ادارہ تحقیقات اہل السنۃ و الجماعۃ
368 subscribers
98 photos
155 videos
54 files
171 links
ادارہ تحقیقات اہل السنۃ و الجماعۃ کی نگرانی میں اصلاح اعمال و عقائد کیلئے چلایا جانے والا علمی ، تحقیقی چینل
Download Telegram
ادارہ تحقیقات اہل السنۃ و الجماعۃ
AUD-20220521-WA0009.aac
درس قرآن

درس نمبر 25

مدرس : مولانا محمد انس قاسمی صاحب

دورانیہ: 6:26 منٹ

احباب سنیں بھی اور صدقہ جاریہ کے طور پر اسے دوسروں تک پہونچائیں بھی۔

والسلام
ادارہ تحقیقات اہل السنۃ و الجماعۃ pinned «*ماہ ذی الحجہ کی فضیلت، حج و قربانی کی اہمیت اور قربانی کے سلسلہ میں کئے گئے اعتراضات کے مدلل جوابات* از قلم: حافظ محمود عرف عبدالباری محمود 🖋فضائل ماہ ذی الحجہ مع یوم عرفہ اور اس کا روزہ نیز حج کی فرضیت، فضیلت و اہمیت https://t.me/idaratahqiqat/623 🖋قربانی…»
ادارہ تحقیقات اہل السنۃ و الجماعۃ
AUD-20220707-WA0005.aac
درس قرآن

درس نمبر 26

مدرس : مولانا محمد انس قاسمی صاحب

دورانیہ: 4:01 منٹ

احباب سنیں بھی اور صدقہ جاریہ کے طور پر اسے دوسروں تک پہونچائیں بھی۔

والسلام
ادارہ تحقیقات اہل السنۃ و الجماعۃ
AUD-20220730-WA0019.aac
درس قرآن

درس نمبر 27

مدرس : مولانا محمد انس قاسمی صاحب

دورانیہ: 4:44 منٹ

احباب سنیں بھی اور صدقہ جاریہ کے طور پر اسے دوسروں تک پہونچائیں بھی۔

والسلام
VID-20230421-WA0005.mp4
2.3 MB
حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب نے اپنی بات سے رجوع کرلیا ہے۔ دل میں پہلے سے ان کی عظمت تھی، لیکن مولانا کے اس بیان سے ان کی عظمت میں اضافہ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔
السلام عليكم ورحمة اللّٰہ وبركاتہ

*عالم اسلام کو مکتبہ صفدریہ دیوبند کی جانب سے عيد کی پر خلوص مبارک باد*

تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال وكل  عام وانتم بخير وصحة والعافيه.فی الدنیا والآخرۃ ۔۔۔ آمین یا رب العالمین

منجانب:
*ظفر احمد نعمانی قاسمی*
ناظم مکتبہ صفدریہ دیوبند
ناظم اعلیٰ ادارہ تحقیقات اہل سنت و جماعت الہند
ناظم عمومی الفاروق بین الحق والباطل فاؤنڈیشن کوسہ ممبرا
ادارہ تحقیقات اہل السنۃ و الجماعۃ
Photo
*عورتوں کو عید کی نماز کے لئے عید گاہ نہیں جانا چاہئے*

*دلیل 1*

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّهُ كَانَ لَا يُخْرِجُ نِسَاءَهُ فِي الْعِيدَيْنِ» ( مصنف ابن ابی شیبہ رقم ۵٨۴۵ )
حضرت ابن عمرؓ عیدین کے لئے اپنی عورتوں کو نہ بھیجتے تھے۔

یہ روایت سند کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے ۔


راویوں کی مختصر توثیق ملاحظہ کریں :

١) ابو بکر بن ابی شیبہؒ : ثقہ
آپ امام بخاریؒ کے استاد ہیں اور امام بخاری ؒنے بھی ان سے روایتیں نقل کی ہیں ۔
آپ ثقہ ، حافظ ، صاحب تصانیف ہیں ۔ ( تقریب التھذیب ٣۵٧۵ )

٢) وکیع بن جراح ؒ: ثقہ
آپ صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں ۔
آپ ثقہ ، جافظ اور عابد ہیں ( تقریب التھذیب ٧۴١۴ )

٣)سفیان ثوریؒ : ثقہ
آپ صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے ثقہ بالاجماع راوی ہیں ۔
آپ خیر القرون کے ثقہ ، حافظ ، فقیہ ، امام حجت ہیں ( تقریب التھذیب ٢۴۴۵ )

۴) عبد اللہ بن جابرؒ : ثقہ
*یحیی بن معین ؒنے ثقہ کہا ہے ۔( تھذیب التھذیب ٢٨٧ )
*امام البزارؒ نے لا باس بہ کہا ہے ۔ ( تھذیب الکمال ٢٨٣۵ )
*امام ذھبیؒ نے ثقہ کہا ہے ( الکاشف ٢٦۵٩ )
*شیخ شعیب الارنوطؒ فرماتے ہیں : صدوق حسن الحدیث ہیں ( تحریر تقریب التھذیب ٢/١٩٧ ، رقم ٣٢۴۴ )

۵) نافعؒ : ثقہ ( مشہور تابعی )
آپ صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے بالاتفاق ثقہ راوی ہیں ۔
آپ ثقہ ، ثبت ، فقیہ ہیں ( تقریب التھذیب ٧٠٨٦ )

٦) ابن عمر ؓ : صحابی رسول

اعتراض : یہاں ایک اعتراض یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ سند میں سفیان ثوری رحمہ اللہ ہیں اور محدثین نے ان پر تدلیس کا الزام نقل کیا ہے،اور اس روایت میں وہ صیغہ عن سے روایت کر رہے ہیں لہذا حدیث ضعیف ہوئی۔

جواب :
امام سفیان ثوری عند الجمہور یہ طبقہ ثانیہ کے مدلس ہیں جیسا کہ ائمہ حضرات نے ان کو طبقہ ثانیہ میں ذکر کیا ہے۔
(جامع التحصیل فی احکام المراسیل لابی سعيد العلائی ص113،طبقات المدلسین لابن حجر ص64،التعلیق الامین علی کتاب التبیین لاسماء المدلسین لابن العجمی ص92، جزء منظوم فی اسماء المدلسین لبدیع الدین غیرمقلد ص89)
اور طبقہ ثانیہ کی تدلیس عندالمحدثین صحت حدیث کے منافی نہیں ہے۔

جیسا کہ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے پہلے اور دوسرے طبقہ کے مدلس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ قلیل التدلیس ہیں اور انکی روایت صحیح ہوتی ہے ، لہذا فرماتے ہیں :
اﻻﻭﻟﻰ ﻣﻦ ﻟﻢ ﻳﻮﺻﻒ ﺑﺬﻟﻚ اﻻ ﻧﺎﺩﺭا
اﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻣﻦ اﺣﺘﻤﻞ اﻻﺋﻤﺔ ﺗﺪﻟﻴﺴﻪ ﻭﺃﺧﺮﺟﻮا ﻟﻪ ﻓﻲ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻻﻣﺎﻣﺘﻪ ﻭﻗﻠﺔ ﺗﺪﻟﻴﺴﻪ
یعنی پہلا طبقہ ان مدلسین کا ہے جن سے بہت کم تدلیس ثابت ہے اور دوسرا وہ ہے جس کی تدلیس کو ائمہ نے محتمل قرار دیا ہے اور الصحیح میں اس کی امامت اور کم تدلیس کرنے کی وجہ سے لی ہے ۔ ( طبقات المدلسین ١/١۵ )

پس یہ روايت صحیح ہے الحمد للہ

*دلیل 2*

" جلیل القدر تابعی سیدنا عروہ بن زبیر رحمتہ اللہ علیہ اپنی عورتوں کو عیدین کے لئے جانے نہیں دیتے تھے "

5796 - حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِهِ تَخْرُجُ إِلَى فِطْرٍ، وَلَا إِلَى أَضْحَى» ( مصنف ابن ابی شیبہ 5796 )
حضرت عروہ عید الاضحی اور عید الفطر کے لیے اپنی عورتوں کو نہ جانے دیتے تھے.

یہ روایت سند کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے ۔

راویوں کی مختصر توثیق ملاحظہ کریں :

1) ابو بکر بن ابی شیبہؒ : ثقہ
آپ امام بخاری کے استاذ ہیں اور امام بخاری نے بھی ان سے اپنی صحیح میں روایتیں نقل کی ہیں ۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں ؛
أبو بكر ابن أبي شيبة الكوفي ثقة حافظ صاحب تصانيف ( تقریب التھذیب 3575 )
آپ ثقہ ، حافظ ، صاحب تصانیف ہیں۔


2) ابو اسامة ؒ : ثقہ
امام عجلیؒ فرماتے ہیں ؛
- حَمَّاد بن أُسَامَة أَبُو أُسَامَة كوفى ثِقَة وَكَانَ يعد من حكماء أَصْحَاب الحَدِيث ( الثقات -العجلي 1/318 رقم 352 )

3) ھشام بن عروہؒ : ثقہ

امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں
نا عبد الرحمن قال سئل ابى عن هشام ابن عروة فقال: ثقة امام في الحديث ( الجرح و التعدیل 9/64 )
آپ ثقہ اور امام فی الحدیث ہیں۔

امام عجلیؒ فرماتے ہیں ؛
- هِشَام بن عُرْوَة بن الزبير وَكَانَ ثِقَة ( الثقات 1906 )
آپ ثقہ ہیں ۔

4) عروہ بن زبیرؒ : ثقہ
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں؛

عروة ابن الزبير ابن العوام ابن خويلد الأسدي أبو عبد الله المدني ثقة فقيه
آپ ثقہ فقیہ ہیں ۔ ( تقریب التھذیب 4561 )

یہ روایت سند کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے ، الحمد للہ


از : فیصل کریم ( کولکاتا )
خادم مناظر اسلام ، وکیل احناف ، حضرت علامہ و مولانا سید طاہر حسین صاحب گیاوی دامت برکاتہم
ادارہ تحقیقات اہل السنۃ و الجماعۃ
Photo
نمازِ جنازہ مسجد میں نہ پڑھا جائے

محترم قارئین! جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ موجودہ دور میں ایک فرقہ اہل حدیث نام کا ہے جو اپنے آپ کو سب سے زیادہ عامل بالحدیث ہونے کا دعویدار ہے اور فقہ حنفی کو بدنام کرنے پر کوئی کسر نہیں چھوڑتا ہے چنانچہ اپنی روش پر چلتے ہوئے بعض غیر مقلدین فقہ حنفی کے مسئلوں میں سے ایک مسئلہ " مسجد میں نماز جنازہ نہ پڑھنے " کو لے کر فقہ حنفی کو بدنام کر رہے ہیں اور اسے غیر ثابت کہہ رہے ہیں جس کے لیے بعض محدثین کے اقوال کو بطور دلیل و حجت پیش کر رہے ہیں ذیل میں ہم ان اقوال کا علمی جائزہ لیں گے کہ آیا ان اقوال سے مذکورہ مسئلہ غیر ثابت ہوتا ہے یا ثابت؟

دلیل:
حدثنا علي بن محمد ، حدثنا وكيع ، عن ابن ابي ذئب ، عن صالح مولى التوءمة، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من صلى على جنازة في المسجد فليس له شيء". ( سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز )
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے تو اس کے لیے کچھ نہیں ہے ۔

اس کی سند بالکل صحیح ہے ، اس کے تمام راوی ثقہ اور صدوق ہیں ؛
راویوں کی مختصر توثیق ملاحظہ کریں ؛

1 _ علي ابن محمد : ثقہ
ثقة عابد ( تقریب التھذیب 4791 )

2_ وكيع ابن الجراح ؒ _ ثقہ
ثقة حافظ عابد ( تقریب التھذیب 7414 )

3_ ابن أبي ذئب القرشي ؒ _ ثقہ
ثقة فقيه ( تقریب التھذیب 6082 )

4_ صالح ابن نبهان المدني ؒ _ صدوق اختلط [بآخره] ( تقریب التھذیب 2892 )

اس کی سند میں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ صالح ابن نبھان ؒ مختلط ہیں ، لہذا یہ روایت ضعیف ہے

جواب _
صالح کوضعیف کہاگیا اسکی وجہ یہ ہے کہ ان کو اخیر عمر میں اختلاط ہوگیا تھا اس لئے اگر یہ سبب مرتفع ہوجائے یعنی کوئی ایساراوی ہو جس نے اس حالت کے طاری ہونے سے پہلے ان سے روایت کی ہو انکی روایت کے معتبر اورقابل حجت واستدلال نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں.
تقریب التہذیب میں ہےصالح ابن نبہان المدنی مولٰی التوأمۃ بفتح المثناۃ وسکون الواو بعدہا ہمزہ مفتوحۃ صدوق
اختلط باٰخرہ قال ابن عدی لا باس بروایۃ القدماء عنہ کابن ابی ذئب وابن جریج
یعنی صالح ابن نبہان مدنی مولی التوامہ صدوق ہیں ان کو اخیر عمر میں اختلاط ہوگیاتھا، ابن عدی فرماتے ہیں کہ ان سے قدماء (یعنی جن لوگوں نے ان سے اس حالت کے طاری ہونے سے پہلے روایت کی ہے) کے روایت کرنے میں کوئی قباحت نہیں جیسے کہ ابن ابی ذئب وابن جریج. ( فتاوی محمودیہ جلد ھشتم 684 )

ابن معین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
وقال بن معين حجة قبل أن يختلط فرواية بن أبي ذئب عنه قبل اختلاطه ( الکاشف 1/499 )
ان کی اختلاط سے قبل والی روایت حجت ہے ، اور ابن ابی ذئب نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کیا ہے ۔
نیز امام جوزجانی فرماتے ہیں :
وقال الجوزجاني تغير أخيرا فحديث ابن أبي ذئب عنه مقبول لسنه وسماعه القديم ( تھذیب التھذیب 4/406 )
اورمذکورہ روایت میں صالح سے روایت کرنے والے ابن ابی ذئب ہیں اسلئے یہ بھی صحیح ہے، اس میں کوئی علت نہیں۔

* الزامی جواب :
غیر مقلد غلام مصطفی ظہیر امن پوری صاحب فرماتے ہیں ؛

صالح مولی التوأمہ ، یعنی صالح بن نبہان مدنی جمہور محدثین کرام کے نزدیک ”ثقہ” ہے۔اس پر جرح اس وقت پر محمول ہے جب وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔
امام علی بن مدینی(سؤالات محمد بن عثمان، ص : 87,86)، امام یحییٰ بن معین(الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 56/4، وسندہ، حسنٌ)،حافظ جوزجانی(الشجرۃ في أحوال الرجال، ص : 144) اور امام ابن عدی (الکامل : 58/4)کا کہنا ہے کہ ابن ابی ذئب نے صالح مولی التوأمہ سے اختلاط سے پہلے سماع کیا ہے۔
حافظ ابن حجرعسقلانی(852-773)لکھتے ہیں: وَقَدِ اتَّفَقُوا عَلٰی أَنَّ الثِّقَۃَ إِذَا تُمُیِّزَ مَا حَدَّثَ بِہٖ قَبْلَ اخْتِلَاطِہٖ مِمَّا بَعْدَہ،، قُبِلَ .
”محدثین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ثقہ(مختلط)راوی کی اختلاط سے پہلے بیان کی ہوئی روایات اس وقت قابل قبول ہو جاتی ہیں جب وہ بعد والی روایات سے ممتاز ہو جائیں۔”(نتائج الأفکار : 268/2)
( ماہنامہ السنہ شمارہ 41 صفحہ 11، 12 )


*غیر مقلدین کی جانب سے پیش کیے جانے والے بعض محدثین کے اقوال کا علمی جائزہ:*
مشہور غیر مقلد عالم زبیر علی زئی صاحب اس سند کو ضعیف ثابت کرنے کے لئے امام بخاری، امام حبان رحمہما اللہ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا :
و ابن ابی ذئب سمع منہ اخیراً ، یروی عنہ مناکیر
اور ابن ابی ذئب نے صالح بن نبھان سے آخر میں ( یعنی اختلاط کے بعد ) سنا تھا ، وہ اس سے منکر روایتیں بیان کرتے تھے۔
نیز فرماتے ہیں ؛ پس اس کی آخری حدیثیں پہلی حدیثوں سے خلط ملط ہوگئیں اور ( دونوں کے درمیان ) تمیز نہ ہوسکا لہذا وہ اس کا مستحق ہوا کہ ( اسے یا اس کی روایتوں کو ) ترک کردیا جائے۔
( دیکھئے مقالات 206/3 )
ادارہ تحقیقات اہل السنۃ و الجماعۃ
Photo
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے قول کا جواب :
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛
و ابن ابی ذئب سمع منہ اخیراً ، یروی عنہ مناکیر
اور ابن ابی ذئب ؒ نے صالح بن نبھان ؒ
سے آخر میں ( یعنی اختلاط کے بعد ) سنا تھا ، وہ اس سے منکر روایتیں بیان کرتے تھے۔ ( معرفة السنن و الآثار للبیہقی 3/181 ، علل الترمذی الکبیر 1/33 وغیرہ )

جواب :- محقق نور الدین عتر اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں ؛
لكن الأكثر علي انه سمع منه قبل الاختلاط
لیکن اکثر کے نزدیک انہونے اس سے اختلاط سے پہلے سنا ہے۔
( حاشیہ علل الترمذی لابن رجب 1/573 )

٢_ امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ کے قول کا جواب :
امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛
تغير فِي سنة خمس وَعشْرين وَمِائَة ، فاختلط حَدِيثه الْأَخير بحَديثه الْقَدِيم وَلَمْ يتَمَيَّز فَاسْتحقَّ التّرْك ( المجروحین 1/366 )
 امام ابن حبان  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا:اس سکی آخری روایت قدیم روایت سے خلط ملط ہو گئی ہے اور امتیاز نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ واجب الترک ہے.

جواب : محقق نور الدین عتری جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
قلنا : لكن إذا أمكن التميز فإنه يعمل بما حدث به قبل اختلاطه ٬ كا نقله ابن حبان نفسه عن ابن معين ٬ و اعتمده
ہم کہتے ہیں لیکن جب تمیز ممکن ہو تو اس پر عمل کیا جاتا ہے جو اس نے اختلاط سے پہلے بیان کیا ہے ، جیسا کہ ابن حبان نے بذات خود بیان کیا ہے ابن معین سے اور اس پر اعتماد کیا ہے۔
( حاشیہ علل الترمذی لابن رجب 1/574 )

لہذا ابن ابی ذئب ؒ کی صالح بن نبھان ؒ سے روایت قبل از اختلاط ہے ۔ الحمد للہ
خود امام احمد بن حنبل ؒ ( جن کے قول سے مخالفین حجت پکڑتے ہیں ) فرماتے ہیں ؛
ما اعلم بہ بأساً من سمع منہ قدیمًا وقد رویٰ عنہ اکابر اہل المدینۃ
العلل ومعرفۃ الرجال للامام احمد ابن حنبل (ص:۳۴۸، ج:۱)
یعنی جن لوگوں نے ان (صالح مولی التوأمۃ) سے ابتداءً سنا ہے ، اس میں کوئی قباحت نہیں اور ان صالح سے اکابر اہل مدینہ نے روایت کیا ہے۔ ( فتاوی محمودیہ جلد ھشتم 685 )


* علامہ شمس الدین ابن القیم ؒ فرماتے ہیں ؛
وَلَمْ يَكُنْ مِنْ هَدْيِهِ الرَّاتِبِ الصَّلَاةُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، وَإِنَّمَا كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ خَارِجَ الْمَسْجِدِ ( زاد المعاد 1/481 )

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور عادت جنازہ کی نماز مسجد سے باہر پڑھنے کی تھی ۔

* غیر مقلد ناصر الدین البانی صاحب فرماتے ہیں ؛

إذا عرفت هذا التفصيل، وأن الحديث من رواية ابن أبي ذئب
عنه، تبينت أنه ثابت، فلا تعويل على من ذهب إلى تضعيفه متمسكا بالطعن المجمل
فيه كما فعل البيهقي، ونحوه عن الإمام أحمد، فقال ابنه عبد الله في " مسائله
" (ص 125)
(سلسلة الأحاديث الصحيحة 5/464 )
جب ہم نے یہ تفصیل جان لی اور یہ بھی معلوم ہے کہ یہ حدیث ان سے ابن ابی ذئب کی روایت کردہ ہے تو اس کا اثبات واضح ہوا۔
نیز فرماتے ہیں: ''پس جن ائمہ ، مثلاً امام بیہقیؒ اور امام احمدؒ نے صالح مولی التوأمہ پرمجمل طعن کو لے کر اس حدیث کو تضعیف کی ہے، وہ لائق التفات نہیں ہے۔'


از قلم :- فیصل کریم ( کولکاتا )
خادم مناظر اسلام ، وکیل احناف ، حضرت علامہ و مولانا سید طاہر حسین صاحب گیاوی دامت برکاتہم
لا کمیشن کو جو میل بھیجے گئے ہیں پورے ملک سے ہمارے پچیس کروڑ مسلمان میں سے صرف *ستّرہ لاکھ سولہ ہزار دو سو تین* ہے مزید افسوس یہ کہ ہمارے صوبہ اترپردیش کی شمولیت صرف *6٪* ہے😥😞
*اس پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ابھی ہمارے پاس 60 گھنٹے کا وقت بچا ہے*

میل کرنے کا طریقہ یہاں دیکھیں👇
ایک میسیج شریعت تحفظ کے لئے
https://youtu.be/5tjnRvsBXII
*حادثہ فاجعہ*
مشہور بزرگ اور روحانی شخصیت حضرت مولانا موسیٰ رشید خان صاحب
تربیت یافتہ و خلیفہ مولانا مسیح اللہ جلال آبادی رحمہ اللّٰہ و مصلح الامت حضرت شاہ وصی اللّٰہ رحمہ اللّٰہ
( خانقاہ دار آخرت ممبرا مہاراشٹر )
کا آج بروز پیر 29 جنوری 2024 کو انتقال ہوچکا ہے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

بعد نماز عصر سوا پانچ بجے تدفین عمل میں آئے گی۔
https://youtu.be/JIoWMJSY628?si=bEv--U09sIvXxPlN

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

جناب عاقل جدہ غير مقلد عرف نانو نے دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کے متعلق ایک ویڈیو بناکر اس میں دارالعلوم اور دارالعلوم دیوبند کے طلبہ پر جھوٹے الزام لگایا۔

نانو کے جھوٹ کا آپریشن تین حصوں میں کیا ہے پہلا حصہ ملاحظہ فرمائیں۔