علم و کتاب
8.02K subscribers
1.14K photos
82 videos
2.37K files
6.26K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
*جلوہ ہائے پابہ رکاب ( 58)۔۔۔ ترکی کی ایک عجیب مسجد*
*از: ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم*

ترکی کے مشہور شہر استنبول میں ایک مسجد ہے جس کی تعمیر میں ایک عجیب و غریب قصہ مضمر ہے۔ یہ مسجد فاتح محلے میں واقع ہے اور اس کو کیجی خیر الدین افندی نے 1750ء میں بنایا تھا۔

خیر الدین کوئی مالدار آدمی نہیں تھے بلکہ ایک عام انسان تھے جن کے پاس اتنی دولت نہ تھی کہ وہ اکیلے ایک مسجد کی تعمیر کر سکیں۔ لیکن ان کے دل میں مسجد بنانے کی خواہش تھی اور پکا عزم بھی۔ انھوں نے اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا۔

انھوں نے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنے نفس کو کچلنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان کو جب کبھی کوئی اچھی چیز کھانے کی خواہش ہوتی، تو اپنے نفس پر کنٹرول کرتے اور مطلوبہ چیز کھانے کی بجائے یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے کہ: ”سانکی یدم“ (Sanki yedim) یعنی گویا کہ میں نے وہ چیز کھالی ہے۔ پھر اس کھانے کی قیمت معلوم کرتے، اور اتنی رقم ایک ڈبے میں جمع کر دیتے۔

عرصے تک وہ اس نظام پر قائم رہے اور مدت بعد جب انھوں نے جمع شدہ پونجی کا حساب کیا تو ان کو یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ ان کے پاس اتنی رقم جمع ہے جس سے ایک مسجد کی تعمیر ہو سکتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے 1750ء میں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد بنادی۔ جب محلے کے لوگوں کو اس مسجد کی تعمیر میں خیر الدین افندی کی قربانی کا علم ہوا تو انھوں نے اس مسجد کا نام Sanki Yedim Camii رکھ دیا۔ اس عجیب و غریب نام کا ترجمہ یوں ہے: ”مسجد گویا میں نے کھالیا“۔

جنگِ عظیم میں یہ مسجد جل گئی تھی، اور جنگ ختم ہونے کے بعد 1960ء میں اس کی تعمیرِ نو عمل میں آئی۔
یہ مسجد اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ اگر انسان کا عزم پکا ہو تو اللہ تعالیٰ کی تائید سے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ مثل مشہور ہے: ہمتِ مرداں مددِ خدا۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤3
یہ بات صبا کہیو ان سے وہ جن کی کملیا کالی ہے
اب ان کے غلاموں کے گھر کی دیوار الٹنے والی ہے

کہیو کہ انہوں نے اپنی نظر کیوں ہم سے الگ فرمالی ہے
ہم نے تو انہیں کی زلفوں کی زنجیر گلے میں ڈالی ہے

کہیو کہ دلوں پر چھائی ہوئی ہر سمت شکستہ حالی ہے
دن بھی بڑا سونا سونا اور رات بھی کالی کالی ہے

کہیو کہ یہ صورت حال ہے اب ہم منہ کو چھپائے پھرتے ہیں
گردن پہ تو چہرے ہیں؛ لیکن چہروں پہ کہاں اب لالی ہے

کہیو کہ وہی تو ساقی ہیں، کہیو کہ وہ یہ بھی جانے ہیں
رندوں کو لگی ہے پیاس بہت اور سب کا پیالہ خالی ہے

(ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب رحمہ اللہ)
❤4
Mr Sid
سلسلہ نمبر: 318 انتخاب مطالعہ تحریر: مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی *اسلام دشمنی کا مقابلہ کیسے کریں؟* مغربی دنیا میں اسلام دشمنی کو ختم کرنے کے لئے دانش مندانہ اور مستحکم حکمت عملی اختیار کرکے اسلام اور مسلمانوں کی سچی و صحیح تصویر پیش کرنے…
سلسلہ نمبر: 319
انتخاب مطالعہ
تحریر: مولانا راشد امین


*سیلف سینسر شپ (Self-Censorship)، خوف کی نفسیات اور ”چلنگ ایفیکٹ “*



مسلسل ریاستی و سماجی نگرانی اور اسلاموفوبیا کا ایک بہت بڑا،خاموش مگر تباہ کن نفسیاتی اور علمی اثر یہ ہوا ہے کہ مسلم نوجوانوں، طالب، علموں اور محققین نے اپنے تحفظ کی خاطر ” سیلف سینسر شپ“ (اپنی آواز خود دبانا) شروع کر دیا ہے،قانون اور انسانی حقوق کی اصطلاح میں اس کیفیت کو ”چلنگ ایفیکٹ “ کہا جاتا ہے۔ اس سے مرادا ایک ایسا جابرانہ قانونی اور نفسیاتی دباؤ ہے جو عام شہریوں کو محض خوف کی وجہ سے ان کے جائز آئینی اور جمہوری حقوق ( جیسے آزادی اظہارِ رائے) کے استعمال سے روک دے۔
فرانسیسی فلسفی مشیل فوکو (Michel Foucault) کےپیناپٹیکن(Panopticon) نظریے کے عین مطابق، جب کسی اقلیتی گروہ کو یہ احساس دلا دیا جائے کہ ریاستی ادارے، میڈیا اور خود اکثریتی معاشرہ ہر وقت ان کی نگرانی کر رہا ہے، تو وہ بیرونی دباؤ کے بغیر ہی خود اپنے رویوں پر پہرے بٹھا لیتے ہیں۔ وہ سیاسی موضوعات پر بات کرنے، سوشل میڈیا پر رائے دینے، یا تعلیمی اداروں میں حساس موضوعات پر ریسرچ کرنے سے ڈرتے ہیں تاکہ انہیں ” انتہا پسند ، ملک دشمن یا غدار “نہ سمجھ لیا جائے۔

ہندوستان کے موجودہ تعلیمی، سماجی اور ڈیجیٹل منظر نامے میں اس خوف کی نفسیات اور سیلف سینسر شپ کی کئی ٹھوس مثالیں بآسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔ آج کا مسلم نوجوان فیس بک ، ایکس ( ٹوئٹر ) یا واٹس ایپ پر سیاسی حالات، اقلیتوں پر ہونے والے مظالم یا حکومتی پالیسیوں پر اپنی رائے کا اظہار کرنے سے شدید خوفزدہ ہے؛ وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کی کسی عام سی پوسٹ کا اسکرین شاٹ لے کر مقامی پولیس کو ٹیگ کر دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس پر آئی ٹی ایکٹ (IT Act) یا یو اے پی اے(UAPA) کے تحت مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔
ایمنسٹی انٹر نیشنل اور انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (IFF) کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے خوف کے باعث اپنے پرانے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے ہیں، یا وہ متنازعہ خبروں کو شیئر یا لائیک کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں، بالخصوص جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اداروں میں مسلم محققین (PhD Scholars) اب ایسے تحقیقی موضوعات کا انتخاب کرنے سے کتراتے ہیں جن کا تعلق اقلیتی حقوق، ریاستی تشدد، کشمیر کے حالات یا ہندوتوا کی سیاست سے ہو۔ اکیڈمک سطح پر یہ سیلف سینسر شپ اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ نوجوانوں کو یہ خوف ہے کہ اگر ان کی ریسرچ ریاستی بیانیے سے ذرا بھی مختلف ہوئی تو نہ صرف انہیں ڈگریاں ملنے میں رکاوٹ آئے گی، بل کہ مستقبل میں انہیں سرکاری یا نجی ملازمتیں ملنے کے دروازے بھی بند کر دیے جائیں گے۔

یہ چلنگ ایفیکٹ کارپوریٹ سیکٹر اور نجی ملازمتوں تک بھی پھیل چکا ہے، کئی پڑھے لکھے مسلم پروفیشنلز دفتر میں لنچ کے دوران ہونے والی سیاسی بحثوں سے خاموشی سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں، وہ اپنے ساتھیوں کے اسلاموفوبک تبصروں کا جواب دینے سے محض اس لیے ڈرتے ہیں کہ کہیں انہیں دفتر کے ایچ آر (HR) میں بلوا کر نوکری سے نہ نکال دیا جائے،یہ وہ خاموش نفسیاتی تشدد ہے جس نے ان کی خود اعتمادی کو بری طرح کچل دیا ہے۔

نیوز رومز اور اشاعتی اداروں سے وابستہ مسلم صحافی اور کالم نگار بھی اس دباؤ کا شکار ہیں، جب وہ کوئی مضمون لکھتے ہیں تو وہ الفاظ کے چناؤ میں اس قدر محتاط ہوجاتے ہیں کہ اصل حقائق کی شدت ہی دم توڑ دیتی ہے۔
دی وائر (The Wire) اور میٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CP) کی رپورٹس کے مطابق ، آزاد صحافیوں کو مسلسل یہ ڈر لاحق رہتا ہے کہ ان کی کسی تحریر کو بنیاد بنا کر انہیں ای ڈی (ED) کی تفتیش یا غداری کے مقدمات میں نہ الجھادیا جائے۔

یہ ”سیلف سینسر شپ“ اسلاموفوبیا کی سب سے کامیاب اور خطرناک شکل ہے؛کیونکہ اس میں ریاست یا اکثریتی طبقے کو اقلیت پر براہ راست طاقت استعمال نہیں کرنی پڑتی، بل کہ اقلیت کا اپنا خوف ہی ان کی زبان، ان کے قلم اور ان کی سوچ کی زنجیر بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال مسلم کمیونٹی کو بتدریج ایک گونگی اور بے حس اقلیت میں تبدیل کر رہی ہے، جو کسی بھی فعال اور جمہوری معاشرے کے لیے ایک المیہ ہے۔

( اسلاموفوبیا: نفرت کا بیانیہ، حکمت کا پیغام، صفحہ: 196، طبع: قرطاس پبلکیشنز،)

✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
❤2
دعوت کا اسلوب کیسا ہونا چاہیے؟

مولانا محمد یاسر عبداللّٰه صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:

دعوت کا ایک اسلوب یہ ہے کہ جب کسی کو دعوت دی جائے تو تدریجاً دی جائے اور دینی باتیں آہستہ آہستہ بتائی جائیں، ساری باتیں ایک ساتھ ہی نہ بتائی جائیں۔ یہ دعوت کا مزاج ہے، کیونکہ آہستہ آہستہ زمین ہموار ہوتی ہے اور ذہن چیزوں کو قبول کرتا ہے۔ جب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نبی بن کر تشریف لائے تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پورا دین ایک ہی دن میں نازل نہیں ہوگیا، بلکہ ۲۳ سال کے طویل عرصہ میں یہ احکام تھوڑے تھوڑے نازل ہوئے۔ اسی طرح قرآن مجید بھی ایک ساتھ نازل نہیں ہوا، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ تدریجاً اترا۔ یہ دعوت کا بہترین اسلوب اور اصول ہے، لہذا جب بھی ہم کسی کو دین کی طرف بلائیں تو تدریج کا راستہ اختیار کریں۔ آہستہ آہستہ اس کے ذہن کو اس بات کے لیے تیار کریں؛ کیونکہ ایک ہی دن میں کوئی ولی اور پرہیزگار نہیں بن جاتا۔

(مورخہ ٦ ستمبر ٢٠٢٦ء بروز اتوار کو "ہفتہ وار درسِ حدیث" سے ماخوذ/ پیشکش: طارق علی عباسی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
*کلام شاعر بزبان شاعر*
*یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آنہ سکے*
*جگر مراد آبادی*
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jigar-murad-abadi&t=

آج رئیس المتغزلین جگر مراد آبادی کا یوم وفات ہے، آپ کہ وفات مورخہ 09 ستمبر 1960ء کو واقع ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں آپ کا کلام اردو آڈیو ڈاٹ کام پر پوسٹ شدہ کلام پیش کیا جارہا ہے۔ آپ کی آواز میں مزید تیس آڈیوز سننے اور ڈون لوڈ کرنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jigar-murad-abadi&t=
❤2
*وفیات مورخہ:ستمبر /10
1967ء جلال شاہ۔ سرجن کموڈور ،
1975ء حامد الہ آبادی (حامد حسین)۔ ،
1980ء انعام اللہ خان۔ جسٹس (ر) ،
1982ء محمد البهي۔ الدكتور، مصری وزیر اوقاف
1986ء حنیف آزاد (محمد حنیف قریشی)۔ ،
1991ء زبیر جھارا۔ پہلوان
1991ء محمد احمد پرتاب گڑھی۔ حضرت مولانا،صوفی بزرگ
1995ء شمیم کاشفی (محمد شمیم احمد)۔ شاعر
2000ء زیب النساء حمیداللہ۔ ایڈیٹر مرر ،
2021ء حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی۔ مولانا


https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
2026-09-10 Dastan Jari Hai 003.pdf
13.7 MB
داستان جاری ہے (۰۳) ابو الحسن نغمی
*وفیات مورخہ:ستمبر /11
1917ء محمد فضل حسین۔ ریاضی داں
1918ء حامد امروہوی (حامد علی خان)۔ شاعر
1948ء محمد علی جناح۔ قائد اعظم، بانی پاکستان
1964ء محمد عثمان آزاد۔ شیخ ،
1965ء راجہ عزیز بھٹی۔ نشان حیدر پاکستان
1971ء نکیتا خروشچیف۔ سکریٹری جنرل سویت روس
1973ء سجاد ظہیر۔ رہنما ترقی پسند تحریک
1974ء فقیر محمد فقیر۔ ادیب
1975ء محسن اعظم گڑھی (سید محمد محسن رضوی)۔ شاعر
1979ء عاجزبدایونی (قاضی اشفاق حسین)۔ سفارت کار
1990ء فاروق علی۔ سردار
1992ء ابوبکر محمود غومی۔ نائجیریائی مفکر
1996ء میمن عبد المجید سندھی۔ سندھی محقق
2000ء شائستہ اکرام اللہ (شائستہ اختر بانو)۔ سفارت کار
2001ء محمد اظفر۔ ،
2007ء عبد الکریم پاریکھ۔ مولانا ، مفسر قرآن
2010ء مختار احمد کاشف۔ ،
2018ء کلثوم نواز شریف۔ خاتون اول پاکستان
2022ء نسیم اختر شاہ قیصر۔ ادیب

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟(7 )*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ سے جب شکایت کی کہ میرا حافظہ بہت کمزور ہے، پڑھی ہوئی باتیں یاد نہیں رہتیں، تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت عادل ہے، انصاف کرنے والا، اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تمام صحت مند انسانوں کو یکساں حافظے سے نوازا ہے، بس قاری کے مشاہدے اور دلچسپی کا فرق ہوتا ہے، زبان آنکھ کان تینوں مل کر حافظے کو مضبوط کرتے ہیں، لہٰذا ایک انسان کو جس بات میں دلچسپی ہوگی، اللہ تعالیٰ اسی میدان میں حافظہ مضبوط کرے گا، کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ نے دس بیس سال قبل کوئی چیز دیکھی یا سنی تھی، اس دوران کبھی اس کے تذکرے کا موقعہ نہیں ملا،لیکن اچانک کسی تحریک سے وہ پرانی بات یاد آجاتی ہے،در اصل حافظے کو مہمیز کرنے والی چیز کوئی تحریک ہوتی ہے، مولانا وحید الدین خان صاحب نے لکھا ہے، کہ انسان کا ایک شعور ہوتا ہے ، دوسرا لاشعور ، اس کی حیثیت قطب شمالی کے براعظموں میں برف کے پہاڑوں کی سی ہوتی ہے، ان کا ایک چوتھائی حصہ نظر آتا ہے اور جو سمندر میں اس کا تین گنا حصہ چھپا ہوا ہے وہ نظر نہیں آتا، انسان کے حافظے کا بھی یہی حال ہے۔ اس کے حافظے میں جو چیز محفوظ ہے، وہ تحت الشعور میں چھپی ہوئی ہے۔ ــــــــــنامور ماہر نفسیات پروفیسر کارل سیشور نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
’’ ایک عام شخص اپنی اصلی قوت حافظہ کو دس فیصد سے زیادہ استعمال نہیں کرتا۔ فطری قوانین حافظہ کی خلاف ورزی کرکے وہ نوے فیصد قوت حافظہ ضائع کردیتا ہے۔ ‘‘
جس کتاب کو مکمل پڑھنے میں دلچسپی ہو تو ایسی کتابیں خرید ہی کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ چاہے زیر مطالعہ کتابوں کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ کتاب کے مطالعہ ،انتخاب اور اس پر تاثرات اور رائے لکھنے پر جومحنت صرف ہوتی ہے، یہ زندگی بھر ساتھ رہنے کا سرمایہ ہوا کرتی ہےاور اتنی محنت کے بعدقاری کے لئےاپنے پڑھے ہوئے نسخے کی قدرو قیمت کتاب کی اصل قیمت خرید سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
کتاب خریدنے سے پہلے یا اس کے مطالعہ کے آغاز پر اپنا تھوڑا سا وقت ان أمور پر غور کے لئے بھی صرف کرنا چاہئے:
۔کتاب کا مقدمہ ایک مرتبہ ضرور پڑھا جائے۔ اس سے کتاب کی اہمیت واضح ہوگی۔
۔فہرست موضوعات پڑھی جائے، اس سے کتاب کا خلاصہ آپ کے سامنے آجائے گا۔
۔مصادر و مراجع کی فہرست پر ایک نگاہ ڈالی جائے،اس سے کتاب کی فکری اساس کا علم ہوگا۔
۔بعض مصنّفین ، ابواب کے آخر میں مضمون کے خلاصے کا اہتما م کرتے ہیں،ان پر بھی پیشگی سرسری نظر مفید ہے۔
۔کتاب کا معیار سمجھنے کے لئے اس کے بعض صفحات یا پیراگرافس کا مطالعہ بھی مفید ہے۔
۔ اگر آپ تعلیم کے ابتدائی مراحل پار کرکے فراغت پاچکے ہیں یا فراغت کے قریب ہیں تو پھر ایسے ہر قاری کو اپنے بڑوں سے ہر کتاب کے لئے پیشگی اجازت طلب کرنے کے بجائے، انہیں خود سے پسند کرکے پڑھنا چاہئے اور جہاں اشکالات ہوں ، وہاں اپنے اساتذہ اور بڑوں سے رہنمائی طلب کرنی چاہئے، انہیں ان بچوں کی طرح نہیں ہونا چاہئےجنہیں ان کی مائیں نوالہ اپنے منہ میں چبا چبا کر کھلاتی ہیں، چبا چبا کر کھلانے کی ایک عمر ہوتی ہے، اگر ساری عمر اسی طرح چبا چبا کرکھلانے کی عادت پڑ جائے، تو بچے کا ہاضمہ کبھی درست نہیں ہو سکے گا، ایک طالب علم کو پر اعتماد ہونا چاہئے،البتہ کسی کتاب یا عبارت سے فورا متاثر ہوکر اپنی کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہئے، علم ایک بحر بے کراں ہے، اس کے دوسرے کنارے تک پہنچنا آسان نہیں ، لہٰذا کسی نتیجے تک پہنچنے کے لئے ، موضوع سے متعلق قابل اطمینان حد تک طلب اور جستجو کرنی چاہئے، علم کے پیالے کو بھرے بغیر ہی نہیں چھلکنا چاہئے۔
۔کتاب پڑھنے سے پہلے کسی سے متاثر ہوکر مصنف یا کتاب کے سلسلے میں رائے قائم کرنے سے احتراز کرنا چاہئے، اس کا بڑا نقصان ہوتا ہے، کبھی یہ بدگمانی اور ناانصافی کا سبب بنتا ہے، اس سلسلے میں بڑوں کی رایوں کا احترام کریں اور اگر پہلی نظر میں ان کی بعض آراء غلط محسوس ہورہی ہوں تو بد گمانی سے بچتے ہوئے ان کی ممکنہ تاویل کی کوشش کریں، یہ بات ذہن میں رہے کہ ہمارے بہت سے اکابر کے یہاں مصروفیت یا ذوق کی بنا پر آسان اسلوب میں مضمون کو پھیلاکر لکھی گئی کتابوں کے مطالعہ کا رواج نہیں ہے اور ہر ایک کی دلچسپی کا اپنا ایک میدان ہوتاہےاور کمال صرف اللہ کی ذات کو ہے۔
تفسیر بیان القرآن کے بارے میں علامہ محمد انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی یہ رائے اس پس منظر کو سمجھنے میں معاون بن سکتی ہے کہ:
”(میں) ہمیشہ یہ سمجھتا رہا کہ اردو کا دامن علم و تحقیق سے خالی ہے لیکن مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے اپنی رائے میں ترمیم کرنا پڑی اور اب سمجھتا ہوں کہ اردو بھی بلند پایہ علمی تحقیقات سے بہرہ ور ہے۔ “
یہی وجہ ہے کہ ہمارے کئی ایک اکابر کے اپنے معاصرین پر لکھے گئے ردود دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے مخالفین کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اصاغر ہمارے اکابر کے پا س سیاق وسباق کے بغیر کتابوں کی عبارتیں پیش کرتے ہیں، جن پر اعتماد کرکے ان اکابر کی سخت رائے سامنے آتی ہے۔
اس پر ہمیں ۱۹۷۱ء کا ایک واقعہ یاد آیا، مدراس( چنئی) کے چیف قاضی مولانا محمد حبیب اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا تبلیغی جماعت کے خلاف ایک بہت ہی سخت فتویٰ شہر کی مساجد میں جگہ جگہ آویزاں تھا، اسی زمانے میں آپ کے ایک عزیز پروفیسر عبد المجید صاحب نیو کالج اور شہر میں تبلیغی کاموں میں بڑے سرگرم ہوا کرتے تھے، ان سے ہم نے دریافت کیا کہ آپ کے بزرگوار کا تبلیغی جماعت کے خلاف فتوی ہےاور آپ کا جماعت سے تعلق ہے، قاضی صاحب آپ سے ناراض تو نہیں ہوتے؟ تو فرمایا کہ: آپ تو جانتے ہیں کہ قاضی صاحب کتنے شریف الطبع انسان ہیں،ان سے اس قسم کے تکفیری فتوے سرزد ہونا ممکنات میں نہیں ہے، وہ عمر کے ایک ایسے مرحلے میں ہیں کہ اپنے عزیزوں قریبوں پر اعتماد کرنے پر مجبور ہیں۔ جن میں سے بعض آپ کے اعتماد کا استحصال کرتے ہیں۔
ہم نے کافی عرصے سے ردود کی کتابیں پڑھنی تقریبا بند کردی ہیں، کیونکہ جن کتابوں کا رد لکھا جاتاہے، انہیں پڑھنے سے اکابر سے اعتماد اٹھ جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور اگر کوئی موضوع بہت ہی اہم ہو اور اس سے کچھ تحقیقی اسلوب جاننے کا موقعہ ملتا ہے تو پھر ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس سلسلے کے رد اور تائید میں لکھے ہوئے پورے سلسلے پر ایک نظر ڈالی جائے، اور جن مجلات اور کتابوں کا حوالہ ہے، انہیں براہ راست مطالعہ کرنے کی کوشش کی جائے۔
ردود کے سلسلے میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن شخصیات سے کسی وجہ سے ہم ناراض ہوتے ہیں تو ان کے خلاف ہر رطب و یابس کو قبول کرتے ہیں، اس سلسلے میں امانت داری کا احساس ہمارے دلوں سے ختم ہوجاتا ہےاور بے خبری میں ہم دشمنوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں، شیخ محمد ناصرا لدین البانی رحمۃ اللہ علیہ سے ہمارے بہت سارے اختلافات سہی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا ہر ایک مخالف یا دشمن ہمارا دوست ہو، ابھی چند سال قبل ایک اردنی حسن السقاف کی کتاب ’’تناقضات الالبانی الواضحات ‘‘ کو ہمارے حلقوں میں بڑی پذیرائی ملی تھی، امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’دفع شبہ wالتشبیہ باکف التنزیہ‘‘ کا جو ایڈیشن ان کے حاشیہ کے ساتھ نکلا ہے، اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں بڑی بدزبانی اور گستاخی کی گئی ہے،اس طرح حضرت معاویۃؒ پر امام ابن حجر الھیتمی مکی کی کتاب تطہیر الجنان و اللسان کے رد میں ان کی کتاب اور دوسری کتابوں میں یہ خیالات بھرے پڑے ہیں۔
آج سے دس سال قبل ہماری ایک محترم شخصیت البانی صاحب کی دشمنی میں ان کے خیالات و افکار سے متاثر ہوئی تھی، اسی وقت ہم نے انہیں تنبیہ کی تھی کہ البانی صاحب پر تنقید اگر شیخ ابو غدہ جیسی کوئی شخصیت کرتی ہے تو سر آنکھوں پر لیکن البانی صاحب کی دشمنی میں آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں سے ہاتھ ملاتے ہیں تو یہ کسی طرح ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگا۔ اختلاف کا یہ مثبت رویہ نہیں ہے۔
۔ بعض کتابوں کو بڑی گہرائی سے پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہےکیونکہ مطالعہ کھیت جوتنے کی مانند ہے، ایک کسان کی طرح آپ بھی کھیت پر ہل چلائیں اور وہ نرم زمین کو چیرنے کے لئے ہل جوت کر جو محنت کرتا ہے ، ایسی محنت آپ بھی کریں۔ (جاری)
WA:+919741136475
https://telegram.me/ilmokitab
*غلطی ہائے مضامین*

*مگر اب وہ چھوٹا سا لڑکا کہاں ہے؟*

*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*

پچھلے دو ہفتے سے یہ سوگوار کالم نگار کوئی نیا کالم نہ لکھ سکا۔ برادرم محمد شکیل کے ذوقِ انتخاب نے اس دوران میں پُرانے کالم منتخب کرکر کے نئے قارئین کا جی بہلائے رکھا۔ نئے لوگوں کو شاید پُرانے کالم بھی نئے ہی لگے ہوں .
۲۳ اگست کی شام بانوے برس کی عمر میں والدہ محترمہ کی زندگی کی بھی شام ہو گئی۔ جاتے جاتے وہ اپنی یاد کی شمعیں روشن کرتی گئیں ۔ فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمٰن چشتی حفظہٗ اللہ نے نمازِ جنازہ پڑھانے سے قبل جو مختصر اور پُر اثر گفتگو کی، اُس میں اقبالؔ کا یہ شعر بھی پڑھا:
زندگی کی اوج گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم
صحبتِ مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم
شعر سنتے ہی سات برس کالڑکا یکایک ستّر برس کا بوڑھا ہوگیا۔ سات سال کا وہ طفلِ سادہ، جس کو والدہ نے نماز سکھانے کے ساتھ ساتھ، بڑی محنت اور بڑے لحن سے اقبال ؔ کی ایک غزل بھی یاد کرائی تھی۔”بانگِ درا“ کی آخری غزل، جو یوں شروع ہوتی ہے :
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اس غزل کے ذکر پر ایک منظر یاد آگیا۔ ایک بار اُن کا یہ ’طفلِ سادہ‘ اُنھیں اپنے ساتھ لے کر لاہور گیا۔ لاہور کی سیر کراتے ہوئے جب شاہ عالمی دروازے کے باہر واقع ”مسجدِ شب بھر“ اُنھیں دکھائی تو وہ کِھل اُٹھیں ، اُن کی خوشی دیدنی تھی ۔ وہیں کھڑے کھڑے اُنھوں نے اقبالؔ کی یہ پوری غزل سنائی۔ اُسی دورۂ لاہور میں جب انار کلی بازار کے پاس ایک بغلی گلی میں اُن کو سلطان قطب الدین ایبک کا مزار دکھایا تو اُنھوں نے مزارِ قطب الدین ایبک پرکہی ہوئی حفیظؔ جالندھری کی نظم سنادی۔ اِس وقت اُن کا سُنایا ہوا صرف ایک شعر یاد آرہا ہے:
یہاں لاہور میں سوتا ہے اِک گمنام کوچے میں
پڑی ہے یادگارِ دولتِ اسلام کوچے میں
اپنی عمر کے بانوے برسوں میں بس آخری دو ہفتے اُنھوں نے نیم غنودگی اورتقریباً بے ہوشی کے عالم میں گزارے۔ ورنہ آخرِ عمر تک وہ اپنے ہوش و حواس میں تھیں ۔ سِن رسیدگی کی وجہ سے گو حافظہ کمزور ہوگیا تھا، صبح کی بات شام تک بھول جاتی تھیں ، لیکن پُرانی باتیں اُنھیں خوب ازبر تھیں ۔کسی متروک لفظ کا تلفظ پوچھنا ہو یا کسی قدیم کہاوت کا مفہوم جاننا ہو، تویہ کالم نگار کالم لکھتے لکھتے یکایک ’طفلِ سادہ‘ ہو جاتا اور صحبتِ مادر میں پہنچ کر گوہرِ مراد لے آتا۔مگر اب بھلا وہ طفلِ سادہ رہا کہاں؟ اُن کے بعد توبَر میں بس ایک ستّرسال کابوڑھا باقی بچا ہے۔
ٍٍ والدہ کی تمام تعلیم و تربیت گھرہی پر ہوئی تھی۔ وہ ہندوستان میں اُتّر پردیش، ضلع اعظم گڑھ کے ایک دُور افتادہ گاؤں محی الدین پور میں پیدا ہوئی تھیں ۔ گاؤں میں کوئی اسکول نہ تھا اور اُس زمانے میں مسلمان لڑکیوں کو تعلیم کے لیے دور درازشہروں میں بھیجنے کا رواج نہیں تھا۔ نانا نے اُنھیں اُردو اور دینی کتب کی تعلیم گھرہی پردے دی تھی۔ والدہ بتاتی تھیں کہ ان کے بچپن میں بچوں کے رسائل ”کھلونا“ وغیرہ گھر پر منگائے جاتے تھے، جن میں شائع ہونے والی نظمیں وہ خوب لہک لہک کر گاتی تھیں ۔ حفیظ جالندھری کا ”شاہ نامۂ اسلام“ شائع ہوا تو اُس کی تمام جلدیں منگالی گئیں ۔ امی کو شاہنامے کی بہت سی نظمیں زبانی یاد تھیں ۔ وہ اپنے اس ’طفلِ سادہ‘کو سلاتے وقت شاہ نامے کی نظمیں ترنم سے سنایا کرتی تھیں ۔ اُن کا مخصوص خوابناک ترنم اِس وقت بھی ذہن میں نغمہ ریزہے۔ اُن کے سنائے ہوئے اشعار لاشعور میں رچ بس گئے تھے۔ مفہوم بڑے ہو کر سمجھ میں آیا۔ اُن کا شعری ذوق بہت عمدہ تھا۔ عمر کے آخری حصے میں جب اُن کو اُٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں مشکل پیش آنے لگی تو بیٹے کے سہارے اور مشقت کے ساتھ اُٹھتے ہوئے حالیؔ کا یہ شعر پڑھا کرتیں اور شعر پڑھ کر مُسکرا دیتیں:
اے خاصۂ خاصانِ رُسُل وقتِ دُعا ہے
اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
ہندوستان سے ہجرت کے بعد ہمارے والد، والدہ اور بڑے بھائیوں نے معاشی طور پر بہت کٹھن دنوں کا سامنا کیا۔ مگر میں نے اپنی والدہ کو ہمیشہ صبر اور شکر کرتے پایا۔ کبھی اُن کے منہ سے کسی چیز کی کمی کی شکایت نہیں سنی۔ وہ ہمیشہ اُن نعمتوں کو گن گن کر بتایا کرتی تھیں جو ہمارے پاس ہیں اور دوسروں کے پاس نہیں ہیں ۔ میری عمر تقریباً چھے برس تھی تو میرے والدین مجھے لے کر ہندوستان ،اپنے گاؤں گئے۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ لوگ کتنی بڑی جائداد اور کیسی پُر تعیش زندگی چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔ لیکن میں نے اپنے والد یا والدہ کی زبان سے کبھی ایسا کچھ نہیں سنا کہ پاکستان آ کر وہ پچھتائے ہوں ۔ ہم نے ہمیشہ انھیں اللہ کا شکر ہی ادا کرتے دیکھا۔ غربت کے زمانے میں ہماری والدہ نے گھر کا نظام بڑے سلیقے سے چلایا۔ ہم میں سے کسی کو کسی چیز کی کمی یا محرومی محسوس نہیں ہونے دی۔ جب تک اُن کے دم میں دم رہا، صبح کا ناشتہ کرائے بغیر کبھی گھر سے باہر نکلنے نہ دیا۔ کہتی تھیں:
❤1
”یک لقمۂ صباحی، بہتر زِ مُرغ و ماہی“
ہمارے ملبوسات اپنے ہاتھ سے سِلا کرتی تھیں ۔ ہاتھ سے سلنے کا مطلب ہاتھ ہی سے سِلنا ہے، مشین سے نہیں ۔ عید پر ہمارے لیے ململ کا سفید کرتا سیتی تھیں ۔ تُرپانی مکمل کر لینے کے بعد کرتے کے گلے پر سفید ریشمی دھاگے سے چنبیلی کے نازک نازک پھول ہار کی صورت میں کاڑھا کرتی تھیں ۔ بعد کوانھوں نے کسی طرح بچت کرکر کے ایک سلائی مشین خرید لی تھی۔ میں نے اُس مشین کی رسید دیکھی تھی۔ قیمت ڈیڑھ سو روپے تھی۔ یہ غالباً 1964ء میں خریدی گئی تھی۔ اُس وقت لوگوں کی تنخواہیں بھی اِس خطیر رقم سے کم ہوا کرتی تھیں ۔ اب ہمارے کپڑے مشین پر سیے جانے لگے۔ درزی سے سلوانے کا سلسلہ تب شروع ہوا جب ہم برسر روزگار ہوگئے، ورنہ رومال، میزپوش اور تکیے کے غلاف وغیرہ بھی والدہ خود ہی سیا کرتی تھیں اور اُن پر دل کش اشعارکی کشیدہ کاری کرتی تھیں ۔ میں چھوٹا تھا تو اُنھوں نے ایک چھوٹا سا تکیہ بنایا اوراُس کے غلاف پر یہ شعر کاڑھا:
تکیے پہ سو رہا ہے جو یہ میرا نونہال
اس کو الٰہی کیجیو دنیا میں بے مثال
اپنے لیے اُنھوں نے جو تکیہ تیار کیا تھا اُس کے غلاف پر میں نے یہ شعر کڑھا ہوادیکھا تھا:
کسی کا زور زر پر ہے، کسی کا جاہ پر تکیہ
مرے ٹوٹے ہوئے دل کا ہے بس اللہ پر تکیہ
جب میں ابتدائی جماعتوں میں تھا تواُنھوں نے میرے لیے اپنے ہاتھ سے کپڑے کا ایک بستہ بنایاتھا۔ بستہ گلے میں لٹکانے کو ایک خوب صورت اور مضبوط بندھن بھی باندھا تھا ۔خوب یاد ہے کہ بستہ بنا لیا تواُس پربہت حسین اور دلکش خط میں اُنھوں نے یہ شعر کاڑھا:
احمد کو کوئی دیکھے کیا مسکرا رہا ہے
بستہ لیے بغل میں ، اسکول جا رہا ہے
والدہ سے تو نہیں ، ہاں اپنی نانی سے سنا تھا کہ جب میری ولادت ہونے والی تھی تو والدہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک نورانی صورت بزرگ اُن سے کہہ رہے ہیں:
”بیٹی! تمھارے ہاں بیٹا پیدا ہو تو اُس کا نام احمد رکھنا“۔
والد صاحب میرا نام ’حاطب‘ رکھنا چاہتے تھے۔ چناں چہ مصلحت و مصالحت کی راہ یہ نکلی کہ میرا نام ’احمد حاطب‘ رکھ دیا گیا۔ مگر والدہ مجھے تاحیات ’احمد‘ ہی پکارتی رہیں۔
اب کہ جب اُن کا مخصوص کمرہ سُونا ہوگیا ہے اور گھر میں سنّاٹا طاری ہے،کبھیکبھی کان بجتے ہیں تواُس کمرے سے وہیشہد میں ڈوبی آوازآتی ہے”احمد!“

اَللّٰھُمَّ اغْفِر لَھَا وَارْحَمْھَا وَ عَافِھَا وَاعْفُ عَنْھَا۔
٭٭
Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
* جلوہ ہائے پابہ رکاب (59 )۔۔۔ جامعہ الازہر میں میرا داخلہ*
*ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم *

ہائی اسکول کے زمانے میں میں نے کتابوں کے ذریعہ کافی حد تک عربی سیکھ لی تھی۔ اب مصری ریڈیو سے بھی استفادہ کرنے لگا تھا۔ ان دنوں پاکستان سے «البشير» نامی ایک عربی ماہنامہ شائع ہونے لگا۔ اس میں اکثر مصری اہل قلم کے مضامین شائع ہوتے تھے۔ میں اس کا خریدار بن گیا اور ہر ماہ اس کا شمارہ پڑھنے لگا۔ مصری سفارت خانہ سے بھی میر ا ربط رہتا تھا، اور وقتاً فوقتاً ہفتہ بھر کے روزنامے مل جاتے تھے۔ اس طرح میں جدید عربی سے روشناس ہونے لگا۔ میں مدراس یونیورسٹی سے (B.A. (Hons کی ڈگری لینے کے بعد اسلامیہ کالج وانمباڑی میں انگریزی پڑھانے لگا، کچھ عرصے بعد میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے (M.A (Arabic کی ڈگری بھی لے لی۔ انھیں دنوں اسلامیہ کالج وانم باڑی میں عربی Department قائم ہوا اور میں عربی پڑھانے پر مامور ہو گیا۔ جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کی میری دیرینہ خواہش اب حقیقت سے قریب تر نظر آرہی تھی۔
ان دنوں مصر کے صدر جمال عبد الناصر تھے۔ وہ عروبت کے علم بردار تھے۔ میں نے 1963ء کی عید الفطر کے موقع پر صدر عبد الناصر کے نام ایک عید کارڈ روانہ کیا جس میں میں نے صدر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان سے یہ درخواست کی کہ وہ مجھے جامعہ الازہر میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیں۔ تین ہفتے بعد مصر سے ایک خط موصول ہوا۔ یہ نائب صدر حسین الشافعی کی طرف سے تھا جو اس وقت امور ازہر کے ذمہ دار تھے۔ خط کا مضمون یہ تھا کہ جامعہ الازہر میں میرا داخلہ ہو چکا ہے اور اس خط کے ذریعہ مصری سفارت خانہ سے ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل و کرم تھا۔ میری ایک دیرینہ خواہش اس کے فضل و کرم سے پوری ہو گئی۔ میں جنوری 1964ء میں قاہرہ پہنچا اور چند دنوں میں میرے داخلہ کی کارروائی پوری ہو گئی۔ از ہر سے یہ پتہ چلا کہ علی گڑھ کی .M.A کی ڈگری کا ازہر میں معادلہ نہیں ہے اس لیے مجھے Ph.D میں داخلہ سے پہلے .M.A کی ڈگری حاصل کرنی پڑے گی۔ چنانچہ میں نے امتحان لکھا اور اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب ہو گیا۔ اس کے بعد ایک thesis لکھنا پڑتا ہے۔ میں نے «الکلمات الفارسية في اللغة العربية» کے عنوان سے اپنا مقالہ لکھا اور اس کے مناقشے ( viva voce) کے بعد مجھے «ماجستیر» کی ڈگری مل گئی۔ میرےPh.D میں داخلہ کے لیے ملاحظہ ہو مضمون نمبر 23، اور مسجد ازہر میں میری پہلی نماز تراویح کے لیے ملاحظہ ہو مضمون نمبر 15۔
https://telegram.me/ilmokitab
❤1
*وفیات مورخہ:ستمبر /12*
1913ء افق لکھنوی ( منشی دوارکا پرشاد)۔
1913ء دوارکا پرشاد افق۔
1918ء حامد امروہوی (حامد علی خان)۔ بیرسٹر، شاعر
1927ء محمد عبید اللہ مدراسی۔ مولانا ، سر قاضی مدراس
1963ء محمد اکرام اللہ۔ سفارت کار، سکریٹری خارجہ پاکستان
1969ء فرخ امین۔ ،
1969ء محمد اسحاق۔ ڈاکٹر ، ٍصدر شعبہ فارسی عربی کلکتہ یونیورسٹی
1987ء فکر تونسوی (رام لال بھاٹیا)۔ مزاح نگار ،
1989ء عبدالمحی جعفری (سید)۔ ،
1989ء کمال ایرانی (سید کمال الدین صفوی)۔ ،
1990ء راقب حسین نقوی۔ ،
1991ء احسن علی خان۔
1999ء بشیر احمد فاروقی۔ ،
1999ء سعید احمد یوسف زئی۔ مولانا ،
1999ء ناظم جیوا۔ بیرسٹر ،
2012ء مظفر رزمی کیرانوی۔ شاعر
2013ء صدیقی، اے آر۔ بریگیڈیر
2017ء احمد صغیر صدیقی۔ شاعر، افسانہ نگار
2017ء افضل حسن رندھاوا۔ پنجابی ادیب وشاعر

https://telegram.me/ilmokitab
وفیات مورخہ:ستمبر /13
1895ء فضل الرحمن گنج مرادآبادی۔ صوفی بزرگ، مجاہد آزادی ،
1914ء مصطفی فہمی باشا۔ مصری ادیب
1919ء رئیس شمس الدین بلبل۔ سندھی شاعر وصحافی
1927ء محمد علی مونگیری (سید)۔ مولانا ، بانی ندوۃ العلماء لکھنو
1944ء نور عنیات خان (نور النساء)۔ ہندوستان نژاد برطانوی جاسوسہ
1958ء صدیق احمد صدیقی۔
1971ء طالب کشمیری (پنڈت نند لال کول)۔ شاعر ،
1979ء نصیراحمد کیفی (سید)۔ صوفی
1982ء ظہور الحسن بھوپالی۔ شاعر ،
1983ء حسن حبیب عثمانی۔ شاعر، تاجر
1985ء محمد حسین بنگلوری باقوی۔ مولانا، پرنسپل جمالیہ عربک کالج چنئی
1988ء مظہر عرفانی (محمد مظہر علی خاں)۔ ،
1990ء امیر علی نگینوی۔ مولانا قاری
1994ء ہند الحسینی۔
2006ء محمد میاں آگرہ۔ مولانا
2006ء ثناء گورکھپوری (محمد ثناء اللہ)۔ ،
2012ء لہری (سفیر اللہ صدیقی)۔ مزاحیہ اداکار ،
2013ء مہر وجدانی (قریش احمد)۔ ،
2014ء سنبل طلعت۔ ،
2019ء غلام شاہ جیلانی۔
2020ء معزالدین احمد قاسمی۔ مولانا مفتی
2020ء ضمیر اختر نقوی ۔ شیعہ خطیب،
2021ء صفدر محمود۔ کالم نگار
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
وفیات مورخہ:ستمبر /14
1857ء حافظ محمد ضامن۔ مجاہد جنگ آزادی
1931ء عبد الماجد بدایونی۔ مولانا ، رہنما تحریک خلافت
1945ء محمد دین فوق۔ ادیب، مورخ کشمیر
1966ء جمال گورسل۔ فوجی جرنیل ترکیۃ
1978ء محمد حبیب اللہ مدراسی۔ مولانا، سر قاضی مدراس
2000ء حمد الجاسر۔ مورخ جزیرہ عرب
2001ء ریاض اے نائیک۔ ،
2004ء لودھی (سردار ایف ایس)۔ لیفٹننٹ جنرل
2010ء سعیدہ فیض۔ ماہر تعلیم ، اترپردیش
2010ء فرزند محمد سمیع صدیقی (شعبہ مالیات کے امین )۔
2021ء زیتون بانو۔
2024ء جابر مبارک الحمد الصباح۔

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
*اُردو کے سینئر شاعر و ادیب*
*فراز حامدی رِحلت کر گئے*
ممبئی:15 ستمبر (ندیم صدیقی) جے پورسے ملنے والی مصدقہ اطلاع کے مطابق اُردو کے سینئر ہمہ جہت شاعر و ادیب (88سالہ) فراز حامدی طویل علالت کے بعد گزشتہ اتوار 13ستمبر کی شام رِحلت کر گئے۔
واحد حسین خان المعروف فراز حامدی راجستھان کے مردم خیز شہر ’ٹونک‘ کے متوطن تھے، ان کے والد ڈاکٹر حامد حسین خان المتخلص طالب وارثی بھی ایک اچھے سْخن ور تھے اور اپنے والد کی نسبت سے وہ اپنے نام کے ساتھ ’ حامدی‘ کا لاحقہ لگاتے تھے، فراز حامدی پچاس برس کی زاید مدت سے جے پور میں مقیم تھے جہاں انھوں نے گزشتہ اتوار کو آخری سانسیں لیں۔
وہ ایم اے اور ادیب فاضل جیسی اسناد سے سرفراز تھے اور درس و تدریس جیسےمؤقر شعبے سے وابستہ رہے۔
وہ اُردو گیتوں کے حوالے سے ایک امتیازی تشخص رکھتے تھے، دوہا گیت،سرسی گیت اور ماہیہ گیت ان کے تشخص کے روشن حو الے ہیں۔
ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے چند کتابوں کے نام اس طرح ہیں: دیار ِمدینہ، آنسو آنسو برکھا، اُردو دوہا، یادوں کی سوغات (ہائیکو)، ماہیہ رنگ، رینگا (اور نثر میں) توازن، انشراح، انتقادیات، اُردو دوہا تحریک۔
انھیں مشہور شاعر حضرتِ کیف بھوپالی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔
فراز حامدی نے کئی شاعر و ادیب پر کتابیں بھی پیش کیں، جن میں عاصی کاشمیری، ساحر شیوی ڈاکٹر ودیا ساگر آنند اور ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی جیسے ممتاز نام ہیں۔
فراز حامدی کو کئی اداروں سےانعامات و اعزازات بھی ملےاور ملک کے مختلف شہروں میں ان کا جشن بھی منایا گیا ان کے فن و شخصیت پر کئی رسائل نے ’فراز حامدی: خصوصی مطالعہ‘ کے نام سے ان پر گوشہ بھی شائع کیا اور ان کی ادبی خدمات پر راجستھان یونیورسٹی سے ایم فل بھی کیا گیا۔
فراز حامدی کے پسماندگان میں بیوہ شمیم فاطمہ اور بیٹی رافعہ مخدوم ہیں۔
پیر 14ستمبر کو شاستری نگر(جے پور) کے قبرستان میں فراز حامدی کے جسدِ خاکی کو سپردِ لحد کردِیا گیا۔
وفیات مورخہ:ستمبر /16
1350ء  ابن قیم جوزیہ۔  مصنف زاد المعاد
1857ء  محمد باقر۔  مجاہد آزادی، مدیر دہلی اردو اخبار
1931ء  سنتوش کمار مترا۔  بنگالی مجاہد آزادی
1931ء  عمر المختار۔  مجاہد آزادی لیبیا
1955ء  تنویرصدیقی (محمد نور احمد صدیقی)۔   ،
1975ء  یوسف جمال انصاری۔   ،
1987ء  ابوالفضل صدیقی۔  ادیب ، افسانہ نگار ،
1990ء  یحیی مرچنت۔ 
1993ء  فخر الدین ایچ شیخ۔  جسٹس (ر) ،
1994ء  راجہ سخی دلیر خان۔  جرنیل
1997ء  نوا لکھنوی۔ 
1997ء  نوا لکھنوی۔ 
2000ء  سلام سندیلوی، عبد السلام۔  ادیب،  نقاد ،
2003ء  محمد حفظ الباری۔  ادیب وشاعر
2006ء  حیرت الہ آبادی (سید مہدی حسن)۔  ادیب، شاعر
2008ء  رفعت کریم۔  پروفیسر ،
2010ء  اعجاز الحق اعجاز۔   ،
2010ء  عمران فاروق۔  ڈاکٹر ،
2020ء  نشتر امروہوی۔ 
2023ء  مبارک قاضی۔  بلوچ ادیب
 
Https://telegram.me/ilmokitab
❤2