بینک کے ذریعے قسطوں پر گاڑی خریدنے کا حکم
Question: 56839
مفتی صاحب! مجھے ایک کار خریدنی ہے لیکن میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ ا یک مشت میں خریدلوں۔ اگر بینک سے لینے کی کوئی جائز شکل ہو تو رہبری فرمائیں ۔ بینواتوجرو
Dec 01,2014
Answer: 56839
Fatwa ID: 74-74/Sd=2/1436-U
بینک کے ذریعے گاڑی خریدنے کی جائز شکل یہ ہے کہ بینک پہلے کمپنی سے مثلاً ایک لاکھ میں گاڑی خریدلے، پھر بینک خریدار کو مثلاً ایک لاکھ پچیس ہزار میں یہ گاڑی فروخت کردے اورمجموعی رقم چاہے تو نقد وصول کرے یا قسطوں پر، یہ شکل بیع مرابحہ کے دائرے میں داخل ہوکر جائز ہوگی، اس صورت میں شرعاً یہ بھی جائز ہے کہ بینک ادھار یا قسطوں پر فروختگی کی صورت میں نقد کے مقابلے میں گاڑی کی زیادہ قیمت متعین کردے، حاصل یہ ہے کہ بینک اگر گاڑی کا اصل مالک بن کر خریدار کے ساتھ معاملہ کرے تو ادھار یا قسطوں پر فروخت کرنے کی صورت میں زیادہ قیمت متعین کرنا سود کے دائرے میں نہیں آئے گا، اسی طرح بینک کے ذریعے گاڑی خریدنے کی دوسری جائز صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بینک خریدار کو اپنا وکیل بنادے جو کمپنی سے گاڑی خریدکر بینک کے حوالے کردے، پھر بینک اس گاڑی کو خریدار کے ہاتھ نقد،ادھار یا قسطوں پر فروخت کردے۔
قال الحصکفی: المرابحة بیع ما ملکہ بما قام علیہ وبفضل، ثم باعہ مرابحة علی تلک القیمة، جاز (الدر المختار مع رد المحتار: ۷/۴۹-۵۰)
قال الإمام الترمذي تحت حدیث: ”نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین في بیعة“ وقد فَسَّر بعض أہل العلم قالوا بیعتین فی بیعة أن یقول: أبیعک ہذا الثوبَ بنقد بعشرة وبنسیئة بعشرین ولا یفارقہ علی أحد البیعتین، فإذا فارقہ علی أحد منہما، فلا بأس بہ إذا کانت العقدة علی أحد منہما، (الجامع الترمذي، باب ما جاء في النہی عن بیعتین في بیعة، رقم: ۶۲۳۱)
وقال السرخسي: وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا، فہو فاسد، وہذا إذا افترقا علی ہذا، فإن کان یتراضیان بینہما، ولم یتفرقا، حتی قاطعہ علی ثمن معلوم، وأتما العقد علیہ جاز (المبسوط للسرخسي: ۱۳/ ۸، دار المعرفة بیروت)
کذا في امداد الفتاوی: ۳/۱۳۵-۱۳۶، کتاب البیوع،زکریا، دیوبند)
=================
نوٹ: بینک یا کسی ثالث کے توسط سے گاڑی خریدنے کی جو دو صورتیں جواب میں لکھی گئی ہیں وہ درست اور صحیح ہیں جیسا کہ عبارات فقہیہ سے واضح ہے، مگر بینک سے اس طرح کا معاملہ ہوپانا عملاً دشوار ہے کیونکہ وہ اپنے لگے بندھے طریقہ پر لون دینے کے عادی ہیں جس سے معاملہ سودی ہوجاتا ہے جو کہ ناجائز ہے، پس جواب کے مطابق اگر بینک سے معاملہ کیا جائے تو اس کی تفصیل لکھ کر کہ کس طرح معاملہ ہوا ہے پھر دوبارہ حکم معلوم کرلیا جائے تاکہ سودی لین دین سے تحفظ رہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
Question: 56839
مفتی صاحب! مجھے ایک کار خریدنی ہے لیکن میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ ا یک مشت میں خریدلوں۔ اگر بینک سے لینے کی کوئی جائز شکل ہو تو رہبری فرمائیں ۔ بینواتوجرو
Dec 01,2014
Answer: 56839
Fatwa ID: 74-74/Sd=2/1436-U
بینک کے ذریعے گاڑی خریدنے کی جائز شکل یہ ہے کہ بینک پہلے کمپنی سے مثلاً ایک لاکھ میں گاڑی خریدلے، پھر بینک خریدار کو مثلاً ایک لاکھ پچیس ہزار میں یہ گاڑی فروخت کردے اورمجموعی رقم چاہے تو نقد وصول کرے یا قسطوں پر، یہ شکل بیع مرابحہ کے دائرے میں داخل ہوکر جائز ہوگی، اس صورت میں شرعاً یہ بھی جائز ہے کہ بینک ادھار یا قسطوں پر فروختگی کی صورت میں نقد کے مقابلے میں گاڑی کی زیادہ قیمت متعین کردے، حاصل یہ ہے کہ بینک اگر گاڑی کا اصل مالک بن کر خریدار کے ساتھ معاملہ کرے تو ادھار یا قسطوں پر فروخت کرنے کی صورت میں زیادہ قیمت متعین کرنا سود کے دائرے میں نہیں آئے گا، اسی طرح بینک کے ذریعے گاڑی خریدنے کی دوسری جائز صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بینک خریدار کو اپنا وکیل بنادے جو کمپنی سے گاڑی خریدکر بینک کے حوالے کردے، پھر بینک اس گاڑی کو خریدار کے ہاتھ نقد،ادھار یا قسطوں پر فروخت کردے۔
قال الحصکفی: المرابحة بیع ما ملکہ بما قام علیہ وبفضل، ثم باعہ مرابحة علی تلک القیمة، جاز (الدر المختار مع رد المحتار: ۷/۴۹-۵۰)
قال الإمام الترمذي تحت حدیث: ”نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیعتین في بیعة“ وقد فَسَّر بعض أہل العلم قالوا بیعتین فی بیعة أن یقول: أبیعک ہذا الثوبَ بنقد بعشرة وبنسیئة بعشرین ولا یفارقہ علی أحد البیعتین، فإذا فارقہ علی أحد منہما، فلا بأس بہ إذا کانت العقدة علی أحد منہما، (الجامع الترمذي، باب ما جاء في النہی عن بیعتین في بیعة، رقم: ۶۲۳۱)
وقال السرخسي: وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا، فہو فاسد، وہذا إذا افترقا علی ہذا، فإن کان یتراضیان بینہما، ولم یتفرقا، حتی قاطعہ علی ثمن معلوم، وأتما العقد علیہ جاز (المبسوط للسرخسي: ۱۳/ ۸، دار المعرفة بیروت)
کذا في امداد الفتاوی: ۳/۱۳۵-۱۳۶، کتاب البیوع،زکریا، دیوبند)
=================
نوٹ: بینک یا کسی ثالث کے توسط سے گاڑی خریدنے کی جو دو صورتیں جواب میں لکھی گئی ہیں وہ درست اور صحیح ہیں جیسا کہ عبارات فقہیہ سے واضح ہے، مگر بینک سے اس طرح کا معاملہ ہوپانا عملاً دشوار ہے کیونکہ وہ اپنے لگے بندھے طریقہ پر لون دینے کے عادی ہیں جس سے معاملہ سودی ہوجاتا ہے جو کہ ناجائز ہے، پس جواب کے مطابق اگر بینک سے معاملہ کیا جائے تو اس کی تفصیل لکھ کر کہ کس طرح معاملہ ہوا ہے پھر دوبارہ حکم معلوم کرلیا جائے تاکہ سودی لین دین سے تحفظ رہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
❤1
India
Question: 60582
ایک گاڑی اگر پچاس ہزار کی ھے اور قسطوں پر اسکی قیمت ساٹھ ھزار ہوتی ہے ایسی صورت میں کیا گاڑ؛ی لینا جائز ہے یا نہیں؟ مگر ہمیں پتہ ہے کہ ان قسطوں میں کچھ حصہ سود کا بھی شامل ہے ؟ آپ کے مسائل اور انکا حل کتاب میں اس مسئلہ کو درست بتا یا ہے کہ قسطوں کی رقم ایک بار مقرر کردے تو یہ سود کے حکم میں شامل نہیں ہو گا. اس مسئلہ کا حل بتا دیں۔
Aug 13,2015
Answer: 60582
Fatwa ID: 1052-844/D=10/1436-U
نقد فروخت کرنے میں سامان کی قیمت کم ہو اور ادھار میں زیادہ ہوجائے ایسا جائز ہے بشرطیکہ کوئی ایک قیمت متعین ہوکر حتمی طور پر معاملہ اس پر ہوجائے مثلاً نقد لے رہے ہیں تو نقد قیمت پر، ادھار لے رہے ہیں تو ادھار قیمت پر، تذبذب اور تردد نہ رہے مثلاً اگر نقد ادا کردیا تو اتنا ادھار ادا کیا تو اتنا۔ پھر ادھار قیمت قسطوں میں ادا کرنے کی بات بھی طے ہوسکتی ہے، حرج نہیں۔ مگر اس میں بھی وقت بڑھنے کے اعتبار سے قیمت میں اضافہ کی بات نہ ہو، مطلب یہ کہ قسطوں میں ادا کی جانے والی رقم اور مدت دونوں متعین ہوجائے، مذکورہ صورت اس وقت جائز ہے جب آپ براہ راست کسی (شو روم) سے خرید رہے ہوں، اور اکر بینک کے ذریعہ خریدیں تو ضروری ہے کہ بینک گاڑی خریدکر اپنے اضافہ کے ساتھ (خواہ وہ سود کے نام سے ہو) آپ کے ہاتھ فروخت کرے؛ لیکن بینک ایسا نہیں کرتے ہیں ، وہ تو لون (قرض) دیتے ہیں جسے قسطوں میں وصول کرتے ہیں، ایسی صورت میں اضافہ یقینا سود ہے اور اس طرح لون پر گاڑی لینا جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
Question: 60582
ایک گاڑی اگر پچاس ہزار کی ھے اور قسطوں پر اسکی قیمت ساٹھ ھزار ہوتی ہے ایسی صورت میں کیا گاڑ؛ی لینا جائز ہے یا نہیں؟ مگر ہمیں پتہ ہے کہ ان قسطوں میں کچھ حصہ سود کا بھی شامل ہے ؟ آپ کے مسائل اور انکا حل کتاب میں اس مسئلہ کو درست بتا یا ہے کہ قسطوں کی رقم ایک بار مقرر کردے تو یہ سود کے حکم میں شامل نہیں ہو گا. اس مسئلہ کا حل بتا دیں۔
Aug 13,2015
Answer: 60582
Fatwa ID: 1052-844/D=10/1436-U
نقد فروخت کرنے میں سامان کی قیمت کم ہو اور ادھار میں زیادہ ہوجائے ایسا جائز ہے بشرطیکہ کوئی ایک قیمت متعین ہوکر حتمی طور پر معاملہ اس پر ہوجائے مثلاً نقد لے رہے ہیں تو نقد قیمت پر، ادھار لے رہے ہیں تو ادھار قیمت پر، تذبذب اور تردد نہ رہے مثلاً اگر نقد ادا کردیا تو اتنا ادھار ادا کیا تو اتنا۔ پھر ادھار قیمت قسطوں میں ادا کرنے کی بات بھی طے ہوسکتی ہے، حرج نہیں۔ مگر اس میں بھی وقت بڑھنے کے اعتبار سے قیمت میں اضافہ کی بات نہ ہو، مطلب یہ کہ قسطوں میں ادا کی جانے والی رقم اور مدت دونوں متعین ہوجائے، مذکورہ صورت اس وقت جائز ہے جب آپ براہ راست کسی (شو روم) سے خرید رہے ہوں، اور اکر بینک کے ذریعہ خریدیں تو ضروری ہے کہ بینک گاڑی خریدکر اپنے اضافہ کے ساتھ (خواہ وہ سود کے نام سے ہو) آپ کے ہاتھ فروخت کرے؛ لیکن بینک ایسا نہیں کرتے ہیں ، وہ تو لون (قرض) دیتے ہیں جسے قسطوں میں وصول کرتے ہیں، ایسی صورت میں اضافہ یقینا سود ہے اور اس طرح لون پر گاڑی لینا جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
نو(۹)ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں:
(1) حضرت ابراہیم کو آٹھ(۸) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا، پھرنو(۹)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے، چوں کہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین نو(۹)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے نو(۹) ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔
(2) نو ذی الحجہ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نےحضرت ابراہیم علیہ السلام کوتمام "مناسکِ حج" سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔
(3) نو(۹) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چوں کہ میدانِ عرفات میں وقوف کے لیے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو "یومِ عرفہ" بھی کہہ دیتے ہیں۔
مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ تسمیہ کے اعتبار سے’یومِ عرفہ‘کوصرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف وجوہات کی بنا پر (۹)ذی الحجہ کادوسرا نام ہے، لہٰذا یہ دن ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا،یعنی دیگر ممالک میں جس دن نو(۹) ذی الحجہ ہوگی وہی دن ’یومِ عرفہ ‘کہلائے گا، خواہ اس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ نہ ہو۔
صومِ یوم عرفہ کے لیے سعودی عرب کے 9 ذی الحجہ کا اعتبار کرنے سے ایک پیچیدگی لازم آئے گی، دنیا کے بعض ممالک کی تاریخیں سعودی عرب سے ایک دن پہلے کی ہوتی ہیں، (یعنی وہ ممالک جہاں چاند کی پیدائش اور طلوع وغروب سعودی عرب سے پہلے ہو) مثلاً: جس دن سعودی عرب میں 9 ذی الحجہ ہے، اس دن بعض ممالک میں 10 ذی الحجہ ہوگا. 10 ذی الحجہ کو اس ملک کے مسلمان عید الاضحٰی منائیں گے اور اس دن ان کے لیے روزہ رکھنا ناجائز ہوگا، پھر وہ اس دن کو سعودی عرب کی متابعت میں 'یوم عرفہ' مان کر اس میں روزہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟
خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمان "یومِ عرفہ" کا روزہ سعودی عرب کی تاریخ کے حساب سے رکھنے کے پابند نہیں ہیں، سعودی عرب کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو، اور دوسرے ممالک کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو. البتہ پاکستان اور وہ مشرقی ممالک جو سعودی عرب سے ایک تاریخ پیچھے ہوتے ہیں، وہاں کے مسلمانوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ آٹھ اور نو ذوالحجہ دونوں دن روزہ رکھ لیا کریں، کیوں کہ عشرہ ذوالحجہ کے ہر روزے کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور ان ممالک کے لوگوں کے لیے اس دن روزہ رکھنے میں کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔
(1) حضرت ابراہیم کو آٹھ(۸) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا، پھرنو(۹)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے، چوں کہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین نو(۹)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے نو(۹) ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔
(2) نو ذی الحجہ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نےحضرت ابراہیم علیہ السلام کوتمام "مناسکِ حج" سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔
(3) نو(۹) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چوں کہ میدانِ عرفات میں وقوف کے لیے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو "یومِ عرفہ" بھی کہہ دیتے ہیں۔
مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ تسمیہ کے اعتبار سے’یومِ عرفہ‘کوصرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف وجوہات کی بنا پر (۹)ذی الحجہ کادوسرا نام ہے، لہٰذا یہ دن ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا،یعنی دیگر ممالک میں جس دن نو(۹) ذی الحجہ ہوگی وہی دن ’یومِ عرفہ ‘کہلائے گا، خواہ اس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ نہ ہو۔
صومِ یوم عرفہ کے لیے سعودی عرب کے 9 ذی الحجہ کا اعتبار کرنے سے ایک پیچیدگی لازم آئے گی، دنیا کے بعض ممالک کی تاریخیں سعودی عرب سے ایک دن پہلے کی ہوتی ہیں، (یعنی وہ ممالک جہاں چاند کی پیدائش اور طلوع وغروب سعودی عرب سے پہلے ہو) مثلاً: جس دن سعودی عرب میں 9 ذی الحجہ ہے، اس دن بعض ممالک میں 10 ذی الحجہ ہوگا. 10 ذی الحجہ کو اس ملک کے مسلمان عید الاضحٰی منائیں گے اور اس دن ان کے لیے روزہ رکھنا ناجائز ہوگا، پھر وہ اس دن کو سعودی عرب کی متابعت میں 'یوم عرفہ' مان کر اس میں روزہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟
خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمان "یومِ عرفہ" کا روزہ سعودی عرب کی تاریخ کے حساب سے رکھنے کے پابند نہیں ہیں، سعودی عرب کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو، اور دوسرے ممالک کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو. البتہ پاکستان اور وہ مشرقی ممالک جو سعودی عرب سے ایک تاریخ پیچھے ہوتے ہیں، وہاں کے مسلمانوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ آٹھ اور نو ذوالحجہ دونوں دن روزہ رکھ لیا کریں، کیوں کہ عشرہ ذوالحجہ کے ہر روزے کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور ان ممالک کے لوگوں کے لیے اس دن روزہ رکھنے میں کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔
اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا ۚ وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ ۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ۟
وہ آگ ہے کہ دکھلادیتے ہیں ان کو صبح اور شام ف ٦ اور جس دن قائم ہوگی قیامت حکم ہوگا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں
یعنی دوزخ کا ٹھکانا جس میں وہ قیامت کے دن داخل کیے جائیں گے۔ ہر صبح و شام ان کو دکھلا دیا جاتا ہے تاکہ نمونہ کے طور پر اس آنے والے عذاب کا کچھ مزہ چکھتے رہیں۔ یہ عالم برزخ کا حال ہوا اور احادیث سے ثابت ہے کہ اسی طرح ہر کافر کے سامنے دوزخ کا اور ہر مومن کے سامنے جنت کا ٹھکانا روزانہ صبح و شام پیش کیا جاتا ہے۔ (تنبیہ) آیتہ ہذا سے صرف فرعونیوں کا عالم برزخ میں معذب ہونا ثابت ہوا تھا۔ اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم کرایا گیا کہ جملہ کفار بلکہ عصاۃِ مومنین بھی برزخ میں معذب ہوتے ہیں (اعاذنا اللہ منہ) کما وردفی الاحادیث الصحیحہ۔ اور بعض آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح جنتیوں میں سے شہداء کی روحیں " طیور خضر " کے " حواصل " میں داخل ہو کر جنت کی سیر کرتی ہیں، اسی طرح دوزخیوں میں سے فرعونیوں کی ارواح کو " طیور سود " کے " حواصل " میں داخل کر کے ہر صبح شام دوزخ کی طرف بھیجا جاتا ہے (البتہ ارواح کا مع ان کے اجساد کے جنت یا دوزخ میں اقامت پذیر ہونا یہ آخرت میں ہوگا) اگر یہ صحیح ہے تو فرعونیوں کے متعلق (اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا) 40 ۔ غافر :46) اور عام دوزخیوں کے متعلق حدیث " عرض علیہ مقعدہ بالغداۃ والعشیی " کے الفاظ کا تفاوت شاید اسی بناء پر ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
وہ آگ ہے کہ دکھلادیتے ہیں ان کو صبح اور شام ف ٦ اور جس دن قائم ہوگی قیامت حکم ہوگا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں
یعنی دوزخ کا ٹھکانا جس میں وہ قیامت کے دن داخل کیے جائیں گے۔ ہر صبح و شام ان کو دکھلا دیا جاتا ہے تاکہ نمونہ کے طور پر اس آنے والے عذاب کا کچھ مزہ چکھتے رہیں۔ یہ عالم برزخ کا حال ہوا اور احادیث سے ثابت ہے کہ اسی طرح ہر کافر کے سامنے دوزخ کا اور ہر مومن کے سامنے جنت کا ٹھکانا روزانہ صبح و شام پیش کیا جاتا ہے۔ (تنبیہ) آیتہ ہذا سے صرف فرعونیوں کا عالم برزخ میں معذب ہونا ثابت ہوا تھا۔ اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم کرایا گیا کہ جملہ کفار بلکہ عصاۃِ مومنین بھی برزخ میں معذب ہوتے ہیں (اعاذنا اللہ منہ) کما وردفی الاحادیث الصحیحہ۔ اور بعض آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح جنتیوں میں سے شہداء کی روحیں " طیور خضر " کے " حواصل " میں داخل ہو کر جنت کی سیر کرتی ہیں، اسی طرح دوزخیوں میں سے فرعونیوں کی ارواح کو " طیور سود " کے " حواصل " میں داخل کر کے ہر صبح شام دوزخ کی طرف بھیجا جاتا ہے (البتہ ارواح کا مع ان کے اجساد کے جنت یا دوزخ میں اقامت پذیر ہونا یہ آخرت میں ہوگا) اگر یہ صحیح ہے تو فرعونیوں کے متعلق (اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا) 40 ۔ غافر :46) اور عام دوزخیوں کے متعلق حدیث " عرض علیہ مقعدہ بالغداۃ والعشیی " کے الفاظ کا تفاوت شاید اسی بناء پر ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
زوال کا وقت
زوال کا وقت نہایت مختصر ومعمولی ہوتا ہے؛ لیکن زوال کا ٹھیک صحیح وقت جاننا آسان نہیں؛ اس لیے صحیح اور معتبر جنتری میں زوال کا جو وقت دیا گیا ہو، احتیاطاً اس سے ۴، ۵/ منٹ پہلے اور ۴، ۵/ منٹ بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہیے، نماز کے لیے ۲۵، ۳۰/ منٹ کا وقفہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے :
’’اوقات کے نقشوں میں جو زوال کا وقت لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد نماز جائز ہے، زوال میں تو زیادہ منٹ نہیں لگتے، لیکن احتیاطاً نصف النہار سے ۵ منٹ قبل اور ۵ منٹ بعد نماز میں توقف کرنا چاہیے‘‘۔ (ج۳ / ص۲۰۷)
رات میں زوال کا وقت نہیں ہوتا۔ بعض عوام میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ دن کی طرح رات میں بھی زوال ہوتاہے، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رات بارہ بجے نماز پڑھنا منع ہے، حال آں کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا پوری رات میں کسی بھی وقت نفل یا قضا نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے۔
فتاوی محمودیہ (۵: ۳۸۳، ۳۸۴، سوال: ۲۱۷۷، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)، احسن الفتاوی (۲: ۱۳۸، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی)، اور فتاوی رحیمیہ قدیم (۴: ۲۸۴، ۲۸۵) دیکھیں۔
زوال کا وقت نہایت مختصر ومعمولی ہوتا ہے؛ لیکن زوال کا ٹھیک صحیح وقت جاننا آسان نہیں؛ اس لیے صحیح اور معتبر جنتری میں زوال کا جو وقت دیا گیا ہو، احتیاطاً اس سے ۴، ۵/ منٹ پہلے اور ۴، ۵/ منٹ بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہیے، نماز کے لیے ۲۵، ۳۰/ منٹ کا وقفہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے :
’’اوقات کے نقشوں میں جو زوال کا وقت لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد نماز جائز ہے، زوال میں تو زیادہ منٹ نہیں لگتے، لیکن احتیاطاً نصف النہار سے ۵ منٹ قبل اور ۵ منٹ بعد نماز میں توقف کرنا چاہیے‘‘۔ (ج۳ / ص۲۰۷)
رات میں زوال کا وقت نہیں ہوتا۔ بعض عوام میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ دن کی طرح رات میں بھی زوال ہوتاہے، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رات بارہ بجے نماز پڑھنا منع ہے، حال آں کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا پوری رات میں کسی بھی وقت نفل یا قضا نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے۔
فتاوی محمودیہ (۵: ۳۸۳، ۳۸۴، سوال: ۲۱۷۷، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)، احسن الفتاوی (۲: ۱۳۸، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی)، اور فتاوی رحیمیہ قدیم (۴: ۲۸۴، ۲۸۵) دیکھیں۔
❤3
توبہ کا طریقہ
جواب
Fatwa: 889-657/D=08/1443
گناہ خواہ حقوق العباد سے ہوں یا حقوق اللہ سے متعلق ہوں جب كسی انسان سے سرزد ہوجائے تو اسے توبہ كرنا واجب ہے توبہ كا طریقہ یہ ہےكہ جس قدر گناہوں میں مبتلا ہے انھیں چھوڑ دے اور سارے گناہوں سے اللہ تعالی كے حضور دل سے توبہ كرے روئے گڑگڑائے اور آئندہ كے لیے پختہ ارادہ كرے كہ اب گناہ نہیں كروں گا كبھی پھر گناہ ہوجائے تواس سے پھر توبہ كرلے اس طرح توبہ كرنے سے امید ہے كہ اللہ تعالی اس كے گناہ معاف كردیں التائب من الذنب كمن لا ذنب له البتہ حقوق اللہ نمازیں باقی ہوں تو ان كی قضا كرنا زكاۃ صدقہ فطر روزہ وغیرہ باقی ہوں تو انھیں ادا كرنا توبہ كی تکمیل كے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح جو حقوق العباد تلف ہوئے مثلاً كسی كو گالی گلوچ بكا ہے غیبت كی ہے یا اور طرح سے ایذا رسانی كی ہے اور وہ لوگ یاد ہوں تو ان سے معافی مانگ لے اور حقوق مالیہ جو دوسروں كے واجب ہوں انھیں بھی یاد كركے ادا كردے ایسا كرنے سے ان شاء اللہ آخرت میں صاحب حق كے پاس آپ كی نیكیاں جانے كی نوبت نہ آئے گی۔
اور اگر اصحاب حقوق وفات پاچكے یا یاد نہیں تو پھر ان كے لیے دعائے مغفرت كرے اور اللہ تعالی سے درخواست كرے كہ میں نے جن لوگوں كا حق مارا ہے كل قیامت میں آپ ان كو خوش كردیجئے تاكہ ہماری نیكیاں جانے كی نوبت نہ آئے۔ البتہ مالی حق صاحب حق تك پہونچانا ممكن نہ ہوتو اس كی طرف سے صدقہ كردے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب
Fatwa: 889-657/D=08/1443
گناہ خواہ حقوق العباد سے ہوں یا حقوق اللہ سے متعلق ہوں جب كسی انسان سے سرزد ہوجائے تو اسے توبہ كرنا واجب ہے توبہ كا طریقہ یہ ہےكہ جس قدر گناہوں میں مبتلا ہے انھیں چھوڑ دے اور سارے گناہوں سے اللہ تعالی كے حضور دل سے توبہ كرے روئے گڑگڑائے اور آئندہ كے لیے پختہ ارادہ كرے كہ اب گناہ نہیں كروں گا كبھی پھر گناہ ہوجائے تواس سے پھر توبہ كرلے اس طرح توبہ كرنے سے امید ہے كہ اللہ تعالی اس كے گناہ معاف كردیں التائب من الذنب كمن لا ذنب له البتہ حقوق اللہ نمازیں باقی ہوں تو ان كی قضا كرنا زكاۃ صدقہ فطر روزہ وغیرہ باقی ہوں تو انھیں ادا كرنا توبہ كی تکمیل كے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح جو حقوق العباد تلف ہوئے مثلاً كسی كو گالی گلوچ بكا ہے غیبت كی ہے یا اور طرح سے ایذا رسانی كی ہے اور وہ لوگ یاد ہوں تو ان سے معافی مانگ لے اور حقوق مالیہ جو دوسروں كے واجب ہوں انھیں بھی یاد كركے ادا كردے ایسا كرنے سے ان شاء اللہ آخرت میں صاحب حق كے پاس آپ كی نیكیاں جانے كی نوبت نہ آئے گی۔
اور اگر اصحاب حقوق وفات پاچكے یا یاد نہیں تو پھر ان كے لیے دعائے مغفرت كرے اور اللہ تعالی سے درخواست كرے كہ میں نے جن لوگوں كا حق مارا ہے كل قیامت میں آپ ان كو خوش كردیجئے تاكہ ہماری نیكیاں جانے كی نوبت نہ آئے۔ البتہ مالی حق صاحب حق تك پہونچانا ممكن نہ ہوتو اس كی طرف سے صدقہ كردے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
❤2
حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں پیش آنے والے شقِ صدر کے چاروں واقعات الگ الگ مستند احادیث میں تفصیل کے ساتھ مروج ہیں۔ محدثینِ عظام (جیسے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ) نے ان روایات کو مختلف کتبِ حدیث سے جمع کیا ہے:
1۔ پہلا واقعہ: بچپن کا زمانہ (عمر مبارک 4 یا 5 سال)یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ ﷺ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے پاس قبیلہ بنی سعد میں مقیم تھے۔
اس کا مقصد آپ ﷺ کے قلبِ اطہر سے کھیل کود کے رحجان یا شیطانی اثر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا تھا۔بنیادی حدیث: صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب الإسراء برسول اللہ ﷺ (حدیث نمبر: 162/261)۔
راوی: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔تفصیل: حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو لٹا کر سینہ مبارک چاک کیا اور دل نکال کر اس میں سے جما ہوا خون (خون کا لوتھڑا) نکالا اور فرمایا: "یہ تمہارے اندر سے شیطان کا حصہ تھا"۔ پھر اسے سونے کے طشت میں آبِ زم زم سے دھویا اور اپنی جگہ واپس رکھ کر سینہ سی دیا۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں خود آپ ﷺ کے سینہ مبارک پر سلائی (ٹانکوں) کے نشان دیکھا کرتا تھا۔
2۔ دوسرا واقعہ: لڑکپن کا زمانہ (عمر مبارک تقریباً 10 سال)یہ واقعہ غفلتِ شباب (جوانی کی غفلت و لہو و لعب) سے محفوظ رکھنے اور طہارت کے لیے پیش آیا۔
بنیادی حدیث: مسند احمد (حدیث نمبر: 21259) اور صحیح ابن حبان (حدیث نمبر: 6382)۔
راوی: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے)۔تفصیل: آپ ﷺ سے صحابہ نے پوچھا کہ آپ اپنی نبوت کے ابتدائی حالات بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں جب دس سال کا تھا، تو جنگل میں (بچوں کے ساتھ) تھا کہ میرے پاس غیب سے دو فرشتے (سفید لباس میں) آئے۔ انہوں نے مجھے چت لٹایا اور میرا پیٹ چاک کیا۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ ان کا دل نکالو، انہوں نے دل نکالا اور اس میں سے کینہ اور حسد (رحم دلی کے خلاف مواد) نکال پھینکا۔ پھر اس میں رافت (نرمی) اور رحمت ڈال دی۔
3۔ تیسرا واقعہ: غارِ حرا میں بعثت کے وقت (عمر مبارک 40 سال)یہ واقعہ نبوت اور نزولِ وحی کے عظیم بوجھ کو اٹھانے کی طاقت پیدا کرنے کے لیے پیش آیا۔
بنیادی حدیث: دلائل النبوۃ (امام بیہقی)، طبرانی (المعجم الکبیر) اور مصنف ابن ابی شیبہ۔
راوی: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی روایاتِ بعثت۔تفصیل: غارِ حرا میں جب پہلی بار وحی نازل ہونے کا وقت آیا، تو فرشتوں نے آپ ﷺ کا سینہ چاک کر کے اسے دوبارہ نور اور الٰہی اسرار و حکمت سے معمور کیا تاکہ آپ ﷺ وحی الٰہی کے ثقہ (بھاری بوجھ) کو برداشت کرنے کے مکمل قابل ہو جائیں۔
4۔ چوتھی بار: شبِ معراج کے موقع پر (عمر مبارک تقریباً 51 یا 52 سال)یہ واقعہ آسمانی سفر (معراج) کی تیاری، مشاہدہِ الٰہی اور عالمِ بالا کے عجائبات دیکھنے کے لیے پیش آیا۔
بنیادی حدیث: صحیح البخاری (کتاب الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلوات فی الاسراء، حدیث نمبر: 349) اور صحیح مسلم (کتاب الایمان)۔
راوی: حضرت ابوذر غفاری اور حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہم۔تفصیل: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں مکہ مکرمہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی، جبرائیل علیہ السلام اترے، انہوں نے میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے آبِ زم زم سے دھویا。 پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا اور پھر سینے کو بند کر دیا"۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو معراج کے سفر پر لے جایا گیا۔
خلاصہ:بچپن اور معراج والے واقعات صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی اعلیٰ درجے کی صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ لڑکپن اور بعثت کے واقعات مسند احمد، ابن حبان اور دلائل النبوۃ کی معتبر روایات میں موجود ہیں۔
1۔ پہلا واقعہ: بچپن کا زمانہ (عمر مبارک 4 یا 5 سال)یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ ﷺ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے پاس قبیلہ بنی سعد میں مقیم تھے۔
اس کا مقصد آپ ﷺ کے قلبِ اطہر سے کھیل کود کے رحجان یا شیطانی اثر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا تھا۔بنیادی حدیث: صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب الإسراء برسول اللہ ﷺ (حدیث نمبر: 162/261)۔
راوی: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔تفصیل: حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو لٹا کر سینہ مبارک چاک کیا اور دل نکال کر اس میں سے جما ہوا خون (خون کا لوتھڑا) نکالا اور فرمایا: "یہ تمہارے اندر سے شیطان کا حصہ تھا"۔ پھر اسے سونے کے طشت میں آبِ زم زم سے دھویا اور اپنی جگہ واپس رکھ کر سینہ سی دیا۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں خود آپ ﷺ کے سینہ مبارک پر سلائی (ٹانکوں) کے نشان دیکھا کرتا تھا۔
2۔ دوسرا واقعہ: لڑکپن کا زمانہ (عمر مبارک تقریباً 10 سال)یہ واقعہ غفلتِ شباب (جوانی کی غفلت و لہو و لعب) سے محفوظ رکھنے اور طہارت کے لیے پیش آیا۔
بنیادی حدیث: مسند احمد (حدیث نمبر: 21259) اور صحیح ابن حبان (حدیث نمبر: 6382)۔
راوی: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے)۔تفصیل: آپ ﷺ سے صحابہ نے پوچھا کہ آپ اپنی نبوت کے ابتدائی حالات بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں جب دس سال کا تھا، تو جنگل میں (بچوں کے ساتھ) تھا کہ میرے پاس غیب سے دو فرشتے (سفید لباس میں) آئے۔ انہوں نے مجھے چت لٹایا اور میرا پیٹ چاک کیا۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ ان کا دل نکالو، انہوں نے دل نکالا اور اس میں سے کینہ اور حسد (رحم دلی کے خلاف مواد) نکال پھینکا۔ پھر اس میں رافت (نرمی) اور رحمت ڈال دی۔
3۔ تیسرا واقعہ: غارِ حرا میں بعثت کے وقت (عمر مبارک 40 سال)یہ واقعہ نبوت اور نزولِ وحی کے عظیم بوجھ کو اٹھانے کی طاقت پیدا کرنے کے لیے پیش آیا۔
بنیادی حدیث: دلائل النبوۃ (امام بیہقی)، طبرانی (المعجم الکبیر) اور مصنف ابن ابی شیبہ۔
راوی: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی روایاتِ بعثت۔تفصیل: غارِ حرا میں جب پہلی بار وحی نازل ہونے کا وقت آیا، تو فرشتوں نے آپ ﷺ کا سینہ چاک کر کے اسے دوبارہ نور اور الٰہی اسرار و حکمت سے معمور کیا تاکہ آپ ﷺ وحی الٰہی کے ثقہ (بھاری بوجھ) کو برداشت کرنے کے مکمل قابل ہو جائیں۔
4۔ چوتھی بار: شبِ معراج کے موقع پر (عمر مبارک تقریباً 51 یا 52 سال)یہ واقعہ آسمانی سفر (معراج) کی تیاری، مشاہدہِ الٰہی اور عالمِ بالا کے عجائبات دیکھنے کے لیے پیش آیا۔
بنیادی حدیث: صحیح البخاری (کتاب الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلوات فی الاسراء، حدیث نمبر: 349) اور صحیح مسلم (کتاب الایمان)۔
راوی: حضرت ابوذر غفاری اور حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہم۔تفصیل: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں مکہ مکرمہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی، جبرائیل علیہ السلام اترے، انہوں نے میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے آبِ زم زم سے دھویا。 پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، اسے میرے سینے میں انڈیل دیا اور پھر سینے کو بند کر دیا"۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو معراج کے سفر پر لے جایا گیا۔
خلاصہ:بچپن اور معراج والے واقعات صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی اعلیٰ درجے کی صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ لڑکپن اور بعثت کے واقعات مسند احمد، ابن حبان اور دلائل النبوۃ کی معتبر روایات میں موجود ہیں۔
❤2
*کیا اللہ تعالی نے حواریوں پر دستر خوان نازل کیا تھا؟*
سوال 137241
*سورت المائدۃ: جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: [عیسی بن مریم نے دعا کی: "اے اللہ ! ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما جو ہمارے پہلوں اور پچھلوں سب کے لیے خوشی کا موقع ہو اور تیری طرف سے معجزہ ہو۔ تو تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے [114] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میں تم پر یہ خوان تو اتارتا ہوں مگر دیکھو! اس کے بعد تم میں سے جس نے کفر کیا تو میں اسے ایسی سزا دوں گا جیسی جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہو ] میں آسمان سے مائدہ یعنی دستر خوان نازل ہونے کا ذکر ہے، تو مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ دستر خوان نازل ہوا تھا یا نہیں؟ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہمیں اس حوالے سے اپنی رائے بتلائیں۔*
*الجواب حامداً و نوکیا*
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
سلف صالحین کا دستر خوان کے نازل ہونے کے متعلق اختلاف ہے کہ اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کے ساتھیوں پر یہ مائدہ نازل کیا تھا یا نہیں؟ یا وہ اللہ تعالی کے فرمان: فَمَنْ يَكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ترجمہ: چنانچہ اس کے بعد جو کوئی تم میں سے کفر کرے گا تو میں اسے یقیناً ایسا عذاب دوں گا کہ اس جیسا عذاب کسی کو بھی جہانوں میں سے نہیں دوں گا۔[المائدۃ: 115] سے ڈر گئے تھے اور پھر ان پر مائدہ نازل نہیں کیا گیا۔
*تو سلف صالحین میں سے جمہور اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالی نے ان پر مائدہ نازل کیا تھا؛ کیونکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے وعدہ شدہ تھا: إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ترجمہ: یقیناً میں دستر خوان کو تم پر نازل کرنے والا ہوں۔ [المائدۃ: 115] اور اللہ تعالی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا ۔*
*یہی موقف سیدنا سلمان فارسی، عمار بن یاسر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین سے منقول ہے، اور تابعین میں سے اسحاق بن عبد اللہ، وہب بن منبہ، سعید بن جبیر، عکرمہ، قتادہ، عطیہ عوفی، ابو عبد الرحمن سلمی، عطاء بن سائب اور دیگر اہل علم سے منقول ہے۔*
جبکہ مجاہد اور حسن کہتے ہیں: یہ دستر خوان اللہ تعالی نے نازل نہیں کیا تھا۔
اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ: جب اللہ تعالی نے دستر خوان نازل ہو جانے کے بعد بھی کفر کرنے پر دھمکی دی تو بنی اسرائیل ڈر گئے کہ کہیں کوئی کفر نہ کر دے، اس لیے انہوں نے اپنے مطالبے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا، تو اس اعتبار سے تقدیری عبارت یوں ہو گی کہ: میں تم پر اسے نازل کرنے والا ہوں، اگر تم اس کا مطالبہ کرو گے۔ لیکن انہوں نے اپنے مطالبے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا، اور پھر مائدہ نازل نہیں کیا گیا۔
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"*اس حوالے سے ہمارے ہاں صحیح موقف یہ ہے کہ: اللہ نے عیسی علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالی سے مائدہ کا مطالبہ کرنے والوں پر مائدہ نازل کیا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالی اپنے کسی وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا، نہ ہی اللہ تعالی کی دی ہوئی خبر میں کوئی حقیقت کے منافی چیز ہوتی ہے، کیونکہ جب حواریوں نے عیسی علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالی سے دستر خوان نازل کرنے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں عیسی علیہ السلام کی دعا قبول کرتے ہوئے خبر دی : إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ترجمہ: یقیناً میں دستر خوان کو تم پر نازل کرنے والا ہوں۔ [المائدۃ: 115] اور یہ نہیں ہو سکتا کہ پہلے اللہ تعالی دستر خوان کو نازل کرنے کا کہہ دے پھر نازل نہ فرمائے؛ کیونکہ یہ تو اللہ تعالی نے اپنے بارے میں خبر دی ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے خلافِ واقعہ کوئی خبر نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو پھر إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ترجمہ: یقیناً میں دستر خوان کو تم پر نازل کرنے والا ہوں۔ [المائدۃ: 115] کہہ کر بھی اللہ تعالی ان پر مائدہ نازل نہ فرماتا، اور یہ بھی ممکن ہوتا کہ اللہ تعالی فَمَنْ يَكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ترجمہ: چنانچہ اس کے بعد جو کوئی تم میں سے کفر کرے گا تو میں اسے یقیناً ایسا عذاب دوں گا کہ اس جیسا عذاب کسی کو بھی جہانوں میں سے نہیں دوں گا۔[المائدۃ: 115] فرما کر بھی ان میں سے کفر کرنے والوں کو عذاب نہ دے۔ اور اللہ تعالی کے وعدوں اور وعیدوں میں کوئی حقیقت نہ رہ جاتی۔ اس بنا پر یہ درست نہیں ہے کہ اللہ تعالی کی طرف ایسی چیز کی نسبت بھی کی جائے۔*
"تفسير الطبري" (11/ 232)
ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ تمام آثار اس بات کی دلیل ہیں کہ عیسی بن مریم کی دعا کی قبولیت کے نیتجے میں مائدہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا تھا، یہی چیز قرآن کریم کے سیاق و سباق سے بھی ثابت ہوتی ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: قَالَ اللهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ترجمہ
سوال 137241
*سورت المائدۃ: جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: [عیسی بن مریم نے دعا کی: "اے اللہ ! ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما جو ہمارے پہلوں اور پچھلوں سب کے لیے خوشی کا موقع ہو اور تیری طرف سے معجزہ ہو۔ تو تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے [114] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میں تم پر یہ خوان تو اتارتا ہوں مگر دیکھو! اس کے بعد تم میں سے جس نے کفر کیا تو میں اسے ایسی سزا دوں گا جیسی جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہو ] میں آسمان سے مائدہ یعنی دستر خوان نازل ہونے کا ذکر ہے، تو مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ دستر خوان نازل ہوا تھا یا نہیں؟ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہمیں اس حوالے سے اپنی رائے بتلائیں۔*
*الجواب حامداً و نوکیا*
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
سلف صالحین کا دستر خوان کے نازل ہونے کے متعلق اختلاف ہے کہ اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کے ساتھیوں پر یہ مائدہ نازل کیا تھا یا نہیں؟ یا وہ اللہ تعالی کے فرمان: فَمَنْ يَكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ترجمہ: چنانچہ اس کے بعد جو کوئی تم میں سے کفر کرے گا تو میں اسے یقیناً ایسا عذاب دوں گا کہ اس جیسا عذاب کسی کو بھی جہانوں میں سے نہیں دوں گا۔[المائدۃ: 115] سے ڈر گئے تھے اور پھر ان پر مائدہ نازل نہیں کیا گیا۔
*تو سلف صالحین میں سے جمہور اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالی نے ان پر مائدہ نازل کیا تھا؛ کیونکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے وعدہ شدہ تھا: إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ترجمہ: یقیناً میں دستر خوان کو تم پر نازل کرنے والا ہوں۔ [المائدۃ: 115] اور اللہ تعالی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا ۔*
*یہی موقف سیدنا سلمان فارسی، عمار بن یاسر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین سے منقول ہے، اور تابعین میں سے اسحاق بن عبد اللہ، وہب بن منبہ، سعید بن جبیر، عکرمہ، قتادہ، عطیہ عوفی، ابو عبد الرحمن سلمی، عطاء بن سائب اور دیگر اہل علم سے منقول ہے۔*
جبکہ مجاہد اور حسن کہتے ہیں: یہ دستر خوان اللہ تعالی نے نازل نہیں کیا تھا۔
اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ: جب اللہ تعالی نے دستر خوان نازل ہو جانے کے بعد بھی کفر کرنے پر دھمکی دی تو بنی اسرائیل ڈر گئے کہ کہیں کوئی کفر نہ کر دے، اس لیے انہوں نے اپنے مطالبے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا، تو اس اعتبار سے تقدیری عبارت یوں ہو گی کہ: میں تم پر اسے نازل کرنے والا ہوں، اگر تم اس کا مطالبہ کرو گے۔ لیکن انہوں نے اپنے مطالبے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا، اور پھر مائدہ نازل نہیں کیا گیا۔
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"*اس حوالے سے ہمارے ہاں صحیح موقف یہ ہے کہ: اللہ نے عیسی علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالی سے مائدہ کا مطالبہ کرنے والوں پر مائدہ نازل کیا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالی اپنے کسی وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا، نہ ہی اللہ تعالی کی دی ہوئی خبر میں کوئی حقیقت کے منافی چیز ہوتی ہے، کیونکہ جب حواریوں نے عیسی علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالی سے دستر خوان نازل کرنے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں عیسی علیہ السلام کی دعا قبول کرتے ہوئے خبر دی : إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ترجمہ: یقیناً میں دستر خوان کو تم پر نازل کرنے والا ہوں۔ [المائدۃ: 115] اور یہ نہیں ہو سکتا کہ پہلے اللہ تعالی دستر خوان کو نازل کرنے کا کہہ دے پھر نازل نہ فرمائے؛ کیونکہ یہ تو اللہ تعالی نے اپنے بارے میں خبر دی ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے خلافِ واقعہ کوئی خبر نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو پھر إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ترجمہ: یقیناً میں دستر خوان کو تم پر نازل کرنے والا ہوں۔ [المائدۃ: 115] کہہ کر بھی اللہ تعالی ان پر مائدہ نازل نہ فرماتا، اور یہ بھی ممکن ہوتا کہ اللہ تعالی فَمَنْ يَكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ترجمہ: چنانچہ اس کے بعد جو کوئی تم میں سے کفر کرے گا تو میں اسے یقیناً ایسا عذاب دوں گا کہ اس جیسا عذاب کسی کو بھی جہانوں میں سے نہیں دوں گا۔[المائدۃ: 115] فرما کر بھی ان میں سے کفر کرنے والوں کو عذاب نہ دے۔ اور اللہ تعالی کے وعدوں اور وعیدوں میں کوئی حقیقت نہ رہ جاتی۔ اس بنا پر یہ درست نہیں ہے کہ اللہ تعالی کی طرف ایسی چیز کی نسبت بھی کی جائے۔*
"تفسير الطبري" (11/ 232)
ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ تمام آثار اس بات کی دلیل ہیں کہ عیسی بن مریم کی دعا کی قبولیت کے نیتجے میں مائدہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا تھا، یہی چیز قرآن کریم کے سیاق و سباق سے بھی ثابت ہوتی ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: قَالَ اللهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ترجمہ
❤1
اللہ نے فرمایا: یقیناً میں دستر خوان کو تم پر نازل کرنے والا ہوں۔ [المائدۃ: 115]
کچھ کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ : دستر خوان نازل نہیں ہوا تھا، ان کا یہ موقف اس اعتبار سے تھوڑا مضبوط ہو جاتا ہے کہ عیسائیوں کو اس دستر خوان کا علم نہیں ہے، نہ ہی ان کی کتاب میں اس کا تذکرہ ہے، اور اگر یہ نازل ہوا ہوتا تو اس کے نقل کیے جانے کے اسباب تو موجود تھے اور اسے تواتر کے ساتھ ان کی کتابوں میں ذکر کیا جاتا، یا کم از کم تواتر نہ سہی اکا دکا جگہ ہی بیان ہو جاتا۔ واللہ اعلم
لیکن جمہور اہل علم کا موقف یہ ہے کہ دستر خوان نازل ہوا تھا، یہی موقف ابن جریر نے اپنایا ہے، اور -واللہ اعلم –
یہی موقف درست بھی ہے، سلف صالحین کے اقوال اور آثار سمیت دیگر اخبار بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔" ختم شد
"تفسير ابن كثير" (3/230-231)
*تو اس بارے میں صحیح موقف یہ ہے کہ:*
*مائدہ حقیقی طور پر نازل ہوا تھا، یہی موقف جمہور اہل علم کا ہے، اسی کو ابن الجوزی، سمعانی، ابو جعفر نحاس، ابن جزی، قرطبی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ابن عاشور اور شوکانی وغیرہ سمیت دیگر اہل علم نے اختیار کیا ہے۔*
مزید کے لیے دیکھیں: "تفسیر البغوی" (3/118) ، "زاد المسیر" (2/462) ، "معانی القرآن" (2/387) ، "التسہیل" (1/342) ، تفسیر القرطبی" (6/369)"التحریر والتنویر" (ص1236) ، "فتح القدیر" (2/136) "الجواب الصحیح" (3/ 127)۔
کاپی
کچھ کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ : دستر خوان نازل نہیں ہوا تھا، ان کا یہ موقف اس اعتبار سے تھوڑا مضبوط ہو جاتا ہے کہ عیسائیوں کو اس دستر خوان کا علم نہیں ہے، نہ ہی ان کی کتاب میں اس کا تذکرہ ہے، اور اگر یہ نازل ہوا ہوتا تو اس کے نقل کیے جانے کے اسباب تو موجود تھے اور اسے تواتر کے ساتھ ان کی کتابوں میں ذکر کیا جاتا، یا کم از کم تواتر نہ سہی اکا دکا جگہ ہی بیان ہو جاتا۔ واللہ اعلم
لیکن جمہور اہل علم کا موقف یہ ہے کہ دستر خوان نازل ہوا تھا، یہی موقف ابن جریر نے اپنایا ہے، اور -واللہ اعلم –
یہی موقف درست بھی ہے، سلف صالحین کے اقوال اور آثار سمیت دیگر اخبار بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔" ختم شد
"تفسير ابن كثير" (3/230-231)
*تو اس بارے میں صحیح موقف یہ ہے کہ:*
*مائدہ حقیقی طور پر نازل ہوا تھا، یہی موقف جمہور اہل علم کا ہے، اسی کو ابن الجوزی، سمعانی، ابو جعفر نحاس، ابن جزی، قرطبی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ابن عاشور اور شوکانی وغیرہ سمیت دیگر اہل علم نے اختیار کیا ہے۔*
مزید کے لیے دیکھیں: "تفسیر البغوی" (3/118) ، "زاد المسیر" (2/462) ، "معانی القرآن" (2/387) ، "التسہیل" (1/342) ، تفسیر القرطبی" (6/369)"التحریر والتنویر" (ص1236) ، "فتح القدیر" (2/136) "الجواب الصحیح" (3/ 127)۔
کاپی
خانہ کعبہ، حطیم اور مسجد الحرام کے ارد گرد انبیائے کرام علیہم السلام کی قبروں کا تذکرہ کرنے والی مستند ترین کتبِ حدیث، تاریخ اور تفاسیر کے حوالے درج ذیل ہیں
کتبِ حدیث اور شروحِ حدیث
المعجم الکبیر (امام طبرانی): اس میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی گئی ہے کہ کعبہ کے ارد گرد اور مسجدِ خیف (منیٰ) میں ستر (70) انبیاء مدفون ہیں۔
مسند البزار (امام ابو بکر البزار): اس کتاب میں بھی انبیائے کرام کی مکہ مکرمہ اور مسجدِ خیف میں موجودگی اور ان کی قبروں سے متعلق روایات موجود ہیں۔
مرقاة المفاتیح شرح مشكاة المصابیح (علامہ علی قاری): انہوں نے اس کتاب کی دوسری جلد میں صراحت کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر حطیم میں میزاب (پرنالے) کے نیچے ہے اور حطیم میں حجرِ اسود اور زمزم کے درمیان ستر انبیاء مدفون ہیں.
تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي (علامہ مبارکپوری): انہوں نے بھی اپنی شرح میں ان روایات کو نقل کیا ہے کہ حجرِ اسود اور زمزم کے درمیانی حصے میں ستر انبیاء کی قبور ہیں.
2. مکہ مکرمہ کی تاریخ اور فضائل پر لکھی گئی مستند کتب فضائل مکہ والسکن فیہا (امام حسن بصریؒ): تیسری صدی ہجری کے اس قدیم اور مستند ماخذ میں تفصیل سے درج ہے کہ حضرت اسماعیلؑ اور حضرت ہاجرہؑ کی قبریں حطیم میں ہیں، جبکہ حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت شعیب اور حضرت صالح علیہم السلام کی قبریں زمزم اور مقامِ ابراہیم کے درمیان ہیں.أخبار مكة (امام ابو الولید الازرقی - متوفی 250ھ):
یہ مکہ مکرمہ کی تاریخ پر سب سے قدیم اور مستند ترین کتاب مانی جاتی ہے۔ اس میں تفصیلی ابواب موجود ہیں کہ کس طرح سابقہ انبیاء اپنی قوموں سے فارغ ہو کر مکہ آئے اور وہیں وفات پائی۔
شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام (علامہ تقی الدین الفاسی): مکہ کی تاریخ پر لکھی گئی اس معتبر کتاب میں ان تمام روایات کی اسناد اور مقاماتِ قبور کا احاطہ کیا گیا ہے۔
کتبِ حدیث اور شروحِ حدیث
المعجم الکبیر (امام طبرانی): اس میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی گئی ہے کہ کعبہ کے ارد گرد اور مسجدِ خیف (منیٰ) میں ستر (70) انبیاء مدفون ہیں۔
مسند البزار (امام ابو بکر البزار): اس کتاب میں بھی انبیائے کرام کی مکہ مکرمہ اور مسجدِ خیف میں موجودگی اور ان کی قبروں سے متعلق روایات موجود ہیں۔
مرقاة المفاتیح شرح مشكاة المصابیح (علامہ علی قاری): انہوں نے اس کتاب کی دوسری جلد میں صراحت کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر حطیم میں میزاب (پرنالے) کے نیچے ہے اور حطیم میں حجرِ اسود اور زمزم کے درمیان ستر انبیاء مدفون ہیں.
تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي (علامہ مبارکپوری): انہوں نے بھی اپنی شرح میں ان روایات کو نقل کیا ہے کہ حجرِ اسود اور زمزم کے درمیانی حصے میں ستر انبیاء کی قبور ہیں.
2. مکہ مکرمہ کی تاریخ اور فضائل پر لکھی گئی مستند کتب فضائل مکہ والسکن فیہا (امام حسن بصریؒ): تیسری صدی ہجری کے اس قدیم اور مستند ماخذ میں تفصیل سے درج ہے کہ حضرت اسماعیلؑ اور حضرت ہاجرہؑ کی قبریں حطیم میں ہیں، جبکہ حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت شعیب اور حضرت صالح علیہم السلام کی قبریں زمزم اور مقامِ ابراہیم کے درمیان ہیں.أخبار مكة (امام ابو الولید الازرقی - متوفی 250ھ):
یہ مکہ مکرمہ کی تاریخ پر سب سے قدیم اور مستند ترین کتاب مانی جاتی ہے۔ اس میں تفصیلی ابواب موجود ہیں کہ کس طرح سابقہ انبیاء اپنی قوموں سے فارغ ہو کر مکہ آئے اور وہیں وفات پائی۔
شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام (علامہ تقی الدین الفاسی): مکہ کی تاریخ پر لکھی گئی اس معتبر کتاب میں ان تمام روایات کی اسناد اور مقاماتِ قبور کا احاطہ کیا گیا ہے۔
❤3
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے "تقریب" میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا طبقہ: *سادسہ* لکھا ہے، جبکہ خامسہ ہونا چاہیے، کیونکہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زیارت کی تھی، جیساکہ سلیمان الاعمش نے بھی حضرت انس کو دیکھا تھا۔
خود حافظ نے "تھذیب التھذیب" میں حضرت امام صاحب کے ترجمے کے شروع میں لکھا ہے: رأی أنسا۔
مستفاد من مقدمۃ التقریب للشیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ
خود حافظ نے "تھذیب التھذیب" میں حضرت امام صاحب کے ترجمے کے شروع میں لکھا ہے: رأی أنسا۔
مستفاد من مقدمۃ التقریب للشیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ
*اللھم اغفر لی ذنبی ووسع لی فی داری وبارک لی فی رزقی*
یہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، اور حدیث کی کتابوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا کا پڑھنا مختلف مقامات پر منقول ہے :
۱۔ وضوء کے دوران : عمل الیوم واللیلہ نسائی 80 ، ابن السنی 28 ، ابو یعلی 1706۔
۲۔ نماز کے دوران : ترمذی 3500 ، مسند أحمد 16599، معجم اوسط 6891 ۔
۳۔ نماز سے فراغت کے بعد : مسند أحمد 19574، الدعاء للطبرانی 656 ، ابن ابی شیبہ 29391 ۔
امام ابن ملقن فرماتے ہیں [البدر المنير 2/ 279] :
وَهَذَا الذّكر يحْتَمل أَن يكون قَالَه بَين ظهراني وضوئِهِ أَو بعده، وَقد بوّب الْحفاظ لَهُ عَلَى كل وَاحِد مِنْهُمَا.
علماء حدیث کی تبویبات :
مَا يَقُول إِذا تَوَضَّأ (عمل الیوم نسائی) ۔
جَامِعُ أَبْوَابِ الْقَوْلِ فِي أَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ (دعاء طبرانی) ۔
بَابُ مَا يَقُولُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ وُضُوئِهِ (عمل الیوم ابن السنی)
مَا كَانَ يَدْعُو بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مصنف ابن ابی شیبہ) ۔
بَاب فِي جَوَامِع الدُّعَاء (ترغیب عبد الغنی مقدسی)
بَابُ مَا يُقَالُ بَعْدَ الْوُضُوءِ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ) ۔
بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا (مجمع الزوائد)
اور صاحب کنز العمال (5080) اور جمع الفوائد (9457) نے اس دعا کو ادعیہ مطلقہ میں شمار کیا ہے ۔
لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کو وضوء کے ساتھ مخصوص نہ کریں ۔
دوسری دعا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، اور یہ بہت مشہور دعا نہیں ہے پہلی دعا کی طرح ، یہ معجم اوسط 3611 حاکم 1987 دعوات کبیر 270 میں ہے ۔ اور ابن الجوزی نے موضوعات میں شمار کیا ہے ، ذہبی نے بھی کلام کیا ہے ۔ جبکہ حاکم اور ہیثمی نے تحسین کی ہے ۔
انتہی ملخصا
یہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، اور حدیث کی کتابوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا کا پڑھنا مختلف مقامات پر منقول ہے :
۱۔ وضوء کے دوران : عمل الیوم واللیلہ نسائی 80 ، ابن السنی 28 ، ابو یعلی 1706۔
۲۔ نماز کے دوران : ترمذی 3500 ، مسند أحمد 16599، معجم اوسط 6891 ۔
۳۔ نماز سے فراغت کے بعد : مسند أحمد 19574، الدعاء للطبرانی 656 ، ابن ابی شیبہ 29391 ۔
امام ابن ملقن فرماتے ہیں [البدر المنير 2/ 279] :
وَهَذَا الذّكر يحْتَمل أَن يكون قَالَه بَين ظهراني وضوئِهِ أَو بعده، وَقد بوّب الْحفاظ لَهُ عَلَى كل وَاحِد مِنْهُمَا.
علماء حدیث کی تبویبات :
مَا يَقُول إِذا تَوَضَّأ (عمل الیوم نسائی) ۔
جَامِعُ أَبْوَابِ الْقَوْلِ فِي أَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ (دعاء طبرانی) ۔
بَابُ مَا يَقُولُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ وُضُوئِهِ (عمل الیوم ابن السنی)
مَا كَانَ يَدْعُو بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مصنف ابن ابی شیبہ) ۔
بَاب فِي جَوَامِع الدُّعَاء (ترغیب عبد الغنی مقدسی)
بَابُ مَا يُقَالُ بَعْدَ الْوُضُوءِ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ) ۔
بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا (مجمع الزوائد)
اور صاحب کنز العمال (5080) اور جمع الفوائد (9457) نے اس دعا کو ادعیہ مطلقہ میں شمار کیا ہے ۔
لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کو وضوء کے ساتھ مخصوص نہ کریں ۔
دوسری دعا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، اور یہ بہت مشہور دعا نہیں ہے پہلی دعا کی طرح ، یہ معجم اوسط 3611 حاکم 1987 دعوات کبیر 270 میں ہے ۔ اور ابن الجوزی نے موضوعات میں شمار کیا ہے ، ذہبی نے بھی کلام کیا ہے ۔ جبکہ حاکم اور ہیثمی نے تحسین کی ہے ۔
انتہی ملخصا
(۱۷۵) مطاف میں انبیاء علیہم السلام اور عام مسلمانوں کی قبروں پر چلنے کا حکم
(۱۷۵) مطاف میں انبیاء علیہم السلام اور عام مسلمانوں کی قبروں پر چلنے کا حکم
سؤال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے سنا ہے کہ مطاف میں کئی انبیاء کرام مدفون ہیں۔ کیا یہ درست بات ہے؟ اگر درست ہے تو اب دورانِ طواف ان کی بے حرمتی نہیں ہوتی ہے؟ حالانکہ کسی عام مسلمان کی قبر پر چلنا بھی منع آیا ہے۔ براہ کرم تسلی وتشفی بخش جواب سے ممنون فرمائیں۔
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں یہ بات درست ہے کہ مطاف میں انبیاء علیہم السلام مدفون ہیں، اور جہاں تک ان کی قبروں کا تعلق ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں، اگر ان کی قبروں کے اوپر چلا جائے تو اس سے ان کی قبروں کی بے حرمتی نہیں ہوگی۔
اور جہاں تک عام مسلمانوں کی قبروں کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ کسی قبر میں لاش بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے تو اس قبر کا احترام باقی نہیں رہتا، اور مطاف میں جو عام مسلمانوں کی قبریں موجود ہیں، ان پر کئی ہزار سال گزر چکے ہیں اور ان قبروں میں انکی
لاشیں بوسیدہ ہوچکی ہیں۔ لہٰذا دورانِ طواف ان قبروں پر چلنے سے ان کی بے حرمتی نہیں ہوگی۔
لما فی الھندیۃ(۱۶۶/۱): ویکرہ أن یبنی علی القبر أو یقعد أو ینام علیہ أو یوطأ علیہ أو یقضی حاجۃ الإنسان من بول أو غائط أو یعلم بعلامۃ من کتابۃ ونحوہ کذا فی التبیین۔…
وایضاً (صـ۱۶۷) ولو بلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ فی قبرہ وزرعہ والبناء علیہ کذا فی التبیین۔ …… وایضاً بعد سطور ویکرہ قطع الحطب والحشیش من المقبرۃ فان کان یابساً لابأس بہ کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ والمشی فی المقابر بنعلین لا یکرہ عندنا کذا فی السراج الوھاج۔
وفی الشامیۃ(۲۴۵/۲): وفی خزانۃ الفتاوی وعن ابی حنیفۃ لایوطأ القبر الا لضرورۃ، ویزار من بعید ولا یقعد وإن فعل یکرہ۔ وقال بعضھم: لا بأس بأن یطأ القبور وھو یقرأ أو یسبح أو یدعو لھم اھـ الی ان قال ثم ذکر عن الإمام الطحاوی أنہ حمل ماورد من النھی عن الجلوس علی القبر علی الجلوس لقضاء الحاجۃ، وأنہ لا یکرہ الجلوس لغیرہ جمعا بین الآثار…… الی ان قال قلت: وتقدم أنہ إذا بلی المیت وصار ترابا یجوز زرعہ والبناء علیہ، ومقتضاہ جواز المشی فوقہ۔
وفی المرقاۃ المفاتیح(۳۸۹/۲): (تحت قولہ اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجد) الی قول اما من اتخذ مسجداً فی جوار صالح أو صلی فی مقبرۃ وقصد الاستظھار بروحہ أو وصول أثرمامن أثر عبادتہ الیہ لا للتعظیم لہ والتوجہ نحوہ فلا حرج علیہ الاتری ان مرقد اسمٰعیل علیہ السلام فی المسجد الحرام عند الحطیم، ثم ان ذلک المسجد أفضل مکان یتحری المصلی لصلاتہ والنھی عن الصلوۃ فی المقابر مختص بالقبور المنبوشۃ لما فیھا من النجاسۃ کذا ذکرہ الطیبی وذکر غیرہ ان صورۃ قبر اسماعیل علیہ السلام فی الحجر تحت المیزاب، وان فی الحطیم بین الحجر الاسود وزمزم قبر سبعین نبیا وفیہ ان صورۃ قبر اسمعیل علیہ السلام وغیرہ مندرسۃ فلا یصلح الاستدلال بہ وقال ابن حجر أشار الشارح الی استشکال الصلاۃ عند قبر اسمٰعیل بانھا تکرہ فی
المقبرۃ واجاب بان محلھا فی مقبرۃ منبوشۃ لنجاستھا وکلہ غفلۃ عن قولھم یستثنی مقابر الانبیاء علیہم السلام فلا یکرہ الصلاۃ فیھا مطلقاً لأنھم أحیاء فی قبورھم، وعلی التنزل فجوابہ غیر صحیح لتصریحھم بکراھۃ الصلاۃ فی مقبرۃ غیر الانبیاء وان لم تنبش لانہ محاذ للنجاسۃ ومحاذاتھا فی مکروھۃ سواء کانت فوقہ او خلفہ او تحت ماھو واقف علیہ……وایضاً(۱۵۷/۴) وقد فسرفی الحدیث القعود للبول والغائط علی ان ابن وھب رواہ فی مسندہ عن النبی ﷺ بلفظ من جلس علی قبر یبول علیہ او یتغوط وھذا حرام اجماعاً فلیس الکلام فیہ قال ولا یکرہ
(۱۷۵) مطاف میں انبیاء علیہم السلام اور عام مسلمانوں کی قبروں پر چلنے کا حکم
سؤال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے سنا ہے کہ مطاف میں کئی انبیاء کرام مدفون ہیں۔ کیا یہ درست بات ہے؟ اگر درست ہے تو اب دورانِ طواف ان کی بے حرمتی نہیں ہوتی ہے؟ حالانکہ کسی عام مسلمان کی قبر پر چلنا بھی منع آیا ہے۔ براہ کرم تسلی وتشفی بخش جواب سے ممنون فرمائیں۔
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں یہ بات درست ہے کہ مطاف میں انبیاء علیہم السلام مدفون ہیں، اور جہاں تک ان کی قبروں کا تعلق ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں، اگر ان کی قبروں کے اوپر چلا جائے تو اس سے ان کی قبروں کی بے حرمتی نہیں ہوگی۔
اور جہاں تک عام مسلمانوں کی قبروں کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ کسی قبر میں لاش بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے تو اس قبر کا احترام باقی نہیں رہتا، اور مطاف میں جو عام مسلمانوں کی قبریں موجود ہیں، ان پر کئی ہزار سال گزر چکے ہیں اور ان قبروں میں انکی
لاشیں بوسیدہ ہوچکی ہیں۔ لہٰذا دورانِ طواف ان قبروں پر چلنے سے ان کی بے حرمتی نہیں ہوگی۔
لما فی الھندیۃ(۱۶۶/۱): ویکرہ أن یبنی علی القبر أو یقعد أو ینام علیہ أو یوطأ علیہ أو یقضی حاجۃ الإنسان من بول أو غائط أو یعلم بعلامۃ من کتابۃ ونحوہ کذا فی التبیین۔…
وایضاً (صـ۱۶۷) ولو بلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ فی قبرہ وزرعہ والبناء علیہ کذا فی التبیین۔ …… وایضاً بعد سطور ویکرہ قطع الحطب والحشیش من المقبرۃ فان کان یابساً لابأس بہ کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ والمشی فی المقابر بنعلین لا یکرہ عندنا کذا فی السراج الوھاج۔
وفی الشامیۃ(۲۴۵/۲): وفی خزانۃ الفتاوی وعن ابی حنیفۃ لایوطأ القبر الا لضرورۃ، ویزار من بعید ولا یقعد وإن فعل یکرہ۔ وقال بعضھم: لا بأس بأن یطأ القبور وھو یقرأ أو یسبح أو یدعو لھم اھـ الی ان قال ثم ذکر عن الإمام الطحاوی أنہ حمل ماورد من النھی عن الجلوس علی القبر علی الجلوس لقضاء الحاجۃ، وأنہ لا یکرہ الجلوس لغیرہ جمعا بین الآثار…… الی ان قال قلت: وتقدم أنہ إذا بلی المیت وصار ترابا یجوز زرعہ والبناء علیہ، ومقتضاہ جواز المشی فوقہ۔
وفی المرقاۃ المفاتیح(۳۸۹/۲): (تحت قولہ اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجد) الی قول اما من اتخذ مسجداً فی جوار صالح أو صلی فی مقبرۃ وقصد الاستظھار بروحہ أو وصول أثرمامن أثر عبادتہ الیہ لا للتعظیم لہ والتوجہ نحوہ فلا حرج علیہ الاتری ان مرقد اسمٰعیل علیہ السلام فی المسجد الحرام عند الحطیم، ثم ان ذلک المسجد أفضل مکان یتحری المصلی لصلاتہ والنھی عن الصلوۃ فی المقابر مختص بالقبور المنبوشۃ لما فیھا من النجاسۃ کذا ذکرہ الطیبی وذکر غیرہ ان صورۃ قبر اسماعیل علیہ السلام فی الحجر تحت المیزاب، وان فی الحطیم بین الحجر الاسود وزمزم قبر سبعین نبیا وفیہ ان صورۃ قبر اسمعیل علیہ السلام وغیرہ مندرسۃ فلا یصلح الاستدلال بہ وقال ابن حجر أشار الشارح الی استشکال الصلاۃ عند قبر اسمٰعیل بانھا تکرہ فی
المقبرۃ واجاب بان محلھا فی مقبرۃ منبوشۃ لنجاستھا وکلہ غفلۃ عن قولھم یستثنی مقابر الانبیاء علیہم السلام فلا یکرہ الصلاۃ فیھا مطلقاً لأنھم أحیاء فی قبورھم، وعلی التنزل فجوابہ غیر صحیح لتصریحھم بکراھۃ الصلاۃ فی مقبرۃ غیر الانبیاء وان لم تنبش لانہ محاذ للنجاسۃ ومحاذاتھا فی مکروھۃ سواء کانت فوقہ او خلفہ او تحت ماھو واقف علیہ……وایضاً(۱۵۷/۴) وقد فسرفی الحدیث القعود للبول والغائط علی ان ابن وھب رواہ فی مسندہ عن النبی ﷺ بلفظ من جلس علی قبر یبول علیہ او یتغوط وھذا حرام اجماعاً فلیس الکلام فیہ قال ولا یکرہ
کعبہ کے صحن میں انبیاء کرامؑ کی قبریں
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے پتہ کرنا تھا کہ کیا کعبے کے صحن میں بہت سے انبیاء کرامؑ کی قبر موجود ہیں؟ اگر موجود ہیں تو کن انبیاء کی ہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ بعض کتب احادیث میں اس بات کا ذكر ملتا ہے کہ کعبہ کے صحن اور کعبہ کے ارد گرد میں کئی انبیاء کرام علیہم السلام کی قبریں موجود ہیں، لیکن کن کن انبیاء کی قبریں موجود ہیں؟ اس کے بارے میں تلاش کے باوجود کوئی مستند روایت نہیں مل سکی، البتہ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "فضائل مکہ" میں ذکر کیا ہے کہ "حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی قبریں حطیم میں پرنالے کے نیچے ہیں، اور حضرت نوح، ھود، شعیب اور صالح علیہم الصلاۃ والسلام کی قبریں زمزم اور مقام ابراہیم کی درمیانی جگہ پر ہیں"۔ (فضائل مكة والسكن فيها، ص: 20)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مجمع الزوائد: (رقم الحديث: 723، 159/1، ط: مكتبة القدسي، القاهرة)
عن ابن عباس قال: ما رأيت قوما خيرا من أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ما سألوه إلا عن ثلاث عشرة مسألة حتى قبض، كلهن في القرآن "{يسألونك عن الشهر الحرام} [البقرة: ٢١٧] ". و "{يسألونك عن الخمر والميسر} [البقرة: ٢١٩] "................................ قال: وأول من طاف بالبيت الملائكة، وإن ما بين الحجر إلى الركن اليماني قبور من قبور الأنبياء، كان النبي إذا آذاه قومه خرج من بين أظهرهم يعبد الله فيها حتى يموت.
رواه الطبراني في الكبير، وفيه عطاء بن السائب، وهو ثقة ولكنه اختلط، وبقية رجاله ثقات.
فضائل مكة والسكن فيها: (ص: 20، مكتبة الفلاح، الكويت)
وان حول الكعبة قبر ثلثمائة نبي وما بين الركن اليماني والركن الاسود قبر سبعين نبيا كلهم قتلهم الجوع والقمل وقبر اسماعيل وأمه هاجر صلى الله عليهما وسلم في الحجر تحت الميزاب وقبر نوح وهود وشعيب وصالح صلى الله على نبينا وعليهم وسلم فيما بين زمزم والمقام.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے پتہ کرنا تھا کہ کیا کعبے کے صحن میں بہت سے انبیاء کرامؑ کی قبر موجود ہیں؟ اگر موجود ہیں تو کن انبیاء کی ہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ بعض کتب احادیث میں اس بات کا ذكر ملتا ہے کہ کعبہ کے صحن اور کعبہ کے ارد گرد میں کئی انبیاء کرام علیہم السلام کی قبریں موجود ہیں، لیکن کن کن انبیاء کی قبریں موجود ہیں؟ اس کے بارے میں تلاش کے باوجود کوئی مستند روایت نہیں مل سکی، البتہ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "فضائل مکہ" میں ذکر کیا ہے کہ "حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی قبریں حطیم میں پرنالے کے نیچے ہیں، اور حضرت نوح، ھود، شعیب اور صالح علیہم الصلاۃ والسلام کی قبریں زمزم اور مقام ابراہیم کی درمیانی جگہ پر ہیں"۔ (فضائل مكة والسكن فيها، ص: 20)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مجمع الزوائد: (رقم الحديث: 723، 159/1، ط: مكتبة القدسي، القاهرة)
عن ابن عباس قال: ما رأيت قوما خيرا من أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ما سألوه إلا عن ثلاث عشرة مسألة حتى قبض، كلهن في القرآن "{يسألونك عن الشهر الحرام} [البقرة: ٢١٧] ". و "{يسألونك عن الخمر والميسر} [البقرة: ٢١٩] "................................ قال: وأول من طاف بالبيت الملائكة، وإن ما بين الحجر إلى الركن اليماني قبور من قبور الأنبياء، كان النبي إذا آذاه قومه خرج من بين أظهرهم يعبد الله فيها حتى يموت.
رواه الطبراني في الكبير، وفيه عطاء بن السائب، وهو ثقة ولكنه اختلط، وبقية رجاله ثقات.
فضائل مكة والسكن فيها: (ص: 20، مكتبة الفلاح، الكويت)
وان حول الكعبة قبر ثلثمائة نبي وما بين الركن اليماني والركن الاسود قبر سبعين نبيا كلهم قتلهم الجوع والقمل وقبر اسماعيل وأمه هاجر صلى الله عليهما وسلم في الحجر تحت الميزاب وقبر نوح وهود وشعيب وصالح صلى الله على نبينا وعليهم وسلم فيما بين زمزم والمقام.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
امام ابو حنیفہؒ کی مسا نید کا تعارف
امام حاکم نیشا پوریؒ فرماتے ہیں :امام اعظم ابو حنیفہؒ ان مشہور ثقہ ائمہ حدیث میں سے ہیں، جن کی احادیث مشرق تا مغرب جمع کی جاتی ہیں اور ان سے تبرک حاصل کیا جاتا ہے۔ امام حاکم کے اس قول کی تصدیق کرنی ہو تو امام اعظم کی مسا نید کو دیکھ لیجیے کہ مشرق سے لے کر مغرب تک ہر طبقہ کے محدثین نے آپؒ کی احادیث سے ا عتنا کیا ہے اور بڑی کثرت سے آپؒ کے احادیث کے مجموعے مسا نید کی صورت میں لکھے ہیں۔
آپؒ کا یہ شرف ہے کہ جس کثرت سے آپؒ کی مسا نید لکھی گئی ہیں اتنی کسی امام کی نہیں لکھی گئیں اورجن حضرات نے آپؒ کی مسا نید لکھی ہیں، وہ سب کے سب بلند پا یا حفاظِ حدیث ہیں۔
امام حافظ ابن نقطہ حنبلیؒ(م ۶۲۹ھ)فرماتے ہیں: مسند ابی حنیفة جمعہ غیر واحد من الحفا ظ(۲)۔
امام ابن حجر مکی شافعی (م ۹۷۳ھ) امام صاحبؒ کے مناقب میں لکھتے ہیں: و قد خرج الحفاظ من احا دیثہ مسا نید کثیرة، اتصل بنا کثیر منہا کما ھو مذکور فی مسندات مشا یخنا (۳)۔
امام ابو ا لموٴید خو ا رزمیؒ(م ۶۶۵ھ)نے امام اعظمؒ کی ان مسا نید کثیر ہ میں سے پندرہ مسا نید کی ”جامع ا لمسا نید“میں تخریج کی ہے۔
اسی طرح موٴ ر خ کبیر علامہ محمد بن یوسف صا لحیؒ(م ۹۴۲ھ)موٴلف ”السیرة ا لکبریٰ الشامیة“ نے امام اعظمؒ کے مناقب میں آپؒ کی سترہ مسا نید کی نشاندہی کی ہے اور ان کے موٴلفین تک اپنی اسانید بھی ذکر کر دی ہیں(۴)۔
حافظ ابن طو لونؒ(م۹۵۳ھ)نے بھی ”الفہرست الاوسط“ میں امام اعظمؒ کی سترہ مسا نید کی اسناد اپنے سے لے کر ان کے موٴلفین تک ذکر کردیں ہیں(۵)۔
امام ابو ا لصبرایوب الخلونیؒ (م ۱۰۷۱ھ)کی ”الثبت“ میں بھی سترہ مسا نید کی اسانید ان کے موٴلفین تک مذکور ہیں(۶)۔
مصر کے مشہور عالم اور مایہ ناز محقق علامہ زاہد الکو ثریؒ (م ۱۳۷۱ھ )امام اعظمؒ کی ۲۱مسا نید کی نشاندہی کی ہے اور اپنی تصنیف ”التحریرالوجیز“ میں ان کے موٴلفین تک اپنی مسا نید بھی ذکر کر دی ہیں(۷)۔
مسا نید ا بی حنیفہؒ کی چند خصوصیات
(۱) مسند ابی حنیفہؒ اُن دس کتب حدیث میں شامل ہے جو اسلام کی اساس ہیں اور جن پر دین کا مدار ہے۔ امام محمد بن جعفر الکتا ئیؒ(۱۳۴۵ھ)ان دس کتب کا تعارف کرانے کے بعد لکھتے ہیں: ائمہ اربعہ کی کتب حدیث(مسند ابی حنیفہ موٴطاامام مالک،مسندالشافعی، مسند امام احمد)پہلی چھ کتب صحیح للبخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن النسائی، سنن الترمذی اور سنن ابن ماجہ سے مل کر مکمل دس کتب ہو جاتی ہیں، جو اسلام کی بنیادیں ہیں اور جن پر دین کا مدار ہے۔ شیخ الا سلام حافظ ابن حجر عسقلا نیؒ(م۸۵۲ھ)نے امام حسینی کی اس کتاب سے کتب ستہ کے روات کو حذف کر کے صرف ائمہ اربعہ کی مسا نید کے روات کے حالات الگ ایک کتاب کی صو رت میں جمع کی ہیں اور اس میں کئی مفید اضافے بھی کیے ہیں۔ اس کتاب کا نام ”تعجیل المنفعة بزوائد رجال الائمة الأربعة“ ہے اور یہ کتاب بھی مطبوعہ ہے۔ امام اعظمکی کئی مسا نید کے روات کے حالات اس میں آ گئے ہیں۔
(۲) امام اعظمؒ کی یہ مسا نید اور آپؒ کی تصنیف ”کتاب ا لآ ثار“ فقہ حنفی(جو تقریباً تیرہ سو سال سے امت مسلمہ کی اکثریت کا دستور عمل ہے) کی بنیاد ی کتب میں سے ہیں؛ چنانچہ مسند ا لہند حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ (م ۱۱۷۶ھ) فرماتے ہیں: ”فقہ حنفی کی بنیاد مسند ابی حنیفہؒ اور کتاب ا لآثا ر بر وا یت امام محمدؒ پر ہے(۸)۔
(۳) ان مسانید میں امام اعظمؒ کی اسناد سے جتنی احادیث مذکور ہیں،وہ سب آپؒ کے فقہی مستدلات ہیں اور یہ آپؒ کی ان مرویات میں سے ہیں جو آپؒ کے نزدیک صحیح ہیں۔حافظ ابو المحاسن الحسینیؒ(م۷۶۵ھ)اپنی کتاب ”التذکرة“ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ”وکذلک المسند الشافعی موضوع لأدلتہ علیٰ ما صح عندہ من مرویاتہ، وکذلک مسند أبی حنیفة“(۹)۔ یعنی مسند شافعیؒ کی طرح مسند ابی حنیفہؒ بھی ان دلائل پر مشتمل ہے جو امام صاحب کی صحیح روایات میں سے ہیں۔
(۴) امام اعظمؒ کی ان مسا نید کو محدثین میں بہت پزیرائی ملی ہے جس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ یہ مسانید محدثین کے زیر نظر رہی ہیں،ان کے ہاں ان مسانید کو سماعت اور روایت کرنے کا رواج رہا ہے،اسی طرح امام اعظمؒ کی کئی مسا نید موٴرخ اسلام امام کمال الدین عمر بن احمدؒ المعروف بہ ”ابن العدیم“(م ۶۶۰ھ)کی زیر نظر بھی رہ چکی ہیں؛ چنانچہ وہ ایک حدیث کی تحقیق میں رقم طراز ہیں: ”وقد نظرت فی مسانید أبی حنیفہ“(۱۰)۔
امام محمد بن معنہؒ (م۹۰۴ھ)جو ایک جلیل المرتبت محدث اور دمشق کے قاضی القضاة رہے ہیں،ان کے ترجمہ میں امام نجم الدین غزنوی شافعیؒ(م۱۰۶۱ھ)اور امام ابن العماد حنبلیؒ (م۱۰۸۹ھ)نے لکھا ہے کہ”وسمع بعض مسانید أبی حنیفة علیٰ قاضی القضاة حمیدالدین“(۱۱)۔
امام حاکم نیشا پوریؒ فرماتے ہیں :امام اعظم ابو حنیفہؒ ان مشہور ثقہ ائمہ حدیث میں سے ہیں، جن کی احادیث مشرق تا مغرب جمع کی جاتی ہیں اور ان سے تبرک حاصل کیا جاتا ہے۔ امام حاکم کے اس قول کی تصدیق کرنی ہو تو امام اعظم کی مسا نید کو دیکھ لیجیے کہ مشرق سے لے کر مغرب تک ہر طبقہ کے محدثین نے آپؒ کی احادیث سے ا عتنا کیا ہے اور بڑی کثرت سے آپؒ کے احادیث کے مجموعے مسا نید کی صورت میں لکھے ہیں۔
آپؒ کا یہ شرف ہے کہ جس کثرت سے آپؒ کی مسا نید لکھی گئی ہیں اتنی کسی امام کی نہیں لکھی گئیں اورجن حضرات نے آپؒ کی مسا نید لکھی ہیں، وہ سب کے سب بلند پا یا حفاظِ حدیث ہیں۔
امام حافظ ابن نقطہ حنبلیؒ(م ۶۲۹ھ)فرماتے ہیں: مسند ابی حنیفة جمعہ غیر واحد من الحفا ظ(۲)۔
امام ابن حجر مکی شافعی (م ۹۷۳ھ) امام صاحبؒ کے مناقب میں لکھتے ہیں: و قد خرج الحفاظ من احا دیثہ مسا نید کثیرة، اتصل بنا کثیر منہا کما ھو مذکور فی مسندات مشا یخنا (۳)۔
امام ابو ا لموٴید خو ا رزمیؒ(م ۶۶۵ھ)نے امام اعظمؒ کی ان مسا نید کثیر ہ میں سے پندرہ مسا نید کی ”جامع ا لمسا نید“میں تخریج کی ہے۔
اسی طرح موٴ ر خ کبیر علامہ محمد بن یوسف صا لحیؒ(م ۹۴۲ھ)موٴلف ”السیرة ا لکبریٰ الشامیة“ نے امام اعظمؒ کے مناقب میں آپؒ کی سترہ مسا نید کی نشاندہی کی ہے اور ان کے موٴلفین تک اپنی اسانید بھی ذکر کر دی ہیں(۴)۔
حافظ ابن طو لونؒ(م۹۵۳ھ)نے بھی ”الفہرست الاوسط“ میں امام اعظمؒ کی سترہ مسا نید کی اسناد اپنے سے لے کر ان کے موٴلفین تک ذکر کردیں ہیں(۵)۔
امام ابو ا لصبرایوب الخلونیؒ (م ۱۰۷۱ھ)کی ”الثبت“ میں بھی سترہ مسا نید کی اسانید ان کے موٴلفین تک مذکور ہیں(۶)۔
مصر کے مشہور عالم اور مایہ ناز محقق علامہ زاہد الکو ثریؒ (م ۱۳۷۱ھ )امام اعظمؒ کی ۲۱مسا نید کی نشاندہی کی ہے اور اپنی تصنیف ”التحریرالوجیز“ میں ان کے موٴلفین تک اپنی مسا نید بھی ذکر کر دی ہیں(۷)۔
مسا نید ا بی حنیفہؒ کی چند خصوصیات
(۱) مسند ابی حنیفہؒ اُن دس کتب حدیث میں شامل ہے جو اسلام کی اساس ہیں اور جن پر دین کا مدار ہے۔ امام محمد بن جعفر الکتا ئیؒ(۱۳۴۵ھ)ان دس کتب کا تعارف کرانے کے بعد لکھتے ہیں: ائمہ اربعہ کی کتب حدیث(مسند ابی حنیفہ موٴطاامام مالک،مسندالشافعی، مسند امام احمد)پہلی چھ کتب صحیح للبخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن النسائی، سنن الترمذی اور سنن ابن ماجہ سے مل کر مکمل دس کتب ہو جاتی ہیں، جو اسلام کی بنیادیں ہیں اور جن پر دین کا مدار ہے۔ شیخ الا سلام حافظ ابن حجر عسقلا نیؒ(م۸۵۲ھ)نے امام حسینی کی اس کتاب سے کتب ستہ کے روات کو حذف کر کے صرف ائمہ اربعہ کی مسا نید کے روات کے حالات الگ ایک کتاب کی صو رت میں جمع کی ہیں اور اس میں کئی مفید اضافے بھی کیے ہیں۔ اس کتاب کا نام ”تعجیل المنفعة بزوائد رجال الائمة الأربعة“ ہے اور یہ کتاب بھی مطبوعہ ہے۔ امام اعظمکی کئی مسا نید کے روات کے حالات اس میں آ گئے ہیں۔
(۲) امام اعظمؒ کی یہ مسا نید اور آپؒ کی تصنیف ”کتاب ا لآ ثار“ فقہ حنفی(جو تقریباً تیرہ سو سال سے امت مسلمہ کی اکثریت کا دستور عمل ہے) کی بنیاد ی کتب میں سے ہیں؛ چنانچہ مسند ا لہند حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ (م ۱۱۷۶ھ) فرماتے ہیں: ”فقہ حنفی کی بنیاد مسند ابی حنیفہؒ اور کتاب ا لآثا ر بر وا یت امام محمدؒ پر ہے(۸)۔
(۳) ان مسانید میں امام اعظمؒ کی اسناد سے جتنی احادیث مذکور ہیں،وہ سب آپؒ کے فقہی مستدلات ہیں اور یہ آپؒ کی ان مرویات میں سے ہیں جو آپؒ کے نزدیک صحیح ہیں۔حافظ ابو المحاسن الحسینیؒ(م۷۶۵ھ)اپنی کتاب ”التذکرة“ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ”وکذلک المسند الشافعی موضوع لأدلتہ علیٰ ما صح عندہ من مرویاتہ، وکذلک مسند أبی حنیفة“(۹)۔ یعنی مسند شافعیؒ کی طرح مسند ابی حنیفہؒ بھی ان دلائل پر مشتمل ہے جو امام صاحب کی صحیح روایات میں سے ہیں۔
(۴) امام اعظمؒ کی ان مسا نید کو محدثین میں بہت پزیرائی ملی ہے جس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ یہ مسانید محدثین کے زیر نظر رہی ہیں،ان کے ہاں ان مسانید کو سماعت اور روایت کرنے کا رواج رہا ہے،اسی طرح امام اعظمؒ کی کئی مسا نید موٴرخ اسلام امام کمال الدین عمر بن احمدؒ المعروف بہ ”ابن العدیم“(م ۶۶۰ھ)کی زیر نظر بھی رہ چکی ہیں؛ چنانچہ وہ ایک حدیث کی تحقیق میں رقم طراز ہیں: ”وقد نظرت فی مسانید أبی حنیفہ“(۱۰)۔
امام محمد بن معنہؒ (م۹۰۴ھ)جو ایک جلیل المرتبت محدث اور دمشق کے قاضی القضاة رہے ہیں،ان کے ترجمہ میں امام نجم الدین غزنوی شافعیؒ(م۱۰۶۱ھ)اور امام ابن العماد حنبلیؒ (م۱۰۸۹ھ)نے لکھا ہے کہ”وسمع بعض مسانید أبی حنیفة علیٰ قاضی القضاة حمیدالدین“(۱۱)۔
❤2