب اونٹنی چلانے والے نے اس اونٹنی کو تیزی سے چلایا تو نبی کریم ﷺ نے اسے جھڑکا اور فرمایا: «رفقا بالقوارير»

یعنی (شیشوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو)۔
ست البیت کے معنی ہیں: «سيدة البیت» یعنی خاتون خانہ۔
«غندورة» کے معنی ہیں نرم و نازک عورت۔
اور اگر خاتون خانہ انہیں کچھ نہیں دیتی تو کہتے ہیں:
كبريته يا كبريته، ست البيت عفريته
كبريت کے معنی ہیں گندھک، اور عفريت کے معنی ہیں شیطان۔
بعد میں جب میں posh area میں رہنے لگا تو یہ رسم و رواج دیکھنے کو نہیں ملتے تھے۔
مذکورہ بالا رسم برطانیہ اور امریکہ میں 31/اکتوبر کو منائے جانے والے تہوار
Halloween سے کچھ مشابہت رکھتی ہے۔ اس موقع پر محلے کے لڑکے لڑکیاں بھیس
بدل کر پڑوسیوں کے یہاں جا کر کہتے ہیں: Trick or treat جس کا مطلب ہوتا ہے کہ یا
تو ہماری خاطر داری کرو یا پھر ہم شرارت پر اتر آئیں گے۔

 
 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
مذہب و سیاست کی تطبیق

علامہ سید سلیمان ندویؒ، معارف، جولائی ۱۹۳۰ء کے شذرات میں لکھتے ہیں:

جس طرح کبھی معقول و منقول کی تطبیق، مذہب کی حفاظت کے لیے ضروری تھی، آج بعینہٖ اس طرح مذہب و سیاست کی تطبیق، مذہب کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ مسلمانوں میں چند ایسے اشخاص کی ضرورت ہے، جو مذہبی وابستگی و شیفتگی کے ساتھ، ملک و وطن کی خدمت کما حقہٗ انجام دے سکیں اور نادانوں کو دکھا دیں کہ دین و دنیا و سلطنت و تقویٰ اور سیاست و خدا ترسی کا اجتماع جس طرح پہلے ممکن تھا، اب بھی ممکن ہے۔

(شذرات سلیمانیؒ، حصہ: دوم، صفحہ: ٢٦۵/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*کیا ہم مسلمان (٤٣)خون دل و جگر سے ہے سَرمایۂ حیات  (پانچويں اور آخری قسط)*
 
*تحریر: شمس نوید عثمانیؒ*
ایک بار صفا پر چڑھتے ہوئے کسی کو یہ آیتِ قرآنی پڑھتے ہوئے سُنا:-
یہ ہے دن (آدمیوں کی) چھٹائی کا ـــــ ! سمیٹ لائے ہیں ہم تمہیں اور تم سے پہلوں کو۔۔۔۔۔  
دِل سے ایسی ہوک اُٹھی کہ خود کو سنبھال ہی نہ سکے ۔ ٹانگیں تھر تھرا رہی تھیں اور دل ایسا بھر آیا تھا کہ بس روتے چلے جارہے تھے۔ امام مزنیؒ کا غلام صالح جو یہ درد ناک منظر آنکھوں سے دیکھ رہا تھا گھر آیا تو آقا کو یہ قصّہ سُنایا ۔ امام مزنیؒ نے آہِ سرد بھرتے ہوئے بس اتنا کہا:-
بھائی یہ کوئی نئی بات نہیں ـــــ امام شافعیؒ پر تو خدا کا خوف مستول ہی رہتا ہے  ۔۔۔۔
ربیع بن سلیمانؒ ایک بار حج کے موقعہ پر امام شافعیؒ کے ہمراہ تھے ـــــ
ان کا کہنا ہے کہ ہر ہر نشیب و فراز پر امام صاحبؒ نغمہ و نالہ کے وجد انگیز عالم میں اُتر رہے تھے اور چڑھ رہے تھے روتے جاتے اور جذب و جنوں میں ڈوبے ہوئے اشعار پڑھتے جاتے تھے ۔
    عشقِ رسولﷺ کا سوز تو خدا نے ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھر ہی دیا تھا۔ تعلّق نے سپردگی اور سپردگی نے فدائیت و فنائیت کی وہ شکل اختیار کرلی تھی جہاں حُسن و عشق کے درمیان اپنے وجود کا ہلکے سے ہلکا احساس بھی حجابِ در میاں محسوس ہونے لگتا ہے ۔ چنانچہ خاص کیفیت میں فرمایا کرتے:
   کوئی بھی مسئلہ میری کتابوں میں اگر خلافِ کتاب و سنّت ہو تو تم اس کو دیکھو خوب سمجھ لینا کہ میں نے یقینٔا اس سے رجوع کر لیا ہے ــــــ دیکھو یہ بات یاد رہے کہ اگر صحیح حدیث مجھ تک پہنچے اور پھر میں اس پر عمل نہ کروں تو ....... تو میری عقل
میں فتور آچکا ہوگا ــــــ
اللہ اکبر ــــــ!
کیسے تھے وہ لوگ جو احادیث کے پائے ناز پر اس طرح آنکھیں مَلتے
اور کہتے تھے:
    اگر حدیثِ رسولﷺ ہم تک پہنچی اور ہم نے پھر بھی اس پر عمل نہ کیا تو سمجھ لینا کہ ہم پاگل اور سودائی ہو چکے ہوں گے ــــــ
ــــــ اور ــــــ کیا وقت آیا ہے آج غریب الدیار" اسلام "پر کہ پر لے سرے کے وہ  "دیوانے"  تو کیا مانتے " بہترین فرزانے " قرار دینے کی جسارتیں دکھا رہے ہیں جن کے ذہنی فساد کا یہ عالم ہے کہ انہیں " حدیث" سے "عجمی سازش" کی بُو آتی ہے اور جو "حدیث بیزاری " کی مکروہ ترین بنیاد پر یہ دعوی پیش کرتے ہیں کہ "دیکھو ہمیں ـــــ ہم کہ قرآن کے عاشق ہیں۔
جی ہاں اور وہ بھی ” مسلمان " ہیں ۔ بلکہ ان کی ضد ہے کہ " وہی مسلمان ہیں ـــــ !" کیوں کہ انھوں نے ائمہ و اسلاف کی روحوں پر " تاریک خیالی" کا حملہ کیا ہے اور تاریخ میں پہلی بار حدیث کے خون سے قرآن لکھنے کی کوشِش کی ہے ـــــ!
  ! ـــــ مگر یہ تھے امام شافعیؒ
کل کے " بندۂ مومن ـــــ آج کے "دانش ور" نہیں ـــــ ! وہ کتاب و سُنّت پر یوں جان نثار کرتے تھے کہ قرآن و حدیث کا ہر خادم ان کو اپنا "مخدوم" نظر آتا تھا ـــــ سچ یہ ہے کہ بڑا ہوتا ہی وہ شخص ہے جس کو اپنے چھوٹے ہونے کا احساسِ عجز تڑ پاتا رہے جو شکر نعمت سے کبر و نخوت کا سبق لینے کے بجائے حق کی بڑائی اور اہلِ حق کی عظمت کو اپنی آبرو کی طرح عزیز رکھتا ہو ۔
   ایک بار کسی نے امام حنیفہؒ کے متعلق ان کی رائے دریافت کی ۔ امام  صاحبؒ کا نام سُنتے ہی ان کا جوشِ عقیدت پھڑک اُٹھا
   امام ابوحنیفہؒ ـــــ ؟ سُن لو کہ لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہؒ کی اولاد ہیں ـــــ "
کسی نے امام سفیان ثوریؒ اور امام مالکؒ کا ذکر خیر سُننا چاہا تو خاص درد بھرے انداز میں ان کے عظمت کی یوں قسم کھائی:
" اگر یہ دونوں نہ ہوتے تو حجاز سے علم حدیث نا پید ہو جاتا "
امام مالکؒ کی کوئی بات نقل فرماتے تو کیا مجال ہے کہ اپنی شاگردانہ حیثیت فراموش کر جائیں ـــــ ہمیشہ یوں ہی آغاز فرماتے:
" "یہ ہے قول ہمارے استاد امام مالکؒ کا۔۔۔۔
کیا چیز ہے خدا کا حقیقی خوف بھی کہ جس دل کو یہ خوف چُھو گیا پھر اس کی "میں" کبھی سُنائی نہ دی ۔ حضرت امامؒ  نے حق کو اپنا یا بھی اور ساتھ ہی بحث و مناظرے کے اس محاذ پر باطل سے ٹکرائے بھی جہاں اعلائے کلمۃ الحق کو بُھول کر خود اپنی ذات کی " ہار جیت " کے جوش میں بڑی بڑی شخصیتیں بھی  " کٹ حجتی" کی دَلدل میں جا گرتی ہیں ـــــ مگر امام شافعیؒ کیسے خوش نصیب تھے کہ کبھی اس حادثۂ فاجعہ کا شکار نہ ہوئے ـــــ تحدیث نعمت کے جوش میں ایک بار کہہ اُٹھے:
"اپنی بڑائی یا اظہار فضیلت کے لیے میں نے کبھی کِسی سے مباحثہ نہ کیا۔
ہمیشہ کلمۂ حق کو سر بلند کرنے کا مقصد سامنے رہا ۔"  لیکن ٥٤ سالہ زندگی کا خونِ دل و جگر اس شان عجز سے خدمتِ دین اور اعلائے کلمۃ الحق میں نچوڑ دینے کے بعد بھی وہ کیسے ڈرتے تھے کہ میں اپنے خدا کی مزدوری کا حق ادا نہ کر سکا ـــــ ! ہر ہر سانس میں خوف و اُمید کی جو آگ اندر ہی اندر سُلگ رہی تھی " دم واپسیں " میں جیسے وہ سارا سوز و کرب سمٹ آیا تھا ـــ
❤2
امام صاحبؒ  " خونی بواسیر " کے مستقل مریض تھے ـــــ اور عمر بھر اسی عالم میں انھوں نے خدمتِ دین کے دشت و صحرا کی خاک چھانی تھی کہ اکثر سواری کی حالت میں خون جاری ہو جاتا تو ایسی تُلّو چھوٹتی کہ پائجامہ اور موزے تک خون سے تر ہو جاتے ـــــ لیکن اس کے باوجود یہ سفرِ شوق تھا کہ جاری ہی رہتا ـــــ کسی ایسے ہی سفرِ شوق میں وہ احقاقِ حق کی تڑپ لیے ہوئے ایک مناظرے میں پہنچے فریقِ ثانی کو شکست ہوئی تو وہ انتقام کے درپے ہوگیا ـــــ اور ایک اندھیری رات میں موقع پاکر حضرت امامؒ  کے سر پہ گرز سے قاتلانہ وار کردیا ـــــ ۳۰/ رجب ســـــہ٢٠٤ھ کو عصر کے وقت طبیعت زیادہ بگڑ گئی ـــــ امام مُزنیؒ  جو پاس بیٹھے تھے گھبرا گئے اور دل گیر آواز میں عرض کیا:-
  " اے اُستادوں کے اُستاد ـــــ کیسا مزاج ہے ؟" آج میں دُنیا سے رخصت ہونے والا ہوں " مومن ضعیف کی پُرسوز آواز آئی " اور اپنے بھائیوں سے جُدا ہونے والا ہوں اور اپنے بُرے اعمال کی سزا پانے والا ہوں ۔ خُدا کی بارگاہ میں میری پیشی ہوا چاہتی ہے اور …… خُدا کی قسم ! مجھے یہ خبر نہیں کہ میری رُوح جنّت میں جائے گی اور میں اسے مبارکباد دوں گا یا دوزخ میں جائے گی جہاں مجھے اس کی تعزیت کرنی پڑے گی ۔"
   اس کے بعد نمازِ مغرب پڑھی ـــــ اُدھر ایک سورج چھپ چکا تھا اور اِدھر یہ دوسرا آفتاب نماز مغرب کے بعد آہستہ آہستہ ہزاروں اشک آلود چہروں اور ترستی ہوئی نظروں کے سامنے غروب ہو رہا تھا ـــــ زندگی کے ٥٤ سال اور ان کے تمام کارنامے جس کی پشت پر ایک دنیا کو جگمگا رہے تھے وہ خود کس بے چارگی کے ساتھ کانپتی ہوئی آواز میں یہ التجائیں پیش کر رہا تھا:
 
" "مشہور عابد ادریسؒ ہیں ـــــ کوئی ہے جو ان سے جا کر کہہ دے کہ ِللہ شافعیؒ کی مغفرت کی دُعا فرمائیں۔۔۔۔
   اور پھر ـــــ ۵۴ سالہ جہاد زندگی سے نظر ہٹائے ہوئے ـــــ ہزارہا عقیدت مندوں کی کرب ناک عقیدتوں سے بے خبر، طنز و تعریض کے ہر خوف اور تحسین وستائش کی ہر خواہش سے بلند ـــــ یہ بندہ مومن خوف سے پتھرائی اور اُمید سے للچائی ہوئی آنکھوں سے صرف اپنے مالک یوم الدین کی طرف دیکھ رہا تھا‌ ـــــ اور تھر تھراتے ہوئے ہونٹ اس طرح اپنے مولا سے درد بھری سرگوشی کر رہے تھے:-
"الہی ـــــ! اگر تو میری لغزشیں معاف فرمادے تو ایک بڑے سرکش و ظالم و نافرمان کو معاف فرمائے گا اگر تو انتقام لے پھر بھی تیری ہستی سے میری آس تو نہ ٹوٹے گی ہاں خواہ میں اپنے اعمال کی بدولت جہنّم ہی میں کیوں نہ داخل کر دیا جاؤں میری خطائیں شروع سے آخر تک بہت بڑی ہیں، لیکن اے بخشنے والے ـــــ اے معاف کرنے اور ترس کھانے والے ! تیرا کرم اور تیری بخشش تو ان سے کہیں زیادہ بڑی ہے ـــــ"
اُمید و بیم کی یہی کیفیت تھی جو مغرب سے عشاء تک جاری رہی ـــــ یہ نماز عشاء اس زندگی کی سچ مچ آخری نماز تھی جس نے ہر ہر نماز کو اس طرح پڑھا تھا جیسے وہی زندگی کی آخری نماز ہو ـــــ نماز پڑھی اور پھر وہ عظیم " نمازی " اپنے خدا سے جاملا جس کی نماز نے فواحش ومنکرات سے اس طرح باز رکھا تھا کہ اس کی ساری زندگی ایک مسلسل نماز بن گئی تھی اور اس سے پر شوق مصافحہ کرنے کے لیے ملک الموت رحمت کے فرشتوں کے جلو میں عمر بھر اس انتظار میں کھڑا رہا کہ نمازی کب اس نماز سے فارغ ہو کر دمِ واپسیں پر سلام پھیرتا ہے!
_____
 
آج بھی مسلم ممالک کی سرزمین پر مساجد کا ایک زبر دست جال بچھا ہوا ہے ـــــ آج بھی مسجدیں دن میں پانچ بار نمازیوں کو نماز کے لیے پکارتی ہیں ـــــ اذانیں بھی ہو رہی ہیں ـــــ نمازی بھی آرہے ہیں ـــــ لیکن "نماز ـــــ؟ " آہ وہ کہاں ! آنکھیں ترستی ہیں کہ اُس " نماز " کو ایک نظر دیکھ سکیں جو اندر نفس کو بیڑیاں پہناتی ہے تو باہر طاغوت کو پابجولاں کر دیتی ہے ـــــ میرے مولا ! کیا نماز اُٹھائی جارہی ہے ـــــ ؟ حالاں کہ ہم سب "مسلمان" ہیں ! ایک دو ـــــ سو دو سو نہیں ـــــ تین سو تیرہ نہیں ـــــ پورے ستّر کروڑ مسلمان !! بلکہ اس سے بھی زیادہ !!!
***
 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B