⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
✔
26.2K subscribers
4.23K photos
223 videos
590 files
3.3K links
Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights.

AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1


https://twitter.com/AIMPLB_Official

https://www.youtube.com/AIMPLB_Official

http://fb.me/AIMPLB.Official

Wtsp:8788657771
Download Telegram
Khitab e juma 11 september 2026.pdf
2.4 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 341▪️

🗓 برائے تاریخ: 11 ستمبر 2026 مطابق , 28 ربیع الاول 1448

🎯 ​دورِ آزمائش میں استقامت، حکمت اور جراتِ عمل کا نبوی منہج

📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/10059
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464

🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
👍7❤4
*کلکٹریٹ سہارنپور کی مسجد کے انہدام کے پس پشت فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کا منصوبہ تھا؟*

*آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد کا سہارنپور کا دورہ، قانونی و انتظامی صورتِ حال کا جائزہ*

_نئی دہلی: 9/ ستمبر 2026_
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سہارنپور کا دورہ کرکے کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع قدیم مسجد کے انہدام کے واقعے کا جائزہ لیا۔ وفد نے مسجد کے انہدام کے پسِ پشت قانونی و انتظامی صورتِ حال، زمین کی ملکیت، وقف کی حیثیت اور آئندہ کی قانونی حکمتِ عملی پر متعلقہ افراد اور وکلاء سے تفصیلی مشاورت کی۔

وفد میں بورڈ کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی ، ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ڈاکٹر عبد المالک مغیثی، ایڈووکیٹ محمد زاہد فلاحی اور محمد عارف اخلاق شامل تھے۔

*وکلاء اور مسجد کے ذمہ داران سے ملاقاتیں*

وفد نے ضلعی سطح پر مقدمے کی پیروی کرنے والے وکلاء، ہائی کورٹ کے سینئر وکلاء، مسجد کے متولی ایڈووکیٹ تنویر احمد اور شہر قاضی ندیم اختر سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں مسجد کے انہدام، زمین کی ملکیت، وقف رجسٹریشن، انتظامیہ کی کارروائی اور آئندہ کی ممکنہ قانونی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

مشاورت کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ مسجد کی تعمیر والی زمین کی ملکیت اور قانونی حیثیت کا باقاعدہ تعین ضروری ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق مسجد وقف بورڈ میں رجسٹرڈ بتائی جاتی ہے، تاہم اس کی حتمی تصدیق متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات سے ہونا باقی ہے۔ وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زمین کی ملکیت سے متعلق تمام دستاویزات اور وقف ریکارڈ آئندہ قانونی کارروائی میں عدالت کے سامنے پیش کئے جائیں۔

*انہدام کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ*

دستیاب معلومات کے مطابق 16/ جولائی کو حکمِ امتناعی حاصل کیا گیا تھا، جو 24 /جولائی کو جاری ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ 2/ ستمبر کو مذکورہ حکمِ امتناعی واپس لئے جانے یا منسوخ کئے جانے کے بعد مسجد کو منہدم کردیا گیا۔

وفد نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ دستیاب معلومات کی حد تک بظاہر کسی مجاز عدالت نے مسجد منہدم کرنے کا براہِ راست حکم جاری نہیں کیا تھا۔ تاہم وفد نے واضح کیا کہ معاملے کی حتمی قانونی حیثیت متعلقہ عدالتی ریکارڈ، سرکاری دستاویزات اور دیگر شواہد کے مکمل جائزے کے بعد ہی متعین کی جاسکتی ہے۔

وفد کے مطابق انتظامی کارروائی کا جائزہ قانونی طریقۂ کار، حقوقِ ملکیت، قانونِ وقف اور آئینی تحفظات کی روشنی میں لیا جانا چاہئے۔ یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ آیا متعلقہ حکام نے اپنے قانونی دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا یا اختیارات کا نامناسب استعمال کیا۔

*ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ*

وفد کی مشاورت میں انتظامیہ کی کارروائی کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے لئے نئی قانونی کارروائی شروع کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔ قانونی ٹیم مسجد کی حیثیت، زمین کی ملکیت، وقف ریکارڈ، متعلقہ عدالتی احکامات اور انتظامی کارروائی سے متعلق تمام دستیاب دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کرے گی۔

ممکنہ قانونی مطالبات میں، حقائق اور قانون کی روشنی میں، اسی مقام پر مسجد کی دوبارہ تعمیر، ذمہ دار افسران یا دیگر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی، شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست، زمین کی ملکیت کا تعین اور وقف دستاویزات کا جائزہ شامل ہوسکتا ہے۔ ان مطالبات پر حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت یا مجاز اتھارٹی کرے گی۔

*فوری قانونی معاونت کے لئے مستقل سیل کی تجویز*

شہر قاضی ندیم اختر نے وفد کو بتایا کہ مسجد کے انہدام کی رات چیف جسٹس آف انڈیا، صدرِ جمہوریہ، گورنر اور دیگر متعلقہ حکام کو فوری طور پر ای میل ارسال کی گئی تھی۔ ان پیغامات میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ عدالتی کارروائی کے دوران انتظامیہ مسجد کو منہدم کرسکتی ہے۔

انہوں نے مستقبل میں مساجد، وقف املاک اور مذہبی اداروں سے متعلق ایسے معاملات میں فوری قانونی معاونت فراہم کرنے کے لئے بورڈ کے تحت ایک مستقل سیل، پلیٹ فارم اور ہیلپ لائن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

*پُرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم*

بورڈ کی جانب سے ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس اور مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی نے میڈیا سے گفتگو کی۔ وفد نے شہر قاضی، مسجد کے متولی اور دیگر متأثرہ افراد کو ہر ممکن قانونی، اخلاقی اور تنظیمی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ‌ معاملے کو پُرامن، آئینی اور قانونی ذرائع سے آگے بڑھایا جائے گا اور مسجد و وقف املاک کے حقوق کے تحفظ کے لئے تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کئے جائیں گے۔

✍️ جاری کردہ:
*ڈاکٹر محمد وقار الدین لطیفی*
_آفس سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ_

https://www.facebook.com/share/p/19NdZxW8pG/
❤10
*​📢 جنتتر منتر پر عظیم الشان مظاہرہ!*

​ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ، مساجد و مدارس کے دفاع اور ناانصافیوں کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ۔

​🗓️ تاریخ: *17 ستمبر 2026 (بروز جمعرات)*
​⏰ وقت: *دوپہر 2:00 بجے*
​📍 مقام: *جنتتر منتر، دہلی*

_​کثیر تعداد میں شرکت فرما کر دینی حمیت اور ملی غیرت کا ثبوت دیں۔_

👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://www.facebook.com/share/p/1DYTYmJtnV/
❤2
*📢 जंतर-मंतर पर विशाल विरोध प्रदर्शन!*

​देश में अल्पसंख्यकों, विशेष रूप से मुसलमानों के अधिकारों की रक्षा, मस्जिदों और मदरसों के बचाव तथा अन्याय के खिलाफ ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड के नेतृत्व में विरोध प्रदर्शन।

​🗓️ दिनांक: *17 सितंबर 2026 (गुरुवार)*
​⏰ समय: *दोपहर 2:00 बजे*
​📍 स्थान: *जंतर-मंतर, दिल्ली*

_​बड़ी संख्या में शामिल होकर अपनी एकजुटता और सामाजिक चेतना का परिचय दें।_

👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼
https://www.facebook.com/share/p/1EeaqhmLGj/
❤1
مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات کا حل بلڈوز نہیں، بلکہ قانون، عدالت اور آئین ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضہ ہے کہ ریاست ہر شہری اور ہر مذہبی مقام کیساتھ یکساں قانونی معیار اختیار کرے۔

✍️ ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس صاحب
ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤1
Khitab e juma 18 sept 2026.pdf
2 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 342▪️

🗓 برائے تاریخ: 18 ستمبر 2026 مطابق , 05 ربیع الثانی 1448

🎯 ​ نماز اور ہماری زندگی کی ترجیحات

📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/10072
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️_ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:_
http://wa.me/+918657219464

🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤7👍2
*مسلم پرسنل لا بورڈ کا دھرنا ملتوی*

ہمیں نہایت افسوس اور دکھ کے ساتھ دہلی، ملحقہ ریاستوں اور ملک کے مختلف حصوں سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کل جنتر منتر، نئی دہلی میں منعقد ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کو مطلع کرنا پڑ رہا ہے کہ دہلی پولیس نے دھرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

پولیس نے اجازت نہ دینے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ دہلی اور ملک کی مختلف ریاستوں سے بڑی تعداد میں لوگ مظاہرے میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔ حالاں کہ ہم تین مرتبہ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے جا کر ایس ایچ او اور ڈپٹی کمشنر سے یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ مظاہرے میں مقررہ تعداد سے زیادہ افراد شریک نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود پولیس ہر بار یہی کہتی رہی کہ مظاہرے کی خبر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہی ہے۔

جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کرنا ہمارا دستوری اور قانونی حق ہے۔ پولیس کی جانب سے اجازت نہ دینے کے اس طرزِ عمل کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔

تاہم، موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر ہم دہلی اور دیگر ریاستوں سے مظاہرے میں شرکت کے لیے آنے والے تمام افراد سے بادلِ نخواستہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اب دھرنے میں شرکت کے لیے آنے کی زحمت نہ کریں۔ آپ کو جو زحمت اور دشواری پیش آئی، اس کے لیے ہم تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔

ان شاء اللہ، آنے والے دنوں میں دہلی میں کسی دوسرے مقام پر ایک بڑا پروگرام منعقد کیا جائے گا، جس کی تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔

ایک بار پھر آپ سب سے معذرت خواہ ہیں۔

والسلام
*ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس*
ترجمان و کنوینر، مہم
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤8
*मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड का धरना स्थगित*

​हमें अत्यंत खेद और दुख के साथ दिल्ली, पड़ोसी राज्यों और देश के विभिन्न हिस्सों से ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड के कल जंतर-मंतर, नई दिल्ली में आयोजित होने वाले धरने/प्रदर्शन में शामिल होने आ रहे लोगों को सूचित करना पड़ रहा है कि दिल्ली पुलिस ने धरने की अनुमति देने से इनकार कर दिया है।
​पुलिस ने अनुमति न देने का कारण यह बताया है कि दिल्ली और देश के विभिन्न राज्यों से बड़ी संख्या में लोग प्रदर्शन में भाग लेने आ रहे हैं। हालांकि, हम तीन बार पार्लियामेंट स्ट्रीट थाने जाकर एसएचओ (SHO) और डिप्टी कमिश्नर को यह आश्वासन दे चुके थे कि प्रदर्शन में तय संख्या से अधिक लोग शामिल नहीं होंगे। इसके बावजूद पुलिस हर बार यही कहती रही कि प्रदर्शन की खबर सोशल मीडिया पर बड़े पैमाने पर वायरल हो रही है।
​जंतर-मंतर पर शांतिपूर्ण प्रदर्शन करना हमारा संवैधानिक और कानूनी अधिकार है। पुलिस द्वारा अनुमति न दिए जाने के इस रवैये की हम कड़े शब्दों में निंदा करते हैं।
​मौजूदा स्थिति को देखते हुए हम दिल्ली और अन्य राज्यों से प्रदर्शन में शामिल होने आ रहे सभी लोगों से भारी मन से यह अपील करते हैं कि वे अब धरने में आने का कष्ट न करें। आपको जो परेशानी और असुविधा हुई, उसके लिए हम तहे दिल से क्षमाप्रार्थी हैं।
​इंशाअल्लाह, आने वाले दिनों में दिल्ली में किसी अन्य स्थान पर एक बड़ा कार्यक्रम आयोजित किया जाएगा, जिसका विवरण उचित समय पर साझा किया जाएगा।
​एक बार फिर आप सभी से क्षमा चाहते हैं।

*डॉ. सैयद कासिम रसूल इलियास*
प्रवक्ता एवं संयोजक, अभियान
ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड
❤9
جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت سے انکار اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن ہے

’’دستور بچاؤ، ملک بچاؤ‘‘ تحریک حسبِ معمول جاری رہے گی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی:17/ ستمبر 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دہلی پولیس کی جانب سے بورڈ کے مجوزہ احتجاجی دھرنے کو آخری وقت میں اجازت دینے سے انکار پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج اور اظہارِ رائے شہریوں کا بنیادی اور دستوری حق ہے، جسے انتظامی فیصلوں کے ذریعے سلب نہیں کیا جانا چاہئے۔
بورڈ کے ترجمان اور ’’دستور بچاؤ، ملک بچاؤ تحریک" کے کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے گزشتہ دس دنوں کے دوران تین مرتبہ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کا دورہ کرکے ایس ایچ او اور ڈی سی پی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ دھرنے میں مقررہ تعداد سے زیادہ افراد شریک نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود دھرنے سے صرف ایک روز قبل یہ کہتے ہوئے اجازت منسوخ کردی گئی کہ پولیس کو بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کا خدشہ ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو یک طرفہ اور غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی جنتر منتر پر بورڈ کی جانب سے متعدد پُرامن مظاہرے منعقد ہوئے ہیں اور تمام مقررہ ضوابط کی پابندی کی گئی ہے۔
بورڈ نے واضح کیا کہ یہ دھرنا ’’دستور بچاؤ، ملک بچاؤ‘‘ ملک گیر تحریک کا پہلا مرحلہ تھا۔ اس تحریک کے ذریعے ملک کے محروم و مظلوم طبقات، اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی پامالی، ماب لنچنگ کے واقعات، جان و مال اور عزت و آبرو پر حملوں، مساجد، مدارس اور مسلم آبادیوں کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں، مذہبی و ثقافتی آزادی پر قدغن، مسلم پرسنل لا کے تحفظ اور یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں، نیز وندے ماترم کو لازمی قرار دینے جیسے مسائل پر عوامی توجہ مبذول کرانا مقصود ہے۔
بورڈ نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے 2029 تک بی جے پی زیرِ اقتدار تمام ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کے بیان نے ملک میں مذہبی و ثقافتی تنوع اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ مسلمان اپنے پرسنل لا کے تحفظ کو اپنے مذہبی اور دستوری حقوق کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہندوستان مختلف مذاہب، تہذیبوں اور زبانوں کا ملک ہے اور آئین اس تنوع کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ بورڈ کے مطابق اس تنوع کو متأثر کرنے والی کوئی بھی پالیسی سنجیدہ دستوری سوالات پیدا کرتی ہے۔
بورڈ نے وندے ماترم کے تمام بندوں کو لازمی قرار دینے کی کوشش پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حب الوطنی کے اظہار کے لئے کسی مخصوص نغمے کی مکمل ادائیگی کو لازمی قرار دینا مذہبی آزادی اور شہری آزادیوں کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔
بورڈ نے ملک کی موجودہ معاشی و سماجی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غربت، مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل اور خواتین کے خلاف جرائم جیسے بنیادی مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا کر مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوعات کی طرف مبذول کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ ’’دستور بچاؤ، ملک بچاؤ‘‘ تحریک کا مقصد عوام کو ان کے دستوری حقوق کے بارے میں بیدار کرنا، جمہوری اور سیکولر اقدار کا تحفظ کرنا اور ملک میں انصاف، آزادی، مساوات، انسانی وقار اور بھائی چارے کے ماحول کو مضبوط بنانا ہے۔ جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت نہ ملنے کے باوجود یہ ملک گیر تحریک اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہے گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے:
* مولانا عبیداللہ خان اعظمی، نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
* جناب سید سعادت اللہ حسینی، نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و امیر جماعت اسلامی ہند
* مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
* مولانا محمد فضل الرحیم مجددی، جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
* مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی، سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
* مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، جنرل سکریٹری، جمعیت علماء ہند
* ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ترجمان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و کنوینر، ’’دستور بچاؤ، ملک بچاؤ‘‘ تحریک
❤4