📑 اِســـلامـــی فِـــکر 📑
355 subscribers
48 photos
35 videos
72 files
293 links
عـصـرِ حـاضـر کـی نـئـی پـود کـو اِسـں وقـت سـب سـے زیـادہ ضـرورت اپـنـے "اَسْـــلافـــ" کـی روشـن تـاریـخ سـے اگاہـی اور اُسـں کـی روشـنـی مـیـں اپـنـے مـسـتـقـبـل کـا تـعـيّـن.

ہمارے دیگر چینلس
@BatilShikan
@tareekhelslamurdu
@IslamiSahafath
Download Telegram
*دسمبر 1982 میں روسی فوجوں پر فتح یابی کے بعد حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ کا جاری کردہ بیان۔*
امام مالک رحمہ اللہ کے استاد کی اپنے والد محترم سے 27 سال بعد ملاقات کا عجیب واقعہ ۔۔۔۔ !!

جب تک انسان کو اللہ کی پہچان نہ ہو ، اس کے دل میں اللہ کی محبت پیدا نہیں ہوسکتی ۔ بہت زمانہ پہلے یعنی ’’ بنو امیہ ‘‘ کے دور کاواقعہ ہے ، جب کہ امام مالک رحمہ اللہ ابھی طالب علمی کی زندگی گزاررہے تھے ، ان کے ایک استاذتھے ، جن کا نام ’’ رَبِیْعْۃُ الرَّائے ‘‘ رحمہ اللہ تھا ، بہت بڑے عالم تھے ، آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کے استاذ کیسے ہوں گے ؟ بہت بڑے جلیل القدر فقیہ بھی تھے اور محدث بھی تھے اوراللہ والے بزرگ بھی تھے ، ان کے والد کانام ’’ فروخ ‘‘ تھا ۔

جب امام ریبعۃ الرائے رحمہ اللہ ماں کے پیٹ میں تھے ، تو ان کے والد فروخ ، ’’ خراسان ‘‘ کی جانب جہادکی مہم پرامیرالمؤمنین کے حکم سے نکل گئے ، جب جہاد میں جانے کے لیے نکلے ، توچوں کہ ان کومعلوم نہیں تھا کہ کب واپسی ہوگی اور کیا حالات ہوں گے کہ زندہ بھی آئوں گا یا اللہ کی راہ میں شہیدہوجائوں گا ؟ اس لیے ان کے پاس جو ۳۰ ؍ ہزار دینار یادرہم تھے ، انھوں نے اپنی بیوی کو دیا اور کہا کہ میں جہاد میں جارہاہوں اوریہ تیس ہزار تمھارے حوالے ہیں ، ضرورت کے مطابق اس میں سے خرچ کرتے رہنا ، اگراللہ تعالیٰ نے زندگی باقی رکھی اور واپسی ہوگئی ، تو پھرمیں تم سے آکرحساب لے لوں گا یہ کہہ کر نکل گئے ۔

جونکلے توایسے حالات ان کے اوپرآئے کہ ’’ تاریخ بغداد ‘‘ کے مطابق تقریباً اس واقعے کے ستائیس ( ۲۷ ) برس بعد ان کو لوٹنانصیب ہوا ، لمبے چوڑے عرصے کے بعد واپسی ہوئی ۔ ’’ مدینہ ‘‘ ان کی بستی تھی اوراپنی بیوی کومدینے میں ہی چھوڑکر گئے تھے ، جب واپس مدینہ آئے تودیکھا کہ وہاں کی پوری فضابدلی ہوئی ہے ، نئی نئی سڑکیں بن گئی ہیں ، نئی نئی عمارتیں بن گئی ہیں ، خیرآئے اوربہت غوروفکرکے بعد اپنی گلی وغیرہ کو پہچانا اوراپنے گھر پہنچے اورجب پہنچے ، تووہ رات کاوقت تھا ، اپنے گھوڑے کو ایک طرف باندھا اور نیزے سے دروازہ کھولااور دروازے کے اندرگھسنے لگے ۔


توایک صاحب باہرآرہے تھے ، دونوں میں ملاقات ہوئی ، جب انھوں نے دیکھا کہ یہ اندرگھس رہے ہیں ، توان کوٹوکا اورکہا کہ ارے اللہ کے دشمن ! کسی کے گھرمیں بلااجازت جاناجائزنہیں ہے ، توفروخ نے کہا : یہ کسی کاگھرنہیں ہے ، یہ تومیراگھرہے ، میرے گھرمیں کس سے اجازت لوں ؟ اب دونوں میں ’’ توتو ، میں میں ‘‘ ہونے لگی ، وہ کہتے ہیں یہ میراگھرہے اوروہ کہتے ہیں تم گھس نہیں سکتے ، یہ تومیراگھرہے ۔ دونوں میں جوگفتگوہوئی توپڑوسی لوگ جمع ہوگئے ، ربیعہ کہنے لگے کہ میں ان کو سلطان کے پاس فیصلے کے لیے لے جاؤں گا اور فروخ نے کہا کہ ہاں ! میں بھی تم کو بادشاہ کے پاس لے جاؤں گا ، یہ سب باتیں ہو رہی تھیں کہ ان کی بیوی نے اندرسے سنا اورآکردیکھا کہ کیاہورہاہے ؟

جودیکھاتوتماشایہ نظرآیاکہ دونوں باپ بیٹے دست وگریبان ہیں ، ان کوبڑا تعجب ہوااورانھوں نے کہا کہ یہ معرفت نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑا ہورہاہے ، پہچان نہیں ہے ، باپ نے بیٹے کو پہچانااورنہ بیٹے نے باپ کو پہچانا ۔ بیوی نے کہاکہ تم دونوں آپس میں کیاکررہے ہو ؟ بیٹے سے کہا : بیٹا ربیعہ ! یہ توتمھارے باپ ہیں ،ملاقات کرواوران سے کہا فروخ یہ تمھارے بیٹے ہیں ، ان سے ملاقات کرو ۔ جب ماں نے پہچان کرائی ، تو پھردونوں نے معافی چاہی اورروتے ہوئے آپس میں گلے ملنے لگے ۔

( تاریخ بغداد : ۸ ؍ ۴۲۲ )
سب سے خطرناک #فتنہ، علماء( سوء) کا فتنہ ہے. لوگ کافر کے بارے میں تو جان لیتے ہیں کہ یہ کافر ہے لیکن علم رکھنے والا ایک منافق بہت ہی خطرناک ہے.
▪️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مجھے اپنی امت میں سب سے زیادہ خوف اس منافق کا ہے جو چرب زبان ہو. "
مسند احمد 143

جو لفظوں کا کھیل جانتا ہے. پس، جب ایک عالم گمراہ ہوتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ اکثریت کو گمراہ کرتا ہے.

یہی وجہ ہے کہ جب امام احمد بن حنبل کو انکے ایک ہم عصر نے مشورہ دیا کہ آپ پر یہ جائز ہے کہ آپ بحالت مجبوری حکومتی مطالبہ مان سکتے ہیں. تو امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ "اگر میں انکا یہ خود ساختہ باطل عقیدہ تسلیم کر لوں کہ قرآن مخلوق ہے تو تمام مسلمان گمراہ ہو جائیں گے." تو انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا.

اسی طرح بنی اسرائیل کے احبار( علماء ) نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرایا. جب ان علماء نے دعوتِ حق قبول کرنے سے انکار کیا تو لوگ بھی حضرت عیسٰی علیہ السلام پر یقین نہیں لائے. ان لوگوں نے بھی یہی کہا کہ ہمارے علماء نے ہمیں فتوی نہیں دیا کہ ہم آپ ( حضرت عیسٰی علیہ السلام ) کی پیروی کریں. حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ایمان لانے والے صرف اور صرف نوجوان اور مچھیرے تھے. اور لوگوں کی اکثریت اپنے گمراہ علماء کے پیچھے دھوکے میں رھی.

پس، علماء حق کی صحبت اہم ترین ضرورت ہے. کیونکہ علم کافی نہیں ہے، بلکہ علم رکھنے والے کا تعلق باللہ، حق کا ایک معیار ہے.

ابليس بہت علم والا تھا. اور بھی بنی اسرائیل کے بہت سے اہل علم کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے حق کا انکار کیا.

حضرت موسی علیہ السلام، اپنی قوم کو حضرت ہارون علیہ السلام کی معیت میں چھوڑ کر گئے تھے. لیکن سامری نے لوگوں کو دھوکہ دیا، وہ ایک بہت جادوئی شخصیت رکھنے والا چرب زبان آدمی تھا. اس نے اللہ کے ایک نبی کو پیچھے دھکیل کر انکی قوم کو اپنے زیر کیا، لوگوں نے حضرت ہارون علیہ السلام کو چھوڑ کر سامری کی پیروی کی.

تو حق پر ہونے کی دلیل مقبولیت نہیں ہے.
آج اگر آپ ہارون علیہ السلام اور سامری کو الیکشن میں کھڑا کریں تو سامری جیت جائے گا کیونکہ سامری جانتا تھا کہ لوگوں کو کیسے بے وقوف بنانا ہے.

--- شیخ انور العولقی رحمہ اللہ.
#علماء_سوء
عید میلاد
رسول اکرم ﷺ کے دور میں:-

قران مجید کی کسی آیت سے صراحتا و قنایتا کوئی دلیل نہیں ملتی جس سے کسی کی سالگره یا میلاد منانے کی دلیل لی جا سکے، اور نہ ہی کسی صحیح حدیث سے ثابت هوتا ہے
آپﷺ کی تین صاحبزادیاں
حضرت زینب، حضرت ام کلثوم، حضرت رقیہ رضی اللہ عنهما کی وفات آپکی زندگی میں ہوئی لیکن ان میں سے کسی کا سالگرہ آپﷺ نے نہیں منایا جبکہ نبی هونے کے بعد 23 سال آپﷺ زندہ رہے لیکن اس عرصے میں نہ آپﷺ نے کسی صحابہ کو اپنی تا ریخ ولادت پر سالگرہ منانے کا حکم دیا اور نہ ہی اصحاب کرام نے اس عرصہ میں اپکی تاریخ ولادت پر اپنے طرف سے میلاد منائے

میلاد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں:-

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد 5 اصحاب نے خلافت و حکومت چلائی مگر ان پانچوں میں سے نہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے زمانے میں کبھی عید میلاد منائی گئی اور نہ ہی عمر رضی اللہ عنہ اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ اور نہ علی رضی اللہ عنہ اور نہ امیر معاویه رضی اللہ عنہ نے

میلاد تابعین یا تبع تابعین کے دور میں:-
صحابہ کرام کے بعد سب سے افضل اور قابل اعتماد لوگ تابعین اور انکے تبع تابعین ہے مگر تاریخ شاہد ہے کہ ان افراد میں سے کسی فرد نے بہی آپﷺ کی تاریخ پیدائش سالگرہ یا عرس نہیں منایا

میلاد ائمہ ومحدثین اور فقہائے عظام کے دور میں:-

أئمہ ومحدثین اور فقہائے عظام مثلا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ امام احمد رحمہ اللہ سفیان عُیینہ رحمہ اللہ امام اوزاعی رحمہ اللہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم رحمہ اللہ اور تمام علماء حدیث وفقہ میں سے کسی نے میلاد نہیں منائی اور نہ ہی انکے زمانے میں منائی گئ اور نہ ان میں سے کسی نے اجازت دی اسلئے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت منقول ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا " من احدث فی امرنا هذا ما لیس منه فہو رد" رواہ البخاری
اور اسلئے کہ قرآن اور حدیث میں میلاد یا عرس منانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا لہذا یہ قران و حدیث کی نگاہ میں ایک مذموم و من گهڑت بدعات کے سوا کچھ نہیں

جشن عید میلاد کا موجد

جشن عید میلاد النبی کی ابتداء ابوسعید کوکبوری بن ابی الحسن علی بن محمد الملکب الملک المظم مظفر الدین اربل (موصل) متوفی 18 رمضان 630هہ نے کی یہ بادشاہ ان محفلوں میں بے دریا پیسہ خرچ کرتا اور آلات لهو لعب کے ساتھ راگ ورنگ کی محفلیں منعقد کرتا تها
مولانا رشید احمد گنگوہی لکهتے ہیں اہل تاریخ نے صراحت کی ہے کہ یہ بادشاہ بهانڈؤں گانے والوں کو جمع کرتا گانے آلات سے گانا سنتا اور خود ناچتا
حوالہ فتوی رشیدیه صفحہ 123

یہ تو تها اسکا موجد جهاں تک اسکے جواز کا فتوی دینے والے شخص کا نام ہے
ابو الخطاب عمر بن الحسن المعروف بابن دحیا کلبی متوفی 633هہ
حافظ حجر اپنی کتاب لسان المیزان جلد 2 صفحہ 295 میں لکهتے ہیں کہ میں نے تمام لوگوں کو دحیا کلبی کے جهوٹ اور ضعیف ہونے پر متفق پایا ہے

امام احمد بصری لکهتے هیں چاروں مذاہب کے علماء عید میلاد منانے اور اس میں شامل ہونے کی برائی پر اتفاق کر لیا ہے
(حوالہ تاریخ میلاد صفحہ 115)
ج

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکهتے کسی پیغمبر کی وفات یا تولد کے دن کو عید کی طرح منانا جائز نہیں ہے
(حوالہ تحفہ اثنا عشر یه)

علامہ رشید رضا
میلاد کا یہ عمل بدعت ہے خیرالقرون کے سلف صالحین میں سے کسی کی طرف سے اس کی بابت کوئی چیز منقول نہیں هے
(حوالہ محفل میلاد النبی پر تحقیقی بحث عبداللہ بن زید المحمود صفحہ 63)

علامہ تاج الدین فاکهانی نے کہا کہ محفل میلاد کی کوئی اصل، کتاب وسنت سے مجھے نہیں ملی اور نہ ایسے علماء سے منقول ہے جو دین کے پیشوا اور آثار سلف سے تمسک کرنے والے تهے بلکہ وہ ایک بدعت ہے جسے باطل پرستوں نے ایجاد کیا ہے
(حوالہ المنکرات فی العقائد )

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ
عمل مولد بعض لوگوں نے نصاریٰ کی اتباع میں ایجاد کیا ہے یا نبی کی تعظیم میں آپکے یوم ولادت کے موقع پر جو عید میلاد منائی جاتی ہے یہ عمل مولد سلف صالحین نے نہیں کیا (حوالہ اقتضاء الصراط المستقیم)

علامہ شیخ احمد بن حجر
عید میلاد النبی کی بدعت ساتویں صدی ہجری میں موصل میں واقع اربل کے بادشاہ مظفر نے ایجاد کی تهی (حوالہ بدعت اور ان کا شرعی پوسٹ مارٹم ڈاکٹر یوسف قرضاوی

حافظ ابوبکر بغدادی حنفی {المنکرات فی العقائد) میں لکهتے هیں بےشک عید ملاد النبی کا عمل سلف سے منقول نهیں هے

محمدبن ابوبکرمخزومی کہتے هیں تمام برائیوں سے بڑھکربرائی رسولﷺ کا میلاد کرنا هے (تاریخ میلاد)
فقیہ بہاؤ الدین بن شداد رحمہ اللہ حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے متعلق کہتے ہیں:

"میں نے آپ رحمہ اللہ کو دیکھا کہ آپ شہر عکا(Acre) کے پاس تھے، آپ مرض میں مبتلا تھے جبکہ آپ کے پورے جسم میں دانے نکل چکے تھے اور آپ بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے اور ایک طرف ہوکر بیٹھا کرتے تھے جب وہ خیمے میں ہوتے تھے۔"
"اس کے باوجود ان کا خیمہ دشمن کے خیمہ کے بالکل قریب تھا، وہ لوگوں کو حکم دے رہے تھے۔ وہ لوگوں کو دائیں اور بائیں جانب منظم کر رہے تھے اور ان کو جنگ پر آمادہ کر رہے تھے۔ اور اس کے باوجود صبح سحر سے لے کر مغرب کی نماز تک وہ گھوڑوں پر سوار ہو کر شدید تکلیف پر صبر کرتے ہوئے اور دانوں کو سہتے ہوئے فوجیوں کی طرف طواف کیا کرتے تھے۔ میں اس پر بڑا حیران ہوتا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جب میں سوار ہوتا ہوں، میری تکلیف چلی جاتی ہے یہاں تک کہ میں اتر جاتا ہوں۔ یہ ان پرپروردگار کی ایک عنایت تھی۔"
[النوادر السلطانية والمحاسن اليوسفية ، صفحہ نمبر ۵۷]

بہاؤ الدین بن شدادؒ متفق علیہ طور پر ثقہ عالمِ شریعت اور مؤرخ ہیں۔اس لیے صلاح الدین ایوبی ؒکے متعلق ان کی سیرت لائقِ اعتماد ہے۔ یہ محض کوئی بادشاہوں کی تعریف و مدح سرائی نہیں۔
🍂 - "میرے کچھ دوست ایسے ہیں جن سے سال میں ایک آدھ بار ہی مل پاتا ہوں لیکن ان کی محبت پر ان لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے جن سے روزانہ ملاقات ہوتی ہے."

📚 - *(امام الدنيا أحمد بن حنبل رحمه الله || الآداب الشرعية : ٢٨٣/٣)*
#سلسلة_اقوال_السلف
✍🏻 - ”بے وفا شخص سے کی گئی محبت اور ناشکرے انسان سے کی گئی بھلائی سے بڑا کوئی ضیاع نہیں ہے۔“

📝 - *[ امام ابن حبان رحمه الله || روضة العقلاء : ٧٧ ]*
#سلسلة_اقوال_السلف
🌀 - "تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ زیادہ فالورز ہونےکو بھی حقانیت کی دلیل قرار دیتے ہیں، حالانکہ سلف کے نزدیک قرآن و سنت پر قائم رہنا دلیلِ حقانیت ہے۔"

✍️ - *|[ مولانا واصل واسطی حفظه الله ]|*
#سلسلة_اقوال_العلماء
✍🏻 - ”جن سنتوں پر زبانیں دراز ہونے لگیں، انہیں زندہ کرنا انہیں ترک کر دینے سے افضل ہو جاتا ہے۔“

📝 - *|[ امام ابن المنذر رحمه الله || الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف : ٤٤٠/١ ]|*
#سلسلة_اقوال_السلف
"علمائے سلف ہمیشہ سے خوبصورت لباس پہنتے رہے ہیں۔ وہ اسے تکبر نہیں سمجھتے تھے۔"

💐 (حافظ ابنِ رجب - فتح الباری : ٤٢٣/٢)
#سلسلة_اقوال_السلف
✍🏻 - ”طلبِ علم کی ابتداء قرآن مجید کے حفظ سے کرنی چاہیے، اس سے اہم علم کوئی نہیں۔ سلف صالحین حدیث اور فقہ کا علم اسی کو دیتے تھے جو قرآن کا حافظ ہوتا تھا۔ اور خبردار! حفظ کرنے کے بعد بھی حدیث اور فقہ میں اتنا مگن نہ ہو جائے کہ قرآن بھول جائے۔“

📝 - *[ حافظ نووی رحمه الله || المجموع شرح المهذب : ٣٨/١ ]*
#سلسلة_اقوال_السلف
🥼 - ”لباس کی پاکیزگی و عمدگی عبادت کی بہترین ادائیگی میں معاون ہے۔ جب انسان اپنے رب کیلیے بنتا سنورتا ہے، تو عبادت میں بھی کمال پیدا ہوتا ہے۔ تمیم داری رضي الله عنه نے ہزار دینار کی ایک پوشاک خرید رکھی تھی، جو وہ تہجد کیلیے زیبِ تن کرتے تھے۔ یعنی وہ اپنے رب کیلیے سنورتے تھے، تاکہ ان کی عبادت میں نکھار پیدا ہو۔“

🎙️ *|[ شیخ صالح العصيمى حفظه الله ]|*
#سلسلة_اقوال_العلماء
💬 - *"لیکن لوگ کیا کہیں گے؟"*

✍🏽 امام *ابن قدامہ* رحمه الله کہتے ہیں:

"جان لو کہ اکثر لوگ دوسرے لوگوں کی مذمت کے ڈر سے اور ان کی مدح کی خواہش کے سبب سے ہلاک ہوتے ہیں۔ ان کے تمام تر افعال لوگوں کی مرضی کے موافق ہوتے ہیں کیوں کہ انھیں تعریف و ستائش کی چاہت اور مذمت کا خوف ہوتا ہے۔ یہ ہلاکت آفریں رویہ ہے جس کا علاج لازم ہے."

📋 - *(مختصر منهاج القاصدين ص ٢١٢)*
#سلسلة_اقوال_السلف
🔕 - *"خاموشی بے وقوفوں سے گفتگو کی تکلیف سے راحت کا وسیلہ ہے."*

📚 (امام شوکانی رحمه الله - أدب الطلب ١٧٨)
#سلسلة_اقوال_السلف
🌹 - ”غیر مسلم کو اسلام سمجھانا ہو تو اخلاق بھی اسلام والا ہونا چاہیے، اور کسی بدعتی کو سنت کے متعلق سمجھانا ہو تو اخلاق بھی صاحب سنت ﷺ والا ہونا چاہیے۔“

🎙️ - *|[ مولانا محمد ھود حفظه الله ]|*
#سلسلة_اقوال_العلماء
*💐 امام شافعی رحمه الله نے فرمایا:*

’’طالب علموں پر لازم ہے کہ علم کے حصول کے لئے انتہائی کوشش کریں اور علم کی طلب میں درپیش آنے والی مشکلات پر صبر کریں، اور قرآن وحدیث کے نصوص وتفقہ کا علم صرف خالص الله کی رضا کے لئے حاصل کریں اور علم کے حصول کے لئے صرف الله سے مدد مانگیں، کیونکہ کوئی بھی بھلائی الله کی مدد کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔‘‘

*📚 (کتاب الرسالہ، الرقم: 45، ترجمہ: مفہوماً، طبع: دار الکتاب العربی)*
#سلسلة_اقوال_السلف
" اصحابِؓ محمدؐ حق کے ولی "

~ امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰه نے فرمایا کہ :

• ہم رسول اللّٰه ﷺ کے صحابہؓ میں سے کسی کو بھی ذکر نہیں کرتے مگر خیر ہی کے ساتھ۔
• رسول اللّٰه ﷺ کے ساتھ ان (صحابہؓ) میں سے کسی ایک کا ایک ساعت کے لئے قیام ہم میں سے ایک کی تمام عمر کے عمل سے بہتر ہے، چاہے وہ عمر لمبی ہی کیوں نہ ہو۔
• ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکر صدیقؓ ہیں، پھر عمرؓ ہیں، پھر عثمانؓ ہیں، پھر علیؓ ہیں، ان سب پر اللّٰه کی رضا ہو۔
(الفقہ الاکبر، ص. ۳۰۴، مناقب ابی حنیفہ از مکی، ص. ۲۶، الوصیہ مع شرحہا، ص. ۱۴)

~ امام شافعی رحمہ اللّٰه نے فرمایا کہ :

• اللّٰه تبارک وتعالیٰ نے قرآن، توریت اور انجیل میں رسول اللّٰه ﷺ کے اصحابؓ کی ثنا کی ہے اور خود رسول اللّٰه ﷺ کی زبان سے بھی ان کے لئے ایسی فضیلت سبقت کر چکی ہے جو ان کے بعد کسی اور کے لئے نہیں ہے۔ صحابہؓ نے ہمیں رسول اللّٰه ﷺ کی سنتیں پہنچائیں اور آپؐ کا اس حالت میں مشاہدہ کیا کہ آپؐ پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ پس انہوں نے رسول اللّٰه ﷺ کی مراد کو جانا۔ وہ ہر علم اور اجتہاد میں، ورع و عقل میں اور ہر اس معاملے میں جس سے کسی علم کا استدراک اور استنباط کیا جائے ہم سے بڑھ کر ہیں۔ ان کی رائے ہمارے لئے زیادہ لائقِ حمد اور ہمارے نزدیک ہماری اپنی رائے سے زیادہ بہتر ہے۔
• بیہقی نے محمد بن عبداللّٰه بن عبدالحکم سے روایت کی ہے کہ "میں نے امام شافعیؒ کو سنا کہہ رہے تھے کہ رسول اللّٰه ﷺ کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی رضی اللّٰه عنہم۔
(مناقب الشافعی ۱ / ۴۳۳، ۴۴۲)

~ امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰه کی کتاب السنہ میں بیان ہے کہ :

"سنت سے ہے کہ رسول اللّٰه ﷺ کے تمام کے تمام اصحابؓ کے محاسن (بھلائیاں اور نیکیاں) ذکر کیے جائیں اور ان کی خامیوں کے ذکر سے رک جایا جائے اور اس اختلاف کے ذکر سے بھی رک جایا جائے جو ان کے درمیان پیدا ہوگیا تھا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص رسول اللّٰه ﷺ کے اصحابؓ کو یا ان میں سے کسی ایک کو برا بھلا کہے تو وہ بدعتی ہے، رافضی ہے، خبیث ہے، جفاکار (ظالم) ہے، اللّٰه اس کے فرض و نفل کو قبول نہیں کرے گا۔ ان (صحابہؓ) کی محبت سنت ہے، ان کے لئے دعا قربت ہے، ان کی اقتداء وسیلہ ہے اور ان کے آثار (اقوال و افعال) کو اختیار کرنا فضیلت ہے۔ کسی کے لئے جائز نہیں کہ ان کی خامیوں میں سے کچھ بھی ذکر کرے اور نہ یہ درست ہے کہ ان میں سے کسی پر بھی عیب یا نقص کی طعنہ زنی کرے۔ اگر کوئی ایسا کرے تو حاکمِ وقت پر ضروری ہے کہ اس کی تادیب کرے اور اسے سزا دے، یہ نہیں کہ اسے معاف کرے۔"
(کتاب السنتہ للامام احمد _ ص. ۷۷، ۷۸)

{ماخوذ: ائمہ اربعہ کا عقیدہ، تالیف: ڈاکٹر محمد بن عبدالرحمٰن الخمیس، ترجمہ: ابو ہشام اعظمی}
" پوٹن نے آزاد دنیا کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی ہے جسکی اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی "
امریکی صدر بائیڈن

کیا کمال کا جملہ بولا ہے بائڈن نے لیکن جب خود پر آن پڑی تب ،
اس آزاد دنیا کی بنیادیں تب بھی ہلائی گئی تھی جب افغانستان پر آپ نے مدر آف آل بمب MOB پھینکا تھا

اس آزاد دنیا کی بنیادیں تب بھی ہلائی گئی تھی جب آپ نے ایک عظیم تاریخی دارالحکومت بغداد کا وہ حشر کیا کہ دنیا اس کی مثال پیش نہیں کر سکے گی

اس آزاد دنیا کی بنیادیں تب بھی ہلائی گئی تھی جو آپکے گریٹ گیم کے نتیجے میں شام کے ساحل پر پانچ سالہ ایلان کردی کی لاش پڑی تھی اور کوئی اسے اٹھانے والا نہیں تھا ،

یہ آپکی آزاد دنیا بھی عجیب ہے ، جب یہ قیامت جسے جنگ کہتے ہیں کسی ایشیائی یا افریقی نسل پر پڑتی ہے تو آزاد دنیا کی بنیادیں مزید مضبوط ہو جاتی ہے لیکن یہ جنگ جب کسی گورے او یورپی نسل پر مسلط کی جاتی ہے تو دنیا کی بنیادیں ہل جاتی ہے ،

یوکرائن کی جنگ نے مغرب کے تصور مساوات ، انسانیت اور تہذیب کو جس طرح بے نقاب کیا ہے وہ اس سے پہلے کبھی کسی سانحے یا واقعے نے بے نقاب نہیں کیا تھا

اقبال رح نے آپکے متعلق سچ کہا تھا

یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیوان ہے ظلمات
#م_ش