علم و کتاب
8.02K subscribers
1.14K photos
82 videos
2.37K files
6.26K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
*وفیات مورخہ:اگسٹ /19*
1963ء تمیز الدین۔ اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
1965ء اطہر جعفری (سید علی اطہر )۔ شاعر
1976ء جاں نثار اختر۔ شاعر ،
1983ء جعفرحسین۔ مولانا مفتی ، شیعہ ذاکر
1985ء ظفر احمد تھانوی۔ خلیفہ حکیم الامت تھانوی
1986ء ضیاء فتح آبادی (مہرلال سونی)۔ شاعر
1993ء صلاح جدید۔ شامی بعثی لیڈر
1998ء مطیع الامام۔ پروفیسر ، ڈاکٹر سید
1999ء شوکت حسین رضوی۔ فلمی ہدایت کار
2007ء ظل الرحمٰن ۔ مولانا، صدر جمعیۃ علمائے ہند مہاراشٹر
2015ء نثار احمد کلیم بیدری۔
2019ء محمد ظہور خیام۔ موسیقار

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
مورخہ 19 اکتوبر 1976ء کو اردو کے ممتاز شاعر جاں نثار اختر کی وفات ہوئی تھی، اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں کلام پیش خدمت ہے

کلام شاعر بزبان شاعر
جان نثار اختر
ہم سے بھاگا نہ کرو
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=hum-say-bhaga-na-karo-door, Hum Say Bhaga Na Karo Door

مزید کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jan-nisar-akhtar&t=

علم و کتاب
نام پیارا کتنا تیرا

کلام: مولانا سید محمد ثانی حسنی ندوی رحمہ اللہ
انتخاب و نقل: محمود الحسن مدراسی

خاک کا یہ ذرہ ذکرِ مہو شاں کیسے کرے،
عشق کے رازِ نہاں کو وہ عیاں کیسے کرے،
مدح؛ آقا کی گدائے بے نشاں کیسے کرے،
مشک سے دھوئے زباں کو پھر بیاں ایسے کرے۔

کُشت بے تیغم، بَعشوہ تُرک نازک پیکرے،
خوش بیانے، مہربانے، جانِ جانے، دل برے،

نعت کہتا ہوں تری آقائے من، شاہِ زمن!
نام پیارا کتنا تیرا، پاک تن، پاکیزہ من،
خندہ رو، روشن جبیں، غنچہ دہن، شیریں سُخن،
نکہتِ زُلفِ معنبر، پر فدا مُشکِ ختن،
یاسمن، رشکِ سمن، جانِ چمن، یا جانِ من،

آشنائے، دل رُبائے، خود نمائے، خود سَرے،

تُو ہے بحرِ بیکراں اور میں ذرا سی آب جُو،
اے سراپا نُور! تُو ہے دو جہاں کی آبرو،
مرحبا, صل علیٰ، جانِ جہانِ رنگ و بُو،
قیصریت؛ تیری آمد سے ہوئی ہے زرد رُو،
کفر سوزے، دل فروزے، خُوب رُو، آہستہ خو،

پاک دینے، پاک بینے، خوش تر از ہر خوش ترے۔

اخترِ تاباں کہوں یا مہِ کامل تجھے،
میں کہوں، کون و مکاں کی جان یا پھر دل تجھے،
میں سمجھتا ہوں نشانِ جادۂ منزل تجھے۔
دل کھنچیں بے ساختہ، وہ ہے کشش حاصل تجھے،
ناز نینے، مہ جبینے، دل کَشے یا دل کُشے،

جاں گدازے، دل نوازے، گوہرے یا اخترے۔

کوچۂ جاناں گئے تو بن کے دیوانہ گئے،
بادۂ عشق و محبت پی کے مستانہ گئے،
صبر آیا جب نہ ہم کو پھر تو روزانہ گئے،
نعت یہ پڑھتے ہوئے بے اختیارانہ گئے۔
سادۂ، آزادۂ، مستانۂ، جانانۂ،

مست چشمے، دیر خشمے، طرفہ زیبا منظرے۔

اے سراپا خُلق! تیری ذات ہے ہر دل عزیز،
تیرے صدقے میں خدا نے دی ہمیں عقل و تمیز،
تیرے در کی خاک ہی سُرمہ بنانے کی ہے چیز،
توڑنا دم تیرے در پر جان و دل سے ہے عزیز،
بے قرارم، اشک بارم، سخت زارم، اے عزیز!

دل بُرد، جاں آورد ہر دم، بطرزِ دیگرے۔

صلی اللہ علیہ وسلم۔
❤8
*بات سے بات: مولانا آزاد کی انڈیا ونس فریڈم اور برصغیر میں اس وقت کے حالات*
*تحریر: عبد المتین منیری*

دو ایک روز قبل ہماری بزم علم و کتاب میں مولانا ابو الکلام آزاد کی سوانح پر کتابوں کے بارے میں استفسار آیا تھا، جس کے جواب میں بعض احباب نے مولانا آزاد کی آب بیتی انڈیا ونس فریڈم کے مطالعہ کی سفارش کی تھی، یہ کالم اسی سے متعلق ہے)

مولانا کی سوانح پر اردو میں کئی ساری کتابیں آچکی ہیں، آخری دنوں میں شورش کاشمیری کی رحلت کے دو عشروں بعد شائع ہونے والی کتاب کو بڑی مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی، ہماری ناچیز رائے میں اثر پذیری میں یہ کتاب دوسری کتابوں پر فائق ہے، لیکن شورش کی تصانیف میں یہ بوئے گل اور پس دیوار زنداں کے پائے کی نہیں ہے۔
اپنے موضوع پر ڈھیر ساری کتابوں میں سے ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری، مولانا غلام رسول مہر، عبد الرزاق ملیح آبادی، عبد اللہ بٹ، اور مالک رام کی کتابیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ان کے علاوہ اور بھی کئی ساری کتابیں ہیں۔
ہمارے خیال میں مولانا آزاد کو غبار خاطر کے علاوہ کسی اور کتاب کو جم کر لکھنے کا موقع نہیں ملا، رہی کتاب "انڈیا ونس فریڈم'' نہ تو مولانا آزاد ابوالکلام کی مکمل سوانح عمری ہے اور نہ برصغیر کی جنگ آزادی کی مکمل تاریخ ہے۔ یہ کتاب 1937ء سے 1948ء تک صرف گیارہ برس کے سیاسی اتار چڑھاؤ کی کہانی ہے۔ اس دَور میں مولانا آزاد نے جو کچھ دیکھا، جن حالات سے گزرے اور جو کچھ محسوس کیا، اور حالات و واقعات پر انھوں نے اپنے مخصوص نقطۂ نظر سے جو رائے قائم کی، اور جس فیصلے پر ان کا قلب مطمئن ہوگیا تھا، اسے انھوں نے کتاب میں بے کم و کاست بیان کر دیا ہے۔

انڈیا ونس فریڈم میں مولانا ابوالکلام آزاد کے ترجمان اور کتاب کے مؤلف پروفیسر ہمایوں کبیر 1906ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کلکتہ اور آکسفورڈ میں شاندار کامیابیوں کے ساتھ تعلیم مکمل کی 1933ء میں انھوں نے عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھا تھا۔
مولانا آزاد سے ہمایوں کبیر کی پہلی ملاقات 1936ء میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ اُن سے اکثر ملتے رہے‘ قلعہ احمد نگر جیل میں مولانا نے ان کے مہاراجا سیاجی خطبات پڑھے تھے جو ”ہندوستانی ورثہ“ کے عنوان سے تھے۔ 1935ء میں شملہ کانفرنس کے موقع پر مولانا نے ہمایوں کبیر کو اپنے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرنے کی دعوت دی‘ وہ اس وقت بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن تھے۔ اس کے بعد کابینہ مشن کے ساتھ بات چیت کے موقع پر مولانا نے سیکرٹری کی حیثیت سے انھیں اپنے ساتھ رکھا۔ اس زمانے سے انھیں مولانا آزاد کو بہت قریب سے دیکھنے اور انھیں علمی اور اخلاقی حیثیتوں سے جانچنے اور پرکھنے کا موقع ملا تھا‘ اور وہ ان کی عظمت کے قائل تھے۔ مولانا آزاد بھی ان پر اعتماد اُن سے محبت اور ان کی رائے کا احترام کرتے تھے۔
ہندوستان کی آزادی کے بعد مولانا آزاد کی وزارت تعلیم میں انھیں ایڈوائزر مقرر کیا گیا ۔ 1957ء میں انھیں پنڈت نہرو کی کابینہ میں شہری ہوا بازی کی وزارت سونپی گئی ۔ یہ سلسلہ پنڈت نہرو کے بعد لال بہادر شاستری کی وزارت عظمیٰ کے دور (1964-66ء) اور اس کے بعد مسز اندرا گاندھی کی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں 1968ء تک جاری رہا۔
 انڈیا ونس فریڈم کا پہلا مجلد ایڈیشن مولانا کے انتقال کے گیارہ ماہ بعد جنوری ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا تھا۔
 اس کا پہلا اردو ترجمہ پروفیسر مجیب نے کیا تھا، اور ”ہماری آزادی“ کے نام سے ”اورینٹ لونگ مین“ نے فروری 1961ء میں ہندوستان سے شائع کیا تھا۔ ۱۹۸۸ء میں جب کتاب کے بقیہ تیس صفحات شائع ہوئے تو پھر اس کا ترجمہ ڈاکٹر ریاض الرحمن شروانی اور پروانہ ردولوی نے کیا تھا۔
 ۱۹۸۸ء میں اس کتاب کے بقیہ تیس صفحات کی اشاعت کے بعد ایک ادارے نے ڈاکٹر شمیم حنفی سے کتاب کا مکمل ترجمہ کروا کے شائع کیا تھا۔
 اس کتاب کی اشاعت کے فورا بعد سنہ ۱۹۵۹ء میں آزادی کی کہانی کے عنوان سے مولانا غلام رسول مہر نے اس کا ترجمہ کیا تھا، اور اس پر تحقیقی حواشی بھی لکھے تھے، لیکن ان کی زندگی میں یہ چھپ نہیں سکی، تین سا ل قبل انکے فرزند امجد سلیم علوی نے اسے شاندار انداز سے شائع کیا ہے۔ لیکن ابھی یہ کتاب ہماری دسترس میں نہیں ہے، اس کالم میں مذکورہ دیگر کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں۔
 انڈیا ونس فریڈم کی اشاعت کے فورا بعد رئیس احمد جعفری ندوی نے آزادی ہند کے منتخب مضامین کا انتخاب، تلخیص،اور استدراک کیا ، بنیادی طور پر یہ آزاد کی کتاب پر تنقید ہے، اسے اپنے وقت میں بڑی مقبولیت ملی،جعفری صاحب نے اسے ۸/ مئی ۱۹۵۹ء کو لکھنا شروع کرکے ۳۳/جون کو ختم کیا تھا۔ ایک ماہ کے اندر اس کے دو ایڈیشن نکلے تھے۔
 یوپی مسلم لیگ کے ایک سابق رہنما عبد الوحید خان نے بھی تقسیم ہند کے عنوان سے مولانا آزاد کی کتاب کا ایک رد لکھا تھا، جو اکتوبر ۱۹۵۹ء میں شائع ہوئی، اس کے مصنف تقسیم ہند سے قبل یوپی مسلم لیگ کے رہنما تھے، اور سابق وزیر تھے۔
❤2
 اپنے وقت میں مسلم لیگ کے طاقتور لیڈر چودھری خلیق الزماں کی تصنیف" شاہراہ پاکستان" بھی بنیادی طور پر مولانا آزاد کی اس کتاب کا ہی رد تھی۔
 مولانا آزاد کی کتاب پر تنقید میں جو کتابیں اس وقت منظر عام پر آئی تھیں، امید تھی کہ ان کے جواب میں مولانا غلام رسول مہر کا قلم چلے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا، ان کے حواشی کے ساتھ انڈیا ونس فریڈم کا ترجمہ بھی منظر عام پر اس وقت آ نہ سکا۔ یہ فریضہ مولانا آزاد کے محقق اور سیاسیاتِ ہند کے مبصر ڈاکٹر ریاض الرحمن شروانی (علی گڑھ) نے نہایت ذمہ داری، خوش اسلوبی اور قابلیت کے ساتھ ادا کیا۔ انھوں نے ہفت روزہ الکلام پٹنہ میں ایک سلسلۂ مضمون لکھنا شروع کیا، جس میں ان تمام غلط فہمیوں کو دُور کیا، جو جعفری مرحوم کی کتاب سے پیدا ہورہی تھیں، اور ان تمام اعتراضات کا دلائل کے ساتھ جواب دیا، جو مرحوم کی کتاب سے مولانا پر وارد ہوئے تھے۔یہ مجموعہ مضامین بعد میں " انڈیا ونس فریڈم۔ ایک مطالعہ " کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس سلسلے کا ایک اور اہم علمی کام مولانا محمد قریشی (لاہور) کی کتاب " مولانا ابو الکلام آزاد اور قوم پرست مسلمانوں کی سیاست " بھی ہے۔ جو سنہ ۱۹۹۱ء میں شائع ہوئی تھی۔ سنہ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں احمد حسین کمال کی کتاب" مولانا ابو الکلام آزاد نے برصغیر پاک وہند کے بارے میں کیا کہاتھا" منظر عام پر آئی تھی، جس میں انڈیا ونس فریڈم سے موضوع سے متعلق اقتباسات منتخب کئے گئے تھے۔ ہماری ناقص رائے میں مولانا آزاد کی کتاب کو پڑھنا بڑے صبر کا کام ہے، اور رئیس احمد جعفری کی کتاب کو پڑھنے کے بعد تو یہ کام اور بھی مشکل ہوجاتا ہے، لیکن ہماری رائے احمد حسین کمال کی کتاب مولانا آزاد کی طرف سے سب سے پرزور جواب ہے، اس کتاب نے مولانا آزاد کے تدبر اور دوربینی کو اظہر من الشمس کردیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد نظر آتا ہے کہ مولانا آزاد کے سامنے مستقبل آئینہ کی طرح کتنا واضح اور شفاف تھا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا آزاد نے ملک کی سیاسی ڈائری لکھنے کا آغاز ۱۹۳۷ء سے کیوں کیا؟، حالانکہ آزادی کی تحریکیں اس سے قبل اٹھیں تھی، اورمولانا آزاد ان میں قائد سالار کی حیثیت سے شریک بھی تھے،ریشمی رومال تحریک، تحریک خلافت ، اور تحریک ہجرت ، شہادت مسجد کانپور کی یادوں کو آپ نے محفوظ کرنا کیوں ضروری نہیں سمجھا؟۔ اسے آسانی سے سمجھنے میں ممد ومعاون ہونے کے لئے مولانا سید ابو الاعلی مودودی کی ۲۷/ اگست ۱۹۷۰ء کی ایک طویل تقریر تحریک اسلامی کے انتیس سال سے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔
"۱۹۲۴ءکے بعد مسلمان قوم میں ایک شدید انتشار برپا ہوا۔ اس انتشار کے دور میں پے در پے ایسی صورت حال پیدا ہوتی چلی گئی کہ جس سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ مسلمان سیدھے تباہی کی طرف چلے جارہے ہیں۔ میں تین چار چیزیں بطور مثال آپ کو بتانا چاہتا ہوں ۔ اسی زمانے میں ترکی میں اور ترکی کی نقل اتارتے ہوئے افغانستان اور ایران میں مغربی تہذیب کا بڑے زور شور سے ایک طوفان اٹھا ، مسلمانوں کے قومی لباس کو تبدیل کیا گیا۔ ٹرکی میں یکایک رسم الخط تبدیل کیا گیا۔ شریعت اسلامیہ کو منسوخ کیا گیا اور یوروپین ممالک سے قوانین لا کر نافذ کیے گئے۔ ان ساری چیزوں کا اثر ہندوستان کے مسلمانوں پر پڑنا شروع ہوا۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں بھی یہ خیال پیدا ہونا شروع ہوگیا کہ ہم کو مغربی لباس اختیار کرنا چاہیے۔ مغربی تہذیب اختیار کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی کھڑے ہوگئے جو رسم الخط کو بھی تبدیل کرنے کے لیےتیار ہوگئے۔۔۔۔
۔ دوسری طرف میں دیکھ رہا تھا کہ 1928 تک جو ہندوستان میں عام خیال یہ پایا جاتا تھا کہ کوئی آزادی کی تحریک مسلمانوں کو ساتھ ملائے بغیر نہیں چل سکتی اور مسلمان اس بھروسے پر تھے کہ کانگریس آزادی کے راستے پر ہمیں ساتھ لیے بغیر نہیں بڑھے گی۔ لیکن 1929 تک پہنچتے پہنچتے گاندھی نے مسلمانوں کی اس کمزوری کو بھانپ لیا کہ یہ قوم بالکل پراگندہ ہوچکی ہے اس میں کوئی قیادت باقی نہیں رہی ہے اس کے اندر کوئی تنظیم باقی نہیں رہی ہے۔اور میں صرف ہندوؤں کو لے کر اور انگریزوں سے لڑ کر آزادی حاصل کرسکتا ہوں۔ 1929 میں پہلی مرتبہ اس نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ WITH YOU, WITHOUT YOU, INSPITE OF YOU. میں آزادی کی جنگ لڑوں گا تم ساتھ آؤ تو آؤ نہیں آتے تمہارے بغیر لڑوں گا، مزاحمت کروگے تو تمہاری مزاحمت کے باوجود لڑوں گا۔ یہ 1929 میں اس وقت یہ بات کہی اور میں نے اندازہ کرلیا کہ اب مسلمانوں کی خیر نہیں ہے اس لیے کہ وہ واقعی اس پوزیشن میں تھا کہ ہندو قوم کو ساتھ لے کر انگریزی قوم کو عاجز کردے آزادی دینے پر مجبور کردے اور مسلمان دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں۔ ۔۔۔
❤1
1937ء میں مجھے حیدرآباد سے شمالی ہند کی طرف سفر کرنے کی ضرورت پیش آئی میں دہلی آیا۔ اس زمانے میں میں نے یکا یک یہ محسوس کیا کہ کیوں کہ ہندوستان کے چھ صوبوں میں ہندوؤں کی حکومت قائم ہوچکی تھی۔ اس وجہ سے مسلمانوں پر ایک کھلی شکست خوردگی کے آثار پائے جارہے تھے۔ جدھر میں گیا میں نے محسوس کیا کہ مسلمان اپنے آپ کو ایک شکست خوردہ قوم محسوس کررہے ہیں۔ دہلی سے جب میں واپس حیدرآباد گیا ہوں تو ریل میں ایک مشہور ہندو لیڈر ڈاکٹر کھرے اتفاق سے اسی کمپارٹمنٹ میں تھے جس میں میں تھا۔ بہت سے مسلمان بھی اس کمپارٹمنٹ میں موجود دتھے۔ مسلمان ڈاکٹر کھرے سے اس طرح بات کررہے تھے کہ جیسے ایک محکوم قوم کے افراد ایک حاکم قوم کے ایک آدمی سے بات کررہے ہوں۔ یہ منظر دیکھنے کے بعد میں حیدرآباد پہنچااور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کئی رات میرے لیے سونا مشکل ہوگیا۔ سوچتا رہا کہ یا اللہ اب کیا ہوگا۔۔۔۔
۔ اس کے بعد 1938 میں میں نے دیکھا کہ کانگریس اب اس بات پر اکتفا نہیں کررہی ہے کہ مسلمان آتے ہیں تو آئیں ہم تو اپنی آزادی کی جنگ لڑیں گے جو پالیسی 1929ء میں جس کا اعلان گاندھی نے کیا تھا بلکہ اس نے یہ پالیسی بنائی تھی کہ مسلمانوں سے بحیثیت جماعت سرے سے بات ہی نہ کی جائے بلکہ مسلم ماس کا نٹیکٹ کی ایک مہم چلائی جائے رابطہ عوام کی ایک مہم چلائی جائے۔ اور مسلمان افراد کو توڑ توڑ کر اپنے ساتھ ملایا جائے۔ یعنی ہم تمہاری کسی جماعت کو تسلیم نہیں کرتے۔ تمہاری کسی جماعت سے معاملہ طے کرکے مسلمانوں کے حقوق کے متعلق کوئی چیز طے کرنا نہیں چاہتے۔فرد فرد کو توڑ کر اپنے ساتھ اپنے اندر جذب کرلینا چاہتے ہیں۔۔۔(اقتباسات تحریک اسلامی کے انتیس سال)
ایسا لگتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کے بعد سے مسلمانوں نے تحریک آزادی کے لئے زبردست قربانیاں دیں، اور تحریکیں چلائیں، لیکن جب انگریزوں کے جانے کا وقت آیا تو پھر آپسی انتشار کے دلدل میں پھنس گئے، اور تحریک آزادی میں ان کا وزن ختم ہونے لگا۔
یہی زمانہ تھا کہ ۱۹۳۴ء میں محمد علی جناح مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی، اور قوم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر اور انہیں تقسیم کرکے ان کے ایک بڑے طبقے کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔
(اس کالم کے لئے ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری کی تحقیق وترتیب سے شائع شدہ انڈیا ونز فریڈم سے کافی استفادہ کیا گیا ہے)
2026-08-20
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ:اگسٹ /21*
1961ء عطاء اللہ شاہ بخاری۔ امیر شریعت، مولانا، سید
1973ء امیر الدین قدوائی۔ سید
2007ء غیاث متین۔
2007ء قرۃ العین حیدر۔ ناول نگار ،
2012ء شمیم الرحمٰن۔ صحافی ،
2018ء اظہار وارثی۔
2020ء مرتضی ساحل تسلیمی۔ مدیر ہلال رامپور
2021ء کلیان سنگھ۔ وزیر اعلی یوپی
2023ء محمد حسین نجفی۔ پاکستانی شیعہ مرجع

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
" صہبائے مینائی
از ڈاکٹر آفتاب احمد صدیقی

۔۔۔ص 18 یہ تعلیم وتلقين عین اس زمانہ میں جب " نقادی" کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ چیخ چیخ کر ٹی ایس ایلیٹ اور جیمس جوائیس اور فلاں فلاں " صاحب" کے سروں میں سر ملادیا جائے!
-اور اردو شاعری تو خیر تھی ہی مصنف نے اسی طنطنہ سے مدافعت لکھنؤ کی بدنام شاعری کی بھی کی ہے، اور ناسخ وزیر، رند قلق، یہاں تک کہ میاں امانت کے کلام سے بھی جواہر ریزے نکال کردیے ہیں! -
باقی تین باب امیر کی شاعری کے پس منظر ، امیر کی شخصیت اور ان کی شاعری پر تبصرہ کے لیے وقف ہیں، اور تینوں باب اول سے آخر تک پڑھنے کے قابل
-اس کے بعد صدہا شعرا امیر کے چاروں دیوانوں سے انتخاب کرکے پیش کیے ہیں، جن کا ہر صفحہ روکش گلزار-
آخر میں چند ضمیمے ہیں، ان میں امیر کی تصانیف کا ذکر ہے اور متفرقات
منفرد مضمون سے الگ ہو کر زبان وانشاء کے اعتبار سے بھی کتاب پھولوں میں تلنے کے قابل ہے
اودھ کے شرفاء کا صحیح سلیس شستہ روزمرہ، اب یہ زبان بھی کم تر دیکھنے میں آتی ہے، اور ان کمیاب نمونوں میں ایک کامیاب نمونہ یہ مجموعہ اوراق، روشن جیسے آفتاب، خنک جیسے ماہتاب " ۔

( تبصرات ماجدی، از مولانا عبدالماجد دریابادی مرحوم ) ۔
*وفیات مورخہ:اگسٹ /22*
1635ء میاں میر۔ صوفی بزرگ
1757ء بلھے شاہ۔
1932ء منورنجن بھٹا چاریہ۔
1935ء محمد رشید رضا مصری۔ مدیر مجلۃ المنار مصر ،
1944ء عبید اللہ سندھی۔ مولانا ، امام انقلاب
1948ء صوفیہ دلیپ سنگھ۔ پوتی مہاراجہ جگجیت سنگھ
1953ء عبدالعلیم صدیقی۔ مولانا ،شاہ، مبلغ اسلام، خلیفہ اعلی حضرت بریلوی
1957ء میراں بخش منہاس۔ ،
1966ء اسعد شاہجہانپوری (محمد صدیق حسن )۔ شاعر
1969ء اختر حسین ملک۔ قادیانی لیفٹننٹ جنرل
1976ء ملا واحدی دہلوی (سید مرتضی)۔ ادیب ،
1986ء جلال بایار۔ صدر ترکیہ
1987ء سلطان بیگ۔ مرزا
1995ء رضی الدین الرشید (لالہ میاں الرفاعی)۔ ،
1999ء محمد عبدالرشید نعمانی۔ مولانا ، عالم حدیث
2007ء عبدالرحمٰن۔ مولانا مفتی اعظم دہلی
2017ء عمران فاروق۔ مہاجر قومی مومنٹ
2022ء محمد سعد اللہ منگلوری۔

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
دبستان دہلی کے نمائندہ ادیب ملا واحدی کا آج یوم وفات ہے، آپ کی رحلت ۲۲ اگست ۱۹۷۶ء کو ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک نادر رکارڈنگ پیش خدمت ہے۔
بیتی یادیں
آواز: ملا واحدی
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=biti-yadain-02psnpgk9wtwmhw4dafc46movkg4drlnoz, Biti Yadain 02
مزید ریکارڈنگس
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=mulla-wahidi&t=
علم وکتاب
جس کی نہیں نظیر...
ظفر علی خان
 
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
 
مجھ پر خطا کی لاج تمہارے ہی ہاتھ ہے
مجھ ننگِ دو جہاں کا وسیلہ تمہی تو ہو
 
جو دست گیر ہے وہ تمہارا ہی ہاتھ ہے
جو ڈوبنے نہ دے وہ سہارا تمہی تو ہو
 
دنیا میں رحمتِ دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہی تو ہو
 
پھوٹا جو سینۂ شبِ تارِ الست سے
اس نورِ اوّلیں کا اجالا تمہی تو ہو
 
جلتے ہیں جبرئیل کے پر جس مقام پر
اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو
 
سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایتِ اولٰی تمہی تو ہو
❤4
آخری خلیفہ عثمانی عبد المجید ثانی جنہوں نے ۲۳ اگست ۱۹۴۴ء کو اس دنیا سے رحلت کی۔
❤1
کیا ہم مسلمان ہیں (٤٥) جان و دِل کی بازی - پہلی قسط
 
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
 
”اسلام کو سینے سے لگانے کے بعد تمہارے اُوپر کیا گزری ؟“
ایک بار حضرت سیّدنا عمر فاروقؓ نے حضرت خبابؓ بن الارت سے سوال کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مومنین اور مجاہدین اپنی شدید مظلومیت کی وادئِ پُرخار طَے کر کے ساحل مراد پر آپہنچے تھے کفر و شرک توحید و رسالتؐ سے ٹکرا کر پاش پاش ہو چکا تھا ظلمت سمٹ چکی تھی اور نور پھیل چکا تھا ـــــ لیکن سوال نے ایک بار پھر حضرت خبابؓ کو ماضی میں واپس پہنچا دیا اور مکّے کا وہ تیرہ سالہ عہدِ خوں چکاں ان کی آنکھوں میں پھر گیا جس کو اہل ایمان ویقین کے سوا دنیا کا کوئی انسان ایک یا دو دن بھی شاید ہی برداشت کر سکے ـــــ آنسوؤں اور خون میں لتھڑی ہوئی لمبی کہانی حضرت خبابؓ کے پاک ہونٹوں تک اُبھر کر آئی اور ـــــ تمام الفاظ گنگ و بے ہوش ہو گئے۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتے تھے مگر کچھ بھی نہ کہہ سکے ـــــ انھوں نے اس سوال کا جواب دینے کے لیے اپنا کُرتہ ہٹایا اور اپنی کمر حضرت امیر المومنینؓ کے سامنے بے نقاب کر دی ـــــ کمر کیا تھی چھالوں اور آبلوں کے نشانات کا ایک فرشِ گل تھا ـــــ زخموں کے داغ ہی داغ تھے ۔ چوٹوں اور ضربوں کی بے شمار بدھیاں تھیں یہ مظلومیت کی ایک مُرصّع داستان تھی ـــــ یہ جہاد و عزیمت کا ایک طویل افسانہ تھا ـــــ خُدا کی قسم ! یہ زندگی کا بہترین سازو سامان تھا ـــــ یہ تو آخرت کے ناپیدا کنار سفر کا بہترین توشہ تھا ۔
 
   اللّٰہ اکبر! عقیدت اور درد کے مارے حضرت عمر فاروقؓ اور بے ساختہ پُکار اُٹھے ” یہ تمہاری کمر ہے! ــــــ میں نے تو آج تک ایسی کوئی انسانی کمر کبھی نہیں دیکھی ۔۔۔۔۔۔! “
 
   "جی ہاں ! " حضرت خبابؓ کے لبوں پر ادائے شکر کا وہ تبسم کِھل اُٹھا جو صرف ایک مومن کے چہرے پر نظر آ سکتا ہے " خدا جانے کتنی ہی بار مجھے ایمان کو بچانے کے لیے جان کی بازی لگانی پڑی ــــــ شعلوں کے بستر پر میری راتیں کٹی ہیں اور تپتی ہوئی زرہ پہنا کر مجھے ریگستانوں کے تنور میں گھسیٹا گیا ہے اور یہ آگ سچ سچ میرے لہو اور میری چربی سے بجھتی تھی ۔ زندگی کے ہر سانس کو درد و کرب کا جہنّم بنا کہ مجھ سے کہا جاتا تھا کہ میں اپنے خُدا کو چھوڑ دوں ــــــ لیکن حقیقی دوزخ کی لپٹ سے بچنے کے لیے میں نے دنیا کے ہر الاؤ کو ہنسی خوشی برداشت کیا ــــــ یہ خُدا کا فضل وکرم تھا وہ جس پر چاہتا ہے اس کی بارش فرماتا ہے ۔"
 
   " پھر کیا ہوا ؟ " حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی آنکھیں رشک اور عقیدت سے چھلک رہی تھیں۔ 
 
” پھر مظلومیت کی خوں چکاں گھاٹی آخر طَے ہوگئی اور ظلم وستم سے انتقام لینے کے لیے اُٹھ کھڑے ہونے کا دُوسرا معرکہ آپہنچا ۔ ہائے جہادِ زندگی کے وہ بے قرار لمحے ــــــ ! جب تلواروں کی چھاؤں میں میٹھی نیند سونے کے لیے ہم اپنے اپنے گھروں سے یہ دعائیں مانگتے ہوئے نکلتے تھے کہ اے کاش میدانِ جہاد سے ہماری واپسی ہمارے خدا کی طرف ہو ــــــ ! جب خدا سے ملاقات کرنے کی بے قرار آرزو میں ہم زندگی کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر زمین و آسمان سے دُور ــــــ بہت دُور نکل جانا چاہتے تھے ....جب .... “
   یکا یک حضرت خبّابؓ پر گریہ طاری ہو گیا ــــــ آواز سینے میں بیٹھ رہی تھی اور آنسوؤں کی بوندیں پلکوں سے ٹپک کر ان کی داڑھی تر کر رہی تھیں۔
      ” اے خبابؓ بن الارت ــــــ ! رونے کی کیا بات ہے ؟ “لوگوں  نے تڑپ کر سوال کیا :
"حضرت خبّابؓ نے آنسوؤں کے درمیان سے جواب دیتے ہوئے فرمایا ــــــ” میں اس لیے روتا ہوں کہ ان تمام معرکوں کے بعد ہم پر خدا نے دنیا کے خزانوں کا مُنہ کھول دیا ــــــ ہمارے سروں پر عزّت و حشمت کے پرچم لہرائے ..... تو میرے بھائی مَیں ڈرتا ہوں ...... کہ ...... کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ ہمارے حقیر کاموں کا حساب اسی دُنیا میں چکا دیا گیا ہو ۔ اور آخرت کے بازار میں ہم خالی ہاتھ کھڑے نہ رہ جائیں ۔"
 
   یہ وہ شخص تھا جو دُنیا کی خوش حالی کو دیکھ کہ آخرت کے حیران کُن تصوّر سے رو رہا تھا جس نے زندگی کی صرف سینتیس٣٧ بہاریں دیکھی تھیں یہ وہ جوان تھا جس کے نفس کی ہر مادّی اُمنگ کو دار البقا کے خطروں نے بوڑھا کردیا تھا ــــــ جس نے یہ تہہ کی بات پالی تھی کہ یہ دنیا کتنی ہی حسین کیوں نہ ہو مگر بہر حال سرائے فانی ہے۔ محض حُسن رہ گزر ہے جو منزل تک پہنچانے کے بجائے مسافر کو اس کی منزل سے غافل کر دینا چاہتا ہے ــــــ دنیا سے بھاگ کھڑے ہونا بدترین بزدلی تھی اس لیے وہ اس کے درمیان سے گزرا مگر دنیا میں پاؤں پھیلا کر سوجانا بدترین موت تھی اس لیے وہ اِدھر اُدھر دیکھنے کے بجائے اُس دنیا پر نظر جمائے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہا تھا جو آنکھ بند ہوتے ہی آنکھوں کے سامنے ہوگی ۔ دنیا میں رہ کر اس نے دنیا کو اس حد تک چھوڑ دیا تھا کہ بسترِ مَوت سے اسے وصیّت کرتے ہوئے سُنا گیا ۔
❤1
” مجھے آبادیوں میں مت دفنا دینا ــــــ ! کوفہ کے ویرانوں میں میری پہلی قبر بنائی جائے ..... دیکھو جنگل میری طرف بازو پھیلا رہے ہیں ۔"
 
   ان کے انتقال کے بعد ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہٗ ان کی قبر پر سے گزرے تو بے اختیار رقّت طاری ہوگئی ۔
  
   ” اللہ خبّابؓ پر رحمت کی بارش کرے “ اُنھوں نے کہا " جو خوشی سے مسلمان ہوا ــــــ پھر خوشی سے ہجرت کی ، جہاد میں اپنی عمر کاٹی اور مصائب پر مصائب برداشت کیے ــــــ مبارک ہے وہ شخص جو زلزلۂ محشر و یاد رکھے ــــــ میزانِ عمل کے پاس کھڑے ہو کر زندگی کا وزن کرانے کی تیاریاں کرے ــــــ گزران کے بقدر مال پر قناعت کرے اور اپنے مولائے حقیقی کو راضی کرلے جائے ...... ،،
 
____________
جس وقت آلِ یاسرؓ پر ظلم وستم کی قیامت ٹوٹ پڑ رہی تھی ـــــ
جب حضرت یاسرؓ کا بُڑھاپا آتشیں زنجیروں میں جکڑ ڈالا گیا تھا جب ان کی بوڑھی شریکِ زندگی حضرت سُمیّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ٹھوکروں اور کچوکوں ، شعلوں اور زنجیروں کے درمیان سے گزرتی ہوئی ، جان والے پر جان دینے کی ریت ڈالنے کے لیے اسلام کی پہلی شہادت کا افتتاح کرنے جا رہی تھیں ـــــ جب ان بوڑھے ماں باپ کا جواں سال عمّارؓ ظلم واستبداد کے آخری شکنجوں میں کسا جا رہا تھا ـــــ اُس وقت وہ عاشقانِ پاک طینت لہو کے فواروں اور آنسوؤں کی موسلا دھار برسات میں یکایک فرطِ مسرت سے مُسکرا اُٹھے ـــــ صرف اس لیے کہ حضرت محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ان سوختہ سامانوں کے پاس سے یہ کہتے ہوئے گزر گئے تھے:-
"صبر کرو اے آلِ یاسر ! وعدہ ہے کہ تم سے ملاقات جنت میں ہو گی۔۔۔۔"
 
   سمیہؓ کی رُوح پر وجد طاری ہو چکا تھا ـــــــ شدّتِ کرب سے جب زبان اینٹھ گئی تھی وہ ظالموں سے کہہ رہی تھیں کہ " خدا ایک ہے ـــــــ خدا کی قسم !" بوڑھے ماں باپ نے اسلام پر جانیں نثار کر دیں اور جواں سال عمارؓ اس لیے زندہ رہے تاکہ ہجرت و جہاد کے حوصلے نکالنے کے بعد شہید ہوں ۔ اُنھوں نے مکّہ میں اپنا گھر چھوڑا اور ہجرتِ مدینہ کی راہ پر چل کھڑے ہوئے ـــــ مدینے کے قریب دامنُ قُبا میں اُنھوں نے پُر شوق مزدور کی طرح اللہ کا گھر تعمیر کیا ـــــــ مسجدِ قُبا کے لیے سب سے پہلا پتّھر جس شخص نے اُٹھایا وہ خاندانِ یاسرؓ کا یہی چشم و چراغ ہی تو تھا ۔ پھر شمشیر دسناں کی زد میں کھڑے ہو کر انھوں نے شہادت کی چاپ سُنی تو رُوح رقص کرنے لگی اور ہونٹوں پر نعرۂ مستانہ گونج اُٹھا:
 
    اب جا کر دوستوں سے ملیں گے ہم ـــــــ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں گے ـــــــ ان کی جماعت سے ملاقات ہوگی ۔""
 
      یہ نعرۂ شوق بلند کرتے ہوئے ہونٹ خشک ہونے لگے اور کسی سے پانی مانگا تو دُودھ سامنے کیا گیا ، اس کو پیا اور پی کر فرمایا:-   
       "حضور نے فرمایا تھا کہ تو دنیا کی سب سے آخری چیز دودھ پیے گا۔۔۔۔۔"
 
          یہ کہہ کر خوشی سے بے قابو ہو گئے ـــــــ اور شہادت نے بڑھ کر ان کو سچ مچ سینے سے لگا لیا ـــــــ وہ جس دنیائے فانی میں چورانوے سال تک مقیم رہے تھے ۔ اس دُنیا سے بچھڑنے کا انہیں کچھ غم نہ تھا وہ خوش تھے کہ جس خدا کے وہ ہیں اسی کی طرف پلٹ کر جا رہے ہیں اور کامیاب و سر خرو جا رہے ہیں ۔
______
دُعا کا اثر

حضرت میاں جیو قَدِّسَ اللّٰه روحهٗ سے لوگوں نے دریافت کیا کہ اس آیتِ کریمہ "ادْعُونِيْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ" (المؤمن: ٦٠) کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ تم دعا کرو، میں تمہارے لیے قبول کرتا ہوں، لیکن بہت سی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا کہ حق جلّ وعلا نے فرمایا ہے: مجھے یاد کرو۔ خالصتًا ایسی حالت میں یاد کرو، جب کہ تمہارے دل میں اور کوئی خیال نہ ہو۔ پس اگر کوئی شخص نہایتِ خلوص سے اور ماسواء اللّٰه سے دل کو خالی کرکے دُعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے اور رد نہیں ہوتی۔ لیکن دُعا کرتے وقت کسی غیر کا خیال آئے اور کوئی اندیشہ ہو تو ایسی دُعا کا اثر نہیں ہوتا۔ "ادْعُونِيْ" تو صرف خدا کی ذات کے لیے ہے۔ پس اگر دعا قبول نہ ہو تو آیتِ کریمہ کے مضمون کی نفی نہیں ہوتی۔

(سکینۃ الاولیاء، صفحہ: ۱۰۳/۰۴/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
Audio