فکرِاسلامی
اور اس دن کا نام یوم الخلاص (چھٹکارے کا دن، یوم نجات) ہوگا ۔ ام شریک بنت ابی العسکر نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس روز عرب بہت کم ہوں گے اور ان میں سے اکثر بیت المقدس میں ایک صالح امام کے ماتحت ہوں گے، ایک روز ان کا…
کوئی باقی نہ بچے گا مگر جسے اللہ بچا لے ، عرض کیا گیا: پھر اس وقت لوگ کس طرح زندہ رہیں گے؟ آپ نے فرمایا: تہلیل (لا إله إلا الله ) تکبیر (الله أكبر ) تسبیح (سبحان الله ) اور تحمید (الحمد لله ) کا کہنا، ان کے لیے غذا کا کام دے گا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن طنافسی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے عبدالرحمٰن محاربی سے سنا وہ کہتے تھے: یہ حدیث تو اس لائق ہے کہ مکتب کے استادوں کو دے دی جائے تاکہ وہ مکتب میں بچوں کو یہ حدیث پڑھائیں
کیا نیو ورلڈ آرڈر قائم ہوگا؟
کورونا وائرس کے حوالے سے تمام دنیا کے لیے ایک ہی طرح کے احکامات اور اقدامات کیے گئے۔ مساجد بند کرادی گئیں؛ پڑھنے اور پڑھنانے والوں کو پولیس پکڑ کر لے جارہی ہے؛ خوفزدہ کرنے کے مساجد میں جاکر وڈیوز بنائی جارہی ہیں۔ ایک دنیا ۔۔ ایک نظام ۔۔ ایک ہی احکامات ۔۔
میری ذاتی رائے، جو غلط ہوسکتی ہے، یہ ہے کہ نیو ورلڈ آرڈر قائم ہو چکا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سے لیکر World ایک New Order کے تحت ہی تو چل رہی ہے۔ خلافت کا ادارہ ختم ہونے کے بعد یہود کے دجالی نظام کے سائے تلے دنیا چلتی آ رہی ہے۔ یہودی اور خفیہ و ظاہر یہودی تنظیمیں تب سے لیکر دنیا کی باگیں ہلا تو رہی ہیں۔
مندرجہ ذیل نکات پر توجہ فرمائیے:
1- خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازشوں میں خفیہ یہودی گروہوں کا ہاتھ رہا۔
2- عالمی سطح پر وطنی ریاستوں کا بنیاد ڈالا گیا۔
3- تمام دنیا کی موجودہ سرحدیں یہود و نصاریٰ کی ترتیب دی ہوئی ہیں۔
4- پرانا جمہوری نظام یونانی مشرکین اور نیا نظامِ ڈیموکریسی یہود کا وضع کردہ ہے جس کا سکہ چل رہا ہے۔
5- اقوامِ متحدہ اداراے کی تخلیق میں یہود اور ہمدردانِ یہود کا ہاتھ تھا۔
6- یہودی ریاست اسرائیل کا قیام یہودی تحریک اور یہودی غلام ادارے اقوامِ متحدہ نے ممکن بنایا۔
7- ایک ادارہ (اقوامِ ملحدہ) ہے جو دنیا کے سیاسی، معاشی اور سماجی قوانین طئے کرتا اور منواتا آ رہا ہے۔
8- یہ ادارہ چاہے تو کسی ملک کا مسئلہ حل کردے اور اگر یہ نہ چاہے تو ستر سال گزرنے کے باوجود بھی مجال ہے کہ دنیا کا کوئی ملک یا دوسرا ادارہ وہ مسئلہ حل کر دکھائے!
9- اسی ادارے کے ذیلی ماتحت ادارے ہیں جو زندگی کے تمام شعبوں میں احکام و ہدایات وضع کرتے اور نافذ کرواتے ہیں۔ جنگ، امن، صحت، تعلیم، مذہب، سیاست، انسانیت، حقوق، وطن، سرحدیں ۔ ۔ ۔ کونسا میدان اور پہلو ہے جس کے متعلق اسی ایک ادارے اور اس کے ذیلی اداروں کی ہدایات، احکامات اور قوانین پر پوری دنیا عمل نہیں کر رہی؟
10- ایشیاء، افریقہ اور جنوبی لاطینی امریکہ کے غریب ممالک کے معدنی وسائل اور تیل اور سونے کے ذخائر پر کیا نیو ورلڈ آرڈر چلانے والوں کا قبضہ نہیں ہے؟ کبھی غور نہیں کیا آپ نے کہ زمین کا جنوبی حصہ قدرتی وسائل اور ذخائر سے مالامال تو ہے لیکن مالی لحاظ سے بدحال ہے۔ جبکہ زمین کا شمالی حصہ قدرتی وسائل و ذخائر سے اتنا بھرپور بھی نہیں لیکن مالی لحاظ سے کتنا خوشحال ہے!
11- مختلف مذاہب اور تہاذیب سے تعلق رکھنے والے اربوں انسان ایک نظام جمہوریت کے تلے جی رہیں ہیں اور اسی کو اچھا مانتے ہیں۔
12- اصل کرنسی سونا اور چاندی ہے۔ لیکن یہود کے سودی بینکاری نظام اور معاشی اصولوں کی بنا پر پوری دنیا کاغذی کرنسی پر چل رہی ہے۔ لوگ جانتے بھی نہیں کہ یہ کاغذ جعلی کرنسی ہے۔
13- خبر۔۔۔ خبر کیا ہے؟ کس وقت کونسی خبر ضروری ہے اور کونسی بات غیر اہم ہے؟ سچی خبر کونسی ہے اور جھوٹی کونسی؟ یہ بتانے اور سمجھانے والا کون ہے؟ کیا یہ عالمی دجالی ریاستی نظام نہیں کہ جس میں میڈیا کے ذریعے اربوں انسانوں کا ذہن کنٹرول کیا جا چکا ہے؟ جب چاہے جھوٹ اور افواہیں سنائے اور جب چاہے خوف پھیلائے!
14- پوری دنیا کے ملکوں میں جو تعلیمی نصاب رائج ہے وہ کس منزل کی طرف لے جاتا ہے؟ کیا کسی بھی ملک کا تعلیمی اور قانونی نظام ایسا ہے جس سے موجودہ یہودی عزائم اور ان کے منصوبوں کو کوئی خطرہ ہو؟ بلکہ الٹا وہ تو ان کے مقاصد کی تکمیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
15- ایک نظام کی ایک فوج ہے اسے آپ UN فوج کہہ لیں یا NATO ، دونوں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ اس کے علاوہ تمام ممالک کی افواج بھی انہی کی پارٹنر ہیں۔ یہ جب چاہیں جہاں حملہ کردیں کوئی روک ٹوک نہیں ان پر۔۔
دنیا کی میڈیا، معیشت اور معاشرت خفیہ ہاتھوں میں گزشتہ صدی سے ہے۔ مندرجہ بالا نکات کے تحت میری ذاتی رائے میں نیو ورلڈ آرڈر میں اس وقت ہم چل رہے ہیں جس کو امام مہدی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ختم کرکے عالمی خلافت قائم کرینگے۔
واللہ اعلم بالصواب
کورونا وائرس کے حوالے سے تمام دنیا کے لیے ایک ہی طرح کے احکامات اور اقدامات کیے گئے۔ مساجد بند کرادی گئیں؛ پڑھنے اور پڑھنانے والوں کو پولیس پکڑ کر لے جارہی ہے؛ خوفزدہ کرنے کے مساجد میں جاکر وڈیوز بنائی جارہی ہیں۔ ایک دنیا ۔۔ ایک نظام ۔۔ ایک ہی احکامات ۔۔
میری ذاتی رائے، جو غلط ہوسکتی ہے، یہ ہے کہ نیو ورلڈ آرڈر قائم ہو چکا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سے لیکر World ایک New Order کے تحت ہی تو چل رہی ہے۔ خلافت کا ادارہ ختم ہونے کے بعد یہود کے دجالی نظام کے سائے تلے دنیا چلتی آ رہی ہے۔ یہودی اور خفیہ و ظاہر یہودی تنظیمیں تب سے لیکر دنیا کی باگیں ہلا تو رہی ہیں۔
مندرجہ ذیل نکات پر توجہ فرمائیے:
1- خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازشوں میں خفیہ یہودی گروہوں کا ہاتھ رہا۔
2- عالمی سطح پر وطنی ریاستوں کا بنیاد ڈالا گیا۔
3- تمام دنیا کی موجودہ سرحدیں یہود و نصاریٰ کی ترتیب دی ہوئی ہیں۔
4- پرانا جمہوری نظام یونانی مشرکین اور نیا نظامِ ڈیموکریسی یہود کا وضع کردہ ہے جس کا سکہ چل رہا ہے۔
5- اقوامِ متحدہ اداراے کی تخلیق میں یہود اور ہمدردانِ یہود کا ہاتھ تھا۔
6- یہودی ریاست اسرائیل کا قیام یہودی تحریک اور یہودی غلام ادارے اقوامِ متحدہ نے ممکن بنایا۔
7- ایک ادارہ (اقوامِ ملحدہ) ہے جو دنیا کے سیاسی، معاشی اور سماجی قوانین طئے کرتا اور منواتا آ رہا ہے۔
8- یہ ادارہ چاہے تو کسی ملک کا مسئلہ حل کردے اور اگر یہ نہ چاہے تو ستر سال گزرنے کے باوجود بھی مجال ہے کہ دنیا کا کوئی ملک یا دوسرا ادارہ وہ مسئلہ حل کر دکھائے!
9- اسی ادارے کے ذیلی ماتحت ادارے ہیں جو زندگی کے تمام شعبوں میں احکام و ہدایات وضع کرتے اور نافذ کرواتے ہیں۔ جنگ، امن، صحت، تعلیم، مذہب، سیاست، انسانیت، حقوق، وطن، سرحدیں ۔ ۔ ۔ کونسا میدان اور پہلو ہے جس کے متعلق اسی ایک ادارے اور اس کے ذیلی اداروں کی ہدایات، احکامات اور قوانین پر پوری دنیا عمل نہیں کر رہی؟
10- ایشیاء، افریقہ اور جنوبی لاطینی امریکہ کے غریب ممالک کے معدنی وسائل اور تیل اور سونے کے ذخائر پر کیا نیو ورلڈ آرڈر چلانے والوں کا قبضہ نہیں ہے؟ کبھی غور نہیں کیا آپ نے کہ زمین کا جنوبی حصہ قدرتی وسائل اور ذخائر سے مالامال تو ہے لیکن مالی لحاظ سے بدحال ہے۔ جبکہ زمین کا شمالی حصہ قدرتی وسائل و ذخائر سے اتنا بھرپور بھی نہیں لیکن مالی لحاظ سے کتنا خوشحال ہے!
11- مختلف مذاہب اور تہاذیب سے تعلق رکھنے والے اربوں انسان ایک نظام جمہوریت کے تلے جی رہیں ہیں اور اسی کو اچھا مانتے ہیں۔
12- اصل کرنسی سونا اور چاندی ہے۔ لیکن یہود کے سودی بینکاری نظام اور معاشی اصولوں کی بنا پر پوری دنیا کاغذی کرنسی پر چل رہی ہے۔ لوگ جانتے بھی نہیں کہ یہ کاغذ جعلی کرنسی ہے۔
13- خبر۔۔۔ خبر کیا ہے؟ کس وقت کونسی خبر ضروری ہے اور کونسی بات غیر اہم ہے؟ سچی خبر کونسی ہے اور جھوٹی کونسی؟ یہ بتانے اور سمجھانے والا کون ہے؟ کیا یہ عالمی دجالی ریاستی نظام نہیں کہ جس میں میڈیا کے ذریعے اربوں انسانوں کا ذہن کنٹرول کیا جا چکا ہے؟ جب چاہے جھوٹ اور افواہیں سنائے اور جب چاہے خوف پھیلائے!
14- پوری دنیا کے ملکوں میں جو تعلیمی نصاب رائج ہے وہ کس منزل کی طرف لے جاتا ہے؟ کیا کسی بھی ملک کا تعلیمی اور قانونی نظام ایسا ہے جس سے موجودہ یہودی عزائم اور ان کے منصوبوں کو کوئی خطرہ ہو؟ بلکہ الٹا وہ تو ان کے مقاصد کی تکمیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
15- ایک نظام کی ایک فوج ہے اسے آپ UN فوج کہہ لیں یا NATO ، دونوں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ اس کے علاوہ تمام ممالک کی افواج بھی انہی کی پارٹنر ہیں۔ یہ جب چاہیں جہاں حملہ کردیں کوئی روک ٹوک نہیں ان پر۔۔
دنیا کی میڈیا، معیشت اور معاشرت خفیہ ہاتھوں میں گزشتہ صدی سے ہے۔ مندرجہ بالا نکات کے تحت میری ذاتی رائے میں نیو ورلڈ آرڈر میں اس وقت ہم چل رہے ہیں جس کو امام مہدی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ختم کرکے عالمی خلافت قائم کرینگے۔
واللہ اعلم بالصواب
فکرِاسلامی
🌍مھدویات🌍 قسط ۔2 *حضرت_مہدی_کاحاضرانہ_تعارف: جہاں تک بات حاضرانہ تعارف کی ہے تو اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ یاد رکھنی چاہیے کہ وہ شخص سچا مہدی کبھی ہو ہی نہیں سکتا جو مہدی ہونے کا دعوی کرے۔ دعوائے مہدویت اور حقیقی مہدویت میں آگ اور پانی کا تضاد ہے۔ اس…
🌍مہدویات🌍
قسط ۔3
حضرت_مہدی_کاحاضرانہ_تعارف:
*گزشتہ_سےپیوستہ
(3) ایک اور دلیل جو حب جاہ کے مریضوں کی طرف سے مہدی ہونے کا دعوی کرنے والوں کو جھوٹا ثابت کرتی ہے، یہ ہے کہ ظہور سے پہلے خود حضرت مہدی اپنے مقام سے ناواقف ہوں گے۔ ان کی اپنی صلاحیتیں خود ان پر مخفی ہوں گی اور وہ ایک عام آدمی کی زندگی گزار رہے ہوں گے۔ بھلا وہ کیسے مہدی ہونے کا دعوی کرسکیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے : عن علي قال : قال رسول اللهﷺ :,,المھدى منا أهل البيت يصلحه الله في ليلة.،، (ابن ماجه، باب خروج المهدي: 4 / 310 و مسند احمد 1 / 106 ) ترجمہ: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوں گے، اللہ تعالی ایک ہی رات میں ان کو یہ صلاحیت عطا فرما دے گا ۔
اس حدیث کی شرح میں شیخ عبدالغغی دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ,,أي يصلحه الله في ليلة أي يصلحه للإمارة و الخلافة يغاءۃ وبغتة. (إنجاح الحاجة على هامن ابن ماجه) یعنی اللہ تعالی ایک ہی رات میں اچانک ان کو امارت اور خلافت کی یہ صلاحیت عطا فرمادے گا۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:,,أي يتوب عليه و یوفقه ویلھمه ويرشده بعد أن يكن كذلك،،. (النهاية في الفتن و الملاحم 1/ 31 ) یعنی الله تعالی اپنے خصوصی فضل و توفیق سے سرفراز فرما کر پہلے انہیں (حقیقت کا) الہام کریں گے اور اس مقام سے آشنا کریں گے ، جس سے وہ پہلے ناواقف تھے۔
حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی رحمہ الله تحریر فرماتے ہیں: ایک عمیق حقیقت اس سے حل ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں پربعض ضعیف الایمان قلوب میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ جب حضرت مہدی ایسی کھلی ہوئی شہرت رکھتے ہیں تو پھر ان کا تعارف عوام و خواص میں کیسے مخفی رہ سکتا ہے؟ اس لیے مصائب و آلام کے وقت ان کے ظہور کا انتظار معقول معلوم نہیں ہوتا ہے۔ لیکن اس لفظ( يصلحه الله في ليلة) نے حل کر دیا کہ یہ صفات خواہ کتنے ہی اشخاص میں کیوں نہ ہوں ، لیکن ان کے وہ باطنی تصرفات اور روحانیت مشیت الہیہ کے ماتحت اوجھل رکھی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب ان کے ظہور کا وقت آئے گا تو ایک ہی شب کے اندر اندر ان کی اندرونی خصوصیات منظر عام پر آ جائیں گی ۔ گویا یہ بھی ایک کرشمہ قدرت ہوگا کہ ان کے ظہور کے وقت سے قبل کوئی شخصیت ان کو پہچان نہ سکے گی اور جب وقت آئے گا تو قدرت الہیہ شب بھر میں وہ تمام صلاحیتیں ان میں پیدا کر دے گی جن کے بعد ان کا مہدی ہونا خودان پر اور تمام دنیا پر بھی منکشف ہو جائے گا۔(ترجمان السنة: 4/ 404)
اس ساری تفصیل سے جو مستند کتابوں میں مذکور ہے (اس وقت بندہ کے سامنے دو درجن کے قریب کتابیں موجود ہیں جن کی فہرست اس کتاب کے آخر میں ہے) معلوم ہوا کہ مہدی ہونا جہادی اورعسکری قیادت کے ساتھ ساتھ ایک طرح سے روحانی منصب ہے اور روحانیت کے مقام پر فائز لوگ منصب کا دعوی نہیں کیا کرتے۔ البتہ ان کی کارکردگی اور صلاحیت ایسی ہوتی ہے کہ لوگ عہدوں اور مناصب کو از خود ان پر صدقے واری کرتے ہیں ۔ پھر مہدی کی مسند پھولوں کی سیج نہیں ، کانٹوں بھرا تاج ہے۔ اس میں یوں نہیں ہوگا کہ مہدی موعود ہونے کا دعوی کر کے کوئی صاحب مسندنشین ہو جائیں ، نذرانے وصول فرماتے رہیں اور امت کے مسائل حل کرنے اور اس کی کشتی کو منجدھار سے نکالنے کے لیے قربانی دینے کے بجائے خود ایک نیا مسئلہ بن کر صدرنشین ہو جائیں ۔ مہدی ہونے کا مطلب پوری دنیائے کفر کی مخالفت ، اس سے ٹکراؤ، جان پر کھیل کر مظلوم مسلمانوں کی امداد، آگ کے دریا سے گزر کر فتح کا حصول اور خون کا سمندر پار کر کے ,,خلافت الہی کلی منہاج النبوۃ،، کا قیام ہے۔ اب فرمائیے کہ اس میں دعوی کی گنجائش کتنی ہے اور عمل و کردار کی سچائی کتنی ضروری ہے؟ مرزا قادیانی کی طرح کے مردودوں اور گوہر شاہی قسم کے پاجیوں کا یہاں کیا گزر ہے؟ ..
ماخوذ.دجال کون کب کہاں" از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری.....
قسط ۔3
حضرت_مہدی_کاحاضرانہ_تعارف:
*گزشتہ_سےپیوستہ
(3) ایک اور دلیل جو حب جاہ کے مریضوں کی طرف سے مہدی ہونے کا دعوی کرنے والوں کو جھوٹا ثابت کرتی ہے، یہ ہے کہ ظہور سے پہلے خود حضرت مہدی اپنے مقام سے ناواقف ہوں گے۔ ان کی اپنی صلاحیتیں خود ان پر مخفی ہوں گی اور وہ ایک عام آدمی کی زندگی گزار رہے ہوں گے۔ بھلا وہ کیسے مہدی ہونے کا دعوی کرسکیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے : عن علي قال : قال رسول اللهﷺ :,,المھدى منا أهل البيت يصلحه الله في ليلة.،، (ابن ماجه، باب خروج المهدي: 4 / 310 و مسند احمد 1 / 106 ) ترجمہ: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوں گے، اللہ تعالی ایک ہی رات میں ان کو یہ صلاحیت عطا فرما دے گا ۔
اس حدیث کی شرح میں شیخ عبدالغغی دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ,,أي يصلحه الله في ليلة أي يصلحه للإمارة و الخلافة يغاءۃ وبغتة. (إنجاح الحاجة على هامن ابن ماجه) یعنی اللہ تعالی ایک ہی رات میں اچانک ان کو امارت اور خلافت کی یہ صلاحیت عطا فرمادے گا۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:,,أي يتوب عليه و یوفقه ویلھمه ويرشده بعد أن يكن كذلك،،. (النهاية في الفتن و الملاحم 1/ 31 ) یعنی الله تعالی اپنے خصوصی فضل و توفیق سے سرفراز فرما کر پہلے انہیں (حقیقت کا) الہام کریں گے اور اس مقام سے آشنا کریں گے ، جس سے وہ پہلے ناواقف تھے۔
حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی رحمہ الله تحریر فرماتے ہیں: ایک عمیق حقیقت اس سے حل ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں پربعض ضعیف الایمان قلوب میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ جب حضرت مہدی ایسی کھلی ہوئی شہرت رکھتے ہیں تو پھر ان کا تعارف عوام و خواص میں کیسے مخفی رہ سکتا ہے؟ اس لیے مصائب و آلام کے وقت ان کے ظہور کا انتظار معقول معلوم نہیں ہوتا ہے۔ لیکن اس لفظ( يصلحه الله في ليلة) نے حل کر دیا کہ یہ صفات خواہ کتنے ہی اشخاص میں کیوں نہ ہوں ، لیکن ان کے وہ باطنی تصرفات اور روحانیت مشیت الہیہ کے ماتحت اوجھل رکھی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب ان کے ظہور کا وقت آئے گا تو ایک ہی شب کے اندر اندر ان کی اندرونی خصوصیات منظر عام پر آ جائیں گی ۔ گویا یہ بھی ایک کرشمہ قدرت ہوگا کہ ان کے ظہور کے وقت سے قبل کوئی شخصیت ان کو پہچان نہ سکے گی اور جب وقت آئے گا تو قدرت الہیہ شب بھر میں وہ تمام صلاحیتیں ان میں پیدا کر دے گی جن کے بعد ان کا مہدی ہونا خودان پر اور تمام دنیا پر بھی منکشف ہو جائے گا۔(ترجمان السنة: 4/ 404)
اس ساری تفصیل سے جو مستند کتابوں میں مذکور ہے (اس وقت بندہ کے سامنے دو درجن کے قریب کتابیں موجود ہیں جن کی فہرست اس کتاب کے آخر میں ہے) معلوم ہوا کہ مہدی ہونا جہادی اورعسکری قیادت کے ساتھ ساتھ ایک طرح سے روحانی منصب ہے اور روحانیت کے مقام پر فائز لوگ منصب کا دعوی نہیں کیا کرتے۔ البتہ ان کی کارکردگی اور صلاحیت ایسی ہوتی ہے کہ لوگ عہدوں اور مناصب کو از خود ان پر صدقے واری کرتے ہیں ۔ پھر مہدی کی مسند پھولوں کی سیج نہیں ، کانٹوں بھرا تاج ہے۔ اس میں یوں نہیں ہوگا کہ مہدی موعود ہونے کا دعوی کر کے کوئی صاحب مسندنشین ہو جائیں ، نذرانے وصول فرماتے رہیں اور امت کے مسائل حل کرنے اور اس کی کشتی کو منجدھار سے نکالنے کے لیے قربانی دینے کے بجائے خود ایک نیا مسئلہ بن کر صدرنشین ہو جائیں ۔ مہدی ہونے کا مطلب پوری دنیائے کفر کی مخالفت ، اس سے ٹکراؤ، جان پر کھیل کر مظلوم مسلمانوں کی امداد، آگ کے دریا سے گزر کر فتح کا حصول اور خون کا سمندر پار کر کے ,,خلافت الہی کلی منہاج النبوۃ،، کا قیام ہے۔ اب فرمائیے کہ اس میں دعوی کی گنجائش کتنی ہے اور عمل و کردار کی سچائی کتنی ضروری ہے؟ مرزا قادیانی کی طرح کے مردودوں اور گوہر شاہی قسم کے پاجیوں کا یہاں کیا گزر ہے؟ ..
ماخوذ.دجال کون کب کہاں" از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری.....
فکرِاسلامی
🌍مہدویات🌍 قسط ۔3 حضرت_مہدی_کاحاضرانہ_تعارف: *گزشتہ_سےپیوستہ (3) ایک اور دلیل جو حب جاہ کے مریضوں کی طرف سے مہدی ہونے کا دعوی کرنے والوں کو جھوٹا ثابت کرتی ہے، یہ ہے کہ ظہور سے پہلے خود حضرت مہدی اپنے مقام سے ناواقف ہوں گے۔ ان کی اپنی صلاحیتیں خود ان…
🌍مہدویات🌍
قسط۔ 4
*حضرت_مہدی_کاحاضرانہ_تعارف:
*گزشتہ_سےپیوستہ
یہاں یہ بات خصوصیت سے ملحوظ رہے کہ حضرت مہدی جس طرح کعبے کے پردوں سے چمٹ کر دیوار کعبہ پر منہ رگڑتے ہوۓ امت کی بدحالی پر رورہے ہوں گے، اسی طرح یہ سات علماء بھی ان کی جستجو میں بے چین و بے تاب ہوں گے۔ ان کے ساتھ موجود تین سو افراد بھی دنیا بھر سے ان کی تلاش میں حرمین پہنچ چکے ہوں گے اور اپنا سب کچھ امیر کے ایک اشارے پرلٹانے کے لیے تڑپ رہے ہوں گے ۔ امت مسلمہ کے لیے امیر اور مامور کی یہ تڑپ اور کھڑھن وہ چیز ہے جس پر الله تعالی امت کی خدمت کا کام لیتے، مشکل چیزوں کو آسان کرتے اورصحیح وقت پر صحیح چیز کی غیبی توفیق عطا فرماتے ہیں ۔ پس جسے حضرت مہدی کے متعلق معلومات کا شوق ہے، اسے پہلے تو اپنی حالت سدھارنی چاہیے، حقوق اللہ وحقوق العباد کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے اور پھر اپنے بجائے اسلام کے لیے سوچنا چاہیے ۔ امت مسلمہ کی بگڑی بنانے میں علماء، مشات اور مجاہدین کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔اپنے جان ، مال ، وسائل میں مسلمانوں کے لیے وافر حصہ رکھنا چاہیے۔ ایسے ہی لوگ یا ان کی نسلیں اس مبارک لشکر میں شامل ہوسکتی ہیں محض اندازے، قیاسات، تخیلات اورعمل کے بغیر سب منشا نتائج کی امید یا قربانی کے بغیر نرے جذبات کسی کام کے نہیں۔
ان دو جوابوں کے بعد بعض قارئین کی نظر میں پہلا سوال ختم ہوگیا ہوگا لیکن درحقیقت یہیں سے یہ سوال ایک نئے پہلو سے سر اٹھاتا ہے۔ حضرت مہدی کون ہوں گے؟ اس سوال پر اب تک جو بات ہوئی ہے وہ کتابی علمی اور ذہنی ہے۔ لیکن کیا محض اس سےتشفی ہو جاتی ہے؟ اس تخیلاتی تعارف کو عصری تطبیق کی شکل دیے بغیر بات پوری ہوجائے گی؟ یہ عاجز سمجھتا ہے کہ بات کو یہیں تک لا کر چھوڑنے سے گمراہ اورنفس پرست قسم کے لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ جہاں چاہیں تطبیق کرتے پھریں اور جسے چاہیں مہدی مان کر اس کے لیے بہائی گئی جھوٹی روحانیت اور نفسیاتی مراعات کی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہیں...... ہمارے ہاں چونکہ طبیعتیں اور دماغ فتنه زدہ ہیں اس لیے جھوٹے مدعیوں کے پیچھے چلنے والے بہت ہیں اور سچے مہدی کی طلب رکھنے والے کم ہیں ۔ کیونکہ جو یہ طلب رکھے گا اسے اس کے تقاضے بھی پورے کرنے پڑیں گے اور نا آسوہ حسرتوں اور تشنہ تمناؤں کے مارے ہوئے آج کے مسلمانوں کے لیے یہی وہ چیز ہے جس سے ہماری جان جاتی ہے۔ دوسری طرف بھی حقیقت ہے کہ الله تعالی اور اس کے سچے پیغمبر ﷺ نے قیامت کی طرح اس کی علامات کو بھی کسی قدر مبہم رکھا ہے۔ ان کی صحیح تعیین کسی کے بس کی بات نہیں۔ بہت سےمحققین کے اندازے بھی غیر واقعی ثابت ہوئے ہیں۔ البتہ حتمی تعیین اور مکمل ابهام کے در میان محض امکانی تطبیقی اور ممکنہ مصداق کی حد تک بات کی جائے، اس کی صحت پر اصرار نہ کیا جائے،نہ اس کی بنیاد پر شریعت کے خلاف یا اکابرین کے مشرب سے ہٹ کر کوئی تاویل کی جائے اور علمائے کرام و مشائخ عظام کی توجیہات وتنبیہات کو قبول کر لینے کے لیے تیاررہا جائے تو زبان کھولنا شاید منوع نہ ہو گا، خصوصاً اس لیے کہ مقصد صرف اور صرف عامةالمسلمین کو اصلاح نفس اور جد و جہد و جہاد کی دعوت دینا ہو تو آیئے ایک نظر ذرا اس پہلو پر ڈالتے ہیں ۔ وبالله التوفيق، وهو العاصم من الشرور والفتن.
ماخوذ : دجال کون کب کہاں"
از : مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
*جاری۔۔۔۔
قسط۔ 4
*حضرت_مہدی_کاحاضرانہ_تعارف:
*گزشتہ_سےپیوستہ
یہاں یہ بات خصوصیت سے ملحوظ رہے کہ حضرت مہدی جس طرح کعبے کے پردوں سے چمٹ کر دیوار کعبہ پر منہ رگڑتے ہوۓ امت کی بدحالی پر رورہے ہوں گے، اسی طرح یہ سات علماء بھی ان کی جستجو میں بے چین و بے تاب ہوں گے۔ ان کے ساتھ موجود تین سو افراد بھی دنیا بھر سے ان کی تلاش میں حرمین پہنچ چکے ہوں گے اور اپنا سب کچھ امیر کے ایک اشارے پرلٹانے کے لیے تڑپ رہے ہوں گے ۔ امت مسلمہ کے لیے امیر اور مامور کی یہ تڑپ اور کھڑھن وہ چیز ہے جس پر الله تعالی امت کی خدمت کا کام لیتے، مشکل چیزوں کو آسان کرتے اورصحیح وقت پر صحیح چیز کی غیبی توفیق عطا فرماتے ہیں ۔ پس جسے حضرت مہدی کے متعلق معلومات کا شوق ہے، اسے پہلے تو اپنی حالت سدھارنی چاہیے، حقوق اللہ وحقوق العباد کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے اور پھر اپنے بجائے اسلام کے لیے سوچنا چاہیے ۔ امت مسلمہ کی بگڑی بنانے میں علماء، مشات اور مجاہدین کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔اپنے جان ، مال ، وسائل میں مسلمانوں کے لیے وافر حصہ رکھنا چاہیے۔ ایسے ہی لوگ یا ان کی نسلیں اس مبارک لشکر میں شامل ہوسکتی ہیں محض اندازے، قیاسات، تخیلات اورعمل کے بغیر سب منشا نتائج کی امید یا قربانی کے بغیر نرے جذبات کسی کام کے نہیں۔
ان دو جوابوں کے بعد بعض قارئین کی نظر میں پہلا سوال ختم ہوگیا ہوگا لیکن درحقیقت یہیں سے یہ سوال ایک نئے پہلو سے سر اٹھاتا ہے۔ حضرت مہدی کون ہوں گے؟ اس سوال پر اب تک جو بات ہوئی ہے وہ کتابی علمی اور ذہنی ہے۔ لیکن کیا محض اس سےتشفی ہو جاتی ہے؟ اس تخیلاتی تعارف کو عصری تطبیق کی شکل دیے بغیر بات پوری ہوجائے گی؟ یہ عاجز سمجھتا ہے کہ بات کو یہیں تک لا کر چھوڑنے سے گمراہ اورنفس پرست قسم کے لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ جہاں چاہیں تطبیق کرتے پھریں اور جسے چاہیں مہدی مان کر اس کے لیے بہائی گئی جھوٹی روحانیت اور نفسیاتی مراعات کی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہیں...... ہمارے ہاں چونکہ طبیعتیں اور دماغ فتنه زدہ ہیں اس لیے جھوٹے مدعیوں کے پیچھے چلنے والے بہت ہیں اور سچے مہدی کی طلب رکھنے والے کم ہیں ۔ کیونکہ جو یہ طلب رکھے گا اسے اس کے تقاضے بھی پورے کرنے پڑیں گے اور نا آسوہ حسرتوں اور تشنہ تمناؤں کے مارے ہوئے آج کے مسلمانوں کے لیے یہی وہ چیز ہے جس سے ہماری جان جاتی ہے۔ دوسری طرف بھی حقیقت ہے کہ الله تعالی اور اس کے سچے پیغمبر ﷺ نے قیامت کی طرح اس کی علامات کو بھی کسی قدر مبہم رکھا ہے۔ ان کی صحیح تعیین کسی کے بس کی بات نہیں۔ بہت سےمحققین کے اندازے بھی غیر واقعی ثابت ہوئے ہیں۔ البتہ حتمی تعیین اور مکمل ابهام کے در میان محض امکانی تطبیقی اور ممکنہ مصداق کی حد تک بات کی جائے، اس کی صحت پر اصرار نہ کیا جائے،نہ اس کی بنیاد پر شریعت کے خلاف یا اکابرین کے مشرب سے ہٹ کر کوئی تاویل کی جائے اور علمائے کرام و مشائخ عظام کی توجیہات وتنبیہات کو قبول کر لینے کے لیے تیاررہا جائے تو زبان کھولنا شاید منوع نہ ہو گا، خصوصاً اس لیے کہ مقصد صرف اور صرف عامةالمسلمین کو اصلاح نفس اور جد و جہد و جہاد کی دعوت دینا ہو تو آیئے ایک نظر ذرا اس پہلو پر ڈالتے ہیں ۔ وبالله التوفيق، وهو العاصم من الشرور والفتن.
ماخوذ : دجال کون کب کہاں"
از : مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
*جاری۔۔۔۔
🌍مہدویات🌍
قسط ۔ 5
*دم مست قلندر:
*دوسری_بات: *حضرت_مہدی_کون_ہوں_گے؟
حضرت مہدی کون ہوں گے؟
یہ سوال جتنا اہم ہے اتنا ہی اہم یہ ہے کہ ان کےساتھ چلنے والے کون ہوں گے؟ امیر کی پہچان جتنا لازمی ہے اتنا ہی لازمی یہ بھی ہے کہ اس کے امور اور اس کے گرد موجود جماعت کی پہچان ہو تاکہ حضرت مہدی کو کوئی پا سکے یا نہ پاسکے، ان صفات کو تو پا جائے جو موت سے قبل موت کی تیاری میں کام آسکتی ہیں۔
قارئین محترم! احادیث میں دو اشارے ایسے ملتے ہیں جن سے آخری زمانے کے کامیاب قائد اور اس کے خوش نصیب کا رکن دونوں کی کسی قدر پہچان ہو جاتی ہے اور آدمی کوحق و باطل میں فرق کرنے ان کے لیے قربانی دینے اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ مل جاتا ہے۔ یہ دونوں احادیث بندہ کے سامنے عربی میں باحوالہ موجود ہیں ۔ حوالہ مسلم شریف اور مشکوة شریف کا ہے۔لیکن اگر ہم عربی عبارت کی طرف گئے تو تحقیقی مضمون بن جائے گا جبکہ بندہ تحقیق کا اہل نہیں۔ تحقیق کے لیے ہمیشہ اپنے اکابر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اللہ پاک نے ہمارے اکابر علمائے دیوبند کو جس علم اور تقوی سے نوازا، وہ راسخ ہے اور جوفہم و بصیرت عطا کی ، وہ کامل ہے ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ان سے پوچھ پوچھ کر چلتے رہیں اور ان کی تقلید میں احتیاط اور نجات کو مضمر سمجھیں ۔ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے والد حضرت مفتی اعظم مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کی لکھی ہوئی جس معرکۃ آلارا کتاب کی تحقیق وتخلیص کی ہے اور اس کے آخر میں ,,فہرست علامات قیامت،، کے عنوان کے تحت تیسری علامت یوں تحریر ہے:,,نزول عیسیٰ (علیہ السلام) تک اس امت میں ایک جماعت حق کے لیے برسر پیکار رہے گی جو اپنے مخالفین کی پروا نہ کرے گی۔ اس جماعت کے آخری امیر امام مہدی ہوں گے۔،،(ص: 142) اس میں آخری جملہ (اس جماعت کے آخری امیر امام مہدی ہوں گے ) بہت اہم ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے حضرت مہدی نہ کسی غیر جہادی جماعت کے امیر ہوں گے نہ کسی اورقسم کے فکری یا تنظیمی گروہ کے، وہ جہادی جماعتوں کے آخری امیر ہوں گے ۔ اہل حق کی تمام جہادی جماعتیں اور ان کے ذمہ دار اپنی اپنی جماعتوں کو ان کے ہاتھ میں دے کر ان کے ساتھ ضم ہو جائیں گے اور دنیا بھر میں الگ الگ جو کوششیں ہورہی ہیں، وہ حضرت مہدی کے جھنڈے تلے جب اکٹھی ہوں گی تو مجاہدین کی بے مثال قربانیاں اور حضرت مہدی کی ذہین اور جرات مند قیادت مل کر مسلمانوں کو وہ گمشدہ چابی واپس دلوادے گی جو عرصہ ہوا گم ہوگئی ہے اور فتح نصرت اور ترقی وکامیابی کی گاڑی کے چاروں ٹائر (علم، تقوی، دعوت، جہاد ) موجود ہونے کے باوجود چل کے نہیں دے رہی۔
اب مامورین اور کارکنوں کی پہچان کی طرف آئیے ۔ مسئلہ ہی بالکل صاف ہو جائے گا۔ دنیا میں اس وقت مسلمانوں کے تین مخالفین ہیں: یہود و ہنود (مشرکین)، عیسائی۔حضرت مہدی کی جنگ عیسائیوں (یورپی یونین) سے ہوگی ۔ ہندوؤں اور ارتدادی فکر کے شکار نام نہا ومسلم حکمرانوں کو حضرت مہدی کی طرف سے ہندوستان کے لیے تشکیل کردہ جانباز شکست دے کر اور بیڑیاں لگوا کر گرفتار کر کے لائیں گے۔ یہود اور ان کے سربراہ الدجال اعظم کے خاتمے کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گے ۔ اس کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بے تحاشا ستایا۔ جان لینے کی کوشش کی ۔ آپ کےحواریوں نے آپ کے گرد جانیں دے کر آپ کی حفاظت نہیں کی ۔ انہیں یہود نے مشرکین کےساتھ مل کر حضرت مصطفی ﷺ کو بھی بہت ستایا۔ جان لینے کے درپے ہو گئے۔آپ ﷺ کے صحابہ(رضی اللہ عنہم) نے آپ کے گرد اپنے جسموں کی دیوار کھڑی کر دی ۔ مہاجر صحابہ (رضی اللہ عنہم) تو نکلے ہی
کشتیاں جلا کر تھے لیکن انصار کا حال بھی دیکھا کہ جب تک ایک بھی زندہ تھا ممکن نہ تھا کہ اس پر سے گزرے بغیر کوئی آپ (ﷺ) تک پہنچ سکتا۔ اللہ تعالی اس وفا اور فدائیت پرامت محمدیہ(ﷺ) کو یہ انعام دیں گے کہ جس طرح اس امت کے شروع کے لوگوں نے اپنے پیغمبر (ﷺ)کے ساتھ مل کر ,,یہود مدینہ،، کے خاتمے کا کارنامہ انجام دیا، اسی طرح اس امت کے آخری لوگ ,,یہود عالم،، کے کلی خاتمے کے لیے بھی دوبارہ بحیثیت امتی آئے ہوئے پچھلے پیغمبر سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھی بن کر سابقین کی یاد تازہ کریں گے۔
ماخوذ. دجال کون کب کہاں" از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔۔
قسط ۔ 5
*دم مست قلندر:
*دوسری_بات: *حضرت_مہدی_کون_ہوں_گے؟
حضرت مہدی کون ہوں گے؟
یہ سوال جتنا اہم ہے اتنا ہی اہم یہ ہے کہ ان کےساتھ چلنے والے کون ہوں گے؟ امیر کی پہچان جتنا لازمی ہے اتنا ہی لازمی یہ بھی ہے کہ اس کے امور اور اس کے گرد موجود جماعت کی پہچان ہو تاکہ حضرت مہدی کو کوئی پا سکے یا نہ پاسکے، ان صفات کو تو پا جائے جو موت سے قبل موت کی تیاری میں کام آسکتی ہیں۔
قارئین محترم! احادیث میں دو اشارے ایسے ملتے ہیں جن سے آخری زمانے کے کامیاب قائد اور اس کے خوش نصیب کا رکن دونوں کی کسی قدر پہچان ہو جاتی ہے اور آدمی کوحق و باطل میں فرق کرنے ان کے لیے قربانی دینے اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ مل جاتا ہے۔ یہ دونوں احادیث بندہ کے سامنے عربی میں باحوالہ موجود ہیں ۔ حوالہ مسلم شریف اور مشکوة شریف کا ہے۔لیکن اگر ہم عربی عبارت کی طرف گئے تو تحقیقی مضمون بن جائے گا جبکہ بندہ تحقیق کا اہل نہیں۔ تحقیق کے لیے ہمیشہ اپنے اکابر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اللہ پاک نے ہمارے اکابر علمائے دیوبند کو جس علم اور تقوی سے نوازا، وہ راسخ ہے اور جوفہم و بصیرت عطا کی ، وہ کامل ہے ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ان سے پوچھ پوچھ کر چلتے رہیں اور ان کی تقلید میں احتیاط اور نجات کو مضمر سمجھیں ۔ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے والد حضرت مفتی اعظم مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کی لکھی ہوئی جس معرکۃ آلارا کتاب کی تحقیق وتخلیص کی ہے اور اس کے آخر میں ,,فہرست علامات قیامت،، کے عنوان کے تحت تیسری علامت یوں تحریر ہے:,,نزول عیسیٰ (علیہ السلام) تک اس امت میں ایک جماعت حق کے لیے برسر پیکار رہے گی جو اپنے مخالفین کی پروا نہ کرے گی۔ اس جماعت کے آخری امیر امام مہدی ہوں گے۔،،(ص: 142) اس میں آخری جملہ (اس جماعت کے آخری امیر امام مہدی ہوں گے ) بہت اہم ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے حضرت مہدی نہ کسی غیر جہادی جماعت کے امیر ہوں گے نہ کسی اورقسم کے فکری یا تنظیمی گروہ کے، وہ جہادی جماعتوں کے آخری امیر ہوں گے ۔ اہل حق کی تمام جہادی جماعتیں اور ان کے ذمہ دار اپنی اپنی جماعتوں کو ان کے ہاتھ میں دے کر ان کے ساتھ ضم ہو جائیں گے اور دنیا بھر میں الگ الگ جو کوششیں ہورہی ہیں، وہ حضرت مہدی کے جھنڈے تلے جب اکٹھی ہوں گی تو مجاہدین کی بے مثال قربانیاں اور حضرت مہدی کی ذہین اور جرات مند قیادت مل کر مسلمانوں کو وہ گمشدہ چابی واپس دلوادے گی جو عرصہ ہوا گم ہوگئی ہے اور فتح نصرت اور ترقی وکامیابی کی گاڑی کے چاروں ٹائر (علم، تقوی، دعوت، جہاد ) موجود ہونے کے باوجود چل کے نہیں دے رہی۔
اب مامورین اور کارکنوں کی پہچان کی طرف آئیے ۔ مسئلہ ہی بالکل صاف ہو جائے گا۔ دنیا میں اس وقت مسلمانوں کے تین مخالفین ہیں: یہود و ہنود (مشرکین)، عیسائی۔حضرت مہدی کی جنگ عیسائیوں (یورپی یونین) سے ہوگی ۔ ہندوؤں اور ارتدادی فکر کے شکار نام نہا ومسلم حکمرانوں کو حضرت مہدی کی طرف سے ہندوستان کے لیے تشکیل کردہ جانباز شکست دے کر اور بیڑیاں لگوا کر گرفتار کر کے لائیں گے۔ یہود اور ان کے سربراہ الدجال اعظم کے خاتمے کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گے ۔ اس کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بے تحاشا ستایا۔ جان لینے کی کوشش کی ۔ آپ کےحواریوں نے آپ کے گرد جانیں دے کر آپ کی حفاظت نہیں کی ۔ انہیں یہود نے مشرکین کےساتھ مل کر حضرت مصطفی ﷺ کو بھی بہت ستایا۔ جان لینے کے درپے ہو گئے۔آپ ﷺ کے صحابہ(رضی اللہ عنہم) نے آپ کے گرد اپنے جسموں کی دیوار کھڑی کر دی ۔ مہاجر صحابہ (رضی اللہ عنہم) تو نکلے ہی
کشتیاں جلا کر تھے لیکن انصار کا حال بھی دیکھا کہ جب تک ایک بھی زندہ تھا ممکن نہ تھا کہ اس پر سے گزرے بغیر کوئی آپ (ﷺ) تک پہنچ سکتا۔ اللہ تعالی اس وفا اور فدائیت پرامت محمدیہ(ﷺ) کو یہ انعام دیں گے کہ جس طرح اس امت کے شروع کے لوگوں نے اپنے پیغمبر (ﷺ)کے ساتھ مل کر ,,یہود مدینہ،، کے خاتمے کا کارنامہ انجام دیا، اسی طرح اس امت کے آخری لوگ ,,یہود عالم،، کے کلی خاتمے کے لیے بھی دوبارہ بحیثیت امتی آئے ہوئے پچھلے پیغمبر سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھی بن کر سابقین کی یاد تازہ کریں گے۔
ماخوذ. دجال کون کب کہاں" از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔۔
🌍مہدویات🌍
قسط۔ 6
*دم مست قلندر:
*گزشتہ سے پیوستہ
دوسری وجہ یہ کہ دجال کو غیر معمولی سائنسی طاقتیں حاصل ہوں گی۔ مغرب میں مصروف کار تمام دنیا کے ذہین ترین دماغ جو کچھ ایجاد کرر ہے ہیں، یہ دراصل دجال کےظہور کے لیے میدان ہموار کر رہے ہیں ۔ یہ اپنی ساری ٹیکنالوجی اس کے دامن میں ایسے ہی ڈال دیں گے جیسے کہ اہل حق میں سے خوش نصیب لوگ حضرت مہدی کا ظہور اور حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہونے پر اپنا سب کچھ ان کے پلڑے میں ڈال دیں گے۔امریکااور دنیا بھر سے کھنچ کر امریکا آئے ہوئے ذہین دماغوں کی ایجادات کہاں تک جا پہنچیں گی؟ اس کا اندازہ حضور پاک ﷺ کی ان احادیث سے لگایا جا سکتا ہے جس میں سائنس کے بل بوتے پر دجال کی غیر معمولی ,,شعبده بازیاں،، بیان کی گئی ہیں ۔
ایک تازه ترین ایجاد سن لیجیے۔ ,,برمودا ٹرائی اینگل،، نامی مقناطیس تکون میں جو لہریں کارفرما ہیں انہیں محفوظ کرلیا گیا ہے۔ ان کو اگر کسی انسان، جہاز یا کسی بھی دیوہیکل چیز پرڈالا جائے تو وہ ویسےہی غائب ہو جائے گی جیسے برمودا کے تکون میں سالم ہوائی اور بحری جہاز غائب ہوجاتے ہیں۔ یہ چیز حاصل ہونے کے بعد محفوظ ہو چکی ہے۔ عنقریب جب حالات کی بھٹی میں جنگ کی آگ مزید گرم ہوگی تو اس ایجاد کا استعمال مادہ پرستوں کی آنکھوں کو خیرہ کر ڈالے گا اور وہ ارضی خداوؤں کی جھوٹی خدائی کے پہلے سے زیادہ قائل ہو جائیں گے جبکہ خدامست ملنگوں کو اس کی ویسی ہی پروا نہ ہوگی جیسا کہ سابقہ حدیث میں بیان ہوا ہے اور جیسا کہ آج دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ دجال اعظم کو حاصل اس طرح کی غیر معمولی سائنسی قوتوں کے مقابلے کے لیے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو غیر معمولی معجزانہ قوتیں دی گئی ہیں۔
جب حضرت مہدی کی یورپی عیسائیوں سے جنگ ہوگی اس میں حضرت کے ساتھ بارہ ہزار کے قریب مجاہد ہوں گے۔
,,بارہ ہزار کی تعداد کو کمی کی بنا پر شکست نہیں دی جاسکتی۔،،(حدیث شریف)
دوسری طرف متحدہ یورپی فوج میں نو لاکھ ساٹھ ہزار کا ٹڈی دل ہوگا ۔ بارہ جھنڈے ہوں گے اور ہر جنڈے کے نیچے اسی ہزار سورما ہوں گے۔ (9,6000=12×80000 )۔
یہ لوگ یورپ کے دروازہ قسطنطنیہ (استنبول) سے گزرکر شام کی سرزمین پر آئے ہوئے ہوں گے۔ گویا ظاہر میں دونوں فریقوں میں کوئی جوڑ ہی نہ ہوگا ۔اس پر ,,یورپین کولیشن،،حضرت مہدی اور ان کے رفقا پر رحم کھا کر ایک پیش کش کرے گی۔ ایک آسان سا مطالبہ ر کھے گی کہ یہ پورا کردو، ہم واپس چلے جاتے ہیں۔ تم صرف اتنا کرو: ,,تم نے ہمارے جو آدمی قید کیےتھے اور وہ ہمارا مذہب چھوڑ کر تمہارا مدہب اپنا چکے ہیں ، اب تمہارے ساتھ مل کر ہم سےلڑنے کے لیے آئے ہیں ، تم ہمارے اور ان کے درمیان سے ہٹ جاؤ، ہم صرف ان سے لڑنے کے لیے آئے ہیں ۔ تم سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔،،
آپ نے غور فرمایا: چند گوری چمڑی والے یورپی جنگی قیدی مسلمانوں کا حسن سلوک دیکھ کر مسلمان ہو چکے ہیں ۔ وہ آبائی مسلمان نہیں، نومسلم ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے جادوگروں کی طرح ان کا ایمان اتنا کامل ہو چکا ہے کہ بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ شامل ہو کر ساڑھے نو لاکھ سے ٹکرانے کے لیے تیار ہیں ۔ ان چند نومسلم افراد کی حوالگی پر دنیا کی ترقی یافتہ ترین متحد ہ قوتوں کا لشکر واپس جانے پر تیار ہے اور چند ہزار ٹوٹے پھوٹے مجاہدین کی جاں بخشی اس سے مشروط ہے جنہیں موت سامنے نظر آرہی ہے......لیکن ان چند کامل الایمان جہادیوں کا جواب سنیے:
,,اللہ کی قسم! ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔ وہ اسلام قبول کر کے ہمارے بھائی بن چکے ہیں۔ ہم انہیں کسی صورت میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔،،
اللہ اکبر! بتایئے یہ جرات اس وقت روئے زمین پر موجود کس طبقے میں ہے؟ کون ہے جو ایک سپر پاور نہیں، تمام سپر پاورز، تمام پارٹنرز ، تمام نان پارٹنرز کو ٹکا سا جواب د ے سکتے ہیں کہ ملک جاتا ہے تو جائے، حکومت چھنتی ہے تو سو بار چھنے، ہم کسی مسلمان کو کفار کے حوالے کرنے کی بے غیرتی کبھی نہیں کر سکتے ۔ وہ اور ہوں گے جو چند ڈالروں کے عوض ابل بیت کو بیچتے ہیں اور پھر ماں کی گالی کھاتے ہیں ۔
بتایئے! پہچان میں کوئی مشکل رہ گئی ہے؟ کوئی سمجھ کر بھی نہ سمجھے تو اس کی مرضی ورنہ کوئی حجاب، کوئی رکاوٹ کوئی حائل نہیں۔
,,جب تم دیکھو کہ خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے نکل آئے تو اس لشکر میں شامل ہو جاؤ، چاہے تمہیں اس کے لیے برف پر گھسٹ کر ( کرالنگ کر کے ) کیوں نہ جانا پڑے، کہ اس لشکر میں اللہ کے آخری خلیفہ مہدی ہوں گے۔،
ماخوذ.دجال کون کب کہاں" از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔
قسط۔ 6
*دم مست قلندر:
*گزشتہ سے پیوستہ
دوسری وجہ یہ کہ دجال کو غیر معمولی سائنسی طاقتیں حاصل ہوں گی۔ مغرب میں مصروف کار تمام دنیا کے ذہین ترین دماغ جو کچھ ایجاد کرر ہے ہیں، یہ دراصل دجال کےظہور کے لیے میدان ہموار کر رہے ہیں ۔ یہ اپنی ساری ٹیکنالوجی اس کے دامن میں ایسے ہی ڈال دیں گے جیسے کہ اہل حق میں سے خوش نصیب لوگ حضرت مہدی کا ظہور اور حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہونے پر اپنا سب کچھ ان کے پلڑے میں ڈال دیں گے۔امریکااور دنیا بھر سے کھنچ کر امریکا آئے ہوئے ذہین دماغوں کی ایجادات کہاں تک جا پہنچیں گی؟ اس کا اندازہ حضور پاک ﷺ کی ان احادیث سے لگایا جا سکتا ہے جس میں سائنس کے بل بوتے پر دجال کی غیر معمولی ,,شعبده بازیاں،، بیان کی گئی ہیں ۔
ایک تازه ترین ایجاد سن لیجیے۔ ,,برمودا ٹرائی اینگل،، نامی مقناطیس تکون میں جو لہریں کارفرما ہیں انہیں محفوظ کرلیا گیا ہے۔ ان کو اگر کسی انسان، جہاز یا کسی بھی دیوہیکل چیز پرڈالا جائے تو وہ ویسےہی غائب ہو جائے گی جیسے برمودا کے تکون میں سالم ہوائی اور بحری جہاز غائب ہوجاتے ہیں۔ یہ چیز حاصل ہونے کے بعد محفوظ ہو چکی ہے۔ عنقریب جب حالات کی بھٹی میں جنگ کی آگ مزید گرم ہوگی تو اس ایجاد کا استعمال مادہ پرستوں کی آنکھوں کو خیرہ کر ڈالے گا اور وہ ارضی خداوؤں کی جھوٹی خدائی کے پہلے سے زیادہ قائل ہو جائیں گے جبکہ خدامست ملنگوں کو اس کی ویسی ہی پروا نہ ہوگی جیسا کہ سابقہ حدیث میں بیان ہوا ہے اور جیسا کہ آج دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ دجال اعظم کو حاصل اس طرح کی غیر معمولی سائنسی قوتوں کے مقابلے کے لیے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو غیر معمولی معجزانہ قوتیں دی گئی ہیں۔
جب حضرت مہدی کی یورپی عیسائیوں سے جنگ ہوگی اس میں حضرت کے ساتھ بارہ ہزار کے قریب مجاہد ہوں گے۔
,,بارہ ہزار کی تعداد کو کمی کی بنا پر شکست نہیں دی جاسکتی۔،،(حدیث شریف)
دوسری طرف متحدہ یورپی فوج میں نو لاکھ ساٹھ ہزار کا ٹڈی دل ہوگا ۔ بارہ جھنڈے ہوں گے اور ہر جنڈے کے نیچے اسی ہزار سورما ہوں گے۔ (9,6000=12×80000 )۔
یہ لوگ یورپ کے دروازہ قسطنطنیہ (استنبول) سے گزرکر شام کی سرزمین پر آئے ہوئے ہوں گے۔ گویا ظاہر میں دونوں فریقوں میں کوئی جوڑ ہی نہ ہوگا ۔اس پر ,,یورپین کولیشن،،حضرت مہدی اور ان کے رفقا پر رحم کھا کر ایک پیش کش کرے گی۔ ایک آسان سا مطالبہ ر کھے گی کہ یہ پورا کردو، ہم واپس چلے جاتے ہیں۔ تم صرف اتنا کرو: ,,تم نے ہمارے جو آدمی قید کیےتھے اور وہ ہمارا مذہب چھوڑ کر تمہارا مدہب اپنا چکے ہیں ، اب تمہارے ساتھ مل کر ہم سےلڑنے کے لیے آئے ہیں ، تم ہمارے اور ان کے درمیان سے ہٹ جاؤ، ہم صرف ان سے لڑنے کے لیے آئے ہیں ۔ تم سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔،،
آپ نے غور فرمایا: چند گوری چمڑی والے یورپی جنگی قیدی مسلمانوں کا حسن سلوک دیکھ کر مسلمان ہو چکے ہیں ۔ وہ آبائی مسلمان نہیں، نومسلم ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے جادوگروں کی طرح ان کا ایمان اتنا کامل ہو چکا ہے کہ بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ شامل ہو کر ساڑھے نو لاکھ سے ٹکرانے کے لیے تیار ہیں ۔ ان چند نومسلم افراد کی حوالگی پر دنیا کی ترقی یافتہ ترین متحد ہ قوتوں کا لشکر واپس جانے پر تیار ہے اور چند ہزار ٹوٹے پھوٹے مجاہدین کی جاں بخشی اس سے مشروط ہے جنہیں موت سامنے نظر آرہی ہے......لیکن ان چند کامل الایمان جہادیوں کا جواب سنیے:
,,اللہ کی قسم! ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔ وہ اسلام قبول کر کے ہمارے بھائی بن چکے ہیں۔ ہم انہیں کسی صورت میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔،،
اللہ اکبر! بتایئے یہ جرات اس وقت روئے زمین پر موجود کس طبقے میں ہے؟ کون ہے جو ایک سپر پاور نہیں، تمام سپر پاورز، تمام پارٹنرز ، تمام نان پارٹنرز کو ٹکا سا جواب د ے سکتے ہیں کہ ملک جاتا ہے تو جائے، حکومت چھنتی ہے تو سو بار چھنے، ہم کسی مسلمان کو کفار کے حوالے کرنے کی بے غیرتی کبھی نہیں کر سکتے ۔ وہ اور ہوں گے جو چند ڈالروں کے عوض ابل بیت کو بیچتے ہیں اور پھر ماں کی گالی کھاتے ہیں ۔
بتایئے! پہچان میں کوئی مشکل رہ گئی ہے؟ کوئی سمجھ کر بھی نہ سمجھے تو اس کی مرضی ورنہ کوئی حجاب، کوئی رکاوٹ کوئی حائل نہیں۔
,,جب تم دیکھو کہ خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے نکل آئے تو اس لشکر میں شامل ہو جاؤ، چاہے تمہیں اس کے لیے برف پر گھسٹ کر ( کرالنگ کر کے ) کیوں نہ جانا پڑے، کہ اس لشکر میں اللہ کے آخری خلیفہ مہدی ہوں گے۔،
ماخوذ.دجال کون کب کہاں" از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔
🌍مہدویات🌍
قسط۔7
*دم مست قلندر:
*گزشتہ سے پیوستہ
یہاں پہنچ کر پہلا سوال کافی حد تک حل ہو چکا ہے۔ غائبانہ تعارف سے حاضرانہ تعارف تک کا مسلہ کافی سنسنی خیز ہوتا ہے۔ اس میں بہت لوگ یا تو نہایت جلدی کرتے ہیں اور جھوٹے مدعیوں کو سچا سمجھنے لگتے ہیں (ایک جھوٹے مدعی شہباز کاذب کی حال ہی میں گرفتاری کے بعد فیصل آبادسینٹرل جیل میں اس کے چیلوں نے پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہونے پرٹھکائی لگائی ہے) اور کچھ لوگ اس کے نہایت دور دراز اور طویل المیعاد ہونے کے قائل ہیں۔ دراصل صحیح تعیین تو ممکن ہی نہیں، نہ اس مسئلے کی نہ اس جیسے دیگر مسائل کی لیکن مکمل ابہام بھی قابل قدر روش نہیں۔ حتمی انجام اور حتمی تعیین کے درمیان کا راستہ محتاط اور محفوظ رویہ ہے۔ حدیث شریف میں ایک اور جملہ کی کچھ وضاحت کے بعد ہم آگے چلیں گے۔ فرمان نبوی(ﷺ) ہے:,, نزول عیسیٰ (علیہ السلام) تک اس زمین میں ایک جماعت حق کے لیے برسر پیکار رہے گی جو اپنے مخالفین کی پروا نہ کرے گی۔،،
اس میں جماعت حق کی دو مخصوص صفات بیان کی گئی ہیں: (1) جہاد اور مسلسل جہاد۔ (2) مخالفین کی پروا نہ کرتا۔ آج کون سی سرزمین ہے جہاں جہاد نامی فریضہ مٹ جانے کے بعد زندہ ہوا اور مسلسل زندہ ہے۔ دنیا میں جہاد کی کوئی قسم نہ ہوگی جو یہاں نہ لڑی گئی ہو ۔ منکرین، ملحد ین، باغیین ، مرتدین اور اب متحدہ کافرین کے خلاف غرض یکہ ہر نوع کا جہاد یہاں ہوا اور ہورہا ہے۔ مخالفین کی پروا نہ کرنا (قراری داہش شی نشتہ: سب ٹھیک ہے۔ کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں) یہ کس کا تکیہ کلام اورمخصوص مزاج ہے؟ نیوز ویک کی تازہ رپورٹ ہے:
,,طالبان جس قسم کی RESILIENCE اور FEROCITY کا مظاہرہ کررہے ہیں، اس سے واشنگٹن اور نیٹو تنظیم کے دوسرے دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئی ہیں اور SOUL SEARCHING کا ایک نیا دور جنم لے رہا ہے کہ ایک نسبتاً RAGTAG بغاوت نے کس طرح دنیا کی طاقتور ترین افواج کو اپنے قریب تک آنے سے روکا ہواہے۔،،
سبحان الله! ایک طرف ایک ایسی بکھری ہوئی منتشر اور ٹوٹی پھوٹی بے وسائل جماعت ہے جن کا اپنا ملک بھی اس کے خلاف ہے۔ دوسری طرف 43 ایسے ممالک ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی دنیا کے کسی ملک کو دھمکی دے تو اس کے اوسان خطا ہو جائیں......لیکن نتیجہ کیا ہے؟ جو آج سے سات آٹھ سال پہلے تھا کہ فضائی حملوں سے ابتدا ہوکر واپس فضائی حملوں پر بات چلی گئی ہے۔ قریب آنا تو دور کی بات ہے، زمین پر آنے کی جرات کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ 43 ممالک ,,ایساف،، میں شامل ملکوں کو اچھی طرح گننے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ مادی طاقت کے لحاظ سے تو امریکا اکیلا ہی کافی تھا۔ کسی کو گھر بیٹھے آنکھیں ہی دکھادے تو اس کا کام ہو جاتا ہے۔ فون کر دے تو کندھے کے بیج ہی بھول جاتے ہیں ۔ اس سے اکیلے بن نہ پڑاتو ,,اجمعوا امرکم و شر کائکم،، کے تحت اس نے نیٹو کو پکارا۔ 26 ممالک دوڑے چلے آئے۔ جبکہ دنیا فتح کرنے کے لیے ان میں سے دس بھی کافی تھے......لیکن بات پھر بھی نہ بنی۔ غیرمنظم اور غیر تربیت یافتہ جنگجو پھر بھی بھاری پڑنے لگے تو نان نیٹو ممالک کو ملا لیا گیا۔ دس مزید پارٹنرز کے آنے سے بات 36 تک جا پہنچی۔ اب تو زمین کے علاوہ کسی اور سیارے کو روندتا بھی ممکن تھا....... لیکن معلوم ہوا کہ افغان قوم جب سے مسلمان ہوئی، چیزے دیگر است۔ چنانچہ سات کے قریب نان نیٹ اور نان پارٹنربھی آپہنچے۔ ان میں,,بی مینڈ کی کو بھی زکام ہوا،، کے مصداق سنگا پور جیسے ناک کے چپٹے بھی شامل ہیں اور نیوزی لینڈ جیسے دور دراز واقع جن کا طالبان سے کوئی سروکار نہیں بھی موجود ہیں ۔ ان 43 ممالک کے بعد خود اپنا ملک افغانستان بھی خلاف ہے ۔ حضرت طالوت کےقلیل لشکر کا جالوت کے متحد لشکر سے مقابلے کے بعد، بدر اور احزاب کے بعد، ایوبی کی صلیبی جنگوں کے بعد، کیا انسانی تاریخ میں کسی نے ایسا منظر دیکھا ہوگا کہ ایک طرف تو 44 ممالک اور دوسری طرف کوئی ملک نہیں، فوج نہیں منظم طاقت نہیں ، بکھری ہوئی ,,لاہوت لا مکان،، میں رہنے والی جماعت جس کا کوئی فردسرعام اپنی شناخت بھی نہیں کرواسکتا....... لیکن اس کی خوداعتمادی کا حال یہ ہے کہ پوری دنیا کی خوفناک ترین عسکری طاقتوں کی اسے ذرا برابر پرواہ نہیں۔ ,,دم مست قلند،، کا نعرہ لگاتے تو بہت سے لوگ ہیں لیکن نبھایا اسے کسی کسی نے ہی ہے۔
ماخوذ : دجال کون کب کہاں "
از : مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
قسط۔7
*دم مست قلندر:
*گزشتہ سے پیوستہ
یہاں پہنچ کر پہلا سوال کافی حد تک حل ہو چکا ہے۔ غائبانہ تعارف سے حاضرانہ تعارف تک کا مسلہ کافی سنسنی خیز ہوتا ہے۔ اس میں بہت لوگ یا تو نہایت جلدی کرتے ہیں اور جھوٹے مدعیوں کو سچا سمجھنے لگتے ہیں (ایک جھوٹے مدعی شہباز کاذب کی حال ہی میں گرفتاری کے بعد فیصل آبادسینٹرل جیل میں اس کے چیلوں نے پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہونے پرٹھکائی لگائی ہے) اور کچھ لوگ اس کے نہایت دور دراز اور طویل المیعاد ہونے کے قائل ہیں۔ دراصل صحیح تعیین تو ممکن ہی نہیں، نہ اس مسئلے کی نہ اس جیسے دیگر مسائل کی لیکن مکمل ابہام بھی قابل قدر روش نہیں۔ حتمی انجام اور حتمی تعیین کے درمیان کا راستہ محتاط اور محفوظ رویہ ہے۔ حدیث شریف میں ایک اور جملہ کی کچھ وضاحت کے بعد ہم آگے چلیں گے۔ فرمان نبوی(ﷺ) ہے:,, نزول عیسیٰ (علیہ السلام) تک اس زمین میں ایک جماعت حق کے لیے برسر پیکار رہے گی جو اپنے مخالفین کی پروا نہ کرے گی۔،،
اس میں جماعت حق کی دو مخصوص صفات بیان کی گئی ہیں: (1) جہاد اور مسلسل جہاد۔ (2) مخالفین کی پروا نہ کرتا۔ آج کون سی سرزمین ہے جہاں جہاد نامی فریضہ مٹ جانے کے بعد زندہ ہوا اور مسلسل زندہ ہے۔ دنیا میں جہاد کی کوئی قسم نہ ہوگی جو یہاں نہ لڑی گئی ہو ۔ منکرین، ملحد ین، باغیین ، مرتدین اور اب متحدہ کافرین کے خلاف غرض یکہ ہر نوع کا جہاد یہاں ہوا اور ہورہا ہے۔ مخالفین کی پروا نہ کرنا (قراری داہش شی نشتہ: سب ٹھیک ہے۔ کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں) یہ کس کا تکیہ کلام اورمخصوص مزاج ہے؟ نیوز ویک کی تازہ رپورٹ ہے:
,,طالبان جس قسم کی RESILIENCE اور FEROCITY کا مظاہرہ کررہے ہیں، اس سے واشنگٹن اور نیٹو تنظیم کے دوسرے دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئی ہیں اور SOUL SEARCHING کا ایک نیا دور جنم لے رہا ہے کہ ایک نسبتاً RAGTAG بغاوت نے کس طرح دنیا کی طاقتور ترین افواج کو اپنے قریب تک آنے سے روکا ہواہے۔،،
سبحان الله! ایک طرف ایک ایسی بکھری ہوئی منتشر اور ٹوٹی پھوٹی بے وسائل جماعت ہے جن کا اپنا ملک بھی اس کے خلاف ہے۔ دوسری طرف 43 ایسے ممالک ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی دنیا کے کسی ملک کو دھمکی دے تو اس کے اوسان خطا ہو جائیں......لیکن نتیجہ کیا ہے؟ جو آج سے سات آٹھ سال پہلے تھا کہ فضائی حملوں سے ابتدا ہوکر واپس فضائی حملوں پر بات چلی گئی ہے۔ قریب آنا تو دور کی بات ہے، زمین پر آنے کی جرات کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ 43 ممالک ,,ایساف،، میں شامل ملکوں کو اچھی طرح گننے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ مادی طاقت کے لحاظ سے تو امریکا اکیلا ہی کافی تھا۔ کسی کو گھر بیٹھے آنکھیں ہی دکھادے تو اس کا کام ہو جاتا ہے۔ فون کر دے تو کندھے کے بیج ہی بھول جاتے ہیں ۔ اس سے اکیلے بن نہ پڑاتو ,,اجمعوا امرکم و شر کائکم،، کے تحت اس نے نیٹو کو پکارا۔ 26 ممالک دوڑے چلے آئے۔ جبکہ دنیا فتح کرنے کے لیے ان میں سے دس بھی کافی تھے......لیکن بات پھر بھی نہ بنی۔ غیرمنظم اور غیر تربیت یافتہ جنگجو پھر بھی بھاری پڑنے لگے تو نان نیٹو ممالک کو ملا لیا گیا۔ دس مزید پارٹنرز کے آنے سے بات 36 تک جا پہنچی۔ اب تو زمین کے علاوہ کسی اور سیارے کو روندتا بھی ممکن تھا....... لیکن معلوم ہوا کہ افغان قوم جب سے مسلمان ہوئی، چیزے دیگر است۔ چنانچہ سات کے قریب نان نیٹ اور نان پارٹنربھی آپہنچے۔ ان میں,,بی مینڈ کی کو بھی زکام ہوا،، کے مصداق سنگا پور جیسے ناک کے چپٹے بھی شامل ہیں اور نیوزی لینڈ جیسے دور دراز واقع جن کا طالبان سے کوئی سروکار نہیں بھی موجود ہیں ۔ ان 43 ممالک کے بعد خود اپنا ملک افغانستان بھی خلاف ہے ۔ حضرت طالوت کےقلیل لشکر کا جالوت کے متحد لشکر سے مقابلے کے بعد، بدر اور احزاب کے بعد، ایوبی کی صلیبی جنگوں کے بعد، کیا انسانی تاریخ میں کسی نے ایسا منظر دیکھا ہوگا کہ ایک طرف تو 44 ممالک اور دوسری طرف کوئی ملک نہیں، فوج نہیں منظم طاقت نہیں ، بکھری ہوئی ,,لاہوت لا مکان،، میں رہنے والی جماعت جس کا کوئی فردسرعام اپنی شناخت بھی نہیں کرواسکتا....... لیکن اس کی خوداعتمادی کا حال یہ ہے کہ پوری دنیا کی خوفناک ترین عسکری طاقتوں کی اسے ذرا برابر پرواہ نہیں۔ ,,دم مست قلند،، کا نعرہ لگاتے تو بہت سے لوگ ہیں لیکن نبھایا اسے کسی کسی نے ہی ہے۔
ماخوذ : دجال کون کب کہاں "
از : مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
🌍مہدویات 🌍
قسط۔ 8
*کامیابی_کا_راز
*دوسرا_سوال:
*حضرت_مہدی_کی_جدوجہدکیا_ہوگی_اورکس_طرح_ہوگی؟
حضرت مہدی کے متعلق دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ ظہور کے بعد ان کے جد و جہد کی نوعیت کیا ہوگی اور جو کچھ کریں گے وہ ان کے لیے کیونکر ممکن ہو گا؟ بیعت جہاد کے بعد قیام خلافت تک انہیں دنیا بھر کی ترقی یافتہ ترین طاقتوں سے جس قیامت خیز معرکہ آرائی کا سامنا ہوگا، اس کی گرمی سے وہ کیونکر سرخرو ہوکر نکلیں گے؟ جبکہ آج کی دنیا میں سیاسی، فکری، معاشی، عسکری غرض ہر سطح پر طاغوتی طاقتیں ناقابل شکست طور پر غالب نظر آرہی ہیں۔ زمین پر اور سمندروں میں ان کی حکمرانی ہے۔ فضا اور خلا میں ان کی برتری کا شور ہے۔ بظاہر ایسی کوئی صورت مستقبل قریب میں دور دور تک نظر نہیں آتی کہ مسلمان اس غلبے کے طلسم کو توڑسکیں گے؟ ایک ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا بجٹ کئی مسلم ملکوں سے زیادہ ہے ۔ ایک ایک تھنک ٹینک ایسا ہے کہ اکیلا ہی مغرب کو سو سال کی منصوبہ بندی کر کے دے رہا ہے۔ اتحاد بھی ان میں ایسا ہے کہ امریکا اور روس آپس میں روایتی دشمنی اور بُعد المشر قین کا عملی مصداق ہوتےہوئے بھی........ مخالفت میں بغیر کسی کی ترغیب کے خود بخود فطرتاً اکٹھے ہو جاتے ہیں۔پھردوسروں کا تو کہنا ہی کیا، ان کا اتحاد و وجود میں ہی ,,دہشت گردی،، کے خاتمے اور ,,عالمی حکومت،، کے قیام کے لیے آیا ہے۔ دنیا بھر کی معیاری تر ین یو نیورسٹیاں مغرب میں ہیں۔ امریکا میں 5758 یونیورسٹیاں ہیں ۔ جبکہ پوری مسلم دنیا کے 57 ملکوں میں یونیورسٹیوں کی مجموعی تعداد صرف 500 ہے اور پورے عالم اسلام میں ایک بھی یونیورسٹی ایسی نہیں جسے دنیا کی ٹاپ 500 یو نیورسٹیوں میں شمار کیا جا سکتا ہو۔ مغربی حکومتیں پوری مسلم دنیا کے ذہین ترین دماغوں اور اعلی ترین ہنرمندوں کو پرکشش مراعات کے عوض کھینچ کر اپنی طلسم میں جکڑ لیتی ہیں اور پھر وہ ہمیشہ وہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے ہاتھ فقط نااہل، مفادپرست اور حب الوطنی سے عاری کچرا مال ہی موجودہ بیوروکریسی کی شکل میں باقی رہ جاتا ہے۔ مسلمانوں میں نظم وضبط، تعلیم وتربیت، اعلی اخلاقیات، بلند نظری، اجتماعیت، صبر وتقوی....... غرضیکہ ہر وہ چیز جو کسی انسانی گروہ قوم اور فتح گر کو فاتح بناتی ہے، ہر اس چیز کی ایک ایک کر کے کمی پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی ذہانت کا لو ہا تو آج بھی دنیا مانتی ہے مگر یہی ذہانت اور بے مثال صلاحیت مغرب کے آنگن میں روشنی پھیلانے کے علاوہ کسی کام آکے نہیں دے رہی ؟؟؟ جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے، ہرصبح مغرب کی کسی نئی انوکھی ترقی کی نوید اور ہر شام مسلمانوں کی مزید بدحالی کی خبریں لا رہی ہے۔ اس صورت حال میں کیا ہم تسلیم کر لیں کہ حضرت مہدی کی ,,ماوراء الفطرت،، قوت کے مالک ہوں گے کہ ان تمام مادی قوتوں کو طبعی قوانین سے ہٹ کر شکست دینا ان کے لیے ممکن ہوگا؟ کیا خلاف عادت ظاہر ہونے والی کرامتوں سے وہ ان تمام سائنسی ایجادات کو پامال کر ڈالیں گے جن کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں مل رہی یا اس میں ان کی اور ان کے ساتھیوں کی فکری، عملی اور عسکری جد و جہد کا عمل دخل بھی ہوگا؟ اور اگر ہوگا تو اچانک یہ کایا کیسے پلٹ جائے گی کہ مغرب کے حق میں رخ کر کے چلنے والی ہوا ئیں مشرق کے مظلوموں کے لیے داد رسی کی نوید بن جائیں گی ؟؟؟ ۔
ماخوذ: دجال کون کب کہاں"
از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
قسط۔ 8
*کامیابی_کا_راز
*دوسرا_سوال:
*حضرت_مہدی_کی_جدوجہدکیا_ہوگی_اورکس_طرح_ہوگی؟
حضرت مہدی کے متعلق دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ ظہور کے بعد ان کے جد و جہد کی نوعیت کیا ہوگی اور جو کچھ کریں گے وہ ان کے لیے کیونکر ممکن ہو گا؟ بیعت جہاد کے بعد قیام خلافت تک انہیں دنیا بھر کی ترقی یافتہ ترین طاقتوں سے جس قیامت خیز معرکہ آرائی کا سامنا ہوگا، اس کی گرمی سے وہ کیونکر سرخرو ہوکر نکلیں گے؟ جبکہ آج کی دنیا میں سیاسی، فکری، معاشی، عسکری غرض ہر سطح پر طاغوتی طاقتیں ناقابل شکست طور پر غالب نظر آرہی ہیں۔ زمین پر اور سمندروں میں ان کی حکمرانی ہے۔ فضا اور خلا میں ان کی برتری کا شور ہے۔ بظاہر ایسی کوئی صورت مستقبل قریب میں دور دور تک نظر نہیں آتی کہ مسلمان اس غلبے کے طلسم کو توڑسکیں گے؟ ایک ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا بجٹ کئی مسلم ملکوں سے زیادہ ہے ۔ ایک ایک تھنک ٹینک ایسا ہے کہ اکیلا ہی مغرب کو سو سال کی منصوبہ بندی کر کے دے رہا ہے۔ اتحاد بھی ان میں ایسا ہے کہ امریکا اور روس آپس میں روایتی دشمنی اور بُعد المشر قین کا عملی مصداق ہوتےہوئے بھی........ مخالفت میں بغیر کسی کی ترغیب کے خود بخود فطرتاً اکٹھے ہو جاتے ہیں۔پھردوسروں کا تو کہنا ہی کیا، ان کا اتحاد و وجود میں ہی ,,دہشت گردی،، کے خاتمے اور ,,عالمی حکومت،، کے قیام کے لیے آیا ہے۔ دنیا بھر کی معیاری تر ین یو نیورسٹیاں مغرب میں ہیں۔ امریکا میں 5758 یونیورسٹیاں ہیں ۔ جبکہ پوری مسلم دنیا کے 57 ملکوں میں یونیورسٹیوں کی مجموعی تعداد صرف 500 ہے اور پورے عالم اسلام میں ایک بھی یونیورسٹی ایسی نہیں جسے دنیا کی ٹاپ 500 یو نیورسٹیوں میں شمار کیا جا سکتا ہو۔ مغربی حکومتیں پوری مسلم دنیا کے ذہین ترین دماغوں اور اعلی ترین ہنرمندوں کو پرکشش مراعات کے عوض کھینچ کر اپنی طلسم میں جکڑ لیتی ہیں اور پھر وہ ہمیشہ وہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے ہاتھ فقط نااہل، مفادپرست اور حب الوطنی سے عاری کچرا مال ہی موجودہ بیوروکریسی کی شکل میں باقی رہ جاتا ہے۔ مسلمانوں میں نظم وضبط، تعلیم وتربیت، اعلی اخلاقیات، بلند نظری، اجتماعیت، صبر وتقوی....... غرضیکہ ہر وہ چیز جو کسی انسانی گروہ قوم اور فتح گر کو فاتح بناتی ہے، ہر اس چیز کی ایک ایک کر کے کمی پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی ذہانت کا لو ہا تو آج بھی دنیا مانتی ہے مگر یہی ذہانت اور بے مثال صلاحیت مغرب کے آنگن میں روشنی پھیلانے کے علاوہ کسی کام آکے نہیں دے رہی ؟؟؟ جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے، ہرصبح مغرب کی کسی نئی انوکھی ترقی کی نوید اور ہر شام مسلمانوں کی مزید بدحالی کی خبریں لا رہی ہے۔ اس صورت حال میں کیا ہم تسلیم کر لیں کہ حضرت مہدی کی ,,ماوراء الفطرت،، قوت کے مالک ہوں گے کہ ان تمام مادی قوتوں کو طبعی قوانین سے ہٹ کر شکست دینا ان کے لیے ممکن ہوگا؟ کیا خلاف عادت ظاہر ہونے والی کرامتوں سے وہ ان تمام سائنسی ایجادات کو پامال کر ڈالیں گے جن کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں مل رہی یا اس میں ان کی اور ان کے ساتھیوں کی فکری، عملی اور عسکری جد و جہد کا عمل دخل بھی ہوگا؟ اور اگر ہوگا تو اچانک یہ کایا کیسے پلٹ جائے گی کہ مغرب کے حق میں رخ کر کے چلنے والی ہوا ئیں مشرق کے مظلوموں کے لیے داد رسی کی نوید بن جائیں گی ؟؟؟ ۔
ماخوذ: دجال کون کب کہاں"
از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
🌍مہدویات🌍
قسط ۔ 9
* کامیابی کا راز :
* گزشتہ سے پیوستہ
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دنیائے کفر کے اس فتنہ خیز غلبے کا تو حضرت مہدی کی بے لوث اور اہل قیادت اور مسلمانوں کی بکھری ہوئی صلاحیت اور منتشر جدوجہد دونوں مل کر کریں گی۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت مہدی کے ہاتھ پراللہ تعالی محیرالعقول کرامات کو بھی ظاہر فرمائے گا لیکن ان کی جو سب سے بڑی کرامت ہوگی وہ یہ کہ جب وہ اپنے ساتھیوں کو گناہوں سے سچی توبہ کروا کر مٹی ہوئی سنتوں کو زندہ کر یں گے تو اس کی برکت سے ان کے تمام ساتھیوں کو یکسوئی اور یک فکری نصیب ہو جائے گی ۔ ان سب کی سوچ ایک، فکر ہی نہیں، انداز فکر بھی ایک اور طرزعمل بھی ایک ہو گا۔ ان کے دل سے حسد وبغض، کینہ و عناد نکل جائے گا۔ باہمی اختلافات اور امیر کی نافرمانی کی نحوست سے آزاد ہو جائیں گے۔ وہ جینے مرنے میں حضرت مہدی کی کامل اطاعت کریں گے اور موت کو سامنے دیکھ کربھی منہ نہیں موڑیں گے۔ موت سے مرادطبعی موت ہی نہیں ہوتی طبیعت کی موت بھی ہوتی ہے یعنی آج کل بہت سے لوگ قربانیاں دے رہے ہیں۔ موت کو خوشی خوشی گلے لگا رہے ہیں لیکن بات جب نفس کی موت کی آتی ہے تو وہ اس پرویسا غلبہ نہیں پا سکتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اطاعت کرتے ہوئے اس نبوی تر بیت کا مثالی مظاہرہ کیا تھا۔ حضرت مہدی کی بے نفسی اور اجتماعی مقصد کے حصول کی لگن اور اس لگن میں فنائیت اس قدر واضح ہوگی کہ تمام روئے ارض کے صالح مسلمان اپنے آپ کو مٹا کر اپناسب کچھ ان کو سونپ دیں گے اور ان پر ویسا اعتماد کر یں گے جیسا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی پراس دور کے مسلمانوں نے کیا تھا۔ تاریخ کے طلبہ پر یہ بات مخفی نہیں ہونی چاہیے کہ پورے یورپ کی صلیبی افواج کے اتحاد کے مقابلے میں سلطان کی اپنی فوج ( مصر و شام کی فوج) کچھ اتنی زیادہ نہ تھی البتہ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مجاہد قبائل جب ان کو دیکھتے کہ وہ میدان جنگ میں گھوڑے پر سوار ایک جانب سے دوسری جانب تک یوں چکر لگارہے ہیں جیسے اکلوتے بچے کی ماں اس کی تلاش میں بولائی بولائی پھرتی ہے۔ آنکھوں میں آنسو ہیں اور زبان پر ایک ہی نعرہ ہے: ,,يا للإسلام، يا للإسلام،، ,,اے مسلمانو! اسلام کی مددکرو۔ اے مسلمانو! اسلام کی خبر لو۔،، تو یہ قبائل جو اپنی عصبیت، سرکشی اور انفرادی مزاج میں مشہور تھے، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سلطان کے ساتھ جینے مرنے کا عہد کر لیتے تھے اور تاریخ گواہ ہے کہ سلطان کے پاس خرچ نہ ہوتا تو اپنے خرچ پر، اپنے اسلحے سے، اپنے ہی
جان سے میدان میں ڈ ٹے رہتے تھے اور سلطان کا ساتھ چھوڑ کر جانے کو کفر و ارتداد سے زیادہ سخت عار والی بات سمجھتے تھے۔ ان کو یقین تھا کہ اگر شکست ہوئی تو سلطان ان کو چھوڑ کر بھاگے کا نہیں اور اگر فتح ہوئی تو اس کے فوائد سلطان خود ہر گز نہیں سمیٹے گا بلکہ یہ سارے ثمرات نتائج اسلام کی جھولی میں جائیں گے۔ اگر آج کی قیادت اپنے کارکنوں کو یہ یقین دلا دے تو خدا کی قسم! کایا پلٹنے میں اتنے ہی دن لگیں گے جتنے قائد کو اپنی نفسی اور اسلام
کے لیے فدائیت و فنائیت ثابت کرنے میں لگتے ہیں۔
حضرت مہدی کی کامیابی کا راز یہی ہوگا کہ وہ بیعت سے پہلے ہی قیادت کی اس ممتاز صفت کو ثابت کر دیں گے (اس کی تفصیل پہلے گزری ہے) تب دنیا بھر میں بکھرے ہوئے قابل ولائق علماء، طلبہ (یا طالبان)، مجاہد ین ، انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر، سائنس دان، سرمایہ دار، انتظام کے ماہر عسکریت سے واقف... غرضیکہ مختلف مہارتوں کے حامل افراد اپنا سب کچھ اسلام کی خاطر ان کے قدموں میں لا ڈالیں گے اور دل سے ان کی کامل اطاعت کرتے ہوئے اپنے آپ کی اپنی انا کی ، اپنی خواہشات اور مزاجوں کی انفرادیت کی مکمل نفی کر ڈالیں گے۔ یہ وہ یادگار منظر اور وہ مبارک روحانی کیفیت ہوگی جو بدر سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورے کے دوران آسمان نے دیکھی تھی، جس نے ,,حطین،، کے معرکے سے قبل ایوبی کی آنکھیں ٹھنڈی کی تھیں اور جسے ناٹو اور نان نیٹومما لک کا اتحاد آج آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور جسے دنیا ایک بار پر بالآخر آخری معرکے سے قبل دیکھے گی اور جب دیکھے گی تو سارے اسٹائل اور ہیروشپ، ساری چوکڑیاں، اڑن کھٹولیاں، ساری پروازیں بھول جائے گی۔
,,افغانستان اور پاکستانی قبائلی علاقوں میں لڑائی کے شدت اختیار کرنے کے بعد عالمی تجزیہ نگاروں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو آٹھ سال گزرنے کے بعد اب یہ واضح ہورہا ہے کہ جنگ دراصل اتحادی نہیں بلکہ القاعدہ اور طالبان جیت رہے ہیں۔ اسی تناظر میں یورپ کے کئی اعلی عہدیداروں نے القاعدہ کے ساتھ امن معاہدوں کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کردی ہے۔ ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے شائع ہونے والے مقامی اخبار ,,ڈاگس اویسن،، نے لکھا ہے کہ ناروے شاید اب مسلم گروپوں سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔
قسط ۔ 9
* کامیابی کا راز :
* گزشتہ سے پیوستہ
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دنیائے کفر کے اس فتنہ خیز غلبے کا تو حضرت مہدی کی بے لوث اور اہل قیادت اور مسلمانوں کی بکھری ہوئی صلاحیت اور منتشر جدوجہد دونوں مل کر کریں گی۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت مہدی کے ہاتھ پراللہ تعالی محیرالعقول کرامات کو بھی ظاہر فرمائے گا لیکن ان کی جو سب سے بڑی کرامت ہوگی وہ یہ کہ جب وہ اپنے ساتھیوں کو گناہوں سے سچی توبہ کروا کر مٹی ہوئی سنتوں کو زندہ کر یں گے تو اس کی برکت سے ان کے تمام ساتھیوں کو یکسوئی اور یک فکری نصیب ہو جائے گی ۔ ان سب کی سوچ ایک، فکر ہی نہیں، انداز فکر بھی ایک اور طرزعمل بھی ایک ہو گا۔ ان کے دل سے حسد وبغض، کینہ و عناد نکل جائے گا۔ باہمی اختلافات اور امیر کی نافرمانی کی نحوست سے آزاد ہو جائیں گے۔ وہ جینے مرنے میں حضرت مہدی کی کامل اطاعت کریں گے اور موت کو سامنے دیکھ کربھی منہ نہیں موڑیں گے۔ موت سے مرادطبعی موت ہی نہیں ہوتی طبیعت کی موت بھی ہوتی ہے یعنی آج کل بہت سے لوگ قربانیاں دے رہے ہیں۔ موت کو خوشی خوشی گلے لگا رہے ہیں لیکن بات جب نفس کی موت کی آتی ہے تو وہ اس پرویسا غلبہ نہیں پا سکتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اطاعت کرتے ہوئے اس نبوی تر بیت کا مثالی مظاہرہ کیا تھا۔ حضرت مہدی کی بے نفسی اور اجتماعی مقصد کے حصول کی لگن اور اس لگن میں فنائیت اس قدر واضح ہوگی کہ تمام روئے ارض کے صالح مسلمان اپنے آپ کو مٹا کر اپناسب کچھ ان کو سونپ دیں گے اور ان پر ویسا اعتماد کر یں گے جیسا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی پراس دور کے مسلمانوں نے کیا تھا۔ تاریخ کے طلبہ پر یہ بات مخفی نہیں ہونی چاہیے کہ پورے یورپ کی صلیبی افواج کے اتحاد کے مقابلے میں سلطان کی اپنی فوج ( مصر و شام کی فوج) کچھ اتنی زیادہ نہ تھی البتہ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مجاہد قبائل جب ان کو دیکھتے کہ وہ میدان جنگ میں گھوڑے پر سوار ایک جانب سے دوسری جانب تک یوں چکر لگارہے ہیں جیسے اکلوتے بچے کی ماں اس کی تلاش میں بولائی بولائی پھرتی ہے۔ آنکھوں میں آنسو ہیں اور زبان پر ایک ہی نعرہ ہے: ,,يا للإسلام، يا للإسلام،، ,,اے مسلمانو! اسلام کی مددکرو۔ اے مسلمانو! اسلام کی خبر لو۔،، تو یہ قبائل جو اپنی عصبیت، سرکشی اور انفرادی مزاج میں مشہور تھے، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سلطان کے ساتھ جینے مرنے کا عہد کر لیتے تھے اور تاریخ گواہ ہے کہ سلطان کے پاس خرچ نہ ہوتا تو اپنے خرچ پر، اپنے اسلحے سے، اپنے ہی
جان سے میدان میں ڈ ٹے رہتے تھے اور سلطان کا ساتھ چھوڑ کر جانے کو کفر و ارتداد سے زیادہ سخت عار والی بات سمجھتے تھے۔ ان کو یقین تھا کہ اگر شکست ہوئی تو سلطان ان کو چھوڑ کر بھاگے کا نہیں اور اگر فتح ہوئی تو اس کے فوائد سلطان خود ہر گز نہیں سمیٹے گا بلکہ یہ سارے ثمرات نتائج اسلام کی جھولی میں جائیں گے۔ اگر آج کی قیادت اپنے کارکنوں کو یہ یقین دلا دے تو خدا کی قسم! کایا پلٹنے میں اتنے ہی دن لگیں گے جتنے قائد کو اپنی نفسی اور اسلام
کے لیے فدائیت و فنائیت ثابت کرنے میں لگتے ہیں۔
حضرت مہدی کی کامیابی کا راز یہی ہوگا کہ وہ بیعت سے پہلے ہی قیادت کی اس ممتاز صفت کو ثابت کر دیں گے (اس کی تفصیل پہلے گزری ہے) تب دنیا بھر میں بکھرے ہوئے قابل ولائق علماء، طلبہ (یا طالبان)، مجاہد ین ، انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر، سائنس دان، سرمایہ دار، انتظام کے ماہر عسکریت سے واقف... غرضیکہ مختلف مہارتوں کے حامل افراد اپنا سب کچھ اسلام کی خاطر ان کے قدموں میں لا ڈالیں گے اور دل سے ان کی کامل اطاعت کرتے ہوئے اپنے آپ کی اپنی انا کی ، اپنی خواہشات اور مزاجوں کی انفرادیت کی مکمل نفی کر ڈالیں گے۔ یہ وہ یادگار منظر اور وہ مبارک روحانی کیفیت ہوگی جو بدر سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورے کے دوران آسمان نے دیکھی تھی، جس نے ,,حطین،، کے معرکے سے قبل ایوبی کی آنکھیں ٹھنڈی کی تھیں اور جسے ناٹو اور نان نیٹومما لک کا اتحاد آج آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور جسے دنیا ایک بار پر بالآخر آخری معرکے سے قبل دیکھے گی اور جب دیکھے گی تو سارے اسٹائل اور ہیروشپ، ساری چوکڑیاں، اڑن کھٹولیاں، ساری پروازیں بھول جائے گی۔
,,افغانستان اور پاکستانی قبائلی علاقوں میں لڑائی کے شدت اختیار کرنے کے بعد عالمی تجزیہ نگاروں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو آٹھ سال گزرنے کے بعد اب یہ واضح ہورہا ہے کہ جنگ دراصل اتحادی نہیں بلکہ القاعدہ اور طالبان جیت رہے ہیں۔ اسی تناظر میں یورپ کے کئی اعلی عہدیداروں نے القاعدہ کے ساتھ امن معاہدوں کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کردی ہے۔ ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے شائع ہونے والے مقامی اخبار ,,ڈاگس اویسن،، نے لکھا ہے کہ ناروے شاید اب مسلم گروپوں سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔
اخبار کا مزید لکھنا ہے کہ جب نائب وزیر خارجہ سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ دہشت گردی کےخلاف جنگ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ دراصل دوستوں کے ساتھ تو امن اور مذاکرات چلتے ہی رہتے ہیں مگر حقیقی امن کے لیے ان لوگوں کے ساتھ بھی امن مذاکرات ہونے چاہئیں جنہیں آپ اپنا دشمن قرار دیتے ہیں۔ نائب وزیر خارجہ رائے مونڈ یوہانسن کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں تنہا نہیں ہیں بلکہ دیگر یورپی ممالک بھی یہ خواہش رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے کچھ ہی قبل سوئزر لینڈ بھی اس خواہش کا اظہار کر چکا ہے کہ وہ القاعدہ اور اسامہ بن لادن سے مذاکرات اور امن معاہد ہ کر نا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی ابتدائی اقدامات کے لیے بالکل تیار ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ امریکا کی واپسی کے بعد انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔
ماخوذ.دجال کون کب کہاں" از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماخوذ.دجال کون کب کہاں" از: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور دامت برکاتہ
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Imam Mehdi is Coming Soon - Peer Zulfiqar Naqshbandi
Islamic knowledge
مہدویات میں دلچسپی رکھنے والوں کو پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کا یہ آڈیو کلپ ایک بار ضرور سننا چاہئیے۔۔۔۔
♻️ *گناہ کے نقصانات* ♻️
شُؤم المعصية
قلة التوفيق ، وفساد الرأي ، وخفاء الحق ، وفساد القلب ، وخمول الذِّكر ، وإضاعة الوقت ، ونفرة الخلق ، والوحشة بين العبد وبين ربه ، ومنع إجابة الدعاء ، وقسوة القلب ، ومحق البركة في الرزق والعمر ، وحرمان العلم ، ولباس الذل ، وإهانة العدو ، وضيق الصدر ، والابتلاء بقرناء السوء الذين يُفسدون القلب ويُضيعون الوقت ، وطول الهمّ والغمّ ، وضَنْكُ المعيشة ، وكسفُ البال تتولَّد من المعصية والغفلة عن ذكر الله ، كما يتولَّد الزَّرع عن الماء ، والإحراق عن النار .. وأضدادُ هذه عن الطاعة .
[ ابن قيم الجوزية | الفوائد صـ ٣٢ - ٣٣ ]
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
①اچھے کاموں کی توفیق سے محرومی
②عقل ورائے میں فساد اور خرابی پیدا ہونا
③حق ،سچ اور اچھائی نظر نہ آنا
④دل میں بگاڑ پیدا ہونا
⑤گمنامی یا بدنامی مقدر ہونا
⑥وقت میں ضیاع یا بے برکتی ہونا
⑦گنہگار سے مخلوق کا متنفر ہونا
⑧اللہ تعالی سے وحشت پیدا ہونا
⑨دعاؤں کا قبول نہ ہونا
∅①دل کا سخت ہوجانا
①①رزق اور عمر کی برکت کا ختم ہونا
②①علم میں اضافہ یا علم حقیقی یا اس کے نور سے محرومی
③①ذلت کا سر آنا
④①دشمن کی طرف سے ذلیل ہونا
⑤①گھٹن پیدا ہونا
⑥①بروں کی صحبت میں ابتلاءجو دل اور وقت کو تباہ کریں
⑦①افکار و غموں کا ہجوم ہونا
⑧①زندگی کا اجیرن ہوجانا
⑨①امیدیں ختم ہوکر دل کا برائیوں پر آمادہ ہوجانا ،یہ گناہ سے اس طرح پیدا ہوتا ہے جیسے پانی سے کھیتی اگتی ہے.
*تنبیہ*
اور اگر اطاعت میں لگ جائے تو ان تمام نقصانات کو الٹا کرکے جو فائدے ہیں وہ بندے کو حاصل ہوجاتے ہیں.
شُؤم المعصية
قلة التوفيق ، وفساد الرأي ، وخفاء الحق ، وفساد القلب ، وخمول الذِّكر ، وإضاعة الوقت ، ونفرة الخلق ، والوحشة بين العبد وبين ربه ، ومنع إجابة الدعاء ، وقسوة القلب ، ومحق البركة في الرزق والعمر ، وحرمان العلم ، ولباس الذل ، وإهانة العدو ، وضيق الصدر ، والابتلاء بقرناء السوء الذين يُفسدون القلب ويُضيعون الوقت ، وطول الهمّ والغمّ ، وضَنْكُ المعيشة ، وكسفُ البال تتولَّد من المعصية والغفلة عن ذكر الله ، كما يتولَّد الزَّرع عن الماء ، والإحراق عن النار .. وأضدادُ هذه عن الطاعة .
[ ابن قيم الجوزية | الفوائد صـ ٣٢ - ٣٣ ]
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
①اچھے کاموں کی توفیق سے محرومی
②عقل ورائے میں فساد اور خرابی پیدا ہونا
③حق ،سچ اور اچھائی نظر نہ آنا
④دل میں بگاڑ پیدا ہونا
⑤گمنامی یا بدنامی مقدر ہونا
⑥وقت میں ضیاع یا بے برکتی ہونا
⑦گنہگار سے مخلوق کا متنفر ہونا
⑧اللہ تعالی سے وحشت پیدا ہونا
⑨دعاؤں کا قبول نہ ہونا
∅①دل کا سخت ہوجانا
①①رزق اور عمر کی برکت کا ختم ہونا
②①علم میں اضافہ یا علم حقیقی یا اس کے نور سے محرومی
③①ذلت کا سر آنا
④①دشمن کی طرف سے ذلیل ہونا
⑤①گھٹن پیدا ہونا
⑥①بروں کی صحبت میں ابتلاءجو دل اور وقت کو تباہ کریں
⑦①افکار و غموں کا ہجوم ہونا
⑧①زندگی کا اجیرن ہوجانا
⑨①امیدیں ختم ہوکر دل کا برائیوں پر آمادہ ہوجانا ،یہ گناہ سے اس طرح پیدا ہوتا ہے جیسے پانی سے کھیتی اگتی ہے.
*تنبیہ*
اور اگر اطاعت میں لگ جائے تو ان تمام نقصانات کو الٹا کرکے جو فائدے ہیں وہ بندے کو حاصل ہوجاتے ہیں.
نیو ورلڈ آرڈر | New World Order :
دجالی نظام 'نیو ورلڈ آرڈر' کا آسان مطلب ہے "ایک دنیا ۔۔ ایک نظام ۔۔ ایک ہی احکامات ۔۔"
یہ دجالی نظام کسی حد تک قائم ہوچکا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سے لیکر World ایک New Order کے تحت ہی تو چل رہی ہے۔ خلافت کا ادارہ ختم ہونے کے بعد یہود کے دجالی نظام کے سائے تلے دنیا چلتی آ رہی ہے۔ یہودی اور خفیہ و ظاہر یہودی تنظیمیں تب سے لیکر دنیا کی باگیں ہلا رہی ہیں۔
مندرجہ ذیل نکات پر توجہ فرمائیے :
➊ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازشوں میں خفیہ یہودی گروہوں اور یہود نواز برطانیہ کا ہاتھ رہا۔ عالمی سطح پر وطنی ریاستوں کا بنیاد ڈالا گیا اور تمام دنیا کی موجودہ سرحدیں یہود و نصاریٰ کی ترتیب دی ہوئی ہیں۔ پرانا جمہوری نظام یونانی مشرکین اور نیا نظامِ ڈیموکریسی یہود کا وضع کردہ ہے جس کا سکہ چل رہا ہے۔
➋ اقوامِ متحدہ اداراے کی تخلیق میں یہود اور ہمدردانِ یہود کا ہاتھ تھا۔ ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کا قیام یہودی تحریک اور یہودی غلام ادارے اقوامِ متحدہ نے ممکن بنایا۔
➌ یہی ایک ادارہ (اقوامِ ملحدہ) ہے جو دنیا کے سیاسی، معاشی اور سماجی قوانین طئے کرتا اور منواتا ہے۔ یہ ادارہ چاہے تو کسی ملک کا مسئلہ حل کردے اور اگر یہ نہ چاہے تو ستر سال گزرنے کے باوجود بھی مجال ہے کہ دنیا کا کوئی ملک یا دوسرا ادارہ وہ مسئلہ حل کر کے دکھائے! اسی ادارے کے ذیلی ماتحت ادارے ہیں جو زندگی کے تمام شعبوں میں احکام و ہدایات وضع کرتے اور نافذ کرواتے ہیں۔ جنگ، امن، صحت، تعلیم، مذہب، سیاست، انسانیت، حقوق، وطن، سرحدیں ۔ ۔ ۔ کونسا میدان اور پہلو ہے جس کے متعلق اسی ایک ادارے اور اس کے ذیلی اداروں کی ہدایات، احکامات اور قوانین پر پوری دنیا عمل نہیں کر رہی؟
➍ ایشیاء، افریقہ اور جنوبی لاطینی امریکہ کے غریب ممالک کے معدنی وسائل اور تیل اور سونے کے ذخائر پر کیا نیو ورلڈ آرڈر چلانے والوں کا قبضہ نہیں ہے؟ کبھی غور نہیں کیا آپ نے کہ زمین کا جنوبی حصہ قدرتی وسائل اور ذخائر سے مالامال تو ہے لیکن مالی لحاظ سے بدحال ہے۔ جبکہ زمین کا شمالی حصہ قدرتی وسائل و ذخائر سے اتنا بھرپور بھی نہیں لیکن مالی لحاظ سے کتنا خوشحال ہے!
مختلف مذاہب اور تہاذیب سے تعلق رکھنے والے اربوں انسان ایک نظام جمہوریت کے تلے جی رہیں ہیں اور اسی کو اچھا مانتے ہیں۔
➎ اصل کرنسی سونا اور چاندی ہے۔ لیکن یہود کے سودی بینکاری نظام اور معاشی اصولوں کی بنا پر پوری دنیا کاغذی کرنسی پر چل رہی ہے۔ لوگ جانتے بھی نہیں کہ یہ کاغذ جعلی کرنسی ہے۔
➏ خبر (NEWS) ۔ ۔ خبر کیا ہے؟ کس وقت کونسی خبر ضروری ہے اور کونسی بات غیر اہم ہے؟ سچی خبر کونسی ہے اور جھوٹی کونسی؟ یہ بتانے اور سمجھانے والا کون ہے؟ کیا یہ عالمی دجالی ریاستی نظام نہیں کہ جس میں میڈیا کے ذریعے اربوں انسانوں کا ذہن کنٹرول کیا جا چکا ہے؟ جب چاہے جھوٹ اور افواہیں سنائے اور جب چاہے خوف پھیلائے!
➐ پوری دنیا کے ملکوں میں جو تعلیمی نصاب رائج ہے وہ کس منزل کی طرف لے جاتا ہے؟ کیا کسی بھی ملک کا تعلیمی اور قانونی نظام ایسا ہے جس سے موجودہ یہودی عزائم اور ان کے منصوبوں کو کوئی خطرہ ہو؟ بلکہ وہ تو ان کے مقاصد کی تکمیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
➑ ایک نظام کی ایک فوج ہے اسے آپ UN فوج کہہ لیں یا NATO ، دونوں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ اس کے علاوہ تمام ممالک کی افواج بھی انہی کی پارٹنر ہیں۔ یہ جب چاہیں جہاں حملہ کردیں کوئی روک ٹوک نہیں ان پر۔
اب کورونا وائرس اور ویکسین کے تناظر میں آنے والے حالات کو اور احادیثِ دورِ فتن کو مزید شفاف دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیو قطرے پلاؤ ورنہ بجلی اور گئس کے میٹر کاٹ دیں گے؛ کورونا ویکسین لگواؤ ورنہ تنخواہ بند کردی جائے گی۔ دجال بھی اسیطرح ہر اس شخص کی روزی تنگ کرے گا اور قتل کردے گا جو اس کو رب نہیں مانے گا۔ احادیث میں آتا ہے کہ دجال کے خروج سے پہلے دجالی فتنے رونما ہونگے اور جو دجال سے پہلے فتنوں سے محفوظ رہا وہ دجال کے وقت بھی محفوظ رہے گا۔
دجالی نظام 'نیو ورلڈ آرڈر' کا آسان مطلب ہے "ایک دنیا ۔۔ ایک نظام ۔۔ ایک ہی احکامات ۔۔"
یہ دجالی نظام کسی حد تک قائم ہوچکا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سے لیکر World ایک New Order کے تحت ہی تو چل رہی ہے۔ خلافت کا ادارہ ختم ہونے کے بعد یہود کے دجالی نظام کے سائے تلے دنیا چلتی آ رہی ہے۔ یہودی اور خفیہ و ظاہر یہودی تنظیمیں تب سے لیکر دنیا کی باگیں ہلا رہی ہیں۔
مندرجہ ذیل نکات پر توجہ فرمائیے :
➊ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازشوں میں خفیہ یہودی گروہوں اور یہود نواز برطانیہ کا ہاتھ رہا۔ عالمی سطح پر وطنی ریاستوں کا بنیاد ڈالا گیا اور تمام دنیا کی موجودہ سرحدیں یہود و نصاریٰ کی ترتیب دی ہوئی ہیں۔ پرانا جمہوری نظام یونانی مشرکین اور نیا نظامِ ڈیموکریسی یہود کا وضع کردہ ہے جس کا سکہ چل رہا ہے۔
➋ اقوامِ متحدہ اداراے کی تخلیق میں یہود اور ہمدردانِ یہود کا ہاتھ تھا۔ ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کا قیام یہودی تحریک اور یہودی غلام ادارے اقوامِ متحدہ نے ممکن بنایا۔
➌ یہی ایک ادارہ (اقوامِ ملحدہ) ہے جو دنیا کے سیاسی، معاشی اور سماجی قوانین طئے کرتا اور منواتا ہے۔ یہ ادارہ چاہے تو کسی ملک کا مسئلہ حل کردے اور اگر یہ نہ چاہے تو ستر سال گزرنے کے باوجود بھی مجال ہے کہ دنیا کا کوئی ملک یا دوسرا ادارہ وہ مسئلہ حل کر کے دکھائے! اسی ادارے کے ذیلی ماتحت ادارے ہیں جو زندگی کے تمام شعبوں میں احکام و ہدایات وضع کرتے اور نافذ کرواتے ہیں۔ جنگ، امن، صحت، تعلیم، مذہب، سیاست، انسانیت، حقوق، وطن، سرحدیں ۔ ۔ ۔ کونسا میدان اور پہلو ہے جس کے متعلق اسی ایک ادارے اور اس کے ذیلی اداروں کی ہدایات، احکامات اور قوانین پر پوری دنیا عمل نہیں کر رہی؟
➍ ایشیاء، افریقہ اور جنوبی لاطینی امریکہ کے غریب ممالک کے معدنی وسائل اور تیل اور سونے کے ذخائر پر کیا نیو ورلڈ آرڈر چلانے والوں کا قبضہ نہیں ہے؟ کبھی غور نہیں کیا آپ نے کہ زمین کا جنوبی حصہ قدرتی وسائل اور ذخائر سے مالامال تو ہے لیکن مالی لحاظ سے بدحال ہے۔ جبکہ زمین کا شمالی حصہ قدرتی وسائل و ذخائر سے اتنا بھرپور بھی نہیں لیکن مالی لحاظ سے کتنا خوشحال ہے!
مختلف مذاہب اور تہاذیب سے تعلق رکھنے والے اربوں انسان ایک نظام جمہوریت کے تلے جی رہیں ہیں اور اسی کو اچھا مانتے ہیں۔
➎ اصل کرنسی سونا اور چاندی ہے۔ لیکن یہود کے سودی بینکاری نظام اور معاشی اصولوں کی بنا پر پوری دنیا کاغذی کرنسی پر چل رہی ہے۔ لوگ جانتے بھی نہیں کہ یہ کاغذ جعلی کرنسی ہے۔
➏ خبر (NEWS) ۔ ۔ خبر کیا ہے؟ کس وقت کونسی خبر ضروری ہے اور کونسی بات غیر اہم ہے؟ سچی خبر کونسی ہے اور جھوٹی کونسی؟ یہ بتانے اور سمجھانے والا کون ہے؟ کیا یہ عالمی دجالی ریاستی نظام نہیں کہ جس میں میڈیا کے ذریعے اربوں انسانوں کا ذہن کنٹرول کیا جا چکا ہے؟ جب چاہے جھوٹ اور افواہیں سنائے اور جب چاہے خوف پھیلائے!
➐ پوری دنیا کے ملکوں میں جو تعلیمی نصاب رائج ہے وہ کس منزل کی طرف لے جاتا ہے؟ کیا کسی بھی ملک کا تعلیمی اور قانونی نظام ایسا ہے جس سے موجودہ یہودی عزائم اور ان کے منصوبوں کو کوئی خطرہ ہو؟ بلکہ وہ تو ان کے مقاصد کی تکمیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
➑ ایک نظام کی ایک فوج ہے اسے آپ UN فوج کہہ لیں یا NATO ، دونوں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ اس کے علاوہ تمام ممالک کی افواج بھی انہی کی پارٹنر ہیں۔ یہ جب چاہیں جہاں حملہ کردیں کوئی روک ٹوک نہیں ان پر۔
اب کورونا وائرس اور ویکسین کے تناظر میں آنے والے حالات کو اور احادیثِ دورِ فتن کو مزید شفاف دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیو قطرے پلاؤ ورنہ بجلی اور گئس کے میٹر کاٹ دیں گے؛ کورونا ویکسین لگواؤ ورنہ تنخواہ بند کردی جائے گی۔ دجال بھی اسیطرح ہر اس شخص کی روزی تنگ کرے گا اور قتل کردے گا جو اس کو رب نہیں مانے گا۔ احادیث میں آتا ہے کہ دجال کے خروج سے پہلے دجالی فتنے رونما ہونگے اور جو دجال سے پہلے فتنوں سے محفوظ رہا وہ دجال کے وقت بھی محفوظ رہے گا۔
*کرونا کی چوتھی لہر اور کفر کا نظام*
ذوالحجہ کے مبارک دن شروع ہوتے ہی حکومت نے کرونا کی چوتھی لہر کا اعلان کردیا ہے, جو ان کے مطابق پہلی تین لہروں سے زیادہ خطرناک ہے, جسے ڈیلٹا وائرس کا نام دیا گیا ہے اور اس کا تعلق انڈیا سے بتایا گیا ہے,
ایک طرف افغانستان میں طالبان کو فتوحات مل رہی ہیں, وہاں اللہ کی مدد اور برکتیں نازل ہورہی ہیں, سب مسلمان اللہ کے نظام پر خوش ہیں, وہاں نہ کرونا کی پہلی لہر آئی, نہ انہیں دوسری لہر کا پتا ہے, نہ طالبان اور ان کی عوام نے تیسری اور چوتھی لہر کا نام سنا ہے, دوسری طرف ہمیں شیطان کے غلام حکمران کرونا کی چوتھی لہر سے خوف زدہ کررہے ہیں, ڈیلٹا وائرس کے نام پر لاک ڈاؤن لگانے کی تیاری کر رہے ہیں,
ہم عوام کے لئے سوچنے کی بات ہے کہ آخر کب تک یہ وائرس کی لہریں آتی رہیں گی؟ کیا ہم ایک کے بعد دوسری لہر کا انتظار کریں؟ کیا ہم ایک کے بعد دوسری ویکسین لگواتے جائیں؟
کرونا کی پہلی تین لہروں اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے کاروبار ختم ہوچکے ہیں, پرائیوٹ نوکریاں ختم ہونے کی وجہ سے لاکھوں لوگ بےروزگار ہوئے, اکثریت کے گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں, لاکھوں لوگ مختلف ذہنی بیماریوں اور ڈپریشن کا شکار ہوگئے ہیں, اب چوتھی لہر جو پہلی تین لہروں سے زیادہ خطرناک بتائی جارہی ہے اس سے کیا نتائج نکلیں گے؟ اس سے ہماری معیشت پر کیا اثرات آئیں گے؟ ہمارے کاروبار پر کیا اثرات ہوں گے؟ ہماری تعلیم, ہماری صحت اور ہمارے مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے؟
آخر ہم عوام کیا کریں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کے رحم و کرم پر رہیں جو تمام جہانوں کے پروردگار اللہ احکم الحاکمین کے احکام اور قانون پر عمل کرنے کے بجائے کفر کے احکام اور قانون پر عمل کرتے ہیں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کے کہنے پر چلتے رہیں جو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے نبی کریم علیہ السلام کے احکام سے بغاوت کرتے ہیں؟ جو حکمران کرپشن کر کے ہم عوام کا حق کھا جاتے ہیں؟ جو حکمران خود بھی فحاشی کرتے ہیں اور ساری قوم میں فحاشی پھیلاتے ہیں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کو اپنا خیرخواہ سمجھے جو قرآن کے قانون سے بغاوت کرتے ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ کے غلام ہیں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کے آسرے پر رہیں جو خود بھی شرابی ہیں اور ملک میں شراب خانے کھول کر قوم میں بھی شراب عام کرتے ہیں؟
نہیں ہرگز نہیں! ہم اشرف المخلوقات ہیں, اللہ نے ہمیں عقل اور علم دیا ہے, قرآن مجید ہمارے پاس موجود ہے, ہم اللہ کے آخری نبی سیدالانبیاء علیہ السلام کے امتی ہیں, ہمیں اب اللہ اور رسول علیہ السلام کا نظام قائم کرنا ہوگا, جو نظام ہماری زندگی کا ضامن ہے, جو نظام ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی کا ضامن ہے, جو نظام ہماری معیشت اور صحت کا, عدل و انصاف کا اور راحت و سکون کا ضامن ہے!
کیا ہم اس اللہ کی رحمتوں والے نظام کو قائم نہ کریں جس اللہ نے اپنا تعارف الرحمٰن اور الرحیم سے کروایا ہے؟ کیا ہم اس نبی کریم علیہ السلام کے قانون کو نافذ نہ کریں جو ہر وقت ہماری بھلائی کے خواہشمند رہتے تھے؟
اگر ہم اب بھی اللہ کا نظام قائم نہ کریں, تو یاد رکھیں ہماری دنیا بھی تباہ ہوگی اور آخرت بھی تباہ ہوگی, کیوں کہ اللہ اور رسول علیہ السلام کے نظام کے علاوہ سارے نظام دنیا اور آخرت کی تباہی کا سبب ہیں.
وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡن
*اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ کافر ہیں.*
( سورہ المائدہ 05 : آیت 44 )
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
*سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں ( اے نبی ﷺ ) تجھے حاکم نہ مان لیں پھر تیرے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں.*
( سورہ النساء 04 : آیت 65 )
وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا
*اور جس نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنا لیا سو وہ تو کھلم کھلا خسارہ میں پڑگیا.*
( سورہ النساء 04 : آیت 119 )
ذوالحجہ کے مبارک دن شروع ہوتے ہی حکومت نے کرونا کی چوتھی لہر کا اعلان کردیا ہے, جو ان کے مطابق پہلی تین لہروں سے زیادہ خطرناک ہے, جسے ڈیلٹا وائرس کا نام دیا گیا ہے اور اس کا تعلق انڈیا سے بتایا گیا ہے,
ایک طرف افغانستان میں طالبان کو فتوحات مل رہی ہیں, وہاں اللہ کی مدد اور برکتیں نازل ہورہی ہیں, سب مسلمان اللہ کے نظام پر خوش ہیں, وہاں نہ کرونا کی پہلی لہر آئی, نہ انہیں دوسری لہر کا پتا ہے, نہ طالبان اور ان کی عوام نے تیسری اور چوتھی لہر کا نام سنا ہے, دوسری طرف ہمیں شیطان کے غلام حکمران کرونا کی چوتھی لہر سے خوف زدہ کررہے ہیں, ڈیلٹا وائرس کے نام پر لاک ڈاؤن لگانے کی تیاری کر رہے ہیں,
ہم عوام کے لئے سوچنے کی بات ہے کہ آخر کب تک یہ وائرس کی لہریں آتی رہیں گی؟ کیا ہم ایک کے بعد دوسری لہر کا انتظار کریں؟ کیا ہم ایک کے بعد دوسری ویکسین لگواتے جائیں؟
کرونا کی پہلی تین لہروں اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے کاروبار ختم ہوچکے ہیں, پرائیوٹ نوکریاں ختم ہونے کی وجہ سے لاکھوں لوگ بےروزگار ہوئے, اکثریت کے گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں, لاکھوں لوگ مختلف ذہنی بیماریوں اور ڈپریشن کا شکار ہوگئے ہیں, اب چوتھی لہر جو پہلی تین لہروں سے زیادہ خطرناک بتائی جارہی ہے اس سے کیا نتائج نکلیں گے؟ اس سے ہماری معیشت پر کیا اثرات آئیں گے؟ ہمارے کاروبار پر کیا اثرات ہوں گے؟ ہماری تعلیم, ہماری صحت اور ہمارے مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے؟
آخر ہم عوام کیا کریں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کے رحم و کرم پر رہیں جو تمام جہانوں کے پروردگار اللہ احکم الحاکمین کے احکام اور قانون پر عمل کرنے کے بجائے کفر کے احکام اور قانون پر عمل کرتے ہیں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کے کہنے پر چلتے رہیں جو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے نبی کریم علیہ السلام کے احکام سے بغاوت کرتے ہیں؟ جو حکمران کرپشن کر کے ہم عوام کا حق کھا جاتے ہیں؟ جو حکمران خود بھی فحاشی کرتے ہیں اور ساری قوم میں فحاشی پھیلاتے ہیں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کو اپنا خیرخواہ سمجھے جو قرآن کے قانون سے بغاوت کرتے ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ کے غلام ہیں؟ کیا ہم ان حکمرانوں کے آسرے پر رہیں جو خود بھی شرابی ہیں اور ملک میں شراب خانے کھول کر قوم میں بھی شراب عام کرتے ہیں؟
نہیں ہرگز نہیں! ہم اشرف المخلوقات ہیں, اللہ نے ہمیں عقل اور علم دیا ہے, قرآن مجید ہمارے پاس موجود ہے, ہم اللہ کے آخری نبی سیدالانبیاء علیہ السلام کے امتی ہیں, ہمیں اب اللہ اور رسول علیہ السلام کا نظام قائم کرنا ہوگا, جو نظام ہماری زندگی کا ضامن ہے, جو نظام ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی کا ضامن ہے, جو نظام ہماری معیشت اور صحت کا, عدل و انصاف کا اور راحت و سکون کا ضامن ہے!
کیا ہم اس اللہ کی رحمتوں والے نظام کو قائم نہ کریں جس اللہ نے اپنا تعارف الرحمٰن اور الرحیم سے کروایا ہے؟ کیا ہم اس نبی کریم علیہ السلام کے قانون کو نافذ نہ کریں جو ہر وقت ہماری بھلائی کے خواہشمند رہتے تھے؟
اگر ہم اب بھی اللہ کا نظام قائم نہ کریں, تو یاد رکھیں ہماری دنیا بھی تباہ ہوگی اور آخرت بھی تباہ ہوگی, کیوں کہ اللہ اور رسول علیہ السلام کے نظام کے علاوہ سارے نظام دنیا اور آخرت کی تباہی کا سبب ہیں.
وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡن
*اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ کافر ہیں.*
( سورہ المائدہ 05 : آیت 44 )
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
*سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں ( اے نبی ﷺ ) تجھے حاکم نہ مان لیں پھر تیرے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں.*
( سورہ النساء 04 : آیت 65 )
وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا
*اور جس نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنا لیا سو وہ تو کھلم کھلا خسارہ میں پڑگیا.*
( سورہ النساء 04 : آیت 119 )
خدا کی قسم ہم طالبان کے ساتھ ہیں
✍وسعت اللہ خان
(کالم نگار)
29 اگست 2021ء
ــــــــــــــــــــــــ
ہم تب بھی خوش تھے جب امریکہ کو ویتنامیوں سے چھتر پڑے۔ ہم تب بھی ناچے جب ایران سے امریکہ کا بستر گول ہوا اور ہم آج بھی بہت خوش ہیں جب افغانستان سے امریکی بدن پر تیل مل کے فرار ہوئے ہیں۔
امریکیوں کو جہاں بھی جو بھی جس کارن بھی لتر مارتا ہے، ہم خوش ہوتے ہیں۔ بالکل ویسے جیسے سلطان راہی نوری نت کا کٹاپا لگائے یا امیتابھ بچن ظالم سیٹھ کی ٹائی کھینچتے ہوئے چپیڑ کھینچ مارے تو ہم تالیاں بجاتے ہیں۔
بالکل ویسے ہی جب ارطغرل کہیں دور دراز ایشیاِ کوچک میں اپنے ہی جیسے ہم شکل دشمنوں کی دوڑ لگواتا ہے تو ہماری رگوں میں نعرہِ تکبیر گونج اٹھتا ہے۔
مگر ہم کیوں خوش ہوتے ہیں؟ کیونکہ ہم شدید تمنا کے باوجود یہ سب نہیں کر پاتے۔
ہمارا بھی اکثر دل چاہتا ہے کہ انڈیا سے کشمیر اور بنگلہ دیش کا بدلہ لے لیں۔ مگر اس کے لیے معیشت اور حالات ہی سازگار نہیں ہو پاتے تو ہم کیا کریں۔ ویسے بھی پشتو کا محاورہ ہے کہ
”تھوک سے پن چکی نہیں چلتی۔“
کیا ہمارا جی نہیں چاہتا کہ امریکہ ایک ہاتھ سے امدادی ریوڑی دے کر دوسرا ہاتھ گردن میں ڈال کر جو ’ڈو مور‘ کرواتا ہے وہ ہاتھ ہی مروڑ دیں۔
مگر پھر ملٹی پل ویزہ، گرین کارڈ، دوہری شہریت کے بل پر یہاں کا مال وہاں منتقل کر کے بے نامی املاک و کاروبار کی سہولت، بچوں کی اعلیٰ تعلیم، اسلحہ جاتی محتاجی، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے تالوں کی امریکی چابیاں اور برادر امریکی ممالک سے تعلقات کی نزاکت جیسے گمبھیر مسائل امریکہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے سے روک دیتے ہیں۔
کاش یہ سب مجبوریاں نہ ہوتیں تو امریکہ کی ایوب خان کے دور میں ہی وہ لترول کرتے کہ ستر کی دہائی کے ویتنامی و ایرانی اور اکیسویں صدی کے طالبان بھی دانتوں تلے انگلیاں داب لیتے۔
ایسا نہیں کہ ہم میں جذبے اور ہمت کی کمی ہے یا ہم ایک خالص نظریاتی سماج کی تعمیر نہیں چاہتے یا طالبان کی طرح چوروں کے ہاتھ اور ڈاکوؤں کے پاؤں نہیں کاٹنا چاہتے یا کرپٹ لوگوں کو کرین سے لٹکانا یا ریپسٹ کو سنگسار نہیں کرنا چاہتے یا سود سے پاک معیشت رائج کرنے کے تمناگیر نہیں۔
ہم شدید خواہش مند ہیں تبھی تو ہمارے کچھ صاحبِ ایمان پکار اٹھے کہ ’کابل میں طالبان کا داخلہ فتحِ مکہ کے بعد اسلامی تاریخ کا دوسرا اہم واقعہ ہے۔‘ اب مجھ جیسے لال بھجکڑ سوچ رہے ہیں کہ کابل میں موجود حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ، گلبدین حکمتیار اور ابو سفیان، عکرمہ اور ابی سرح میں کیا قدرِ مشترک ہے۔
اور میں دن گن رہا ہوں کہ کب ہمارے یہ عزیز از جان تجزیہ کار دارلحرب سے دارالایمان کی جانب ہجرت کر کے تحریکِ ترکِ موالات کے بزرگوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
اب اگر مرئی و غیر مرئی مجبوریوں کے سبب ہم بحیثیتِ قوم و ریاست وہ سب نہیں کر پا رہے جو کرنے کا حق ہے تو آپ کو کم از کم ہماری نیت اور جذبے کی داد تو دینی ہی چاہیے۔
اگر آپ یہ پوچھیں کہ کیا ہم طالبان کے ساتھ ہیں تو ہم ایک نہیں دونوں ہاتھ بلند کر کے کہنے کو تیار ہیں کہ ’ہاں! خدا کی قسم ہم دل سے ان کے ساتھ ہیں۔‘ اب خدا کے لیے یہ مت پوچھ لیجیے گا کہ کیا آپ طالبان جیسی حکومت اسلام آباد میں بھی چاہتے ہیں؟
گواہ رہیے گا کہ جب تک افغانستان میں کفر دوست ڈھانچہ رہا ہم نے اپنے دروازے ہر طرح کے افغانوں کے لیے کھول دیے۔ آج بھی ہمارے ہاں بیس لاکھ سے زیادہ مہمان ہیں۔
لیکن اب جب کہ ہمارے حسرتی وزیرِ اعظم کے بقول افغانستان ’غلامی کی زنجیریں توڑ چکا ہے۔‘ نئے پناہ گزینوں کا ہماری سرزمین پر آنا نہیں بنتا۔ انھیں وہیں رہ کر غلامی سے نجات کا جشن منانا چاہیے۔
(ویسے بھی آپ کسی صورت پاکستان، ایران اور ترکی سے مطالبہ نہیں کر سکتے کہ وہ مزید پناہ گزینوں کا بوجھ ہر صورت اٹھائیں۔ تینوں ممالک پر اس وقت پناہ گزینوں کا خاصا بوجھ ہے۔)
دنیا نے کابل ایئرپورٹ سے امریکی اور نیٹو مال بردار طیاروں کو تو پناہ گزینوں کا بوجھ ڈھوتے دیکھا مگر ان میں کوئی بھی ایسا مال بردار طیارہ نہیں تھا جس پر کسی خوشحال خلیجی ریاست کا نشان بنا ہو۔
کیا ان ریاستوں میں صرف بھگوڑے حکمرانوں اور ان حکمرانوں کی مال دار اپوزیشن کو ہی پناہ مل سکتی ہے؟
✍وسعت اللہ خان
(کالم نگار)
29 اگست 2021ء
ــــــــــــــــــــــــ
ہم تب بھی خوش تھے جب امریکہ کو ویتنامیوں سے چھتر پڑے۔ ہم تب بھی ناچے جب ایران سے امریکہ کا بستر گول ہوا اور ہم آج بھی بہت خوش ہیں جب افغانستان سے امریکی بدن پر تیل مل کے فرار ہوئے ہیں۔
امریکیوں کو جہاں بھی جو بھی جس کارن بھی لتر مارتا ہے، ہم خوش ہوتے ہیں۔ بالکل ویسے جیسے سلطان راہی نوری نت کا کٹاپا لگائے یا امیتابھ بچن ظالم سیٹھ کی ٹائی کھینچتے ہوئے چپیڑ کھینچ مارے تو ہم تالیاں بجاتے ہیں۔
بالکل ویسے ہی جب ارطغرل کہیں دور دراز ایشیاِ کوچک میں اپنے ہی جیسے ہم شکل دشمنوں کی دوڑ لگواتا ہے تو ہماری رگوں میں نعرہِ تکبیر گونج اٹھتا ہے۔
مگر ہم کیوں خوش ہوتے ہیں؟ کیونکہ ہم شدید تمنا کے باوجود یہ سب نہیں کر پاتے۔
ہمارا بھی اکثر دل چاہتا ہے کہ انڈیا سے کشمیر اور بنگلہ دیش کا بدلہ لے لیں۔ مگر اس کے لیے معیشت اور حالات ہی سازگار نہیں ہو پاتے تو ہم کیا کریں۔ ویسے بھی پشتو کا محاورہ ہے کہ
”تھوک سے پن چکی نہیں چلتی۔“
کیا ہمارا جی نہیں چاہتا کہ امریکہ ایک ہاتھ سے امدادی ریوڑی دے کر دوسرا ہاتھ گردن میں ڈال کر جو ’ڈو مور‘ کرواتا ہے وہ ہاتھ ہی مروڑ دیں۔
مگر پھر ملٹی پل ویزہ، گرین کارڈ، دوہری شہریت کے بل پر یہاں کا مال وہاں منتقل کر کے بے نامی املاک و کاروبار کی سہولت، بچوں کی اعلیٰ تعلیم، اسلحہ جاتی محتاجی، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے تالوں کی امریکی چابیاں اور برادر امریکی ممالک سے تعلقات کی نزاکت جیسے گمبھیر مسائل امریکہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے سے روک دیتے ہیں۔
کاش یہ سب مجبوریاں نہ ہوتیں تو امریکہ کی ایوب خان کے دور میں ہی وہ لترول کرتے کہ ستر کی دہائی کے ویتنامی و ایرانی اور اکیسویں صدی کے طالبان بھی دانتوں تلے انگلیاں داب لیتے۔
ایسا نہیں کہ ہم میں جذبے اور ہمت کی کمی ہے یا ہم ایک خالص نظریاتی سماج کی تعمیر نہیں چاہتے یا طالبان کی طرح چوروں کے ہاتھ اور ڈاکوؤں کے پاؤں نہیں کاٹنا چاہتے یا کرپٹ لوگوں کو کرین سے لٹکانا یا ریپسٹ کو سنگسار نہیں کرنا چاہتے یا سود سے پاک معیشت رائج کرنے کے تمناگیر نہیں۔
ہم شدید خواہش مند ہیں تبھی تو ہمارے کچھ صاحبِ ایمان پکار اٹھے کہ ’کابل میں طالبان کا داخلہ فتحِ مکہ کے بعد اسلامی تاریخ کا دوسرا اہم واقعہ ہے۔‘ اب مجھ جیسے لال بھجکڑ سوچ رہے ہیں کہ کابل میں موجود حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ، گلبدین حکمتیار اور ابو سفیان، عکرمہ اور ابی سرح میں کیا قدرِ مشترک ہے۔
اور میں دن گن رہا ہوں کہ کب ہمارے یہ عزیز از جان تجزیہ کار دارلحرب سے دارالایمان کی جانب ہجرت کر کے تحریکِ ترکِ موالات کے بزرگوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
اب اگر مرئی و غیر مرئی مجبوریوں کے سبب ہم بحیثیتِ قوم و ریاست وہ سب نہیں کر پا رہے جو کرنے کا حق ہے تو آپ کو کم از کم ہماری نیت اور جذبے کی داد تو دینی ہی چاہیے۔
اگر آپ یہ پوچھیں کہ کیا ہم طالبان کے ساتھ ہیں تو ہم ایک نہیں دونوں ہاتھ بلند کر کے کہنے کو تیار ہیں کہ ’ہاں! خدا کی قسم ہم دل سے ان کے ساتھ ہیں۔‘ اب خدا کے لیے یہ مت پوچھ لیجیے گا کہ کیا آپ طالبان جیسی حکومت اسلام آباد میں بھی چاہتے ہیں؟
گواہ رہیے گا کہ جب تک افغانستان میں کفر دوست ڈھانچہ رہا ہم نے اپنے دروازے ہر طرح کے افغانوں کے لیے کھول دیے۔ آج بھی ہمارے ہاں بیس لاکھ سے زیادہ مہمان ہیں۔
لیکن اب جب کہ ہمارے حسرتی وزیرِ اعظم کے بقول افغانستان ’غلامی کی زنجیریں توڑ چکا ہے۔‘ نئے پناہ گزینوں کا ہماری سرزمین پر آنا نہیں بنتا۔ انھیں وہیں رہ کر غلامی سے نجات کا جشن منانا چاہیے۔
(ویسے بھی آپ کسی صورت پاکستان، ایران اور ترکی سے مطالبہ نہیں کر سکتے کہ وہ مزید پناہ گزینوں کا بوجھ ہر صورت اٹھائیں۔ تینوں ممالک پر اس وقت پناہ گزینوں کا خاصا بوجھ ہے۔)
دنیا نے کابل ایئرپورٹ سے امریکی اور نیٹو مال بردار طیاروں کو تو پناہ گزینوں کا بوجھ ڈھوتے دیکھا مگر ان میں کوئی بھی ایسا مال بردار طیارہ نہیں تھا جس پر کسی خوشحال خلیجی ریاست کا نشان بنا ہو۔
کیا ان ریاستوں میں صرف بھگوڑے حکمرانوں اور ان حکمرانوں کی مال دار اپوزیشن کو ہی پناہ مل سکتی ہے؟
🗄️ *جہالت*
⬅️ *کفریہ عقائد رکھنے والے صاحبان ہم پر یہودیوں کے احکامات کو مسلط کرنے پر گامزن ہیں جبکہ پولیس والے رشوت لیتے ہیں عوام کو ہر وقت لوٹتے رہتے ہیں کوئی پرواہ نہیں بلکہ حصہ بانٹا جاتا ہے۔*
⬅️ *ان بے دین لبرل ذہنیت رکھنے والوں کے نذدیک انہیں ہر حال میں یہودیوں کا حکم ماننا ہے اس لیے کہ انہیں یہودیوں سے امدادیں اور سہولتیں مل رہی ہیں آخر دین اسلام نے انہیں دیا ہی کیا ہے؟ اور دین اسلام سے ان کفریہ عقائد رکھنے والوں کا تعلق ہی کیا ہے؟*
⬅️ *کورونا ڈرامہ صرف یہاں ہی کیوں؟ شام، عراق، برما، افغانستان وغیرہ میں تو یہ ڈرامہ کہیں نہیں نظر آتا کیا وہاں انسانوں کی بجائے جانور بستے ہیں؟*
⬅️ *یہودیوں اور یہودی آلہ کاروں کی مخالفت صرف دین اسلام سے ہے یہودی آلہ کار لوگوں کا جتنا دل چاہتا ہے دین اسلام کو ختم کرنے کی کوشش کر لیں ان سب کا انجام فرعون، شداد، قارون جیسوں سے بھی بدتر ہوگا اور ہم دیکھیں گے وہ وقت ” ان شاء اللّٰه “۔*
⬅️ *اللّٰه تعالی ہم سب مسلمانوں کو ایسے کفریہ عقائد رکھنے والوں اور ایسے بدترین جاہل لوگوں سے بچائے اور ہم سب مسلمانوں کو ان کفریہ عقائد رکھنے والوں کے خلاف متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔*
⬅️ *کفریہ عقائد رکھنے والے صاحبان ہم پر یہودیوں کے احکامات کو مسلط کرنے پر گامزن ہیں جبکہ پولیس والے رشوت لیتے ہیں عوام کو ہر وقت لوٹتے رہتے ہیں کوئی پرواہ نہیں بلکہ حصہ بانٹا جاتا ہے۔*
⬅️ *ان بے دین لبرل ذہنیت رکھنے والوں کے نذدیک انہیں ہر حال میں یہودیوں کا حکم ماننا ہے اس لیے کہ انہیں یہودیوں سے امدادیں اور سہولتیں مل رہی ہیں آخر دین اسلام نے انہیں دیا ہی کیا ہے؟ اور دین اسلام سے ان کفریہ عقائد رکھنے والوں کا تعلق ہی کیا ہے؟*
⬅️ *کورونا ڈرامہ صرف یہاں ہی کیوں؟ شام، عراق، برما، افغانستان وغیرہ میں تو یہ ڈرامہ کہیں نہیں نظر آتا کیا وہاں انسانوں کی بجائے جانور بستے ہیں؟*
⬅️ *یہودیوں اور یہودی آلہ کاروں کی مخالفت صرف دین اسلام سے ہے یہودی آلہ کار لوگوں کا جتنا دل چاہتا ہے دین اسلام کو ختم کرنے کی کوشش کر لیں ان سب کا انجام فرعون، شداد، قارون جیسوں سے بھی بدتر ہوگا اور ہم دیکھیں گے وہ وقت ” ان شاء اللّٰه “۔*
⬅️ *اللّٰه تعالی ہم سب مسلمانوں کو ایسے کفریہ عقائد رکھنے والوں اور ایسے بدترین جاہل لوگوں سے بچائے اور ہم سب مسلمانوں کو ان کفریہ عقائد رکھنے والوں کے خلاف متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔*
امام مالک رحمہ اللہ کے استاد کی اپنے والد محترم سے 27 سال بعد ملاقات کا عجیب واقعہ ۔۔۔۔ !!
جب تک انسان کو اللہ کی پہچان نہ ہو ، اس کے دل میں اللہ کی محبت پیدا نہیں ہوسکتی ۔ بہت زمانہ پہلے یعنی ’’ بنو امیہ ‘‘ کے دور کاواقعہ ہے ، جب کہ امام مالک رحمہ اللہ ابھی طالب علمی کی زندگی گزاررہے تھے ، ان کے ایک استاذتھے ، جن کا نام ’’ رَبِیْعْۃُ الرَّائے ‘‘ رحمہ اللہ تھا ، بہت بڑے عالم تھے ، آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کے استاذ کیسے ہوں گے ؟ بہت بڑے جلیل القدر فقیہ بھی تھے اور محدث بھی تھے اوراللہ والے بزرگ بھی تھے ، ان کے والد کانام ’’ فروخ ‘‘ تھا ۔
جب امام ریبعۃ الرائے رحمہ اللہ ماں کے پیٹ میں تھے ، تو ان کے والد فروخ ، ’’ خراسان ‘‘ کی جانب جہادکی مہم پرامیرالمؤمنین کے حکم سے نکل گئے ، جب جہاد میں جانے کے لیے نکلے ، توچوں کہ ان کومعلوم نہیں تھا کہ کب واپسی ہوگی اور کیا حالات ہوں گے کہ زندہ بھی آئوں گا یا اللہ کی راہ میں شہیدہوجائوں گا ؟ اس لیے ان کے پاس جو ۳۰ ؍ ہزار دینار یادرہم تھے ، انھوں نے اپنی بیوی کو دیا اور کہا کہ میں جہاد میں جارہاہوں اوریہ تیس ہزار تمھارے حوالے ہیں ، ضرورت کے مطابق اس میں سے خرچ کرتے رہنا ، اگراللہ تعالیٰ نے زندگی باقی رکھی اور واپسی ہوگئی ، تو پھرمیں تم سے آکرحساب لے لوں گا یہ کہہ کر نکل گئے ۔
جونکلے توایسے حالات ان کے اوپرآئے کہ ’’ تاریخ بغداد ‘‘ کے مطابق تقریباً اس واقعے کے ستائیس ( ۲۷ ) برس بعد ان کو لوٹنانصیب ہوا ، لمبے چوڑے عرصے کے بعد واپسی ہوئی ۔ ’’ مدینہ ‘‘ ان کی بستی تھی اوراپنی بیوی کومدینے میں ہی چھوڑکر گئے تھے ، جب واپس مدینہ آئے تودیکھا کہ وہاں کی پوری فضابدلی ہوئی ہے ، نئی نئی سڑکیں بن گئی ہیں ، نئی نئی عمارتیں بن گئی ہیں ، خیرآئے اوربہت غوروفکرکے بعد اپنی گلی وغیرہ کو پہچانا اوراپنے گھر پہنچے اورجب پہنچے ، تووہ رات کاوقت تھا ، اپنے گھوڑے کو ایک طرف باندھا اور نیزے سے دروازہ کھولااور دروازے کے اندرگھسنے لگے ۔
توایک صاحب باہرآرہے تھے ، دونوں میں ملاقات ہوئی ، جب انھوں نے دیکھا کہ یہ اندرگھس رہے ہیں ، توان کوٹوکا اورکہا کہ ارے اللہ کے دشمن ! کسی کے گھرمیں بلااجازت جاناجائزنہیں ہے ، توفروخ نے کہا : یہ کسی کاگھرنہیں ہے ، یہ تومیراگھرہے ، میرے گھرمیں کس سے اجازت لوں ؟ اب دونوں میں ’’ توتو ، میں میں ‘‘ ہونے لگی ، وہ کہتے ہیں یہ میراگھرہے اوروہ کہتے ہیں تم گھس نہیں سکتے ، یہ تومیراگھرہے ۔ دونوں میں جوگفتگوہوئی توپڑوسی لوگ جمع ہوگئے ، ربیعہ کہنے لگے کہ میں ان کو سلطان کے پاس فیصلے کے لیے لے جاؤں گا اور فروخ نے کہا کہ ہاں ! میں بھی تم کو بادشاہ کے پاس لے جاؤں گا ، یہ سب باتیں ہو رہی تھیں کہ ان کی بیوی نے اندرسے سنا اورآکردیکھا کہ کیاہورہاہے ؟
جودیکھاتوتماشایہ نظرآیاکہ دونوں باپ بیٹے دست وگریبان ہیں ، ان کوبڑا تعجب ہوااورانھوں نے کہا کہ یہ معرفت نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑا ہورہاہے ، پہچان نہیں ہے ، باپ نے بیٹے کو پہچانااورنہ بیٹے نے باپ کو پہچانا ۔ بیوی نے کہاکہ تم دونوں آپس میں کیاکررہے ہو ؟ بیٹے سے کہا : بیٹا ربیعہ ! یہ توتمھارے باپ ہیں ،ملاقات کرواوران سے کہا فروخ یہ تمھارے بیٹے ہیں ، ان سے ملاقات کرو ۔ جب ماں نے پہچان کرائی ، تو پھردونوں نے معافی چاہی اورروتے ہوئے آپس میں گلے ملنے لگے ۔
( تاریخ بغداد : ۸ ؍ ۴۲۲ )
جب تک انسان کو اللہ کی پہچان نہ ہو ، اس کے دل میں اللہ کی محبت پیدا نہیں ہوسکتی ۔ بہت زمانہ پہلے یعنی ’’ بنو امیہ ‘‘ کے دور کاواقعہ ہے ، جب کہ امام مالک رحمہ اللہ ابھی طالب علمی کی زندگی گزاررہے تھے ، ان کے ایک استاذتھے ، جن کا نام ’’ رَبِیْعْۃُ الرَّائے ‘‘ رحمہ اللہ تھا ، بہت بڑے عالم تھے ، آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کے استاذ کیسے ہوں گے ؟ بہت بڑے جلیل القدر فقیہ بھی تھے اور محدث بھی تھے اوراللہ والے بزرگ بھی تھے ، ان کے والد کانام ’’ فروخ ‘‘ تھا ۔
جب امام ریبعۃ الرائے رحمہ اللہ ماں کے پیٹ میں تھے ، تو ان کے والد فروخ ، ’’ خراسان ‘‘ کی جانب جہادکی مہم پرامیرالمؤمنین کے حکم سے نکل گئے ، جب جہاد میں جانے کے لیے نکلے ، توچوں کہ ان کومعلوم نہیں تھا کہ کب واپسی ہوگی اور کیا حالات ہوں گے کہ زندہ بھی آئوں گا یا اللہ کی راہ میں شہیدہوجائوں گا ؟ اس لیے ان کے پاس جو ۳۰ ؍ ہزار دینار یادرہم تھے ، انھوں نے اپنی بیوی کو دیا اور کہا کہ میں جہاد میں جارہاہوں اوریہ تیس ہزار تمھارے حوالے ہیں ، ضرورت کے مطابق اس میں سے خرچ کرتے رہنا ، اگراللہ تعالیٰ نے زندگی باقی رکھی اور واپسی ہوگئی ، تو پھرمیں تم سے آکرحساب لے لوں گا یہ کہہ کر نکل گئے ۔
جونکلے توایسے حالات ان کے اوپرآئے کہ ’’ تاریخ بغداد ‘‘ کے مطابق تقریباً اس واقعے کے ستائیس ( ۲۷ ) برس بعد ان کو لوٹنانصیب ہوا ، لمبے چوڑے عرصے کے بعد واپسی ہوئی ۔ ’’ مدینہ ‘‘ ان کی بستی تھی اوراپنی بیوی کومدینے میں ہی چھوڑکر گئے تھے ، جب واپس مدینہ آئے تودیکھا کہ وہاں کی پوری فضابدلی ہوئی ہے ، نئی نئی سڑکیں بن گئی ہیں ، نئی نئی عمارتیں بن گئی ہیں ، خیرآئے اوربہت غوروفکرکے بعد اپنی گلی وغیرہ کو پہچانا اوراپنے گھر پہنچے اورجب پہنچے ، تووہ رات کاوقت تھا ، اپنے گھوڑے کو ایک طرف باندھا اور نیزے سے دروازہ کھولااور دروازے کے اندرگھسنے لگے ۔
توایک صاحب باہرآرہے تھے ، دونوں میں ملاقات ہوئی ، جب انھوں نے دیکھا کہ یہ اندرگھس رہے ہیں ، توان کوٹوکا اورکہا کہ ارے اللہ کے دشمن ! کسی کے گھرمیں بلااجازت جاناجائزنہیں ہے ، توفروخ نے کہا : یہ کسی کاگھرنہیں ہے ، یہ تومیراگھرہے ، میرے گھرمیں کس سے اجازت لوں ؟ اب دونوں میں ’’ توتو ، میں میں ‘‘ ہونے لگی ، وہ کہتے ہیں یہ میراگھرہے اوروہ کہتے ہیں تم گھس نہیں سکتے ، یہ تومیراگھرہے ۔ دونوں میں جوگفتگوہوئی توپڑوسی لوگ جمع ہوگئے ، ربیعہ کہنے لگے کہ میں ان کو سلطان کے پاس فیصلے کے لیے لے جاؤں گا اور فروخ نے کہا کہ ہاں ! میں بھی تم کو بادشاہ کے پاس لے جاؤں گا ، یہ سب باتیں ہو رہی تھیں کہ ان کی بیوی نے اندرسے سنا اورآکردیکھا کہ کیاہورہاہے ؟
جودیکھاتوتماشایہ نظرآیاکہ دونوں باپ بیٹے دست وگریبان ہیں ، ان کوبڑا تعجب ہوااورانھوں نے کہا کہ یہ معرفت نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑا ہورہاہے ، پہچان نہیں ہے ، باپ نے بیٹے کو پہچانااورنہ بیٹے نے باپ کو پہچانا ۔ بیوی نے کہاکہ تم دونوں آپس میں کیاکررہے ہو ؟ بیٹے سے کہا : بیٹا ربیعہ ! یہ توتمھارے باپ ہیں ،ملاقات کرواوران سے کہا فروخ یہ تمھارے بیٹے ہیں ، ان سے ملاقات کرو ۔ جب ماں نے پہچان کرائی ، تو پھردونوں نے معافی چاہی اورروتے ہوئے آپس میں گلے ملنے لگے ۔
( تاریخ بغداد : ۸ ؍ ۴۲۲ )
"پراسرار بندے "
ٹائمز نیوز کے ہنری فلیکسن نے لکھا تھا " گوانتا نامو بے کا ایک دن صحرا کی پانچ دن کی پیاس اور رات پھانسی کے تنگ ہوتے پھندے سے کہیں بدتر ہے "
بیس سال کی صعوبت ، پہاڑوں گرمی سردی، قید و بند ، ٹارچر سیل ، جدید ہتھیاروں کی مار سہنے کے بعد عام معافی کا اعلان کرنے کے لیے پہاڑ سا حوصلہ چاہیے تھا اور یہ " پہاڑوں کے بیٹے "ہی کر سکتے تھے ۔ شدید جبر سے گزر کر بھی یہ سخت جاں ،دل کے موم نکلے ، نہ چہرے پہ سختی، نہ انداز میں نخوت، نہ للکار میں تکبر، نہ چال میں رعونت ۔۔۔ عاجزی سی عاجزی ۔۔۔۔ دستار و جبہ کا وقار و متانت ان کی ہیبت پر حاوی نظر آیا ۔ یہ پراسرار بندے یہ غازی بڑے بڑے تھنک ٹینکرز کو اپنی حکمت و تدبر سے مزید سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
"اختیار اور اقتدار " اتنے امن اور خاموشی سے منتقل ہوا کہ دنیا گنگ رہ گئی ۔ نہ نعرے ، نہ طعنے ، نہ دھمکی ، نہ گولی ۔۔۔۔۔کل فاتح اور مفتوح کا فرق پوری دنیا نے دیکھا ۔
" عام معافی" افغان فوجیوں کو بھی معافی ، قاتلوں کو بھی معافی ، ظالموں ، جابروں کو بھی معافی ۔۔۔۔
اور حکمت عملی دیکھیے ۔۔۔خون خرابہ نہیں ، لوٹ مار نہیں ، عورتوں کے حقوق کی پاسداری کا اعلان، غیر ملکیوں کو رہائش اجازت، گورنر ہاوسز ، صدارتی محل اور سرکاری عمارات کا تحفظ ۔۔۔ پہاڑوں کے بیٹے ہی کر سکتے تھے ۔
جب بھی خطے میں بہت بڑی بازی پلٹتی ہے اور سپر پاورز کو دھچکا لگتا ہے تو منفی قوتیں میدان میں آ جاتی ہیں ۔ باطل کا سوشل میڈیا اپنا غلیظ کھیل شروع کرچکا ہے، ناصرف باطل بلکہ ہر وہ گروہ جو مسلمانوں کے اتحاد کا مخالف ہے وہ اس سرگرمی میں ملوث ہے ۔
پچھلے چند دنوں سے کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جسے بنیاد بنا کر باطل کے حامی واویلا مچا سکیں لیکن یہ پروپیگنڈا ان کے ہاتھ آنے کی دیر ہے ۔
جن کو وحشی ، ظالمان اور دہشت گرد کا لقب دیا جاتا رہا انہوں نے اس بار شاندار حکمت عملی اپنائی ہے لیکن دشمن بہت چالاک، شاطر اور چالباز ہے ، جو جنگ وہ میدان میں ہار گئے وہ سوشل میڈیا سے جیتنے کے لیے پاگل ہوجائیں گے۔ وہ ان کی موجودہ حکمت عملی پر بات کی بجائے ان کے ماضی کو کریدیں گے ۔۔ آپ ٢٠٢١ کی مثال دیں گے وہ ٢٠١١ نکال لیں گے۔ اس لیے محتاط رہیے ۔اس لیے کسی بھی ویڈیو میسج ، تصویر یا آواز کو وائرل کرنے سے پہلے سو بار تحقیق کرنا ضروری ہے ۔ جنگ آسان نہیں ، ظلم سہنے کے بعد معافی بھی سہل نہیں ،جن کے خاندان کے خاندان ڈرون حملوں، سکستھ جنریشن طیاروں اور لیزر گائیڈڈ میزائل سے اڑا دیے گئے ہوں اور وہ عام معافی کا اعلان کردیں تو سمجھیں کہ پہاڑوں سے انسان نہیں ہیرے نکلے۔ ہیرے اور پتھر میں فرق کرنے والی نظر جوہری کی ہوتی ہے ۔ ہم اور آپ میں سے ہرکوئی جوہری نہیں !!!
ٹائمز نیوز کے ہنری فلیکسن نے لکھا تھا " گوانتا نامو بے کا ایک دن صحرا کی پانچ دن کی پیاس اور رات پھانسی کے تنگ ہوتے پھندے سے کہیں بدتر ہے "
بیس سال کی صعوبت ، پہاڑوں گرمی سردی، قید و بند ، ٹارچر سیل ، جدید ہتھیاروں کی مار سہنے کے بعد عام معافی کا اعلان کرنے کے لیے پہاڑ سا حوصلہ چاہیے تھا اور یہ " پہاڑوں کے بیٹے "ہی کر سکتے تھے ۔ شدید جبر سے گزر کر بھی یہ سخت جاں ،دل کے موم نکلے ، نہ چہرے پہ سختی، نہ انداز میں نخوت، نہ للکار میں تکبر، نہ چال میں رعونت ۔۔۔ عاجزی سی عاجزی ۔۔۔۔ دستار و جبہ کا وقار و متانت ان کی ہیبت پر حاوی نظر آیا ۔ یہ پراسرار بندے یہ غازی بڑے بڑے تھنک ٹینکرز کو اپنی حکمت و تدبر سے مزید سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
"اختیار اور اقتدار " اتنے امن اور خاموشی سے منتقل ہوا کہ دنیا گنگ رہ گئی ۔ نہ نعرے ، نہ طعنے ، نہ دھمکی ، نہ گولی ۔۔۔۔۔کل فاتح اور مفتوح کا فرق پوری دنیا نے دیکھا ۔
" عام معافی" افغان فوجیوں کو بھی معافی ، قاتلوں کو بھی معافی ، ظالموں ، جابروں کو بھی معافی ۔۔۔۔
اور حکمت عملی دیکھیے ۔۔۔خون خرابہ نہیں ، لوٹ مار نہیں ، عورتوں کے حقوق کی پاسداری کا اعلان، غیر ملکیوں کو رہائش اجازت، گورنر ہاوسز ، صدارتی محل اور سرکاری عمارات کا تحفظ ۔۔۔ پہاڑوں کے بیٹے ہی کر سکتے تھے ۔
جب بھی خطے میں بہت بڑی بازی پلٹتی ہے اور سپر پاورز کو دھچکا لگتا ہے تو منفی قوتیں میدان میں آ جاتی ہیں ۔ باطل کا سوشل میڈیا اپنا غلیظ کھیل شروع کرچکا ہے، ناصرف باطل بلکہ ہر وہ گروہ جو مسلمانوں کے اتحاد کا مخالف ہے وہ اس سرگرمی میں ملوث ہے ۔
پچھلے چند دنوں سے کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جسے بنیاد بنا کر باطل کے حامی واویلا مچا سکیں لیکن یہ پروپیگنڈا ان کے ہاتھ آنے کی دیر ہے ۔
جن کو وحشی ، ظالمان اور دہشت گرد کا لقب دیا جاتا رہا انہوں نے اس بار شاندار حکمت عملی اپنائی ہے لیکن دشمن بہت چالاک، شاطر اور چالباز ہے ، جو جنگ وہ میدان میں ہار گئے وہ سوشل میڈیا سے جیتنے کے لیے پاگل ہوجائیں گے۔ وہ ان کی موجودہ حکمت عملی پر بات کی بجائے ان کے ماضی کو کریدیں گے ۔۔ آپ ٢٠٢١ کی مثال دیں گے وہ ٢٠١١ نکال لیں گے۔ اس لیے محتاط رہیے ۔اس لیے کسی بھی ویڈیو میسج ، تصویر یا آواز کو وائرل کرنے سے پہلے سو بار تحقیق کرنا ضروری ہے ۔ جنگ آسان نہیں ، ظلم سہنے کے بعد معافی بھی سہل نہیں ،جن کے خاندان کے خاندان ڈرون حملوں، سکستھ جنریشن طیاروں اور لیزر گائیڈڈ میزائل سے اڑا دیے گئے ہوں اور وہ عام معافی کا اعلان کردیں تو سمجھیں کہ پہاڑوں سے انسان نہیں ہیرے نکلے۔ ہیرے اور پتھر میں فرق کرنے والی نظر جوہری کی ہوتی ہے ۔ ہم اور آپ میں سے ہرکوئی جوہری نہیں !!!
حضرت ڈاکٹر عبد الحئی عارفی رحمتہ اللہ علیہ پیشہ کے اعتبار سے ہومیوپیتھک معالج تھے اور مطب (کلینک) کرتے تھے۔
جید علماء ان سے بیعت ہوئے، جیسے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب وغیرہ، ڈاکٹر صاحب سے بیعت ہوئے۔
مشہور کتاب اسوۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ڈاکٹر صاحب ہی کی لکھی ہوئی ہے۔
ایک دفعہ حاضرین مجلس سے فرمانے لگے؛
آپ کہاں لمبے لمبے مراقبے اور وظائف کرو گے۔ میں تمہیں اللہ کے قرب کا مختصر راستہ بتائے دیتا ہوں۔ کچھ دن کر لو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے، قرب کی منزلیں کیسے طے ہوتی ہیں:
1 ____ اللہ پاک سے چُپکے چُپکے باتیں کرنے کی عادت ڈالو۔ وہ اس طرح کہ جب بھی کوئی جائز کام کرنے لگو دل میں یہ کہا کرو؛
اللہ جی۔۔
(ا) اس کام میں میری مدد فرمائیں۔۔
(ب) میرے لئے آسان فرما دیں۔۔
(ج) عافیت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔۔
(د) اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیں۔۔
یہ چار مختصر جملے ہیں، مگر دن میں سینکڑوں دفعہ اللہ کی طرف رجوع ہو جائیگا اور یہ ہی مومن کا مطلوب ہے کہ اسکا تعلق ہر وقت اللہ سے قائم رہے۔
2 ____ انسان کو روز مرہ زندگی میں چار حالتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔
(ا)۔ طبیعت کے مطابق۔
(ب)۔ طبیعت کے خلاف۔
(ج)۔ ماضی کی غلطیاں اور نقصان کی یاد۔
(د)۔ مستقبل کے خطرات اور اندیشے۔
جو معاملہ طبیعت کے مطابق ہو جائے اس پر اللهم لَكَ الحَمدُ ولَكَ الشُّكر کہنے کی عادت ڈالو۔
جو معاملہ طبیعت کے خلاف ہو جائے تو انا لله وانا اليه راجعون کہو۔
ماضی کی لغزش یاد آجائے تو فورا استغفراللہ کہو۔
مستقبل کے خطرات سامنے ہوں تو کہو
اللهم اِنّى أعوذ بكَ مِن جَمِيعِ الفِتَنِ ما ظَهَرَ مِنها وما بَطَن۔
شکر سے موجودہ نعمت محفوظ ہو گئی۔
نقصان پر صبر سے اجر محفوظ ہو گیا اور اللہ کی معیت نصیب ہو گی۔۔
استغفار سے ماضی صاف ہو گیا۔۔
اور اللهم انى أعوذ بك سے مستقبل کی حفاظت ہوگئی۔۔
3 ____ شریعت کے فرائض و واجبات کا علم حاصل کر کے وہ ادا کرتے رہو اور گناہِ کبیرہ سے بچتے رہو۔
4 ____ تھوڑی دیر کوئی بھی مسنون ذکر کر کے اللہ پاک سے یہ درخواست کر لیا کرو؛
اللہ جی۔۔۔ میں آپ کا بننا چاھتا ہوں، مجھے اپنا بنا لیں، اپنی محبت اور معرفت عطا فرما دیں۔
چند دن یہ نسخہ استعمال کرو پھر دیکھو کیا سے کیا ہوتا ہے اور قرب کی منزلیں کیسے تیزی سے طے ہوتی ہیں۔۔!!
جید علماء ان سے بیعت ہوئے، جیسے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب وغیرہ، ڈاکٹر صاحب سے بیعت ہوئے۔
مشہور کتاب اسوۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ڈاکٹر صاحب ہی کی لکھی ہوئی ہے۔
ایک دفعہ حاضرین مجلس سے فرمانے لگے؛
آپ کہاں لمبے لمبے مراقبے اور وظائف کرو گے۔ میں تمہیں اللہ کے قرب کا مختصر راستہ بتائے دیتا ہوں۔ کچھ دن کر لو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے، قرب کی منزلیں کیسے طے ہوتی ہیں:
1 ____ اللہ پاک سے چُپکے چُپکے باتیں کرنے کی عادت ڈالو۔ وہ اس طرح کہ جب بھی کوئی جائز کام کرنے لگو دل میں یہ کہا کرو؛
اللہ جی۔۔
(ا) اس کام میں میری مدد فرمائیں۔۔
(ب) میرے لئے آسان فرما دیں۔۔
(ج) عافیت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔۔
(د) اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیں۔۔
یہ چار مختصر جملے ہیں، مگر دن میں سینکڑوں دفعہ اللہ کی طرف رجوع ہو جائیگا اور یہ ہی مومن کا مطلوب ہے کہ اسکا تعلق ہر وقت اللہ سے قائم رہے۔
2 ____ انسان کو روز مرہ زندگی میں چار حالتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔
(ا)۔ طبیعت کے مطابق۔
(ب)۔ طبیعت کے خلاف۔
(ج)۔ ماضی کی غلطیاں اور نقصان کی یاد۔
(د)۔ مستقبل کے خطرات اور اندیشے۔
جو معاملہ طبیعت کے مطابق ہو جائے اس پر اللهم لَكَ الحَمدُ ولَكَ الشُّكر کہنے کی عادت ڈالو۔
جو معاملہ طبیعت کے خلاف ہو جائے تو انا لله وانا اليه راجعون کہو۔
ماضی کی لغزش یاد آجائے تو فورا استغفراللہ کہو۔
مستقبل کے خطرات سامنے ہوں تو کہو
اللهم اِنّى أعوذ بكَ مِن جَمِيعِ الفِتَنِ ما ظَهَرَ مِنها وما بَطَن۔
شکر سے موجودہ نعمت محفوظ ہو گئی۔
نقصان پر صبر سے اجر محفوظ ہو گیا اور اللہ کی معیت نصیب ہو گی۔۔
استغفار سے ماضی صاف ہو گیا۔۔
اور اللهم انى أعوذ بك سے مستقبل کی حفاظت ہوگئی۔۔
3 ____ شریعت کے فرائض و واجبات کا علم حاصل کر کے وہ ادا کرتے رہو اور گناہِ کبیرہ سے بچتے رہو۔
4 ____ تھوڑی دیر کوئی بھی مسنون ذکر کر کے اللہ پاک سے یہ درخواست کر لیا کرو؛
اللہ جی۔۔۔ میں آپ کا بننا چاھتا ہوں، مجھے اپنا بنا لیں، اپنی محبت اور معرفت عطا فرما دیں۔
چند دن یہ نسخہ استعمال کرو پھر دیکھو کیا سے کیا ہوتا ہے اور قرب کی منزلیں کیسے تیزی سے طے ہوتی ہیں۔۔!!