Apki Awaz آپ کی آواز
745 subscribers
934 photos
23 videos
102 files
1.27K links
ادبی،اصلاحی،تحقیقی،دینی،سیاسی، سماجی مضامین، ویڈیوز اور خبریں وغیرہ
واٹس ایپ چینل کا لنک https://whatsapp.com/channel/0029Va7d9KP4dTnNVAiwuY1I
فیس بک لنک: https://www.facebook.com/APKIAWAZ786?mibextid=LQQJ4d
یوٹیوب لنک: https://youtube.com/@apkiawazonline
Download Telegram
رسید اور ثبوت ضرور لیں۔

ویڈیو یا لائیو تصدیق طلب کریں۔

کسی کو OTP ہرگز نہ بتائیں۔

مشتبہ لنکس پر کلک نہ کریں۔

اجتماعی قربانی میں
ذمہ دار افراد کی تحقیق کریں۔

حصے داروں کی تعداد معلوم کریں۔

شرعی اصولوں کی پابندی کی یقین دہانی کریں۔

اسلامی تعلیم
اسلام میں دھوکہ دہی سخت گناہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»
“جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔”

قربانی جیسی مقدس عبادت میں فراڈ کرنا صرف مالی جرم نہیں بلکہ دینی خیانت بھی ہے۔ ایسے لوگ چند روپے کے لیے اپنی آخرت برباد کرتے ہیں۔

مسک ختام

قربانی محبت، وفاداری اور اطاعتِ خداوندی کا درس دیتی ہے، نہ کہ لالچ، جھوٹ اور دھوکہ دہی کا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ہوشیار رہیں، تحقیق کے بعد معاملات کریں اور عبادت کو خالص اللہ کے لیے انجام دیں۔
اگر عوام بیدار ہوجائیں، سوال پوچھنا سیکھ جائیں اور جذبات کے بجائے سمجھداری سے فیصلہ کریں تو قربانی کے نام پر ہونے والے اکثر فراڈ خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔

قربانی کا اصل حسن جانور کی قیمت میں نہیں بلکہ نیت کی سچائی، رزق کی پاکیزگی اور معاملات کی دیانت داری میں ہے۔ قربانی کے جانور سے پہلے انسان کو اپنے دل، نیت اور کردار کی قربانی پیش کرنی چاہیے۔

(یکم ذی الحجہ چودہ سو سینتالیس ہجری)
❤2
عمل، عمل اور عمل

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
8 ذی الحجہ 1447ھ 26 مئی 2026ء

"مخفی کنز" کی کلید عمل ہے، عمل حجاب اٹھاتا ہے، دوری کو نزدیکی میں تبدیل کرتا ہے، مسافت طے کراتا ہے، معرفت کے نئے فیچرس سامنے لاتا ہے، نور کے "لاکڈ تھیم" کو "اَن لاکڈ" کرتا ہے، انسان کو عام کیٹیگری سے ترقی دیتا ہے، سادہ انسان کو پریمیم بنا دیتا ہے، عرش نے ٹول عائد کیا ہوا ہے اور وہ ٹول صرف اور صرف عمل ہے، عمل سے عاری آرزوئیں کوالیفائی نہیں کرتیں، عمل کو عروج ملتا ہے، بازو عطا ہوتے ہیں، عمل پرواز کرتا ہے اور وہ پرواز آزاد اور بے قید ہوتی ہے۔

مطالعہ اور کتب بینی عمدہ عمل ہے؛ مگر کمال کے لیے کافی نہیں، اس باب میں عمل شرط ہے، پھر نفسِ عمل کو اہم سمجھنا بھی جلد بازی ہے، کتاب خوانی اور عمل میں توازن مطلوب ہے، ایک من خواندگی کے بعد ایک من ہی عمل بھی بروئے کار لائیں، مساوات کے فقدان کی صورت میں نتیجہ ناقص آئے گا، آپ نے ایک گھنٹہ مطالعہ کیا ہے، بہت خوب! اب ایک گھنٹہ عمل کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی مقدار یہی تھی، وہ تہجد کے لیے نصف شب کو بیدار ہوتے تھے، جفا کش صحابہ کو نوافل کی ہمسری کا یارا نہ تھا۔

یہاں تیسری چیز میری طرف سے شامل کریں، مطالعے اور عمل کے قافلے کا تیسرا ساتھی غور و فکر ہے، اب کاروانِ کمال پورا ہوا، سفر میں تنہا شخص ناپسندیدہ ہے، دو بھی برے ہیں، تین کا عدد شاندار ہے، مطالعہ، تفکیر اور عمل؛ ان تینوں میں توازن لازم ہے، اس کے بغیر شخصیت کج رہے گی، ایک گھنٹہ مطالعہ کیا ہے تو ایک گھنٹہ غور و فکر بھی کریں، معلومات علم میں تبدیل ہوں گی، اللہ نے انسان کو ذہن عجیب العجائب دیا ہے، کتاب تک محدود رہنا اور دماغ و عقل سے استفادہ نہ کرنا محرومی ہے، تفکیر آپ کو کتاب کا راز بتائے گی، موضوع کا محرم بنائے گی؛ یہاں تک کہ آپ چند ساعات کے لیے مصنفِ کتاب کے احساس میں جینے کی واقعی بلندی بھی پا سکتے ہیں۔

دارالعلوم دیوبند کی تدریس کے ابتدائی سالوں میں مجھے بعض اکابر اساتذہ کا طریق عجیب لگا، میں قریب ہوا تو دیکھا کہ خاصا وقت سوچنے میں گزارتے تھے، اس دور میں کثرت مطالعہ ہم جیسے سطحی لوگوں کی معراج ہوا کرتی تھی، میں موازنہ کرتا تھا، اپنی عمر کے ایک مدرسِ دارالعلوم سے اس کا ذکر کیا، انھوں نے کبر سنی کی توجیہ کی تھی؛ مگر آج مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ وہ عملِ تفکیر میں مشغول رہتے تھے، اس کی دو وجہ ہیں: ایک یہ کہ علمی لحاظ سے وہ بلند پایہ تھے، یہ درجہ وسیع و عریض مطالعے کے بغیر ممکن نہیں، دوسرے ان کی علمی، فکری، انتظامی اور معاشرتی آراء اعجاز ہوا کرتی تھیں۔

عمل ہر سوال کا جواب ہے، عمل ہر اشکال کا حل ہے، جو اشکال تک محدود رہے مشکل میں رہے، جو عمل پر لگ گئے پار ہو گئے، تقدیر کے مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ عمل کرو، عمل سے تمام اعتراضات رفع ہو جاتے ہیں، بے عملی سب سے بڑا اعتراض ہے، ہر معترض بے عمل ہے، جو روانہ ہو گیا وہ پہنچ گیا، جو اشکال حل کرانے میں الجھا وہ مائنس ہوکر رہا، وجود باری کی سو دلیلیں ایک پلڑے میں ہلکی اور عمل تنہا دوسرے پلڑے میں بھاری ہے، عمل سے علم مشاہدے میں بدلتا ہے، عمل بند دروازے کھولتا ہے، اگلے مرحلے کے قابل کرتا ہے، آگے کا راستہ بناتا ہے، سجاتا ہے اور اسے منور کرتا ہے، مشہور قرآنی آیت کا یہی مطلب ہے کہ جو ہماری دریافت میں جد وجہد کرتے ہیں ہم انھیں اپنا راستہ دکھاتے ہیں، معترض دلیلوں میں درماندہ رہ جاتا ہے اور عمل والا خدا یافتہ ہو جاتا ہے۔

عملِ پیہم خدا تک پہنچا دیتا ہے، عمل اعتراضات سے والا اور بالا کر دیتا ہے، عمل وہ رفعت بخشتا ہے کہ اشکال ذلیل ہو جاتے ہیں، عمل کی بلندی سے مخالفت حقیر نظر آتی ہے، اشکال سر پکڑے زمین پر تنگ دل ہوتا ہے اور صاحبِ عمل تجربہ، احساس، وجدان اور ملاقات کی مستی میں سرشار ہوتا ہے، عمل کے لیے قرب اور اشکال کے لیے بعد مقدر ہے، یہ اشکال کے حل سے انکار یا فرار نہیں، حل کا درست پتہ دیا گیا ہے، اشکال والے انبیا سے بھی مطمئن نہیں ہوے، عمل والے عام تلقین سے مسیحا بن گئے، عمل والے ستارے بن کر چمکے، خلجان والے بھنور میں ڈوب گئے، اٹھو! عمل کرو، عمل اول ہے، عمل دوم اور عمل ہی سوم ہے۔
❤2
ہندو راشٹر میں مسلم شب و روز

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
17 محرم الحرام 1448ھ
3 جولائی 2026ء

فرقہ پرست جماعت کے اقتدار میں ہندوستان کے مسائل تنوع، کثرت اور سنگینی کے باوجود "مسئلۂ مسلم" کے حق میں دست بردار ہو گئے ہیں، اب ہمارے یہاں بھک مری ہے نہ غربت، ناخواندگی ہے نہ جہالت، بیماری ہے نہ علاج کی قلت، بے روزگاری ہے نہ مہنگائی، سڑکوں میں گڈھے ہیں نہ تنگی، علاج میں اخراجات نہیں، افراط زر کی رسائی سے والا ہیں، دولت بہہ رہی ہے، بہبودی اسکیموں کا ہجوم ہے، فلاحی ریاست میں دان لینے والا میسر نہیں، خوش حالی کا دور دورہ ہے، اچھے دن آگئے ہیں، رشکِ یورپ و امریکہ بن گئے ہیں، تحریکِ چین و جاپان کہلاتے ہیں، ملک ہر مسئلے سے فارغ فقط مسئلۂ مسلم سے دوچار ہے اور اب اسے بہ ہر صورت اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔

ہمارے دشمن اس وقت "مسلم مکت بھارت" کے فیصلے کن نعرے تک پہنچ گئے ہیں، اس سنگ میل نے مراحل دیکھے ہیں، یہ خطرناک صورت حال راتوں رات پیدا نہیں ہوئی، بابری مسجد نزاع کے وقت ہندو یہ باور کراتے تھے کہ بس ایک مسجد کا مطالبہ ہے، دوسری کوئی مسجد زد میں نہیں آئے گی، ہمارے بکاؤ مفکرین، عاجل الفکر بہی خواہ اور کوتاہ بین افراد ہاں میں ہاں ملاتے؛ مگر ملت کے دور اندیش رہنماؤں نے متنبہ کر دیا تھا کہ بابری مسجد بڑا بند ہے، اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو مساجد پر انہدام کا سیلاب آئے گا، اس وقت یہ تنبیہ زائد سمجھی گئی؛ مگر وقت نے خطرے اور اندیشے کو صحیح ثابت کیا، بابری مسجد طاق نسیان ہوئی اور اب ہر دن نئی مسجد زیر دعوی ہے۔

اس وقت ہندو لیڈر کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ہمیں مسجد اور مدرسہ مکت بھارت چاہیے، یہ باتیں آن ریکارڈ، آن کیمرہ اور ٹیلی ویژن ہر کہی جا رہی ہیں، ہمارے سادہ لوح مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں بعض دیوانوں کی بڑ ہیں؛ وقت ثابت کر دے گا کہ ہندو لیڈروں کے یہ جارح بیانات معانی بھی رکھتے تھے، نیز وہ ان کی ذاتی بکواس نہیں تھی، مقتدرہ کے اشارے پر منظم مہم تھی، آنے والے وقت کی تمہید قائم کی جا رہی تھی، اگر آج میں یہ بات کہوں کہ بھارت میں تمام مساجد توڑنے کی بات کرنے والے ہندو وادی لیڈر سنجیدہ ہیں تو خود ہمارا طبقہ اسے مبالغہ اور توہم قرار دے گا؛ لیکن یہ وہی خود فریبی ہے جس میں بابری مسجد کے وقت امت مبتلا کی گئی تھی، وقت کا آئینہ دکھا رہا ہے کہ بات بابری تک محدود نہیں تھی۔

اس وقت ہندوستان میں یومیہ بنیاد پر مساجد منہدم کی جا رہی ہیں، ان میں صدیوں پرانی مساجد شامل ہیں، سرحدوں پر سیکیورٹی کا بہانہ ہے، سڑکوں پر تنگی کا، ہندو آبادی میں مذہبی ساخت کی تبدیلی کا، مسلم آبادی میں کاغذات کا، ہندوستان میں کاغذات کا اہتمام قدیم دور میں بالکل نہیں تھا، قبضہ اور استعمال ہی سب کچھ تھا، آج وہ صدیوں پرانی مساجد سے دستاویزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ ملنے کی صورت میں بلڈوزر حاضر سروس ہو جاتا ہے، پرانی زمینوں کے کاغذات درست نہیں کیے جا سکتے؛ لہذا ہر مسجد انہدام کی فہرست کا حصہ ہے، جسے اس میں کوئی بھی شبہ ہے وہ مزید زہریلی فضا کا انتظار کرے، ممکن ہے ہماری حیات میں یہ نہ ہو؛ مگر منصوبہ غیر حقیقی ہے یہ ہم تسلیم نہیں کرتے، وہ ایسا چاہتے ہیں، اس کے لیے پرعزم ہیں اور سرگرم عمل بھی۔

انھوں نے گہرے غور وفکر کے بعد مساجد و مدارس کو دستاویزات کی کسوٹی پر رکھا ہے؛ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان بچاؤ کے لیے عدالتوں میں جائیں گے، جہاں کاغذات ہی حق نطق رکھتے ہیں، یوں وہ مساجد بدست خود سپرد کرنے پر مجبور ہوں گے، ہندوستان میں قدیم مذہبی عبادت گاہیں فقط استعمال پر قائم ہیں، مندروں، گردواروں اور گرجوں کی صورت حال مساجد سے مختلف نہیں، مندروں کا تو خیر اس وقت ذکر ہی کیا، ان کو مقدس استثنا حاصل ہے، پرانے چھوڑیے نئے مندر بھی غیر قانونی ہوتے ہیں؛ بل کہ آج کے ہندوستان میں صرف وہی مندر مقبول ہیں جو عوامی، سرکاری زمین پر زبردستی بنائے جاتے ہیں، قدیم مندر عملا غیر آباد ہیں۔

نئے ہندوستان میں صرف مساجد نشانے پر ہیں، مندر تو سرکاری عبادت گاہ کا درجہ اختیار کر گئے ہیں؛ مگر گردواروں کے ساتھ کوئی تعرض نہیں، کسی ہندو لیڈر کی ہمت نہیں کہ سکھوں کی عبادت گاہ سے کاغذات طلب کر سکے، امت شاہ نے سی اے اے اور این آر سی میں مذہبی امتیاز اور تفریق کی ایسی بنیاد رکھ دی ہے جو ہندوستان کی مذہبی زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کرے گی، لوگ اسے شہریت کی محدود عینک سے دیکھ رہے تھے؛ مگر یہ بہت گہری اسکیم تھی، اس کے اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں اور آتے ہی رہیں گے، مذہبی امتیاز کو باقاعدہ قانون بنانے کے اثرات دور رس نہ ہوں یہ ممکن ہی نہیں، کہاں سی اے اے اور کہاں عبادت گاہوں سے دستاویزات طلبی میں امتیاز؟ مگر یہ ہو رہا ہے اور سب کے سامنے ہو رہا ہے۔
❤2
اب شتر مرغ والی گنجائش بھی باقی نہیں؛ کیوں کہ ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف مار کاٹ کی باتیں کھلے عام کہہ رہے ہیں، ویڈیوز موجود ہیں، انتظامیہ کے علم میں ہیں، ہتھیار لہرا کر دھمکیاں دی جاتی ہیں، قتل عام کے عزائم علانیہ ظاہر کیے جاتے ہیں، میرا تجزیہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام صرف اس لیے رکا ہوا ہے کہ جب وہ فساد کرتے ہیں تو مسلم نوجوانوں کی طرف سے جواب دیا جاتا ہے، گو کہ بعد کی پولیس کارروائیوں میں زندگیاں تباہ ہوتی ہیں؛ مگر وقت کے مردانہ سینے زعفرانی خاکوں سے رنگ چھین لیتے ہیں، یہاں فساد کو روکنے کا سہرا پولیس کے سر نہیں ہے، پولیس تو ان کی دھمکیوں پر خاموش رہتی ہے، یہ امن مسلم جوانوں کی بدولت ہے، جنھوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں ہے، مجبور ہو کر ہندو فسادیوں نے یہ راستہ نکالا کہ دس بیس کا گروپ بنا کر کسی تنہا مسلمان کو گھیر لیتے ہیں اور جے شری رام بول کر اس کا قتل کر دیتے ہیں، یہ ایک کام وہ بخوبی اور بہ آسانی کر رہے ہیں۔

ہم نو عمری میں ہندو راشٹر کے نعرے سنتے تو خدو خال کا تجسس ہوتا، تازہ ہندوستان نے خدو خال دکھا دیے، جن ریاستوں میں بی جے پی حکومت ہے وہ سب ہندو راشٹر ہیں، وہاں ہندو مذہبی حکومت قائم ہے، ہندو مذہب کا فروغ ان کا نصف کام ہے، باقی نصف وقت وہ اسلام کے تعاقب میں گزارتے ہیں، بی جے پی ریاستوں میں مسلم مخالف چہرے کے لیے مقابلہ جاری ہے، مسجدوں کو گرانے کا مسابقہ ہو رہا ہے، ان حکومتوں کے پاس کوئی کام نہیں ہے، وہ مسجد، مدرسہ، مسلمان اور اسلام تک محدود ہیں۔

مسلمانوں پر شکنجہ سخت ہے، قوانین صرف مسلمانوں سے مخاطب ہیں، ہندو سے زیادتی خاص سرخ لکیر ہے، مسلمان ملزم کا فوری طور پر انکاؤنٹر ہوتا ہے، عدالتی کارروائی کو موقع نہیں دیا جاتا، تمام اہل خانہ گرفتار ہوتے ہیں، گھر منہدم کر دیا جاتا ہے، اس علاقے کی مساجد اور مدارس گرادیے جاتے ہیں، پورے مسلم محلے کو ٹارچر کیا جاتا ہے، جمعہ روکنے کی دھمکی دی جاتی ہے، باہر سے ہندو تنظیمیں آکر احتجاج کرتی ہیں، مسلمانوں کو علانیہ دھمکی دیتی ہیں، پولیس کے سامنے قتل عام کی باتیں دہراتی ہیں، ہتھیاروں کے ساتھ مارچ کرتی ہیں، پورے علاقے کو میدان جنگ بنادیتی ہیں، کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

جاری
*" جنتر منتر والے جنید کا یہ بیان سنا "*
*یہ بیان دراصل محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف ہے !*
✍️: سمیع اللہ خان
https://www.facebook.com/share/v/1E9EeLvzdq/
جنید کا کہنا ہے کہ " سرکار چاہے تو محمد علی جوہر یونیورسٹی کا نام تبدیل کردے، سرکار اس کو پرائیویٹ سے اپنے قبضے میں لے لے، محمد نام سے دقت ہے تو اسے بھی بدل دے اور کسی اور کرانتی کاری کے نام پر یونیورسٹی کا نام رکھ دے، لیکن بس یونیورسٹی کو رہنے دو "
یہ حمایت معنوی طور پر یونیورسٹی کی مخالفت ہی ہے کیونکہ آپ اس کی روح کو دفن کرنا چاہتے ہیں!
جنید صاحب! آپ تو بہت زیادہ ہی بھولے بھالے نکل گئے، اور اتنے زیادہ غیرت سے خالی کہ نامِ محمد کی تبدیلی پر ایسی رضا ہے آپکی، اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، آپ کا یہ بیان سن کر اندازہ ہوا کہ کیوں آپ جیسوں کو کسی بھی اہم ملکی اور سیاسی مسئلے میں زیادہ کودنا نہیں چاہیے، جی ہاں، میں نے دیدہ دانستہ یہ لفظ لکھا ہے، کہ آپ جیسے افراد کو بالکل بھی بہت زیادہ کودنا نہیں چاہیے، آپ جیسے افراد کو صرف اسی قدر حق ہےکہ ظالموں کے خلاف اٹھائی جانے والی کسی اچھی عوامی تحریک میں شرکت ضرور کرلیں لیکن ہرگز وہاں پر مسلمانوں کا نمائندہ بن کر ایسے بیان بازی نہ کریں کیونکہ آپ کی نہ تیاری ہے نہ تربیت جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔ آپ نادانستگی اور بے شعوری میں اس طرح کی بیان بازیوں سے ملت کو کیسا نقصان پہنچا دیتے ہو کاش آپ جیسوں کو اندازہ ہو، اس معاملے میں صرف آپ اکیلے نہیں بےشمار لوگ ہیں جو یہ غلطیاں آجکل کررہے ہیں بےسمت اور مظلوم قوم قیادت کی نااہلی کی وجہ سے اس بحران میں جاپڑی ہے، زوال کے وقت ویسے یہ ہوتا بھی ہے ہر آدمی مائک پکڑ کر لیڈری کرنے لگتا ہے, حالانکہ اس سے اندرونی انتشار مزید بڑھتا ہے اور ملت کمزور ہوتی ہے
اب آپ کا یہ بیان سنگھیوں نے کس طرح وائرل کیا ہوا ہے اور کیسے وہ اس کو لے اڑے ہیں ذرا سرچ کیجیے، کس طرح سے اب ہندوتوادی لوگ جنید کے اس بیان کی بنیاد پر جوہر یونیورسٹی کا نام بدل کر ہندو نام پر رکھنے اور اعظم خان ٹرسٹ سے چھیننے کی مہم پر مضبوط ہو رہے ہیں کہ لو اب تو جنتر منتر والا مسلمان لیڈر بھی اس پر راضی ہے !
ارے نادان انسان ! محمد علی جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنا یا اس پر بلڈوزر چلانے جتنی حماقت نریندر مودی اور بھاگوت کبھی نہیں کرے گا کیونکہ اس کے بعد پوری دنیا میں ایسی بدترین بدنامی ہوگی کہ سنبھالے نہیں سنبھلے گی، یہ سارا ڈرامہ صرف اسی لیے ہے تاکہ مسلمانوں کی بنائی ہوئی ایک اور شاندار اور زبردست یونیورسٹی پر سَنگھ کو قبضہ مل جائے، اور یونیورسٹی کا نام بدل کر یوگی آدتیہ ناتھ کی پسندیدہ انتظامیہ کے حوالے کردیا جائے !
آپ جیسے لوگ جو اسلامی علوم اور ایمانی نظریات کی ادنیٰ تربیت سے بھی نہیں گزرے ہوتے ہیں اور صرف سیکولرزم اور ہندوؤں سے اتحاد کی خاطر ہندو غلبے والی گنگا جمنی رنگ میں رنگے ہوتے ہیں وہ ایسی چالاک ہندوتوادی سیاستوں کو اپنے ایسے " سڑک چھاپ نظریات" کے ذریعے کامیاب کردیتے ہیں!
اسی لیے ہم جنید جنتر منتری صاحب ہوں یا کوئی اور اب ایسے کسی بھی شخص یا مومنٹ کی حمایت نہیں کرنے کے موقف پر سختی سے قائم ہیں جن کی تربیت اور تعلیم نظریات اور ذہنی افکار کا اتا پتا نہ ہو، آجکل کی ایسی اچانک پیدا ہونے والی مودی مخالف مومنٹ میں جنید جیسے چہرے وائرل ہوتے ہیں اور پھر ان کو لیڈر تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ان کا محور و مرکز ہر حال میں کسی بھی طرح ہندو سماج کو خوش کرنا یا ہندو سماج میں اپنے آپ کو مقبول کرانا ہوتا ہے یہ ذہنیت یوٹیوب اور سوشل میڈیا ریلز دیکھ دیکھ کر تیار ہوتی ہے جب دماغی بیک گراؤنڈ مضبوطی سے بالکل خالی ہوتا ہے، پھر وہ اتنی بڑی بات بھی کہہ دیتے ہیں کہ اچھا محمد نام سے دقت ہے تو محمد نام بدل دو اور سوشل میڈیا ریلز پر موجود ہزاروں لاکھوں نوجوان ایسی ریل بازی سے اپنی ذہنیت بھی بگاڑتے ہیں، ایسے لوگوں سے کسی ایک مومنٹ کے کسی ایک معاملے میں مودی کے خلاف کوئی کام ہو بھی جائے تو پھر ایسی ناپختہ ذہنیت اپنی ملت اور اس کے مذہبی شعائر و ملی شناخت کو بہت بہت نقصان پہنچاتی ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ اسوقت یہی ہورہا ہے نریندر مودی کے مظالم کے نقصانات کی توبھرپائی ممکن ہے لیکن ایسی ناپختہ ذہنیت سے صادر ہونے والی من پسند اسلام اور ہندوتوادی فاشسزم سے مرعوب ملت کی ترجمانی سے پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہے !
بھئی اگر جوہر یونیورسٹی کا نام بدل دیا جائے اور اس کو اعظم خان سے چھین کر یوگی آدتیہ ناتھ کے حوالے کردیا جائے تو یہ نقصان یونیورسٹی کو ڈھا دینے سے بھی زیادہ ہے، لیکن یونیورسٹی کے نام کا بدلاؤ شناخت اور نظریاتی استقامت پر بدترین چوٹ ہوگی جس کا اثر نسلوں اور صدیوں تک رہےگا، ڈھائی گئی یونیورسٹی پوری موجودہ دنیا میں بھی اور آگے تاریخ میں بھی ہندوتواد پر کلنک بنی رہےگی، اور جب اللہ تعالٰی ہمیں اپنی تربیت و نصرت کے ساتھ اقتدار
❤3
دےگا تو ہم ان شاءاللہ العزیز یونیورسٹی کو دوبارہ پہلے سے زیادہ شان و عرفان سے بنالیں گے ۔
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَۙ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ‏۔
رسول پور میں مُردوں كی عید

ڈاكٹر عبدالملك رسولپوری
شعبہ عربی ذاكرحسین دہلی كالج ‏،دہلی
malikqasmi@gmail.com
ایك ہفتہ قبل كی بات ہے ‏، راقم اپنے گاؤں رسول پور میں تھا‏، قدرے مصروفیت بھی تھی‏، دہلی یونیورسٹی میں داخلوں كی سرگرمیاں جاری تھیں‏، جنرل سیٹوں میں داخلے كے خواہش مند طلبہ كے تعلیمی دستاویزات كی تصدیق ہمارے ذمے تھی‏، جمعہ كی نماز سے فارغ ہوكر ہم تیز قدموں اپنے آشیانے طر ف چلے ‏،سنتیں پڑھیں اور پھر دوبارہ لیپ ٹا پ آن كر كے یونیورسٹی كی ویب سائٹ كو لاگ ان كیا‌‏، ابھی دوچار منٹ گزرے ہوں گے كہ مسجد سے اعلان ہوا :جنازے كی نماز تیار ہے۔ ہمارے علم میں بھی نہیں تھا كہ آج كوئی گاؤں باشی وفات پاگئے ہیں‏، شاید صبح میں كسی وقت اعلان ہوا ہو گا ‏،جس كی آواز ہمارے كانوں تك نہیں پہنچی ہوگی‏، گاؤں یا اطراف میں جب كسی كا انتقال ہوتا ہے توعموما مسجد سے اعلان كیا جاتا ہے كہ فلاں صاحب كا انتقال ہوگیا ہے اور نماز جنازہ فلاں وقت ادا كی جائے گی‏، سماج كے تئیں مسجد كی جملہ خدمات میں سے یہ بھی ایك اہم خدمت ہے ‏،اس سے بہت سے لوگوں كو آسانی سے وفات كی خبر مل جاتی ہے اور پھر تعزیت كے لیے لوگ جانے لگتے ہیں‏۔ یہ جناب اسلم صاحب كا جنازہ تھا‏، متوسط درجےكا ان كا گھراناتھا ‏، مرحوم نے حین حیات كوئی خاص نیك كام ضرور كیا ہوگا جس كے باعث اللہ رب العزت نے موت كے فرشتے كو جمعہ كی تاریخ دی‌‏تھی‏، حدیث میں آتا ہے كہ جس مسلم شخص كا جمعہ كے دن یا جمعہ كی رات میں انتقال ہوتا ہے‏، وہ قبر كے فتنے سے محفوظ رہتا ہے‏،یعنی قبر میں اس كو عذاب نہیں دیا جاتا ہے ‏، ہاں اس بابت لوگوں نےاختلاف كیا ہے كہ صرف جمعہ كے روز فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے كہ یا تا قیامت‏ محفوظ رہے گا‏، ہم تو یہ كہتے ہیں كہ چھوٹے ذہن كے لوگ صرف جمعہ كے دن محفوظ رہیں گے اور بڑے ذہن اور بڑے دماغ كے لوگ قیامت تك محفوظ رہیں گے ‏، بھائی جب حدیث پاك میں اس كی تحدید نہیں ہے تو اللہ رب العزت سے اچھی ہی امید ركھنی چاہئے‏، بڑے لوگوں سے تھوڑا كہاں مانگا جاتا ہے ‌‏، اور ہم كون ہوتے ہیں جو اسے چند ساعتوں میں محدود كریں۔ در اصل جمعہ كے دن جہنم كی بھٹی بند رہتی ہے ‏، سارےكارندے چھٹی پر رہتے ہیں اس لیے آگ سلگتی ہی نہیں ہے‏، تو عذاب كہاں سے ہوگا۔ یہ بس اللہ رب العزت كا نظام اور اس كی رحمت ہے ورنہ تو وہ قادر مطلق ہے۔
خیر ہمارے كانوں میں جیسے ہی آوازآئی‏، ہم نے لیپ ٹاپ بند كیا اور فورا نماز جنازہ كے لیے دوْڑے اور اپنے چھوٹے میاںولید سلمہ سے كہا كہ تم كپڑے پہن كے نیچے ملو‏، ہم ابھی آرہے ہیں دادا جان كے پاس چلیں گے۔ در اصل شہروں كے جنازوں میں كم ہی شركت ہوتی ہے ‏، دہلی میں رہائش بھی غیر رہائشی جگہ پر ہے ‏، یہاں شام میں انسان ہی نہیں نظر آتے ہیں اور دن میں جو نظر آتے ہیں وہ نظری طور پر زندہ ہوتے ہیں ‏،گرچے ان كی اكثریت نظریاتی طور پر مردہ ہوتی ہے‏، پر نظریاتی مردوں كے جنازے نہیں ہوتے ہیں‏۔ دن میں آباد اور شام كے بیاباں دہلی كے اس دفتری قطعے كے پیچھے بھی ایك قبرستان آبادہے؛ لیكن جس طرح ہائی وے پر یو ٹرن كاكٹ كئی كلو میٹر كے بعد ہوتا ہے‏، ایسے ہی اس قبر ستان میں جانے كے لیے بھی آپ كو كلو ڈیڑھ كلو میٹر تو چلنا ہی پڑتا ہے اور پھر مسجد عبدالنبی میں جنازے كی نماز بھی نہیں ہوتی ہے‏، فرشتوں كےجنازے نہیں ہوتے اور یہاں انسان مرتے نہیں‏، بس گاہے گاہے جن كا انتقال ہوتا بھی ہے‏، ان كے جنازے ان كے آبائی گھروں كو چلے جاتے ہیں‏، یوں جنازوںمیں شركت كا موقع ہی كم ملتا ہے‏۔ گاؤں آتے ہیں تو ہرمرتبہ كوئی نہ كوئی رخصت ہوا ملتا ہے‏،كوشش رہتی ہے كہ جنازے میں شركت ہوجائے‏، اس من گھڑت بات كے لیے نہیں كہ آپ جتنوں كے جنازوں میں شریك ہوں گے آپ كے جنازے میں بھی اتنے ہی لوگ شریك ہوں گے؛ كیوں كہ حدیث پاك میں اس طرح كی كوئی تشریح نہیں نظر آتی ہے؛ہاں یہ ضرور ملتا ہے كہ كبھی كبھی جنازے میں شریك افراد كی وجہ سے میت كی مغفرت كردی جاتی ہے اور كبھی كبھی اس كے برعكس میت كی وجہ سے جنازے میں شریك افراد كی بخشش ہوجاتی ہے‏؛ اس لیے كوشش كرنا چاہئے كہ جنازے میں شریك ہی ہوجائے‏۔حدیث پاك میں یہ بھی منقول ہے كہ اگر كسی كے جنازے میں سو افراد ہوں یا تین صفیں ہوگئیں ہوں اور وہ سب اس میت كے حق میں مغفرت كی سفارش كررہے ہوں تو اللہ رب العزت اپنے ان بندوں كی سفارش كو رائیگاں نہیں جانے دیتے ہیں‏، اپنی رحمتوں كے پیش نظر قبول كرلیتے ہیں اور اس میت كی بخشش فرمادیتے ہیں۔ ایسے ہی حدیث پاك میں یہ بھی مذكور ہے كہ مومن كے جنازے میں نكلنے میں والوں كے لیے سب سے پہلا تحفہ یہ ہوتا ہے كہ ان كی بخشش كردی جاتی ہے‏۔
اللہ كا فضل ہے كہ اس بابت ہمارا گاؤں كافی فضیلت والا معمورہ ہے‏، ہمارے یہاں جنازوں میں ماشاء اللہ ایك بڑی تعداد شریك ہوتی ہے‏، ایك تو یہ ہے كہ گاؤں ہے شہر نہیں‏، گاؤوں میں خانوادے ایك دوسرے سے مربوط رہتے ہیں ‏، دور كے رشتے دار بھی اس روز اپنے كام كاج كے لیے نہیں جاتے ہیں‌‏، جب كہ شہروں میں دیكھا جاتا ہے كہ قریبی رشتے داروں تك كی دوكانیں نہین بند ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں لوگ كوشش كرتے ہیں وفات كے اس غم میں شریك ہوں اور جنازے میں شركت كریں ‏، اہل قریہ كی ان صفات حسنہ كی وجہ سے بات تو یہاں تك پہنچ گئی ہے لوگ یہ كہتے بھی سنے جاتے ہیں كہ وہ رسول پور‏، جہاں نماز جنازہ میں بہت لوگ شریك ہوتے ہیں۔ اے میرے گاؤں كے پیارے لوگو! یہ تبصرہ آپ كے لیے وہ سعادت ہے‏، جو زوربازو سے نہیں حاصل كی جاسكتی ہے‌‏۔ اس كے برعكس ہماری آنكھوں نے تو دیگر گاؤوں میں ایسا بھی مشاہدہ كیا ہے كہ نماز جنازہ پڑھنے والوں كی تعداد معمولی ہے اور ارد گر د كھڑے ہونےوالوں كی تعداد كافی زیادہ ‏، دریافت كرنےپر معلوم ہے كہ یہ ناپاك ہیں؛‏ اسی لیے نماز نہیں پڑھ رہے ہیں‏، عمومایہ وہ لوگ ہوتے ہیں‏، جن كو میت كا غم ذرہ برابر نہیں ہوتا ہے‏، بس سماجی طعنوں كی وجہ سےمیت كےگھر چلے جاتے ہیں‏، كہ نہ جانےپر لوگ كیا كہیں گے‌‏۔ ورنہ دو لوٹے پانی سے غسل كركے پاك ہونے میں انھیں دو منٹ نہ لگیں ‏،در اصل ساری چیزیں اللہ رب العزت كی توفیق پر منحصر ہوتی ہیں اور یہ وہ بد بخت طبقہ ہوتا ‏،جسے خدائی توفیق سے محرومی رہتی ہے۔
ہم پہنچے تو دیكھا كہ ماشاء اللہ كافی لوگ ہیں ‏، تین كیا سات صفیں بنی ہوئی نظر آرہی تھیں‏، ہم نے بھی ایك صف میں كھڑے ہوكر نماز پڑھی‌‏، اور اپنے گھر كی طرف چلے آئے ‏،حالاں كہ مسنون یہ ہے كہ جنازے كے پیچھے پیچھے مشایعت میں قبرستان جانا چاہئے‏، حدیث میں كچھ ایسا بھی آتا ہے كہ محض جنازے میں شریك ہونےوالےكو ایك قیراط ثواب ملتا ہے اور جنازہ وتدفین دونوں میں شریك ہونے والوں كو دو قیراط ثواب ملے گا۔ تدفین میں تو ہمیں بھی شریك ہونا تھا ‏،بس قبرستان جانے كےلیے اپنے چھوٹے میاں احمد ولید كو بھی ساتھ لینا تھا‏، انھیں ان كے دادا سے ملوانا تھا‏۔ ہمارے والد صاحب كا معمول تھا كہ وہ ہر جمعہ كو قبرستان جایا كرتے تھے اور اپنے مرحومین كے پیروں میں كھڑے ہوكر كبھی ایك جانب قبلے كی طرف پیٹھ اور قبر كی طرف چہرہ كر كے حفظ شدہ سورتیں پڑھتے تھےاور انھیں بخشتےتھے‏، ہم لوگوں كو بھی ساتھ لے جاتے تھے ‏،ہم لوگ ابو كی انگلی پكڑے ہوئے چلتے تھے‏ اور سورہ فاتحہ ‏چاروں قل سورہ تكاثر جیسی چیزیں پڑھتےتھے ‏،پھر جب گاؤں سے باہر مدرسوں میں چلے گئے تو چھٹیوں كے موقعوں پر ابو كی مصاحبت میں قبرستان جانا واجبی ہوتا تھا‏۔ در اصل حدیث پاك میں مذكور ہے جو شخص جمعہ كے روز اپنے والدین كی قبروں كی زیارت كرتا ہے تو اس كی مغفرت كر دی جائے گی اوراسے والدین كے ساتھ بھلائی كرنے والوں میں شمار كیا جائے گا۔ بس یہ بات تھی‌‏۔
ہمارے دو ہشام اور عكاشہ تو نظرنہیں آئے ‏،وہ قدرے بڑے ہوگئے ہیں‏،انھیں ابو سے دور رہنے ہی میں نجات محسوس ہوتی ہے ‏،ایك چھوٹے میاں ولید جن كی خوشی ابو كی مصاحبت میں مضمر رہتی ہے‏، گھر كے سامنے كھڑے ہوكر ہمارا انتظار كرر ہے تھے ‏، ہم نے انگلی پكڑی اور قبرستان كی طرف چل دیے۔ ہمارے گاؤں كا قبر ستان بھی ماشاء اللہ كافی بڑا ہے ‏، برادر بزرگوار توحید بھائی كی كوششوں اور شاید ہمارے یہاں كے سابق ممبر پارلیمنٹ مرحوم الیاس اعظمی صاحب كے مالی تعاون كی وجہ سے باؤنڈری بھی ہوچكی ہے‌‏۔ ہم پہنچے تو دیكھا كہ انسانوں كی ایك بھیڑ ہے ‏، بچے ‏، جوان ‏،بڑے اور بوڑھے ہر عمر كے لوگ موجود ہیں‏، دروازے كے قریب ہی ایك گوشے میں قبر بنائی جارہی ہے‏، جس كے ارد گرد ایك بھیڑ سفید كپڑوں میں ملبوس كھڑی ہوئی ہے ‏، دیكھنے والوں كو پہلی نظر میں یہی محسوس ہوجیسے كہ قبرستان نہ عیدگا ہ ہو اور یہ سب جشن منارہے ہوں‏؛ لیكن گونگی زبانیں اور ازدحام كے باوجود فضا میں چھائی ہوئی خاموشی غمازی كررہی تھی كہ یہ عید كا سماں نہیں غم كا ماحول ہے‏۔ قبرستان میں اور آگے بڑھے تو دیكھا كہ قبرستان كے درختوں كے بیچ اگی ہوئیں جھاڑیوں كے آگے پیچھے بہت سے لوگ سفید كپروں میں ادھر ادھر بھی ایسے منتشر ہیں جیسے چھوٹے درختوں پر سفید رنگ كے بگلے بیٹھے ہوئے ہیں‏، یہ سب اپنے مرحومین كی قبروں پر فاتحہ پڑھ رہے تھے‏، اس طرح جنازوں كی شركت سے ایك پنے میں دو كاج والا معاملہ ہوجاتا ہے۔ ہم نے بھی سوچا كہ جب تك قبر برابر ہو ہم بھی اپنے والدین اور اپنے خانوادے كے دیگر مرحومین كی قبروں كی زیارت كرلیتے ہیں‏، یوں ولید میاں كو لیے ہوئے اپنے خاندانی قبرستان كی طرف چل دیے‏۔ قبرستان میں جانے كے آداب میں سے تو یہی ہے كہ قبروں كے بیچ ننگے پیر ہی چلا جائے‏، قبروں پر پیر نہ ركھا جائے اور نہ قبروں پر بیٹھا جائے ؛ لیكن جہاں راستے صاف نہ ہوں اور برسات كے موسم میں
❤1
خود روطور پر اگ آنے والے خس وخاشاك كی بہتات ہو‏، سبز گھاس كے نیچے چرخی بنے كسی سانپ كے نكل آنے كا ہر آن خدشہ ہو‏، وہاں چپلوں كے ساتھ چلنے میں كوئی حرج نہیں ہے ؛كیوں كہ اسلام میں زندہ جانوں كی اہمیت مردوں كے احترام سے زیادہ ہوتی ہے۔
ہم دونوں چھوٹے قدموں رفتہ رفتہ چلتے ہوے اپنے والدین كے مدفن میں پہنچ گئے تو دیكھأكہ وہاں ہم سے پہلے ہمارے اور بھی یایا زاد چچا زاد بھائی بھتیجے اور خود ہمارے گھر كے دیگر بچے اپنی اپنی سورتیں پڑھ رہے ہیں اور بخش رہے ہیں‏۔ ہم نے ولید میاں سے كہا كہ پہلے دادا جان اور دادی جان كو سلام كرو‏ ‏، اس نے قبرستان میں داخلے كی دعا پڑھی ‏، پھر ہم نے كہا كہ جو جو سورتیں یاد ہوں سب پڑھ لو اور اخیر میں كہہ لینا كہ اللہ میاں ہم نے جو كچھ پڑھا ہے اس كا ثواب ہمارے دادا دادی اور سب لوگوں كو پہنچادینا ‏، یہ سمجھا كر ہم بھی اپنی سورتیں پڑھنے میں مصروف ہوگئے‌‏۔ فارغ ہوكر ہم لوگ واپس ہوئے تو دیكھا كہ پورے قبرستان میں لوگ اپنے اپنے مرحومین كی قبروں پر كھڑے ہوكر فاتحہ خوانی كررہے ہیں‏، یہ دیكھ كر ہمارے ذہن میں فورا جو خیال آیا كہ وہ یہی تھاكہ آج تو قبرستان كے مرحومین كی عید ہوگئی ہے‏۔ در اصل قبروں میں مدفون مرحومین كی روحیں اپنے متعارف لوگوں كو پہچان لیتی ہیں ‏، ان كے سلاموں كا جواب دیتی ہیں ‏، انھیں معلوم ہوجاتا ہےكہ آج كون كون لوگ آئے ہیں اور انھوں نے كن كن سورتوں كا تحفہ پیش كیا ہے‏۔ اس ایصال ثواب سے مرحومین كو خوشی ہوتی ہے‏، ان میں سے بخشے ہوئے لوگوں كے انعامات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور پریشاں حالوں كی پریشانیوں میں ایصال ثواب كے بقدر كمی آجاتی ہے۔ تو باحیات لوگوں كی اپنے مرحومین كی یہ زیارت ان كے لیے عید جیسی ہی خوشی كا سامان فراہم كرتی ہے‏۔
ہم دونوں واپس ہوئے تو ہم نے ولید سے پوچھا كہ جب ہم یہاں دادا كے پاس سونے آجائیں گے تو تم ہمارے پاس ایسے ہی آیا كروگے ‏، بے چارے نے معصومیت سے ہماری طرف دیكھا اور كہا ہاں آیا كریں گے ‏، ہم نے كہا پكا؟ ‏، كہنے لگا ہاں پكا‏۔ یہ سب باتیں كرتے ہوئے ہم لوگ نئے مرحوم كی قبر پر آئے لوگ مٹی دے رہے تھے انھیں میں شامل ہوكر ہم نے بھی تین مٹھی مٹی ڈالی اور باہر نكل آئے۔
در اصل قبرستانوں كی زیارت بھی ایك محبوب عمل ہے‏، اس كے بہت سے فائدہے ہیں‏، اولا اپنے مرحومین سے سلام دعا ہوجاتی ہے‏، ان كے لیے كچھ ایصال ثواب ہوجاتا ہے‏۔ اور قبروں كو دیكھ دیكھ كر كہ ماضی كے بڑے بڑے ترم خان سب اسی مٹی كے اندر سوئے ہوئے ہیں‏، اپنے دل بھی نرم ہوجاتے ہیں۔ ہم توكہتے ہیں كہ حكمراں طبقے اور گاؤں كے مكھیا لوگوں كو پابندی سے قبرستان جاتے رہنا چاہئے اس سے ان كر دلوں میں نرمی برقرار رہے گی اور وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی پرجا اور رعایاپر ظلم نہیں كرپائیں گے‏۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی عہد میں تو قبرستان كی زیارتوں سے منع فرمایا تھا البتہ جب توحید كا كلمہ مستحكم ہوگیا لوگوں كے ایمان مضبوط ہوگئے تو انھیں حكم بھی دیا كہ قبرستان جایا كرو.خود بھی شہداے احد كی قبروں پر گئے تھے‏، ان كے بعد خلفاءے راشدین كا بھی یہی معمول رہا ‏، مناسب ہوگا كہ ہم بھی اپنا معمول بنائیں‏ اور اپنے مرحوم كے حق میں ولد صالح بنیں‏۔
محمودیہ لائبریری-بروز منگل،دس بجے شام-4/8/2026
مدرسوں پر یہ اعتراض بار بار کیا جاتا ہے کہ مدرسوں میں موبائل، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا وغیرہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال تو جائز مانا جاتا ہے مگر غیر اقوام کی یہ چیز لی جائے تو کافروں سے تشبہ، غیر مسلموں کی وہ چیز لی جائے تو فاسقوں سے تشبہ اور اسلامی تہذیب خطرے میں نظر آنے لگتی ہے، یاران نکتہ داں اسے "مکھن کھائے اور چھاچھ سے پرہیز" قرار دیتے ہیں
اس سلسلے میں تشبہ کے تعلق سے کتابوں میں جو تفصیل ذکر کی جاتی ہے اسے یہ یاران نکتہ داں یا تو جانتے نہیں، اور اگر جانتے ہیں تو اسے سامنے لانا نہیں چاہتے
جو حضرات قلب سلیم رکھتے ہیں ان کیلیے واضح ہو کہ غیر مسلموں کی ہر ہر چیز کے لینے میں تشبہ بالکفار نہیں پایا جاتا، بلکہ اس میں تفصیل ہے، غیر مسلموں کی کن چیزوں کو لینے میں تشبہ پایا جاتا ہے اور کن چیزوں کے لینے میں تشبہ نہیں پایا جاتا؟ یہ تفصیلات مختصر طور پر دو کتابوں: "مجموعہ رسائل حکیم الاسلام" اور "التنبہ علی ما فی التشبہ للکاندھلوی" کے حوالے سے ذیل میں درج کی جاتی ہیں

جاننا چاہیے کہ اختیاری طور پر جو افعال انسان انجام دیتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں:
مذہبی امور اور معاشرتی و عادی امور
● مذہبی امور سے مراد وہ امور و اعمال ہیں، جن کا تعلق مذہب سے ہو، یعنی: ان افعال و اعمال کو عبادت کے طور پر کیا جاتا ہو ، جیسے: نصاریٰ کی طرح سینے پرصلیب لٹکانا، ہندؤں کی طرح زنار باندھنایا پیشانی پر قشقہ لگانا، یا سکھوں کی طرح ہاتھ میں لوہے کا کڑاپہننا و غیرہ
حکم: اس قسم کے مذہبی امور میں غیر اقوام کی مشابہت اختیار کرنا بالکلیہ ناجائز اورحرام ہے۔

● معاشرتی و عادی امور
معاشرتی و عادی امور دو قسم کے ہوتے ہیں :
* ایک وہ امور جو قبیح بالذات ہیں، یعنی : وہ امور جن سے شریعت نے براہِ راست منع کیا ہے کہ ان افعال کو نہ کیا جائے۔

* دوسرے: وہ امور جو مباح بالذات ہیں، یعنی :وہ امور جن سے شریعت نے براہِ راست تو منع نہیں کیا؛ لیکن دیگر خارجی امور کی وجہ سے وہ ممنوع قرار دیے جاتے ہیں۔

قبیح بالذات امور میں تشبہ کا حکم:
قبیح بالذات امور میں غیر مسلم اقوام کی مشابہت اختیار کرنا بھی حرام ہے، جیسے : ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکانا، ریشمی لباس استعمال کرنا، یا کسی قوم کی ایسی حرکت کی نقل اتارنا جن میں ان کے معبودانِ باطلہ کی تعظیم ہوتی ہو، جیسے: بتوں کے آگے ہاتھ جوڑنا وغیرہ، ان افعال میں تشبہ کی حرمت اس وجہ سے ہے کہ یہ امور قبیح بالذات ہیں، شریعت کی طرف سے ان کی ممانعت صاف طور پر آئی ہے۔

● مباح بالذات امور میں تشبہ کا حکم:
اگر وہ امور اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح نہ ہوں؛ بلکہ مباح ہوں تو ان کی بھی دو صورتیں ہیں:
* ایک: وہ امور کسی غیر قوم کا شعار (یعنی: علامتی و شناختی نشان) ہوں۔
* دوسرے: وہ افعال جو کسی غیر قوم کا شعار نہ ہوں

اگر وہ (مباح بالذات ) امور غیر مسلم اقوام کے شعارمیں سے ہوں تو ان امور میں غیر اقوام کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے، مثلاً: غیر مسلم اقوام کا وہ لباس جو صرف انہی کی طرف منسوب ہو اور انہی کی نسبت سے مشہور ہو اور اس مخصوص لباس کو استعمال کرنے والا انہی میں سے سمجھا جاتا ہو، جیسے : بدھی اور قشقہ۔

اور اگر وہ مباح بالذات امور غیر مسلم اقوام کے شعار میں سے نہیں ہیں ، تو پھر ان افعال کی دو قسمیں ہیں
*یا تو ان افعال کا بدل مسلمانوں کے پاس موجود ہوگا
* یا ان کا بدل مسلمانوں کے پاس موجود نہیں ہوگا
اگر ان مباح بالذات امور میں مسلمانوں کے پاس امتیازی طور پرایسے طور طریقے موجود ہوں جو کفار کے طور طریقوں کے مشابہہ نہ ہوں تو ایسے امور میں غیروں کی مشابہت مکروہ ہے، کیوں کہ اسلامی غیرت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ان اقوام کی ان اشیاء کا استعمال بھی ترک کر دیں جن کا بدل ہمارے پاس موجود ہو، ورنہ یہ مسلم اقوام کے لیے عزت کے خلاف ایک چیزہو گی اور بلاضرورت خوامخواہ دوسروں کا محتاج و دستِ نگر بننا پڑے گا۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے ہاتھ میں فارسی کمان (یعنی : ملکِ ایران کی بنی ہوئی کمان) دیکھی تو ناخوشی سے ارشاد فرمایا کہ ”یہ کیا لیے ہوئے ہو؟ اسے پھنک دو اور عربی کمان اپنے ہاتھ میں رکھو ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوت و شوکت دی اور بلادِ ارض کو مفتوح کیا“۔
(سنن ابن ماجہ، باب السلاح، رقم الحدیث: ۲۸۱۰)
فارسی کمان کا بدل عربی کمان موجود تھا؛ اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرت دلا کر روک دیا؛ تاکہ غیر اقوام کے ساتھ ہر ممکن امتیاز پیدا ہوسکے اور چھوٹے سے چھوٹے اشتراک کا بھی انقطاع ہو جائے۔

● اور اگر غیر اقوام کی اشیاء ایسی ہوں کہ ان کا کوئی بدل مسلم اقوام کے پاس موجود نہ ہو ، جیسے آج یورپ کی نئی نئی ایجادات، جدید اسلحہ، تہذیب و تمدن کے نئے نئے سامان، نیز انٹرنیٹ وغیرہ کی جدید سہولیات تو اس کی پھر دوصورتیں ہیں
* یا تو ان کا استعمال تشبہ کی نیت سے کیا جائے گا یا تشبہ کی نیت سے نہیں کیا جائے گا
پہلی صورت میں استعمال جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ تشبہ بالکفار کومقصود بنا لینا، ان کی طرف میلان و رغبت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا، اور کفار کی طرف میلان جائز نہیں ہے۔
ہاں ! اگر ان چیزوں میں تشبہ کی نیت نہ ہو ؛ بلکہ ضرورت کے طور پر یا اتفاقی طور پر استعمال میں آرہی ہوں، تو ضرورت کی حد تک ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید تفصیلات کیلیے درج ذیل فتوی دیکھا جاسکتا ہے، نیز چیٹ جی بی ٹی سے بنایا گیا نقشہ تبصرے کے خانے میں مل جائے گا

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/sal-girah-manana-aur-tashabbuh-bil-kuffar-ki-haqeeqat-143811200087/09-07-2018

راہی حجازی
❤1
سہارنپور مسجد سانحہ اور ہمارا ملی ترکش

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
23 ربیع الاول 1448ھ
6 ستمبر 2026ء

فرقہ پرست حکمران دانستہ درپئے آزار ہیں، وار کے لیے انتخاب بھی قیامت کا کرتے ہیں، ہمارے فریب خوردہ بھائی کانگریس کے گناہ شمار کراتے تھے؛ لیکن تیرہ سالہ دورِ زعفران نے دونوں پارٹیوں کی "پلے بُک" کا آسمان وزمین والا فرق واضح کر دیا، ایک پارٹی ہماری ترقی کے لیے عہد بند نہیں تھی؛ جب کہ دوسری پارٹی کو ہمارا مذہبی وجود منظور نہیں، مساجد پر دست درازی نیا اسٹائل آف گورننس ہے، بی جے پی ریاستوں میں مساجد انہدام کو لے کر مسابقہ برپا ہے، سہارنپور آخری مثال نہیں، ان کے جنونی کارکنان "مسجد فری بھارت" کے نعرے کیمروں پر لگاتے ہیں، مسجد مسماری نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن گیا ہے۔

سہارنپور مسجد سانحہ منہ کھولے کھڑے صوبائی الیکشن کی مد میں ہے، وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان جذباتی قدم اٹھائیں، اولا تو حکومتوں کے خلاف جذباتی کارروائی مجرد خودکشی بنتی ہے، بالخصوص جب کہ نظام و انتظام قوی ترین ہو، پڑوس کے عمران خان سے بڑھ کر عوامی مقبولیت کسی کو حاصل نہیں؛ مگر جذباتی اقدام چاروں خانے چت رہا، جن ہنگاموں کی نئی نسل فیسبک پر آرزو مند ہے وہ لاحاصل سر پھٹائی کے سوا کچھ نہیں، دشمن تاک میں ہے، فیسبک مفکرین کی مجوزہ غلطی پر ان کی نظر ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ہم غیر حقیقی اور غیر عملی اچھل کود مچائیں، ہمارا مقدمہ ضائع ہو اور ان کو موقع بھی مل جائے۔

فیسبک برادران کا معروف "کائدین طنز"، "بوڑھی قیادت طعنہ" اور "روایتی جواب کا استہزا" وغیرہ کے لیے بعض جواز موجود ہیں؛ تاہم جو وہ چاہتے ہیں عین مفادِ اعدا ہے، ایک لمحے کے لیے ان کی ضد بر حق قرار پائے تو بھی فوری جواب اصولِ جنگ کے منافی ہے، آج کا رد عمل دشمن کی پچ پر کھیلنے کے مترادف ہوگا، امت کھلونا ہرگز نہ بنے، مسجد حملہ درپیش الیکشن پر مرکوز ہے؛ لیکن اس کا فائدہ ہمارے رد عمل کی نوعیت پر موقوف ہے، ہمارا معقول جواب ان کی مایوسی پر منتج ہوگا اور غیر معقول چھلانگ پر وہ جشنِ فتح منائیں گے، جواب جو بھی ہو وقت اور جگہ کا انتخاب آزاد ہونا چاہیے، دشمن کے چارے کا شکار نہ ہو۔

سہارنپور خنجر ایک مایوسانہ حرکت ہے، شکست کا سایہ منڈلاتا ہوگا، گیمبلر آخری آخری داؤ کھیل رہا ہے؛ لیکن ہندو مسلم تلوں میں تیل کم ہوا ہے، کہا جا رہا ہے کہ چورن دل چسپ نہیں رہی، ایکسپائری ڈیٹ نزدیک ہے، وہ زندگی کی تلاش میں ہیں، سہارے ڈھونڈ رہے ہیں، فتنوں سے دست گیری کے طالب ہیں، ہمارا اشتعال ان کا انتظار ہے، وہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انھوں نے اپنی چال رکھ دی ہے، ہمارا جواب ان کی مایوسی کا سامان بنے، ہم صبر اور تدبیر سے جواب دیں، تدبیر والا صبر بزدلی نہیں بہادری پلس ہوتا ہے۔

عدالتی رجوع کی بات لیڈران نے کہہ دی ہے، یہ تو بہ ہر صورت ہونا چاہیے، شرعی لحاظ سے نقل و حرکت فرض کے درجے میں ہے، ہمارے یہاں معاملات کو الجھانے کا نام کورٹ کچہری ہے، اگر یہ طے ہے کہ فرقہ پرست دباؤ مقدمے پر اثر انداز ہوگا، رام مندر اس کی مثال ہے، پھر بھی آپ حریف کا سانس زیر و زبر کر سکتے ہیں، سات چپل گھسوانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ مسجد مسماری ابھیان کی سرکشی کم ہوگی، بی جے پی مقبوضہ ہندوستان میں کسی مسجد کی بحالی سراب اور خواب ہے؛ لیکن ایک فتنے کو ناکوں چنے چبوانا باقی فتنوں کو ساقط الحمل کردیتا ہے۔

ملت کے ترکش کا ایک اہم تیر داستانِ مظلومیت ہے، ہم عدالت، صحافت، مارچ اور اسٹیج سمیت ہر جگہ ظالموں کو بے نقاب کریں، موجودہ حکمران یہ چاہتے ہیں کہ ہم مار کھا کر مسکرائیں، جب ہم روتے ہیں تو ان کی جان نکلتی ہے، ظلم کا ذکر ان کو بدمزہ کرتا ہے، وہ "سب ٹھیک ہے" دکھانا چاہتے ہیں، بیرون ملک آمد ورفت رکھنے والے وہاں بھی ماتم کردیں تو رنگ بڑا چوکھا آئے، ان کی ناک کٹتی ہے، باہر کی پریس جہنم جیسا پیچھا کرتی ہے، مسلمانوں سے متعلق سوال ان حکومتی اہل کاروں کا ڈراؤنا خواب ہیں، وہ قلعی کھول دیتے ہیں، رینک بناتے ہیں، ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، منہ چھپانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

یہ ملی ترکش کا اہم تیر ہے کہ ہم محمد اخلاق کی موب لنچگ سے شروع ہوئی داستانِ ظلم کا ہر زخم یاد رکھیں، پہاڑے کی طرح ازبر کریں اور موقع ملتے ہی بیان دہرا دیں، انگریز دور میں شیخ الاسلام حضرت مدنی علیہ الرحمہ کا یہ خاص طریقِ جنگ تھا، آپ نے ماقبل اور مابعد کے ادوار کی تفصیلات حفظ کی تھیں اور ہر اجلاس میں تمہید و مقدمے کے بعد انھی تفصیلات کی نقل شروع فرما دیتے تھے، یہ بیان انگریزوں کو کانٹے کی طرح چبھتا تھا، ان کو بے نقاب کرنے والے کوائف انگاروں پر لوٹاتے تھے، حضرت کے خطابِ آٹا دال پر ایوانِ انگریز کا لطف کرکرا ہو جاتا تھا، ظالم کبھی نہیں چاہتا کہ اسے ظالم کہا جائے، پس موجودہ ظالم کو آئنۂ ظلم دکھانا بھی ایک موثر حربہ ہے۔
مسجد گرانے کے واقعات سے ہمارے ملک میں صرف دو پارٹیوں کو فائدہ پہنچتا ہے، ان میں ایک بی جے پی ہے اور وہی "تولی کبرہ" ہے، دوسری پارٹی کا نام لینا خطرے سے خالی نہیں، ہمیں ان دونوں پارٹیوں سے دوری بنائے رکھنا ہے، یہ ملت کے ترکش کا سیاسی تیر ہے، ہر حال میں سیکولر پارٹیوں کے کاندھے استعمال کریں، فی زمانہ کانگریس لیڈر شپ فرقہ پرستوں سے لڑائی میں پرعزم ہے اور اس ضمن میں مسلمانوں سے زیادہ فعال ہے، دیگر سیکولر لیڈران بھی قابلِ اعتماد ہیں، سیاسی سطح پر بس اسی دائرے کی جنگ کافی ہے، شمشیر وسنان کی طرح پولنگ بوتھ کی لڑائی بھی ڈول ہے، جس میں باری کا دستور قدرتی ہے، اس وقت جب کہ بی جے پی شکست کی امیدیں جاگی ہیں اور کاکروچ تحریک نے اس کی جڑیں ہلادی ہیں، متوازی انتہا پسند سیاست مناسب نہیں، صبر اور انتظار کریں، اللہ کے ایام کی تبدیلی کا نظام نزدیک نظر آرہا ہے۔

ہمارا اصل ترکش تو اپنا ہے، اسے تو ہم ذکر میں لاتے ہی نہیں، حکومتوں کے شکوے ہزار ہیں اور اپنے گریبان کو تقدیس دی ہوئی ہے، دور جدید نے ترقی کی راہیں اتنی کثیر اور متنوع بنا دی ہیں کہ حکومتی شکایت بلیم گیم لگتا ہے، ملت کے پاس ذاتی وسائل اتنے ہیں کہ وہ خود انحصار ہو سکتی ہے، سرکاری بھیک سے بے نیاز؛ لیکن ہمارا متمول طبقہ بے حس ہے، زندگی بے مشن ہے، لاحاصل جی رہے ہیں، جسد واحد کے شعور سے محروم ہیں، ہمارے امرا پوری ملت کی دستگیری خود کر سکتے ہیں، تعلیم، قانون، صحافت، ٹیکنالوجی، سروسز وغیرہ میں مسلم نوجوانوں کو مکمل نمائندگی دلا سکتے ہیں، یہی شعبے ملک کا نچوڑ ہیں اور یہ فتوحات پائیدار ہیں، پانچ سالہ میعاد کی پابند نہیں۔

ہمارے مالداروں کی زندگی کے کوئی معانی نہیں، مثال کے طور پر بنگلور کے ایک معروف بلڈر کی معلنہ خالص مالیت بارہ ہزار کروڑ ہے، اگر دوسری سیاہ فام مالیت نہ بھی ہو تو یہ سفید فام فگر خود غیر معمولی ہے، اس میں حوائج اصلیہ کی کوئی بھی مقدار مستثنی کر لیں پھر بھی صرف قابلِ زکات مال ہزاروں کروڑ ہوگا اور زکات سینکڑوں کروڑ عائد ہوگی اور یہاں تو زکات سے آگے کی بات ہو رہی ہے، جس ملت کی زبوں حالی کے لیے سرکاری ماتم کرتے ہو اسے اپنے اس مال سے پلیٹ فارم فراہم کرو، جو ظالم ادارے کھولتے ہیں وہ بھی لوٹ مار ہی مچاتے ہیں، ملت کی فلاح جن کے ہاتھوں ممکن اور سہل ہے وہ خود ملت کو دوہنے کے راستے دریافت کرتے ہیں۔

ملت کے شفا خانے کا اکسیر اعظم اور اس کے ترکش کا خندنگ آخریں یہ ہے کہ امرائے ملت خالص غیر سیاسی تنظیم قائم کریں، اس درجہ غیر سیاسی کہ وہ سہارنپور مسجد جیسے واضح ظلم پر بھی مہر بلب رہے، ملت کی فلاح وبہبود کے لیے وقف، ہر سیاسی امر سے لاتعلق، ملک کے طول وعرض میں تعاون اور رہنمائی کے محتاج نوجوانوں کی سرپرستی کرے، ملک کے شعبوں کو جوانانِ ملت سے بھر دے، بے مقصد دولت کو مقصد سے ہم کنار کرے، ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا، جب تک کانٹا لگا رہتا ہے کوئی لفٹ نہیں دیتا، توجہ کے لیے کھائی عبور کرنی ہوتی ہے، پھر حکومت بھی مجبور ہوگی، خدا نے بھی بیرونی انقلاب کے لیے داخلی انقلاب کی شرط رکھی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند كا ”دینی تعلیمی بورڈ“
ماضی كی تاریخ‏،حال كی اناركی اور مستقبل كا منصوبہ(1)
ڈاكٹر عبدالملك رسولپوری
شعبہ عربی ذاكرحسین دہلی كالج ‏،دہلی
malikqasmi@gmail.com

آزادی وطن كے بعد جب مركزی حكومت كی بنیادیں غیر مذہبی ستونوں پر استوار كی جارہی تھیں ‏، اس وقت جمعیۃ علماء ہند كے ارباب حل وعقد مسلمانان وطن كے لیے دینی عقائد كی تعلیم اور مذہبی حقوق كے تحفظ كے منصوبے بنارہے تھے‏؛ چناں چہ انھوں نے 1948 ہی كی مجلس عاملہ میں نہ صرف مدارس عربیہ كو باہم مربوط اور مضبوط كرنے كے لیے ایك مركزی پلیٹ فارم استوار كرنے كی تجویز پاس كی تھی ‏؛بلكہ اپنی صوبائی اكائیوں كو حكم نامے لكھ كر پابندكیا تھا كہ وہ اپنے حلقہ اثر میں ابتدائی مدارس اور شبینہ مكاتب قائم كر كے زیادہ سےزیادہ مسلمانوں كو مذہبی عقائد سے واقف كرانے كی كوشش كریں۔ اس عظیم منصوبے كے لیے چند اراكین شوری پر مشتمل ایك كمیٹی بھی قائم كی گئی تھی‏۔ صوبائی جمعیتوں نے اس كام كو پہلی ترجیح دیتے ہوئے سرگرمیاں شروع كیں ‏،ادھر مركز نے بھی اس تجویز پر بھر پو ر توجہ دیتے ہوئے اپنی میٹنگو ں اور اجلاسوں میں اس تجویز كو ترجیحی بنیادوں پر پیش نظرركھا‏تھا‏؛چناں چہ بعد كے دنوں میں مركزی ارباب حل وعقد نے اس تجویز كو عملی جامہ پہنانے كے لیے ایك فارمولا بھی مرتب كیا تھا ‏،جس میں تین صورتوں كو بروئے كار لانےكے لیے ایك لائحہ عمل وضع كیا گیا تھا: پہلی صورت یہ تھی كہ حكومت سےتسلیم كرایا جائے كہ مذہبی تعلیم كو لازمی تعلیم كا جزء قرارا دیا جائے‏، دوسری صورت یہ كہ پرائیوٹ مدارس اور مكاتب قائم كیے جائیں اور ان میں مذہبی تعلیم كے ساتھ ان مضامین كی تعلیم بھی دی جائے ‏، جو سركاری اسكولوں كے نصاب میں ضروری ہیں اور حكومت سے طے كرایا جائے كہ وہ ان مكاتب ومدارس كو بھی سركاری مكاتب كی طرح تسلیم كرے اور حسب ضرورت ان كو امداد دے۔ تیسری شكل یہ تھی كہ مسلم قوم كے نونہال بچے سركاری مكاتب میں تعلیم حاصل كریں اور خارجی اوقات میں ان كو مذہبی تعلیم دی جائے اور اس كے لیے مختصر سا نصاب مرتب كیا جائے‏، جو شبینہ اور صباحی مكاتب میں پڑھایا جاسكے۔ یہ اس وقت كی بات ہے جب حكومت اپنے ہر شہری بچے كو بجبر مفت عصری تعلیم كے منصوبے بنا رہی تھی‏، جس میں مولانا ابو الكلام آزاد پیش پیش تھے‌‏۔
1949ء كے ابتدائی مہینوں میں جب جمعیۃ علماء ہند نے اپنے عملی پروگرام كا خاكہ مرتب كیا تو اس میں دنیوی تعلیم كے حصول كے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم كے لیے بھی ایك پورا منصوبہ وضع كیا اور مسلمانان ہند سے اپیل كی تھی كہ وہ اپنے بچوں كو سركاری اسكولوں میں پڑھانے كے ساتھ دینی تعلیم كے لیے اپنے محلوں میں شبینہ مكاتب بھی قائم كریں‏ اور ہر دوسرے مسلمان كو اس بات پر آمادہ كریں كہ وہ اپنے بچوں كو روزآنہ كسی نہ كسی شكل میں كم از كم ایك گھنٹہ مذہبی تعلیم ضرور دلائے۔ اور خود اپنی كمیٹی ” مركزی مجلس علمی“ كو اس بات كا پابند بنایا كہ وہ ابتدائی مذہبی تعلیم كے لیے جلد از جلد نصاب تعلیم مرتب كر كے اسكولوں اور مكاتب میں اس كو نافذ كرواے۔
جمعیۃ علماے ہند كے اس منصوبے كے متعلق اكابرین نے چاہاتھا كہ تمام مسالك كا ایك متحدہ بورڈ اور پلیٹ فارم قائم ہوجائے ‏،چناں چہ جمعیۃ كے ناظم عمومی ‏،جماعت اسلامی كے امیر اور مولانا منظور نعمانی صاحب نے ایك مشتركہ نظام بنانے كے كوششیں كی تھیں؛ لیكن ان كاوشوں كا كوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نكل سكا‏، جس كے بعد جمعیۃ علماے ہند نے خود ہی اپنے طور پر ایك تعلیمی بورڈ بنانے كی كوشش كی جو بعد میں” كل ہند دینی تعلیمی بورڈ“ اور مزید بعد میں‏” دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند“ كی شكل میں منصہ شہود پر آیا۔
رہا دینی تعلیم كے لیے مكاتب كا قیام تو اس كا سلسلہ 1919 ء میں قیام جمعیۃ كے معا بعد شروع ہوگیا تھا‏؛ چناں چہ سوامی شردھا نند كی شدھی تحریك اور ڈاكٹر مونجے كی سنگٹھن تحریك كے تعاقب كے لیے جمعیۃ علماء ہند نے1934 كے آس پاس قائم ہونے والی موجودہ تبلیغی جماعت كے قیام سے پہلے 1922 ہی میں اپنے یہاں شعبہ تبلیغ قائم كر كے وفود كی روانگی كا سلسلہ شروع كردیا تھا‏، جس میں شدھی كے زیر اثر ہزاروں مرتد مسلمانوں نے دوبارہ كلمہ طیبہ پڑھا تھا اور علماء دیوبند اور علماے جمعیۃ كی كاوشوں سے دوبارہ اسلام قبول كیا تھا۔ اسی وقت جمعیۃ اور دیوبند كی مشتركہ كا وشوں سے صوبہ متحدہ میں آگرہ ‌‏ اور ہریانہ وراجستھان كے بھرت پور‏، سونی پت اور گڑگاؤں جیسے بہت سے علاقوں میں جمعیۃكے مولانا عبدالحلیم صدیقی اور دیوبند سے سید میرك شاہ انداربی كی زیر نگرانی بہت سے مكاتب قائم كیے گئے تھے۔ كیا اچھا ہوتا كہ كوئی نوجوان فاضل اپنا قلم تراشتا ‏،كمر كستا اور دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند كی ان دعوتی سرگرمیوں پر كوئی عظیم تحقیقی كتاب مرتب كردیتا ‏، تا كہ آنے والی نسل كو پتہ چلتا كہ ارتداد كے سد باب‏، عقائد كی اصلاح اور دینی تعلیم كے فروغ
❤2
میں علمائے دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند كا كردار كتنا عظیم ہے۔
لیكن آزادی ہند كے بعد جب جمعیۃ علماء ہند نے خود كو وطن عزیز كی سیاسی سرگرمیوں سے علاحدہ كرلیا اور طے كیا كہ جمعیۃ كا دائرہ عمل آئندہ صرف مذہبی ‏،تمدنی اور تعلیمی حقوق وفرائض كے دائرے میں محدود رہے گا‏ ‏، تو اس نے اپنی تمام تر كوششوں اور كاوشوں كو محض اس بات پرمركوز كردیا كہ مسلمان اپنے مذہبی اور ملی نظم وضبط ‏،اپنے مذہبی شعائر‏، مذہبی علوم‏، اسلامی تہذیب اور ملی آثار وروایات كی حفاظت كے ساتھ ملك كا اہم عنصر ا ور ایك مضبوط بازو بن كر رہیں اورناموس وطن كے بہادر محافظ اور ترقی ملك كے جانباز علم بردار ثابت ہوں‏ ‏، اس كے لیے جمعیۃ نے ہر سطح اور سمت كے لیے عمدہ ترین منصوبے بنائے كہ ملك كا مسلمان كہیں دیگر اقوام سے پیچھے نہ رہ جائے‏، تعلیم كے میدان میں جمعیۃ كا سہ نكاتی فارمولہ مضمون كے آغاز میں درج كیا چكا ہے ‏، جس كے لیے جمعیۃ كے ارباب حل وعقد نے حكومتی عہدہ داروں سے مراسلت اور خط وكتابت كی كہ جبری بنیادی تعلیم كے لیے قائم عصری اسكولوں میں ایك دو گھنٹے مذہبی تعلیم كے لیے بھی فارغ ركھے جائیں‏، جن میں وید ‏، قرآن وسنت ا نجیل اور گر مگھی پر مبنی عقائد كی تعلیم دی جائے ‏؛لیكن اس وقت كی ترقی پذیر دنیا میں عالمی طور پر یہ بات تقریبا قبول كی جاچكی تھی كہ مذہبی تعلیم ترقی كے راستے میں سنگ گراں كے علاوہ كچھ نہیں ہے ‏، اس لیے جمعیۃ كی یہ كوشش كامیاب نہ ہوسكی ‏۔ اس كے بعد جمعیۃ نے دوسرے نكتے پر عمل كر كے مسلم سرمایہ داروں سے پرائیوٹ اسكول قائم كروائے ‏ اور خو د بھی تعلیمی كنونشن اور تعلیمی كانفرنسیں منعقد كر كے ملت كو اسلامی ماحول میں عصری تعلیم دینے كے لیے خود اپنی درس گاہیں قائم كرنے كی تحریض كی‌‏ اور اپنی تقریباہر میٹنگ اور ہر جلسے میں اس تجویز پر زوردیا كہ مسلمان إنما بعثت معلما كے بموجب اپنے آپ كو متعلم اور مبلغ تصور كریں اور خود اپنے بچوں كو‏، اپنے محلے كے بچوں كو مذہبی تعلیم دیں اور اگر خود تعلیم نہ دے سكتے ہوں تو ان كی مذہبی تعلیم كا انتظام كر كے اس فریضہ سے سبك دوش ہوں‏۔
اس بنیادی مذہبی تعلیم كے لیے جمعیۃ نے ایك مجلس تعلیم وتربیت قائم كی ‏،جس كے ذیل میں نصاب ساز كمیٹی بنی ‏، جس نے ناظرہ قرآن پاك ‏، عقائد‏، عبادات ‏، سیرت‏، تاریخ‏، اخلاق‏، تہذیب‏، اردو زبان اور خطابت‏، جیسے عناوین قائم كر كے دینی تعلیم كا رسالہ نمبر ایك ‏،دو نام دے كر بارہ رسالے ترتیب دیے ‏، گرچہ یہ سبھی رسالے آج حضرت مولانا محمد میاں صاحب نوراللہ مرقدہ نے كے نام سے شایع ہوتے ہیں‏، البتہ ہمیں یاد آرہا ہے كہ الجمعیۃ اخبار میں ان رسائل كی تالیفی تاریخ پر كوئی نوٹ پڑھا تھا كہ انھیں مختلف علماے كرام سے رقم كروا كر شایع كیا گیا تھا اسی لیے اولین اشاعتوں پر مؤلف كا نام نہیں درج تھا‏، البتہ چوں كہ جمعیۃ كی اس تعلیمی كمیٹی كی ذمہ داری حضرت سید الملت كے ہی سپرد تھی؛ اس لیے بعد كی اشاعتوں میں انھیں كا نام بحیثیت مؤلف تحریر كیا جانے لگا‏۔ اس كے بعد حضرت مفتی كفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ كے صاحب زادے حضرت مولانا واصف سے اجازت لے كر تعلیم الاسلام كو نصاب كاحصہ بنایا گیا اور اس كے ہندی ترجمے كی اجازت لی گئی‌‏، الغرض‏، دینی تعلیم كے بارہ رسالے‏، تاریخ الاسلام‏، تعلیم الاسلام‏، دروس اسلام‏، اربعین‏ اور طریقہ خطابت جیسی متعدد تعلیمی كتابوں كو شامل كر كے ایك پنج سالہ جامع نصاب ترتیب دیا گیا‏ تھا‏، جس كے لیے حضرت سید الملت نے ‏، تعلیم كی اہمیت‏، طریقہ تعلیم ‏، حروف كی شناخت كے لیے تعلیمی تاش‏، تعلیمی چارٹ‏، تعلیمی تصاویر‏، خوش خطی كی كاپیاں‏ ‌‏،ماہانہ اور سالانہ مقدار اسباق كی نشان دہی اور نہ جانے كیا كیا چیزیں مرتب كی تھیں كہ ہر گھر اور ہر در دینی تعلیم والے جمعیۃ كے اس منصوبے كے نفاذ میں معلمین اور متعلمین كو كسی بھی قسم كی كوئی پریشانی نہ درپیش ہو‏، ساتھ ہی سپلی مینٹری بكس یعنی اضافی مطالعے كے لیے پیغمبر اسلام‏، معماران اسلام‏، مجاہدین آزادی اور معماران وطن كی خدمات پر مشتمل تقریبا 28 مختصر كتابچے مزید تیار كرواے تاكہ آنے والی نسل اپنی مذہبی تعلیمات كے ساتھ اپنے وطنی مجاہدین كی قربانیوں سے بھی متعارف ہوسكے۔
یہ آزادی كے معا بعد اس عہد كی كراماتیں ہیں جب مذہبی دھاروں پر ملك كی تقسیم كے بعد باقی ماندہ عوام ہی كیا قیادت بھی ایك طرح كی مایوسی كی شكار تھی‏، اور پاكستانیوں نے اپنے بنیادی ڈھانچے كی تعمیر كے لیے عطیات كی حصول یابی كے پیش نظر عالم اسلام میں غوغا بپا كیا ہوا تھا كہ ہندوستان میں مسلمان بچے ہی نہیں ہے یہ جو كرتا پائجامے اور ڈاڑھی میں نظر آتے ہیں یہ سب اصلا ہندو ہیں اور ہاں اس وقت وہ بچے پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جو بار بار یہ كہتے ہوئے نظر آتے ہیں كہ اگر حسین احمد مدنی نے ہمیں یہاں نہ روكا ہوتا تو ہم ہم سایہ ملك كی آزاد فضا میں پیدا ہوتے‏، شاید انھیں یہ معلوم ہی
نہیں كہ ہرانڈے سے بچے نہیں پیدا ہوتے ہیں‏، كچھ كو آملیٹ بنا كر یا ابلتے پانی میں ابال كر نیم برشت انداز میں لقمہ تر بنالیا جاتا ہے‌‌‏، ہر قطرہ رحم مادر میں نہیں پہنچتا ہے بہت سے بہت سی جگہ فضول میں بہہ جاتے ہیں‏۔ اگر خوشونت سنگھ کی آ ٹرین ٹو پاکستان کو سامنے رکھیں تو ان بچوں کے ابا جان اُس وڈیرا لینڈ تک پہنچ ہی نہ پاتے یوں نہ رہتا بانس اور نہ بجتی بانسری ۔خیر آزادی كی اس اولین دہائی میں جہاں مسلمانان ہند كے لیے بقاء اور ثبات كا مسئلہ قضیہ لا ینحل بنا ہوا تھا اس وقت جمعیۃ نے اپنے بچوں كی د ینی تعلیم ‏، اسلامی تربیت اور مسلم تہذیب وثقافت سے آگہی كے لیے تعلیمی میدان میں جو كوششیں كی تھیں وہ آب زر سے لكھے جانے كے قابل ہیں‌‌‏۔ كیوں كہ جمعیۃ نے محض نصاب تعلیم بنا كر اسے لوگوں كے سہارے نہیں چھوڑ دیا تھا؛ بلكہ جہاں جہاں ضرورت محسوس كی گئی وہاں وہاں كل وقتی اور جز وقتی مكاتب قائم كیے تھے، كہیں معلمین كے پورے پورے ماہانہ مشاہرے دیے جاتے تھے تو كہیں دو تہائی معلمین كے ‏،كہیں فی صد كے لحاظ سے كہا جاتا كہ مكتب كا بیس فی صد صرفہ اہل علاقہ برداشت كریں باقی كی ادائیگی دینیی تعلیمی بورڈسے كی جائے گی‏۔ اس شعبے كا اپنا اچھا خاصا عملہ تھا ‏،جو شملہ كی پہاڑیوں ‏، راجستھان كے صحراؤں اور ہریانہ كے ویرانوں میں بود و باش اختیار كیے ہوئے مسلمانوں كے درمیان اوراسی طرح پنجاب اور ہماچل كے دور دراز علاقوں میں جمعیۃ كے تعلیمی مشن كے تحت مكاتب قائم كرتے تھے اور ان كی تعلیمی نگرانی كیا كرتے تھے‏۔ ماضی بعید كے نام تو یاد نہیں البتہ ماضی قریب میں سنبھل كے مولانا ظہور مرحوم یا شاید كوئی دوسرا نام ‏ اور سہارن پور كے مولانا طاہر صاحب‏، راجستھان كے مولانا علیم الدین اجمیری صاحب‏ اور بھی متعدد احباب جن كے اسمائے گرامی ذہن میں نہیں رہے اس شعبے میں بر سر عمل تھے‏، مولانا اجمیری تو ابھی راجستھان كے ببولوں میں دینی تعلیم كی خدمات انجام دے رہے ہیں‏۔ مولانا طاہر صاحب اپنے بہت سے واقعات سنایا كرتے تھے كہ وہ كس طرح خچروں ‏، گھوڑوں اور گدہوں كی پشت پر بیٹھ كر پہاڑوں كے اوپر نیچے وادیوں میں قائم جمعیت كے مكاتب میں بچوں كی تعلیمی نگہداشت كیا كرتے تھے‏، اگر ان سب كو تاریخ كے پنوں میں درج كردیا جائے تو عہد صحابہ كہ یاد تازہ ہوجائے اور پڑھنے والوں كی آنكھیں اشك بار ہوجائیں‏۔
ہاں اس وقت ان مكاتب كی تعداد بہت زیادہ نہیں شاید مجموعی طور پرتین ہزار مكاتب كے قریب تھی‌‏ ‏، جس میں بہت سے كل وقتی تھے یعنی وہاں چار پانچ گھنٹوں پر مبنی تعلیم ہواكرتی تھی اور كچھ جز وقتی تھے ‏،جن میں اسكول جانےوالے بچے ایك ڈیڑھ گھنٹہ دینی تعلیم حاصل كیا كرتے تھے‌‏۔ ہم نے بھی اپنے گاؤں كے مكتب میں دینی تعلیمی بورڈ كا یہ پورا نصاب پڑھا ہے‏ اور اب ہمارے بچے پڑھ رہے ہیں۔ دم تحریر مدرسہ اور یونیورسٹی كی اعلی تعلیم اور یونیورسٹی كی نصاب سازی میں شركت كے بعد بھی یہ كہنے میں كوئی دریغ نہیں ہے كہ كم سنی میں دینی تعلیم كے لیے اس سے اچھا كوئی بھی نصاب نظر سے نہیں گزرا ہے‏، اس كو نہ صرف بچوں كو نفسیات كو پیش نظر ركھ كر مرتب كیا گیا ہے ‏،بلكہ تعلیم كے تصویری اور غیر تصویری رائج تمام اسلوبوں اور مناہج كو اپنایا گیا ہے‌‌‏، انیس سو ساٹھ سے پہلے ہی مولانا محمدمیاں صاحب نے بچوں كے لیے تعلیم كو دل بستگی كا سامان اور تفریح كا ایسا ذریعہ بنادیا تھا‏ كہ بچہ خود اپنے پیروں چل كر مدرسہ آئے نہ كہ والدین كان پكڑ كر لائیں‏ ‏، اسی طرح انھوں نے تجربات كی روشنی میں بتایا دیا تھا كہ ان درجات میں معلمات معلمین سے زیادہ اچھا كام كریں گی۔ خیر ڈر ہے كہ كہیں مضمون طویل نہ ہوجائے۔
محمودیہ لائبریری جمعیۃ علماء ہند
11بجے شام‌‏، بروز منگل،15/9/26
سستے چھوٹتے ہندوستانی مسلمان

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
14 ربیع الثانی 1448ھ
27 ستمبر 2026ء

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان سستے میں چھوٹنے والے ہیں، اکابر قلندر ثابت ہوے، کئی بار آستینیں چڑھائیں؛ مگر بہانے درمیان میں آتے رہے، حال ہی میں ایک ملی احتجاج ملتوی ہوا، نزدیک میں ایک کال خانۂ انتظار میں ہے، چند روز سے جاری "الیکشن کمیشن ہنگامے" کے بعد اب کسی ملی احتجاج کی ضرورت نہیں، فیسبک پر قائدین کو نشانہ بنانے والے نوجوان ہی التوا کی دعوت دیں، ہر بار آپ پسپا ہوے، اس بار ہم پسپائی کے ملتجی ہیں۔

تازہ دنگل نہایت حساس ہے، اونٹ کوئی غیر معمولی کروٹ لے سکتا ہے، کاکروچ کشتیاں جلا کر ہی میدان میں اترتے ہیں، الیکشن کمیشن کی معزولی حکومت کے اختیار میں نہیں، وہ بی جے پی سرکار کا وزیر نہیں، اگر سرکاری دباؤ میں استعفا ہوا تو مہر لگ جائے گی کہ اندرونی ساز باز تھی، وہ آلۂ کار تھا، اگر کمشنر آقا کا باغی ہو کر دباؤ کی مزاحمت پر اتر جائے تو بھی صورت حال دلچسپ ہوگی، پنڈورا کھل جائے گا، بھیدوں کا سیلاب لنکا بہا لے جائے۔

اگر حکومت احتجاج کے خلاف طاقت استعمال کرتی ہے تو ردعمل طوفان کی صورت آئے گا، حکومت نظر انداز بھی نہیں کر سکتی، کاکروچ احتجاج کی فطرت میں مقناطیس ہے، وہ ملک بھر کو کھینچ لیتے ہیں، نوجوان ٹیلنٹ لگام قبول نہیں کرتا، ایک بار پھر احتجاجی ادبیات کے لیے تیار رہیں، وطنی لغت میں مفردات، مرکبات، جملوں اور تعبیرات کا اضافہ ہونے والا ہے، معمولات ایک بار پھر متاثر ہوں گے، مختص وقت تماشے کو دینا پڑے گا، جب ملک کی تقدیر حتمی موڑ پر کھڑی ہو تو آپ لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

جس طرح وزیر تعلیم کے استعفے کی مزاحمت نے مٹی پلید کی تھی، تاخیر کی قیمت صاحب کی عزت نے چکائی تھی، گالیوں نے عصمت دری کی تھی، ساکھ سرِعام نیلام ہوئی تھی، دو دہائیوں کا میک اپ، قلعی، غازہ چونا سب کچھ اتر گیا تھا، یہی کہانی کمشنر استعفے کے لیے بھی نوشتۂ دیوار ہے، کاکروچ کی شکل میں بی جے پی کے گناہوں پر عذاب نازل ہوا ہے، عذاب اپنی مہم سے سمجھوتہ نہیں کرتا، اس بار لڑائی آر پار کی اس لیے ہے کہ استعفا پورا مطالبہ نہیں، فہرست میں جان لیوا مطالبات ہیں، بتاؤ بی جے پی جان کیوں کر دے!

بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی مسلمان نشانے پر آگئے تھے، ابتدا موب لنچنگ سے ہوئی، کٹر پنتھی چوں کہ بزدل ہیں، برابر کی لڑائی نہیں کر سکتے؛ اس کے لیے موب لنچنگ کا راستہ ایجاد کیا، مہاتما گاندھی نے بھارت کی طرف سے دنیا کو عدم تشدد کا نظریہ دیا تھا، ہندو کٹر پنتھیوں نے اقوام عالم کے سامنے ہندوستان کی جانب سے فلسفۂ موب لنچنگ رکھا، دو ہزار چودہ کے بعد سے دنیا ہمیں موب لنچنگ ملک کے طور پر بھی جانتی ہے، دس پندرہ ڈرپوک اکیلے مسلمان کو دبوچ لیتے ہیں اور ہجومی تشدد کے کارنامے انجام دیتے ہیں۔

یہ سلسلہ پوری میعاد جاری رہا، بی جے پی نے دوسرا الیکشن جیتا تو یہ مسلمانوں پر زیادتی کا تحفہ گردانا گیا، اس بار خطرناک تبدیلی یہ ہوئی کہ امت شاہ خود وزیر داخلہ بنے، اب غیر رسمی ظلم و ستم کے ساتھ ساتھ ضابطے اور قانون کی یورش شروع ہوئی، اس دوسری میعاد میں امت شاہ کے تیور انتہائی جارحانہ تھے، ہماری صفیں پہلے ہی بچھ گئی تھیں، نئے منظر میں مزید سہم گئے، ہر طرف سناٹا تھا، ظالموں کا نیا ہدف یہ تھا کہ مسلمانوں کی شہریت ہی مشتبہ بنائی جائے، سی اے اے میں مذہبی تفریق رکھی گئی، جس میں انجام کار مسلمان زد میں آتے ہیں۔

مسلم خواتین کے بے مثال احتجاج کی بدولت یہ قانون ایک بازو تک سمٹ گیا، اس کا دوسرا بازو این آر سی وجود کے انتظار میں رہ گیا، یہ خواتین کی کرامت تھی، ورنہ مردوں کا احتجاج تو راست گولیوں سے بھون دیا گیا تھا، عورتوں کی استقامت اور کورونا وائرس کی مداخلت نے میچ ٹائی کیا، پھر شہریت بے دخلی کی ہمت تو نہیں ہوئی؛ لیکن سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سطح پر مسلمانوں اور ان کے مذہب پر دست درازی کا عمل جاری رہا، ہندو انتہا پسندوں نے بلڈوزر متعارف کرایا، موب لنچنگ کے بعد نئے ہندوستان کی یہ دوسری سوغات تھی۔

حکومت کی چھیڑ چھاڑ بلا انقطاع جاری رہی، حکومتی موڈ سے حوصلہ پاکر کٹر پنتھیوں نے بھی مشق ستم خوب کی، بعض سادھوؤں نے مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکیاں سرِ عام دیں، مسلمانوں کو مارنے کی باتیں ویڈیو ریکارڈز پر دہرائی گئیں، ماحول ایسا تھا کہ مسلمانوں نے فی الواقع خطرہ محسوس کیا، بین اقوامی تنظیموں اور میڈیا رپورٹس میں بھی قتل عام کے امکانات کی بات کہی گئی، مسلمانوں نے وجودی خطرات کو جیا، بقول متنبی ہاتھ غیر اختیاری طور پر گردن تک جاتا کہ باقی ہے یا اتار دی گئی۔
پوری دنیا نے یہ مان لیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ بڑا گیم ہوا چاہتا ہے، ایسے میں دوہزار چوبیس کا جھٹکا بی جے پی کو چھو کر گذرا؛ لیکن گجراتی جوڑی نے صف کی بحالی برق رفتاری سے کی، الیکشن کے عمل کی وہ فیلڈنگ لگائی کہ آئندہ ریاستی انتخابات میں اپوزیشن کا صفایا ہوتا گیا، جیت کا فرق خود جیتنے والے کو حیران کرتا تھا، یہ رتھ ہندوستان بھر میں بے لگام تھا کہ انڈین ایکسپریس اخبار کی اسٹوری سامنے آگئی، تعجب ہے کہ میڈیا کے بازاروں اور میلوں کو تھوک میں خریدنے والوں نے انڈین ایکسپریس کو چارہ نہیں ڈالا تھا۔

اللہ تعالی متکبرین کو ذلیل کرکے مارتا ہے، ایک لڑکی رپورٹر آہنی شکنجے پر بھاری پڑ گئی، بڑے بڑے اداروں کو مینج کرنے والے ایک پترکار سے ہار گئے، ایک تحقیق کار نے ہندوستانی تاریخ کے سب سے طاقت ور حکمرانوں کو بقا کے اندیشوں میں ڈال دیا، ہندوستانی مسلمان خوش نصیب ہیں جو ہر بار تطہیر کی مہم لبِ بام دم توڑ جاتی ہے، نرسنگھار کے نعرے خوار اور خواب رہ جاتے ہیں، دارالعلوم دیوبند اور تبلیغ کی برکتیں حائل ہو جاتی ہیں، خیر کے یہ دو چشمے ہندوستانی مسلمانوں کی ضمانت ہیں، ان کی سفارش ہر بار فلک رسا نکلی، ایک لفظ اللہ قیامت سے مانع ہے، ان دونوں مراکز نے تو لفظ اللہ سے اللہ کی پوری زمین بھر دی ہے۔

مسلمان سستے میں چھوٹنے کے دہانے پر ہیں، اس تدبیر خداوندی کی قدر کریں، جمہوریت اور جمہوری اداروں کی لڑائی ہندوؤں کو تفویض رکھیں، خود کو تعلیم، معاش، دین اور معاشرے کے استحکام تک محدود کر لیں، سیکولر ازم کی جنگ سیکولر ہندؤوں کے کاندھوں سے لڑیں، سیاسی اور ملکی معرکہ موسمی ہو یا غیر موسمی اس میں فریق نہ بنیں، سیاسی فائدے کے لیے نعرۂ تکبیر والوں سے ہوشیار رہیں، سیاسی جنگ میں بھی باری باری کا دستور فطرت عائد ہے، تبدیلی یقینی ہے، ہم کیوں فریق بنیں؟ 25 ستمبر تبدیلی کا بگل ہے، مابعد پچیس ستمبر کا ہندوستان ماقبل پچیس ستمبر سے بالیقین مختلف ہوگا، تماشا انجوائے کریں، تماشا نہ بنیں، میرا نام بھی ایس آئی آر میں نہیں آیا تھا، اب گھوڑے بیچ کر سو سکتا ہوں۔
نیرنگیِ دوراں

ماضی قریب کی بات ہے کہ آئی لو محمد جرم قرار پایا تھا، پولیس اس نعرے کا تعاقب کرتی تھی، بالکل غیر منطقی تعاقب، نعرہ بے ضرر، غیر سیاسی اور خالص دینی تھا؛ لیکن چور کی نفسیات ڈر اور گھبراہٹ سے عبارت ہے، اسے سادہ چیزیں بھی سازش معلوم ہوتی ہیں، یہ زوال کا نقطۂ آغاز ہے، آئی لو محمد کا خوف ایک بار قابلِ فہم تھا کہ مسلمانوں سے مربوط ہے؛ مگر وہی نفسیات ہندوستانی پرچم سے مزاحم ہوگئی ہے۔

آج کے دہلی نظاروں کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا، ہندوستان کی راجدھانی میں ہندوستانی پرچم کو دوڑایا جارہا ہے، ہر پرچم بردار مشکوک ہو گیا ہے، وفاداری کی علامت غداری کی نشانی بن گئی ہے، پرچم اور پولیس کے درمیان چوہے بلی کا کھیل رہا، یہ خدا کی مدد ہے، غیبی مدد کی صورت متعین نہیں ہوتی، آئی لو محمد کا حصار وطنی پرچم کے گھیراؤ سے تبدیل ہو جائے تو یہ نیرنگِ زمان کی بڑی مثال ہے۔

برسر اقتدار غبارہ دیش بھگتی کی پھونک پر بلند ہوا تھا، نیا صور دیش بھگت حوالوں سے معمور ہے، اس درجہ کہ بی جے پی مفکرین کے سامنے تاویل کی راہیں تنگ ہوگئی ہیں، کاکروچ کو شرک آمیز وطن پرست جملوں کے دہرانے میں اشکال نہیں، اس دنگل میں وہ سطحیات کار آمد نہیں جن کے بہانے وہ مسلمانوں کو گھیر لیتے تھے، سیاسی ہزیمت راستے میں ہے؛ لیکن نظریاتی شکست واقعہ بن گئی ہے۔

آندولن ناکام بنانے کے لیے جاری مہم میں کئی آپشن زیر عمل ہیں؛ مگر ہندو مسلم منافرت کے صیغے نظر نہیں آتے، پہلے مرحلے میں کاکروچ کی یہ بڑی کامیابی ہے، ماضی کی طرح ٹھیکرا مسلمانوں پر پھوڑا گیا ہے نہ پڑوسی سرحد پر، نئے تناظر نے ہندو مسلم لانچ پیڈ ختم کردیا ہے، آندولن ناقابلِ تسخیر طاقت رکھتا ہے، اگر یہ آندولن ہے تو پسپائی حریف کا مقدر ہوگی، آندولن پیش قدمی کے لیے بنا ہے، اس میں رجعتِ قہقری خلافِ موضوع ہے۔

محمد فہیم الدین بجنوری
16 اکتوبر 2026ء