This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ویڈیو میں موجود تفسیر کو اپنے گھر منگوانا چاہتے ہوں تو درج ذیل واٹس ایپ نمبر سے رجوع کیجیے
wa.me/+919997866990
wa.me/+919358914948
قاسم احمد پالن پوری
منیجر مکتبہ حجاز دیوبند
wa.me/+919997866990
wa.me/+919358914948
قاسم احمد پالن پوری
منیجر مکتبہ حجاز دیوبند
❤12👍1
ختم بخاری ٢٠٢٠ آخری درس مفتی سعید صاحب پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ
✍️ اعجاز الحق خلیل قاسمی
معین مدرس دار العلوم دیوبند
آج ٨ جنوری ٢٠٢٦ حضرت الاستاد حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب کے انعامی جلسہ میں رقت آمیز اور درد انگیز بیان اور آپ کی طبیعت پر ختم بخاری میں در آئی رسم بے جا کے تئیں گہرے اثر نے ہمیں ختم بخاری ٢٠٢٠ مفتی سعید احمد پالن پوری رح کے آخری درس کی یاد دلادی ۔۔اس کی ایک جھلک یادوں کی سوغات کے دریچے سے ملاحظہ فرمائیں جو احقر نے دورہ حدیث شریف ٢٠٢٠ ء کی فراغت پر احباب و اکابر کے فراق و جدائی کے لمحات سے متاثر ہوکر چھتیس قسطوں میں دل گداز روداد اپنے احباب کی خدمت میں پیش کی تھی !
ملاحظہ فرمائیں:!
یادوں کی سوغات کے دریچے سے
ضبط بھی کر نہ سکے پھوٹ کے روئے بھی نہیں
آخری ایام اپنی تیزی دکھا رہے تھے، ہر کوئی مایوس تھا، ہوا بھی ٹھری ہوئی تھی، پھول مرجھائے جا رہے تھے، پورا ماحول یکسر بدل گیا تھا، دمکتے اور چمکتے چہرے بھی اپنی تابانی کھو چکے تھے، آج عشاء کے بعد ان کو الوداع کہنا تھا جن کے لیے بیتاب و بے کل تھے، جن کو دیکھ کر صحرا کی مہک میں مہک پیدا ہو، لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ الوداعی مجلس زندگی بھر کی یاد اور ڈائری بن جائے گی جو لمحہ لمحہ ستاتی اور تڑپاتی رہے گی۔
اک ڈائری پرانی میرے ہاتھ کیا لگی
یادوں کے زرد پیڑ کا یکایک ہرے ہوئے
حضرت الاستاذ کے آنے کا وقت ہو چلا تھا، تقریباً بیس یا اس سے کچھ زائد صفحات باقی تھے، قارئین مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے،
آپ سج دھج کر خوبصورت سفید عبایا پہن کر تشریف لائے، اور سبق کے آغاز ہی میں فرمایا کہ آج تو میں بالکل اچھا ہوں، دیکھو ! کیسے فر فر بول رہا ہوں، یہ سن کر ہم خوشی سے اچھلنے لگے کہ آج تو گراں قدر نصائح کا سلسلہ ہوگا اور طویل ہوگا!
کیا معلوم تھا کہ یہی آخری وضاحت ہے اس کے بعد چند ہی الفاظ سنے جائیں گے!
نیز عبارت کا سلسلہ شروع ہوا اور یکے بعد دیگرے محمد شاداب اعظمی عبدالرحمن اور محمد اخلد نے عبارت پڑھی اور آخر تک اخلد ہی نے پڑھی،
جس وقت کتاب کے چھ سات ورق باقی تھے حضرت الاستاذ کے آنسو جاری ہو گئے اور آپ کو دیکھ کر سامنے بیٹھے طلبہ بھی رونے لگے اور جس وقت آخری صفحہ باقی تھا تو آدھے صفحہ سے صاحب عبارت کی آواز بھاری ہوگئی اور رونے کی کیفیت طاری ہوگئی اور منظر ہی بدل گیا ہر کوئی تر آنکھیں لیے بیٹھا تھا، جیسے ہی عبارت ختم ہوئی اور کتاب تکمیل کو پہنچی تو حضرت
نے کچھ کہنا چاہا لیکن زبان نے قطعاً ساتھ نہ دیا بس پھر کیا تھا آپ زور زور سے رونے لگے ،طلبہ دارالعلوم اور دار العلوم دیوبند کی دار الحدیث نے آج تک ایسا منظر نہیں دیکھا ہوگا ، آپ طلباء کو دیکھ کر زور سے روتے طلبہ آپ کو دیکھ کر چیخیں مارتے، پھر آپ نے کہا جو اللہ کو منظور ہوگا وہی ہوگا، یہ جملہ آپ نے کئی بار دھرایا، یہ سن کر طلبہ کی اور ہچکیاں بندھ گئیں، آپ مسند سے اترنے لگے تو احقر نے آپ کو پکڑا لیکن کسی نے میرا ہاتھ چھڑا دیا یہ کہہ کر کہ آپ دل کے مریض ہیں، ہم قطعاً ہوش میں نہ تھے، اور پھر آپ نے جس وقت ہاتھ اٹھا کر یہ فرمایا کہ بھائیوں ! مجھے معاف کردینا،
وقت رخصت الوداع کا لفظ کہنے کے لیے
وہ ترے سوکھے لبوں کا تھر تھرانا یاد ہے
بس پھر تو ہماری جانیں نکل گئی، اور ہم میں سے کوئی مسند پکڑ کر کوئی دیوار پکڑ کر اتنا رویا کہ زندگی بھر نہ رویا ہوگا، اور ایک دیڑھ گھنٹے تک طلبہ درسگاہ ہی میں روتے رہے، اس درمیان کچھ ترانے پڑھے گئے جن میں اظہر شاداب کا تیار کردہ ترانہ نے تو مزید ہچکیوں کا سماں باندھ دیا۔
مجھے یاد ہے کہ میں زندگی میں اتنا نہیں رویا جتنا اس فراق پر رویا تین دن تک تو آنسوؤں نے تھمنے کا نام ہی نہیں لیا، اگلے روز جب مفتی صاحب کو ممبئی کے لیے رخصت کرنے کے لیے پہنچے تو وہی منظر وہاں بھی سامنے آگیا آپ ہم کو دیکھ کر رونے لگے اور ہم آپ کو دیکھ کر،
یہ اتنا دلدوز اور جاں سوز منظر تھا کہ وہ بھی سر دھننے لگے تھے جن کا افسانہ نہ تھا، اور ملک و بیرون ملک کی اور دار العلوم کے دیگر اساتذہ کی طرف سے تسلی کے کلمات طلبہ دورہ حدیث کے لیے کہے گئے، جیسے کہ مولانا الیاس گھمن ص اور مولانا سلمان ندوی ص کے پیغامات ہم تک پہنچے تو احقر نے ان تک شکریہ کے کلمات طلباء دورہ حدیث کی جانب سے پہنچائے، اور یوں ہمارا یہ سال ایک انقلابی تاریخی بن کر رہ گیا۔
اس چمن سے وہ ہم جب چلے جائیں گے
سچ کہوں ہم تو بے موت مر جائیں گے
یہ اکابر ہمیں یاد جب آئیں گے
گوشہ تنہائی سے لگ جائیں گے
روئیں گے خود سبھی کو رلائیں گے ہم
بعد اس کے کبھی پھر نہ چپ ہوں گے ہم
بالآخر یہ عظیم شخصیت ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیی اور ہم سب حسرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گیے !
اللہ تعالی حضرت الاستاد کو غریق رحمت فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے آمین
✍️ اعجاز الحق خلیل قاسمی
معین مدرس دار العلوم دیوبند
آج ٨ جنوری ٢٠٢٦ حضرت الاستاد حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب کے انعامی جلسہ میں رقت آمیز اور درد انگیز بیان اور آپ کی طبیعت پر ختم بخاری میں در آئی رسم بے جا کے تئیں گہرے اثر نے ہمیں ختم بخاری ٢٠٢٠ مفتی سعید احمد پالن پوری رح کے آخری درس کی یاد دلادی ۔۔اس کی ایک جھلک یادوں کی سوغات کے دریچے سے ملاحظہ فرمائیں جو احقر نے دورہ حدیث شریف ٢٠٢٠ ء کی فراغت پر احباب و اکابر کے فراق و جدائی کے لمحات سے متاثر ہوکر چھتیس قسطوں میں دل گداز روداد اپنے احباب کی خدمت میں پیش کی تھی !
ملاحظہ فرمائیں:!
یادوں کی سوغات کے دریچے سے
ضبط بھی کر نہ سکے پھوٹ کے روئے بھی نہیں
آخری ایام اپنی تیزی دکھا رہے تھے، ہر کوئی مایوس تھا، ہوا بھی ٹھری ہوئی تھی، پھول مرجھائے جا رہے تھے، پورا ماحول یکسر بدل گیا تھا، دمکتے اور چمکتے چہرے بھی اپنی تابانی کھو چکے تھے، آج عشاء کے بعد ان کو الوداع کہنا تھا جن کے لیے بیتاب و بے کل تھے، جن کو دیکھ کر صحرا کی مہک میں مہک پیدا ہو، لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ الوداعی مجلس زندگی بھر کی یاد اور ڈائری بن جائے گی جو لمحہ لمحہ ستاتی اور تڑپاتی رہے گی۔
اک ڈائری پرانی میرے ہاتھ کیا لگی
یادوں کے زرد پیڑ کا یکایک ہرے ہوئے
حضرت الاستاذ کے آنے کا وقت ہو چلا تھا، تقریباً بیس یا اس سے کچھ زائد صفحات باقی تھے، قارئین مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے،
آپ سج دھج کر خوبصورت سفید عبایا پہن کر تشریف لائے، اور سبق کے آغاز ہی میں فرمایا کہ آج تو میں بالکل اچھا ہوں، دیکھو ! کیسے فر فر بول رہا ہوں، یہ سن کر ہم خوشی سے اچھلنے لگے کہ آج تو گراں قدر نصائح کا سلسلہ ہوگا اور طویل ہوگا!
کیا معلوم تھا کہ یہی آخری وضاحت ہے اس کے بعد چند ہی الفاظ سنے جائیں گے!
نیز عبارت کا سلسلہ شروع ہوا اور یکے بعد دیگرے محمد شاداب اعظمی عبدالرحمن اور محمد اخلد نے عبارت پڑھی اور آخر تک اخلد ہی نے پڑھی،
جس وقت کتاب کے چھ سات ورق باقی تھے حضرت الاستاذ کے آنسو جاری ہو گئے اور آپ کو دیکھ کر سامنے بیٹھے طلبہ بھی رونے لگے اور جس وقت آخری صفحہ باقی تھا تو آدھے صفحہ سے صاحب عبارت کی آواز بھاری ہوگئی اور رونے کی کیفیت طاری ہوگئی اور منظر ہی بدل گیا ہر کوئی تر آنکھیں لیے بیٹھا تھا، جیسے ہی عبارت ختم ہوئی اور کتاب تکمیل کو پہنچی تو حضرت
نے کچھ کہنا چاہا لیکن زبان نے قطعاً ساتھ نہ دیا بس پھر کیا تھا آپ زور زور سے رونے لگے ،طلبہ دارالعلوم اور دار العلوم دیوبند کی دار الحدیث نے آج تک ایسا منظر نہیں دیکھا ہوگا ، آپ طلباء کو دیکھ کر زور سے روتے طلبہ آپ کو دیکھ کر چیخیں مارتے، پھر آپ نے کہا جو اللہ کو منظور ہوگا وہی ہوگا، یہ جملہ آپ نے کئی بار دھرایا، یہ سن کر طلبہ کی اور ہچکیاں بندھ گئیں، آپ مسند سے اترنے لگے تو احقر نے آپ کو پکڑا لیکن کسی نے میرا ہاتھ چھڑا دیا یہ کہہ کر کہ آپ دل کے مریض ہیں، ہم قطعاً ہوش میں نہ تھے، اور پھر آپ نے جس وقت ہاتھ اٹھا کر یہ فرمایا کہ بھائیوں ! مجھے معاف کردینا،
وقت رخصت الوداع کا لفظ کہنے کے لیے
وہ ترے سوکھے لبوں کا تھر تھرانا یاد ہے
بس پھر تو ہماری جانیں نکل گئی، اور ہم میں سے کوئی مسند پکڑ کر کوئی دیوار پکڑ کر اتنا رویا کہ زندگی بھر نہ رویا ہوگا، اور ایک دیڑھ گھنٹے تک طلبہ درسگاہ ہی میں روتے رہے، اس درمیان کچھ ترانے پڑھے گئے جن میں اظہر شاداب کا تیار کردہ ترانہ نے تو مزید ہچکیوں کا سماں باندھ دیا۔
مجھے یاد ہے کہ میں زندگی میں اتنا نہیں رویا جتنا اس فراق پر رویا تین دن تک تو آنسوؤں نے تھمنے کا نام ہی نہیں لیا، اگلے روز جب مفتی صاحب کو ممبئی کے لیے رخصت کرنے کے لیے پہنچے تو وہی منظر وہاں بھی سامنے آگیا آپ ہم کو دیکھ کر رونے لگے اور ہم آپ کو دیکھ کر،
یہ اتنا دلدوز اور جاں سوز منظر تھا کہ وہ بھی سر دھننے لگے تھے جن کا افسانہ نہ تھا، اور ملک و بیرون ملک کی اور دار العلوم کے دیگر اساتذہ کی طرف سے تسلی کے کلمات طلبہ دورہ حدیث کے لیے کہے گئے، جیسے کہ مولانا الیاس گھمن ص اور مولانا سلمان ندوی ص کے پیغامات ہم تک پہنچے تو احقر نے ان تک شکریہ کے کلمات طلباء دورہ حدیث کی جانب سے پہنچائے، اور یوں ہمارا یہ سال ایک انقلابی تاریخی بن کر رہ گیا۔
اس چمن سے وہ ہم جب چلے جائیں گے
سچ کہوں ہم تو بے موت مر جائیں گے
یہ اکابر ہمیں یاد جب آئیں گے
گوشہ تنہائی سے لگ جائیں گے
روئیں گے خود سبھی کو رلائیں گے ہم
بعد اس کے کبھی پھر نہ چپ ہوں گے ہم
بالآخر یہ عظیم شخصیت ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیی اور ہم سب حسرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گیے !
اللہ تعالی حضرت الاستاد کو غریق رحمت فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے آمین
❤26😢7
یہ حضرت اقدس مفتی سعید احمد پالن پوری رحمہ اللّٰہ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کا ایک نایاب درس ہے
حضرت رحمہ اللہ پہلی جلد ختم کرا رہے ہیں اور طلبہ عزیز کو دعاؤں سے نواز رہے ہیں
یہ درس 2016 کا ہے
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
👇🏻👇🏻👇🏻
https://youtu.be/c1L4eJUX9gY
حضرت رحمہ اللہ پہلی جلد ختم کرا رہے ہیں اور طلبہ عزیز کو دعاؤں سے نواز رہے ہیں
یہ درس 2016 کا ہے
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
👇🏻👇🏻👇🏻
https://youtu.be/c1L4eJUX9gY
❤14👍2😢1
خاموش رخصتیں اور اداروں کا زوال
(بہترین اساتذہ کیوں ادارے چھوڑ دیتے ہیں)
✍🏻حافظ حبیب فاروق صفاوی
ادارے اینٹ اور پتھر سے نہیں بنتے،
وہ انسانوں کے یقین، کردار اور فکر سے وجود میں آتے ہیں۔
ہر ادارے میں چند لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں
جو محض ملازم نہیں ہوتے—
وہ ادارے کی روح، اس کی پہچان اور اس کا اصل چہرہ ہوتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں یہ لوگ عموماً وہ اساتذہ ہوتے ہیں
جو تدریس کو پیشہ نہیں، ذمہ داری سمجھتے ہیں،
جو نصاب سے آگے دیکھتے ہیں
اور کلاس روم سے باہر بھی نسلوں کی تعمیر کرتے ہیں۔
یہی اساتذہ ادارے کا معیار طے کرتے ہیں
اور اسی معیار سے ادارہ پہچانا جاتا ہے۔
مگر ایک تلخ اور مسلسل دہرائی جانے والی حقیقت یہ ہے
کہ یہی بہترین اساتذہ
اکثر خاموشی سے ادارے چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ رخصت اچانک نہیں ہوتی،
یہ ایک دن میں نہیں ہوتی۔
یہ ایک طویل اور تدریجی عمل ہے
جس کی ابتدا نظرانداز کیے جانے سے ہوتی ہے۔
جب اہلیت کے بجائے قربت کو معیار بنا لیا جائے،
جب نااہلی کو وفاداری اور چاپلوسی کے لباس میں
اعزاز عطا ہونے لگے،
جب ترقی کا راستہ قابلیت کے بجائے
شخصی ہاں میں ہاں ملانے سے جڑ جائے—
تو اہل لوگ سب سے پہلے خاموش ہوتے ہیں۔
ایسے ماحول میں
اہلِ فکر کو نہ شریکِ مشاورت کیا جاتا ہے،
نہ اہم فیصلوں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
ادارے کے بنیادی فیصلے
ان کی غیر موجودگی میں طے پاتے ہیں
اور آہستہ آہستہ انہیں مرکز سے
حاشیے کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے
کہ ایسے اساتذہ احتجاج نہیں کرتے،
وہ شور نہیں مچاتے،
وہ ادارے کی حرمت کے پیشِ نظر
خاموشی کو اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ خاموشی ان کا احتجاج ہوتی ہے—
ایک باوقار، سنجیدہ اور بامعنی احتجاج۔
یہ خاموشی رفتہ رفتہ فاصلے میں بدلتی ہے۔
میل جول کم ہو جاتا ہے،
اظہار محدود ہو جاتا ہے،
اور کام تو ہوتا ہے
مگر اب دل شامل نہیں رہتا۔
وہ سر جھکا کر ذمہ داریاں نبھاتے ہیں
مگر اپنی صلاحیت بیچنے کی کوشش نہیں کرتے۔
پھر ایک دن
وہ متبادل تلاش کر لیتے ہیں—
ایسی جگہ جہاں ان کی قدر ہو،
جہاں اہلیت کو بوجھ نہیں
بلکہ سرمایہ سمجھا جائے۔
اور پیچھے رہ جاتا ہے ایک ادارہ
جو ایک عظیم سرمائے سے محروم ہو چکا ہوتا ہے،
مگر اسے احساس اس وقت ہوتا ہے
جب نقصان ناقابلِ تلافی ہو جاتا ہے۔
یہ تحریر کسی فرد یا ادارے پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں،
بلکہ اجتماعی احتساب کی دعوت ہے۔
تعلیمی اداروں کے منتظمین اگر واقعی
اپنے اداروں کو مستحکم، باوقار اور زندہ دیکھنا چاہتے ہیں
تو انہیں اپنے خاموش اساتذہ کو سننا ہوگا،
اپنے مخلص افراد کو پہچاننا ہوگا،
اور اپنی ترجیحات کا دیانت داری سے
ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔
کیونکہ ادارے شور سے نہیں ٹوٹتے—
وہ خاموشی سے اندر سے بکھرتے ہیں۔
اور تاریخ کا فیصلہ یہی ہے:
جب اہل لوگ رخصت ہو جائیں
تو عمارتیں باقی رہتی ہیں،
ادارے نہیں۔
(بہترین اساتذہ کیوں ادارے چھوڑ دیتے ہیں)
✍🏻حافظ حبیب فاروق صفاوی
ادارے اینٹ اور پتھر سے نہیں بنتے،
وہ انسانوں کے یقین، کردار اور فکر سے وجود میں آتے ہیں۔
ہر ادارے میں چند لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں
جو محض ملازم نہیں ہوتے—
وہ ادارے کی روح، اس کی پہچان اور اس کا اصل چہرہ ہوتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں یہ لوگ عموماً وہ اساتذہ ہوتے ہیں
جو تدریس کو پیشہ نہیں، ذمہ داری سمجھتے ہیں،
جو نصاب سے آگے دیکھتے ہیں
اور کلاس روم سے باہر بھی نسلوں کی تعمیر کرتے ہیں۔
یہی اساتذہ ادارے کا معیار طے کرتے ہیں
اور اسی معیار سے ادارہ پہچانا جاتا ہے۔
مگر ایک تلخ اور مسلسل دہرائی جانے والی حقیقت یہ ہے
کہ یہی بہترین اساتذہ
اکثر خاموشی سے ادارے چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ رخصت اچانک نہیں ہوتی،
یہ ایک دن میں نہیں ہوتی۔
یہ ایک طویل اور تدریجی عمل ہے
جس کی ابتدا نظرانداز کیے جانے سے ہوتی ہے۔
جب اہلیت کے بجائے قربت کو معیار بنا لیا جائے،
جب نااہلی کو وفاداری اور چاپلوسی کے لباس میں
اعزاز عطا ہونے لگے،
جب ترقی کا راستہ قابلیت کے بجائے
شخصی ہاں میں ہاں ملانے سے جڑ جائے—
تو اہل لوگ سب سے پہلے خاموش ہوتے ہیں۔
ایسے ماحول میں
اہلِ فکر کو نہ شریکِ مشاورت کیا جاتا ہے،
نہ اہم فیصلوں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
ادارے کے بنیادی فیصلے
ان کی غیر موجودگی میں طے پاتے ہیں
اور آہستہ آہستہ انہیں مرکز سے
حاشیے کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے
کہ ایسے اساتذہ احتجاج نہیں کرتے،
وہ شور نہیں مچاتے،
وہ ادارے کی حرمت کے پیشِ نظر
خاموشی کو اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ خاموشی ان کا احتجاج ہوتی ہے—
ایک باوقار، سنجیدہ اور بامعنی احتجاج۔
یہ خاموشی رفتہ رفتہ فاصلے میں بدلتی ہے۔
میل جول کم ہو جاتا ہے،
اظہار محدود ہو جاتا ہے،
اور کام تو ہوتا ہے
مگر اب دل شامل نہیں رہتا۔
وہ سر جھکا کر ذمہ داریاں نبھاتے ہیں
مگر اپنی صلاحیت بیچنے کی کوشش نہیں کرتے۔
پھر ایک دن
وہ متبادل تلاش کر لیتے ہیں—
ایسی جگہ جہاں ان کی قدر ہو،
جہاں اہلیت کو بوجھ نہیں
بلکہ سرمایہ سمجھا جائے۔
اور پیچھے رہ جاتا ہے ایک ادارہ
جو ایک عظیم سرمائے سے محروم ہو چکا ہوتا ہے،
مگر اسے احساس اس وقت ہوتا ہے
جب نقصان ناقابلِ تلافی ہو جاتا ہے۔
یہ تحریر کسی فرد یا ادارے پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں،
بلکہ اجتماعی احتساب کی دعوت ہے۔
تعلیمی اداروں کے منتظمین اگر واقعی
اپنے اداروں کو مستحکم، باوقار اور زندہ دیکھنا چاہتے ہیں
تو انہیں اپنے خاموش اساتذہ کو سننا ہوگا،
اپنے مخلص افراد کو پہچاننا ہوگا،
اور اپنی ترجیحات کا دیانت داری سے
ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔
کیونکہ ادارے شور سے نہیں ٹوٹتے—
وہ خاموشی سے اندر سے بکھرتے ہیں۔
اور تاریخ کا فیصلہ یہی ہے:
جب اہل لوگ رخصت ہو جائیں
تو عمارتیں باقی رہتی ہیں،
ادارے نہیں۔
❤13👍11
▪️ پاکستان میں ہم جنس پرست لڑکیوں کی سرگرمیاں — ایک خاموش زہر، ایک نظر انداز کی گئی حقیقت ❗
میں یہ لکھ رہی ہوں کیونکہ
خاموشی اب جرم بنتی جا رہی ہے ❗
▪️ کہانی بہت سادہ ہوتی ہے
اور اسی سادگی میں سب سے بڑا فتنہ چھپا ہوتا ہے
▪️ دو لڑکیاں
▪️ ایک ہی کلاس
▪️ ایک ہی ہوسٹل
▪️ ایک ہی کمرہ
▪️ ابتدا میں “پکی سہیلیاں"
▪️ گرلز کالج کے ہوسٹلز
جہاں
▪️ نگرانی کم
▪️ سوال کوئی نہیں
▪️ راتیں لمبی
▪️ اور حدود غیر واضح ہوتی ہیں ❗
▪️ ایک ہی بستر
▪️ ایک ہی کمبل
▪️ ایک دوسرے کے بغیر نیند نہ آنا
▪️ اور یہ سب
“ہوسٹل لائف” کہہ کر
نارمل سمجھ لیا جاتا ہے 💡
▪️ یہی حال
▪️ کزنز کے ساتھ سونے کا
▪️ بہنوں، کزنز، سہیلیوں کا
ایک ہی بستر پر سونا
▪️ جسے ہمارے معاشرے میں
کبھی بُرا ہی نہیں سمجھا جاتا ❗
▪️ کسی کے ذہن میں سوال نہیں آتا
کیونکہ
“یہ تو لڑکیاں ہیں”
“اس میں کیا بُرائی ہے؟”
▪️ مگر یہی وہ جگہ ہے
جہاں
حدود آہستہ آہستہ
ختم ہو جاتی ہیں ❗
▪️ پھر بات یہاں تک پہنچتی ہے
— کسی اور سے بات کرنے کی اجازت نہیں
— شدید جذباتی انحصار
— محبت نامے
— ایک دوسرے کے لیے جنون
— جسم پر نام لکھنا
▪️ اور سب کچھ
“صرف دوستی” کے پردے میں 💡
▪️ اصل مسئلہ یہاں شروع ہوتا ہے
کیونکہ
اکثر لڑکیوں کو یہ بتایا ہی نہیں جاتا
کہ
عورت سے جذباتی یا جسمانی تعلق بھی
گناہ ہے
غلط ہے
اور ایک خطرناک راستہ ہے ❗
▪️ ہم بیٹی کو کہتے ہیں
“مرد سے دور رہو”
لیکن یہ نہیں بتاتے
کہ
عورت کے ساتھ بھی حدود ہوتی ہیں ❗
▪️ وقت گزرتا ہے
▪️ تعلیم مکمل ہوتی ہے
▪️ زندگی کا اگلا مرحلہ آتا ہے
▪️ بہت سی لڑکیاں
گھریلو زندگی میں داخل ہوتی ہیں
خاص طور پر وہ خواتین
جن کے شوہر
روزگار کے لیے
پاکستان سے باہر ہوتے ہیں
▪️ تنہائی
▪️ جذباتی خلا
▪️ کوئی روک ٹوک نہیں
▪️ کوئی سوال نہیں ❗
▪️ پاکستان میں
عورت کا مرد سے تعلق
➡️ بدنامی
➡️ بلیک میلنگ
➡️ معاشرتی خطرہ
لیکن
▪️ عورت کا عورت کے گھر آنا
▪️ گھنٹوں ایک کمرے میں بند رہنا
▪️ کوئی شک نہیں کرتا ❗
اگر عورت اکیلی رہتی ہو
تو یہ سب اور بھی آسان ہو جاتا ہے
▪️ پھر شادی ہوتی ہے
▪️ مگر مسئلہ ختم نہیں ہوتا
▪️ شوہر کو سمجھ نہیں آتی
کہ کمی کہاں ہے
▪️ عورت خود اندر سے ٹوٹی ہوتی ہے
▪️ نتیجہ؟
خاموش اذیت
خاموش طلاق
خاموش برباد گھر 💔
▪️ اس پورے عمل میں
میڈیا بھی خاموش نہیں
▪️ ہم جنس رجحانات کو
▪️ کہانی
▪️ آرٹ
▪️ آزادی
کے نام پر
نرم انداز میں پیش کیا جا رہا ہے 🔥
▪️ پیمرا کا باقاعدہ نوٹس موجود ہے
▪️ HUM TV کے ڈرامے کتنی گرہیں باقی ہیں
▪️ قسط چیونگم
▪️ جسے پاکستانی اقدار کے خلاف قرار دیا گیا
▪️ یہ ثبوت آج بھی پیمرا کے سوشل میڈیا پر موجود ہے ❗
▪️ انٹرنیٹ پر
▪️ گھریلو عورتوں کے منظم گروپس
▪️ ویڈیوز
▪️ مواد
▪️ سب کچھ موجود ہے
▪️ انکار صرف وہی کر سکتا ہے
جو جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے بیٹھا ہو ❗
▪️ ہم جنس پرست عورت
وہ عورت ہے
جو دوسری عورت کی طرف
جذباتی، رومانوی یا جسمانی کشش محسوس کرے
جسے Lesbian کہا جاتا ہے
▪️ اسلام
▪️ حیاء
▪️ پاکیزگی
▪️ واضح حدود
▪️ اور مضبوط خاندان سکھاتا ہے
▪️ قرآن و حدیث میں
بے حیائی سے سختی سے روکا گیا ہے
▪️ سزا کا تصور اس لیے ہے
تاکہ معاشرہ محفوظ رہ سکے 💡
▪️ مسئلہ یہ نہیں
کہ برائی موجود ہے
▪️ مسئلہ یہ ہے
کہ ہم اسے برائی ماننے سے انکار کر رہے ہیں ❗
▪️ آزادی کے نام پر
▪️ گناہ کو تحفظ دینا
▪️ حیوانیت کو حق کہنا
▪️ یہ آزادی نہیں
▪️ یہ معاشرتی خودکشی ہے ❗
▪️ آج اگر ہم خاموش رہے
▪️ کل یہی کہانی
ہماری بیٹی
ہماری بہن
ہماری بھانجی
یا ہمارے اپنے گھر کے کسی کونے میں ہو سکتی ہے ❗
▪️ یہ تحریر نفرت نہیں
▪️ یہ انتباہ ہے
▪️ یہ آگاہی ہے
▪️ ایک باپ کی فکر
▪️ ایک شوہر کی سوچ
▪️ اور ایک مسلمان کی جواب دہی ✨
▪️ برائی کو برائی نہ سمجھنا
▪️ سب سے بڑا فتنہ ہے
اور
▪️ خاموشی
اس فتنہ کی سب سے مضبوط محافظ ❗
میں یہ لکھ رہی ہوں کیونکہ
خاموشی اب جرم بنتی جا رہی ہے ❗
▪️ کہانی بہت سادہ ہوتی ہے
اور اسی سادگی میں سب سے بڑا فتنہ چھپا ہوتا ہے
▪️ دو لڑکیاں
▪️ ایک ہی کلاس
▪️ ایک ہی ہوسٹل
▪️ ایک ہی کمرہ
▪️ ابتدا میں “پکی سہیلیاں"
▪️ گرلز کالج کے ہوسٹلز
جہاں
▪️ نگرانی کم
▪️ سوال کوئی نہیں
▪️ راتیں لمبی
▪️ اور حدود غیر واضح ہوتی ہیں ❗
▪️ ایک ہی بستر
▪️ ایک ہی کمبل
▪️ ایک دوسرے کے بغیر نیند نہ آنا
▪️ اور یہ سب
“ہوسٹل لائف” کہہ کر
نارمل سمجھ لیا جاتا ہے 💡
▪️ یہی حال
▪️ کزنز کے ساتھ سونے کا
▪️ بہنوں، کزنز، سہیلیوں کا
ایک ہی بستر پر سونا
▪️ جسے ہمارے معاشرے میں
کبھی بُرا ہی نہیں سمجھا جاتا ❗
▪️ کسی کے ذہن میں سوال نہیں آتا
کیونکہ
“یہ تو لڑکیاں ہیں”
“اس میں کیا بُرائی ہے؟”
▪️ مگر یہی وہ جگہ ہے
جہاں
حدود آہستہ آہستہ
ختم ہو جاتی ہیں ❗
▪️ پھر بات یہاں تک پہنچتی ہے
— کسی اور سے بات کرنے کی اجازت نہیں
— شدید جذباتی انحصار
— محبت نامے
— ایک دوسرے کے لیے جنون
— جسم پر نام لکھنا
▪️ اور سب کچھ
“صرف دوستی” کے پردے میں 💡
▪️ اصل مسئلہ یہاں شروع ہوتا ہے
کیونکہ
اکثر لڑکیوں کو یہ بتایا ہی نہیں جاتا
کہ
عورت سے جذباتی یا جسمانی تعلق بھی
گناہ ہے
غلط ہے
اور ایک خطرناک راستہ ہے ❗
▪️ ہم بیٹی کو کہتے ہیں
“مرد سے دور رہو”
لیکن یہ نہیں بتاتے
کہ
عورت کے ساتھ بھی حدود ہوتی ہیں ❗
▪️ وقت گزرتا ہے
▪️ تعلیم مکمل ہوتی ہے
▪️ زندگی کا اگلا مرحلہ آتا ہے
▪️ بہت سی لڑکیاں
گھریلو زندگی میں داخل ہوتی ہیں
خاص طور پر وہ خواتین
جن کے شوہر
روزگار کے لیے
پاکستان سے باہر ہوتے ہیں
▪️ تنہائی
▪️ جذباتی خلا
▪️ کوئی روک ٹوک نہیں
▪️ کوئی سوال نہیں ❗
▪️ پاکستان میں
عورت کا مرد سے تعلق
➡️ بدنامی
➡️ بلیک میلنگ
➡️ معاشرتی خطرہ
لیکن
▪️ عورت کا عورت کے گھر آنا
▪️ گھنٹوں ایک کمرے میں بند رہنا
▪️ کوئی شک نہیں کرتا ❗
اگر عورت اکیلی رہتی ہو
تو یہ سب اور بھی آسان ہو جاتا ہے
▪️ پھر شادی ہوتی ہے
▪️ مگر مسئلہ ختم نہیں ہوتا
▪️ شوہر کو سمجھ نہیں آتی
کہ کمی کہاں ہے
▪️ عورت خود اندر سے ٹوٹی ہوتی ہے
▪️ نتیجہ؟
خاموش اذیت
خاموش طلاق
خاموش برباد گھر 💔
▪️ اس پورے عمل میں
میڈیا بھی خاموش نہیں
▪️ ہم جنس رجحانات کو
▪️ کہانی
▪️ آرٹ
▪️ آزادی
کے نام پر
نرم انداز میں پیش کیا جا رہا ہے 🔥
▪️ پیمرا کا باقاعدہ نوٹس موجود ہے
▪️ HUM TV کے ڈرامے کتنی گرہیں باقی ہیں
▪️ قسط چیونگم
▪️ جسے پاکستانی اقدار کے خلاف قرار دیا گیا
▪️ یہ ثبوت آج بھی پیمرا کے سوشل میڈیا پر موجود ہے ❗
▪️ انٹرنیٹ پر
▪️ گھریلو عورتوں کے منظم گروپس
▪️ ویڈیوز
▪️ مواد
▪️ سب کچھ موجود ہے
▪️ انکار صرف وہی کر سکتا ہے
جو جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے بیٹھا ہو ❗
▪️ ہم جنس پرست عورت
وہ عورت ہے
جو دوسری عورت کی طرف
جذباتی، رومانوی یا جسمانی کشش محسوس کرے
جسے Lesbian کہا جاتا ہے
▪️ اسلام
▪️ حیاء
▪️ پاکیزگی
▪️ واضح حدود
▪️ اور مضبوط خاندان سکھاتا ہے
▪️ قرآن و حدیث میں
بے حیائی سے سختی سے روکا گیا ہے
▪️ سزا کا تصور اس لیے ہے
تاکہ معاشرہ محفوظ رہ سکے 💡
▪️ مسئلہ یہ نہیں
کہ برائی موجود ہے
▪️ مسئلہ یہ ہے
کہ ہم اسے برائی ماننے سے انکار کر رہے ہیں ❗
▪️ آزادی کے نام پر
▪️ گناہ کو تحفظ دینا
▪️ حیوانیت کو حق کہنا
▪️ یہ آزادی نہیں
▪️ یہ معاشرتی خودکشی ہے ❗
▪️ آج اگر ہم خاموش رہے
▪️ کل یہی کہانی
ہماری بیٹی
ہماری بہن
ہماری بھانجی
یا ہمارے اپنے گھر کے کسی کونے میں ہو سکتی ہے ❗
▪️ یہ تحریر نفرت نہیں
▪️ یہ انتباہ ہے
▪️ یہ آگاہی ہے
▪️ ایک باپ کی فکر
▪️ ایک شوہر کی سوچ
▪️ اور ایک مسلمان کی جواب دہی ✨
▪️ برائی کو برائی نہ سمجھنا
▪️ سب سے بڑا فتنہ ہے
اور
▪️ خاموشی
اس فتنہ کی سب سے مضبوط محافظ ❗
❤12👍12😢5
*حسن نیت، خلوص بیکراں*
تحریر: مولانا سید محمد انظر شاہ کشمیری رحمہ اللہ
میرا بچپن تھا دارالعلوم کی مسجد کے ایک خادم دیوبند کی شیوخ برادری کے فرد، نام تو یاد نہیں عرف ملا بھورے تھا، صورتاً ملک، سیرۃ فرشتہ، رسمی علوم سے نا آشنائی کے باوجود ٹھیٹ مولویوں کے لباس میں، مقبول سجدہ کی مہر پیشانی پر، مسجد کی خدمت ایمان کا تقاضا سمجھ کر کرتے، اجرت کا تصور تک نہ تھا، خدمتِ خلق کا عجیب شعبہ دریافت کیا، جس میں خود مجتہد تھے، افسوس کہ ان کا مقلد کوئی بھی نہیں، دوپہر کی چھٹی کے بعد اور شام کو بعد عصر گلے میں جھولی ڈال کر طلبہ کے رہائشی کمروں پر فقیرانہ صدا لگاتے، بھائی بچی کھچی روٹی، دال یا شوربہ دے دو، اس محنت کے بعد ان کے رہائشی کمرے میں وہ مفلوک الحال طلبہ جمع ہوتے، جن کی مدرسے سے کوئی امداد و طعام نہ ہوتی، ملا جی غیرت شخصی کے حفاظت کرتے ہوئے اندر سے دروازہ بند کر لیتے اور ان طلبہ کو بقدر حصہ آفروقہ تقسیم کیا جاتا، تقریبا 40 ۔ 45 سال طلبہ دین کی خاموش خدمت جاری رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے حاجی عزیز الحسن گنگوہی تھے، پیشکار اہتمام، پھر استاد فارسی اور بعد میں بچوں کے گھر کے نگراں، محبوب شغل یہ تھا کہ سارے دن دارالعلوم میں کاغذات چنتے، انہیں بیٹھ کر تراشتے، سادہ و صاف حصہ شعبہ طب میں، حکیموں کو دے آتے کہ ان پر نسخے لکھیے، کچھ مولانا سلطان الحق ناظم کتب خانہ کے حصے میں آتے کہ تعویذ لکھے جائیں، بیکار حصہ طلبہ کو دے دیتے کہ چائے بنانے کے لیے انگیٹھی میں استعمال کریں، یہی حاجی صاحب مجھے ایک بار اپنے رہائشی کمرے میں لے گئے دور نوح کا ایک ٹوٹا پھوٹا صندوق نکالا، جو کاغذ کے پرزوں سے لبریز تھا، میں نے پوچھا کہ حاجی صاحب یہ کیا ہیں بولے کہ یہ بچوں سے معاہدے کی تحریریں ہیں، مضمون معاہدہ یہ تھا کہ *"ہم آپ کے بغیر جنت میں نہ جائیں گے اور آپ ہمارے بغیر نہ جائیں"*۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب المغفور کو حاجی صاحب کے یہ مشاغل سنائے تو رقت ایمانی آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑی، فرمایا کہ " انہیں نفوس قدسیہ کی برکت سے دار العلوم چل رہا ہے" ۔
تحریر: مولانا سید محمد انظر شاہ کشمیری رحمہ اللہ
میرا بچپن تھا دارالعلوم کی مسجد کے ایک خادم دیوبند کی شیوخ برادری کے فرد، نام تو یاد نہیں عرف ملا بھورے تھا، صورتاً ملک، سیرۃ فرشتہ، رسمی علوم سے نا آشنائی کے باوجود ٹھیٹ مولویوں کے لباس میں، مقبول سجدہ کی مہر پیشانی پر، مسجد کی خدمت ایمان کا تقاضا سمجھ کر کرتے، اجرت کا تصور تک نہ تھا، خدمتِ خلق کا عجیب شعبہ دریافت کیا، جس میں خود مجتہد تھے، افسوس کہ ان کا مقلد کوئی بھی نہیں، دوپہر کی چھٹی کے بعد اور شام کو بعد عصر گلے میں جھولی ڈال کر طلبہ کے رہائشی کمروں پر فقیرانہ صدا لگاتے، بھائی بچی کھچی روٹی، دال یا شوربہ دے دو، اس محنت کے بعد ان کے رہائشی کمرے میں وہ مفلوک الحال طلبہ جمع ہوتے، جن کی مدرسے سے کوئی امداد و طعام نہ ہوتی، ملا جی غیرت شخصی کے حفاظت کرتے ہوئے اندر سے دروازہ بند کر لیتے اور ان طلبہ کو بقدر حصہ آفروقہ تقسیم کیا جاتا، تقریبا 40 ۔ 45 سال طلبہ دین کی خاموش خدمت جاری رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے حاجی عزیز الحسن گنگوہی تھے، پیشکار اہتمام، پھر استاد فارسی اور بعد میں بچوں کے گھر کے نگراں، محبوب شغل یہ تھا کہ سارے دن دارالعلوم میں کاغذات چنتے، انہیں بیٹھ کر تراشتے، سادہ و صاف حصہ شعبہ طب میں، حکیموں کو دے آتے کہ ان پر نسخے لکھیے، کچھ مولانا سلطان الحق ناظم کتب خانہ کے حصے میں آتے کہ تعویذ لکھے جائیں، بیکار حصہ طلبہ کو دے دیتے کہ چائے بنانے کے لیے انگیٹھی میں استعمال کریں، یہی حاجی صاحب مجھے ایک بار اپنے رہائشی کمرے میں لے گئے دور نوح کا ایک ٹوٹا پھوٹا صندوق نکالا، جو کاغذ کے پرزوں سے لبریز تھا، میں نے پوچھا کہ حاجی صاحب یہ کیا ہیں بولے کہ یہ بچوں سے معاہدے کی تحریریں ہیں، مضمون معاہدہ یہ تھا کہ *"ہم آپ کے بغیر جنت میں نہ جائیں گے اور آپ ہمارے بغیر نہ جائیں"*۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب المغفور کو حاجی صاحب کے یہ مشاغل سنائے تو رقت ایمانی آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑی، فرمایا کہ " انہیں نفوس قدسیہ کی برکت سے دار العلوم چل رہا ہے" ۔
❤16
🍃 عقیدہ توحید حاکمیت اور فریضہ اقامت دین، دین فطرت کی فطری ساخت کا اولین تقاضہ
حجّت کی اور تلوار کی قوت
سلطنت عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام علامہ مصطفی صبری مرحوم فرماتے ہیں؛
"اسلام کی عزّت و شوکت قائم رہی، یہاں تک کہ سلطنتِ عثمانیہ کی مضبوط بنیادوں میں کمزوری آنا شروع ہوئی۔ اس کے بعد اسلام بھی دن بدن کمزور ہوتا گیا اور اس کی طاقت اسی کی طاقت کے ساتھ ساتھ گھٹتی رہی۔ گویا قوتِ حجّت اور قوتِ تلوار کے درمیان ایک طبعی تعلق ہے۔ اگرچہ وہ اسلام جسے اپنی عقائد کی مضبوطی اور اصولوں کی برتری پر ناز ہے، بظاہر اس تعلق سے بے نیاز سمجھا جاتا ہے — جیسا کہ استاد عنان نے کہا — لیکن انسان کی وہ فطرت جو غالب کے ساتھ جھکنے والی ہے، اس ربط کو برقرار رکھنے کی محتاج رہتی ہے۔ کوئی بھی دین پر نظر رکھنے والا مسلمان اس بات میں شک نہیں کر سکتا کہ حالیہ زمانوں کے مسلمانوں کے درمیان اسلام نے اپنی بہت سی عظمت اور اہمیت کھو دی ہے۔ تو کیا ان ادوار میں اسلام کے دلائل و براہین کی قوت، جن پر وہ تکیہ کرتا تھا، ختم ہو گئی تھی؟!
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو قوتِ سیف (طاقتِ تلوار) سے جدا کر دینا — جیسا کہ مصر میں اہلِ قلم و علم میں سے بہت سے لوگ کوشش کر رہے ہیں — ایسا ہی ہے جیسے اسلام کو غزوۂ بدرِ کبریٰ سے جدا کر دینا۔
(شیخ الاسلام مصطفیٰ امام صبری رحمه الله تعالی)
حجّت کی اور تلوار کی قوت
سلطنت عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام علامہ مصطفی صبری مرحوم فرماتے ہیں؛
"اسلام کی عزّت و شوکت قائم رہی، یہاں تک کہ سلطنتِ عثمانیہ کی مضبوط بنیادوں میں کمزوری آنا شروع ہوئی۔ اس کے بعد اسلام بھی دن بدن کمزور ہوتا گیا اور اس کی طاقت اسی کی طاقت کے ساتھ ساتھ گھٹتی رہی۔ گویا قوتِ حجّت اور قوتِ تلوار کے درمیان ایک طبعی تعلق ہے۔ اگرچہ وہ اسلام جسے اپنی عقائد کی مضبوطی اور اصولوں کی برتری پر ناز ہے، بظاہر اس تعلق سے بے نیاز سمجھا جاتا ہے — جیسا کہ استاد عنان نے کہا — لیکن انسان کی وہ فطرت جو غالب کے ساتھ جھکنے والی ہے، اس ربط کو برقرار رکھنے کی محتاج رہتی ہے۔ کوئی بھی دین پر نظر رکھنے والا مسلمان اس بات میں شک نہیں کر سکتا کہ حالیہ زمانوں کے مسلمانوں کے درمیان اسلام نے اپنی بہت سی عظمت اور اہمیت کھو دی ہے۔ تو کیا ان ادوار میں اسلام کے دلائل و براہین کی قوت، جن پر وہ تکیہ کرتا تھا، ختم ہو گئی تھی؟!
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو قوتِ سیف (طاقتِ تلوار) سے جدا کر دینا — جیسا کہ مصر میں اہلِ قلم و علم میں سے بہت سے لوگ کوشش کر رہے ہیں — ایسا ہی ہے جیسے اسلام کو غزوۂ بدرِ کبریٰ سے جدا کر دینا۔
(شیخ الاسلام مصطفیٰ امام صبری رحمه الله تعالی)
❤18👍5
پندرہ شعبان کے سلسلے میں چار باتیں صحیح ہیں:
❶ اس رات میں اللہ سبحانہ وتعاليٰ جتنی توفيق دیں، اتنی گھر میں انفرادي عبادتیں کرنا، مگر ہم نے اس رات کو ہنگاموں کی رات بنا دیا ہے، مسجدوں اور قبرستانوں میں جمع ہوتے ہیں، کھاتے پیتے اور شور کرتے ہیں، یہ سب غلط ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں، اس رات میں نفلیں پڑھنی چاہئیں، اور پوری رات پڑھنی ضروری نہیں، جتنی اللہ تعالیٰ توفيق دیں گھر میں پڑھے، یہ انفرادي عمل ہے، اجتماعی عمل نہیں۔
❷ اگلے دن روزہ رکھے، یہ روزہ مستحب ہے۔
❸ اس رات میں اپنے لئے، آپنے مرحومین کےلئے، اور پوری امت کے لئے مغفرت کی دعا کرے، اس کے لئے قبرستان جانا ضروری نہیں، اس رات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان ضرور گئے ہیں، مگر چپکے سے گئے ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اتفاقاً پتہ چل گیا تھا، نیز حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےاس رات میں قبرستان جانے کا کوئی حکم بھی نہیں دیا، اس لئے ہمارے یہاں جو تماشے ہوتے ہیں، وہ سب غلط ہیں۔
❹ جن دو شخصوں کے درمیان لڑائی جھگڑا اور اختلاف ہو، وہ اس رات میں صلح صفائی کر لیں، اگر صلح صفائی نہیں کریں گے، تو بخشش نہیں ہوگی۔
یہ چار کام اس رات میں ضعیف حدیث سے ثابت ہیں، اور ضعیف کا لحاظ اس وقت نہیں ہوتا جب سامنے صحیح حدیث ہو، صحیح حدیث کے مقابلے میں ضعیف حدیث کو نہیں لیا جاتا، لیکن اگر کسی مسئلہ میں ضعیف حدیث ہی ہو، اس کے مقابلے میں صحیح حدیث نہ ہو، تو ضعیف حدیث لی جاتی ہے، اور ایسا یہی ایک مسئلہ نہیں ہے، بہت سے مسائل ہیں، جن میں ضعیف حدیثیں ہیں، اور ضعیف احادیث سے مسائل ثابت ہوئے ہیں، جیسے صلوۃ التسبیح کی گیارہ روایتیں ہیں، اور سب ضعیف ہیں، مگر سلف کے زمانے سے صلوۃ التسبیح کا رواج ہے۔
البتہ ضعیف حدیث سے واجب اور سنت کے درجہ کا عمل ثابت نہیں ہو گا، استحباب کے درجے کا حکم ثابت ہوگا، پس صلوۃ التسبیح پڑھنا مستحب ہے، ایسے ہی پندرہ شعبان کے بارے میں، جو روایات ہیں وہ بھی ضعیف ہیں، مگر ان سے استحباب کے درجہ کا عمل ثابت ہو سکتا ہے، پس احادیث میں بیان کئے گئے چاروں کام مستحب ہوں گے، شب برأت، اس کے اعمال اور اسکے اعمال کو بالکل بے اصل کہنا درست نہیں، البتہ سورہ دخان کی تیسری آیت: انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ کا مصداق شب برأت نہیں، اس کا مصداق شب قدر ہے، کیونکہ قرآن کریم شب قدر میں نازل ہوا ہے۔
۔
حوالہ: علمی خطبات
از: مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب نور اللہ مرقدہ، سابق شیخ الحدیث و صدر المدرسین دار العلوم دیوبند
جلد: 2
صفحہ نمبر: 24
❶ اس رات میں اللہ سبحانہ وتعاليٰ جتنی توفيق دیں، اتنی گھر میں انفرادي عبادتیں کرنا، مگر ہم نے اس رات کو ہنگاموں کی رات بنا دیا ہے، مسجدوں اور قبرستانوں میں جمع ہوتے ہیں، کھاتے پیتے اور شور کرتے ہیں، یہ سب غلط ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں، اس رات میں نفلیں پڑھنی چاہئیں، اور پوری رات پڑھنی ضروری نہیں، جتنی اللہ تعالیٰ توفيق دیں گھر میں پڑھے، یہ انفرادي عمل ہے، اجتماعی عمل نہیں۔
❷ اگلے دن روزہ رکھے، یہ روزہ مستحب ہے۔
❸ اس رات میں اپنے لئے، آپنے مرحومین کےلئے، اور پوری امت کے لئے مغفرت کی دعا کرے، اس کے لئے قبرستان جانا ضروری نہیں، اس رات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان ضرور گئے ہیں، مگر چپکے سے گئے ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اتفاقاً پتہ چل گیا تھا، نیز حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےاس رات میں قبرستان جانے کا کوئی حکم بھی نہیں دیا، اس لئے ہمارے یہاں جو تماشے ہوتے ہیں، وہ سب غلط ہیں۔
❹ جن دو شخصوں کے درمیان لڑائی جھگڑا اور اختلاف ہو، وہ اس رات میں صلح صفائی کر لیں، اگر صلح صفائی نہیں کریں گے، تو بخشش نہیں ہوگی۔
یہ چار کام اس رات میں ضعیف حدیث سے ثابت ہیں، اور ضعیف کا لحاظ اس وقت نہیں ہوتا جب سامنے صحیح حدیث ہو، صحیح حدیث کے مقابلے میں ضعیف حدیث کو نہیں لیا جاتا، لیکن اگر کسی مسئلہ میں ضعیف حدیث ہی ہو، اس کے مقابلے میں صحیح حدیث نہ ہو، تو ضعیف حدیث لی جاتی ہے، اور ایسا یہی ایک مسئلہ نہیں ہے، بہت سے مسائل ہیں، جن میں ضعیف حدیثیں ہیں، اور ضعیف احادیث سے مسائل ثابت ہوئے ہیں، جیسے صلوۃ التسبیح کی گیارہ روایتیں ہیں، اور سب ضعیف ہیں، مگر سلف کے زمانے سے صلوۃ التسبیح کا رواج ہے۔
البتہ ضعیف حدیث سے واجب اور سنت کے درجہ کا عمل ثابت نہیں ہو گا، استحباب کے درجے کا حکم ثابت ہوگا، پس صلوۃ التسبیح پڑھنا مستحب ہے، ایسے ہی پندرہ شعبان کے بارے میں، جو روایات ہیں وہ بھی ضعیف ہیں، مگر ان سے استحباب کے درجہ کا عمل ثابت ہو سکتا ہے، پس احادیث میں بیان کئے گئے چاروں کام مستحب ہوں گے، شب برأت، اس کے اعمال اور اسکے اعمال کو بالکل بے اصل کہنا درست نہیں، البتہ سورہ دخان کی تیسری آیت: انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ کا مصداق شب برأت نہیں، اس کا مصداق شب قدر ہے، کیونکہ قرآن کریم شب قدر میں نازل ہوا ہے۔
۔
حوالہ: علمی خطبات
از: مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب نور اللہ مرقدہ، سابق شیخ الحدیث و صدر المدرسین دار العلوم دیوبند
جلد: 2
صفحہ نمبر: 24
❤27
سنو سنو!!
دیوبند کی رونق: طلبہ کے دم سے
(ناصرالدین مظاہری)
کل دیوبند جانا ہوا۔ طلبہ کا وہ بے کراں ہجوم، جو عام دنوں میں شہر کی پہچان ہوتا ہے، بہت کم نظر آیا۔ وجہ ظاہر تھی: سالانہ چھٹیاں ہوچکی ہیں، طلبہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوچکے ہیں۔ واقعی باغ میں بہار بلبلوں اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے ہی ہوتی ہے۔
دارالعلوم ہی نہیں، چند ہی دنوں میں پورا دیوبند طلبہ کی رونق سے محروم ہو جائے گا۔ دکاندار اپنی دکانوں پر بے کار بیٹھے نظر آئیں گے، ہوٹلوں کی سرگرمیاں ختم، چائے خانوں کی بھیڑ عنقا اور بازاروں کی ہماہمی معدوم ہو جائے گی۔
لاک ڈاؤن کے زمانے میں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ صرف طلبہ کی غیر موجودگی کے سبب کتنی ہی دکانیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دیوبند کا سارا خمار اور نکھار یہی طلبہ ہیں۔ انہی کی چہک اور مہک سے دیوبند کے در و بام روشن و منور ہیں۔
دیوبند کے دکانداروں اور کاروباری حضرات کو چاہیے کہ وہ ان کی قدر کریں۔ یہی طلبہ آپ کی اصل آمدنی ہیں، انہی سے آپ کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں، انہی کی جیب سے آپ کی جیب آباد ہوتی ہے۔ انہی کے دم قدم اور وجود سے دیوبند، دیوبند ہے۔
ذرا چشمِ تصور میں دیوبند سے طلبہ کو ہٹا کر دیکھیے ادارے ویران، بازار سنسان، ہوائیں اڑتی محسوس ہوں گی اور پکوان بھی پھیکے نظر آئیں گے۔
اسی لیے میں دیوبند کے کاروباری طبقے سے خاص تاکید کرتا ہوں کہ طلبہ کے ساتھ خوش اخلاقی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کریں۔ یہی آپ کی کرنسی ہیں اور یہی آپ کی کرسی۔ انہی سے آپ ہیں، ورنہ سچ یہ ہے کہ اگر یہ معصوم مخلوق نہ ہو تو دیوبند میں کچھ بھی نہ ہو۔
شکر ہے اس ربِ قدیر و قادر کا جس نے اکابر کو دارالعلوم قائم کرنے کی توفیق بخشی، پھر چراغ سے چراغ جلتا گیا، اور آج دیوبند ایک قصبہ ہو کر بھی شہروں سے زیادہ پررونق ہے۔
(انیس شعبان المعظم چودہ سو سینتالیس)
دیوبند کی رونق: طلبہ کے دم سے
(ناصرالدین مظاہری)
کل دیوبند جانا ہوا۔ طلبہ کا وہ بے کراں ہجوم، جو عام دنوں میں شہر کی پہچان ہوتا ہے، بہت کم نظر آیا۔ وجہ ظاہر تھی: سالانہ چھٹیاں ہوچکی ہیں، طلبہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوچکے ہیں۔ واقعی باغ میں بہار بلبلوں اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے ہی ہوتی ہے۔
دارالعلوم ہی نہیں، چند ہی دنوں میں پورا دیوبند طلبہ کی رونق سے محروم ہو جائے گا۔ دکاندار اپنی دکانوں پر بے کار بیٹھے نظر آئیں گے، ہوٹلوں کی سرگرمیاں ختم، چائے خانوں کی بھیڑ عنقا اور بازاروں کی ہماہمی معدوم ہو جائے گی۔
لاک ڈاؤن کے زمانے میں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ صرف طلبہ کی غیر موجودگی کے سبب کتنی ہی دکانیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دیوبند کا سارا خمار اور نکھار یہی طلبہ ہیں۔ انہی کی چہک اور مہک سے دیوبند کے در و بام روشن و منور ہیں۔
دیوبند کے دکانداروں اور کاروباری حضرات کو چاہیے کہ وہ ان کی قدر کریں۔ یہی طلبہ آپ کی اصل آمدنی ہیں، انہی سے آپ کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں، انہی کی جیب سے آپ کی جیب آباد ہوتی ہے۔ انہی کے دم قدم اور وجود سے دیوبند، دیوبند ہے۔
ذرا چشمِ تصور میں دیوبند سے طلبہ کو ہٹا کر دیکھیے ادارے ویران، بازار سنسان، ہوائیں اڑتی محسوس ہوں گی اور پکوان بھی پھیکے نظر آئیں گے۔
اسی لیے میں دیوبند کے کاروباری طبقے سے خاص تاکید کرتا ہوں کہ طلبہ کے ساتھ خوش اخلاقی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کریں۔ یہی آپ کی کرنسی ہیں اور یہی آپ کی کرسی۔ انہی سے آپ ہیں، ورنہ سچ یہ ہے کہ اگر یہ معصوم مخلوق نہ ہو تو دیوبند میں کچھ بھی نہ ہو۔
شکر ہے اس ربِ قدیر و قادر کا جس نے اکابر کو دارالعلوم قائم کرنے کی توفیق بخشی، پھر چراغ سے چراغ جلتا گیا، اور آج دیوبند ایک قصبہ ہو کر بھی شہروں سے زیادہ پررونق ہے۔
(انیس شعبان المعظم چودہ سو سینتالیس)
❤20👍2
فروعِ شرعیہ کو عقل سے ثابت کرنے کی کوشش
جدیدیت نے انسانی فکر کے پیرایہ (framework) کو جس انداز سے بدلا ہے، اس کا ایک نمایاں اثر یہ سامنے آیا ہے کہ ایمان اور عمل کی روایتی درجہ بندی الٹ گئی ہے۔ اسلامی روایت میں ایمان مقدم اور عمل اس کے تابع ہے، جب کہ جدید ذہن میں عملی اور فقہی مسائل کو مرکزیت حاصل ہو گئی ہے اور ایمانیات پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ یوں مذہب کو ایک عمل کے ساتھ وجودی اور اعتقادی حقیقت کے بجائے صرف ایک سماجی اور اخلاقی نظام کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ اسی تبدیلی کا نتیجہ ہے کہ آج کا تشکیکی ذہن (skeptical mind) ایمانی مقدمات جیسے وحی، نبوت، آخرت یا الوہیت پر تشکیک کے دلیل کے طور پر فقہی مسائل پر مغربی اخلاقیات، حقوقِ انسانی (human rights) اور مادی افادیت (material utility) کے پیمانوں کو حق مانتے ہوءے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ گویا اصل نزاع ایمان پر نہیں بلکہ شریعت کے عملی مظاہر پر منتقل کر دی گئی ہے، جبکہ کوئی بھی عملی مظاہر اپنی اصل میں اعتقادی مقدمات ہی کی فرع ہوتی ہے۔ (مغربی قانون کے پس منظر میں بھی وجودی اور اخلاقی مقدمات موجود ہیں جنہیں عام طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا)
اس رویہ کے وجہ سے ایک فکری مغالطہ جنم لیتا ہے۔ جب اعتقاد پس منظر میں چلا جائے اور عمل کو خود مختارحیثیت دے دی جائے تو شریعت کے احکام بھی محض سماجی قوانین معلوم ہونے لگتے ہیں جنہیں کسی بھی جدید انسانی قانون کی طرح مادی افادیت، مغربی تصور مساوات اور حقوق کے پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے۔ یہاں جدید ذہن اسلامی فقہ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہر حکم کی عقلی توجیہ اور مصلحت واضح کی جائے۔ بظاہر یہ ایک معقول مطالبہ لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک خاموش مفروضہ کارفرما ہوتا ہے یعنی عقلِ انسانی کو حاکمِ اعلیٰ مان لینا۔ لہٰذا انسانی اعمال میں وحی کی بالادستی غیر محسوس طور پر عقلِ جدید کے تابع ہو جاتی ہے۔ حیران کن پہلو یہ ہے کہ بہت سے وہ افراد بھی، جو دفاعِ اسلام یا ردِ مغربیت پر کام کرتے ہیں، غیر شعوری طور پر جدیدیت کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ وہ فروعی مسائل کی حکمتیں، طبی فوائد، سماجی مصلحتیں اور نفسیاتی اثرات بیان کر کے تشکیکی ذہن کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ مخاطب کا مسئلہ حکمت کو نہ جاننا نہیں بلکہ ایمانی مقدمے سے عدمِ اتفاق ہوتا ہے۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب انتباہات المفیدہ میں اس نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ آج عقلی استدلال کی متعدد غلط صورتیں ہیں، اور ان میں سے ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ فروعِ شرعیہ کو عقل سے ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس ایک تنبیہی جملے میں اصول کی مکمل نشاندہی کردی گئی ہے۔ شریعت کے فروعی احکام اپنی اصل میں خبر کے تابع ہیں یعنی ان کی بنیاد وحی پر ہے، نہ کہ تجربہ یا صرف عقل پر۔ بلا شبہ ان میں بے شمار حکمتیں اور مصالح موجود ہیں، مگر وہ حکمتیں اصل علت نہیں بلکہ ضمنی پہلو ہیں۔ ایک ایمانی ذہن کے لیے یہ حکمتیں قبولیت میں اضافہ کاسبب ہوتی ہیں، مگر ایک غیر ایمانی یا الحادی ذہن کے لیے یہ حکمتیں غیر معقول ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ ان حکمتوں کی بنیاد کو ہی تسلیم نہیں کرتا۔ چنانچہ حکمتوں کا بیان اس کے شک کو کم کرنے کے بجائے کبھی کبھی اس کے استہزا کو بڑھا دیتا ہے۔
مزید یہ کہ آج کے اعتراضات کی بنیاد عموماً “ جدید تصورِ حقوق “ ہوتا ہے، جو خود ایک تاریخی اور تہذیبی تشکیل ہے، جسے آج عام طور پر ایک بڑے طبقہ نے آفاقی اور ازلی حقیقت مان لیا ہے۔ جب کوئی شخص اسلامی فقہ پر اعتراض کرتا ہے تو اکثر وہ لاشعوری طور پر مغربی قانونی و اخلاقی نظام کی بالادستی کو مان چکا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں محض شرعی حکمتیں بیان کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کے اپنے مانے ہوئے نظامِ قانون کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔ اگر وہی نظیر مغربی قانون میں بھی موجود ہو تو اس سے سوال کیا جائے کہ وہاں اسے یہ مسئلہ کیوں محسوس نہیں ہوتا۔ اور اگر وہاں نہ ہو، تو گفتگو اس بنیادی تصور پر ہو جس سے اس کا اعتراض پیدا ہوا یعنی حقوق، آزادی یا مساوات کا جدید مفہوم۔ اس طرح بحث کو فروع سے اٹھا کر اصول کی سطح پر لانا ضروری ہے۔
فقہ اپنے جوہر میں محض سماجی ضابطہ نہیں بلکہ ایک ایمانی نظام کا عملی اظہار ہے۔ جب ایمان کمزور ہو اور شریعت کو صرف اخلاقی یا قانونی کوڈ سمجھا جائے تو اس کے احکام بوجھ محسوس ہوتے ہیں۔ مگر جب شریعت کو عبدیت کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہ محض قوانین نہیں بلکہ بندگی کے مظاہر ہیں۔ جدیدیت نے انسان کو خود مختار مان کر اسے مرکز بنایا، جب کہ اسلامی روایت میں مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اسی بنیادی فرق کو سمجھے بغیر فقہی اعتراضات کا جواب دینا اکثر مغالطہ پیدا کرتا ہے۔
جدیدیت نے انسانی فکر کے پیرایہ (framework) کو جس انداز سے بدلا ہے، اس کا ایک نمایاں اثر یہ سامنے آیا ہے کہ ایمان اور عمل کی روایتی درجہ بندی الٹ گئی ہے۔ اسلامی روایت میں ایمان مقدم اور عمل اس کے تابع ہے، جب کہ جدید ذہن میں عملی اور فقہی مسائل کو مرکزیت حاصل ہو گئی ہے اور ایمانیات پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ یوں مذہب کو ایک عمل کے ساتھ وجودی اور اعتقادی حقیقت کے بجائے صرف ایک سماجی اور اخلاقی نظام کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ اسی تبدیلی کا نتیجہ ہے کہ آج کا تشکیکی ذہن (skeptical mind) ایمانی مقدمات جیسے وحی، نبوت، آخرت یا الوہیت پر تشکیک کے دلیل کے طور پر فقہی مسائل پر مغربی اخلاقیات، حقوقِ انسانی (human rights) اور مادی افادیت (material utility) کے پیمانوں کو حق مانتے ہوءے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ گویا اصل نزاع ایمان پر نہیں بلکہ شریعت کے عملی مظاہر پر منتقل کر دی گئی ہے، جبکہ کوئی بھی عملی مظاہر اپنی اصل میں اعتقادی مقدمات ہی کی فرع ہوتی ہے۔ (مغربی قانون کے پس منظر میں بھی وجودی اور اخلاقی مقدمات موجود ہیں جنہیں عام طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا)
اس رویہ کے وجہ سے ایک فکری مغالطہ جنم لیتا ہے۔ جب اعتقاد پس منظر میں چلا جائے اور عمل کو خود مختارحیثیت دے دی جائے تو شریعت کے احکام بھی محض سماجی قوانین معلوم ہونے لگتے ہیں جنہیں کسی بھی جدید انسانی قانون کی طرح مادی افادیت، مغربی تصور مساوات اور حقوق کے پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے۔ یہاں جدید ذہن اسلامی فقہ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہر حکم کی عقلی توجیہ اور مصلحت واضح کی جائے۔ بظاہر یہ ایک معقول مطالبہ لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک خاموش مفروضہ کارفرما ہوتا ہے یعنی عقلِ انسانی کو حاکمِ اعلیٰ مان لینا۔ لہٰذا انسانی اعمال میں وحی کی بالادستی غیر محسوس طور پر عقلِ جدید کے تابع ہو جاتی ہے۔ حیران کن پہلو یہ ہے کہ بہت سے وہ افراد بھی، جو دفاعِ اسلام یا ردِ مغربیت پر کام کرتے ہیں، غیر شعوری طور پر جدیدیت کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ وہ فروعی مسائل کی حکمتیں، طبی فوائد، سماجی مصلحتیں اور نفسیاتی اثرات بیان کر کے تشکیکی ذہن کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ مخاطب کا مسئلہ حکمت کو نہ جاننا نہیں بلکہ ایمانی مقدمے سے عدمِ اتفاق ہوتا ہے۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب انتباہات المفیدہ میں اس نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ آج عقلی استدلال کی متعدد غلط صورتیں ہیں، اور ان میں سے ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ فروعِ شرعیہ کو عقل سے ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس ایک تنبیہی جملے میں اصول کی مکمل نشاندہی کردی گئی ہے۔ شریعت کے فروعی احکام اپنی اصل میں خبر کے تابع ہیں یعنی ان کی بنیاد وحی پر ہے، نہ کہ تجربہ یا صرف عقل پر۔ بلا شبہ ان میں بے شمار حکمتیں اور مصالح موجود ہیں، مگر وہ حکمتیں اصل علت نہیں بلکہ ضمنی پہلو ہیں۔ ایک ایمانی ذہن کے لیے یہ حکمتیں قبولیت میں اضافہ کاسبب ہوتی ہیں، مگر ایک غیر ایمانی یا الحادی ذہن کے لیے یہ حکمتیں غیر معقول ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ ان حکمتوں کی بنیاد کو ہی تسلیم نہیں کرتا۔ چنانچہ حکمتوں کا بیان اس کے شک کو کم کرنے کے بجائے کبھی کبھی اس کے استہزا کو بڑھا دیتا ہے۔
مزید یہ کہ آج کے اعتراضات کی بنیاد عموماً “ جدید تصورِ حقوق “ ہوتا ہے، جو خود ایک تاریخی اور تہذیبی تشکیل ہے، جسے آج عام طور پر ایک بڑے طبقہ نے آفاقی اور ازلی حقیقت مان لیا ہے۔ جب کوئی شخص اسلامی فقہ پر اعتراض کرتا ہے تو اکثر وہ لاشعوری طور پر مغربی قانونی و اخلاقی نظام کی بالادستی کو مان چکا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں محض شرعی حکمتیں بیان کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کے اپنے مانے ہوئے نظامِ قانون کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔ اگر وہی نظیر مغربی قانون میں بھی موجود ہو تو اس سے سوال کیا جائے کہ وہاں اسے یہ مسئلہ کیوں محسوس نہیں ہوتا۔ اور اگر وہاں نہ ہو، تو گفتگو اس بنیادی تصور پر ہو جس سے اس کا اعتراض پیدا ہوا یعنی حقوق، آزادی یا مساوات کا جدید مفہوم۔ اس طرح بحث کو فروع سے اٹھا کر اصول کی سطح پر لانا ضروری ہے۔
فقہ اپنے جوہر میں محض سماجی ضابطہ نہیں بلکہ ایک ایمانی نظام کا عملی اظہار ہے۔ جب ایمان کمزور ہو اور شریعت کو صرف اخلاقی یا قانونی کوڈ سمجھا جائے تو اس کے احکام بوجھ محسوس ہوتے ہیں۔ مگر جب شریعت کو عبدیت کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہ محض قوانین نہیں بلکہ بندگی کے مظاہر ہیں۔ جدیدیت نے انسان کو خود مختار مان کر اسے مرکز بنایا، جب کہ اسلامی روایت میں مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اسی بنیادی فرق کو سمجھے بغیر فقہی اعتراضات کا جواب دینا اکثر مغالطہ پیدا کرتا ہے۔
❤7
لہٰذا اصل ضرورت یہ ہے کہ گفتگو کا آغاز فروع سے نہیں بلکہ ایمانی مقدمے سے ہو۔ جب تک مخاطب یہ تسلیم نہ کرے کہ خدا کو حکم دینے کا حق ہے، اس وقت تک ہر فقہی حکم اس کے لیے قابلِ مناقشہ رہے گا۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو جدید دور میں تشکیک و الحاد کے رفع کے لیے فقہی حکمتوں کی وضاحت کی جگہ ایمانی بنیادوں (وجودی،علمیاتی و اخلاقی ) کی وضاحت ہونی چاہیے۔ کیونکہ درخت کی جڑ کمزور ہو تو شاخوں پر پانی ڈالنے سے سرسبزی نہیں آتی۔
❤10
‼️ *ماہِ رمضان کا چاند نظر آنے کے وقت سال بھر روزی میں فراخی کا مجرب عمل*
ماہِ رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے وقت سورۃ الفتح تین بار پڑھنے سے سال بھر روزی میں فراخی رہے گی ان شاء اللّٰہ۔ چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ تعالٰی تحریر فرماتے ہیں کہ:
سورتِ فتح (پارہ 26) رمضان شریف کے رؤیتِ ہلال کے وقت تین بار پڑھنے سے تمام سال روزی میں فراخی رہے۔
(کتاب: اعمالِ قرآنی صفحہ: 96 دار الاشاعت)
⬅️ یہ عمل نہ تو ثابت ہے اور نہ ہی سنت یا مستحب، بلکہ یہ بزرگوں کے مجربات میں سے ہے، اس لیے اسے سنت، مستحب، ثابت یا لازم سمجھے بغیر اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
✍🏻۔۔۔ بندہ مبین الرحمن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
ماہِ رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے وقت سورۃ الفتح تین بار پڑھنے سے سال بھر روزی میں فراخی رہے گی ان شاء اللّٰہ۔ چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ تعالٰی تحریر فرماتے ہیں کہ:
سورتِ فتح (پارہ 26) رمضان شریف کے رؤیتِ ہلال کے وقت تین بار پڑھنے سے تمام سال روزی میں فراخی رہے۔
(کتاب: اعمالِ قرآنی صفحہ: 96 دار الاشاعت)
⬅️ یہ عمل نہ تو ثابت ہے اور نہ ہی سنت یا مستحب، بلکہ یہ بزرگوں کے مجربات میں سے ہے، اس لیے اسے سنت، مستحب، ثابت یا لازم سمجھے بغیر اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
✍🏻۔۔۔ بندہ مبین الرحمن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
❤12👍1
دینی مدارس میں عصری تعلیم کی ضابطہ بندی
وقت کی اہم ضرورت
چند دن پہلے جامعہ دار العلوم کراچی کا ایک اعلان نظر سے گزرا جس میں درجہ اولی وثانیہ اسی طرح موقوف علیہ اور دورہ حدیث میں عصری تعلیم کے امتحانات پر مطلقا پابندی لگائی گئی ہے ۔۔۔ بقیہ درجات میں صرف امتحانات کراچی بورڈ سے دینے کی اجازت دی گئی ہے ۔۔۔
دیکھ کر دل سے اکابر دار العلوم کے لئے دعائیں نکلیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو وقت کے تقاضوں کو سمجھنے اور اعتدال ومیانہ روی پر چلنے کی توفیق خاص مرحمت فرمائی ہے ۔۔۔
چند سالوں سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ مدارس میں عصری تعلیم کے امتحانات بلکہ بعض مدارس میں متوازی ریگولر تعلیم کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے یہاں تک مدرسہ میں داخل ہوتے ہی دونوں تعلیمیں شروع ہوجاتی ہیں۔۔ اس کی وجہ سے دینی تعلیم وتربیت کا سخت حرج ہو رہا ہے ۔۔۔ اور گویا خشت اول ہی کج رکھی جارہی ہے ۔۔۔
خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا مے رود دیوار کج
اس طریقہ کار کی وجہ سے مشاہدہ ہے کہ دینی تعلیم بھی عام کالج یونیورسٹی کی تعلیم کی طرح کلاسوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔۔
تکرار، مطالعہ اور کتابوں کے حواشی پڑھنے کا رجحان روز بروز کم ہوتا جا رہاہے ۔۔۔
عصری تعلیم گاہوں کی طرح اساتذہ کے ساتھ ربط ان کی خدمت میں حاضر باشی ناپید ہوتی جارہی ہے ۔۔۔
اساتذہ و شیوخ سے اپنے افکار لینے کی بجائے ان کی طرز زندگی پر تنقید اور ان کی زاہدانہ روش کو معیوب سمجھا جانے لگا ہے ۔۔۔ پرچہ آؤٹ کرنے اور امتحانات میں خیانت کے نت نئے طریقے یہاں بھی دکھائی دینے لگے ہیں ۔۔۔
معاشی سٹیٹس بنانے کی فکر، شہرت کا حصول اور سوشل میڈیا پر سرگرمیاں کمالات تصور کئے جاتے ہیں ۔۔۔
اور جو حضرات شہرت سے دور رہنے، حب جاہ اور حب مال سے دوری کا درس دیتے ہیں ان کو پرانے طرز کے بزرگ کہا جاتا ہے۔۔۔
گویا نئے طرز کے بزرگ مالدار اور صاحب عہدہ ومنصب ہوتے ہیں اور جو مالدار، صاحب منصب، لگژری گاڑی اور میچنگ ڈریس والے نہ ہوں وہ قدیم طرز کے بزرگ کہلاتے ہیں ۔۔۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
بہرحال اس ساری روش اور مدارس کے ماحول میں اس کی تبلیغ میں بہت بڑا کردار اگر گستاخی معاف ہو ان کالجوں کی آمد ورفت اور ملازمتوں کی ریل پیل کا ہے ۔۔۔
سابقہ دو دھائیوں میں اگر چہ عصری تعلیم کے رجحانات مدارس میں شروع ہوچکےتھے لیکن مدرسی مزاج اور رنگ غالب تھا عصری امتحانات دینے والے اپنے آپ کو مدارس کے نمائندے اور علم دین کے حاملین سمجھ کر عصری تعلیم گاہوں میں جاتے اور اہل علم کے اقدار کے ساتھ متصف نظر آتے
چنانچہ ہم نے اپنے اساتذہ کو دیکھا کہ باوجود بڑے بڑے عہدوں پر ہونے کے مدارس کے اندر اور طلباء کے درمیان ان کا لباس انتہائی سادہ ، طرز گفتگو مولویانہ اور روش متواضعانہ وعاجزانہ ہوتی ان میں اور ایک عام مدرس میں کوئی فرق محسوس ہی نہ ہوتا ۔۔
لیکن جب سے عصری تعلیم کا رجحان مدارس میں بڑھا اور سرکاری ملازمت والوں کی روزانہ آمد ورفت مدارس کے ماحول میں بڑھی اور کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مدارس کے خلاف پروپیگنڈا اپنے بام عروج تک پہنچایا گیا ۔۔۔ اور علماء کے اخلاق تک کو نشانہ بنایا جانے لگا تو مدارس کے ماحول میں تبدیلیاں آئیں اور آلہ کار کے طور پر یہی ملازمین اور عصری تعلیم حاصل کرنے والوں کی جماعت استعمال ہوئی ۔۔۔
اور اب تو مدارس کے مہتممین بھی سرکاری ملازمین کی تدریس کو ترجیح دینے لگے ہیں یہاں تک کہ اسلام آباد میں بعض مدارس کے بارے سننے میں آیا کہ تیس اساتذہ میں سے بیس سرکاری ملازم ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ حضرات طلبہ کو یہ نصیحت کیونکر کرسکتے کہ علوم دینیہ کو ہی اپنا مشغلہ بناؤ دین کے لئے مجاہدہ اور فقر کو ترجیح دو۔۔۔ سرکاری عہدوں کےںپیچھے نہ پڑو ۔۔۔
فكان ما كان مما لست أذكره
فظن خيرا ولا تسأل الخبرا
بہر حال خلاصہ یہ کہ چونکہ نتیجہ اخس ارذل کے تابع ہوتا ہے ۔۔۔ مدارس سکول وکالج کی تعلیم کے لئے مفت ہاسٹل کا رول ادا کرنے لگے ہیں ۔۔۔
فإلى الله المشتكى ...
✍️ شجاعت الہاشمی
وقت کی اہم ضرورت
چند دن پہلے جامعہ دار العلوم کراچی کا ایک اعلان نظر سے گزرا جس میں درجہ اولی وثانیہ اسی طرح موقوف علیہ اور دورہ حدیث میں عصری تعلیم کے امتحانات پر مطلقا پابندی لگائی گئی ہے ۔۔۔ بقیہ درجات میں صرف امتحانات کراچی بورڈ سے دینے کی اجازت دی گئی ہے ۔۔۔
دیکھ کر دل سے اکابر دار العلوم کے لئے دعائیں نکلیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو وقت کے تقاضوں کو سمجھنے اور اعتدال ومیانہ روی پر چلنے کی توفیق خاص مرحمت فرمائی ہے ۔۔۔
چند سالوں سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ مدارس میں عصری تعلیم کے امتحانات بلکہ بعض مدارس میں متوازی ریگولر تعلیم کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے یہاں تک مدرسہ میں داخل ہوتے ہی دونوں تعلیمیں شروع ہوجاتی ہیں۔۔ اس کی وجہ سے دینی تعلیم وتربیت کا سخت حرج ہو رہا ہے ۔۔۔ اور گویا خشت اول ہی کج رکھی جارہی ہے ۔۔۔
خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا مے رود دیوار کج
اس طریقہ کار کی وجہ سے مشاہدہ ہے کہ دینی تعلیم بھی عام کالج یونیورسٹی کی تعلیم کی طرح کلاسوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔۔
تکرار، مطالعہ اور کتابوں کے حواشی پڑھنے کا رجحان روز بروز کم ہوتا جا رہاہے ۔۔۔
عصری تعلیم گاہوں کی طرح اساتذہ کے ساتھ ربط ان کی خدمت میں حاضر باشی ناپید ہوتی جارہی ہے ۔۔۔
اساتذہ و شیوخ سے اپنے افکار لینے کی بجائے ان کی طرز زندگی پر تنقید اور ان کی زاہدانہ روش کو معیوب سمجھا جانے لگا ہے ۔۔۔ پرچہ آؤٹ کرنے اور امتحانات میں خیانت کے نت نئے طریقے یہاں بھی دکھائی دینے لگے ہیں ۔۔۔
معاشی سٹیٹس بنانے کی فکر، شہرت کا حصول اور سوشل میڈیا پر سرگرمیاں کمالات تصور کئے جاتے ہیں ۔۔۔
اور جو حضرات شہرت سے دور رہنے، حب جاہ اور حب مال سے دوری کا درس دیتے ہیں ان کو پرانے طرز کے بزرگ کہا جاتا ہے۔۔۔
گویا نئے طرز کے بزرگ مالدار اور صاحب عہدہ ومنصب ہوتے ہیں اور جو مالدار، صاحب منصب، لگژری گاڑی اور میچنگ ڈریس والے نہ ہوں وہ قدیم طرز کے بزرگ کہلاتے ہیں ۔۔۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
بہرحال اس ساری روش اور مدارس کے ماحول میں اس کی تبلیغ میں بہت بڑا کردار اگر گستاخی معاف ہو ان کالجوں کی آمد ورفت اور ملازمتوں کی ریل پیل کا ہے ۔۔۔
سابقہ دو دھائیوں میں اگر چہ عصری تعلیم کے رجحانات مدارس میں شروع ہوچکےتھے لیکن مدرسی مزاج اور رنگ غالب تھا عصری امتحانات دینے والے اپنے آپ کو مدارس کے نمائندے اور علم دین کے حاملین سمجھ کر عصری تعلیم گاہوں میں جاتے اور اہل علم کے اقدار کے ساتھ متصف نظر آتے
چنانچہ ہم نے اپنے اساتذہ کو دیکھا کہ باوجود بڑے بڑے عہدوں پر ہونے کے مدارس کے اندر اور طلباء کے درمیان ان کا لباس انتہائی سادہ ، طرز گفتگو مولویانہ اور روش متواضعانہ وعاجزانہ ہوتی ان میں اور ایک عام مدرس میں کوئی فرق محسوس ہی نہ ہوتا ۔۔
لیکن جب سے عصری تعلیم کا رجحان مدارس میں بڑھا اور سرکاری ملازمت والوں کی روزانہ آمد ورفت مدارس کے ماحول میں بڑھی اور کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مدارس کے خلاف پروپیگنڈا اپنے بام عروج تک پہنچایا گیا ۔۔۔ اور علماء کے اخلاق تک کو نشانہ بنایا جانے لگا تو مدارس کے ماحول میں تبدیلیاں آئیں اور آلہ کار کے طور پر یہی ملازمین اور عصری تعلیم حاصل کرنے والوں کی جماعت استعمال ہوئی ۔۔۔
اور اب تو مدارس کے مہتممین بھی سرکاری ملازمین کی تدریس کو ترجیح دینے لگے ہیں یہاں تک کہ اسلام آباد میں بعض مدارس کے بارے سننے میں آیا کہ تیس اساتذہ میں سے بیس سرکاری ملازم ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ حضرات طلبہ کو یہ نصیحت کیونکر کرسکتے کہ علوم دینیہ کو ہی اپنا مشغلہ بناؤ دین کے لئے مجاہدہ اور فقر کو ترجیح دو۔۔۔ سرکاری عہدوں کےںپیچھے نہ پڑو ۔۔۔
فكان ما كان مما لست أذكره
فظن خيرا ولا تسأل الخبرا
بہر حال خلاصہ یہ کہ چونکہ نتیجہ اخس ارذل کے تابع ہوتا ہے ۔۔۔ مدارس سکول وکالج کی تعلیم کے لئے مفت ہاسٹل کا رول ادا کرنے لگے ہیں ۔۔۔
فإلى الله المشتكى ...
✍️ شجاعت الہاشمی
❤12
معاشرے میں یہ بحث عام ہے کہ مدارس کی تعلیم عصرِ حاضر کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتی اور یہاں کے فارغ التحصیل افراد معاشی طور پر "بیکار" ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر تعصب کی عینک اتار کر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو تصویر اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ یہ محض ایک پروپیگنڈا ہے کہ عصری تعلیم یافتہ طبقہ ہی معاشی طور پر کامیاب ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈگریوں کے انبار کے باوجود آج لاکھوں نوجوان بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مدرسے سے فارغ ہونے والا طالب علم شاید ہی کبھی "بے روزگار" یا "فاقہ کش" نظر آئے۔ وہ امامت، خطابت، تدریس، تصنیف، یا نجی کاروبار کے ذریعے ایک باوقار اور پُر سکون زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، یونیورسٹیوں سے مہنگی ڈگریاں حاصل کرنے والے ہزاروں نوجوان آج نوکری کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کامیابی کا معیار صرف "جاب" ہے، تو پھر وہ ڈگری ہولڈرز کیوں ناکام ہیں جن کے پاس روزی روٹی کا کوئی سہارا نہیں؟ مدرسے کا طالب علم اپنی قناعت اور ہنر کی بنیاد پر معاشرے کا ایک فعال اور خود کفیل حصہ بنتا ہے۔
مدارس کے طلبہ اور اساتذہ پر دوسرا بڑا اعتراض "چندہ" اور "عوامی تعاون" پر زندگی گزارنے کا کیا جاتا ہے۔ یہ اعتراض علمی اور منطقی طور پر انتہائی کمزور ہے۔ دنیا کا ہر وہ ادارہ جو عوامی خدمات (Public Services) سرانجام دیتا ہے، اس کی مالی ذمہ داری عوام ہی پر ہوتی ہے۔
اس کی سب سے بڑی مثال سرکاری ملازمین ہیں۔ ایک پولیس افسر، جج، یا کلرک کی تنخواہ براہِ راست حکومت نہیں دیتی، بلکہ وہ عوام سے وصول کیے گئے "ٹیکس" سے ادا کی جاتی ہے۔ اگر ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لینے والا شخص "معزز" کہلاتا ہے، تو رضاکارانہ طور پر دیے گئے عطیات (چندہ) سے دین کی خدمت کرنے والا "حقیر" کیوں؟ دونوں صورتوں میں سرمایہ عوام کا ہی ہے، بس ایک جگہ یہ عمل قانوناً جبری ہے (ٹیکس) اور دوسری جگہ عقیدتاً اختیاری (چندہ)۔
یہ دوہرا معیار دراصل ذہنی غلامی اور ترجیحات کے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ مدرسہ معاشرے کو اخلاقیات، روحانیت اور خاندانی نظام کی بقا کا درس دیتا ہے، جو کسی بھی ٹیکس سے چلنے والے ادارے کی خدمت سے کم نہیں ہے۔ اگر ایک سرکاری ملازم عوامی خدمت کے عوض تنخواہ کا حقدار ہے، تو وہ طبقہ جو نسلوں کے ایمان اور کردار کی حفاظت کر رہا ہے، وہ عوامی تعاون کا حقدار کیوں نہیں؟
وقت آ گیا ہے کہ ہم کامیابی کا معیار صرف مادی عہدوں کو نہ سمجھیں بلکہ اس برکت اور سکون کو دیکھیں جو مدارس کے فارغ التحصیل افراد کی زندگی میں نمایاں ہے۔ مدارس کے طلبہ "دست نگر" نہیں بلکہ قوم کے وہ محسن ہیں جو نہایت کم وسائل میں معاشرے کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انہیں حقیر سمجھنا دراصل اپنی ہی تہذیبی بنیادوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔
( *ظہیر احمد قاسمی*)
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مدرسے سے فارغ ہونے والا طالب علم شاید ہی کبھی "بے روزگار" یا "فاقہ کش" نظر آئے۔ وہ امامت، خطابت، تدریس، تصنیف، یا نجی کاروبار کے ذریعے ایک باوقار اور پُر سکون زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، یونیورسٹیوں سے مہنگی ڈگریاں حاصل کرنے والے ہزاروں نوجوان آج نوکری کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کامیابی کا معیار صرف "جاب" ہے، تو پھر وہ ڈگری ہولڈرز کیوں ناکام ہیں جن کے پاس روزی روٹی کا کوئی سہارا نہیں؟ مدرسے کا طالب علم اپنی قناعت اور ہنر کی بنیاد پر معاشرے کا ایک فعال اور خود کفیل حصہ بنتا ہے۔
مدارس کے طلبہ اور اساتذہ پر دوسرا بڑا اعتراض "چندہ" اور "عوامی تعاون" پر زندگی گزارنے کا کیا جاتا ہے۔ یہ اعتراض علمی اور منطقی طور پر انتہائی کمزور ہے۔ دنیا کا ہر وہ ادارہ جو عوامی خدمات (Public Services) سرانجام دیتا ہے، اس کی مالی ذمہ داری عوام ہی پر ہوتی ہے۔
اس کی سب سے بڑی مثال سرکاری ملازمین ہیں۔ ایک پولیس افسر، جج، یا کلرک کی تنخواہ براہِ راست حکومت نہیں دیتی، بلکہ وہ عوام سے وصول کیے گئے "ٹیکس" سے ادا کی جاتی ہے۔ اگر ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لینے والا شخص "معزز" کہلاتا ہے، تو رضاکارانہ طور پر دیے گئے عطیات (چندہ) سے دین کی خدمت کرنے والا "حقیر" کیوں؟ دونوں صورتوں میں سرمایہ عوام کا ہی ہے، بس ایک جگہ یہ عمل قانوناً جبری ہے (ٹیکس) اور دوسری جگہ عقیدتاً اختیاری (چندہ)۔
یہ دوہرا معیار دراصل ذہنی غلامی اور ترجیحات کے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ مدرسہ معاشرے کو اخلاقیات، روحانیت اور خاندانی نظام کی بقا کا درس دیتا ہے، جو کسی بھی ٹیکس سے چلنے والے ادارے کی خدمت سے کم نہیں ہے۔ اگر ایک سرکاری ملازم عوامی خدمت کے عوض تنخواہ کا حقدار ہے، تو وہ طبقہ جو نسلوں کے ایمان اور کردار کی حفاظت کر رہا ہے، وہ عوامی تعاون کا حقدار کیوں نہیں؟
وقت آ گیا ہے کہ ہم کامیابی کا معیار صرف مادی عہدوں کو نہ سمجھیں بلکہ اس برکت اور سکون کو دیکھیں جو مدارس کے فارغ التحصیل افراد کی زندگی میں نمایاں ہے۔ مدارس کے طلبہ "دست نگر" نہیں بلکہ قوم کے وہ محسن ہیں جو نہایت کم وسائل میں معاشرے کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انہیں حقیر سمجھنا دراصل اپنی ہی تہذیبی بنیادوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔
( *ظہیر احمد قاسمی*)
❤9
RAHI HIJAZI راہی حجازی
Photo
یورپ میں1940ء تک عورتوں کے (Bikini) بکنی پہننے کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ بکنی عورتوں کے انتہائی مختصر لباس کو کہا جاتا ہے جو یورپ اور امریکہ میں عام ہے۔ جولائی 1946ء میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ ایک ماڈل کو فرانس میں بکنی پہنا کر عوام کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس پر عوام کا ردِ عمل شدید ترین تھا، عوام کے ساتھ ساتھ مقامی میڈیا نے بھی اس ڈریس پر بہت تنقید کی اور یوں عوام اور میڈیا نے مل کر بکنی کو مسترد کر دیا۔ بات صرف عوام اور میڈیا تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ چرچ کو بھی اس معاملے میں کودنا پڑا اور پوپ نے بھی اس ڈریس کو بے ہودہ اور شرمناک قرار دے دیا۔
مگر بکنی کو بنانے والے اور اس کو عوام میں مقبول بنانے کیلئے جو قوتیں پیچھے کار فرما تھی وہ باز نہ آئی۔ 1951ء میں پہلی مرتبہ عالمی مقابلہ حسن میں ایک ماڈل نے بکنی کو زیب تن کیا، لیکن عوامی ردِ عمل کی وجہ سے مقابلہ حسن میں بکنی پہنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
پھر 1953ء میں منعقد ہونے والے کینز فلم فیسٹیول میں ایک اداکارہ نے بکنی پہن کر Beach پر فوٹو شوٹ کروایا، اس اداکارہ کو میڈیا میں تو خوب پذیرائی ملی مگر عوام نے ایک بار پھر سے اسے مسترد کر دیا۔ کچھ عرصہ خاموشی کے بعد مردوں کیلئے مخصوص میگزینز میں بکنی پہنے ماڈلز کی تصویریں شائع ہو نا شروع ہو گئی اور اس کے بعد 1962ء میں آنے والی جیمز بانڈ کی ایک فلم میں اداکارہ کو پکنی پہنے سمندر میں سرفنگ (Surfing) کرتا دکھایا گیا، پھر 1966ء میں آنیوالی ایک اور ہالی ووڈ فلم میں بھی ایک اداکارہ کو بکنی پہنے دکھایا گیا۔ 1946 ء سے لیکر 1966 ء تک 20 سالوں میں عوامی ردِ عمل، چرچ اور پوپ کی مخالفت اور میڈیا کی تنقید کے باوجود بھی بکنی کو عوام کے سامنے کسی نہ کسی صورت میں پیش کیا جاتا رہا۔
وقت کے ساتھ ساتھ عوامی ردِ عمل کم ہوتا گیا اور عام ذہن نے اس کو آہستہ آہستہ قبول کرنا شروع کر دیا۔ آج بکنی مغربی دنیا کے کلچر کالازمی حصہ ہے اور عورتوں کے (Beaches)"سمندر کنارے "جانے کیلئے تو بکنی لازم و ملزوم ہیں بلکہ اب تو اگر کسی عورت نے بکنی نا پہنی ہو تو اسے Beach پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
کوئی بھی انسانی ذہن یا معاشرہ بے حیائی اور جنسی نمائش کو آسانی سے قبول نہیں کرتا، وہ شروع میں اس کی مخالفت کرتے ہیں مگر اگر بے حیائی اور جنسی نمائش متواتر منظم طریقے سے اور وقفے وقفے سے جاری رہے تو انسان اور معاشرہ اس کو آہستہ آہستہ قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایساز ہر ہے جسے وقفے وقفے سے اور تھوڑا تھوڑا مگر متواتر معاشرے کی رگوں میں انجیکٹ کیا جاتا ہے، تاکہ معاشرہ اس کا عادی ہو جائے اور اتنا عادی ہو جائے کہ ایک وقت آنے پر معاشرے کو یہ برائی لگنا ہی بند ہو جائے اور جو اس زہر کے خلاف بولے اسے دقیانوس، پرانے خیالات اور ترقی مخالف بول کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔
آج کل یہی زہر پاکستانی معاشرے کی رگوں میں بھی انجیکٹ کیا جارہا ہے۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بہتات نے یہاں پہلے ہی TRP کے چکر میں پاکستانی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رکھی ہے۔ Content کے نام پر سالی اور بہنوئی کے درمیان تعلقات، بھا بھی اور دیور کے درمیان تعلقات جیسے غلیظ موضوعات پر ڈرامے بنائے جارہے ہیں۔ شادی شده مرد اور عورتوں کے نامحرم مردوں اور عورتوں کے ساتھ تعلقات دکھائے جارہے ہیں اور طلاقوں کو Glorify کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں طلاقوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ باقی رہی سہی کسر ہمارے ٹی وی شوز کی اینکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پوری کر رہے ہیں۔
ہر سال Tik Tok پاکستان میں ایک سالانہ شو کا انعقاد کرتا ہے جس میں نئےابھرتے ہوئے نوجوان انفلوئنسرز کی حوصلہ افزائی کیلئے ایوارڈز دیئے جاتے ہیں۔ اس سال مارچ کے مہینے میں یہ شو منعقد ہوا تھا۔ اس شو میں آپ یقین نہیں کریں گے کہ 14، 15 اور 16 سال کی چھوٹی بچیوں کو ایوارڈز دیئے گئے۔۔ کیوں؟ کیونکہ یہ بچیاں ٹک ٹاک پر Contentبناتی ہے۔ اور Content کیا ہوتا ہے ، انڈین گانوں پر بے ہودہ ڈانس۔ یقین کرے پاکستان میں ایسا Content بنانے پر نوجوان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
ایسے Content پر لوگوں کے جس طرح کے کمنٹس ہوتے ہیں، لوگ لڑکیوں کے جسم کے مخصوص حصوں کو لیکر جس طرح کی بے ہودہ باتیں کرتے ہیں اگر کوئی غیرت مند انسان پڑھ لے تو شرم سے مر جائے۔ مگر آپ بد قسمتی ملاحظہ کریں کہ انہی بچیوں کے ماں باپ ایوارڈز شو میں موجود تھے۔ وہ بھی یقیناً یہ سب کمنٹس پڑھتے ہونگے مگر بے حسی کا لیول چیک کریں کہ اب انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے Content کو آج کل کیریئر کا نام دیا جاتا ہے اور ماں باپ اپنے بچوں کو اس میں مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔
1/2
مگر بکنی کو بنانے والے اور اس کو عوام میں مقبول بنانے کیلئے جو قوتیں پیچھے کار فرما تھی وہ باز نہ آئی۔ 1951ء میں پہلی مرتبہ عالمی مقابلہ حسن میں ایک ماڈل نے بکنی کو زیب تن کیا، لیکن عوامی ردِ عمل کی وجہ سے مقابلہ حسن میں بکنی پہنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
پھر 1953ء میں منعقد ہونے والے کینز فلم فیسٹیول میں ایک اداکارہ نے بکنی پہن کر Beach پر فوٹو شوٹ کروایا، اس اداکارہ کو میڈیا میں تو خوب پذیرائی ملی مگر عوام نے ایک بار پھر سے اسے مسترد کر دیا۔ کچھ عرصہ خاموشی کے بعد مردوں کیلئے مخصوص میگزینز میں بکنی پہنے ماڈلز کی تصویریں شائع ہو نا شروع ہو گئی اور اس کے بعد 1962ء میں آنے والی جیمز بانڈ کی ایک فلم میں اداکارہ کو پکنی پہنے سمندر میں سرفنگ (Surfing) کرتا دکھایا گیا، پھر 1966ء میں آنیوالی ایک اور ہالی ووڈ فلم میں بھی ایک اداکارہ کو بکنی پہنے دکھایا گیا۔ 1946 ء سے لیکر 1966 ء تک 20 سالوں میں عوامی ردِ عمل، چرچ اور پوپ کی مخالفت اور میڈیا کی تنقید کے باوجود بھی بکنی کو عوام کے سامنے کسی نہ کسی صورت میں پیش کیا جاتا رہا۔
وقت کے ساتھ ساتھ عوامی ردِ عمل کم ہوتا گیا اور عام ذہن نے اس کو آہستہ آہستہ قبول کرنا شروع کر دیا۔ آج بکنی مغربی دنیا کے کلچر کالازمی حصہ ہے اور عورتوں کے (Beaches)"سمندر کنارے "جانے کیلئے تو بکنی لازم و ملزوم ہیں بلکہ اب تو اگر کسی عورت نے بکنی نا پہنی ہو تو اسے Beach پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
کوئی بھی انسانی ذہن یا معاشرہ بے حیائی اور جنسی نمائش کو آسانی سے قبول نہیں کرتا، وہ شروع میں اس کی مخالفت کرتے ہیں مگر اگر بے حیائی اور جنسی نمائش متواتر منظم طریقے سے اور وقفے وقفے سے جاری رہے تو انسان اور معاشرہ اس کو آہستہ آہستہ قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایساز ہر ہے جسے وقفے وقفے سے اور تھوڑا تھوڑا مگر متواتر معاشرے کی رگوں میں انجیکٹ کیا جاتا ہے، تاکہ معاشرہ اس کا عادی ہو جائے اور اتنا عادی ہو جائے کہ ایک وقت آنے پر معاشرے کو یہ برائی لگنا ہی بند ہو جائے اور جو اس زہر کے خلاف بولے اسے دقیانوس، پرانے خیالات اور ترقی مخالف بول کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔
آج کل یہی زہر پاکستانی معاشرے کی رگوں میں بھی انجیکٹ کیا جارہا ہے۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بہتات نے یہاں پہلے ہی TRP کے چکر میں پاکستانی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رکھی ہے۔ Content کے نام پر سالی اور بہنوئی کے درمیان تعلقات، بھا بھی اور دیور کے درمیان تعلقات جیسے غلیظ موضوعات پر ڈرامے بنائے جارہے ہیں۔ شادی شده مرد اور عورتوں کے نامحرم مردوں اور عورتوں کے ساتھ تعلقات دکھائے جارہے ہیں اور طلاقوں کو Glorify کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں طلاقوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ باقی رہی سہی کسر ہمارے ٹی وی شوز کی اینکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پوری کر رہے ہیں۔
ہر سال Tik Tok پاکستان میں ایک سالانہ شو کا انعقاد کرتا ہے جس میں نئےابھرتے ہوئے نوجوان انفلوئنسرز کی حوصلہ افزائی کیلئے ایوارڈز دیئے جاتے ہیں۔ اس سال مارچ کے مہینے میں یہ شو منعقد ہوا تھا۔ اس شو میں آپ یقین نہیں کریں گے کہ 14، 15 اور 16 سال کی چھوٹی بچیوں کو ایوارڈز دیئے گئے۔۔ کیوں؟ کیونکہ یہ بچیاں ٹک ٹاک پر Contentبناتی ہے۔ اور Content کیا ہوتا ہے ، انڈین گانوں پر بے ہودہ ڈانس۔ یقین کرے پاکستان میں ایسا Content بنانے پر نوجوان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
ایسے Content پر لوگوں کے جس طرح کے کمنٹس ہوتے ہیں، لوگ لڑکیوں کے جسم کے مخصوص حصوں کو لیکر جس طرح کی بے ہودہ باتیں کرتے ہیں اگر کوئی غیرت مند انسان پڑھ لے تو شرم سے مر جائے۔ مگر آپ بد قسمتی ملاحظہ کریں کہ انہی بچیوں کے ماں باپ ایوارڈز شو میں موجود تھے۔ وہ بھی یقیناً یہ سب کمنٹس پڑھتے ہونگے مگر بے حسی کا لیول چیک کریں کہ اب انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے Content کو آج کل کیریئر کا نام دیا جاتا ہے اور ماں باپ اپنے بچوں کو اس میں مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔
1/2
❤11👍1
RAHI HIJAZI راہی حجازی
Photo
2/2
آپ آج سے صرف 15 سال پہلے والے پاکستان میں واپس چلے جائیں ، جن باتوں کو آج کل نارمل سمجھا جا رہا ہے، انہی باتوں پر 15 سال پہلے قتل ہو جایا کرتے تھے۔ آج آپ دیکھ لیں کہ صرف 15سالوں میں ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
یہی حال ہمارے ٹی وی شوز کا ہے۔ یہاں بھی TRP کے چکر میں اخلاق سے گِری ہوئی حرکتیں کی جا رہی ہے۔ فضا علی کی یہ تیسری شادی ہے ۔ پہلی دو کیوں ناکام ہوئی ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ شو میں فضا کی بیٹی صوفے پر براجمان ہے۔ فضا کا شوہر لائیو ٹی وی پر بیٹی کے سامنے فضا کو کندھوں پر اٹھا لیتا ہے اور کیمرے کے سامنے انتہائی بے ہودہ پوز کرتا ہے جبکہ فضا کی بیٹی خوشی سے I Love It چلا رہی ہوتی ہے۔ عام پاکستانی گھر میں ایسا تصور تک نہیں کیا جاسکتا جو ٹی وی پر عام دکھایا جا رہا ہے۔
کوئی اپنے گھر میں جو چاہے مرضی کرتا رہے لیکن ساری دنیا کے سامنے ایسی حرکتوں کو کسی بھی طور پرJustify نہیں کیا جا سکتا۔ ہم کبھی بھی یہ سب ڈسکس نا کرتے اگر یہ لوگ آج کل کی نوجوان نسل کے رول ماڈل نا ہوتے۔ لوگوں کی بڑی تعداد خاص کر نوجوان نسل ان کو بہت فالو کرتی ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔
ہم نے بحیثیت مجموعی قوم کبھی اپنے ہیروز کی قدر نہیں کی۔ کبھی کسی کرکٹر ، سائنسدان اور ڈاکٹر کو وہ عزت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے اسلیے آج ہمارے بچے سائنس، میڈیکل یا مصنوؑعی ذہانت میں اپنا نام نہیں بنانا چاہتے بلکہ وہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ریلز بنا کر دنیا میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں۔
دکھ کی بات تو یہ کہ یہ سب یہاں رکنے والا نہیں ذرا اس آنے والی نئی نسل کے بارے میں سوچئے کہ جن کہ بزرگ ہمارے آج کے جین زی ہونگے۔
تحریر: محمد سعید ارشد
آپ آج سے صرف 15 سال پہلے والے پاکستان میں واپس چلے جائیں ، جن باتوں کو آج کل نارمل سمجھا جا رہا ہے، انہی باتوں پر 15 سال پہلے قتل ہو جایا کرتے تھے۔ آج آپ دیکھ لیں کہ صرف 15سالوں میں ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
یہی حال ہمارے ٹی وی شوز کا ہے۔ یہاں بھی TRP کے چکر میں اخلاق سے گِری ہوئی حرکتیں کی جا رہی ہے۔ فضا علی کی یہ تیسری شادی ہے ۔ پہلی دو کیوں ناکام ہوئی ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ شو میں فضا کی بیٹی صوفے پر براجمان ہے۔ فضا کا شوہر لائیو ٹی وی پر بیٹی کے سامنے فضا کو کندھوں پر اٹھا لیتا ہے اور کیمرے کے سامنے انتہائی بے ہودہ پوز کرتا ہے جبکہ فضا کی بیٹی خوشی سے I Love It چلا رہی ہوتی ہے۔ عام پاکستانی گھر میں ایسا تصور تک نہیں کیا جاسکتا جو ٹی وی پر عام دکھایا جا رہا ہے۔
کوئی اپنے گھر میں جو چاہے مرضی کرتا رہے لیکن ساری دنیا کے سامنے ایسی حرکتوں کو کسی بھی طور پرJustify نہیں کیا جا سکتا۔ ہم کبھی بھی یہ سب ڈسکس نا کرتے اگر یہ لوگ آج کل کی نوجوان نسل کے رول ماڈل نا ہوتے۔ لوگوں کی بڑی تعداد خاص کر نوجوان نسل ان کو بہت فالو کرتی ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔
ہم نے بحیثیت مجموعی قوم کبھی اپنے ہیروز کی قدر نہیں کی۔ کبھی کسی کرکٹر ، سائنسدان اور ڈاکٹر کو وہ عزت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے اسلیے آج ہمارے بچے سائنس، میڈیکل یا مصنوؑعی ذہانت میں اپنا نام نہیں بنانا چاہتے بلکہ وہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ریلز بنا کر دنیا میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں۔
دکھ کی بات تو یہ کہ یہ سب یہاں رکنے والا نہیں ذرا اس آنے والی نئی نسل کے بارے میں سوچئے کہ جن کہ بزرگ ہمارے آج کے جین زی ہونگے۔
تحریر: محمد سعید ارشد
❤9
موجودہ دینی تعلیمی نظام کے بعض پہلو نہایت تشویشناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔ خصوصاً مظاہر العلوم جدید اور شاہی مرادآباد جیسے اداروں کے حوالے سے جو صورتِ حال سامنے آ رہی ہے، وہ سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے۔ بظاہر داخلوں کے لیے اعلیٰ معیار مقرر کیے جاتے ہیں—مظاہر میں 90٪ اور شاہی میں 85٪ اوسط کی شرط رکھی جاتی ہے—لیکن عملی طور پر یہ معیار اکثر محض کاغذی ثابت ہو رہا ہے اور اصل فیصلہ سفارش کی بنیاد پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
شاہی مرادآباد میں اصول یہ ہے کہ 85٪ سے کم اوسط والے کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی، لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ تقریباً 74٪ اوسط رکھنے والے کا داخلہ ہو جاتا ہے، جبکہ 91٪، 92٪ اور 93٪ جیسے اعلیٰ نمبرات رکھنے والے طلبہ محروم رہ جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہاں نتیجہ پہلے ہی تیار ہوتا محسوس ہوتا ہے اور امتحان کے صرف ایک گھنٹے کے اندر نتیجہ بھی جاری کر دیا جاتا ہے، جو اس پورے عمل کی شفافیت پر سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔
اسی طرح مظاہر العلوم جدید میں جہاں 90٪ اوسط شرط ہے، وہاں 75٪ اوسط رکھنے والے طلبہ کو امتحان سے پہلے ہی سفارش کی بنیاد پر منتخب کر لیا جاتا ہے۔ ایک طرف طلبہ سے درخواستیں وصول کی جاتی ہیں، انہیں امتحان کی تیاری میں مشغول رکھا جاتا ہے، اور دوسری طرف پسِ پردہ نتائج پہلے ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ امتحان سے قبل ہی انتخاب کا اعلان ہو جانا اور پھر مختصر وقت میں نتائج جاری کر دینا، اعلان اور عمل کے درمیان واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں اگر 91.70٪ جیسی اعلیٰ اوسط رکھنے والا طالب علم، جو بھرپور تیاری کے ساتھ امتحان بھی دے، صرف اس وجہ سے محروم رہ جائے کہ اس کے پاس مضبوط سفارش نہیں، تو یہ نہ صرف اس کی ذاتی حق تلفی ہے بلکہ پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان بڑے اداروں میں اکثر انہی طلبہ کا داخلہ یقینی ہو جاتا ہے جن کے تعلقات بااثر اور بڑے لوگوں سے ہوتے ہیں، جبکہ وہ طلبہ جو خالصتاً اپنی محنت، لگن اور صلاحیت کے بل پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں—خصوصاً وہ جو ایسے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں نہ بڑے علماء کی سرپرستی میسر ہوتی ہے اور نہ مضبوط تعارفی روابط—انہیں مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے دراصل باصلاحیت مگر بے سہارا طلبہ کے لیے آگے بڑھنے کے راستے مسدود کیے جا رہے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے اور انہیں مایوسی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
مزید برآں، گزشتہ سال کا ایک واقعہ اس صورتِ حال کو اور بھی واضح کر دیتا ہے کہ ایک طالب علم کا داخلہ بغیر سفارش کے ہو گیا، مگر وہاں کے ذمہ دار کی جانب سے اسے یہ کہہ کر ذلیل کیا گیا کہ “تمہارا داخلہ تو غلطی سے ہو گیا ہے”، جس پر وہ دل برداشتہ ہو کر واپس آ گیا۔ یہ رویہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ پہلے سے ہی یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کا داخلہ ہونا ہے اور کس کا نہیں۔
یہ تمام صورتِ حال اس بات کی عکاس ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں میرٹ کے مقابلے میں سفارش کو فوقیت حاصل ہوتی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف محنتی اور باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ اداروں کی علمی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ داخلہ کے نظام کو حقیقی معنوں میں شفاف بنایا جائے، میرٹ کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے، اور سفارش کے غیر منصفانہ اثر کو ختم کیا جائے—ورنہ یہ احساسِ محرومی بڑھتا جائے گا اور اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
عبدالرحمن ھنومان گڑھ راجستھان
شاہی مرادآباد میں اصول یہ ہے کہ 85٪ سے کم اوسط والے کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی، لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ تقریباً 74٪ اوسط رکھنے والے کا داخلہ ہو جاتا ہے، جبکہ 91٪، 92٪ اور 93٪ جیسے اعلیٰ نمبرات رکھنے والے طلبہ محروم رہ جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہاں نتیجہ پہلے ہی تیار ہوتا محسوس ہوتا ہے اور امتحان کے صرف ایک گھنٹے کے اندر نتیجہ بھی جاری کر دیا جاتا ہے، جو اس پورے عمل کی شفافیت پر سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔
اسی طرح مظاہر العلوم جدید میں جہاں 90٪ اوسط شرط ہے، وہاں 75٪ اوسط رکھنے والے طلبہ کو امتحان سے پہلے ہی سفارش کی بنیاد پر منتخب کر لیا جاتا ہے۔ ایک طرف طلبہ سے درخواستیں وصول کی جاتی ہیں، انہیں امتحان کی تیاری میں مشغول رکھا جاتا ہے، اور دوسری طرف پسِ پردہ نتائج پہلے ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ امتحان سے قبل ہی انتخاب کا اعلان ہو جانا اور پھر مختصر وقت میں نتائج جاری کر دینا، اعلان اور عمل کے درمیان واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں اگر 91.70٪ جیسی اعلیٰ اوسط رکھنے والا طالب علم، جو بھرپور تیاری کے ساتھ امتحان بھی دے، صرف اس وجہ سے محروم رہ جائے کہ اس کے پاس مضبوط سفارش نہیں، تو یہ نہ صرف اس کی ذاتی حق تلفی ہے بلکہ پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان بڑے اداروں میں اکثر انہی طلبہ کا داخلہ یقینی ہو جاتا ہے جن کے تعلقات بااثر اور بڑے لوگوں سے ہوتے ہیں، جبکہ وہ طلبہ جو خالصتاً اپنی محنت، لگن اور صلاحیت کے بل پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں—خصوصاً وہ جو ایسے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں نہ بڑے علماء کی سرپرستی میسر ہوتی ہے اور نہ مضبوط تعارفی روابط—انہیں مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے دراصل باصلاحیت مگر بے سہارا طلبہ کے لیے آگے بڑھنے کے راستے مسدود کیے جا رہے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے اور انہیں مایوسی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
مزید برآں، گزشتہ سال کا ایک واقعہ اس صورتِ حال کو اور بھی واضح کر دیتا ہے کہ ایک طالب علم کا داخلہ بغیر سفارش کے ہو گیا، مگر وہاں کے ذمہ دار کی جانب سے اسے یہ کہہ کر ذلیل کیا گیا کہ “تمہارا داخلہ تو غلطی سے ہو گیا ہے”، جس پر وہ دل برداشتہ ہو کر واپس آ گیا۔ یہ رویہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ پہلے سے ہی یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کا داخلہ ہونا ہے اور کس کا نہیں۔
یہ تمام صورتِ حال اس بات کی عکاس ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں میرٹ کے مقابلے میں سفارش کو فوقیت حاصل ہوتی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف محنتی اور باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ اداروں کی علمی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ داخلہ کے نظام کو حقیقی معنوں میں شفاف بنایا جائے، میرٹ کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے، اور سفارش کے غیر منصفانہ اثر کو ختم کیا جائے—ورنہ یہ احساسِ محرومی بڑھتا جائے گا اور اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
عبدالرحمن ھنومان گڑھ راجستھان
👍5❤3😢3