علم و کتاب
8.02K subscribers
1.14K photos
82 videos
2.37K files
6.26K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
ان کے اسلوب نگارش کا ایک اور امتیاز زبان کی روانی ہے۔ عبارت میں ایسی بے تکلفی، مکالموں میں ایسی برجستگی اور منظر نگاری میں ایسی چستی کہ قاری کو محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کسی مشکل ادبی عبارت سے گزر رہا ہے۔ الفاظ راستہ نہیں روکتے، راستہ بناتے ہیں۔ جملے بوجھ نہیں بنتے، کہانی کو آگے دھکیلتے ہیں۔ وہ ضرورت کے مطابق منظر کو پھیلاتے ہیں اور جہاں رفتار تیز کرنی ہو وہاں چند مختصر جملوں میں پورا ماحول بدل دیتے ہیں۔ ان کے یہاں خاموشی بھی بولتی ہے، اندھیرا بھی کردار بن جاتا ہے اور ایک معمولی سا اشارہ بھی قاری کے ذہن میں کئی امکانات روشن کردیتا ہے۔
ان کی واقعہ نگاری میں جمال بھی ہے اور کمال بھی۔ جمال اس بات کا کہ منظر آنکھوں میں اتر جائے، کردار دل و دماغ میں جگہ بنالیں اور عبارت میں ایک دل کش روانی باقی رہے؛ کمال اس بات کا کہ یہ سب کچھ محض آرائش کے لیے نہ ہو بلکہ کہانی کے مقصد، تجسس کی تعمیر اور انجام کی تیاری میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کے یہاں واقعات ایک دوسرے کے پیچھے محض قطار باندھ کر نہیں چلتے، ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک واقعہ دوسرے کو جنم دیتا ہے، ایک انکشاف نئے سوال پیدا کرتا ہے اور ایک سوال قاری کو اس نتیجے تک پہنچنے سے روکے رکھتا ہے جسے وہ بڑی آسانی سے حاصل کرلینے کا گمان کررہا ہوتا ہے۔ یہی فنی تنظیم کسی جاسوسی ناول کو محض سنسنی خیز قصہ بننے سے بچاتی اور اسے ایک مربوط تخلیقی تجربہ بنادیتی ہے۔

ابن صفی کی کتابیں پڑھتے ہوئے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ چین کا شنگھائی اپنی تمام پیچیدگیوں سمیت سامنے کھڑا ہے، پرانی دہلی کی گھماؤ دار گلیاں اپنے سارے بھید لیے ہوئے ہیں، مگر اگلے ہی صفحے پر مصنف ایسا موڑ لے آتا ہے کہ شنگھائی کی سڑکیں بھی سیدھی معلوم ہونے لگتی ہیں اور دہلی کی گلیاں بھی آسان! یہاں قاری کی عقل، حافظہ، مشاہدہ اور قوت استدلال سب آزمائش میں پڑجاتے ہیں۔ وہ مجرم کو پکڑنے کے لیے مصنف سے پہلے منزل تک پہنچنا چاہتا ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ منزل پر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ مصنف تو پہلے ہی وہاں بیٹھا مسکرا رہا ہے۔

یہی ابن صفی کا جادو ہے: وہ قاری کو صرف کہانی کا تماشائی نہیں رہنے دیتے، اسے تفتیش کا شریک، معمہ کا حل کنندہ اور کرداروں کا ہم سفر بنادیتے ہیں۔ ان کے ناول بند ہوجاتے ہیں، مگر ان کے کردار ذہن میں چلتے پھرتے رہتے ہیں؛ آخری صفحہ ختم ہوجاتا ہے، مگر آخری سوال ختم نہیں ہوتا۔ آدمی کتاب رکھ کر کچھ دیر سوچتا ہے، پھر کتاب اٹھا لیتا ہے؛ اور اگر کتاب ہاتھ سے رکھ بھی دے تو دل میں ایک نئی کتاب کی طلب جاگ اٹھتی ہے۔
سو اگر آپ نے ابن صفی کو نہیں پڑھا تو اردو جاسوسی ادب کی ایک دل چسپ دنیا ابھی آپ کی منتظر ہے، اور اگر پڑھ چکے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ ان کے ناولوں کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ ایک ناول ختم ہوتے ہی دوسرا ناول یاد آنے لگتا ہے۔ کتب خانے میں داخل ہونے والا شخص کتابوں کی الماری دیکھتا ہے، مگر ابن صفی کا قاری ان الماریوں میں عمران، فریدی، حمید اور ان گنت پراسرار واقعات کو تلاش کرتا ہے۔ وہ کتاب خریدنے نہیں جاتا، گویا ایک نئے سفر کا ٹکٹ لینے جاتا ہے۔

ایک زمانے تک میں ابن صفی کا قیدی بنا رہا ، مدتوں عمران سیریز کا دیوانہ رہا، کتنی ہی راتیں میں نے ابن صفی سے باتیں کی ہیں، نوید ہی سی او پر اظہر بھائی کو کبھی نہیں بھول سکتا جن سے ایک روپیہ میں کتاب کرایہ پر لیتا اور اس لئے جلدی جلدی پڑھ لیتا کہ اگلی تاریخ شروع ہونے سے پہلے واپس کردو تاکہ اگلا کرایہ نہ دینا پڑے۔اس طرح مجھے نوید ہی سی او پر موجود ابن صفی کے چکر میں دوسرے بہت سے ناول نگاروں کے ناول پڑھنے کا موقع ملا، میں نے محی الدین نواب کی پراسرار دنیا میں بھی بہت وقت گزارا، التمش اور نسیم حجازی تو اپنے گھر کے بندے لگے، صادق سردھنوی کی طولانی عبارات پر بارہا سر دھنتا رہا، مظہر کلیم ایم اے کے عمران کو بھی آزمایا، اے حمید کے طلسم کدوں کی سیر بھی کی، ایم اے راحت کے پراسرار جزیروں میں بھی بھٹکا، ایچ اقبال کے معمہ ہائے سربستہ بھی کھولنے کی کوشش کی اور اشتیاق احمد کے ناولوں میں بھی اپنی افتاد طبع کے لیے سامان پیدا کیا۔ شوکت تھانوی کا دیوانہ تھا اور ہوں،

واجدہ تبسم کو بھی پڑھا، ان کے یہاں معاشرتی زندگی کے وہ گوشے نظر آئے جن پر سماج عموماً پردہ ڈالے رکھنا چاہتا ہے۔ ان کی تحریروں میں زندگی کی تلخیاں، انسانی کمزوریاں اور معاشرتی تضادات اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ سلمی اعوان کو پڑھا تو محسوس ہوا کہ ان کے قلم میں محض قصہ گوئی نہیں، تاریخ کے اوراق الٹنے، تہذیبوں کی خوشبو سمیٹنے اور اجنبی خطوں کو اپنی تحریر میں زندہ کردینے کا ہنر بھی ہے۔ وہ کبھی ماضی کے دریچوں سے جھانکتی ہیں، کبھی دور دراز علاقوں کی زندگی کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتی ہیں اور کبھی واقعات کے پس منظر میں انسانی جذبات کی ایسی تصویریں بناتی ہیں کہ قاری صرف پڑھتا نہیں، ان مناظر میں اترتا چلا جاتا ہے۔ واجدہ تبسم کا اپنا رنگ ہے اور
سلمی اعوان کا اپنا مزاج؛ ایک کے یہاں معاشرتی زندگی کے پیچیدہ اور تلخ پہلو توجہ کھینچتے ہیں، دوسری کے یہاں سفر، تاریخ اور تہذیبی مشاہدے کی وسعت دل چسپی پیدا کرتی ہے۔ یہی تو مطالعے کی اصل لذت ہے کہ ہر قلم کار ایک نئی دنیا کا دروازہ کھولتا ہے اور ہر نئی دنیا میں داخل ہوتے ہوئے قاری اپنے ذوق کی ایک نئی جہت دریافت کرتا ہے۔

ان کتابوں میں سے بعض کتابیں صرف الفاظ و تعبیرات کا تحفہ نہیں دیتی ہیں تجربات بھی دیتی ہیں،مشاہدات بھی دیتی ہیں، جینے کا ہنر بھی سکھاتی ہیں، آداب زندگی بھی بتاتی ہیں، عادات و اطوار بھی بتاتی ہیں۔کبھی کبھی وہ باتیں کھیل کھیل میں سکھاتی ہیں جو تاحیات نسخہ کیمیا کا کرادر بن جاتی ہیں۔

(انتیس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری. وارد حال ندوۃ العلماء لکھنؤ)
❤1
*سچی باتیں (24؍مارچ 1941ء)۔۔۔ نماز اور ڈسپلن*
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی*

دُنیا میں جتنی بھی سلطنتوں کی فوجیں ہیں، بڑی سے بڑی ، اور بہتر سے بہتر، بہرحال زمین کے کسی مخصوص خطّہ ورقبہ کے اندر ہی ان کا وجود ہے۔ اب فرض کیجئے کوئی فوج ایسی ہے، جس کے سپاہی، تھوڑے یا بہت، روئے زمین کے ہر حصہ، ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک ہی وقت میں آسٹریلیا میں بھی ہیں اور افریقہ میں بھی۔ ہندوستان میں بھی اور چین میں بھی۔ استنبول میں بھی اور لندن میں بھی۔ مختلف عمروں کے، مختلف صحتوں کے، مختلف پیشون اور شغلوں میں۔ عورتیں بھی مردبھی۔ گورے بھی کالے بھی۔ اسی اسی سال کے بوڑھے بھی ، بارہ بارہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے بھی۔ ادھر اُن کو فوجی بگل بجا، اور اُدھر ایک ایک سپاہی اِس منتشر فوج کا، اپنی اپنی جگہ پریڈ کے لئے آمادہ ہوگیا! تنہا ہواتوتنہا، اور کئی ہوئے تو مل جُل کر، پھر یہ پریڈ کسی موسم، کسی مہینہ کے ساتھ مخصوص نہیں، گرمی میں لُو بدن جھلسائے دے رہی ہو تو ، برسات میں مینھ کی جھڑی لگی ہو تو، سال کے پورے تین سو پینسٹھ دن وہ پریڈ لازمی۔ سفر ہوتو، حضرہوتو، پریڈ کی پابندی سے معافی نہیں……ایسی عجیب وغریب فوج کی مثال آپ نے کہیں دیکھی ہے؟ اس ڈسپلن کی نظیر کہیں ملے گی؟اسے شکست دینے کا حوصلہ دنیا کی کوئی قوت رکھ سکتی ہے؟
فوج نظروں سے غائب نہیں، نگاہوں کے روبرو ہے، آپ کے گرداگرد ہے۔ عجب نہیں کی آپ خود اسی فوج کے سپاہی ہوں……مسلمان، دنیا کے کسی حصہ میں ہو، کسی حال میں ہو، ادھر نماز کا وقت آیا، اُدھر معًا کھڑا ہوجائے گا۔تنہا ہے تو دست بستہ، اور جماعت میں ہے تو صف بستہ! وہ منتظر پریڈ کے بگل کا نہ رہے گا۔ اپنے لشکر کا وہ آپ بگلچی ہے۔ اذان تو بس کہیں کہیں ہوتی ہے۔ وقت آنے پر وہ آپ ہی آپ ’’اٹینشن‘‘ پر ہوجائے گا……مسلمان اپروایسرائے کی پارٹی میں چائے پی رہاہے، مغرب کا وقت آتاہے ۔ معًا وہیں سبزہ پر قبلہ رُخ کھڑاہوجاتاہے۔ مسلمان غریب جنگل میں لکڑی کاٹ رہاہے پسینے میں شرابور۔ ظہر کا وقت آیا، اور جنگل میں اُس نے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لئے!جہاز چلے جارہے ہیں ، اور نمازیں ہوتی جارہی ہیں۔ ریل چلی جارہی ہے، اورکھڑے یا بیٹھے جس طرح بھی ممکن ہے، نماز ادا ہورہی ہے۔ آس پاس کے مسافر سورہے ہیں، ہنس بول رہے ہیں، تاش کھیل رہے ہیں، لڑجھگڑ رہے ہیں، مسلمان مسافر مصلّی بچھانے کی فکر میں۔ ریل ٹھہری ، دوسرے مسافر سودے والوں پر ٹوٹ پڑے،مسلمان مسافر وضو اور نماز کی دوڑ دھوپ میں۔ شام کے وقت پارک میں تماشائیوں کا ہجوم، بازاری گاہکوں کی دھوم، رات کے وقت کا سنّاٹا ، صبح کی ٹھنڈی ہوا، دوپہر کواور سہ پہر کو عدالتوں میں، دفتروں میں، اسکولوں میں، کاروبار کی گرم بازاری میں، مسلمانوں کی لَو اپنی اسی پریڈ سے لگی ہوئی! پریڈ بھی دن رات میں ایک بار نہیں، پانچ پانچ بار، صبح بھی، دوپہر بھی، سہ پہر بھی، شام بھی، رات بھی!
زندہ مذہب، خالی الذہن ہوکر سوچئے، یہ ہے یا کوئی اور؟ حرکت اور زندگی جو اس مذہب میں ہے، اس کی نظیر کہیں اور ملے گی؟ یہ چوبیسوں گھنٹے والا، زندہ، بیدار، متحرک، مذہب اسلام ہی ہے یا کوئی اور؟……اور مستمر، مستقل، ہمہ وقتی، ہمہ جائی، ڈسپلن کی، بیداری کی، چستی کی، مستعدی کی، تازگیِ تعلق کی، مثال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی ڈسپلن والی، فوج میں ملے گی؟ جرمنی میں؟ امریکہ میں؟ روس میں؟ برطانیہ میں؟……حیف ہے کہ جس قوم یا امت کے اندر خود اتنا زبردست نظم، ایسی عظیم الشان تنظیم موجود ہو، اُس کے افراد ثابت ہوں، کارزار حیات کے کسی معرکے میں، دنیا وعقبیٰ کے کسی میدان میں بھی سست اور کاہل، پست ہمت اور ناکارے غافل وخوابیدہ!
علم وکتاب
Https://telegram.me/ilmokitab
❤3
Audio
صور من حياة الصحابة- عتبة بن غزوان - بصوت المؤلف الدكتور عبد الرحمن رافت الباشا رحمه
علم و کتاب ٹیلگرام لائبریری (گروپ)
قارئین کی سہولت کے لئے علم وکتاب ٹیلگرام چینل اور واٹس اپ گروپ پر شائع ہونے سلسلوں کو موضوع وار تقسیم کی غرض سے علم وکتاب ٹیلگرام لائبریری کا کچھ عرصہ قبل آغاز کیا گیا تھا۔
لیکن غلطی سے یہ گروپ ڈیلیٹ ہوگیا، اب دوبارہ اسے ترتیب دیا گیا ہے۔ خواہش مند احباب مندرجہ ذیل لنک پر کلک کرکے اس سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔
https://telegram.me/ilmokitablibrary
صحافی اور مسلم مجلس کے رہنما پرویز پرواز بھی چل بسے
سہیل انجم
عمر قید کی سزا کاٹ رہے گورکھپور کے صحافی اور مسلم مجلس کے لیڈر پرویز پرواز کے انتقال کی خبر نے بہت سے دلوں کو ملول کر دیا۔ وہ کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے۔ ان کو جیل میں شوگر اور بلڈ پریشر سمیت کئی عارضے لاحق ہو گئے تھے۔ ہفتے کی شب میں ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ جیل انتظامیہ نے انھیں ضلع اسپتال میں داخل کرایا جہاں دیر رات ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ 72 برس کے تھے اور گزشتہ آٹھ برس سے جیل میں تھے۔ اس سے قبل جیل انتظامیہ نے ان کی آنکھوں کا آپریشن بھی کرایا تھا۔ وہ ترکمان پور گورکھپور کے باشندہ تھے۔ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ انھوں نے گورکھپور کے ہندی اخباروں میں بھی کام کیا تھا اور وہ خود اپنا بھی ایک اردو روزنامہ نکال رہے تھے۔ جس کا نام غالباً ’گورکھپور کا غازی‘ تھا۔
بستی اور گورکھپور اضلاع میں مسلم مجلس کی توسیع اور عوام میں اس کو مقبول بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ دہلی آنے سے قبل ان کی تحریک پر میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں مقامی طور پر سرگرم رہا۔ میں نے ان کے ساتھ کئی مقامات کے دورے بھی کیے تھے۔ وہ اکثر و بیشتر ہمارے گاوں آیا کرتے جہاں کئی لوگوں سے ان کے دوستانہ مراسم قائم ہو گئے تھے۔ انھوں نے ہمارے گاوں میں مسلم مجلس یوپی کے صدر اور رکن اسمبلی فضل الباری کے دورے کا پروگرام بنایا۔ اس وقت مجلس کا مقامی ذمہ دار میں تھا۔ دورے سے ایک روز قبل میں نے لاوڈ اسپیکر سے علاقے میں اعلان کرا دیا۔ فضل الباری جب پہنچے تو زبردست ہجوم تھا۔ انھوں نے بہت اچھی تقریر کی جس کا عوام پر خاصا اثر پڑا۔ اس موقع پر میں نے ان کا انٹرویو کیا جو بعد ازاں ہفت روزہ اخبار نو میں شائع ہوا تھا۔ دہلی آنے کے بعد ایک روز میں سینئر صحافی محفوظ الرحمن صاحب کے گھر بیٹھا ہوا تھا کہ فضل الباری آگئے۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا۔ میں نے محفوظ صاحب کو بتایا کہ میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں رہا ہوں۔ میں نے اپنے گاوں میں ان کے پروگرام اور انٹرویو کا بھی حوالہ دیا۔ اس پر فضل الباری نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم تو انھیں سیاست میں لانا چاہتے تھے مگر یہ صحافت میں آگئے۔ محفوظ صاحب مسکرا کر رہ گئے۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا پرویز پرواز ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ لیکن ان کو عشق اردو زبان سے تھا۔ اردو میں لکھنا پڑھنا ان کو زیادہ پسند تھا۔ وہ مسلم معاملات میں مقامی طور پر کافی سرگرم رہتے تھے۔ جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا کوئی معاملہ سامنے آتا وہ فوراً وہاں پہنچ جاتے اور مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے۔ انھیں صحافتی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور عوامی حلقوں میں بھی۔ وہ ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بذلہ سنجی بھی تھی۔ حاضر جواب بھی تھے۔ ملکی سیاست پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ کتابوں کے مطالعے کے بھی شوقین تھے۔ 1980 کے عشرے میں بازار میں آنے والی چھوٹی موٹر سائیکل ’وکی‘ سے چلتے تھے۔ جو پرانی بھی تھی اور خراب بھی ہو جایا کرتی تھی۔ اسی سے وہ مختلف علاقوں کے دورے کرتے اور مسلم معاملات کو سرکاری حکام کے سامنے اٹھاتے۔ ضلع انتظامیہ میں ان کے اچھے مراسم رہے ہیں۔ بالخصوص پولیس محکمہ کے بہت سے اہل کار ان سے نہ صرف واقف تھے بلکہ ان کی عوامی خدمات کی وجہ سے قدر بھی کرتے تھے۔ وہ ان سے اپنے ذاتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ہندو مسلم تنازعات کو حل کراتے۔
❤1
27 جنوری 2007 کو یوم عاشورہ کے جلوس کے موقع پر گورکھپور میں تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں ایک ہندو نوجوان ہلاک ہوا تھا۔ پرویز پرواز نے 26 ستمبر 2008 کو ”ہندو یوا واہنی“ کے لیڈر، گورکھ ناتھ مندر کے مہنت اور اس وقت کے گورکھپور سے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور یہ الزام لگایا کہ انھوں نے اشتعال انگیز تقریر کرکے اس ہندو نوجوان کی موت کا انتقام لینے کی دھمکی دی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک بار یوگی آدتیہ ناتھ پارلیمانی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے رو پڑے تھے۔ اس وقت سومناتھ چٹرجی لوک سبھا کے اسپیکر تھے۔ انھوں نے ہمدردانہ انداز میں پوچھا کہ یوگی جی بتائیے آپ کے ساتھ کیا ہوا، انصاف کیا جائے گا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف کیس قائم کیا گیا ہے اور پولیس ان کو دھمکیاں دے رہی ہے۔ ارکانِ ایوان نے پولیس کے رویے کی مذمت کی۔ یوگی آدتیہ ناتھ اسی کیس کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ اس وقت کے شہر کے مئیر ارون چودھری اور ایم ایل اے رادھا موہن اگروال وغیرہ کے خلاف تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس وقت ضلع مجسٹریٹ نے یوگی پر ہندو نوجوان کے گھر جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس حکم پر عمل کیا۔ لیکن جب اس نوجوان کی موت ہو گئی تو انھوں نے موقع واردات پر جا کر دھرنا دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت تشدد پھوٹ پڑا۔ پولیس نے کرفیو نافذ کر دیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کرفیو کی خلاف ورزی کی جس پر ان کو اور ہندو یووا واہنی کے کچھ کارکنوں کے ساتھ جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی گرفتاری پر ہندو یووا واہنی کے کارکن ناراض ہو گئے۔ ہنگامہ آرائی ہوئی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق گورکھپور ممبئی گودان ایکسپریس کے متعدد ڈبوں کو نقصان پہنچا۔
بہرحال جب ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو ریاستی اسمبلی نے تین مئی 2017 کو پرویز پرواز کے دائر کردہ کیس میں عدالتی کارروائی چلانے کی اجازت نہیں دی اور بعد میں تمام مقدمات خارج کر دیے گئے۔ پرویز پرواز نے اس فیصلے کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جسے 22 مئی 2018 کو خارج کر دیا گیا۔ انھوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ اس نے بھی اسے خارج کر دیا۔ انھیں بعد ازاں ستمبر 2018 میں ایک مبینہ اجتماعی عصمت دری کیس میں انھیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ پرویز پرواز نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔ لیکن عدالت نے ثبوتوں کی بنیاد پر جولائی 2020 میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی۔ عصمت دری کا الزام لگانے والی خاتون نے ان کے ساتھ ساتھ ایک اور شخص محمود عرف جمن بابا کو بھی مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ اس معاملے میں ضلع عدالت نے دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ جمن بابا کا پہلے ہی جیل میں انتقال ہو چکا تھا۔ اب جبکہ پرویز پرواز کا بھی انتقال ہو گیا تو اس کے ساتھ ہی گورکھپور کی ملی سیاست و صحافت کے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا۔ ان کا انتقال جہاں ان کے اہل خانہ کا ذاتی نقصان ہے وہیں ملی سیاست و صحافت کا بھی نقصان ہے۔
موبائل: 9818195929
❤2
*وفیات مورخہ:اکتوبر 13*
1240ء رضیہ سلطانہ۔ فرماں روا سلطنت دہلی
1897ء احمد بن خالد الناصری۔ عرب مورخ
1900ء امیر مینائی۔ شاعر، مصنفی امیر اللغات
1902ء نذیر حسین محدث دہلوی۔ شیخ الکل، شمس العلماء، میاں
1927ء خلیل احمد انبھیٹوی۔ حضرت مولانا ، مصنف بذل المجھود شرح سنن ابو داؤد
1932ء علی امام۔ سر، بہار کے مسل لیڈر
1938ء احسان اللہ شاہ ۔ پیر جھنڈا
1951ء محمد علی لاہوری۔ سربراہ لاہوری قادیانی جماعت، مترجم انگریزی قرآن
1975ء حمود الرحمن۔ جسٹس
1981ء جمیل احمد۔ خواجہ، اردو انگریزی مصنف ومورخ
1981ء خواجہ جمیل احمد۔ اردو انگریزی مصنف ومورخ
1982ء قاضی فیض محمد۔ کارکن تحریک خلافت
1997ء اظہر سہیل۔ ہاکستانی صحافی
1999ء انور ظہیر خان۔ ادیب
2000ء عبداللہ حسینی۔ ڈاکٹر ، سرجن
2009ء اخلاق حسین قاسمی دہلوی۔ مولانا ، سید
2014ء محمد ارشاد ماجردی۔
2021ء عبد الجبار شاکر۔ محقق، اقبال شناس
❤1
علم وکتاب ٹیلگرام لائبریری
احباب کی سہولت کے لئے ٹیلگرام پر علم و کتاب لائبریری کا اپڈیٹ جاری ہے۔ قند مکرر کے طور پر سابقہ پوسٹ شدی (32) خاکے اس پر پوسٹ ہوچکے ہیں۔
احباب سے گذارش ہے کہ وہ ہمارے اصل گروپ یا چینل چھوڑے بغیر اگر دلچسپی ہو تو اس لائبریری کو بھی جوئن کریں۔ واضح رہے کہ ٹیلگرام لائبریری پر منتخب چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں،
شکریہ
عبد المتین منیری
اڈمن
https://telegram.me/ilmokitablibrary
❤2
اخلاق احمد دہلوی کی آب بیتی یادوں کا سفر کی جملہ قسطیں علم و کتاب لائبریری پر پوسٹ کردی گئی ہیں۔ https://t.me/ilmokitablibrary/47
شعریات (ترجمہ بوطیقا).pdf
14.3 MB
بوطیقا ۔ شمس الرحمن فاروقی
مقدمۂ شعر وشاعری (جامعہ).pdf
31.4 MB
مقدمہ شعر وشاعری
بعض ممبران نے ہمیں میسیج بھیجا ہے کہ چینل کا مواد ڈون لوڈ کرنے میں دشواری ہورہی ہی اور انہیں یہ مسیج پہنچ رہا ہے۔ It blocks me to join. By saying that I do not have enough stars برائے مہربانی بتائیں کہ اس دشواری کا حل کیا ہے۔ تاکہ چینل کی منفعت عام ہو۔ عبد المتین منیری اڈمن
Mr Sid
سلسلہ نمبر: 319 انتخاب مطالعہ تحریر: مولانا راشد امین *سیلف سینسر شپ (Self-Censorship)، خوف کی نفسیات اور ”چلنگ ایفیکٹ “* مسلسل ریاستی و سماجی نگرانی اور اسلاموفوبیا کا ایک بہت بڑا،خاموش مگر تباہ کن نفسیاتی اور علمی اثر یہ ہوا ہے کہ مسلم نوجوانوں، طالب،…
سلسلہ نمبر: 320
انتخاب مطالعہ
تحریر: عشرت علی صؔدیقی

*گورِ امیر*

سمرقند کی ترقی اور اس کی شہرت کا سہرا بلاشبہ تؔیمور کے سر ہے، اس نے نہ جانے کتنے ملک تاراج کیے، کتنے بادشاہوں کو اپنا باج گزار بنایا،کتنے محلوں کو لوٹا اور کتنی بستیوں کو اجاڑ دیا ؛مگر جب اپنی راجدھانی کی تعمیر کا خیال آیا تو اس پر ساری دنیا کی دولت خرچ کردی اور سمرقند تجارت کا مرکز، تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور دنیا کی بہترین فن تعمیر کی نمائش گاہ بن گیا ۔
ٹوٹی ہوئی نالیوں گرد سے اٹی ہوئی سڑکوں، گنجان بازاروں، اور کچے مکانوں سے گزر کر جیسے ہی ہم ایک نیم کچی اور نیم پکی سڑک پر آئے ویسے ہی ہم کو سامنے ایک نیم نیلا،نیم پیلا گنبد دکھائی دیا، فاصلے پر سے ایسا معلوم ہوا جیسے آسمان کے نیلے پردے پر کسی مصور نے ایک رنگین مرقع بنا دیاہو، جیسے جیسے ہم قریب آتے گئے ویسے ویسے خاک،دھول کی زیادتی ہوتی گئی اور جگہ جگہ مکانوں کے کھنڈر نظر آنے لگے، ان کھنڈروں کے بیچ میں تؔیمور کا مقبرہ آثار قدیمہ کے ایک ہیرو کی شان سے کھڑا ہے ۔ اس کے چاروں طرف لگے ہوئے ببول کے درخت اور ان کی ہری پتیاں اور زرد پھول ایک قدرتی زیور کا کام کرتے ہیں ۔

ایک اجاڑ کھنڈر کے بعد ہم ایک بہت بڑی محراب سے مقبرے میں داخل ہوئے، یہ محراب نصف دائرے کی شکل کی ہے اور کسی ستون یا دیوار پر نہیں لگی ہے، بس ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ادھر اُدھر کی گھاس سے اُگ آئی ہے ۔ اس میں نیلے اور ہرے پتھر بڑے سلیقے سے جڑے ہیں اور ان پر ایسے نقش و نگار بنے ہیں کہ دیکھنے والے کو کہیں پر کوئی جوڑ نہیں نظر آتا ۔

یہاں سے قبر کی عمارت تک ایک پکی روش بنی ہے اور مقبرے کے اوپر نیلے پیلے رنگ کا قبہ ہے، سامنے کی دیواروں پر گہرے رنگ کا بہت عمدہ کام بنا ہے، مقبرے کا دروازہ تنگ ہے اور باہر کی طرف اس پر انگور کی ہری بیل چڑھی ہے،جس کی وجہ سے وہ کافی تاریک ہوگیا ہے، ایک بزرگ صورت پیر مرد ہری عبا اور پگری میں ملبوس کمال سنجیدگی سے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ان کے پاس ہی کچھ تصویریں اور طغرے رکھے تھے ۔
تیمور کی تربت سبز پتھر کی بنی ہے، یہ پتھر اتنا گہرا سبز ہے کہ سیاہی مائل معلوم ہوتا ہے ؛ مگر اس کے باوجود روشنی اس کے کناروں سے آر پار جاسکتی ہے ۔ اسی قسم کا(اگرچہ رنگ میں اس سے کسی قدر ہلکا) پتھر دیواروں میں بھی لگا ہے، یہ پتھر تؔیمور ہندوستان سے لے گیا تھا ۔ تربت کی دیوار کے چاروں طرف تیمور کا شجرہ خط کوفی میں لکھا ہوا ہے، تربت کے سرہانے چاندی کے لوبان دان میں لوبان سلگ رہا تھا!

(*لینن گراڈ تا سمر قند، صفحہ: ۱۱۵، طبع: عبد الحق اکیڈمی، اشاعت منزل، اردو گلی، حیدرآباد، دکن*)

✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
بیتی یادیں (03)
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی سابق مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی آب بیتی پر مشتمل مولوی عبد المتین منیری کو سنہ 2007ء میں دیا ہوا یاد گار انٹرویو
لنک
www.youtube.com/watch?v=XQmXgjFObZk
*وفیات مورخہ:اکتوبر 14*
1092ء نظام الدین طوسی۔ وزیر سلجوقی
1973ء راجا محمد امیر احمد خان۔ راجہ محمود آباد
1973ء محمد عامر احمد خان ۔
1980ء مفتی محمود۔ صدر جمعیت علمائے اسلام پاکستان
1988ء صبا متھراوی۔ شاعر
1999ء عطا کریم برق۔ ڈاکٹر ،
2004ء آفرین بیگ۔ ٹی وی پروڈیسر
2005ء محمد عثمان قاسمی بھاگل پوری۔ مولانا
2012ء طه أبو الليل۔ مصری داعی
2014ء محمد اسماعیل مدنی۔ مولانا
Abdul Mateen Muniri
بعض ممبران نے ہمیں میسیج بھیجا ہے کہ چینل کا مواد ڈون لوڈ کرنے میں دشواری ہورہی ہی اور انہیں یہ مسیج پہنچ رہا ہے۔ It blocks me to join. By saying that I do not have enough stars برائے مہربانی بتائیں کہ اس دشواری کا حل کیا ہے۔ تاکہ چینل کی منفعت عام ہو۔ عبد…
گروپ ممبر مولوی عبد الاحد ابو حسینا نے اہتمام سے ہمارے استفسار کا یہ جواب دیا ہے، ہم ان کے تہ دل سے شکر گذار ہیں۔ اڈمن علم وکتاب۔۔۔ السَـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

میں نے کئی ایک اکاؤنٹ سے دیکھ لیا مگر مجھے ایسی کوئی پریشانی نظر نہیں آئی، چینل/گروپ یا لائبریری وغیرہ سے جڑنا ہو یا پھر یہاں سے کوئی مواد ڈاؤنلوڈ کرنا ہو، مجھے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوا۔

تاہم اگر کسی ممبر نے آپ کو کوئی اسکرین شاٹ وغیرہ بھیجا ہو تو میں دیکھنا چاہوں گا تاکہ معاملہ اور آسانی سے سمجھ سکوں۔
اسی کے ساتھ اگر میں لائبریری و کمیونٹی کے اختیارات و ترتیبات پر نظر کروں تو شاید سمجھنے میں اور آسانی ہو۔

پرانی اور نئی لائبریری میں ایک فرق

اس نئی لائبریری میں ایک فرق مجھے یہ نظر آیا کہ یہاں پر صرف ایڈمن ہی پیغام بھیج سکتے ہیں، دیگر ممبران کو اس کی اجازت نہیں ہے، جب کہ پرانی لائبریری میں سبھی ممبران کو میسج کرنے کی اجازت تھی، لیکن اب ۱۰ stars کے ساتھ اجازت ہے۔

لائبریری کا عام ممبران کے لیے بند رہنا ہی صحیح معلوم ہوتا ہے کہ دیگر ممبران کو تمام مواد و سلسلے ترتيب وار حاصل ہوں، جہاں تک تبصروں وغیرہ کی بات ہے تو علم و کتاب گروپ بغیر کسی قید و بند کے ساتھ تمام ممبروں کے لیے کھلا ہے۔
❤6
*وفیات مورخہ:اکتوبر 15*
1240ء رضیہ سلطانہ۔ حکمران سلطنت دہلی
1605ء جلال الدین محمد اکبر۔ مغل شہنشاہ
1917ء ماتا ہری۔ ولندیزی جاسوس
1964ء احمد حسین کاظمی۔ مولانا ،
1967ء محبوب علی (میر)۔
1971ء ضیاء الحسن موسوی (سید)۔ ،
1971ء یٰسین میاں قادری چشتی (سید)۔ ،
1979ء عبدالقادر۔ وزیر خزانہ پاکستان
1991ء محمد عرفان صدیقی۔ شاعر
1994ء قمر امروہوی (مہتاب الرب فاروقی )۔ ،
1999ء فضل حق قریشی۔ افسانہ نگار، صحافی
2003ء ممتاز ہاشمی اشرفی (سید)۔ ،
2013ء نعیم میرٹھی (نعیم الرحمٰن)۔ ،
2013ء اشفاق حسین نعیمی۔ مصنف, مفتی
2022ء محمد عزیر شمس الحق۔ بھارتی عالم ومحقق
2023ء غلام نبی خیال۔ کشمیری شاعر
اردو مضامین میں شاعری کی اہمیت

(ناصرالدین مظاہری)

اردو میں مضامین و مقالات کی بے شمار اقسام ہیں ، کچھ ادبی تو کچھ فقہی، کچھ سوانحی تو کچھ تخیلاتی، کچھ علمی تو کچھ تحقیقی ، کچھ جذباتی تو کچھ مطالعاتی یعنی اردو نثر نثر نہیں مال سینٹر اور بازار ادبستان ہے ، اردو نثر محض الفاظ کی ترتیب، جملوں کی ساخت اور خیالات کی ترسیل کا نام نہیں؛ یہ احساسات کی ترجمانی، جذبات کی عکاسی، تخیل کی پرواز اور فکر کی رعنائی کا بھی ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ نثر جب شاعری سے ہم آغوش ہوتی ہے تو اس کے دامن میں معنویت کی وسعت، اسلوب کی دل آویزی، بیان کی چاشنی اور تاثیر کی وہ دولت جمع ہوجاتی ہے جو خشک سے خشک موضوع کو بھی دل نشیں بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے بڑے نثاروں اور نثر نگاروں نے اپنی تحریروں میں اشعار سے خوب کام لیا ہے اور اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے کبھی کسی شاعر کا سہارا لیا ہے، کبھی کسی شعر کو اپنے مضمون کا عنوان بنایا ہے اور کبھی کسی مصرعے کو اپنی پوری تحریر کا حاصل قرار دیا ہے۔

شاعری اردو نثر کے لیے محض آرائش و زیبائش کا سامان نہیں، بلکہ اظہار و ابلاغ کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے۔ بسا اوقات نثر نگار طویل عبارت لکھ کر بھی وہ بات نہیں کہہ پاتا جو ایک شعر کے دو مصرعے کہہ دیتے ہیں۔ شعر میں الفاظ کی کفایت، معانی کی وسعت اور جذبات کی شدت جمع ہوجاتی ہے۔ ایک اچھا شعر اپنے اندر ایک پورا مضمون سمیٹ سکتا ہے۔ وہ ایک واقعے کی ترجمانی، ایک عہد کی تصویر کشی، ایک کیفیت کی عکاسی اور ایک فکر کی توضیح کرسکتا ہے۔ نثر نگار جب ایسے شعر کو اپنی تحریر میں جگہ دیتا ہے تو گویا وہ اپنے مضمون کے لیے ایک ایسا آئینہ منتخب کرتا ہے جس میں اس کے خیالات زیادہ واضح اور اس کے احساسات زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔

شاعری نثر میں موسیقیت، روانی، دل کشی اور ادبی چاشنی پیدا کرتی ہے۔ ایک ہی بات کو سادہ نثر میں بیان کیا جائے تو ممکن ہے کہ وہ محض ایک اطلاع بن کر رہ جائے، لیکن اسی بات کے ساتھ کوئی موزوں شعر شامل ہوجائے تو وہ اطلاع احساس میں، خیال کیفیت میں اور عبارت تاثیر میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ شعر نثر کے بہاؤ میں کہیں ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے، کہیں جذبات کی شدت بڑھاتا ہے اور کہیں قاری کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی نثر میں اشعار کا برمحل استعمال تحریر کو بوجھل ہونے سے بچاتا اور اس کی دل آویزی میں اضافہ کرتا ہے۔

نامور انشا پردازوں نے شاعری سے ہمیشہ استفادہ کیا ہے۔ سرسید احمد خان کی نثر ہو، مولانا شبلی نعمانی کی تحریریں ہوں، مولانا ابوالکلام آزاد کا خطیبانہ اسلوب ہو، پطرس بخاری کی شگفتہ نگاری ہو یا شوکت تھانوی کی متانت ہو ، رشید احمد صدیقی کی ظرافت آمیز نثر، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی بصیرت افروز فکری نگارشات ہوں یا دیگر ارباب قلم کے علمی و قلمی گل و لالہ ہر جگہ شاعری اور شعری ذوق کی اہمیت کسی نہ کسی صورت میں محسوس کی جاسکتی ہے۔

بالخصوص مولانا ابوالکلام آزاد کے اسلوب میں آیات و اشعار، ادبی تلمیحات اور زبان کی موسیقیت نے نثر کو ایک غیر معمولی شان عطا کی ہے۔ ان کے یہاں نثر کبھی شعر کی طرح گنگناتی ہے، کبھی خطابت کی طرح گرجتی ہے اور کبھی کسی درد مند دل کی طرح دھیرے دھیرے اپنے احساسات بیان کرتی ہے۔

شاعری کا ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ وہ نثر میں تاریخی، تہذیبی اور ادبی حوالوں کی معنویت بڑھاتی ہے۔ میر، غالب، اقبال، اکبر الہ آبادی، حالی، ذوق، مومن اور دیگر شعراء کے اشعار محض ادبی سرمایہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیبی یادداشت کا حصہ ہیں۔ کسی مضمون میں ان کا برمحل استعمال قاری کے ذہن میں کئی دریچے کھول دیتا ہے۔ کبھی ایک شعر کسی تاریخی واقعے کی معنویت واضح کرتا ہے، کبھی کسی معاشرتی رویے پر تبصرہ بن جاتا ہے اور کبھی کسی انسانی تجربے کی ایسی ترجمانی کرتا ہے جسے نثر میں بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہوں۔

تاہم نثر میں شاعری کے استعمال کا بھی ایک سلیقہ ہے۔ ہر جگہ شعر ٹھونس دینا، محض اپنی شعری معلومات کا مظاہرہ کرنا یا مضمون سے غیر متعلق اشعار کی بھرمار کردینا تحریر کی خامی ہے۔ شعر اسی وقت نثر کا حسن بنتا ہے جب وہ مضمون کے مزاج سے ہم آہنگ ہو، خیال کی وضاحت کرے، جذبے کی شدت بڑھائے یا بات کو زیادہ مؤثر بنائے۔

آپ نے بنگلور میں دیکھا ہوگا کہ خواتین پھول کو اپنے بالوں میں سجاتی ہیں، ہمارے یہاں مکان کی آرائش میں پھولوں کا استعمال عام ہے یہی پھول بے موقع و بے محل استعمال کرکے دیکھیں دنیا پاگل کہے گی کیونکہ آپ نے وضع الشئی فی غیر محلہ کا گناہ کیا ہے۔ کس شعر کا انتخاب کا جگہ کرنا ہے یہ ایک فن ہے اور فن کے فن کار بہت مشکل سے نظر آتے ہیں۔بعض تو شعر پورا رکھ دیتے ہیں جب کہ اس کے کسی ایک مصرع سے ان کا کام پورا ہورہا ہے اور دوسرے مصرع کا فکر و علاقہ ہی دوسرا ہے۔
❤2