۳- لوگ مفتیوں کے فتووں پر تو کیڑے نکالتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ خود دنیا کے بڑے بڑے سینٹرل بینک، نوبل انعام یافتہ ماہرین معاشیات اور ترقی یافتہ حکومتیں خود کرپٹو کو لے کر شدید تذبذب کا شکار ہیں، کئی ممالک نے اس پر پابندی لگائی، پھر ہٹائی، اور خطرات دیکھ کر پھر دوبارہ لگا دی، جب مادی دنیا کے یہ نام نہاد مایہ ناز ماہرین ایک ٹیکنالوجی کے معاشی خطرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں، تو مفتیوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ ابتدا ہی میں اسے ’’حلال‘‘ کی مہر لگا کر عوام کو ایک اندھی اور غیر محفوظ کھائی میں دھکیل دیں، سراسر نادانی اور بچپنا ہے۔
۴- قانون کا ایک مسلمہ اور اٹل قاعدہ ہے کہ حکم اپنی علت کے ساتھ وجود میں آتا اور ختم ہوتا ہے ، آج اگر کسی چیز کو ناجائز کیا گیا ہے تو وہ اس کے نام کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود خرابی جیسے قمار، غرر یا عوامی نقصان کی وجہ سے ہے، اگر وقت کے ساتھ وہ علت اور خرابی ختم ہو جائے تو حرمت کا حکم بھی خود بخود ختم ہو جاتا ہے، یہ کسی دارالافتاء یا مفتی کا موڈ بدلنا نہیں، بلکہ قانون کی اصل روح ہے۔
۵- علماء کے لیے سب سے آسان کام ہر چیز پر ’’جائز‘‘ کا لیبل لگا کر سوشل میڈیا پر سستی مقبولیت اور لائکس حاصل کرنا ہے، لیکن عالمگیر اصول ہے کہ نقصان کو دور کرنا، فائدہ حاصل کرنے پر مقدم ہوتا ہے ، اگر مفتی آج عوامی دباؤ میں آکر اسے جائز کہہ دیں اور کل کو یہ غبارہ پھٹ جائے، جیسا کہ کئی کرپٹو کوائنز کے ساتھ ہو چکا ہے تو لاکھوں لوگوں کی عمر بھر کی کمائی ڈوبنے کی اخلاقی اور شرعی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
خلاصہ یہ کہ پہلے ناجائز اور بعد میں جائز کہنا کوئی تضاد یا مولویوں کی ’’پرانی عادت‘‘ نہیں، بلکہ یہ قانون کے ارتقاء کا حصہ ہے، شریعت کا اصول کبھی نہیں بدلتا، بلکہ جب کوئی چیز اپنی خامیاں دور کر کے شریعت کے معیار پر پوری اتر جاتی ہے تو اس پر لاگو ہونے والا حکم بدل جاتا ہے، اسے مفتیوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی اصلاح کہنا چاہیے، لیکن اس باریک نکتے کو سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا اسکرول کرنے کے بجائے تھوڑی عقل اور مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(عمر انور بدخشانی)
۴- قانون کا ایک مسلمہ اور اٹل قاعدہ ہے کہ حکم اپنی علت کے ساتھ وجود میں آتا اور ختم ہوتا ہے ، آج اگر کسی چیز کو ناجائز کیا گیا ہے تو وہ اس کے نام کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود خرابی جیسے قمار، غرر یا عوامی نقصان کی وجہ سے ہے، اگر وقت کے ساتھ وہ علت اور خرابی ختم ہو جائے تو حرمت کا حکم بھی خود بخود ختم ہو جاتا ہے، یہ کسی دارالافتاء یا مفتی کا موڈ بدلنا نہیں، بلکہ قانون کی اصل روح ہے۔
۵- علماء کے لیے سب سے آسان کام ہر چیز پر ’’جائز‘‘ کا لیبل لگا کر سوشل میڈیا پر سستی مقبولیت اور لائکس حاصل کرنا ہے، لیکن عالمگیر اصول ہے کہ نقصان کو دور کرنا، فائدہ حاصل کرنے پر مقدم ہوتا ہے ، اگر مفتی آج عوامی دباؤ میں آکر اسے جائز کہہ دیں اور کل کو یہ غبارہ پھٹ جائے، جیسا کہ کئی کرپٹو کوائنز کے ساتھ ہو چکا ہے تو لاکھوں لوگوں کی عمر بھر کی کمائی ڈوبنے کی اخلاقی اور شرعی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
خلاصہ یہ کہ پہلے ناجائز اور بعد میں جائز کہنا کوئی تضاد یا مولویوں کی ’’پرانی عادت‘‘ نہیں، بلکہ یہ قانون کے ارتقاء کا حصہ ہے، شریعت کا اصول کبھی نہیں بدلتا، بلکہ جب کوئی چیز اپنی خامیاں دور کر کے شریعت کے معیار پر پوری اتر جاتی ہے تو اس پر لاگو ہونے والا حکم بدل جاتا ہے، اسے مفتیوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی اصلاح کہنا چاہیے، لیکن اس باریک نکتے کو سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا اسکرول کرنے کے بجائے تھوڑی عقل اور مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(عمر انور بدخشانی)
❤15
استاذِ محترم شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم سے سوال کیا گیا کہ حضرت زندگی کا خلاصہ کیا ھے ؟
حضرت مدظلہم نے یہ 20 نکات ارشاد فرمائے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1:- ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا کرو ۔
2:- کوشش کرو کہ پوری زندگی میں کوئی تمہاری شکایت کسی دوسرے انسان سے نہ کرے ، پروردگار سے تو بہت دور کی بات ھے ۔
3:- خاندان والوں کے ساتھ کبھی مقابلہ مت کرنا، نقصان قبول کر لینا ،مگر مقابلہ مت کرنا۔بعد میں نتیجہ خود مل جائے گا۔
4:- کسی بھی جگہ یہ مت کہنا کہ میں عالم ہوں ، میرے ساتھ رعایت کرنا۔ یہ ایک غیر نامناسب عمل ہے۔کوشش کرو دینے والے بن جاؤ۔
5:- سب سے بہترین دسترخوان گھر کا دسترخوان ھے ، جو بھی تمہاری نصیب میں ہوگا بادشاہوں کی طرح کھاؤ ۔
6:- اللہ کے سوا کسی سے امید مت رکھنا۔
7:- ہر آنے والے دن میں اپنی محنت میں مزید اضافہ کرنا۔
8:- مالداروں اور متکبروں کی مجالس سے دوری اختیار کرنا ۔
9:- ہردن صبح کے وقت صدقہ کرنا ،شام کے وقت استغفار کا ورد کرنا۔
10:- اپنی گفتگو میں مٹھاس پیدا کرنا۔
11:- اونچی آواز میں چھوٹے بچے سے بھی بات مت کرنا ۔
12:- جس جگہ سے تمہیں رزق مل رھا ھے ، اس جگہ کی دل وجان سے عزت کرنا۔جس قدر ادب کروگے ان شاءاللہ تعالی رزق میں اضافہ ہوگا ۔
13:- کوشش کرو کہ زندگی میں کامیاب لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو ، ایک نہ ایک دن ضرور تم بھی اس جماعت کا حصہ بن جاؤگے۔
14:- ہر فیلڈ کےہنر مندوں کی عزت کرنا ،ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا ، خواہ وہ کسی بھی فیلڈ کے ہنر مند ھوں ۔
15:- والدین ،اساتذہ اور رشتے داروں کے ساتھ جس قدر اخلاق کا معاملہ کروگے اس قدر تمہارے رزق اور زندگی میں برکت ھوگی۔
16:- ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنا ۔
17:- عام لوگوں کے ساتھ بھی تعلق رکھنا اس سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
18:- ایک انسان کی شکایت دوسرے سے مت کرنا، ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
19:- ھر بات کو مثبت انداز میں پیش کرنا ،اس سے بہت سے مسائل حل ھو جائیں گے۔
20:- بڑوں کی مجلس میں زبان خاموش رکھنا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں درج ذیل دعا سکھائی کہ مشکل وقت میں اہتمام کے ساتھ پڑھا کرو ان شاء الله بہت فائدہ ھوگا۔"رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا “ ۔
حضرت مدظلہم نے یہ 20 نکات ارشاد فرمائے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1:- ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا کرو ۔
2:- کوشش کرو کہ پوری زندگی میں کوئی تمہاری شکایت کسی دوسرے انسان سے نہ کرے ، پروردگار سے تو بہت دور کی بات ھے ۔
3:- خاندان والوں کے ساتھ کبھی مقابلہ مت کرنا، نقصان قبول کر لینا ،مگر مقابلہ مت کرنا۔بعد میں نتیجہ خود مل جائے گا۔
4:- کسی بھی جگہ یہ مت کہنا کہ میں عالم ہوں ، میرے ساتھ رعایت کرنا۔ یہ ایک غیر نامناسب عمل ہے۔کوشش کرو دینے والے بن جاؤ۔
5:- سب سے بہترین دسترخوان گھر کا دسترخوان ھے ، جو بھی تمہاری نصیب میں ہوگا بادشاہوں کی طرح کھاؤ ۔
6:- اللہ کے سوا کسی سے امید مت رکھنا۔
7:- ہر آنے والے دن میں اپنی محنت میں مزید اضافہ کرنا۔
8:- مالداروں اور متکبروں کی مجالس سے دوری اختیار کرنا ۔
9:- ہردن صبح کے وقت صدقہ کرنا ،شام کے وقت استغفار کا ورد کرنا۔
10:- اپنی گفتگو میں مٹھاس پیدا کرنا۔
11:- اونچی آواز میں چھوٹے بچے سے بھی بات مت کرنا ۔
12:- جس جگہ سے تمہیں رزق مل رھا ھے ، اس جگہ کی دل وجان سے عزت کرنا۔جس قدر ادب کروگے ان شاءاللہ تعالی رزق میں اضافہ ہوگا ۔
13:- کوشش کرو کہ زندگی میں کامیاب لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو ، ایک نہ ایک دن ضرور تم بھی اس جماعت کا حصہ بن جاؤگے۔
14:- ہر فیلڈ کےہنر مندوں کی عزت کرنا ،ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا ، خواہ وہ کسی بھی فیلڈ کے ہنر مند ھوں ۔
15:- والدین ،اساتذہ اور رشتے داروں کے ساتھ جس قدر اخلاق کا معاملہ کروگے اس قدر تمہارے رزق اور زندگی میں برکت ھوگی۔
16:- ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنا ۔
17:- عام لوگوں کے ساتھ بھی تعلق رکھنا اس سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
18:- ایک انسان کی شکایت دوسرے سے مت کرنا، ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔
19:- ھر بات کو مثبت انداز میں پیش کرنا ،اس سے بہت سے مسائل حل ھو جائیں گے۔
20:- بڑوں کی مجلس میں زبان خاموش رکھنا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں درج ذیل دعا سکھائی کہ مشکل وقت میں اہتمام کے ساتھ پڑھا کرو ان شاء الله بہت فائدہ ھوگا۔"رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا “ ۔
❤24👍3
https://www.facebook.com/share/v/18qiJz6cvv/
سال 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار کیا تھا؟
ایک معروف غیر مسلم یوٹیوب ٹیچر سچن میوار کی زبانی تفصیلات جانیے حوالوں کے ساتھ
درج بالا لنک پر کلک کر ویڈیو دیکھیں
سال 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار کیا تھا؟
ایک معروف غیر مسلم یوٹیوب ٹیچر سچن میوار کی زبانی تفصیلات جانیے حوالوں کے ساتھ
درج بالا لنک پر کلک کر ویڈیو دیکھیں
❤4
نماز اور عبادت
اصل کے لحاظ سے نماز اور عبادت میں عام خاص مطلق کی نسبت ہے، مطلب عبادات بہت ہیں، جب کہ نماز عبادت کی ایک قسم ہے؛ لیکن ہماری غفلت نے ان کے مابین عموم خصوص من وجہ بھی متعارف کرادی ہے، یعنی ہم ایسی نماز پڑھ لیتے ہیں جو عبادت کی روح سے معری ہو، بس مسجد میں ایک حاضری لگا آتے ہیں، رسم خانہ پری جاری ہے، نوبت بہ ایں جا رسید کہ رکعات کی تعداد کا ضبط چیلنج بن گیا ہے۔
ایک صاحب بہت مایوسی میں ملے، عرض حال یہ سامنے آیا کہ وہ ظہر کی چار سنتیں درمیان میں ترک کر آئے ہیں، کئی کوششیں ناکام رہی تھیں، ہر بار تعداد مشتبہ ہوئی، آخرش ہار گئے، یقینا مذکورہ شخص کسی درجہ ضعفِ دماغ میں مبتلا تھا؛ لیکن قوی القویٰ افراد کا حال بھی گفتہ بہ نہیں، امام تکبیرِ قیام کی تانت کم کردے تو ایک مخلوق پہلی اور تیسری رکعت میں قعدہ کا گمان کر لیتی ہے، قیام کے لیے نیا ٹیک آف درکار ہو جاتا ہے۔
میرا یہ ذہن بنا ہوا ہے کہ عبادت وجہِ تخلیق ہے، قرآن و سنت کے مطالعے نے مجھے اسی نکتے پر منتہی کیا ہے، پھر عبادات میں نماز اول اور اعلی ہے، گویا ہم نماز پڑھنے کے لیے پیدا ہوے ہیں، نماز ہماری پیدائش کا موضوع لہ ہے، علمی سرگرمیاں نماز کی معاون ہیں، علمِ نافع کے پہلے معنی یہ ہیں کہ اس سے نماز میں ترقی ہو، جو علم نماز میں کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے اپنا حصہ نہیں ڈالتا وہ نافع نہیں۔
نماز ضابطے کا لفظ ہے؛ جب کہ عبادت میں رابطے کا رنگ ہے، نماز کے لیے عبادت شرط ہے، ورنہ ایستادن، نشستند اور برخاستند رہ جائے گا، مجرد جسمانی حرکات وسکنات مفیدِ مطلب نہیں؛ کسرت اور ورزش کا خیال بھی منکر ہے، عبادت کے معانی تعلق اور رابطے پر منحصر ہیں، دستک مطلوب ہے، خیمہ زنی چاہیے، پکار اور ندا درکار ہیں، لائن استوار کرنی ہوتی ہے، التفات اور توجہ لینی ہے، یہاں آئی فون کا بانی اسٹیو جابز یاد آتا ہے، اس نے انٹرویو میں کہا تھا کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا، یک طرفہ گفتگو سننا عزتِ نفس کے خلاف ہے، معاملہ دو طرفہ ہونا چاہیے۔
عبادت بھی ایک معاملہ ہے، جب تک یک طرفہ رہے گا ناقص ہوگا، اسے دو طرفہ بناؤ، آپ پکاریں اور وہ جواب دیں، قبولیت آنے تک سبحان ربی العظیم کہتے ہی رہو، جب تک وہ لبیک نہ کہہ دیں، سر نہ اٹھاؤ، مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی فرماتے ہیں کہ سجدہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے چوم لیا، منظوری کی مہر لے کر ہی مانو، جانماز سے فراغت کو پروانے کے ساتھ مشروط کردو، فارغ ہو کر کرنا بھی کیا ہے؟ یہی زندگی ہے اور یہی حاصلِ زندگی۔
محمد فہیم الدین بجنوری
29 صفر 1448ھ
13 اگست 2026ء
اصل کے لحاظ سے نماز اور عبادت میں عام خاص مطلق کی نسبت ہے، مطلب عبادات بہت ہیں، جب کہ نماز عبادت کی ایک قسم ہے؛ لیکن ہماری غفلت نے ان کے مابین عموم خصوص من وجہ بھی متعارف کرادی ہے، یعنی ہم ایسی نماز پڑھ لیتے ہیں جو عبادت کی روح سے معری ہو، بس مسجد میں ایک حاضری لگا آتے ہیں، رسم خانہ پری جاری ہے، نوبت بہ ایں جا رسید کہ رکعات کی تعداد کا ضبط چیلنج بن گیا ہے۔
ایک صاحب بہت مایوسی میں ملے، عرض حال یہ سامنے آیا کہ وہ ظہر کی چار سنتیں درمیان میں ترک کر آئے ہیں، کئی کوششیں ناکام رہی تھیں، ہر بار تعداد مشتبہ ہوئی، آخرش ہار گئے، یقینا مذکورہ شخص کسی درجہ ضعفِ دماغ میں مبتلا تھا؛ لیکن قوی القویٰ افراد کا حال بھی گفتہ بہ نہیں، امام تکبیرِ قیام کی تانت کم کردے تو ایک مخلوق پہلی اور تیسری رکعت میں قعدہ کا گمان کر لیتی ہے، قیام کے لیے نیا ٹیک آف درکار ہو جاتا ہے۔
میرا یہ ذہن بنا ہوا ہے کہ عبادت وجہِ تخلیق ہے، قرآن و سنت کے مطالعے نے مجھے اسی نکتے پر منتہی کیا ہے، پھر عبادات میں نماز اول اور اعلی ہے، گویا ہم نماز پڑھنے کے لیے پیدا ہوے ہیں، نماز ہماری پیدائش کا موضوع لہ ہے، علمی سرگرمیاں نماز کی معاون ہیں، علمِ نافع کے پہلے معنی یہ ہیں کہ اس سے نماز میں ترقی ہو، جو علم نماز میں کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے اپنا حصہ نہیں ڈالتا وہ نافع نہیں۔
نماز ضابطے کا لفظ ہے؛ جب کہ عبادت میں رابطے کا رنگ ہے، نماز کے لیے عبادت شرط ہے، ورنہ ایستادن، نشستند اور برخاستند رہ جائے گا، مجرد جسمانی حرکات وسکنات مفیدِ مطلب نہیں؛ کسرت اور ورزش کا خیال بھی منکر ہے، عبادت کے معانی تعلق اور رابطے پر منحصر ہیں، دستک مطلوب ہے، خیمہ زنی چاہیے، پکار اور ندا درکار ہیں، لائن استوار کرنی ہوتی ہے، التفات اور توجہ لینی ہے، یہاں آئی فون کا بانی اسٹیو جابز یاد آتا ہے، اس نے انٹرویو میں کہا تھا کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا، یک طرفہ گفتگو سننا عزتِ نفس کے خلاف ہے، معاملہ دو طرفہ ہونا چاہیے۔
عبادت بھی ایک معاملہ ہے، جب تک یک طرفہ رہے گا ناقص ہوگا، اسے دو طرفہ بناؤ، آپ پکاریں اور وہ جواب دیں، قبولیت آنے تک سبحان ربی العظیم کہتے ہی رہو، جب تک وہ لبیک نہ کہہ دیں، سر نہ اٹھاؤ، مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی فرماتے ہیں کہ سجدہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے چوم لیا، منظوری کی مہر لے کر ہی مانو، جانماز سے فراغت کو پروانے کے ساتھ مشروط کردو، فارغ ہو کر کرنا بھی کیا ہے؟ یہی زندگی ہے اور یہی حاصلِ زندگی۔
محمد فہیم الدین بجنوری
29 صفر 1448ھ
13 اگست 2026ء
❤6🤩1
اپنا دینی معیار اتنا پست نہ کریں کہ کوئی نور زمان شاذلی، کوئی ساحل عدیم، کوئی غامدی، کوئی انجینئر مرزا، کوئی منیر شاکر، کوئی یوٹیوبر، کوئی اینکر اور کوئی موٹیویشنل اسپیکر آپ کو اپنی گمراہ کن باتوں، خرافات اور خود ساختہ غیر معتبر نظریات کی وجہ سے راہِ حق سے ہٹا دیں، ارے ہمارا تو یہ مزاج ہے کہ ہم تو اپنے کسی معتبر قابلِ قدر بزرگ کا حق مسلک سے ہٹ کر کوئی غیر معتبر ذاتی قول وفعل بھی احترام کے ساتھ ناقابلِ قبول اور ناقابلِ تقلید سمجھتے ہیں، چہ جائیکہ آپ کسی گمراہ، غیر معتبر یا جاہل افراد کی باتوں کو اہمیت دیں اور انھیں آنکھ بند کرکے قبول کرلیں، خوب سمجھ لیں!
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
❤14👍5
فیمینسٹس کی طرف ایک پوسٹ اکثر کی جاتی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ
مرد ایک خود مختار، کامیاب، آزاد، مضبوط عورت کی بجائے ایک شرمیلی، بے روزگارعورت کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ کامیاب عورت سے ڈرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو درست ہے کہ مسلمان مرد عام طور پر ایسی عورتوں سے شادی نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ سمجھنے کے لیے آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ ایک مسلمان مرد شادی کس لیے کرتا ہے ؟
کسی بھی مسلمان مرد کے لیے شادی کے محرکات یہ ہوتے ہیں:
1) جائز طریقے سے جنسی خواہشات کی تکمیل
2) اولاد کا حصول اور ان کی بہترین تربیت
3) گھر کا بہترین انتظام اور تعاون
4) گھریلو سکون اور روحانی اطمینان
5) دنیااور آخرت دونوں میں کامیابی
اب ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں کہ یہ مقاصد کس عورت سے شادی کر کے زیادہ بہتر انداز میں پورے ہوتے ہیں۔
1) جائز طریقے سے جنسی خواہشات کی تکمیل
کسی بھی مسلمان مرد کے لیے یہ شادی کا پہلا اور بنیادی مقصد ہے کیونکہ اس کے لیے جنسی خواہشات کی تکمیل کا صرف ایک یہی جائز طریقہ ہے۔ اب ایک گھریلو عورت ہے جس کا اگر الگ گھر ہے جس میں وہ اور اس کا شوہر ہے یا پھر شادی کے کچھ سالوں بعد ساتھ بچے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق شوہر جب بھی اسے بستر پر بلائے گا وہ آرام سے آسکتی ہے۔ جبکہ جاب کرنے والی عورت کو صبح سے شام تک جاب کرکے تھکنا ہے جیسا کہ شوہر تھکا ہوا آئے گا۔ جو خود سارے دن کی تھکی ہوگی وہ شوہر کی تھکن کیا اتارے گی۔اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہوگا ۔ ایک مسلمان مرد کی یہاں چوائس کیا ہوگی؟
2) اولاد کا حصول اور ان کی بہترین تربیت
جنسی خواہشات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ کسی بھی مسلمان کے لیے دوسرا سب سے اہم مقصد اولاد کا حصول اور ان کی بہترین تربیت ہوتی ہے اور یہ تربیت ایک ماں ہی کر سکتی ہے۔ سنن النسائی، ابی داوٴد، ابن ماجہ اور مسند احمد کی حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے قیامت کے دن امتوں پر فخر کروں گا۔
جاب والی عورت کے لیے زیادہ اولاد بہت مشکل ہوتی ہے کیونکہ اس سے اس کی جاب، کیرئیر ، ترقی، جسمانی ساخت وغیرہ سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔ہر ڈیلیوری پر بہت سی چھٹیاں لینی پڑتی ہیں اور وہ اپنے کولیگز سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے بعد کئی ماہ تک کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ جبکہ گھریلو عورت کے لیے اس طرح کے مسائل نہیں ہوتے۔ پھر سب جانتے ہیں کہ بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال کے لیے بہت زیادہ وقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف وہی عورت یہ اچھے سے کر سکتی ہے جس پر کمانے کی کوئی ذمہ داری نہ ڈالی گئی ہو۔ اگر کسی عورت پر کمانے کی ذمہ داری ہو تو اسے بچوں کی پیدائش کے چند ہفتوں بعد سے ہی ڈے کئیر میں چھوڑنا پڑے گا۔ پھر جب بچے سکول جانے والے ہو جائیں تو انھیں بارہ سے دو کے درمیان چھٹی ہوجاتی ہے۔ ایسے میں اگر ماں گھر ہو تو بچے سکول سے گھر آتے ہیں، کھانا وقت پر ملتا، کھیلنے کودنے اور آرام کرنے کا وقت ملتا ہے۔ لیکن اگر ماں بھی جاب کرتی ہو تو پھر بچوں کو سکول سے آنے کے بعد بھی ماں باپ میں سے کسی کے دفتر جانا ہوتا ہے یا ڈے کئیر۔ جہاں سکول کے بعد نہ ان کے لیے کھانا اچھا ہوتا نہ وہ صحیح سے کھیل کود اور آرام کر سکتے۔ اس لحاظ سے ایک مسلمان مرد کس عورت کو ترجیح دے گا؟
3) گھر کا بہترین انتظام اور تعاون
مرد تو صبح نکلتا ہے اور شام کو آتا ہے۔ گھر کا سارا انتظام عورت ہی کر سکتی ہے۔ چاہے گھر میں کام کے لیے دوسری عورتیں بھی رکھی ہوں تب بھی ان سے کام لینے کے لیے بھی عورت کا گھر ہونا ضروری ہے۔ عورت گھر میں نہ ہو تو کام والیاں بھی کہاں سنبھال سکتی ہیں۔ایک عورت بھی صبح سے شام تک گھر میں نہیں ہے تو گھر کے کام کیسے ہونگے چاہے کسی کام والی سے ہی کروانے ہوں؟ اس لحاظ سے ایک مومن مرد کی چوائس کون سی عورت ہوگی؟
4) گھریلو سکون اور روحانی اطمینان
اکثر دیکھنے میں آتا ہے جس گھر میں عورت نے خود کام پر نہ جانا ہو بلکہ گھر پر رہنا ہو وہ صبح اٹھ کے شوہر اور بچوں کے لیے ناشتہ بناتی ہے۔ شوہر تب تک دفتر جانے کے لیے تیار ہوتا۔ بچے سکول جانے کے لیے تیاری کرتے، سب ناشتہ کرتے اور سکون سے جاتے۔ جہاں عورت نے بھی دفتر جانا ہو تو صبح اسے سب سے زیادہ اپنے تیار ہونے کی فکر ہوتی۔ عورتوں کو تیار ہونے کے لیے وقت بھی زیادہ چاہیے ہوتا۔ ایسے میں سب کو جلدی پڑی ہوتی۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جن مردوں کی بیویاں کام پر جاتی ہیں وہ ناشتہ دفتر آ کر باہر کسی کینٹین سے کر رہے ہوتے۔ بچوں کی روٹین بھی متاثر ہوتی۔ اگر سکول جانے والے ہوں تو انھیں دوپہر کو سکول سے واپسی پر کھانا باہر سے کھانا پڑتا۔ ایسے ہی شام کو بھی کئی دفعہ بیوی تھکی ہو تو کھانا گھر میں نہیں بنتا۔ اس میں قصور اس عورت کا نہیں کیونکہ دونوں کام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اور چلیں بھی تو متاثر ضرور ہوتے۔
مرد ایک خود مختار، کامیاب، آزاد، مضبوط عورت کی بجائے ایک شرمیلی، بے روزگارعورت کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ کامیاب عورت سے ڈرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو درست ہے کہ مسلمان مرد عام طور پر ایسی عورتوں سے شادی نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ سمجھنے کے لیے آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ ایک مسلمان مرد شادی کس لیے کرتا ہے ؟
کسی بھی مسلمان مرد کے لیے شادی کے محرکات یہ ہوتے ہیں:
1) جائز طریقے سے جنسی خواہشات کی تکمیل
2) اولاد کا حصول اور ان کی بہترین تربیت
3) گھر کا بہترین انتظام اور تعاون
4) گھریلو سکون اور روحانی اطمینان
5) دنیااور آخرت دونوں میں کامیابی
اب ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں کہ یہ مقاصد کس عورت سے شادی کر کے زیادہ بہتر انداز میں پورے ہوتے ہیں۔
1) جائز طریقے سے جنسی خواہشات کی تکمیل
کسی بھی مسلمان مرد کے لیے یہ شادی کا پہلا اور بنیادی مقصد ہے کیونکہ اس کے لیے جنسی خواہشات کی تکمیل کا صرف ایک یہی جائز طریقہ ہے۔ اب ایک گھریلو عورت ہے جس کا اگر الگ گھر ہے جس میں وہ اور اس کا شوہر ہے یا پھر شادی کے کچھ سالوں بعد ساتھ بچے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق شوہر جب بھی اسے بستر پر بلائے گا وہ آرام سے آسکتی ہے۔ جبکہ جاب کرنے والی عورت کو صبح سے شام تک جاب کرکے تھکنا ہے جیسا کہ شوہر تھکا ہوا آئے گا۔ جو خود سارے دن کی تھکی ہوگی وہ شوہر کی تھکن کیا اتارے گی۔اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہوگا ۔ ایک مسلمان مرد کی یہاں چوائس کیا ہوگی؟
2) اولاد کا حصول اور ان کی بہترین تربیت
جنسی خواہشات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ کسی بھی مسلمان کے لیے دوسرا سب سے اہم مقصد اولاد کا حصول اور ان کی بہترین تربیت ہوتی ہے اور یہ تربیت ایک ماں ہی کر سکتی ہے۔ سنن النسائی، ابی داوٴد، ابن ماجہ اور مسند احمد کی حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے قیامت کے دن امتوں پر فخر کروں گا۔
جاب والی عورت کے لیے زیادہ اولاد بہت مشکل ہوتی ہے کیونکہ اس سے اس کی جاب، کیرئیر ، ترقی، جسمانی ساخت وغیرہ سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔ہر ڈیلیوری پر بہت سی چھٹیاں لینی پڑتی ہیں اور وہ اپنے کولیگز سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے بعد کئی ماہ تک کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ جبکہ گھریلو عورت کے لیے اس طرح کے مسائل نہیں ہوتے۔ پھر سب جانتے ہیں کہ بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال کے لیے بہت زیادہ وقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف وہی عورت یہ اچھے سے کر سکتی ہے جس پر کمانے کی کوئی ذمہ داری نہ ڈالی گئی ہو۔ اگر کسی عورت پر کمانے کی ذمہ داری ہو تو اسے بچوں کی پیدائش کے چند ہفتوں بعد سے ہی ڈے کئیر میں چھوڑنا پڑے گا۔ پھر جب بچے سکول جانے والے ہو جائیں تو انھیں بارہ سے دو کے درمیان چھٹی ہوجاتی ہے۔ ایسے میں اگر ماں گھر ہو تو بچے سکول سے گھر آتے ہیں، کھانا وقت پر ملتا، کھیلنے کودنے اور آرام کرنے کا وقت ملتا ہے۔ لیکن اگر ماں بھی جاب کرتی ہو تو پھر بچوں کو سکول سے آنے کے بعد بھی ماں باپ میں سے کسی کے دفتر جانا ہوتا ہے یا ڈے کئیر۔ جہاں سکول کے بعد نہ ان کے لیے کھانا اچھا ہوتا نہ وہ صحیح سے کھیل کود اور آرام کر سکتے۔ اس لحاظ سے ایک مسلمان مرد کس عورت کو ترجیح دے گا؟
3) گھر کا بہترین انتظام اور تعاون
مرد تو صبح نکلتا ہے اور شام کو آتا ہے۔ گھر کا سارا انتظام عورت ہی کر سکتی ہے۔ چاہے گھر میں کام کے لیے دوسری عورتیں بھی رکھی ہوں تب بھی ان سے کام لینے کے لیے بھی عورت کا گھر ہونا ضروری ہے۔ عورت گھر میں نہ ہو تو کام والیاں بھی کہاں سنبھال سکتی ہیں۔ایک عورت بھی صبح سے شام تک گھر میں نہیں ہے تو گھر کے کام کیسے ہونگے چاہے کسی کام والی سے ہی کروانے ہوں؟ اس لحاظ سے ایک مومن مرد کی چوائس کون سی عورت ہوگی؟
4) گھریلو سکون اور روحانی اطمینان
اکثر دیکھنے میں آتا ہے جس گھر میں عورت نے خود کام پر نہ جانا ہو بلکہ گھر پر رہنا ہو وہ صبح اٹھ کے شوہر اور بچوں کے لیے ناشتہ بناتی ہے۔ شوہر تب تک دفتر جانے کے لیے تیار ہوتا۔ بچے سکول جانے کے لیے تیاری کرتے، سب ناشتہ کرتے اور سکون سے جاتے۔ جہاں عورت نے بھی دفتر جانا ہو تو صبح اسے سب سے زیادہ اپنے تیار ہونے کی فکر ہوتی۔ عورتوں کو تیار ہونے کے لیے وقت بھی زیادہ چاہیے ہوتا۔ ایسے میں سب کو جلدی پڑی ہوتی۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جن مردوں کی بیویاں کام پر جاتی ہیں وہ ناشتہ دفتر آ کر باہر کسی کینٹین سے کر رہے ہوتے۔ بچوں کی روٹین بھی متاثر ہوتی۔ اگر سکول جانے والے ہوں تو انھیں دوپہر کو سکول سے واپسی پر کھانا باہر سے کھانا پڑتا۔ ایسے ہی شام کو بھی کئی دفعہ بیوی تھکی ہو تو کھانا گھر میں نہیں بنتا۔ اس میں قصور اس عورت کا نہیں کیونکہ دونوں کام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اور چلیں بھی تو متاثر ضرور ہوتے۔
❤9😱1
عورت کی جاب سے پیسے تو آتے لیکن گھر کا سکون برباد ہوتا ہے اور باہر کے کھانوں سے صحت کا بھی بیڑہ غرق ہوتا ہے۔ جس مرد کو بھی پیسے سے زیادہ سکون اور صحت چاہیے ہو وہ جاب والی عورت کی بجائے گھریلو عورت کو ہی ترجیح دیتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کمانے کی ذمہ داری مرد کی ہے۔
5) دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی
کوئی بھی مسلمان مرد جانتا ہے کہ موجودہ زمانے میں عورت جہاں بھی جاب کرے تو وہاں مخلوط نظام ہے اور بے پردگی اور دوسرے مسائل ہوتے ہی ہیں۔ ایسے میں مردوں کی جاب تو مجبوری ہے کہ انھوں نے کمانا ہے لیکن عورت گھر میں رہ سکتی ہے۔ اگر کوئی مجبوری ہے جاب کی تو وہ الگ بات لیکن بغیر مجبوری کے جاب کرنا عورت کی نہیں، مرد کی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں دنیاوی سکون اور آخرت میں کامیابی کے لیے کونسی عورت مسلمان مرد کے لیے آئیڈیل ہے؟
ان سب باتوں سے کسی کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے کہ مسلمان مرد کی پہلی ترجیح کونسی عورت ہوتی ہے اور کیوں۔ یہ بات فیمینسٹوں کو تو سمجھ نہیں آسکتی لیکن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ان فیمینسٹوں کے پروپیگنڈے کے زہر سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرعدنان نیازی
5) دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی
کوئی بھی مسلمان مرد جانتا ہے کہ موجودہ زمانے میں عورت جہاں بھی جاب کرے تو وہاں مخلوط نظام ہے اور بے پردگی اور دوسرے مسائل ہوتے ہی ہیں۔ ایسے میں مردوں کی جاب تو مجبوری ہے کہ انھوں نے کمانا ہے لیکن عورت گھر میں رہ سکتی ہے۔ اگر کوئی مجبوری ہے جاب کی تو وہ الگ بات لیکن بغیر مجبوری کے جاب کرنا عورت کی نہیں، مرد کی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں دنیاوی سکون اور آخرت میں کامیابی کے لیے کونسی عورت مسلمان مرد کے لیے آئیڈیل ہے؟
ان سب باتوں سے کسی کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے کہ مسلمان مرد کی پہلی ترجیح کونسی عورت ہوتی ہے اور کیوں۔ یہ بات فیمینسٹوں کو تو سمجھ نہیں آسکتی لیکن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ان فیمینسٹوں کے پروپیگنڈے کے زہر سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرعدنان نیازی
❤9
عظیم شخصیت کی سبق آموز ادائیں
ہمارے محسن اور محبوب استاد حضرت مولانا محب اللہ صاحب دامت برکاتہم (استاد الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن) کا طریقہ کار تھا کہ خدمت کرنے والے طالب علم کو جب کسی کام کے لیے پیسے دیتے تو واپسی پر ایک ایک روپیہ کا حساب لیتے، یہاں تک کہ کوئی چیز 995 روپے کی خریدی ہو اور استاد جی نے 1000 روپے دئے ہوں تو خادم سے حساب کتاب کے بعد وہ پانچ روپے بھی مانگتے، اور اگر خادم کھلے پیسے نا ہونے کا عذر کرتا تو ناراض ہوتے کہ پانچ روپے لے کر آئیں
حالاں کہ استاد جی بڑے دریا دل انسان ہیں، طلبہ اور علماء پر پیسے لٹاتے ہیں، سخاوت میں ضرب المثل ہیں، جنہوں نے ان سے پڑھا وہ اس کی گواہی دیں گے لیکن حساب کتاب کی عادت ڈالنے اور اس کی اہمیت طالب علم کے دل میں اجاگر کرنے کے لیے یہ کام کرتے تھے تاکہ ہم لوگ حساب کتاب میں سستی کرکے اور بے جا اعتماد کرکے اپنا مالی نقصان نا کروا بیٹھیں
چناں چہ یہی وجہ ہے کہ آج کل والد اپنے بچے کو محبت جتلانے یا دوست اپنے کاروباری دوست پر اعتماد باور کروانے کے لیے اپنی جمع پونجی اس کے حوالہ کردیتے ہیں اور حساب کتاب مانگنے میں جھجھکتے ہیں یا لا پرواہی کرتے ہیں اور پھر کل کو جب غبن ہوتا ہے تو ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ میرے اعتماد کا ناجائز کا فائدہ اٹھاکر میری کل کمائی کھاگیا
حالاں کہ "اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت"
اس لیے بزرگوں کی عادات اپنے اندر لانی چاہیے، انحطاط اورتنزلی کا دور ہے، دیانت عنقا ہوچکا، پیسہ کے سامنے بڑے بڑے زور آور پگھل جاتے ہیں
لھذا کل کے پچھتاوے سے اچھا ہے کہ اپنے حساب کتاب سیدھے رکھیں
بیٹے یا دوست سے محبت ہے تو اسے تحفہ تحائف دیں، حساب کتاب میں چھوٹ نا دیں
اعتماد الگ چیز ہے، اصول الگ۔
اللّٰہ استاد محترم کو ہر قسم کی بیماریوں سے محفوظ رکھے اور تمام اساتذہ کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔آمین۔
۔
منقول
ہمارے محسن اور محبوب استاد حضرت مولانا محب اللہ صاحب دامت برکاتہم (استاد الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن) کا طریقہ کار تھا کہ خدمت کرنے والے طالب علم کو جب کسی کام کے لیے پیسے دیتے تو واپسی پر ایک ایک روپیہ کا حساب لیتے، یہاں تک کہ کوئی چیز 995 روپے کی خریدی ہو اور استاد جی نے 1000 روپے دئے ہوں تو خادم سے حساب کتاب کے بعد وہ پانچ روپے بھی مانگتے، اور اگر خادم کھلے پیسے نا ہونے کا عذر کرتا تو ناراض ہوتے کہ پانچ روپے لے کر آئیں
حالاں کہ استاد جی بڑے دریا دل انسان ہیں، طلبہ اور علماء پر پیسے لٹاتے ہیں، سخاوت میں ضرب المثل ہیں، جنہوں نے ان سے پڑھا وہ اس کی گواہی دیں گے لیکن حساب کتاب کی عادت ڈالنے اور اس کی اہمیت طالب علم کے دل میں اجاگر کرنے کے لیے یہ کام کرتے تھے تاکہ ہم لوگ حساب کتاب میں سستی کرکے اور بے جا اعتماد کرکے اپنا مالی نقصان نا کروا بیٹھیں
چناں چہ یہی وجہ ہے کہ آج کل والد اپنے بچے کو محبت جتلانے یا دوست اپنے کاروباری دوست پر اعتماد باور کروانے کے لیے اپنی جمع پونجی اس کے حوالہ کردیتے ہیں اور حساب کتاب مانگنے میں جھجھکتے ہیں یا لا پرواہی کرتے ہیں اور پھر کل کو جب غبن ہوتا ہے تو ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ میرے اعتماد کا ناجائز کا فائدہ اٹھاکر میری کل کمائی کھاگیا
حالاں کہ "اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت"
اس لیے بزرگوں کی عادات اپنے اندر لانی چاہیے، انحطاط اورتنزلی کا دور ہے، دیانت عنقا ہوچکا، پیسہ کے سامنے بڑے بڑے زور آور پگھل جاتے ہیں
لھذا کل کے پچھتاوے سے اچھا ہے کہ اپنے حساب کتاب سیدھے رکھیں
بیٹے یا دوست سے محبت ہے تو اسے تحفہ تحائف دیں، حساب کتاب میں چھوٹ نا دیں
اعتماد الگ چیز ہے، اصول الگ۔
اللّٰہ استاد محترم کو ہر قسم کی بیماریوں سے محفوظ رکھے اور تمام اساتذہ کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔آمین۔
۔
منقول
❤4
دورِ حاضر میں اعتدال کا نیا مفہوم سامنے آیا ہے کہ:
▪️بدعات بھی جائز کردو۔
▪️گمراہوں کو بھی قبول کرلو۔
▪️حرام وحلال کو خلط ملط کردو۔
▪️ہدایت اور گمراہی کا فرق مٹا دو۔
▪️نہی عن المنکر کو ترک کردو۔
▪️مزاج پر گراں اور سخت گزرنے والے احکام میں گنجائش دے دو یا کم از کم چھپا لو۔
▪️'حرام' جیسے الفاظ استعمال نہ کرو۔
▪️اہلِ باطل کو اپنی جگہ درست قرار دے کر قبول کرلو۔
▪️تمام ادیان باطلہ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوئے ان کو اپنے طور پر حق قرار دے دو۔
▪️مسلکِ اہل السنۃ کی شناخت مٹا دو اور اہلِ بدعت کی بدعات کے رنگ میں رنگ جاؤ۔
الغرض اب اعتدال اور حکمت مذکورہ گمراہ کن نظریات اور غلط خیالات کا نام پڑ گیا ہے!
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
▪️بدعات بھی جائز کردو۔
▪️گمراہوں کو بھی قبول کرلو۔
▪️حرام وحلال کو خلط ملط کردو۔
▪️ہدایت اور گمراہی کا فرق مٹا دو۔
▪️نہی عن المنکر کو ترک کردو۔
▪️مزاج پر گراں اور سخت گزرنے والے احکام میں گنجائش دے دو یا کم از کم چھپا لو۔
▪️'حرام' جیسے الفاظ استعمال نہ کرو۔
▪️اہلِ باطل کو اپنی جگہ درست قرار دے کر قبول کرلو۔
▪️تمام ادیان باطلہ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوئے ان کو اپنے طور پر حق قرار دے دو۔
▪️مسلکِ اہل السنۃ کی شناخت مٹا دو اور اہلِ بدعت کی بدعات کے رنگ میں رنگ جاؤ۔
الغرض اب اعتدال اور حکمت مذکورہ گمراہ کن نظریات اور غلط خیالات کا نام پڑ گیا ہے!
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
👍5❤4
شکرِ میلاد
از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
11 ربیع الاول 1448ھ
25 اگست 2026ء
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نعمتِ حیات کا شکر ادا کرنا سکھایا، یہ سیرت کا غیر معمولی پہلو ہے، آپ کی سنتوں کا کمال ہے کہ بعض وقت عام اور سادہ معلوم ہوتی ہیں؛ مگر ان میں حکمت اور گہرائی نہاں رہتی ہے، پیر کا روزہ عہدِ نبوی میں نعمتِ زندگی کا مثالی شکرانہ تھا؛ مگر آج اس میں نئے خوب صورت معانی بھی شامل ہو گئے ہیں، مثال کے طور پر اب سال گرہ کا زمانہ ہے، اس جدید رجحان میں "دوشنبہ سنت" مشعل قرار پائے گی، آج آپ کا جنم دن ہے؟ ایک روزہ شکرانے کا رکھو۔
پھر تحدیثِ نعمتِ میلاد ایک ہفتہ واری سنت ہے، اسے سالانہ کی شکل دینا خلافِ سنت ہوگا، فرحتِ میلاد وہ عمل ہے جس میں امت کے سامنے اسوہ موجود ہے، وقت بھی معلوم ہے اور عمل بھی ثابت شدہ ہے، میلاد کی سفید اور روشن سنت یہ ہے کہ پیر کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کریں، خود اپنا جنم دن بھی اسی راہ پر منا سکتے ہیں، سیرت میں سالانہ جنم دن نہیں اور روزے کے سوا مَظہرِ تقریب نہیں۔
مروجہ میلاد کے پلڑے میں عظیم شخصیات کی نمائندگی نے مجھے بہت پریشان رکھا، اساطینِ علم اور اکابر امت کی پرجوش حمایت نے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے، جن بزرگ ہستیوں نے مروجہ میلاد کی تائید کی ہے وہ دین و علمِ دین کے پہاڑ اور سمندر ہیں، حدیث، فقہ اور اصول کے ائمہ ہیں۔
پھر گہرے غور اور طویل جائزے نے پردہ اٹھایا اور یہ توجیہ سامنے آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عشق کا سب سے بڑا عنوان ہے؛ جب معمولی جام بے خود کر دیتا ہے تو عشقِ نبی کے اثر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، میلاد میں وزن ڈالنے والے اہم نام بے شک علم اور استدلال رکھتے ہیں؛ مگر بادِ عشق اور بادۂ محبت کی مجبوری اور معذوری کا بھی ایک کردار یقینا ہے۔
بارہ ربیع الاول عاشق کے ظرف کا امتحان بھی ہے، محبوب کے نام پر منعقد تقریب سے دوری اختیار کرنے میں خارجی اور داخلی دونوں محاذوں پر مزاحمت درپیش ہوتی ہے، غیر طعنہ دیتے ہیں اور اپنی طبیعت بھی مچلتی ہے، اس سیاق میں حضرت گنگوہی علیہ الرحمہ کا مقام سمجھیں، در کفے جام شریعت در کفے سندانِ عشق کی ادا و عزیمت کا ادراک کریں، حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی نے آپ کے بارے میں بجا فرمایا تھا کہ سمندر پیے بیٹھے ہیں اور ڈکار تک نہیں لیتے۔
دیوبند نے عشق کی نری گھٹی نہیں پلائی، آدابِ عشق بھی تعلیم کیے، دارالعلوم کے اسباق میں حدود کی پابندی عائد ہے، ہمارا میکدہ بالغ ہے اسے طفلانہ حرکتیں اغوا نہیں کر سکتیں، وہ اسمارٹ ہے جذبات کے ہاتھوں کمپرومائزڈ نہیں ہوتا، میلاد ضرور منائی جائے گی؛ مگر اسوۂ رسالت نقش ہوگا، سنت شمع ہوگی، سیرت نشان بنے گی، میلاد جس قدر اور جس طرح ثابت ہے اسی درجہ اور اسی رنگ میں منائی جائے گی، عشق کا جوش مشن کی وفاداری پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔
علی گڑھ داعی نے سیرت کے عنوان میں تبدیلی کر کے اعتبار کھو دیا ہے، اعلان کی خلاف ورزی ہمارے مولانا کے لیے موقع ہے، یہ بہانہ نہیں عذر کہلائے گا، اس نوع کا تصرف بھول نہیں شرارت شمار ہوتی ہے، یہ تعبیرات موقف، رائے اور مسلک کی نمائندگی کرتی ہیں، یوں بھی مخلوط پروگرام میں شرکت قابلِ احتیاط تھی، اب وہ مشکوک بھی ہوگیا، ترجمان سطح کی شخصیات کے لیے بہ ہر حال احتیاط بہتر ہے، واللہ اعلم۔
از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
11 ربیع الاول 1448ھ
25 اگست 2026ء
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نعمتِ حیات کا شکر ادا کرنا سکھایا، یہ سیرت کا غیر معمولی پہلو ہے، آپ کی سنتوں کا کمال ہے کہ بعض وقت عام اور سادہ معلوم ہوتی ہیں؛ مگر ان میں حکمت اور گہرائی نہاں رہتی ہے، پیر کا روزہ عہدِ نبوی میں نعمتِ زندگی کا مثالی شکرانہ تھا؛ مگر آج اس میں نئے خوب صورت معانی بھی شامل ہو گئے ہیں، مثال کے طور پر اب سال گرہ کا زمانہ ہے، اس جدید رجحان میں "دوشنبہ سنت" مشعل قرار پائے گی، آج آپ کا جنم دن ہے؟ ایک روزہ شکرانے کا رکھو۔
پھر تحدیثِ نعمتِ میلاد ایک ہفتہ واری سنت ہے، اسے سالانہ کی شکل دینا خلافِ سنت ہوگا، فرحتِ میلاد وہ عمل ہے جس میں امت کے سامنے اسوہ موجود ہے، وقت بھی معلوم ہے اور عمل بھی ثابت شدہ ہے، میلاد کی سفید اور روشن سنت یہ ہے کہ پیر کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کریں، خود اپنا جنم دن بھی اسی راہ پر منا سکتے ہیں، سیرت میں سالانہ جنم دن نہیں اور روزے کے سوا مَظہرِ تقریب نہیں۔
مروجہ میلاد کے پلڑے میں عظیم شخصیات کی نمائندگی نے مجھے بہت پریشان رکھا، اساطینِ علم اور اکابر امت کی پرجوش حمایت نے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے، جن بزرگ ہستیوں نے مروجہ میلاد کی تائید کی ہے وہ دین و علمِ دین کے پہاڑ اور سمندر ہیں، حدیث، فقہ اور اصول کے ائمہ ہیں۔
پھر گہرے غور اور طویل جائزے نے پردہ اٹھایا اور یہ توجیہ سامنے آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عشق کا سب سے بڑا عنوان ہے؛ جب معمولی جام بے خود کر دیتا ہے تو عشقِ نبی کے اثر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، میلاد میں وزن ڈالنے والے اہم نام بے شک علم اور استدلال رکھتے ہیں؛ مگر بادِ عشق اور بادۂ محبت کی مجبوری اور معذوری کا بھی ایک کردار یقینا ہے۔
بارہ ربیع الاول عاشق کے ظرف کا امتحان بھی ہے، محبوب کے نام پر منعقد تقریب سے دوری اختیار کرنے میں خارجی اور داخلی دونوں محاذوں پر مزاحمت درپیش ہوتی ہے، غیر طعنہ دیتے ہیں اور اپنی طبیعت بھی مچلتی ہے، اس سیاق میں حضرت گنگوہی علیہ الرحمہ کا مقام سمجھیں، در کفے جام شریعت در کفے سندانِ عشق کی ادا و عزیمت کا ادراک کریں، حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی نے آپ کے بارے میں بجا فرمایا تھا کہ سمندر پیے بیٹھے ہیں اور ڈکار تک نہیں لیتے۔
دیوبند نے عشق کی نری گھٹی نہیں پلائی، آدابِ عشق بھی تعلیم کیے، دارالعلوم کے اسباق میں حدود کی پابندی عائد ہے، ہمارا میکدہ بالغ ہے اسے طفلانہ حرکتیں اغوا نہیں کر سکتیں، وہ اسمارٹ ہے جذبات کے ہاتھوں کمپرومائزڈ نہیں ہوتا، میلاد ضرور منائی جائے گی؛ مگر اسوۂ رسالت نقش ہوگا، سنت شمع ہوگی، سیرت نشان بنے گی، میلاد جس قدر اور جس طرح ثابت ہے اسی درجہ اور اسی رنگ میں منائی جائے گی، عشق کا جوش مشن کی وفاداری پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔
علی گڑھ داعی نے سیرت کے عنوان میں تبدیلی کر کے اعتبار کھو دیا ہے، اعلان کی خلاف ورزی ہمارے مولانا کے لیے موقع ہے، یہ بہانہ نہیں عذر کہلائے گا، اس نوع کا تصرف بھول نہیں شرارت شمار ہوتی ہے، یہ تعبیرات موقف، رائے اور مسلک کی نمائندگی کرتی ہیں، یوں بھی مخلوط پروگرام میں شرکت قابلِ احتیاط تھی، اب وہ مشکوک بھی ہوگیا، ترجمان سطح کی شخصیات کے لیے بہ ہر حال احتیاط بہتر ہے، واللہ اعلم۔
❤5
میلاد سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذبح کرنے والی قبیح ترین بدعت ۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے موقوفاً امام طبرانی اپنی حدیث کی کتاب "المعجم الکبیر" میں روایت کرتے ہیں:
«مَا أَتَى عَلَى النَّاسِ عَامٌ إِلَّا أَحْدَثُوا فِيهِ بِدْعَةً، وَأَمَاتُوا فِيهِ سُنَّةً، حَتَّى تَحْيَى الْبِدَعُ، وَتَمُوتَ السُّنَنُ»
ترجمہ:
’’لوگوں پر کوئی سال ایسا نہیں گزرتا مگر وہ اس میں کوئی بدعت ایجاد کرتے اور ایک سنت کو مٹا دیتے ہیں، یہاں تک کہ بدعتیں زندہ اور سنتیں مردہ ہو جاتی ہیں۔‘
المعجم الكبير، للطبرانی، حدیث نمبر 10610
امام ہیثمیؒ فرماتے ہیں:
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
یعنی:
’’اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال موثق ہیں۔‘‘
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب العلم، باب في البدع والأهواء، رقم 894)
وہ بریلوی احباب جو کہتے ہیں کہ بدعت سئیہ وہ ہوتی ہے جو سنت و شریعت کو تبدیل کرنے والی ہوتی ہے بتاؤ اس میلاد سے کونسی سنت تبدیل ہوئ ؟ کل آپ سب نے صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں منایا جانے والا میلاد دیکھ لیا کہ اس میلاد کی آڑ میں کونسی بے حیائ نہیں ہے جو نہ کئ گئ ہو ڈھول تماشے عورتوں مردوں کا آزادانہ اختلاط ناچ بھنگڑے فحاشی عریانی ۔۔۔ روافض کے تعزیہ نکلتے ہیں لیکن خدا کی قسم یہ شیطانیت تعزیوں میں بھی نہیں ہوتی جو کل پوری دنیا میں میلاد کی آڑ میں آپ نے سوشل میڈیا کے توسط سے دیکھ لی ۔۔۔ کف۔۔ر تو یہ کہ یہ لوگ یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی خوشی میں کررہے تھے ان کے نزدیک اس سب کو برا سمجھے والے
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں ۔۔۔
کا مصداق تھے ۔۔۔ بقول ان کے اسے گناہ کہنے والوں کو حضور کی میلاد سے مرچیں لگتی ہیں ۔۔۔۔ یہ سب بھی ان خرافات پر یہی کہہ رہے تھے کہ میلاد تو سیوطی نے بھی منایا ۔۔۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے بھی منایا ۔۔۔۔
اگر اس سب کے بعد بھی اس میلاد نے دین کا حلیہ نہیں بگاڑا ۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو ذبح نہیں کیا۔۔۔۔ تو مبارک ہو آپ جیسا شخص کوے کو بھی سفید ثابت کرسکتا ہے۔۔۔ ایسے ہٹ دھرموں سے بحث کرنے کے بجائے بس قیامت کا انتظار کریں جہاں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک میلادی کو دیکھ کر فرمائیں گے سحقا سحقا لمن غیر بعدی دینا۔۔۔۔
طالب دعا ساجد خان نقشبندی
حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے موقوفاً امام طبرانی اپنی حدیث کی کتاب "المعجم الکبیر" میں روایت کرتے ہیں:
«مَا أَتَى عَلَى النَّاسِ عَامٌ إِلَّا أَحْدَثُوا فِيهِ بِدْعَةً، وَأَمَاتُوا فِيهِ سُنَّةً، حَتَّى تَحْيَى الْبِدَعُ، وَتَمُوتَ السُّنَنُ»
ترجمہ:
’’لوگوں پر کوئی سال ایسا نہیں گزرتا مگر وہ اس میں کوئی بدعت ایجاد کرتے اور ایک سنت کو مٹا دیتے ہیں، یہاں تک کہ بدعتیں زندہ اور سنتیں مردہ ہو جاتی ہیں۔‘
المعجم الكبير، للطبرانی، حدیث نمبر 10610
امام ہیثمیؒ فرماتے ہیں:
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
یعنی:
’’اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال موثق ہیں۔‘‘
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب العلم، باب في البدع والأهواء، رقم 894)
وہ بریلوی احباب جو کہتے ہیں کہ بدعت سئیہ وہ ہوتی ہے جو سنت و شریعت کو تبدیل کرنے والی ہوتی ہے بتاؤ اس میلاد سے کونسی سنت تبدیل ہوئ ؟ کل آپ سب نے صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں منایا جانے والا میلاد دیکھ لیا کہ اس میلاد کی آڑ میں کونسی بے حیائ نہیں ہے جو نہ کئ گئ ہو ڈھول تماشے عورتوں مردوں کا آزادانہ اختلاط ناچ بھنگڑے فحاشی عریانی ۔۔۔ روافض کے تعزیہ نکلتے ہیں لیکن خدا کی قسم یہ شیطانیت تعزیوں میں بھی نہیں ہوتی جو کل پوری دنیا میں میلاد کی آڑ میں آپ نے سوشل میڈیا کے توسط سے دیکھ لی ۔۔۔ کف۔۔ر تو یہ کہ یہ لوگ یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کی خوشی میں کررہے تھے ان کے نزدیک اس سب کو برا سمجھے والے
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں ۔۔۔
کا مصداق تھے ۔۔۔ بقول ان کے اسے گناہ کہنے والوں کو حضور کی میلاد سے مرچیں لگتی ہیں ۔۔۔۔ یہ سب بھی ان خرافات پر یہی کہہ رہے تھے کہ میلاد تو سیوطی نے بھی منایا ۔۔۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے بھی منایا ۔۔۔۔
اگر اس سب کے بعد بھی اس میلاد نے دین کا حلیہ نہیں بگاڑا ۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو ذبح نہیں کیا۔۔۔۔ تو مبارک ہو آپ جیسا شخص کوے کو بھی سفید ثابت کرسکتا ہے۔۔۔ ایسے ہٹ دھرموں سے بحث کرنے کے بجائے بس قیامت کا انتظار کریں جہاں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک میلادی کو دیکھ کر فرمائیں گے سحقا سحقا لمن غیر بعدی دینا۔۔۔۔
طالب دعا ساجد خان نقشبندی
👍5❤2
حضرات! جامعہ بنوری ٹاؤن کا ایک فتوی ملاحظہ فرمائیں
سوال
ربیع الاول کے مہینہ کی تخصیص کرکے سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ و خلوس کا انعقاد کرنا اور ماہ ربیع الاول کے آنے سے پہلے عوام کو خبردار کرنا اور ان سے مشورہ کرکے جلسہ کے لیے ربیع الاول کی تاریخ طے کرنا اور خصوصی اہتمام کے ساتھ اجتماعی جلسوں کا شیڈول ترتیب دینا کہ ایک ہی اشتہار میں اپنے علاقہ کی مختلف مساجد میں ربیع الاول میں روز و شب جلسوں کی ترتیب رکھنا اور عوام کو فضائل سنا کر جلسوں کے اخراجات چندہ کرکے وصول کرنا جیسے شرکاء کے کھانے پینے خطیبوں اور مقررین کے اخراجات و وظائف و ہدایا کے لیے چندہ وصول کرنا شرعا درست ہے کہ نہیں؟
جواب
اس میں شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت اور بعثت امت محمدیہ کے لیے رحمت وسعادت کا ذریعہ ہے اوراس نعمت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، بلکہ مؤمن کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اس کو نہ ہو، لیکن محبت سچی اورقابل قبول اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ وہ شرعی اصولوں سے نہ ٹکراتی ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت واحوال، فضائل ومناقب اور حیات طیبہ کے مختلف گوشے اجاگرکرنا، اس پر بیان وتقریر کرنا کارِ ثواب ہے، لیکن یہ اسی وقت ہے جب کہ سنت وشریعت کے مطابق ہو۔
*ماہ ربیع الاول کو خاص کرکے میلاد النبی، سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ جلوس کا انعقادکرنا، جشن وتہوار منانا، اور اس عنوان سے چندہ وصول کرنا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہٴ کرام اور تابعین عظام سے۔حالاں کہ صحابہٴ کرام سے بڑھ کر سچا عاشق رسول اور جاں نثار کون ہوسکتا ہے، اس کے باوجود صحابہٴ کرام سے کہیں اس کا ثبوت نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ اس طرح کی محافل کا انعقاد بغیر کسی چندہ مہم کے اور بغیر کسی تخصیص وتعیین کے وقتا فوقتا حدود شرع میں رہتے ہوئے ہوتا رہے، اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہوتا، لیکن افسوس کہ اس کے برعکس اپنی دینداری اور محبت نبوی کو چند ایام میں محصور کرکے رکھ دیا گیا ہے اور پھر سال بھر آزاد چھوڑ دیاگیا ہے۔جس کو امت کے نباض علماء نے بدعات میں شمار کیا ہے۔*
المدخل میں ہے:
" ومن جملة ما أحدثوه من البدع مع اعتقادهم أن ذلك من أکبر العبادات وإظهار شرائع یفعلونه في شهر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدع ومحرمات جملة الخ (المدخل ۲/۳)فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 143803200014
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
سوال
ربیع الاول کے مہینہ کی تخصیص کرکے سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ و خلوس کا انعقاد کرنا اور ماہ ربیع الاول کے آنے سے پہلے عوام کو خبردار کرنا اور ان سے مشورہ کرکے جلسہ کے لیے ربیع الاول کی تاریخ طے کرنا اور خصوصی اہتمام کے ساتھ اجتماعی جلسوں کا شیڈول ترتیب دینا کہ ایک ہی اشتہار میں اپنے علاقہ کی مختلف مساجد میں ربیع الاول میں روز و شب جلسوں کی ترتیب رکھنا اور عوام کو فضائل سنا کر جلسوں کے اخراجات چندہ کرکے وصول کرنا جیسے شرکاء کے کھانے پینے خطیبوں اور مقررین کے اخراجات و وظائف و ہدایا کے لیے چندہ وصول کرنا شرعا درست ہے کہ نہیں؟
جواب
اس میں شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت اور بعثت امت محمدیہ کے لیے رحمت وسعادت کا ذریعہ ہے اوراس نعمت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، بلکہ مؤمن کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اس کو نہ ہو، لیکن محبت سچی اورقابل قبول اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ وہ شرعی اصولوں سے نہ ٹکراتی ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت واحوال، فضائل ومناقب اور حیات طیبہ کے مختلف گوشے اجاگرکرنا، اس پر بیان وتقریر کرنا کارِ ثواب ہے، لیکن یہ اسی وقت ہے جب کہ سنت وشریعت کے مطابق ہو۔
*ماہ ربیع الاول کو خاص کرکے میلاد النبی، سیرت مصطفی، عظمت مصطفی، شان مصطفی، ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ جیسے ناموں سے جلسہ جلوس کا انعقادکرنا، جشن وتہوار منانا، اور اس عنوان سے چندہ وصول کرنا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہٴ کرام اور تابعین عظام سے۔حالاں کہ صحابہٴ کرام سے بڑھ کر سچا عاشق رسول اور جاں نثار کون ہوسکتا ہے، اس کے باوجود صحابہٴ کرام سے کہیں اس کا ثبوت نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ اس طرح کی محافل کا انعقاد بغیر کسی چندہ مہم کے اور بغیر کسی تخصیص وتعیین کے وقتا فوقتا حدود شرع میں رہتے ہوئے ہوتا رہے، اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہوتا، لیکن افسوس کہ اس کے برعکس اپنی دینداری اور محبت نبوی کو چند ایام میں محصور کرکے رکھ دیا گیا ہے اور پھر سال بھر آزاد چھوڑ دیاگیا ہے۔جس کو امت کے نباض علماء نے بدعات میں شمار کیا ہے۔*
المدخل میں ہے:
" ومن جملة ما أحدثوه من البدع مع اعتقادهم أن ذلك من أکبر العبادات وإظهار شرائع یفعلونه في شهر ربیع الأول من المولد وقد احتوی علی بدع ومحرمات جملة الخ (المدخل ۲/۳)فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 143803200014
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
❤4👍1
مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی نظر نے ان تمام جاہلانہ رسومات کا اندازہ لگا لیا تھا اور یہ بھی احساس ہوگیا تھا کہ آگے چل کر یہ اور زیادہ بھیانک روپ اپنا لیں گے۔ اسی لیے انہوں نے ہر طرح کی مجلس میلاد کو بند کرکے ایک طوفان کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ فیصلہ اتنا بصیرت افروز تھا کہ حاجی امداد اللہ صاحب رحمہ اللہ کو بھی کہنا پڑا کہ اس مسئلے میں جو فیصلہ مولانا گنگوہی کا ہے وہی انکا بھی ہے (مرقوماتِ امدادیہ)
آج کل جو ہم یہ ڈرامے، تماشے، مرد و عورتوں کا پاگلوں کی طرح بیچ بازار ناچنا دیکھ رہے ہیں یہ سب اسی گنجائش کا فائدہ اٹھا کر کیا جارہا ہے جو ہمارے بعض حضرات نے ان کو دے رکھی ہے۔ ایک ایسے عمل کے لیے جس کی اصل نہ خیر القرون میں ملتی ہے اور نہ تمام علماء اس کے جواز کے درپے ہیں، مجوزین ایسے نت نئے مفسدات کے لئے کھلا دروازہ چھوڑ رہے ہیں۔
آپ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی اس رائے سے اختلاف کیجئے یا بے شرم تکفیریوں کی طرح مولانا گنگوہی رح کا مزاق اڑائیں، تاریخ نے ان کی رائے کو احوط و اسلم ثابت کردیا۔
آج کل جو ہم یہ ڈرامے، تماشے، مرد و عورتوں کا پاگلوں کی طرح بیچ بازار ناچنا دیکھ رہے ہیں یہ سب اسی گنجائش کا فائدہ اٹھا کر کیا جارہا ہے جو ہمارے بعض حضرات نے ان کو دے رکھی ہے۔ ایک ایسے عمل کے لیے جس کی اصل نہ خیر القرون میں ملتی ہے اور نہ تمام علماء اس کے جواز کے درپے ہیں، مجوزین ایسے نت نئے مفسدات کے لئے کھلا دروازہ چھوڑ رہے ہیں۔
آپ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی اس رائے سے اختلاف کیجئے یا بے شرم تکفیریوں کی طرح مولانا گنگوہی رح کا مزاق اڑائیں، تاریخ نے ان کی رائے کو احوط و اسلم ثابت کردیا۔
👍8
میں پڑھنے کا وقت کہاں سے نکالتا تھا؟
========================
شیخ علی طنطاوی
_________
عدالت کا حال یہ تھا کہ ہر روز میرے سامنے تیس مقدمے ہوتے۔ دعوے دیکھتا، وکیلوں کی بحثیں سنتا اور فیصلے کرتا۔ ثالثی مجالس کی نگرانی الگ تھی۔ تین اور مجلسوں کی صدارت بھی میرے سر تھی: مجلسِ اوقاف، مجلسِ ایتام اور شام کے شرعی کالجوں کی مجلسِ اعلیٰ، جو وزارتِ اوقاف کے ماتحت تھی۔
دمشق کے شرعی کالج میں پڑھاتا تھا، لڑکوں کے سیکنڈری اسکول میں بھی اور لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول میں بھی۔ جمعے کا خطبہ کبھی جامع المرابط میں ہوتا، کبھی مسجدِ جامعہ میں؛ کلبوں اور انجمنوں میں تقریریں الگ۔ ریڈیو دمشق سے گفت گو کا سلسلہ بھی جاری تھا اور میرا شمار ریڈیو کے اوّل اوّل بولنے والوں میں ہوتا تھا جنھیں لوگ سنتے چلے آ رہے تھے۔ اب تو پچاس برس سے زیادہ گزر چکے ہیں اور میری یہ گفت گو کبھی منقطع نہیں ہوئی۔
پھر روزانہ ایک مختصر سا کالم بھی لکھتا؛ پہلے روزنامہ “النصر” میں، پھر “الایام” میں۔ کالم چھوٹا ہوتا تھا مگر صاحب! دستی بم بھی تو چھوٹا ہی ہوتا ہے؛ دھماکا اس کا بھی خوب ہوتا ہے اور باطل کی عمارت میں رخنہ ڈالنے کا کام بھی کچھ کم نہیں کرتا۔
یہ سب کچھ کرتا تھا، پھر بھی وقت نکال لیتا کہ کتب خانے میں جا بیٹھوں۔
اور اس پر طرہ یہ کہ روزانہ دو سو، کبھی تین سو صفحے پڑھتا تھا۔ یہ عادت آج کی نہیں؛ جس دن بچپن میں پڑھنا سیکھا، اسی دن سے چلی آ رہی ہے۔ کوئی ستر برس ہونے کو آئے۔ جو وقت بچتا، کتاب لے کر بیٹھ جاتا۔
اب اس کا راز بھی سن لیجیے۔ میں نہ گلی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا، نہ جوانوں کے ساتھ کسی تفریح گاہ کا رخ کرتا۔ آدمی بھی کچھ ایسا مجلسی نہ تھا کہ آنے والوں کی پیشوائی میں وقت جائے؛ مسافروں کو رخصت کرنے میں گھڑیاں کٹیں؛ خوشی والوں کو مبارک بادیں دیتا پھروں اور مصیبت زدوں کے ہاں تعزیتیں کرتا رہوں۔ دعوت بھی قبول نہ کرتا، خصوصاً اگر دعوت کھانے کی ہوتی!
اگر اس روش میں اسلامی نقطۂ نظر سے کسی افضل و اکمل طریقے کی مخالفت ہو گئی ہو تو اللّٰہ سے معافی چاہتا ہوں؛ نہ میں کسی کو کہتا ہوں کہ وہ بھی میری طرح کرے۔ میرا طریقہ بس یہ تھا کہ بغیر پہلے سے وقت لیے کسی ملاقاتی کو نہ ملتا اور خود بھی کسی کے ہاں شاذ و نادر ہی جاتا۔ یوں وقت بھی بچا لیا اور جان بھی آسودہ رکھی۔
اب آپ کہیں گے: میاں! یہ سب کچھ آخر کیا کیسے؟ اور ایک دن میں اتنی گنجایش نکلتی کہاں سے تھی؟
جواب یہ ہے کہ میں نے اپنے آپ کو نہیں بانٹا تھا، اپنے وقت کو بانٹ رکھا تھا۔
فقہا کی اصطلاح میں اسے “مُہایَأَۃ” کہتے ہیں۔ مُہایَأَۃ سنی ہے کبھی؟ ایک مکان کے دو مالک ہوں، مکان اتنا نہ ہو کہ دونوں بہ یک وقت اس میں رہ سکیں اور تقسیم بھی نہ ہو سکتا ہو تو مکان نہیں، وقت بانٹ لیتے ہیں۔ ایک مہینا یا ایک سال ایک مالک استعمال کرے، پھر اتنی ہی مدت دوسرا۔
میں نے اپنے وقت کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا تھا۔
عدالت میں ہوتا تو بس عدالت ہی سامنے ہوتی؛ ساری توجہ اسی کی؛ نہ اخبار کا خیال، نہ مدرسے کا۔ اخبار کے لیے لکھنے بیٹھتا تو عدالت کو ذہن سے نکال باہر کرتا۔ مدرسے میں ہوتا تو مدرسے کے سبق کے سوا دنیا میں کوئی کام ہی نہ تھا۔
اور ہاں! یہ سب جوانی کے عہد کا قصہ ہے۔ ابو العتاہیہ نے خوب کہا ہے:
وَرَوَائِحُ الْجَنَّةِ فِي الشَّبَابِ “جنت کی مہک تو جوانی میں ہے!”
اس باب کو پڑھنے والے نوجوان اگر اپنی قوتیں سنجیدہ کام میں لگا دیں اور اپنا وقت ایسے کاموں میں صرف کریں جن سے کوئی مفید نتیجہ نکلتا ہو تو یقین جانیے، مجھ سے کہیں زیادہ کر گزریں۔
شیخ علی طنطاوی
(الذکریات، ج ۶، ص ۳۳۲)
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]
========================
شیخ علی طنطاوی
_________
عدالت کا حال یہ تھا کہ ہر روز میرے سامنے تیس مقدمے ہوتے۔ دعوے دیکھتا، وکیلوں کی بحثیں سنتا اور فیصلے کرتا۔ ثالثی مجالس کی نگرانی الگ تھی۔ تین اور مجلسوں کی صدارت بھی میرے سر تھی: مجلسِ اوقاف، مجلسِ ایتام اور شام کے شرعی کالجوں کی مجلسِ اعلیٰ، جو وزارتِ اوقاف کے ماتحت تھی۔
دمشق کے شرعی کالج میں پڑھاتا تھا، لڑکوں کے سیکنڈری اسکول میں بھی اور لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول میں بھی۔ جمعے کا خطبہ کبھی جامع المرابط میں ہوتا، کبھی مسجدِ جامعہ میں؛ کلبوں اور انجمنوں میں تقریریں الگ۔ ریڈیو دمشق سے گفت گو کا سلسلہ بھی جاری تھا اور میرا شمار ریڈیو کے اوّل اوّل بولنے والوں میں ہوتا تھا جنھیں لوگ سنتے چلے آ رہے تھے۔ اب تو پچاس برس سے زیادہ گزر چکے ہیں اور میری یہ گفت گو کبھی منقطع نہیں ہوئی۔
پھر روزانہ ایک مختصر سا کالم بھی لکھتا؛ پہلے روزنامہ “النصر” میں، پھر “الایام” میں۔ کالم چھوٹا ہوتا تھا مگر صاحب! دستی بم بھی تو چھوٹا ہی ہوتا ہے؛ دھماکا اس کا بھی خوب ہوتا ہے اور باطل کی عمارت میں رخنہ ڈالنے کا کام بھی کچھ کم نہیں کرتا۔
یہ سب کچھ کرتا تھا، پھر بھی وقت نکال لیتا کہ کتب خانے میں جا بیٹھوں۔
اور اس پر طرہ یہ کہ روزانہ دو سو، کبھی تین سو صفحے پڑھتا تھا۔ یہ عادت آج کی نہیں؛ جس دن بچپن میں پڑھنا سیکھا، اسی دن سے چلی آ رہی ہے۔ کوئی ستر برس ہونے کو آئے۔ جو وقت بچتا، کتاب لے کر بیٹھ جاتا۔
اب اس کا راز بھی سن لیجیے۔ میں نہ گلی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا، نہ جوانوں کے ساتھ کسی تفریح گاہ کا رخ کرتا۔ آدمی بھی کچھ ایسا مجلسی نہ تھا کہ آنے والوں کی پیشوائی میں وقت جائے؛ مسافروں کو رخصت کرنے میں گھڑیاں کٹیں؛ خوشی والوں کو مبارک بادیں دیتا پھروں اور مصیبت زدوں کے ہاں تعزیتیں کرتا رہوں۔ دعوت بھی قبول نہ کرتا، خصوصاً اگر دعوت کھانے کی ہوتی!
اگر اس روش میں اسلامی نقطۂ نظر سے کسی افضل و اکمل طریقے کی مخالفت ہو گئی ہو تو اللّٰہ سے معافی چاہتا ہوں؛ نہ میں کسی کو کہتا ہوں کہ وہ بھی میری طرح کرے۔ میرا طریقہ بس یہ تھا کہ بغیر پہلے سے وقت لیے کسی ملاقاتی کو نہ ملتا اور خود بھی کسی کے ہاں شاذ و نادر ہی جاتا۔ یوں وقت بھی بچا لیا اور جان بھی آسودہ رکھی۔
اب آپ کہیں گے: میاں! یہ سب کچھ آخر کیا کیسے؟ اور ایک دن میں اتنی گنجایش نکلتی کہاں سے تھی؟
جواب یہ ہے کہ میں نے اپنے آپ کو نہیں بانٹا تھا، اپنے وقت کو بانٹ رکھا تھا۔
فقہا کی اصطلاح میں اسے “مُہایَأَۃ” کہتے ہیں۔ مُہایَأَۃ سنی ہے کبھی؟ ایک مکان کے دو مالک ہوں، مکان اتنا نہ ہو کہ دونوں بہ یک وقت اس میں رہ سکیں اور تقسیم بھی نہ ہو سکتا ہو تو مکان نہیں، وقت بانٹ لیتے ہیں۔ ایک مہینا یا ایک سال ایک مالک استعمال کرے، پھر اتنی ہی مدت دوسرا۔
میں نے اپنے وقت کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا تھا۔
عدالت میں ہوتا تو بس عدالت ہی سامنے ہوتی؛ ساری توجہ اسی کی؛ نہ اخبار کا خیال، نہ مدرسے کا۔ اخبار کے لیے لکھنے بیٹھتا تو عدالت کو ذہن سے نکال باہر کرتا۔ مدرسے میں ہوتا تو مدرسے کے سبق کے سوا دنیا میں کوئی کام ہی نہ تھا۔
اور ہاں! یہ سب جوانی کے عہد کا قصہ ہے۔ ابو العتاہیہ نے خوب کہا ہے:
وَرَوَائِحُ الْجَنَّةِ فِي الشَّبَابِ “جنت کی مہک تو جوانی میں ہے!”
اس باب کو پڑھنے والے نوجوان اگر اپنی قوتیں سنجیدہ کام میں لگا دیں اور اپنا وقت ایسے کاموں میں صرف کریں جن سے کوئی مفید نتیجہ نکلتا ہو تو یقین جانیے، مجھ سے کہیں زیادہ کر گزریں۔
شیخ علی طنطاوی
(الذکریات، ج ۶، ص ۳۳۲)
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]
❤8👍1
🌻 تحقیقِ روایت: مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنے کی فضیلت!
⬅️ روایت: روایت مشہور ہے کہ:’’جو شخص مسجد نبوی میں چالیس نمازیں اس طرح ادا کرے کہ اس سے ایک بھی نماز فوت نہ ہو تو اُس کے لیے آگ سے برأت اور عذاب سے نجات لکھ دی جاتی ہے اور وہ نفاق سے بری ہوجاتا ہے۔‘‘
⬅️ روایت کی تحقیق:
مذکورہ حدیث ’’مسند احمد‘‘ میں موجود ہے، ملاحظہ فرمائیں:
☀ مسند الإمام أحمد:
12583- حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِن الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنِ نُبَيْطِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَن النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَنَجَاةٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ. (مُسْنَدُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ)
⬅️ ’’مسند احمد‘‘ کی مذکورہ حدیث کے رایوں کو متعدد جلیل القدر محدثین کرام نے ثقہ اور معتبر قرار دیا ہے، ان میں سے کوئی بھی راوی ایسا نہیں ہے جو کہ ثقہ نہ ہو، اس لیے یہ حدیث معتبر ہے۔
تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
1️⃣ امام محدث ہیثمی رحمہ اللہ تعالٰی نے مذکورہ حدیث کے رایوں کو ثقہ قرار دیا ہے:
☀ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:
5878- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا تَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَبَرَاءَةٌ مِنَ الْعَذَابِ وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ».
قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي «الْأَوْسَطِ»، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
(بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعِينَ صَلَاةً)
2️⃣ امام منذری رحمہ اللہ تعالٰی نے بھی ’’مسند احمد‘‘ کی مذکورہ حدیث کے رایوں کو ثقہ اور معتبر قرار دیا ہے:
☀ الترغيب والترهيب:
1832- عَن أنس بن مَالك رَضِي الله عَنهُ عَن النَّبِي ﷺ قَالَ: «من صلى فِي مَسْجِدي أَرْبَعِينَ صَلَاة لَا تفوته صَلَاة كتبت لَهُ بَرَاءَة من النَّار وَبَرَاءَة من الْعَذَاب وبرىء من النِّفَاق».
رَوَاهُ أَحْمد وَرُوَاته رُوَاة الصَّحِيح، وَالطَّبَرَانِيّ فِي «الْأَوْسَط». (كتاب الْحَج)
3️⃣ امام محدث احمد قسطلانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی ’’مسند احمد‘‘ کی مذکورہ حدیث کے رایوں کو ثقہ اور معتبر قرار دیا ہے:
☀ إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:
وروى أحمد بإسناد رواته الصحيح من حديث أنس رفعه: «من صلّى في مسجدي أربعين صلاة لا تفوته صلاة كتبت له براءة من النار، وبراءة من العذاب، وبراءة من النفاق».
(كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة)
📿 وضاحتیں اور فوائد:
1️⃣ ماقبل میں متعدد جلیل القدر ائمہ محدثین کی تصریحات سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے کہ مذکورہ حدیث کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں، ان میں سے کوئی بھی راوی غیر معتبر نہیں ہے۔ اس وجہ سے مذکورہ حدیث معتبر اور قابلِ قبول ہے۔ اس لیے مذکورہ حدیث میں بیان کی گئی فضیلت کا اعتقاد رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا بالکل درست ہے۔
2️⃣ بعض حضرات نے مذکورہ حدیث کے ایک راوی نُبَیط بن عمر پر جرح کی ہے، لیکن یہ جرح معتبر نہیں، اس لیے کہ نبیط بن عمر معتبر اور ثقہ راوی ہیں جیسا کہ ماقبل میں تین محدثین کرام کی تصریح سے بھی ان کا ثقہ ہونا معلوم ہوتا ہے، مزید یہ کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی ان کو ثقات میں شمار کیا ہے اور امام ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تعجیل المنفعۃ‘‘ میں امام ابن حبان کا حوالہ دے کر ان کے ثقہ ہونے کو قبول کیا ہے۔
☀ تعجيل المنفعة بزوائد رجال الأئمة الأربعة:
1100- نبيط بن عمر عَن أنس وَعنهُ عبد الرَّحْمَن بن أبي الرِّجَال، ذكره بن حبَان فِي «الثِّقَات».
3️⃣ مذکورہ حدیث کو شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالٰی اور دیگر بعض معاصر حضرات نے غیر معتبر قرار دیا ہے تو اس حوالے سے عرض یہ ہے کہ ماقبل سے یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ متعدد جلیل القدر محدثین نے اس حدیث کو معتبر قرار دیا ہے، اس لیے ان کے مقابلے میں ان بعض معاصر حضرات کی رائے ناقابلِ قبول ٹھہرتی ہے، چنانچہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے شاگرد اور عرب کے جلیل القدر عالم شیخ عطیہ محمد سالم رحمہ اللہ تعالٰی نے مذکورہ حدیث پر کلام کرتے ہوئے اس کو معتبر قرار دیا ہے اور جن متأخرین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ان کی تردید ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ امت کے ائمہ محدثین کرام نے اس کے راویوں کی توثیق فرمائی ہے، وہ ہمارے لیے حجت اور کافی ہیں۔ ان کی تفصیلی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
⬅️ روایت: روایت مشہور ہے کہ:’’جو شخص مسجد نبوی میں چالیس نمازیں اس طرح ادا کرے کہ اس سے ایک بھی نماز فوت نہ ہو تو اُس کے لیے آگ سے برأت اور عذاب سے نجات لکھ دی جاتی ہے اور وہ نفاق سے بری ہوجاتا ہے۔‘‘
⬅️ روایت کی تحقیق:
مذکورہ حدیث ’’مسند احمد‘‘ میں موجود ہے، ملاحظہ فرمائیں:
☀ مسند الإمام أحمد:
12583- حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِن الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنِ نُبَيْطِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَن النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَنَجَاةٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ. (مُسْنَدُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ)
⬅️ ’’مسند احمد‘‘ کی مذکورہ حدیث کے رایوں کو متعدد جلیل القدر محدثین کرام نے ثقہ اور معتبر قرار دیا ہے، ان میں سے کوئی بھی راوی ایسا نہیں ہے جو کہ ثقہ نہ ہو، اس لیے یہ حدیث معتبر ہے۔
تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
1️⃣ امام محدث ہیثمی رحمہ اللہ تعالٰی نے مذکورہ حدیث کے رایوں کو ثقہ قرار دیا ہے:
☀ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:
5878- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا تَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَبَرَاءَةٌ مِنَ الْعَذَابِ وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ».
قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي «الْأَوْسَطِ»، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
(بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعِينَ صَلَاةً)
2️⃣ امام منذری رحمہ اللہ تعالٰی نے بھی ’’مسند احمد‘‘ کی مذکورہ حدیث کے رایوں کو ثقہ اور معتبر قرار دیا ہے:
☀ الترغيب والترهيب:
1832- عَن أنس بن مَالك رَضِي الله عَنهُ عَن النَّبِي ﷺ قَالَ: «من صلى فِي مَسْجِدي أَرْبَعِينَ صَلَاة لَا تفوته صَلَاة كتبت لَهُ بَرَاءَة من النَّار وَبَرَاءَة من الْعَذَاب وبرىء من النِّفَاق».
رَوَاهُ أَحْمد وَرُوَاته رُوَاة الصَّحِيح، وَالطَّبَرَانِيّ فِي «الْأَوْسَط». (كتاب الْحَج)
3️⃣ امام محدث احمد قسطلانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی ’’مسند احمد‘‘ کی مذکورہ حدیث کے رایوں کو ثقہ اور معتبر قرار دیا ہے:
☀ إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:
وروى أحمد بإسناد رواته الصحيح من حديث أنس رفعه: «من صلّى في مسجدي أربعين صلاة لا تفوته صلاة كتبت له براءة من النار، وبراءة من العذاب، وبراءة من النفاق».
(كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة)
📿 وضاحتیں اور فوائد:
1️⃣ ماقبل میں متعدد جلیل القدر ائمہ محدثین کی تصریحات سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے کہ مذکورہ حدیث کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں، ان میں سے کوئی بھی راوی غیر معتبر نہیں ہے۔ اس وجہ سے مذکورہ حدیث معتبر اور قابلِ قبول ہے۔ اس لیے مذکورہ حدیث میں بیان کی گئی فضیلت کا اعتقاد رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا بالکل درست ہے۔
2️⃣ بعض حضرات نے مذکورہ حدیث کے ایک راوی نُبَیط بن عمر پر جرح کی ہے، لیکن یہ جرح معتبر نہیں، اس لیے کہ نبیط بن عمر معتبر اور ثقہ راوی ہیں جیسا کہ ماقبل میں تین محدثین کرام کی تصریح سے بھی ان کا ثقہ ہونا معلوم ہوتا ہے، مزید یہ کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی ان کو ثقات میں شمار کیا ہے اور امام ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تعجیل المنفعۃ‘‘ میں امام ابن حبان کا حوالہ دے کر ان کے ثقہ ہونے کو قبول کیا ہے۔
☀ تعجيل المنفعة بزوائد رجال الأئمة الأربعة:
1100- نبيط بن عمر عَن أنس وَعنهُ عبد الرَّحْمَن بن أبي الرِّجَال، ذكره بن حبَان فِي «الثِّقَات».
3️⃣ مذکورہ حدیث کو شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالٰی اور دیگر بعض معاصر حضرات نے غیر معتبر قرار دیا ہے تو اس حوالے سے عرض یہ ہے کہ ماقبل سے یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ متعدد جلیل القدر محدثین نے اس حدیث کو معتبر قرار دیا ہے، اس لیے ان کے مقابلے میں ان بعض معاصر حضرات کی رائے ناقابلِ قبول ٹھہرتی ہے، چنانچہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے شاگرد اور عرب کے جلیل القدر عالم شیخ عطیہ محمد سالم رحمہ اللہ تعالٰی نے مذکورہ حدیث پر کلام کرتے ہوئے اس کو معتبر قرار دیا ہے اور جن متأخرین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ان کی تردید ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ امت کے ائمہ محدثین کرام نے اس کے راویوں کی توثیق فرمائی ہے، وہ ہمارے لیے حجت اور کافی ہیں۔ ان کی تفصیلی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
❤3
☀ تتمة أضواء البيان للشيخ عطية محمد سالم:
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا (18)
الْمَبْحَثُ السَّابِعُ: مَوْضُوعُ الْأَرْبَعِينَ صَلَاةً، وَهُوَ مِنْ جِهَةٍ خَاصٌّ بِالْمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ، وَمِنْ جِهَةٍ عَامٌّ فِي كُلِّ مَسْجِدٍ، وَلَكِنْ لَا بِأَرْبَعِينَ صَلَاةً بَلْ بِأَرْبَعِينَ يَوْمًا. أَمَّا مَا يَخُصُّ الْمَسْجِدَ النَّبَوِيَّ فَقَدْ جَاءَ فِي حَدِيثِ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا تَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ وَنَجَاةٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ».
قَالَ الْمُنْذِرِيُّ فِي «التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ»: رُوَاتُهُ رُوَاةُ الصَّحِيحِ. أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. وَفِي «مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ»: رِجَالُهُ ثِقَاتٌ. ...... وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ النَّاسِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بِرِوَايَتَيْنِ: أَمَّا الْأُولَى: فَبِسَبَبِ نُبَيْطِ بْنِ عُمَرَ. وَأَمَّا الثَّانِيَةُ: فَمِنْ جِهَةِ الرَّفْعِ وَالْوَقْفِ. وَقَدْ تَتَبَّعَ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالتَّدْقِيقِ فِي السَّنَدِ، وَأَثْبَتَ صِحَّةَ الْأَوَّلِ، وَحُكْمَ الرَّفْعِ لِلثَّانِي. وَقَدْ أَفْرَدَهُمَا الشَّيْخُ حَمَّادٌ الْأَنْصَارِيُّ بِرِسَالَةٍ رَدَّ فِيهَا عَلَى بَعْضِ مَنْ تَكَلَّمَ فِيهِمَا مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ. نُوجِزُ كَلَامَهُ فِي الْآتِي: قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ فِي «تَعْجِيلِ الْمَنْفَعَةِ فِي زَوَائِدِ الْأَرْبَعَةِ»: نُبَيْطُ بْنُ عُمَرَ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي «الثِّقَاتِ». فَاجْتَمَعَ عَلَى تَوْثِيقِ نُبَيْطٍ كُلٌّ مِنَ ابْنِ حِبَّانَ وَالْمُنْذِرِيِّ وَالْبَيْهَقِيِّ وَابْنِ حَجَرٍ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ مِنْ أَئِمَّةِ هَذَا الشَّأْنِ. فَمِنْ ثَمَّ لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَطْعَنَ وَلَا أَنْ يُضَعِّفَ مَنْ وَثَّقَهُ أَئِمَّةٌ مُعْتَبَرُونَ، وَلَمْ يُخَالِفْهُمْ إِمَامٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيلِ. وَكَفَى مَنْ ذَكَرُوا مِنْ أَئِمَّةِ هَذَا الشَّأْنِ قُدْوَةً. ذَلِكَ وَلَوْ فُرِضَ وَقُدِّرَ جَدَلًا أَنَّهُ فِي السَّنَدِ مَقَالٌ فَإِنَّ أَئِمَّةَ الْحَدِيثِ لَا يَمْنَعُونَ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي الْحَدِيثِ حَلَالٌ أَوْ حَرَامٌ أَوْ عَقِيدَةٌ، بَلْ كَانَ بَابُ فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ لَا يَمْنَعُونَ الْعَمَلَ بِهِ؛ لِأَنَّ بَابَ الْفَضَائِلِ لَا يُشَدَّدُ فِيهِ هَذَا التَّشْدِيدَ. وَنَقَلَ السُّيُوطِيُّ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ أَحْمَدَ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ.
▪️ماقبل کی تفصیل اور تحقیق سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے کہ مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنے کی فضیلت پر مشتمل مذکورہ حدیث معتبر اور قابلِ قبول ہے، اور اس کے غیر معتبر ہونے کی کوئی بھی معتبر دلیل اور معقول وجہ موجود نہیں۔
مفتی مبین الرحمٰن
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا (18)
الْمَبْحَثُ السَّابِعُ: مَوْضُوعُ الْأَرْبَعِينَ صَلَاةً، وَهُوَ مِنْ جِهَةٍ خَاصٌّ بِالْمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ، وَمِنْ جِهَةٍ عَامٌّ فِي كُلِّ مَسْجِدٍ، وَلَكِنْ لَا بِأَرْبَعِينَ صَلَاةً بَلْ بِأَرْبَعِينَ يَوْمًا. أَمَّا مَا يَخُصُّ الْمَسْجِدَ النَّبَوِيَّ فَقَدْ جَاءَ فِي حَدِيثِ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا تَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ وَنَجَاةٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ».
قَالَ الْمُنْذِرِيُّ فِي «التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ»: رُوَاتُهُ رُوَاةُ الصَّحِيحِ. أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. وَفِي «مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ»: رِجَالُهُ ثِقَاتٌ. ...... وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ النَّاسِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بِرِوَايَتَيْنِ: أَمَّا الْأُولَى: فَبِسَبَبِ نُبَيْطِ بْنِ عُمَرَ. وَأَمَّا الثَّانِيَةُ: فَمِنْ جِهَةِ الرَّفْعِ وَالْوَقْفِ. وَقَدْ تَتَبَّعَ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالتَّدْقِيقِ فِي السَّنَدِ، وَأَثْبَتَ صِحَّةَ الْأَوَّلِ، وَحُكْمَ الرَّفْعِ لِلثَّانِي. وَقَدْ أَفْرَدَهُمَا الشَّيْخُ حَمَّادٌ الْأَنْصَارِيُّ بِرِسَالَةٍ رَدَّ فِيهَا عَلَى بَعْضِ مَنْ تَكَلَّمَ فِيهِمَا مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ. نُوجِزُ كَلَامَهُ فِي الْآتِي: قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ فِي «تَعْجِيلِ الْمَنْفَعَةِ فِي زَوَائِدِ الْأَرْبَعَةِ»: نُبَيْطُ بْنُ عُمَرَ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي «الثِّقَاتِ». فَاجْتَمَعَ عَلَى تَوْثِيقِ نُبَيْطٍ كُلٌّ مِنَ ابْنِ حِبَّانَ وَالْمُنْذِرِيِّ وَالْبَيْهَقِيِّ وَابْنِ حَجَرٍ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ مِنْ أَئِمَّةِ هَذَا الشَّأْنِ. فَمِنْ ثَمَّ لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَطْعَنَ وَلَا أَنْ يُضَعِّفَ مَنْ وَثَّقَهُ أَئِمَّةٌ مُعْتَبَرُونَ، وَلَمْ يُخَالِفْهُمْ إِمَامٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيلِ. وَكَفَى مَنْ ذَكَرُوا مِنْ أَئِمَّةِ هَذَا الشَّأْنِ قُدْوَةً. ذَلِكَ وَلَوْ فُرِضَ وَقُدِّرَ جَدَلًا أَنَّهُ فِي السَّنَدِ مَقَالٌ فَإِنَّ أَئِمَّةَ الْحَدِيثِ لَا يَمْنَعُونَ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي الْحَدِيثِ حَلَالٌ أَوْ حَرَامٌ أَوْ عَقِيدَةٌ، بَلْ كَانَ بَابُ فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ لَا يَمْنَعُونَ الْعَمَلَ بِهِ؛ لِأَنَّ بَابَ الْفَضَائِلِ لَا يُشَدَّدُ فِيهِ هَذَا التَّشْدِيدَ. وَنَقَلَ السُّيُوطِيُّ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ أَحْمَدَ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ.
▪️ماقبل کی تفصیل اور تحقیق سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے کہ مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنے کی فضیلت پر مشتمل مذکورہ حدیث معتبر اور قابلِ قبول ہے، اور اس کے غیر معتبر ہونے کی کوئی بھی معتبر دلیل اور معقول وجہ موجود نہیں۔
مفتی مبین الرحمٰن
❤3
کشکول ایپ: 15 لائن حافظی قرآن والے متوجہ ہوں
کشکول اردو ایپ میں قرآن کریم Pdf کی شکل میں تینوں نسخے دیے گئے ہیں، 13 لائن بھی، 15 لائن بھی اور 16 لائن بھی ۔۔۔۔۔۔ قرآن کریم کے یہ تینوں نسخے سادہ طرز کے دیے گئے تھے اور کوالٹی بھی کافی کم رکھ کر دی گئی تھی
تاہم صارفین کا بڑے دنوں سے اصرار تھا کہ Pdf قرآن کریم کے نسخے تجوید والے دیے جائیں، عوامی زبان میں رنگین والے قرآن کریم کے نسخے دیے جانے چاہئیں، اس حکم کی تعمیل میں پچھلے کافی دنوں سے کام جاری تھا اور آج پہلے نمبر پر 15 لائن حافظی قرآن کریم رنگین والا صارفین کیلیے جاری کردیا گیا ہے، ان شاء اللہ دیگر نسخے بھی جلدی تبدیل کیے جائیں گے
واضح رہے کہ موجودہ 15 لائن رنگین والے قرآن کریم کی کوالٹی پہلے کے مقابلے میں تھوڑی زیادہ رکھی گئی ہے، اس تناظر میں پارے ڈاؤنلوڈ ہونے میں قدرے وقت لگ سکتا ہے، اگر آپ کے یہاں نیٹ کی رفتار کم ہو تو فجر کے بعد کا وقت پارے ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے سب سے اچھا رہے گا
۔
کشکول اردو ایپ
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.arshad.rahihijaziurducalender
کشکول اردو ایپ میں قرآن کریم Pdf کی شکل میں تینوں نسخے دیے گئے ہیں، 13 لائن بھی، 15 لائن بھی اور 16 لائن بھی ۔۔۔۔۔۔ قرآن کریم کے یہ تینوں نسخے سادہ طرز کے دیے گئے تھے اور کوالٹی بھی کافی کم رکھ کر دی گئی تھی
تاہم صارفین کا بڑے دنوں سے اصرار تھا کہ Pdf قرآن کریم کے نسخے تجوید والے دیے جائیں، عوامی زبان میں رنگین والے قرآن کریم کے نسخے دیے جانے چاہئیں، اس حکم کی تعمیل میں پچھلے کافی دنوں سے کام جاری تھا اور آج پہلے نمبر پر 15 لائن حافظی قرآن کریم رنگین والا صارفین کیلیے جاری کردیا گیا ہے، ان شاء اللہ دیگر نسخے بھی جلدی تبدیل کیے جائیں گے
واضح رہے کہ موجودہ 15 لائن رنگین والے قرآن کریم کی کوالٹی پہلے کے مقابلے میں تھوڑی زیادہ رکھی گئی ہے، اس تناظر میں پارے ڈاؤنلوڈ ہونے میں قدرے وقت لگ سکتا ہے، اگر آپ کے یہاں نیٹ کی رفتار کم ہو تو فجر کے بعد کا وقت پارے ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے سب سے اچھا رہے گا
۔
کشکول اردو ایپ
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.arshad.rahihijaziurducalender
❤18👍1
سرسید اور علماء
عاصم افتخار
برصغیر میں جدیدیت اور روایت کی کشمکش کو عموماً چند ظاہری اختلافات تک محدود کر دیا گیا ہے۔ استعماری دور میں جدیدیت کے علم بردار سرسید احمد خان اور ان کے مقابل علماء (علماءِ دیوبند، علماءِ خیرآباد اور دیگر سنی علماء) کے درمیان ہونے والی گفتگو کا تجزیہ زیادہ تر صحافیانہ اور ادیبانہ انداز میں کیا جاتا ہےاور اس اختلاف کو چند ظاہری مسائل میں سمیٹ دیا جاتا ہے، مثلاً یہ کہ سرسید مسلمانوں کو انگریزی اور جدید تعلیم دلانا چاہتے تھے، جبکہ علماء اس تعلیم کے مخالف تھے۔
بظاہر معاملہ اتنا ہی سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن جب اس پوری کشمکش کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اختلاف کی نوعیت یہ تھی ہی نہیں بلکہ وہ کچھ اور تھی اور زیادہ بنیادی تھی۔ اصل مسئلہ انگریزوں کے لائے ہویے فنون کے حصول کا نہیں تھا، بلکہ مسلمانوں کی علمیاتی اور اخلاقی بنیادوں کا تھا۔ سرسید ان بنیادوں کو یورپ میں پیدا ہوئی روشن فکری (جہالت خالصہ) کے مطابق تبدیل کرنا چاہتے تھے، جبکہ علماء ان کی اس تبدیلی کے مخالف تھے۔
روشن فکری کے دور میں یورپ میں پیدا ہونے والے فنون کے ساتھ جو الحادی قدریں اور غیر اسلامی بنیادیں شامل ہو گئی تھی نہ وہ تنقید و تنقیح کے مراحل سے گزر کر واضح ہوسکی تھی تھا اور نہ ان فنون و علوم سے الگ ہوئی تھی۔ نتیجتاً ان علوم و فنون کے پڑھنے کا ایک لازمی نتیجہ اپنے علمی اور اخلاقی بنیادوں کو ڈھا دینا ہوتا تھا۔ پھر یہ کہ مسلم دنیا پر ہم جہتی بحران طاری ہو چکا تھا جس وجہ سے اتنا وقت بھی نہیں مل پا رہا تھا کہ کلامی سطح پر جا کر گہرائی سے چیزوں کی تنقیح اور توضیح جلد سے جلد ممکن ہو سکے۔
موجودہ دور میں بندہ کا تجزیہ یہ ہے کہ سرسید احمد خان کے فکری اثرات ہمارے معاشرے میں نہایت گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔ یہاں تک کہ ان لوگوں کی علمیاتی اور اخلاقی بنیادیں بھی بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہیں جو بظاہر سرسید کو درست نہیں جانتے ( فارغین مدارس کی بڑی تعداد اور ان سے منسلک افراد)۔
کیا آج مسلمانوں کی علمیات مغربی جدیدیت کی بنیاد پر نہیں کھڑی ہے؟ کیا زیادہ تر مسلمان مغربی اداروں سے ہی "علم" حاصل نہیں کرتے ہیں (بندہ کا بھی مدت طویلہ یہیں تعلیمی سفر میں گزرا ہے) اور ان کے بنیاد کو دلوں جان سے تسلیم نہیں کرتے ہیں (اس سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں)؟ کیا ہمارے بہت سے فارغینِ مدارس کی علمی بنیاد بھی غیر شعوری طور پر جدیدیت کے مفروضات پر استوار نہیں ہو چکی ہے؟ (جس کا ایک ظاہری اثر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اس پوری بحث میں علماء کے موقف کو جب رکھنے کی بات آتی ہے تو اکثر فارغین مدارس معذرت خواہانہ رویہ اپنا کر تاویل کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اصل مسئلے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے علماء کے موقف کو لے کر خلجان میں مبتلا رہتے ہیں )
عاصم افتخار
برصغیر میں جدیدیت اور روایت کی کشمکش کو عموماً چند ظاہری اختلافات تک محدود کر دیا گیا ہے۔ استعماری دور میں جدیدیت کے علم بردار سرسید احمد خان اور ان کے مقابل علماء (علماءِ دیوبند، علماءِ خیرآباد اور دیگر سنی علماء) کے درمیان ہونے والی گفتگو کا تجزیہ زیادہ تر صحافیانہ اور ادیبانہ انداز میں کیا جاتا ہےاور اس اختلاف کو چند ظاہری مسائل میں سمیٹ دیا جاتا ہے، مثلاً یہ کہ سرسید مسلمانوں کو انگریزی اور جدید تعلیم دلانا چاہتے تھے، جبکہ علماء اس تعلیم کے مخالف تھے۔
بظاہر معاملہ اتنا ہی سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن جب اس پوری کشمکش کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اختلاف کی نوعیت یہ تھی ہی نہیں بلکہ وہ کچھ اور تھی اور زیادہ بنیادی تھی۔ اصل مسئلہ انگریزوں کے لائے ہویے فنون کے حصول کا نہیں تھا، بلکہ مسلمانوں کی علمیاتی اور اخلاقی بنیادوں کا تھا۔ سرسید ان بنیادوں کو یورپ میں پیدا ہوئی روشن فکری (جہالت خالصہ) کے مطابق تبدیل کرنا چاہتے تھے، جبکہ علماء ان کی اس تبدیلی کے مخالف تھے۔
روشن فکری کے دور میں یورپ میں پیدا ہونے والے فنون کے ساتھ جو الحادی قدریں اور غیر اسلامی بنیادیں شامل ہو گئی تھی نہ وہ تنقید و تنقیح کے مراحل سے گزر کر واضح ہوسکی تھی تھا اور نہ ان فنون و علوم سے الگ ہوئی تھی۔ نتیجتاً ان علوم و فنون کے پڑھنے کا ایک لازمی نتیجہ اپنے علمی اور اخلاقی بنیادوں کو ڈھا دینا ہوتا تھا۔ پھر یہ کہ مسلم دنیا پر ہم جہتی بحران طاری ہو چکا تھا جس وجہ سے اتنا وقت بھی نہیں مل پا رہا تھا کہ کلامی سطح پر جا کر گہرائی سے چیزوں کی تنقیح اور توضیح جلد سے جلد ممکن ہو سکے۔
موجودہ دور میں بندہ کا تجزیہ یہ ہے کہ سرسید احمد خان کے فکری اثرات ہمارے معاشرے میں نہایت گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔ یہاں تک کہ ان لوگوں کی علمیاتی اور اخلاقی بنیادیں بھی بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہیں جو بظاہر سرسید کو درست نہیں جانتے ( فارغین مدارس کی بڑی تعداد اور ان سے منسلک افراد)۔
کیا آج مسلمانوں کی علمیات مغربی جدیدیت کی بنیاد پر نہیں کھڑی ہے؟ کیا زیادہ تر مسلمان مغربی اداروں سے ہی "علم" حاصل نہیں کرتے ہیں (بندہ کا بھی مدت طویلہ یہیں تعلیمی سفر میں گزرا ہے) اور ان کے بنیاد کو دلوں جان سے تسلیم نہیں کرتے ہیں (اس سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں)؟ کیا ہمارے بہت سے فارغینِ مدارس کی علمی بنیاد بھی غیر شعوری طور پر جدیدیت کے مفروضات پر استوار نہیں ہو چکی ہے؟ (جس کا ایک ظاہری اثر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اس پوری بحث میں علماء کے موقف کو جب رکھنے کی بات آتی ہے تو اکثر فارغین مدارس معذرت خواہانہ رویہ اپنا کر تاویل کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اصل مسئلے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے علماء کے موقف کو لے کر خلجان میں مبتلا رہتے ہیں )
❤11