علم و کتاب
8.03K subscribers
1.14K photos
82 videos
2.37K files
6.26K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
علم و کتاب چینل کے فروغ میں احباب دلچسپی لیں، آج کل ممبران کی تعداد کم ہونی شروع ہوئی ہے
وفیات مورخہ:ستمبر /30
788ء عبد الرحمن داخل۔ فاتح اندلس
1970ء حقی حزین میرٹھی (توفیق الحق)۔ شاعر
1995ء انیس فاطمہ (سید)۔ ادیبہ
1995ء عبدالمناں۔ قاری
1997ء سید یوسف۔ سکریٹری جماعت اسلامی ہند
2003ء سید ہاشم رضا۔ ناظم کراچی
2014ء افتخار حسین انصاری۔ کشمیری شیعہ عالم
Forwarded from Abdul Mateen Muniri
01 میرا جی کا اخلاق.pdf
1.2 MB
میرا جی کا اخلاق۔ اخلاق احمد دہلوی
علم وکتاب چینل پر اخلاق احمد دہلوی کے خاکوں کاسلسلہ شروع کیا اجارہا ہے، احباب جڑے رہیں۔
❤2
مہکتی کتابیں:

نام کتاب: بیگمات کے آنسو
(12،یاد گار کتابوں کا مجموعہ)
موضوع: ہنگامہ 1857ء
مصنف: خواجہ حسن نظامی
سن اشاعت: 2008
صفحات: 834
زبان: اردو
ناشر: (درجنوں مکتبے)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

1857ء صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، ایک ایسا زلزلہ تھا جس نے دہلی کے ایوانوں، کوچوں، بازاروں، محلوں اور دلوں کو ایک ساتھ ہلا دیا۔ تاریخ کی بڑی کتابیں عموماً بادشاہوں، سپہ سالاروں، معرکوں اور فیصلوں کا حساب رکھتی ہیں؛ مگر خواجہ حسن نظامی کی نظر وہاں بھی گئی جہاں تاریخ کے سرکاری رجسٹر عموماً خاموش ہوجاتے ہیں: خاص کر اجڑے ہوئے گھروں، بے سہارا عورتوں، بچھڑے ہوئے بچوں، مٹتی ہوئی تہذیب اور شکستہ دل انسانوں کی طرف۔

“خواجہ حسن نظامی کی بارہ قدیم یادگار کتابیں: 1857 سے متعلق” اسی دردناک تاریخ کے بارہ دریچوں کا مجموعہ ہے۔ 833صفحات میں پھیلی ہوئی یہ کتاب دراصل ایک عہد کے اٹھتے ہوئے جنازے کے ساتھ چلنے والی تحریری آنکھ ہے۔

اس مجموعے میں سب سے پہلے بیگمات کے آنسو آتی ہے۔ نام ہی بتا دیتا ہے کہ یہاں تاریخ کے بڑے واقعات کے درمیان ان عورتوں کی سسکیاں بھی محفوظ ہیں جن کے لیے غدر صرف سیاسی کشمکش نہیں بلکہ گھر، خاندان، آسائش اور زندگی کے چھن جانے کا نام تھا۔ اسی کتاب میں دکھیا شہزادی گل بانو کی آواز قاری کے دل پر دستک دیتی ہے:

" بابا! میں تمہاری گل بانو ہوں۔ دیکھو اکیلی ہوں۔ اٹھو، مجھے بخار چڑھ رہا ہے، آہ! میری پسلی میں شدت کا درد ہو رہا ہے، مجھے سردی لگ رہی ہے، میرے پاس اس بوسیدہ کمبل کے سوا اوڑھنے کو کچھ نہیں ہے۔ میری اماں مجھ سے بچھڑ گئیں، میں محلوں سے جلا وطن ہوگئی۔ بابا! اپنی قبر میں مجھے بلا لو۔"

یہ چند الفاظ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ 1857ء کو صرف توپوں کے دھوئیں اور تلواروں کی جھنکار میں پڑھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے؛ اس تاریخ میں ایسے آنسو بھی ہیں جن کی آواز صدیوں بعد بھی سنائی دیتی ہے۔

اور شاید اسی لیے خواجہ حسن نظامی نے خود اس کتاب کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

“میں نے یہ کتاب درحقیقت مرنے والی تہذیب اور تاریخ کا نوحہ لکھنے کے لیے تیار کی تھی۔”

بس! یہی ایک جملہ پوری کتاب کی روح سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ یہ محض غدر کی داستان نہیں، مرنے والی تہذیب کا نوحہ ہے۔ اس لیے یہاں تاریخ صرف پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی ہوتی ہے۔

اس کے بعد انگریزوں کی بپتا ہے، جس میں 1857ء کے ہنگامے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر محاصرہ دہلی کے خطوط ہیں؛ خطوط ہمیشہ تاریخ کو خشک واقعات سے نکال کر زندہ انسانوں کے قریب لے آتے ہیں۔ ان میں محاصرے کی کیفیت، خوف، بے یقینی اور اس دور کے حالات کی جھلک ملتی ہے۔

بہادر شاہ کا مقدمہ دہلی کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی تقدیر کو سامنے لاتا ہے۔ تخت سے عدالت تک کا یہ سفر ہندوستانی تاریخ کے ان المناک ابواب میں سے ہے جہاں ایک عہد کا اختتام ایک شخص کی زندگی کے انجام میں دکھائی دیتا ہے۔

پھر غدر کے فرمان ہیں، جو اس ہنگامہ خیز دور کے سرکاری اور سیاسی اعلانات کو محفوظ کرتے ہیں۔ اس کے بعد غدر کے اخبار آتے ہیں۔ اخبار کسی زمانے کی نبض ہوتے ہیں؛ اس لیے ان کے ذریعے 1857ء کے واقعات کو اس دور کے فوری ردعمل، افواہوں، اعلانات اور حالات کے آئینے میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

غالب کا روزنامچہ غدر تو اس مجموعے کا ایک نہایت دل کش گوشہ ہے۔ مرزا غالب کی نگاہ سے دہلی کو دیکھنا دراصل ایک عظیم ادیب کی آنکھ سے ایک عظیم سانحے کو دیکھنا ہے۔ غالب کی زبان، مزاج اور مشاہدہ اس زمانے کے ملبے میں ایک الگ ہی روشنی پیدا کرتے ہیں۔

دہلی کی جانکنی کے نام میں ہی وہ کیفیت چھپی ہوئی ہے جسے خواجہ حسن نظامی محسوس کرتے تھے۔ دہلی یہاں محض ایک شہر نہیں رہتی؛ ایک جیتی جاگتی تہذیب بن جاتی ہے جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔

غدر کے صبح شام میں اسی ہنگامے کے شب و روز کے مناظر سامنے آتے ہیں۔ کبھی صبح امید کی کوئی کرن دکھائی دیتی ہے، کبھی شام کا سایہ مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ تاریخ کے بڑے واقعات دراصل ایسے ہی چھوٹے چھوٹے دنوں اور راتوں سے مل کر بنتے ہیں۔

دہلی کی سزا میں شکست کے بعد کی وہ دنیا سامنے آتی ہے جس میں شہر کو صرف فتح نہیں کیا گیا بلکہ اس کے باشندوں کو بھی اپنے انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر دہلی کا آخری سانس آتا ہے؛ عنوان ہی قاری کو روک لیتا ہے کہ آخر وہ دہلی کون سی تھی جس کا آخری سانس بھی کسی نے قلم بند کیا؟

اور آخر میں ضمائم ہیں، جو اس تاریخی مواد کو مزید وسعت دیتے ہیں اور مجموعے کو محض ایک کتاب نہیں بلکہ 1857ء کے گرد جمع کیا ہوا ایک بڑا دستاویزی و ادبی ذخیرہ بنا دیتے ہیں۔
❤2
یہ بارہ کتابیں الگ الگ بھی اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یکجا ہوجانے کے بعد ان کا اثر کچھ اور ہوجاتا ہے۔ ایک کتاب میں عورتوں کے آنسو ہیں، دوسری میں انگریزوں کی بپتا، کہیں محاصرے کے خطوط ہیں، کہیں بادشاہ کا مقدمہ، کہیں فرمان اور اخبار، کہیں غالب کی نگاہ، کہیں مرتی ہوئی دہلی اور کہیں اس کے آخری سانس کی آواز۔

خواجہ حسن نظامی نے تاریخ کو صرف واقعات کے طور پر نہیں دیکھا؛ انہوں نے اس کے پیچھے چھپے ہوئے انسان کو دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں توپوں سے زیادہ کبھی کبھی ایک آہ سنائی دیتی ہے، جنگوں سے زیادہ کسی اجڑے ہوئے گھر کا سکوت محسوس ہوتا ہے اور سلطنت کے زوال سے زیادہ ایک تہذیب کے بکھرنے کا دکھ نمایاں ہوتا ہے۔
“مرنے والی تہذیب اور تاریخ کا نوحہ” مصنف کی یہ تعبیر اس پورے مجموعے کے لیے شاید سب سے جامع تعارف ہے۔

یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نہیں جو صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ 1857ء میں کیا ہوا تھا؛ یہ ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو یہ محسوس کرنا چاہتے ہیں کہ 1857ء میں لوگوں پر کیا گزری تھی۔
اور یہی فرق ایک تاریخ پڑھنے اور ایک تاریخ جینے میں ہے۔

آپ کو روزن ماضی میں جھانکنا ہی ہوگا، تاکہ آپ کا مستقبل کسی مثبت راہ پر گامزن ہوسکے۔

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ کی عملی تصویر اور تعبیر ہر دور میں صادر اور صادق ہوتی رہی ہے۔

میں کسی قاری سے یہ نہیں کہتا کہ یہ کتاب آپ کو ضرور پڑھنی چاہیے؛ ممکن ہے آپ کا مزاج دوسرے موضوعات کے مطالعے کا ہو، مگر یہاں رک کر دست بستہ عرض ہے کہ اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ تاریخ کے ایک ایسے دور سے دور رہیں گے جس میں کئی صدیاں تاج و تخت پر براجمان رہنے والے بھی ملک بدری کی سزائیں جھیلنے پر مجبور ہوئے۔ اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو اپنے شاندار ماضی کے ساتھ اس کے افسوسناک ماضی کی تصویر کیسے دیکھ سکیں گے؟ اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو اپنے حال و استقبال کو کیسے سمجھ سکیں گے؟

(سترہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
👍1
ماہرِ فن بننے کا نسخہ

جوش ملیح آبادی نے اپنے مخصوص انداز میں لکھا ہے:

علوم و فنون کا شمار ناممکن ہے، عمر بے حد قلیل اور علوم و فنون بے کراں طویل ہیں۔ اگر کسی ایک فن کو "یک در گیر و محکم گیر" کی طرح، پکڑ کر، تمام عمر، اس کو خونِ دل سے متواتر سینچو گے تو آخرِ وقت، ایک مختصر سی، ہری بھری محدود کِیاری ہاتھ آجائے گی اور اگر تمام علوم و فنون پر ہاتھ ڈالو گے تو ایک احمق و جاہل کی موت مرجاؤ گے۔

(فکر و ذکر/صفحہ: ۱۷۲)
https://telegram.me/ilmokitab
❤2👍1
*وفیات مورخہ:اکتوبر 01*
1422ء  تاج الدین فیروز شاہ۔  بہمنی سلطان
1901ء  امیر عبد الرحمن خان۔  امیر افغانستان
1902ء  مرزا حسین نوری طبرسی۔  شیعہ مجتھد
1918ء  سعید بن علی قحطانی۔  سعودی عالم دین
1944ء  خوشی محمد ناظر، چودھری۔  شاعر
1944ء  عبد العزیز الثعالبی۔  تونسی عالم و مجاہد آزادی
1971ء  ریاض شاہد۔   ،
1972ء  حامد حسین فاروقی۔   ،
1972ء  ریاض شاہد۔ 
1974ء  محشر مرزا پوری  (مرزا فرزند علی)۔  شاعر
1982ء  اختر سلیمان (اختر جہاں سہروردی)۔  شاعر
1982ء  بیگم اختر جہاں سہروردی۔ 
1990ء  ذکی آذر (ذکی احمد صدیقی)۔  پروفیسر ،
2003ء  الیاس سیتا پوری (محمد الیاس خان)۔  ناول نگار
2003ء  خالد مسعود۔  ماہر قانون، اسلام آباد یونیورسٹی
2009ء  سید کمال۔  پاکستانی اداکار
2014ء  عزیز الرحمٰن خان۔  ہاکی چیمپین
 
Https://telegram.me/ilmokitab
❤2
سنو سنو!!

*حق گوئی کی آن۔ خودداری کی شان*(حضرت مولانا نسیم احمد صاحب غازی مظاہری رحمۃ اللہ علیہ )

(ناصرالدین مظاہری)

’’مُشک آن است کہ خود ببوید نہ کہ کہ عطّار بگوید؛ دانا چو طبلهٔ عطّار است، خاموش و ہنرنمای، و ناداں چوں طبلِ غازی، بلندآواز و میان‌تہی۔‘‘

یعنی حقیقی خوبی وہ ہوتی ہے جو خود ظاہر ہوجائے، اسے اپنے منہ سے بیان کرنے یا کسی دوسرے کی تعریف کا محتاج نہیں ہونا پڑتا۔ خوشبو کو اپنے خوشبودار ہونے کا اعلان نہیں کرنا پڑتا، مشک خاموش رہتی ہے مگر اس کی خوشبو بہت کچھ کہہ دیتی ہے؛ البتہ خالی برتن کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے شور مچانا پڑتا ہے۔

ایسی ہی ایک شخصیت میں نے بھی دیکھی ہے، اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے انہیں صرف دیکھا نہیں، پرکھا بھی، برتا بھی، بار بار ملا بھی اور ہر ملاقات میں انہیں پہلی ملاقات سے زیادہ پایا۔
وہ حق بولنے والے تھے، حق دیکھنے والے تھے، حق سننے والے تھے اور حق پر چلنے والے تھے۔ نڈر، بے خوف، لومۃ لائم سے بے پروا۔ سچ کے علم بردار، سچ کے چوب دار اور سچ کے مشعل بردار۔

کون سا فن تھا جس پر ان کی گرفت مضبوط نہ ہو؟ کون سا بزرگ تھا جو ان کا مداح نہ ہو؟ کون سا ادارہ تھا جو ان کی خواہش اور چاہت نہ رکھتا ہو؟ حکیم الاسلام سے فقیہ الاسلام تک، شیخ الحدیث سے مناظر اسلام تک، دیوبند و سہارنپور کے اکابر میں شاید ہی کوئی ایسا نام ہو جس کے ساتھ ان کی علمی یا قلبی نسبت نہ رہی ہو۔
اپنے معاصرین کے لیے وہ کسی کمک سے کم نہ تھے، اپنے اکابر کے لیے روشن مستقبل تھے اور اپنے چھوٹوں کے لیے تابناک ماضی۔
جامع الہدی کی ترقی، عروج اور استحکام میں ان کی ذاتِ بابرکت کو بڑا دخل تھا۔ طلبہ کے رجوع کی ایک بڑی وجہ خود مولانا تھے۔ ان کے پاس علم بھی تھا، عمل بھی؛ کشش بھی تھی اور تاثیر بھی۔
فتنہ ان سے ڈرتا تھا، فسادی عناصر ان کے سامنے محتاط رہتے تھے اور عنادی اکابر کی زبان بھی ان کے سامنے بہت کچھ سوچ سمجھ کر کھلتی تھی۔

داخلی کتابوں کو چھوڑیے، خارجی کتابوں کی لمبی لمبی عبارتیں انہیں ازبر تھیں۔ درسِ نظامی کی شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو جس سے ان کا ایسا تعارف نہ ہو کہ گویا کتاب ان کے لیے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی ہو۔

جہاں پہنچتے تھے میرِ مجلس بن جاتے تھے، جس سے ملتے تھے وہ ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ تقریر کرتے تو محسوس ہوتا کہ علوم کی بارش ہورہی ہے، سبق پڑھاتے تو فن پلانے کا گمان ہوتا۔ مقرر بھی تھے، مناظر بھی؛ عابد بھی، زاہد بھی اور ’’غازی‘‘ بھی؛ مضمون نگار بھی، ادیب بھی، شاعر بھی؛ واعظ بھی، خطیب بھی؛ امامت اور خطابت کی رونق بھی۔

کیا کچھ نہ تھے!

اللہ نے دیا تھا اور خوب دیا تھا۔ علم دیا، حافظہ دیا، بیان دیا، جرات دی، خودداری دی اور سب سے بڑھ کر حق پر قائم رہنے کا حوصلہ دیا۔
اسی علمی وجاہت اور شخصیت کے اعتراف میں ایک مرتبہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پورا وفد وائس چانسلر کا پیغام اور آفر لے کر پہنچا۔ فرمائش تھی کہ آپ علی گڑھ تشریف لائیے اور یہاں کے شعبۂ دینیات کی باگ ڈور سنبھالیے۔
مولانا نے جو عذر پیش کیے، ہر عذر کی کاٹ ان کے پاس تھی۔ جو موانع مولانا نے بیان کیے، ہر مانع کا حل ان کے پاس تھا۔ ہر شرط پر آمنا و صدقنا۔
علی گڑھ والے اس مرادآبادی ہیرے اور بجنوری کوہِ نور کو اپنے سر کا تاج بنانا چاہتے تھے۔

مولانا نے جب دیکھا کہ یہ لوگ تو میری ہر شرط پر ہاں کہتے جارہے ہیں اور صورتِ حال ’’جائے رفتن، پائے ماندن‘‘ کی بن گئی ہے تو بالآخر مجبور ہوکر فرمایا:

’’اصل میں میں داڑھی منڈوں کو دیکھ نہیں سکوں گا۔‘‘

اس پر بھی ان لوگوں نے برا نہیں مانا۔ بلکہ مولانا ہی کے مشورے پر ان کے ایک عزیز کو علی گڑھ بلایا گیا، اعزاز و اکرام کیا گیا، ناز برداریاں اٹھائی گئیں۔

کیونکہ وہ لوگ جوہری تھے؛ ہیرے کی قدر پہچانتے تھے اور ہیروز کی پرکھ رکھتے تھے۔

اور سنئے!

ایک زمانہ پہلے وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کو اپنی پارٹی کے لیے مولانا جیسا ایک شاندار، لائق فائق اور باصلاحیت عالم درکار تھا۔ قرعۂ فال مولانا مرحوم کے نام نکلا۔

اتفاقِ رائے کے بعد ایک وفد مولانا کی خدمت میں مرادآباد حاضر ہوا۔ عہدہ، منصب، دولت، دہلی شہر میں تاحیات ایک کوٹھی اور سیکورٹی سب کچھ پیش کیا گیا۔
مگر مولانا کا ’’ناں‘‘ ’’ہاں‘‘ میں نہ بدل سکا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا موقع بار بار نہیں آتا۔
مولانا نے برجستہ جواب دیا:
’’مجھے ایک بار بھی ایسا موقع نہیں چاہیے۔‘‘

کیا جملہ تھا!

حلال کے چند روپے، عزت کی یہ سادہ زندگی، آزادی کی یہ فضا مولانا کے نزدیک اس عہدے، دولت اور ظاہری شان و شوکت سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔

گویا ان کا پیغام صاف تھا:

آزادی کی خشک روٹیاں غلامی کے حلوے اور جلوے سے بہتر ہیں۔
وہ لوگ کئی دن مرادآباد میں رکے۔ بار بار گفتگو کے دور چلے، مگر مولانا ٹس سے مس نہ ہوئے۔

کیوں نہ ہوتے؟
❤1
وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے شاگردِ رشید تھے، جنہیں حیدرآباد بڑی تنخواہ پر بلایا گیا، مگر وہ نہیں گئے۔

وہ مفتی سعید احمد اجراڑویؒ کے شاگرد تھے، جنہیں بڑی تنخواہ کی پیش کش ہوئی، مگر وہ بھی نہ گئے۔

وہ مناظرِ اسلام حضرت مولانا محمد اسعد اللہ رام پوریؒ جیسے زاہد کے شاگردِ رشید تھے، جنہوں نے دولت کو گویا تین طلاق دے رکھی تھی۔

استادوں کی صحبتیں آدمی کے اندر اترتی ہیں۔ بعض لوگ اپنے اساتذہ سے صرف کتابیں پڑھتے ہیں، بعض ان سے زندگی پڑھتے ہیں۔
حضرت رحمہ اللہ نے شاید اپنے اکابر سے صرف علم نہیں لیا تھا؛ علم کے ساتھ خودداری، حق گوئی، بے نیازی اور استقامت بھی لی تھی۔
اسی لیے بڑے بڑے مواقع ان کے دروازے تک آئے، مگر وہ ان کے پیچھے نہیں گئے۔

آج جب آدمی اپنی معمولی سی خوبی کے اعلان کے لیے بھی کئی کئی اشتہار ڈھونڈتا ہے، جب نام سے پہلے القاب اور کام سے پہلے تعارف کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، ایسے زمانے میں مولانا جیسی شخصیات یاد آتی ہیں تو سعدی کا وہی جملہ کانوں میں گونجتا ہے:

’’مشک آن است کہ خود ببوید، نہ آن کہ عطار بگوید۔‘‘

مشک کو عطار کی زبان درکار نہیں ہوتی۔
خوشبو خود اپنا تعارف ہوتی ہے۔

اور میرے نزدیک حضرت بھی ایسی ہی ایک خوشبو تھے؛ جنہیں جتنا قریب سے دیکھا، اتنا ہی زیادہ محسوس کیا؛ جن سے جتنا ملا، اتنا ہی ان کی شخصیت کا کوئی نیا پہلو سامنے آیا۔

وہ صرف ایک عالم نہیں تھے، ایک پورا عہد تھے؛ علم کا، جرأت کا، خودداری کا، بے نیازی کا اور حق پر ڈٹ جانے کا۔
یہ تھے *حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہریؒ۔*
اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے علم، عمل، حق گوئی اور استقامت سے حصہ عطا فرمائے۔
آمین۔

(اٹھارہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
❤5
*غلطی ہائے مضامین*

*ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی*

*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*

آج کل ہر طرف حق کا بول بالا ہو رہا ہے۔ بول بول کر حق مانگا جارہا ہے اوربولا بولا کر حق چھینا جا رہا ہے، مگر حق ادا نہیں کیا جا رہا۔ اِس حق طلبی پر یاد آیا کہ غالبؔ کاایک مشہور مصرع اکثراحباب اپنی تحریر و تقریر میں ’ادائے حق‘ کے ضمن میں یوں استعمال کرتے ہیں :
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
مگرصاحب! حق تو یہ ہے کہ غالبؔ نے اس مصرعے میں ”حق تو یوں ہے“ استعمال کیا ہے۔ کم از کم کلامِ غالبؔ کے نسخۂ مہر میں تو یہی درج ہے۔علامہ آلوسی ؔنے غالبؔ کے دیوان کا جو نسخہ مرتب کیا ہے اُس میں ’یوں ‘ کو ’یہ‘ کر دیا۔مولانا حسرتؔ موہانی کے مرتب کردہ نسخے میں بھی ’یوں ‘ کی جگہ ’یہ‘ ہے،سو یہ ہی عام ہوگیا۔ چلیے ’یوں ‘ نہ سہی، ’یہ‘ سہی۔ مگر دیوانِ غالب کے نسخے بھی تو کثیر تعداد میں مرتب ہوئے ہیں ، اُن طبی نسخوں کی طرح جو بھیانک امراض کے تیر بہ ہدف علاج کے لیے ہمارے سماجی ذرائع ابلاغ پرہرروزمرتب کیے جاتے ہیں ۔ غالبؔ کی بیماری بھی کم بھیانک نہیں تھی۔اُن کے دیوان کے کم ازکم پندرہ تیر بہ ہدف نسخے تو ہم نے خود گنے ہیں ، جو مختلف مرتبین نے اپنے اپنے طور پر ترتیب دیے۔ دیوانِ غالبؔ کے تمام مرتبین دُور رَس، دُور بین اوردُور اندیش لوگ تھے۔ نیک، مخیر اور خدا ترس تھے۔ خلق خدا کے خدمت گار بلکہ ’دفتر روزگار‘تھے۔ یہ مرتبین غالبؔ کے اشعار میں ڈنڈی مار کے بے شمار محققین کی روزی روزگار کا بندوبست کر گئے۔
غالبؔ کی زندگی میں دلّی کے مطابع سے اُن کے دیوان کے جو تین نسخے شائع ہوئے، خود غالبؔ اُن سے مطمئن نہیں تھے۔ مطمئن تو کیا؟ چچااپنے اِن مطبوعہ دواوین کو دیکھتے ہی اول فول پر اُتر آئے۔ میر مہدی مجروحؔ کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں :
”ہائے! لکھنؤ کے چھاپے خانے نے جس کا دیوان چھاپا، اُس کو آسمان پر چڑھا دیا۔حسنِ خط سے الفاظ کو چمکا دیا۔دلّی پر اور اس کے پانی پر اور اس کے چھاپے خانے پر لعنت“۔
لکھنؤ کے چھاپے خانوں پر ’ہائے‘ مارنے کے بعدچچا نے اُن کے حُسنِ طباعت کی تو ’واہ وا‘کی مگر محض بھدے خط کے باعث دلّی کے چھاپے خانوں ، خود دِلّی اور اُس کے پانی پر بھی لعنت بھیج دی۔دلّی والے دیوان درست چھاپ دیتے تو چچاکی لعنت ملامت سے اپنے پیے ہوئے پانی سمیت بچ جاتے۔
چچاکے جیتے جی دو نسخے مزید شائع ہوئے، ایک آگرہ سے، ایک کان پور سے۔ معلوم نہیں کہ لعنت کے دائرے نے باقی دو شہروں کو بھی مَدَوَّر کیا یا نہیں ؟ مگر دلّی پرلعنت تو ہر دور میں پڑی۔بشیر بدرؔ مرحوم کوبھی اپنے لُٹے دل کی مثال دینے کے لیے دلّی ہی کی مثال سُوجھی:
دل کی بستی پُرانی دلّی ہے
جو بھی گزرا ہے اُس نے لوٹا ہے
خود ہمارے شہر کراچی پر پچھلے چالیس برس سے جولعنت برس رہی ہے،وہ دکھانے کو ملک زادہ منظورؔ احمد بھی دلّی ہی کی مثال لائے۔
چہرے پہ سارے شہر کے گردِ ملال ہے
جو دل کا حال ہے، وہی دلّی کا حال ہے
بات حق سے چلی تھی،چلتے چلتے محققین کی روٹی روزی تک چلی گئی۔ اسی چل چلاؤ میں لکھنؤ، دلّی ، آگرے اور کان پور کی سیر بھی ہوگئی۔ ایک نظر اپنے کراچی پر بھی ڈال آئے۔ تو آئیے اب سکون سے بیٹھ کر باقی باتیں بگھاریں ۔
جس مصرعے سے کالم کا آغاز ہواہے، اس میں دو ’حق‘ استعمال ہوئے ہیں ۔ دونوں کے معنی الگ الگ ہیں ۔ یہ مصرع اسی وجہ سے زیادہ دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔کسی مصرعے یا کسی شعر میں دو ایسے الفاظ استعمال کرلیے جائیں جن کا تلفظ یا املا، یا دونوں ایک جیسے ہوں مگر معنی میں فرق ہو تو اِس کو ’صنعتِ تجنیس‘ کہتے ہیں ۔ ’تجنیس‘ کا مطلب ہے ہم جنس ہونا، ایک جیسا یا ایک قبیلے سے ہونا۔غالبؔ کا یہ شعر صنعتِ تجنیس کی اچھی مثال ہے۔ پہلے مصرعے میں بھی دونوں ’دی‘ کے الگ الگ معنی ہیں :
جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
دوسرے مصرعے میں پہلے حق کا مطلب سچائی، صداقت،جائز، مناسب یا معقول بات ہے۔ دوسرا حق انصاف، عوض و معاوضہ یا بدلہ چکانے کے مفہوم میں ہے۔ لفظ ’حق‘ کو بارگاہِ حق سے متعدد معانی رکھنے کا حق حاصل ہوا۔ اوّل تو یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک اسمِ حَسَن ہے۔’بارگاہِ حق‘ اِنھیں معنوں میں بولا جاتا ہے۔ آپ نے بہت سے ’عبدالحق‘ دیکھے اوربرتے ہوں گے۔ اگر ان میں سے کوئی عبدالحق ’جاں بہ حق‘ ہوگیا ہو، تو شاید آپ نے بھی یہ مصرع پڑھا ہو کہ ”حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا“۔یہی ’حق‘ صدق اور راستی کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ ”حق، حق ہے اور باطل، باطل“۔ حق کی حقانیت ثابت کرنا ’احقاقِ حق‘ کہلاتا ہے( ’حیران ہوں کہ حُقّہ گیا کس حساب میں ؟‘ مدرسۂ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے پوچھنا پڑے گا) کسی کے متعلق، کسی کی نسبت یا کسی کی بابت کے معنی بھی’حق‘ میں موجود ہیں ، مثلاً ”بولتے کیوں نہیں مرے حق میں ؟“ جو چیز آپ کی ملکیت ہو اُس پر آپ ہی کا ’حق‘ ہوتا ہے۔ اپنی کسی ملکیت پر کوئی مزدور لگا کر کوئی کام کروائیں تو اُس کی مزدوری اُس کا ’حق‘ کہلائے گی۔اُمید ہے کہ آپ اُس کا حق نہیں ماریں گے۔حق مارنے کی کوشش کی تو وہ آپ کو مارنے کی کوشش کرے گا۔ اپنا حق ہرگز نہیں چھوڑے گا، اور آپ کو بھی۔ گویا جو مال یا جو سہولت آپ کے لیے جائز ہو، آپ کو ملنا واجب ہو اور آپ کی ملکیت کا ثابت شدہ حصہ ہو وہ آپ کا’ حق‘ ہے۔حق رکھنا، حق جتانا یا حق طلب کرنا ’استحقاق‘ کہلاتا ہے۔ حق رکھنے والا ’مستحق‘ ہوتا ہے۔ مستحقین کو اپنے حق کا حق ادا کرنے کے لیے اپنا فرض بھی ادا کرناچاہیے۔سورۃ المعارج کی آیت نمبر چوبیس اور پچیس کی رُو سے مسلمانوں کے مال میں سائلوں اور محروموں کا ایک مقررہ ’حق‘ ہے۔ ہم جو بہت بیزار لہجے میں سائلوں سے کہتے ہیں کہ ”معاف کرو بابا“ تو عزیزانِ من! یہ فقرہ در اصل اس لیے کہا جاتا تھا کہ ہمارے مال میں اللہ نے اُن کا جو حق رکھاہے ، ابھی نہ دے سکیں توفی الحال وہ حق اُن سے معاف کروالیں ۔
حق ہی سے لفظ ’حقیقت‘ ہے۔وہ بات جو اصل،سچی اور صحیح ہو۔غلط اور ناروا بات ’ناحق‘ کہلاتی ہے۔مثلاً اقتدار کی طاقت کے سرچشمے سے غٹ غٹا کر یا ڈگڈگا کر پانی پی جانے والے، پی کر اکثر یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں “۔ پَر، گفتگو عوام سے کرنے والے میر تقی میرؔ نے اس نعرے کا جواب دے ہی دیا اور کیاخوب دیا۔میرؔ صاحب فرماتے ہیں :
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ، ہم کو عبث بدنام کیا
’حق‘ یا ’حقیقت‘ کا کھوج لگانا ’تحقیق‘ کہلاتا ہے۔ یہی کام پولیس کو سونپ کر برسوں کے لیے بے فکر ہو جائیں تو اسے ’تحقیقات‘ کہتے ہیں ۔ کھنڈر، کھنڈر اور کتب خانے، کتب خانے مارا مارا پھرنے والا متلاشیِ حق ہمارے ہاں ’محقق‘ کہلاتا ہے۔ مگر یہ پرانی بات ہوئی۔اب ’تحقیق‘ کے لیے اتنا پاکھنڈ نہیں پالا جاتا، قینچی اور گوندسے تحقیق ہوتی ہے۔ وہاں سے کاٹا، یہاں چساں کر لیا۔’عالمی ربط‘ سے ملنے والی مصنوعی ذہانت نے یہ کام مزید آسان کر دیا ہے۔ کاٹنے اور چپکانے کی زحمت سے بھی بچالیا۔بس کلک کی صدا آئی اور’نقل و چسپاں ‘ہوگیا۔” کیا کریں مجبوری ہے،پروموشن کے لیے پی ایچ ڈی ضروری ہے“۔ اگر’ڈوک ساب‘ نے اپنے علوم و فنون اپنی زبان میں پڑھے ہوتے توکچھ سمجھتے، کچھ سوچتے ، پھر کچھ تحقیق بھی کر لیتے۔ بے زبان بیٹھے کلک کلک نہ کرتے رہتے۔
٭٭
❤4
انا للہ وانا الیہ راجعون
شاہین ختم نبوت حضرت مفتی ثمین اشرف قاسمی صاحب کا انتقال ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
*منقول*
❤1
*وفیات مورخہ:اکتوبر 04*
1718ء  ملا احمد جیون۔  عالم اصولی
1913ء  فیصل بن ترکی۔  سلطان عمان
1948ء  غلام حسین ہدایت اللہ۔  سر
1948ء  لام حسین ہدایت الله۔  سر
1955ء  عبد السلام ندوی۔  مولانا ، مورخ
1970ء  محمد عبد اللہ بیدل بیکانیری۔  شیخ ،
1979ء  امراؤ بندوخاں۔  سارنگی نواز
1979ء  نٹورسنگھ جی بھاوسنہ جی۔ 
1980ء  ظفر احمد صدیقی۔  پروفیسر
1982ء  احمد حسن البکر۔  صدر عراق
1984ء  ابو الجلال ندوی۔  مولانا، محقق، ماہر لسانیات
1984ء  قمر الحق (محمد)۔ 
1984ء  محمد قمر الحق۔ 
1988ء  صبا متھراوی (رفیع احمد)۔  شاعر
1990ء  وجدی الحسینیؒ (عابدعلی) بھوپال۔  قاضی
1993ء  نیر ربانی وشارمی۔  مولانا، استاد سبیل الرشاد بنگلور
1995ء  محمد احسان اللہ ڈیانوی عظیم آبادی۔  مصنف
1999ء  عطا کریم برق۔  ڈاکٹڑ
1999ء  عطا کریم برق۔  ڈاکٹر ،
2004ء  آمنہ مجید ملک۔  بیگم
2004ء  کاشف الآفاقی (محمد طیب)۔   ،
2012ء  رضیہ بٹ۔  ناول نگار ،
2012ء  قمر اللہ دتا۔   ،
2017ء  عتیقہ بانو۔  کشمیری ماہر تعلیم
Https://telegram.me/ilmokitab
02 Majaz Kay bad ki rat.pdf
1.1 MB
مجاز کے بعد کی رات۔۔۔ تحریر: اخلاق احمد دہلوی
👍2
آپ کے تبصرے ، ریکشن اور اقتباسات تحریک دیتے ہیں، اور اس بزم کے معیار کو بلند کرنے میں ممد ومعاون بنتے ہیں
❤6
*بات سے بات: مولانا عبد العلی سابق امام مسجد پیریمیٹ چنئی*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
 
پیریمیٹ چنئی میں واقع جامع مسجد بڑی تاریخی اور بابرکت مسجد رہی ہے، یہ چنئی میں تعمیر شدہ پہلی پرائیویٹ مسجد ہے، اسے ترچناپلی کے صاحب خیر تاجر جمال محی الدین بانی الکلیۃ العربیۃ الجمالیہ چنئی نے تعمیر کیا تھا، بعد میں یہ مسجد شمالی آرکاٹ آمبور، میل وشارم، وانمباڑی وغیرہ کے تاجران چرم کا مرکز بن گئی،یہاں پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ اور حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب جیسے اکابر کی تاریخی مجالس منعقد ہوئی ہیں، ایک اندازے کے مطابق قندھار افغانستان  سے تشریف لانے والے حضرت مولانا عبد العلی صاحب نے ۱۹۳۲ء سے 1972ء تک چالیس تک امامت وخطابت سے اس مسجد کو منور کیا۔
 مولانا کے پیچھے اس ناچیز کو تقریبا دو سال تک نماز پڑھنے اور خطبہ سننے کا شرف حاصل ہوا ہے، آپ کا جب انتقال ہوا تو ہمارے شیخ مولانا عبد الباری حاوی معدنی رحمۃ اللہ علیہ بقید حیات تھے، خیال پڑتا ہے کہ آپ ہی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی، اور آپ کے فضائل بیان کئے تھے۔
گزشتہ اتوار کو اسی مسجد میں المجمع العالمی للفقہ الاسلامی کے سیمینار کا آخری دن تھا، اور منتظمین نے اس ناچیز کو آخر میں چند تاثرات بیان کرنے کا حکم دیا تھا، تو ہمارے ذہن میں اس مسجد کی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں، شاید اس مجلس میں ہمارے علاوہ کوئی اور ان یادوں کو اپنے سینے میں سمیٹنے والا نہیں تھا، لہذا احباب نے انہیں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ بعد میں احباب نے اس سلسلے میں استفسارات بھی کئے۔ تلاش پر مئی ۲۸ سنہ ۱۹۷۲ء کے صدق جدید لکھنو میں مولانا محمد عبد الجلیل خطیب کا شذرہ نظر سے گذرا، خطیب صاحب اپنے دور کے جنوبی ہند کے بڑے صحافیوں میں شمار ہوتے تھے،اور بنگلور میں بڑے فعال تھے۔  آپ کی کتاب آئینہ وانمباڑی ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ ہمارے مولانا عبد الباری حاوی معدنی رحمۃ اللہ کے چچا زاد بھائی تھے، اور مولانا محمد شعیب اللہ مفتاحی صاحب آپ کے داماد ہیں۔
تذکیر کے لئے آپ کا شذرہ پیش خدمت ہے۔
*ایک بزرگ کی رحلت*
حضرت شیخ الہندؒ کے تلمیذِ خصوصی حضرت مولانا سید فخر الدین احمد شیخ الحدیث کے شریکِ درس حضرت مولانا رسول خان کے برادرِ خورد حضرت مولانا محمد عبد العلی صاحب ۳/ مئی ۱۹۷۲ء کو ۹۲ سال کی عمر میں رحلت فرما گئے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
مولانائے مرحوم سرحدی علاقہ کے رہنے والے تھے اور پچاس سال سے مدراس میں مقیم ہو چکے تھے ۔ مسجدِ تاجران حرم، ٹرپلکین میں چالیس سال تک منصبِ خطابت پر فائز رہے، آپ کی وفات کی وجہ سے شہرِ مدراس اور اس کے مضافات کی اصلاحی خدمات میں ایک عظیم خلا پیدا ہو گیا ہے ۔
محمد عبد الجلیل الخطیب نزیل دہلی ۔
❤1
*وفیات مورخہ:اکتوبر 05*
1302ء ابن دقیق العید۔ شافعی محدث وفقیہ
1595ء ابو الفیض فیضی۔ مصنف تفسیر بے نقط، سواطع الالھام، نورتن
1985ء احمد اللہ قادری۔ لسان الملک۔ ادیب ونقاد
1979ء احمد پرویز۔ مصور
1988ء اختر انصاری دہلوی۔ شاعر
2003ء آفتاب عالم قزلباش۔ ،
1967ء سدرشن (پنڈٹ بدری ناتھ شرما)۔ ڈرامہ نویس
2013ء داؤد رہبر۔ شاعر، ادیب
1968ء رسا لکھنوی (حافظ رسول محمد )۔ شاعر ،
2020ء رشید مسعود۔ پروفیسر، بھارتی سیاست دان
1967ء سدرشن (پنڈٹ بدری ناتھ شرما)۔ افسانہ نگار ،
1968ء سید عتیق الرحمٰن۔
1754ء صفدر جنگ۔ نواب اودھ
1967ء عبد العزیز فطرت۔
2020ء عبد الغفار عزیز۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
1986ء غلام احمد ناز۔
2005ء قیصر الجعفری۔ شاعر ،
2015ء کاوش رضوی۔ شاعر
2013ء منصور بجنوری۔ علامہ
1855ء میر ضمیر۔ شاعر دبستان لکھنو