علم و کتاب
8.02K subscribers
1.14K photos
82 videos
2.37K files
6.26K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
مرثیہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
کلام: عزیز الحسن مجذوبؒ
آواز: مولانا تنویر الحق تھانویؒ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=marsia-hakimul-ummatfbvwtndg71lqtocrd3jn3mlvpa6vtrbw, Marsia Hakimul Ummat
❤1
*وفیات مورخہ:جولائی/ 22*
1959ء لال شاہ بخاری۔ ،
1978ء حبیب الرحمٰن ، خان بہادر۔ خان بہادر ،
1981ء شفیق بریلوی (شفیق احمد)۔ ادیب ، صحافی ،
1994ء ایاز اسحاقی ۔
1999ء عبد الحمید دہلوی۔ حکیم ، بانی ہمدرد دواخانہ دہلی
2009ء شمیم نسرین (رفیعہ حق)۔ ،
2017ء احسن اکبر کمال۔

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
جلوہ ہائے پابہ رکاب   ( ۵۵ )۔۔۔  مدینے کی گلیاں
 

میں جامعہ اسلامیہ میں پڑھانے کی غرض سے 1969ء میں مدینہ منورہ پہنچا تھا۔ اس وقت یہاں نئے طرز کی عمارتیں تھیں لیکن خال خال۔ قدیم طرز کے مکانات بہت تھے۔ قدیم محلے بھی باقی تھے جن میں شعراء کی ”مدینے کی گلیاں“ بھی تھیں جن میں تاریخ جھلکتی تھی۔ میں عرصے تک رباط بھول میں رہا جس کی عمارت قدیم طرز کی تھی۔ ان عمارتوں کے کمروں میں باہر کی طرف دیوار نہیں ہوتی تھی بلکہ لکڑی کے جھروکے ہوتے تھے جو ”روشان“ کہلاتے تھے۔
مدینہ منورہ کے کچھ قدیم رسم و رواج اس وقت تک رائج تھے۔ ان میں سے ایک مجھے اب تک یاد ہے۔ نصف شعبان کی شام محلے کے لڑکے جمع ہوتے اور گھر گھر جا کر یوں کہتے:
سيدي شاهي يا شربيت
خرقة مرقة يا أهل البيت
إما جواب، إما نكسر هذا الباب
جس کا ترجمہ یوں ہے: جناب! چائے یا شربت کا انتظام کیجیے۔
کچھ کپڑا یا شوربا دیجیے۔ یا (مثبت) جواب ملے یا پھر ہم اس دروازے کو توڑ دیں گے۔
خاتون خانہ ان بچوں کے لیے مٹھائیاں تیار رکھتی تھی جسے پا کر بچے خوش ہوتے اور کہتے:
قارورة يا قارورة، ست البيت غندورة
عربی میں قارورہ کے معنی ہیں شیشہ اور اس کی جمع «قوارير» سورہ دہر میں آئی ہے۔ ایک بار ایک اونٹنی پر بعض خواتین سوار تھیں۔ جب اونٹنی چلانے والے نے اس اونٹنی کو تیزی سے چلایا تو نبی کریم ﷺ نے اسے جھڑکا اور فرمایا: «رفقا بالقوارير»

یعنی (شیشوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو)۔
ست البیت کے معنی ہیں: «سيدة البیت» یعنی خاتون خانہ۔
«غندورة» کے معنی ہیں نرم و نازک عورت۔
اور اگر خاتون خانہ انہیں کچھ نہیں دیتی تو کہتے ہیں:
كبريته يا كبريته، ست البيت عفريته
كبريت کے معنی ہیں گندھک، اور عفريت کے معنی ہیں شیطان۔
بعد میں جب میں posh area میں رہنے لگا تو یہ رسم و رواج دیکھنے کو نہیں ملتے تھے۔
مذکورہ بالا رسم برطانیہ اور امریکہ میں 31/اکتوبر کو منائے جانے والے تہوار
Halloween سے کچھ مشابہت رکھتی ہے۔ اس موقع پر محلے کے لڑکے لڑکیاں بھیس
بدل کر پڑوسیوں کے یہاں جا کر کہتے ہیں: Trick or treat جس کا مطلب ہوتا ہے کہ یا
تو ہماری خاطر داری کرو یا پھر ہم شرارت پر اتر آئیں گے۔

 
 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
مذہب و سیاست کی تطبیق

علامہ سید سلیمان ندویؒ، معارف، جولائی ۱۹۳۰ء کے شذرات میں لکھتے ہیں:

جس طرح کبھی معقول و منقول کی تطبیق، مذہب کی حفاظت کے لیے ضروری تھی، آج بعینہٖ اس طرح مذہب و سیاست کی تطبیق، مذہب کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ مسلمانوں میں چند ایسے اشخاص کی ضرورت ہے، جو مذہبی وابستگی و شیفتگی کے ساتھ، ملک و وطن کی خدمت کما حقہٗ انجام دے سکیں اور نادانوں کو دکھا دیں کہ دین و دنیا و سلطنت و تقویٰ اور سیاست و خدا ترسی کا اجتماع جس طرح پہلے ممکن تھا، اب بھی ممکن ہے۔

(شذرات سلیمانیؒ، حصہ: دوم، صفحہ: ٢٦۵/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*کیا ہم مسلمان (٤٣)خون دل و جگر سے ہے سَرمایۂ حیات  (پانچويں اور آخری قسط)*
 
*تحریر: شمس نوید عثمانیؒ*
ایک بار صفا پر چڑھتے ہوئے کسی کو یہ آیتِ قرآنی پڑھتے ہوئے سُنا:-
یہ ہے دن (آدمیوں کی) چھٹائی کا ـــــ ! سمیٹ لائے ہیں ہم تمہیں اور تم سے پہلوں کو۔۔۔۔۔  
دِل سے ایسی ہوک اُٹھی کہ خود کو سنبھال ہی نہ سکے ۔ ٹانگیں تھر تھرا رہی تھیں اور دل ایسا بھر آیا تھا کہ بس روتے چلے جارہے تھے۔ امام مزنیؒ کا غلام صالح جو یہ درد ناک منظر آنکھوں سے دیکھ رہا تھا گھر آیا تو آقا کو یہ قصّہ سُنایا ۔ امام مزنیؒ نے آہِ سرد بھرتے ہوئے بس اتنا کہا:-
بھائی یہ کوئی نئی بات نہیں ـــــ امام شافعیؒ پر تو خدا کا خوف مستول ہی رہتا ہے  ۔۔۔۔
ربیع بن سلیمانؒ ایک بار حج کے موقعہ پر امام شافعیؒ کے ہمراہ تھے ـــــ
ان کا کہنا ہے کہ ہر ہر نشیب و فراز پر امام صاحبؒ نغمہ و نالہ کے وجد انگیز عالم میں اُتر رہے تھے اور چڑھ رہے تھے روتے جاتے اور جذب و جنوں میں ڈوبے ہوئے اشعار پڑھتے جاتے تھے ۔
    عشقِ رسولﷺ کا سوز تو خدا نے ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھر ہی دیا تھا۔ تعلّق نے سپردگی اور سپردگی نے فدائیت و فنائیت کی وہ شکل اختیار کرلی تھی جہاں حُسن و عشق کے درمیان اپنے وجود کا ہلکے سے ہلکا احساس بھی حجابِ در میاں محسوس ہونے لگتا ہے ۔ چنانچہ خاص کیفیت میں فرمایا کرتے:
   کوئی بھی مسئلہ میری کتابوں میں اگر خلافِ کتاب و سنّت ہو تو تم اس کو دیکھو خوب سمجھ لینا کہ میں نے یقینٔا اس سے رجوع کر لیا ہے ــــــ دیکھو یہ بات یاد رہے کہ اگر صحیح حدیث مجھ تک پہنچے اور پھر میں اس پر عمل نہ کروں تو ....... تو میری عقل
میں فتور آچکا ہوگا ــــــ
اللہ اکبر ــــــ!
کیسے تھے وہ لوگ جو احادیث کے پائے ناز پر اس طرح آنکھیں مَلتے
اور کہتے تھے:
    اگر حدیثِ رسولﷺ ہم تک پہنچی اور ہم نے پھر بھی اس پر عمل نہ کیا تو سمجھ لینا کہ ہم پاگل اور سودائی ہو چکے ہوں گے ــــــ
ــــــ اور ــــــ کیا وقت آیا ہے آج غریب الدیار" اسلام "پر کہ پر لے سرے کے وہ  "دیوانے"  تو کیا مانتے " بہترین فرزانے " قرار دینے کی جسارتیں دکھا رہے ہیں جن کے ذہنی فساد کا یہ عالم ہے کہ انہیں " حدیث" سے "عجمی سازش" کی بُو آتی ہے اور جو "حدیث بیزاری " کی مکروہ ترین بنیاد پر یہ دعوی پیش کرتے ہیں کہ "دیکھو ہمیں ـــــ ہم کہ قرآن کے عاشق ہیں۔
جی ہاں اور وہ بھی ” مسلمان " ہیں ۔ بلکہ ان کی ضد ہے کہ " وہی مسلمان ہیں ـــــ !" کیوں کہ انھوں نے ائمہ و اسلاف کی روحوں پر " تاریک خیالی" کا حملہ کیا ہے اور تاریخ میں پہلی بار حدیث کے خون سے قرآن لکھنے کی کوشِش کی ہے ـــــ!
  ! ـــــ مگر یہ تھے امام شافعیؒ
کل کے " بندۂ مومن ـــــ آج کے "دانش ور" نہیں ـــــ ! وہ کتاب و سُنّت پر یوں جان نثار کرتے تھے کہ قرآن و حدیث کا ہر خادم ان کو اپنا "مخدوم" نظر آتا تھا ـــــ سچ یہ ہے کہ بڑا ہوتا ہی وہ شخص ہے جس کو اپنے چھوٹے ہونے کا احساسِ عجز تڑ پاتا رہے جو شکر نعمت سے کبر و نخوت کا سبق لینے کے بجائے حق کی بڑائی اور اہلِ حق کی عظمت کو اپنی آبرو کی طرح عزیز رکھتا ہو ۔
   ایک بار کسی نے امام حنیفہؒ کے متعلق ان کی رائے دریافت کی ۔ امام  صاحبؒ کا نام سُنتے ہی ان کا جوشِ عقیدت پھڑک اُٹھا
   امام ابوحنیفہؒ ـــــ ؟ سُن لو کہ لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہؒ کی اولاد ہیں ـــــ "
کسی نے امام سفیان ثوریؒ اور امام مالکؒ کا ذکر خیر سُننا چاہا تو خاص درد بھرے انداز میں ان کے عظمت کی یوں قسم کھائی:
" اگر یہ دونوں نہ ہوتے تو حجاز سے علم حدیث نا پید ہو جاتا "
امام مالکؒ کی کوئی بات نقل فرماتے تو کیا مجال ہے کہ اپنی شاگردانہ حیثیت فراموش کر جائیں ـــــ ہمیشہ یوں ہی آغاز فرماتے:
" "یہ ہے قول ہمارے استاد امام مالکؒ کا۔۔۔۔
کیا چیز ہے خدا کا حقیقی خوف بھی کہ جس دل کو یہ خوف چُھو گیا پھر اس کی "میں" کبھی سُنائی نہ دی ۔ حضرت امامؒ  نے حق کو اپنا یا بھی اور ساتھ ہی بحث و مناظرے کے اس محاذ پر باطل سے ٹکرائے بھی جہاں اعلائے کلمۃ الحق کو بُھول کر خود اپنی ذات کی " ہار جیت " کے جوش میں بڑی بڑی شخصیتیں بھی  " کٹ حجتی" کی دَلدل میں جا گرتی ہیں ـــــ مگر امام شافعیؒ کیسے خوش نصیب تھے کہ کبھی اس حادثۂ فاجعہ کا شکار نہ ہوئے ـــــ تحدیث نعمت کے جوش میں ایک بار کہہ اُٹھے:
"اپنی بڑائی یا اظہار فضیلت کے لیے میں نے کبھی کِسی سے مباحثہ نہ کیا۔
ہمیشہ کلمۂ حق کو سر بلند کرنے کا مقصد سامنے رہا ۔"  لیکن ٥٤ سالہ زندگی کا خونِ دل و جگر اس شان عجز سے خدمتِ دین اور اعلائے کلمۃ الحق میں نچوڑ دینے کے بعد بھی وہ کیسے ڈرتے تھے کہ میں اپنے خدا کی مزدوری کا حق ادا نہ کر سکا ـــــ ! ہر ہر سانس میں خوف و اُمید کی جو آگ اندر ہی اندر سُلگ رہی تھی " دم واپسیں " میں جیسے وہ سارا سوز و کرب سمٹ آیا تھا ـــ
❤2
امام صاحبؒ  " خونی بواسیر " کے مستقل مریض تھے ـــــ اور عمر بھر اسی عالم میں انھوں نے خدمتِ دین کے دشت و صحرا کی خاک چھانی تھی کہ اکثر سواری کی حالت میں خون جاری ہو جاتا تو ایسی تُلّو چھوٹتی کہ پائجامہ اور موزے تک خون سے تر ہو جاتے ـــــ لیکن اس کے باوجود یہ سفرِ شوق تھا کہ جاری ہی رہتا ـــــ کسی ایسے ہی سفرِ شوق میں وہ احقاقِ حق کی تڑپ لیے ہوئے ایک مناظرے میں پہنچے فریقِ ثانی کو شکست ہوئی تو وہ انتقام کے درپے ہوگیا ـــــ اور ایک اندھیری رات میں موقع پاکر حضرت امامؒ  کے سر پہ گرز سے قاتلانہ وار کردیا ـــــ ۳۰/ رجب ســـــہ٢٠٤ھ کو عصر کے وقت طبیعت زیادہ بگڑ گئی ـــــ امام مُزنیؒ  جو پاس بیٹھے تھے گھبرا گئے اور دل گیر آواز میں عرض کیا:-
  " اے اُستادوں کے اُستاد ـــــ کیسا مزاج ہے ؟" آج میں دُنیا سے رخصت ہونے والا ہوں " مومن ضعیف کی پُرسوز آواز آئی " اور اپنے بھائیوں سے جُدا ہونے والا ہوں اور اپنے بُرے اعمال کی سزا پانے والا ہوں ۔ خُدا کی بارگاہ میں میری پیشی ہوا چاہتی ہے اور …… خُدا کی قسم ! مجھے یہ خبر نہیں کہ میری رُوح جنّت میں جائے گی اور میں اسے مبارکباد دوں گا یا دوزخ میں جائے گی جہاں مجھے اس کی تعزیت کرنی پڑے گی ۔"
   اس کے بعد نمازِ مغرب پڑھی ـــــ اُدھر ایک سورج چھپ چکا تھا اور اِدھر یہ دوسرا آفتاب نماز مغرب کے بعد آہستہ آہستہ ہزاروں اشک آلود چہروں اور ترستی ہوئی نظروں کے سامنے غروب ہو رہا تھا ـــــ زندگی کے ٥٤ سال اور ان کے تمام کارنامے جس کی پشت پر ایک دنیا کو جگمگا رہے تھے وہ خود کس بے چارگی کے ساتھ کانپتی ہوئی آواز میں یہ التجائیں پیش کر رہا تھا:
 
" "مشہور عابد ادریسؒ ہیں ـــــ کوئی ہے جو ان سے جا کر کہہ دے کہ ِللہ شافعیؒ کی مغفرت کی دُعا فرمائیں۔۔۔۔
   اور پھر ـــــ ۵۴ سالہ جہاد زندگی سے نظر ہٹائے ہوئے ـــــ ہزارہا عقیدت مندوں کی کرب ناک عقیدتوں سے بے خبر، طنز و تعریض کے ہر خوف اور تحسین وستائش کی ہر خواہش سے بلند ـــــ یہ بندہ مومن خوف سے پتھرائی اور اُمید سے للچائی ہوئی آنکھوں سے صرف اپنے مالک یوم الدین کی طرف دیکھ رہا تھا‌ ـــــ اور تھر تھراتے ہوئے ہونٹ اس طرح اپنے مولا سے درد بھری سرگوشی کر رہے تھے:-
"الہی ـــــ! اگر تو میری لغزشیں معاف فرمادے تو ایک بڑے سرکش و ظالم و نافرمان کو معاف فرمائے گا اگر تو انتقام لے پھر بھی تیری ہستی سے میری آس تو نہ ٹوٹے گی ہاں خواہ میں اپنے اعمال کی بدولت جہنّم ہی میں کیوں نہ داخل کر دیا جاؤں میری خطائیں شروع سے آخر تک بہت بڑی ہیں، لیکن اے بخشنے والے ـــــ اے معاف کرنے اور ترس کھانے والے ! تیرا کرم اور تیری بخشش تو ان سے کہیں زیادہ بڑی ہے ـــــ"
اُمید و بیم کی یہی کیفیت تھی جو مغرب سے عشاء تک جاری رہی ـــــ یہ نماز عشاء اس زندگی کی سچ مچ آخری نماز تھی جس نے ہر ہر نماز کو اس طرح پڑھا تھا جیسے وہی زندگی کی آخری نماز ہو ـــــ نماز پڑھی اور پھر وہ عظیم " نمازی " اپنے خدا سے جاملا جس کی نماز نے فواحش ومنکرات سے اس طرح باز رکھا تھا کہ اس کی ساری زندگی ایک مسلسل نماز بن گئی تھی اور اس سے پر شوق مصافحہ کرنے کے لیے ملک الموت رحمت کے فرشتوں کے جلو میں عمر بھر اس انتظار میں کھڑا رہا کہ نمازی کب اس نماز سے فارغ ہو کر دمِ واپسیں پر سلام پھیرتا ہے!
_____
 
آج بھی مسلم ممالک کی سرزمین پر مساجد کا ایک زبر دست جال بچھا ہوا ہے ـــــ آج بھی مسجدیں دن میں پانچ بار نمازیوں کو نماز کے لیے پکارتی ہیں ـــــ اذانیں بھی ہو رہی ہیں ـــــ نمازی بھی آرہے ہیں ـــــ لیکن "نماز ـــــ؟ " آہ وہ کہاں ! آنکھیں ترستی ہیں کہ اُس " نماز " کو ایک نظر دیکھ سکیں جو اندر نفس کو بیڑیاں پہناتی ہے تو باہر طاغوت کو پابجولاں کر دیتی ہے ـــــ میرے مولا ! کیا نماز اُٹھائی جارہی ہے ـــــ ؟ حالاں کہ ہم سب "مسلمان" ہیں ! ایک دو ـــــ سو دو سو نہیں ـــــ تین سو تیرہ نہیں ـــــ پورے ستّر کروڑ مسلمان !! بلکہ اس سے بھی زیادہ !!!
***
 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
Audio
04 عبد الله بن حذافة السهمي.pdf
281.3 KB
صور من الصحابة - الملف الصوتي مع التمارين
2026-02-17 Yadoun Ka safar 89+90.pdf
137.5 KB
یادوں کا سفر (۸۹۔۹۰) اخلاق احمد دہلوی
*وفیات مورخہ:جولائی/ 23*
1968ء شفا گوالیاری ، سید محمد حسن۔ ،
1970ء غلام حبیب صدیقی۔ مولانا ،
1975ء ابو الوفا افغانی۔ علامہ، بانی دائرۃ المعارف النعمانیۃ
1978ء ذہین شاہ تاجی (سید محمد طاسین )۔ ،
1983ء سلیمہ خاتون۔ ،
1992ء سلیمان فرنجیہ۔ صدر لبنان
1998ء برق اجمیری (محمد عبدالعظیم خاں)۔ ،
1999ء عبدالحمید دہلوی۔ حکیم ، بانی ہمدرد دواخانہ دہلی
2002ء مشتاق احمد حیدری مجددی۔ حکیم قاضی ،
2004ء محمود علی۔ ٹی وی اداکار
2013ء یس یم سید ہاشم ممبئی شاہ۔ بھٹکلی سوشل ورکر
2016ء قاسم قریشی۔ مولانا، امیر تبلیغی جماعت کرناٹکا
2019ء خواجہ محمد اسلم۔
2020ء محمد مظفر کولا۔ بھٹکلی اہل خیر
2020ء علی حسین سلفی۔ مولانا، استاد جامعہ سلفیہ بنارس

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
ابو الوفا افغانی۔ ثناء اللہ عمری.pdf
793.2 KB
آج عظیم محقق وعالم دین علامہ ابو الوفا افغانی رحمۃ اللہ علیہ کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۲۳ جولائی ۱۹۷۵ء حیدرآباد دکن میں ہوئی تھی، آپ بہت بڑے مخطوطات شناس تھے،آپ دارالعلوم نظامیہ حیدرآباد کے فارغ التحصیل تھے، آپ کے قائم کردہ ادارے دائرۃ المعارف النعمانیۃ نے اپنے وقت میں احناف کی کتابوں کو عام کرنے میں بڑا کام کیا تھا، آپ کی علامہ محمد زاہد الکوثری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی دوستی تھی۔
آپ کو یاد کرتے ہوئے مولانا ثناء اللہ عمری کا ایک خاکہ علم وکتاب کی جانب سے پیش کیا جارہا ہے۔
❤4
*وفیات مورخہ:جولائی/ 24*
1901ء خواجہ غلام فرید۔ صوفی شاعر
1920ء یوسف العظمة۔ سوری مجاہد آزادی، وزیر دفاع
1984ء طالب بلوچ۔ ،
1986ء قدرت اللہ شہاب۔ ادیب، بیروکریٹ
1989ء عبداللہ شاہ صابری۔ ،
1991ء کیف بھوپالی، خواجہ محمد ادریس۔ شاعر
2001ء افضال انور۔ ،
2004ء جگن ناتھ آزاد۔ شاعر ،
2005ء برق زیدی۔ ،
2005ء حفظ الرحمٰن رام پوری۔ مولانا
2005ء شریف احمد گنگوہی۔ مولانا قاری
2009ء طاہر جمیل۔ ،
2016ء عبدالرؤوف سیتا پوری۔ مولانا مفتی
2017ء نیر مسعود۔ ادیب

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
آج اردو کے مایہ ناز شاعر ومحقق ماہر اقبالیات جگن ناتھ آزاد کا یوم وفات ہے، آپ کی رحلت مورخہ: ۲۴ جولائی ۲۰۰۴ء کو ہوئی تھی، اس مناسبت سے آپ کا ۱۹۸۱ء دبی کے پہلے انٹرنیشل مشاعرے میں پیش کردہ کلام پیش خدمت ہے۔
کلام آواز: جگن ناتھ آزاد
پھر بھی کم تھا
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=phir-bhi-kam-tha, Phir Bhi Kam Tha
مزید کلام سننے کے لئے اردو آڈیو ڈاٹ کام کی مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jagan-nath-azad&t=
*غلطی ہائے مضامین*

*جگہ جگہ "پوڈ کاسٹ" نہ کرتے پھریے*

*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*

کالم نگار کراچی پہنچا تو کئی لوگ منتظر تھے۔ دائرہ علم و ادب سندھ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اورنگ زیب رہبرؔ، ادارہ معارفِ اسلامی کراچی کے محمود الحق صدیقی اور اپنی ذات میں شہر کراچی کے ’’دائرۂ معارف‘‘ جناب اقبال اے رحمٰن مانڈَوِیا… ان سب صاحبوں سے کسی نہ کسی تقریب میں شرکت کا وعدہ کررکھا تھا۔ البتہ عزیزم سید عامر اشرف سے کوئی وعدہ تھا، نہ ملنے کا ارادہ۔ مگر عامر اشرف سر ہوگئے کہ ’’شرفِ ملاقات بخشیے‘‘، سو بخشا۔ ہم سے زبردستی یہ شرف بخشوا کر اُنھوں نے ایک مصاحبہ بھی عکس بند و صدا بند کروا لیا۔ مصاحبہ بے حد دلچسپ اور خوش گوار رہا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل یہ مصاحبہ زبان وبیان کے کئی موضوعات پر محیط تھا، جو ’جسارت برقی‘ پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اس مصاحبے کی عکس بندی و صدابندی بھی ’جسارت برقی‘ کی خوب صورت نشرگاہ میں ہوئی اور چائے بسکٹ کے ساتھ ہوئی۔

’’جسارت برقی‘‘ تو ہم نے لکھا ہے، ورنہ وہ خود اسے ’’جسارت ڈیجیٹل‘‘کہتے ہیں۔ اُردو میں انگریزی ملا کر بولنے کی جسارت ہم سے توہو نہیں پاتی۔ اہلِ ’’جسارت‘‘کو بھی یہ جسارت نہیں کرنی چاہیے۔ ’’مگر حفیظؔ کو یہ بات کون سمجھائے؟‘‘ روزنامہ ’’جسارت‘‘ آج کل دو شکلوں میں شائع ہوتا ہے۔ ایک ورقی اور ایک برقی۔ برقی جسارت کو ’’جسارت ڈیجیٹل‘‘کہا جاتا ہے۔ انگریزی لفظ ‘Digital’کے لفظی معنی تو ہیں’عددی‘۔ ‘Digit’ہندسے کو کہتے ہیں۔ صفر سے ۹ تک کے اعداد کو۔ مگر آج کل ‘Digital’ سے مراد وہ تمام معلومات، تصاویر، عکس و آواز اور اطلاعات لی جاتی ہیں جن کو برقی صورت میں محفوظ یا منتقل کیا جاتا ہے۔ برقی صورت کو ‘Digital’ کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ پورا برقی سلسلہ دو ہندسوں، صفر اور ایک(1,0)، کے مختلف امتزاج سے بننے والے ثنائی نظام (Binary System) کے تحت چلتا ہے۔ اسے انگریزی میں ‘Digital’ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ مگر اُردو اصطلاحات اگر اُردو اخبارات اور اُردو نشریات میں بھی استعمال نہ ہوں گی تو پھر کہاں استعمال کی جائیں گی؟ ’’اسٹوڈیو‘‘ کو ’’نشرگاہ‘‘ کہہ دینے سے آپ کی عکاسی ماند پڑے گی نہ صدا بندی میں کوئی رخنہ آئے گا۔ ’’جسارت ڈیجیٹل‘‘ کو بھی اگر ’’جسارت برقی‘‘ کہا جائے اور بار بار کہا جائے تو یہ اصطلاح بھی عام ہوجائے۔ یوں’’جسارت‘‘ کو حسبِ سابق ایک بار پھر منفرد قائدانہ مقام حاصل ہوجائے گا۔ ماضی کے بہت سے معاملات میں ’جسارت‘ نے پیشوائی کی اور دوسروں نے تقلید۔

مصاحبے کے نشریے کو بھی بار بار ’’پوڈکاسٹ‘‘ کہا گیا۔ یہ ’’پوڈکاسٹ‘‘ کیا بلا ہے؟ اس کی کھوج میں پڑے تو پتا چلا کہ پہلے ’’ایپل کمپنی‘‘نے ‘iPod’متعارف کرایا تھا۔ جس پر سمعی و بصری نشریات (Broadcasts) منتقل کرلی جاتی تھیں اور بڑے پیمانے پر پھیلائی جا سکتی تھیں۔ 12 فروری 2004ء کو برطانوی اخبار ’گارجین‘(The Guardian) میں برطانوی صحافی بین ہیمرزلے (Ben Hamersley) نے ‘iPod’ کے ‘Pod’ اور ‘Broadcast’ کے ‘Cast’ کو ملا کر پہلی بار ‘Podcast’ کی اصطلاح استعمال کی۔ وہاں کے لوگوں نے اس اصطلاح کے استعمال پر اعتراضات جَڑنے اور مشکل یا نامانوس قرار دینے کی بجائے اسے استعمال کرنا شروع کردیا اور جلد ہی یہ لفظ دنیا بھر میں پھیل گیا۔ حتیٰ کہ 2005ء میں ‘New Oxford American Dictionary’ نے اسے ’سال کا منتخب لفظ‘ (Word of the Year) قرار دے کر اپنی ڈکشنری میں بھی شامل کرلیا۔ ذخیرۂ الفاظ اسی طرح بڑھتا ہے۔
اپنی زبان کے ساتھ ہمارا رویہ بھی یہی رہنا چاہیے۔ نئے الفاظ کو تو چھوڑیے، اُردو میں پہلے سے موجود اور مستعمل الفاظ بھی استعمال کرتے ہوئے ہمارے ماہرینِ ابلاغ جھجکتے ہیں، خوداعتمادی میں کمی کی وجہ سے۔ مثلاً گفتگو یا تحریر وتقریر میں الیکٹرونک میل یا ای میل کی پرائی اصطلاح کو کثرت سے استعمال کرکے رواج دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن اگر کہا جائے کہ اسے اپنی زبان میں ’برقیہ‘ کہیے (جو پہلے بھی ٹیلی گرام کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے) تو آج ہی دیکھ لیجے گا کہ کیسے کیسے عذر ہائے لنگ پیش کیے جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوگا جیسے ’برقیہ‘ کہتے ہی سب کو بجلی کا جھٹکا لگ گیا ہے۔ طرح طرح کے اعتراضات شروع ہوجائیں گے۔ سب سے ’بڑا‘ اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ’’اسے کون سمجھے گا؟‘‘ ایسے لوگوں سے خدا سمجھے۔ کیا جب آپ نے ‘Podcast’ کی اصطلاح استعمال کرنی شروع کی تھی تو یہ جان کر کی تھی کہ اسے فوراً ہی سب سمجھ لیں گے؟ آپ نے توکثرتِ استعمال سے انگریزی کے نامانوس الفاظ بھی مانوس کردیے ہیں، جب کہ اپنی عزیز قومی زبان کے مانوس الفاظ کو بھی عدم استعمال سے نامانوس بناکر گفتگو اور تحریر و تقریر سے خارج کردیا۔ سوچیے تو سہی کہ آپ روزانہ انگریزی کے کتنے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جن کے اُردو متبادل خود آپ کو معلوم ہیں، کسی سے پوچھنے کو اُس کے گھر جانے کی ضرورت نہیں۔ کل کلاں کو آپ کہیں گے میز، کرسی، قلم، کتاب،کمرہ ، دروازہ، کھڑکی اور تالا سب اجنبی اور نامانوس الفاظ ہیں، کیوں کہ تعلیمی اداروں، دفاتر اور نشریاتی اداروں میں اب ان تمام کے صرف انگریزی متبادل ہی کثرت سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ادھر مائیں ہیں کہ اپنی زمین پر اُکڑوں بیٹھی اپنے بچوں کو بنانا، ایپل اور مینگو کھلا رہی ہیں۔ بھلافاسٹ فوڈ میں جِنجر کھانے والا ’’بندر کیا جانے ادرک کا سواد‘‘۔

برطانوی صحافی کی ایجاد کردہ اصطلاح ‘Podcast’ دنیا بھر میں ایک وبا کی طرح پھیل گئی۔ اگر ہمارے صحافیوں کے ’دل سے پنجرہ‘ نکال لیا جائے تو شاید اُن میں بھی اتنی خوداعتمادی پیدا ہوجائے کہ اپنی قومی زبان اُردو کے الفاظ بے جھجک استعمال کرنے لگیں۔ ذرائع ابلاغ سے جو الفاظ تکرار کے ساتھ نشر ہوتے ہیں عوام الناس کی زبان پر بھی چڑھ جاتے ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ اگر انگریزی میں ’پوڈکاسٹ‘ ہے تو ہم اُردو میں بھی ’پوڈکاسٹ‘ ہی کہیں۔ ’نشریہ‘ کہنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ ’پوڈکاسٹ‘ کے مقابلے میں سہل اور سُبک لفظ ہے۔ ہماری زبان کے ترنم سے ہم آہنگ ہے۔ مگرجب یہ کہا جاتا ہے کہ

’’ہم آپ کو آج کے پوڈکاسٹ میں خوش آمدید کہتے ہیں‘‘۔

تو یہ سُن کر طبیعت کچھ ایسی مکدر ہوجاتی ہے جیسے کسی انگریزی بیت الخلا میں خوش آمدید کہا جارہا ہو۔ ’پوڈکاسٹ‘ کی صوتی ہم آہنگی ہی کچھ ایسی چیز سے ہے۔ اکثرجی چاہتا ہے کہ نفاستِ طبع کی طرف سے انھیں صفائی پسندانہ مشورہ دیا جائے کہ

’’حضور! یوں جگہ جگہ ’پوڈکاسٹ‘ نہ کرتے پھریے‘‘۔

مگر جہاں سب بیٹھے ’پوڈکاسٹ‘ کررہے ہوں، وہاں سے ناک دبا کر گزر جانا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اگر یوں کہا جاتا کہ

’’ہم آپ کو آج کے اِس نشریے میں خوش آمدید کہتے ہیں‘‘

تو کتنا بھلا محسوس ہوتا۔ ’نشریہ‘ کوئی ایسا اجنبی اور نامانوس لفظ بھی نہیں۔ کالم نگار کا تجزیہ ہی نہیں، تجربہ بھی یہی ہے کہ لوگوں کو جب ادق انگریزی الفاظ کے سہل اُردو متبادل مل جاتے ہیں تو اُن کی طبیعت میں ایک فرحت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کتنا آسان لفظ ہے۔ مگر آسان سے آسان لفظ کو بھی زبان پر لانا اس وجہ سے مشکل ہوگیا ہے کہ ہرشخص اِسی اُدھیڑ بُن میں مبتلا رہتا ہے کہ کون اُٹھے اور کھڑکی کھولے؟ اُردو کے چاہنے والے بہت ہیں۔ ان میں سے کسی کو تو پہل کرنے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہیے۔ اگر آپ ’’جسارت ڈیجیٹل‘‘کو ’جسارت برقی‘ کہنا شروع کردیں اور’آج کے پوڈ کاسٹ‘ میں خوش آمدید‘ کہنے کی بجائے ’آج کے نشریے میں خوش آمدید‘ کہا کریں تو آپ کی ’شرحِ دید‘ میں کمی نہیں کچھ اضافہ ہی ہوگا۔ پھر آپ کی دیکھا دیکھی دوسروں کو بھی رغبت ہوگی کہ کلام میں دل کشی پیدا کرنے کے لیے اُردو بولتے ہوئے اُردو ہی بولیں۔ بولا بولا کر اُردو میں ہر دوسرا تیسرا لفظ انگریزی کا نہ ٹھونک دیا کریں۔ اپنے اندر اعتماد پیدا کیجیے۔ آپ وقت کا دھارا موڑ سکتے ہیں۔ پرانے رجحانات تبدیل کرسکتے ہیں اور نئی رجحان سازی کر سکتے ہیں۔ بقول اسرارؔ ناروی (ابن صفی)

جو موجِ طوفاں سے لڑ سکے گا اُسی کا دنیا میں نام ہوگا
جو اپنی کشتی میں بچ رہے گا، وہی علیہ السلام ہوگا
👍1
حقیقتِ رحمت اور فرضِ انسانیت

رحمت کا لفظ، ایک نورانی لفظ ہے، جس کے حروف بڑی رقت رکھتے ہیں، مگر اس کے جلو میں معانی کی وہ دنیا آباد ہے کہ عقل کو اس کے سوچنے کا اور زبان کو اس کی ادائی کا یارا نہیں۔ بس اس کے جلوے دلوں کو دلکش معانی سے آشنا کرتے ہیں اور فکر و نظر کی کہکشاں سجاتے ہیں؛ اس کا سب سے دلکش جلوہ ہے، مخلوقات کو ہلاکت سے بچانا، اس کے تحت انسانیت کا فرض بنتا ہے کہ بھوکے کو دو وقت کی روٹی اور بے لباس کو لباس فراہم کیا جائے، کمزور اور ناتواں کی خبر گیری کی جائے، بڑوں کی توقیر اور چھوٹوں پر شفقت کی جائے، آبرو کی حفاظت کی جائے، انسان کی انسانیت کا احترام کیا جائے اور تمام مخلوقات الہٰی کے ساتھ نرمی اور خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے۔

(حوالہ: رسولِ رحمت ﷺ، مولانا فیصل احمد ندوی صاحب، مترجم: مولانا محمد سمعان خلیفہ ندوی صاحب، صفحہ: ۱۹)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
تعارفی صفحات اسلام اور عصر جدید جنوری 2026
(تازہ شمارہ)
*وفیات مورخہ:جولائی/ 25*
2022ء آغا سید حامد (علی شاہ موسوی)۔
1991ء انیس ہاشمی۔ ،
1990ء ایس۔ اے رحمن۔ ڈاکٹر ، جسٹس (ر)
1980ء آفاق احمد رودولی، شاہ۔ شاہ
1980ء آفاق احمد رودولی، شاہ۔ شاہ
2013ء بلند اقبال۔ استاد
2001ء پھولن دیوی۔ ڈکیٹ
1998ء جمیل احمد صدیقی جمالی۔ صوفی ،
1992ء چنگیزی، مرزا مرتضٰی حسین۔ ،
1982ء خد یجہ مستور۔ افسانہ نگار
1985ء سبطین فضلی۔
2009ء سعادت علی قادری۔ مولانا ،
1986ء سید احمد برماور(صاحبو۔ اولین بھٹکلی ڈاکٹر
1989ء سید محمد عبداللہ شاہ قادری چشتی نقشبندی۔ ،
1980ء شاہ آفاق احمد ردولوی۔
2008ء شہریار قدوسی۔ بروڈ کاسٹر ،
2021ء ظیہر احمد قاسمی۔ مولانا
2002ء عبد الرحمن بدوی۔ مصری فلسفی
1994ء عبد العزیز صالح آل صالح۔ امام مسجد نبوی
1969ء عبدالرحمٰن قلندر شاہ نقشبندی۔ ،
2011ء فضل الرحمٰن فریدی۔ ڈاکٹر ، ماہر معاشیات

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
اے آئی ٹول #Claude اور #مکتبہ_شاملہ کا امتزاج — جدید علمی تحقیق کا ایک مؤثر ذریعہ

✍️ #محمدیاسرنعمانی ( جامعہ دارالعلوم حقانیہ)

نوٹ: یہ تحریر مفتی شاد محمد صاحب ( Shad Muhammad ) کی ویڈیو کا خلاصہ ہے، جسے آسان اور عام فہم انداز میں قارئین کی سہولت کے لیے مرتب کیا گیا ہے اور ہم ڈاکٹر شاد محمد صاحب کے انتہائی مشکور بھی ہیں ۔

رات گئے Claude AI اور مکتبہ شاملہ کے امتزاج کے بارے میں ایک ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا۔ تجسس ہوا کہ آخر یہ نظام کس طرح کام کرتا ہے، چنانچہ اس کی تفصیلات دیکھیں۔ تحقیق کے بعد محسوس ہوا کہ اس کا تعارف دوسرے اہلِ علم تک بھی پہنچنا چاہیے تاکہ وہ بھی اس جدید سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ روایتی مکتبہ شاملہ میں سرچ کرنے کی ایک بڑی محدودیت یہ رہی ہے کہ جب تک کتاب میں موجود عین وہی الفاظ یا جملہ نہ لکھا جائے، مطلوبہ

عبارت سامنے نہیں آتی۔ صرف موضوع یا مفہوم کی بنیاد پر تلاش کرنا ممکن نہیں تھا۔
دوسری طرف Claude AI انسانوں کی طرح گفتگو اور تجزیہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کی ایک بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ بعض اوقات اپنی طرف سے غلط معلومات، غیر مستند حوالہ جات یا جعلی احادیث و فقہی عبارات بھی پیش کر دیتا ہے، جو علمی تحقیق میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

اب عرب اہلِ علم نے ان دونوں کی خوبیوں کو یکجا کر دیا ہے۔ Claude کو مکتبہ شاملہ کے ساتھ کنیکٹ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد صرف موضوع یا ٹاپک بتانا کافی ہوتا ہے۔ عین وہی الفاظ لکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یہ مادّہ، اسم، فعل، واحد و جمع اور دیگر صرفی و لغوی تبدیلیوں کو سمجھ کر مکتبہ شاملہ کی مستند کتب سے متعلقہ عبارات، حوالہ جات اور ضروری تفصیلات تلاش کر کے پیش کر دیتا ہے۔

مثلاً اگر کسی فقہی، حدیثی یا تفسیری مسئلے پر تحقیق درکار ہو تو صرف موضوع لکھنے سے یہ مکتبہ شاملہ کی متعلقہ مستند کتابوں سے اصل عبارات، مکمل حوالہ جات، لغوی تعریفیں، فقہی تقسیم اور دیگر متعلقہ مباحث منظم انداز میں پیش کر دیتا ہے۔ اگر کسی حدیث کی تخریج مطلوب ہو تو متعلقہ محدثین کی عبارات بھی اصل ماخذ سے نقل کرتا ہے، نہ کہ اپنی طرف سے عبارت گھڑتا ہے۔

طریقۂ استعمال:
1. گوگل سے #Claude کی موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے لاگ اِن کریں۔
2. #المکتبۃالشاملۃ۔ Shamela MCP Extension ڈاؤن لوڈ کریں۔
3. ایپ کی Settings → Extensions → Advanced Settings میں جا کر یہ فائل انسٹال کریں۔
4. پھر Connector میں جا کر Shamela Library کو فعال کریں اور اپنی مطلوبہ کمانڈ دیں۔
ایک اہم #بات : اس سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے مکتبہ شاملہ 4 کا جدید ورژن موجود ہونا ضروری ہے۔
مفتی شاد محمد صاحب نے بجا فرمایا کہ تخصصِ افتاء اور دیگر دینی علوم کے ابتدائی طلبہ کو اس پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہیے، تاکہ ان کی اپنی علمی استعداد اور تحقیقی صلاحیت متاثر نہ ہو۔ البتہ ضرورت کے وقت یا علمی پختگی کے بعد یہ ٹول تحقیق میں نہایت مفید معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
#ویڈیو کا لنک اور #Shamela MCP Extension کا لنک کمنٹ میں موجود ہے۔
❤4