*مکتوباتِ سلیمانی*
*تبصرہ نگار: سعید احمد اکبر آبادی*
حوالہ: برہان، دہلی، مارچ ١٩٦٤
مرتبہٗ مولانا عبد الماجد صاحب دریا بادی - تقطیع متوسط ضخامت ۲۹۸ صفحات کتابت و طباعت بہتر، قیمت مجلد پانچ روپے پتہ ۔ صدق جدید بک ایجنسی، کچہری روڈ ۔ لکھنو۔
یہ کتاب مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے اُن دو سو تیس خطوط کا مجموعہ ہے جو مولانا موصوف نے مولانا عبد الماجد صاحب دریابادی کو لکھے تھے، ان دونوں بزرگوں کا باہم تعلق عنفوانِ شباب میں شروع ہوا اور اگر چہ اُس وقت دونوں کی راہیں بالکل الگ الگ تھیں، ایک اتنا کٹر مولوی کہ اڈیٹر الہلال کی آزاد مشربی کو برداشت نہیں کر سکا اور دوسرا اتناخدا بیزار کہ اپنی تحریروں میں بھی اسے چھپاتا نہیں لیکن اس کے باوجود دونوں میں گہرا رابطۂ اخلاص و مودت تھا جو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور ترقی کرتا رہا۔
زیر تبصرہ کتاب صرف جلد اول ہے ، دونوں جلدوں کے خطوط کی مجموعی تعداد تین سو بہتر ہوگی، لائق مکتوب الیہ نے ان خطوط پر جو حواشی لکھے ہیں اُن کی تعداد بھی ایک ہزار سے کم نہیں ، کاتب اور مکتوب الیہ دونوں دنیائے علم وادب کی نامور شخصیتیں ہیں اور خطوط کا زمانہ جو چالیس برس (از ۱۹۱۲ تا ۱۹۵۳) پر پھیلا ہوا ہے، یہی وہ زمانہ ہے جس میں مسلمانوں کی بڑی بڑی علمی تعلیمی اور مذہبی و سیاسی تحریکیں پیدا ہوئیں عظیم الشان ادارے قائم ہوئے اور ہر میدان میں بلند پایہ شخصیتوں کا ظہور ہوا ، اس بنا پر عہد جدید اور مسلمانان ہند کی نشاۃ ثانیہ کی تاریخ میں یہ خطوط اور اُن کے ساتھ یہ حواشی تاریخی اور ادبی اعتبار سے بڑے اہم ہیں، تاریخی اس لئے کہ پرائیویٹ خطوط ایک طرف تو خود اپنے لکھنے والے کی اصل شخصیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں جس میں چہرہ کے اچھے برے خدو خال جن سے شخصیت کی ترکیب و تعمیر ہوتی ہے۔ وہ سب نظر آجاتے ہیں اور دوسری جانب بہت سے واقعات کا جو صحیح علم خطوط کے ذریعہ ہوتا ہے عام روایتی ، کاغذی یا اخباری بیانات سے نہیں ہو سکتا اور ادبی اس لئے کہ ایک بڑا ادیب اور مصنف پرائیویٹ خطوط میں جو زبان استعمال کرتا ہے وہی در اصل اُس کے ادبی شعور اور ادبی مزاج و طبیعت کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔ کیوں کہ اس میں آورد کے بجائے آمد ، اور تکلف و اہتمام کے بجائے بے ساختگی اور برجستگی پائی جاتی ہے، ان خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صاحب جتنے بڑے محقق اور مصنف تھے منتظم اور نگراں بھی اُسی درجہ کے تھے، معارف کے علمی معیار کو بلند کرنے ، رفقائے دارالمصنفین کی تربیت کرنے اور دارالمصنفین کو ایک بلند پایہ ادارہ بنانے کے لئے انہوں نے کیا کیا اسکیمیں بنائیں اور اُن کو عمل میں لانے کے لیے کیسی جدو جہد کی، علماء اور فضلاء اور امراء اور رؤسا ان دونوں کا تعاون کس طرح حاصل کیا ؟ علوم جدیدہ کی ان کی نظر میں کتنی اہمیت تھی ؟ اور کس طرح اُن پر ہر وقت کام کی ایک دھن سوار رہتی تھی ؟ ملکی اور بین الاقوامی سیاسیات پر اُن کی نظر کتنی گہری تھی ؟ اس کا اندازہ ان خطوط سے ہوتا ہے جو انھوں نے یورپ سے لکھے ہیں، دینی حمیت اور اخلاقی جسارت کا یہ عالم ہے کہ کلکتہ کے قیام کے زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کی رند مشربی گوارا نہ کر سکے، اور اُن کو سخت محتسبانہ خطوط لکھے مگر ساتھ ہی سید صاحب جمالیاتی ذوق سے محروم نہیں تھے ، چناں چہ ان خطوط میں بعض فقرے اس کا ثبوت ہیں کہ سید صاحب دل کے صاف تھے ، اُن کی دوستی اور دشمنی منافقت کے عیب سے پاک تھی ، سید صاحب کو خود انگریزی نہ جاننے کا اتنا ہی افسوس ہے (ص ۲۸٤) جتنا کہ (مسلمان ہو جانے کے بعد) مولانا دریابادی کی مولویانہ نظری سے ان کو شکوہ ہے۔ (ص ۲۸٦)
شاردا ایکٹ جس کے ذریعہ کم سنی کی شادی کو قانوناً ممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا تھا اس کے خلاف مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا اور مولانا محمد علی اور مولانا مفتی محمد کفایت اللہ وغیرہم سب نے ہی اس ایکٹ کو "مداخلت فی الدین" قرار دیا۔ لیکن سید صاحب ان حضرات سے متفق نہیں تھے، چنانچہ خط نمبر ١٩١ میں لکھتے ہیں :-
"نصوص شرعی کے اشارات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نکاح بحالتِ بلوغ مستحسن ہے۔ اگر مسلمانوں کی حالت کا اقتضا ہو کہ عدمِ بلوغ کے غیر مستحسن نکاح سے لوگوں کو روکا جائے تو مسلمانوں کا امام ایسا کر سکتا ہے ، مگر غیر مسلم حکومت میں ایسا نہیں ہو سکتا، بجز اس کے کہ مسلمان قضاۃ کا تقرر ہو اور وہ اسلامی مصالح کی بنا پر کوئی حکم دیں اور اُس پر کوئی تعزیر جاری کریں، مگر نکاح اور اُس کے لوازم نا جائز نہیں ہو سکتے"۔
سید صاحب کی یہ تحریر اس اعتبار سے بڑی اہم ہے کہ اس میں انھوں نے بعینہ وہی بات کہی ہے جو مسلم پرسنل لا کے سلسلہ میں پچھلے دنوں برہان میں لکھی گئی تھی، علاوہ ازیں با ہمہ عالمانہ و قائدانہ سنجیدگی سید صاحب ضلع جگت کے بادشاہ تھے اور فقرے چست کرنے میں اُنہیں ید طولی حاصل تھا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے نام بگاڑنا مثلاً عبدالحق کا عبد الباطل اور عبدالباری کو عباری لکھنا ان کی شوخی قلم کی ایک ادا تھی، اس مجموعہ
*تبصرہ نگار: سعید احمد اکبر آبادی*
حوالہ: برہان، دہلی، مارچ ١٩٦٤
مرتبہٗ مولانا عبد الماجد صاحب دریا بادی - تقطیع متوسط ضخامت ۲۹۸ صفحات کتابت و طباعت بہتر، قیمت مجلد پانچ روپے پتہ ۔ صدق جدید بک ایجنسی، کچہری روڈ ۔ لکھنو۔
یہ کتاب مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے اُن دو سو تیس خطوط کا مجموعہ ہے جو مولانا موصوف نے مولانا عبد الماجد صاحب دریابادی کو لکھے تھے، ان دونوں بزرگوں کا باہم تعلق عنفوانِ شباب میں شروع ہوا اور اگر چہ اُس وقت دونوں کی راہیں بالکل الگ الگ تھیں، ایک اتنا کٹر مولوی کہ اڈیٹر الہلال کی آزاد مشربی کو برداشت نہیں کر سکا اور دوسرا اتناخدا بیزار کہ اپنی تحریروں میں بھی اسے چھپاتا نہیں لیکن اس کے باوجود دونوں میں گہرا رابطۂ اخلاص و مودت تھا جو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور ترقی کرتا رہا۔
زیر تبصرہ کتاب صرف جلد اول ہے ، دونوں جلدوں کے خطوط کی مجموعی تعداد تین سو بہتر ہوگی، لائق مکتوب الیہ نے ان خطوط پر جو حواشی لکھے ہیں اُن کی تعداد بھی ایک ہزار سے کم نہیں ، کاتب اور مکتوب الیہ دونوں دنیائے علم وادب کی نامور شخصیتیں ہیں اور خطوط کا زمانہ جو چالیس برس (از ۱۹۱۲ تا ۱۹۵۳) پر پھیلا ہوا ہے، یہی وہ زمانہ ہے جس میں مسلمانوں کی بڑی بڑی علمی تعلیمی اور مذہبی و سیاسی تحریکیں پیدا ہوئیں عظیم الشان ادارے قائم ہوئے اور ہر میدان میں بلند پایہ شخصیتوں کا ظہور ہوا ، اس بنا پر عہد جدید اور مسلمانان ہند کی نشاۃ ثانیہ کی تاریخ میں یہ خطوط اور اُن کے ساتھ یہ حواشی تاریخی اور ادبی اعتبار سے بڑے اہم ہیں، تاریخی اس لئے کہ پرائیویٹ خطوط ایک طرف تو خود اپنے لکھنے والے کی اصل شخصیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں جس میں چہرہ کے اچھے برے خدو خال جن سے شخصیت کی ترکیب و تعمیر ہوتی ہے۔ وہ سب نظر آجاتے ہیں اور دوسری جانب بہت سے واقعات کا جو صحیح علم خطوط کے ذریعہ ہوتا ہے عام روایتی ، کاغذی یا اخباری بیانات سے نہیں ہو سکتا اور ادبی اس لئے کہ ایک بڑا ادیب اور مصنف پرائیویٹ خطوط میں جو زبان استعمال کرتا ہے وہی در اصل اُس کے ادبی شعور اور ادبی مزاج و طبیعت کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔ کیوں کہ اس میں آورد کے بجائے آمد ، اور تکلف و اہتمام کے بجائے بے ساختگی اور برجستگی پائی جاتی ہے، ان خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صاحب جتنے بڑے محقق اور مصنف تھے منتظم اور نگراں بھی اُسی درجہ کے تھے، معارف کے علمی معیار کو بلند کرنے ، رفقائے دارالمصنفین کی تربیت کرنے اور دارالمصنفین کو ایک بلند پایہ ادارہ بنانے کے لئے انہوں نے کیا کیا اسکیمیں بنائیں اور اُن کو عمل میں لانے کے لیے کیسی جدو جہد کی، علماء اور فضلاء اور امراء اور رؤسا ان دونوں کا تعاون کس طرح حاصل کیا ؟ علوم جدیدہ کی ان کی نظر میں کتنی اہمیت تھی ؟ اور کس طرح اُن پر ہر وقت کام کی ایک دھن سوار رہتی تھی ؟ ملکی اور بین الاقوامی سیاسیات پر اُن کی نظر کتنی گہری تھی ؟ اس کا اندازہ ان خطوط سے ہوتا ہے جو انھوں نے یورپ سے لکھے ہیں، دینی حمیت اور اخلاقی جسارت کا یہ عالم ہے کہ کلکتہ کے قیام کے زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کی رند مشربی گوارا نہ کر سکے، اور اُن کو سخت محتسبانہ خطوط لکھے مگر ساتھ ہی سید صاحب جمالیاتی ذوق سے محروم نہیں تھے ، چناں چہ ان خطوط میں بعض فقرے اس کا ثبوت ہیں کہ سید صاحب دل کے صاف تھے ، اُن کی دوستی اور دشمنی منافقت کے عیب سے پاک تھی ، سید صاحب کو خود انگریزی نہ جاننے کا اتنا ہی افسوس ہے (ص ۲۸٤) جتنا کہ (مسلمان ہو جانے کے بعد) مولانا دریابادی کی مولویانہ نظری سے ان کو شکوہ ہے۔ (ص ۲۸٦)
شاردا ایکٹ جس کے ذریعہ کم سنی کی شادی کو قانوناً ممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا تھا اس کے خلاف مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا اور مولانا محمد علی اور مولانا مفتی محمد کفایت اللہ وغیرہم سب نے ہی اس ایکٹ کو "مداخلت فی الدین" قرار دیا۔ لیکن سید صاحب ان حضرات سے متفق نہیں تھے، چنانچہ خط نمبر ١٩١ میں لکھتے ہیں :-
"نصوص شرعی کے اشارات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نکاح بحالتِ بلوغ مستحسن ہے۔ اگر مسلمانوں کی حالت کا اقتضا ہو کہ عدمِ بلوغ کے غیر مستحسن نکاح سے لوگوں کو روکا جائے تو مسلمانوں کا امام ایسا کر سکتا ہے ، مگر غیر مسلم حکومت میں ایسا نہیں ہو سکتا، بجز اس کے کہ مسلمان قضاۃ کا تقرر ہو اور وہ اسلامی مصالح کی بنا پر کوئی حکم دیں اور اُس پر کوئی تعزیر جاری کریں، مگر نکاح اور اُس کے لوازم نا جائز نہیں ہو سکتے"۔
سید صاحب کی یہ تحریر اس اعتبار سے بڑی اہم ہے کہ اس میں انھوں نے بعینہ وہی بات کہی ہے جو مسلم پرسنل لا کے سلسلہ میں پچھلے دنوں برہان میں لکھی گئی تھی، علاوہ ازیں با ہمہ عالمانہ و قائدانہ سنجیدگی سید صاحب ضلع جگت کے بادشاہ تھے اور فقرے چست کرنے میں اُنہیں ید طولی حاصل تھا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے نام بگاڑنا مثلاً عبدالحق کا عبد الباطل اور عبدالباری کو عباری لکھنا ان کی شوخی قلم کی ایک ادا تھی، اس مجموعہ
میں ایک خط مولانا ابوالکلام آزاد کا بھی ہے جو انھوں نے سید صاحب کے خط کے جواب میں لکھا تھا۔ قطع نظر اس سے کہ مکتوبات سلیمانی میں ایک ایسے خط کو چھاپنے کی ضرورت ہی کیا تھی جس سے ایک مسلمان چہ جائے کہ عالم دین و ترجمان قرآن کی پردہ دری ہوتی ہے یہ خط اس اعتبار سے بڑے کام کی چیز ہے کہ اس سے مولانا آزاد کی شخصیت کے ایک اہم پہلو پر روشنی پڑتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پبلک لائف میں اُن کی خود داری کا رشتہ خود سری اور بالا پنداری سے جا ملا تھا، کسی کو نظر میں لاتے تھے اور نہ کسی کو اپنے درجہ اور مرتبہ کا سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود دین کے معاملہ میں اس قدر منکسر النفس اور متواضع تھے کہ سید صاحب نے مولانا کے تنخواہ یاب ماتحت ہونے کے باوجود انہیں ایک خط میں سرزنش کی تو مولانا نے بے چون و چرا اپنی معصیت کا اقرار غایت ندامت و شرمساری کے ساتھ کر لیا اور آئندہ اُس سے مجتنب رہنے کا عہد و پیمان کیا ، اسی طرح کا ایک اور واقعہ تبصرہ نگار کو ذاتی طور پر معلوم ہے ، مولانا کی وفات سے تین چار برس پہلے کی بات ہے، دلی کے ایک نوجوان قاری صاحب کسی تقریب سے مولانا کی کوٹھی پر پہونچ گئے اور وہاں موقع پا کر دعوت و تبلیغ کا فرض انھوں نے اس طرح ادا کیا کہ "مولانا سے کہا حضرت ! کیا آپ وزیر تعلیم ہو کر اس بات کو بالکل بھول گئے کہ آپ ایک عالم دین اور ترجمانِ قرآن بھی ہیں نئی دلی کی جامع مسجد آپ کے دفتر کے سامنے ہے مگر اس کے باوجود آپ جمعہ کی نماز کے لئے وہاں نہیں آتے ، خود قاری صاحب کا بیان ہے کہ مولانا یہ سنتے ہی آب دیدہ ہو گئے اور بجائے معذرت کرنے کے اپنی کوتاہی کا اقرار کیا اور قاری صاحب سے درخواست کی کہ وہ اُن کے پاس وقتاً فوقتاً آتے رہیں۔ عمر خیام کے بقول :-
آنکس کہ گناہ نکرد چون زیست بگو! گناہ کس سے نہیں ہوتا اور کوتاہی و کمزوری کس میں نہیں پائی جاتی، لیکن اول تو گناہ گناہ میں فرق ہوتا ہے، ایک شخص شراب پیتا ہے مگر چوری اور زنا نہیں کرتا اور دوسرا شراب نہیں پیتا مگر سرقہ اور زنا کا مرتکب ہوتا ہے، ظاہر ہے گنہگار دونوں ہیں لیکن ایک کا گناہ ایسا ہے جو شرافت نفس کے ساتھ (جو بہت سی خوبیوں کا سر چشمہ ہے) جمع ہو سکتا ہے اور دوسرے کا گناہ اُس کے دناءتِ نفس اور کمینہ پن کی دلیل ہے اور پھر ایک انسان کے کیریکٹر کی خوبی اور اُسکے جوہر شرافت و انسانیت کا اصل اندازہ اس چیز سے ہوتا ہے کہ خود اس کا اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کے متعلق رد عمل کیا ہے ؟ اگر وہ ان پر نادم اور محجوب ہے اور اُس کا ذکر سنتے ہی اس کی پیشانی پر عرق انفعال کے قطرے نمودار ہو گئے ہیں تو یقیناً وہ بڑا قابل قدر اور لائق مدح و تحسین انسان ہے، ہم جانتے ہیں کہ وہ لوگ جنہیں مولانا آزاد کے ساتھ خدا واسطے کا بیر ہے وہ اس خط کو اپنی کام جوئی کے لئے استعمال کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ خط مولانا کی عظمت میں اضافہ ہی کرتا ہے نہ کہ کوئی کمی !
معشوق من آنست کہ نزدِ تو زشت است
اور یوں بھی اس خط میں نئی بات ہے کونسی ؟ وہی اعتراف و اقرار جو مولانا نے اپنی کتاب تذکرہ اور غبارِ خاطر میں تشبیہ اور استعارہ کی زبان میں کیا تھا، یہاں بلا ایہام و توریہ کر لیا ہے، تاریخ نہ کسی پر رحم کھاتی ہے اور نہ کسی کی عظمت و شہرت کی رعایت کرتی ہے اس بنا پر ان خطوط سے اگر شخصیت کا کوئی دوسرا رخ بھی نظر آتا ہے تو ان خطوط کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے مگر یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی ذات میں کچھ کمزوریاں ضرور نظر آتی ہیں لیکن ایک انسان کی صحیح قدر و قیمت کا تعین اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ اُس کی خوبیوں اور کمالات کے ساتھ اس کی کمزوریاں ان کے متعلق خود اس کا ردعمل اور پھر عمر میں ترقی اور اضافہ کے ساتھ ان کمزوریوں کی اصلاح اور اُن کو رفع کرنے کی کوشش، ان سب کو بیک وقت سامنے رکھ کر غور کیا جائے، اس حیثیت سے مکاتیبِ سلیمانی کے آئینہ میں سید صاحب اور مولانا آزاد کی شخصیتوں کے جو نقوش اُبھرتے ہیں ان میں بڑی عظمت و بزرگی، بلندئ کردار اور رفعتِ اخلاقی ہے نہ کہ خدانخواستہ کوئی ایسی پستی جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے دامانِ فضیلت پر بدنما داغ کہلا سکے، البتہ مولوی مسعود علی صاحب کے معاملہ سے متعلق جو خطوط ہیں اُن میں سے خط نمبر ۲۱۱ میں سید صاحب مکتوب الیہ کو خود بھی لکھتے ہیں کہ "مکتوب الیہ اس کو چاک کر دیجیے گا" جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب کو اس بات کا احساس تھا کہ اس معاملہ کی تشہیر صرف سید صاحب اور مولوی مسعود علی صاحب کی نہیں بلکہ دارالمصنفین کی بدنامی و رسوائی کا باعث ہوگی، اس بنا پر ہونا یہ چاہئے تھا کہ مکتوب نگار کی خواہش کے احترام میں یہ اور اس جیسے دوسرے خطوط کو چاک کردیا جاتا اور اگر چاک نہ ہو سکے تھے تو ان کی اشاعت نہ ہوتی، ان سب نزاکتوں اور پیچیدگیوں کا احساس فاضل جامع کو پورے طور پر ہے چنانچہ شروع میں جو مقدمہ ان کے قلم سے ہے اس میں انھوں نے ان سب کے درمیان عملی تطبیق و توفیق کی شکل پیدا کرنے
آنکس کہ گناہ نکرد چون زیست بگو! گناہ کس سے نہیں ہوتا اور کوتاہی و کمزوری کس میں نہیں پائی جاتی، لیکن اول تو گناہ گناہ میں فرق ہوتا ہے، ایک شخص شراب پیتا ہے مگر چوری اور زنا نہیں کرتا اور دوسرا شراب نہیں پیتا مگر سرقہ اور زنا کا مرتکب ہوتا ہے، ظاہر ہے گنہگار دونوں ہیں لیکن ایک کا گناہ ایسا ہے جو شرافت نفس کے ساتھ (جو بہت سی خوبیوں کا سر چشمہ ہے) جمع ہو سکتا ہے اور دوسرے کا گناہ اُس کے دناءتِ نفس اور کمینہ پن کی دلیل ہے اور پھر ایک انسان کے کیریکٹر کی خوبی اور اُسکے جوہر شرافت و انسانیت کا اصل اندازہ اس چیز سے ہوتا ہے کہ خود اس کا اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کے متعلق رد عمل کیا ہے ؟ اگر وہ ان پر نادم اور محجوب ہے اور اُس کا ذکر سنتے ہی اس کی پیشانی پر عرق انفعال کے قطرے نمودار ہو گئے ہیں تو یقیناً وہ بڑا قابل قدر اور لائق مدح و تحسین انسان ہے، ہم جانتے ہیں کہ وہ لوگ جنہیں مولانا آزاد کے ساتھ خدا واسطے کا بیر ہے وہ اس خط کو اپنی کام جوئی کے لئے استعمال کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ خط مولانا کی عظمت میں اضافہ ہی کرتا ہے نہ کہ کوئی کمی !
معشوق من آنست کہ نزدِ تو زشت است
اور یوں بھی اس خط میں نئی بات ہے کونسی ؟ وہی اعتراف و اقرار جو مولانا نے اپنی کتاب تذکرہ اور غبارِ خاطر میں تشبیہ اور استعارہ کی زبان میں کیا تھا، یہاں بلا ایہام و توریہ کر لیا ہے، تاریخ نہ کسی پر رحم کھاتی ہے اور نہ کسی کی عظمت و شہرت کی رعایت کرتی ہے اس بنا پر ان خطوط سے اگر شخصیت کا کوئی دوسرا رخ بھی نظر آتا ہے تو ان خطوط کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے مگر یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی ذات میں کچھ کمزوریاں ضرور نظر آتی ہیں لیکن ایک انسان کی صحیح قدر و قیمت کا تعین اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ اُس کی خوبیوں اور کمالات کے ساتھ اس کی کمزوریاں ان کے متعلق خود اس کا ردعمل اور پھر عمر میں ترقی اور اضافہ کے ساتھ ان کمزوریوں کی اصلاح اور اُن کو رفع کرنے کی کوشش، ان سب کو بیک وقت سامنے رکھ کر غور کیا جائے، اس حیثیت سے مکاتیبِ سلیمانی کے آئینہ میں سید صاحب اور مولانا آزاد کی شخصیتوں کے جو نقوش اُبھرتے ہیں ان میں بڑی عظمت و بزرگی، بلندئ کردار اور رفعتِ اخلاقی ہے نہ کہ خدانخواستہ کوئی ایسی پستی جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے دامانِ فضیلت پر بدنما داغ کہلا سکے، البتہ مولوی مسعود علی صاحب کے معاملہ سے متعلق جو خطوط ہیں اُن میں سے خط نمبر ۲۱۱ میں سید صاحب مکتوب الیہ کو خود بھی لکھتے ہیں کہ "مکتوب الیہ اس کو چاک کر دیجیے گا" جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب کو اس بات کا احساس تھا کہ اس معاملہ کی تشہیر صرف سید صاحب اور مولوی مسعود علی صاحب کی نہیں بلکہ دارالمصنفین کی بدنامی و رسوائی کا باعث ہوگی، اس بنا پر ہونا یہ چاہئے تھا کہ مکتوب نگار کی خواہش کے احترام میں یہ اور اس جیسے دوسرے خطوط کو چاک کردیا جاتا اور اگر چاک نہ ہو سکے تھے تو ان کی اشاعت نہ ہوتی، ان سب نزاکتوں اور پیچیدگیوں کا احساس فاضل جامع کو پورے طور پر ہے چنانچہ شروع میں جو مقدمہ ان کے قلم سے ہے اس میں انھوں نے ان سب کے درمیان عملی تطبیق و توفیق کی شکل پیدا کرنے
کی کوشش کی ہے لیکن چونکہ تاریخ اور عقیدت و ارادت کے تعلقات کے درمیان تطبیق کی کوئی شکل بھی ایسی نہیں ہو سکتی جو سب کے لئے قابل قبول ہو اس لئے مقدمہ میں جو کوشش کی گئی ہے اسے کامیاب نہیں کہا جا سکتا،
سید صاحب نے ایک خط میں اسد ملتانی صاحب مرحوم کا ایک خط بھی نقل کیا ہے اس خط کے بعض فقرے اس لائق ہیں کہ آج بھی مسلمانوں کو انہیں پڑھنا اور ان سے سبق لینا چاہئے ، مرحوم لکھتے ہیں :-
"سکھوں کی صوفیانہ جماعت میں اسلامی عنصر بہت زیادہ تھا اور ممکن تھا کہ ایک عرصہ کے بعد یہ اسلام میں جذب ہو جائے مگر فرخ سیر وغیرہ کے سیاسی مقابلے نے اس جماعت کو ایک شدید اسلام جنگجو قوم بنا دیا، اس طرح آریہ سماج کی تحریک فی الحقیقت ہندوؤں کو اسلام سے زیادہ قریب لانے والی تھی چنانچہ اس کی ابتدائی نشو ونما بھی مسلمانوں کی سرپرستی میں ہوئی، اگر اس کی طرف زیادہ توجہ کی جاتی تو یہ فرقہ یا تو دھرم سماجوں کی طرح گوشہ گمنامی میں ہوتا یا شاید اسلام میں مل جاتا مگر افسوس ...... مولانا ثناء اللہ کے علمی جہاد نے اس کو نہ صرف ہم سے بلکہ اسلام کا ناچار سخت دشمن بنا دیا" (ص ۲۷۱)
بہرحال یہ مجموعہ تاریخی اور ادبی اعتبار سے ایک خاصہ کی چیز ہے ، آئندہ لوگ اس کو بطور حوالہ استعمال کریں گے۔
*ارسال کردہ: مولانا منیری صاحب*
*نقل کردہ: محمود الحسن مدراسی*
https://t.me/ilmokitab
سید صاحب نے ایک خط میں اسد ملتانی صاحب مرحوم کا ایک خط بھی نقل کیا ہے اس خط کے بعض فقرے اس لائق ہیں کہ آج بھی مسلمانوں کو انہیں پڑھنا اور ان سے سبق لینا چاہئے ، مرحوم لکھتے ہیں :-
"سکھوں کی صوفیانہ جماعت میں اسلامی عنصر بہت زیادہ تھا اور ممکن تھا کہ ایک عرصہ کے بعد یہ اسلام میں جذب ہو جائے مگر فرخ سیر وغیرہ کے سیاسی مقابلے نے اس جماعت کو ایک شدید اسلام جنگجو قوم بنا دیا، اس طرح آریہ سماج کی تحریک فی الحقیقت ہندوؤں کو اسلام سے زیادہ قریب لانے والی تھی چنانچہ اس کی ابتدائی نشو ونما بھی مسلمانوں کی سرپرستی میں ہوئی، اگر اس کی طرف زیادہ توجہ کی جاتی تو یہ فرقہ یا تو دھرم سماجوں کی طرح گوشہ گمنامی میں ہوتا یا شاید اسلام میں مل جاتا مگر افسوس ...... مولانا ثناء اللہ کے علمی جہاد نے اس کو نہ صرف ہم سے بلکہ اسلام کا ناچار سخت دشمن بنا دیا" (ص ۲۷۱)
بہرحال یہ مجموعہ تاریخی اور ادبی اعتبار سے ایک خاصہ کی چیز ہے ، آئندہ لوگ اس کو بطور حوالہ استعمال کریں گے۔
*ارسال کردہ: مولانا منیری صاحب*
*نقل کردہ: محمود الحسن مدراسی*
https://t.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*غلطی ہائے مضامین*
*’’ہائے رام! جنرل کنَؤ…لَد گئے!‘‘*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
اتوارکے روز ہم پروفیسر صاحب کے گھر پہنچے تو اُنھیں افسردہ پایا۔ ہفتے کے کسی اور دِن پہنچتے تب بھی اُنھیں ایسا ہی پاتے۔ اُردو کے اُستاد ہیں۔ ماضی تمنّائی اور ماضی شکّی بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ پڑھاتے وقت شک اُن کی پیشانی کی ہرہر شکن سے ہویدا ہوتا ہے۔
ایک روز ایک لڑکا اُن سے کمرۂ جماعت ہی میں پوچھنے لگا:
’’سر! ماضی شکّی اور ماضی مشکوک میں کیا فرق ہے؟‘‘
اِس بیہودہ سوال پر اُنھیں اپنا ماضی یاد آگیا۔ مزید کئی دِنوں تک افسردہ رہے۔ خیر، تو اُس روز، یعنی اتوار کے روز ہمیں دیکھ کر فرمایا:
’’ہم تو نئی نسل سے اچھے مستقبل کی تمنّا رکھتے ہیں، مستقبل تمنائی۔ مگر ہمارے ماضی شکّی سے زیادہ اس نسل کا مستقبل مشکوک ہے‘‘۔
پوچھا:’’وہ کیسے؟‘‘
فرمایا: ’’میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا۔ ’پریپ‘ میں تھا۔ میاں اب ’کچی پہلی‘ اور ’پکّی پہلی‘ کا مذاق اُڑتا ہے۔ لیکن ملّتِ اسلامیہ پاکستان کے کسی نومولود بچے کو پنگوڑے سے اُٹھاکر’Play Group’ اور ‘Preparatory Class’ میں بِٹھا دیا جائے اور اُسے اُس کے پوپلے منہ سے’Prep.’ بولنا سکھایا جائے توکسی کو ہنسی آتی ہے نہ مذاق سوجھتا ہے۔ اکبرؔالٰہ آبادی تو صرف اِسی بات کو رو رہے تھے:
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
مگر اُنھیں کیا معلوم تھا کہ خود اُن ہی کی قوم، غلامی میں قومِ بنی اسرائیل سے بھی کئی درجے گئی گزری ہوجائے گی اور فراعنۂ وقت کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو قتل کرکرکے اُن پر فخر و مباہات کا اظہار کیاکرے گی۔ خوشی خوشی اُن کے تعلیمی قتل کے صداقت نامے وصول کیا کرے گی‘‘۔
’’پروفیسر صاحب! آخرہُواکیا ہے؟‘‘
’’بھائی! ہوا یہ کہ جب میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا تو میں نے پوچھا، بیٹا آج کس مضمون کا پرچہ تھا؟ پہلے تو یہ سوال ہی اُس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ جب ماں نے سمجھایا کہ دادا ابو پوچھ رہے ہیں کس سبجیکٹ کا پیپر تھا؟ تو کہنے لگا، جی کے کا‘‘۔ لمحے بھر توقف کیا۔ پھر بولے:
’’بھائی! سوال اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، جواب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے اُس کی ماں کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو بہو نے مجھے پڑھانے والے انداز میں بتایا کہ اباجی! ’جی کے‘ جنرل نالج کوکہتے ہیں…‘‘
پروفیسر صاحب کی بات کاٹ کر عرض کیا:
’’جنرل نالج پر ایک پرانا قصہ یاد آگیا۔ پروفیسر صاحب! آپ کوبھی یاد ہوگا۔ چھٹی جماعت کا قصہ ہے۔ ایک بار ہماری انگریزی کی کلاس میں سیاہ فام خواجہ انجم خلجی نے جو انگریزی کے پُرجوش حامی ہونے کی وجہ سے ’لارڈ میاں کالے‘ کہے جاتے تھے‘ اِسی لفظ کو ’جنرل کنالج‘ پڑھ دیا تھا۔ جس پر قریشی صاحب بہت ہنسے تھے۔ پھر اُنھوں نے انگریزی زبان کی اور بھی کئی بوالعجبیاں ہمیں بتائی تھیں‘‘۔
’’ہاں میاں خوب یاد ہے۔ بلکہ ایک اِس سے بھی زیادہ دلچسپ واقعہ یاد ہے۔ تمھیں بھی یاد ہوگا۔ ایک بار خیرپورناتھن شاہ کے لالہ لچھمن لال نے جو اپنی مثالی کنجوسی کی وجہ سے ’لالہ دمڑچی لال‘کہے جاتے تھے ایک انگریزی اخبار میں’General Knowledge’ کی سرخی دیکھی تو اس کو ’’جنرل کنؤ…لَد گئے‘‘ پڑھ لیا۔ لالہ جی اِسے ’بریکنگ نیوز‘ سمجھے اور یہ خبر پڑھ کر خاصی دیر تک ملول رہے۔ نامعلوم جنرل صاحب کا ’دیہانت‘ ہوجانے پردیر تک سوگوار رہے۔ میں نے بھی دلاسا دیا کہ لالاجی کیوں دُکھی ہوتے ہو؟ آخر ایک نہ ایک دِن ہم تم سب ہی لد جائیں گے۔ آج ’جنرل کنؤرام‘ لدے ہیں، کل کو ہم لادے جائیں گے۔ یہ سن کر لالاجی نے اپنی چندیا سہلاتے ہوئے کہا، سچ کہتے ہو۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘۔
’’بات تو آپ کے ننھے پوتے کی ہورہی تھی جو ’جی کے‘ کا امتحان دے کر آیا تھا‘‘۔
’’ہاں میاں! خوب یاد دِلایا۔ میں نے بچے کا پرچہ دیکھا۔ انگریزی زبان میں چھوٹے چھوٹے معروضی سوالات تھے۔ ارے وہی جو آبجیکٹو ٹائپ کہلاتے ہیں…‘‘
ہم نے پھر بات کاٹی:’’ارے پروفیسر صاحب! ’آبجیکٹو ٹائپ‘ تو ہمارے آپ کے زمانے کے معروضی سوالات کہلاتے تھے۔ نئے زمانے کے یہ سوالات آبجیکٹو ٹائپ نہیں کہلاتے، اب اُنھیں ‘MCQs’ کہاجاتاہے۔
Multiple Choice Questions‘‘۔
’’اماں جو بھی کہا جاتا ہو، بات سنو، بلکہ بپتا سنو۔ بچے سے پرچہ لے کر میں نے دیکھا کہ بچے نے تمام سوالات پرصحیح کا نشان لگا رکھا تھا، سوائے ایک سوال کے۔ میں نے پوچھا، کیوں میاں تم نے اِس سوال پر نشان کیوں نہیں لگایا؟ اُس نے جواب دیا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا تھا۔ میں نے کہا، یہ تو بہت آسان سوال ہے۔ اُس نے پھر یہی کہا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں نے سوال کا ترجمہ کرتے ہوئے پوتے سے اُردو میں پوچھا، بیٹا! یہ بتاؤ اگر پٹرول پمپ پر ماچس جلائی جائے تو کیا ہوگا؟ بچے نے جھٹ جواب دیا، آگ لگ جائے گی۔ میں نے کہا، بیٹا! اِس سوال کے جواب میں یہی تو لکھنا تھا۔ اُس نے پھر وہی جواب دیا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا تھا۔ اب
*’’ہائے رام! جنرل کنَؤ…لَد گئے!‘‘*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
اتوارکے روز ہم پروفیسر صاحب کے گھر پہنچے تو اُنھیں افسردہ پایا۔ ہفتے کے کسی اور دِن پہنچتے تب بھی اُنھیں ایسا ہی پاتے۔ اُردو کے اُستاد ہیں۔ ماضی تمنّائی اور ماضی شکّی بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ پڑھاتے وقت شک اُن کی پیشانی کی ہرہر شکن سے ہویدا ہوتا ہے۔
ایک روز ایک لڑکا اُن سے کمرۂ جماعت ہی میں پوچھنے لگا:
’’سر! ماضی شکّی اور ماضی مشکوک میں کیا فرق ہے؟‘‘
اِس بیہودہ سوال پر اُنھیں اپنا ماضی یاد آگیا۔ مزید کئی دِنوں تک افسردہ رہے۔ خیر، تو اُس روز، یعنی اتوار کے روز ہمیں دیکھ کر فرمایا:
’’ہم تو نئی نسل سے اچھے مستقبل کی تمنّا رکھتے ہیں، مستقبل تمنائی۔ مگر ہمارے ماضی شکّی سے زیادہ اس نسل کا مستقبل مشکوک ہے‘‘۔
پوچھا:’’وہ کیسے؟‘‘
فرمایا: ’’میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا۔ ’پریپ‘ میں تھا۔ میاں اب ’کچی پہلی‘ اور ’پکّی پہلی‘ کا مذاق اُڑتا ہے۔ لیکن ملّتِ اسلامیہ پاکستان کے کسی نومولود بچے کو پنگوڑے سے اُٹھاکر’Play Group’ اور ‘Preparatory Class’ میں بِٹھا دیا جائے اور اُسے اُس کے پوپلے منہ سے’Prep.’ بولنا سکھایا جائے توکسی کو ہنسی آتی ہے نہ مذاق سوجھتا ہے۔ اکبرؔالٰہ آبادی تو صرف اِسی بات کو رو رہے تھے:
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
مگر اُنھیں کیا معلوم تھا کہ خود اُن ہی کی قوم، غلامی میں قومِ بنی اسرائیل سے بھی کئی درجے گئی گزری ہوجائے گی اور فراعنۂ وقت کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو قتل کرکرکے اُن پر فخر و مباہات کا اظہار کیاکرے گی۔ خوشی خوشی اُن کے تعلیمی قتل کے صداقت نامے وصول کیا کرے گی‘‘۔
’’پروفیسر صاحب! آخرہُواکیا ہے؟‘‘
’’بھائی! ہوا یہ کہ جب میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا تو میں نے پوچھا، بیٹا آج کس مضمون کا پرچہ تھا؟ پہلے تو یہ سوال ہی اُس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ جب ماں نے سمجھایا کہ دادا ابو پوچھ رہے ہیں کس سبجیکٹ کا پیپر تھا؟ تو کہنے لگا، جی کے کا‘‘۔ لمحے بھر توقف کیا۔ پھر بولے:
’’بھائی! سوال اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، جواب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے اُس کی ماں کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو بہو نے مجھے پڑھانے والے انداز میں بتایا کہ اباجی! ’جی کے‘ جنرل نالج کوکہتے ہیں…‘‘
پروفیسر صاحب کی بات کاٹ کر عرض کیا:
’’جنرل نالج پر ایک پرانا قصہ یاد آگیا۔ پروفیسر صاحب! آپ کوبھی یاد ہوگا۔ چھٹی جماعت کا قصہ ہے۔ ایک بار ہماری انگریزی کی کلاس میں سیاہ فام خواجہ انجم خلجی نے جو انگریزی کے پُرجوش حامی ہونے کی وجہ سے ’لارڈ میاں کالے‘ کہے جاتے تھے‘ اِسی لفظ کو ’جنرل کنالج‘ پڑھ دیا تھا۔ جس پر قریشی صاحب بہت ہنسے تھے۔ پھر اُنھوں نے انگریزی زبان کی اور بھی کئی بوالعجبیاں ہمیں بتائی تھیں‘‘۔
’’ہاں میاں خوب یاد ہے۔ بلکہ ایک اِس سے بھی زیادہ دلچسپ واقعہ یاد ہے۔ تمھیں بھی یاد ہوگا۔ ایک بار خیرپورناتھن شاہ کے لالہ لچھمن لال نے جو اپنی مثالی کنجوسی کی وجہ سے ’لالہ دمڑچی لال‘کہے جاتے تھے ایک انگریزی اخبار میں’General Knowledge’ کی سرخی دیکھی تو اس کو ’’جنرل کنؤ…لَد گئے‘‘ پڑھ لیا۔ لالہ جی اِسے ’بریکنگ نیوز‘ سمجھے اور یہ خبر پڑھ کر خاصی دیر تک ملول رہے۔ نامعلوم جنرل صاحب کا ’دیہانت‘ ہوجانے پردیر تک سوگوار رہے۔ میں نے بھی دلاسا دیا کہ لالاجی کیوں دُکھی ہوتے ہو؟ آخر ایک نہ ایک دِن ہم تم سب ہی لد جائیں گے۔ آج ’جنرل کنؤرام‘ لدے ہیں، کل کو ہم لادے جائیں گے۔ یہ سن کر لالاجی نے اپنی چندیا سہلاتے ہوئے کہا، سچ کہتے ہو۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘۔
’’بات تو آپ کے ننھے پوتے کی ہورہی تھی جو ’جی کے‘ کا امتحان دے کر آیا تھا‘‘۔
’’ہاں میاں! خوب یاد دِلایا۔ میں نے بچے کا پرچہ دیکھا۔ انگریزی زبان میں چھوٹے چھوٹے معروضی سوالات تھے۔ ارے وہی جو آبجیکٹو ٹائپ کہلاتے ہیں…‘‘
ہم نے پھر بات کاٹی:’’ارے پروفیسر صاحب! ’آبجیکٹو ٹائپ‘ تو ہمارے آپ کے زمانے کے معروضی سوالات کہلاتے تھے۔ نئے زمانے کے یہ سوالات آبجیکٹو ٹائپ نہیں کہلاتے، اب اُنھیں ‘MCQs’ کہاجاتاہے۔
Multiple Choice Questions‘‘۔
’’اماں جو بھی کہا جاتا ہو، بات سنو، بلکہ بپتا سنو۔ بچے سے پرچہ لے کر میں نے دیکھا کہ بچے نے تمام سوالات پرصحیح کا نشان لگا رکھا تھا، سوائے ایک سوال کے۔ میں نے پوچھا، کیوں میاں تم نے اِس سوال پر نشان کیوں نہیں لگایا؟ اُس نے جواب دیا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا تھا۔ میں نے کہا، یہ تو بہت آسان سوال ہے۔ اُس نے پھر یہی کہا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں نے سوال کا ترجمہ کرتے ہوئے پوتے سے اُردو میں پوچھا، بیٹا! یہ بتاؤ اگر پٹرول پمپ پر ماچس جلائی جائے تو کیا ہوگا؟ بچے نے جھٹ جواب دیا، آگ لگ جائے گی۔ میں نے کہا، بیٹا! اِس سوال کے جواب میں یہی تو لکھنا تھا۔ اُس نے پھر وہی جواب دیا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا تھا۔ اب
میں نے اُس سے باقی سوالات کے معانی پوچھے، جن کے وہ انگریزی میں درست جوابات لکھ آیا تھا۔ معلوم ہوا کہ مطلب کسی سوال کا اُسے خاک نہیں آتا تھا۔ مگر نتیجہ آیا تو’رٹّا اسکول‘ نے ’جی کے‘ میں نِنّانوے فی صد نمبردے کر اُسے اوّل بدرجۂ اوّل پاس کردیا تھا‘‘۔
ہم نے تائید کی: ’’جی ہاں! ان جدید تعلیمی اداروں سے ہمارے ننھے منے بچے غیر حقیقی طور پر اورحیرت انگیز حد تک اعلیٰ ترین نمبر لے آتے ہیں۔ گال پر ستارہ بنواکر چلے آتے ہیں۔ سالانہ تقاریب میں ’ایوارڈ‘ کے نام پر پلاسٹک کی تختیاں لے آتے ہیں، اوریہی نہیں، آگے چل کر اسناد اور ڈگریاں بھی وصول کر لاتے ہیں، مگر علم نہیں حاصل کر پاتے۔ ان پر تو وہی مَثَل صادق آتی ہے کہ پڑھنا آئے نہ لکھنا، نام محمد فاضل۔ مگر صاحب! کوئی مردِ خدا ایسا نہیں جو اس اِندھیر کے خلاف سرکار دربار میں آواز اُٹھائے‘‘۔
ہمارے اِن تائیدی کلمات پر پروفیسر صاحب بدک گئے۔ کہنے لگے:
’’تمھارے اس جواب پر وہی قصہ یاد آگیا کہ ایک گدا نے کسی دروازے پر صدا لگائی تو اندر سے آواز آئی کہ بابا! گھر میں کوئی بندہ نہیں۔ بابا نے فہمائش کی، بیٹا!تھوڑی دیر کے لیے تُو ہی بندہ بن جا۔ ارے میاں! ذرا کی ذرا تم ہی مردِ خدا بن جاؤ۔ کچھ اِس موضوع پر بھی لکھ ڈالو۔ لکھو کہ… کچھ علاج اِس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟… کیا انگریزی ذریعۂ تعلیم کے اوزارکی مدد سے ہمارے بچوں سے اُن کے مشاہدے، اُن کے تجربے، اُن کے تجزیے، اُن کے دیکھنے، اُن کے سننے اور اُن کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی سلب کرلی جائے گی؟ کیا اُنھیں کلّی طور پر محض اغیار کی اندھی، گونگی اوربہری غلامی ہی کے لیے ’مینوفیکچر‘ کیا جائے گا؟‘‘
عرض کیا: ’’اِس موضوع پرہم پہلے بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور بہت کچھ مزید لکھ سکتے ہیں۔ مگر موضوع کی زَد میں ہمارے کچھ ایسے ساتھی بھی آتے ہیں جو قوم کو غلامی سے نجات دِلانے اور ملک میں انقلاب لانے کے علم بردار ہیں۔ تاہم اپنے نامور نجی اور کاروباری تعلیمی اِداروں میں وہ بھی یہی کچھ کررہے ہیں۔ لہٰذا ہماری طرف سے بھی معذرت اور اپنے سوالات کا وہی جواب قبول کیجیے جو آپ کو آپ کے پوتے نے دیا تھا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا‘‘۔
پروفیسر صاحب نے اپنے مقدّر پر (مُراد اُن کی وسیع وعریض پیشانی سے ہے) ایک ہتّڑ مارا اور فرمایا:
’’ہائے رام! جنرل کنَؤ…لَد گئے!‘‘
ہم نے تائید کی: ’’جی ہاں! ان جدید تعلیمی اداروں سے ہمارے ننھے منے بچے غیر حقیقی طور پر اورحیرت انگیز حد تک اعلیٰ ترین نمبر لے آتے ہیں۔ گال پر ستارہ بنواکر چلے آتے ہیں۔ سالانہ تقاریب میں ’ایوارڈ‘ کے نام پر پلاسٹک کی تختیاں لے آتے ہیں، اوریہی نہیں، آگے چل کر اسناد اور ڈگریاں بھی وصول کر لاتے ہیں، مگر علم نہیں حاصل کر پاتے۔ ان پر تو وہی مَثَل صادق آتی ہے کہ پڑھنا آئے نہ لکھنا، نام محمد فاضل۔ مگر صاحب! کوئی مردِ خدا ایسا نہیں جو اس اِندھیر کے خلاف سرکار دربار میں آواز اُٹھائے‘‘۔
ہمارے اِن تائیدی کلمات پر پروفیسر صاحب بدک گئے۔ کہنے لگے:
’’تمھارے اس جواب پر وہی قصہ یاد آگیا کہ ایک گدا نے کسی دروازے پر صدا لگائی تو اندر سے آواز آئی کہ بابا! گھر میں کوئی بندہ نہیں۔ بابا نے فہمائش کی، بیٹا!تھوڑی دیر کے لیے تُو ہی بندہ بن جا۔ ارے میاں! ذرا کی ذرا تم ہی مردِ خدا بن جاؤ۔ کچھ اِس موضوع پر بھی لکھ ڈالو۔ لکھو کہ… کچھ علاج اِس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟… کیا انگریزی ذریعۂ تعلیم کے اوزارکی مدد سے ہمارے بچوں سے اُن کے مشاہدے، اُن کے تجربے، اُن کے تجزیے، اُن کے دیکھنے، اُن کے سننے اور اُن کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی سلب کرلی جائے گی؟ کیا اُنھیں کلّی طور پر محض اغیار کی اندھی، گونگی اوربہری غلامی ہی کے لیے ’مینوفیکچر‘ کیا جائے گا؟‘‘
عرض کیا: ’’اِس موضوع پرہم پہلے بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور بہت کچھ مزید لکھ سکتے ہیں۔ مگر موضوع کی زَد میں ہمارے کچھ ایسے ساتھی بھی آتے ہیں جو قوم کو غلامی سے نجات دِلانے اور ملک میں انقلاب لانے کے علم بردار ہیں۔ تاہم اپنے نامور نجی اور کاروباری تعلیمی اِداروں میں وہ بھی یہی کچھ کررہے ہیں۔ لہٰذا ہماری طرف سے بھی معذرت اور اپنے سوالات کا وہی جواب قبول کیجیے جو آپ کو آپ کے پوتے نے دیا تھا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا‘‘۔
پروفیسر صاحب نے اپنے مقدّر پر (مُراد اُن کی وسیع وعریض پیشانی سے ہے) ایک ہتّڑ مارا اور فرمایا:
’’ہائے رام! جنرل کنَؤ…لَد گئے!‘‘
*اقتباس مطالعہ: 06*
*مسئلہ مشرقی اور پان اسلام ازم*
لیکن حضرات! یقین کیجیے کہ پان اسلام ازم کا فرضی خطرہ جس غرض مخفی سے دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے، بہت کم مسلمان ہیں جن کی نظر اس حقیقی علت پر ہوگی، اس خطرہ کے اعلان پر بریت اور احتیاط کی کوشش بالکل بے فائدہ ہے، کیونکہ اس کی بنیاد جہل نہیں، بلکہ ایک نہایت سخت ابلیسانہ حکمت عملی ہے، قبل اس کے کہ مسلمان پان اسلام ازم کے جرم سے کانوں پر ہاتھ دھریں، ان کو خود یورپ سے پوچھنا چاہیے کہ مسئلہ حقیقی کیا ہے؟ "فما كان جوابهم فهو جوابنا".
کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ آج نصف صدی سے یورپ کے تمام مسیحی طاقتوں نے ایک خاص متفقہ حکمت عملی وضع کی ہے، اور اس کا نام "مشرقی مسئلہ" یا "مشرق کا فیصلہ آخری" رکھا ہے۔ "مشرقی مسئلہ" کی حقیقت غایت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اسلام کے بقیہ قوائے سیاسیہ کا بتدریج خاتمہ کر دیا جائے، اور بالفاظ صاف تریہ کہ دنیا کے جتنے حصے اسلام کے زیر اثر باقی رہ گئے ہیں ان کو یورپ کی مسیحی حکومتیں کسی ایسی تقسیم مساوی کے ساتھ جو "توازن دولی" پر مؤثر نہ ہو، آپس میں بانٹ لیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ "اظہر من الشمس فی نصف النہار" ہے اور جس شخص نے گزشتہ دس برسوں کے اندر کے واقعات سے آنکھیں بند نہیں کر لی ہیں وہ بغیر کسی بصیرت مزید کے اسے دیکھ سکتا ہے۔ پھر اگر یہ سچ ہے کہ ایک خنجر اسلام کے قلب میں پیوست کردینے کےلئے تیز کیا جا رہا ہے، تو کیا مضایقہ اگر ہم کسی ڈھال کی تیاری میں مصروف ہوں! اگر خدا پرستی سے مسیح پرستی کی دشمنی قدیمی ہے اور یہ کوئی مسیحی سازش نہیں، تو پیروان توحید کا حملہ مشرکین سے بچنے کےلئے "اتحاد اخوت" بھی کوئی نیا حربہ نہیں ہے۔ یورپ جانتا ہے کہ مشرقی مسئلہ کی حکمت عملی کےلئے کوئی بچاؤ اگر اسلام کے پاس ہے تو صرف اس کا حقیقی اتحاد اسلامی ہے، اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس بات پر متفق ہوجانا ہے کہ اپنی قدیمی سیادت اور شرف کو محفوظ رکھیں۔ اسلامی زندگی کی اخری تلوار صرف ترکوں کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن ایک ترکی حکومت جس کے کئی قیمتی اجزاء پر مسئلہ مشرقی کی قینچی چل چکی ہے،مسیحی اتحاد کا کیا مقابلہ کرسکتی ہے؟ البتہ اگر چالیس کروڑ قلوب اسلامیہ ہلال کے نیچے جمع ہو جائیں، تو پھر وہ ایسی قوت ہے جس کو سینکڑوں سکندر اور ہنی بال بھی مل کر فنا نہیں کرسکتے۔ یورپ چونکہ یہ جانتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی جانتا ہے کہ غفلت اور اغراض پرستی نے مقامی وطنی سرشاریوں میں مسلمانوں کو مبتلا کر دیا ہے اور ان کے باہمی بین الملی اتحاد کے جسے میں مغربی الحاد کے جراثیم پیدا ہو چکے ہیں اس لیے گو فی الحقیقت کسی ایسے اسلامی اتحاد کا وجود نہیں ہے۔ لیکن وہ وقت سے پہلے پیدا ہونے والی مقاومت کا استیصال کرنا چاہتا ہے؛ اور اس مشہور قاعدہ کی رو سے " اتقاء عن المرض خير من معالجه بعد وقوعه" (بیماری لاحق ہونے کے بعد اس کا علاج کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے ہی اس سے بچاؤ اختیار کیا جائے).. اسلام کے فنا کرنے سے پہلے اس کے بچاؤ کی ڈھال کو فنا کر دینا تدبیروں میں مصروف ہے۔
*(جاری)*
*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
*مسئلہ مشرقی اور پان اسلام ازم*
لیکن حضرات! یقین کیجیے کہ پان اسلام ازم کا فرضی خطرہ جس غرض مخفی سے دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے، بہت کم مسلمان ہیں جن کی نظر اس حقیقی علت پر ہوگی، اس خطرہ کے اعلان پر بریت اور احتیاط کی کوشش بالکل بے فائدہ ہے، کیونکہ اس کی بنیاد جہل نہیں، بلکہ ایک نہایت سخت ابلیسانہ حکمت عملی ہے، قبل اس کے کہ مسلمان پان اسلام ازم کے جرم سے کانوں پر ہاتھ دھریں، ان کو خود یورپ سے پوچھنا چاہیے کہ مسئلہ حقیقی کیا ہے؟ "فما كان جوابهم فهو جوابنا".
کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ آج نصف صدی سے یورپ کے تمام مسیحی طاقتوں نے ایک خاص متفقہ حکمت عملی وضع کی ہے، اور اس کا نام "مشرقی مسئلہ" یا "مشرق کا فیصلہ آخری" رکھا ہے۔ "مشرقی مسئلہ" کی حقیقت غایت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اسلام کے بقیہ قوائے سیاسیہ کا بتدریج خاتمہ کر دیا جائے، اور بالفاظ صاف تریہ کہ دنیا کے جتنے حصے اسلام کے زیر اثر باقی رہ گئے ہیں ان کو یورپ کی مسیحی حکومتیں کسی ایسی تقسیم مساوی کے ساتھ جو "توازن دولی" پر مؤثر نہ ہو، آپس میں بانٹ لیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ "اظہر من الشمس فی نصف النہار" ہے اور جس شخص نے گزشتہ دس برسوں کے اندر کے واقعات سے آنکھیں بند نہیں کر لی ہیں وہ بغیر کسی بصیرت مزید کے اسے دیکھ سکتا ہے۔ پھر اگر یہ سچ ہے کہ ایک خنجر اسلام کے قلب میں پیوست کردینے کےلئے تیز کیا جا رہا ہے، تو کیا مضایقہ اگر ہم کسی ڈھال کی تیاری میں مصروف ہوں! اگر خدا پرستی سے مسیح پرستی کی دشمنی قدیمی ہے اور یہ کوئی مسیحی سازش نہیں، تو پیروان توحید کا حملہ مشرکین سے بچنے کےلئے "اتحاد اخوت" بھی کوئی نیا حربہ نہیں ہے۔ یورپ جانتا ہے کہ مشرقی مسئلہ کی حکمت عملی کےلئے کوئی بچاؤ اگر اسلام کے پاس ہے تو صرف اس کا حقیقی اتحاد اسلامی ہے، اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس بات پر متفق ہوجانا ہے کہ اپنی قدیمی سیادت اور شرف کو محفوظ رکھیں۔ اسلامی زندگی کی اخری تلوار صرف ترکوں کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن ایک ترکی حکومت جس کے کئی قیمتی اجزاء پر مسئلہ مشرقی کی قینچی چل چکی ہے،مسیحی اتحاد کا کیا مقابلہ کرسکتی ہے؟ البتہ اگر چالیس کروڑ قلوب اسلامیہ ہلال کے نیچے جمع ہو جائیں، تو پھر وہ ایسی قوت ہے جس کو سینکڑوں سکندر اور ہنی بال بھی مل کر فنا نہیں کرسکتے۔ یورپ چونکہ یہ جانتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی جانتا ہے کہ غفلت اور اغراض پرستی نے مقامی وطنی سرشاریوں میں مسلمانوں کو مبتلا کر دیا ہے اور ان کے باہمی بین الملی اتحاد کے جسے میں مغربی الحاد کے جراثیم پیدا ہو چکے ہیں اس لیے گو فی الحقیقت کسی ایسے اسلامی اتحاد کا وجود نہیں ہے۔ لیکن وہ وقت سے پہلے پیدا ہونے والی مقاومت کا استیصال کرنا چاہتا ہے؛ اور اس مشہور قاعدہ کی رو سے " اتقاء عن المرض خير من معالجه بعد وقوعه" (بیماری لاحق ہونے کے بعد اس کا علاج کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے ہی اس سے بچاؤ اختیار کیا جائے).. اسلام کے فنا کرنے سے پہلے اس کے بچاؤ کی ڈھال کو فنا کر دینا تدبیروں میں مصروف ہے۔
*(جاری)*
*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
❤4
کیا ہم مسلمان (٤٤) منجدھار سے ساحل تک - پہلی قسط
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
مکّے میں قریش کے ایک صادق وامین شخص نے اعلان کیا ہے کہ ”انسانوں کی فلاح کے لیے میں خدا کا آخری پیغام لایا ہوں۔ “ تیزی سے گشت کرتی ہوئی یہ سنسنی خیز خبر قبیلۂ غفّار کے ایک جویائے حق انسان حضرت ابو ذر غفاریؓ کے کانوں تک بھی پہنچی ـــــ یہ خبر سنتے ہی وہ چونک اُٹھے ـــــ !
چاروں طرف پھیلی ہوئی گھٹا ٹوپ تاریکی میں جیسے کوئی حسین ترین جگنو چمک اُٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر ان کا معصوم دل کیسا کیسا کُڑھتا تھا کہ جھوٹ، گناہ اور ظلم نے انسانی بستیوں میں خوف ناک جنگلوں کی سی فضا پیدا کر دی ہے ۔ درندگی ہے کہ آدمی کی صورت سے ٹپکی پڑتی ہے ـــــ جیسے آگ اور خون کا ایک زبر دست طوفان اُمنڈ پڑا ہے جس کے وحشی تھپیڑوں نے تمام سفینوں کو توڑ پھوڑ ڈالا ہے اور جو لوگ ابھی تک اس طوفان میں غرق نہیں ہوئے وہ سب ٹوٹے ہوئے خستہ حال تختوں سے لپٹے ہوئے ایک ایک کر کے منجدھار میں چکرا رہے ہیں اور کنارے کی حسرت میں تڑپ رہے ہیں ـــــ مگر کوئی نہیں جانتا کہ کنارا کہاں ہے اور وہاں کیسے پہنچا جا سکتا ہے ؟
” کیا عجب ہے کہ یہ خبر درست ہو! حضرت ابوذر غفاریؓ نے دل کی گہرائیوں میں غور کیا، کیا عجب ہے کہ جو بندے خود اپنی جانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ڈالتے ہیں بد نصیبوں پر ان کے حقیقی خدا نے ترس کھایا ہو۔۔۔۔۔“
” حقیقی خدا “ کے تصوّر سے ہی ان کے بے قرار و بے تاب سینے سے ایک زبردست ہوک سی اُٹھی ـــــ ”خدا “ جس کو بھول کر ،جس سے دور بھٹک کر ادمی سوائے جہنّم کے اور کہیں نہیں پہنچ سکتا۔ ”خدا “ کے بغیر سونے چاندی کے خزانے بھی سکون دل کو ڈسنے کے لیے منہ کھولتے ہیں ـــــ ”خدا “ جس کا یقین سینے میں چھپائے ہوئے انسان کفن او ڑھ کر اور خود اپنے خون میں غسل کر کے بھی بے اختیار مسکرا دیتا ہے!
وہ نہ جانے کتنی دیر تک کیا کیا سوچا کیے ـــــ اور جتنا انھوں نے اس خبر پر غور و فکر کیا یہ خبر ان کے لیے اتنی ہی دل کش اور جاں نواز اور پُرمعانی ہوتی چلی گئی۔
”میرے بھائی ! “ آخر انھوں نے ایک عملی فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بھائی سے سرگوشی کی ”تمہیں ابھی اور اسی وقت مکّے جانا ہوگا اور اس آدمی کے متعلق سب کچھ معلوم کر کے بہت جلد آنا ہوگا جس نے کہا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ـــــ “
اور ایک بھائی کی اس مقدّس خواہش کے احترام میں دوسرا بھائی تلاشِ حقیقت کے اس حسین سفر پر روانہ ہو گیا ۔بھائی کی جانے کے بعد ان کی بے تابی انتظار امید و بیم کی قیامت سے دوچار تھی ۔ہر شے کی طرف سے نظر ہٹا کر اب وہ صرف مکّے کی طرف اپنے درد کی دوا کے لیے چشم براہ تھے ـــــ ان کا دل بے تاب تھا کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت تیزی سے ان کے قریب آئے اور ان کی ایک ایک دھڑکن میں پیوست ہو جائے۔
آخر آخر ۔۔۔۔۔۔
انتظار کی جاں کاہ گھڑیاں بیت گئیں ــــ اُنھوں نے دیکھا کہ اُن کے بھائی مکّے کی طرف سے قبیلۂ غفار میں واپس چلے آرہے ہیں۔ دُور ہی سے انھوں نے آنے والے کے چہرے کا بغور مطالعہ کیا اور سفر کے تاثرات کا بے تابانہ جائزہ لینے کی کوشش کی ۔ یہ محسوس کر کے ان کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں کہ ان کے بھائی کے چہرے پر ایک حسین ترین اُمید کی جاں نواز روشنی دکھائی دے رہی ہے !
” کیا پتہ چلا ……؟“ اُمید اور خوف کے دو آتشہ جذبات نے حضرت ابوذرؓ کے الفاظ میں تھر تھری دوڑا دی تھی ۔
” گھبر ائیے نہیں “ ان کے بھائی نے ان کو دلاسا دیتے ہوئے کہا ” میں ان سے مل کر اور دوسروں سے ان کے متعلق معلومات کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ تو خود بھی بڑے اچّھے آدمی ہیں اور دوسروں کو بھی بڑی اچھی باتیں سکھاتے ہیں ـــــ اور ہاں وہ ایک ایسا عجیب و غریب کلام سناتے ہیں جو نہ شعر ہے اور نہ کہاوت۔۔۔۔۔“
بھائی کا ایک ایک لفظ اُنھوں نے گوشِ دل سے سُنا اور دل کی پیاس کُچھ اور بڑھ گئی ـــــ وہ بے چین ہو گئے کہ کاش میں خود مکّے گیا ہوتا اور اپنی آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا ہوتا جس کے تذکروں میں کانوں کے لیے اس قدر مٹھاس ہے ـــــ جذبات شوق کے ہچکولے کھاتے ہوئے وہ فی الفور اُٹھ کھڑے ہوئے اور قطعاً بے سروسامانی کے عالم میں وجد کرتے ہوئے سُوئے مکّہ چل کھڑے ہوئے ۔ وہ دنیا میں دنیا کے بنانے والے کو ڈھونڈنے جا رہے بے تھے ـــــ انھیں اس کھوئی ہوئی سیدھی راہ کی تلاش بے کل بنائے ہوئی تھی جس پر چل کر وہ اپنے معبُود سے ملاقات کر سکیں ۔
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
مکّے میں قریش کے ایک صادق وامین شخص نے اعلان کیا ہے کہ ”انسانوں کی فلاح کے لیے میں خدا کا آخری پیغام لایا ہوں۔ “ تیزی سے گشت کرتی ہوئی یہ سنسنی خیز خبر قبیلۂ غفّار کے ایک جویائے حق انسان حضرت ابو ذر غفاریؓ کے کانوں تک بھی پہنچی ـــــ یہ خبر سنتے ہی وہ چونک اُٹھے ـــــ !
چاروں طرف پھیلی ہوئی گھٹا ٹوپ تاریکی میں جیسے کوئی حسین ترین جگنو چمک اُٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر ان کا معصوم دل کیسا کیسا کُڑھتا تھا کہ جھوٹ، گناہ اور ظلم نے انسانی بستیوں میں خوف ناک جنگلوں کی سی فضا پیدا کر دی ہے ۔ درندگی ہے کہ آدمی کی صورت سے ٹپکی پڑتی ہے ـــــ جیسے آگ اور خون کا ایک زبر دست طوفان اُمنڈ پڑا ہے جس کے وحشی تھپیڑوں نے تمام سفینوں کو توڑ پھوڑ ڈالا ہے اور جو لوگ ابھی تک اس طوفان میں غرق نہیں ہوئے وہ سب ٹوٹے ہوئے خستہ حال تختوں سے لپٹے ہوئے ایک ایک کر کے منجدھار میں چکرا رہے ہیں اور کنارے کی حسرت میں تڑپ رہے ہیں ـــــ مگر کوئی نہیں جانتا کہ کنارا کہاں ہے اور وہاں کیسے پہنچا جا سکتا ہے ؟
” کیا عجب ہے کہ یہ خبر درست ہو! حضرت ابوذر غفاریؓ نے دل کی گہرائیوں میں غور کیا، کیا عجب ہے کہ جو بندے خود اپنی جانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ڈالتے ہیں بد نصیبوں پر ان کے حقیقی خدا نے ترس کھایا ہو۔۔۔۔۔“
” حقیقی خدا “ کے تصوّر سے ہی ان کے بے قرار و بے تاب سینے سے ایک زبردست ہوک سی اُٹھی ـــــ ”خدا “ جس کو بھول کر ،جس سے دور بھٹک کر ادمی سوائے جہنّم کے اور کہیں نہیں پہنچ سکتا۔ ”خدا “ کے بغیر سونے چاندی کے خزانے بھی سکون دل کو ڈسنے کے لیے منہ کھولتے ہیں ـــــ ”خدا “ جس کا یقین سینے میں چھپائے ہوئے انسان کفن او ڑھ کر اور خود اپنے خون میں غسل کر کے بھی بے اختیار مسکرا دیتا ہے!
وہ نہ جانے کتنی دیر تک کیا کیا سوچا کیے ـــــ اور جتنا انھوں نے اس خبر پر غور و فکر کیا یہ خبر ان کے لیے اتنی ہی دل کش اور جاں نواز اور پُرمعانی ہوتی چلی گئی۔
”میرے بھائی ! “ آخر انھوں نے ایک عملی فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بھائی سے سرگوشی کی ”تمہیں ابھی اور اسی وقت مکّے جانا ہوگا اور اس آدمی کے متعلق سب کچھ معلوم کر کے بہت جلد آنا ہوگا جس نے کہا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ـــــ “
اور ایک بھائی کی اس مقدّس خواہش کے احترام میں دوسرا بھائی تلاشِ حقیقت کے اس حسین سفر پر روانہ ہو گیا ۔بھائی کی جانے کے بعد ان کی بے تابی انتظار امید و بیم کی قیامت سے دوچار تھی ۔ہر شے کی طرف سے نظر ہٹا کر اب وہ صرف مکّے کی طرف اپنے درد کی دوا کے لیے چشم براہ تھے ـــــ ان کا دل بے تاب تھا کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت تیزی سے ان کے قریب آئے اور ان کی ایک ایک دھڑکن میں پیوست ہو جائے۔
آخر آخر ۔۔۔۔۔۔
انتظار کی جاں کاہ گھڑیاں بیت گئیں ــــ اُنھوں نے دیکھا کہ اُن کے بھائی مکّے کی طرف سے قبیلۂ غفار میں واپس چلے آرہے ہیں۔ دُور ہی سے انھوں نے آنے والے کے چہرے کا بغور مطالعہ کیا اور سفر کے تاثرات کا بے تابانہ جائزہ لینے کی کوشش کی ۔ یہ محسوس کر کے ان کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں کہ ان کے بھائی کے چہرے پر ایک حسین ترین اُمید کی جاں نواز روشنی دکھائی دے رہی ہے !
” کیا پتہ چلا ……؟“ اُمید اور خوف کے دو آتشہ جذبات نے حضرت ابوذرؓ کے الفاظ میں تھر تھری دوڑا دی تھی ۔
” گھبر ائیے نہیں “ ان کے بھائی نے ان کو دلاسا دیتے ہوئے کہا ” میں ان سے مل کر اور دوسروں سے ان کے متعلق معلومات کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ تو خود بھی بڑے اچّھے آدمی ہیں اور دوسروں کو بھی بڑی اچھی باتیں سکھاتے ہیں ـــــ اور ہاں وہ ایک ایسا عجیب و غریب کلام سناتے ہیں جو نہ شعر ہے اور نہ کہاوت۔۔۔۔۔“
بھائی کا ایک ایک لفظ اُنھوں نے گوشِ دل سے سُنا اور دل کی پیاس کُچھ اور بڑھ گئی ـــــ وہ بے چین ہو گئے کہ کاش میں خود مکّے گیا ہوتا اور اپنی آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا ہوتا جس کے تذکروں میں کانوں کے لیے اس قدر مٹھاس ہے ـــــ جذبات شوق کے ہچکولے کھاتے ہوئے وہ فی الفور اُٹھ کھڑے ہوئے اور قطعاً بے سروسامانی کے عالم میں وجد کرتے ہوئے سُوئے مکّہ چل کھڑے ہوئے ۔ وہ دنیا میں دنیا کے بنانے والے کو ڈھونڈنے جا رہے بے تھے ـــــ انھیں اس کھوئی ہوئی سیدھی راہ کی تلاش بے کل بنائے ہوئی تھی جس پر چل کر وہ اپنے معبُود سے ملاقات کر سکیں ۔
گردو غبار میں اَٹا ہوا ایک پُر شوق مسافر دھوپ اور سائے سے بے نیاز ـــــ اُونچے نیچے ریگستانوں کی خاک چھانتا ہوا چلا جا رہا تھا ۔ وہ گرتے پڑتے مکّے میں داخِل ہوئے اور سید ھے مسجد حرام میں چلے گئے ــــــ کیا نازک سفر تھا یہ ــــــ ! وہ اس ہستی کو جانتے پہچانتے تک نہ تھے جس کی تلاش انھیں وطن سے دُور پردیس میں اس طرح کھینچ لائی تھی ــــــ اور دوسروں سے پُوچھتے ہوئے اندیشہ تھا کہ سچائی کے دشمن اُن کی اس آخری اُمید کو توڑ نہ ڈالیں جو زندگی کی ہولناک تاریکیوں میں انھیں روشنی کی واحد کرن محسوس ہو رہی تھی ۔
سُورج چڑھا ــــــ ڈھلنے لگا۔ شام ہو رہی تھی اور اس پر دیسی کے پاس کھانے اور ٹھکانے تک کا کوئی بندوبست نہ تھا ۔ اپنے مہمان کی پزیرائی کے لیے خود خُدا نے ایک پُر خلوص میزبان کو بھیجا ۔ یہ حضرت علیؓ تھے جنھوں نے اس پر دیسی کو دیکھا اور اس کے متعلق کچھ اور پوچھ گچھ کرنے کی کوئی ضرورت سمجھے بغیر مہمان نوازی کے پُر شوق بازو پھیلا دیے ۔ وہ اُنھیں اپنے گھر لے آئے اور استطاعت بھر میزبانی کی لیکن مہمان نے اس رات اپنے راز پر سے نقاب نہ اُٹھایا۔ دُوسرے دن وہ پھر خانہ کعبہ میں جا پہنچے کہ شاید وہ اس آدمی کو پاسکیں جس کے انتظار میں ان کے رُوح و دل میں جذبات نے ہل چل ڈال رکھی تھی دوسری رات وہ پھر حضرت علیؓ کے حصّے میں آئے ــــــ اسی طرح تیسرا دن کٹا اور تیسری رات آپہنچی ــــــ آج بھی وہ علیؓ کے مہمان تھے ۔ آج رات میزبان نے یہ بھی اپنا اخلاقی فرض سمجھا کہ مہمان کا مقصدِ سفر معلوم کر کے اس کام میں اس کا ہاتھ بٹائے ــــــ اور آج رات حضرت ابوذرؓ بھی دِل کی بات ہونٹوں پر لے آئے۔
”مَیں کل صبح تمہیں حضرت محمد ﷺ کے پاس لے چلوں گا۔“
حضرت علیؓ نے مسّرت انگیز آواز میں تسلّی دی ”لیکن اگر راہ میں کوئی ایسا شخص مِل جائے جس کی موجودگی میں تمہارا میرے ساتھ دیکھا جانا مناسب نہ ہو تو میں جوتا ٹھیک کرنے یا پیشاب کرنے کے بہانے رُک جاؤں گا اور تم چلتے رہنا۔“
____
انتظار کی یہ پہاڑ سی رات بھی کٹ گئی ــــــ صبح کی روشنی میں وہ حضرت علیؓ کے ہمراہ درِ رسولﷺ پر حاضری دینے کے لیے چلے جا رہے تھے۔ بارگاہِ رسالت ﷺ میں داخِل ہوئے تو ان کے دِل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور جیسے ہی ان کی پہلی نظر خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن ترین چہرے پر پڑی انھیں محسوس ہوا کہ دل کے ہر ایک دھڑکن میں چراغ سے روشن ہو گئے ہیں عقیدت کا سیلاب تھا جو حضرت ابوذرؓ کے پورے وجود سے پُھوٹ نکلا تھا اور اجنبیت کا سارا احساس ، شکوک و شبہات کے تمام اندھیارے بیک نظر کافور ہو گئے تھے۔ وہ جانچ پرکھ کے جانے کیا کیا ذہنی نقشے بنا کر لائے تھے ــــــ مگر یہاں تو تلاشِ حقیقت کا پورا سفر ایک ہی نظر میں طے ہو گیا ــــــ دو چار باتیں ہوئیں اور دل کی تمام گرہیں ایک ایک کر کے کھلتی چلی گئیں ــــــ قبیلۂ غفار کا جگر پارہ بے تابانہ اُٹھا اور ساری دنیا سے کٹ کے آغوشِ ایمان و اسلام میں آگرا۔
(جاری)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
سُورج چڑھا ــــــ ڈھلنے لگا۔ شام ہو رہی تھی اور اس پر دیسی کے پاس کھانے اور ٹھکانے تک کا کوئی بندوبست نہ تھا ۔ اپنے مہمان کی پزیرائی کے لیے خود خُدا نے ایک پُر خلوص میزبان کو بھیجا ۔ یہ حضرت علیؓ تھے جنھوں نے اس پر دیسی کو دیکھا اور اس کے متعلق کچھ اور پوچھ گچھ کرنے کی کوئی ضرورت سمجھے بغیر مہمان نوازی کے پُر شوق بازو پھیلا دیے ۔ وہ اُنھیں اپنے گھر لے آئے اور استطاعت بھر میزبانی کی لیکن مہمان نے اس رات اپنے راز پر سے نقاب نہ اُٹھایا۔ دُوسرے دن وہ پھر خانہ کعبہ میں جا پہنچے کہ شاید وہ اس آدمی کو پاسکیں جس کے انتظار میں ان کے رُوح و دل میں جذبات نے ہل چل ڈال رکھی تھی دوسری رات وہ پھر حضرت علیؓ کے حصّے میں آئے ــــــ اسی طرح تیسرا دن کٹا اور تیسری رات آپہنچی ــــــ آج بھی وہ علیؓ کے مہمان تھے ۔ آج رات میزبان نے یہ بھی اپنا اخلاقی فرض سمجھا کہ مہمان کا مقصدِ سفر معلوم کر کے اس کام میں اس کا ہاتھ بٹائے ــــــ اور آج رات حضرت ابوذرؓ بھی دِل کی بات ہونٹوں پر لے آئے۔
”مَیں کل صبح تمہیں حضرت محمد ﷺ کے پاس لے چلوں گا۔“
حضرت علیؓ نے مسّرت انگیز آواز میں تسلّی دی ”لیکن اگر راہ میں کوئی ایسا شخص مِل جائے جس کی موجودگی میں تمہارا میرے ساتھ دیکھا جانا مناسب نہ ہو تو میں جوتا ٹھیک کرنے یا پیشاب کرنے کے بہانے رُک جاؤں گا اور تم چلتے رہنا۔“
____
انتظار کی یہ پہاڑ سی رات بھی کٹ گئی ــــــ صبح کی روشنی میں وہ حضرت علیؓ کے ہمراہ درِ رسولﷺ پر حاضری دینے کے لیے چلے جا رہے تھے۔ بارگاہِ رسالت ﷺ میں داخِل ہوئے تو ان کے دِل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور جیسے ہی ان کی پہلی نظر خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن ترین چہرے پر پڑی انھیں محسوس ہوا کہ دل کے ہر ایک دھڑکن میں چراغ سے روشن ہو گئے ہیں عقیدت کا سیلاب تھا جو حضرت ابوذرؓ کے پورے وجود سے پُھوٹ نکلا تھا اور اجنبیت کا سارا احساس ، شکوک و شبہات کے تمام اندھیارے بیک نظر کافور ہو گئے تھے۔ وہ جانچ پرکھ کے جانے کیا کیا ذہنی نقشے بنا کر لائے تھے ــــــ مگر یہاں تو تلاشِ حقیقت کا پورا سفر ایک ہی نظر میں طے ہو گیا ــــــ دو چار باتیں ہوئیں اور دل کی تمام گرہیں ایک ایک کر کے کھلتی چلی گئیں ــــــ قبیلۂ غفار کا جگر پارہ بے تابانہ اُٹھا اور ساری دنیا سے کٹ کے آغوشِ ایمان و اسلام میں آگرا۔
(جاری)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
جلوہ ہائے پابہ رکاب (۵۶ )۔۔۔ ویٹیکن میں علاج
از: ڈاکٹر ف عبد الرحیم
یہ جون 1984ء کی بات ہے، میں اپنے دوست ڈاکٹر محی الدین الوائی مرحوم کے ساتھ روم پہنچا۔ ہم اسپین سے یہاں آئے تھے۔ ان دنوں مجھے سخت بخار تھا۔ ہوائی جہاز میں میں بخار کی شدت سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ہم فوراً ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اس ہوٹل میں بڑے بڑے کمرے تھے۔ اس میں ہمارے علاوہ دوسرے کوئی مہمان نظر نہیں آئے۔ ہم نے اس کا نام الفندق الکئیب رکھ دیا یعنی اداسی والا ہوٹل۔
مجھے بخار کا فوراً علاج کرنا تھا۔ میں نے reception کے ذمہ دار سے بات کی۔ وہ ایک مصری عیسائی تھا۔ اس سے بات عربی میں ہوئی۔ اس نے کہا: آپ کے بخار کا علاج بہت آسان ہے۔ کھڑکی کے باہر والا منظر دکھاتے ہوئے اس نے کہا: یہ جو نہر نظر آرہی ہے اسے پار کریں، اس پار ویٹیکن (Vatican) ہے۔ قریب میں ایک بلڈنگ ہے، اس میں ایک Help Desk نظر آئے گا، وہاں ڈاکٹر کے بارے میں پوچھیے۔ وہ اس کا انتظام کردے گا۔
چنانچہ ہم وہاں گئے۔ Help Desk والے سے میں نے کہا کہ میں بیمار ہوں، اور مجھے طبی امداد چاہیے۔ اس نے intercom پر اعلان کیا کہ یہاں ایک انگریزی بولنے والا ڈاکٹر فوراً آجائے۔ چند ہی منٹ بعد ایک ڈاکٹر آیا، اس کے ساتھ ایک male نرس بھی تھا۔ نرس کے ہاتھ میں ایک دوفٹ لمبی شیشے کی چیز تھی۔ پتا چلا کہ یہ ان کے یہاں کا تھرما میٹر ہے۔ ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اور نسخہ لکھ دیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے یہاں دوائیوں کا انتظام نہیں ہے۔ آپ بازار سے دوا خرید لیں۔ چنانچہ میں نے دوا خرید لی۔ یہ دوا Bactrim نامی antibiotic تھی جسے میں پہلے استعمال کر چکا تھا۔ الحمد للہ اس دوا کا فوری فائدہ ہوا، اور بخار اتر گیا۔
دوسرے دن ہم St. Peter's Basilica دیکھنے گئے جو بہت بڑا گرجا گھر ہے اور
کیتھولک عیسائیت کا مرکز۔ پاپ کی رہائش بھی یہیں ہے۔ اسی complex میں ایک
قدرے چھوٹا چرچ ہے جو Sistine chapel کہلاتا ہے۔ یہ دو وجہوں سے مشہور ہے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کی چھت پر سولھویں صدی کے مشہور مصور میکل آنجلو کی بنائی ہوئی
تصویریں ہیں۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں نئے پاپ کا انتخاب ہوتا ہے۔ جب نئے پاپ کے
انتخاب کا وقت آتا ہے تو دنیا بھر کے cardinal یہاں جمع ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں انکی
تعداد تقریباً پچاس ہوتی ہے۔ ان سب کو اس chapel میں بند کر دیا جاتا ہے، اور ضرورت
کی تمام چیزیں یہاں مہیا کر دی جاتی ہیں۔ نئے پاپ کے انتخاب میں عموماً دو تین دن کا وقت
لگتا ہے۔ جب کسی کارڈینل کو پاپ کے طور پر منتخب کر لیا جاتا ہے تو اربابِ حل وعقد کو اس
کی اطلاع دینے کے لیے کارڈینل چمنی میں تھوڑی سی گھاس جلاتے ہیں جس کا کثیف دھواں
دیکھ کر یہ پتا چل جاتا ہے کہ پاپ کا انتخاب ہو چکا ہے۔ فوراً چیپل کا دروازہ کھول کر نئے پاپ
کا استقبال کیا جاتا ہے اور لاطینی زبان میں یہ اعلان کیا جاتا ہے:
Habemus Papam (We have a Pope).
نئے پاپ کو پالکی میں بٹھا کر ان کو دفتر پہنچایا جاتا ہے۔ راستے میں چرچ کا ایک اہل کار
ایک برتن میں کچھ گھاس جلا کر پاپ کے سامنے رکھتا ہے۔ جب گھاس جل کر راکھ بن جاتی
ہے تو اہل کار لاطینی زبان میں پاپ سے کہتا ہے: Papa, sic passit gloria
mundi۔ یعنی پاپائے روم، دنیا کی شان وشوکت اسی طرح ختم ہو جاتی ہے۔
چونکہ پاپ ایک شاہانہ زندگی بسر کرتا ہے، اس عمل سے اس کو دنیا کی بے ثباتی کی یاد
دلائی جاتی ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
از: ڈاکٹر ف عبد الرحیم
یہ جون 1984ء کی بات ہے، میں اپنے دوست ڈاکٹر محی الدین الوائی مرحوم کے ساتھ روم پہنچا۔ ہم اسپین سے یہاں آئے تھے۔ ان دنوں مجھے سخت بخار تھا۔ ہوائی جہاز میں میں بخار کی شدت سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ہم فوراً ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اس ہوٹل میں بڑے بڑے کمرے تھے۔ اس میں ہمارے علاوہ دوسرے کوئی مہمان نظر نہیں آئے۔ ہم نے اس کا نام الفندق الکئیب رکھ دیا یعنی اداسی والا ہوٹل۔
مجھے بخار کا فوراً علاج کرنا تھا۔ میں نے reception کے ذمہ دار سے بات کی۔ وہ ایک مصری عیسائی تھا۔ اس سے بات عربی میں ہوئی۔ اس نے کہا: آپ کے بخار کا علاج بہت آسان ہے۔ کھڑکی کے باہر والا منظر دکھاتے ہوئے اس نے کہا: یہ جو نہر نظر آرہی ہے اسے پار کریں، اس پار ویٹیکن (Vatican) ہے۔ قریب میں ایک بلڈنگ ہے، اس میں ایک Help Desk نظر آئے گا، وہاں ڈاکٹر کے بارے میں پوچھیے۔ وہ اس کا انتظام کردے گا۔
چنانچہ ہم وہاں گئے۔ Help Desk والے سے میں نے کہا کہ میں بیمار ہوں، اور مجھے طبی امداد چاہیے۔ اس نے intercom پر اعلان کیا کہ یہاں ایک انگریزی بولنے والا ڈاکٹر فوراً آجائے۔ چند ہی منٹ بعد ایک ڈاکٹر آیا، اس کے ساتھ ایک male نرس بھی تھا۔ نرس کے ہاتھ میں ایک دوفٹ لمبی شیشے کی چیز تھی۔ پتا چلا کہ یہ ان کے یہاں کا تھرما میٹر ہے۔ ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اور نسخہ لکھ دیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے یہاں دوائیوں کا انتظام نہیں ہے۔ آپ بازار سے دوا خرید لیں۔ چنانچہ میں نے دوا خرید لی۔ یہ دوا Bactrim نامی antibiotic تھی جسے میں پہلے استعمال کر چکا تھا۔ الحمد للہ اس دوا کا فوری فائدہ ہوا، اور بخار اتر گیا۔
دوسرے دن ہم St. Peter's Basilica دیکھنے گئے جو بہت بڑا گرجا گھر ہے اور
کیتھولک عیسائیت کا مرکز۔ پاپ کی رہائش بھی یہیں ہے۔ اسی complex میں ایک
قدرے چھوٹا چرچ ہے جو Sistine chapel کہلاتا ہے۔ یہ دو وجہوں سے مشہور ہے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کی چھت پر سولھویں صدی کے مشہور مصور میکل آنجلو کی بنائی ہوئی
تصویریں ہیں۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں نئے پاپ کا انتخاب ہوتا ہے۔ جب نئے پاپ کے
انتخاب کا وقت آتا ہے تو دنیا بھر کے cardinal یہاں جمع ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں انکی
تعداد تقریباً پچاس ہوتی ہے۔ ان سب کو اس chapel میں بند کر دیا جاتا ہے، اور ضرورت
کی تمام چیزیں یہاں مہیا کر دی جاتی ہیں۔ نئے پاپ کے انتخاب میں عموماً دو تین دن کا وقت
لگتا ہے۔ جب کسی کارڈینل کو پاپ کے طور پر منتخب کر لیا جاتا ہے تو اربابِ حل وعقد کو اس
کی اطلاع دینے کے لیے کارڈینل چمنی میں تھوڑی سی گھاس جلاتے ہیں جس کا کثیف دھواں
دیکھ کر یہ پتا چل جاتا ہے کہ پاپ کا انتخاب ہو چکا ہے۔ فوراً چیپل کا دروازہ کھول کر نئے پاپ
کا استقبال کیا جاتا ہے اور لاطینی زبان میں یہ اعلان کیا جاتا ہے:
Habemus Papam (We have a Pope).
نئے پاپ کو پالکی میں بٹھا کر ان کو دفتر پہنچایا جاتا ہے۔ راستے میں چرچ کا ایک اہل کار
ایک برتن میں کچھ گھاس جلا کر پاپ کے سامنے رکھتا ہے۔ جب گھاس جل کر راکھ بن جاتی
ہے تو اہل کار لاطینی زبان میں پاپ سے کہتا ہے: Papa, sic passit gloria
mundi۔ یعنی پاپائے روم، دنیا کی شان وشوکت اسی طرح ختم ہو جاتی ہے۔
چونکہ پاپ ایک شاہانہ زندگی بسر کرتا ہے، اس عمل سے اس کو دنیا کی بے ثباتی کی یاد
دلائی جاتی ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
2026-02-19 Yadoun Ka safar 91+92.pdf
180.1 KB
یادوں کا سفر (۹۱۔۹۲) اخلاق احمد دہلوی
*وفیات مورخہ:اگسٹ /01*
1824ء ماہ لقا بائی۔ پہلی صاحب دیوان شاعرہ
1984ء نورالحسن۔ مولانا، سید
1985ء قدوائی ، کے ٹی۔ ،
1988ء محمد زکریا۔ مولانا ،
1989ء مسعود اختر حاتمی۔ سید
1991ء یوسف ادریس۔ مصری ادیب
2000ء علی سردار جعفری۔ شاعر، ادیب
2001ء قدسیہ اعزاز رسول۔ بیگم
2005ء فہد بن عبد العزیز آل سعود۔ شاہ سعودی عرب
2006ء کفیل الرحمٰن نشاط عثمانی۔ مولانا مفتی ،
2008ء ہرکشن سنگھ سرجیت۔ جنرل سکریٹری سی پی یم
2009ء عبد الرافع الباقوی۔ مولانا ،عربی ادیب، استاد جمالیہ کالج مدراس
2012ء شہزاد احمد۔
2014ء صبیح محسن۔ ،
2015ء فرید خان (فرید الرحمٰن خان)۔ ،
2022ء سرفراز علی ۔ فوجی جنرل
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1824ء ماہ لقا بائی۔ پہلی صاحب دیوان شاعرہ
1984ء نورالحسن۔ مولانا، سید
1985ء قدوائی ، کے ٹی۔ ،
1988ء محمد زکریا۔ مولانا ،
1989ء مسعود اختر حاتمی۔ سید
1991ء یوسف ادریس۔ مصری ادیب
2000ء علی سردار جعفری۔ شاعر، ادیب
2001ء قدسیہ اعزاز رسول۔ بیگم
2005ء فہد بن عبد العزیز آل سعود۔ شاہ سعودی عرب
2006ء کفیل الرحمٰن نشاط عثمانی۔ مولانا مفتی ،
2008ء ہرکشن سنگھ سرجیت۔ جنرل سکریٹری سی پی یم
2009ء عبد الرافع الباقوی۔ مولانا ،عربی ادیب، استاد جمالیہ کالج مدراس
2012ء شہزاد احمد۔
2014ء صبیح محسن۔ ،
2015ء فرید خان (فرید الرحمٰن خان)۔ ،
2022ء سرفراز علی ۔ فوجی جنرل
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*اسد ملتانی کا ایک خط*
کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اہل علم حضرات کی فکر چند مخصوص موضوعات کے گرد گھومتی ہے، اور بعض اہم موضوعات نظر کے سامنے آنے کے باوجود سرسری ان سے گذر جاتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کئی ایک موضوعات دعوتی نقطہ نظر سے بڑے اہم ہوتے ہیں۔
گذشتہ دنوں ہم نے مکتوبات سلیمانی پر مولانا سعید احمد اکبرآبادی کا تبصرہ پوسٹ کیا تھا، اس کے بعد اس کے موقر مرتب مولانا سید محمد زین العابدین صاحب نے یہی تبصرہ اہتمام سے ٹیکسٹ کی صورت میں پوسٹ کیا تھا، ہمارا خیال تھا، کہ ہمارے قارئین اس تبصرے میں ضرور توجہ دیں گے۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا۔
اس تبصرے میں مولانا اکبرآبادی کی مندرجہ ذیل تحریر نے ہمیں متوجہ کیا، امید کہ یہ آپ حضرات کی توجہات کو بھی اپنی طرف ضرور کھینچے گی۔
*سید صاحب نے ایک خط میں اسد ملتانی صاحب مرحوم کا ایک خط بھی نقل کیا ہے، اس خط کے بعض فقرے اس لائق ہیں کہ آج بھی مسلمانوں کو انہیں پڑھنا اور ان سے سبق لینا چاہیے، مرحوم لکھتے ہیں*:
”*سکھوں کی صوفیانہ جماعت میں اسلامی عنصر بہت زیادہ تھا اور ممکن تھا کہ ایک عرصہ کے بعد یہ جماعت اسلام میں جذب ہو جائے مگر فرخ سیر وغیرہ کے سیاسی مقابلہ نے اس جماعت کو ایک دشمن اسلام جنگ جو قوم بنا دیا، اسی طرح آریہ سماج کی تحریک فی الحقیقت ہندوؤں کو اسلام سے زیادہ قریب لانے والی تھی، چناں چہ اس کی ابتدائی نشو و نما بھی مسلمانوں کی سرپرستی میں ہوئی، اگر اس کی طرف زیادہ توجہ نہ کی جاتی تو یہ فرقہ یا تو ہندوؤں کی اکثر سماجوں کی طرح گوشۂ گمنامی میں ہوتا یا شاید اسلام میں مل جاتا مگر افسوس... مولوی ثناء اللہ کے علمی جہاد نے اس فرقہ کو نہ صرف اہم بلکہ اسلام کا سخت دشمن بنا دیا*۔" (ص: ۲۷۱)
بہر حال یہ مجموعہ تاریخی اور ادبی اعتبار سے ایک خاصہ کی چیز ہے، آئندہ لوگ اس کو بطورِ حوالہ استعمال کریں گے۔ (مارچ ۱۹۶۴ء)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اہل علم حضرات کی فکر چند مخصوص موضوعات کے گرد گھومتی ہے، اور بعض اہم موضوعات نظر کے سامنے آنے کے باوجود سرسری ان سے گذر جاتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کئی ایک موضوعات دعوتی نقطہ نظر سے بڑے اہم ہوتے ہیں۔
گذشتہ دنوں ہم نے مکتوبات سلیمانی پر مولانا سعید احمد اکبرآبادی کا تبصرہ پوسٹ کیا تھا، اس کے بعد اس کے موقر مرتب مولانا سید محمد زین العابدین صاحب نے یہی تبصرہ اہتمام سے ٹیکسٹ کی صورت میں پوسٹ کیا تھا، ہمارا خیال تھا، کہ ہمارے قارئین اس تبصرے میں ضرور توجہ دیں گے۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا۔
اس تبصرے میں مولانا اکبرآبادی کی مندرجہ ذیل تحریر نے ہمیں متوجہ کیا، امید کہ یہ آپ حضرات کی توجہات کو بھی اپنی طرف ضرور کھینچے گی۔
*سید صاحب نے ایک خط میں اسد ملتانی صاحب مرحوم کا ایک خط بھی نقل کیا ہے، اس خط کے بعض فقرے اس لائق ہیں کہ آج بھی مسلمانوں کو انہیں پڑھنا اور ان سے سبق لینا چاہیے، مرحوم لکھتے ہیں*:
”*سکھوں کی صوفیانہ جماعت میں اسلامی عنصر بہت زیادہ تھا اور ممکن تھا کہ ایک عرصہ کے بعد یہ جماعت اسلام میں جذب ہو جائے مگر فرخ سیر وغیرہ کے سیاسی مقابلہ نے اس جماعت کو ایک دشمن اسلام جنگ جو قوم بنا دیا، اسی طرح آریہ سماج کی تحریک فی الحقیقت ہندوؤں کو اسلام سے زیادہ قریب لانے والی تھی، چناں چہ اس کی ابتدائی نشو و نما بھی مسلمانوں کی سرپرستی میں ہوئی، اگر اس کی طرف زیادہ توجہ نہ کی جاتی تو یہ فرقہ یا تو ہندوؤں کی اکثر سماجوں کی طرح گوشۂ گمنامی میں ہوتا یا شاید اسلام میں مل جاتا مگر افسوس... مولوی ثناء اللہ کے علمی جہاد نے اس فرقہ کو نہ صرف اہم بلکہ اسلام کا سخت دشمن بنا دیا*۔" (ص: ۲۷۱)
بہر حال یہ مجموعہ تاریخی اور ادبی اعتبار سے ایک خاصہ کی چیز ہے، آئندہ لوگ اس کو بطورِ حوالہ استعمال کریں گے۔ (مارچ ۱۹۶۴ء)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
*وفیات مورخہ:اگسٹ /01*
1928ء امیر علی۔ سید، جسٹس، مصنف روح اسلام
1956ء جمیل سیوہاروی (محمد جمیل الرحمٰن)۔ ،
2000ء محمد سلیم الدین شمسی۔ مولانا ، مفسر، واعظ
2005ء زینب الغزالی۔ تحریکی داعی خاتون
2011ء مسرت حسین ۔ پروفیسر ، ڈاکٹڑ
2012ء جان محمد بلوچ۔ ،
2013ء حسن شہید مرزا۔ ،
2013ء فرمان فتح پوری (سید دلدار علی )۔ ڈاکٹر ، ادیب، محقق
2019ء ریاض احمد قاسمی۔ مولانا، مہتمم مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ
2021ء عبداللہ نواب پوری مراد آباد۔ قاری
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1928ء امیر علی۔ سید، جسٹس، مصنف روح اسلام
1956ء جمیل سیوہاروی (محمد جمیل الرحمٰن)۔ ،
2000ء محمد سلیم الدین شمسی۔ مولانا ، مفسر، واعظ
2005ء زینب الغزالی۔ تحریکی داعی خاتون
2011ء مسرت حسین ۔ پروفیسر ، ڈاکٹڑ
2012ء جان محمد بلوچ۔ ،
2013ء حسن شہید مرزا۔ ،
2013ء فرمان فتح پوری (سید دلدار علی )۔ ڈاکٹر ، ادیب، محقق
2019ء ریاض احمد قاسمی۔ مولانا، مہتمم مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ
2021ء عبداللہ نواب پوری مراد آباد۔ قاری
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
کیا ہم مسلمان (٤٤) منجدھار سے ساحل تک - دوسری اور آخری قسط
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
" ابھی تمہیں اپنے ایمان کا اظہار کرنے کی ضرورت نہیں۔ " غریب الدیار نَو مسلم کو یُسرو آسانی کے مذہب کی رُخصت عطا کرتے ہوئے حضور ﷺ نے تسلی دی ”اب اپنے قبیلے میں واپس جاؤ اور جب ہم غالب آجائیں تو اِدھر پلٹ آنا۔"
"یا رسول اللہ ﷺ !“ جوشِ ادب اور شدّتِ ایمانی سے کانپتی ہوئی آواز حضرت ابو ذر ؓ کے ہونٹوں سے بلند ہوئی ۔ ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے مَیں تو اس کلمہ حق کو اُن بے ایمانوں کے اندر گُھس کر ، چلّا کر پڑھوں گا ـــــ !“ اور سچ مچ انھوں نے ایسا ہی کیا!
وہ غیرت حق سے بے قرار ہو کر اُٹھے ـــــ جوش کے عالم میں روانہ ہے ہوئے ـــــ بے تحاشا خا نہ کعبہ میں در آئے اور مشرکوں کی بھیڑ میں گُھس کر پھیپھڑوں کی پُوری طاقت سے چیختے ہوئے اعلان کیا:-
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سِوا کوئی معبُود ہے ہی نہیں ـــــ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) خُدا کے رسول ہیں۔"
خُدا کے باغیوں نے یہ اعلانِ حق کی گرج سُنی اور ایک لمحہ کے لیے ہر طرف سنّاٹا چھا گیا۔ لوگ حیران تھے کہ یہ کون شخص ہے جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ اعلان کیا ہے ـــــ؟ اور دوسرے ہی لمحے حق کے اس اعلان کے خلاف دارو گیر شروع ہو گئی ـــــ بے رحمانہ جنون کے عالم میں انسانی درند ے اُٹھے اور ایک انسان کو ہر طرف سے لپٹ گئے ۔ ہاں دیوانوں اور درندوں کا پورا مشتعل ہجوم اکیلے بندۂ مومن پر ٹوٹ پڑا تھا۔ گھونسے تھے کہ پیاپے پڑ رہے تھے ۔ ٹھوکریں تھیں کہ ہر طرف سے لگ رہی تھیں۔ گالیوں کی طوفانی بوچھاڑ تھی ـــــ لاف وگزاف کا طوفانِ بد تمیزی برپا تھا ـــــ اور ان یورشوں کے نرغے میں کھڑا ہوا مومن صبر واستقامت کا مینارۂ نور بنا ہُوا ایستادہ تھا ـــــ دنیا اس بات پر آگ بگولا تھی کہ اس نے دُنیا کے بنانے والے کا نام کیوں لیا ہے ـــــ مگر بندۂ مومن مطمئن تھا کہ اس نے یہ اتنی بڑی بات کہی ہے جس کو سننے تک کی تاب دوسروں میں نہیں تھی ۔
اس نے گالیوں کے جواب میں اُف تک نہ کی ـــــ ٹھوکریں کھائیں اور کوئی فریاد تک نہ کی ۔ وہ اپنا کام کر چکا تھا وہ اپنی بات کہہ چکا تھا اور اب سہنے کی باری تھی ـــــ اسے خوف نہیں مکمل اطمینان تھا کہ خدائے کائنات اس کی پُشت پناہی پر ہے ۔ اس کو کوئی غم نہ تھا ، دِلی خوشی تھی کہ وہ خدا کی گلی میں زدو کوب کیا جا رہا ہے اور اس کے جذبۂ وفا کا یہ منظر اس کا خدا دیکھ رہا ہے ۔ جسمانی درد و کرب کے تمام احساسات اس لطیف احساس میں گُم ہو چکے تھے کہ اس مشت خاک کی طرف رحمٰن و رحیم خدا کی نظرِ خاص اُٹھی ہوئی ہے۔
سہنے والا سب کُچھ سہہ رہا تھا مگر دیکھنے والوں کے کلیجے مُنہ کو آنے لگے ـــــ شرافتِ انسانی کا درد اُٹھا اور اس درد سے تڑپتے ہوئے حضرت عباسؓ کی جو ابھی تک لذتِ ایمان تک نہ پہنچے تھے شرافت انسانی کے جوش میں آگے بڑھے ـــــ اور مظلوم کے اُوپر خود کو ڈالتے ہوئے ظالموں کو للکارا:-
"دیوانو ! تمہیں کچھ ہوش بھی ہے ـــــ ؟ یاد رکھو کہ اگر قبیلۂ غفار کا یہ فرد مارا گیا تو تمہیں شام کے کاروباری سفر میں اس کے قبیلے میں سے گزرنا ناممکن ہو جائے گا ـــــ"
عذابِ آخرت کے بے فکروں نے جوں ہی مفاداتِ دنیا کے نقصان کا خطرہ محسوس کیا ہوش ٹھکانے لگ گئے اور اس طرح درد و کرب کے بوجھ تلے سِسکتے ہوئے مومن کی جان خدا خدا کر کے بچ سکی۔
لیکن دوسرے دن اس سے بھی بڑا واقعہ پیش آیا ۔
خدا کی قسم ابھی جسم کی درد بھری چوٹوں پر ایک شبانہ روز کا وقت بھی نہ گزرا تھا کہ غیرتِ ایمانی کی چوٹ کھانے والا پھر اسی وادئ قہر و ستم کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا ـــــ ہائے وہ رِستے ہوئے زخموں پر ایک اور زخمِ تازہ کھانے کا ولولۂ ایمانی ـــــ اور ہائے وہ ”اعلانِ حق“ جو بزمِ ازل میں تمام ارواحِ انسانی نے اپنے خدا کے حضور کیا تھا مگر پھر مکرر تازہ کرنے کے لیے اشک بار آدمؑ زمین پر اُترے ـــــ نوحؑ نے ساڑھے نو سو برس تک خونِ دل و جگر ٹپکایا اور عالم گیر طغیانی میں اپنا سفینہ خدا کے بھروسے پر چلایا ـــــ ابراہیمؑ نے آگ کے بھڑکتے ہوئے الاؤ میں خود کو بے خوف و خطر ڈالا ـــــ یوسفؑ نے جیل کاٹی ـــــ موسٰیؑ فرعونی طاقت سے ٹکرائے اور بپھرے ہوئے دریا کا سینہ چیرتے ہوئے نکلے ـــــ عیسٰیؑ نے تختہ دار دیکھا ـــــ اور پھر صدہا انبیاء کی پوری تاریخِ درد و کرب اکیلے محمدﷺ نے ۲۳ سال تک دُہرائی۔
کیسے صاحبِ نصیب تھے ابو ذر غفاریؓ ـــــ ! کہ اسی " اعلان حق" کی سعادت دوسری بار ان کے حصّے میں آرہی تھی ۔
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
" ابھی تمہیں اپنے ایمان کا اظہار کرنے کی ضرورت نہیں۔ " غریب الدیار نَو مسلم کو یُسرو آسانی کے مذہب کی رُخصت عطا کرتے ہوئے حضور ﷺ نے تسلی دی ”اب اپنے قبیلے میں واپس جاؤ اور جب ہم غالب آجائیں تو اِدھر پلٹ آنا۔"
"یا رسول اللہ ﷺ !“ جوشِ ادب اور شدّتِ ایمانی سے کانپتی ہوئی آواز حضرت ابو ذر ؓ کے ہونٹوں سے بلند ہوئی ۔ ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے مَیں تو اس کلمہ حق کو اُن بے ایمانوں کے اندر گُھس کر ، چلّا کر پڑھوں گا ـــــ !“ اور سچ مچ انھوں نے ایسا ہی کیا!
وہ غیرت حق سے بے قرار ہو کر اُٹھے ـــــ جوش کے عالم میں روانہ ہے ہوئے ـــــ بے تحاشا خا نہ کعبہ میں در آئے اور مشرکوں کی بھیڑ میں گُھس کر پھیپھڑوں کی پُوری طاقت سے چیختے ہوئے اعلان کیا:-
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سِوا کوئی معبُود ہے ہی نہیں ـــــ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) خُدا کے رسول ہیں۔"
خُدا کے باغیوں نے یہ اعلانِ حق کی گرج سُنی اور ایک لمحہ کے لیے ہر طرف سنّاٹا چھا گیا۔ لوگ حیران تھے کہ یہ کون شخص ہے جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ اعلان کیا ہے ـــــ؟ اور دوسرے ہی لمحے حق کے اس اعلان کے خلاف دارو گیر شروع ہو گئی ـــــ بے رحمانہ جنون کے عالم میں انسانی درند ے اُٹھے اور ایک انسان کو ہر طرف سے لپٹ گئے ۔ ہاں دیوانوں اور درندوں کا پورا مشتعل ہجوم اکیلے بندۂ مومن پر ٹوٹ پڑا تھا۔ گھونسے تھے کہ پیاپے پڑ رہے تھے ۔ ٹھوکریں تھیں کہ ہر طرف سے لگ رہی تھیں۔ گالیوں کی طوفانی بوچھاڑ تھی ـــــ لاف وگزاف کا طوفانِ بد تمیزی برپا تھا ـــــ اور ان یورشوں کے نرغے میں کھڑا ہوا مومن صبر واستقامت کا مینارۂ نور بنا ہُوا ایستادہ تھا ـــــ دنیا اس بات پر آگ بگولا تھی کہ اس نے دُنیا کے بنانے والے کا نام کیوں لیا ہے ـــــ مگر بندۂ مومن مطمئن تھا کہ اس نے یہ اتنی بڑی بات کہی ہے جس کو سننے تک کی تاب دوسروں میں نہیں تھی ۔
اس نے گالیوں کے جواب میں اُف تک نہ کی ـــــ ٹھوکریں کھائیں اور کوئی فریاد تک نہ کی ۔ وہ اپنا کام کر چکا تھا وہ اپنی بات کہہ چکا تھا اور اب سہنے کی باری تھی ـــــ اسے خوف نہیں مکمل اطمینان تھا کہ خدائے کائنات اس کی پُشت پناہی پر ہے ۔ اس کو کوئی غم نہ تھا ، دِلی خوشی تھی کہ وہ خدا کی گلی میں زدو کوب کیا جا رہا ہے اور اس کے جذبۂ وفا کا یہ منظر اس کا خدا دیکھ رہا ہے ۔ جسمانی درد و کرب کے تمام احساسات اس لطیف احساس میں گُم ہو چکے تھے کہ اس مشت خاک کی طرف رحمٰن و رحیم خدا کی نظرِ خاص اُٹھی ہوئی ہے۔
سہنے والا سب کُچھ سہہ رہا تھا مگر دیکھنے والوں کے کلیجے مُنہ کو آنے لگے ـــــ شرافتِ انسانی کا درد اُٹھا اور اس درد سے تڑپتے ہوئے حضرت عباسؓ کی جو ابھی تک لذتِ ایمان تک نہ پہنچے تھے شرافت انسانی کے جوش میں آگے بڑھے ـــــ اور مظلوم کے اُوپر خود کو ڈالتے ہوئے ظالموں کو للکارا:-
"دیوانو ! تمہیں کچھ ہوش بھی ہے ـــــ ؟ یاد رکھو کہ اگر قبیلۂ غفار کا یہ فرد مارا گیا تو تمہیں شام کے کاروباری سفر میں اس کے قبیلے میں سے گزرنا ناممکن ہو جائے گا ـــــ"
عذابِ آخرت کے بے فکروں نے جوں ہی مفاداتِ دنیا کے نقصان کا خطرہ محسوس کیا ہوش ٹھکانے لگ گئے اور اس طرح درد و کرب کے بوجھ تلے سِسکتے ہوئے مومن کی جان خدا خدا کر کے بچ سکی۔
لیکن دوسرے دن اس سے بھی بڑا واقعہ پیش آیا ۔
خدا کی قسم ابھی جسم کی درد بھری چوٹوں پر ایک شبانہ روز کا وقت بھی نہ گزرا تھا کہ غیرتِ ایمانی کی چوٹ کھانے والا پھر اسی وادئ قہر و ستم کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا ـــــ ہائے وہ رِستے ہوئے زخموں پر ایک اور زخمِ تازہ کھانے کا ولولۂ ایمانی ـــــ اور ہائے وہ ”اعلانِ حق“ جو بزمِ ازل میں تمام ارواحِ انسانی نے اپنے خدا کے حضور کیا تھا مگر پھر مکرر تازہ کرنے کے لیے اشک بار آدمؑ زمین پر اُترے ـــــ نوحؑ نے ساڑھے نو سو برس تک خونِ دل و جگر ٹپکایا اور عالم گیر طغیانی میں اپنا سفینہ خدا کے بھروسے پر چلایا ـــــ ابراہیمؑ نے آگ کے بھڑکتے ہوئے الاؤ میں خود کو بے خوف و خطر ڈالا ـــــ یوسفؑ نے جیل کاٹی ـــــ موسٰیؑ فرعونی طاقت سے ٹکرائے اور بپھرے ہوئے دریا کا سینہ چیرتے ہوئے نکلے ـــــ عیسٰیؑ نے تختہ دار دیکھا ـــــ اور پھر صدہا انبیاء کی پوری تاریخِ درد و کرب اکیلے محمدﷺ نے ۲۳ سال تک دُہرائی۔
کیسے صاحبِ نصیب تھے ابو ذر غفاریؓ ـــــ ! کہ اسی " اعلان حق" کی سعادت دوسری بار ان کے حصّے میں آرہی تھی ۔
اس اعلانِ حق نے جس کو باطل نے کبھی معاف نہیں کیا آج تو جیسے بھڑوں کے چھتے کو بُری طرح چھیڑ دیا تھا ـــــ ظلم وستم کی قہرمانی طاقتیں زخمی ناگ کی طرح اُٹھیں اور بندۂ مومن پر حملہ آور ہوئیں ـــــ یقینًا اگر آج پھر خدا کے فضل سے حضرت عباسؓ دوبارہ آڑے نہ آجاتے تو حضرت ابوذرؓ کا کام ہی تمام ہو چکا ہوتا ـــــ آج وہ شہید ہو چکے ہوتے ـــــ ”شہید“ ـــــ وہ ممتاز جنتی جو جنّت کی ٹھنڈی ہوا کھانے کے بعد یہ آرزو کرتا ہے کہ وہ پھر اسی دنیا ئے فانی میں واپس کیا جاتا تاکہ ایک بار پھر شہید ہو ـــــ زندہ ہو اور پھر شہید کیا جائے ـــــ پھر زندہ ہو پھر شہید کیا جائے۔ زخموں اور چوٹوں سے پارہ پارہ وہ جسم اُٹھا۔ جس کو حق کے نام پر خاک و خون میں مل جانے کی آرزو تڑپا رہی تھی ـــــ وہ شہادت کی تڑپ میں کشاں کشاں آئے تھے اور شہادت کی آرزو اپنے ہر ہر زخم میں شعلہ زن کیے ہوئے واپس جارہے تھے ۔
اللہ اللہ ! کیسے تھے وہ لوگ جو ہم سے پہلے اسی اسلام کے دائرے میں دیکھے گئے ! ان کے کارنامے ان کے ساتھ ساتھ گئے اور ہمارے کرتوت ہماری جان کے لاگو ہیں ـــــ وہ اہلِ حق تھے جنہوں نے حق کی قیمت پہچانی اور جی جان سے یہ قیمت چکانے کی پروانہ وار کوشش کی ـــــ اور ہم ”حق فروش“ ہیں کہ دنیائے فانی کے چند ٹکوں میں ہم نے سدا کی راحتوں کو ہنسی خوشی بیچ ڈالا ہائے ہم !! جو اس دُنیا سے لپٹے جاتے ہیں جو ہمیں اپنے سینے سے نوچ کھسوٹ کر منوں مٹی کے نیچے گاڑ دینے والی ہے ـــــ اور اس خداے رحیم وکریم سے گریزاں ہیں جس کی رحمتِ بے کراں عمر بھر کے مجرموں کی آنکھ میں دو آنسو دیکھتی ہے تو جوش میں آجاتی ہے اور شہید وفا کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر ٹپکتے ہی جنّتِ خلد کے دروازے کھول دیتی ہے ۔
________
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
اللہ اللہ ! کیسے تھے وہ لوگ جو ہم سے پہلے اسی اسلام کے دائرے میں دیکھے گئے ! ان کے کارنامے ان کے ساتھ ساتھ گئے اور ہمارے کرتوت ہماری جان کے لاگو ہیں ـــــ وہ اہلِ حق تھے جنہوں نے حق کی قیمت پہچانی اور جی جان سے یہ قیمت چکانے کی پروانہ وار کوشش کی ـــــ اور ہم ”حق فروش“ ہیں کہ دنیائے فانی کے چند ٹکوں میں ہم نے سدا کی راحتوں کو ہنسی خوشی بیچ ڈالا ہائے ہم !! جو اس دُنیا سے لپٹے جاتے ہیں جو ہمیں اپنے سینے سے نوچ کھسوٹ کر منوں مٹی کے نیچے گاڑ دینے والی ہے ـــــ اور اس خداے رحیم وکریم سے گریزاں ہیں جس کی رحمتِ بے کراں عمر بھر کے مجرموں کی آنکھ میں دو آنسو دیکھتی ہے تو جوش میں آجاتی ہے اور شہید وفا کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر ٹپکتے ہی جنّتِ خلد کے دروازے کھول دیتی ہے ۔
________
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ:اگسٹ /04*
1922ء اسماعیل انور پاشا۔
1956ء ہربند کمار بنرجی۔
1959ء صبا لکھنوی (سید حیدر حسین)۔ ،
1964ء عبد الغفور۔ حکیم
1974ء عبدالعزیزملک۔ ،
1984ء ماہر فریدی (سید مصطفٰی حسن )۔ ،
1987ء عباس فاروقی۔ ،
1989ء ایس ایم احسن (سید محمد احسن )۔ ایڈمرل ،
1989ء عارف مینائی (اسحاق احمد)۔ ،
1994ء نجم الدین اصلاحی۔ مولانا
1995ء سعید رمضان۔ ڈٓاکٹر، مدیر مجلہ المسلمون
2000ء محمود صدیقی۔ ،
2000ء مسعود نقوی (سید ابو محمد مسعود)۔ ،
2001ء عبدالرحیم بلوچ۔ ،
2005ء کوثر جائسی۔ شاعر
2014ء بیگم اشرف عباسی۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1922ء اسماعیل انور پاشا۔
1956ء ہربند کمار بنرجی۔
1959ء صبا لکھنوی (سید حیدر حسین)۔ ،
1964ء عبد الغفور۔ حکیم
1974ء عبدالعزیزملک۔ ،
1984ء ماہر فریدی (سید مصطفٰی حسن )۔ ،
1987ء عباس فاروقی۔ ،
1989ء ایس ایم احسن (سید محمد احسن )۔ ایڈمرل ،
1989ء عارف مینائی (اسحاق احمد)۔ ،
1994ء نجم الدین اصلاحی۔ مولانا
1995ء سعید رمضان۔ ڈٓاکٹر، مدیر مجلہ المسلمون
2000ء محمود صدیقی۔ ،
2000ء مسعود نقوی (سید ابو محمد مسعود)۔ ،
2001ء عبدالرحیم بلوچ۔ ،
2005ء کوثر جائسی۔ شاعر
2014ء بیگم اشرف عباسی۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
از ننگ چہ گوئی کہ مرا نام ز ننگ است
پروفیسر رشید کوثر فاروقی مرحوم لکھتے ہیں:
اہل اللّٰه کے ہاتھ پر بیعت سب سے زیادہ ان لوگوں کے لیے ضروری ہے، جو ذہین و فطین اور تعلیم یافتہ ہیں، یا اپنے کو ذہین و فطین اور تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں۔ ان غریبوں کے ساتھ جہاں اور سو طرح کے فتنے اور خطرے لگے ہوئے ہیں، وہیں یہ بھی ہے کہ جہاں کسی نے تعریف کی اور ان کا نفس بے لگام ہوا۔ دنیا میں اگر حسن پسند نہ ہوتے تو کسی کو آئینے میں بہارِ حسن دیکھنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ دوسروں کی ستائش سے خود رائی و خود بینی پیدا ہوتی ہے اور دین کی راہ خود رائی و خود بینی کے متوازی جاتی ہے۔ یہاں تو وہی پوچھے جاتے ہیں، جن کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو۔ اس شاہ راہ پر جو پامال ہوا، اس نے سربلندی پائی، جو مرجھا گیا، اسے شگفتگی ملی، جو مٹ گیا، وہ جی اٹھا، جو جل بجھا، اس نے روشنی دیکھی اور جو برباد ہوگیا، اس نے آبادیوں کی سرخیاں لکھیں، یا یوں کہہ لیجیے کہ اس راہ میں آدمی کو قبولِ حسن اس وقت ملتا ہے، جب اسے شہرتِ دنیا پر ہنسی آتی ہے اور مقامِ قاسمی اس وقت ہاتھ آتا ہے، جب اپنے حصہ کی مطلق فکر نہیں رہتی۔
از ننگ چہ گوئی کہ مرا نام زننگ است
وز نام چہ پرسی کہ مرا ننگ زنام است
(ایک عشرہ سئی کی وادی میں، صفحہ: ۴۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
پروفیسر رشید کوثر فاروقی مرحوم لکھتے ہیں:
اہل اللّٰه کے ہاتھ پر بیعت سب سے زیادہ ان لوگوں کے لیے ضروری ہے، جو ذہین و فطین اور تعلیم یافتہ ہیں، یا اپنے کو ذہین و فطین اور تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں۔ ان غریبوں کے ساتھ جہاں اور سو طرح کے فتنے اور خطرے لگے ہوئے ہیں، وہیں یہ بھی ہے کہ جہاں کسی نے تعریف کی اور ان کا نفس بے لگام ہوا۔ دنیا میں اگر حسن پسند نہ ہوتے تو کسی کو آئینے میں بہارِ حسن دیکھنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ دوسروں کی ستائش سے خود رائی و خود بینی پیدا ہوتی ہے اور دین کی راہ خود رائی و خود بینی کے متوازی جاتی ہے۔ یہاں تو وہی پوچھے جاتے ہیں، جن کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو۔ اس شاہ راہ پر جو پامال ہوا، اس نے سربلندی پائی، جو مرجھا گیا، اسے شگفتگی ملی، جو مٹ گیا، وہ جی اٹھا، جو جل بجھا، اس نے روشنی دیکھی اور جو برباد ہوگیا، اس نے آبادیوں کی سرخیاں لکھیں، یا یوں کہہ لیجیے کہ اس راہ میں آدمی کو قبولِ حسن اس وقت ملتا ہے، جب اسے شہرتِ دنیا پر ہنسی آتی ہے اور مقامِ قاسمی اس وقت ہاتھ آتا ہے، جب اپنے حصہ کی مطلق فکر نہیں رہتی۔
از ننگ چہ گوئی کہ مرا نام زننگ است
وز نام چہ پرسی کہ مرا ننگ زنام است
(ایک عشرہ سئی کی وادی میں، صفحہ: ۴۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ:اگسٹ /07*
1941ء را بندرناتھ ٹیگور۔ بنگالی ادیب ومفکر
1942ء محمد سورتی۔ مولانا ،
1983ء منظور احمد، مرزا۔ ،
1988ء حضور احمد خان۔ کرنل ،
1988ء صبا فاضلی۔ ،
1997ء محمد عبداللہ، حاجی۔ مہتمم مدرسہ اسلامیہ عربیہ برنپور
1997ء محمود أحمد شاكر۔ مصری ادیب ومحقق
2000ء سہیل مظہر، پیرزادہ۔ ،
2003ء پروفیسر علی محمد خسرو۔ وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
2009ء محی الدین الکردی، ابو الحسن۔ شافعی فقیہ
2010ء ابو بکر شیخانی۔ ،
2014ء انیتا غلام علی۔ پروفیسر ،
2015ء ثاقب حسین تقوی۔ سید
2018ء ایم کروناندھی۔ وزیر اعلی ٹامل ناڈو
2021ء محمد وصی ظفر۔ وزیر قانون پاکستان
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1941ء را بندرناتھ ٹیگور۔ بنگالی ادیب ومفکر
1942ء محمد سورتی۔ مولانا ،
1983ء منظور احمد، مرزا۔ ،
1988ء حضور احمد خان۔ کرنل ،
1988ء صبا فاضلی۔ ،
1997ء محمد عبداللہ، حاجی۔ مہتمم مدرسہ اسلامیہ عربیہ برنپور
1997ء محمود أحمد شاكر۔ مصری ادیب ومحقق
2000ء سہیل مظہر، پیرزادہ۔ ،
2003ء پروفیسر علی محمد خسرو۔ وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
2009ء محی الدین الکردی، ابو الحسن۔ شافعی فقیہ
2010ء ابو بکر شیخانی۔ ،
2014ء انیتا غلام علی۔ پروفیسر ،
2015ء ثاقب حسین تقوی۔ سید
2018ء ایم کروناندھی۔ وزیر اعلی ٹامل ناڈو
2021ء محمد وصی ظفر۔ وزیر قانون پاکستان
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*بات سے بات: مدرسہ پلس*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
آج مدرسہ پلس کے عنوان سے علم وکتاب پر کئی ایک مراسلے پوسٹ ہوئے ہیں، جن میں مولانا محمد عبد القوی صاحب کا کالم سنجیدگی سے لئے جانے کے قابل ہے۔ اس تعلق سے کچھ باتیں ہمارے ذہن میں بھی آرہی ہیں۔
۔ اس ناچیز نے جب اپنے قصبہ بھٹکل میں آنکھ کھولی تو یہاں پر کوئی آٹھ مسجدیں تھی، جن میں سے نصف میں مقامی امام تھے ، اور ان میں کوئی بھی حافظ قرآن نہیں تھا، تراویح کی بیس رکعتوں میں جزء عم کا آخری پاؤ پارہ پڑھا جاتا تھا، اس وقت بھٹکل میں صرف ایک حافظ قرآن تھے، جوابھی کسی مسجد میں مستقل امام نہیں مقرر نہیں تھے ، ۱۹۷۴ء کے آتے آتے بھٹکل میں جملہ کوئی تین حافظ قرآن ہوگئے، ان میں سے بھی کوئی امام مسجد نہیں تھے۔(مزید تفصیلات ہردوئی سے ان شاء اللہ عنقریب شائع ہونے والے حضرت مولانا ابر ار الحق رحمۃ اللہ علیہ پر مجلے میں ہمارے مشاہدات پر مبنی مضمون میں ملاحظہ فرمائیں)
آج نصف صدی گذرنے کے بعد بھٹکل میں ایک سو سے زیادہ مسجدیں ہیں، اور ہر مسجد میں تراویح میں چار سے پانچ حافظ قرآن سنانے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ کسی حافظ کو پورا قرآن سنانے کا موقع نہیں ملتا ، بس مقررہ دو چار اجزاء سناتے ہیں، جس کی وہ تیاری کرکے آتے ہیں، لہذا تیاری کئے گئے وہی اجزاء پختہ ہوتے ہیں، اب مقررہ کوئی حافظ غیر حاضر ہو تو پھر تیاری نہ ہونے کی وجہ سے ان اجزاء کا حافظہ مضبوط ہو یہ ضروری نہیں۔ جمعیت الحفاظ بھٹکل اس خامی کے تدارک کے لئے گذشتہ کئی سالوں سے کوشاں ہے۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں بھی قدیم حفاظ کے سینے میں قرآن محفوظ رکھنے کے لئے مسلسل فکر مند ہے۔ ہمار اخیال ہے کہ یہ صورت حال گجرات اور دوسرے علاقوں کی بھی ہوگی۔ جیسا کہ حدیث پاک ہے کہ قرآن پاک کو خوب پابندی سے پڑھو اور یاد رکھو ،وہ بہت تیزی سے ذہن سے نکل جاتا ہے جیسے اونٹ اپنے نکیل میں سے تیزی سے نکل بھاگتا ہے۔ (مشکوٰۃ: ص:۱۹۰)
قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو جلد یاد ہوتی ہے، اور اس کی بے قدری پر جلد سینے سے نکل جاتی ہے، لیکن ایک حافظ قرآن کا یہ سوچنا کہ میں ابھی جوان ہوں، بغیر قرآن کو یاد رکھنے کا اہتمام کئے یہ سوچنا کہ مجھے سب کچھ یاد ہے ایک دیوانے کے بڑ کے سوا کچھ نہیں، یہ سراسر خود کو دھوکا دینا ہے، کیونکہ جب یاد داشت کے مظاہرے کا وقت آتا ہے تو عموما حافظہ دھوکا دے جاتا ہے۔
(1) حفاظ کرام کی بہت بڑی تعداد والدین کی ایما پر تین چار سال یا اس سے زیادہ وقت لگانے کے بعد جب انہیں تراویح یا درس وتدریس کا موقعہ نہیں ملتا تو قرآن کو بھلا دیتی ہے، اور ایک حافظ کی عمر کے یہ سال قرآن کے بھول جانے کے بعد برباد ہوجاتے ہیں، اور قرآن کے بھول جانے کا وبال اس پر الگ ہوتاہے۔
(2) قرآن پاک کو یاد رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ یا تو حفظ قرآن کے بعد اس سے مناسبت رکھنے والے علوم دینیۃ حاصل کرکے ایک عالم دین بن جائے، یا پھر تحفیظ قرآن کی مجالس سے وابستہ ہو، یا پھر ہر سال تراویح پڑھانے کا اہتمام کرے، جو حفاظ کی کثرت میں ہر ایک کے لئے موقعہ ملے یہ ناممکنات میں سے ہے۔
(3) ایک حافظ قرآن کو حفظ قرآن کے بعد تعلیم کے ایسے میدانوں سے وابستہ کرنا جو قرآن کریم سے مناسبت نہیں رکھتے تو پھر زیاد ہ امکان اس بات کا ہے کہ ایسا کوئی اہتمام ان کے لئے دنیاوی ترقی کا باعث تو بن سکتا ہے، لیکن دوسری طرف اسے قرآن بھلانے کے انتظام سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
(4) ہمارے خیال میں اس وقت حفظ قرآن کا جو نظام ہمارے مدارس میں رائج ہے، اس کی تنظیم نو ہونی چاہئے۔ جووالدین اپنے طلبہ کو حافظ قرآن بنا کر اپنی نجات کا ذریعہ بنانا چاہتے ہوں ، ان کی ہمت افزائی کی جائے، لیکن ان سے طلبہ کے تحفیظ میں داخلے کے وقت یہ یقین دہانی لی جائے کہ اپنے بچے کو ایسے نصاب تعلیم سے وابستہ رکھیں گے، جن کے بعد ان کے لئے قرآن کریم سے مناسبت رکھنا، اسے سمجھنا ، اس میں تدبر کرنا آسان ہو، اورتدبر اور فہم کی صورت میں قرآن سے اس کو دلی مناسبت ہوجائے، ورنہ قرآن کو یاد رکھنا اس کے لئے ایک بوجھ بن جائے گا۔
(5) مدارس کے ذمہ داران کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ مدرسے ان کے ہاتھ میں اللہ تعالی کی امانت ہیں، اہل خیر نے ان کے لئے اپنا تعاون اس لئے پیش کیا ہے کہ یہ مدرسے ان کے لئے ذخیرہ آخرت بن سکیں، اور یہاں سے ایسے افراد پیدا ہوں، جو معاشرے کی دینی ضروریات کو پورا کریں، حلال وحرام بیان کریں، اور قال اللہ وقال الرسول کی گونج سے فضاؤں کو بھر دیں۔عطیہ دہندگا ن میں دو فیصد بھی ایسے نہیں ہونگے جو ان مدارس سے کمانے والے افراد پیدا کرنا اپنے عطیات پیش کررہے ہوں، اس مقصد کے لئے تو انگلش میڈیم پرائیوٹ اسکول کافی ہیں، اس کے لئے نئے مدارس دینیہ تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عطیہ دہندگان کے مقصد سے مختلف مدات میں تعاون خرچ کرنا ایک طرح سے خیانت شمار ہوگی، جس کی جواب دہی اللہ تعالی کے یہاں ہوگی۔
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
آج مدرسہ پلس کے عنوان سے علم وکتاب پر کئی ایک مراسلے پوسٹ ہوئے ہیں، جن میں مولانا محمد عبد القوی صاحب کا کالم سنجیدگی سے لئے جانے کے قابل ہے۔ اس تعلق سے کچھ باتیں ہمارے ذہن میں بھی آرہی ہیں۔
۔ اس ناچیز نے جب اپنے قصبہ بھٹکل میں آنکھ کھولی تو یہاں پر کوئی آٹھ مسجدیں تھی، جن میں سے نصف میں مقامی امام تھے ، اور ان میں کوئی بھی حافظ قرآن نہیں تھا، تراویح کی بیس رکعتوں میں جزء عم کا آخری پاؤ پارہ پڑھا جاتا تھا، اس وقت بھٹکل میں صرف ایک حافظ قرآن تھے، جوابھی کسی مسجد میں مستقل امام نہیں مقرر نہیں تھے ، ۱۹۷۴ء کے آتے آتے بھٹکل میں جملہ کوئی تین حافظ قرآن ہوگئے، ان میں سے بھی کوئی امام مسجد نہیں تھے۔(مزید تفصیلات ہردوئی سے ان شاء اللہ عنقریب شائع ہونے والے حضرت مولانا ابر ار الحق رحمۃ اللہ علیہ پر مجلے میں ہمارے مشاہدات پر مبنی مضمون میں ملاحظہ فرمائیں)
آج نصف صدی گذرنے کے بعد بھٹکل میں ایک سو سے زیادہ مسجدیں ہیں، اور ہر مسجد میں تراویح میں چار سے پانچ حافظ قرآن سنانے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ کسی حافظ کو پورا قرآن سنانے کا موقع نہیں ملتا ، بس مقررہ دو چار اجزاء سناتے ہیں، جس کی وہ تیاری کرکے آتے ہیں، لہذا تیاری کئے گئے وہی اجزاء پختہ ہوتے ہیں، اب مقررہ کوئی حافظ غیر حاضر ہو تو پھر تیاری نہ ہونے کی وجہ سے ان اجزاء کا حافظہ مضبوط ہو یہ ضروری نہیں۔ جمعیت الحفاظ بھٹکل اس خامی کے تدارک کے لئے گذشتہ کئی سالوں سے کوشاں ہے۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں بھی قدیم حفاظ کے سینے میں قرآن محفوظ رکھنے کے لئے مسلسل فکر مند ہے۔ ہمار اخیال ہے کہ یہ صورت حال گجرات اور دوسرے علاقوں کی بھی ہوگی۔ جیسا کہ حدیث پاک ہے کہ قرآن پاک کو خوب پابندی سے پڑھو اور یاد رکھو ،وہ بہت تیزی سے ذہن سے نکل جاتا ہے جیسے اونٹ اپنے نکیل میں سے تیزی سے نکل بھاگتا ہے۔ (مشکوٰۃ: ص:۱۹۰)
قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو جلد یاد ہوتی ہے، اور اس کی بے قدری پر جلد سینے سے نکل جاتی ہے، لیکن ایک حافظ قرآن کا یہ سوچنا کہ میں ابھی جوان ہوں، بغیر قرآن کو یاد رکھنے کا اہتمام کئے یہ سوچنا کہ مجھے سب کچھ یاد ہے ایک دیوانے کے بڑ کے سوا کچھ نہیں، یہ سراسر خود کو دھوکا دینا ہے، کیونکہ جب یاد داشت کے مظاہرے کا وقت آتا ہے تو عموما حافظہ دھوکا دے جاتا ہے۔
(1) حفاظ کرام کی بہت بڑی تعداد والدین کی ایما پر تین چار سال یا اس سے زیادہ وقت لگانے کے بعد جب انہیں تراویح یا درس وتدریس کا موقعہ نہیں ملتا تو قرآن کو بھلا دیتی ہے، اور ایک حافظ کی عمر کے یہ سال قرآن کے بھول جانے کے بعد برباد ہوجاتے ہیں، اور قرآن کے بھول جانے کا وبال اس پر الگ ہوتاہے۔
(2) قرآن پاک کو یاد رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ یا تو حفظ قرآن کے بعد اس سے مناسبت رکھنے والے علوم دینیۃ حاصل کرکے ایک عالم دین بن جائے، یا پھر تحفیظ قرآن کی مجالس سے وابستہ ہو، یا پھر ہر سال تراویح پڑھانے کا اہتمام کرے، جو حفاظ کی کثرت میں ہر ایک کے لئے موقعہ ملے یہ ناممکنات میں سے ہے۔
(3) ایک حافظ قرآن کو حفظ قرآن کے بعد تعلیم کے ایسے میدانوں سے وابستہ کرنا جو قرآن کریم سے مناسبت نہیں رکھتے تو پھر زیاد ہ امکان اس بات کا ہے کہ ایسا کوئی اہتمام ان کے لئے دنیاوی ترقی کا باعث تو بن سکتا ہے، لیکن دوسری طرف اسے قرآن بھلانے کے انتظام سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
(4) ہمارے خیال میں اس وقت حفظ قرآن کا جو نظام ہمارے مدارس میں رائج ہے، اس کی تنظیم نو ہونی چاہئے۔ جووالدین اپنے طلبہ کو حافظ قرآن بنا کر اپنی نجات کا ذریعہ بنانا چاہتے ہوں ، ان کی ہمت افزائی کی جائے، لیکن ان سے طلبہ کے تحفیظ میں داخلے کے وقت یہ یقین دہانی لی جائے کہ اپنے بچے کو ایسے نصاب تعلیم سے وابستہ رکھیں گے، جن کے بعد ان کے لئے قرآن کریم سے مناسبت رکھنا، اسے سمجھنا ، اس میں تدبر کرنا آسان ہو، اورتدبر اور فہم کی صورت میں قرآن سے اس کو دلی مناسبت ہوجائے، ورنہ قرآن کو یاد رکھنا اس کے لئے ایک بوجھ بن جائے گا۔
(5) مدارس کے ذمہ داران کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ مدرسے ان کے ہاتھ میں اللہ تعالی کی امانت ہیں، اہل خیر نے ان کے لئے اپنا تعاون اس لئے پیش کیا ہے کہ یہ مدرسے ان کے لئے ذخیرہ آخرت بن سکیں، اور یہاں سے ایسے افراد پیدا ہوں، جو معاشرے کی دینی ضروریات کو پورا کریں، حلال وحرام بیان کریں، اور قال اللہ وقال الرسول کی گونج سے فضاؤں کو بھر دیں۔عطیہ دہندگا ن میں دو فیصد بھی ایسے نہیں ہونگے جو ان مدارس سے کمانے والے افراد پیدا کرنا اپنے عطیات پیش کررہے ہوں، اس مقصد کے لئے تو انگلش میڈیم پرائیوٹ اسکول کافی ہیں، اس کے لئے نئے مدارس دینیہ تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عطیہ دہندگان کے مقصد سے مختلف مدات میں تعاون خرچ کرنا ایک طرح سے خیانت شمار ہوگی، جس کی جواب دہی اللہ تعالی کے یہاں ہوگی۔
❤4
(6) اگر حافظان قرآن کسی وجہ سے دینی تعلیم جاری نہ رکھ سکیں ، اور بے کار گھوم رہے ہوں تو ان کے لئے معاشی میدانوں میں تعلیم و تربیت کا نظام ہو تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا،
(7) لیکن ایسے طلبہ کو چھان کر الگ کرنا ، جن کا حافظہ بہت مضبوط ہے،اور جو حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد قرآن سے مناسبت رکھنے والے تعلیمی میدانوں میں آگے بڑھ سکتے ہوں، اور وقت کے مفسر اور فقیہ بن سکتے ہوں، انہیں دنیا کی رغبتوں کی طرف مائل کرنا ، کوئی قابل تعریف کارنامہ نہیں ہوگا۔
(8) ہمیں معلوام نہیں قرآن پلس کلاسس کیا ہوتی ہیں، لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ ایک حافظ قرآن کو قرآن سے مناسبت رکھنے والے علوم کی ترغیب دینے کے بجائے ، دنیاوی ترقی دلانے والے علوم کی رغبت دلانا ، اور مدارس سے فائق اور ہونہار حفاظ قرآن کے
اٹھا لینے کو دین کی خدمت اور کار خیر سمجھنا بہت مشکل ہے۔
2026-08-07
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
(7) لیکن ایسے طلبہ کو چھان کر الگ کرنا ، جن کا حافظہ بہت مضبوط ہے،اور جو حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد قرآن سے مناسبت رکھنے والے تعلیمی میدانوں میں آگے بڑھ سکتے ہوں، اور وقت کے مفسر اور فقیہ بن سکتے ہوں، انہیں دنیا کی رغبتوں کی طرف مائل کرنا ، کوئی قابل تعریف کارنامہ نہیں ہوگا۔
(8) ہمیں معلوام نہیں قرآن پلس کلاسس کیا ہوتی ہیں، لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ ایک حافظ قرآن کو قرآن سے مناسبت رکھنے والے علوم کی ترغیب دینے کے بجائے ، دنیاوی ترقی دلانے والے علوم کی رغبت دلانا ، اور مدارس سے فائق اور ہونہار حفاظ قرآن کے
اٹھا لینے کو دین کی خدمت اور کار خیر سمجھنا بہت مشکل ہے۔
2026-08-07
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B