قیمتی کتابوں کی تعداد چھ لاکھ سے زائد تھی۔ ایک طرف لاکھوں انسانوں کے قتل عام سے دریا میں بہنے والے خون نے دریا کے پانی کو سرخ کیا اور دوسری طرف کتابوں کی سیاہی نے اس سرخ پانی میں مل کر اسے ایک بھیانک رنگ میں بدل دیا۔ اس بربادی میں بغداد کے مدارس، دارالترجمہ اور علامہ سید رضی موسوی کے کتب خانہ سمیت متعدد ذاتی کتب خانے ختم ہو گئے۔ جس سے اسلامی دنیا کا صدیوں پر محیط علمی اور تہذیبی سرمایہ ضائع ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں کتابیں دریابرد کرنے کی وجہ سے دریا میں پل بن گیا جس پر گھڑ سوار اپنے گھوڑے دوڑاتے تھے۔ بلا شبہ ابو بلال کے ذہن میں یہ واقعہ رہا ہوگا اور ان کو اندیشہ بھی رہا ہوگا کہ کہیں ان کی قیمتی اور نادر کتابوں کا بھی یہی حشر نہ ہو جائے۔ قابل مبارکباد ہیں ابو بلال جنھوں نے کتابوں سے محبت کی ایک نادر پیش کی۔
اس واقعہ نے مجھے اپنے لڑکپن کا وہ واقعہ یاد دلا دیا جب ہم لوگ چھٹے ساتویں درجے کے اسٹوڈنٹ تھے اور ہمارے گاوں میں کتب و اخبار بینی کی توانا روایت موجود تھی۔ اس روایت سے حوصلہ پاکر ہم چند اسٹوڈنٹس نے مل کر ایک ’آزاد لائبریری‘ قائم کی۔ یہ لائبریری لکڑی کی ایک ٹنکی (کھوکھا) میں قائم کی گئی۔ کتابیں ہر قسم کی تھیں۔ مذہبی، ادبی، سماجی، طبی وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ابن صفی، نسیم حجازی اور صادق سردھنوی وغیرہ کے ناول بھی تھے اور کچھ رسائل و جرائد اور اخبارت بھی۔ ناولوں میں سب سے زیادہ قارئین ابن صفی اورنسیم حجازی کے ناولوں کے تھے۔ اس لائبریری نے ہم لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ اور لوگوں کے اندر بھی کتب و رسائل بینی کا شوق پیدا کر دیا۔ کچھ دنوں کے بعد ہم لوگوں کے اگلے درجات میں جانے اور مصروفیات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے لائبریری بند ہو گئی لیکن اخبار بینی کا شوق فزوںتر ہوتا چلا گیا۔ لہٰذا چند برسوں کے بعد گاوں کے لوگوں نے انفرادی طور پر اخبارات و رسائل منگانے شروع کر دیے۔ اس لائبریری نے تقریباً نصف درجن افراد کے اندر ابن صفی اور نسیم حجازی کے ناولوں کو پڑھنے کا ایسا شوق پیدا کر دیا کہ بعد میں بھی وہ کتابیں منگا منگا کر پڑھتے رہے۔ لیکن برا ہو سوشل میڈیا کا جس نے اس شوق کو درگور کر دیا۔ یہ اتفاق ہے کہ اس لائبریری کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں نے اپنی عملی زندگی میں ترقیات کے منازل طے کیے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی آمد نے بچوں سے لے کر بزرگوں تک کے ذوق کو بگاڑ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر انتہائی منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ متعدد ممالک نے پندرہ سولہ سال تک کے بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عاید کر دی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تاریخ کا پہیہ تھوڑا سا الٹا گھوم جائے اور کتب و اخبار بینی کا وہ سنہرا دور پھر واپس آجائے۔
موبائل: 9818195929
اس واقعہ نے مجھے اپنے لڑکپن کا وہ واقعہ یاد دلا دیا جب ہم لوگ چھٹے ساتویں درجے کے اسٹوڈنٹ تھے اور ہمارے گاوں میں کتب و اخبار بینی کی توانا روایت موجود تھی۔ اس روایت سے حوصلہ پاکر ہم چند اسٹوڈنٹس نے مل کر ایک ’آزاد لائبریری‘ قائم کی۔ یہ لائبریری لکڑی کی ایک ٹنکی (کھوکھا) میں قائم کی گئی۔ کتابیں ہر قسم کی تھیں۔ مذہبی، ادبی، سماجی، طبی وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ابن صفی، نسیم حجازی اور صادق سردھنوی وغیرہ کے ناول بھی تھے اور کچھ رسائل و جرائد اور اخبارت بھی۔ ناولوں میں سب سے زیادہ قارئین ابن صفی اورنسیم حجازی کے ناولوں کے تھے۔ اس لائبریری نے ہم لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ اور لوگوں کے اندر بھی کتب و رسائل بینی کا شوق پیدا کر دیا۔ کچھ دنوں کے بعد ہم لوگوں کے اگلے درجات میں جانے اور مصروفیات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے لائبریری بند ہو گئی لیکن اخبار بینی کا شوق فزوںتر ہوتا چلا گیا۔ لہٰذا چند برسوں کے بعد گاوں کے لوگوں نے انفرادی طور پر اخبارات و رسائل منگانے شروع کر دیے۔ اس لائبریری نے تقریباً نصف درجن افراد کے اندر ابن صفی اور نسیم حجازی کے ناولوں کو پڑھنے کا ایسا شوق پیدا کر دیا کہ بعد میں بھی وہ کتابیں منگا منگا کر پڑھتے رہے۔ لیکن برا ہو سوشل میڈیا کا جس نے اس شوق کو درگور کر دیا۔ یہ اتفاق ہے کہ اس لائبریری کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں نے اپنی عملی زندگی میں ترقیات کے منازل طے کیے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی آمد نے بچوں سے لے کر بزرگوں تک کے ذوق کو بگاڑ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر انتہائی منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ متعدد ممالک نے پندرہ سولہ سال تک کے بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عاید کر دی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تاریخ کا پہیہ تھوڑا سا الٹا گھوم جائے اور کتب و اخبار بینی کا وہ سنہرا دور پھر واپس آجائے۔
موبائل: 9818195929
❤1
مہکتی کتابیں:
کتاب کا نام: کتب خانہ
مصنف کا نام: رضا علی عابدی
(برصغیر میں قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں)
ناشر: سعد پبلی کیشنز
سن اشاعت: 1985ء
صفحات: 176
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پہلے زمانے میں لوگ کتابوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔ ایک قلمی نسخہ ہاتھ آتا تو پوری جماعت کے طلبہ اس کی نقلیں تیار کرتے اور اسی سے علم کی پیاس بجھاتے۔ جہاں کہیں کتاب اور اہل علم کا سراغ ملتا، تشنگان علم وہاں پہنچ جاتے؛ کیونکہ
ہر کجا بود چشمۂ شیریں
مردم و مرغ و مور گرد آیند
پھر زمانہ بدلا، حالات بدلے، علم و علما کے انداز بدلے۔ جیبیں بھریں، تجوریاں کھلیں، چھاپہ خانے آباد ہوئے تو کتابوں پر کتابیں چھپنے لگیں، ذاتی ذخیرے کتب خانوں میں بدلنے لگے اور بڑے بڑے علمی مراکز وجود میں آنے لگے۔
یہاں تک کہ رضا علی عابدی جیسے اہل قلم خم ٹھونک کر اٹھے اور برصغیر کے شہر شہر، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ خاک چھانتے پھرے۔
کہیں کتب خانہ ڈھونڈا، کہیں کتاب، کہیں کتاب کا عاشق اور کہیں کتاب کے ساتھ اپنی زندگی گزار دینے والا کوئی گمنام شخص۔
ان کی کتاب ’’کتب خانہ‘‘ کے چوبیس ابواب میں یہی علمی سفر سمٹ آیا ہے۔ کلکتہ، لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری اور دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، خیرپور و بہاولپور کے کتب خانے، پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، رامپور رضا لائبریری، ٹونک کا عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کتب خانے، اقبال اکیڈمی و غالب اکیڈمی کے ذخائر، حیدرآباد سندھ کے علمی ادارے، کراچی، دہلی اور حیدرآباد دکن کے عجائب گھر اور ان سب کے علاوہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور گھروں میں چھپے ہوئے نجی خزانے بھی اس تلاش کا حصہ ہیں۔
عابدی صاحب نے ان بکھرے ہوئے علمی خزانوں کو صرف دیکھا نہیں، ان کی خبر بھی لی اور خبر بھی دی۔ ان کے ماضی کو قلم بند کیا، ان کی اہمیت اجاگر کی اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ نشانیاں محفوظ کردیں کہ ہمارے بزرگوں نے کتاب کے ساتھ کیسا تعلق رکھا تھا اور ہمارے قومی و ملی ورثے میں کیا کچھ موجود تھا۔
یہ محض کتب خانوں کا تعارف نہیں، کتاب سے ہماری تہذیبی نسبت کی ایک مختصر مگر مہکتی ہوئی داستان ہے۔
یہاں کتابیں ہیں، کتاب والے ہیں، کتب خانے ہیں اور ان سب کے بیچ ایک ایسا قلم ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف خزانے جمع کرکے امیر نہیں ہوتیں، اپنی کتابیں محفوظ کرکے بھی زندہ رہتی ہیں۔
تحدیث نعمت کے طور پر مصنف کتاب رضا علی عابدی صاحب سے عرض ہے کہ آپ دہلی اور رامپور تک پہنچ گئے، کاش کہ آپ مظاہرعلوم وقف سہارنپور بھی آتے تو یہاں موجود جدید و قدیم تین لاکھ کتابوں اور ڈیڑھ ہزار قلمی مخطوطات کی زیارت بھی کرتے جاتے۔
بہرحال کتاب لاجواب ہے، ہر پیراگراف خوب سے خوب تر ہے۔ مدت سے میرے ذہن میں ایک بات بار بار آتی تھی کہ انگریز جب بھارت سے بھاگا ہے تو وہ ہیرے، جواہرات اور نادر اشیاء کے ساتھ قلمی مخطوطات بھی کیوں لے اڑا؟ پھر خود ہی اس کے بارے میں غور کرتا رہا، یہاں تک کہ ہاتف نے کہا کہ میاں! وہ اگرچہ لٹیرے ہیں، قزاق سہی، پر وہ قدردان بھی ہیں، کتاب کی چوری اس کا قدردان ہی کرے گا، انگریزوں کے یہاں کتابوں کے رکھ رکھاؤ کا زبردست نظام ہے۔
آج اس کتاب کا تعارف لکھتے لکھتے اچانک اسی کتاب کے ایک اقتباس کو پڑھ کر میرے اعتراض اور اعتراض کا جواب، سب کچھ یہاں بھی پڑھنے کو مل گیا۔ زمانہ ہوگیا یہ کتاب پڑھے ہوئے مگر آج پھر پڑھی اور پڑھ پڑھ کر رویا، رو رو کر پڑھا، واقعی حالات اچھے نہیں ہیں۔
بہت ہوا، اب آپ یہ اقتباس ضرور پڑھئے، ممکن ہے آپ بھی رونے پر مجبور ہوجائیں:
بابائے اردو مولوی عبدالحق کے رفیق کار اور خدمت گزار سکندر علی وجد کہتے ہیں:
’’کتاب کے عشق کے بغیر کتاب محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اب اس میں شک نہیں کہ ہماری کتابیں ملک سے باہر چلی جا رہی ہیں مگر مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہاں انہیں بڑی احتیاط اور اہتمام سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ فیومی گیشن ہوتا ہے، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس کتابوں میں نیم کے پتے رکھ دیتے ہیں، اس لیے اور کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عشق چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ علم کا بھی عشق چاہیے مگر اب علم بھی نہیں ہے اور عشق بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں ریڈیو ہے، ٹی وی ہے، سب کچھ ہے لیکن کتاب نہیں ہے۔‘‘
ناصرالدین مظاہری
(گیارہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
کتاب کا نام: کتب خانہ
مصنف کا نام: رضا علی عابدی
(برصغیر میں قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں)
ناشر: سعد پبلی کیشنز
سن اشاعت: 1985ء
صفحات: 176
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پہلے زمانے میں لوگ کتابوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔ ایک قلمی نسخہ ہاتھ آتا تو پوری جماعت کے طلبہ اس کی نقلیں تیار کرتے اور اسی سے علم کی پیاس بجھاتے۔ جہاں کہیں کتاب اور اہل علم کا سراغ ملتا، تشنگان علم وہاں پہنچ جاتے؛ کیونکہ
ہر کجا بود چشمۂ شیریں
مردم و مرغ و مور گرد آیند
پھر زمانہ بدلا، حالات بدلے، علم و علما کے انداز بدلے۔ جیبیں بھریں، تجوریاں کھلیں، چھاپہ خانے آباد ہوئے تو کتابوں پر کتابیں چھپنے لگیں، ذاتی ذخیرے کتب خانوں میں بدلنے لگے اور بڑے بڑے علمی مراکز وجود میں آنے لگے۔
یہاں تک کہ رضا علی عابدی جیسے اہل قلم خم ٹھونک کر اٹھے اور برصغیر کے شہر شہر، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ خاک چھانتے پھرے۔
کہیں کتب خانہ ڈھونڈا، کہیں کتاب، کہیں کتاب کا عاشق اور کہیں کتاب کے ساتھ اپنی زندگی گزار دینے والا کوئی گمنام شخص۔
ان کی کتاب ’’کتب خانہ‘‘ کے چوبیس ابواب میں یہی علمی سفر سمٹ آیا ہے۔ کلکتہ، لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری اور دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، خیرپور و بہاولپور کے کتب خانے، پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، رامپور رضا لائبریری، ٹونک کا عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کتب خانے، اقبال اکیڈمی و غالب اکیڈمی کے ذخائر، حیدرآباد سندھ کے علمی ادارے، کراچی، دہلی اور حیدرآباد دکن کے عجائب گھر اور ان سب کے علاوہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور گھروں میں چھپے ہوئے نجی خزانے بھی اس تلاش کا حصہ ہیں۔
عابدی صاحب نے ان بکھرے ہوئے علمی خزانوں کو صرف دیکھا نہیں، ان کی خبر بھی لی اور خبر بھی دی۔ ان کے ماضی کو قلم بند کیا، ان کی اہمیت اجاگر کی اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ نشانیاں محفوظ کردیں کہ ہمارے بزرگوں نے کتاب کے ساتھ کیسا تعلق رکھا تھا اور ہمارے قومی و ملی ورثے میں کیا کچھ موجود تھا۔
یہ محض کتب خانوں کا تعارف نہیں، کتاب سے ہماری تہذیبی نسبت کی ایک مختصر مگر مہکتی ہوئی داستان ہے۔
یہاں کتابیں ہیں، کتاب والے ہیں، کتب خانے ہیں اور ان سب کے بیچ ایک ایسا قلم ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف خزانے جمع کرکے امیر نہیں ہوتیں، اپنی کتابیں محفوظ کرکے بھی زندہ رہتی ہیں۔
تحدیث نعمت کے طور پر مصنف کتاب رضا علی عابدی صاحب سے عرض ہے کہ آپ دہلی اور رامپور تک پہنچ گئے، کاش کہ آپ مظاہرعلوم وقف سہارنپور بھی آتے تو یہاں موجود جدید و قدیم تین لاکھ کتابوں اور ڈیڑھ ہزار قلمی مخطوطات کی زیارت بھی کرتے جاتے۔
بہرحال کتاب لاجواب ہے، ہر پیراگراف خوب سے خوب تر ہے۔ مدت سے میرے ذہن میں ایک بات بار بار آتی تھی کہ انگریز جب بھارت سے بھاگا ہے تو وہ ہیرے، جواہرات اور نادر اشیاء کے ساتھ قلمی مخطوطات بھی کیوں لے اڑا؟ پھر خود ہی اس کے بارے میں غور کرتا رہا، یہاں تک کہ ہاتف نے کہا کہ میاں! وہ اگرچہ لٹیرے ہیں، قزاق سہی، پر وہ قدردان بھی ہیں، کتاب کی چوری اس کا قدردان ہی کرے گا، انگریزوں کے یہاں کتابوں کے رکھ رکھاؤ کا زبردست نظام ہے۔
آج اس کتاب کا تعارف لکھتے لکھتے اچانک اسی کتاب کے ایک اقتباس کو پڑھ کر میرے اعتراض اور اعتراض کا جواب، سب کچھ یہاں بھی پڑھنے کو مل گیا۔ زمانہ ہوگیا یہ کتاب پڑھے ہوئے مگر آج پھر پڑھی اور پڑھ پڑھ کر رویا، رو رو کر پڑھا، واقعی حالات اچھے نہیں ہیں۔
بہت ہوا، اب آپ یہ اقتباس ضرور پڑھئے، ممکن ہے آپ بھی رونے پر مجبور ہوجائیں:
بابائے اردو مولوی عبدالحق کے رفیق کار اور خدمت گزار سکندر علی وجد کہتے ہیں:
’’کتاب کے عشق کے بغیر کتاب محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اب اس میں شک نہیں کہ ہماری کتابیں ملک سے باہر چلی جا رہی ہیں مگر مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہاں انہیں بڑی احتیاط اور اہتمام سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ فیومی گیشن ہوتا ہے، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس کتابوں میں نیم کے پتے رکھ دیتے ہیں، اس لیے اور کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عشق چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ علم کا بھی عشق چاہیے مگر اب علم بھی نہیں ہے اور عشق بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں ریڈیو ہے، ٹی وی ہے، سب کچھ ہے لیکن کتاب نہیں ہے۔‘‘
ناصرالدین مظاہری
(گیارہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
💯1
وفیات مورخہ:ستمبر /24
1938ء سیٹھ ابراہیم۔ معتمد جامعہ دار السلام عمرآباد
1966ء بشیر احمد خان بلند شہری۔ مولانا
1985ء محمد نجيب المطيعي۔ مصنف تکملۃ المجموع شرح المہذب
1986ء الطاف علی بریلوی( سید)۔ ادیب ، صحافی ، ماہر تعلیم
1996ء عبدالتواب خان (اے ٹی خان)۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1998ء ساحر، محمد مراد۔ شاعر
2004ء راجہ رمنا۔ بھارتی سائنسدان
2010ء عمید الزماں کیرانوی۔ برادر خورد مولانا وحید الزماں کیرانوی
2011ء ابو الطیب احمد میاں فرنگی محلی۔ مولانا
2013ء عبد الحمید السراج۔ شامی سیاست دان
2015ء اسد مرتضیٰ گیلانی۔
2018ء محمد صالح الریس۔ صاحب خیر دبی
2019ء محمد سعید طنطاوی۔ شامی ادیب، داعی
Https://telegram.me/ilmokitab
1938ء سیٹھ ابراہیم۔ معتمد جامعہ دار السلام عمرآباد
1966ء بشیر احمد خان بلند شہری۔ مولانا
1985ء محمد نجيب المطيعي۔ مصنف تکملۃ المجموع شرح المہذب
1986ء الطاف علی بریلوی( سید)۔ ادیب ، صحافی ، ماہر تعلیم
1996ء عبدالتواب خان (اے ٹی خان)۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1998ء ساحر، محمد مراد۔ شاعر
2004ء راجہ رمنا۔ بھارتی سائنسدان
2010ء عمید الزماں کیرانوی۔ برادر خورد مولانا وحید الزماں کیرانوی
2011ء ابو الطیب احمد میاں فرنگی محلی۔ مولانا
2013ء عبد الحمید السراج۔ شامی سیاست دان
2015ء اسد مرتضیٰ گیلانی۔
2018ء محمد صالح الریس۔ صاحب خیر دبی
2019ء محمد سعید طنطاوی۔ شامی ادیب، داعی
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
👍1
مہکتی کتابیں:
کتاب کا نام: کتب خانہ
مصنف کا نام: رضا علی عابدی
(برصغیر میں قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں)
ناشر: سعد پبلی کیشنز
سن اشاعت: 1985ء
صفحات: 176
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پہلے زمانے میں لوگ کتابوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔ ایک قلمی نسخہ ہاتھ آتا تو پوری جماعت کے طلبہ اس کی نقلیں تیار کرتے اور اسی سے علم کی پیاس بجھاتے۔ جہاں کہیں کتاب اور اہل علم کا سراغ ملتا، تشنگان علم وہاں پہنچ جاتے؛ کیونکہ
ہر کجا بود چشمۂ شیریں
مردم و مرغ و مور گرد آیند
پھر زمانہ بدلا، حالات بدلے، علم و علما کے انداز بدلے۔ جیبیں بھریں، تجوریاں کھلیں، چھاپہ خانے آباد ہوئے تو کتابوں پر کتابیں چھپنے لگیں، ذاتی ذخیرے کتب خانوں میں بدلنے لگے اور بڑے بڑے علمی مراکز وجود میں آنے لگے۔
یہاں تک کہ رضا علی عابدی جیسے اہل قلم خم ٹھونک کر اٹھے اور برصغیر کے شہر شہر، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ خاک چھانتے پھرے۔
کہیں کتب خانہ ڈھونڈا، کہیں کتاب، کہیں کتاب کا عاشق اور کہیں کتاب کے ساتھ اپنی زندگی گزار دینے والا کوئی گمنام شخص۔
ان کی کتاب ’’کتب خانہ‘‘ کے چوبیس ابواب میں یہی علمی سفر سمٹ آیا ہے۔ کلکتہ، لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری اور دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، خیرپور و بہاولپور کے کتب خانے، پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، رامپور رضا لائبریری، ٹونک کا عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کتب خانے، اقبال اکیڈمی و غالب اکیڈمی کے ذخائر، حیدرآباد سندھ کے علمی ادارے، کراچی، دہلی اور حیدرآباد دکن کے عجائب گھر اور ان سب کے علاوہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور گھروں میں چھپے ہوئے نجی خزانے بھی اس تلاش کا حصہ ہیں۔
عابدی صاحب نے ان بکھرے ہوئے علمی خزانوں کو صرف دیکھا نہیں، ان کی خبر بھی لی اور خبر بھی دی۔ ان کے ماضی کو قلم بند کیا، ان کی اہمیت اجاگر کی اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ نشانیاں محفوظ کردیں کہ ہمارے بزرگوں نے کتاب کے ساتھ کیسا تعلق رکھا تھا اور ہمارے قومی و ملی ورثے میں کیا کچھ موجود تھا۔
یہ محض کتب خانوں کا تعارف نہیں، کتاب سے ہماری تہذیبی نسبت کی ایک مختصر مگر مہکتی ہوئی داستان ہے۔
یہاں کتابیں ہیں، کتاب والے ہیں، کتب خانے ہیں اور ان سب کے بیچ ایک ایسا قلم ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف خزانے جمع کرکے امیر نہیں ہوتیں، اپنی کتابیں محفوظ کرکے بھی زندہ رہتی ہیں۔
تحدیث نعمت کے طور پر مصنف کتاب رضا علی عابدی صاحب سے عرض ہے کہ آپ دہلی اور رامپور تک پہنچ گئے، کاش کہ آپ مظاہرعلوم وقف سہارنپور بھی آتے تو یہاں موجود جدید و قدیم تین لاکھ کتابوں اور ڈیڑھ ہزار قلمی مخطوطات کی زیارت بھی کرتے جاتے۔
مدت سے میرے ذہن میں ایک بات بار بار آتی تھی کہ انگریز جب بھارت سے بھاگا ہے تو وہ ہیرے، جواہرات اور نادر اشیاء کے ساتھ قلمی مخطوطات بھی کیوں لے اڑا؟ پھر خود ہی اس کے بارے میں غور کرتا رہا، یہاں تک کہ ہاتف نے کہا کہ میاں! وہ اگرچہ لٹیرے ہیں، قزاق سہی، پر وہ قدردان بھی ہیں، کتاب کی چوری اس کا قدردان ہی کرے گا، انگریزوں کے یہاں کتابوں کے رکھ رکھاؤ کا زبردست نظام ہے۔
آج اس کتاب کا تعارف لکھتے لکھتے اچانک اسی کتاب کے ایک اقتباس کو پڑھ کر میرے اعتراض اور اعتراض کا جواب، سب کچھ یہاں بھی پڑھنے کو مل گیا۔ زمانہ ہوگیا یہ کتاب پڑھے ہوئے مگر آج پھر پڑھی اور پڑھ پڑھ کر رویا، رو رو کر پڑھا، واقعی حالات اچھے نہیں ہیں۔
اب آپ یہ اقتباس ضرور پڑھئے، ممکن ہے آپ بھی رونے پر مجبور ہوجائیں:
بابائے اردو مولوی عبدالحق کے رفیق کار اور خدمت گزار سکندر علی وجد کہتے ہیں:
’’کتاب کے عشق کے بغیر کتاب محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اب اس میں شک نہیں کہ ہماری کتابیں ملک سے باہر چلی جا رہی ہیں مگر مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہاں انہیں بڑی احتیاط اور اہتمام سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ فیومی گیشن ہوتا ہے، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس کتابوں میں نیم کے پتے رکھ دیتے ہیں، اس لیے اور کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عشق چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ علم کا بھی عشق چاہیے مگر اب علم بھی نہیں ہے اور عشق بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں ریڈیو ہے، ٹی وی ہے، سب کچھ ہے لیکن کتاب نہیں ہے۔‘‘
ناصرالدین مظاہری
(گیارہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
کتاب کا نام: کتب خانہ
مصنف کا نام: رضا علی عابدی
(برصغیر میں قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں)
ناشر: سعد پبلی کیشنز
سن اشاعت: 1985ء
صفحات: 176
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پہلے زمانے میں لوگ کتابوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔ ایک قلمی نسخہ ہاتھ آتا تو پوری جماعت کے طلبہ اس کی نقلیں تیار کرتے اور اسی سے علم کی پیاس بجھاتے۔ جہاں کہیں کتاب اور اہل علم کا سراغ ملتا، تشنگان علم وہاں پہنچ جاتے؛ کیونکہ
ہر کجا بود چشمۂ شیریں
مردم و مرغ و مور گرد آیند
پھر زمانہ بدلا، حالات بدلے، علم و علما کے انداز بدلے۔ جیبیں بھریں، تجوریاں کھلیں، چھاپہ خانے آباد ہوئے تو کتابوں پر کتابیں چھپنے لگیں، ذاتی ذخیرے کتب خانوں میں بدلنے لگے اور بڑے بڑے علمی مراکز وجود میں آنے لگے۔
یہاں تک کہ رضا علی عابدی جیسے اہل قلم خم ٹھونک کر اٹھے اور برصغیر کے شہر شہر، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ خاک چھانتے پھرے۔
کہیں کتب خانہ ڈھونڈا، کہیں کتاب، کہیں کتاب کا عاشق اور کہیں کتاب کے ساتھ اپنی زندگی گزار دینے والا کوئی گمنام شخص۔
ان کی کتاب ’’کتب خانہ‘‘ کے چوبیس ابواب میں یہی علمی سفر سمٹ آیا ہے۔ کلکتہ، لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری اور دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، خیرپور و بہاولپور کے کتب خانے، پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، رامپور رضا لائبریری، ٹونک کا عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کتب خانے، اقبال اکیڈمی و غالب اکیڈمی کے ذخائر، حیدرآباد سندھ کے علمی ادارے، کراچی، دہلی اور حیدرآباد دکن کے عجائب گھر اور ان سب کے علاوہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور گھروں میں چھپے ہوئے نجی خزانے بھی اس تلاش کا حصہ ہیں۔
عابدی صاحب نے ان بکھرے ہوئے علمی خزانوں کو صرف دیکھا نہیں، ان کی خبر بھی لی اور خبر بھی دی۔ ان کے ماضی کو قلم بند کیا، ان کی اہمیت اجاگر کی اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ نشانیاں محفوظ کردیں کہ ہمارے بزرگوں نے کتاب کے ساتھ کیسا تعلق رکھا تھا اور ہمارے قومی و ملی ورثے میں کیا کچھ موجود تھا۔
یہ محض کتب خانوں کا تعارف نہیں، کتاب سے ہماری تہذیبی نسبت کی ایک مختصر مگر مہکتی ہوئی داستان ہے۔
یہاں کتابیں ہیں، کتاب والے ہیں، کتب خانے ہیں اور ان سب کے بیچ ایک ایسا قلم ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف خزانے جمع کرکے امیر نہیں ہوتیں، اپنی کتابیں محفوظ کرکے بھی زندہ رہتی ہیں۔
تحدیث نعمت کے طور پر مصنف کتاب رضا علی عابدی صاحب سے عرض ہے کہ آپ دہلی اور رامپور تک پہنچ گئے، کاش کہ آپ مظاہرعلوم وقف سہارنپور بھی آتے تو یہاں موجود جدید و قدیم تین لاکھ کتابوں اور ڈیڑھ ہزار قلمی مخطوطات کی زیارت بھی کرتے جاتے۔
مدت سے میرے ذہن میں ایک بات بار بار آتی تھی کہ انگریز جب بھارت سے بھاگا ہے تو وہ ہیرے، جواہرات اور نادر اشیاء کے ساتھ قلمی مخطوطات بھی کیوں لے اڑا؟ پھر خود ہی اس کے بارے میں غور کرتا رہا، یہاں تک کہ ہاتف نے کہا کہ میاں! وہ اگرچہ لٹیرے ہیں، قزاق سہی، پر وہ قدردان بھی ہیں، کتاب کی چوری اس کا قدردان ہی کرے گا، انگریزوں کے یہاں کتابوں کے رکھ رکھاؤ کا زبردست نظام ہے۔
آج اس کتاب کا تعارف لکھتے لکھتے اچانک اسی کتاب کے ایک اقتباس کو پڑھ کر میرے اعتراض اور اعتراض کا جواب، سب کچھ یہاں بھی پڑھنے کو مل گیا۔ زمانہ ہوگیا یہ کتاب پڑھے ہوئے مگر آج پھر پڑھی اور پڑھ پڑھ کر رویا، رو رو کر پڑھا، واقعی حالات اچھے نہیں ہیں۔
اب آپ یہ اقتباس ضرور پڑھئے، ممکن ہے آپ بھی رونے پر مجبور ہوجائیں:
بابائے اردو مولوی عبدالحق کے رفیق کار اور خدمت گزار سکندر علی وجد کہتے ہیں:
’’کتاب کے عشق کے بغیر کتاب محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اب اس میں شک نہیں کہ ہماری کتابیں ملک سے باہر چلی جا رہی ہیں مگر مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہاں انہیں بڑی احتیاط اور اہتمام سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ فیومی گیشن ہوتا ہے، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس کتابوں میں نیم کے پتے رکھ دیتے ہیں، اس لیے اور کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عشق چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ علم کا بھی عشق چاہیے مگر اب علم بھی نہیں ہے اور عشق بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں ریڈیو ہے، ٹی وی ہے، سب کچھ ہے لیکن کتاب نہیں ہے۔‘‘
ناصرالدین مظاہری
(گیارہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
❤4
جامعہ اسلامیہ بھٹکل کےفارغ مولوی عبد القادر محمد میراں کی مدینہ یونیورسٹی میں تکریم، موصوف مدینہ منورہ سے ماجستیر مکمل کرنے کے بعد اب دکتوراہ کررہے ہیں۔
❤2👍2
بزرگوں کا کمالِ ادب
مولوی لطف اللّٰه صاحب علی گڑھیؒ مصنفین کی غلطی کی بھی ہمیشہ توجیہ کردیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ بڑے لوگ ہیں، ہمارا منہ نہیں ان پر اعتراض کرنے کا۔ آج کل مدرسین اعتراض بھی کرلیتے ہیں۔ پہلے بزرگوں کی طبیعت کا یہ رنگ تھا۔
(ملفوظات حکیم الامت، جلد: ۲/ملفوظ: ۴۱۷/صفحہ: ۲۷۷/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
مولوی لطف اللّٰه صاحب علی گڑھیؒ مصنفین کی غلطی کی بھی ہمیشہ توجیہ کردیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ بڑے لوگ ہیں، ہمارا منہ نہیں ان پر اعتراض کرنے کا۔ آج کل مدرسین اعتراض بھی کرلیتے ہیں۔ پہلے بزرگوں کی طبیعت کا یہ رنگ تھا۔
(ملفوظات حکیم الامت، جلد: ۲/ملفوظ: ۴۱۷/صفحہ: ۲۷۷/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
مہکتی کتابیں:
نام کتاب: گنجینۂ گوہر
مصنف کا نام : شاہد احمد دہلوی
موضوع: قلمی چہرہ
ناشر: مکتبۂ اسلوب
صفحات: 231
مصدر: ریختہ
اردو ادب میں خاکہ نگاری کی روایت بڑی قدیم ہے، مشہور خاکہ نگاروں میں مرزا فرحت اللہ بیگ، محمد حسین آزاد، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، عبدالماجد دریابادی، مولانا عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر، چراغ حسن حسرت، شاہد احمد دہلوی، محمد طفیل، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، ابن انشا، مشتاق احمد یوسفی، سلیم احمد، یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین جیسے نام نمایاں ہیں۔
ان ہی ناموں میں شاہد احمد دہلوی ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ صرف خاکہ نگار نہیں تھے، وہ دہلی کی زبان، تہذیب، محفل، موسیقی اور معاشرتی زندگی کے نباض تھے۔ ان کی نثر میں دہلی کی وہ ٹکسالی زبان ملتی ہے جس میں لفظ صرف معنی نہیں دیتے بلکہ اپنے ساتھ ایک پورا ماحول لے کر آتے ہیں۔ وہ ادبی جریدے ساقی کے مدیر، مترجم، ادیب اور موسیقی کے شناسا بھی تھے۔ 1930ء میں انہوں نے دہلی سے ساقی جاری کیا اور تقسیم کے بعد پاکستان میں بھی اسے جاری رکھا۔
شاہد احمد دہلوی نے جن لوگوں کو قریب سے دیکھا، ان کے ساتھ وقت گزارا اور جن کی محفلوں میں بیٹھے، ان کی یادوں کو محض یاد نہیں رہنے دیا؛ انہیں لفظوں میں محفوظ کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خاکہ نگاری میں صرف کسی شخصیت کا تعارف نہیں ملتا بلکہ اس شخصیت کے گرد پھیلی ہوئی فضا بھی دکھائی دیتی ہے۔
ان کے خاکوں کا پہلا مجموعہ „گنجینۂ گوہر“ 1962ء میں شائع ہوا۔
کتاب کا نام بھی خوب ہے: گنجینۂ گوہر! گویا مختلف شخصیتیں موتیوں کی طرح ہیں اور مصنف نے اپنے قلم سے انہیں ایک خزانے میں جمع کردیا ہے۔ خاکہ نگاری میں یہی تو اصل کمال ہے کہ خاکہ نگار کسی شخصیت کے محض بڑے بڑے اوصاف نہیں گنواتا بلکہ اس کی گفتگو، نشست، انداز، عادت، مزاج، وضع قطع اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایسا نقش اور نقشہ بناتا ہے کہ قاری کے ذہن میں ایک زندہ تصویر بن جاتی ہے۔
شاہد احمد دہلوی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ شخصیت کو اس کے ماحول سے کاٹ کر نہیں دیکھتے۔ آدمی اکیلا آدمی نہیں ہوتا، اس کے پیچھے ایک زمانہ، ایک معاشرہ، ایک تہذیب اور ایک زبان بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کے خاکوں میں شخصیت کے ساتھ دہلئی کہنہ بھی چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ „گنجینۂ گوہر“ محض چند شخصی خاکوں کی کتاب نہیں بلکہ اپنے عہد کی ادبی و تہذیبی زندگی کی ایک جھلک بھی بن جاتی ہے۔ شاہد احمد دہلوی نے جن لوگوں کو دیکھا، ان کے چہروں کے ساتھ ان کے زمانے کے کچھ رنگ بھی محفوظ کرلیے۔
اسی سلسلے کی دوسری اہم کتاب ہے „چند ادبی شخصیتیں“۔ یہ شاہد احمد دہلوی کے لکھے ہوئے سترہ ادبی خاکوں کا مجموعہ ہے، جن میں مختلف ادبی شخصیات سے ان کی ذاتی ملاقاتوں اور مشاہدات کو خاکہ نگاری کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ 242 صفحات پر مشتمل ہے۔
„چند ادبی شخصیتیں“ میں دائرہ نسبتاً زیادہ ادبی ہے۔ یہاں شاہد احمد دہلوی نے ادیبوں اور شاعروں کو موضوع بنایا ہے اور ان سے اپنی شناسائی، ملاقات اور مشاہدے کو خاکے کی صورت دی ہے۔ اس کتاب کی کشش صرف یہ نہیں کہ ہمیں چند مشہور اہل قلم کے حالات معلوم ہوتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم انہیں شاہد احمد دہلوی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔
اچھی خاکہ نگاری سوانح نہیں ہوتی۔ سوانح میں واقعات کا سلسلہ ہوتا ہے، خاکے میں شخصیت کا عکس ہوتا ہے۔ سوانح ہمیں بتاتی ہے کہ فلاں شخص کب پیدا ہوا، کہاں پڑھا، کیا لکھا اور کب دنیا سے رخصت ہوا؛ مگر خاکہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ شخص محفل میں کیسے بیٹھتا تھا، بات کیسے کرتا تھا، ہنستا کیسے تھا، غصہ کیسے کرتا تھا اور دوسروں پر کیا اثر ڈالتا تھا۔
شاہد احمد دہلوی کے یہاں یہی چیز نمایاں ہے۔ وہ شخصیت کے گرد ایک ایسا لفظی آئینہ رکھ دیتے ہیں جس میں صرف چہرہ نہیں بلکہ چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی طبیعت اور خد و خال بھی دکھائی دیتی ہے۔
ان کی زبان اس سلسلے میں ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ شاہد احمد دہلوی کی نثر میں دہلی کی بامحاورہ اور ٹکسالی زبان کا لطف ملتا ہے، اور یہی زبان ان کے خاکوں کو محض معلوماتی تحریر نہیں رہنے دیتی بلکہ انہیں ادبی لطف عطا کرتی ہے۔
شاہد احمد دہلوی کے بعد ان کے خاکوں کے مزید مجموعے بھی سامنے آئے، جن میں „بزم خوش نفساں“ اور „طاق نسیاں“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کتابی مآخذ کے مطابق „بزم خوش نفساں“ شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے، جبکہ „طاق نسیاں“ کو شاہد احمد دہلوی کے بھولے بسرے خاکوں کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاہد احمد دہلوی نے قلم اٹھایا تو صرف آدمیوں کو نہیں لکھا، آدمیوں کے ساتھ ایک زمانہ بھی لکھ دیا۔ ان کے یہاں شخصیات کتاب کے صفحات پر قید نہیں ہوتیں، وہ قاری کے ذہن میں اترتی ہیں، بات کرتی ہیں، مسکراتی ہیں اور کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پرانی دہلی کی کسی محفل کا دروازہ اچانک کھل گیا ہو۔
نام کتاب: گنجینۂ گوہر
مصنف کا نام : شاہد احمد دہلوی
موضوع: قلمی چہرہ
ناشر: مکتبۂ اسلوب
صفحات: 231
مصدر: ریختہ
اردو ادب میں خاکہ نگاری کی روایت بڑی قدیم ہے، مشہور خاکہ نگاروں میں مرزا فرحت اللہ بیگ، محمد حسین آزاد، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، عبدالماجد دریابادی، مولانا عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر، چراغ حسن حسرت، شاہد احمد دہلوی، محمد طفیل، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، ابن انشا، مشتاق احمد یوسفی، سلیم احمد، یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین جیسے نام نمایاں ہیں۔
ان ہی ناموں میں شاہد احمد دہلوی ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ صرف خاکہ نگار نہیں تھے، وہ دہلی کی زبان، تہذیب، محفل، موسیقی اور معاشرتی زندگی کے نباض تھے۔ ان کی نثر میں دہلی کی وہ ٹکسالی زبان ملتی ہے جس میں لفظ صرف معنی نہیں دیتے بلکہ اپنے ساتھ ایک پورا ماحول لے کر آتے ہیں۔ وہ ادبی جریدے ساقی کے مدیر، مترجم، ادیب اور موسیقی کے شناسا بھی تھے۔ 1930ء میں انہوں نے دہلی سے ساقی جاری کیا اور تقسیم کے بعد پاکستان میں بھی اسے جاری رکھا۔
شاہد احمد دہلوی نے جن لوگوں کو قریب سے دیکھا، ان کے ساتھ وقت گزارا اور جن کی محفلوں میں بیٹھے، ان کی یادوں کو محض یاد نہیں رہنے دیا؛ انہیں لفظوں میں محفوظ کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خاکہ نگاری میں صرف کسی شخصیت کا تعارف نہیں ملتا بلکہ اس شخصیت کے گرد پھیلی ہوئی فضا بھی دکھائی دیتی ہے۔
ان کے خاکوں کا پہلا مجموعہ „گنجینۂ گوہر“ 1962ء میں شائع ہوا۔
کتاب کا نام بھی خوب ہے: گنجینۂ گوہر! گویا مختلف شخصیتیں موتیوں کی طرح ہیں اور مصنف نے اپنے قلم سے انہیں ایک خزانے میں جمع کردیا ہے۔ خاکہ نگاری میں یہی تو اصل کمال ہے کہ خاکہ نگار کسی شخصیت کے محض بڑے بڑے اوصاف نہیں گنواتا بلکہ اس کی گفتگو، نشست، انداز، عادت، مزاج، وضع قطع اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایسا نقش اور نقشہ بناتا ہے کہ قاری کے ذہن میں ایک زندہ تصویر بن جاتی ہے۔
شاہد احمد دہلوی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ شخصیت کو اس کے ماحول سے کاٹ کر نہیں دیکھتے۔ آدمی اکیلا آدمی نہیں ہوتا، اس کے پیچھے ایک زمانہ، ایک معاشرہ، ایک تہذیب اور ایک زبان بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کے خاکوں میں شخصیت کے ساتھ دہلئی کہنہ بھی چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ „گنجینۂ گوہر“ محض چند شخصی خاکوں کی کتاب نہیں بلکہ اپنے عہد کی ادبی و تہذیبی زندگی کی ایک جھلک بھی بن جاتی ہے۔ شاہد احمد دہلوی نے جن لوگوں کو دیکھا، ان کے چہروں کے ساتھ ان کے زمانے کے کچھ رنگ بھی محفوظ کرلیے۔
اسی سلسلے کی دوسری اہم کتاب ہے „چند ادبی شخصیتیں“۔ یہ شاہد احمد دہلوی کے لکھے ہوئے سترہ ادبی خاکوں کا مجموعہ ہے، جن میں مختلف ادبی شخصیات سے ان کی ذاتی ملاقاتوں اور مشاہدات کو خاکہ نگاری کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ 242 صفحات پر مشتمل ہے۔
„چند ادبی شخصیتیں“ میں دائرہ نسبتاً زیادہ ادبی ہے۔ یہاں شاہد احمد دہلوی نے ادیبوں اور شاعروں کو موضوع بنایا ہے اور ان سے اپنی شناسائی، ملاقات اور مشاہدے کو خاکے کی صورت دی ہے۔ اس کتاب کی کشش صرف یہ نہیں کہ ہمیں چند مشہور اہل قلم کے حالات معلوم ہوتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم انہیں شاہد احمد دہلوی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔
اچھی خاکہ نگاری سوانح نہیں ہوتی۔ سوانح میں واقعات کا سلسلہ ہوتا ہے، خاکے میں شخصیت کا عکس ہوتا ہے۔ سوانح ہمیں بتاتی ہے کہ فلاں شخص کب پیدا ہوا، کہاں پڑھا، کیا لکھا اور کب دنیا سے رخصت ہوا؛ مگر خاکہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ شخص محفل میں کیسے بیٹھتا تھا، بات کیسے کرتا تھا، ہنستا کیسے تھا، غصہ کیسے کرتا تھا اور دوسروں پر کیا اثر ڈالتا تھا۔
شاہد احمد دہلوی کے یہاں یہی چیز نمایاں ہے۔ وہ شخصیت کے گرد ایک ایسا لفظی آئینہ رکھ دیتے ہیں جس میں صرف چہرہ نہیں بلکہ چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی طبیعت اور خد و خال بھی دکھائی دیتی ہے۔
ان کی زبان اس سلسلے میں ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ شاہد احمد دہلوی کی نثر میں دہلی کی بامحاورہ اور ٹکسالی زبان کا لطف ملتا ہے، اور یہی زبان ان کے خاکوں کو محض معلوماتی تحریر نہیں رہنے دیتی بلکہ انہیں ادبی لطف عطا کرتی ہے۔
شاہد احمد دہلوی کے بعد ان کے خاکوں کے مزید مجموعے بھی سامنے آئے، جن میں „بزم خوش نفساں“ اور „طاق نسیاں“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کتابی مآخذ کے مطابق „بزم خوش نفساں“ شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے، جبکہ „طاق نسیاں“ کو شاہد احمد دہلوی کے بھولے بسرے خاکوں کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاہد احمد دہلوی نے قلم اٹھایا تو صرف آدمیوں کو نہیں لکھا، آدمیوں کے ساتھ ایک زمانہ بھی لکھ دیا۔ ان کے یہاں شخصیات کتاب کے صفحات پر قید نہیں ہوتیں، وہ قاری کے ذہن میں اترتی ہیں، بات کرتی ہیں، مسکراتی ہیں اور کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پرانی دہلی کی کسی محفل کا دروازہ اچانک کھل گیا ہو۔
❤1
„گنجینۂ گوہر“ میں شخصیات کے گوہر جمع ہیں اور „چند ادبی شخصیتیں“ میں اہل قلم کے چہرے۔ دونوں کتابیں ساتھ رکھی جائیں تو شاہد احمد دہلوی کی خاکہ نگاری کا ایک خوب صورت نقش سامنے آتا ہے: ایک طرف شخصیت، دوسری طرف مشاہدہ ان دونوں کے درمیان شاہد احمد دہلوی کا وہ قلم جو گزرتے ہوئے لوگوں کو گزرتے ہوئے زمانے کے ساتھ محفوظ کرگیا۔
کتابیں بہت ہوتی ہیں، مگر ہر کتاب اپنے عہد کی حاضری نہیں لگاتی۔ کچھ کتابیں پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے صرف چند صفحات نہیں پڑھے، بلکہ ایک زمانے سے ملاقات کی ہے۔
لائق ذکر ہے کہ میں چند سال پہلے تک شاہد احمد دہلوی کے نام سے بالکل واقف نہیں تھا لیکن جب واٹسپ پر علم و کتاب گروپ وجود میں آیا اور محترم مولانا عبد المتین منیری نے شاہد احمد کے یکے بعد دیگرے کئی خاکے تواتر کے ساتھ شئیر کئے تو پڑھتے پڑھتے ایسا چسکا لگا کہ پھر ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلاش کرتا پڑھتا اور ان کی ٹکسالی ادبیت پر عبور پر رشک کرتا۔
اگر آپ کو ان کی کوئی بھی کتاب قیمتاً یا عاریتا مل جائے تو ضرور پڑھئے۔
ناصرالدین مظاہری
(تیرہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
کتابیں بہت ہوتی ہیں، مگر ہر کتاب اپنے عہد کی حاضری نہیں لگاتی۔ کچھ کتابیں پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے صرف چند صفحات نہیں پڑھے، بلکہ ایک زمانے سے ملاقات کی ہے۔
لائق ذکر ہے کہ میں چند سال پہلے تک شاہد احمد دہلوی کے نام سے بالکل واقف نہیں تھا لیکن جب واٹسپ پر علم و کتاب گروپ وجود میں آیا اور محترم مولانا عبد المتین منیری نے شاہد احمد کے یکے بعد دیگرے کئی خاکے تواتر کے ساتھ شئیر کئے تو پڑھتے پڑھتے ایسا چسکا لگا کہ پھر ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلاش کرتا پڑھتا اور ان کی ٹکسالی ادبیت پر عبور پر رشک کرتا۔
اگر آپ کو ان کی کوئی بھی کتاب قیمتاً یا عاریتا مل جائے تو ضرور پڑھئے۔
ناصرالدین مظاہری
(تیرہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
❤1
چینل کی لنک زیادہ سے زیادہ عام کریں، عبد المتین منیری۔ اڈمن
شیر شاہ سوری کے نظامِ حکومت کے چار بنیادی ستون
ڈاکٹر کمال اشرف اپنے مقالہ: شیر شاہ سوری، ارض بنگالہ کا عظیم معمار میں ایک جگہ لکھتے ہیں: شیر شاہ کا نظامِ حکومت بنیادی طور پر چار ستونوں پر قائم تھا:
۱۔ معیاری کرنسی اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure):
اُس نے خالص چاندی کا معیاری "روپیہ" جاری کیا، جس نے پورے ملک میں تجارت کو آسان، محفوظ اور منظم بنا دیا۔ ایک متحدہ اور مستحکم کرنسی نے اقتصادی سرگرمیوں کو نئی رفتار دی۔
۲۔ شاہراہوں کا جال:
خصوصاً مشہور Grand Trunk Road، جس نے سلطنت کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ اس شاہراہ نے نہ صرف فوجی نقل و حرکت کو سہل بنایا، بلکہ تجارت، ثقافتی روابط اور سیاسی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا۔
۳۔ معاشی اصلاحات:
غیر ضروری محصولات اور داخلی محصولات (Custom Duties) میں کمی کی گئی، تاکہ تجارت کو فروغ ملے۔ محصولات کی وصولی کو منظم اور شفاف بنایا گیا، جس سے کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہوا۔
۴۔ مذہبی رواداری:
یہ اُس کی پالیسیوں کا سب سے اہم پہلو تھا۔ اگرچہ وہ ذاتی طور پر ایک دیندار مسلمان اور پابندِ صوم و صلوٰۃ تھا، مگر حکمرانی کے معاملات میں اُس نے غیر جانبدار طرزِ عمل اختیار کیا۔ اُس کی پالیسیاں رعایا کے تمام طبقات کے لیے یکساں تھیں، خواہ اُن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اُس دور کے سیاسی ماحول میں یہ رویہ غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔
(معارف، ستمبر ۲۰۲٦ء، صفحہ: ۴۳/۴۴)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
Https://telegram.me/ilmokitab
ڈاکٹر کمال اشرف اپنے مقالہ: شیر شاہ سوری، ارض بنگالہ کا عظیم معمار میں ایک جگہ لکھتے ہیں: شیر شاہ کا نظامِ حکومت بنیادی طور پر چار ستونوں پر قائم تھا:
۱۔ معیاری کرنسی اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure):
اُس نے خالص چاندی کا معیاری "روپیہ" جاری کیا، جس نے پورے ملک میں تجارت کو آسان، محفوظ اور منظم بنا دیا۔ ایک متحدہ اور مستحکم کرنسی نے اقتصادی سرگرمیوں کو نئی رفتار دی۔
۲۔ شاہراہوں کا جال:
خصوصاً مشہور Grand Trunk Road، جس نے سلطنت کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ اس شاہراہ نے نہ صرف فوجی نقل و حرکت کو سہل بنایا، بلکہ تجارت، ثقافتی روابط اور سیاسی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا۔
۳۔ معاشی اصلاحات:
غیر ضروری محصولات اور داخلی محصولات (Custom Duties) میں کمی کی گئی، تاکہ تجارت کو فروغ ملے۔ محصولات کی وصولی کو منظم اور شفاف بنایا گیا، جس سے کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہوا۔
۴۔ مذہبی رواداری:
یہ اُس کی پالیسیوں کا سب سے اہم پہلو تھا۔ اگرچہ وہ ذاتی طور پر ایک دیندار مسلمان اور پابندِ صوم و صلوٰۃ تھا، مگر حکمرانی کے معاملات میں اُس نے غیر جانبدار طرزِ عمل اختیار کیا۔ اُس کی پالیسیاں رعایا کے تمام طبقات کے لیے یکساں تھیں، خواہ اُن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اُس دور کے سیاسی ماحول میں یہ رویہ غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔
(معارف، ستمبر ۲۰۲٦ء، صفحہ: ۴۳/۴۴)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
Https://telegram.me/ilmokitab
❤3
علم و کتاب چینل کے فروغ میں احباب دلچسپی لیں، آج کل ممبران کی تعداد کم ہونی شروع ہوئی ہے
وفیات مورخہ:ستمبر /30
788ء عبد الرحمن داخل۔ فاتح اندلس
1970ء حقی حزین میرٹھی (توفیق الحق)۔ شاعر
1995ء انیس فاطمہ (سید)۔ ادیبہ
1995ء عبدالمناں۔ قاری
1997ء سید یوسف۔ سکریٹری جماعت اسلامی ہند
2003ء سید ہاشم رضا۔ ناظم کراچی
2014ء افتخار حسین انصاری۔ کشمیری شیعہ عالم
788ء عبد الرحمن داخل۔ فاتح اندلس
1970ء حقی حزین میرٹھی (توفیق الحق)۔ شاعر
1995ء انیس فاطمہ (سید)۔ ادیبہ
1995ء عبدالمناں۔ قاری
1997ء سید یوسف۔ سکریٹری جماعت اسلامی ہند
2003ء سید ہاشم رضا۔ ناظم کراچی
2014ء افتخار حسین انصاری۔ کشمیری شیعہ عالم
Forwarded from Abdul Mateen Muniri
01 میرا جی کا اخلاق.pdf
1.2 MB
میرا جی کا اخلاق۔ اخلاق احمد دہلوی
علم وکتاب چینل پر اخلاق احمد دہلوی کے خاکوں کاسلسلہ شروع کیا اجارہا ہے، احباب جڑے رہیں۔
❤2