اگر ہم مصنوعی ذہانت کو محض ایک میڈیم سمجھیں تو یہ ادب کے پھیلاؤ، ترجمے، تدوین اور تحقیق میں معاون بن سکتی ہے، مگر تخلیق کی روح اس کے دائرے سے باہر رہے گی۔ اگر مصنوعی ذہانت کی شاعری کے متعلق کوئی رائے قائم کرنی ہوگی تو مذکورہ تمام مباحث کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا کہ ادب کا مستقبل کیا ہوگا اور مستقبل میں شاعری کی ضرورت کیا رہ جائے گی۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ جس دنیا میں مشینیں زیادہ ہوں گی، وہاں انسان کو انسان ہونے کی یاد دلانے کے لیے شاعری کی ضرورت اور بڑھ جائے گی۔
پروفیسر مشتاق احمد
پروفیسر مشتاق احمد
👍2
قصہ ایک’نابینا‘ استاد کا
معصوم مرادآبادی
آج یوم اساتذہ ہے اور اس حوالے سے لوگ اپنے ان اساتذہ کو یاد کررہے ہیں جنھوں نے ان کی زندگی پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ میں اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے ایک ایسے نابینا استاد کا ذکر کرنا چاہوں گا جن سے میں نے اوائل عمری میں فارسی پڑھی تھی۔ یہ غالباً 1975 کا واقعہ ہے۔ آٹھویں کلاس پاس کرنے کے بعد مجھے ’مولوی‘ بنانے کے لیے مرادآباد کے مدرسہ امدادیہ میں داخل کرادیا گیا،جو مدرسہ شاہی کی پشت پر واقع تھا اور اس کے مہتمم مولانا باقر حسین بستوی تھے۔اس مدرسے کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں کے سبھی اساتذہ بہت لائق و فائق تھے۔
مدرسہ امدادیہ میں سب سے پہلے مجھے فارسی کلاس میں داخل کرایا گیا جو مدرسہ کے داخلی دروازے کے چھوٹے سے کمرے میں تھی۔ اس کلاس کے واحد استاد ماسٹر شوکت علی تھے جو پیدائشی نابنیا تھے مگر انھیں فارسی زبان پر ایسا عبور حاصل تھا کہ اگر شیخ سعدی بھی ان کی کلاس میں آجاتے تو وہ انھیں بھی گلستاں پڑھاکر چھوڑتے۔
بہرحال ہماری ابتداء ’کریما‘ سے کرائی گئی جو فارسی کی بنیادی کتاب ہے۔ ماسٹر شوکت علی کی خاص بات یہ تھی کہ ان کے ہاتھ میں ہر وقت ایک موٹا سا ڈنڈا رہتا تھا۔جہاں کوئی طالب علم سبق پڑھنے میں غلطی کرتا تو اس ڈنڈے میں قدرتی حرکت پیدا ہوجایا کرتی تھی، لہٰذا ہمیں ان کی کلاس میں بہت چوکنّا ہوکر بیٹھنا پڑتا تھا اور کو شش یہ ہوتی تھی کہ غلطی سے بھی کوئی ’غلطی‘نہ ہو۔ مگر ایسا ممکن نہیں تھا۔ جب بھی غلطی ہوتی ان کا ڈنڈا حرکت میں آجاتا اور وہ جسم کے کسی بھی حصے پر اپنے نقوش چھوڑ جاتا تھا۔ ماسٹر صاحب چونکہ نابنیا تھے اس لیے انھیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ ڈنڈے کا ہدف کیا ہو۔ یہ ڈنڈا ہمارے سر، منہ،ناک، کان اور ہاتھ کہیں بھی لگ جایا کرتا تھا اور ہم دیر تک اس حصے کو سہلاتے رہتے تھے جہاں اس کی زد پڑتی تھی۔ماسٹر صاحب کو جب غصہ آتا تو ان کی آنکھیں لال ہوجایا کرتی تھیں اور اس میں وہ محبت بھی جھلکتی تھی جو اپنے کسی شاگرد کو ’استاد‘ بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ بہرحال ہمیں فارسی پڑھنے میں کوئی دلچسپی یوں بھی نہیں تھی کہ ہم نے اپنے بچپن میں یہ مسخ شدہ کہاوت سن رکھی تھی۔
یہ دیکھو قدرت کا کھیل
پڑھے فارسی بیچے تیل
ہمیں فارسی پڑھ کر تیل بیچنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن گھر والوں کے اصرار پر روزانہ فارسی کلاس میں حاضری دینا ضروری تھا۔ بادل نخواستہ ہم نے فارسی پڑھی اور وہ بھی ایسی کہ گلستاں کی درجنوں حکایتیں یاد ہوگئیں۔ گلستاں کے بعد ’بوستاں‘ کا نمبر آیا اور ہم فارسی داں ہوگئے۔ المیہ یہ ہے کہ اتنی فارسی پڑھنے کے باجودآج کچھ یاد نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد فارسی سے کہیں واسطہ نہیں پڑا۔ البتہ ہم اردو میں استعمال ہونے والے فارسی الفاظ کو اسی طرح تلاش کرسکتے ہیں جیسے کھچڑی میں دال تلاش کی جاتی ہے۔فارسی پڑھنے کے بعد اردو ہمارے لیے بہت آسان ہوگئی۔ جب بھی اپنی اردو پر نظر ڈالتے ہیں تو ماسٹر شوکت علی سے زیادہ ان کا بے رحم ڈنڈا یاد آجاتا ہے۔ واقعی کیا استاد ہوا کرتے تھے کہ اپنے شاگردوں کے دماغ میں سارا علم انڈیل دینے کا جذبہ رکھتے تھے۔ آج ایسے اساتذہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مدرسہ کی چھٹی کے بعد ماسٹر شوکت علی کا ہاتھ پکڑ کر انھیں ان کے گھر تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی ہم پر تھی۔ ہم ان کی تمام تر ڈانٹ ڈپٹ اور پٹائی کے باوجود روزانہ انھیں بحفاظت ان کے دروازے تک چھوڑ کر آتے تھے۔
معصوم مرادآبادی
آج یوم اساتذہ ہے اور اس حوالے سے لوگ اپنے ان اساتذہ کو یاد کررہے ہیں جنھوں نے ان کی زندگی پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ میں اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے ایک ایسے نابینا استاد کا ذکر کرنا چاہوں گا جن سے میں نے اوائل عمری میں فارسی پڑھی تھی۔ یہ غالباً 1975 کا واقعہ ہے۔ آٹھویں کلاس پاس کرنے کے بعد مجھے ’مولوی‘ بنانے کے لیے مرادآباد کے مدرسہ امدادیہ میں داخل کرادیا گیا،جو مدرسہ شاہی کی پشت پر واقع تھا اور اس کے مہتمم مولانا باقر حسین بستوی تھے۔اس مدرسے کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں کے سبھی اساتذہ بہت لائق و فائق تھے۔
مدرسہ امدادیہ میں سب سے پہلے مجھے فارسی کلاس میں داخل کرایا گیا جو مدرسہ کے داخلی دروازے کے چھوٹے سے کمرے میں تھی۔ اس کلاس کے واحد استاد ماسٹر شوکت علی تھے جو پیدائشی نابنیا تھے مگر انھیں فارسی زبان پر ایسا عبور حاصل تھا کہ اگر شیخ سعدی بھی ان کی کلاس میں آجاتے تو وہ انھیں بھی گلستاں پڑھاکر چھوڑتے۔
بہرحال ہماری ابتداء ’کریما‘ سے کرائی گئی جو فارسی کی بنیادی کتاب ہے۔ ماسٹر شوکت علی کی خاص بات یہ تھی کہ ان کے ہاتھ میں ہر وقت ایک موٹا سا ڈنڈا رہتا تھا۔جہاں کوئی طالب علم سبق پڑھنے میں غلطی کرتا تو اس ڈنڈے میں قدرتی حرکت پیدا ہوجایا کرتی تھی، لہٰذا ہمیں ان کی کلاس میں بہت چوکنّا ہوکر بیٹھنا پڑتا تھا اور کو شش یہ ہوتی تھی کہ غلطی سے بھی کوئی ’غلطی‘نہ ہو۔ مگر ایسا ممکن نہیں تھا۔ جب بھی غلطی ہوتی ان کا ڈنڈا حرکت میں آجاتا اور وہ جسم کے کسی بھی حصے پر اپنے نقوش چھوڑ جاتا تھا۔ ماسٹر صاحب چونکہ نابنیا تھے اس لیے انھیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ ڈنڈے کا ہدف کیا ہو۔ یہ ڈنڈا ہمارے سر، منہ،ناک، کان اور ہاتھ کہیں بھی لگ جایا کرتا تھا اور ہم دیر تک اس حصے کو سہلاتے رہتے تھے جہاں اس کی زد پڑتی تھی۔ماسٹر صاحب کو جب غصہ آتا تو ان کی آنکھیں لال ہوجایا کرتی تھیں اور اس میں وہ محبت بھی جھلکتی تھی جو اپنے کسی شاگرد کو ’استاد‘ بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ بہرحال ہمیں فارسی پڑھنے میں کوئی دلچسپی یوں بھی نہیں تھی کہ ہم نے اپنے بچپن میں یہ مسخ شدہ کہاوت سن رکھی تھی۔
یہ دیکھو قدرت کا کھیل
پڑھے فارسی بیچے تیل
ہمیں فارسی پڑھ کر تیل بیچنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن گھر والوں کے اصرار پر روزانہ فارسی کلاس میں حاضری دینا ضروری تھا۔ بادل نخواستہ ہم نے فارسی پڑھی اور وہ بھی ایسی کہ گلستاں کی درجنوں حکایتیں یاد ہوگئیں۔ گلستاں کے بعد ’بوستاں‘ کا نمبر آیا اور ہم فارسی داں ہوگئے۔ المیہ یہ ہے کہ اتنی فارسی پڑھنے کے باجودآج کچھ یاد نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد فارسی سے کہیں واسطہ نہیں پڑا۔ البتہ ہم اردو میں استعمال ہونے والے فارسی الفاظ کو اسی طرح تلاش کرسکتے ہیں جیسے کھچڑی میں دال تلاش کی جاتی ہے۔فارسی پڑھنے کے بعد اردو ہمارے لیے بہت آسان ہوگئی۔ جب بھی اپنی اردو پر نظر ڈالتے ہیں تو ماسٹر شوکت علی سے زیادہ ان کا بے رحم ڈنڈا یاد آجاتا ہے۔ واقعی کیا استاد ہوا کرتے تھے کہ اپنے شاگردوں کے دماغ میں سارا علم انڈیل دینے کا جذبہ رکھتے تھے۔ آج ایسے اساتذہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مدرسہ کی چھٹی کے بعد ماسٹر شوکت علی کا ہاتھ پکڑ کر انھیں ان کے گھر تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی ہم پر تھی۔ ہم ان کی تمام تر ڈانٹ ڈپٹ اور پٹائی کے باوجود روزانہ انھیں بحفاظت ان کے دروازے تک چھوڑ کر آتے تھے۔
❤4
جنگ آزادی اور اردو صحافت کا ایک درخشاں باب
سہیل انجم
مولانا عبدالمجید سالک کا نام اردو صحافت کی تاریخ میں سنہرے حروف میں درج ہے۔ وہ صحافی و ادیب بھی تھے اور مجاہد آزادی بھی۔ انھوں نے برطانوی دور حکومت میں ایک سال کی جیل کاٹی تھی۔ انھوں نے اپنی خودنوشت ”سرگزشت“ میں، جو کہ اس عہد کی صحافت و سیاست کا ایک مستند باب ہے، جیل کے حالات اور رفقائے جیل کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ انھوں نے علامہ چراغ حسن حسرت کی فرمائش پر یہ خودنوشت لکھی تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن لاہور سے 1954 میں اور دوسرا1963 میں شائع ہوا۔ پہلے ایڈیشن میں ایک دیباچہ ہے جسے علامہ حسرت نے لکھا تھا۔ جبکہ دوسرے ایڈیشن میں ایک اور دیباچہ عبدالمجید سالک کے رفیق صحافت علامہ غلام رسول مہر کا ہے۔ عبدالمجید سالک نے مولانا ظفر علی خاں کے تاریخی اخبار ”زمیندار“ کو مقبولیت کے بام عروج پر پہنچا دیا تھا۔ لیکن مولانا ظفر علی خاں سے بعض امور پر اختلاف کے بعد انھوں نے مولانا غلام رسول مہر کے ساتھ مل کر اخبار ”انقلاب“ جاری کیا۔ اس اخبار نے بھی ایک تاریخ بنائی۔ یہ 1925 کے آس پاس کا واقعہ ہے۔ ایک بار انگریزی حکومت نے ان کے اخبار اور پریس پر چار چار ہزار کا جرمانہ عاید کر دیا جو ادا نہ کرنے کی صورت میں اخبار کی بندش پر منتج ہوتا۔ انھوں نے جرمانہ ادا کرنے سے انکار کیا اور اخبار میں اس کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی اعلان کر دیا کہ وہ فلاں تاریخ کو اخبار بند کر دیں گے۔ اس اعلان کے بعد اردو قارئین نے دست تعاون بڑھایا اور آٹھ ہزار کی رقم اکٹھی کرکے حکومت کے متعلقہ شعبے میں جمع کرا دی۔ اس وقت کے آٹھ ہزار روپے کی موجودہ قدر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مولانا عبدالمجید سالک کی خودنوشت سے انگریزوں کے زمانے کی جیل کے واقعات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت سیاسی قیدیوں کے ساتھ کتنا اچھا سلوک کیا جاتا تھا اور ان کو جیل میں بھی کتنی آزادی حاصل تھی۔ ان کے بارے میں علامہ چراغ حسن حسرت نے لکھا ہے کہ سالک صاحب نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب حالی و شبلی کی کرسیاں ابھی خالی نہیں ہوئی تھیں۔ مولانا محمد حسین آزاد ابھی بقیدحیات تھے۔ ڈپٹی نذیر احمد بوڑھے ہو چکے تھے لیکن انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں کبھی کبھی اس بوڑھے شیر کی گرج سنائی دے جاتی تھی۔ پرانے انداز کی ادبی شاعری کے ساتھ ساتھ پرانی سیاست گری کی بساط بھی لپیٹی جارہی تھی۔ مسلمانوں میں طلب حقوق کا ولولہ پیدا ہو رہا تھا۔ نئے ادبیوں اور شاعروں میں اقبال، ظفر علی خاں، حسرت موہانی اور ابو الکلام آزاد بہت نمایاں نظر آتے تھے۔ گاندھی جی کا نام بہت کم لوگوں نے سنا تھا۔ بہرحال ذیل میں ان کی خودنوشت کا ایک باب پیش کیا جا رہا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے:
نومبر 1921 کا ذکر ہے۔ میں دفتر زمیندار میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولانا حامد حسین بیدل شاہجہانپوری آگئے۔ کہنے لگے اب تو شام ہوگئی، گھر نہیں چلیں گے۔ میں نے کہا آپ دس منٹ بیٹھیے میں ابھی فارغ ہوا۔ چنانچہ دس منٹ کے بعد میں بیدل صاحب کے ساتھ چل دیا۔ گھر پہنچا تو مردانہ میں بیدل صاحب کو بٹھا کر خوداوپر گیا اور چانے کے لیے کہہ آیا۔ ابھی چائے تیار نہ ہوتی تھی کہ نیچے سے منشی نذیر احمد سیماب پبلشر زمیندار نے مجھے پکارا اور کہا ذرا سیڑھیوں میں آکر میری بات سنتے جائیے۔ میں نیچے اترا تو سیماب صاحب نے بتایا کہ مرزا نظام حسین انسپکٹر پو لیس چند سیاہیوں کو ساتھ لے کر میرے مکان پر آئے تھے، انہوں نے مجھے گرفتار کر لیا ہے اور آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔ چونکہ میں ہر روز اس دن کا متوقع تھا اس لیے مجھے کوئی پریشانی نہ ہوئی۔ میں نے اوپر جا کرا چکن پہنی اور گھر والوں کو اپنی گرفتاری کی خبر سنائی اور انہیں ہائے وائے کرتا ہوا چھوڑ کر نیچے اتر گیا۔ مرزا غلام حسین نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ مجھے تانگے میں بٹھایا اور تھانہ نولکھا کو چل دیے۔ بیدل صاحب پریشان ہو کر شفاعت اللہ خان، احمد شاہ بخاری، امتیاز علی تاج اور دوسرے دوستوں کو خبر دینے کے لیے بھاگے۔ ابھی میں تھانے میں پہنچا ہی تھا کہ گرفتاری کی خبر شہر میں اڑ گئی۔ میرے احباب بھی پہنچ گئے اور رضا کارانِ خلافت کے جیش کے جیش تھانے کے باہر تکبیر کے نعرے لگانے لگے۔ غالباً انھوں نے پولیس کے افسروں سے مطالبہ کیا ہوگا کہ ہمیں سالک صاحب سے ملاقات کا موقع دیا جائے۔ تھوڑی دیر بعد رضا کار ایک ایک کر کے انسپکٹر کے کمرے میں جہاں میں بیٹھا تھا آنے لگے۔ وہ مجھ سے مصافحہ کرتے اور چپ چاپ واپس چلے جاتے۔ یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ انسپکٹر صاحب نے ہمارے لیے چائے اور پیسٹری منگائی۔ ہم کھانے پینے اور قہقہے لگانے میں مصروف ہو گئے۔ کوئی دو گھنٹے بعد مرزا صاحب نے فرمایا کہ اب آپ آرام فرمائیے۔ چنانچہ دوست احباب رخصت ہوئے اور میں حوالات کی کو ٹھری میں جو تھانے کی ڈیوڑھی میں ہے، بند کر دیا گیا۔ شفاعت اللہ خاں نے میرا بستر، چند کتابیں،کچھ پان اور سگریٹ میرے لیے مہیا کر دیے اور میں اس تنگ وتاریک کوٹھری
سہیل انجم
مولانا عبدالمجید سالک کا نام اردو صحافت کی تاریخ میں سنہرے حروف میں درج ہے۔ وہ صحافی و ادیب بھی تھے اور مجاہد آزادی بھی۔ انھوں نے برطانوی دور حکومت میں ایک سال کی جیل کاٹی تھی۔ انھوں نے اپنی خودنوشت ”سرگزشت“ میں، جو کہ اس عہد کی صحافت و سیاست کا ایک مستند باب ہے، جیل کے حالات اور رفقائے جیل کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ انھوں نے علامہ چراغ حسن حسرت کی فرمائش پر یہ خودنوشت لکھی تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن لاہور سے 1954 میں اور دوسرا1963 میں شائع ہوا۔ پہلے ایڈیشن میں ایک دیباچہ ہے جسے علامہ حسرت نے لکھا تھا۔ جبکہ دوسرے ایڈیشن میں ایک اور دیباچہ عبدالمجید سالک کے رفیق صحافت علامہ غلام رسول مہر کا ہے۔ عبدالمجید سالک نے مولانا ظفر علی خاں کے تاریخی اخبار ”زمیندار“ کو مقبولیت کے بام عروج پر پہنچا دیا تھا۔ لیکن مولانا ظفر علی خاں سے بعض امور پر اختلاف کے بعد انھوں نے مولانا غلام رسول مہر کے ساتھ مل کر اخبار ”انقلاب“ جاری کیا۔ اس اخبار نے بھی ایک تاریخ بنائی۔ یہ 1925 کے آس پاس کا واقعہ ہے۔ ایک بار انگریزی حکومت نے ان کے اخبار اور پریس پر چار چار ہزار کا جرمانہ عاید کر دیا جو ادا نہ کرنے کی صورت میں اخبار کی بندش پر منتج ہوتا۔ انھوں نے جرمانہ ادا کرنے سے انکار کیا اور اخبار میں اس کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی اعلان کر دیا کہ وہ فلاں تاریخ کو اخبار بند کر دیں گے۔ اس اعلان کے بعد اردو قارئین نے دست تعاون بڑھایا اور آٹھ ہزار کی رقم اکٹھی کرکے حکومت کے متعلقہ شعبے میں جمع کرا دی۔ اس وقت کے آٹھ ہزار روپے کی موجودہ قدر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مولانا عبدالمجید سالک کی خودنوشت سے انگریزوں کے زمانے کی جیل کے واقعات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت سیاسی قیدیوں کے ساتھ کتنا اچھا سلوک کیا جاتا تھا اور ان کو جیل میں بھی کتنی آزادی حاصل تھی۔ ان کے بارے میں علامہ چراغ حسن حسرت نے لکھا ہے کہ سالک صاحب نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب حالی و شبلی کی کرسیاں ابھی خالی نہیں ہوئی تھیں۔ مولانا محمد حسین آزاد ابھی بقیدحیات تھے۔ ڈپٹی نذیر احمد بوڑھے ہو چکے تھے لیکن انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں کبھی کبھی اس بوڑھے شیر کی گرج سنائی دے جاتی تھی۔ پرانے انداز کی ادبی شاعری کے ساتھ ساتھ پرانی سیاست گری کی بساط بھی لپیٹی جارہی تھی۔ مسلمانوں میں طلب حقوق کا ولولہ پیدا ہو رہا تھا۔ نئے ادبیوں اور شاعروں میں اقبال، ظفر علی خاں، حسرت موہانی اور ابو الکلام آزاد بہت نمایاں نظر آتے تھے۔ گاندھی جی کا نام بہت کم لوگوں نے سنا تھا۔ بہرحال ذیل میں ان کی خودنوشت کا ایک باب پیش کیا جا رہا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے:
نومبر 1921 کا ذکر ہے۔ میں دفتر زمیندار میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولانا حامد حسین بیدل شاہجہانپوری آگئے۔ کہنے لگے اب تو شام ہوگئی، گھر نہیں چلیں گے۔ میں نے کہا آپ دس منٹ بیٹھیے میں ابھی فارغ ہوا۔ چنانچہ دس منٹ کے بعد میں بیدل صاحب کے ساتھ چل دیا۔ گھر پہنچا تو مردانہ میں بیدل صاحب کو بٹھا کر خوداوپر گیا اور چانے کے لیے کہہ آیا۔ ابھی چائے تیار نہ ہوتی تھی کہ نیچے سے منشی نذیر احمد سیماب پبلشر زمیندار نے مجھے پکارا اور کہا ذرا سیڑھیوں میں آکر میری بات سنتے جائیے۔ میں نیچے اترا تو سیماب صاحب نے بتایا کہ مرزا نظام حسین انسپکٹر پو لیس چند سیاہیوں کو ساتھ لے کر میرے مکان پر آئے تھے، انہوں نے مجھے گرفتار کر لیا ہے اور آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔ چونکہ میں ہر روز اس دن کا متوقع تھا اس لیے مجھے کوئی پریشانی نہ ہوئی۔ میں نے اوپر جا کرا چکن پہنی اور گھر والوں کو اپنی گرفتاری کی خبر سنائی اور انہیں ہائے وائے کرتا ہوا چھوڑ کر نیچے اتر گیا۔ مرزا غلام حسین نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ مجھے تانگے میں بٹھایا اور تھانہ نولکھا کو چل دیے۔ بیدل صاحب پریشان ہو کر شفاعت اللہ خان، احمد شاہ بخاری، امتیاز علی تاج اور دوسرے دوستوں کو خبر دینے کے لیے بھاگے۔ ابھی میں تھانے میں پہنچا ہی تھا کہ گرفتاری کی خبر شہر میں اڑ گئی۔ میرے احباب بھی پہنچ گئے اور رضا کارانِ خلافت کے جیش کے جیش تھانے کے باہر تکبیر کے نعرے لگانے لگے۔ غالباً انھوں نے پولیس کے افسروں سے مطالبہ کیا ہوگا کہ ہمیں سالک صاحب سے ملاقات کا موقع دیا جائے۔ تھوڑی دیر بعد رضا کار ایک ایک کر کے انسپکٹر کے کمرے میں جہاں میں بیٹھا تھا آنے لگے۔ وہ مجھ سے مصافحہ کرتے اور چپ چاپ واپس چلے جاتے۔ یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ انسپکٹر صاحب نے ہمارے لیے چائے اور پیسٹری منگائی۔ ہم کھانے پینے اور قہقہے لگانے میں مصروف ہو گئے۔ کوئی دو گھنٹے بعد مرزا صاحب نے فرمایا کہ اب آپ آرام فرمائیے۔ چنانچہ دوست احباب رخصت ہوئے اور میں حوالات کی کو ٹھری میں جو تھانے کی ڈیوڑھی میں ہے، بند کر دیا گیا۔ شفاعت اللہ خاں نے میرا بستر، چند کتابیں،کچھ پان اور سگریٹ میرے لیے مہیا کر دیے اور میں اس تنگ وتاریک کوٹھری
❤1
میں بستر بچھا کر ایسا غاقل ہوا کہ اس سے قبل ایسی غفلت اور بے فکری کی نیند کبھی نہ آئی تھی۔ کیونکہ آدھی رات تک اخبار پڑھنے اور زمیندار کے لیے مضامین لکھنے کی مشقت سے نجات ہو گئی تھی۔ ایک آدھ دفعہ گھر والوں کی پریشانی اور آئندہ مشکلات کا خیال آیا۔ لیکن دل نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اللہ ان کا مالک ورازق ہے۔
صبح نو بجے مرزا غلام حسین انسپکٹر تشریف لائے۔ مجھے حوالات سے نکالا۔ نہایت مشفقانہ تبسم کے ساتھ مجھے ہتھکڑی لگائی اور تانگے میں سوارکرا کر عدالت لے گئے۔ وہاں دوست احباب جمع تھے۔ میں لالہ شنکرداس لوتھرا مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا جنھوں نے ایک منٹ میں سماعت مقدمہ کی آئندہ تاریخ مقرر کر دی اور میں قیدیوں کی گاڑی میں سنٹرل جیل کو روانہ ہوا۔ جیل میں پہنچا تو جیل کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ایک بزرگ نظر آئے۔ گندمی رنگ خشخشی سی ڈاڑھی۔ سر پر پٹکا باندھے۔ قساوت و سنگ دلی کے آثار چہرے پر نمایاں۔ معلوم ہوا کہ آپ مرزا نواب بیگ جیلر ہیں۔ آپ نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا اچھا آپ بھی آگئے۔ ہنہ جن لوگوں کی باہر ضرورت ہے وہ اندر چلے آرہے ہیں۔ میں ان کی اس قدر افزائی پر شکر گزار ہوا کہ آخر کہیں تو مرزا صاحب نے ہماری ضرورت محسوس کی اندر نہ سہی باہرہی سہی۔ حکم ہوا کہ ان کو حوالات میں لے جاو ¿۔
سنٹرل جیل کے ایک کونے میں ایک وسیع احاطہ حوالات کہلاتا تھا جس میں ایک بہت بڑی کھلی بارک اور ایک اور عمارت تھی جس میں دونوں طرف کو ٹھر یوں کی قطاریں تھیں اور بیچ میں ایک غلام گردش چھوڑ دی گئی تھی۔ میرا ٹرنک اور بستر ایک پرانے قیدی نے اٹھایا اور ڈپٹی جیلر پرمانند مجھے ساتھ لے کر جیل کے اندر داخل ہوئے۔ یہاں داخل ہوتے ہی جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ اس عمارت کی صفائی تھی۔ صاف ستھری لپی پتی کچی دیواریں۔ مصفا سڑکیں جن پر دور تک ایک تنکا بھی پڑا ہو ا نظر نہ آتا تھا۔ ہر چیز با قاعدہ، ہر حصہ اور ہر خطہ با ضابطہ صفائی اورسلیقے کا مظہر۔ جب میں حوالات میں پہنچا تو مجھے ایک کوٹھری میں داخل کر کے اس کا سلاخ دار درروازہ مقفل کر دیا گیا۔ منشی نذیر احمد سیماب شروع ہی سے میرے ساتھ تھے۔ وہ بھی ایک کوٹھری میں بند کردیے گئے۔ ان کو ٹھریوں میں بعض تو ایسے حضرات تھے جنھیں میں جانتا تھا لیکن بعض کے ساتھ وہیں تعارف ہوا۔ ان میں کنڈا ڈاکو، شما ڈاکو بھی تھے۔ کنڈا ڈاکو بہت بہادر، اولوالعزم اور شریف انسان تھا۔ اگر میں یہ الفاظ ایک ڈاکو کے لیے استعمال کر رہا ہوں تو تعجب کا مقام نہیں۔ اس لیے کہ بعض بڑے بڑے ڈاکووں اور قاتلوں میں بھی شرافت اور اولوالعزمی کی خوبیاں نایاب نہیں ہوتیں۔
اس کوٹھڑی کی قطع یہ تھی کہ اس کا طول دس فٹ اور عرض آٹھ فٹ کے قریب تھا۔ اس کے عین درمیان ایک چبوترا بنا ہوا تھا جس کی صورت بالکل کسی شاہی قبر کے تعویذ سے ملتی جلتی تھی۔ ہم نے جاتے ہی اپنا ستر کھول کر بچھا دیا۔ قرآن مجید تکیے پر رکھ دیا۔ ٹرنک پاس ہی دیوار سے لگا دیا اور بیٹھ گئے۔ ایک طرف نظر پڑی توکونے میں ایک چھوٹا گملا اور ایک تسلہ دکھائی دیا۔ دریافت کر نے پر معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں علی الترتیب پیشاب اور پاخانے کے لیے ہیں۔
کچی مٹی کی کھڈی، کچا فرش، دیواروں پر مٹی کا پلستر۔ غرض جس طرف نظر اٹھتی تھی خاکساری کا جلوہ نظر آتا تھا۔ دن بھر میں دو دفعہ قیدی کھولے جاتے تھے یعنی ان کی کوٹھریوں کے قفل کھول کر انہیں اجازت دی جاتی تھی کہ احاطے میں گھوم پھر کر ہوا خوری کر لیں۔ اس وقت آپس میں ملاقات اور بات چیت ہوتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کے حالات و خیالات معلوم کر لیتے تھے۔ چونکہ میں ابھی حوالاتی تھا یعنی میرا مقدمہ زیر سمات تھا اس لیے میری خوراک کے لیے جیل میں ایک رقم داخل کر دی گئی تھی اور جیل والے میرے لیے دونوں وقت کھانا پکا کر بھیج دیتے تھے۔ یہ جیل کی خوراک نہیں بلکہ خاص خوراک تھی۔ لیکن پکانے والا ہر چیز کا ستیاناس کر دیتا تھا۔ خیر میں صبر و شکر کرکے یہ کھانا زہر مار کرتا رہا اور دن گزرتے چلے گئے۔ مقدمے کی سماعت ہوئی۔ استغاثہ پیش ہوا۔ استغاثہ کے گواہ پیش ہوئے۔ الزام یہ تھا کہ ملزم نے زمیندار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ایسا مضمون لکھا جس سے ملکہ معظم کی رعایا کے دو طبقوں ہندوستانیوں اور انگریزوں کے درمیان نفرت و حقارت پیدا ہوتی ہے۔ (دفعہ 153 الف تعزیرات ہند) مجھ سے پوچھا گیا جرح کروگے عرض کیا نہیں۔ پو چھا گیا صفائی پیش کرو گے جواب دیا نہیں۔ صرف ایک تحریری بیان داخل کروں گا جس کے لکھنے کے لیے جیل میں تحریر کی سہولتوں کا طالب ہوں۔ مجسٹر یٹ نے حکم دیا کہ سالک صاحب کو جیل میں قلم دوات اور کا غذ مہیا کر دیا جائے۔ مجھے جیل میں آئے ہوئے چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک دن دو پہر کے وقت قیدیوں اور جیل کے ملازموں میں کچھ سرگوشیاں ہونے لگیں۔ معلوم ہوا کہ کوئی بڑا ملزم گرفتار ہو کر آیا ہے۔ اتنے میں بابا گوردت سنگھ ہنستے ہوئے ہمارے احاطے میں داخل ہوئے۔ میانہ قامت ، سفید بھری ہوئی اور لمبی چوڑی داڑھی، سر پر سفید دستار، آنکھیں روشن ،
صبح نو بجے مرزا غلام حسین انسپکٹر تشریف لائے۔ مجھے حوالات سے نکالا۔ نہایت مشفقانہ تبسم کے ساتھ مجھے ہتھکڑی لگائی اور تانگے میں سوارکرا کر عدالت لے گئے۔ وہاں دوست احباب جمع تھے۔ میں لالہ شنکرداس لوتھرا مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا جنھوں نے ایک منٹ میں سماعت مقدمہ کی آئندہ تاریخ مقرر کر دی اور میں قیدیوں کی گاڑی میں سنٹرل جیل کو روانہ ہوا۔ جیل میں پہنچا تو جیل کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ایک بزرگ نظر آئے۔ گندمی رنگ خشخشی سی ڈاڑھی۔ سر پر پٹکا باندھے۔ قساوت و سنگ دلی کے آثار چہرے پر نمایاں۔ معلوم ہوا کہ آپ مرزا نواب بیگ جیلر ہیں۔ آپ نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا اچھا آپ بھی آگئے۔ ہنہ جن لوگوں کی باہر ضرورت ہے وہ اندر چلے آرہے ہیں۔ میں ان کی اس قدر افزائی پر شکر گزار ہوا کہ آخر کہیں تو مرزا صاحب نے ہماری ضرورت محسوس کی اندر نہ سہی باہرہی سہی۔ حکم ہوا کہ ان کو حوالات میں لے جاو ¿۔
سنٹرل جیل کے ایک کونے میں ایک وسیع احاطہ حوالات کہلاتا تھا جس میں ایک بہت بڑی کھلی بارک اور ایک اور عمارت تھی جس میں دونوں طرف کو ٹھر یوں کی قطاریں تھیں اور بیچ میں ایک غلام گردش چھوڑ دی گئی تھی۔ میرا ٹرنک اور بستر ایک پرانے قیدی نے اٹھایا اور ڈپٹی جیلر پرمانند مجھے ساتھ لے کر جیل کے اندر داخل ہوئے۔ یہاں داخل ہوتے ہی جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ اس عمارت کی صفائی تھی۔ صاف ستھری لپی پتی کچی دیواریں۔ مصفا سڑکیں جن پر دور تک ایک تنکا بھی پڑا ہو ا نظر نہ آتا تھا۔ ہر چیز با قاعدہ، ہر حصہ اور ہر خطہ با ضابطہ صفائی اورسلیقے کا مظہر۔ جب میں حوالات میں پہنچا تو مجھے ایک کوٹھری میں داخل کر کے اس کا سلاخ دار درروازہ مقفل کر دیا گیا۔ منشی نذیر احمد سیماب شروع ہی سے میرے ساتھ تھے۔ وہ بھی ایک کوٹھری میں بند کردیے گئے۔ ان کو ٹھریوں میں بعض تو ایسے حضرات تھے جنھیں میں جانتا تھا لیکن بعض کے ساتھ وہیں تعارف ہوا۔ ان میں کنڈا ڈاکو، شما ڈاکو بھی تھے۔ کنڈا ڈاکو بہت بہادر، اولوالعزم اور شریف انسان تھا۔ اگر میں یہ الفاظ ایک ڈاکو کے لیے استعمال کر رہا ہوں تو تعجب کا مقام نہیں۔ اس لیے کہ بعض بڑے بڑے ڈاکووں اور قاتلوں میں بھی شرافت اور اولوالعزمی کی خوبیاں نایاب نہیں ہوتیں۔
اس کوٹھڑی کی قطع یہ تھی کہ اس کا طول دس فٹ اور عرض آٹھ فٹ کے قریب تھا۔ اس کے عین درمیان ایک چبوترا بنا ہوا تھا جس کی صورت بالکل کسی شاہی قبر کے تعویذ سے ملتی جلتی تھی۔ ہم نے جاتے ہی اپنا ستر کھول کر بچھا دیا۔ قرآن مجید تکیے پر رکھ دیا۔ ٹرنک پاس ہی دیوار سے لگا دیا اور بیٹھ گئے۔ ایک طرف نظر پڑی توکونے میں ایک چھوٹا گملا اور ایک تسلہ دکھائی دیا۔ دریافت کر نے پر معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں علی الترتیب پیشاب اور پاخانے کے لیے ہیں۔
کچی مٹی کی کھڈی، کچا فرش، دیواروں پر مٹی کا پلستر۔ غرض جس طرف نظر اٹھتی تھی خاکساری کا جلوہ نظر آتا تھا۔ دن بھر میں دو دفعہ قیدی کھولے جاتے تھے یعنی ان کی کوٹھریوں کے قفل کھول کر انہیں اجازت دی جاتی تھی کہ احاطے میں گھوم پھر کر ہوا خوری کر لیں۔ اس وقت آپس میں ملاقات اور بات چیت ہوتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کے حالات و خیالات معلوم کر لیتے تھے۔ چونکہ میں ابھی حوالاتی تھا یعنی میرا مقدمہ زیر سمات تھا اس لیے میری خوراک کے لیے جیل میں ایک رقم داخل کر دی گئی تھی اور جیل والے میرے لیے دونوں وقت کھانا پکا کر بھیج دیتے تھے۔ یہ جیل کی خوراک نہیں بلکہ خاص خوراک تھی۔ لیکن پکانے والا ہر چیز کا ستیاناس کر دیتا تھا۔ خیر میں صبر و شکر کرکے یہ کھانا زہر مار کرتا رہا اور دن گزرتے چلے گئے۔ مقدمے کی سماعت ہوئی۔ استغاثہ پیش ہوا۔ استغاثہ کے گواہ پیش ہوئے۔ الزام یہ تھا کہ ملزم نے زمیندار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ایسا مضمون لکھا جس سے ملکہ معظم کی رعایا کے دو طبقوں ہندوستانیوں اور انگریزوں کے درمیان نفرت و حقارت پیدا ہوتی ہے۔ (دفعہ 153 الف تعزیرات ہند) مجھ سے پوچھا گیا جرح کروگے عرض کیا نہیں۔ پو چھا گیا صفائی پیش کرو گے جواب دیا نہیں۔ صرف ایک تحریری بیان داخل کروں گا جس کے لکھنے کے لیے جیل میں تحریر کی سہولتوں کا طالب ہوں۔ مجسٹر یٹ نے حکم دیا کہ سالک صاحب کو جیل میں قلم دوات اور کا غذ مہیا کر دیا جائے۔ مجھے جیل میں آئے ہوئے چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک دن دو پہر کے وقت قیدیوں اور جیل کے ملازموں میں کچھ سرگوشیاں ہونے لگیں۔ معلوم ہوا کہ کوئی بڑا ملزم گرفتار ہو کر آیا ہے۔ اتنے میں بابا گوردت سنگھ ہنستے ہوئے ہمارے احاطے میں داخل ہوئے۔ میانہ قامت ، سفید بھری ہوئی اور لمبی چوڑی داڑھی، سر پر سفید دستار، آنکھیں روشن ،
چہرہ بشاش۔ آتے ہی سب سے یوں ملے گویا برسوں کے شناسا ہوں۔ (یہ پوراباب کافی تفصیلی، دلچسپ اور قابل مطالعہ ہے)۔
موبائل: 9818195929
موبائل: 9818195929
❤1
*وفیات مورخہ:ستمبر /06)*
نوٹ: کل غلطی سے پانچ کی جگہ چھ ستمبر لکھا گیا تھا۔
1926ء کریم النسا خانم چودھرانی۔ شاعرہ
1936ء نورالحسن نیر۔ مولوی ، مصنف نور اللغات ،
1948ء امجد علی اعظمی۔ مولانا مفتی ، صدر الشریعۃ، مصنف بہار شریعت
1948ء امجدعلی اعظمی (محمد)۔ مولانا، صدر الشریعۃ، مصنف بہار شریعت
1963ء سید صدیق حسن۔
1964ء محمودہ بیگم۔
1981ء محمد قمر الحق۔ ڈاکٹر ،
1983ء آغا جی گل۔
2001ء اکرام احمد خان (آئی اے خان)۔ ،
2003ء محمد مصطفٰی کامل قلندر۔ ،
2004ء سید علی جوادزیدی۔
2004ء علی جوادزیدی (سید)۔ ادیب، نقاد ،
2005ء حسن عابدی (سید حسن عسکری عابدی)۔ شاعر
2006ء آغا شاہی۔ وزیر خارجہ پاکستان
2011ء عبد اللہ بن عبد العزیز عقیل۔ سعودی جج
2013ء خمار فاروقی (مسرورعالم)۔ ،
2013ء شفیع عقیل (محمد شفیع)۔ ادیب، صحافی ،
2015ء اے کے خان۔ ،
2020ء پرویز مہجور۔
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
نوٹ: کل غلطی سے پانچ کی جگہ چھ ستمبر لکھا گیا تھا۔
1926ء کریم النسا خانم چودھرانی۔ شاعرہ
1936ء نورالحسن نیر۔ مولوی ، مصنف نور اللغات ،
1948ء امجد علی اعظمی۔ مولانا مفتی ، صدر الشریعۃ، مصنف بہار شریعت
1948ء امجدعلی اعظمی (محمد)۔ مولانا، صدر الشریعۃ، مصنف بہار شریعت
1963ء سید صدیق حسن۔
1964ء محمودہ بیگم۔
1981ء محمد قمر الحق۔ ڈاکٹر ،
1983ء آغا جی گل۔
2001ء اکرام احمد خان (آئی اے خان)۔ ،
2003ء محمد مصطفٰی کامل قلندر۔ ،
2004ء سید علی جوادزیدی۔
2004ء علی جوادزیدی (سید)۔ ادیب، نقاد ،
2005ء حسن عابدی (سید حسن عسکری عابدی)۔ شاعر
2006ء آغا شاہی۔ وزیر خارجہ پاکستان
2011ء عبد اللہ بن عبد العزیز عقیل۔ سعودی جج
2013ء خمار فاروقی (مسرورعالم)۔ ،
2013ء شفیع عقیل (محمد شفیع)۔ ادیب، صحافی ،
2015ء اے کے خان۔ ،
2020ء پرویز مہجور۔
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*جلوہ ہائے پابہ رکاب ( 58)۔۔۔ ترکی کی ایک عجیب مسجد*
*از: ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم*
ترکی کے مشہور شہر استنبول میں ایک مسجد ہے جس کی تعمیر میں ایک عجیب و غریب قصہ مضمر ہے۔ یہ مسجد فاتح محلے میں واقع ہے اور اس کو کیجی خیر الدین افندی نے 1750ء میں بنایا تھا۔
خیر الدین کوئی مالدار آدمی نہیں تھے بلکہ ایک عام انسان تھے جن کے پاس اتنی دولت نہ تھی کہ وہ اکیلے ایک مسجد کی تعمیر کر سکیں۔ لیکن ان کے دل میں مسجد بنانے کی خواہش تھی اور پکا عزم بھی۔ انھوں نے اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا۔
انھوں نے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنے نفس کو کچلنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان کو جب کبھی کوئی اچھی چیز کھانے کی خواہش ہوتی، تو اپنے نفس پر کنٹرول کرتے اور مطلوبہ چیز کھانے کی بجائے یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے کہ: ”سانکی یدم“ (Sanki yedim) یعنی گویا کہ میں نے وہ چیز کھالی ہے۔ پھر اس کھانے کی قیمت معلوم کرتے، اور اتنی رقم ایک ڈبے میں جمع کر دیتے۔
عرصے تک وہ اس نظام پر قائم رہے اور مدت بعد جب انھوں نے جمع شدہ پونجی کا حساب کیا تو ان کو یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ ان کے پاس اتنی رقم جمع ہے جس سے ایک مسجد کی تعمیر ہو سکتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے 1750ء میں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد بنادی۔ جب محلے کے لوگوں کو اس مسجد کی تعمیر میں خیر الدین افندی کی قربانی کا علم ہوا تو انھوں نے اس مسجد کا نام Sanki Yedim Camii رکھ دیا۔ اس عجیب و غریب نام کا ترجمہ یوں ہے: ”مسجد گویا میں نے کھالیا“۔
جنگِ عظیم میں یہ مسجد جل گئی تھی، اور جنگ ختم ہونے کے بعد 1960ء میں اس کی تعمیرِ نو عمل میں آئی۔
یہ مسجد اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ اگر انسان کا عزم پکا ہو تو اللہ تعالیٰ کی تائید سے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ مثل مشہور ہے: ہمتِ مرداں مددِ خدا۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*از: ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم*
ترکی کے مشہور شہر استنبول میں ایک مسجد ہے جس کی تعمیر میں ایک عجیب و غریب قصہ مضمر ہے۔ یہ مسجد فاتح محلے میں واقع ہے اور اس کو کیجی خیر الدین افندی نے 1750ء میں بنایا تھا۔
خیر الدین کوئی مالدار آدمی نہیں تھے بلکہ ایک عام انسان تھے جن کے پاس اتنی دولت نہ تھی کہ وہ اکیلے ایک مسجد کی تعمیر کر سکیں۔ لیکن ان کے دل میں مسجد بنانے کی خواہش تھی اور پکا عزم بھی۔ انھوں نے اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا۔
انھوں نے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنے نفس کو کچلنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان کو جب کبھی کوئی اچھی چیز کھانے کی خواہش ہوتی، تو اپنے نفس پر کنٹرول کرتے اور مطلوبہ چیز کھانے کی بجائے یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے کہ: ”سانکی یدم“ (Sanki yedim) یعنی گویا کہ میں نے وہ چیز کھالی ہے۔ پھر اس کھانے کی قیمت معلوم کرتے، اور اتنی رقم ایک ڈبے میں جمع کر دیتے۔
عرصے تک وہ اس نظام پر قائم رہے اور مدت بعد جب انھوں نے جمع شدہ پونجی کا حساب کیا تو ان کو یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ ان کے پاس اتنی رقم جمع ہے جس سے ایک مسجد کی تعمیر ہو سکتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے 1750ء میں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد بنادی۔ جب محلے کے لوگوں کو اس مسجد کی تعمیر میں خیر الدین افندی کی قربانی کا علم ہوا تو انھوں نے اس مسجد کا نام Sanki Yedim Camii رکھ دیا۔ اس عجیب و غریب نام کا ترجمہ یوں ہے: ”مسجد گویا میں نے کھالیا“۔
جنگِ عظیم میں یہ مسجد جل گئی تھی، اور جنگ ختم ہونے کے بعد 1960ء میں اس کی تعمیرِ نو عمل میں آئی۔
یہ مسجد اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ اگر انسان کا عزم پکا ہو تو اللہ تعالیٰ کی تائید سے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ مثل مشہور ہے: ہمتِ مرداں مددِ خدا۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤3
یہ بات صبا کہیو ان سے وہ جن کی کملیا کالی ہے
اب ان کے غلاموں کے گھر کی دیوار الٹنے والی ہے
کہیو کہ انہوں نے اپنی نظر کیوں ہم سے الگ فرمالی ہے
ہم نے تو انہیں کی زلفوں کی زنجیر گلے میں ڈالی ہے
کہیو کہ دلوں پر چھائی ہوئی ہر سمت شکستہ حالی ہے
دن بھی بڑا سونا سونا اور رات بھی کالی کالی ہے
کہیو کہ یہ صورت حال ہے اب ہم منہ کو چھپائے پھرتے ہیں
گردن پہ تو چہرے ہیں؛ لیکن چہروں پہ کہاں اب لالی ہے
کہیو کہ وہی تو ساقی ہیں، کہیو کہ وہ یہ بھی جانے ہیں
رندوں کو لگی ہے پیاس بہت اور سب کا پیالہ خالی ہے
(ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب رحمہ اللہ)
اب ان کے غلاموں کے گھر کی دیوار الٹنے والی ہے
کہیو کہ انہوں نے اپنی نظر کیوں ہم سے الگ فرمالی ہے
ہم نے تو انہیں کی زلفوں کی زنجیر گلے میں ڈالی ہے
کہیو کہ دلوں پر چھائی ہوئی ہر سمت شکستہ حالی ہے
دن بھی بڑا سونا سونا اور رات بھی کالی کالی ہے
کہیو کہ یہ صورت حال ہے اب ہم منہ کو چھپائے پھرتے ہیں
گردن پہ تو چہرے ہیں؛ لیکن چہروں پہ کہاں اب لالی ہے
کہیو کہ وہی تو ساقی ہیں، کہیو کہ وہ یہ بھی جانے ہیں
رندوں کو لگی ہے پیاس بہت اور سب کا پیالہ خالی ہے
(ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب رحمہ اللہ)
❤4
Mr Sid
سلسلہ نمبر: 318 انتخاب مطالعہ تحریر: مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی *اسلام دشمنی کا مقابلہ کیسے کریں؟* مغربی دنیا میں اسلام دشمنی کو ختم کرنے کے لئے دانش مندانہ اور مستحکم حکمت عملی اختیار کرکے اسلام اور مسلمانوں کی سچی و صحیح تصویر پیش کرنے…
سلسلہ نمبر: 319
انتخاب مطالعہ
تحریر: مولانا راشد امین
*سیلف سینسر شپ (Self-Censorship)، خوف کی نفسیات اور ”چلنگ ایفیکٹ “*
مسلسل ریاستی و سماجی نگرانی اور اسلاموفوبیا کا ایک بہت بڑا،خاموش مگر تباہ کن نفسیاتی اور علمی اثر یہ ہوا ہے کہ مسلم نوجوانوں، طالب، علموں اور محققین نے اپنے تحفظ کی خاطر ” سیلف سینسر شپ“ (اپنی آواز خود دبانا) شروع کر دیا ہے،قانون اور انسانی حقوق کی اصطلاح میں اس کیفیت کو ”چلنگ ایفیکٹ “ کہا جاتا ہے۔ اس سے مرادا ایک ایسا جابرانہ قانونی اور نفسیاتی دباؤ ہے جو عام شہریوں کو محض خوف کی وجہ سے ان کے جائز آئینی اور جمہوری حقوق ( جیسے آزادی اظہارِ رائے) کے استعمال سے روک دے۔
فرانسیسی فلسفی مشیل فوکو (Michel Foucault) کےپیناپٹیکن(Panopticon) نظریے کے عین مطابق، جب کسی اقلیتی گروہ کو یہ احساس دلا دیا جائے کہ ریاستی ادارے، میڈیا اور خود اکثریتی معاشرہ ہر وقت ان کی نگرانی کر رہا ہے، تو وہ بیرونی دباؤ کے بغیر ہی خود اپنے رویوں پر پہرے بٹھا لیتے ہیں۔ وہ سیاسی موضوعات پر بات کرنے، سوشل میڈیا پر رائے دینے، یا تعلیمی اداروں میں حساس موضوعات پر ریسرچ کرنے سے ڈرتے ہیں تاکہ انہیں ” انتہا پسند ، ملک دشمن یا غدار “نہ سمجھ لیا جائے۔
ہندوستان کے موجودہ تعلیمی، سماجی اور ڈیجیٹل منظر نامے میں اس خوف کی نفسیات اور سیلف سینسر شپ کی کئی ٹھوس مثالیں بآسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔ آج کا مسلم نوجوان فیس بک ، ایکس ( ٹوئٹر ) یا واٹس ایپ پر سیاسی حالات، اقلیتوں پر ہونے والے مظالم یا حکومتی پالیسیوں پر اپنی رائے کا اظہار کرنے سے شدید خوفزدہ ہے؛ وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کی کسی عام سی پوسٹ کا اسکرین شاٹ لے کر مقامی پولیس کو ٹیگ کر دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس پر آئی ٹی ایکٹ (IT Act) یا یو اے پی اے(UAPA) کے تحت مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔
ایمنسٹی انٹر نیشنل اور انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (IFF) کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے خوف کے باعث اپنے پرانے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے ہیں، یا وہ متنازعہ خبروں کو شیئر یا لائیک کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیمی اداروں، بالخصوص جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اداروں میں مسلم محققین (PhD Scholars) اب ایسے تحقیقی موضوعات کا انتخاب کرنے سے کتراتے ہیں جن کا تعلق اقلیتی حقوق، ریاستی تشدد، کشمیر کے حالات یا ہندوتوا کی سیاست سے ہو۔ اکیڈمک سطح پر یہ سیلف سینسر شپ اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ نوجوانوں کو یہ خوف ہے کہ اگر ان کی ریسرچ ریاستی بیانیے سے ذرا بھی مختلف ہوئی تو نہ صرف انہیں ڈگریاں ملنے میں رکاوٹ آئے گی، بل کہ مستقبل میں انہیں سرکاری یا نجی ملازمتیں ملنے کے دروازے بھی بند کر دیے جائیں گے۔
یہ چلنگ ایفیکٹ کارپوریٹ سیکٹر اور نجی ملازمتوں تک بھی پھیل چکا ہے، کئی پڑھے لکھے مسلم پروفیشنلز دفتر میں لنچ کے دوران ہونے والی سیاسی بحثوں سے خاموشی سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں، وہ اپنے ساتھیوں کے اسلاموفوبک تبصروں کا جواب دینے سے محض اس لیے ڈرتے ہیں کہ کہیں انہیں دفتر کے ایچ آر (HR) میں بلوا کر نوکری سے نہ نکال دیا جائے،یہ وہ خاموش نفسیاتی تشدد ہے جس نے ان کی خود اعتمادی کو بری طرح کچل دیا ہے۔
دی وائر (The Wire) اور میٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CP) کی رپورٹس کے مطابق ، آزاد صحافیوں کو مسلسل یہ ڈر لاحق رہتا ہے کہ ان کی کسی تحریر کو بنیاد بنا کر انہیں ای ڈی (ED) کی تفتیش یا غداری کے مقدمات میں نہ الجھادیا جائے۔
یہ ”سیلف سینسر شپ“ اسلاموفوبیا کی سب سے کامیاب اور خطرناک شکل ہے؛کیونکہ اس میں ریاست یا اکثریتی طبقے کو اقلیت پر براہ راست طاقت استعمال نہیں کرنی پڑتی، بل کہ اقلیت کا اپنا خوف ہی ان کی زبان، ان کے قلم اور ان کی سوچ کی زنجیر بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال مسلم کمیونٹی کو بتدریج ایک گونگی اور بے حس اقلیت میں تبدیل کر رہی ہے، جو کسی بھی فعال اور جمہوری معاشرے کے لیے ایک المیہ ہے۔
( اسلاموفوبیا: نفرت کا بیانیہ، حکمت کا پیغام، صفحہ: 196، طبع: قرطاس پبلکیشنز،)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
انتخاب مطالعہ
تحریر: مولانا راشد امین
*سیلف سینسر شپ (Self-Censorship)، خوف کی نفسیات اور ”چلنگ ایفیکٹ “*
مسلسل ریاستی و سماجی نگرانی اور اسلاموفوبیا کا ایک بہت بڑا،خاموش مگر تباہ کن نفسیاتی اور علمی اثر یہ ہوا ہے کہ مسلم نوجوانوں، طالب، علموں اور محققین نے اپنے تحفظ کی خاطر ” سیلف سینسر شپ“ (اپنی آواز خود دبانا) شروع کر دیا ہے،قانون اور انسانی حقوق کی اصطلاح میں اس کیفیت کو ”چلنگ ایفیکٹ “ کہا جاتا ہے۔ اس سے مرادا ایک ایسا جابرانہ قانونی اور نفسیاتی دباؤ ہے جو عام شہریوں کو محض خوف کی وجہ سے ان کے جائز آئینی اور جمہوری حقوق ( جیسے آزادی اظہارِ رائے) کے استعمال سے روک دے۔
فرانسیسی فلسفی مشیل فوکو (Michel Foucault) کےپیناپٹیکن(Panopticon) نظریے کے عین مطابق، جب کسی اقلیتی گروہ کو یہ احساس دلا دیا جائے کہ ریاستی ادارے، میڈیا اور خود اکثریتی معاشرہ ہر وقت ان کی نگرانی کر رہا ہے، تو وہ بیرونی دباؤ کے بغیر ہی خود اپنے رویوں پر پہرے بٹھا لیتے ہیں۔ وہ سیاسی موضوعات پر بات کرنے، سوشل میڈیا پر رائے دینے، یا تعلیمی اداروں میں حساس موضوعات پر ریسرچ کرنے سے ڈرتے ہیں تاکہ انہیں ” انتہا پسند ، ملک دشمن یا غدار “نہ سمجھ لیا جائے۔
ہندوستان کے موجودہ تعلیمی، سماجی اور ڈیجیٹل منظر نامے میں اس خوف کی نفسیات اور سیلف سینسر شپ کی کئی ٹھوس مثالیں بآسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔ آج کا مسلم نوجوان فیس بک ، ایکس ( ٹوئٹر ) یا واٹس ایپ پر سیاسی حالات، اقلیتوں پر ہونے والے مظالم یا حکومتی پالیسیوں پر اپنی رائے کا اظہار کرنے سے شدید خوفزدہ ہے؛ وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کی کسی عام سی پوسٹ کا اسکرین شاٹ لے کر مقامی پولیس کو ٹیگ کر دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس پر آئی ٹی ایکٹ (IT Act) یا یو اے پی اے(UAPA) کے تحت مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔
ایمنسٹی انٹر نیشنل اور انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (IFF) کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے خوف کے باعث اپنے پرانے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے ہیں، یا وہ متنازعہ خبروں کو شیئر یا لائیک کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیمی اداروں، بالخصوص جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اداروں میں مسلم محققین (PhD Scholars) اب ایسے تحقیقی موضوعات کا انتخاب کرنے سے کتراتے ہیں جن کا تعلق اقلیتی حقوق، ریاستی تشدد، کشمیر کے حالات یا ہندوتوا کی سیاست سے ہو۔ اکیڈمک سطح پر یہ سیلف سینسر شپ اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ نوجوانوں کو یہ خوف ہے کہ اگر ان کی ریسرچ ریاستی بیانیے سے ذرا بھی مختلف ہوئی تو نہ صرف انہیں ڈگریاں ملنے میں رکاوٹ آئے گی، بل کہ مستقبل میں انہیں سرکاری یا نجی ملازمتیں ملنے کے دروازے بھی بند کر دیے جائیں گے۔
یہ چلنگ ایفیکٹ کارپوریٹ سیکٹر اور نجی ملازمتوں تک بھی پھیل چکا ہے، کئی پڑھے لکھے مسلم پروفیشنلز دفتر میں لنچ کے دوران ہونے والی سیاسی بحثوں سے خاموشی سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں، وہ اپنے ساتھیوں کے اسلاموفوبک تبصروں کا جواب دینے سے محض اس لیے ڈرتے ہیں کہ کہیں انہیں دفتر کے ایچ آر (HR) میں بلوا کر نوکری سے نہ نکال دیا جائے،یہ وہ خاموش نفسیاتی تشدد ہے جس نے ان کی خود اعتمادی کو بری طرح کچل دیا ہے۔
نیوز رومز اور اشاعتی اداروں سے وابستہ مسلم صحافی اور کالم نگار بھی اس دباؤ کا شکار ہیں، جب وہ کوئی مضمون لکھتے ہیں تو وہ الفاظ کے چناؤ میں اس قدر محتاط ہوجاتے ہیں کہ اصل حقائق کی شدت ہی دم توڑ دیتی ہے۔دی وائر (The Wire) اور میٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CP) کی رپورٹس کے مطابق ، آزاد صحافیوں کو مسلسل یہ ڈر لاحق رہتا ہے کہ ان کی کسی تحریر کو بنیاد بنا کر انہیں ای ڈی (ED) کی تفتیش یا غداری کے مقدمات میں نہ الجھادیا جائے۔
یہ ”سیلف سینسر شپ“ اسلاموفوبیا کی سب سے کامیاب اور خطرناک شکل ہے؛کیونکہ اس میں ریاست یا اکثریتی طبقے کو اقلیت پر براہ راست طاقت استعمال نہیں کرنی پڑتی، بل کہ اقلیت کا اپنا خوف ہی ان کی زبان، ان کے قلم اور ان کی سوچ کی زنجیر بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال مسلم کمیونٹی کو بتدریج ایک گونگی اور بے حس اقلیت میں تبدیل کر رہی ہے، جو کسی بھی فعال اور جمہوری معاشرے کے لیے ایک المیہ ہے۔
( اسلاموفوبیا: نفرت کا بیانیہ، حکمت کا پیغام، صفحہ: 196، طبع: قرطاس پبلکیشنز،)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
❤2
دعوت کا اسلوب کیسا ہونا چاہیے؟
مولانا محمد یاسر عبداللّٰه صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:
دعوت کا ایک اسلوب یہ ہے کہ جب کسی کو دعوت دی جائے تو تدریجاً دی جائے اور دینی باتیں آہستہ آہستہ بتائی جائیں، ساری باتیں ایک ساتھ ہی نہ بتائی جائیں۔ یہ دعوت کا مزاج ہے، کیونکہ آہستہ آہستہ زمین ہموار ہوتی ہے اور ذہن چیزوں کو قبول کرتا ہے۔ جب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نبی بن کر تشریف لائے تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پورا دین ایک ہی دن میں نازل نہیں ہوگیا، بلکہ ۲۳ سال کے طویل عرصہ میں یہ احکام تھوڑے تھوڑے نازل ہوئے۔ اسی طرح قرآن مجید بھی ایک ساتھ نازل نہیں ہوا، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ تدریجاً اترا۔ یہ دعوت کا بہترین اسلوب اور اصول ہے، لہذا جب بھی ہم کسی کو دین کی طرف بلائیں تو تدریج کا راستہ اختیار کریں۔ آہستہ آہستہ اس کے ذہن کو اس بات کے لیے تیار کریں؛ کیونکہ ایک ہی دن میں کوئی ولی اور پرہیزگار نہیں بن جاتا۔
(مورخہ ٦ ستمبر ٢٠٢٦ء بروز اتوار کو "ہفتہ وار درسِ حدیث" سے ماخوذ/ پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
مولانا محمد یاسر عبداللّٰه صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:
دعوت کا ایک اسلوب یہ ہے کہ جب کسی کو دعوت دی جائے تو تدریجاً دی جائے اور دینی باتیں آہستہ آہستہ بتائی جائیں، ساری باتیں ایک ساتھ ہی نہ بتائی جائیں۔ یہ دعوت کا مزاج ہے، کیونکہ آہستہ آہستہ زمین ہموار ہوتی ہے اور ذہن چیزوں کو قبول کرتا ہے۔ جب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نبی بن کر تشریف لائے تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پورا دین ایک ہی دن میں نازل نہیں ہوگیا، بلکہ ۲۳ سال کے طویل عرصہ میں یہ احکام تھوڑے تھوڑے نازل ہوئے۔ اسی طرح قرآن مجید بھی ایک ساتھ نازل نہیں ہوا، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ تدریجاً اترا۔ یہ دعوت کا بہترین اسلوب اور اصول ہے، لہذا جب بھی ہم کسی کو دین کی طرف بلائیں تو تدریج کا راستہ اختیار کریں۔ آہستہ آہستہ اس کے ذہن کو اس بات کے لیے تیار کریں؛ کیونکہ ایک ہی دن میں کوئی ولی اور پرہیزگار نہیں بن جاتا۔
(مورخہ ٦ ستمبر ٢٠٢٦ء بروز اتوار کو "ہفتہ وار درسِ حدیث" سے ماخوذ/ پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
*کلام شاعر بزبان شاعر*
*یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آنہ سکے*
*جگر مراد آبادی*
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jigar-murad-abadi&t=
آج رئیس المتغزلین جگر مراد آبادی کا یوم وفات ہے، آپ کہ وفات مورخہ 09 ستمبر 1960ء کو واقع ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں آپ کا کلام اردو آڈیو ڈاٹ کام پر پوسٹ شدہ کلام پیش کیا جارہا ہے۔ آپ کی آواز میں مزید تیس آڈیوز سننے اور ڈون لوڈ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jigar-murad-abadi&t=
*یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آنہ سکے*
*جگر مراد آبادی*
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jigar-murad-abadi&t=
آج رئیس المتغزلین جگر مراد آبادی کا یوم وفات ہے، آپ کہ وفات مورخہ 09 ستمبر 1960ء کو واقع ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں آپ کا کلام اردو آڈیو ڈاٹ کام پر پوسٹ شدہ کلام پیش کیا جارہا ہے۔ آپ کی آواز میں مزید تیس آڈیوز سننے اور ڈون لوڈ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jigar-murad-abadi&t=
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤2
*وفیات مورخہ:ستمبر /10
1967ء جلال شاہ۔ سرجن کموڈور ،
1975ء حامد الہ آبادی (حامد حسین)۔ ،
1980ء انعام اللہ خان۔ جسٹس (ر) ،
1982ء محمد البهي۔ الدكتور، مصری وزیر اوقاف
1986ء حنیف آزاد (محمد حنیف قریشی)۔ ،
1991ء زبیر جھارا۔ پہلوان
1991ء محمد احمد پرتاب گڑھی۔ حضرت مولانا،صوفی بزرگ
1995ء شمیم کاشفی (محمد شمیم احمد)۔ شاعر
2000ء زیب النساء حمیداللہ۔ ایڈیٹر مرر ،
2021ء حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی۔ مولانا
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1967ء جلال شاہ۔ سرجن کموڈور ،
1975ء حامد الہ آبادی (حامد حسین)۔ ،
1980ء انعام اللہ خان۔ جسٹس (ر) ،
1982ء محمد البهي۔ الدكتور، مصری وزیر اوقاف
1986ء حنیف آزاد (محمد حنیف قریشی)۔ ،
1991ء زبیر جھارا۔ پہلوان
1991ء محمد احمد پرتاب گڑھی۔ حضرت مولانا،صوفی بزرگ
1995ء شمیم کاشفی (محمد شمیم احمد)۔ شاعر
2000ء زیب النساء حمیداللہ۔ ایڈیٹر مرر ،
2021ء حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی۔ مولانا
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
2026-09-10 Dastan Jari Hai 003.pdf
13.7 MB
داستان جاری ہے (۰۳) ابو الحسن نغمی
*وفیات مورخہ:ستمبر /11
1917ء محمد فضل حسین۔ ریاضی داں
1918ء حامد امروہوی (حامد علی خان)۔ شاعر
1948ء محمد علی جناح۔ قائد اعظم، بانی پاکستان
1964ء محمد عثمان آزاد۔ شیخ ،
1965ء راجہ عزیز بھٹی۔ نشان حیدر پاکستان
1971ء نکیتا خروشچیف۔ سکریٹری جنرل سویت روس
1973ء سجاد ظہیر۔ رہنما ترقی پسند تحریک
1974ء فقیر محمد فقیر۔ ادیب
1975ء محسن اعظم گڑھی (سید محمد محسن رضوی)۔ شاعر
1979ء عاجزبدایونی (قاضی اشفاق حسین)۔ سفارت کار
1990ء فاروق علی۔ سردار
1992ء ابوبکر محمود غومی۔ نائجیریائی مفکر
1996ء میمن عبد المجید سندھی۔ سندھی محقق
2000ء شائستہ اکرام اللہ (شائستہ اختر بانو)۔ سفارت کار
2001ء محمد اظفر۔ ،
2007ء عبد الکریم پاریکھ۔ مولانا ، مفسر قرآن
2010ء مختار احمد کاشف۔ ،
2018ء کلثوم نواز شریف۔ خاتون اول پاکستان
2022ء نسیم اختر شاہ قیصر۔ ادیب
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1917ء محمد فضل حسین۔ ریاضی داں
1918ء حامد امروہوی (حامد علی خان)۔ شاعر
1948ء محمد علی جناح۔ قائد اعظم، بانی پاکستان
1964ء محمد عثمان آزاد۔ شیخ ،
1965ء راجہ عزیز بھٹی۔ نشان حیدر پاکستان
1971ء نکیتا خروشچیف۔ سکریٹری جنرل سویت روس
1973ء سجاد ظہیر۔ رہنما ترقی پسند تحریک
1974ء فقیر محمد فقیر۔ ادیب
1975ء محسن اعظم گڑھی (سید محمد محسن رضوی)۔ شاعر
1979ء عاجزبدایونی (قاضی اشفاق حسین)۔ سفارت کار
1990ء فاروق علی۔ سردار
1992ء ابوبکر محمود غومی۔ نائجیریائی مفکر
1996ء میمن عبد المجید سندھی۔ سندھی محقق
2000ء شائستہ اکرام اللہ (شائستہ اختر بانو)۔ سفارت کار
2001ء محمد اظفر۔ ،
2007ء عبد الکریم پاریکھ۔ مولانا ، مفسر قرآن
2010ء مختار احمد کاشف۔ ،
2018ء کلثوم نواز شریف۔ خاتون اول پاکستان
2022ء نسیم اختر شاہ قیصر۔ ادیب
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟(7 )*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ سے جب شکایت کی کہ میرا حافظہ بہت کمزور ہے، پڑھی ہوئی باتیں یاد نہیں رہتیں، تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت عادل ہے، انصاف کرنے والا، اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تمام صحت مند انسانوں کو یکساں حافظے سے نوازا ہے، بس قاری کے مشاہدے اور دلچسپی کا فرق ہوتا ہے، زبان آنکھ کان تینوں مل کر حافظے کو مضبوط کرتے ہیں، لہٰذا ایک انسان کو جس بات میں دلچسپی ہوگی، اللہ تعالیٰ اسی میدان میں حافظہ مضبوط کرے گا، کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ نے دس بیس سال قبل کوئی چیز دیکھی یا سنی تھی، اس دوران کبھی اس کے تذکرے کا موقعہ نہیں ملا،لیکن اچانک کسی تحریک سے وہ پرانی بات یاد آجاتی ہے،در اصل حافظے کو مہمیز کرنے والی چیز کوئی تحریک ہوتی ہے، مولانا وحید الدین خان صاحب نے لکھا ہے، کہ انسان کا ایک شعور ہوتا ہے ، دوسرا لاشعور ، اس کی حیثیت قطب شمالی کے براعظموں میں برف کے پہاڑوں کی سی ہوتی ہے، ان کا ایک چوتھائی حصہ نظر آتا ہے اور جو سمندر میں اس کا تین گنا حصہ چھپا ہوا ہے وہ نظر نہیں آتا، انسان کے حافظے کا بھی یہی حال ہے۔ اس کے حافظے میں جو چیز محفوظ ہے، وہ تحت الشعور میں چھپی ہوئی ہے۔ ــــــــــنامور ماہر نفسیات پروفیسر کارل سیشور نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
’’ ایک عام شخص اپنی اصلی قوت حافظہ کو دس فیصد سے زیادہ استعمال نہیں کرتا۔ فطری قوانین حافظہ کی خلاف ورزی کرکے وہ نوے فیصد قوت حافظہ ضائع کردیتا ہے۔ ‘‘
جس کتاب کو مکمل پڑھنے میں دلچسپی ہو تو ایسی کتابیں خرید ہی کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ چاہے زیر مطالعہ کتابوں کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ کتاب کے مطالعہ ،انتخاب اور اس پر تاثرات اور رائے لکھنے پر جومحنت صرف ہوتی ہے، یہ زندگی بھر ساتھ رہنے کا سرمایہ ہوا کرتی ہےاور اتنی محنت کے بعدقاری کے لئےاپنے پڑھے ہوئے نسخے کی قدرو قیمت کتاب کی اصل قیمت خرید سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
کتاب خریدنے سے پہلے یا اس کے مطالعہ کے آغاز پر اپنا تھوڑا سا وقت ان أمور پر غور کے لئے بھی صرف کرنا چاہئے:
۔کتاب کا مقدمہ ایک مرتبہ ضرور پڑھا جائے۔ اس سے کتاب کی اہمیت واضح ہوگی۔
۔فہرست موضوعات پڑھی جائے، اس سے کتاب کا خلاصہ آپ کے سامنے آجائے گا۔
۔مصادر و مراجع کی فہرست پر ایک نگاہ ڈالی جائے،اس سے کتاب کی فکری اساس کا علم ہوگا۔
۔بعض مصنّفین ، ابواب کے آخر میں مضمون کے خلاصے کا اہتما م کرتے ہیں،ان پر بھی پیشگی سرسری نظر مفید ہے۔
۔کتاب کا معیار سمجھنے کے لئے اس کے بعض صفحات یا پیراگرافس کا مطالعہ بھی مفید ہے۔
۔ اگر آپ تعلیم کے ابتدائی مراحل پار کرکے فراغت پاچکے ہیں یا فراغت کے قریب ہیں تو پھر ایسے ہر قاری کو اپنے بڑوں سے ہر کتاب کے لئے پیشگی اجازت طلب کرنے کے بجائے، انہیں خود سے پسند کرکے پڑھنا چاہئے اور جہاں اشکالات ہوں ، وہاں اپنے اساتذہ اور بڑوں سے رہنمائی طلب کرنی چاہئے، انہیں ان بچوں کی طرح نہیں ہونا چاہئےجنہیں ان کی مائیں نوالہ اپنے منہ میں چبا چبا کر کھلاتی ہیں، چبا چبا کر کھلانے کی ایک عمر ہوتی ہے، اگر ساری عمر اسی طرح چبا چبا کرکھلانے کی عادت پڑ جائے، تو بچے کا ہاضمہ کبھی درست نہیں ہو سکے گا، ایک طالب علم کو پر اعتماد ہونا چاہئے،البتہ کسی کتاب یا عبارت سے فورا متاثر ہوکر اپنی کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہئے، علم ایک بحر بے کراں ہے، اس کے دوسرے کنارے تک پہنچنا آسان نہیں ، لہٰذا کسی نتیجے تک پہنچنے کے لئے ، موضوع سے متعلق قابل اطمینان حد تک طلب اور جستجو کرنی چاہئے، علم کے پیالے کو بھرے بغیر ہی نہیں چھلکنا چاہئے۔
۔کتاب پڑھنے سے پہلے کسی سے متاثر ہوکر مصنف یا کتاب کے سلسلے میں رائے قائم کرنے سے احتراز کرنا چاہئے، اس کا بڑا نقصان ہوتا ہے، کبھی یہ بدگمانی اور ناانصافی کا سبب بنتا ہے، اس سلسلے میں بڑوں کی رایوں کا احترام کریں اور اگر پہلی نظر میں ان کی بعض آراء غلط محسوس ہورہی ہوں تو بد گمانی سے بچتے ہوئے ان کی ممکنہ تاویل کی کوشش کریں، یہ بات ذہن میں رہے کہ ہمارے بہت سے اکابر کے یہاں مصروفیت یا ذوق کی بنا پر آسان اسلوب میں مضمون کو پھیلاکر لکھی گئی کتابوں کے مطالعہ کا رواج نہیں ہے اور ہر ایک کی دلچسپی کا اپنا ایک میدان ہوتاہےاور کمال صرف اللہ کی ذات کو ہے۔
تفسیر بیان القرآن کے بارے میں علامہ محمد انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی یہ رائے اس پس منظر کو سمجھنے میں معاون بن سکتی ہے کہ:
”(میں) ہمیشہ یہ سمجھتا رہا کہ اردو کا دامن علم و تحقیق سے خالی ہے لیکن مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے اپنی رائے میں ترمیم کرنا پڑی اور اب سمجھتا ہوں کہ اردو بھی بلند پایہ علمی تحقیقات سے بہرہ ور ہے۔ “
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ سے جب شکایت کی کہ میرا حافظہ بہت کمزور ہے، پڑھی ہوئی باتیں یاد نہیں رہتیں، تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت عادل ہے، انصاف کرنے والا، اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تمام صحت مند انسانوں کو یکساں حافظے سے نوازا ہے، بس قاری کے مشاہدے اور دلچسپی کا فرق ہوتا ہے، زبان آنکھ کان تینوں مل کر حافظے کو مضبوط کرتے ہیں، لہٰذا ایک انسان کو جس بات میں دلچسپی ہوگی، اللہ تعالیٰ اسی میدان میں حافظہ مضبوط کرے گا، کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ نے دس بیس سال قبل کوئی چیز دیکھی یا سنی تھی، اس دوران کبھی اس کے تذکرے کا موقعہ نہیں ملا،لیکن اچانک کسی تحریک سے وہ پرانی بات یاد آجاتی ہے،در اصل حافظے کو مہمیز کرنے والی چیز کوئی تحریک ہوتی ہے، مولانا وحید الدین خان صاحب نے لکھا ہے، کہ انسان کا ایک شعور ہوتا ہے ، دوسرا لاشعور ، اس کی حیثیت قطب شمالی کے براعظموں میں برف کے پہاڑوں کی سی ہوتی ہے، ان کا ایک چوتھائی حصہ نظر آتا ہے اور جو سمندر میں اس کا تین گنا حصہ چھپا ہوا ہے وہ نظر نہیں آتا، انسان کے حافظے کا بھی یہی حال ہے۔ اس کے حافظے میں جو چیز محفوظ ہے، وہ تحت الشعور میں چھپی ہوئی ہے۔ ــــــــــنامور ماہر نفسیات پروفیسر کارل سیشور نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
’’ ایک عام شخص اپنی اصلی قوت حافظہ کو دس فیصد سے زیادہ استعمال نہیں کرتا۔ فطری قوانین حافظہ کی خلاف ورزی کرکے وہ نوے فیصد قوت حافظہ ضائع کردیتا ہے۔ ‘‘
جس کتاب کو مکمل پڑھنے میں دلچسپی ہو تو ایسی کتابیں خرید ہی کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ چاہے زیر مطالعہ کتابوں کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ کتاب کے مطالعہ ،انتخاب اور اس پر تاثرات اور رائے لکھنے پر جومحنت صرف ہوتی ہے، یہ زندگی بھر ساتھ رہنے کا سرمایہ ہوا کرتی ہےاور اتنی محنت کے بعدقاری کے لئےاپنے پڑھے ہوئے نسخے کی قدرو قیمت کتاب کی اصل قیمت خرید سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
کتاب خریدنے سے پہلے یا اس کے مطالعہ کے آغاز پر اپنا تھوڑا سا وقت ان أمور پر غور کے لئے بھی صرف کرنا چاہئے:
۔کتاب کا مقدمہ ایک مرتبہ ضرور پڑھا جائے۔ اس سے کتاب کی اہمیت واضح ہوگی۔
۔فہرست موضوعات پڑھی جائے، اس سے کتاب کا خلاصہ آپ کے سامنے آجائے گا۔
۔مصادر و مراجع کی فہرست پر ایک نگاہ ڈالی جائے،اس سے کتاب کی فکری اساس کا علم ہوگا۔
۔بعض مصنّفین ، ابواب کے آخر میں مضمون کے خلاصے کا اہتما م کرتے ہیں،ان پر بھی پیشگی سرسری نظر مفید ہے۔
۔کتاب کا معیار سمجھنے کے لئے اس کے بعض صفحات یا پیراگرافس کا مطالعہ بھی مفید ہے۔
۔ اگر آپ تعلیم کے ابتدائی مراحل پار کرکے فراغت پاچکے ہیں یا فراغت کے قریب ہیں تو پھر ایسے ہر قاری کو اپنے بڑوں سے ہر کتاب کے لئے پیشگی اجازت طلب کرنے کے بجائے، انہیں خود سے پسند کرکے پڑھنا چاہئے اور جہاں اشکالات ہوں ، وہاں اپنے اساتذہ اور بڑوں سے رہنمائی طلب کرنی چاہئے، انہیں ان بچوں کی طرح نہیں ہونا چاہئےجنہیں ان کی مائیں نوالہ اپنے منہ میں چبا چبا کر کھلاتی ہیں، چبا چبا کر کھلانے کی ایک عمر ہوتی ہے، اگر ساری عمر اسی طرح چبا چبا کرکھلانے کی عادت پڑ جائے، تو بچے کا ہاضمہ کبھی درست نہیں ہو سکے گا، ایک طالب علم کو پر اعتماد ہونا چاہئے،البتہ کسی کتاب یا عبارت سے فورا متاثر ہوکر اپنی کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہئے، علم ایک بحر بے کراں ہے، اس کے دوسرے کنارے تک پہنچنا آسان نہیں ، لہٰذا کسی نتیجے تک پہنچنے کے لئے ، موضوع سے متعلق قابل اطمینان حد تک طلب اور جستجو کرنی چاہئے، علم کے پیالے کو بھرے بغیر ہی نہیں چھلکنا چاہئے۔
۔کتاب پڑھنے سے پہلے کسی سے متاثر ہوکر مصنف یا کتاب کے سلسلے میں رائے قائم کرنے سے احتراز کرنا چاہئے، اس کا بڑا نقصان ہوتا ہے، کبھی یہ بدگمانی اور ناانصافی کا سبب بنتا ہے، اس سلسلے میں بڑوں کی رایوں کا احترام کریں اور اگر پہلی نظر میں ان کی بعض آراء غلط محسوس ہورہی ہوں تو بد گمانی سے بچتے ہوئے ان کی ممکنہ تاویل کی کوشش کریں، یہ بات ذہن میں رہے کہ ہمارے بہت سے اکابر کے یہاں مصروفیت یا ذوق کی بنا پر آسان اسلوب میں مضمون کو پھیلاکر لکھی گئی کتابوں کے مطالعہ کا رواج نہیں ہے اور ہر ایک کی دلچسپی کا اپنا ایک میدان ہوتاہےاور کمال صرف اللہ کی ذات کو ہے۔
تفسیر بیان القرآن کے بارے میں علامہ محمد انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی یہ رائے اس پس منظر کو سمجھنے میں معاون بن سکتی ہے کہ:
”(میں) ہمیشہ یہ سمجھتا رہا کہ اردو کا دامن علم و تحقیق سے خالی ہے لیکن مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے اپنی رائے میں ترمیم کرنا پڑی اور اب سمجھتا ہوں کہ اردو بھی بلند پایہ علمی تحقیقات سے بہرہ ور ہے۔ “
یہی وجہ ہے کہ ہمارے کئی ایک اکابر کے اپنے معاصرین پر لکھے گئے ردود دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے مخالفین کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اصاغر ہمارے اکابر کے پا س سیاق وسباق کے بغیر کتابوں کی عبارتیں پیش کرتے ہیں، جن پر اعتماد کرکے ان اکابر کی سخت رائے سامنے آتی ہے۔
اس پر ہمیں ۱۹۷۱ء کا ایک واقعہ یاد آیا، مدراس( چنئی) کے چیف قاضی مولانا محمد حبیب اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا تبلیغی جماعت کے خلاف ایک بہت ہی سخت فتویٰ شہر کی مساجد میں جگہ جگہ آویزاں تھا، اسی زمانے میں آپ کے ایک عزیز پروفیسر عبد المجید صاحب نیو کالج اور شہر میں تبلیغی کاموں میں بڑے سرگرم ہوا کرتے تھے، ان سے ہم نے دریافت کیا کہ آپ کے بزرگوار کا تبلیغی جماعت کے خلاف فتوی ہےاور آپ کا جماعت سے تعلق ہے، قاضی صاحب آپ سے ناراض تو نہیں ہوتے؟ تو فرمایا کہ: آپ تو جانتے ہیں کہ قاضی صاحب کتنے شریف الطبع انسان ہیں،ان سے اس قسم کے تکفیری فتوے سرزد ہونا ممکنات میں نہیں ہے، وہ عمر کے ایک ایسے مرحلے میں ہیں کہ اپنے عزیزوں قریبوں پر اعتماد کرنے پر مجبور ہیں۔ جن میں سے بعض آپ کے اعتماد کا استحصال کرتے ہیں۔
ہم نے کافی عرصے سے ردود کی کتابیں پڑھنی تقریبا بند کردی ہیں، کیونکہ جن کتابوں کا رد لکھا جاتاہے، انہیں پڑھنے سے اکابر سے اعتماد اٹھ جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور اگر کوئی موضوع بہت ہی اہم ہو اور اس سے کچھ تحقیقی اسلوب جاننے کا موقعہ ملتا ہے تو پھر ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس سلسلے کے رد اور تائید میں لکھے ہوئے پورے سلسلے پر ایک نظر ڈالی جائے، اور جن مجلات اور کتابوں کا حوالہ ہے، انہیں براہ راست مطالعہ کرنے کی کوشش کی جائے۔
ردود کے سلسلے میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن شخصیات سے کسی وجہ سے ہم ناراض ہوتے ہیں تو ان کے خلاف ہر رطب و یابس کو قبول کرتے ہیں، اس سلسلے میں امانت داری کا احساس ہمارے دلوں سے ختم ہوجاتا ہےاور بے خبری میں ہم دشمنوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں، شیخ محمد ناصرا لدین البانی رحمۃ اللہ علیہ سے ہمارے بہت سارے اختلافات سہی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا ہر ایک مخالف یا دشمن ہمارا دوست ہو، ابھی چند سال قبل ایک اردنی حسن السقاف کی کتاب ’’تناقضات الالبانی الواضحات ‘‘ کو ہمارے حلقوں میں بڑی پذیرائی ملی تھی، امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’دفع شبہ wالتشبیہ باکف التنزیہ‘‘ کا جو ایڈیشن ان کے حاشیہ کے ساتھ نکلا ہے، اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں بڑی بدزبانی اور گستاخی کی گئی ہے،اس طرح حضرت معاویۃؒ پر امام ابن حجر الھیتمی مکی کی کتاب تطہیر الجنان و اللسان کے رد میں ان کی کتاب اور دوسری کتابوں میں یہ خیالات بھرے پڑے ہیں۔
آج سے دس سال قبل ہماری ایک محترم شخصیت البانی صاحب کی دشمنی میں ان کے خیالات و افکار سے متاثر ہوئی تھی، اسی وقت ہم نے انہیں تنبیہ کی تھی کہ البانی صاحب پر تنقید اگر شیخ ابو غدہ جیسی کوئی شخصیت کرتی ہے تو سر آنکھوں پر لیکن البانی صاحب کی دشمنی میں آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں سے ہاتھ ملاتے ہیں تو یہ کسی طرح ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگا۔ اختلاف کا یہ مثبت رویہ نہیں ہے۔
۔ بعض کتابوں کو بڑی گہرائی سے پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہےکیونکہ مطالعہ کھیت جوتنے کی مانند ہے، ایک کسان کی طرح آپ بھی کھیت پر ہل چلائیں اور وہ نرم زمین کو چیرنے کے لئے ہل جوت کر جو محنت کرتا ہے ، ایسی محنت آپ بھی کریں۔ (جاری)
WA:+919741136475
https://telegram.me/ilmokitab
اس پر ہمیں ۱۹۷۱ء کا ایک واقعہ یاد آیا، مدراس( چنئی) کے چیف قاضی مولانا محمد حبیب اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا تبلیغی جماعت کے خلاف ایک بہت ہی سخت فتویٰ شہر کی مساجد میں جگہ جگہ آویزاں تھا، اسی زمانے میں آپ کے ایک عزیز پروفیسر عبد المجید صاحب نیو کالج اور شہر میں تبلیغی کاموں میں بڑے سرگرم ہوا کرتے تھے، ان سے ہم نے دریافت کیا کہ آپ کے بزرگوار کا تبلیغی جماعت کے خلاف فتوی ہےاور آپ کا جماعت سے تعلق ہے، قاضی صاحب آپ سے ناراض تو نہیں ہوتے؟ تو فرمایا کہ: آپ تو جانتے ہیں کہ قاضی صاحب کتنے شریف الطبع انسان ہیں،ان سے اس قسم کے تکفیری فتوے سرزد ہونا ممکنات میں نہیں ہے، وہ عمر کے ایک ایسے مرحلے میں ہیں کہ اپنے عزیزوں قریبوں پر اعتماد کرنے پر مجبور ہیں۔ جن میں سے بعض آپ کے اعتماد کا استحصال کرتے ہیں۔
ہم نے کافی عرصے سے ردود کی کتابیں پڑھنی تقریبا بند کردی ہیں، کیونکہ جن کتابوں کا رد لکھا جاتاہے، انہیں پڑھنے سے اکابر سے اعتماد اٹھ جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور اگر کوئی موضوع بہت ہی اہم ہو اور اس سے کچھ تحقیقی اسلوب جاننے کا موقعہ ملتا ہے تو پھر ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس سلسلے کے رد اور تائید میں لکھے ہوئے پورے سلسلے پر ایک نظر ڈالی جائے، اور جن مجلات اور کتابوں کا حوالہ ہے، انہیں براہ راست مطالعہ کرنے کی کوشش کی جائے۔
ردود کے سلسلے میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن شخصیات سے کسی وجہ سے ہم ناراض ہوتے ہیں تو ان کے خلاف ہر رطب و یابس کو قبول کرتے ہیں، اس سلسلے میں امانت داری کا احساس ہمارے دلوں سے ختم ہوجاتا ہےاور بے خبری میں ہم دشمنوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں، شیخ محمد ناصرا لدین البانی رحمۃ اللہ علیہ سے ہمارے بہت سارے اختلافات سہی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا ہر ایک مخالف یا دشمن ہمارا دوست ہو، ابھی چند سال قبل ایک اردنی حسن السقاف کی کتاب ’’تناقضات الالبانی الواضحات ‘‘ کو ہمارے حلقوں میں بڑی پذیرائی ملی تھی، امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’دفع شبہ wالتشبیہ باکف التنزیہ‘‘ کا جو ایڈیشن ان کے حاشیہ کے ساتھ نکلا ہے، اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں بڑی بدزبانی اور گستاخی کی گئی ہے،اس طرح حضرت معاویۃؒ پر امام ابن حجر الھیتمی مکی کی کتاب تطہیر الجنان و اللسان کے رد میں ان کی کتاب اور دوسری کتابوں میں یہ خیالات بھرے پڑے ہیں۔
آج سے دس سال قبل ہماری ایک محترم شخصیت البانی صاحب کی دشمنی میں ان کے خیالات و افکار سے متاثر ہوئی تھی، اسی وقت ہم نے انہیں تنبیہ کی تھی کہ البانی صاحب پر تنقید اگر شیخ ابو غدہ جیسی کوئی شخصیت کرتی ہے تو سر آنکھوں پر لیکن البانی صاحب کی دشمنی میں آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں سے ہاتھ ملاتے ہیں تو یہ کسی طرح ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگا۔ اختلاف کا یہ مثبت رویہ نہیں ہے۔
۔ بعض کتابوں کو بڑی گہرائی سے پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہےکیونکہ مطالعہ کھیت جوتنے کی مانند ہے، ایک کسان کی طرح آپ بھی کھیت پر ہل چلائیں اور وہ نرم زمین کو چیرنے کے لئے ہل جوت کر جو محنت کرتا ہے ، ایسی محنت آپ بھی کریں۔ (جاری)
WA:+919741136475
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
*مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
*قسط 1*
https://t.me/ilmokitab/18192
*قسط 2*
https://t.me/ilmokitab/18200
*قسط 3*
https://t.me/ilmokitab/18207
*قسط 4*
https://t.me/ilmokitab/18241
*قسط 5*
https://t.me/ilmokitab/18493
*قسط 6*
https://t.me/ilmokitab/18639
*قسط 7*
https://t.me/ilmokitab/18695
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
*قسط 1*
https://t.me/ilmokitab/18192
*قسط 2*
https://t.me/ilmokitab/18200
*قسط 3*
https://t.me/ilmokitab/18207
*قسط 4*
https://t.me/ilmokitab/18241
*قسط 5*
https://t.me/ilmokitab/18493
*قسط 6*
https://t.me/ilmokitab/18639
*قسط 7*
https://t.me/ilmokitab/18695
Telegram
علم و کتاب
*مطالعہ کتب کیوں اور کس طرح(01)*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
پورے دس سال گذر رہے ہیں، طلبہ و اساتذہ میں ذوق مطالعہ اور کتب بینی کے فروغ کے لئے علم وکتاب کے نام سے ایک واٹس اپ گروپ کرنے کی اللہ تعالی نے توفیق دی تھی، اللہ تعالی نے اسے اتنی مقبولیت…
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
پورے دس سال گذر رہے ہیں، طلبہ و اساتذہ میں ذوق مطالعہ اور کتب بینی کے فروغ کے لئے علم وکتاب کے نام سے ایک واٹس اپ گروپ کرنے کی اللہ تعالی نے توفیق دی تھی، اللہ تعالی نے اسے اتنی مقبولیت…
❤2
*غلطی ہائے مضامین*
*مگر اب وہ چھوٹا سا لڑکا کہاں ہے؟*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
پچھلے دو ہفتے سے یہ سوگوار کالم نگار کوئی نیا کالم نہ لکھ سکا۔ برادرم محمد شکیل کے ذوقِ انتخاب نے اس دوران میں پُرانے کالم منتخب کرکر کے نئے قارئین کا جی بہلائے رکھا۔ نئے لوگوں کو شاید پُرانے کالم بھی نئے ہی لگے ہوں .
۲۳ اگست کی شام بانوے برس کی عمر میں والدہ محترمہ کی زندگی کی بھی شام ہو گئی۔ جاتے جاتے وہ اپنی یاد کی شمعیں روشن کرتی گئیں ۔ فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمٰن چشتی حفظہٗ اللہ نے نمازِ جنازہ پڑھانے سے قبل جو مختصر اور پُر اثر گفتگو کی، اُس میں اقبالؔ کا یہ شعر بھی پڑھا:
زندگی کی اوج گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم
صحبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم
شعر سنتے ہی سات برس کالڑکا یکایک ستّر برس کا بوڑھا ہوگیا۔ سات سال کا وہ طفلِ سادہ، جس کو والدہ نے نماز سکھانے کے ساتھ ساتھ، بڑی محنت اور بڑے لحن سے اقبال ؔ کی ایک غزل بھی یاد کرائی تھی۔”بانگِ درا“ کی آخری غزل، جو یوں شروع ہوتی ہے :
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اس غزل کے ذکر پر ایک منظر یاد آگیا۔ ایک بار اُن کا یہ ’طفلِ سادہ‘ اُنھیں اپنے ساتھ لے کر لاہور گیا۔ لاہور کی سیر کراتے ہوئے جب شاہ عالمی دروازے کے باہر واقع ”مسجدِ شب بھر“ اُنھیں دکھائی تو وہ کِھل اُٹھیں ، اُن کی خوشی دیدنی تھی ۔ وہیں کھڑے کھڑے اُنھوں نے اقبالؔ کی یہ پوری غزل سنائی۔ اُسی دورۂ لاہور میں جب انار کلی بازار کے پاس ایک بغلی گلی میں اُن کو سلطان قطب الدین ایبک کا مزار دکھایا تو اُنھوں نے مزارِ قطب الدین ایبک پرکہی ہوئی حفیظؔ جالندھری کی نظم سنادی۔ اِس وقت اُن کا سُنایا ہوا صرف ایک شعر یاد آرہا ہے:
یہاں لاہور میں سوتا ہے اِک گمنام کوچے میں
پڑی ہے یادگارِ دولتِ اسلام کوچے میں
اپنی عمر کے بانوے برسوں میں بس آخری دو ہفتے اُنھوں نے نیم غنودگی اورتقریباً بے ہوشی کے عالم میں گزارے۔ ورنہ آخرِ عمر تک وہ اپنے ہوش و حواس میں تھیں ۔ سِن رسیدگی کی وجہ سے گو حافظہ کمزور ہوگیا تھا، صبح کی بات شام تک بھول جاتی تھیں ، لیکن پُرانی باتیں اُنھیں خوب ازبر تھیں ۔کسی متروک لفظ کا تلفظ پوچھنا ہو یا کسی قدیم کہاوت کا مفہوم جاننا ہو، تویہ کالم نگار کالم لکھتے لکھتے یکایک ’طفلِ سادہ‘ ہو جاتا اور صحبتِ مادر میں پہنچ کر گوہرِ مراد لے آتا۔مگر اب بھلا وہ طفلِ سادہ رہا کہاں؟ اُن کے بعد توبَر میں بس ایک ستّرسال کابوڑھا باقی بچا ہے۔
ٍٍ والدہ کی تمام تعلیم و تربیت گھرہی پر ہوئی تھی۔ وہ ہندوستان میں اُتّر پردیش، ضلع اعظم گڑھ کے ایک دُور افتادہ گاؤں محی الدین پور میں پیدا ہوئی تھیں ۔ گاؤں میں کوئی اسکول نہ تھا اور اُس زمانے میں مسلمان لڑکیوں کو تعلیم کے لیے دور درازشہروں میں بھیجنے کا رواج نہیں تھا۔ نانا نے اُنھیں اُردو اور دینی کتب کی تعلیم گھرہی پردے دی تھی۔ والدہ بتاتی تھیں کہ ان کے بچپن میں بچوں کے رسائل ”کھلونا“ وغیرہ گھر پر منگائے جاتے تھے، جن میں شائع ہونے والی نظمیں وہ خوب لہک لہک کر گاتی تھیں ۔ حفیظ جالندھری کا ”شاہ نامۂ اسلام“ شائع ہوا تو اُس کی تمام جلدیں منگالی گئیں ۔ امی کو شاہنامے کی بہت سی نظمیں زبانی یاد تھیں ۔ وہ اپنے اس ’طفلِ سادہ‘کو سلاتے وقت شاہ نامے کی نظمیں ترنم سے سنایا کرتی تھیں ۔ اُن کا مخصوص خوابناک ترنم اِس وقت بھی ذہن میں نغمہ ریزہے۔ اُن کے سنائے ہوئے اشعار لاشعور میں رچ بس گئے تھے۔ مفہوم بڑے ہو کر سمجھ میں آیا۔ اُن کا شعری ذوق بہت عمدہ تھا۔ عمر کے آخری حصے میں جب اُن کو اُٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں مشکل پیش آنے لگی تو بیٹے کے سہارے اور مشقت کے ساتھ اُٹھتے ہوئے حالیؔ کا یہ شعر پڑھا کرتیں اور شعر پڑھ کر مُسکرا دیتیں:
اے خاصۂ خاصانِ رُسُل وقتِ دُعا ہے
اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
ہندوستان سے ہجرت کے بعد ہمارے والد، والدہ اور بڑے بھائیوں نے معاشی طور پر بہت کٹھن دنوں کا سامنا کیا۔ مگر میں نے اپنی والدہ کو ہمیشہ صبر اور شکر کرتے پایا۔ کبھی اُن کے منہ سے کسی چیز کی کمی کی شکایت نہیں سنی۔ وہ ہمیشہ اُن نعمتوں کو گن گن کر بتایا کرتی تھیں جو ہمارے پاس ہیں اور دوسروں کے پاس نہیں ہیں ۔ میری عمر تقریباً چھے برس تھی تو میرے والدین مجھے لے کر ہندوستان ،اپنے گاؤں گئے۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ لوگ کتنی بڑی جائداد اور کیسی پُر تعیش زندگی چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔ لیکن میں نے اپنے والد یا والدہ کی زبان سے کبھی ایسا کچھ نہیں سنا کہ پاکستان آ کر وہ پچھتائے ہوں ۔ ہم نے ہمیشہ انھیں اللہ کا شکر ہی ادا کرتے دیکھا۔ غربت کے زمانے میں ہماری والدہ نے گھر کا نظام بڑے سلیقے سے چلایا۔ ہم میں سے کسی کو کسی چیز کی کمی یا محرومی محسوس نہیں ہونے دی۔ جب تک اُن کے دم میں دم رہا، صبح کا ناشتہ کرائے بغیر کبھی گھر سے باہر نکلنے نہ دیا۔ کہتی تھیں:
*مگر اب وہ چھوٹا سا لڑکا کہاں ہے؟*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
پچھلے دو ہفتے سے یہ سوگوار کالم نگار کوئی نیا کالم نہ لکھ سکا۔ برادرم محمد شکیل کے ذوقِ انتخاب نے اس دوران میں پُرانے کالم منتخب کرکر کے نئے قارئین کا جی بہلائے رکھا۔ نئے لوگوں کو شاید پُرانے کالم بھی نئے ہی لگے ہوں .
۲۳ اگست کی شام بانوے برس کی عمر میں والدہ محترمہ کی زندگی کی بھی شام ہو گئی۔ جاتے جاتے وہ اپنی یاد کی شمعیں روشن کرتی گئیں ۔ فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمٰن چشتی حفظہٗ اللہ نے نمازِ جنازہ پڑھانے سے قبل جو مختصر اور پُر اثر گفتگو کی، اُس میں اقبالؔ کا یہ شعر بھی پڑھا:
زندگی کی اوج گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم
صحبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم
شعر سنتے ہی سات برس کالڑکا یکایک ستّر برس کا بوڑھا ہوگیا۔ سات سال کا وہ طفلِ سادہ، جس کو والدہ نے نماز سکھانے کے ساتھ ساتھ، بڑی محنت اور بڑے لحن سے اقبال ؔ کی ایک غزل بھی یاد کرائی تھی۔”بانگِ درا“ کی آخری غزل، جو یوں شروع ہوتی ہے :
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اس غزل کے ذکر پر ایک منظر یاد آگیا۔ ایک بار اُن کا یہ ’طفلِ سادہ‘ اُنھیں اپنے ساتھ لے کر لاہور گیا۔ لاہور کی سیر کراتے ہوئے جب شاہ عالمی دروازے کے باہر واقع ”مسجدِ شب بھر“ اُنھیں دکھائی تو وہ کِھل اُٹھیں ، اُن کی خوشی دیدنی تھی ۔ وہیں کھڑے کھڑے اُنھوں نے اقبالؔ کی یہ پوری غزل سنائی۔ اُسی دورۂ لاہور میں جب انار کلی بازار کے پاس ایک بغلی گلی میں اُن کو سلطان قطب الدین ایبک کا مزار دکھایا تو اُنھوں نے مزارِ قطب الدین ایبک پرکہی ہوئی حفیظؔ جالندھری کی نظم سنادی۔ اِس وقت اُن کا سُنایا ہوا صرف ایک شعر یاد آرہا ہے:
یہاں لاہور میں سوتا ہے اِک گمنام کوچے میں
پڑی ہے یادگارِ دولتِ اسلام کوچے میں
اپنی عمر کے بانوے برسوں میں بس آخری دو ہفتے اُنھوں نے نیم غنودگی اورتقریباً بے ہوشی کے عالم میں گزارے۔ ورنہ آخرِ عمر تک وہ اپنے ہوش و حواس میں تھیں ۔ سِن رسیدگی کی وجہ سے گو حافظہ کمزور ہوگیا تھا، صبح کی بات شام تک بھول جاتی تھیں ، لیکن پُرانی باتیں اُنھیں خوب ازبر تھیں ۔کسی متروک لفظ کا تلفظ پوچھنا ہو یا کسی قدیم کہاوت کا مفہوم جاننا ہو، تویہ کالم نگار کالم لکھتے لکھتے یکایک ’طفلِ سادہ‘ ہو جاتا اور صحبتِ مادر میں پہنچ کر گوہرِ مراد لے آتا۔مگر اب بھلا وہ طفلِ سادہ رہا کہاں؟ اُن کے بعد توبَر میں بس ایک ستّرسال کابوڑھا باقی بچا ہے۔
ٍٍ والدہ کی تمام تعلیم و تربیت گھرہی پر ہوئی تھی۔ وہ ہندوستان میں اُتّر پردیش، ضلع اعظم گڑھ کے ایک دُور افتادہ گاؤں محی الدین پور میں پیدا ہوئی تھیں ۔ گاؤں میں کوئی اسکول نہ تھا اور اُس زمانے میں مسلمان لڑکیوں کو تعلیم کے لیے دور درازشہروں میں بھیجنے کا رواج نہیں تھا۔ نانا نے اُنھیں اُردو اور دینی کتب کی تعلیم گھرہی پردے دی تھی۔ والدہ بتاتی تھیں کہ ان کے بچپن میں بچوں کے رسائل ”کھلونا“ وغیرہ گھر پر منگائے جاتے تھے، جن میں شائع ہونے والی نظمیں وہ خوب لہک لہک کر گاتی تھیں ۔ حفیظ جالندھری کا ”شاہ نامۂ اسلام“ شائع ہوا تو اُس کی تمام جلدیں منگالی گئیں ۔ امی کو شاہنامے کی بہت سی نظمیں زبانی یاد تھیں ۔ وہ اپنے اس ’طفلِ سادہ‘کو سلاتے وقت شاہ نامے کی نظمیں ترنم سے سنایا کرتی تھیں ۔ اُن کا مخصوص خوابناک ترنم اِس وقت بھی ذہن میں نغمہ ریزہے۔ اُن کے سنائے ہوئے اشعار لاشعور میں رچ بس گئے تھے۔ مفہوم بڑے ہو کر سمجھ میں آیا۔ اُن کا شعری ذوق بہت عمدہ تھا۔ عمر کے آخری حصے میں جب اُن کو اُٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں مشکل پیش آنے لگی تو بیٹے کے سہارے اور مشقت کے ساتھ اُٹھتے ہوئے حالیؔ کا یہ شعر پڑھا کرتیں اور شعر پڑھ کر مُسکرا دیتیں:
اے خاصۂ خاصانِ رُسُل وقتِ دُعا ہے
اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
ہندوستان سے ہجرت کے بعد ہمارے والد، والدہ اور بڑے بھائیوں نے معاشی طور پر بہت کٹھن دنوں کا سامنا کیا۔ مگر میں نے اپنی والدہ کو ہمیشہ صبر اور شکر کرتے پایا۔ کبھی اُن کے منہ سے کسی چیز کی کمی کی شکایت نہیں سنی۔ وہ ہمیشہ اُن نعمتوں کو گن گن کر بتایا کرتی تھیں جو ہمارے پاس ہیں اور دوسروں کے پاس نہیں ہیں ۔ میری عمر تقریباً چھے برس تھی تو میرے والدین مجھے لے کر ہندوستان ،اپنے گاؤں گئے۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ لوگ کتنی بڑی جائداد اور کیسی پُر تعیش زندگی چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔ لیکن میں نے اپنے والد یا والدہ کی زبان سے کبھی ایسا کچھ نہیں سنا کہ پاکستان آ کر وہ پچھتائے ہوں ۔ ہم نے ہمیشہ انھیں اللہ کا شکر ہی ادا کرتے دیکھا۔ غربت کے زمانے میں ہماری والدہ نے گھر کا نظام بڑے سلیقے سے چلایا۔ ہم میں سے کسی کو کسی چیز کی کمی یا محرومی محسوس نہیں ہونے دی۔ جب تک اُن کے دم میں دم رہا، صبح کا ناشتہ کرائے بغیر کبھی گھر سے باہر نکلنے نہ دیا۔ کہتی تھیں:
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
”یک لقمۂ صباحی، بہتر زِ مُرغ و ماہی“
ہمارے ملبوسات اپنے ہاتھ سے سِلا کرتی تھیں ۔ ہاتھ سے سلنے کا مطلب ہاتھ ہی سے سِلنا ہے، مشین سے نہیں ۔ عید پر ہمارے لیے ململ کا سفید کرتا سیتی تھیں ۔ تُرپانی مکمل کر لینے کے بعد کرتے کے گلے پر سفید ریشمی دھاگے سے چنبیلی کے نازک نازک پھول ہار کی صورت میں کاڑھا کرتی تھیں ۔ بعد کوانھوں نے کسی طرح بچت کرکر کے ایک سلائی مشین خرید لی تھی۔ میں نے اُس مشین کی رسید دیکھی تھی۔ قیمت ڈیڑھ سو روپے تھی۔ یہ غالباً 1964ء میں خریدی گئی تھی۔ اُس وقت لوگوں کی تنخواہیں بھی اِس خطیر رقم سے کم ہوا کرتی تھیں ۔ اب ہمارے کپڑے مشین پر سیے جانے لگے۔ درزی سے سلوانے کا سلسلہ تب شروع ہوا جب ہم برسر روزگار ہوگئے، ورنہ رومال، میزپوش اور تکیے کے غلاف وغیرہ بھی والدہ خود ہی سیا کرتی تھیں اور اُن پر دل کش اشعارکی کشیدہ کاری کرتی تھیں ۔ میں چھوٹا تھا تو اُنھوں نے ایک چھوٹا سا تکیہ بنایا اوراُس کے غلاف پر یہ شعر کاڑھا:
تکیے پہ سو رہا ہے جو یہ میرا نونہال
اس کو الٰہی کیجیو دنیا میں بے مثال
اپنے لیے اُنھوں نے جو تکیہ تیار کیا تھا اُس کے غلاف پر میں نے یہ شعر کڑھا ہوادیکھا تھا:
کسی کا زور زر پر ہے، کسی کا جاہ پر تکیہ
مرے ٹوٹے ہوئے دل کا ہے بس اللہ پر تکیہ
جب میں ابتدائی جماعتوں میں تھا تواُنھوں نے میرے لیے اپنے ہاتھ سے کپڑے کا ایک بستہ بنایاتھا۔ بستہ گلے میں لٹکانے کو ایک خوب صورت اور مضبوط بندھن بھی باندھا تھا ۔خوب یاد ہے کہ بستہ بنا لیا تواُس پربہت حسین اور دلکش خط میں اُنھوں نے یہ شعر کاڑھا:
احمد کو کوئی دیکھے کیا مسکرا رہا ہے
بستہ لیے بغل میں ، اسکول جا رہا ہے
والدہ سے تو نہیں ، ہاں اپنی نانی سے سنا تھا کہ جب میری ولادت ہونے والی تھی تو والدہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک نورانی صورت بزرگ اُن سے کہہ رہے ہیں:
”بیٹی! تمھارے ہاں بیٹا پیدا ہو تو اُس کا نام احمد رکھنا“۔
والد صاحب میرا نام ’حاطب‘ رکھنا چاہتے تھے۔ چناں چہ مصلحت و مصالحت کی راہ یہ نکلی کہ میرا نام ’احمد حاطب‘ رکھ دیا گیا۔ مگر والدہ مجھے تاحیات ’احمد‘ ہی پکارتی رہیں۔
اب کہ جب اُن کا مخصوص کمرہ سُونا ہوگیا ہے اور گھر میں سنّاٹا طاری ہے،کبھیکبھی کان بجتے ہیں تواُس کمرے سے وہیشہد میں ڈوبی آوازآتی ہے”احمد!“
اَللّٰھُمَّ اغْفِر لَھَا وَارْحَمْھَا وَ عَافِھَا وَاعْفُ عَنْھَا۔
٭٭
Https://telegram.me/ilmokitab
ہمارے ملبوسات اپنے ہاتھ سے سِلا کرتی تھیں ۔ ہاتھ سے سلنے کا مطلب ہاتھ ہی سے سِلنا ہے، مشین سے نہیں ۔ عید پر ہمارے لیے ململ کا سفید کرتا سیتی تھیں ۔ تُرپانی مکمل کر لینے کے بعد کرتے کے گلے پر سفید ریشمی دھاگے سے چنبیلی کے نازک نازک پھول ہار کی صورت میں کاڑھا کرتی تھیں ۔ بعد کوانھوں نے کسی طرح بچت کرکر کے ایک سلائی مشین خرید لی تھی۔ میں نے اُس مشین کی رسید دیکھی تھی۔ قیمت ڈیڑھ سو روپے تھی۔ یہ غالباً 1964ء میں خریدی گئی تھی۔ اُس وقت لوگوں کی تنخواہیں بھی اِس خطیر رقم سے کم ہوا کرتی تھیں ۔ اب ہمارے کپڑے مشین پر سیے جانے لگے۔ درزی سے سلوانے کا سلسلہ تب شروع ہوا جب ہم برسر روزگار ہوگئے، ورنہ رومال، میزپوش اور تکیے کے غلاف وغیرہ بھی والدہ خود ہی سیا کرتی تھیں اور اُن پر دل کش اشعارکی کشیدہ کاری کرتی تھیں ۔ میں چھوٹا تھا تو اُنھوں نے ایک چھوٹا سا تکیہ بنایا اوراُس کے غلاف پر یہ شعر کاڑھا:
تکیے پہ سو رہا ہے جو یہ میرا نونہال
اس کو الٰہی کیجیو دنیا میں بے مثال
اپنے لیے اُنھوں نے جو تکیہ تیار کیا تھا اُس کے غلاف پر میں نے یہ شعر کڑھا ہوادیکھا تھا:
کسی کا زور زر پر ہے، کسی کا جاہ پر تکیہ
مرے ٹوٹے ہوئے دل کا ہے بس اللہ پر تکیہ
جب میں ابتدائی جماعتوں میں تھا تواُنھوں نے میرے لیے اپنے ہاتھ سے کپڑے کا ایک بستہ بنایاتھا۔ بستہ گلے میں لٹکانے کو ایک خوب صورت اور مضبوط بندھن بھی باندھا تھا ۔خوب یاد ہے کہ بستہ بنا لیا تواُس پربہت حسین اور دلکش خط میں اُنھوں نے یہ شعر کاڑھا:
احمد کو کوئی دیکھے کیا مسکرا رہا ہے
بستہ لیے بغل میں ، اسکول جا رہا ہے
والدہ سے تو نہیں ، ہاں اپنی نانی سے سنا تھا کہ جب میری ولادت ہونے والی تھی تو والدہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک نورانی صورت بزرگ اُن سے کہہ رہے ہیں:
”بیٹی! تمھارے ہاں بیٹا پیدا ہو تو اُس کا نام احمد رکھنا“۔
والد صاحب میرا نام ’حاطب‘ رکھنا چاہتے تھے۔ چناں چہ مصلحت و مصالحت کی راہ یہ نکلی کہ میرا نام ’احمد حاطب‘ رکھ دیا گیا۔ مگر والدہ مجھے تاحیات ’احمد‘ ہی پکارتی رہیں۔
اب کہ جب اُن کا مخصوص کمرہ سُونا ہوگیا ہے اور گھر میں سنّاٹا طاری ہے،کبھیکبھی کان بجتے ہیں تواُس کمرے سے وہیشہد میں ڈوبی آوازآتی ہے”احمد!“
اَللّٰھُمَّ اغْفِر لَھَا وَارْحَمْھَا وَ عَافِھَا وَاعْفُ عَنْھَا۔
٭٭
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1