*اخلاق احمد دہلوی کےمضامین کے مجموعے اور بیان اپنا پر مشہور نقاد ڈاکٹر وقار عظیم کا فلیپ*
*یہ سلسلہ مضامین قسطوار علم وکتاب گروپ پر پیش کئے جارہے ہیں*
دلی کا محاورہ نئے زمانے کے سانچوں میں ڈھلتا ہے تو کتنا مؤثر اور دل نشین ہوتا ہے ۔ اور ۔ ادیب جب بے جھجک ہمارے سامنے آتا ہے تو اس میں کیا شان محبوبی پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ دونوں باتیں اخلاق احمد دہلوی نے اپنے مضامین کے مجموعے ”اور پھر بیان اپنا“ کے ذریعے غیر ارادی طور پر ادبی دنیا کو بتائی ہیں ۔
یہ مضامین مصنف کے مشاہدات ' تجربات و محسوسات کا بے لوث اور پرخلوص بیان ہیں ۔ اس نے اشخاص و اشیاء کے سر بستہ رازوں سے آشنا ہوکر اپنے بیگانے ہر ایک کو جی بھر کے ”رسوا“ کیا ہے ۔ اور ”رسوا کرنے“ کو ایک حسین اور لطیف فن بنایا ہے اس حسن لطافت ' نزاکت اور رعنائی سے دوسروں کو رسوا ہوتے دیکھ کر کون ہے جو رسوا ہونے کی آرزو نہ کرے ۔ اس رسوائی میں عجیب لذت اور عجیب کیفیت ہے ۔
یہ لذت اور یہ کیفیت دو باتوں نے پیدا کی ہے ــ شخصیت کے اس خلوص نے 'جس کی تشکیل جرأت ' بے باکی' سچائی اور محبت سے ہوتی ہے اور بیان کی اس بے تکلفی اور بے ساختگی نے جس میں لفظوں کی مزاج دانی اور مرتبہ شناسی کو بڑا دخل ہے ۔
اخلاق صاحب نے لفظوں کی انفرادی شخصیت ' مزاج اور ماحول کو پہچان کر ان کی بے شمار معنوی تہوں کو ابھارا اور بظاہر معمولی اور حقیر لفظوں اور محاوروں کو معزز ' اور محترم بنایا ہے ۔
موضوع اور بیان دونوں کے ساتھ محبت اور یگانگت کا وہ رشتہ قائم نہ کیا جائے جو اخلاق صاحب نے کیا ہے تو بات کبھی ایسی نہیں بنتی کہ وہ اپنے دل کی بات معلوم ہونے لگے ' ”اور پھر بیان اپنا“ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ہمارے دل کی بات ہے جو اس طرح کہی گئی ہے کہ ہم اسے اس طرح نہ کہہ سکتے ............................. وقار عظیم📝
*یہ سلسلہ مضامین قسطوار علم وکتاب گروپ پر پیش کئے جارہے ہیں*
دلی کا محاورہ نئے زمانے کے سانچوں میں ڈھلتا ہے تو کتنا مؤثر اور دل نشین ہوتا ہے ۔ اور ۔ ادیب جب بے جھجک ہمارے سامنے آتا ہے تو اس میں کیا شان محبوبی پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ دونوں باتیں اخلاق احمد دہلوی نے اپنے مضامین کے مجموعے ”اور پھر بیان اپنا“ کے ذریعے غیر ارادی طور پر ادبی دنیا کو بتائی ہیں ۔
یہ مضامین مصنف کے مشاہدات ' تجربات و محسوسات کا بے لوث اور پرخلوص بیان ہیں ۔ اس نے اشخاص و اشیاء کے سر بستہ رازوں سے آشنا ہوکر اپنے بیگانے ہر ایک کو جی بھر کے ”رسوا“ کیا ہے ۔ اور ”رسوا کرنے“ کو ایک حسین اور لطیف فن بنایا ہے اس حسن لطافت ' نزاکت اور رعنائی سے دوسروں کو رسوا ہوتے دیکھ کر کون ہے جو رسوا ہونے کی آرزو نہ کرے ۔ اس رسوائی میں عجیب لذت اور عجیب کیفیت ہے ۔
یہ لذت اور یہ کیفیت دو باتوں نے پیدا کی ہے ــ شخصیت کے اس خلوص نے 'جس کی تشکیل جرأت ' بے باکی' سچائی اور محبت سے ہوتی ہے اور بیان کی اس بے تکلفی اور بے ساختگی نے جس میں لفظوں کی مزاج دانی اور مرتبہ شناسی کو بڑا دخل ہے ۔
اخلاق صاحب نے لفظوں کی انفرادی شخصیت ' مزاج اور ماحول کو پہچان کر ان کی بے شمار معنوی تہوں کو ابھارا اور بظاہر معمولی اور حقیر لفظوں اور محاوروں کو معزز ' اور محترم بنایا ہے ۔
موضوع اور بیان دونوں کے ساتھ محبت اور یگانگت کا وہ رشتہ قائم نہ کیا جائے جو اخلاق صاحب نے کیا ہے تو بات کبھی ایسی نہیں بنتی کہ وہ اپنے دل کی بات معلوم ہونے لگے ' ”اور پھر بیان اپنا“ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ہمارے دل کی بات ہے جو اس طرح کہی گئی ہے کہ ہم اسے اس طرح نہ کہہ سکتے ............................. وقار عظیم📝
مولانا نعیم الرحمن صدیقی صاحب کے شیروانی نامہ سے آپ بھی محظوظ ہوں
*شیروانی نامہ*
*نعیم الرحمن صدیقی*
انسان اشرف المخلوقات ہے اور شیروانی اشرف الملبوسات ہے!
شیروانی صرف ایک لباس ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب و تمدن ہے۔
شیروانی اپنے پہنے والے کو وقار، اعتبار، وجاہت، کشش اور انفرادیت عطا کرتی ہے۔
شیروانی ہمارے معاشرتی ارتقا اور لباس کی جدت طرازی کا خوش گوار نتیجہ ہے۔
شیروانی وطن عزیز کی قدیم گنگا جمنی تہذیب، مشترک ثقافت، بوقلموں تمدن اور ساجھی وراثت کی حسین علامت ہے۔
شیروانی ہماری تہذیبی روایات اور ثقافتی اقدار کی آئینہ دار ہے۔
آپ کون ہیں؟ یہ آپ بتائیں گے۔ آپ کیا ہیں؟ یہ آپ کی پوشاک بتائے گی۔
شیروانی ماضی کی داستان بھی ہے اور مستقبل کا بوستان بھی۔ یہ ثقافت کا گلستان بھی ہے اور وراثت کا چمنستان بھی۔ اس میں تاریخ کی جلوہ آرائی بھی ہے اور تہذیب کی ناز آفرینی بھی۔ اس میں بلندی اخلاق بھی ہے اور مضبوطی کردار بھی۔ اس میں پاکیزگی اطوار بھی ہے اور شایستگی عادات بھی۔ اس میں محبت کی فراوانی بھی ہے اور اخوت کی روانی بھی۔ اس میں رحمت کے جلوے بھی ہیں اور شفقت کے نمونے بھی۔ اس میں شخصیت کا وقار بھی ہے اور منصب کا اعتبار بھی۔ اس میں پختگی اقدار بھی ہے اور بالیدگی افکار بھی۔ اس میں پہناوے کی شوکت بھی ہے اور پوشاک کا جلال بھی۔ اس میں صورت کا جمال بھی ہے اور سیرت کا کمال بھی۔ اس میں رشتے کا لگاؤ بھی ہے اور تعلقات کا بہاؤ بھی۔ اس کے دامن میں مروت کا پھیلاؤ بھی ہے اور سلیقہ مندی کا برتاؤ بھی۔ اس میں اخلاق کا رچاؤ بھی ہے اور معاشرت کا سبھاؤ بھی۔ اس میں آداب محفل بھی ہیں اور وضع داری کے رنگ بھی۔ اس میں حسن کی دل آویزی بھی ہے اور خیال کی رعنائی بھی۔ اس میں طبیعت کی شرافت بھی ہے اور مزاج کی لطافت بھی۔
شیروانی:
شناخت ہے اہل علم کی۔
علامت ہے اہل دانش کی۔
نشانی ہے اہل ادب کی۔
شعار ہے دشت جنوں کے دیوانوں کا۔
افتخار ہے بزم وفا کے پروانوں کا۔
اعزاز ہے شہر طرب کے رومانوں کا۔
لفظ شیروانی۔۔ ایک تہذیبی تشریح:
ش ۔۔۔ شایستگی کی پوشاک ہے۔
ی ۔۔۔ یقین ، شرافت طبع کا ہے۔
ر ۔۔۔ رعب دار شخصیت کی جھلک ہے۔
و ۔۔۔ وضع داری کی نشانی ہے۔
ا ۔۔۔ انسان دوستی کا پہناوا ہے۔
ن ۔۔۔ نفاست مزاجی کی علامت ہے۔
ی ۔۔۔ یاد ماضی کی باز آفرینی ہے۔
شیروانی کے لیے یہ فخر کافی ہے کہ وہ اسی ارض گنگ و جمن کی پیداوار ہے۔ اسی رشک جناں ملک میں اس کی آرایش و زیبائش ہوئی۔ اسی سرزمین کے باشندوں نے اس کو عزت بخشی۔ وطن عزیز میں شیروانی کی تاریخ کم و بیش ڈھائی سو برس پر محیط ہے۔ ابتدائی دور میں حکم راں طبقے کے افراد اس کو الگ لباس کے طور پر پہنتے تھے۔ رفتہ رفتہ اہل علم و دانش اور معاشرے کے دیگر طبقات نے بھی اس کو اپنا لیا۔ اس طرح اس کے دائرہ مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ تعلیمی اداروں اور دانش گاہوں نے اس کی سر پرستی کی ۔ شادی بیاہ کی محفلوں، جلسوں اور کانفرنسوں میں اس کا چلن عام ہوا۔ پڑوسی ممالک نے بھی اس خوب صورت پوشاک کی خاطر خواہ پزیرائی کی۔
وطن عزیز میں آسام سے لے کر گجرات تک اور کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک شیروانی کو ایک سنجیدہ، مقبول اور پسندیدہ لباس کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔ دہلی، حیدرآباد، لکھنؤ اور علی گڑھ کے ماہرین فن نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے کام لے کر اس کی جاذبیت، انفرادیت اور افادیت کو مزید نکھارا اور سنوارا۔
شیروانی اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی
شیروانی کا نام آتے ہی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے مخلص بانی سرسید احمد خاں کی بارعب تصویر ترکی ٹوپی اور شیروانی میں ملبوس نظروں کے سامنے آجاتی ہے۔ سید والا گہر غالباً وہ پہلے قائد ہیں جنہوں نے آج سے ڈیڑھ صدی قبل مسلمانوں کے لیے ایک قومی لباس کا تخیل پیش کیا تھا۔ اس سلسلے میں خواجہ الطاف حسین حالی سرسید کے حالات و خدمات پر مشتمل اپنی کتاب ”حیات جاوید“ میں رقم طراز ہیں:
> ”سرسید کو ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان بھی اور قوموں کی طرح اپنے لباس میں کوئی خصوصیت اور ما بہ الامتیاز پیدا کریں۔“ (ص ۳۱۳)
سرسید نے ۱۸۶۹ء میں انگلستان کے سفر میں سرخ ترکی ٹوپی اور گہرے رنگ کی شیروانی کو اپنا لباس منتخب کیا تھا۔ اس کے بعد سیاہ شیروانی اور علی گڑھ کٹ پاجامہ ان کی عظیم دانش گاہ کے طلبہ کا یونی فارم قرار پایا۔ رفتہ رفتہ شیروانی اہل علم و دانش کی زیب، ثقافت، علامت اور شناخت بن گئی.
شیروانی اور شیروانی گڑھ یعنی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں میں ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے۔ اس نے شیروانی پوشی کی روایت کو استحکام بخشا۔ مسلم یونی ورسٹی جس طرح امت کی نسل نو کی معیاری تعلیم و تربیت کا عظیم الشان مرکز ہے، ٹھیک اسی طرح وہ مسلم تہذیب و ثقافت کا حسین مخزن ہے۔ اس کے اساتذہ کرام، طلبائے عزیز، کارکنان اور دیگر وابستگان گلستان سرسید جس طرح شیروانی کو برتتے ہیں وہ ان کا منفرد انداز ہے۔ وہ تہذیب کے اس مے خانے کی درخشاں روایات اور روشن اقدار کی اشاعت و حفاظت کر رہے ہیں۔
*نعیم الرحمن صدیقی*
انسان اشرف المخلوقات ہے اور شیروانی اشرف الملبوسات ہے!
شیروانی صرف ایک لباس ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب و تمدن ہے۔
شیروانی اپنے پہنے والے کو وقار، اعتبار، وجاہت، کشش اور انفرادیت عطا کرتی ہے۔
شیروانی ہمارے معاشرتی ارتقا اور لباس کی جدت طرازی کا خوش گوار نتیجہ ہے۔
شیروانی وطن عزیز کی قدیم گنگا جمنی تہذیب، مشترک ثقافت، بوقلموں تمدن اور ساجھی وراثت کی حسین علامت ہے۔
شیروانی ہماری تہذیبی روایات اور ثقافتی اقدار کی آئینہ دار ہے۔
آپ کون ہیں؟ یہ آپ بتائیں گے۔ آپ کیا ہیں؟ یہ آپ کی پوشاک بتائے گی۔
شیروانی ماضی کی داستان بھی ہے اور مستقبل کا بوستان بھی۔ یہ ثقافت کا گلستان بھی ہے اور وراثت کا چمنستان بھی۔ اس میں تاریخ کی جلوہ آرائی بھی ہے اور تہذیب کی ناز آفرینی بھی۔ اس میں بلندی اخلاق بھی ہے اور مضبوطی کردار بھی۔ اس میں پاکیزگی اطوار بھی ہے اور شایستگی عادات بھی۔ اس میں محبت کی فراوانی بھی ہے اور اخوت کی روانی بھی۔ اس میں رحمت کے جلوے بھی ہیں اور شفقت کے نمونے بھی۔ اس میں شخصیت کا وقار بھی ہے اور منصب کا اعتبار بھی۔ اس میں پختگی اقدار بھی ہے اور بالیدگی افکار بھی۔ اس میں پہناوے کی شوکت بھی ہے اور پوشاک کا جلال بھی۔ اس میں صورت کا جمال بھی ہے اور سیرت کا کمال بھی۔ اس میں رشتے کا لگاؤ بھی ہے اور تعلقات کا بہاؤ بھی۔ اس کے دامن میں مروت کا پھیلاؤ بھی ہے اور سلیقہ مندی کا برتاؤ بھی۔ اس میں اخلاق کا رچاؤ بھی ہے اور معاشرت کا سبھاؤ بھی۔ اس میں آداب محفل بھی ہیں اور وضع داری کے رنگ بھی۔ اس میں حسن کی دل آویزی بھی ہے اور خیال کی رعنائی بھی۔ اس میں طبیعت کی شرافت بھی ہے اور مزاج کی لطافت بھی۔
شیروانی:
شناخت ہے اہل علم کی۔
علامت ہے اہل دانش کی۔
نشانی ہے اہل ادب کی۔
شعار ہے دشت جنوں کے دیوانوں کا۔
افتخار ہے بزم وفا کے پروانوں کا۔
اعزاز ہے شہر طرب کے رومانوں کا۔
لفظ شیروانی۔۔ ایک تہذیبی تشریح:
ش ۔۔۔ شایستگی کی پوشاک ہے۔
ی ۔۔۔ یقین ، شرافت طبع کا ہے۔
ر ۔۔۔ رعب دار شخصیت کی جھلک ہے۔
و ۔۔۔ وضع داری کی نشانی ہے۔
ا ۔۔۔ انسان دوستی کا پہناوا ہے۔
ن ۔۔۔ نفاست مزاجی کی علامت ہے۔
ی ۔۔۔ یاد ماضی کی باز آفرینی ہے۔
شیروانی کے لیے یہ فخر کافی ہے کہ وہ اسی ارض گنگ و جمن کی پیداوار ہے۔ اسی رشک جناں ملک میں اس کی آرایش و زیبائش ہوئی۔ اسی سرزمین کے باشندوں نے اس کو عزت بخشی۔ وطن عزیز میں شیروانی کی تاریخ کم و بیش ڈھائی سو برس پر محیط ہے۔ ابتدائی دور میں حکم راں طبقے کے افراد اس کو الگ لباس کے طور پر پہنتے تھے۔ رفتہ رفتہ اہل علم و دانش اور معاشرے کے دیگر طبقات نے بھی اس کو اپنا لیا۔ اس طرح اس کے دائرہ مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ تعلیمی اداروں اور دانش گاہوں نے اس کی سر پرستی کی ۔ شادی بیاہ کی محفلوں، جلسوں اور کانفرنسوں میں اس کا چلن عام ہوا۔ پڑوسی ممالک نے بھی اس خوب صورت پوشاک کی خاطر خواہ پزیرائی کی۔
وطن عزیز میں آسام سے لے کر گجرات تک اور کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک شیروانی کو ایک سنجیدہ، مقبول اور پسندیدہ لباس کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔ دہلی، حیدرآباد، لکھنؤ اور علی گڑھ کے ماہرین فن نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے کام لے کر اس کی جاذبیت، انفرادیت اور افادیت کو مزید نکھارا اور سنوارا۔
شیروانی اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی
شیروانی کا نام آتے ہی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے مخلص بانی سرسید احمد خاں کی بارعب تصویر ترکی ٹوپی اور شیروانی میں ملبوس نظروں کے سامنے آجاتی ہے۔ سید والا گہر غالباً وہ پہلے قائد ہیں جنہوں نے آج سے ڈیڑھ صدی قبل مسلمانوں کے لیے ایک قومی لباس کا تخیل پیش کیا تھا۔ اس سلسلے میں خواجہ الطاف حسین حالی سرسید کے حالات و خدمات پر مشتمل اپنی کتاب ”حیات جاوید“ میں رقم طراز ہیں:
> ”سرسید کو ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان بھی اور قوموں کی طرح اپنے لباس میں کوئی خصوصیت اور ما بہ الامتیاز پیدا کریں۔“ (ص ۳۱۳)
سرسید نے ۱۸۶۹ء میں انگلستان کے سفر میں سرخ ترکی ٹوپی اور گہرے رنگ کی شیروانی کو اپنا لباس منتخب کیا تھا۔ اس کے بعد سیاہ شیروانی اور علی گڑھ کٹ پاجامہ ان کی عظیم دانش گاہ کے طلبہ کا یونی فارم قرار پایا۔ رفتہ رفتہ شیروانی اہل علم و دانش کی زیب، ثقافت، علامت اور شناخت بن گئی.
شیروانی اور شیروانی گڑھ یعنی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں میں ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے۔ اس نے شیروانی پوشی کی روایت کو استحکام بخشا۔ مسلم یونی ورسٹی جس طرح امت کی نسل نو کی معیاری تعلیم و تربیت کا عظیم الشان مرکز ہے، ٹھیک اسی طرح وہ مسلم تہذیب و ثقافت کا حسین مخزن ہے۔ اس کے اساتذہ کرام، طلبائے عزیز، کارکنان اور دیگر وابستگان گلستان سرسید جس طرح شیروانی کو برتتے ہیں وہ ان کا منفرد انداز ہے۔ وہ تہذیب کے اس مے خانے کی درخشاں روایات اور روشن اقدار کی اشاعت و حفاظت کر رہے ہیں۔
❤1
شیروانی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ہمارے ملک کے صدور، وزرائے اعظم، گورنر حضرات، وزرائے اعلیٰ، اہم شخصیات اور دیگر معزز افراد اس کو قومی تہواروں، خصوصی محفلوں اور تقریبات میں بڑے اہتمام کے ساتھ زیب تن کرتے ہیں۔ اس سے ان محفلوں کا وقار اور حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔
وطن عزیز کے اولین صدر جمہوریہ بابو راجندر پرساد شیروانی پہنتے تھے۔ پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو شیروانی پوش تھے۔ وہ اپنی شیروانی کی نفاست، رعنائی اور زیبائی میں اضافہ کے لیے بائیں طرف گلے کے پاس گلاب کی کلی لگاتے تھے۔ پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد پابندی سے شیروانی زیب تن کرتے تھے۔
پنڈت نہرو کی پہلی کابینہ کی ایک تصویر جو انٹرنیٹ پر موجود ہے اس میں بابو راجندر پرساد، پنڈت نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، رفیع احمد قدوائی اور دیگر حضرات شیروانی میں ملبوس نظر آرہے ہیں۔
راقم نے شہر تہذیب و تمدن، مرکز وراثت و ثقافت لکھنؤ میں اس خوش وضع پوشاک کی جلوہ آرائی خوب دیکھی ہے۔ خاندانوں میں جب شادی بیاہ کے مواقع آتے ہیں تو نکاح کے لیے جس طرح عروس کے لیے غرارہ تیار کیا جاتا ہے، اسی طرح نوشہ کے لیے خوب صورت شیروانی کا ہونا بھی فرائض و واجبات شادی مانا جاتا ہے۔ اس وقت نوشہ کے اہل خاندان اور احباب کی دل چسپی قابل دید ہوتی ہے۔ وہ اس اہم موقع پر اپنے لیے شیروانی کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔
راقم نے شہر نگاراں میں جن حضرات کو شیروانی کا اہتمام کرتے دیکھا، ان میں:
شیخ محمود الرحمن صدیقی، شیخ محفوظ الرحمن صدیقی، شیخ محمد قدیر الزماں، ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی، شیخ حمید الزماں، شیخ وحید الزماں، ڈاکٹر ابرار احمد قاسمی، حکیم عبدالقوی دریا آبادی، حبیب احمد قدوائی، ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی، عبد العلیم قدوائی، پروفیسر عبدالرحیم قدوائی، مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی، مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی، مولانا ابوالطیب احمد میاں فرنگی محلی، مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی، مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی، مولانا طارق رشید فرنگی محلی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، پروفیسر رضوان علوی، پروفیسر محمد یونس نگرامی ندوی، ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی، ڈاکٹر محمد اشتیاق حسین قریشی اور ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی قابل ذکر ہیں۔
اپنی گونا گوں خصوصیات سے آراستہ یہ پوشاک آج بھی محفلوں کی جان اور شان سمجھی جاتی ہے۔ شیروانی پوش حضرات کو معاشرے میں شایستہ، معزز، مہذب اور وضع دار سمجھا جاتا ہے۔
وطن عزیز کے اولین صدر جمہوریہ بابو راجندر پرساد شیروانی پہنتے تھے۔ پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو شیروانی پوش تھے۔ وہ اپنی شیروانی کی نفاست، رعنائی اور زیبائی میں اضافہ کے لیے بائیں طرف گلے کے پاس گلاب کی کلی لگاتے تھے۔ پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد پابندی سے شیروانی زیب تن کرتے تھے۔
پنڈت نہرو کی پہلی کابینہ کی ایک تصویر جو انٹرنیٹ پر موجود ہے اس میں بابو راجندر پرساد، پنڈت نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، رفیع احمد قدوائی اور دیگر حضرات شیروانی میں ملبوس نظر آرہے ہیں۔
راقم نے شہر تہذیب و تمدن، مرکز وراثت و ثقافت لکھنؤ میں اس خوش وضع پوشاک کی جلوہ آرائی خوب دیکھی ہے۔ خاندانوں میں جب شادی بیاہ کے مواقع آتے ہیں تو نکاح کے لیے جس طرح عروس کے لیے غرارہ تیار کیا جاتا ہے، اسی طرح نوشہ کے لیے خوب صورت شیروانی کا ہونا بھی فرائض و واجبات شادی مانا جاتا ہے۔ اس وقت نوشہ کے اہل خاندان اور احباب کی دل چسپی قابل دید ہوتی ہے۔ وہ اس اہم موقع پر اپنے لیے شیروانی کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔
راقم نے شہر نگاراں میں جن حضرات کو شیروانی کا اہتمام کرتے دیکھا، ان میں:
شیخ محمود الرحمن صدیقی، شیخ محفوظ الرحمن صدیقی، شیخ محمد قدیر الزماں، ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی، شیخ حمید الزماں، شیخ وحید الزماں، ڈاکٹر ابرار احمد قاسمی، حکیم عبدالقوی دریا آبادی، حبیب احمد قدوائی، ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی، عبد العلیم قدوائی، پروفیسر عبدالرحیم قدوائی، مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی، مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی، مولانا ابوالطیب احمد میاں فرنگی محلی، مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی، مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی، مولانا طارق رشید فرنگی محلی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، پروفیسر رضوان علوی، پروفیسر محمد یونس نگرامی ندوی، ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی، ڈاکٹر محمد اشتیاق حسین قریشی اور ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی قابل ذکر ہیں۔
اپنی گونا گوں خصوصیات سے آراستہ یہ پوشاک آج بھی محفلوں کی جان اور شان سمجھی جاتی ہے۔ شیروانی پوش حضرات کو معاشرے میں شایستہ، معزز، مہذب اور وضع دار سمجھا جاتا ہے۔
(بڑوں کی وسعت ظرفی)
https://t.me/ilmokitab
حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۴۶ء میں جب بذل المجہود کی اختتام کے بعد مدینہ منورہ سے واپس ہوئے تو حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو شیخ الحدیث اور مشیر ناظم بنا کر بھیجا۔ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ حالانکہ حضرت شیخ الحدیث صاحب کے استاد تھے ۔ لیکن انہوں نے بڑی بشاشت کے ساتھ حضرت اقدس سہارنپوری قدس سرہ کے حکم کو قبول فرمایا اور ہمیشہ اخیر دم تک حضرت شیخ الحدیث صاحب سے مشورہ لیتے رہے۔ اور نہ صرف مشورے لیے بلکہ جب کبھی کوئی مشکل پیش آئی یا کسی معاملہ میں اپنے آپ کو بچانا چاہا تو مسئلہ کو حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ علیہ کے حوالے فرما دیتے وہ جیسے فرمائیں ویسے ہی ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوتا تھا۔
اسی لیے بعض حاسدین یوں کہتے تھے کہ ناظم تو مولوی زکریا صاحب ہیں مولانا عبد اللطیف صاحب تو گویا کچھ بھی نہیں۔
حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمہ اللہ علیہ حضرت شیخ کے احترام و اکرام میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے تقریباً روزانہ ہی عصر کے بعد کچے گھر میں حضرت شیخ الحدیث صاحب کے گھر جاتے اور ملاقات فرماتے اور گھنٹہ آدھ گھنٹہ تشریف فرما ہوتے تھے۔ اس الفت و محبت کے روابط بے تکلفی کی صورت میں ہر خاص و عام پر عیاں تھے اور اسی بے تکلفی کی بنیاد پر حضرت شیخ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو بیعت کی اجازت بھی دے دی۔
جس کا واقعہ یوں ہے کہ جب دوسری مرتبہ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رنگون جانے لگے تو کسی نے کہا کہ وہاں لوگ بیعت کے لیے رجوع کریں گے۔ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے تو کسی سے خلافت و اجازت نہیں! حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ علیہ نے بے تکلف فرما دیا کہ آپ ہیں تو میرے استاذ اور آپ کو اجازت دینا بے ادبی بھی ہے؛ تاہم میں آپ کو بیعت کی اجازت دیتا ہوں۔
چنانچہ آپ نے اجازت قبول فرمائی اور رنگون میں آپ کے ذریعہ سلسلہ چشتیہ امدادیہ خلیلیہ کا فیض جاری ہوا۔
حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب مدینہ طیبہ سے ۱۳۴۶ء میں واپس ہوئے اور آپ کو شیخ الحدیث مقرر کر دیا گیا تو اس موقعہ پر صحیح بخاری شریف پڑھانے کا مسئلہ سامنے آیا۔ حضرت سہارنپوری (مولانا خلیل احمد سہارنپوری) رحمۃ اللہ علیہ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد سے اب تک حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمتہ اللہ علیہ پوری بخاری شریف پڑھاتے تھے اور حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے استاد بھی تھے اگر پوری بخاری شریف حضرت شیخ الحدیث صاحب کو دی جاتی تو حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے دل گیر ہونے کا قوی امکان رحمہ اللہ کے کا تھا۔ لہذا حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے خود ہی یہ تجویز فرمایا کہ کہ سہ ماہی تک حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ بخاری شریف جلد اول پڑھایا کریں۔ پھر سہ ماہی کے بعد سے وہ جلد ثانی شروع کروا دیں اور مکمل جلد ثانی پڑھائیں۔ اور حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ بخاری شریف کی جلد اول وہاں سے پڑھائیں گے جہاں تک حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھا کر پہنچائی ہو۔ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات تک اسی طرح بخاری شریف کا سبق ہوتا رہا۔ پھر ۱۳۷۴ء سے لیکر ۱۳۸۸ھ تک مکمل صحیح بخاری شریف حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ علیہ کے یہاں ہی ہوتی رہی، رحمہم اللہ تعالیٰ رحمة واسعة۔
ماخذ: سوانح عمری جامعِ شریعت و طریقت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی، جلد اول۔ مصنفہ: مولانا محمد عاشق الہٰی بلند شہری۔ ناشر: معہد الخلیل الاسلامی، بہادرآباد، کراچی۔ 1996ء، ص: 247–249۔
https://t.me/ilmokitab
حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۴۶ء میں جب بذل المجہود کی اختتام کے بعد مدینہ منورہ سے واپس ہوئے تو حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو شیخ الحدیث اور مشیر ناظم بنا کر بھیجا۔ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ حالانکہ حضرت شیخ الحدیث صاحب کے استاد تھے ۔ لیکن انہوں نے بڑی بشاشت کے ساتھ حضرت اقدس سہارنپوری قدس سرہ کے حکم کو قبول فرمایا اور ہمیشہ اخیر دم تک حضرت شیخ الحدیث صاحب سے مشورہ لیتے رہے۔ اور نہ صرف مشورے لیے بلکہ جب کبھی کوئی مشکل پیش آئی یا کسی معاملہ میں اپنے آپ کو بچانا چاہا تو مسئلہ کو حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ علیہ کے حوالے فرما دیتے وہ جیسے فرمائیں ویسے ہی ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوتا تھا۔
اسی لیے بعض حاسدین یوں کہتے تھے کہ ناظم تو مولوی زکریا صاحب ہیں مولانا عبد اللطیف صاحب تو گویا کچھ بھی نہیں۔
حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمہ اللہ علیہ حضرت شیخ کے احترام و اکرام میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے تقریباً روزانہ ہی عصر کے بعد کچے گھر میں حضرت شیخ الحدیث صاحب کے گھر جاتے اور ملاقات فرماتے اور گھنٹہ آدھ گھنٹہ تشریف فرما ہوتے تھے۔ اس الفت و محبت کے روابط بے تکلفی کی صورت میں ہر خاص و عام پر عیاں تھے اور اسی بے تکلفی کی بنیاد پر حضرت شیخ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو بیعت کی اجازت بھی دے دی۔
جس کا واقعہ یوں ہے کہ جب دوسری مرتبہ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رنگون جانے لگے تو کسی نے کہا کہ وہاں لوگ بیعت کے لیے رجوع کریں گے۔ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے تو کسی سے خلافت و اجازت نہیں! حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ علیہ نے بے تکلف فرما دیا کہ آپ ہیں تو میرے استاذ اور آپ کو اجازت دینا بے ادبی بھی ہے؛ تاہم میں آپ کو بیعت کی اجازت دیتا ہوں۔
چنانچہ آپ نے اجازت قبول فرمائی اور رنگون میں آپ کے ذریعہ سلسلہ چشتیہ امدادیہ خلیلیہ کا فیض جاری ہوا۔
حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب مدینہ طیبہ سے ۱۳۴۶ء میں واپس ہوئے اور آپ کو شیخ الحدیث مقرر کر دیا گیا تو اس موقعہ پر صحیح بخاری شریف پڑھانے کا مسئلہ سامنے آیا۔ حضرت سہارنپوری (مولانا خلیل احمد سہارنپوری) رحمۃ اللہ علیہ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد سے اب تک حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمتہ اللہ علیہ پوری بخاری شریف پڑھاتے تھے اور حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے استاد بھی تھے اگر پوری بخاری شریف حضرت شیخ الحدیث صاحب کو دی جاتی تو حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے دل گیر ہونے کا قوی امکان رحمہ اللہ کے کا تھا۔ لہذا حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے خود ہی یہ تجویز فرمایا کہ کہ سہ ماہی تک حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ بخاری شریف جلد اول پڑھایا کریں۔ پھر سہ ماہی کے بعد سے وہ جلد ثانی شروع کروا دیں اور مکمل جلد ثانی پڑھائیں۔ اور حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ بخاری شریف کی جلد اول وہاں سے پڑھائیں گے جہاں تک حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھا کر پہنچائی ہو۔ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات تک اسی طرح بخاری شریف کا سبق ہوتا رہا۔ پھر ۱۳۷۴ء سے لیکر ۱۳۸۸ھ تک مکمل صحیح بخاری شریف حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ علیہ کے یہاں ہی ہوتی رہی، رحمہم اللہ تعالیٰ رحمة واسعة۔
ماخذ: سوانح عمری جامعِ شریعت و طریقت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی، جلد اول۔ مصنفہ: مولانا محمد عاشق الہٰی بلند شہری۔ ناشر: معہد الخلیل الاسلامی، بہادرآباد، کراچی۔ 1996ء، ص: 247–249۔
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤4
*غلطی ہائے مضامین*
*قوم جس کا حافظہ کھویا گیا*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
آج سے چھے، ساڑھے چھے برس پہلے کا قصہ ہے۔ ۲۰۲۰ء کے اوائل میں ملک کے ایک مؤقر نصاب ساز ادارے سے دعوت ملی:
”چند دنوں کے لیے کراچی چلے آئیے اور ہمارے شہر کے تعلیمی اداروں میں اُردو پڑھانے والے اساتذہ کو اُردو پڑھائیے“۔
ہم حیران رہ گئے: ”صاحب! آپ نے عجیب فرمائش کی: ساحلِ سمندر پر چلے آئیے اور مچھلی کے جائے کو تیرنا سکھائیے“۔
زور دار قہقہہ لگایا اورفرمایا: ”حضور! پچھلے دو تین عشروں میں ’نیٹی جیٹی‘ کے پُلوں تلے خاصاپانی گزر چکا ہے۔ اس پانی کی روانی میں املا، تلفظ، قواعد و انشا سب بَہ گئے“۔
”سب بَہ گئے؟تعجب ہے! مگر یہ کیا؟ انگریزوں کے رکھے ہوئے نام "Native Jetty"(یعنی ولایتی نہیں ’ دیسی گودی‘)کا تلفظ آپ نے ’نیٹی جیٹی‘ کر کر آج تک محفوظ رکھا ہے۔آخر یہ کیوں نہیں بہا؟ بقول علامہ تاجورؔ نجیب آبادی:
نہ میں بدلا، نہ وہ بدلے، نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیوں کر اعتبارِ انقلابِ آسماں کر لوں ؟
اچھا خیر، یہ فرمائیے کہ تیرنا سکھانے کو اب تک آپ کتنے ’مچھلی کے جائے‘ پکڑ کر لائے ؟“
جواب ملا: ”اب تک مختلف تعلیمی اداروں میں اُردو پڑھانے والے پچیس اساتذہ نے اپنے ناموں کا اندراج کروا لیا ہے“۔
مشورہ دیا : ”مزید اندراج نہ کروائیے۔ اتنی تعداد کافی ہے۔اب باقی تفصیلات بھی ارسال کر دیجے“۔
’برنامہ‘ موصول ہوا تو اُس کا ’سَرنامہ‘ (یعنی عنوان) لفظ 'Programme' سے مزین تھااور نیچے جلی حروف میں "Three days' Urdu Workshop"کی سرخی جمائی گئی تھی۔تین صفحات پر تین دنوں کی تفصیلات درج تھیں ۔فوراً رابطہ کرنا پڑا:
”سرکار! اُردو پڑھانے والے خاک اُردو پڑھیں گے؟ آپ تو آغاز ہی انگریزی پڑھانے سے کر رہے ہیں ۔ اگر چہ انگریزی لفظ ’پروگرام‘ اب اُردو زبان کا حصہ ہے اور اس کی جمع بھی اُردو قاعدے کے مطابق مختلف ’پروگراموں ‘میں سننے کو مل جاتی ہے۔لیکن اُردو پڑھانے والوں کواگر آپ اُردو سکھانا چاہتے ہیں تو انھیں اُردو متبادل بھی بتائیے۔ اُردو میں پروگرام کے لیے لائحۂ عمل،دستورِ کار دستورالعمل اور بَرنامہ جیسے الفاظ استعمال ہوتے رہے ہیں ، گو کہ اب متروک ہوئے جاتے ہیں ۔ پھر بھی اقبالؔ کا کہا مان لیجے کہ: انھیں زندہ کر دوبارہ“
کہنے لگے: ”اب آپ یقینا ’ورکشاپ‘ پر بھی اعتراض فرمائیں گے۔گوکہ یہ لفظ بھی اُردو زبان کا حصہ بن چکا ہے۔پاکستان بھر میں ہر روز کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی موضوع پر نِت نئی ’ورکشاپیں ‘ منعقد ہوتی رہتی ہیں ۔ توجہاں اُردو میں انگریزی کے دیگر الفاظ رائج ہیں ، وہیں ’ورکشاپ‘ کو بھی رائج رہنے دیجے۔ لوگ اس سے مانوس ہو چکے ہیں ۔ شایداُردو میں ’ورکشاپ‘ کا متبادل ہے بھی نہیں “۔
عرض کیا: ”بے شک اُردو اُن الفاظ کو دل سے قبول کرتی ہے جن کا متبادل موجود نہیں مثلاً نل، مثلاً بوتل، مثلاً کیمرا وغیرہ اور ایسے الفاظ کو بھی قبول کر لیتی ہے جن کی ادائی آسان ہو اور مفہوم بہتر ادا ہوتا ہو مثلاً ’بور ہونا‘ یا اسی سے مشتق لفظ’ بوریت‘ وغیرہ۔تاہم ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ماہرین لسانیات انگریزی اصطلاحات کے اُردو متبادل فی الفور پیش کر دیا کرتے تھے۔ پھر تحریر و تقریر میں مسلسل اور متواتر استعمال کرتے رہتے۔اِس سے یہ متبادل اصطلاحات رائج بھی ہوجاتی تھیں اور مانوس بھی۔ہمیں اپنے اکابر کا احسان مند رہنا چاہیے کہ صرف اُنھیں کی بنائی ہوئی اصطلاحات چل رہی ہیں ۔مثلاً اداریہ، نامہ نگار،نشریات، خبر نامہ، اخبار کی لوح، سرخی اور شہ سُرخی وغیرہ۔مائیکرو اسکوپ کے لیے خُردبین، ٹیلی اسکوپ کے لیے دُور بین اور کمپاس کے لیے قطب نما تو رائج ہوگیا ، مگر ٹیلی وژن کے لیے مختصر سا سُبک لفظ ’دُور نُما‘ رائج نہ ہو سکا۔ کیوں کہ ٹیلی وژن پر ہم نے اس لفظ کو استعمال ہی نہیں کیا۔ تمسخر اُڑانے کے لیے ’آلۂ مکبر الصوت‘ کا حوالہ تو دے دیا جاتا ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس کے لیے نہایت موزوں اور رواں لفظ ’بلند گو‘ موجود ہے جو "Loud Speaker" کا نہ صرف ٹھیک ٹھیک لفظی ترجمہ ہے بلکہ ہمیں ببانگِ دُہُل بتاتا ہے کہ یہ آلہ کس کام آتا ہے۔ شاید ہمارے اہلِ علم و دانش نے اب اُردو میں سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے“۔
ہماری یہ طویل تقریر تحمل سے سنی،پھر روہانسی آواز میں کہا:”آپ نے یہ نہیں بتا یا کہ ’ورکشاپ‘ کی جگہ کون سا لفظ استعمال کریں “۔
”اَجی بتائے دیتے ہیں ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اُردو پڑھانے والے اُردو سیکھ جائیں تو انھیں اُردو میں سوچنا سکھائیے۔ شایدیہی سوچ سکھانے کو آپ اُنھیں مدعو کر رہے ہیں ۔ آپ کے مدعوئین آئیں گے، بیٹھیں گے، سنیں گے، پھر وہیں مل جُل کر اس سُنی سنائی کا عملی انطباق کریں گے۔ یعنی کرنے کا کام کرکے دکھائیں گے۔ لہٰذا ہم اسے ”کارگاہ“ کہیں گے۔ پس یہ جو آپ نے ’خطِ رومۃ الکُبریٰ‘ میں "Three days' Urdu Workshop" لکھ رکھاہے، اس پر خطِ تنسیخ پھیریے اور خطِ نسخ میں ”سہ روزہ کارگاہِ اُردو“ لکھوادیجے۔ پھر ’بچشمۂ خود‘ ملاحظہ فرما لیجے کہ اب بھلا معلوم
*قوم جس کا حافظہ کھویا گیا*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
آج سے چھے، ساڑھے چھے برس پہلے کا قصہ ہے۔ ۲۰۲۰ء کے اوائل میں ملک کے ایک مؤقر نصاب ساز ادارے سے دعوت ملی:
”چند دنوں کے لیے کراچی چلے آئیے اور ہمارے شہر کے تعلیمی اداروں میں اُردو پڑھانے والے اساتذہ کو اُردو پڑھائیے“۔
ہم حیران رہ گئے: ”صاحب! آپ نے عجیب فرمائش کی: ساحلِ سمندر پر چلے آئیے اور مچھلی کے جائے کو تیرنا سکھائیے“۔
زور دار قہقہہ لگایا اورفرمایا: ”حضور! پچھلے دو تین عشروں میں ’نیٹی جیٹی‘ کے پُلوں تلے خاصاپانی گزر چکا ہے۔ اس پانی کی روانی میں املا، تلفظ، قواعد و انشا سب بَہ گئے“۔
”سب بَہ گئے؟تعجب ہے! مگر یہ کیا؟ انگریزوں کے رکھے ہوئے نام "Native Jetty"(یعنی ولایتی نہیں ’ دیسی گودی‘)کا تلفظ آپ نے ’نیٹی جیٹی‘ کر کر آج تک محفوظ رکھا ہے۔آخر یہ کیوں نہیں بہا؟ بقول علامہ تاجورؔ نجیب آبادی:
نہ میں بدلا، نہ وہ بدلے، نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیوں کر اعتبارِ انقلابِ آسماں کر لوں ؟
اچھا خیر، یہ فرمائیے کہ تیرنا سکھانے کو اب تک آپ کتنے ’مچھلی کے جائے‘ پکڑ کر لائے ؟“
جواب ملا: ”اب تک مختلف تعلیمی اداروں میں اُردو پڑھانے والے پچیس اساتذہ نے اپنے ناموں کا اندراج کروا لیا ہے“۔
مشورہ دیا : ”مزید اندراج نہ کروائیے۔ اتنی تعداد کافی ہے۔اب باقی تفصیلات بھی ارسال کر دیجے“۔
’برنامہ‘ موصول ہوا تو اُس کا ’سَرنامہ‘ (یعنی عنوان) لفظ 'Programme' سے مزین تھااور نیچے جلی حروف میں "Three days' Urdu Workshop"کی سرخی جمائی گئی تھی۔تین صفحات پر تین دنوں کی تفصیلات درج تھیں ۔فوراً رابطہ کرنا پڑا:
”سرکار! اُردو پڑھانے والے خاک اُردو پڑھیں گے؟ آپ تو آغاز ہی انگریزی پڑھانے سے کر رہے ہیں ۔ اگر چہ انگریزی لفظ ’پروگرام‘ اب اُردو زبان کا حصہ ہے اور اس کی جمع بھی اُردو قاعدے کے مطابق مختلف ’پروگراموں ‘میں سننے کو مل جاتی ہے۔لیکن اُردو پڑھانے والوں کواگر آپ اُردو سکھانا چاہتے ہیں تو انھیں اُردو متبادل بھی بتائیے۔ اُردو میں پروگرام کے لیے لائحۂ عمل،دستورِ کار دستورالعمل اور بَرنامہ جیسے الفاظ استعمال ہوتے رہے ہیں ، گو کہ اب متروک ہوئے جاتے ہیں ۔ پھر بھی اقبالؔ کا کہا مان لیجے کہ: انھیں زندہ کر دوبارہ“
کہنے لگے: ”اب آپ یقینا ’ورکشاپ‘ پر بھی اعتراض فرمائیں گے۔گوکہ یہ لفظ بھی اُردو زبان کا حصہ بن چکا ہے۔پاکستان بھر میں ہر روز کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی موضوع پر نِت نئی ’ورکشاپیں ‘ منعقد ہوتی رہتی ہیں ۔ توجہاں اُردو میں انگریزی کے دیگر الفاظ رائج ہیں ، وہیں ’ورکشاپ‘ کو بھی رائج رہنے دیجے۔ لوگ اس سے مانوس ہو چکے ہیں ۔ شایداُردو میں ’ورکشاپ‘ کا متبادل ہے بھی نہیں “۔
عرض کیا: ”بے شک اُردو اُن الفاظ کو دل سے قبول کرتی ہے جن کا متبادل موجود نہیں مثلاً نل، مثلاً بوتل، مثلاً کیمرا وغیرہ اور ایسے الفاظ کو بھی قبول کر لیتی ہے جن کی ادائی آسان ہو اور مفہوم بہتر ادا ہوتا ہو مثلاً ’بور ہونا‘ یا اسی سے مشتق لفظ’ بوریت‘ وغیرہ۔تاہم ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ماہرین لسانیات انگریزی اصطلاحات کے اُردو متبادل فی الفور پیش کر دیا کرتے تھے۔ پھر تحریر و تقریر میں مسلسل اور متواتر استعمال کرتے رہتے۔اِس سے یہ متبادل اصطلاحات رائج بھی ہوجاتی تھیں اور مانوس بھی۔ہمیں اپنے اکابر کا احسان مند رہنا چاہیے کہ صرف اُنھیں کی بنائی ہوئی اصطلاحات چل رہی ہیں ۔مثلاً اداریہ، نامہ نگار،نشریات، خبر نامہ، اخبار کی لوح، سرخی اور شہ سُرخی وغیرہ۔مائیکرو اسکوپ کے لیے خُردبین، ٹیلی اسکوپ کے لیے دُور بین اور کمپاس کے لیے قطب نما تو رائج ہوگیا ، مگر ٹیلی وژن کے لیے مختصر سا سُبک لفظ ’دُور نُما‘ رائج نہ ہو سکا۔ کیوں کہ ٹیلی وژن پر ہم نے اس لفظ کو استعمال ہی نہیں کیا۔ تمسخر اُڑانے کے لیے ’آلۂ مکبر الصوت‘ کا حوالہ تو دے دیا جاتا ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس کے لیے نہایت موزوں اور رواں لفظ ’بلند گو‘ موجود ہے جو "Loud Speaker" کا نہ صرف ٹھیک ٹھیک لفظی ترجمہ ہے بلکہ ہمیں ببانگِ دُہُل بتاتا ہے کہ یہ آلہ کس کام آتا ہے۔ شاید ہمارے اہلِ علم و دانش نے اب اُردو میں سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے“۔
ہماری یہ طویل تقریر تحمل سے سنی،پھر روہانسی آواز میں کہا:”آپ نے یہ نہیں بتا یا کہ ’ورکشاپ‘ کی جگہ کون سا لفظ استعمال کریں “۔
”اَجی بتائے دیتے ہیں ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اُردو پڑھانے والے اُردو سیکھ جائیں تو انھیں اُردو میں سوچنا سکھائیے۔ شایدیہی سوچ سکھانے کو آپ اُنھیں مدعو کر رہے ہیں ۔ آپ کے مدعوئین آئیں گے، بیٹھیں گے، سنیں گے، پھر وہیں مل جُل کر اس سُنی سنائی کا عملی انطباق کریں گے۔ یعنی کرنے کا کام کرکے دکھائیں گے۔ لہٰذا ہم اسے ”کارگاہ“ کہیں گے۔ پس یہ جو آپ نے ’خطِ رومۃ الکُبریٰ‘ میں "Three days' Urdu Workshop" لکھ رکھاہے، اس پر خطِ تنسیخ پھیریے اور خطِ نسخ میں ”سہ روزہ کارگاہِ اُردو“ لکھوادیجے۔ پھر ’بچشمۂ خود‘ ملاحظہ فرما لیجے کہ اب بھلا معلوم
ہوتا ہے یا نہیں ؟ ہاں ’کارگاہ‘ کی کیا تاریخ آپ نے بتائی تھی؟ آٹھ، نو، دس؟ بات ہماری بس!“
بات یہ ہے صاحبو کہ انگریزی ذریعۂ تعلیم ہماری نسلوں کے لیے ’جاروبِ دماغ‘ ثابت ہواہے۔ ہماری تہذیب، ہماری وضع قطع، ہماری وضع داری، ہماری شائستگی، ہمارے ادب، ہماری میٹھی زبان اور ہماری شیریں بیانی سب پر جھاڑو پھیرگیا۔ ہمارے بچوں کے دماغ کی مکمل صفائی (Brain Washing)کر ڈالی۔ قوم سے اُس کا صدیوں کا حافظہ چھین لیا۔ ہمارے قومی اداروں کے نام بھی قومی زبان میں نہ رہے۔ حتیٰ کہ اپنے نجی اداروں یاذاتی دُکانوں کے نام بھی اب ہم اُردو میں نہیں رکھ پاتے۔ ہماراشیر محمد شِیرفروش تک ڈرنے لگا ہے کہ اگر اپنی دُکان کا نام 'Milk Shop'نہیں رکھے گا تو سارا دودھ رکھے رکھے پھٹ جائے گا،قوم کا کوئی فرد اس کو منہ نہیں لگائے گا۔
قوم، جس کا حافظہ کھویا گیا، کیسے کیسے دل کش الفا ظ سے محروم ہو گئی ہے۔اب جو کیشیئر ہے پہلے ’حساب دار‘ تھا۔ اب جو لائبریرین ہے پہلے ’کتاب دار‘ تھا۔'Souvinir'‘سوغات‘اور'Application'‘درخواست ہوا کرتی تھی۔دوسرا مطلب ’اِطلاق‘ تھا۔ 'Meeting'‘اجلاس‘ تھی ،'Proceeding' کو ’کارروائی‘ کہتے تھے اور 'Agenda'‘کارروائی نامہ‘ کہلاتا تھا۔ کارروائی کے نتیجے میں اگر کوئی 'Committee'قائم کرنی پڑتی تو اسے ’مجلس‘ کا نام دیا جاتا۔'Standing Committee'شاید آج بھی ’مجلسِ قائمہ‘ کہلاتی ہے۔ تنخواہ دار ملازمین ہر ماہ اپنی تنخواہوں سے جو'Provident Fund' کٹواتے ہیں اس کو نہ جانے کیا مصیبت سمجھتے ہوں گے۔ مگر اس امانتی رقم کے لیے استعمال ہونے والی ہماری اُردو اصطلاح ’سرمایۂ کفالت‘ سب کچھ سمجھا دیتی ہے۔
عزیزو! باوقار شناخت اور پُروقار قومی تشخص کے ساتھ اقوامِ عالم کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی کوششیں جاری رکھنی چاہییں ۔ اپنی اعلیٰ و ارفع تہذیب اوراپنی مہذب لسانی اقدار کو بحال کرنے کی جد و جہد کرتے رہنا چاہیے۔اگرچہ ہر بھلے کام پر اعتراض کے عادی اور ہر خیرو خوبی کی مخالفت کے خوگر راستوں میں خس و خاشاک کی طرح پڑے ملیں گے۔ مگر ان سے متاثر اور مایوس ہو کر فصلِ گُل کی کاشت کا کام ترک نہیں کرنا چاہیے۔برسات کی بوندیں برستی رہیں تو رُت بدل جاتی ہے۔ پُھول کھل جاتے ہیں ۔ لہٰذا اللہ سے امیدرکھیے کہ
لے آئے گا اِک روز گُل و برگ بھی ثروتؔ
باراں کا مسلسل خس و خاشاک پہ ہونا
٭٭
بات یہ ہے صاحبو کہ انگریزی ذریعۂ تعلیم ہماری نسلوں کے لیے ’جاروبِ دماغ‘ ثابت ہواہے۔ ہماری تہذیب، ہماری وضع قطع، ہماری وضع داری، ہماری شائستگی، ہمارے ادب، ہماری میٹھی زبان اور ہماری شیریں بیانی سب پر جھاڑو پھیرگیا۔ ہمارے بچوں کے دماغ کی مکمل صفائی (Brain Washing)کر ڈالی۔ قوم سے اُس کا صدیوں کا حافظہ چھین لیا۔ ہمارے قومی اداروں کے نام بھی قومی زبان میں نہ رہے۔ حتیٰ کہ اپنے نجی اداروں یاذاتی دُکانوں کے نام بھی اب ہم اُردو میں نہیں رکھ پاتے۔ ہماراشیر محمد شِیرفروش تک ڈرنے لگا ہے کہ اگر اپنی دُکان کا نام 'Milk Shop'نہیں رکھے گا تو سارا دودھ رکھے رکھے پھٹ جائے گا،قوم کا کوئی فرد اس کو منہ نہیں لگائے گا۔
قوم، جس کا حافظہ کھویا گیا، کیسے کیسے دل کش الفا ظ سے محروم ہو گئی ہے۔اب جو کیشیئر ہے پہلے ’حساب دار‘ تھا۔ اب جو لائبریرین ہے پہلے ’کتاب دار‘ تھا۔'Souvinir'‘سوغات‘اور'Application'‘درخواست ہوا کرتی تھی۔دوسرا مطلب ’اِطلاق‘ تھا۔ 'Meeting'‘اجلاس‘ تھی ،'Proceeding' کو ’کارروائی‘ کہتے تھے اور 'Agenda'‘کارروائی نامہ‘ کہلاتا تھا۔ کارروائی کے نتیجے میں اگر کوئی 'Committee'قائم کرنی پڑتی تو اسے ’مجلس‘ کا نام دیا جاتا۔'Standing Committee'شاید آج بھی ’مجلسِ قائمہ‘ کہلاتی ہے۔ تنخواہ دار ملازمین ہر ماہ اپنی تنخواہوں سے جو'Provident Fund' کٹواتے ہیں اس کو نہ جانے کیا مصیبت سمجھتے ہوں گے۔ مگر اس امانتی رقم کے لیے استعمال ہونے والی ہماری اُردو اصطلاح ’سرمایۂ کفالت‘ سب کچھ سمجھا دیتی ہے۔
عزیزو! باوقار شناخت اور پُروقار قومی تشخص کے ساتھ اقوامِ عالم کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی کوششیں جاری رکھنی چاہییں ۔ اپنی اعلیٰ و ارفع تہذیب اوراپنی مہذب لسانی اقدار کو بحال کرنے کی جد و جہد کرتے رہنا چاہیے۔اگرچہ ہر بھلے کام پر اعتراض کے عادی اور ہر خیرو خوبی کی مخالفت کے خوگر راستوں میں خس و خاشاک کی طرح پڑے ملیں گے۔ مگر ان سے متاثر اور مایوس ہو کر فصلِ گُل کی کاشت کا کام ترک نہیں کرنا چاہیے۔برسات کی بوندیں برستی رہیں تو رُت بدل جاتی ہے۔ پُھول کھل جاتے ہیں ۔ لہٰذا اللہ سے امیدرکھیے کہ
لے آئے گا اِک روز گُل و برگ بھی ثروتؔ
باراں کا مسلسل خس و خاشاک پہ ہونا
٭٭
❤3
تفسیرِ ماجدی، پس منظر اور خصوصیات
پروفیسر عبدالرحیم قدوائی صاحب لکھتے ہیں:
تفسیرِ ماجدی کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ یہ اس وقت میں لکھی گئی، جب علمائے کرام کی وہ جماعت، جو قرآن مجید کی تفسیر و تشریح میں غرق رہتی تھی، وہ "لسانِ غیر" سے نابلد تھی، اللّٰه کے نیک نفس بندوں کی اس جماعت کے کسی بھی فرد کو تقابلِ ادیان یا دیگر صحفِ سماوی کے مطالعہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ آپ نے چونکہ عصری علوم میں درک حاصل کیا تھا۔ فلسفہ آپ کا میدانِ اختصاص تھا، اس لیے آپ نے قرآن مجید کے ساتھ ساتھ زبور و توریت و انجیل کا مطالعہ بھی کیا اور مخالفینِ اسلام کے اعتراضات و شبہات کا جائزہ لے کر مثبت انداز میں منفی فکر کی بیخ کنی کی۔ یہ برصغیر میں اس وقت کی ایسی پہلی تفسیر تھی، جس میں مستشرقین کے بے بنیاد اعتراضات نیز ان کی بیہودگی کو بے نقاب کیا گیا تھا اور معقول انداز میں مغرب کے ان خود ساختہ دانشوروں کا علمی تعاقب کیا گیا تھا جو اپنے آپ کو " ماہرِ قرآن" تصور کرکے اس کو درست ماننے پر فخر کناں تھے۔ تفسیرِ ماجدی (Tafseer-ul-Quran) نہ صرف یہ کہ انگریزی زبان میں مقبول ہوئی، بلکہ اردو زبان میں شائع "تفسیرِ ماجدی" میں بھی عوام و خواص میں شہرت حاصل کی۔
(تفسیرِ ماجدی ایک مطالعہ، ڈاکٹر عبید عاصم اقبال، صفحہ: ۹/۱۰)
https://t.me/ilmokitab
پروفیسر عبدالرحیم قدوائی صاحب لکھتے ہیں:
تفسیرِ ماجدی کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ یہ اس وقت میں لکھی گئی، جب علمائے کرام کی وہ جماعت، جو قرآن مجید کی تفسیر و تشریح میں غرق رہتی تھی، وہ "لسانِ غیر" سے نابلد تھی، اللّٰه کے نیک نفس بندوں کی اس جماعت کے کسی بھی فرد کو تقابلِ ادیان یا دیگر صحفِ سماوی کے مطالعہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ آپ نے چونکہ عصری علوم میں درک حاصل کیا تھا۔ فلسفہ آپ کا میدانِ اختصاص تھا، اس لیے آپ نے قرآن مجید کے ساتھ ساتھ زبور و توریت و انجیل کا مطالعہ بھی کیا اور مخالفینِ اسلام کے اعتراضات و شبہات کا جائزہ لے کر مثبت انداز میں منفی فکر کی بیخ کنی کی۔ یہ برصغیر میں اس وقت کی ایسی پہلی تفسیر تھی، جس میں مستشرقین کے بے بنیاد اعتراضات نیز ان کی بیہودگی کو بے نقاب کیا گیا تھا اور معقول انداز میں مغرب کے ان خود ساختہ دانشوروں کا علمی تعاقب کیا گیا تھا جو اپنے آپ کو " ماہرِ قرآن" تصور کرکے اس کو درست ماننے پر فخر کناں تھے۔ تفسیرِ ماجدی (Tafseer-ul-Quran) نہ صرف یہ کہ انگریزی زبان میں مقبول ہوئی، بلکہ اردو زبان میں شائع "تفسیرِ ماجدی" میں بھی عوام و خواص میں شہرت حاصل کی۔
(تفسیرِ ماجدی ایک مطالعہ، ڈاکٹر عبید عاصم اقبال، صفحہ: ۹/۱۰)
https://t.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤3👍3
Mr Sid
سلسلہ نمبر: 320 انتخاب مطالعہ تحریر: عشرت علی صؔدیقی *گورِ امیر* سمرقند کی ترقی اور اس کی شہرت کا سہرا بلاشبہ تؔیمور کے سر ہے، اس نے نہ جانے کتنے ملک تاراج کیے، کتنے بادشاہوں کو اپنا باج گزار بنایا،کتنے محلوں کو لوٹا اور کتنی بستیوں کو اجاڑ دیا ؛مگر جب…
سلسلہ نمبر: 321
انتخابِ مطالعہ
تحریر: *سید ظہور احمد،شاہجہاں پور*
*رحمت کی امید*
پروردگار! جب یہ دنیا سمٹ جائے گی اور تیرے وعدۂ حق کے مطابق حشر کا معرکہ وقوع میں آئے گا تو تیرے بندے کیسی شان و شوکت اور اطمینان و مسرت کے ساتھ تیری بارگاہ میں حاضر ہوں گے، کسی کے پاس وہ بے قیاس دولت ہوگی جو اس نے تیری راہ میں خرچ کی ہے، اور وہ اپنے اس عمل خیر پر نازاں ہوگا، کسی کے پاس وہ خون آلود پیرہن ہوگا جو تیری راہ میں جہاد کرکے اور اپنی قیمتی جان تیرے نام پر قربان کرکے اس نے حاصل کیا ہے، اور کسی کے پاس عبادت و ریاضت کے نورانی نشان ہوں گے جو ثابت کریں گے کہ اس نے تمام عمر تیری خوشنودی کے لیے جبیں سائی کی ہے، کوئی خدمتِ مخلوق پر ناز کرتا ہوا حاضر ہوگا، اور اس کا نامۂ اعمال بتائے گا کہ اس نے بھوکوں کو کھانا کھلایا ہے، پیاسوں کو پانی پلایا ہے، اپاہجوں کی خدمت گزاری اور دردمندوں کی غمخواری کی ہے،
خدایا! اس محفل میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے تیرے دین و ملت کی تبلیغ کی ہے، اور تیرا نام دنیا میں بلند کیا ہے، کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ جنہوں نے تیری مخلوق کو اپنے علم و فضل سے فائدہ پہونچایا ہے، ان کو جہالتوں کی مصیبتوں سے نجات دی ہے، الغرض! ہر شخص کے پاس تیری رضا و خوشنودی کے لیے ایک تحفہ ہوگا، خداوندا! ان بندگانِ گرامی کے پیچھے ایک گنہگار بندہ بھی ہوگاـ آہ ایک بندہ، گناہوں سے گرانبار، اپنی تقصیرات پر شرمسار، تہی دست اور تہی جیب، عرق ندامت میں ڈوبا ہوا، تیرے قہر و جلال سے لرزاں، ترساں، آہ! اس کے پاس کچھ نہ ہوگا جو مالک یوم الدین کے دربار میں پیش کرے، اسے عزیز و اقرباء اس مصیبت میں دیکھیں گے؛ لیکن کچھ نہ کرسکیں گے، وہ اس غمناک حالت میں تیرے رو برو پیش کیا جائے گا، تو پوچھے گا کہ: دنیا میں اتنے دنوں رہ کر کیا کیا؟ اور کونسی نیکیاں لے کر سامنے آیا ہے؟ اس سوال پر تیرے بندے کا سر جھک جائے گا، ندامت اسے آنکھ نہ اٹھانے دے گی، وہ پُر آب آنکھوں اور پُر اضطراب دل کے ساتھ سر بسجود ہو کر عرض کرےگا: ”اے میرے خالق! بالکل تہی دست آیا ہوں، میرے پاس حسنِ عمل کا کوئی تحفہ نہیں ہے، جسے تیری بارگاہِ عالی میں پیش کروں، صرف ایک امید اپنے دل میں چھپاکر لایا ہوں، پروردگار! وہ تیرے لطف و کرم کی امید ہے، خداوندا! صدقہ تیری عظمت و کبریا کا، اس امید کو باطل نہ کرنا! اور اپنے ایک بندے کو (جس کے پاس تیری رحمت کی امید کے سوا کچھ نہیں ہے )محشر کی رسوائیوں سے بچالینا! وانت ارحم الراحمین ـ“
( ماہ نامہ تجلی دہلی، صفر المظفر: 1346، اگست: 1926، صفحہ: 3، طبع: فراش خانہ، دہلی)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
انتخابِ مطالعہ
تحریر: *سید ظہور احمد،شاہجہاں پور*
*رحمت کی امید*
پروردگار! جب یہ دنیا سمٹ جائے گی اور تیرے وعدۂ حق کے مطابق حشر کا معرکہ وقوع میں آئے گا تو تیرے بندے کیسی شان و شوکت اور اطمینان و مسرت کے ساتھ تیری بارگاہ میں حاضر ہوں گے، کسی کے پاس وہ بے قیاس دولت ہوگی جو اس نے تیری راہ میں خرچ کی ہے، اور وہ اپنے اس عمل خیر پر نازاں ہوگا، کسی کے پاس وہ خون آلود پیرہن ہوگا جو تیری راہ میں جہاد کرکے اور اپنی قیمتی جان تیرے نام پر قربان کرکے اس نے حاصل کیا ہے، اور کسی کے پاس عبادت و ریاضت کے نورانی نشان ہوں گے جو ثابت کریں گے کہ اس نے تمام عمر تیری خوشنودی کے لیے جبیں سائی کی ہے، کوئی خدمتِ مخلوق پر ناز کرتا ہوا حاضر ہوگا، اور اس کا نامۂ اعمال بتائے گا کہ اس نے بھوکوں کو کھانا کھلایا ہے، پیاسوں کو پانی پلایا ہے، اپاہجوں کی خدمت گزاری اور دردمندوں کی غمخواری کی ہے،
خدایا! اس محفل میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے تیرے دین و ملت کی تبلیغ کی ہے، اور تیرا نام دنیا میں بلند کیا ہے، کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ جنہوں نے تیری مخلوق کو اپنے علم و فضل سے فائدہ پہونچایا ہے، ان کو جہالتوں کی مصیبتوں سے نجات دی ہے، الغرض! ہر شخص کے پاس تیری رضا و خوشنودی کے لیے ایک تحفہ ہوگا، خداوندا! ان بندگانِ گرامی کے پیچھے ایک گنہگار بندہ بھی ہوگاـ آہ ایک بندہ، گناہوں سے گرانبار، اپنی تقصیرات پر شرمسار، تہی دست اور تہی جیب، عرق ندامت میں ڈوبا ہوا، تیرے قہر و جلال سے لرزاں، ترساں، آہ! اس کے پاس کچھ نہ ہوگا جو مالک یوم الدین کے دربار میں پیش کرے، اسے عزیز و اقرباء اس مصیبت میں دیکھیں گے؛ لیکن کچھ نہ کرسکیں گے، وہ اس غمناک حالت میں تیرے رو برو پیش کیا جائے گا، تو پوچھے گا کہ: دنیا میں اتنے دنوں رہ کر کیا کیا؟ اور کونسی نیکیاں لے کر سامنے آیا ہے؟ اس سوال پر تیرے بندے کا سر جھک جائے گا، ندامت اسے آنکھ نہ اٹھانے دے گی، وہ پُر آب آنکھوں اور پُر اضطراب دل کے ساتھ سر بسجود ہو کر عرض کرےگا: ”اے میرے خالق! بالکل تہی دست آیا ہوں، میرے پاس حسنِ عمل کا کوئی تحفہ نہیں ہے، جسے تیری بارگاہِ عالی میں پیش کروں، صرف ایک امید اپنے دل میں چھپاکر لایا ہوں، پروردگار! وہ تیرے لطف و کرم کی امید ہے، خداوندا! صدقہ تیری عظمت و کبریا کا، اس امید کو باطل نہ کرنا! اور اپنے ایک بندے کو (جس کے پاس تیری رحمت کی امید کے سوا کچھ نہیں ہے )محشر کی رسوائیوں سے بچالینا! وانت ارحم الراحمین ـ“
( ماہ نامہ تجلی دہلی، صفر المظفر: 1346، اگست: 1926، صفحہ: 3، طبع: فراش خانہ، دہلی)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
❤2
آخری کڑی بھی ٹوٹ گئی
معصوم مرادآبادی
ممتاز اردو ادیب، نقاد، محقق اوراستاد پروفیسر مجاورحسین رضوی آج طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ انھوں نے 1948میں الہ آباد سے علی عباس حسینی کی زیرنگرانی شروع ہونے والے ماہنامہ ”نکہت“ کے شعبہ نثر میں بطورنگراں کام شروع کیا تھا جبکہ اسی دور میں مشہور زمانہ جاسوسی ناول نگار ابن صفی اس رسالہ کے شعبہ شاعری کے نگراں تھے۔ ابن صفی نے’جاسوسی دنیا‘سے شہرت دوام حاصل کی جبکہ پروفیسر مجاور حسین نے قلمی نام ابن سعید سے’رومانی دنیا‘میں نام کمایا۔ ابن صفی کے ساتھ ابن سعید کے قریبی مراسم تھے اور انھوں نے ان کے انتقال پر ایک مضمون ’ستارہ جو ڈوب گیا‘ قلم بند کیا تھا۔
پروفیسر مجاور حسین حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے علاوہ متعدد اداروں سے وابستہ رہے۔انھوں نے اردو نثر، داستانوں اور تنقید پر کئی کتابیں لکھیں جنھیں علمی حلقوں میں بہت سراہا گیا۔’مثنویا ں اور داستانیں‘ ان کی مشہور کتاب ہے جس میں انھوں نے ’طلسم ہوش ربا‘ ’باغ وبہار‘ اور ’گلزار نسیم‘ کا گہرا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔
یہاں 1950 کی ایک یادگار تصویر پیش کی جارہی ہے جو سید مجاور حسین رضوی کو الہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے میں گولڈ میڈل حاصل ہونے پر اتاری گئی تھی۔ اس تصویر میں پروفیسر مجاورحسین (بائیں)علی عباس حسینی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ کھڑے ہوئے دائیں راہی معصوم رضا اور ان کے بائیں شکیل جمالی موجود ہیں۔ یہ نکہت پبلی کیشنز کے چار ستون تھے اور ان میں صرف پروفیسر مجاورحسین ہی حیات تھے جنھوں نے آج الہ آباد میں آخری سانس لی۔یعنی نکہت پبلی کیشنز کی آخری کڑی بھی آج ٹوٹ گئی۔
معصوم مرادآبادی
ممتاز اردو ادیب، نقاد، محقق اوراستاد پروفیسر مجاورحسین رضوی آج طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ انھوں نے 1948میں الہ آباد سے علی عباس حسینی کی زیرنگرانی شروع ہونے والے ماہنامہ ”نکہت“ کے شعبہ نثر میں بطورنگراں کام شروع کیا تھا جبکہ اسی دور میں مشہور زمانہ جاسوسی ناول نگار ابن صفی اس رسالہ کے شعبہ شاعری کے نگراں تھے۔ ابن صفی نے’جاسوسی دنیا‘سے شہرت دوام حاصل کی جبکہ پروفیسر مجاور حسین نے قلمی نام ابن سعید سے’رومانی دنیا‘میں نام کمایا۔ ابن صفی کے ساتھ ابن سعید کے قریبی مراسم تھے اور انھوں نے ان کے انتقال پر ایک مضمون ’ستارہ جو ڈوب گیا‘ قلم بند کیا تھا۔
پروفیسر مجاور حسین حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے علاوہ متعدد اداروں سے وابستہ رہے۔انھوں نے اردو نثر، داستانوں اور تنقید پر کئی کتابیں لکھیں جنھیں علمی حلقوں میں بہت سراہا گیا۔’مثنویا ں اور داستانیں‘ ان کی مشہور کتاب ہے جس میں انھوں نے ’طلسم ہوش ربا‘ ’باغ وبہار‘ اور ’گلزار نسیم‘ کا گہرا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔
یہاں 1950 کی ایک یادگار تصویر پیش کی جارہی ہے جو سید مجاور حسین رضوی کو الہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے میں گولڈ میڈل حاصل ہونے پر اتاری گئی تھی۔ اس تصویر میں پروفیسر مجاورحسین (بائیں)علی عباس حسینی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ کھڑے ہوئے دائیں راہی معصوم رضا اور ان کے بائیں شکیل جمالی موجود ہیں۔ یہ نکہت پبلی کیشنز کے چار ستون تھے اور ان میں صرف پروفیسر مجاورحسین ہی حیات تھے جنھوں نے آج الہ آباد میں آخری سانس لی۔یعنی نکہت پبلی کیشنز کی آخری کڑی بھی آج ٹوٹ گئی۔
خواجہ حسن نظامی کے ہم زاد کا قصہ
سہیل انجم
خواجہ حسن نظامی ایک صاحب طرز انشا پرداز، منفرد ادیب و قلمکار اور اردو زبان کے شہسوار تھے۔ موضوع پر تو سب لکھتے ہیں وہ بغیر موضوع کے لکھتے تھے۔ البتہ مضمون کے عنوان پر گھنٹوں غور کرتے اور جب ایک اچھوتا عنوان ان کے ذہن میں آجاتا تو وہ فٹا فٹ مضمون بھی قلم بند کر دیتے۔ ان کی قوت مشاہدہ بہت تیز تھی۔ وہ کہیں سے سرسری بھی گزر جاتے تو اپنے تاثرات ایسی جزیات کے ساتھ بیان کرتے کہ حیرت ہوتی۔ خواجہ صاحب 27 دسمبر 1878 کو بستی حضرت نظام الدین دہلی میں پیدا ہوئے اور 31 جولائی 1955 کو بستی ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ درگاہ حضرت نظام الدین کے احاطے میں دفن کیے گئے۔ ان کا پیدائشی نام قاسم علی تھا۔ ان کے ماموں بہادر علی شاہ بچپن میں انھیں علی حسن کہہ کر پکارتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہی نام زبانوں پر چڑھ گیا۔ وہ ابتدائے عمر میں سید علی حسن ہوئے اور پھر سید علی حسن نظامی کہلائے۔ اسی نام سے انھوں نے اردو میں پہلا مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ”انڈیا کی نازک حالت“ اور وہ انڈیا گزٹ بمبئی میں شائع ہوا۔ پھر وہ خواجہ حسن نظامی ہو گئے اور بالآخر اپنی تحریروں کی بدولت ”شمس العلما، مصور فطرت، حضرت خواجہ حسن نظامی“ کہلائے۔ عسرت و تنگ دستی نے ان کے ہاتھ میں قلم پکڑایا تھا۔ وہ تھے تو پیر زادے لیکن حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مزار پر آنے والے نذر و نیاز سے انھیں ذرا بھی دلچسپی نہیں تھی۔ انھوں نے ذریعہ معاش کے لیے کتابوں کی دکان کر لی تھی جس سے ان کو بڑا فیض پہنچا۔ اسی کے توسط سے انھوں نے مولانا عبد الحلیم شرر کے ناول پڑھے اور ان کو انشا پردازی کا چسکہ لگا۔
وہ ہر فن مولیٰ قسم کے انسان تھے۔ ان کی متعدد کتابیں ہیں۔ وہ ”نظام المشائخ“ نامی اخبار بھی نکالتے تھے۔ ان کے ساتھ اس عہد کے ایک بڑے قلم کار ملا واحدی بھی تھے۔ خواجہ صاحب مہم جوئیوں میں بھی یقین رکھتے تھے۔ وہ زمانے سے الگ ڈگر پر چلنے میں یقین رکھتے تھے۔ مہم جوئی کی خُو کی وجہ سے ہی انھیں ایک بار تسخیر ہم زاد و جنات کا شوق پیدا ہوا۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے مضامین میں تفصیلات پیش کی ہیں۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ عملیات کا ایک علم ہوتا ہے جس کے حصول کے لیے بڑے مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑے بڑے خطرات سے کھیلنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں کمزور دل کے لوگ پاگل بھی ہو جاتے ہیں۔ جان جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے جوانی کے دور میں اس شوق کے چکر میں دو سال تک سخت محنت کی اور مختلف چلے کاٹے۔ سردیوں کے موسم میں دریا کے ٹھنڈے پانی میں گھنٹوں کھڑے رہ کر وظائف پڑھنا، ترک حیوانات (گوشت اور دیگر حیوانی غذاوں سے پرہیز) اور کڑی ریاضتوں کی وجہ سے ان کا جسم سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بعد میں انھیں اندازہ ہوا کہ وہ صوفیانہ خانقاہ سے وابستہ ہونے کے باوجود کس غلط راستے پر چل پڑے تھے۔ انھوں نے اسی وقت تسخیر ہم زاد کے تمام اعمال اور چلّوں سے توبہ کی اور اپنا رخ تصوف، خدمت دین اور اردو ادب کی طرف موڑ دیا۔
یہاں ان کے ایک واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک عبرت آموز تحریر ہے۔ اس قسم کا شوق رکھنے والوں کے لیے اس میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔ سبق یہ ہے کہ ایک انسان کو انسان ہی رہنا چاہیے اسے اپنے اندر مافوق الفطرت خصوصیات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اپنا یہ مرتبہ کھونا نہیں چاہیے۔ اسلام میں یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ انسانوں کو جنات وغیرہ کو اپنے بس میں کرنا چاہیے۔ خواجہ صاحب کے یہ مضامین جن میں انھوں نے اپنے تجربات بیان کیے، یہاں کے متعدد اخباروں میں شائع ہوئے تھے۔ بعد ازاں ان کو لاہور کے سیارہ ڈائجسٹ نے 1971 کے اپنے سالنامہ میں شائع کیا تھا۔ اب انہیں مضامین کو کراچی کے ایک ادیب و مصنف راشد اشرف نے اپنی مرتب کردہ کتاب ”حیرت کدہ“ میں شامل کیا ہے۔ اس کتاب کو ہندوستان میں ”ارسم پبلی کیشنز“ نے شائع کیا ہے۔ ارسم کے مالک دہلی کے ایک نوجوان پبلشر محمد عمران قنوجی ہیں۔ انھوں نے جس خوبصورتی کے ساتھ اسے شائع کیا ہے اس کی داد دیتے ہی بنتی ہے۔ (کتاب کی قیمت 750 روپے۔ رابطہ نمبر: 9899506816/9910981586)
سہیل انجم
خواجہ حسن نظامی ایک صاحب طرز انشا پرداز، منفرد ادیب و قلمکار اور اردو زبان کے شہسوار تھے۔ موضوع پر تو سب لکھتے ہیں وہ بغیر موضوع کے لکھتے تھے۔ البتہ مضمون کے عنوان پر گھنٹوں غور کرتے اور جب ایک اچھوتا عنوان ان کے ذہن میں آجاتا تو وہ فٹا فٹ مضمون بھی قلم بند کر دیتے۔ ان کی قوت مشاہدہ بہت تیز تھی۔ وہ کہیں سے سرسری بھی گزر جاتے تو اپنے تاثرات ایسی جزیات کے ساتھ بیان کرتے کہ حیرت ہوتی۔ خواجہ صاحب 27 دسمبر 1878 کو بستی حضرت نظام الدین دہلی میں پیدا ہوئے اور 31 جولائی 1955 کو بستی ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ درگاہ حضرت نظام الدین کے احاطے میں دفن کیے گئے۔ ان کا پیدائشی نام قاسم علی تھا۔ ان کے ماموں بہادر علی شاہ بچپن میں انھیں علی حسن کہہ کر پکارتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہی نام زبانوں پر چڑھ گیا۔ وہ ابتدائے عمر میں سید علی حسن ہوئے اور پھر سید علی حسن نظامی کہلائے۔ اسی نام سے انھوں نے اردو میں پہلا مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ”انڈیا کی نازک حالت“ اور وہ انڈیا گزٹ بمبئی میں شائع ہوا۔ پھر وہ خواجہ حسن نظامی ہو گئے اور بالآخر اپنی تحریروں کی بدولت ”شمس العلما، مصور فطرت، حضرت خواجہ حسن نظامی“ کہلائے۔ عسرت و تنگ دستی نے ان کے ہاتھ میں قلم پکڑایا تھا۔ وہ تھے تو پیر زادے لیکن حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مزار پر آنے والے نذر و نیاز سے انھیں ذرا بھی دلچسپی نہیں تھی۔ انھوں نے ذریعہ معاش کے لیے کتابوں کی دکان کر لی تھی جس سے ان کو بڑا فیض پہنچا۔ اسی کے توسط سے انھوں نے مولانا عبد الحلیم شرر کے ناول پڑھے اور ان کو انشا پردازی کا چسکہ لگا۔
وہ ہر فن مولیٰ قسم کے انسان تھے۔ ان کی متعدد کتابیں ہیں۔ وہ ”نظام المشائخ“ نامی اخبار بھی نکالتے تھے۔ ان کے ساتھ اس عہد کے ایک بڑے قلم کار ملا واحدی بھی تھے۔ خواجہ صاحب مہم جوئیوں میں بھی یقین رکھتے تھے۔ وہ زمانے سے الگ ڈگر پر چلنے میں یقین رکھتے تھے۔ مہم جوئی کی خُو کی وجہ سے ہی انھیں ایک بار تسخیر ہم زاد و جنات کا شوق پیدا ہوا۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے مضامین میں تفصیلات پیش کی ہیں۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ عملیات کا ایک علم ہوتا ہے جس کے حصول کے لیے بڑے مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑے بڑے خطرات سے کھیلنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں کمزور دل کے لوگ پاگل بھی ہو جاتے ہیں۔ جان جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے جوانی کے دور میں اس شوق کے چکر میں دو سال تک سخت محنت کی اور مختلف چلے کاٹے۔ سردیوں کے موسم میں دریا کے ٹھنڈے پانی میں گھنٹوں کھڑے رہ کر وظائف پڑھنا، ترک حیوانات (گوشت اور دیگر حیوانی غذاوں سے پرہیز) اور کڑی ریاضتوں کی وجہ سے ان کا جسم سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بعد میں انھیں اندازہ ہوا کہ وہ صوفیانہ خانقاہ سے وابستہ ہونے کے باوجود کس غلط راستے پر چل پڑے تھے۔ انھوں نے اسی وقت تسخیر ہم زاد کے تمام اعمال اور چلّوں سے توبہ کی اور اپنا رخ تصوف، خدمت دین اور اردو ادب کی طرف موڑ دیا۔
یہاں ان کے ایک واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک عبرت آموز تحریر ہے۔ اس قسم کا شوق رکھنے والوں کے لیے اس میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔ سبق یہ ہے کہ ایک انسان کو انسان ہی رہنا چاہیے اسے اپنے اندر مافوق الفطرت خصوصیات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے اپنا یہ مرتبہ کھونا نہیں چاہیے۔ اسلام میں یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ انسانوں کو جنات وغیرہ کو اپنے بس میں کرنا چاہیے۔ خواجہ صاحب کے یہ مضامین جن میں انھوں نے اپنے تجربات بیان کیے، یہاں کے متعدد اخباروں میں شائع ہوئے تھے۔ بعد ازاں ان کو لاہور کے سیارہ ڈائجسٹ نے 1971 کے اپنے سالنامہ میں شائع کیا تھا۔ اب انہیں مضامین کو کراچی کے ایک ادیب و مصنف راشد اشرف نے اپنی مرتب کردہ کتاب ”حیرت کدہ“ میں شامل کیا ہے۔ اس کتاب کو ہندوستان میں ”ارسم پبلی کیشنز“ نے شائع کیا ہے۔ ارسم کے مالک دہلی کے ایک نوجوان پبلشر محمد عمران قنوجی ہیں۔ انھوں نے جس خوبصورتی کے ساتھ اسے شائع کیا ہے اس کی داد دیتے ہی بنتی ہے۔ (کتاب کی قیمت 750 روپے۔ رابطہ نمبر: 9899506816/9910981586)
❤2
اس کتاب میں شامل خواجہ صاحب کا ایک مضمون پیش کیا جا رہا ہے تاکہ جو لوگ اس قسم کی خواہش رکھتے ہوں وہ خواجہ صاحب کے تجربے سے سبق لیں۔ وہ لکھتے ہیں میری عمر پچیس سال کی تھی۔ ریاست پیٹالہ کے ایک بزرگ عامل نے مجھے ہم زاد کا عمل سکھایا اور کہا کہ یہ عمل اُلٹی بسم اللہ کا ہے۔ اس کو انیس ہزار انیس مرتبہ کھڑے ہو کر روزانہ رات کے وقت پڑھا جاتا تھا۔ چراغ پیٹھ کے پیچھے رکھا جاتا تھا اور چھری حصار کے اندر رکھ لیتا تھا۔ استاد کا کہنا تھا کہ حصار کے باہر جو تماشا دیکھو اس سے نہ ڈرنا۔ حصار کے اندر کوئی چیز آجائے تو چھری مارنا۔ یہ عمل چھ گھنٹے میں پورا ہوتا تھا اور میں کھڑے کھڑے اس قدر تھک جاتا تھا کہ چکر آنے لگتے تھے۔ آٹھویں دن مجھے اپنا سایہ ہلتا دکھائی دیا۔ نویں دن وہ سایہ قلابازیاں کھانے لگا اور دسویں دن غائب ہو گیا۔ انیسویں دن تک غائب رہا۔ میں روز عمل پڑھتا رہا۔ روشنی پشت پر ہوتی تھی مگر مجھے اپنے قد کا سایہ حجرے کے اندر دکھائی نہ دیتا تھا۔ اس حجرے میں میری پشت پر ایک روشن دان تھا جس کے کواڑ بند کر کے میں کنڈی لگا لیا کرتا تھا۔ انیسویں رات میں کھڑا عمل پڑھ رہا تھا۔ کوئی دو بجے رات کا عمل ہوگا کہ یکایک مجھے روشن دان سے کسی جانور کے اڑنے اور اندر آنے کی آواز آئی۔ سامنے روشنی میں دیکھا کہ ہو بہو میری شکل وصورت اور لباس کا ایک آدمی میرے سامنے دروازے کی طرف پیٹھ کیسے بیٹھ گیا مگر حصار سے باہر ہے۔ وہ آدمی مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔ پہلے تو مجھے اپنی صورت کا آدمی دیکھ کر حیرت ہوئی اور کچھ دیر کے بعد میں ڈرا، اور مجھ پر خوف طاری ہوا۔ عمل پڑھتا تھا اور پڑھا نہ جاتا تھا۔ زبان سوکھ گئی تھی۔ حلق خشک ہو گیا تھا۔ آخر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ تب بھی وہ شکل آنکھوں سے دور نہ ہوئی اور بند آنکھوں کو نظر آتی رہی تو میں نے آنکھ کھول دی۔ یکا یک ایک دوسرا آدمی میری شکل کا روشن دان سے اندر آیا اور اس آدمی کے برابر بیٹھ گیا۔ وہ دونوں چپ تھے اور مجھے گھور گھور کر غصے کی آنکھوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر تیسرا آدمی میری صورت کا آ گیا اور یہ بھی مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگا۔ میرا عجب حال تھا۔ تمام جسم کانپ رہا تھا۔ عمل کے نقرے زبان سے ادا ہونے بند ہو گئے تھے۔ تسبیح ہاتھ سے گر پڑی تھی۔
یکا یک میں نے سنا کہ پہلے آنے والے نے میری جیسی آواز میں کہا میاں کچھ پکاتے کیوں نہیں۔ دوسرے نے کہا کیا پکا ئیں؟ تیسرے نے کہا کڑھائی کرو۔ یہ کہتے ہی پہلا آدمی اچکا اور اڑتا ہوا روش دان میں گھس گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک چولہا تھا اور لکڑیاں تھیں۔ اس کے بعد دوسرا آدمی اڑ گیا اور کچھ دیر کے بعد آیا تو ایک کڑھائی اور تیل کا ایک کنستر لایا۔ کنستر پر چیکٹ لگا ہواتھا۔ انھوں نے کڑھائی چولہے پر رکھ دی اور تیل کڑھائی میں اور لکڑیاں چولہے میں بھر دیں۔ تیسرے آدمی نے لکڑیوں میں ایک پھونک ماری۔ لکڑیاں خود بخود جلنے لگیں اور تیل میں جوش آنے لگا۔ اس کے بعد وہ تینوں آپس میں کہنے گے اب اس کڑھائی کے تیل میں کیا تلیں۔ پہلے آنے والے نے کہا اس آدمی کو تیل میں ڈال دو جو سامنے کھڑا ہے۔ یہ سن کر میری بری حالت ہوگئی اور غش آتا معلوم ہوا۔ ہاتھ پاو ¿ں کانپ رہے تھے اور سارا بدن تھر تھرا رہا تھا اور پسینہ آرہا تھا۔ آخر میں جھکا اور میں نے اپنے ہاتھ سے چھری زمین سے اٹھالی اور اسے اس خیال سے پکڑ لیا کہ اگر یہ لوگ میری طرف مجھے پکڑنے کو بڑھیں تو میں ان کے چھری مار دوں۔
یکا یک میں نے سنا کہ پہلے آنے والے نے میری جیسی آواز میں کہا میاں کچھ پکاتے کیوں نہیں۔ دوسرے نے کہا کیا پکا ئیں؟ تیسرے نے کہا کڑھائی کرو۔ یہ کہتے ہی پہلا آدمی اچکا اور اڑتا ہوا روش دان میں گھس گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک چولہا تھا اور لکڑیاں تھیں۔ اس کے بعد دوسرا آدمی اڑ گیا اور کچھ دیر کے بعد آیا تو ایک کڑھائی اور تیل کا ایک کنستر لایا۔ کنستر پر چیکٹ لگا ہواتھا۔ انھوں نے کڑھائی چولہے پر رکھ دی اور تیل کڑھائی میں اور لکڑیاں چولہے میں بھر دیں۔ تیسرے آدمی نے لکڑیوں میں ایک پھونک ماری۔ لکڑیاں خود بخود جلنے لگیں اور تیل میں جوش آنے لگا۔ اس کے بعد وہ تینوں آپس میں کہنے گے اب اس کڑھائی کے تیل میں کیا تلیں۔ پہلے آنے والے نے کہا اس آدمی کو تیل میں ڈال دو جو سامنے کھڑا ہے۔ یہ سن کر میری بری حالت ہوگئی اور غش آتا معلوم ہوا۔ ہاتھ پاو ¿ں کانپ رہے تھے اور سارا بدن تھر تھرا رہا تھا اور پسینہ آرہا تھا۔ آخر میں جھکا اور میں نے اپنے ہاتھ سے چھری زمین سے اٹھالی اور اسے اس خیال سے پکڑ لیا کہ اگر یہ لوگ میری طرف مجھے پکڑنے کو بڑھیں تو میں ان کے چھری مار دوں۔
ایکا ایکی کیا دیکھتا ہوں کہ چولہے کی بھڑکتی ہوئی آگ کے اندر ایک زندہ چوہا پھر رہا ہے۔ میرے خوف میں ذرا کمی ہوئی اور میں چوہے کو دیکھے لگا کہ یہ جلتا نہیں۔ ایک آدمی نے چولہے کے اندر ہاتھ ڈالا اور چوہے کی دم پکڑی اور چوہے کو آگ سے باہر لے آیا۔ پھر چوہے کو کڑھائی کے جوش کھاتے ہوئے تیل میں ڈال دیا۔ چوہا ابلتے ہوئے تیل میں کبھی او پر آتا اور بھی تیل کے اندر چھپ جاتا۔ تھوڑی دیر کے بعد چوہے نے اپنا منہ تیل کے باہر نکالا اور اس کی ناک سے خون کا فوارہ نکلنے لگا اور اتنا نکلا کہ کڑھائی میں تیل نہ رہا خون ہی خون دکھائی دینے لگا۔ اس خون کے اندر سے ایک کالے آدمی کا سر نکلا جس کے بال حبشیوں کے سے تھے۔ آنکھیں بڑی بڑی اور پھٹی ہوئی اور لال لال، چہرہ کالا ، ناک چپٹی، دانت زرد اور بے حد خوفناک۔ اس چہرے نے بھی مجھے گھور نا شروع کیا اور اس کے اندر سے بلی کے غرانے کی سی گرج اور پھر شیر کی سی گرج پیدا ہوئی۔ ایسا معلوم ہوا کہ وہ کالا حبشی میری طرف غراتا ہوا بڑھا۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وہ کڑھائی سے نکل کر حصار کے اندر آ گیا ہے۔ میرا ڈر کے مارے برا حال تھا۔ چیخ مار کر گر پڑتا کہ مجھے استاد کی بات یاد آئی کہ کوئی چیز اندر آ جائے تو اس کے چھری مارنا۔ میں نے بہت زور سے وہ چھری اس حبشی کے تالو پر ماری۔ چھری کا مارنا تھا کہ ایسا معلوم ہوا گویا میں نے وہ چھری اپنے دل میں ماری اور میں غش کھا کر گر پڑا۔ میں ساری رات بے ہوش پڑا رہا۔ صبح سورج نکلا تو ہوش آیا۔ میں نے دیکھا وہاں نہ کڑھائی ہے، نہ چولہا ہے، نہ لکڑیاں ہیں، نہ آگ کا نشان ہے اور نہ ہی ان تینوں آدمیوں کا کہیں اتا پتا ہے، نہ ان کے بیٹھنے کی جگہ کوئی علامت ہے۔ چھری حصار کے باہر زمین پر گڑی ہوئی ہے۔ باوجود خوف اور ڈر کے میں نے چھری اس زور سے ماری تھی کہ وہ زمین کے اندر آدھی گھس گئی تھی۔ میرا یہ حال تھا گویا برسوں سے بیمار ہوں۔ بہت مشکل سے اٹھا اور حجرے کے کواڑ کھولے۔ ہاتھ پاو ¿ں میں دم نہ تھا۔ سر چکرا رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھی میں چھ ماہ بیمار رہا۔
بعد میں انھوں نے ”ہم زاد، روح اور جن“ کے عنوان سے متعدد مضامین لکھے۔ جن میں انھوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کا ذکر کیا تاکہ دوسرے لوگ ان گمراہ کن راستوں پر چل کر اپنا وقت اور ایمان برباد نہ کریں۔
موبائل نمبر: 9818195929
بعد میں انھوں نے ”ہم زاد، روح اور جن“ کے عنوان سے متعدد مضامین لکھے۔ جن میں انھوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کا ذکر کیا تاکہ دوسرے لوگ ان گمراہ کن راستوں پر چل کر اپنا وقت اور ایمان برباد نہ کریں۔
موبائل نمبر: 9818195929
❤1
*وفیات مورخہ:اکتوبر 30*
2023ء آغا حسن عسکری۔
1981ء اصغر گورکھپوری (سید اصغر حسین )۔ شاعر ،
1985ء بیگم ایچ اے حکم (حسن آراء)۔ سماجی کارکن بنگال
2012ء ثمینہ راجہ۔ شاعرہ
1983ء حاجی محمود بالائی۔
2012ء حیدر علی جی قاضی۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1984ء خواجہ خورشید انور۔
2020ء رابرٹ فسک۔ برطانوی صحافی
2003ء سبدھرا جوشی۔ کارکن تحریک آزادی
1991ء شہاب الدین رحمت اللہ۔ قانون داں ، انگریزی شاعر
2022ء صدف نعیم۔ پاکستانی صحافی
1967ء غلام عباس مرزا۔ شیعہ عالم
2024ء فہمی بدایونی (زماں شیر خان)۔
1996ء قربان جیلانی۔ ریڈیو ٹی وی اناونسر
2007ء قیصر امین پور۔ فارسی شاعر
1834ء محمد علی شوکانی۔ یمنی عالم ومحدث
2010ء مختار الدین احمد آرزو۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1990ء نسیم چغتائی۔ افسانہ نگار ،
2023ء آغا حسن عسکری۔
1981ء اصغر گورکھپوری (سید اصغر حسین )۔ شاعر ،
1985ء بیگم ایچ اے حکم (حسن آراء)۔ سماجی کارکن بنگال
2012ء ثمینہ راجہ۔ شاعرہ
1983ء حاجی محمود بالائی۔
2012ء حیدر علی جی قاضی۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1984ء خواجہ خورشید انور۔
2020ء رابرٹ فسک۔ برطانوی صحافی
2003ء سبدھرا جوشی۔ کارکن تحریک آزادی
1991ء شہاب الدین رحمت اللہ۔ قانون داں ، انگریزی شاعر
2022ء صدف نعیم۔ پاکستانی صحافی
1967ء غلام عباس مرزا۔ شیعہ عالم
2024ء فہمی بدایونی (زماں شیر خان)۔
1996ء قربان جیلانی۔ ریڈیو ٹی وی اناونسر
2007ء قیصر امین پور۔ فارسی شاعر
1834ء محمد علی شوکانی۔ یمنی عالم ومحدث
2010ء مختار الدین احمد آرزو۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1990ء نسیم چغتائی۔ افسانہ نگار ،
سچی باتیں (21؍اپریل 1941ء)۔۔۔ پہلی بھوک ہڑتال*
*مولانا عبد الماجد دریابادی*
صحیح مسلمؔ، وجامع ترمذیؔ ، حدیث نبوی کی مشہور ترین، مستند ترین کتابوں میں سے ہیں۔ دونوں کی روایت ہے، کہ عرب کے مشہور جنرل اور رسول ؐ کے مشہور صحابی سعد ابن ابی وقاصؓ جب اپنی کم سِنی مین، اور رسولِؐ برحق کی شروع رسالت ہی میں ایمان لے آئے، تو ان کی والدہ بہت بگڑیں اور اس حالت میں
حلفت أم سعد ألّا تكلّمه أبدًا حتى يكفر بدينه.
قسم کھا بیٹھیں کہ میں ہرگز تو تجھ سے بولوں چالوں گی نہیں، جب تک تو اپنے اس نئے نرالے دین سے دست بردار نہ ہوجائے گا۔
اور بولنا چالنا کیسا، اُس وقت تک نہ کھاؤں نہ پیوں گی، دانہ پانی سب حرام۔
ولا نأکل ولا نشرب۔
اور کہا تیرے اس نئے دین میں، تیرے ہی قول کے بموجب، تیرے
قالت زعمت ان اللہ وصاک بوالدیک وأنا أمک وأنا آمرک بھذا ۔
خدا نے تجھے والدین سے حسن سلوک کا، اُن کی اطاعت کا حکم نہیں دے رکھاہے؟ پھر میں آخر تیری ماں ہوں یا نہیں؟ میں ماں ہوکر تجھے حکم دیتی ہوں اس نئے دین کے ترک کا!……دھمکی محض دھمکی نہ تھی۔ عمل شروع ہوا۔ تین لمبے لمبے
فسکت ثلاثًا۔
دن اور تین بڑی بڑی راتیں گزر گئیں، اور ضعیفہ کے لب ودہن غذا کے دانے اور پانی کے قطرہ سے آشنا نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ فاقہ کشی کی شدت سے غشی شروع
حتی غشی علیھا من الجھد ۔
ہوگئی ، اور دین قدیم کو جان اور اولاد سے عزیز رکھنے والی ماں بے ہوش ہوگئی۔
سعدؓ کو اب بھی رحم نہ آیا۔ ایک اور بھائی عمارہ نامی تھے، اُن کا دل پسیجا۔
فقام لھا ابن یقال لہ عمارۃ فسقاھا فجعلت تدعوا علی سعدٍ۔
اُنھوں نے کسی طرح قسم تڑوائی پانی حلق سے اُتارا۔ ہوش آیا۔ ماں نے سعد کو کوسنا شروع کردیا۔ مِنّتوں ، خوشامدوں، نازبرداریوں کی جگہ اب زبان پر بددعائیں تھیں!……محدثیں کہتے ہیں کہ دیکھنا ، 18۔19سال کے نوجوان کی اِس قوت ایمانی کو۔ اور انھیں سعدؓ کے مناقب وفضائل کی فہرست کا ایک نیا مضمون مل گیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ حدود متعین ہوگئے اس سے والدین کی اطاعت کے اور قرآن پاک کی متعدد آیتوں کی شان نزول کا سراغ مل گیا……محدثین اورمفسرین دونوں کے استنباطات اور ارشادات اپنی اپنی جگہ پر بجا، لیکن ان سب سے بھی بڑھ کر ،ایسی ہوی واضح وصریح، تاریخ بھی تو ہاتھ آگئی، ’’بھوک ہرتال‘‘ کی! سیاسیاتِ جاہلیتِ جدید کے اسلحہ خانہ کے سب سے بے پناہ حربا’’ہنگر اسٹرائک‘‘ کی!……تہذیب جدید میں ہمت وبے خوفی ، جرأت وسرفروشی پر آخری لفظ!
1930ء میں آئر لینڈ میں بھوک ہرتال سے جان دینے والے میکسوینیؔ کو ابھی چند ہی سال ہوئے ہیں ۔ اقدام خودکشی کرنے والی، موت کے دروازے تک پہنچنے والی، اپنے عہد کی اس ’’روشن خیال‘‘ وجانباز خاتون کو صدیاں گزر چکیں، عجب نہیں کہ حساب شمسی سے تیرہ سوتیس سال ہوئے ہوں اور حساب قمری سے اس سے بھی زائد……ظلم ہے ظلم کہ اپنے ملک کے ’’شہیدانِ حُرّیت‘‘ کے ’’ذوق شہادت‘‘ کی عمر کا دامن جاہلیتِ جدید سے باندھے رہئے، اور اس سلسلۂ زلفِ دراز کا سراجاہلیت قدیم کی ’’روشن خیال‘‘ خاتون سے نہ ملائیے! دنیا میں بھوک ہرتال کی نظیر قائم کرجانے والی سب سے پہلی ہستی، اور پھر وہ بھی عورت ذات! یہ دوہری دوہری فضیلتیں، اللہ اکبر!
https://telegram.me/ilmokitab
*مولانا عبد الماجد دریابادی*
صحیح مسلمؔ، وجامع ترمذیؔ ، حدیث نبوی کی مشہور ترین، مستند ترین کتابوں میں سے ہیں۔ دونوں کی روایت ہے، کہ عرب کے مشہور جنرل اور رسول ؐ کے مشہور صحابی سعد ابن ابی وقاصؓ جب اپنی کم سِنی مین، اور رسولِؐ برحق کی شروع رسالت ہی میں ایمان لے آئے، تو ان کی والدہ بہت بگڑیں اور اس حالت میں
حلفت أم سعد ألّا تكلّمه أبدًا حتى يكفر بدينه.
قسم کھا بیٹھیں کہ میں ہرگز تو تجھ سے بولوں چالوں گی نہیں، جب تک تو اپنے اس نئے نرالے دین سے دست بردار نہ ہوجائے گا۔
اور بولنا چالنا کیسا، اُس وقت تک نہ کھاؤں نہ پیوں گی، دانہ پانی سب حرام۔
ولا نأکل ولا نشرب۔
اور کہا تیرے اس نئے دین میں، تیرے ہی قول کے بموجب، تیرے
قالت زعمت ان اللہ وصاک بوالدیک وأنا أمک وأنا آمرک بھذا ۔
خدا نے تجھے والدین سے حسن سلوک کا، اُن کی اطاعت کا حکم نہیں دے رکھاہے؟ پھر میں آخر تیری ماں ہوں یا نہیں؟ میں ماں ہوکر تجھے حکم دیتی ہوں اس نئے دین کے ترک کا!……دھمکی محض دھمکی نہ تھی۔ عمل شروع ہوا۔ تین لمبے لمبے
فسکت ثلاثًا۔
دن اور تین بڑی بڑی راتیں گزر گئیں، اور ضعیفہ کے لب ودہن غذا کے دانے اور پانی کے قطرہ سے آشنا نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ فاقہ کشی کی شدت سے غشی شروع
حتی غشی علیھا من الجھد ۔
ہوگئی ، اور دین قدیم کو جان اور اولاد سے عزیز رکھنے والی ماں بے ہوش ہوگئی۔
سعدؓ کو اب بھی رحم نہ آیا۔ ایک اور بھائی عمارہ نامی تھے، اُن کا دل پسیجا۔
فقام لھا ابن یقال لہ عمارۃ فسقاھا فجعلت تدعوا علی سعدٍ۔
اُنھوں نے کسی طرح قسم تڑوائی پانی حلق سے اُتارا۔ ہوش آیا۔ ماں نے سعد کو کوسنا شروع کردیا۔ مِنّتوں ، خوشامدوں، نازبرداریوں کی جگہ اب زبان پر بددعائیں تھیں!……محدثیں کہتے ہیں کہ دیکھنا ، 18۔19سال کے نوجوان کی اِس قوت ایمانی کو۔ اور انھیں سعدؓ کے مناقب وفضائل کی فہرست کا ایک نیا مضمون مل گیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ حدود متعین ہوگئے اس سے والدین کی اطاعت کے اور قرآن پاک کی متعدد آیتوں کی شان نزول کا سراغ مل گیا……محدثین اورمفسرین دونوں کے استنباطات اور ارشادات اپنی اپنی جگہ پر بجا، لیکن ان سب سے بھی بڑھ کر ،ایسی ہوی واضح وصریح، تاریخ بھی تو ہاتھ آگئی، ’’بھوک ہرتال‘‘ کی! سیاسیاتِ جاہلیتِ جدید کے اسلحہ خانہ کے سب سے بے پناہ حربا’’ہنگر اسٹرائک‘‘ کی!……تہذیب جدید میں ہمت وبے خوفی ، جرأت وسرفروشی پر آخری لفظ!
1930ء میں آئر لینڈ میں بھوک ہرتال سے جان دینے والے میکسوینیؔ کو ابھی چند ہی سال ہوئے ہیں ۔ اقدام خودکشی کرنے والی، موت کے دروازے تک پہنچنے والی، اپنے عہد کی اس ’’روشن خیال‘‘ وجانباز خاتون کو صدیاں گزر چکیں، عجب نہیں کہ حساب شمسی سے تیرہ سوتیس سال ہوئے ہوں اور حساب قمری سے اس سے بھی زائد……ظلم ہے ظلم کہ اپنے ملک کے ’’شہیدانِ حُرّیت‘‘ کے ’’ذوق شہادت‘‘ کی عمر کا دامن جاہلیتِ جدید سے باندھے رہئے، اور اس سلسلۂ زلفِ دراز کا سراجاہلیت قدیم کی ’’روشن خیال‘‘ خاتون سے نہ ملائیے! دنیا میں بھوک ہرتال کی نظیر قائم کرجانے والی سب سے پہلی ہستی، اور پھر وہ بھی عورت ذات! یہ دوہری دوہری فضیلتیں، اللہ اکبر!
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
غلطی ہائے مضامین۔۔۔ خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو!
. احمد حاطب صدیقی - October 9, 2026
پچھلے کالم میں دیوانِ غالبؔ کے مرتبین کا ذکر تھا۔ نہ جانے کس جھونک میں آکر ہم ’علامہ آسی‘ کو ’علامہ آلوسی‘ لکھ گئے۔ اپنی آنکھ کا شہتیر تو خیر ہمیں بھی نظر نہیں آتا۔ مگر ہماری آنکھ (کی خطا) کا یہ تنکا دوسروں کو بھی دکھائی نہ دیا۔ الحمدللہ تادمِ تحریر کسی قاری نے اس خطا پر ہماری گرفت نہیں کی۔ وہ تو اللہ بھلا کرے برادر عبدالخالق بٹ کا جنھوں نے چپکے سے فون کرکے ہم سے پوچھا کہ
’’حاطب بھائی! محض اپنی اُلجھن دُور کرنے کے لیے پوچھ رہا ہوں، کیا علامہ آلوسیؒ نے بھی دیوانِ غالبؔ مرتب کیا ہے؟ وہی جن کی تفسیر ’روح المعانی‘ مشہورہے!‘‘
حاطب بھائی کیا کہتے؟ ہرچند علامہ محمود شہاب الدین ابوثنا حسینی آلوسیؒ خود بھی ایک شاعر تھے، لیکن افسوس، اُنھیں دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے کی توفیق ہوئی نہ اس کا خیال آیا۔ گو اُنھوں نے بھی غالبؔ کا زمانہ پایا، مگر وہ تو عمر بھر عراق کے شہر آلوس کے آس پاس ہی گھومتے رہے۔ بہت ہوا تو استنبول اور بغداد چلے گئے۔ نیز علامہ آلوسیؒ ساری زندگی تفسیر، حدیث اور فقہ کی درس و تدریس یا تصنیف و تالیف ہی میں مصروف رہے۔ شاید اِنھیں مصروفیات (اور اُردو سے عدم رغبت) کے باعث علامہ آلوسیؒ نے کلامِ غالبؔ سے خود کو آلودہ کرنا پسند نہ کیا۔
صاحبو! دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے اور اُس کی شرح لکھنے کی سعادت توعلامہ عبدالباری آسیؔ الدنی کو حاصل ہوئی تھی۔ ہماری آنکھوں نے خطا کی توآسی کو آلوسی پڑھ لیا۔ قلم نے خطا کی تو یہی لکھ دیا اور یہی چھپ گیا۔ محولہ کالم کے کوئی چار پانچ ہزار سے زائد قارئین میں سے شاید ہی کسی ایک قاری کی نظر اس خطا پر پڑی ہو۔ پَر، اُس ایک اکیلے قاری کے لیے زیڈ اے بخاری کی لغت میں بہت بُرا لفظ ملا۔
ریڈیو پاکستان کے اوّلین ڈائریکٹر جنرل جناب ذوالفقار علی بخاری نے ایک بار اپنی نشری گفتگو میں لفظ ’زَعم‘ (’ز‘ پر زبر) کو نہ جانے کس جھونک میں آکر ’زُعم‘ (’ز‘ پر پیش کے ساتھ) پڑھ دیا۔ ریکارڈنگ سنی تو اِس خطا کا احساس ہوا،(اپنا ہی) سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ اُٹھے تو پروگرام کے پیش کار سے کہا: ’’میاں! تلفظ کی یہ غلطی پکڑی جائے گی۔ چلو، گفتگو دوبارہ ریکارڈ کرو!‘‘
پروگرام کے پروڈیوسر نے غالباً دوبارہ محنت سے جان چھڑانے کے لیے کہا:
’’سر! جانے دیجیے۔ سَو میں سے کوئی ایک ہی سامع ایسا ہوگا جو پوری گفتگو میں سے اتنی ذرا سی غلطی پکڑکے کھڑا ہوجائے گا‘‘۔
بخاری صاحب بولے: ’’اُسی ایک… زادے سے تو ڈر رہا ہوں!‘‘
مشہور مقولہ ہے: ’’انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے‘‘۔
یوسفیؔ صاحب نے اس مقولے میں ’نسیان‘ کی جگہ ’نسوان‘ استعمال کیا ہے، مگر یہ اُن کی خطا نہیں، اُن کی عطا ہے۔
خطا کا مطلب بھول چوک، قصور، غلطی، سہو، جرم اور گناہ ہے۔ مگرجرم اور گناہِ بے ارادہ۔ ’بے ارادہ‘ پر یاد آیا کہ ابھی چند روز قبل ’’عالمی یومِ اساتذہ‘‘ منایا گیا ہے۔ ہماری طرف سے ہر اُستادِ محترم کو سلام۔ مگر بچپن میں بعض ایسے جلّاد اساتذہ سے بھی سابقہ پڑا جنھیں دیکھتے ہی ’پیشاب خطا‘ ہوجاتا تھا۔ مرکھنے اساتذہ کا ذکراس لیے کیا کہ آپ کو ’خطا‘ کے بے اراد سرزد ہوجانے کی مثال یاد دلا دی جائے۔
یہ بات تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ ’خطا‘ شمالی چین (ترکستان، تاتار) کے ایک شہر کا نام بھی ہے۔ ہمارے ہاں ’نانِ خطائی‘ نے بڑی شہرت پائی۔ ہم نے تو پاکستان میں بنی ہوئی ’نانِ خطائی‘ بھی مزے لے لے کر کھائی۔ تاہم اُردو میں ’خطا‘ کے اتنے مزے نہیں ہیں۔ قواعد و انشا کے اساتذہ کہتے ہیں کہ ’’خطا ہونا‘‘ فعلِ لازم ہے، اس سے بچنا مشکل ہے۔ اِنھیں میں سے ایک پروفیسر اقبالؔ عظیم کا کہنا ہے:
ہم آدمی سے فرشتے تو بن نہیں سکتے
وہ چاہتے ہیں کہ ہم سے کوئی خطا ہی نہ ہو
پروفیسر صاحب مرحوم اپنی خطا کو تو ’آدمیت‘ کی علامت جانتے تھے، مگر قوم کو ڈانٹ ڈانٹ کریوں اپنی پروفیسری جھاڑتے تھے کہ
نقاب پوشوں کو للہ رہنما نہ کرو
خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو
پھر بھی قوم نے اُن کی ایک نہ سُنی۔ اِس معاملے میں ہمیشہ خطاکار اور خطاوار ہی رہی۔ ’خطاکار‘ قصورکرنے والا ہوتا ہے اور ’خطاوار‘ وہ ہوتا ہے جس پر قصور ثابت ہوجائے یا ثابت نہ ہورہا ہو تو وہ خود مان لے کہ مجھ سے یہ قصور ہوا۔ ہمارے ’اہلِ تھانہ‘ قصور منوانے میں ماہر ہیں۔ کبھی کبھی کسی کو منانے کے لیے بھی قصور ماننا پڑجاتا ہے۔ مولوی سید احمد دہلوی (مؤلف ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘) فرماتے ہیں:
خفا گرچہ ناحق بھی پاتے ہیں ہم
خطا وار بن کر مناتے ہیں ہم
. احمد حاطب صدیقی - October 9, 2026
پچھلے کالم میں دیوانِ غالبؔ کے مرتبین کا ذکر تھا۔ نہ جانے کس جھونک میں آکر ہم ’علامہ آسی‘ کو ’علامہ آلوسی‘ لکھ گئے۔ اپنی آنکھ کا شہتیر تو خیر ہمیں بھی نظر نہیں آتا۔ مگر ہماری آنکھ (کی خطا) کا یہ تنکا دوسروں کو بھی دکھائی نہ دیا۔ الحمدللہ تادمِ تحریر کسی قاری نے اس خطا پر ہماری گرفت نہیں کی۔ وہ تو اللہ بھلا کرے برادر عبدالخالق بٹ کا جنھوں نے چپکے سے فون کرکے ہم سے پوچھا کہ
’’حاطب بھائی! محض اپنی اُلجھن دُور کرنے کے لیے پوچھ رہا ہوں، کیا علامہ آلوسیؒ نے بھی دیوانِ غالبؔ مرتب کیا ہے؟ وہی جن کی تفسیر ’روح المعانی‘ مشہورہے!‘‘
حاطب بھائی کیا کہتے؟ ہرچند علامہ محمود شہاب الدین ابوثنا حسینی آلوسیؒ خود بھی ایک شاعر تھے، لیکن افسوس، اُنھیں دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے کی توفیق ہوئی نہ اس کا خیال آیا۔ گو اُنھوں نے بھی غالبؔ کا زمانہ پایا، مگر وہ تو عمر بھر عراق کے شہر آلوس کے آس پاس ہی گھومتے رہے۔ بہت ہوا تو استنبول اور بغداد چلے گئے۔ نیز علامہ آلوسیؒ ساری زندگی تفسیر، حدیث اور فقہ کی درس و تدریس یا تصنیف و تالیف ہی میں مصروف رہے۔ شاید اِنھیں مصروفیات (اور اُردو سے عدم رغبت) کے باعث علامہ آلوسیؒ نے کلامِ غالبؔ سے خود کو آلودہ کرنا پسند نہ کیا۔
صاحبو! دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے اور اُس کی شرح لکھنے کی سعادت توعلامہ عبدالباری آسیؔ الدنی کو حاصل ہوئی تھی۔ ہماری آنکھوں نے خطا کی توآسی کو آلوسی پڑھ لیا۔ قلم نے خطا کی تو یہی لکھ دیا اور یہی چھپ گیا۔ محولہ کالم کے کوئی چار پانچ ہزار سے زائد قارئین میں سے شاید ہی کسی ایک قاری کی نظر اس خطا پر پڑی ہو۔ پَر، اُس ایک اکیلے قاری کے لیے زیڈ اے بخاری کی لغت میں بہت بُرا لفظ ملا۔
ریڈیو پاکستان کے اوّلین ڈائریکٹر جنرل جناب ذوالفقار علی بخاری نے ایک بار اپنی نشری گفتگو میں لفظ ’زَعم‘ (’ز‘ پر زبر) کو نہ جانے کس جھونک میں آکر ’زُعم‘ (’ز‘ پر پیش کے ساتھ) پڑھ دیا۔ ریکارڈنگ سنی تو اِس خطا کا احساس ہوا،(اپنا ہی) سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ اُٹھے تو پروگرام کے پیش کار سے کہا: ’’میاں! تلفظ کی یہ غلطی پکڑی جائے گی۔ چلو، گفتگو دوبارہ ریکارڈ کرو!‘‘
پروگرام کے پروڈیوسر نے غالباً دوبارہ محنت سے جان چھڑانے کے لیے کہا:
’’سر! جانے دیجیے۔ سَو میں سے کوئی ایک ہی سامع ایسا ہوگا جو پوری گفتگو میں سے اتنی ذرا سی غلطی پکڑکے کھڑا ہوجائے گا‘‘۔
بخاری صاحب بولے: ’’اُسی ایک… زادے سے تو ڈر رہا ہوں!‘‘
مشہور مقولہ ہے: ’’انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے‘‘۔
یوسفیؔ صاحب نے اس مقولے میں ’نسیان‘ کی جگہ ’نسوان‘ استعمال کیا ہے، مگر یہ اُن کی خطا نہیں، اُن کی عطا ہے۔
خطا کا مطلب بھول چوک، قصور، غلطی، سہو، جرم اور گناہ ہے۔ مگرجرم اور گناہِ بے ارادہ۔ ’بے ارادہ‘ پر یاد آیا کہ ابھی چند روز قبل ’’عالمی یومِ اساتذہ‘‘ منایا گیا ہے۔ ہماری طرف سے ہر اُستادِ محترم کو سلام۔ مگر بچپن میں بعض ایسے جلّاد اساتذہ سے بھی سابقہ پڑا جنھیں دیکھتے ہی ’پیشاب خطا‘ ہوجاتا تھا۔ مرکھنے اساتذہ کا ذکراس لیے کیا کہ آپ کو ’خطا‘ کے بے اراد سرزد ہوجانے کی مثال یاد دلا دی جائے۔
یہ بات تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ ’خطا‘ شمالی چین (ترکستان، تاتار) کے ایک شہر کا نام بھی ہے۔ ہمارے ہاں ’نانِ خطائی‘ نے بڑی شہرت پائی۔ ہم نے تو پاکستان میں بنی ہوئی ’نانِ خطائی‘ بھی مزے لے لے کر کھائی۔ تاہم اُردو میں ’خطا‘ کے اتنے مزے نہیں ہیں۔ قواعد و انشا کے اساتذہ کہتے ہیں کہ ’’خطا ہونا‘‘ فعلِ لازم ہے، اس سے بچنا مشکل ہے۔ اِنھیں میں سے ایک پروفیسر اقبالؔ عظیم کا کہنا ہے:
ہم آدمی سے فرشتے تو بن نہیں سکتے
وہ چاہتے ہیں کہ ہم سے کوئی خطا ہی نہ ہو
پروفیسر صاحب مرحوم اپنی خطا کو تو ’آدمیت‘ کی علامت جانتے تھے، مگر قوم کو ڈانٹ ڈانٹ کریوں اپنی پروفیسری جھاڑتے تھے کہ
نقاب پوشوں کو للہ رہنما نہ کرو
خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو
پھر بھی قوم نے اُن کی ایک نہ سُنی۔ اِس معاملے میں ہمیشہ خطاکار اور خطاوار ہی رہی۔ ’خطاکار‘ قصورکرنے والا ہوتا ہے اور ’خطاوار‘ وہ ہوتا ہے جس پر قصور ثابت ہوجائے یا ثابت نہ ہورہا ہو تو وہ خود مان لے کہ مجھ سے یہ قصور ہوا۔ ہمارے ’اہلِ تھانہ‘ قصور منوانے میں ماہر ہیں۔ کبھی کبھی کسی کو منانے کے لیے بھی قصور ماننا پڑجاتا ہے۔ مولوی سید احمد دہلوی (مؤلف ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘) فرماتے ہیں:
خفا گرچہ ناحق بھی پاتے ہیں ہم
خطا وار بن کر مناتے ہیں ہم
ماننے اور منانے پر ایک پُرانا محاورہ یاد آگیا، جس کا تعلق بزرگوں کو ماننے سے یا بزرگوں کی ماننے سے ہے۔ عام طور پر ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطاست‘‘ کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ بزرگوں کی خطا پکڑنا خود ایک خطا ہے۔ فہم کی یہ خطا شیخ سعدیؒ کے ایک شعر سے عام ہوئی۔ مگر شیخ سعدیؒ نے تو ’خطائے بزرگاں‘ نہیں ’خطا بر بزرگاں‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ سعدیؔ کا شعر یوں ہے:
نہ در ہر سخن بحث کردن رواست
خطا بر بزرگاں گرفتن خطاست
یعنی بات بات پربحث کرنا ٹھیک نہیں۔ کاش یہ بات سماجی ذرائع ابلاغ پر’بحثیائے‘ ہوئے لوگوں کو بھی سمجھادی جاتی۔ شیخ سعدیؒ کے درست مصرعے کی جگہ جو غلط مصرع، زباں زدِ خاص و عام ہوگیا ہے، وہ بھی ہماری کسی بزرگ ہی کی خطا ہوگی۔ ہماری نسل کی تو نہیں ہے۔ مگر یہ بات ہمارے دل میں ہمیشہ کھٹکتی رہی کہ بزرگوں کی کسی خطا پر گرفت، خطا کیسے ہوگئی؟ خطا تو ہوتی ہی قابلِ گرفت ہے۔ ایک دن ہمارے ایک استاد نے اس گرفت پر دل گرفتہ دیکھا تو سمجھایا: ’’بیٹا اس محاورے میں ’گرفتن‘ کا مطلب ’تھامنا‘ ہے۔یوں سمجھو کہ بزرگوں کی خطاؤں کو مضبوطی سے تھامنا خطا ہے‘‘۔ اب بات سمجھ میں آگئی۔ہمارے دین کی تعلیم یہی ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر170 میں ارشادہوا:
’’ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کیے جائیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہِ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ اُنھیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟‘‘
تو صاحب!یہ ہوا ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطاست‘‘ کا برحق مفہوم۔عربی زبان میں بھی ’گرفتن‘ کے مفہوم کا ایک لفظ’ خُذ‘ استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی مضبوطی سے تھام لینے کے علاوہ کسی کو پکڑلینے اور گرفتار کرنے کے ہیں۔’مواخذہ‘ اور’ماخوذ‘ اسی سے نکلاہے۔ مشہور عربی محاورہ ہے: ’خُذ ما صفا و دَع ما کَدِر‘۔ یعنی صاف ستھری، پاک چیزیں تھام لو اور گندی ناپاک چیزیں چھوڑ دو۔ عزیزؔ لکھنوی لکھتے ہیں:
صاف باطن دیر سے ہیں منتظر
ساقیا! خُذ ما صَفا، دَع ما کَدِر
سورۃ الحشر کی آیت نمبر7 میں اہلِ ایمان کو حکم ہے کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم جو عطا فرمائیں اُسے تھام لو (فَخُذُوْہ) اور جس چیز سے منع فرمادیں اُس سے باز رہو‘‘۔پس، اے لوگو! بزرگوں کی خطائیں تھام کراُن ہی پرڈٹے نہ رہو۔خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو!
نہ در ہر سخن بحث کردن رواست
خطا بر بزرگاں گرفتن خطاست
یعنی بات بات پربحث کرنا ٹھیک نہیں۔ کاش یہ بات سماجی ذرائع ابلاغ پر’بحثیائے‘ ہوئے لوگوں کو بھی سمجھادی جاتی۔ شیخ سعدیؒ کے درست مصرعے کی جگہ جو غلط مصرع، زباں زدِ خاص و عام ہوگیا ہے، وہ بھی ہماری کسی بزرگ ہی کی خطا ہوگی۔ ہماری نسل کی تو نہیں ہے۔ مگر یہ بات ہمارے دل میں ہمیشہ کھٹکتی رہی کہ بزرگوں کی کسی خطا پر گرفت، خطا کیسے ہوگئی؟ خطا تو ہوتی ہی قابلِ گرفت ہے۔ ایک دن ہمارے ایک استاد نے اس گرفت پر دل گرفتہ دیکھا تو سمجھایا: ’’بیٹا اس محاورے میں ’گرفتن‘ کا مطلب ’تھامنا‘ ہے۔یوں سمجھو کہ بزرگوں کی خطاؤں کو مضبوطی سے تھامنا خطا ہے‘‘۔ اب بات سمجھ میں آگئی۔ہمارے دین کی تعلیم یہی ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر170 میں ارشادہوا:
’’ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کیے جائیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہِ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ اُنھیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟‘‘
تو صاحب!یہ ہوا ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطاست‘‘ کا برحق مفہوم۔عربی زبان میں بھی ’گرفتن‘ کے مفہوم کا ایک لفظ’ خُذ‘ استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی مضبوطی سے تھام لینے کے علاوہ کسی کو پکڑلینے اور گرفتار کرنے کے ہیں۔’مواخذہ‘ اور’ماخوذ‘ اسی سے نکلاہے۔ مشہور عربی محاورہ ہے: ’خُذ ما صفا و دَع ما کَدِر‘۔ یعنی صاف ستھری، پاک چیزیں تھام لو اور گندی ناپاک چیزیں چھوڑ دو۔ عزیزؔ لکھنوی لکھتے ہیں:
صاف باطن دیر سے ہیں منتظر
ساقیا! خُذ ما صَفا، دَع ما کَدِر
سورۃ الحشر کی آیت نمبر7 میں اہلِ ایمان کو حکم ہے کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم جو عطا فرمائیں اُسے تھام لو (فَخُذُوْہ) اور جس چیز سے منع فرمادیں اُس سے باز رہو‘‘۔پس، اے لوگو! بزرگوں کی خطائیں تھام کراُن ہی پرڈٹے نہ رہو۔خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو!