ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، اپنے دور میں ریاست یوپی کے ایک مشہور ملی وسماجی رہنما تھے، آپ نے ڈاکٹر عبد الجلیل فریدیؒ، اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی رفاقت میں ایک طویل جد وجہد کی، آپ ملک کے کے مایہ ہفت روزہ ندائے ملت لکھنو کے مدیر بھی رہے، آپ کی وفات مورخہ : ۲۹ اگست ۲۰۰۳ء کو واقع ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک یادگار ویڈیو تقریر پیش خدمت ہے۔ لنک
https://www.youtube.com/watch?v=iVf6-20o29w&list=PL5AFF3B0018DDC975&index=19
https://www.youtube.com/watch?v=iVf6-20o29w&list=PL5AFF3B0018DDC975&index=19
YouTube
Dr Ishtiaq Husain Quraishi (Lucknow) Seerat Ka Paigham 1987 Dubai
سیرت النبی ﷺ کا پیغام
خطاب ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم
سابق مدیر ندائے ملت لکھنو
جنرل سکریٹری مسلم مجلس یوپی
خطاب ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم
سابق مدیر ندائے ملت لکھنو
جنرل سکریٹری مسلم مجلس یوپی
2026-08-29 Yadoun Ka safar 96+97.pdf
178.9 KB
یادوں کا سفر (96+97) اخلاق احمد دہلوی
مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟( 06 )
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
بڑی کتابیں جو مراجع اور ریفرنس کی حیثیت رکھتی ہیں، اساتذہ وغیرہ تدریس کی ضرورت کے تحت ان کا مکمل مطالعہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، ورنہ عام قارئین سے اس کی توقع رکھنا مشکل ہوتا ہے، ایسی کتابیں عموما وقتاً فوقتاً اہم مسائل کے رجوع میں کام آتی ہیں، ان کتابوں سے تعلق اور مطالعہ ضروری ہےاور اس کا بہترین طریقہ وہی ہے جو اوپر قرآن و حدیث کے تعلق سے بیان ہوا ہے، ایک قاری کو زندگی میں پیش آنے والے مختلف مسائل کے تعلق سے ان مراجع میں تلاش جاری رکھنی چاہئے اور متعلقہ عبارتوں کو ایک مفتی کی طرح مناسب عنوانات کے تحت نوٹ بک میں جلد اور صفحات کے حوالے کے ساتھ لکھ کر محفوظ کرنا چاہئے، اس میں اس بات کا اہتمام بھی کرنا چاہئے کہ ایک صفحہ پر دو عنوانات کے تحت مواد درج نہ ہو، تاکہ ہر صفحہ ایک کارڈ کی حیثیت اختیار کرےاور موضوع سے متعلق مزید نظر میں آنے والی چیزوں کا اضافہ اس کے نیچے ہوتا رہے، جس کاپی پر لکھا جائے اسے مستقل نمبر دیا جائے اور صفحات کے نمبرات کا اہتمام کیا جائے، تاکہ آئندہ الف بائی ترتیب پر ان کی موضوعات کی ایک فہرست بنائی جاسکے۔ حاصل مطالعہ کے لئے جو بھی نوٹ بک منتخب کی جائے، وہ بہت معیاری ہونی چاہئے، جس میں آئندہ بیسیوں سال تک محفوظ رہنے کی صلاحیت ہوتاکہ جب آپ کے پاس ضروری مراجع دستیاب نہ ہوں تو یہ نوٹس آپ کے لئے ان کا نعم البدل بن سکیںاورقاری کی پیرانہ عمری میں جب ان پر نظر پڑے تو اسے اپنے اوقات کے اس مفید استعمال پر خوشی ومسرت ملےاور یہ اس کے لئے ایک یادگار بن جائے اور اللہ پوتے پوتیوں سے جب نوازے تو انہیں بھی شوق سے دکھا سکے۔
مطالعہ کا ذوق نہ ہونے کا ایک بہت بڑا سبب کتابوں کے انتخاب کی صلاحیت کا فقدان اور باذوق اور قابل مشیروں سے محرومی ہے، کوسنے والے اساتذہ عموما اپنی نااہلی کی وجہ سے اپنے طلبہ کے ساتھ ایسا رویہ اپناتے ہیں، انہیں نونہالوں کے مزاج اور میلان سے آگاہی نہیں ہوتی، بس مطالعہ کے لئے کہنا ایک فیشن بن گیا ہے، ورنہ ایسے اساتذہ کو عموما خود بھی مطالعہ کا ذوق نہیں ہوتا، ایسے اساتذہ اور رہنما عموما اپنے طلبہ کو بڑی مشکل اور غیر دلچسپ اور خالص مذہبی نوعیت کی کتابیں پڑھنے کے لئے کہتے ہیں، جو ایک غلط طریقہ کار ہے۔
ایک طالب علم جو سارا دن نصاب کی خشک کتابوں میں سرکھپاتا ہے، اسے مزید ایسی ہی خشک کتابیں پڑھنے کے لئے کہا جائے گا تو یہ اس کے ساتھ بڑا ظلم ہوگا، طالب علم کو جب تک کتاب میں مزہ نہ آئے، وہ کبھی اسے ہاتھ نہیں لگائے گا، لہٰذا دماغ پر بوجھ نہ بننے والی دلچسپ کتابیں ذوق مطالعہ پیدا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں، چھوٹے بچوں کو عموما کہانیوں اور کومیکس میں دلچسپی ہوتی ہے، یہ کتابیں ان کے خیالات بلند کرنے میں ممد و معاون بنتی ہیں، لہٰذا آسان کتابوں سے مطالعہ کا آغاز کروانا چاہئےاو راس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ایسی کتابیں ان کے ہاتھوں میں دی جائیں جن کا آٹھواں حصہ ان کے لئے نیا ہواور باقی سات حصوں کی معلومات مختلف پیرایوں میں پہلے سے انہیں حاصل ہو، یاجنہیں بغیر استاد یا رہنما کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو یعنی ایک صفحہ پرپانچ چھ سطر کے تناسب سے مواد ہی ان کے لئے اجنبی ہو، جب ایک قاری کسی کتاب کو پڑھنا شروع کردے گا تو جوآسان سات حصے ہیں ،وہ اس کی معلومات کو دہرانے کا سبب بنیں گےاور یہ معلومات کی تکرار کا کام لاشعوری طور پر کریں گےاور جو آٹھواں حصہ اس کے سامنے ایسا آیا ہے جو نیا ہے، یا استاد یا لغت کی مدد سے اس کی سمجھ میں آیا ہے، یہ تاجر کے منافع کی طرح ، اس کی معلومات میں اضافہ ہے۔ لہٰذا ایک قاری کو اپنے ساتھ ہائی لائٹ کرنے والی ایک لال اور دوسری پیلی یا کسی اور رنگ کی پنسل رکھنی چاہئے، جو بات چونکا دینے والی یا دلچسپ ہو اس پر پیلے رنگ سے اور جو قابل اعتراض ہو اسے لال رنگ سے ہائی لائٹ کرے اور حاشیے پر ان عبارتوں کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کرے۔
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
بڑی کتابیں جو مراجع اور ریفرنس کی حیثیت رکھتی ہیں، اساتذہ وغیرہ تدریس کی ضرورت کے تحت ان کا مکمل مطالعہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، ورنہ عام قارئین سے اس کی توقع رکھنا مشکل ہوتا ہے، ایسی کتابیں عموما وقتاً فوقتاً اہم مسائل کے رجوع میں کام آتی ہیں، ان کتابوں سے تعلق اور مطالعہ ضروری ہےاور اس کا بہترین طریقہ وہی ہے جو اوپر قرآن و حدیث کے تعلق سے بیان ہوا ہے، ایک قاری کو زندگی میں پیش آنے والے مختلف مسائل کے تعلق سے ان مراجع میں تلاش جاری رکھنی چاہئے اور متعلقہ عبارتوں کو ایک مفتی کی طرح مناسب عنوانات کے تحت نوٹ بک میں جلد اور صفحات کے حوالے کے ساتھ لکھ کر محفوظ کرنا چاہئے، اس میں اس بات کا اہتمام بھی کرنا چاہئے کہ ایک صفحہ پر دو عنوانات کے تحت مواد درج نہ ہو، تاکہ ہر صفحہ ایک کارڈ کی حیثیت اختیار کرےاور موضوع سے متعلق مزید نظر میں آنے والی چیزوں کا اضافہ اس کے نیچے ہوتا رہے، جس کاپی پر لکھا جائے اسے مستقل نمبر دیا جائے اور صفحات کے نمبرات کا اہتمام کیا جائے، تاکہ آئندہ الف بائی ترتیب پر ان کی موضوعات کی ایک فہرست بنائی جاسکے۔ حاصل مطالعہ کے لئے جو بھی نوٹ بک منتخب کی جائے، وہ بہت معیاری ہونی چاہئے، جس میں آئندہ بیسیوں سال تک محفوظ رہنے کی صلاحیت ہوتاکہ جب آپ کے پاس ضروری مراجع دستیاب نہ ہوں تو یہ نوٹس آپ کے لئے ان کا نعم البدل بن سکیںاورقاری کی پیرانہ عمری میں جب ان پر نظر پڑے تو اسے اپنے اوقات کے اس مفید استعمال پر خوشی ومسرت ملےاور یہ اس کے لئے ایک یادگار بن جائے اور اللہ پوتے پوتیوں سے جب نوازے تو انہیں بھی شوق سے دکھا سکے۔
مطالعہ کا ذوق نہ ہونے کا ایک بہت بڑا سبب کتابوں کے انتخاب کی صلاحیت کا فقدان اور باذوق اور قابل مشیروں سے محرومی ہے، کوسنے والے اساتذہ عموما اپنی نااہلی کی وجہ سے اپنے طلبہ کے ساتھ ایسا رویہ اپناتے ہیں، انہیں نونہالوں کے مزاج اور میلان سے آگاہی نہیں ہوتی، بس مطالعہ کے لئے کہنا ایک فیشن بن گیا ہے، ورنہ ایسے اساتذہ کو عموما خود بھی مطالعہ کا ذوق نہیں ہوتا، ایسے اساتذہ اور رہنما عموما اپنے طلبہ کو بڑی مشکل اور غیر دلچسپ اور خالص مذہبی نوعیت کی کتابیں پڑھنے کے لئے کہتے ہیں، جو ایک غلط طریقہ کار ہے۔
ایک طالب علم جو سارا دن نصاب کی خشک کتابوں میں سرکھپاتا ہے، اسے مزید ایسی ہی خشک کتابیں پڑھنے کے لئے کہا جائے گا تو یہ اس کے ساتھ بڑا ظلم ہوگا، طالب علم کو جب تک کتاب میں مزہ نہ آئے، وہ کبھی اسے ہاتھ نہیں لگائے گا، لہٰذا دماغ پر بوجھ نہ بننے والی دلچسپ کتابیں ذوق مطالعہ پیدا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں، چھوٹے بچوں کو عموما کہانیوں اور کومیکس میں دلچسپی ہوتی ہے، یہ کتابیں ان کے خیالات بلند کرنے میں ممد و معاون بنتی ہیں، لہٰذا آسان کتابوں سے مطالعہ کا آغاز کروانا چاہئےاو راس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ایسی کتابیں ان کے ہاتھوں میں دی جائیں جن کا آٹھواں حصہ ان کے لئے نیا ہواور باقی سات حصوں کی معلومات مختلف پیرایوں میں پہلے سے انہیں حاصل ہو، یاجنہیں بغیر استاد یا رہنما کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو یعنی ایک صفحہ پرپانچ چھ سطر کے تناسب سے مواد ہی ان کے لئے اجنبی ہو، جب ایک قاری کسی کتاب کو پڑھنا شروع کردے گا تو جوآسان سات حصے ہیں ،وہ اس کی معلومات کو دہرانے کا سبب بنیں گےاور یہ معلومات کی تکرار کا کام لاشعوری طور پر کریں گےاور جو آٹھواں حصہ اس کے سامنے ایسا آیا ہے جو نیا ہے، یا استاد یا لغت کی مدد سے اس کی سمجھ میں آیا ہے، یہ تاجر کے منافع کی طرح ، اس کی معلومات میں اضافہ ہے۔ لہٰذا ایک قاری کو اپنے ساتھ ہائی لائٹ کرنے والی ایک لال اور دوسری پیلی یا کسی اور رنگ کی پنسل رکھنی چاہئے، جو بات چونکا دینے والی یا دلچسپ ہو اس پر پیلے رنگ سے اور جو قابل اعتراض ہو اسے لال رنگ سے ہائی لائٹ کرے اور حاشیے پر ان عبارتوں کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کرے۔
ہمارے بچپن میں نیلے اور لال رنگ کی دورنگی موٹی پنسل ملا کرتی تھی ، مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے معلوم ہوا کہ یہ در اصل مطالعہ کتب کی پنسل تھی،حضرت مولانا کے ابتدائی تعلیمی دور میں مصر وغیرہ کی نئی کتابیں کہاں دستیاب ہوتی تھی؟،اس زمانے میں مشکل سے جدید اسلوب میں لکھی استاد احمد امین مصری کی کتاب ”فجر الاسلام“ہاتھ آئی تھی، جس کی اہم اور دلچسپ عبارتوں کو آپ نے رنگین کرکے مکمل پڑھا تھا، اس طرح اہتمام سے کتاب پڑھنے کی وجہ سے احمد امین کی تحریر کے ادبی رنگ سے آپ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکےاور اسے نمونہ بنا کر آپ نے اپنی معرکۃ الاراء کتاب ”ماذا خسر العالم“ لکھی تھی، جس کا پہلا ایڈیشن لجنة التأليف والترجمة والنشر سے احمد امین نے شائع کیا تھا، جب آپ سے ملاقات میں مولانا نے انہیں ”فجر الاسلا م “ کی عبارتوں کو رنگین کرنے اور جگہ جگہ اس کے حاشیہ پر اپنے تاثرات قلم بند کرنے کا ذکر کیاتو استاد احمد امین نےمولانا کے اس نسخے کو دیکھنے کی بڑی خواہش ظاہر کی تھی۔
ایک قاری کسی کتاب کی اہم اور دل کو چھو لینے والی عبارتوں کو منتخب کرتا ہےتو اس کے معلوماتی ذخیرہ میں ایک طرح سے یہ اضافہ ہوتا ہے، اسے مخصوص ڈائری میں قلمبند کرنے کی عادت بہت مفید ثابت ہوتی ہے، یہ لاشعوری طور پر عبارت کی تکرار کے مماثل ہے ، کیونکہ ماہر ین نفسیات کے مطابق ایک مرتبہ لکھنا بیس مرتبہ پڑھنے کے برابر ہوتاہے۔ اس سے غیر شعوری طور پر منتخب عبارتیں یاد داشت کا حصہ بن جاتی ہے اور دوبارہ اس کتاب کو پڑھنے کی ضرورت کم ہی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ یہ منتخب عبارتیں سیاق و سباق سے وابستہ عبارتوں کو ذہن کے سامنے لے آتی ہیں۔
ہمارے مولانا شہباز اصلاحی مرحوم طلبہ کے تقریری مظاہروں میں علامہ شبلی ؒ کے دیباچہ سیرت النبی جیس مشکل عبارتوں کو یاد کروانے کے مخالف تھے، وہ کہتے تھے کہ اس سے بچوں کا وقت بہت ضائع ہوتا ہے، وہ دریافت کرتے تھے کہ کیا آپ نے ان مشکل تقاریر کو ازبر کرکے کسی طالب علم کو بڑا خطیب اور مقرر بنتے دیکھا ہے؟ دراصل طلبہ کو تقاریرایسی ازبر کروانی چاہئے جنہیں وہ آسانی سے سمجھ سکیں اور ان میں مستعمل جملوں کو آئندہ زندگی میںبرت سکیں، ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کسی نئے لفظ کو ذہن کے ذخیرے میں شامل ہونے کے لئے اسے کم از کم تین مرتبہ مختلف انداز سے زیر استعمال آنا چاہئے، کتاب لغت ازبر کر کے کوئی زبان کا ماہر نہیں بن سکتا ہے۔
حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے آج سے چالیس سال قبل اس ناچیز کے استفسار پر بتایا تھا کہ ایک بہترین صاحب قلم بننے کا بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ قاری مطالعاتی زندگی کے آغاز میں کسی عظیم صاحب قلم کی جملہ کتابیں پڑھنے کی کوشش کرے، اس سے لاشعوری طور پر وہ اس مصنف کے فکر او راسلوب کو اپنے ذہن ودماغ میں سمولے گا اور چونکہ چند ایک اسالیب اور معلومات کی تکرار ہوتی رہے گی تو یہ حافظے میں محفوظ رہ جائیں گے، انہیں خاص طور پر ازبر کرنے کی محنت نہیں کرنی پڑے گی اور عبارتوں کو ازبر کرنے کا وہ فائدہ نہیں ہوتا ہے، جو اس طرح پرسکون حالت میں مواد کی تکرار سے ہوتا ہے۔
اس طرح کوئی آسان اسلوب میں لکھی ہوئی مؤثر کتاب ایک طالب علم نقل کرے تو اس کے بھی اسلوب اور تحریر پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔ (جاری)
WA: 00919008175269
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
ایک قاری کسی کتاب کی اہم اور دل کو چھو لینے والی عبارتوں کو منتخب کرتا ہےتو اس کے معلوماتی ذخیرہ میں ایک طرح سے یہ اضافہ ہوتا ہے، اسے مخصوص ڈائری میں قلمبند کرنے کی عادت بہت مفید ثابت ہوتی ہے، یہ لاشعوری طور پر عبارت کی تکرار کے مماثل ہے ، کیونکہ ماہر ین نفسیات کے مطابق ایک مرتبہ لکھنا بیس مرتبہ پڑھنے کے برابر ہوتاہے۔ اس سے غیر شعوری طور پر منتخب عبارتیں یاد داشت کا حصہ بن جاتی ہے اور دوبارہ اس کتاب کو پڑھنے کی ضرورت کم ہی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ یہ منتخب عبارتیں سیاق و سباق سے وابستہ عبارتوں کو ذہن کے سامنے لے آتی ہیں۔
ہمارے مولانا شہباز اصلاحی مرحوم طلبہ کے تقریری مظاہروں میں علامہ شبلی ؒ کے دیباچہ سیرت النبی جیس مشکل عبارتوں کو یاد کروانے کے مخالف تھے، وہ کہتے تھے کہ اس سے بچوں کا وقت بہت ضائع ہوتا ہے، وہ دریافت کرتے تھے کہ کیا آپ نے ان مشکل تقاریر کو ازبر کرکے کسی طالب علم کو بڑا خطیب اور مقرر بنتے دیکھا ہے؟ دراصل طلبہ کو تقاریرایسی ازبر کروانی چاہئے جنہیں وہ آسانی سے سمجھ سکیں اور ان میں مستعمل جملوں کو آئندہ زندگی میںبرت سکیں، ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کسی نئے لفظ کو ذہن کے ذخیرے میں شامل ہونے کے لئے اسے کم از کم تین مرتبہ مختلف انداز سے زیر استعمال آنا چاہئے، کتاب لغت ازبر کر کے کوئی زبان کا ماہر نہیں بن سکتا ہے۔
حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے آج سے چالیس سال قبل اس ناچیز کے استفسار پر بتایا تھا کہ ایک بہترین صاحب قلم بننے کا بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ قاری مطالعاتی زندگی کے آغاز میں کسی عظیم صاحب قلم کی جملہ کتابیں پڑھنے کی کوشش کرے، اس سے لاشعوری طور پر وہ اس مصنف کے فکر او راسلوب کو اپنے ذہن ودماغ میں سمولے گا اور چونکہ چند ایک اسالیب اور معلومات کی تکرار ہوتی رہے گی تو یہ حافظے میں محفوظ رہ جائیں گے، انہیں خاص طور پر ازبر کرنے کی محنت نہیں کرنی پڑے گی اور عبارتوں کو ازبر کرنے کا وہ فائدہ نہیں ہوتا ہے، جو اس طرح پرسکون حالت میں مواد کی تکرار سے ہوتا ہے۔
اس طرح کوئی آسان اسلوب میں لکھی ہوئی مؤثر کتاب ایک طالب علم نقل کرے تو اس کے بھی اسلوب اور تحریر پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔ (جاری)
WA: 00919008175269
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ:اگسٹ /30*
1940ء احسن مارہروی ( سید شاہ علی احسن)۔ مولانا ، شاعر
1951ء جماعت علی شاہ علی پوری۔ مولانا، امیر ملت
1981ء محمد جواد باہنر۔ وزیر اعظم ایران
1981ء محمد علی رجائی۔ صدر ایران
1994ء محی الدین منیری۔ بانی جامعہ اسلامیہ بھٹکل، جامعۃ الصالحات بھٹکل
1998ء عبدالرؤف بریلوی۔ مولانا
1999ء مقصود علی خاں بنگلوری (میر)۔ وزیر ریاست میسور، مدیر سالار بنگلور
2006ء نجیب محفوظ۔ مصری ادیب
2007ء خورشید احمد۔ نعت خواں ،
2014ء محمد اسحاق مفتاحی۔ مولانا
2017ء امتیاز ساغر ( امتیاز احمد خان)۔ شاعر
2021ء سلیم قدوائی۔ مورخ
2022ء میخائیل گورباچوف۔ صدر سوویت یونین
2023ء محمد الفائد۔ مصری نژاد برطانوی تاجر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1940ء احسن مارہروی ( سید شاہ علی احسن)۔ مولانا ، شاعر
1951ء جماعت علی شاہ علی پوری۔ مولانا، امیر ملت
1981ء محمد جواد باہنر۔ وزیر اعظم ایران
1981ء محمد علی رجائی۔ صدر ایران
1994ء محی الدین منیری۔ بانی جامعہ اسلامیہ بھٹکل، جامعۃ الصالحات بھٹکل
1998ء عبدالرؤف بریلوی۔ مولانا
1999ء مقصود علی خاں بنگلوری (میر)۔ وزیر ریاست میسور، مدیر سالار بنگلور
2006ء نجیب محفوظ۔ مصری ادیب
2007ء خورشید احمد۔ نعت خواں ،
2014ء محمد اسحاق مفتاحی۔ مولانا
2017ء امتیاز ساغر ( امتیاز احمد خان)۔ شاعر
2021ء سلیم قدوائی۔ مورخ
2022ء میخائیل گورباچوف۔ صدر سوویت یونین
2023ء محمد الفائد۔ مصری نژاد برطانوی تاجر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
عصری تقاضوں میں ادیب کا فرض
سندھ کے معروف قلمکار، مولانا غلام محمد گرامی مرحوم لکھتے ہیں: بے شک یہ دور، عالمی نقطۂ نظر سے طوفان انگیز ہے۔ ہر جگہ امن و صلح، محبت اور بھائی چارہ کے متاعِ عزیز کو جھلسایا گیا ہے، ذہن و دماغ کی آبیاری کے سرچشمے خشک ہوچکے ہیں، انسان، انسان کو کاٹنے پر آمادہ ہوچکا ہے، عوام، حیران اور پریشان ہے۔ ایسے دور میں ادیبوں کا فرض ہے کہ وہ امن و صلح، محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے کے لیے تحریر اور تقریر کے ذریعہ جدوجہد کریں، زخمی دلوں کے لیے آبِ حیات پیدا کریں، جذباتی ماحول میں سکون اور امن پیدا کریں، حقائق اور معرفت کی روشنی میں اپنے شاہکار پیش کریں۔ تاکہ ذہنی اضطراب اور دماغی خلفشار دور ہو اور روحانی بالیدگی اور ذہنی آسودگی کا سامان پیدا ہو۔ اس دور کا یہی تقاضا ہے، اس ماحول کی یہی طلب ہے۔ کاش! ہمارا دانشور طبقہ، سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی کوشش کرے۔
(سہ ماہی مہران، ۳-١٩٦٨ء، صفحہ: ٣/مطالعاتی پیشکش و ترجمانی: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
سندھ کے معروف قلمکار، مولانا غلام محمد گرامی مرحوم لکھتے ہیں: بے شک یہ دور، عالمی نقطۂ نظر سے طوفان انگیز ہے۔ ہر جگہ امن و صلح، محبت اور بھائی چارہ کے متاعِ عزیز کو جھلسایا گیا ہے، ذہن و دماغ کی آبیاری کے سرچشمے خشک ہوچکے ہیں، انسان، انسان کو کاٹنے پر آمادہ ہوچکا ہے، عوام، حیران اور پریشان ہے۔ ایسے دور میں ادیبوں کا فرض ہے کہ وہ امن و صلح، محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے کے لیے تحریر اور تقریر کے ذریعہ جدوجہد کریں، زخمی دلوں کے لیے آبِ حیات پیدا کریں، جذباتی ماحول میں سکون اور امن پیدا کریں، حقائق اور معرفت کی روشنی میں اپنے شاہکار پیش کریں۔ تاکہ ذہنی اضطراب اور دماغی خلفشار دور ہو اور روحانی بالیدگی اور ذہنی آسودگی کا سامان پیدا ہو۔ اس دور کا یہی تقاضا ہے، اس ماحول کی یہی طلب ہے۔ کاش! ہمارا دانشور طبقہ، سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی کوشش کرے۔
(سہ ماہی مہران، ۳-١٩٦٨ء، صفحہ: ٣/مطالعاتی پیشکش و ترجمانی: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
کھرے کھوٹے: مولانا عامر عثمانی
ترجمان السنہ(چہارم)
تالیف : مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ
شائع کردہ: ندوۃ المصنفین،جامع مسجد دہلی، صفحات۵۱۴،سائز متوسط، کتابت معیاری، طباعت نیم معیاری، قیمت مجلد سولہ روپے۔
مولانا بدر عالم ایک اونچے درجے کے عالم اور صاحبِ کردار و تقوی بزرگ تھے، ’’تھے‘‘ کہتے ہوئے دل دکھتا ہے کہ ابھی تھوڑا ہی زمانہ تو گزرا جب ان کی مغتنم ہستی اپنی فیض رسانی کے ساتھ ہماری دنیا میں موجود تھی، مدینے میں مستقل رہائش اختیار کر لینے کے باوجود ہم دور افتادوں کو برابر ان کی گراں مایا تحریروں سے فیض پہنچتا رہا اور ان کی رفیع الشان تالیف ترجمان السنہ کی ہر نئی جلد نے اہلِ ذوق کو علم و تفقہ کا قیمتی سرمایہ عطا کیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے! بڑے متبع ِسنت اور ماحی ِ بدعت تھے، ترجمان السنہ جلد اول کا مقدمہ جو بجائے خود ایک تصنیف کی حیثیت رکھتا ہے؛ ان کی ظرف نگاہی کا شاہکار ہے، جس میں انہوں نے انکارِ حدیث کے فتنے کا بھرپور تعاقب کیا ہے۔
یہ جلد چہارم چار عنوانات پر مشتمل ہے؛ معجزات، کرامات، امام مہدی، دجال اکبر ؛ پہلی تین جلدوں کی طرح اس کا بھی وہی طرز ہے کہ اوپر متن ِحدیث، اس کے نیچے قدرے جلی قلم سے ترجمہ، اس کے نیچے مفید حواشی، حواشی کا کیا کہنا! اپنے جلیل القدر استاد علامہ انور شاہ کاشمیریؒ کے وسیع علم و مطالعہ کی جھلکیاں وہ ان حواشی میں چھوڑ گئے ہیں، لطف یہ ہے کہ فکری اور ثقافتی اعتبار سے قدامت کے دلدادہ ہونے کے باوجود ان کے اندازِ تحریر میں وہ فرسودگی نہیں ہے جو نئے ذہنوں کو بد مزہ کر دیں بلکہ بڑی طراری، بانکپن اور روانی ہے، تازگی اور رعنائی ہے۔
حقِ تبصرہ ادا نہ ہوگا اگر اس جلد چہارم کے مقدمے کا خصوصی ذکر نہ کیا جائے، یہ مقدمہ۱۲۳ صفحات میں پھیلا ہوا ہے، اس کا تعلق کتاب کے تمام ابواب سے نہیں بلکہ صرف بابِ اول سے ہے یعنی معجزات، دراصل اس مقدمے میں مؤلف نے مولانا سید سلیمان ندوی ؒکا نام لئے بغیر سیرت النبی کے اس حصے پر نقد کیا ہے جس کا تعلق معجزات سے ہے، ظاہر ہے ہم جیسا بے بضاعت اس کا اہل نہیں ہو سکتا کہ اپنے ان دو بڑوں کی بحث میں جج بن کر بیٹھے، دونوں ہی اپنی اپنی جگہ علامہ اور شیخ ہیں، طاب اللہ سراھما!
لیکن فرضِ تبصرہ کی ادائیگی کے تحت واجبی باتیں کہے بغیر چارہ بھی نہیں، مؤلف کے اس مفصل اور مدلل نقد و نظر سے معجزہ جیسے مہتم بالشان موضوع کے سارے ہی جلی و خفی گوشے خوب ابھر کر سامنے آگئے ہیں، اب یہ ہر قاری کا اپنا اپنا مذاق و معیار اور اندازِ نظر ہے کہ کہاں کہاں وہ کس رائے کو قوی یا کمزور تصور کرتا ہے، ہمارا خیالِ ناقص یہ ہے کہ موقف بنیادی طور پر مؤلف ہی کا مضبوط ہے، مولانا ندوی نے معجزات کے سلسلے میں تاویل و توجیہ اور تجزیہ و تحلیل کی جو خوبصورت اور متنوع کوشش سیرت النبی میں کی ہے اس کے سطحی حسن میں کلام نہیں، اس کا انشائی ہیولہ بھی بڑا پر کشش ہے، اس کے پیچھے حسنِ نیت اور جذبۂ خدمت بھی بلا ریب موجود ہے لیکن وہ فی الواقع کہیں کہیں صائب ترین نقطہ نظر سے کچھ ہٹی ہوئی ہے، اس کے مضمرات اور منطقی نتائج بعض اعتبار سے مغالطہ انگیزی کے امکانات سے لبریز ہیں اور ہو سکتا ہے کہ بہت سے ذہنوں میں اس نے معجزے کی ایک ایسی حقیقت اتار دی ہو جو حقیقت کم اور واہمہ زیادہ ہے، مولانا بدر عالم نے جس فکر کو زورِ استدلال اور قوتِ برہان کے ساتھ پیش کیا ہے ناچیز تبصرہ نگار کے خیال میں وہی فکر معجزات کے باب میں واحد صحیح فکر ہے، یہ الگ بات ہے کہ موصوف کا جوشِ نقد جب اس فکر کو اس کی بنیادی نقطے سے آگے لے کر چلا تو اس کی رفتار میں کہیں کہیں تھرتھراہٹ اور ناہمواری آتی چلی گئی۔
دوسرے یہ کہ مؤلف کا لب و لہجہ ذرا زیادہ پر خروش ہے، وہ احقاقِ حق کے جوش اور ابطالِ باطل کے جذبے میں کہیں کہیں ایک جوان العمر مبارز نظر آنے لگتے ہیں، اگرچہ ان جیسی شخصیت کو مولانا ندوی جیسی شخصیت پر برابر کی چوٹ نقد کرنے کا یہ یقینا استحقاق تھا، توہین یا تحقیر کا الزام ان پر نہیں لگایا جا سکتا لیکن ہم جیسے لوگ جو مولانا ندوی سے بھی گہری عقیدت رکھتے ہیں، یہ بہرحال حسرت کریں گے کہ کاش مؤلف کسی اور لہجے میں اپنی بات کہتے، بات بجائے خود جچی تلی ہے، نقد کا غالب حصہ علمی اعتبار سے گرانمایہ ہے، نقطہ نظر قوی اور واضح ہے لیکن شاید اپنے موقف کی صحت کے کامل یقین نے مؤلف کی آواز کو ذرا تند اور آہنگ کو کڑکدار بنا دیا ہے۔
یہاں کوئی خود ہماری تن گفتاریوں کا حوالہ نہ دے، ناچیز تبصرہ نگار تو ایک چھوٹا آدمی ہے، بوڑھا بھی نہیں ہے، وہ نرمی، تحمل اور شیری گفتاری کی حدیں فلانگ جانے کے مرض میں گفتار ہو تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں، بڑا مسئلہ یہ ان جیسے اونچے حضرات کے تعلق سے بنتا ہے جن کی علمی ثقاہت سے لوگ بڑے تحمل اور ٹھہراؤ کی امید رکھتے ہیں۔
ترجمان السنہ(چہارم)
تالیف : مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ
شائع کردہ: ندوۃ المصنفین،جامع مسجد دہلی، صفحات۵۱۴،سائز متوسط، کتابت معیاری، طباعت نیم معیاری، قیمت مجلد سولہ روپے۔
مولانا بدر عالم ایک اونچے درجے کے عالم اور صاحبِ کردار و تقوی بزرگ تھے، ’’تھے‘‘ کہتے ہوئے دل دکھتا ہے کہ ابھی تھوڑا ہی زمانہ تو گزرا جب ان کی مغتنم ہستی اپنی فیض رسانی کے ساتھ ہماری دنیا میں موجود تھی، مدینے میں مستقل رہائش اختیار کر لینے کے باوجود ہم دور افتادوں کو برابر ان کی گراں مایا تحریروں سے فیض پہنچتا رہا اور ان کی رفیع الشان تالیف ترجمان السنہ کی ہر نئی جلد نے اہلِ ذوق کو علم و تفقہ کا قیمتی سرمایہ عطا کیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے! بڑے متبع ِسنت اور ماحی ِ بدعت تھے، ترجمان السنہ جلد اول کا مقدمہ جو بجائے خود ایک تصنیف کی حیثیت رکھتا ہے؛ ان کی ظرف نگاہی کا شاہکار ہے، جس میں انہوں نے انکارِ حدیث کے فتنے کا بھرپور تعاقب کیا ہے۔
یہ جلد چہارم چار عنوانات پر مشتمل ہے؛ معجزات، کرامات، امام مہدی، دجال اکبر ؛ پہلی تین جلدوں کی طرح اس کا بھی وہی طرز ہے کہ اوپر متن ِحدیث، اس کے نیچے قدرے جلی قلم سے ترجمہ، اس کے نیچے مفید حواشی، حواشی کا کیا کہنا! اپنے جلیل القدر استاد علامہ انور شاہ کاشمیریؒ کے وسیع علم و مطالعہ کی جھلکیاں وہ ان حواشی میں چھوڑ گئے ہیں، لطف یہ ہے کہ فکری اور ثقافتی اعتبار سے قدامت کے دلدادہ ہونے کے باوجود ان کے اندازِ تحریر میں وہ فرسودگی نہیں ہے جو نئے ذہنوں کو بد مزہ کر دیں بلکہ بڑی طراری، بانکپن اور روانی ہے، تازگی اور رعنائی ہے۔
حقِ تبصرہ ادا نہ ہوگا اگر اس جلد چہارم کے مقدمے کا خصوصی ذکر نہ کیا جائے، یہ مقدمہ۱۲۳ صفحات میں پھیلا ہوا ہے، اس کا تعلق کتاب کے تمام ابواب سے نہیں بلکہ صرف بابِ اول سے ہے یعنی معجزات، دراصل اس مقدمے میں مؤلف نے مولانا سید سلیمان ندوی ؒکا نام لئے بغیر سیرت النبی کے اس حصے پر نقد کیا ہے جس کا تعلق معجزات سے ہے، ظاہر ہے ہم جیسا بے بضاعت اس کا اہل نہیں ہو سکتا کہ اپنے ان دو بڑوں کی بحث میں جج بن کر بیٹھے، دونوں ہی اپنی اپنی جگہ علامہ اور شیخ ہیں، طاب اللہ سراھما!
لیکن فرضِ تبصرہ کی ادائیگی کے تحت واجبی باتیں کہے بغیر چارہ بھی نہیں، مؤلف کے اس مفصل اور مدلل نقد و نظر سے معجزہ جیسے مہتم بالشان موضوع کے سارے ہی جلی و خفی گوشے خوب ابھر کر سامنے آگئے ہیں، اب یہ ہر قاری کا اپنا اپنا مذاق و معیار اور اندازِ نظر ہے کہ کہاں کہاں وہ کس رائے کو قوی یا کمزور تصور کرتا ہے، ہمارا خیالِ ناقص یہ ہے کہ موقف بنیادی طور پر مؤلف ہی کا مضبوط ہے، مولانا ندوی نے معجزات کے سلسلے میں تاویل و توجیہ اور تجزیہ و تحلیل کی جو خوبصورت اور متنوع کوشش سیرت النبی میں کی ہے اس کے سطحی حسن میں کلام نہیں، اس کا انشائی ہیولہ بھی بڑا پر کشش ہے، اس کے پیچھے حسنِ نیت اور جذبۂ خدمت بھی بلا ریب موجود ہے لیکن وہ فی الواقع کہیں کہیں صائب ترین نقطہ نظر سے کچھ ہٹی ہوئی ہے، اس کے مضمرات اور منطقی نتائج بعض اعتبار سے مغالطہ انگیزی کے امکانات سے لبریز ہیں اور ہو سکتا ہے کہ بہت سے ذہنوں میں اس نے معجزے کی ایک ایسی حقیقت اتار دی ہو جو حقیقت کم اور واہمہ زیادہ ہے، مولانا بدر عالم نے جس فکر کو زورِ استدلال اور قوتِ برہان کے ساتھ پیش کیا ہے ناچیز تبصرہ نگار کے خیال میں وہی فکر معجزات کے باب میں واحد صحیح فکر ہے، یہ الگ بات ہے کہ موصوف کا جوشِ نقد جب اس فکر کو اس کی بنیادی نقطے سے آگے لے کر چلا تو اس کی رفتار میں کہیں کہیں تھرتھراہٹ اور ناہمواری آتی چلی گئی۔
دوسرے یہ کہ مؤلف کا لب و لہجہ ذرا زیادہ پر خروش ہے، وہ احقاقِ حق کے جوش اور ابطالِ باطل کے جذبے میں کہیں کہیں ایک جوان العمر مبارز نظر آنے لگتے ہیں، اگرچہ ان جیسی شخصیت کو مولانا ندوی جیسی شخصیت پر برابر کی چوٹ نقد کرنے کا یہ یقینا استحقاق تھا، توہین یا تحقیر کا الزام ان پر نہیں لگایا جا سکتا لیکن ہم جیسے لوگ جو مولانا ندوی سے بھی گہری عقیدت رکھتے ہیں، یہ بہرحال حسرت کریں گے کہ کاش مؤلف کسی اور لہجے میں اپنی بات کہتے، بات بجائے خود جچی تلی ہے، نقد کا غالب حصہ علمی اعتبار سے گرانمایہ ہے، نقطہ نظر قوی اور واضح ہے لیکن شاید اپنے موقف کی صحت کے کامل یقین نے مؤلف کی آواز کو ذرا تند اور آہنگ کو کڑکدار بنا دیا ہے۔
یہاں کوئی خود ہماری تن گفتاریوں کا حوالہ نہ دے، ناچیز تبصرہ نگار تو ایک چھوٹا آدمی ہے، بوڑھا بھی نہیں ہے، وہ نرمی، تحمل اور شیری گفتاری کی حدیں فلانگ جانے کے مرض میں گفتار ہو تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں، بڑا مسئلہ یہ ان جیسے اونچے حضرات کے تعلق سے بنتا ہے جن کی علمی ثقاہت سے لوگ بڑے تحمل اور ٹھہراؤ کی امید رکھتے ہیں۔
❤1
یہ جلد مؤلف نے اپنی طویل بیماری کے زمانے میں تالیف کی ہے، مسودے کی ترتیب و تدوین کا کام دوسروں سے کرایا، اس کے اثرات جگہ جگہ موجود ہیں، بعض جگہ تشریح ادھوری، کہیں تعبیر و توضیح میں اغلاق و ابہام، کہیں عنوان کا تعلق معنون سے محلِ نظر۔
’’بعض معجزات کی چھانٹ چھانٹ کر کے وہی روایات نقل کرنا....‘‘(صفحہ ۶۸) ’’کرکے‘‘ فصاحت سے گر گیا، صرف ’’کر‘‘ یا صرف ’’کے‘‘ کافی ہوتا۔
’’ان دقائق کو وہ شخص کیسے ادراک کر سکتا ہے جو مؤرخین کی صف میں سے نکل کر محدثین کی جماعت میں گھسنے کی کوشش کرتا ہو....‘‘(ص ۷۶) ’’دقائق کو‘‘ تو خیر کتابت کا سہو ہے ’’کا‘‘ہوناچاہئے۔ لیکن یہ فقرہ اور اس سے متصل چند اور فقرے اپنے اسلوب اور الفاظ کے لحاظ سے شاید علمی شانِ گفتار سے نیچے اتر آئے ہیں، مولانا سید سلیمان ندوی ؒاتنے سخت ریمارک کے مستحق ہوں اسے ہمارا وجدان قبول نہیں کرتا۔
صفحہ۸۴ پر اکبر الہ آ بادی کے شعر میں پہلا مصرعہ شاید سہوِ کتابت سے نا موزوں نقل ہوا ہے۔
صفحہ۸۵ پر ’’اسنادوں‘‘ نظر آیا،پتہ نہیں اس طرح جمع الجمع بنانا درست بھی ہے یا نہیں، مثلا خیالاتوں اور مشاغلوں اور تفریحاتوں کہنا تو جائز نہیں معلوم ہوتا۔
’’لیکن جس میں کہ حیات و شعور پہلے کبھی پیدا نہ ہوئی ہو‘‘(ص۱۰۷) شعور مذکر ہے، حیات و شعور دونوں کے اعتبار سے ’’نہ ہوئے ہوں‘‘ لکھنا بہتر تھا۔
صفحہ۱۶۸ پر حدیث نمبر۱۳۵۰ کا ترجمہ اہل علم کے لیے لائق غور ہے؛
’’ عبد الرحمن ابن معاذ تیمی کہتے ہیں کہ حضور ﷺنے مقام منیٰ میں ہم کو خطبہ دیا تو ہمارے کان کھل گئے، دوسری روایت ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ ہم اپنے اپنے گھروں میں رہتے تھے اور حضور ﷺکے ارشادات کو سن لیا کرتے تھے‘‘
ہمارے ناقص خیال میں راوی کا مطلب یہاں صرف ایک وقتی صورتحال کا ذکر کرنا تھا یعنی منیٰ میں جب حضور ﷺنے خطبہ دیا تو تمام حاضرین نے اسے پوری طرح سنا حالانکہ بعض لوگ اتنے فاصلے پر تھے کہ عام اعتبار سے حضورﷺکی آواز صاف صاف ان کے کانوں تک نہیں پہنچنی چاہیے تھی، نحن فی منازلنا کا ترجمہ جہاں ’’ہم اپنے اپنے گھروں میں‘‘ہو سکتا ہے وہیں یوں بھی ہو سکتا ہے کہ’’ہم میں سے جو جہاں تھا وہیں اس نے حضور کا خطبہ سن لیا‘‘، فرق دونوں ترجموں کا یہ ہے کہ پہلا ترجمہ تو ایک معجزۂ مستقل اور اعجازِ مستمر کی خبر دیتا ہے یعنی اس خطبے کے بعد ہمیشہ ایسا ہوتا رہا کہ حضور ﷺ جہاں بھی بات کر رہے ہیں تمام صحابہ اپنے اپنے گھروں میں اسے سن رہے ہیں، یہ بات تو نہ صرف یہ کہ معتمد علیہ روایات سے ثابت نہیں بلکہ بہتیری روایات اس کی صاف تردید کرنے والی موجود ہیں اور معجزات کا بیان کرنے والے معروف اور معتمد علماء نے اس معجزے کی توثیق نہیں کی ہے۔
دوسرا ترجمہ یہ بتاتا ہے کہ صرف اس خطبہ منیٰ کے موقع پر یہ معجزہ پیش آیا کہ وادی منیٰ میں جتنے بھی صحابہ اس وقت موجود تھے وہ چاہے قریب رہے ہوں یا دور ؛ ان سب نے اس خطبے کو صاف صاف سن لیا۔ہم عرض کر چکے ہیں کہ معجزے کی حقیقت اور تعریف کی بحث میں مؤلف ہی کا نقطہ نظر صاف ہے، مگر بعض روایات ہم اس کتاب میں ایسی بھی پاتے ہیں جو علمی و فنی قوت اپنی پشت پر نہیں رکھتیں، واللہ اعلم بالصواب۔
مؤلف کے مقدمۂ کتاب سے قبل مؤلف کے صاحبزادے آفتاب احمد صاحب نے اپنے رفیع المرتبہ والد کے کچھ حالات بھی بیان کیے ہیں، اس میں مؤلف کے بعض اشعار بھی ہیں سبحان اللہ! دوسرے علوم کے ساتھ فن شعر میں بھی وہ پختہ گو نظر آرہے ہیں، نور اللہ مرقدہ۔
ویسے صاحبزادے کی حیثیت سے آفتاب صاحب اپنا اندازِ تحریر کچھ بدل لیتے تو بہتر ہوتا، ایک بیٹا جب باپ کی شان میں انتہائی ارادت مندانہ اسلوب اختیار کرتا ہے تو چاہے واقعتاً وہ مبالغہ نہ کر رہا ہو مگر ثقہ طبیعتوں کو یہ بات جچتی نہیں، گو ہمارا خیال ہے کہ ان سے مبالغہ بھی سرزد ہو ہی گیا ہے،مثلا ’’کرامات بر وقت ولادت‘‘کا عنوان دے کر بتایا گیا ؛
’’حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سعادت و قبولیت کے آثار ولادت سے قبل ہی ظاہر ہونے شروع ہو گئے تھے، ولادت کے وقت لیڈی ڈاکٹر انگریز موجود تھی لیکن ولادت میں تاخیر ہو رہی تھی اس نے بہت سعی کی لیکن ناکام رہی، آخر کار اس نے کہا کہ اب تو آپریشن کرنا ہوگا جس میں بچے کا مر جانا ممکن ہے، آخرکار دادا صاحب مرحوم کو اجازت دینی پڑی اور اس نے آپریشن کی تیاری شروع کر دی، صرف اتنے وقفے کے لیے ایک مسلمان سعیدہ دائی آ بیٹھی، بس کیا تھا فورا ولادت ہو گئی، گویا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ انگریز کے ہاتھ میں ایسا جسم مبارک جو اتنی صفات کا مالک ہونے والا تھا دے دیا جائے، چنانچہ ان کا ایک مسلمان عورت کے ذریعے اس دنیا میں آنا مقدر ہوا‘‘(ص ،۱۷)
’’بعض معجزات کی چھانٹ چھانٹ کر کے وہی روایات نقل کرنا....‘‘(صفحہ ۶۸) ’’کرکے‘‘ فصاحت سے گر گیا، صرف ’’کر‘‘ یا صرف ’’کے‘‘ کافی ہوتا۔
’’ان دقائق کو وہ شخص کیسے ادراک کر سکتا ہے جو مؤرخین کی صف میں سے نکل کر محدثین کی جماعت میں گھسنے کی کوشش کرتا ہو....‘‘(ص ۷۶) ’’دقائق کو‘‘ تو خیر کتابت کا سہو ہے ’’کا‘‘ہوناچاہئے۔ لیکن یہ فقرہ اور اس سے متصل چند اور فقرے اپنے اسلوب اور الفاظ کے لحاظ سے شاید علمی شانِ گفتار سے نیچے اتر آئے ہیں، مولانا سید سلیمان ندوی ؒاتنے سخت ریمارک کے مستحق ہوں اسے ہمارا وجدان قبول نہیں کرتا۔
صفحہ۸۴ پر اکبر الہ آ بادی کے شعر میں پہلا مصرعہ شاید سہوِ کتابت سے نا موزوں نقل ہوا ہے۔
صفحہ۸۵ پر ’’اسنادوں‘‘ نظر آیا،پتہ نہیں اس طرح جمع الجمع بنانا درست بھی ہے یا نہیں، مثلا خیالاتوں اور مشاغلوں اور تفریحاتوں کہنا تو جائز نہیں معلوم ہوتا۔
’’لیکن جس میں کہ حیات و شعور پہلے کبھی پیدا نہ ہوئی ہو‘‘(ص۱۰۷) شعور مذکر ہے، حیات و شعور دونوں کے اعتبار سے ’’نہ ہوئے ہوں‘‘ لکھنا بہتر تھا۔
صفحہ۱۶۸ پر حدیث نمبر۱۳۵۰ کا ترجمہ اہل علم کے لیے لائق غور ہے؛
’’ عبد الرحمن ابن معاذ تیمی کہتے ہیں کہ حضور ﷺنے مقام منیٰ میں ہم کو خطبہ دیا تو ہمارے کان کھل گئے، دوسری روایت ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ ہم اپنے اپنے گھروں میں رہتے تھے اور حضور ﷺکے ارشادات کو سن لیا کرتے تھے‘‘
ہمارے ناقص خیال میں راوی کا مطلب یہاں صرف ایک وقتی صورتحال کا ذکر کرنا تھا یعنی منیٰ میں جب حضور ﷺنے خطبہ دیا تو تمام حاضرین نے اسے پوری طرح سنا حالانکہ بعض لوگ اتنے فاصلے پر تھے کہ عام اعتبار سے حضورﷺکی آواز صاف صاف ان کے کانوں تک نہیں پہنچنی چاہیے تھی، نحن فی منازلنا کا ترجمہ جہاں ’’ہم اپنے اپنے گھروں میں‘‘ہو سکتا ہے وہیں یوں بھی ہو سکتا ہے کہ’’ہم میں سے جو جہاں تھا وہیں اس نے حضور کا خطبہ سن لیا‘‘، فرق دونوں ترجموں کا یہ ہے کہ پہلا ترجمہ تو ایک معجزۂ مستقل اور اعجازِ مستمر کی خبر دیتا ہے یعنی اس خطبے کے بعد ہمیشہ ایسا ہوتا رہا کہ حضور ﷺ جہاں بھی بات کر رہے ہیں تمام صحابہ اپنے اپنے گھروں میں اسے سن رہے ہیں، یہ بات تو نہ صرف یہ کہ معتمد علیہ روایات سے ثابت نہیں بلکہ بہتیری روایات اس کی صاف تردید کرنے والی موجود ہیں اور معجزات کا بیان کرنے والے معروف اور معتمد علماء نے اس معجزے کی توثیق نہیں کی ہے۔
دوسرا ترجمہ یہ بتاتا ہے کہ صرف اس خطبہ منیٰ کے موقع پر یہ معجزہ پیش آیا کہ وادی منیٰ میں جتنے بھی صحابہ اس وقت موجود تھے وہ چاہے قریب رہے ہوں یا دور ؛ ان سب نے اس خطبے کو صاف صاف سن لیا۔ہم عرض کر چکے ہیں کہ معجزے کی حقیقت اور تعریف کی بحث میں مؤلف ہی کا نقطہ نظر صاف ہے، مگر بعض روایات ہم اس کتاب میں ایسی بھی پاتے ہیں جو علمی و فنی قوت اپنی پشت پر نہیں رکھتیں، واللہ اعلم بالصواب۔
مؤلف کے مقدمۂ کتاب سے قبل مؤلف کے صاحبزادے آفتاب احمد صاحب نے اپنے رفیع المرتبہ والد کے کچھ حالات بھی بیان کیے ہیں، اس میں مؤلف کے بعض اشعار بھی ہیں سبحان اللہ! دوسرے علوم کے ساتھ فن شعر میں بھی وہ پختہ گو نظر آرہے ہیں، نور اللہ مرقدہ۔
ویسے صاحبزادے کی حیثیت سے آفتاب صاحب اپنا اندازِ تحریر کچھ بدل لیتے تو بہتر ہوتا، ایک بیٹا جب باپ کی شان میں انتہائی ارادت مندانہ اسلوب اختیار کرتا ہے تو چاہے واقعتاً وہ مبالغہ نہ کر رہا ہو مگر ثقہ طبیعتوں کو یہ بات جچتی نہیں، گو ہمارا خیال ہے کہ ان سے مبالغہ بھی سرزد ہو ہی گیا ہے،مثلا ’’کرامات بر وقت ولادت‘‘کا عنوان دے کر بتایا گیا ؛
’’حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سعادت و قبولیت کے آثار ولادت سے قبل ہی ظاہر ہونے شروع ہو گئے تھے، ولادت کے وقت لیڈی ڈاکٹر انگریز موجود تھی لیکن ولادت میں تاخیر ہو رہی تھی اس نے بہت سعی کی لیکن ناکام رہی، آخر کار اس نے کہا کہ اب تو آپریشن کرنا ہوگا جس میں بچے کا مر جانا ممکن ہے، آخرکار دادا صاحب مرحوم کو اجازت دینی پڑی اور اس نے آپریشن کی تیاری شروع کر دی، صرف اتنے وقفے کے لیے ایک مسلمان سعیدہ دائی آ بیٹھی، بس کیا تھا فورا ولادت ہو گئی، گویا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ انگریز کے ہاتھ میں ایسا جسم مبارک جو اتنی صفات کا مالک ہونے والا تھا دے دیا جائے، چنانچہ ان کا ایک مسلمان عورت کے ذریعے اس دنیا میں آنا مقدر ہوا‘‘(ص ،۱۷)
ایسی ہی بچکانہ اور سادہ لوحانہ عقیدت مندیوں نے کرامتوں کے سلسلے میں اہلِ عقل و فہم میں بڑا غلط رد عمل پیدا کیا ہے، کرامت یقینا برحق ہے لیکن کرامت سازی بالکل برحق نہیں، دوسرے پیغمبروں کو تو کیا کہیے کچھ سرورِ کائنات ﷺ کی پیدائش ایک کافر ہی دایہ کے ہاتھوں ہوئی اور پھر جسد ِ مبارک کو آغوش میںلے لے کر کھلایا، اگر ان کے ایک غلام کی پیدائش انگریز دایہ کے ہاتھوں ہو جاتی اور اس کافرہ کے ہاتھ اس بندۂ خدا کو چھو لیتے تو اس سے ان اوصافِ جمیلہ پر کیا داغ آسکتا تھا جنہیں اس بچے کے مستقبل میں مقدر کر دیا گیا تھا، متذکرہ واقعہ میں کوئی کرامت نہیں، اس طرح کے امور کو کرامت کا عنوان دینا مریض ذہنوں کا کام ہو سکتا ہے اور ایسی ہی غلو آمیزیاں حقیقی کرامات کو بدنام کرنے کا موجب بنتی ہیں۔
تبصرے کا لبِ لباب یہ ہے کہ چند جزئیات کو چھوڑ کر نہایت بلند پایہ، مفید اور ایمان افزا کتاب ہے، اللہ تعالیٰ مؤلف کو بہشت کی بہترین نعمتوں سے نوازیں۔
(ماہنامہ تجلی، مئی،۱۹۶۹ ء)
ترتیب: معاویہ محب الله
تبصرے کا لبِ لباب یہ ہے کہ چند جزئیات کو چھوڑ کر نہایت بلند پایہ، مفید اور ایمان افزا کتاب ہے، اللہ تعالیٰ مؤلف کو بہشت کی بہترین نعمتوں سے نوازیں۔
(ماہنامہ تجلی، مئی،۱۹۶۹ ء)
ترتیب: معاویہ محب الله
❤3
”گیٹ وے آف انڈیا“ برطانوی استعمار کے فن تعمیر کا نمونہ،ایک بےروح بوجھ جو بمبئی کے حسین ساحل پر ایک بھاری سِل کی طرح رکھا ہوا ہے ـ
(روشنائی، سجاد ظہیر)
(روشنائی، سجاد ظہیر)
*وفیات مورخہ:ستمبر /01)*
2006ء احمد سعید ناگی۔ ،
2009ء اختر پگانوالہ (میاں محمد)۔ ،
2014ء الیاس شاداں۔ ،
2001ء آذر زوبی (عنایت اللہ )۔ ،
1920ء بال گنگا دھر تلک (لوک مانیۃ تلک)۔ رہنما تحریک آزادی
2021ء ثاقب مظفر پوری (سید ثاقب حسین)۔
1985ء حبیب صدیقی آلہ آبادی۔ ،
2003ء حمزعلوی۔ ،
1983ء سلیم احمد۔ ادیب
2001ء سید ثروت حسین۔ ،
2021ء سید علی گیلانی۔ کشمیری لیڈر
2003ء سید ہاشم رضا۔ منتظم بلدیہ کراچی
2013ء شبنم سبحانی ( سید عبد الباری)۔ ڈاکٹر
1952ء شری مشرووالا۔
1952ء شری مشرووالا۔ ،
2005ء صداقت علی خان۔ ،
1990ء عبرت صدیقی بریلوی (تبارک علی)۔ ،
1990ء فرید الدین احمد خان۔ ،
2020ء قاضی محمد قاسم۔ مولانا
1971ء محمد امیر بندیالوی۔
1985ء محمد ظفر اللہ خاں۔ سر
1994ء والس متھائس۔ Wallis Methias
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
2006ء احمد سعید ناگی۔ ،
2009ء اختر پگانوالہ (میاں محمد)۔ ،
2014ء الیاس شاداں۔ ،
2001ء آذر زوبی (عنایت اللہ )۔ ،
1920ء بال گنگا دھر تلک (لوک مانیۃ تلک)۔ رہنما تحریک آزادی
2021ء ثاقب مظفر پوری (سید ثاقب حسین)۔
1985ء حبیب صدیقی آلہ آبادی۔ ،
2003ء حمزعلوی۔ ،
1983ء سلیم احمد۔ ادیب
2001ء سید ثروت حسین۔ ،
2021ء سید علی گیلانی۔ کشمیری لیڈر
2003ء سید ہاشم رضا۔ منتظم بلدیہ کراچی
2013ء شبنم سبحانی ( سید عبد الباری)۔ ڈاکٹر
1952ء شری مشرووالا۔
1952ء شری مشرووالا۔ ،
2005ء صداقت علی خان۔ ،
1990ء عبرت صدیقی بریلوی (تبارک علی)۔ ،
1990ء فرید الدین احمد خان۔ ،
2020ء قاضی محمد قاسم۔ مولانا
1971ء محمد امیر بندیالوی۔
1985ء محمد ظفر اللہ خاں۔ سر
1994ء والس متھائس۔ Wallis Methias
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
*سچی باتیں (3؍مارچ 1941(۔۔۔ عصری تعلیم*
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ*
’’تعلیم کا بول بالا‘‘ ’’جہالت کا مُنہ کالا‘‘ ! نعرے لگاتے ہوئے اسکول سے لڑکے نکلے۔ غول کے غول، آگے پیچھے ماسٹر ساتھ ساتھ۔ 16؍فروری ۔ آج ’’لٹریسی ڈے‘‘ ہے۔ ’’یوم خواندگی‘‘ ہے۔ جہالت کی تاریکی دور کی جائے گی، علم کی روشنی پھیلائی جائے گی، ملک کے بچہ بچہ کو حرف شناس بنادیاجائے گا۔ جلسے ہورہے ہیں، جلوس نکل رہے ہیں، ریڈیو پر تقریریں ہورہی ہیں۔ دیہاتی اور شہری سب شریک ۔ گورنمنٹ اور کانگریس ایک دوسرے کی حریف نہیں حلیف۔ ……لڑکوں کا جلوس آگے بڑھا۔ نعرے بدل گئے۔ اب ’’تعلیم‘‘ نہیں، بلکہ ’’انقلاب‘‘ زندہ باد! برطانیہ برباد! امپریلزم مردہ باد! ……ماسٹر قریب آگئے ۔ ہلکی سی ڈانٹ اور للکار۔ نعرے اب پھر بدل گئے اب پھروہی’’تعلیم کا بول بالا‘‘ ’’جہالت کا مُنہ کالا‘‘!……کیا خوب ہے یہ تعلیم اور اس کی روشنی! کیا خوب ہے یہ علم اور اس کے عالم باعمل! یہی علم سوتوں کو جگادے گا، دلوں کو گرمادے گا، دماغوں کو روشن کردے گا، ملک کو آزاد کرادے گا!
سامنے عظیم الشان اور لق ودَق عمارت آپ دیکھ رہے ہیں؟ اور پھر اس کے اردگرد ایک سلسلہ شاندار مکلف عمارتوں کا، فرلانگوں تک پھیلا ہوا، میلوں کا رقبہ گھیرے ہوئے۔ یہ کیاہے؟ کس امیر کبیر کی کوٹھیاں ہیں؟ کسی بڑے راجہ، مہراجہ، رئیس، نواب ، کے محلوں کا سلسلہ ہے؟ جی نہیں۔ یہ یونیورسٹی ہے، اور اس کے ملحقات۔ کتب خانہ ، تجربہ گاہیں، اقامت خانے، وغیرہا…ہر عمارت کے اندر لاکھوں کا سامان، آلات، کتابیں، فرنیچر، وغیرہا……فیسوں پر فیسیں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ مصارف تعلیم گراں سے گراں ترہوتے جارہے ہیں۔ کتابون کی قیمتیں مستزاد۔ سائیکل رکھنا تو گویا طالب علمی کے لوازم میں داخل۔ ……یہ تعلیم کا’’فیض عام‘‘ ہورہاہے۔ یہ مفلس قوم کے افلاس کو دُور کرنے کا نسخہ بتایاجارہاہے ! ان شاہانہ عمارتوں کے اندر تعلیم دی جارہی ہے، قوم کے نونہالوں کو اعلیٰ اخلاق کی، سادگی کی، کفایت کی! سرمایہ داری سے نفرت کی، دولت سے عداوت کی، اسراف کی مذمت کی!
موٹر پر موٹر آرہے ہیں، یونیورسٹی کے سائبان میں رُک رہے ہیں۔ اُترتے ہیں اُن سے یونیورسٹی کے اساتذہ۔ یہ صاحب تاریخ کے پروفیسر ہیں، اور وہ معاشیات کے ماہر۔ فلاں فلسفہ کے پروفیسر ہیں، اور فلاں ادب کے لکچرر۔ یہ ابھی کُل پانسو ماہوار پارہے ہیں، اوروہ سات سَو ہزار کے گریڈ میں ہیں۔ ان کی ترقی ابھی بارہ سو تک ہوئی ہے، اور اُن کا مشاہرہ اس وقت ڈیڑہ ہزار ہے۔ ممتحنی کے گراں قدر معاوضے اپنی یونیورسٹی سے اور (’’من تُرا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘کے اصول پر) دوسری یونیورسٹیوں سے اس کے علاوہ!لندن کے ڈی، اس، سی، پیرس کے ڈی لٹ، جرمنی کے پی، ایچ، ڈی کی تنخواہیں آخر اس سے کم ہوبھی کیا سکتی ہیں؟ ان کی تعلیم میں جو 50۔50ہزار اُٹھے ہیں، آخر اُن کے نکلنے کا بھی تو کوئی حساب ہونا چاہئے !……خود یہ ’’ڈگری دار‘‘ بھی محض اس لئے ڈگریدار ہیں کہ ان کے والدین ان کی تعلیم اور ولایتی تعلیم پر بے دھڑک دولت خرچ کرسکے!……یہ مامور ہیں آپ کے لڑکوں اور (اب تو) لڑکیوں کی سیرت سازی پر! یہ فرنگی دل اور فرنگی دماغ رکھنے والے ، اونچی اور شاندار کوٹھیوں میں رہنے والے، اپنے گریڈ کی ترقی کے لئے، اپنی ملازمت کی توسیع کے لئے اپنے دوستوں ، رفیقوں سے لڑجانے والے، اور لکچرروم میں کام دن بھر میں دودوتین تین گھنٹوں کے لئے کرنے والے، ماہرین علوم واُستادان فنون تعلیم دے رہے ہیں آپ کے بچوں کو امانت کی، دیانت کی، صداقت کی، ایثار کی، اخلاص کی، بے ریائی کی، حبّ وطن کی، قوم ہمدردی کی، قناعت کی، دولت سے بے رغبتی کی، سرمایہ داری کو توڑنے کی، مساوات عام کی!
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ*
’’تعلیم کا بول بالا‘‘ ’’جہالت کا مُنہ کالا‘‘ ! نعرے لگاتے ہوئے اسکول سے لڑکے نکلے۔ غول کے غول، آگے پیچھے ماسٹر ساتھ ساتھ۔ 16؍فروری ۔ آج ’’لٹریسی ڈے‘‘ ہے۔ ’’یوم خواندگی‘‘ ہے۔ جہالت کی تاریکی دور کی جائے گی، علم کی روشنی پھیلائی جائے گی، ملک کے بچہ بچہ کو حرف شناس بنادیاجائے گا۔ جلسے ہورہے ہیں، جلوس نکل رہے ہیں، ریڈیو پر تقریریں ہورہی ہیں۔ دیہاتی اور شہری سب شریک ۔ گورنمنٹ اور کانگریس ایک دوسرے کی حریف نہیں حلیف۔ ……لڑکوں کا جلوس آگے بڑھا۔ نعرے بدل گئے۔ اب ’’تعلیم‘‘ نہیں، بلکہ ’’انقلاب‘‘ زندہ باد! برطانیہ برباد! امپریلزم مردہ باد! ……ماسٹر قریب آگئے ۔ ہلکی سی ڈانٹ اور للکار۔ نعرے اب پھر بدل گئے اب پھروہی’’تعلیم کا بول بالا‘‘ ’’جہالت کا مُنہ کالا‘‘!……کیا خوب ہے یہ تعلیم اور اس کی روشنی! کیا خوب ہے یہ علم اور اس کے عالم باعمل! یہی علم سوتوں کو جگادے گا، دلوں کو گرمادے گا، دماغوں کو روشن کردے گا، ملک کو آزاد کرادے گا!
سامنے عظیم الشان اور لق ودَق عمارت آپ دیکھ رہے ہیں؟ اور پھر اس کے اردگرد ایک سلسلہ شاندار مکلف عمارتوں کا، فرلانگوں تک پھیلا ہوا، میلوں کا رقبہ گھیرے ہوئے۔ یہ کیاہے؟ کس امیر کبیر کی کوٹھیاں ہیں؟ کسی بڑے راجہ، مہراجہ، رئیس، نواب ، کے محلوں کا سلسلہ ہے؟ جی نہیں۔ یہ یونیورسٹی ہے، اور اس کے ملحقات۔ کتب خانہ ، تجربہ گاہیں، اقامت خانے، وغیرہا…ہر عمارت کے اندر لاکھوں کا سامان، آلات، کتابیں، فرنیچر، وغیرہا……فیسوں پر فیسیں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ مصارف تعلیم گراں سے گراں ترہوتے جارہے ہیں۔ کتابون کی قیمتیں مستزاد۔ سائیکل رکھنا تو گویا طالب علمی کے لوازم میں داخل۔ ……یہ تعلیم کا’’فیض عام‘‘ ہورہاہے۔ یہ مفلس قوم کے افلاس کو دُور کرنے کا نسخہ بتایاجارہاہے ! ان شاہانہ عمارتوں کے اندر تعلیم دی جارہی ہے، قوم کے نونہالوں کو اعلیٰ اخلاق کی، سادگی کی، کفایت کی! سرمایہ داری سے نفرت کی، دولت سے عداوت کی، اسراف کی مذمت کی!
موٹر پر موٹر آرہے ہیں، یونیورسٹی کے سائبان میں رُک رہے ہیں۔ اُترتے ہیں اُن سے یونیورسٹی کے اساتذہ۔ یہ صاحب تاریخ کے پروفیسر ہیں، اور وہ معاشیات کے ماہر۔ فلاں فلسفہ کے پروفیسر ہیں، اور فلاں ادب کے لکچرر۔ یہ ابھی کُل پانسو ماہوار پارہے ہیں، اوروہ سات سَو ہزار کے گریڈ میں ہیں۔ ان کی ترقی ابھی بارہ سو تک ہوئی ہے، اور اُن کا مشاہرہ اس وقت ڈیڑہ ہزار ہے۔ ممتحنی کے گراں قدر معاوضے اپنی یونیورسٹی سے اور (’’من تُرا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘کے اصول پر) دوسری یونیورسٹیوں سے اس کے علاوہ!لندن کے ڈی، اس، سی، پیرس کے ڈی لٹ، جرمنی کے پی، ایچ، ڈی کی تنخواہیں آخر اس سے کم ہوبھی کیا سکتی ہیں؟ ان کی تعلیم میں جو 50۔50ہزار اُٹھے ہیں، آخر اُن کے نکلنے کا بھی تو کوئی حساب ہونا چاہئے !……خود یہ ’’ڈگری دار‘‘ بھی محض اس لئے ڈگریدار ہیں کہ ان کے والدین ان کی تعلیم اور ولایتی تعلیم پر بے دھڑک دولت خرچ کرسکے!……یہ مامور ہیں آپ کے لڑکوں اور (اب تو) لڑکیوں کی سیرت سازی پر! یہ فرنگی دل اور فرنگی دماغ رکھنے والے ، اونچی اور شاندار کوٹھیوں میں رہنے والے، اپنے گریڈ کی ترقی کے لئے، اپنی ملازمت کی توسیع کے لئے اپنے دوستوں ، رفیقوں سے لڑجانے والے، اور لکچرروم میں کام دن بھر میں دودوتین تین گھنٹوں کے لئے کرنے والے، ماہرین علوم واُستادان فنون تعلیم دے رہے ہیں آپ کے بچوں کو امانت کی، دیانت کی، صداقت کی، ایثار کی، اخلاص کی، بے ریائی کی، حبّ وطن کی، قوم ہمدردی کی، قناعت کی، دولت سے بے رغبتی کی، سرمایہ داری کو توڑنے کی، مساوات عام کی!
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
مجلس علم کلام اور علامہ شبلی نعمانیؒ
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی
علامہ شبلی کا خیال تھا کہ جدید علم کلام ناقص اور نامکمل ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ عباسیوں کے زمانے میں جب فلسفہ اور علومِ عقلیہ کا رواج ہوا تو سیکڑوں ہزاروں اشخاص کے مذہبی عقائد متزلزل ہوگئے۔ چنانچہ مسلمانوں میں علوم عقلیہ اور فلسفہ کے ماہرین پیدا ہوئے اور انہوں نے اس سیلاب کو روکا۔ موجودہ دور میں جب کہ یورپ کی تحقیقات عام ہو رہی ہیں اور جدید خیالات قوم میں پھیل رہے ہیں، علماء میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے یورپ کا فلسفہ اور سائنس حاصل کیا ہو۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایک کمیٹی "مجلس علم کلام" بنائی جائے، جس میں بقول علامہ شبلی: قدیم علماء اور جدید تعلیم یافتہ دونوں گروہ کے لوگ ممبر ہوں۔ قدیم علماء اس بات کا فیصلہ کریں کہ جو عقائد اور مسائل فلسفہ کے خلاف بیان کئے جاتے ہیں، ان میں سے کون سے مسائل درحقیقت اسلام کے اصل عقائد میں ہیں اور کون سے نہیں۔ جدید تعلیم یافتہ گروہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ جن چیزوں کو فلسفہ کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت فلسفہ کے مخالف ہیں یا نہیں اور اگر ہیں تو فلسفہ کی تحقیقات کہاں تک یقینی اور قطعی ہے۔ اس کمیٹی میں انہوں نے قدیم و جدید تعلیم یافتہ دونوں طبقہ کے اشخاص کو شامل کیا تھا، جس میں مولانا مفتی عبد اللہ ٹونکی، مولانا حمید الدین فراہی، علامہ سر محمد اقبال اور مولوی عبدالقادر بی اے شامل تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مذکورہ اشخاص سے خط و کتابت کی اور اسے ایک مجلس کی شکل دینے کی کوشش کی۔ علامہ اقبال کے علاوہ کسی اور کے رکنیت قبول کرنے کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ کام اس سے زیادہ غالباً آگے نہ بڑھ سکا۔ البتہ خود علامہ شبلی نے علم الکلام کی اردو میں ترتیب و تدوین کے لئے بڑی جدوجہد کی اور اس کا ایک وسیع اور مہتم بالشان علمی منصوبہ بنایا تھا جو اگرچہ پورا نہ ہوسکا، تاہم اس سلسلے کی انہوں نے کئی اہم کتابیں سپردِ قلم کیں۔ علامہ شبلی نے ایک صدی پہلے یہ منصوبہ بنایا تھا۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے لیے یہ کام اور زیادہ ضروری اور اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ سائنسی تحقیقات کا یہ دور عروج ہے۔ روز نت نئے انکشافات اور ایجادات ہو رہی ہیں، اس لیے علامہ شبلی کے دور کے مقابلے میں آج مجلسِ علمِ کلام اور اس کے مقاصد کا حصول وقت کا شاید سب سے بڑا تقاضا ہے، مگر اب کون اس جانب متوجہ ہوگا اور ہوگا بھی جیسا کہ بعض کتابیں منظرِ عام پر آئی ہیں تو ان سے کون تعارض کرے گا۔
(معارف، ستمبر ٢٠٢٦ء، صفحہ: ۱۴/۱۵)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی
علامہ شبلی کا خیال تھا کہ جدید علم کلام ناقص اور نامکمل ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ عباسیوں کے زمانے میں جب فلسفہ اور علومِ عقلیہ کا رواج ہوا تو سیکڑوں ہزاروں اشخاص کے مذہبی عقائد متزلزل ہوگئے۔ چنانچہ مسلمانوں میں علوم عقلیہ اور فلسفہ کے ماہرین پیدا ہوئے اور انہوں نے اس سیلاب کو روکا۔ موجودہ دور میں جب کہ یورپ کی تحقیقات عام ہو رہی ہیں اور جدید خیالات قوم میں پھیل رہے ہیں، علماء میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے یورپ کا فلسفہ اور سائنس حاصل کیا ہو۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایک کمیٹی "مجلس علم کلام" بنائی جائے، جس میں بقول علامہ شبلی: قدیم علماء اور جدید تعلیم یافتہ دونوں گروہ کے لوگ ممبر ہوں۔ قدیم علماء اس بات کا فیصلہ کریں کہ جو عقائد اور مسائل فلسفہ کے خلاف بیان کئے جاتے ہیں، ان میں سے کون سے مسائل درحقیقت اسلام کے اصل عقائد میں ہیں اور کون سے نہیں۔ جدید تعلیم یافتہ گروہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ جن چیزوں کو فلسفہ کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت فلسفہ کے مخالف ہیں یا نہیں اور اگر ہیں تو فلسفہ کی تحقیقات کہاں تک یقینی اور قطعی ہے۔ اس کمیٹی میں انہوں نے قدیم و جدید تعلیم یافتہ دونوں طبقہ کے اشخاص کو شامل کیا تھا، جس میں مولانا مفتی عبد اللہ ٹونکی، مولانا حمید الدین فراہی، علامہ سر محمد اقبال اور مولوی عبدالقادر بی اے شامل تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مذکورہ اشخاص سے خط و کتابت کی اور اسے ایک مجلس کی شکل دینے کی کوشش کی۔ علامہ اقبال کے علاوہ کسی اور کے رکنیت قبول کرنے کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ کام اس سے زیادہ غالباً آگے نہ بڑھ سکا۔ البتہ خود علامہ شبلی نے علم الکلام کی اردو میں ترتیب و تدوین کے لئے بڑی جدوجہد کی اور اس کا ایک وسیع اور مہتم بالشان علمی منصوبہ بنایا تھا جو اگرچہ پورا نہ ہوسکا، تاہم اس سلسلے کی انہوں نے کئی اہم کتابیں سپردِ قلم کیں۔ علامہ شبلی نے ایک صدی پہلے یہ منصوبہ بنایا تھا۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے لیے یہ کام اور زیادہ ضروری اور اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ سائنسی تحقیقات کا یہ دور عروج ہے۔ روز نت نئے انکشافات اور ایجادات ہو رہی ہیں، اس لیے علامہ شبلی کے دور کے مقابلے میں آج مجلسِ علمِ کلام اور اس کے مقاصد کا حصول وقت کا شاید سب سے بڑا تقاضا ہے، مگر اب کون اس جانب متوجہ ہوگا اور ہوگا بھی جیسا کہ بعض کتابیں منظرِ عام پر آئی ہیں تو ان سے کون تعارض کرے گا۔
(معارف، ستمبر ٢٠٢٦ء، صفحہ: ۱۴/۱۵)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
اردو کے مایہ ناز ادیب، صحافی اور مصنف
ملا واحدی نے تقسیم کے وقت دلی میں کیا دیکھا
سہیل انجم
ہم نے گزشتہ کالم میں صحافی، ادیب اور مجاہد آزادی مولانا عبدالمجید سالک کی خودنوشت کی جھلکیاں دکھائی تھیں۔ اس کو قارئین نے کافی پسند کیا۔ لہٰذا جی چاہا کہ ایک اور بھولی بسری داستان سے قارئین کو روبرو کرایا جائے۔ یہ داستان میری نہیں ملا واحدی کی بیان کردہ ہے۔ ملا واحدی اردو کے مایہ ¿ ناز ادیب، صاحب طرز نثر نگار، صحافی اور مصنف تھے۔ انھوں نے خواجہ حسن نظامی کے ساتھ مل کر اخبار ”نظام المشائخ“ جاری کیا تھا جس نے دھوم مچا دی تھی۔ وہ زندگی بھر خواجہ صاحب سے عقیدت کا رشتہ رکھتے رہے۔ تقسیم کے وقت جب وہ رو پیٹ کر پاکستان چلے گئے اور کراچی کو وطن ثانی بنایا تو انھوں نے وہاں سے نظام المشائخ کو جاری کیا۔ ایک بار ان کے کوئی عزیز کراچی سے دہلی آرہے تھے۔ انھوں نے ملا واحدی سے کہا کہ خواجہ صاحب سے کچھ کہنا ہو تو بتائیے۔ اس پر انھوں نے جو جملہ ادا کیا وہ تڑپ، حسرت، یاس، امید، ناامیدی اور ان جیسی بہت سی کیفیات کا عکاس ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”دلی جاو تو خواجہ صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اور جب یہاں واپس پہنچو تو اپنی آنکھیں مجھے دکھا دینا۔“ انھیں دلی سے عشق تھا۔ تازندگی اس کے لیے تڑپتے رہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ میں دلی سے ایسا یکایک چلا تھا کہ کسی شخص اور دلی کی کسی چیز سے نہیں مل سکا تھا۔ البتہ گھر کی چھت پر چڑھ کر جامع مسجد کے میناروں کو گلے لگا لیا اور اپنے آقا و پیشوا حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ادا کر دی تھی۔ (انھوں نے ہجرت کے وقت اللہ کے رسول نے خانہ کعبہ کو مخاطب کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا اس حوالہ دیا ہے)۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے ”بچے کوئی چیز ہیں تو دلی بھی کوئی چیز ہے۔ دلی کی گلیاں۔ دلی کے مقبرے۔ دلی کے کھنڈرات۔ ہائے دلی بائیس خواجاوں کی چوکھٹ۔ دلی جہاں مسلمانوں کی دنیا پروان چڑھی اور مسلمانوں کا دین پروان چڑھا۔ ایسی دلی سے میں ہرگز مفارقت کرنی نہیں چاہتا تھا۔ بچوں سے اتنے عرصے واسطہ نہیں رہا جتنے عرصے دلی سے واسطہ رہ چکا ہے۔“
انھوں نے اپنی کئی کتابوں میں دلی کو یاد کیا ہے۔ دلی کے لیے روئے ہیں، تڑپے ہیں اور وہاں کے اشخاص اور ماہرین فن کو یاد کر کرکے آنسو بہائے ہیں۔ لیکن دلی کے بارے میں ان کی جو کتاب سے زیادہ مقبول ہوئی وہ ”میرے زمانے کی دلی“ ہے۔ اس میں انھوں نے تقسیم ملک کے بعد دلی کے حالات اور اپنے اوپر گزرنے والی کیفیات کو بڑے دلنشین اور موثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پرکار ہے۔ پڑھیے تو پڑھتے جائیے۔ یہ کتاب سب سے پہلے کراچی سے 1956 میں شائع ہوئی تھی۔ اسے اب ذاکر حسین کالج دہلی میں اردو کے استاد پروفیسر مظہر احمد نے ازسرنو مرتب کرکے ایم آر پبلی کیشن دہلی سے شائع کرایا ہے۔ انھوں نے 53 صفحات پر مشتمل طویل و بسیط مقدمہ تحریر کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے آخر میں فرہنگ، مقامات اور اشخاص کا اشاریہ اور دلی کی خوبصورت رنگین تصاویر بھی شامل کی ہیں۔
(ملا واحدی نے ”دلی چھوڑنے سے پہلے“ کے زیر عنوان جو تیرہ صفحات کا مضمون قلمبند کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم نے اس کے اہم اہم اقتباسات کو ایک مضمون کی شکل دی ہے۔ اگر چہ بار بار اختصار کرنے کے باوجود یہ ذرا طویل ہو گیا ہے تاہم کافی دلچسپ ہے اور امید ہے کہ قارئین کو پسند آئے گا۔) ملا واحدی لکھتے ہیں:
15 اگست کو میں نے سچ مچ اپنے تئیں آزاد تصور کیا تھا۔ میں پھولا نہیں سماتا تھا کہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے مرنے سے پہلے آزادی کی صورت دکھا دی۔ میں خیال کرتا تھا کہ پاکستان میں صرف مسلمان اور ہندوستان میں صرف ہندو اور سکھ آزاد نہیں ہوئے ہیں، دونوں سلطنتوں کے کل باشندے آزاد ہوئے ہیں۔ مگر اگست کا مہینہ گزرنے نہ پایا تھا جو محسوس ہونے لگا کہ میں تو اور بندھ گیا۔ میری محکومی اور غلامی تو اور ابھر آئی۔ انگریز کے دور میں اس قدر احساس کمتری نہ تھا جس قدر آزادی کے زمانہ میں ہو رہا تھا۔ چاروں سمت فضا اتنی خراب تھی کہ میں اپنے ہندوار دلی کی بابت بھی سوچنے لگتا کہ یہ سلام کے لیے جھک رہا ہے یا میرا مذاق اڑا رہا ہے۔ اس کا تعلق حاکم قوم سے ہے اور میں اس کی قوم کا بھی محکوم ہوں اور اس کا بھی محکوم ہوں۔
ملا واحدی نے تقسیم کے وقت دلی میں کیا دیکھا
سہیل انجم
ہم نے گزشتہ کالم میں صحافی، ادیب اور مجاہد آزادی مولانا عبدالمجید سالک کی خودنوشت کی جھلکیاں دکھائی تھیں۔ اس کو قارئین نے کافی پسند کیا۔ لہٰذا جی چاہا کہ ایک اور بھولی بسری داستان سے قارئین کو روبرو کرایا جائے۔ یہ داستان میری نہیں ملا واحدی کی بیان کردہ ہے۔ ملا واحدی اردو کے مایہ ¿ ناز ادیب، صاحب طرز نثر نگار، صحافی اور مصنف تھے۔ انھوں نے خواجہ حسن نظامی کے ساتھ مل کر اخبار ”نظام المشائخ“ جاری کیا تھا جس نے دھوم مچا دی تھی۔ وہ زندگی بھر خواجہ صاحب سے عقیدت کا رشتہ رکھتے رہے۔ تقسیم کے وقت جب وہ رو پیٹ کر پاکستان چلے گئے اور کراچی کو وطن ثانی بنایا تو انھوں نے وہاں سے نظام المشائخ کو جاری کیا۔ ایک بار ان کے کوئی عزیز کراچی سے دہلی آرہے تھے۔ انھوں نے ملا واحدی سے کہا کہ خواجہ صاحب سے کچھ کہنا ہو تو بتائیے۔ اس پر انھوں نے جو جملہ ادا کیا وہ تڑپ، حسرت، یاس، امید، ناامیدی اور ان جیسی بہت سی کیفیات کا عکاس ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”دلی جاو تو خواجہ صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اور جب یہاں واپس پہنچو تو اپنی آنکھیں مجھے دکھا دینا۔“ انھیں دلی سے عشق تھا۔ تازندگی اس کے لیے تڑپتے رہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ میں دلی سے ایسا یکایک چلا تھا کہ کسی شخص اور دلی کی کسی چیز سے نہیں مل سکا تھا۔ البتہ گھر کی چھت پر چڑھ کر جامع مسجد کے میناروں کو گلے لگا لیا اور اپنے آقا و پیشوا حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ادا کر دی تھی۔ (انھوں نے ہجرت کے وقت اللہ کے رسول نے خانہ کعبہ کو مخاطب کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا اس حوالہ دیا ہے)۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے ”بچے کوئی چیز ہیں تو دلی بھی کوئی چیز ہے۔ دلی کی گلیاں۔ دلی کے مقبرے۔ دلی کے کھنڈرات۔ ہائے دلی بائیس خواجاوں کی چوکھٹ۔ دلی جہاں مسلمانوں کی دنیا پروان چڑھی اور مسلمانوں کا دین پروان چڑھا۔ ایسی دلی سے میں ہرگز مفارقت کرنی نہیں چاہتا تھا۔ بچوں سے اتنے عرصے واسطہ نہیں رہا جتنے عرصے دلی سے واسطہ رہ چکا ہے۔“
انھوں نے اپنی کئی کتابوں میں دلی کو یاد کیا ہے۔ دلی کے لیے روئے ہیں، تڑپے ہیں اور وہاں کے اشخاص اور ماہرین فن کو یاد کر کرکے آنسو بہائے ہیں۔ لیکن دلی کے بارے میں ان کی جو کتاب سے زیادہ مقبول ہوئی وہ ”میرے زمانے کی دلی“ ہے۔ اس میں انھوں نے تقسیم ملک کے بعد دلی کے حالات اور اپنے اوپر گزرنے والی کیفیات کو بڑے دلنشین اور موثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پرکار ہے۔ پڑھیے تو پڑھتے جائیے۔ یہ کتاب سب سے پہلے کراچی سے 1956 میں شائع ہوئی تھی۔ اسے اب ذاکر حسین کالج دہلی میں اردو کے استاد پروفیسر مظہر احمد نے ازسرنو مرتب کرکے ایم آر پبلی کیشن دہلی سے شائع کرایا ہے۔ انھوں نے 53 صفحات پر مشتمل طویل و بسیط مقدمہ تحریر کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے آخر میں فرہنگ، مقامات اور اشخاص کا اشاریہ اور دلی کی خوبصورت رنگین تصاویر بھی شامل کی ہیں۔
(ملا واحدی نے ”دلی چھوڑنے سے پہلے“ کے زیر عنوان جو تیرہ صفحات کا مضمون قلمبند کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم نے اس کے اہم اہم اقتباسات کو ایک مضمون کی شکل دی ہے۔ اگر چہ بار بار اختصار کرنے کے باوجود یہ ذرا طویل ہو گیا ہے تاہم کافی دلچسپ ہے اور امید ہے کہ قارئین کو پسند آئے گا۔) ملا واحدی لکھتے ہیں:
15 اگست کو میں نے سچ مچ اپنے تئیں آزاد تصور کیا تھا۔ میں پھولا نہیں سماتا تھا کہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے مرنے سے پہلے آزادی کی صورت دکھا دی۔ میں خیال کرتا تھا کہ پاکستان میں صرف مسلمان اور ہندوستان میں صرف ہندو اور سکھ آزاد نہیں ہوئے ہیں، دونوں سلطنتوں کے کل باشندے آزاد ہوئے ہیں۔ مگر اگست کا مہینہ گزرنے نہ پایا تھا جو محسوس ہونے لگا کہ میں تو اور بندھ گیا۔ میری محکومی اور غلامی تو اور ابھر آئی۔ انگریز کے دور میں اس قدر احساس کمتری نہ تھا جس قدر آزادی کے زمانہ میں ہو رہا تھا۔ چاروں سمت فضا اتنی خراب تھی کہ میں اپنے ہندوار دلی کی بابت بھی سوچنے لگتا کہ یہ سلام کے لیے جھک رہا ہے یا میرا مذاق اڑا رہا ہے۔ اس کا تعلق حاکم قوم سے ہے اور میں اس کی قوم کا بھی محکوم ہوں اور اس کا بھی محکوم ہوں۔
آخر ستمبر آگیا اور ستم گری کا پروگرام شروع ہوا۔ کہتے ہیں مغربی پنجاب میں مسلمانوں نے ہندووں اور سکھوں پر ظلم ڈھائے تھے۔ ان کا بدلہ دلی کے مسلمانوں سے لیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں پنڈت جواہر لال نہرو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی غرض سے کوئی سازش ہوئی تھی اس سازش کی چکی میں مسلمان پس گئے۔ حقیقتاً یہ اللہ کا قہر تھاجو مجھ جیسے بے عمل اور بد عمل مسلمانوں کی وجہ سے دلی کو تباہ کر گیا۔ سبزی منڈی کے قریب قرول باغ کے قریب اور پہاڑ گنج کے قریب مغربی پنجاب کے شر نارتھیوں کوٹھہرایا گیا تھا۔ یہ تینوں آبادیاں دلی کے کناروں کی آبادیاں ہیں۔ ایسی ہی آبادیاں اور بھی ہیں اور ان کے قریب بھی شرنارتھیوں کے کیمپ تھے۔ مگر طوفان سبزی منڈی، قرول باغ، پہاڑ گنج اور نئی دلی ہی میں پھیلنے پایا تھا کہ گاندھی جی لاہور جاتے جاتے دلی اتر پڑے اور طوفان رک گیا۔ لیکن اطمینان اور بھروسہ سارے شہر کے مسلمانوں کا جاتا رہا تھا۔ خصوصاً جہاں مسلمانوں کی آبادی اور ہندووں کی آبادی پاس پاس تھی وہاں کے مسلمان بے حد سراسیمہ تھے۔ کو چہ چیلان بھی جہاں میرا مکان تھا اسی قسم کا علاقہ تھا۔ فیض بازار نام کی ایک چوڑی چکلی سڑک ہے، اس کے ایک رخ پچیس تیس ہزار ہندو بستے تھے اور دوسرے رخ لاکھ سوا لاکچھ مسلمانوں کے گھر تھے۔ ہندووں میں دلی کے قدیم رہنے والے کم تھے، پنجاب کے رہنے والے زیادہ۔ یہ پنجابی دلّی میں ملازمتیں اور مختلف کا روبار کرتے تھے۔ مغربی پنجاب سے ان کے عزیز آتے تو پہلے ان کے ہاں ٹھہرتے اور پھر مکانوں اور دکانوں کی تلاش میں نکلتے۔ تلاش اس درجہ آتشیں ہوتی کہ سڑک کے مسلمان دکاندار اس کی تاب نہ لا سکے۔دکانوں کے بعد مکانوں کا نمبر لگا۔ ایک گلی۔ دوسری گلی۔ تیسری گلی۔ میر امکان جس سڑک پر تھا اس سڑک کا بھی خاصا حصہ مسلمانوں سے خالی کرالیا گیا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ لاکھ سوالاکھ مسلمان پچیس تیس ہزار ہندووں اور سکھوں سے کیوں دہل رہے تھے۔ نووارد ہندوو ¿ں اور سکھوں کو شامل کر لیجئے تو بھی ان کی تعداد مسلمانوں کے برابر نہ ہوگی۔ عرض یہ ہے کہ مقابلہ ہندووں اور سکھوں سے نہیں تھا، فوج اور پولیس سے تھا۔ جو حملہ آوروں کی بجائے انہیں نشانہ بناتی تھی جن پر حملہ ہوتا تھا۔ میرے مکان کی سڑک پر ان مقامات کے قریب جہاں تک ہندو اور سکھ گھس آئے تھے حکومت نے دونوں طرف گورکھوں کو کھڑا کر دیا تھا تا کہ اور ہندو اور سکھ نہ گھسنے پائیں۔ میرا مکان ان پکٹوں کے بیچ میں گو یا محفوظ تھا۔ لیکن میں نے اپنے میں اس تجربہ کے کرنے کی طاقت نہیں دیکھی کہ حملہ ہوگا تو گور کھے مسلمان آبادی کی حفاظت کریں گے یا ہندووں اور سکھوں کا ساتھ دیں گے۔
بہادر مسلمان ایک ایک کر کے بھاگ نکلے۔ ہر وہ صورت جسے میں پہچانتا تھا اور ہر وہ شخص جس سے کبھی کبھار بات ہو جایا کرتی تھی غائب ہوگئی۔ اردگرد مسلمان تھے بھی تو نئے تھے۔ جو سبزی منڈی ، قرول باغ ، پہاڑ گنج اور نئی دلی سے دم لینے کے لیے یہاں آپڑے تھے اور پرانے قلعہ اور مقبرہ ہمایوں کے پناہ گزینوں میں پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے۔ کو چہ چیلان ایک حساب سے پناہ گزینوں کا ٹرانزٹ کیمپ بن گیا تھا۔ کچھ مسلمان تھے جو مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دلّی سے مت جاو۔ دور پرانے قلعہ اور ہمایوں کے مقبرے جا جا کر بھی مسلمانوں کو سمجھاتے تھے کہ اپنے اپنے گھر واپس آجاو۔ بیان کیا جاتا تھا کہ گاندھی جی اور پنڈت نہر و چاہتے ہیں کہ مسلمان دلّی سے نہ جائیں۔ ایک روز مجھے بھی ہلہلا اٹھا اور میں نے چار مسلمانوں اور چار ہندووں کی جماعت بنائی اور جماعت کو لے کر چلا کہ لوگوں کو اطمینان دلاوں گا اور بھاگنے سے روکوں گا۔ دریا گنج پوسٹ آفس کے پیچھے سرسید احمد روڈ پر سب سے پہلے ہمیں تانگہ میں دو میاں بیوی سوار ہوتے ملے۔ سامان رکھ چکے تھے اور خود بیٹھ رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا اس طرف مسلمان اگر چہ زیادہ ہیں لیکن وہ آپ کو ہرگز گزند نہیں پہنچائیں گے۔ ہندو ساتھیوں نے ہماری تائید کی اور ہندو میاں بیوی نے کہا مان لیا۔ آگے بڑھے تو کو چہ سعد اللہ خاں کے مسلمان آٹھ تانگے لیے کھڑے تھے۔ انہیں بھی منع کیا گیا اور کوچہ سعد اللہ خاں کے اندر جا کر ہدایت کر دی کہ بھاگنے کی غلطی نہ کی جائے۔ کوچہ سعد اللہ خاں سے ایک مکان کی کھڑکی کے ذریعہ کوچہ تارا چند پہنچے وہاں ہندووں کی گھبراہٹ کو دور کیا۔ مسلمان آبادی میں بسنے والے ہندو ابھی اپنے تئیں مسلمانوں پر غالب نہیں خیال کرتے تھے۔ ہم کو چہ تارا چند ہی میں تھے کہ گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔ آگے بڑھنے کی ہمیں جرات نہیں ہوئی۔ الٹے قدموں اسی مکان کی کھڑی کے راستہ کو چہ سعد اللہ خاں لوٹے۔ خبر ملی کہ کو چہ تارا چند کے ہندووں نے کوچہ سعد اللہ خاں کے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ پھر وہی فوج اور پولس کی امداد آئی۔ وہی مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ مکان خالی کرا لیے گئے اور مسلمان حفاظت کی غرض سے خانہ بدر کر دیے گئے۔
بہادر مسلمان ایک ایک کر کے بھاگ نکلے۔ ہر وہ صورت جسے میں پہچانتا تھا اور ہر وہ شخص جس سے کبھی کبھار بات ہو جایا کرتی تھی غائب ہوگئی۔ اردگرد مسلمان تھے بھی تو نئے تھے۔ جو سبزی منڈی ، قرول باغ ، پہاڑ گنج اور نئی دلی سے دم لینے کے لیے یہاں آپڑے تھے اور پرانے قلعہ اور مقبرہ ہمایوں کے پناہ گزینوں میں پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے۔ کو چہ چیلان ایک حساب سے پناہ گزینوں کا ٹرانزٹ کیمپ بن گیا تھا۔ کچھ مسلمان تھے جو مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دلّی سے مت جاو۔ دور پرانے قلعہ اور ہمایوں کے مقبرے جا جا کر بھی مسلمانوں کو سمجھاتے تھے کہ اپنے اپنے گھر واپس آجاو۔ بیان کیا جاتا تھا کہ گاندھی جی اور پنڈت نہر و چاہتے ہیں کہ مسلمان دلّی سے نہ جائیں۔ ایک روز مجھے بھی ہلہلا اٹھا اور میں نے چار مسلمانوں اور چار ہندووں کی جماعت بنائی اور جماعت کو لے کر چلا کہ لوگوں کو اطمینان دلاوں گا اور بھاگنے سے روکوں گا۔ دریا گنج پوسٹ آفس کے پیچھے سرسید احمد روڈ پر سب سے پہلے ہمیں تانگہ میں دو میاں بیوی سوار ہوتے ملے۔ سامان رکھ چکے تھے اور خود بیٹھ رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا اس طرف مسلمان اگر چہ زیادہ ہیں لیکن وہ آپ کو ہرگز گزند نہیں پہنچائیں گے۔ ہندو ساتھیوں نے ہماری تائید کی اور ہندو میاں بیوی نے کہا مان لیا۔ آگے بڑھے تو کو چہ سعد اللہ خاں کے مسلمان آٹھ تانگے لیے کھڑے تھے۔ انہیں بھی منع کیا گیا اور کوچہ سعد اللہ خاں کے اندر جا کر ہدایت کر دی کہ بھاگنے کی غلطی نہ کی جائے۔ کوچہ سعد اللہ خاں سے ایک مکان کی کھڑکی کے ذریعہ کوچہ تارا چند پہنچے وہاں ہندووں کی گھبراہٹ کو دور کیا۔ مسلمان آبادی میں بسنے والے ہندو ابھی اپنے تئیں مسلمانوں پر غالب نہیں خیال کرتے تھے۔ ہم کو چہ تارا چند ہی میں تھے کہ گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔ آگے بڑھنے کی ہمیں جرات نہیں ہوئی۔ الٹے قدموں اسی مکان کی کھڑی کے راستہ کو چہ سعد اللہ خاں لوٹے۔ خبر ملی کہ کو چہ تارا چند کے ہندووں نے کوچہ سعد اللہ خاں کے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ پھر وہی فوج اور پولس کی امداد آئی۔ وہی مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ مکان خالی کرا لیے گئے اور مسلمان حفاظت کی غرض سے خانہ بدر کر دیے گئے۔