⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
✔
26.2K subscribers
4.23K photos
223 videos
591 files
3.3K links
Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights.

AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1


https://twitter.com/AIMPLB_Official

https://www.youtube.com/AIMPLB_Official

http://fb.me/AIMPLB.Official

Wtsp:8788657771
Download Telegram
Khitab e juma 07 Nov 2025.pdf
2.1 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 298 ▪️

🗓 برائے تاریخ: 07 نومبر 2025 مطابق 15 جمادی الاولیٰ 1447

🎯 معاشرے کی اصلاح کے چند اہم اور بنیادی اصول

📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9727
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464

🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤7👍2
*⭕ LIVE | لائیو | LIVE ⭕*

🔴 *ورکشاپ برائے امید پورٹل*

*امید پورٹل پر وقف املاک کیسے رجسٹر کریں❓* اس سلسلے میں مکمل رہنمائی کے لیے *حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب* _( جنرل سکریٹری بورڈ)_ کی صدارت میں ورکشاپ منعقد ہے، ورکشاپ سے لائیو جڑنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔

👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://www.youtube.com/live/h65Con_AcbM

🔴 *Workshop Baraye UMEED Portal*

*UMEED Portal Par Waqf Properties Kaise Register Karein❓*
Is silsile mein mukammal rahnumai ke liye *Hazrat Maulana Muhammad Fazlur Rahim Mujaddidi Sahab* *(General Secretary Board)* ki sadarat mein workshop mun'aqid hai.
Workshop se live judne ke liye link par click karein.
❤1
🔰 *دارالعلوم فیض محمدی میں تفہیم شریعت ورکشاپ*

https://www.facebook.com/share/p/1H9Zj7u7FH/
---------------------------------------------
دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڑھ، ضلع مہراج گنج میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام ایک روزہ ”تفہیم شریعت ورکشاپ“ نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ اس اہم علمی نشست کی سرپرستی ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے فرمائی، صدارت ناظم اعلیٰ دارالعلوم مولانا ڈاکٹر سعد رشید ندوی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی احسان الحق قاسمی نے انجام دیئے۔

تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد اپنے افتتاحی کلمات میں مہتمم ادارہ مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے مہمانانِ کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے 2006ء میں ”تفہیم شریعت“ کے نام سے ایک مستقل شعبہ قائم کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ علماء، ائمہ، وکلاء اور دانشورانِ ملت کو شرعی قوانین کی گہرائی سے واقف کرایا جائے تاکہ اگر کسی غیر مسلم یا لبرل طبقہ کی جانب سے اسلام کے خاندانی یا عائلی قوانین پر اعتراضات ہوں تو ان کے علمی، شرعی اور قانونی جوابات پیش کیے جا سکیں۔ ساتھ ہی سماج کے باشعور طبقے کو مسلم پرسنل لا کے حقیقی مفہوم، اس کی بنیادوں اور مقاصد سے روشناس کرایا جائے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔

ورکشاپ کے موضوعات اور محاضرین

ورکشاپ کے دوران کئی نہایت اہم موضوعات پر وقیع محاضرہ جات پیش کیے گئے۔
مولانا مفتی رحمت اللہ ندوی (استاذ دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ) نے ”یتیم پوتے کی وراثت“ پر مدلل اور تفصیلی خطاب کیا۔ مولانا منور سلطان ندوی (رفیق مجلس تحقیقات شرعیہ ندوہ) نے ”خلع، فسخ اور طلاق“ کے شرعی پہلوؤں پر علمی گفتگو فرمائی۔ مولانا محمد اسعد ندوی (آرگنائزر تفہیم شریعت کمیٹی) نے ”یکساں سول کوڈ“ کے پس منظر اور اس کے نقصانات پر بصیرت افروز گفتگو کی۔ ایڈووکیٹ آصف اکرم (ایچ سی وکیل) نے ”SIR“ اور ”امید پورٹل“ کے حوالے سے اوقاف کی رجسٹریشن کے قانونی پہلوؤں کو واضح کیا۔

چاروں محاضرات کے بعد ایک سوال و جواب کا سیشن رکھا گیا، جس میں شرکاء نے مختلف سوالات پیش کیے۔ شرعی و قانونی رہنماؤں نے اوقاف، امید پورٹل، وراثت اور نکاح و طلاق سے متعلق اشکالات کے اطمینان بخش جوابات دیے۔

گورکھپور و مہراج گنج کی علمی و ثقافتی تاریخ

گورکھپور اور مہراج گنج کا خطہ علمی، فکری، اور ملی سرگرمیوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں سے ایسی نابغۂ روزگار شخصیات اٹھیں جنہوں نے دینی، ادبی اور علمی دنیا میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ حضرت مولانا قمرالدین احمد گورکھپوری جیسے جلیل القدر محدثین نے دارالعلوم دیوبند اور دیگر اداروں میں طویل عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں۔ اسی خطے سے تعلق رکھنے والے فراق گورکھپوری اور مجنوں گورکھپوری جیسے شعرا و ناقدین نے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔

مہراج گنج ضلع میں دارالعلوم فیض محمدی، جامعہ عربیہ امدادالعلوم، اور دیگر مدارس نے دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور علمی بیداری کا چراغ روشن کیا۔ دارالعلوم فیض محمدی 1986ء میں مولانا حاجی عبدالجبار اعظمی کے ہاتھوں قائم ہوا، جو معروف محدث اور بزرگ عالمِ دین تھے۔ ادارہ کا نصاب ندوۃ العلماء لکھنؤ سے منسلک ہے، اور یہ ادارہ نہ صرف دینی تعلیم بلکہ عصری شعور پیدا کرنے میں بھی سرگرم ہے۔ یہاں کے طلبہ ملک کے مختلف علمی و سماجی میدانوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تفہیم شریعت کمیٹی کا پس منظر و مقصد

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت قائم تفہیم شریعت کمیٹی ایک علمی و فکری پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد شریعت اسلامی کے بنیادی اصولوں کو عام فہم انداز میں پیش کرنا ہے۔ اس کمیٹی کے ذریعہ علماء کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ اگر شریعت پر کوئی اعتراض کیا جائے، جیسے طلاق، خلع، تعدد ازدواج، یا وراثت، تو ان کے جوابات علمی اور منطقی انداز میں کیسے دیے جائیں۔ یہ پروگرام ائمہ، خطباء، وکلاء، اور عام مسلمانوں میں قانونِ شریعت کے شعور کو فروغ دینے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً منعقد کیے جاتے ہیں۔

تفہیم شریعت ورکشاپ کے ذریعہ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ مسلم پرسنل لا کیا ہے، اس کی بنیادیں کن آیات و احادیث پر قائم ہیں، اور اگر ان قوانین میں مداخلت کی گئی تو اس کے معاشرتی و قانونی نقصانات کیا ہوں گے۔ یہ ورکشاپس قوم و ملت میں شعور و بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔

صدارتی خطاب اور اختتامیہ

مولانا ڈاکٹر سعد رشید ندوی نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ تفہیم شریعت کا عنوان دراصل تحفظِ شریعت کا ایک عملی مرحلہ ہے۔ آج کچھ حلقے شریعت کے بنیادی اصولوں پر حملہ کر رہے ہیں، کبھی نکاح و طلاق کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی وراثت کے احکام کو غلط رنگ دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں شریعت کی حفاظت ایک ایمانی فریضہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ علمی و قانونی میدان میں مستحکم دلائل کے ساتھ کھڑے ہوں۔
❤4
انہوں نے کہا کہ شریعت اسلامیہ عبادت سے لے کر معیشت، عدالت، اور معاشرت تک ہر شعبے میں عدل و احسان کا نظام پیش کرتی ہے۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کی تو آئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اس لیے ہر سطح پر شریعت کے تحفظ اور اس کے فہم کے لیے کوشش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

آخر میں مفتی عاشق الہٰی قاسمی مقیمِ مدینہ منورہ کی دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ شرکاء نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور تفہیم شریعت کمیٹی کا شکریہ ادا کیا اور متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ اس طرح کے علمی و تربیتی پروگرام آئندہ بھی وقتاً فوقتاً منعقد کیے جائیں تاکہ ملت میں شعور اور بیداری کا تسلسل قائم رہے۔
Auqaaf ki Hifazat ke liye

*🔥 Chalo Ram Leela Maidan, Delhi*

📆 16 November 2025, Baroz Itwaar
🕰️ Subah 9:00 baje se
Seher 3:00 baje tak

*🎯 Azeemushshaan IJLAAS-E-AAM*

📌 Is ijlaas ko mulk ke mashaaheer ulama-e-kiraam, siyasi rahnuma aur samaji khidmat guzaar khitaab karenge.

▪️ Baradran-e-Islam se darkhwast hai ke is azeem-ul-shaan ijlaas mein zaroor shirkat farmaayen.

📍 Bamaqām: *Ram Leela Maidan, Delhi*

https://www.facebook.com/share/p/1D5VG8gz5c/
❤3
اوقاف کی حفاظت کیلئے

*🔥 چلو رام لیلا میدان، دہلی*

📆 16 نومبر 2025، بروز اتوار
🕰️ صبح 9:00 بجے سے
سہ پہر 3:00 بجے تک

*🎯 عظم الشان اجلاس عام*

📌 اس اجلاس کو ملک کے مشاہیر علماء کرام ، سیاسی رہنما اور سماجی خدمت گذار خطاب کریں گے۔

▪️برادران اسلام سے درخواست ہے کہ اس عظیم الشان اجلاس میں ضرور شرکت فرمائیں۔

📍بمقام: رام لیلا میدان، دهلی

https://www.facebook.com/share/p/17jhCVsQgL/
❤2
औक़ाफ़ की हिफ़ाज़त के लिए

🔥 *चलो रामलीला मैदान*

📆 16 नवंबर 2025, रविवार
🕰️ सुबह 9:00 बजे से
दोपहर 3:00 बजे तक

🎯 *अज़ीमुश्शान इज्लास-ए-आम*

📌 इस सभा को देश के मशहूर उलमा-ए-किराम, राजनीतिक नेता और सामाजिक कार्यकर्ता संबोधित करेंगे।

▪️सभी भाइयों से गुज़ारिश है कि इस भव्य जनसभा में ज़रूर शामिल हों।

📍 *स्थान:* रामलीला मैदान, दिल्ली

https://www.facebook.com/share/p/17GMsYdNQJ/
❤10
*حکومت دہلی کی بے جا مداخلت سے 16 نومبر 2025 کا رام لیلا میدان کا احتجاجی پروگرام ملتوی*

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے حکومت کی جانب سے اجازت کی منسوخی کی مذمت کی


نئی دہلی، 8 نومبر 2025
دہلی مونسپل کارپوریشن نے 16 نومبر 2025 کو رام لیلا میدان پر ہونے والے مسلم پر سنل لابورڈ کے احتجاجی اجلاس کی اجازت یہ کہہ کر صرف 8 دن قبل منسوخ کردی کہ رام لیلا میدان دہلی حکومت کے پروگرام کے لئے مطلوب ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ دہلی حکومت اور مونسپل کارپوریشن کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ جب مونسپل کارپوریشن اس اجلاس کے انعقاد کے لئے تین ماہ قبل اجازت دے چکی تھی، اس اجازت کو صرف ایک ہفتہ قبل منسوخ کر دینا قانوناً اور اخلاقاً غلط اور ظالمانہ اقدام ہے جس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یا تو دہلی کے پروگرام کو آگے بڑھایا جاتا یا انہیں متبادل جگہ فراہم کی جاتی۔

انہوں نے کہا وقف ترمیمی قانون 2025 کی مخالفت میں کئے جانے والے اس پروگرام کی تشہیر بڑے پیمانے پر ملکی سطح پر ہو چکی تھی، چنانچہ ہزاروں افراد دہلی کے لئے اپنا ٹکٹ بنا چکے تھے۔ بورڈ کے ذمہ دار بھی اس کے لئے مغربی اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور دہلی کی قریبی ریاستوں میں مسلسل دورے کر کے ماحول بنا چکے تھے۔ ظاہر ہے مونسپل کارپوریشن دہلی کے اس فیصلے نے ان سب لوگوں کو نہ صرف مایوس کیا ہے بلکہ ہوائی جہاز اور ٹرینوں کے ٹکٹ کی Cancellation کی وجہ سے انھیں خاصا مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ اسی طرح مغربی اتر پردیش اور ہریانہ سے جو بسیں بک کی جاچکی تھیں اس کا نقصان بھی ان علاقوں کے مسلمانوں کے حصہ میں گیا۔

ڈاکٹر الیاس نے آگے کہا کہ حکومت کے غلط فیصلوں پر تنقید اور احتجاج ہمارا بنیادی و دستوری حق ہے اور جمہوری ملک میں اس کے لئے جگہیں اور مقامات مختص کئے جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی وقف ترمیمی قانون 2025 پر احتجاجی تحریک کو جو پذیرائی مل رہی ہے اس سے حکومت گھبرا گئی ہے اور 16 نومبر کی اجازت کی منسوخی حکومت کی اسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے اس طرح کے بزدلانہ اقدامات کے آگے سپر نہیں ڈالے گا اور ملتوی شدہ پروگرام کو دوبارہ رمضان المبارک کے بعد دہلی میں ہی منعقد کرے گا۔ توقع ہے کہ حکومت کی طرف سے آئندہ کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی جائے گی۔ بورڈ مسلمانوں سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہاں رکاوٹوں اور مشکلات سے ہرگز بھی مایوس نہ ہوں بلکہ جرأت اور حوصلے کے ساتھ بورڈ کی جانب سے آنے والے اعلانات کا اسی طرح خیر مقدم کریں، جس طرح کہ وہ اب تک کرتے رہے ہیں۔

✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقار الدین لطیفی*
آفس سکریٹری

https://www.facebook.com/share/p/1GVeB8VUo6/
❤10👍2
*دہلی لال قلعہ پر ہوا کار دھماکہ افسوسناک اور قابل تشویش*

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مکمل و غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا

نئی دہلی، 11 نومبر 2025
آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ دہلی لال قلعہ حادثہ پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے ورثاء سے گہری تعزیت کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعاگو ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک پریس بیان میں ملک کی راجدھانی میں عین لال قلعہ کے قریب ہوئے اس حادثہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ کی مکمل اور ہر پہلو سے جانچ کروائے۔
صدر بورڈ نے کہا کہ اگر یہ حادثہ ہے تو انتہائی افسوسناک ہے۔ جس میں اتنے بڑے پیمانے پر بے گناہ اور معصوم لوگوں کی جانیں چلی گئیں اور بڑے پیمانے پر لوگ زخمی ہوئے اور اگر یہ دہشت گردانہ کارروائی ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے اور ہماری سیکیوریٹی کے نظام پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے کہ ملک کی راجدانی کے حساس علاقے بھی محفوظ نہیں ہیں۔
صدر بورڈ نے آگے کہا آزمائش کی اس گھڑی میں آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ سوگوار خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعاگو ہے۔

✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر محمد وقار الدین لطیفی*
آفس سکریٹری

https://www.facebook.com/share/p/1BaRCmSLY7/
❤4👍2