khitab e juma 08 August 2025.pdf
1.4 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 286 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 08 اگست 2025 مطابق 13 صفر المظفر 1447
🎯 حضور ﷺ کی تین اہم نصیحتیں!
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9519
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 08 اگست 2025 مطابق 13 صفر المظفر 1447
🎯 حضور ﷺ کی تین اہم نصیحتیں!
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9519
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤17👍3
*_🪀 مختصر پیغام/ Short Video 🪀_*
*🎯 اسلام ایسا مذہب نہیں ہے۔۔۔۔۔۔*
*_🎤 حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم_*
*🕰️ Duration: 48 sec :دورانیہ🕰️*
👇👇🏽👇👇🏽👇👇🏽
https://youtube.com/shorts/LnZpuW0CgCY?si=YhXsKRFEn5fq1eCy
*🎯 ISLAM AISA MAZHAB NAHI HAI....*
*_🎤 Hazrat Maulana Sayyed Arshad Madani Sahab D.B_*
_Is 📬 paigham ko zyada se zyada ♻️ aam karen._
*🎯 اسلام ایسا مذہب نہیں ہے۔۔۔۔۔۔*
*_🎤 حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم_*
*🕰️ Duration: 48 sec :دورانیہ🕰️*
👇👇🏽👇👇🏽👇👇🏽
https://youtube.com/shorts/LnZpuW0CgCY?si=YhXsKRFEn5fq1eCy
*🎯 ISLAM AISA MAZHAB NAHI HAI....*
*_🎤 Hazrat Maulana Sayyed Arshad Madani Sahab D.B_*
_Is 📬 paigham ko zyada se zyada ♻️ aam karen._
YouTube
Maulana Syed Arshad Madani Sahab | ISLAM AISA MAZHAB NAHI HAI #islamicshorts #islamicreels
Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.
❤5
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
*🪀 مختصر پیغام / Short Video 🪀*
*🎯 انسانیت کی خدمت* | *🎤 مولانا تنویر ہاشمی صاحب* (رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
*🕰️ Duration: 60 sec :دورانیہ🕰️*
👇🏽👇🏻👇🏽👇🏻
https://youtube.com/shorts/DMwAU_HS1tw?feature=share
*🎯 INSANIYAT KI MADAD* | *_🎤 Maulana Tanveer Hashmi Sahab_* (Member AIMPLB)
_اس مختصر کلپ کو ضرور 🎧سنیں اور زیادہ سے زیادہ ♻️عام کریں:_
*🎯 انسانیت کی خدمت* | *🎤 مولانا تنویر ہاشمی صاحب* (رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
*🕰️ Duration: 60 sec :دورانیہ🕰️*
👇🏽👇🏻👇🏽👇🏻
https://youtube.com/shorts/DMwAU_HS1tw?feature=share
*🎯 INSANIYAT KI MADAD* | *_🎤 Maulana Tanveer Hashmi Sahab_* (Member AIMPLB)
_اس مختصر کلپ کو ضرور 🎧سنیں اور زیادہ سے زیادہ ♻️عام کریں:_
❤6
khitab e juma 15 August 2025.pdf
920.4 KB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 287 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 15 اگست 2025 مطابق 20 صفر المظفر 1447
🎯 اسلام کا تصور آزادی
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9524
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 15 اگست 2025 مطابق 20 صفر المظفر 1447
🎯 اسلام کا تصور آزادی
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9524
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤6👍2
*محبوب نگر میں تفہیم شریعت ورکشاپ*—
https://www.facebook.com/share/p/16XE3vsrvz/
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تفہیم شریعت کمیٹی کے زیر اہتمام ریاست تلنگانہ کے مشہور شہر محبوب نگر میں مؤرخہ 10/اگست روز اتوار کو ایک شاندار علمی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ یہ پروگرام صدرِ بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی زید مجدہ کے ایما پر ریاست تلنگانہ وآندھرا پردیش میں ماہِ رواں اگست کے لیے ترتیب دیے گئے تفہیم شریعت کے پروگراموں میں شامل تھا، اس علمی نشست میں وکلاء، دانشوران، ائمہ، علما اور خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی، خواتین کے لیے علیحدہ اور باوقار انتظام موجود تھا، جس سے ان کی شمولیت بھرپور اور مؤثر رہی، انتظام وانصرام کے فرائض حضرت مولانا نعیم کوثر رشادی صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
ورکشاپ کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا پھر نعتیہ کلام اور خطبہ استقبالیہ پیش کیا گیا سب سے پہلے محاضرے کیلئے مولانا ڈاکٹر محمد اعظم ندوی، استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کو دعوت دی گئ انہوں نے اپنے بصیرت افروز محاضرے میں "نفقہ مطلقہ" اور "اسلام کا نظام میراث" جیسے اہم اور حساس موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے عقل ووحی کے باہمی تعلق کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا، ان کے مطابق عقل انسان کے لیے ایک روشن چراغ ہے جو زندگی کی راہوں میں سمت متعین کرتا ہے، مگر اس کی روشنی محدود ہے، جب وحی کا آفتاب طلوع ہوتا ہے تو عقل محض معاون اور رہنما کے طور پر باقی رہتی ہے، اصول سازی کا اختیار اسے حاصل نہیں، شریعت کا فریم ورک عقل کے لیے ایک محفوظ کنارہ ہے، جس کے بغیر یہ بھٹک سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ جو لوگ شریعت کو جامد کہتے ہیں وہ اس کے ابدی اور آفاقی مزاج سے ناواقف ہیں، کیونکہ اس کی بنیاد ایسی حقیقتوں پر ہے جو زمان ومکان کی قید سے آزاد ہیں، البتہ ان کے اطلاق میں لچک اور وسعت موجود ہے، عقل کا صحیح مصرف شریعت کے مقاصد واحکام کی حکمتوں کو سمجھنا ہے، نہ کہ قطعی احکام پر بے جا اعتراضات کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کا نظام میراث سب سے جامع ہے، اس میں ترکہ کی بنیاد ذمہ داریوں کے تناسب اور مرحوم سے قرابت کو بنایا گیا ہے، مساوات نہیں، انصاف کے تقاضوں کا خیال رکھا گیا ہے، عورتوں کو صرف چار حالتوں میں ان کے برابر درجہ کے مردوں سے کم حصہ ملتا ہے، بیٹی، بہن، ماں اور بیوی کی صورت میں، بقیہ صورتوں میں کہیں مردوں کے برابر، کبھی مردوں سے بڑھ کر، کبھی مردوں کو محروم کرکے ان کو حصہ دیا جاتا ہے، اسی طرح ان کے خورد ونوش، بود وباش، لباس وپوشاک، آرائش وزیبائش، علاج معالجہ، حسب ضرورت سفر اور سیر وسیاحت کی بنیادی ضروریات کے اخراجات سب مردوں کے ذمہ ہیں، جب کہ مردوں کو بالغ ہونے کے بعد خود اپنا خرچ اٹھانا ہوتا ہے چنانچہ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کو کچھ زیادہ ملے تاکہ وہ خود پر اور اپنے زیر سایہ پروان چڑھنے والے افراد پر خرچ کرسکے۔
جہاں تک یتیم پوتے اور پوتیوں کے ترکے سے محروم کرنے کا اسلام پر الزام لگایا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض وراثت کے انہیں مذکورہ اصولوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہے، بیٹے پوتوں سے قریب تر ہیں، ان کے موجود ہوتے ہوئے نیچے کی نسل میں حصہ نہیں جائے گا، ایسا میراث کی تقسیم میں بے شمار مقامات پر ہوتا ہے، صرف اس کو عنوان بنانا صحیح نہیں، وراثت کی بنیاد یتیم اور بیوہ یا مستحق ہونے پر نہیں، یا محتاجی پر نہیں، مزید یہ کہ ممکن ہے یتیم پوتا زیادہ مالدار ہو اور بیٹے کم ، تو کیا ان کی محتاجی کو دیکھتے ہوئے ان کو زیادہ دیا جائے گا، ایسا نہیں، اس لیے یتیم پوتوں کو ہبہ، وصیت اور مختلف لوگوں کے ذمہ حسب مراتب واجب الادا نفقہ سے اس کی تلافی کی جائے گی، ترکہ میں ان کا حصہ متعین کرکے نہیں۔
نفقہ مطلقہ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مطلقہ عورت کو عدت کے بعد نفقہ دلانے کی بات کرنا گویا ایک اجنبی مرد پر اجنبی عورت کا خرچ لازم کرنا ہے جو کہ ظلم ہے، محمد احمد خان بنام شاہ بانو بیگم کیس 1985 میں اندور کی رہنے والی 65 سالہ شاہ بانو نے جب سپریم کورٹ سے اسی طرح کا فیصلہ حاصل کرلیا تھا تو مسلمانوں نے شریعت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے اس وقت کی کانگریس گورنمنٹ سے باضابطہ The Muslim Women (Protection of Rights on Divorce) Act, 1986 کے نام سے پارلیمانی قانون منظور کر الیا تھا، جس میں عدت کے بعد مطلقہ عورت کے نفقہ کی ذمہ داری اس کے وارث بننے والے افراد پر درجہ بدرجہ رکھی گئی تھی اور اگر ان میں کوئی موجود نہ ہو تو ریاستی وقف بورڈ پر، لیکن افسوس کہ عدالتوں میں ان کی غلط تشریح کی گئی اور آج تک مطلقہ کا نفقہ عدالتوں سے سابق شوہروں پر لازم کیا جاتا ہے، اس کا سب سے بہتر حل تو یہی ہے کہ مسلم سماج میں مطلقہ عورت کے دوسرے نکاح کی راہ ہم وار ہو یا کم از کم اس کے زیر پرورش سابق شوہر کے چھوٹے بچوں کے اخراجات جب ان کے والد پر لازم کئے جائیں تو ان
عقل ووحی، تعدد ازدواج اور وقف ترمیمی ایکٹ زیر بحثhttps://www.facebook.com/share/p/16XE3vsrvz/
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تفہیم شریعت کمیٹی کے زیر اہتمام ریاست تلنگانہ کے مشہور شہر محبوب نگر میں مؤرخہ 10/اگست روز اتوار کو ایک شاندار علمی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ یہ پروگرام صدرِ بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی زید مجدہ کے ایما پر ریاست تلنگانہ وآندھرا پردیش میں ماہِ رواں اگست کے لیے ترتیب دیے گئے تفہیم شریعت کے پروگراموں میں شامل تھا، اس علمی نشست میں وکلاء، دانشوران، ائمہ، علما اور خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی، خواتین کے لیے علیحدہ اور باوقار انتظام موجود تھا، جس سے ان کی شمولیت بھرپور اور مؤثر رہی، انتظام وانصرام کے فرائض حضرت مولانا نعیم کوثر رشادی صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
ورکشاپ کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا پھر نعتیہ کلام اور خطبہ استقبالیہ پیش کیا گیا سب سے پہلے محاضرے کیلئے مولانا ڈاکٹر محمد اعظم ندوی، استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کو دعوت دی گئ انہوں نے اپنے بصیرت افروز محاضرے میں "نفقہ مطلقہ" اور "اسلام کا نظام میراث" جیسے اہم اور حساس موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے عقل ووحی کے باہمی تعلق کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا، ان کے مطابق عقل انسان کے لیے ایک روشن چراغ ہے جو زندگی کی راہوں میں سمت متعین کرتا ہے، مگر اس کی روشنی محدود ہے، جب وحی کا آفتاب طلوع ہوتا ہے تو عقل محض معاون اور رہنما کے طور پر باقی رہتی ہے، اصول سازی کا اختیار اسے حاصل نہیں، شریعت کا فریم ورک عقل کے لیے ایک محفوظ کنارہ ہے، جس کے بغیر یہ بھٹک سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ جو لوگ شریعت کو جامد کہتے ہیں وہ اس کے ابدی اور آفاقی مزاج سے ناواقف ہیں، کیونکہ اس کی بنیاد ایسی حقیقتوں پر ہے جو زمان ومکان کی قید سے آزاد ہیں، البتہ ان کے اطلاق میں لچک اور وسعت موجود ہے، عقل کا صحیح مصرف شریعت کے مقاصد واحکام کی حکمتوں کو سمجھنا ہے، نہ کہ قطعی احکام پر بے جا اعتراضات کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کا نظام میراث سب سے جامع ہے، اس میں ترکہ کی بنیاد ذمہ داریوں کے تناسب اور مرحوم سے قرابت کو بنایا گیا ہے، مساوات نہیں، انصاف کے تقاضوں کا خیال رکھا گیا ہے، عورتوں کو صرف چار حالتوں میں ان کے برابر درجہ کے مردوں سے کم حصہ ملتا ہے، بیٹی، بہن، ماں اور بیوی کی صورت میں، بقیہ صورتوں میں کہیں مردوں کے برابر، کبھی مردوں سے بڑھ کر، کبھی مردوں کو محروم کرکے ان کو حصہ دیا جاتا ہے، اسی طرح ان کے خورد ونوش، بود وباش، لباس وپوشاک، آرائش وزیبائش، علاج معالجہ، حسب ضرورت سفر اور سیر وسیاحت کی بنیادی ضروریات کے اخراجات سب مردوں کے ذمہ ہیں، جب کہ مردوں کو بالغ ہونے کے بعد خود اپنا خرچ اٹھانا ہوتا ہے چنانچہ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کو کچھ زیادہ ملے تاکہ وہ خود پر اور اپنے زیر سایہ پروان چڑھنے والے افراد پر خرچ کرسکے۔
جہاں تک یتیم پوتے اور پوتیوں کے ترکے سے محروم کرنے کا اسلام پر الزام لگایا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض وراثت کے انہیں مذکورہ اصولوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہے، بیٹے پوتوں سے قریب تر ہیں، ان کے موجود ہوتے ہوئے نیچے کی نسل میں حصہ نہیں جائے گا، ایسا میراث کی تقسیم میں بے شمار مقامات پر ہوتا ہے، صرف اس کو عنوان بنانا صحیح نہیں، وراثت کی بنیاد یتیم اور بیوہ یا مستحق ہونے پر نہیں، یا محتاجی پر نہیں، مزید یہ کہ ممکن ہے یتیم پوتا زیادہ مالدار ہو اور بیٹے کم ، تو کیا ان کی محتاجی کو دیکھتے ہوئے ان کو زیادہ دیا جائے گا، ایسا نہیں، اس لیے یتیم پوتوں کو ہبہ، وصیت اور مختلف لوگوں کے ذمہ حسب مراتب واجب الادا نفقہ سے اس کی تلافی کی جائے گی، ترکہ میں ان کا حصہ متعین کرکے نہیں۔
نفقہ مطلقہ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مطلقہ عورت کو عدت کے بعد نفقہ دلانے کی بات کرنا گویا ایک اجنبی مرد پر اجنبی عورت کا خرچ لازم کرنا ہے جو کہ ظلم ہے، محمد احمد خان بنام شاہ بانو بیگم کیس 1985 میں اندور کی رہنے والی 65 سالہ شاہ بانو نے جب سپریم کورٹ سے اسی طرح کا فیصلہ حاصل کرلیا تھا تو مسلمانوں نے شریعت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے اس وقت کی کانگریس گورنمنٹ سے باضابطہ The Muslim Women (Protection of Rights on Divorce) Act, 1986 کے نام سے پارلیمانی قانون منظور کر الیا تھا، جس میں عدت کے بعد مطلقہ عورت کے نفقہ کی ذمہ داری اس کے وارث بننے والے افراد پر درجہ بدرجہ رکھی گئی تھی اور اگر ان میں کوئی موجود نہ ہو تو ریاستی وقف بورڈ پر، لیکن افسوس کہ عدالتوں میں ان کی غلط تشریح کی گئی اور آج تک مطلقہ کا نفقہ عدالتوں سے سابق شوہروں پر لازم کیا جاتا ہے، اس کا سب سے بہتر حل تو یہی ہے کہ مسلم سماج میں مطلقہ عورت کے دوسرے نکاح کی راہ ہم وار ہو یا کم از کم اس کے زیر پرورش سابق شوہر کے چھوٹے بچوں کے اخراجات جب ان کے والد پر لازم کئے جائیں تو ان
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤6
کی ماں کو بھی معقول معاوضہ ان کی پرورش کا دیا جائے۔
مولانا محمد اسعد ندوی، آرگنائزر تفہیم شریعت کمیٹی، نے یکساں سول کوڈ (UCC) کے موضوع پر مدلل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے، جب بنیادی حقوق اور رہنما اصول میں تصادم ہو تو بنیادی حقوق کو فوقیت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ یہ مستقل قانون کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ رہنما اصول کی حیثیت محض رہنمائی تک محدود ہے، یکساں سول کوڈ دراصل مذہبی قوانین سے دستبرداری کا نام ہے، جو مسلمان کسی قیمت پر گوارا نہیں کرسکتے، کیونکہ ان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی رہنمائی وسیع اور آفاقی دینی تعلیمات سے ہوتی ہے۔
معروف عالم دین مولانا مفتی محمد عمر عابدین قاسمی مدنی نے اپنے خطاب میں دو نہایت اہم عنوانات "تعدد ازدواج" اور "وقف: اسلامی نقطۂ نظر اور موجودہ وقف ترمیمی ایکٹ 2025" پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ تعدد ازدواج پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکم شرعی سماجی ضرورت کے پیش نظر رکھا گیا ہے، جیسا کہ کووڈ کے دور میں گجرات اور ملک کے کئی علاقوں میں نو عمر خواتین بیوہ ہو گئیں، جسکی وجہ سے مردوں کی تعداد کم اور خواتین کی تعداد زیادہ ہوگئی، ایسی صورتِ حال میں مالی امداد کے ساتھ ساتھ تعدد ازدواج ان خواتین کی زندگی کی تعمیرِ نو کا بہترین نسخہ ہے۔
وقف ترمیمی ایکٹ 2025 پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قانون اوقافی جائیداد کی حفاظت کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والا ہے، اس میں شامل شقیں جیسے واقف کے لیے کم از کم پانچ سال پرانا مسلمان ہونا، وقف تنازعات میں کلکٹر کو بااختیار بنانا، اور لیمیٹیشن ایکٹ میں اوقافی جائیداد کو شامل کرنا یا وقف بائی یوزر کو کالعدم قرار دینا—یہ سب اوقاف کی اصل روح اور حیثیت کو مجروح کرنے والے اقدامات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون سے تحفظ نہیں بلکہ سرکاری قبضے کا راستہ ہموار ہوگیاہے۔
یہ ورکشاپ یونک فنکشن پیالس، رائچور روڈ، محبوب نگر میں منعقد ہوا۔ شرکاء نے مذکورہ موضوعات پر سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور حصہ لیا اور مقررین سے رہنمائی حاصل کی۔ پروگرام دعا پر اختتام پذیر ہوا، جبکہ حاضرین نے اس نوع کے علمی اور فکری اجتماعات کے سلسلے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مولانا محمد اسعد ندوی، آرگنائزر تفہیم شریعت کمیٹی، نے یکساں سول کوڈ (UCC) کے موضوع پر مدلل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے، جب بنیادی حقوق اور رہنما اصول میں تصادم ہو تو بنیادی حقوق کو فوقیت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ یہ مستقل قانون کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ رہنما اصول کی حیثیت محض رہنمائی تک محدود ہے، یکساں سول کوڈ دراصل مذہبی قوانین سے دستبرداری کا نام ہے، جو مسلمان کسی قیمت پر گوارا نہیں کرسکتے، کیونکہ ان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی رہنمائی وسیع اور آفاقی دینی تعلیمات سے ہوتی ہے۔
معروف عالم دین مولانا مفتی محمد عمر عابدین قاسمی مدنی نے اپنے خطاب میں دو نہایت اہم عنوانات "تعدد ازدواج" اور "وقف: اسلامی نقطۂ نظر اور موجودہ وقف ترمیمی ایکٹ 2025" پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ تعدد ازدواج پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکم شرعی سماجی ضرورت کے پیش نظر رکھا گیا ہے، جیسا کہ کووڈ کے دور میں گجرات اور ملک کے کئی علاقوں میں نو عمر خواتین بیوہ ہو گئیں، جسکی وجہ سے مردوں کی تعداد کم اور خواتین کی تعداد زیادہ ہوگئی، ایسی صورتِ حال میں مالی امداد کے ساتھ ساتھ تعدد ازدواج ان خواتین کی زندگی کی تعمیرِ نو کا بہترین نسخہ ہے۔
وقف ترمیمی ایکٹ 2025 پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قانون اوقافی جائیداد کی حفاظت کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والا ہے، اس میں شامل شقیں جیسے واقف کے لیے کم از کم پانچ سال پرانا مسلمان ہونا، وقف تنازعات میں کلکٹر کو بااختیار بنانا، اور لیمیٹیشن ایکٹ میں اوقافی جائیداد کو شامل کرنا یا وقف بائی یوزر کو کالعدم قرار دینا—یہ سب اوقاف کی اصل روح اور حیثیت کو مجروح کرنے والے اقدامات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون سے تحفظ نہیں بلکہ سرکاری قبضے کا راستہ ہموار ہوگیاہے۔
یہ ورکشاپ یونک فنکشن پیالس، رائچور روڈ، محبوب نگر میں منعقد ہوا۔ شرکاء نے مذکورہ موضوعات پر سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور حصہ لیا اور مقررین سے رہنمائی حاصل کی۔ پروگرام دعا پر اختتام پذیر ہوا، جبکہ حاضرین نے اس نوع کے علمی اور فکری اجتماعات کے سلسلے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
❤4
*Heartfelt greetings of Independence Day to all citizens of India!*
Today is a very special day for all of us.
Let us light the lamp of remembrance for our freedom fighters, and pledge to continue striving to protect our nation from hatred, prejudice, and discrimination — building a prosperous, peaceful, and exemplary country.
#IndependenceDay
#IndependenceDayIndia
♻️👍♻️👍♻️👍♻️👍♻️
https://x.com/AIMPLB_Official/status/1956202085189607652?t=_5P6pW8RihWq1qBrUIdwHA&s=19
Today is a very special day for all of us.
Let us light the lamp of remembrance for our freedom fighters, and pledge to continue striving to protect our nation from hatred, prejudice, and discrimination — building a prosperous, peaceful, and exemplary country.
#IndependenceDay
#IndependenceDayIndia
♻️👍♻️👍♻️👍♻️👍♻️
https://x.com/AIMPLB_Official/status/1956202085189607652?t=_5P6pW8RihWq1qBrUIdwHA&s=19
X (formerly Twitter)
All India Muslim Personal Law Board (@AIMPLB_Official) on X
Heartfelt greetings of Independence Day to all citizens of India!
Today is a very special day for all of us.
Let us light the lamp of remembrance for our freedom fighters, and pledge to continue striving to protect our nation from hatred, prejudice, and…
Today is a very special day for all of us.
Let us light the lamp of remembrance for our freedom fighters, and pledge to continue striving to protect our nation from hatred, prejudice, and…
❤5
*بھارت کے سب باشندوں کو یوم آزادی مبارک ہو!*
آج کادن ہم سب کیلئے بہت خاص ھے ، آئیے کہ آج مجاہدین آزادی کی یادوں کی شمع جلائیں ، اور ملک کو نفرت ، تعصب ، اور بھید بھاؤ سے بچاکر ایک خوشحال ، پرامن ، اور مثالی ملک بنانے کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کریں !!!
#IndependenceDay #IndependenceDayIndia
♻️👍♻️👍♻️👍♻️👍♻️
https://x.com/AIMPLB_Official/status/1956199945876463710?t=W_eQtv2VIiD0l0uimSy-rw&s=19
آج کادن ہم سب کیلئے بہت خاص ھے ، آئیے کہ آج مجاہدین آزادی کی یادوں کی شمع جلائیں ، اور ملک کو نفرت ، تعصب ، اور بھید بھاؤ سے بچاکر ایک خوشحال ، پرامن ، اور مثالی ملک بنانے کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کریں !!!
#IndependenceDay #IndependenceDayIndia
♻️👍♻️👍♻️👍♻️👍♻️
https://x.com/AIMPLB_Official/status/1956199945876463710?t=W_eQtv2VIiD0l0uimSy-rw&s=19
X (formerly Twitter)
All India Muslim Personal Law Board (@AIMPLB_Official) on X
بھارت کے سب باشندوں کو یوم آزادی مبارک ہو!
آج کادن ہم سب کیلئے بہت خاص ھے ، آئیے کہ آج مجاہدین آزادی کی یادوں کی شمع جلائیں ، اور ملک کو نفرت ، تعصب ، اور بھید بھاؤ سے بچاکر ایک خوشحال ، پرامن ، اور مثالی ملک بنانے کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کریں !!!
#IndependenceDay
آج کادن ہم سب کیلئے بہت خاص ھے ، آئیے کہ آج مجاہدین آزادی کی یادوں کی شمع جلائیں ، اور ملک کو نفرت ، تعصب ، اور بھید بھاؤ سے بچاکر ایک خوشحال ، پرامن ، اور مثالی ملک بنانے کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کریں !!!
#IndependenceDay
❤2
*भारत के सभी नागरिकों को स्वतंत्रता दिवस की हार्दिक शुभकामनाएँ!*
आज का दिन हम सभी के लिए बेहद खास है। आइए, आज हम स्वतंत्रता सेनानियों की यादों के दीप जलाएँ और देश को नफरत, पूर्वाग्रह और भेदभाव से बचाकर एक खुशहाल, शांतिपूर्ण और आदर्श राष्ट्र बनाने का संकल्प लें।
#IndependenceDay
#IndependenceDayIndia
♻️👍♻️👍♻️👍♻️👍♻️
https://x.com/AIMPLB_Official/status/1956200679363764333?t=iMhIfvGgwoW8BlL5DNds4w&s=19
आज का दिन हम सभी के लिए बेहद खास है। आइए, आज हम स्वतंत्रता सेनानियों की यादों के दीप जलाएँ और देश को नफरत, पूर्वाग्रह और भेदभाव से बचाकर एक खुशहाल, शांतिपूर्ण और आदर्श राष्ट्र बनाने का संकल्प लें।
#IndependenceDay
#IndependenceDayIndia
♻️👍♻️👍♻️👍♻️👍♻️
https://x.com/AIMPLB_Official/status/1956200679363764333?t=iMhIfvGgwoW8BlL5DNds4w&s=19
X (formerly Twitter)
All India Muslim Personal Law Board (@AIMPLB_Official) on X
भारत के सभी नागरिकों को स्वतंत्रता दिवस की हार्दिक शुभकामनाएँ!
आज का दिन हम सभी के लिए बेहद खास है। आइए, आज हम स्वतंत्रता सेनानियों की यादों के दीप जलाएँ और देश को नफरत, पूर्वाग्रह और भेदभाव से बचाकर एक खुशहाल, शांतिपूर्ण और आदर्श राष्ट्र बनाने का संकल्प…
आज का दिन हम सभी के लिए बेहद खास है। आइए, आज हम स्वतंत्रता सेनानियों की यादों के दीप जलाएँ और देश को नफरत, पूर्वाग्रह और भेदभाव से बचाकर एक खुशहाल, शांतिपूर्ण और आदर्श राष्ट्र बनाने का संकल्प…
❤7
*امید پورٹل کو زیر سماعت مقدمہ کے دوران معطل کیا جائے*
نئی دہلی: 16 اگست 2025
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کرکے درخواست کی ہے کہ فاضل عدالت ایک حکم صادر کرے، جس کے ذریعہ مرکزی حکومت( جواب دہندہ نمبر 1) کو ہدایت دی جائے کہ وہ موجودہ رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران ’’امید پورٹل‘‘ کومعطل کرے یا جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو واپس لے۔
مزیدبرآں جواب دہندہ نمبر 1 کسی ریاستی وقف بورڈ یا کسی دیگر قانونی ادارے کی طرف سے اس پر کوئی کاروائی نہ کرے۔ درخواست میں آگے کہا گیا کہ ' مزید جو بھی ضروری ریلیف یا ہدایات مناسب ہوں وہ بھی صادر کی جائیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قومی ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ بورڈ نے اس سے قبل متعدد بار مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کیس کی سماعت کے دوران امید پورٹل پر اوقافی املاک کو رجسٹرڈ کروانے کی غرض سے ریاستی وقف بورڈوں یا دیگر قانونی اداروں کے ذریعہ متولیان پر دباؤ نہ بنائے نیز اس پورٹل کے نوٹیفیکیشن کو فوری طور پر واپس لے۔ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کا منظور کردہ وقف قانون اس وقت عدالت عظمی میں زیر سماعت ہے، تمام مسلمانوں، مسلم تنظیموں نے اسے مسترد کردیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں، حقوق انسانی کی تنظیموں، سول سوسائٹی موومنٹ اور سکھ و عیسائی برادری نیز دیگر تمام اقلیتوں نے بھی اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ مگر افسوس کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ 6 جون سے امید پورٹل کو نہ صرف لاگو کردیا بلکہ اس میں اوقافی املاک کے اندراج کو لازم بھی قرار دے دیا، بصورت دیگر اوقاف املاک اپنا وجود کھودیں گی۔ بورڈ کے مطابق مرکزی حکومت کی یہ پوری کاروائی ایک غیر قانونی حرکت اور واضح طور پر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے عدالت عظمی میں وقف قانون 2025 کو چیلنج کرتے ہوئے کورٹ سے استدعا کی تھی کہ وہ اس ایکٹ کو غیر دستوری اور دستور کی دفعات 14, 15, 19, 25 اور 29 سے متصادم قرار دے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کو محفوظ کرلیا ہے جو کسی بھی وقت آسکتا ہے۔
بورڈ نے اپنے پٹیشن میں آگے کہا 'امید پورٹل ' جو متنازعہ قانون پر مبنی ہے، کا معزز عدالت کے روبرو زیر سماعت رٹ پٹیشن کے دوران معطل کیا جانا ضروری ہے۔ یہ پورٹل مختلف تفصیلات اور لازمی دستاویزات جمع کرانے کو لازم قرار دیتا ہے، جس سے زیر سماعت رٹ پٹیشنوں میں مانگی گئیں عبوری راحت اور چیلنج شدہ دفعات متأثر ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر الیاس نے اپنے بیان میں آگے کہا کہ بورڈ نے اپنی عرضداشت میں امید پورٹل سے متعلق متعدد قانونی خامیوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور ان قانونی، آئینی و دیگر مسائل کے پیش نظر بورڈ نے عدالت عظمی سے استدعا کی کہ مذکورہ بالا دلائل کی بنیاد پرپورٹل کے عمل کو معطل کیا جائے یا بطور متبادل مرکزی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ زیر سماعت رٹ پٹیشن کے دوران نوٹیفیکیشن کو واپس لے لیا جائے۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقار الدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/165ChR5WkP/
سپریم کورٹ سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی درخواستنئی دہلی: 16 اگست 2025
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کرکے درخواست کی ہے کہ فاضل عدالت ایک حکم صادر کرے، جس کے ذریعہ مرکزی حکومت( جواب دہندہ نمبر 1) کو ہدایت دی جائے کہ وہ موجودہ رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران ’’امید پورٹل‘‘ کومعطل کرے یا جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو واپس لے۔
مزیدبرآں جواب دہندہ نمبر 1 کسی ریاستی وقف بورڈ یا کسی دیگر قانونی ادارے کی طرف سے اس پر کوئی کاروائی نہ کرے۔ درخواست میں آگے کہا گیا کہ ' مزید جو بھی ضروری ریلیف یا ہدایات مناسب ہوں وہ بھی صادر کی جائیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قومی ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ بورڈ نے اس سے قبل متعدد بار مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کیس کی سماعت کے دوران امید پورٹل پر اوقافی املاک کو رجسٹرڈ کروانے کی غرض سے ریاستی وقف بورڈوں یا دیگر قانونی اداروں کے ذریعہ متولیان پر دباؤ نہ بنائے نیز اس پورٹل کے نوٹیفیکیشن کو فوری طور پر واپس لے۔ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کا منظور کردہ وقف قانون اس وقت عدالت عظمی میں زیر سماعت ہے، تمام مسلمانوں، مسلم تنظیموں نے اسے مسترد کردیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں، حقوق انسانی کی تنظیموں، سول سوسائٹی موومنٹ اور سکھ و عیسائی برادری نیز دیگر تمام اقلیتوں نے بھی اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ مگر افسوس کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ 6 جون سے امید پورٹل کو نہ صرف لاگو کردیا بلکہ اس میں اوقافی املاک کے اندراج کو لازم بھی قرار دے دیا، بصورت دیگر اوقاف املاک اپنا وجود کھودیں گی۔ بورڈ کے مطابق مرکزی حکومت کی یہ پوری کاروائی ایک غیر قانونی حرکت اور واضح طور پر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے عدالت عظمی میں وقف قانون 2025 کو چیلنج کرتے ہوئے کورٹ سے استدعا کی تھی کہ وہ اس ایکٹ کو غیر دستوری اور دستور کی دفعات 14, 15, 19, 25 اور 29 سے متصادم قرار دے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کو محفوظ کرلیا ہے جو کسی بھی وقت آسکتا ہے۔
بورڈ نے اپنے پٹیشن میں آگے کہا 'امید پورٹل ' جو متنازعہ قانون پر مبنی ہے، کا معزز عدالت کے روبرو زیر سماعت رٹ پٹیشن کے دوران معطل کیا جانا ضروری ہے۔ یہ پورٹل مختلف تفصیلات اور لازمی دستاویزات جمع کرانے کو لازم قرار دیتا ہے، جس سے زیر سماعت رٹ پٹیشنوں میں مانگی گئیں عبوری راحت اور چیلنج شدہ دفعات متأثر ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر الیاس نے اپنے بیان میں آگے کہا کہ بورڈ نے اپنی عرضداشت میں امید پورٹل سے متعلق متعدد قانونی خامیوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور ان قانونی، آئینی و دیگر مسائل کے پیش نظر بورڈ نے عدالت عظمی سے استدعا کی کہ مذکورہ بالا دلائل کی بنیاد پرپورٹل کے عمل کو معطل کیا جائے یا بطور متبادل مرکزی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ زیر سماعت رٹ پٹیشن کے دوران نوٹیفیکیشن کو واپس لے لیا جائے۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقار الدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/165ChR5WkP/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤7