khitab e juma 12 September 2025.pdf
979.7 KB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 291 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 12 ستمبر 2025 مطابق 19 ربیع الاول 1447
🎯 نبی کریمﷺ کی حیات مقدسہ کے چند اہم واقعات اور ان کے پیغامات (حصہ دوم)
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9583
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 12 ستمبر 2025 مطابق 19 ربیع الاول 1447
🎯 نبی کریمﷺ کی حیات مقدسہ کے چند اہم واقعات اور ان کے پیغامات (حصہ دوم)
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9583
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤17👍1
*📣 آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے عہدیداران وارکان اور تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں!*
السلام علیکم ورحمة اللہ و بركاتہ
سپریم کورٹ نے مؤرخہ: ۱۵ ستمبر کو وقف قانون ۲۰۲۵ سے متعلق مقدمہ کا فیصلہ سنانا طے کیا ہے، یہ نازک اور بہت اہم وقت ہے، آپ حضرات کے علم میں ہے کہ بورڈ نے اس سلسلے میں ہر طرح کی کاوشیں کی ہیں، چھوٹے بڑے جلسے کئے ہیں، پریس کانفرنسیں کی ہیں، بتی گل کرنے، کالی پٹی باندھنے اور ہیومن چین نکالنے کا اہتمام کیا ہے، اور غیر مسلم بھائیوں کو بھی اس تحریک میں شامل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ لیگل کوششیں بھی جاری ہیں، اس سلسلے میں ملک کے بہترین لائرز (Lawyers) کی مدد حاصل کی گئی ہے، اور اُن کی مؤثر اور مدلل بحث کے نتیجہ میں اس قانون کی کم از کم تین دفعات کو فی الحال کورٹ نے ملتوی رکھا ہے، اب کورٹ اس سلسلے میں اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے، بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ اصل فیصلہ زمین پر نہیں آسمان پر ہوتا ہے، اور جو بی نتیجہ آتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے مشیت سے آتا ہے۔
لہذا تمام مسلمانوں اور بالخصوص بورڈ کے تمام عہدیداران ، ارکان اور اس کی ذیلی کمیٹیوں کے ممبران سے درخواست ہے کہ وہ آج سے ۱۵ ستمبر تک خصوصی طور پر نماز حاجت پڑھنے کا اور اس مقدمہ کے مسلمانوں کے حق میں اور شریعت کے مطابق فیصل ہونے کی دعاء کریں، نیز کثرت سے درود شریف اور "حسبنا الله ونعم الوكيل" پڑھیں اور اللہ کے دربار میں رجوع ہوں ، تمام مسلمان اس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں، مرد بھی عورتیں بھی، بڑے بھی بچے بھی، نیز مسجدوں میں بھی دعائیں کی جائیں، اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کی اس دعاء کو اور جو کوششیں کی گئی ہیں ان کو قبول فرمائیں، اور ایک ایسا مناسب فیصلہ آجائے، جو شریعت کے مزاج کے مطابق اور مسلمانوں کو مطمئن کرنے والا ہو۔ والسلامُ علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
*✍️ خالد سیف اللہ رحمانی*
_(خادم: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
🗓️ ۲۰ ربیع الاول ۱۴۴۷
۱۳ ستمبر ۲۰۲۵
https://www.facebook.com/share/p/12F9x7py8KJ/
السلام علیکم ورحمة اللہ و بركاتہ
سپریم کورٹ نے مؤرخہ: ۱۵ ستمبر کو وقف قانون ۲۰۲۵ سے متعلق مقدمہ کا فیصلہ سنانا طے کیا ہے، یہ نازک اور بہت اہم وقت ہے، آپ حضرات کے علم میں ہے کہ بورڈ نے اس سلسلے میں ہر طرح کی کاوشیں کی ہیں، چھوٹے بڑے جلسے کئے ہیں، پریس کانفرنسیں کی ہیں، بتی گل کرنے، کالی پٹی باندھنے اور ہیومن چین نکالنے کا اہتمام کیا ہے، اور غیر مسلم بھائیوں کو بھی اس تحریک میں شامل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ لیگل کوششیں بھی جاری ہیں، اس سلسلے میں ملک کے بہترین لائرز (Lawyers) کی مدد حاصل کی گئی ہے، اور اُن کی مؤثر اور مدلل بحث کے نتیجہ میں اس قانون کی کم از کم تین دفعات کو فی الحال کورٹ نے ملتوی رکھا ہے، اب کورٹ اس سلسلے میں اہم فیصلہ سنانے جا رہا ہے، بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ اصل فیصلہ زمین پر نہیں آسمان پر ہوتا ہے، اور جو بی نتیجہ آتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے مشیت سے آتا ہے۔
لہذا تمام مسلمانوں اور بالخصوص بورڈ کے تمام عہدیداران ، ارکان اور اس کی ذیلی کمیٹیوں کے ممبران سے درخواست ہے کہ وہ آج سے ۱۵ ستمبر تک خصوصی طور پر نماز حاجت پڑھنے کا اور اس مقدمہ کے مسلمانوں کے حق میں اور شریعت کے مطابق فیصل ہونے کی دعاء کریں، نیز کثرت سے درود شریف اور "حسبنا الله ونعم الوكيل" پڑھیں اور اللہ کے دربار میں رجوع ہوں ، تمام مسلمان اس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں، مرد بھی عورتیں بھی، بڑے بھی بچے بھی، نیز مسجدوں میں بھی دعائیں کی جائیں، اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کی اس دعاء کو اور جو کوششیں کی گئی ہیں ان کو قبول فرمائیں، اور ایک ایسا مناسب فیصلہ آجائے، جو شریعت کے مزاج کے مطابق اور مسلمانوں کو مطمئن کرنے والا ہو۔ والسلامُ علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
*✍️ خالد سیف اللہ رحمانی*
_(خادم: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
🗓️ ۲۰ ربیع الاول ۱۴۴۷
۱۳ ستمبر ۲۰۲۵
https://www.facebook.com/share/p/12F9x7py8KJ/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤11👍3
*📣 اہم اعلان*
🎙️ *حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب* _(جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
*📣 AHAM ELAAN*
*🎙️ Hazrat Maulana Mohammad Fazlurraheem Mujaddidi Sahab* (General Secretary AIMPLB)
👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://youtube.com/shorts/d4UndyDl_hk?si=DdEjAuiBF30BQGkC
🎙️ *حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب* _(جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
*📣 AHAM ELAAN*
*🎙️ Hazrat Maulana Mohammad Fazlurraheem Mujaddidi Sahab* (General Secretary AIMPLB)
👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://youtube.com/shorts/d4UndyDl_hk?si=DdEjAuiBF30BQGkC
YouTube
📣 IMPORTANT ANNOUNCEMENT | Maulana Fazlurraheem Mujaddidi Sb | अहम ऐलान #aimplb #muslimpersonallaw
Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.
❤4
*📹 MUST WATCH*
*🎯 افتتاحی خطاب | ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کا مسئلہ*
🎙️ *حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب* _(جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼
https://youtu.be/Vk9xzHTauvM?si=AO7sy9ELhMg15bX_
*📣 Iftetahi Khitab | हिंदुस्तान में मुस्लिम पर्सनल लॉ का मुद्दा*
*🎙️ Hazrat Maulana Mohammad Fazlurraheem Mujaddidi Sahab* (General Secretary AIMPLB)
*🎯 افتتاحی خطاب | ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کا مسئلہ*
🎙️ *حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب* _(جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
▪️مکمل خطاب ضرور 🎧سنیں اور اپنے دوستوں کو بھی بھیجیں۔👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼
https://youtu.be/Vk9xzHTauvM?si=AO7sy9ELhMg15bX_
*📣 Iftetahi Khitab | हिंदुस्तान में मुस्लिम पर्सनल लॉ का मुद्दा*
*🎙️ Hazrat Maulana Mohammad Fazlurraheem Mujaddidi Sahab* (General Secretary AIMPLB)
▪️पूरा ख़िताब ज़रूर 🎧सुनें और अपने दोस्तों को भी भेजें।YouTube
Iftetahi Khitab/ हिंदुस्तान में Muslim Personal Law का मुद्दा/ Maulana Fazlurraheem Mujaddidi Sb
Iftetahi Khitab/ हिंदुस्तान में Muslim Personal Law का मुद्दा/ Maulana Fazlurraheem Mujaddidi Sb
#aimplb #allindiamuslimpersonallawboard #muslimpersonallaw #shariat #sharia #islamiclaw #tripletalaq #halala #namaz #waqf #waqfamendmentact #waqfboard
#aimplb #allindiamuslimpersonallawboard #muslimpersonallaw #shariat #sharia #islamiclaw #tripletalaq #halala #namaz #waqf #waqfamendmentact #waqfboard
*📰 Press Release*
New Delhi | 15 September 2025
In a statement, Board spokesperson Dr. S. Q. R. Ilyas said that although the apex court has stayed certain provisions of the amendment, the Muslim community, the Muslim Personal Law Board, and justice-seeking citizens had expected a stay on all clauses that contradict the fundamental provisions of the Constitution. *“While the Court has granted partial relief, it has not addressed the wider constitutional concerns, which has left us disappointed,”* Dr. Ilyas remarked.
He further said, *‘many crucial provisions, which on the face of it end in the understanding of community at large, are completely arbitrary; have not been a stayed at interim stage. The final decision is yet to come, but the way in prejudiced manner the government functionaries work; the community feels that those provisions not stayed at this stage shall be abused.’*
The Supreme Court’s interim order has provided relief on the following aspects:
1. Protection of Property Rights:
The Court ruled that waqf properties cannot be dispossessed or altered in official records until a final decision is delivered. It stayed the provision that required a government officer’s report to validate waqf ownership, observing that executive authorities cannot decide property rights of citizens.
2. Prevention of Arbitrary Powers:
The Court has stayed the operation of Section 3C of the Act and clarified that a government officer cannot have the unilateral authority to decide who is eligible to create a waqf. It has also stayed the proviso that said that a property would cease to be treated as Waqf during an inquiry ( The judgment directs that no Waqf shall be dispossessed or have its records altered until the matter is fully adjudicated by the Waqf Tribuna
3. Separation of Powers:
The Court emphasized that the revenue officer cannot be entrusted with the work of determination of the title of a property keeping in view the principle of separation of powers.
4. Non-Muslim Membership:
Addressing the grave concerns of external interference in religious management, the Court has directed that the Central Waqf Council shall not consist of more than 4 non-Muslim members (out of 22). Similarly, the State Waqf Boards shall not have more than 3 non-Muslim members (out of 11)
5. Practicing Muslim for 5 years requirement:
The Court has stayed the arbitrary requirement that a person must show or demonstrate that they have been "professing Islam for at least five years" to create a Waqf. This stay will remain in effect until the government frames rules for such determination
The Board, however, maintains that the entire amendment is a deliberate move to weaken and seize waqf properties. It therefore demands the complete repeal of the Waqf (Amendment) Act 2025 and the restoration of the earlier Waqf Act. The refusal to stay the entire Act leaves numerous other harmful provisions in operation, including the prospective de-recognition of 'Waqf by user' and the mandatory requirement of a Waqf deed, which goes against the established tenets of Islamic law.
Dr. Ilyas further announced that the Board’s Save Waqf Campaign will continue with full strength. The second phase of the campaign, launched on 1 September 2025, includes dharnas, demonstrations, waqf marches, memorandums, leadership arrests, roundtable meetings, interfaith conclaves, and press conferences. Nationwide protests will culminate in a massive rally at Ramlila Maidan, Delhi, on 16 November 2025, with participation from across the country.
✍️ Issued by
*Dr. Vaquar Uddin Latifi*
_Office Secretary_
https://www.facebook.com/share/p/1Ci26HsCtV/
New Delhi | 15 September 2025
The All India Muslim Personal Law Board has expressed disappointment over the Supreme Court of India’s interim judgment on the Waqf (Amendment) Act 2025, describing it as incomplete and unsatisfactory.In a statement, Board spokesperson Dr. S. Q. R. Ilyas said that although the apex court has stayed certain provisions of the amendment, the Muslim community, the Muslim Personal Law Board, and justice-seeking citizens had expected a stay on all clauses that contradict the fundamental provisions of the Constitution. *“While the Court has granted partial relief, it has not addressed the wider constitutional concerns, which has left us disappointed,”* Dr. Ilyas remarked.
He further said, *‘many crucial provisions, which on the face of it end in the understanding of community at large, are completely arbitrary; have not been a stayed at interim stage. The final decision is yet to come, but the way in prejudiced manner the government functionaries work; the community feels that those provisions not stayed at this stage shall be abused.’*
The Supreme Court’s interim order has provided relief on the following aspects:
1. Protection of Property Rights:
The Court ruled that waqf properties cannot be dispossessed or altered in official records until a final decision is delivered. It stayed the provision that required a government officer’s report to validate waqf ownership, observing that executive authorities cannot decide property rights of citizens.
2. Prevention of Arbitrary Powers:
The Court has stayed the operation of Section 3C of the Act and clarified that a government officer cannot have the unilateral authority to decide who is eligible to create a waqf. It has also stayed the proviso that said that a property would cease to be treated as Waqf during an inquiry ( The judgment directs that no Waqf shall be dispossessed or have its records altered until the matter is fully adjudicated by the Waqf Tribuna
3. Separation of Powers:
The Court emphasized that the revenue officer cannot be entrusted with the work of determination of the title of a property keeping in view the principle of separation of powers.
4. Non-Muslim Membership:
Addressing the grave concerns of external interference in religious management, the Court has directed that the Central Waqf Council shall not consist of more than 4 non-Muslim members (out of 22). Similarly, the State Waqf Boards shall not have more than 3 non-Muslim members (out of 11)
5. Practicing Muslim for 5 years requirement:
The Court has stayed the arbitrary requirement that a person must show or demonstrate that they have been "professing Islam for at least five years" to create a Waqf. This stay will remain in effect until the government frames rules for such determination
The Board, however, maintains that the entire amendment is a deliberate move to weaken and seize waqf properties. It therefore demands the complete repeal of the Waqf (Amendment) Act 2025 and the restoration of the earlier Waqf Act. The refusal to stay the entire Act leaves numerous other harmful provisions in operation, including the prospective de-recognition of 'Waqf by user' and the mandatory requirement of a Waqf deed, which goes against the established tenets of Islamic law.
Dr. Ilyas further announced that the Board’s Save Waqf Campaign will continue with full strength. The second phase of the campaign, launched on 1 September 2025, includes dharnas, demonstrations, waqf marches, memorandums, leadership arrests, roundtable meetings, interfaith conclaves, and press conferences. Nationwide protests will culminate in a massive rally at Ramlila Maidan, Delhi, on 16 November 2025, with participation from across the country.
✍️ Issued by
*Dr. Vaquar Uddin Latifi*
_Office Secretary_
https://www.facebook.com/share/p/1Ci26HsCtV/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤5
📰 *پریس ریلیز*
نئی دہلی | 15 ستمبر 2025
ایک بیان میں بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ اگرچہ عدالت عظمیٰ نے ترمیم کی چند دفعات پر حکمِ امتناعی جاری کیا ہے، لیکن مسلم کمیونٹی، مسلم پرسنل لا بورڈ اور انصاف پسند شہریوں کو توقع تھی کہ دستور ہند کی بنیادی دفعات سے متصادم تمام شقوں پر حکمِ امتناعی دیا جائے گا۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا *’’عدالت نے جزوی ریلیف تو دیا ہے، لیکن بڑے آئینی خدشات کو نظرانداز کردیا ہے، جس سے ہمیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔‘‘*
انہوں نے مزید کہا کہ *’’کئی اہم دفعات جو بظاہر پوری برادری کی سمجھ کے خلاف اور مکمل طور پر من مانیاں ہیں، انہیں عبوری طور پر نہیں روکا گیا۔ حتمی فیصلہ آنا باقی ہے، لیکن حکومت کے متعصبانہ رویے کو دیکھتے ہوئے برادری کو خدشہ ہے کہ ان دفعات کا غلط استعمال کیا جائے گا۔‘‘*
سپریم کورٹ کے عبوری حکم میں درج ذیل نکات پر ریلیف دیا گیا ہے:
1. املاک کے حقوق کا تحفظ:
عدالت نے فیصلہ دیا کہ وقف جائیدادوں کو حتمی فیصلہ آنے تک نہ تو بے دخل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سرکاری ریکارڈ میں کوئی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اس دفعہ پر حکم امتناعی جاری کیا جس میں وقف ملکیت کے ثبوت کے لیے سرکاری افسر کی رپورٹ لازمی قرار دی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ شہریوں کے املاک کے حقوق پر انتظامیہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔
2. من مانے اختیارات کی روک تھام:
عدالت نے ایکٹ کی دفعہ 3C کے نفاذ پر روک لگائی اور واضح کیا کہ کوئی سرکاری افسر یکطرفہ طور پر یہ طے نہیں کرسکتا کہ کون وقف قائم کرنے کا اہل ہے۔ اسی طرح اس proviso پر بھی حکم امتناعی جاری کیا گیا کہ تفتیش کے دوران کوئی جائیداد وقف نہیں مانی جائے گی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ جب تک وقف ٹریبونل مکمل فیصلہ نہ کرے، کسی وقف کو بے دخل یا اس کے ریکارڈ میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔
3. اختیارات کی علیحدگی:
عدالت نے کہا کہ اصولِ اختیارات کی علیحدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ریونیو افسر کو جائیداد کے حقِ ملکیت کے تعین کا کام نہیں سونپا جاسکتا۔
4. غیر مسلم اراکین کی شمولیت:
مذہبی امور میں بیرونی مداخلت پر تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ہدایت دی کہ مرکزی وقف کونسل میں 22 میں سے زیادہ سے زیادہ 4 غیر مسلم اراکین ہوں گے، اور ریاستی وقف بورڈ میں 11 میں سے زیادہ سے زیادہ 3 غیر مسلم اراکین شامل کیے جا سکتے ہیں۔
5. پانچ سال تک مسلم ہونے کی شرط:
عدالت نے اس من مانی شرط پر روک لگا دی کہ وقف قائم کرنے والا شخص لازماً یہ ثابت کرے کہ وہ کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل پیرا ہے۔ یہ حکم اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک حکومت اس حوالے سے قواعد مرتب نہیں کرتی۔
تاہم بورڈ کا مؤقف ہے کہ یہ پورا ترمیمی ایکٹ وقف جائیدادوں کو کمزور کرنے اور قبضہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ اس لیے بورڈ مطالبہ کرتا ہے کہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو مکمل طور پر واپس لیا جائے اور پرانا وقف ایکٹ بحال کیا جائے۔ عدالت کا پورے ایکٹ پر حکم امتناعی دینے سے انکار اس بات کا باعث ہے کہ متعدد نقصان دہ دفعات بدستور نافذ العمل ہیں، جیسے ’’وقف بائے یوزر‘‘ کی تنسیخ اور وقف نامہ کو لازمی قرار دینا، جو اسلامی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے مزید اعلان کیا کہ بورڈ کی وقف بچاؤ مہم پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گی۔ اس مہم کا دوسرا مرحلہ یکم ستمبر 2025 سے شروع ہو چکا ہے، جس میں دھرنے، احتجاجی مظاہرے، وقف مارچ، یادداشتیں پیش کرنا، قیادت کی گرفتاریاں، گول میز اجلاس، بین المذاہب کانفرنسیں اور پریس کانفرنسیں شامل ہیں۔ یہ قومی سطح کے احتجاج 16 نومبر 2025 کو رام لیلا میدان، دہلی میں ایک عظیم الشان ریلی پر منتج ہوں گے، جس میں پورے ملک سے عوام شریک ہوں گے۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقارالدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/1BHjs3uo28/
نئی دہلی | 15 ستمبر 2025
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے عبوری فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے نامکمل اور غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ایک بیان میں بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ اگرچہ عدالت عظمیٰ نے ترمیم کی چند دفعات پر حکمِ امتناعی جاری کیا ہے، لیکن مسلم کمیونٹی، مسلم پرسنل لا بورڈ اور انصاف پسند شہریوں کو توقع تھی کہ دستور ہند کی بنیادی دفعات سے متصادم تمام شقوں پر حکمِ امتناعی دیا جائے گا۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا *’’عدالت نے جزوی ریلیف تو دیا ہے، لیکن بڑے آئینی خدشات کو نظرانداز کردیا ہے، جس سے ہمیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔‘‘*
انہوں نے مزید کہا کہ *’’کئی اہم دفعات جو بظاہر پوری برادری کی سمجھ کے خلاف اور مکمل طور پر من مانیاں ہیں، انہیں عبوری طور پر نہیں روکا گیا۔ حتمی فیصلہ آنا باقی ہے، لیکن حکومت کے متعصبانہ رویے کو دیکھتے ہوئے برادری کو خدشہ ہے کہ ان دفعات کا غلط استعمال کیا جائے گا۔‘‘*
سپریم کورٹ کے عبوری حکم میں درج ذیل نکات پر ریلیف دیا گیا ہے:
1. املاک کے حقوق کا تحفظ:
عدالت نے فیصلہ دیا کہ وقف جائیدادوں کو حتمی فیصلہ آنے تک نہ تو بے دخل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سرکاری ریکارڈ میں کوئی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اس دفعہ پر حکم امتناعی جاری کیا جس میں وقف ملکیت کے ثبوت کے لیے سرکاری افسر کی رپورٹ لازمی قرار دی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ شہریوں کے املاک کے حقوق پر انتظامیہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔
2. من مانے اختیارات کی روک تھام:
عدالت نے ایکٹ کی دفعہ 3C کے نفاذ پر روک لگائی اور واضح کیا کہ کوئی سرکاری افسر یکطرفہ طور پر یہ طے نہیں کرسکتا کہ کون وقف قائم کرنے کا اہل ہے۔ اسی طرح اس proviso پر بھی حکم امتناعی جاری کیا گیا کہ تفتیش کے دوران کوئی جائیداد وقف نہیں مانی جائے گی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ جب تک وقف ٹریبونل مکمل فیصلہ نہ کرے، کسی وقف کو بے دخل یا اس کے ریکارڈ میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔
3. اختیارات کی علیحدگی:
عدالت نے کہا کہ اصولِ اختیارات کی علیحدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ریونیو افسر کو جائیداد کے حقِ ملکیت کے تعین کا کام نہیں سونپا جاسکتا۔
4. غیر مسلم اراکین کی شمولیت:
مذہبی امور میں بیرونی مداخلت پر تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ہدایت دی کہ مرکزی وقف کونسل میں 22 میں سے زیادہ سے زیادہ 4 غیر مسلم اراکین ہوں گے، اور ریاستی وقف بورڈ میں 11 میں سے زیادہ سے زیادہ 3 غیر مسلم اراکین شامل کیے جا سکتے ہیں۔
5. پانچ سال تک مسلم ہونے کی شرط:
عدالت نے اس من مانی شرط پر روک لگا دی کہ وقف قائم کرنے والا شخص لازماً یہ ثابت کرے کہ وہ کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل پیرا ہے۔ یہ حکم اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک حکومت اس حوالے سے قواعد مرتب نہیں کرتی۔
تاہم بورڈ کا مؤقف ہے کہ یہ پورا ترمیمی ایکٹ وقف جائیدادوں کو کمزور کرنے اور قبضہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ اس لیے بورڈ مطالبہ کرتا ہے کہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو مکمل طور پر واپس لیا جائے اور پرانا وقف ایکٹ بحال کیا جائے۔ عدالت کا پورے ایکٹ پر حکم امتناعی دینے سے انکار اس بات کا باعث ہے کہ متعدد نقصان دہ دفعات بدستور نافذ العمل ہیں، جیسے ’’وقف بائے یوزر‘‘ کی تنسیخ اور وقف نامہ کو لازمی قرار دینا، جو اسلامی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے مزید اعلان کیا کہ بورڈ کی وقف بچاؤ مہم پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گی۔ اس مہم کا دوسرا مرحلہ یکم ستمبر 2025 سے شروع ہو چکا ہے، جس میں دھرنے، احتجاجی مظاہرے، وقف مارچ، یادداشتیں پیش کرنا، قیادت کی گرفتاریاں، گول میز اجلاس، بین المذاہب کانفرنسیں اور پریس کانفرنسیں شامل ہیں۔ یہ قومی سطح کے احتجاج 16 نومبر 2025 کو رام لیلا میدان، دہلی میں ایک عظیم الشان ریلی پر منتج ہوں گے، جس میں پورے ملک سے عوام شریک ہوں گے۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقارالدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/1BHjs3uo28/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
👍5❤4😢1
🔥 *وقف ایکٹ 2025 پر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے پر سپریم کورٹ کے سینئر وکیل جناب ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد صاحب* (رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) *کا یہ اہم ترین تبصرہ ضرور سنیں۔*
*🔥 वक़्फ़ एक्ट 2025 पर सुप्रीम कोर्ट के ताज़ा फ़ैसले पर क्या बोले सुप्रीम कोर्ट के सीनियर वकील जनाब एडवोकेट एम. आर. शमशाद साहब* (सदस्य ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड)
👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://youtu.be/e6wzemXb1Cw?si=f5IBxgU2oNUMuuAR
*🔥 वक़्फ़ एक्ट 2025 पर सुप्रीम कोर्ट के ताज़ा फ़ैसले पर क्या बोले सुप्रीम कोर्ट के सीनियर वकील जनाब एडवोकेट एम. आर. शमशाद साहब* (सदस्य ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड)
👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://youtu.be/e6wzemXb1Cw?si=f5IBxgU2oNUMuuAR
YouTube
Waqf Act पर Supreme Court के ताज़ा फ़ैसले पर क्या बोले SC के सीनियर वकील Adv M R Shamshad
🔥 وقف ایکٹ 2025 پر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے پر سپریم کورٹ کے سینئر وکیل جناب ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد صاحب (رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) کا یہ اہم ترین تبصرہ ضرور سنیں۔
🔥 वक़्फ़ एक्ट 2025 पर सुप्रीम कोर्ट के ताज़ा फ़ैसले पर क्या बोले सुप्रीम कोर्ट के सीनियर…
🔥 वक़्फ़ एक्ट 2025 पर सुप्रीम कोर्ट के ताज़ा फ़ैसले पर क्या बोले सुप्रीम कोर्ट के सीनियर…
❤4
*🔰 تحفظ اوقاف مہم 🔰*
*▪️دوسرا مرحلہ*
*📌 Road Map روڈ میپ*
#waqfbachaodastoorbachao
#waqfbachaocampaign
#SaveWaqfSaveConstitution #WithdrawWaqfAmendments #AllIndiaMuslimPersonalLawBoard
👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://www.facebook.com/share/p/17MXfZr1Le/
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ*▪️دوسرا مرحلہ*
یکم ستمبر تا 30 نومبر 2025*📌 Road Map روڈ میپ*
#waqfbachaodastoorbachao
#waqfbachaocampaign
#SaveWaqfSaveConstitution #WithdrawWaqfAmendments #AllIndiaMuslimPersonalLawBoard
👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://www.facebook.com/share/p/17MXfZr1Le/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤4