Al Ulama العلماء
507 subscribers
35 photos
14 videos
25 files
33 links
آج جو مسلمان پریشان حال نظر آرہے ہیں اس کی ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ امتِ مسلمہ اہنے علماء کرام سے دور ہے
Download Telegram
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ،عام طور پر ان میں افراط و تفریط انسان کے لیے ناگوار خاطر اور دشوار ہوتی ہے ،یہاں تک کہ انسان کے لئے نفع بخش اور مفید ترین چیزیں بھی، اگر حد اعتدال سے بڑھ جائیں یا حد ضرورت سے کم ہوجائیں، تو انسان کے لئے رحمت کی بجائے زحمت اور انعام خدا وندی کی بجائے عذاب آسمانی بن جاتی ہیں ۔۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام کو اعتدال پر قائم فرمایا ہے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بھی اعتدال چاہتے ہیں اور افراط و تفریط کو ناپسند کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے عدل کا حکم دیا ہے ۔عدل کی روح اعتدال ہے اور جادئہ اعتدال سے ہٹ جانا ہی، انسان کو ظلم کی طرف لے جاتا ہے ،اعتدال زندگی کے تمام شعبوں میں اور ہر مرحلہ میں مطلوب ہے ۔ شریعت کے اصول اور قرآن وحدیث پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ گفتار و رفتار خوشی و غم سلوک و برتاؤ اور بحث و مباحثہ،دوستی و دشمنی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت ہر شعبئہ زندگی میں افراط و تفریط ناپسندیدہ ہے، اور اعتدال مطلوب و محبوب ہے ۔
اعتدال انسان کی رفتار میں بھی ہو ،اترانے کا انداز نہیں ہونا چاہیے، یہ چال کا اعتدال ہے ۔ولا تمش فی الارض مرحا ، زمین پر اکڑ کر مت چلو ۔
گفتگو بول چال میں بھی اعتدال اور توازن ہو ،آواز نہ بالکل پست ہو کہ مخاطب سن نہ سکے اور نہ اتنی کرخ دار گرج دار اور بلند کہ حد اعتدال سے گزر جائے ۔قران کہتا ہے کہ آواز حسب ضرورت پست ہونی چاہیے ،گدھے کی آواز بہت بلند ہوتی ہے ،لیکن سب سے ناپسندیدہ ۔۔ اسی طرح انسان کو لعان اور طعان نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بات بات پر کسی کو لعن طعن کرے ۔
لباس و پوشاک میں بھی اعتدال مطلوب ہے ،لباس تقویٰ کو لباس خیر کہا گیا ہے ۔ اس لباس کو شریعت میں پسند نہیں کیا گیا ہے، جس میں جذبئہ تفاخر ہو ،نخوت تکبر اور گھمنڈ ہو۔ لباس سادہ ہو، لیکن لباس پر اس کی نعمت کا اثر ضرور ظاہر ہو ،یہ مقصد نہیں کہ آدمی پھٹے پرانے پہنے، جو اس کے مصنوعی فقر کا مظہر ہو ۔غرض یہ کہ لباس میں بھی افراط و تفریط نہ ہو ۔
داڑھی رکھنے کا شریعت میں تاکیدی حکم ہے ،لیکن روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرے کی چوڑائی اور لمبائی سے داڑھی تراشا بھی کرتے تھے، عجمی مجذوب کی صورت اپنانا اور کریھ اور بے ہنگم صورت بنا کر رکھنا یہ منع ہے ۔
دعا کے بارے میں بھی حکم شریعت ہے کہ آواز بالکل بلند نہ ہو ،بلکہ ایک حد تک پست ہو ،بہت بلند آواز میں دعا کرنے کو زیادتی قرار دیا گیا ہے ۔
دوستی اور دشمنی میں بھی اعتدال مطلوب ہے اس میں بھی افراط و تفریط ناپسندیدہ ہے ۔
دشمن سے بدلہ لینے میں بھی جادئہ اعتدال نہ ہٹے اور اس میں بالکل اندھا نہ ہو جائے ، ظلم کے بقدر ہی بدلا لینا جائز ہے۔
حلال و حرام میں بھی توازن اور اعتدال کا حکم ہے ،شریعت نے جہاں حرام کو حلال کر لینے سے روکا ہے، وہیں یہ حکم بھی دیا کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہو ،دین میں غلو کا راستہ اختیار کرتے ہوئے حلال کو بھی حرام نہ کرلیا جائے ۔
تنقید و احترام نقد و جرح اور تبصرہ و محاکمہ میں بھی میانہ روی مطلوب ہے یہ جائز نہیں کہ کسی کی فکر پر تنقید کرتے ہوئے اس کی ذاتیات کو نشانہ بنایا جائے، ان پر خواہ مخواہ الزام تراشی کی جائے،رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدترین دشمنوں کیساتھ بھی ایسا نہیں کیا اور اس بات سے بھی منع کیا کہ کسی کی شخصیت کے احترام میں غلو کی صورت پیدا ہو جائے ۔۔۔
عام طور پر دو چیزیں انسان کو راہ اعتدال سے دور کر دیتی ہیں، محبت اور عداوت ،محبت انسان سے بصارت ہی نہیں بصیرت بھی چھین لیتی ہے ،اسے اپنے محبوب کی برائیوں میں بھی بھلائیاں نظر آتی ہیں ،یہی حال نفرت و عداوت کا ہے، دشمن میں رائی جیسی برائی ہو تو وہ پہاڑ محسوس ہوتی ہے اور پہاڑ جیسی خوبی ہو تو وہ رائی سے بھی حقیر نظر آتی ہے ۔ غلو آمیز محبت اور انکار و شدت اور سرے سے کسی کی نفی یہ دونوں غلط ہیں ۔ (مستفاد و ملخص حقائق اور غلط فہمیاں صفحہ 80/83)
آج سب سے زیادہ شخصیت پرستی کا فتنہ ہمارے مسلم معاشرہ میں پایا جارہا ہے اور اس کی وجہ سے یہ امت انتشار و افتراق کا شکار ہے ۔۔ کسی صاحب دل نے بہت صحیح تجزیہ کیا ہے کہ کچھ لوگ فطری طور پر غیر معمولی صلاحیت اور غیر معمولی خوبی اور کمال لے کر پیدا ہوتے ہیں ،ان کو اپنے معاصرین میں نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے ان کو طبعی طور پر مرجعیت حاصل ہوجاتی ہے ،کچھ لوگ ان کے ایسے گرویدہ اور فین ہوجاتے ہیں کہ ان کی ہر بات بلا چون و چرا مان لیتے ہیں اور ان کے قلب و دماغ میں وہی باتیں گردش کرتی ہیں ،جو ان کے دل میں ڈالی جاتی ہے ،خواہ وہ قرآن وحدیث کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور خواہ ان کی بات سواد اعظم اور جمہور علماء کی رائے اور تعامل امت سے ہی کیوں نہ ٹکراتی ہو ۔اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ اس میں شدت اور غلو سے کام لیتے ہیں اور اگر کوئی مخلص اور ماہر شریعت عالم دین ان کی
❤1
غلطی کی نشاندھی کرتا ہے، تو وہ شخص اس کے خلاف ہی محاذ کھول دیتا ہے ۔اور انہیں ہی گمراہ ثابت کرنے لگتا ہے ۔
آج اس امت کا حال یہ ہے ،جس امت کو امت وسط کا خطاب ملا اور جس کی خصوصیت اعتدال و توازن قرار دیا گیا اور جس نے پوری دنیا کو اعتدال و توازن کا سبق سکھایا آج وہی امت افراط و تفریط بے اعتدالی اور غلو کا عنوان بن گئی ہے ۔۔ زندگی کے تمام شعبوں میں بے اعتدالی عام ہے ،احترام و عقیدت میں ذرہ کو آفتاب بتانا اور اختلاف و دشمنی میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ انتشار بنانا، ہمارا مزاج اور امتیاز بن گیا ہے ۔۔۔ دوستی اور دشمنی میں بے اعتدالی ،تعمیری کاموں میں بخل اور بے فائدہ کاموں میں فضول خرچی یہ بھی آج ہمارا مزاج ہے ۔۔
افراط و تفریط کے کے بہت سے اسباب و عوامل ہیں جن کی وجہ سے انسان کے مزاج میں تشدد اور سختی پیدا ہوتی ہے ۔ کہیں افراط و تفریط منصوص اور غیر منصوص میں عدم تمیز کی وجہ پیدا ہوتی ہے ۔۔ کہیں افراط و تفریط غلو اور بیجا عقیدت واحترام سے پیدا ہوتی ہے ،کہیں کم علمی اور اپنی جماعت کو صرف راہ نجات پر سمجھنے سے یہ کمی پیدا ہوتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو غلو اور افراط و تفریط سے بچائے اور ہمارے اندر اعتدال و توازن کا حصئہ وافر عطا فرمائے اور زندگی کے ہر موڑ پر افراط و تفریط غلو اور بے اعتدالی سے بچائے آمین
ناشر/ مولانا علاؤالدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 9506600725
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج عشاء کے بعد حضرت اقدس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم نے تنزانيہ کے شہر "دار السلام" کے تبلیغی مرکز ميں حاليہ تبليغی جماعت کے تنازعات کے تناظر ميں انتہائی درد دل کے ساتھ خطاب فرمايا۔ حاضرين پر ايک عجيب کيفيت طاری تھی اور بہت سی آنکھيں اشکبار۔ بعد ميں حضرت نے فرمايا کہ ميں نے اس موضوع پر اتنی تفصيل سے پہلے بيان نہيں کيا، نہ ميرا يہ ارادہ تھا۔ بس اللہ تعالی نے دل ميں بات ڈال دی۔ (محمد بن آدم)

https://t.me/Ilm_walulama
Sune bhi aur share bhi karen
نیا موقف
Al Ulama العلماء
نیا موقف
دارالعلوم دیوبند: فتنوں کے خلاف ناقابلِ تسخیر حصار
March 23, 2025 by islamicgyan.shakirgyan.com
تحریر: ابو اشرف علی گڈاوی
دارالعلوم دیوبند ہمیشہ سے دینِ اسلام کا ایک مضبوط قلعہ اور عقائدِ اہلِ سنت والجماعت کا محافظ رہا ہے۔ چاہے فتنے اپنوں کی طرف سے اٹھیں یا غیروں کی جانب سے، دارالعلوم نے کبھی بھی مصلحت پسندی یا کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ ہر دور میں حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ کر امت کی رہنمائی کی ہے۔
تبلیغی جماعت میں جاری اختلافات کے پس منظر میں بعض افراد دانستہ یا نادانستہ طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند اور مولانا سعد کاندھلوی کے درمیان اب کوئی اختلاف باقی نہیں رہا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے متعدد مواقع پر واضح کیا ہے کہ مولانا سعد صاحب کے بعض بیانات اور نظریات علمی و اعتقادی طور پر اصلاح طلب ہیں، اور جب تک وہ ان پر نظرِ ثانی نہیں کرتے، دارالعلوم کا موقف تبدیل نہیں ہو سکتا۔
2016 میں دارالعلوم دیوبند نے ایک تحریری فتویٰ جاری کیا تھا، جس میں مولانا سعد کے بعض نظریات کو اہلِ سنت والجماعت کے متفقہ عقائد کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔ 2018 میں مجلسِ شوریٰ نے ایک مرتبہ پھر اس موقف کو دہرایا کہ مولانا سعد کی بعض باتیں علمی و دینی طور پر قابلِ اصلاح ہیں، اور ان کی قیادت تبلیغی جماعت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، بنگلہ دیش کے عالمی تبلیغی اجتماع (2018) میں بھی دارالعلوم دیوبند کے اکابر علماء نے کھل کر کہا کہ جماعت کے اندر جاری انتشار اور نظریاتی انحرافات کو ختم کرنا ضروری ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ دارالعلوم دیوبند اور دیگر دینی مدارس محض تعلیمی ادارے نہیں، بلکہ دین کے محافظ اور چوکیدار ہیں۔ جس طرح کسی ملک کے تحفظ کے لیے چوکیداروں کی ضرورت ہوتی ہے، اگر وہ اپنی ذمہ داری میں غفلت برتنے لگیں تو ملک خطرے میں پڑ جاتا ہے، اسی طرح یہ دینی ادارے دینِ اسلام کے لیے قلعے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ دینی قلعے فتنوں کا تعاقب نہ کریں، تو دین میں طرح طرح کی گمراہیاں در آئیں گی، جو ملت کے شیرازے کو بکھیر کر رکھ دیں گی۔
دارالعلوم دیوبند کا مؤقف آج بھی واضح اور مستحکم ہے کہ جب تک مولانا سعد کاندھلوی اپنے ان بیانات سے رجوع نہیں کرتے، جن پر علمی و شرعی طور پر گرفت کی گئی ہے، تب تک ان کے حوالے سے دارالعلوم دیوبند کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
یہی دارالعلوم دیوبند کی امتیازی شان ہے کہ وہ ہر فتنے کا تعاقب کرتا ہے، ہر دین دشمن نظریے کا پردہ چاک کرتا ہے، اور ہمیشہ حق کی ترجمانی کرتے ہوئے امت کی صحیح سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔
مولانا طارق جمیل صاحب کے ساتھ یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ 😢
مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی ؒ اور مولانا منظور نعمانی ؒ نے اس تحریک کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟
سید احمد انیس ندوی
https://youtu.be/A1CjCxCOuz0?si=1ENSyNJgvyqatFQr

https://t.me/Ilm_walulama
مولانا طارق جمیل صاحب کے ساتھ یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ 😢
✍ *سید احمد اُنیس ندوی*

اِدھر چند دنوں سے تبلیغی جماعت میں بعض شخصیات کے بیانات روکنے کی خبریں عام ہو رہی ہیں۔
آج حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم کے متعدد صوتی پیغامات سنے، اور پھر ان کے فرزند مولانا یوسف جمیل کا تفصیلی ویڈیو نظر سے گزرا۔ گزشتہ دنوں مانسہرہ کے اجتماع میں مولانا کی شمولیت اور ان کا بیان روکنے کے لیے جو حرکتیں کی گئیں وہ سب تاریخی تسلسل کے ساتھ تفصیل سے معلوم ہوئیں۔
پہلے کچھ اصولی باتیں سمجھ لیجیے۔
جماعت تبلیغ کے متعدد مقتدمین و متاخرین اکابر و اصاغر پر یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ صلاحیتوں کے قدردان نہیں ہوتے۔ یہ محض الزامات نہیں ہیں بلکہ بہت سے معتبر اہل علم و مشائخ انہی سب وجوہات کی بنا پر جماعت کے کام سے متنفر ہوتے گۓ۔ بعض نے خاموشی سے علیحدگی اختیار کی اور بعض نے حقائق لکھ دیے۔ واقعہ یہ ہے کہ جماعت تبلیغ کے غیر تربیت یافتہ امراء و زعماء نے علم اور اہل علم کی خوب ناقدری کی، ان کی صلاحیتوں کا مثبت استعمال نہیں ہونے دیا۔
اگر آپ کو جماعت تبلیغ میں کچھ کام کرنا ہے تو پھر آپ اپنی پوری فکر کو بالاے طاق رکھ کر ان کے نظریہ اور افعال میں پوری طرح ضم ہو جائیے تب تو ٹھیک ! ورنہ آپ کا علم و تفقہ، بصیرت و خشیت سب نظر انداز کر دیے جائیں گے۔
کام سے ربط رکھنے والے علماء و مشائخ کو بھی نظر انداز کرنے کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ غیر تربیت یافتہ، علم و بصیرت سے محروم افراد کے آگے آنے سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود اس محنت میں پورے اصولوں کے ساتھ چالیس پچاس سال قربانی دینے والے پرانوں کو بھی محض بہتان اور الزام کی بنیاد پر نظر انداز کرنے کی کوششیں ہر علاقے میں شروع ہو گئیں۔
جہاں تک حضرت مولانا طارق جمیل صاحب مدظلہ کے حالیہ قضیہ کا تعلق ہے, تو مولانا کے صوتی پیغامات سے آپ چالیس سال کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔ مولانا تو صبر و اخلاق کا پیکر ہیں، لیکن بہرحال انسان ہیں۔ بڑے سے بڑا حلیم و بردبار بھی کسی خاص موقع پر بہہ پڑتا ہے۔ ایسے میں جو اس پوری تاریخ کو نظر انداز کر کے صرف اس ایک واقعہ سے نتیجہ نکالے گا وہ یقینی طور پر غلط نتیجہ اخذ کرے گا۔
اس قضیہ کے پیچھے دوسری اہم وجہ سیاسی علماء کی طرف سے سامنے آنے والا وہ دباؤ بھی ہے جو مولانا کی شخصیت کے ساتھ گزشتہ چند سالوں سے مستقل وابستہ ہے۔
ویسے یہ سارے فتنہ پرور مل کر تنہا مولانا کی شخصیت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ رہی بات تحریک کی تو اس کی باقی ماندہ رمق عام مخلصین کی برکت سے ہے۔ اس جوڑ توڑ کی سیاسی دینی محنت سے نہ تو اخلاص باقی رہتا ہے اور نہ نصرت الہی اس کے ساتھ ہوتی ہے۔
صف اول کی اکثریت جب اس مزاج کے ساتھ کام کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے تو اب یہی سب اثرات کام کرنے والوں میں شہر شہر داخل ہو رہے ہیں۔ اپنی اپنی سطح پر ایک سے بڑھ کر ایک بازی گر موجود ہیں۔ لکھنؤ مرکز بھی اس ہفتے اسی قسم کی سطحی ڈرامے بازی دیکھ چکا ہے۔
دوسروں کی صلاحیت, مقبولیت اور نیک نامی سے حسد, کینہ اور بغض انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ ان رذائل سے گھرا ہوا انسان دنیا سے آخرت تک ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو ان شرور و فتن سے محفوظ رکھے۔ آمین

https://t.me/Ilm_walulama