علم و کتاب
8.02K subscribers
1.14K photos
82 videos
2.37K files
6.26K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
012 عبد اللہ بن مسعود.pdf
4 MB
صور من حياة الصحابة (12) عبد الله بن مسعود رضي الله عنه بصوت المؤلف الدكتور عبد الرحمن رافت باشا رحمه الله مع التمارين
*وفیات مورخہ:اگسٹ /24*
1896ء خواجہ عبد الغنی میاں۔ نواب ڈھاکہ
1927ء بشیر الدین احمد دہلوی۔ مولوی، ادیب، مورخ، فرزند ڈپٹی نذیر احمد
1927ء محمد ناظم دہلوی۔
1967ء نخشب جار چوی (ختر عباس )۔ نغمہ نگار ،
1971ء ضیاء الاسلام (محمد)۔ ،
1979ء عبد السلام قدوائی ندوی۔ مولانا، مدیر معارف اعظم گڑھ
1985ء ناظم انصاری ناگپوری۔ شاعر
1987ء عبدالقادر خمیسانی۔ میمن رہنما ،
1988ء جمیل زبیری، اے اے (علی اصغر)۔ ،
1994ء تمنائی ، زیڈ۔ اے۔ ،
1997ء حاجی ہاشم (حاجی احمد)۔ ،
1999ء زاہدہ امجد علی۔ ،
2000ء جلیل احمد سیو ہا روی۔ مولانا
2000ء کلیان جی ویر جی شاہ۔
2003ء علی محمد خسرو۔ پروفیسر ، وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
2005ء جمشید انصاری۔ اداکار ،
2007ء عبد الرحمن عارف الجمیلی۔ صدر عراق
2010ء شوقی ابوخلیل۔ فلسطینی مورخ
2016ء اخلاق الرحمن قدوائی۔ گورنر دہلی
2019ء ارون جیٹلی۔ بھارتی وزیر قانون
2021ء سلطان سبحانی۔
2021ء فیض الرحمن عثمانی۔

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ:اگسٹ /25*
1967ء شمس الاسلام حقی (محمد)۔ مولوی
1969ء راز چاندپوری، محمد صادق۔ شاعر
1969ء مخدوم محی الدین (ابو سعید محمد)۔ شاعر
1971ء سبطین احمد بدایونی۔ ،
1973ء محمود تیمور۔ مصری ادیب
1975ء انیس الحسنین رضوی (سید)۔ مولانا
1984ء کوثر القادری امروہوی (سید عبدالاحد)۔ ،
1985ء یاور عباس (سید)۔ ڈاکٹر ، براڈکاسٹر
1989ء زاہد علی خاں۔ نوابزادہ ،
2004ء احمد فراز۔ شاعر
2012ء نیل آرمسٹرونگ۔ امریکی خلاباز

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
*حال وطن تحریک خلافت کے بعد*
(مولانا مودودیؒ کے خطاب تحریک اسلامی کے انتیس سال سے چند اقتباسات)
( گزشتہ دنوں ایک خبر آئی تھی کہ کانگریس پارٹی نے مجاہدین آزادی کی کے جو بینر جاری کئے تھے، ان میں مولانا ابو الکلام آزاد کا نام غائب کردیا گیا تھا، جب کانگریس کا یہ رویہ ہو تو پھر دوسری فسطائی جماعتوں سے کیا شکایت، اب انہوں نے تحریک آزادی میں مسلمانوں کے کردار کو تاریخ سے مٹانا ہی شروع کردیا ہے۔
اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے تحریک خلافت کی ۱۹۲۴ء میں ناکامی کے بعد پورے چودہ سال برصغیر کےمسلمان انتشار کا شکار رہے، اور جب آزادی کا پھل لینے کا وقت آیا تو وہ دو دھڑوں میں بٹ گئے، اس مرحلہ کے سلسلے میں کتابوں میں مرتب انداز سے مواد نہیں ملتا، اس دوران جو تحریریں سامنے آئی ہیں، ان میں مولانا مودودی کے سلسلہ مضامین" ہندوستان اور موجودہ سیاسی کشمکش " بڑے اہم ہیں، انہی مضامین نے برصغیر کے چوٹی کے مفکرین اور دانشوروں کو مولانا کے طرف راغب کیا تھا، اور جماعت اسلامی کی تاسیس کا باعث بنے تھے(اور پھر یہ اکابر اس تحریک سے کیوں الگ ہوئے،یہ اس وقت ہمارا موضوع بحث نہیں ہے)، یہ مضامین برصغیر کی سیاست کو سمجھنے میں اب بھی ممد ومعاون ہیں، جہاں تک خلافت تحریک کی ناکامی کے بعد کے حالات ہیں، ان کے سلسلے میں مرتب معلومات ہمیں مولانا کی ۲۷ /اگست ۱۹۷۰ء کی دو گھنٹے کی ایک تقریر میں ملتے ہیں ، چونکہ یہ موضوع مرتب انداز سے کتابوں میں نہیں ملتا، لہذا قارئین کی معلومات کے لئے اس تقریر سے منتخب حصے پیش کررہے ہیں، اس انتخاب میں ہم نے مولانا کی رائے کو زیادہ سے زیادہ حذف کرکے صرف معروضی انداز میں اس تاریخ کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے، واضح رہے کہ مولانا نے جو باتیں بیان کی ہیں ان سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے، اور تصویر کے مختلف رخ سمجھنے کے لئے دوسرے مفکرین کی تحریریں بھی پیش ہوںتو حقائق سمجھنے میں مزید آسانی ہوسکتی ہے۔ عبد المتین منیری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اقتباسات تحریک اسلامی کے انتیس سال*
میں نے جب دنیا میں ہوش سنبھالا تو میرے سامنے برّ عظیم ہند میں ایک عظیم الشان تحریک برپا ہوئی تھی۔ اس تحریک میں ایک طرف مسلمان تھے، جو خلافت اسلامیہ اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے تن من کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوکر کھڑے ہوگئے تھے اور پوری قوم یہ طے ہوکر اس کے لیے تیار ہوگئی تھی کہ بری بھلی جیسی کچھ بھی خلافت قائم ہے اس کی حفاظت کی جائے۔اور مقامات مقدسہ جن پر اس وقت انگریز قابض ہوچکے تھے کفار کر قبضے سے نکالا جائے۔۔۔ دوسری طرف جلیان والا باغ کے حادثہ کے بعد پورے ہندوستان میں ایک آگ لگ گئی تھی اور اس کی بنا پر ہندوستان کی ہندو قوم مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک طرف خلافت کی تحریک کو کامیاب بنائیں اور دوسری طرف ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کریں۔ جس کا نام ہندوؤں کی اصطلاح میں سوراشٹرا تھا اور جس کی قیادت کانگریس کررہی تھی۔اس وقت مسلمان قوم کے تمام بڑے اکابر بہت مخصوص مستثنیات کو چھوڑ کر اس تحریک میں شریک تھے۔ اور گاندھی جی کو ان سب نے اپنا قائد مان کر ان کے ماتحت ترک ِموالات کی ایک زبردست تحریک شروع کی۔ جس کو انگریزی میں non cooperation کہتے ہیں۔ ۔۔
ترکی قوم میں جس قیادت کی بدولت ترک سلطنت کا نظام چل رہا تھا وہ ایک لادینی قیادت تھی جو ترک قوم پرستی کی بنیاد پر کھڑی کی گئی تھی۔اس کے مزاج میں قوم پرستی بھی شامل تھی ترکی قوم پرستی اور اس کے مزاج میں لادینیت شامل تھی جو مغرب کے تعلیم یافتہ ترک نوجوان اپنے ساتھ مغربی ممالک سے لے آئے تھے۔ ۔۔ اسلام کے دشمنوں نے اس کے جواب میں عربوں میں بھی ایک زبردست قوم پرستی کی تحریک پیدا کردی ۔ جس کےنتیجے میں جنگ عظیم اول میں بجائے اس کے کہ عرب اور ترک مل کر کھڑے ہوتے، دونوں ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہوگئے۔ عربوں نے ترکوں سے بغاوت کی اس وجہ سے کہ وہ خلافت اسلامیہ کے قائل تو ہوسکتے ہیں لیکن ترکی قوم پرستی کے قائل عرب کیسے ہوسکتے ہیں۔ بیوقوف تھے وہ لیڈر جن ایک ایسی سلطنت کو چلا رہے تھے جس میں خالی ترک ہی آباد نہ تھے بلکہ عرب اور کرد اور دوسری قوموں کے مسلمان بھی شامل تھے۔مگر انہوں نے اس سلطنت کو ترکی قوم پرستی کی نذر کردیا۔ اور نادان تھے وہ عرب کہ جنہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں کے فریب میں آکر ترکوں کے مقابلے میں عرب قوم پرستی اختیار کی اور اپنے ہاتھ سے عرب ممالک کو فتح کرکے انگریزوں کے حوالے کیا۔۔۔۔
انگریزوں نے ہندوستان میں آکر اپنے ملک پر قیاس کرتے ہوئے ہندوستان کی آبادی کو بھی ایک قوم فرض کرلیا۔ اور اس ایک قوم کے اندر اس نے جمہوری نظام اپنے ملک کے نظام کے طریقے کے اوپر قائم کرنا شروع کیا۔ جمہوری ادارات قائم کرنے شروع کردیے۔ ہندو قوم کےلیے یہ بات سب سے زیادہ مفید تھی کیوں کہ ہندو اکثریت میں تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان باشندوں کو ایک قوم قرار دے کر ایک جمہوری نظام چلانے کی صورت میں جتنا فائدہ بھی وہ ان کو بھی حاصل ہوگا۔ آخرکار مسلمان ان کے ماتحت اور ان کے ایک طرح سے عملاً غلام بن کر رہ جائیں گے۔۔۔۔
1924ء میں آکر مصطفیٰ کمال نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا خود اعلان کردیا۔ جس خلافت کی حفاظت کے لیے پوری مسلمان قوم اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ یہ اپنے ملک کے تمام مسائل کو نظر انداز کرکے جس خلافت کے لیے وہ دنیا بھر سے لڑنے کے لیے کھڑی ہوئی، اس خلافت کے حاملین نے اس بوجھ کو خود اتار کر سامنے پھینک دیا اور ہندوستان کے مسلمان دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ یعنی جس چیز کے لیے ہم لڑرہے تھےوہ کہاں گئی؟ اس واقعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان قوم کی یکایک کمر ٹوٹ گئی۔ 1924 سے لے کر 1938ء تک 14 سال مسلسل ایسے گزرے ہیں کہ مسلمانوں کی کوئی قیادت سرے سے نہیں تھی۔ کوئی نہ تھاجس کے اوپر مسلمانوں کا اعتماد ہوتا نہ کوئی جماعت نہ کوئی لیڈر۔ پوری قوم میں افراتفری برپا ہوچکی تھی۔ پوری قوم منتشر ہوکر رہ گئی تھی۔ پراگندہ ہوکر رہ گئی تھی۔ یہ سب اسی چیز کا نتیجہ تھا کہ ایک ایسے مسئلے پر قوم کو اٹھایا گیا تھا جس پر ہمارا اپنا کوئی قابو نہیں تھا۔جس کا اختیار دوسروں کے ہاتھ میں تھا۔ دوسروں نے اس کا فیصلہ کرڈالا اور ہمارے سارے کیے کرائے پر پانی پھر گیا۔ دوسرے طرف اسی 1924ء کے آخری زمانے میں وہ ہندو مسلم اتحاد بھی ختم ہوگیا جس کے اوپر ہندوستان میں یہ زبردست تحریک اٹھی تھی۔ ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔ اور ان فسادات میں گاندھی سے لے کر نیچے تک تمام ہندو لیڈروں کا متفقہ طرز عمل یہ تھا کہ جہاں تک ہوسکے مسلمانوں کو condemn کیا جائے چاہے وہ مظلوم ہوں، اور جہاں تک ہوسکے ہندوؤں کی حمایت کی جائے چاہے وہ ظالم ہوں۔ یہ طرز عمل 1924ء کے آخر میں کھلم کھلا سامنے آگیا۔ ۔۔
۔ اس کے بعد 1925ء میں شدھی کی تحریک شروع ہوئی۔ اور اس تحریک کو لے کر وہ شخص اٹھا شردھانند، جسے ایک روز مسلمان دہلی کی جامع مسجد میں خود لے کر گئے اور وہاں مکبر پر اس کو کھڑا کرکے اس سے تقریر کروائی۔۔۔ایک دو سال کے اندر ہی اس شخص نے مسلمانوں کو یہ بدلہ دیا کہ علانیہ وہ شدھی کی تحریک لے کر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔
اس کے بعد دوسرے سال سن 1926 ء میں سوامی شردھانند کو ایک مسلمان نے قتل کردیا۔ جس نے شدھی کی تحریک شروع کی تھی ایک مسلمان اٹھا اور اس کو جاکر قتل کردیا۔ اس کے بعد اسلام کے خلاف حملوں کا ایک زبردست سلسلہ شروع ہوا سارے ہندوستان میں۔ حتی کہ گاندھی جی تک بول اٹھے اور انہوں نے بھی اسلام کے متعلق کہا کہ یہ تلوار کا مذہب ہے۔ یہ تشدد کا مذہب ہے۔۔۔۔
1924ء کے بعد مسلمان قوم میں ایک شدید انتشار برپا ہوا۔ ۔۔میں تین چار چیزیں بطور مثال آپ کو بتانا چاہتا ہوں ۔ اسی زمانے میں ترکی میں اور ترکی کی نقل اتارتے ہوئے افغانستان اور ایران میں مغربی تہذیب کا بڑے زور شور سے ایک طوفان اٹھا ، مسلمانوں کے قومی لباس کو تبدیل کیا گیا۔ ٹرکی میں یکایک رسم الخط تبدیل کیا گیا۔ شریعت اسلامیہ کو منسوخ کیا گیا اور یوروپین ممالک سے قوانین لا کر نافذ کیے گئے۔ ان ساری چیزوں کا اثر ہندوستان کے مسلمانوں پر پڑنا شروع ہوا۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں بھی یہ خیال پیدا ہونا شروع ہوگیا کہ ہم کو مغربی لباس اختیار کرنا چاہیے۔ مغربی تہذیب اختیار کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی کھڑے ہوگئے جو رسم الخط کو بھی تبدیل کرنے کے لیےتیار ہوگئے۔۔۔۔
1928 تک جو ہندوستان میں عام خیال یہ پایا جاتا تھا کہ کوئی آزادی کی تحریک مسلمانوں کو ساتھ ملائے بغیر نہیں چل سکتی اور مسلمان اس بھروسے پر تھے کہ کانگریس آزادی کے راستے پر ہمیں ساتھ لیے بغیر نہیں بڑھے گی۔ لیکن 1929 تک پہنچتے پہنچتے گاندھی نے مسلمانوں کی اس کمزوری کو بھانپ لیا کہ یہ قوم بالکل پراگندہ ہوچکی ہے اس میں کوئی قیادت باقی نہیں رہی ہے اس کے اندر کوئی تنظیم باقی نہیں رہی ہے۔اور میں صرف ہندوؤں کو لے کر اور انگریزوں سے لڑ کر آزادی حاصل کرسکتا ہوں۔ 1929 میں پہلی مرتبہ اس نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ WITH YOU, WITHOUT YOU, INSPITE OF YOU. میں آزادی کی جنگ لڑوں گا تم ساتھ آؤ تو آؤ نہیں آتے تمہارے بغیر لڑوں گا، مزاحمت کروگے تو تمہاری مزاحمت کے باوجود لڑوں گا۔ یہ 1929 میں اس وقت یہ بات کہی اور میں نے اندازہ کرلیا کہ اب مسلمانوں کی خیر نہیں ہے اس لیے کہ وہ واقعی اس پوزیشن میں تھا کہ ہندو قوم کو ساتھ لے کر انگریزی قوم کو عاجز کردے آزادی دینے پر مجبور کردے اور مسلمان دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں۔۔۔
1937ء میں مجھے حیدرآباد سے شمالی ہند کی طرف سفر کرنے کی ضرورت پیش آئی میں دہلی آیا۔ اس زمانے میں میں نے یکا یک یہ محسوس کیا کہ کیوں کہ ہندوستان کے چھ صوبوں میں ہندوؤں کی حکومت قائم ہوچکی تھی۔ اس وجہ سے مسلمانوں پر ایک کھلی شکست خوردگی کے آثار پائے جارہے تھے۔ جدھر میں گیا میں نے محسوس کیا کہ مسلمان اپنے آپ کو ایک شکست خوردہ قوم محسوس کررہے ہیں۔ دہلی سے جب میں واپس حیدرآباد گیا ہوں تو ریل میں ایک مشہور ہندو لیڈر ڈاکٹر کھرے اتفاق سے اسی کمپارٹمنٹ میں تھے جس میں میں تھا۔ بہت سے مسلمان بھی اس کمپارٹمنٹ میں موجود دتھے۔ مسلمان ڈاکٹر کھرے سے اس طرح بات کررہے تھے کہ جیسے ایک محکوم قوم کے افراد ایک حاکم قوم کے ایک آدمی سے بات کررہے ہوں۔۔۔۔
۔ اس کے بعد 1938 میں میں نے دیکھا کہ کانگریس اب اس بات پر اکتفا نہیں کررہی ہے کہ مسلمان آتے ہیں تو آئیں ہم تو اپنی آزادی کی جنگ لڑیں گے جو پالیسی 1929ء میں جس کا اعلان گاندھی نے کیا تھا بلکہ اس نے یہ پالیسی بنائی تھی کہ مسلمانوں سے بحیثیت جماعت سرے سے بات ہی نہ کی جائے بلکہ مسلم ماس کا نٹیکٹ کی ایک مہم چلائی جائے رابطہ عوام کی ایک مہم چلائی جائے۔ اور مسلمان افراد کو توڑ توڑ کر اپنے ساتھ ملایا جائے۔ یعنی ہم تمہاری کسی جماعت کو تسلیم نہیں کرتے۔ تمہاری کسی جماعت سے معاملہ طے کرکے مسلمانوں کے حقوق کے متعلق کوئی چیز طے کرنا نہیں چاہتے۔فرد فرد کو توڑ کر اپنے ساتھ اپنے اندر جذب کرلینا چاہتے ہیں۔ اور اس کام میں پیش پیش وہ کمیونسٹ تھے جو مسلمانوں میں سے کمیونسٹ تھے۔۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*سیرت النبی ﷺ کی مناسبت سے ایک اہم تحفہ*

*حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال علم اور مکارم اخلاق*

*بیان وآواز: حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ سابق مہتمم دار العلوم دیوبند*


حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال علم اور مکارم اخلاق(۱)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=huzur-akram-sw-ka-kamal-e-ilm-wa-makarim-e-akhlaq-01, Huzur Akram SW ka kamal E Ilm Wa Makarim E AKhlaq 01
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال علم اور مکارم اخلاق(۲)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=huzur-akarm-sw-kamal-ilm-wa-makrim-akhalq-02, Huzur Akarm SW Kamal Ilm wa Makrim Akhalq 02
حضرت حکیم الاسلام علیہ الرحمۃ کی مزید تقاریر
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=qari-muhammed-tayyab&t=
گذشتہ ستر سال کے دوران ریکارڈ شدہ عظیم شعراء کی آوازوں میں حمد ونعتوں کا نادر ذخیرہ بھٹکلیس ڈاٹ کام یا اردو آڈیو ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔ انہیں سننے اور ڈون لوڈ کرنے لئے کلک کریں
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=hamd-o-naat&s=&t=
*بات سے بات: تاریخ کے چند سبق (1)*
* تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) *

یہ سنہ 1971ء کی بات ہے،ابھی نویں دسویں جماعت کا طالب علم تھا، مورخ بھٹکل مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندویؒ کی کتابوں کے ذخیرے میں حضرت مولانا سید ابو الحسن ندویؒ کی ایک مختصر سی کتاب عالم عرب کا المیہ ہاتھ لگ گئی، یہ کتاب مولانا کےدو تین رسائل و خطبات کا مجموعہ تھی، جسے مولانا نور عظیم ندوی مرحوم نے نے بڑے مہارت سے عربی سے ترجمہ کیا تھا، اس روز سے عالم اسلام کے بارے میں جاننے کا ایک چسکہ لگ گیا، جو آج تک چلا آرہا ہے۔
ویسے ابھی ہم مکتب جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں پانچویں چھٹی مکتب ہی تھے، تو ہمارے اساتذہ نے عالم اسلام کے حالات کے سلسلہ میں ہم طلبہ کو باخبر رکھنا شروع کردیا تھا، 19۶۶ء میں مصر میں جو مظلومین شہید ہوئے اس کے دوسرے سال ہی سے اساتذہ سے وہاں کے حالات کا علم ہونے لگا تھا، رہی کتابیں تو مائل خیر آبادی کی " ترکستان سے ترکی تک " اور آپ کی ادارت میں جاری پندرہ روزہ نور رامپور کے سلسلے ریڈیو نورستان سے اس کا ذوق ہونے لگا تھا۔ پھر جب کچھ پڑھنا اور سمجھنا آگیا تو مولانا علی میاں کی " ماذا خسرالعالم بإنحطاط المسلمين" اور " الصراع بين الفكرة الإسلامية والفكرة الغربية في الأقطار الإسلامية" پڑھ ڈالی،اس طرح سنہ 1979ء میں تلاش معاش میں باہر جانے سے قبل ڈاکٹر احمد امین کی فجرالاسلام، ظہر الاسلام، ضحی الاسلام، حیاتی، اور زعماء الاصلاح، مولانا دریابادی کی محمد علی ذاتی ڈائری کے چند اوراق وغیرہ کئی ساری کتابوں کے مطالعہ سے فراغت ہوگئی تھی، اس طرح بیسویں صدی میں عالم اسلام کے حالات کے تعلق سے کافی جانکار ی ہوگئی تھی۔
دبی جانے کے بعد علامہ سید سلیمان ندویؒ کی کتاب یاد رفتگان کا نیا ایڈیشن ہاتھ لگا، جس میں مصطفی کمال اتاترک کے بارے میں علامہ کی مندرجہ ذیل عبارت نے ششدر کردیا۔ علامہ نے اس میں لکھا تھا کہ
قاہری با دلبری پیغمبریست
"ایسا سیاسی پیغمبر اگر کوئی ہوا ہے تو وہ مصطفیٰ کمال اتاترک تھا، جو تاج و تخت، خدم و حشم، باڈی گارڈ اور محافظوں کے دستہ کے بغیر ملک پر حکمرانی کرتا تھا، اس نے اسلام کے اس سیاسی رنگ کا دھندلا سا منظر پیش کیا تھا جس کے دیکھنے کو خلافت راشدہ کے بعد سے مسلمانوں کی آنکھیں بے تاب تھیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو اپنی مغفرت ورحمت کے فتوحات سے سرفراز فرمائے اور ان کی اجتہادی غلطیوں سے درگزر کرے"۔
مصطفی کمال اتاترک کے بارے میں یہ بالکل متضاد موقف تھا، جو ہم مولانا علی میاںؒ وغیرہ کی کتابوں میں پڑھتے آرہے تھے، اور ہمارے لئے یہ باعث حیرت اس لئے بھی تھا کہ 1920ء میں علامہ نے خلافت کے مسئلہ پر مولانا محمد علی جوہر، اور سید حسن امام کے ساتھ ترکیہ کا بھی سفر کیا تھا۔ خلافت عثمانیہ اس وقت ایک نام خلافت تھی، عملا مصطفی اتاترک کی جماعت کا سلطنت عثمانیہ پر کنٹرول تھا، اور رہی سہی خلافت تین سال بعد مورخہ 3 مارچ 1924ء کو اتاترک کے ہاتھوں ختم بھی ہوگئی، اس کے بعد اتاترک کا اپنی وفات مورخہ 10 /نومبر 1938ء تک ترکیہ پر مکمل کنٹرول رہا، جس میں ترکیہ کی شکل وصورت ہی بدل گئی، گویا علامہ نے اپنے سفر ترکیہ کے چودہ سال بعد تک اتاترک کا دور پایا۔ چونکہ علامہ نے اتاترک کے ترکیہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، تو آپ کی رائے ہمارے لئے عینی شہادت کی حیثت رکھتی تو خلافت واقعہ نہیں ہوتی، مولانا سید ابو الحسن ندویؒ نے ترکیہ کا سفر علامہ کے سفرکے (3۶) سال بعد 196۶ء میں کیا تھا۔
1984ء میں جب ہمارا لکھنو کا پہلا سفر ہوا، تو اس سفر میں تکیہ کلاں میں حضرت مولانا سید ابوالحسن ندویؒ کی خدمت میں بھی حاضری ہوئی تھی، جہاں حضرت بے تکلفانہ انداز سے چند طالبانہ اشکالات پیش کرنے کا موقعہ میسر ہوا تھا، اس موقعہ پر مشفق من ڈاکٹر ولی اللہ عبد الرحمن ندوی ۔ استاد حدیث جامعۃ الشارقہ و جامعۃ عجمان بھی موجود تھے، جو اس وقت مدینہ یا ازہر میں زیر تعلیم تھے۔
اس وقت ہم نے حضرت کے سامنے یہ اشکال رکھا تھا کہ آپ کی کتابیں پڑھ پڑھ کر ہم اتاترک سے متنفر ہوئے، جب کہ آپ کے استاد نے جو کہ اتاترک دور کے عینی گواہ ہیں مختلف بات کہی ہے، اب ہم آپ کی بات کیسے قبول کریں؟، آپ کا ترکیہ کاسفرتو زمانہ بعد ہوا تھا۔ تو حضرت نے فرمایا تھا کہ حقیقی تاریخ نصف صدی بعد لکھی جاتی ہے، جب جذبات کاغبار چھٹ جاتا ہے، اور ٹہراو آجاتا ہے، پروپیگنڈہ کا اثر ختم ہوکر صحیح حقائق سامنے آنے لگتے ہیں، علامہ کے زمانے کا ماحول بڑا جذباتی تھا، وقت پر درست خبریں بھی نہیں پہنچتی تھیں،خلافت عثمانیہ کے ختم ہونے کے تیس سال بعد جب آپ نے ترکیہ کا سفر کیا، اوروہاں کی جو گھٹن دیکھی، مفکرین او ر دانشوروں سے جو تبادلہ خیال کیا، اور اس دوران اتاترک کی لادینی سیاست کے جو آثار ترکیہ میں خصوصا اور عالم اسلام میں عموما نظر آئے، یہ حقیقت تھی۔
❤2👍1
حضرت مولانا علیہ الرحمۃ کی یہ گفتگو اس لئے یاد آئی کہ چند روز قبل پندرہ اگست کی مناسبت سے ایک صاحب نے بزم علم وکتاب پر مولانا آزاد کی سوانح عمری کے بارے میں دریافت کیا تھا، تو احباب نے انہیں صرف آپ کی آب بیتی انڈیا ونس فریڈم یا آزادی ہند اور شورش کی کتاب کی رہنمائی کی تھی۔ جس سے محسوس ہوا کہ ہمارے اہل علم حضرات مولانا ابو الکلام آزاد کا احترام تو بہت کرتے ہیں، لیکن ان کے بارے میں وہ زیادہ نہیں جانتے، ذاتی مطالعہ کے بجائے اپنے اکابر یا حلقوں سے جو سنتے آئے ہیں انہیں بیان کردیتے ہیں، اسی طرح تحریک آزادی کے بارے میں بھی ان کی معلومات زیادہ گہری نہیں ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان گذشتہ ایک صدی کے دوران جن حالات تک پہنچے ہیں ان کے اسباب کا انہیں خواطر خواہ علم نہیں ہے، بس سنی سنائی اور رٹی رٹی باتوں کی مختلف مناسبتوں سے تکرار ہوتی رہتی ہے، اور جب اسباب زوال کا درست علم نہ ہوتو بیماری کا علاج کیوں کر ہو؟۔ اسی وجہ سے ہم نے اپنے گذشتہ کالم میں مولانا ابو الکلام آزاد کی کتاب انڈیا ونس فریڈم پر تفصیلی گفتگو کی تھی۔ الحمد للہ اس کے بعد کئی ایک احباب نے اس پر عالمانہ تبصرے کئے ہیں ۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے، کہ ہم نے صحافی محمد غزالی خان کی تقسیم ہند کے تعلق سے جو عبارت نقل کی تھی، غلطی سے بعض احباب نے اسے ہماری طرف منسوب کیا ہے۔
عام خیال یہ ہے کہ صدر کانگریس موتی لال نہرو نے 10 /اگست 1928ء کو لکھنو کانفرنس میں جو رپوٹ کی تھی، اس نے اس وقت مسلمانوں میں احساس محرومی کو اجاگر کیا تھا، بعد میں تقسیم ہند تک جو ملک پہنچا اس کی داغ بیل اسی نہرو رپورٹ نے ڈالی تھی۔ مختلف اسباب سے مسلم دشمن عناصر اس بات کومانناننے کے باوجود اجاگر نہیں کرتے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی نے 4 جون 2006ء کو مزار قائد پر محمد جناح کو سیکولر بتا کر اس کی جو تعریف کی تھی، وہ در اصل مسلمانان ہند کو باور کرنے کے لئے تھی کہ کانگریس مسلمانوں کی دشمن ہے، وہ انہیں حقوق دینا نہیں چاہتی،مسلمان اپنے صل دشمن کو چھوڑ کر بلا ضرورت بی جے پی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، یہی بات اس وقت کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے جناح پر اپنی کتاب میں کہنے کی کوشش کی تھی، لیکن جب آر یس یس کو محسوس ہوا کہ اس سے تو مسلمان مظلوم بن کر ابھر رہے ہیں، تو اس نے اڈوانی اور جسونت سنگھ کو سیاسی منظر نامے سے ہٹا دیا۔ اس طرح آر یس یس نے اس موضوع کو رائے عامہ کا موضوع بننے سے پہلے ہی میڈیا کی رونق بننے نہیں دیا، اگر اس وقت اس موضوع پر میڈیا پر کھل کر بات ہوتی تو شاید آج کی طرح اتنی دفاعی پوزیشن میں نہ ہوتے۔
اب آتے ہیں تحریک آزادی میں مہاتما گاندھی کے کردار اور خلافت تحریک کی قیادت کی طرف، اس وقت بی بی سی کے مایہ ناز صحافی آصف جیلانی کا مورخہ 28/ اپریل 2012ء کو شائع شدہ مضمون "خفیہ برطانوی دستاویزات میں گاندھی جی کا چہرہ" میرے سامنے ہے، اس میں آپ لکھتےہیں کہ:
۔ "پچھلے دنوں میں برٹش لائبریری میں وہ خفیہ فائلز دیکھ رہا تھا جو ایک طویل عرصہ تک برطانوی دفترخارجہ میں پوشیدہ رکھنے کے بعد اب کھولی گئی ہیں پوشیدہ ان فائلوں کو اس بناء پر رکھا گیا تھا کہ ان کی نوعیت نہایت حساس ہے کیونکہ یہ فائلیں زیادہ تر برطانوی سراغ رساں اداروں کی خفیہ رپورٹوں اور دستاویزات پر مشتمل ہیں۔میں ان فائلوں میں گاندھی جی کے بارے میں 1924ء سے لے کر 1937ء تک کی انٹیلی جنس رپورٹیں دیکھ کر دنگ رہ گیا اور گاندھی جی کی جو امیج میرے ذہن میں تھی وہ چکنا چور ہو گئی۔۔۔
۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاندھی جی 1920ء میں یہ سوچتے تھے کہ ہندو اور مسلمانوں کی مشترکہ طور پر جدوجہد آزادی کی کامیابی کا امکان ہے لیکن ملک میں مذہبی کٹر پن کی وجہ سے جس کی جڑیں صدیوں کے بیر کی بدولت بہت گہری ہیں ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں ان کے منصو بے کامیاب نہیں ہو سکیں گے لہٰذا انہوں نے اس خیال کو ترک کر دیا ہے اور اس امر کے لیے کوشاں ہیں کہ متحدہ ہندو رائے کی ایک جماعت کو فروغ دیا جائے اور اسے اس حد تک طاقت ور بنایا جائے کہ آخر کار اس کی طاقت کی بدولت ہندوستان کے معاشرہ کے دوسرے تمام حصے اس کی طرف رجوع ہونے پر مجبور ہوں۔ اس مقصد کے لیے گاندھی جی نے کانگریس کے اتحاد کو مضبوط کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور وہ اس میں کامیاب رہے ہیں۔گاندھی جی کا رام راجیہ کا نعرہ اور کھلم کھلا اس بات کا اعتراف کہ انہوں نے ہندوستان کی سیاست میں مذہب کا ’’ناگ ،، چھوڑا ہے اس رپورٹ کے تجزیہ کو تقویت دیتا ہے۔
❤2
ررپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاندھی جی نے مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے ہوا دی۔ انگریزوں کی طرح وہ اس زمانہ میں سب سے زیادہ خائف مسلمانو ں کی عسکری جدوجہد اور کمیونزم کے خطرہ سے تھے۔ انگریزوں کو سب سے زیادہ خطرہ خلافت کی تحریک سے تھا جو مسلح جدوجہد کی صورت اختیار کر سکتی تھی۔ گاندھی جی مسلمانوں میں مقبولیت حاصل کرنے اور اپنا سیاسی دائرہ وسیع کرنے کی خاطر تحریک خلافت میں شامل ہو گئے تھے ۔ انگریز حکمرانوں نے اس تحریک کو مسلح سمت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے گاندھی جی کے اہنسا کے فلسفہ کا سہارا لیا اور ان کی بھر پور ہمت افزائی کی کہ وہ اس تحریک کے قائدین علی برادران پر اپنا اثر جما کر اس تحریک کا رخ موڑ دیں اور اسے بے ضرر بنادیں۔(جاری)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
👍1
*بات سے بات: تاریخ کے چند سبق (2)*
* تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) *


گاندھی جی اس میں کامیاب رہے ۔یہ بات بے حد اہم ہے کہ تحریک خلافت کے جو وفود وائسرائے سے ملاقات کرتے تھے ان کی قیادت گاندھی جی کرتے تھے اور وائسرائے کی طرف سے یہ کبھی اعتراض نہیں کیا گیا اور نہ گاندھی جی کو للکارا گیا کہ خلافت کا مسئلہ مسلمانوں کا ہے آپ کا اس سے کیا تعلق ؟ آپ اس تحریک کے وفد کی کس بنا پر قیادت کر رہے ہیں۔ لیکن گاندھی جی کی سیاست اور حکمت عملی چونکہ برطانوی راج کے مفادات کے عین مطابق تھی لہٰذا ن کو شہہ دی گئی کہ وہ تحریک خلافت کی قیادت پر قابض رہیں"۔۔۔
آصف جیلانی اپنے مورخہ : 29 / جنوری 2017ء کولکھے گئے ایک اورمضمون " گاندھی کا عدم تشدد کا نظریہ سرا سر ناکام؟" میں لکھتے ہیں کہ "اسی دوران ہندوستان میں ترکی کی خلافت کے حفظ و بقا کے لیے مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں مسلمانوں کی تحریک اٹھی جو برطانوی راج کے خلاف جہاد کے جذبہ سے معمور تھی۔ اس تحریک کی خاطر مسلمانوں نے سرکاری نوکریاں اور انگریزی اسکول چھوڑ دیئے اور بیس ہزار سے زیادہ مسلمان ہجرت کر کے افغانستان چلے گئے۔

اس موقع پر جب کہ انگریزوں کو مسلمانوں کی مسلح جدوجہد کا شدید خطرہ تھا، گاندھی جی کی طرف سے اس تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے سے ہندوستان میں برطانوی راج کو بڑی حد تک اطمینان اور طمانیت حاصل ہوئی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اب گاندھی جی کی بدولت یہ تحریک تشدد کا رخ اختیار نہیں کر پائے گی۔ یہ بات اہم اور نہایت تعجب خیز ہے کہ برطانوی راج نے یہ جانتے ہوئے کہ خلافت کا مسئلہ خالصتاً مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے، اس تحریک کے لیے گاندھی جی کی قیادت کو شہہ دی اور ان کی قیادت میں خلافت کے وفد سے مذاکرات کیے۔
گاندھی جی کی قیادت کی بدولت انگریزوں کو جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری ہوئیں کیونکہ دو سال کے اندر اندر گاندھی جی کی طرف سے ستیہ گرہ کی تحریک روک دینے کے بعد خلافت کی تحریک بھی دم توڑ بیٹھی"۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ " عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان نے کسی بڑے خون خرابے کے بغیر آزادی حاصل کی ہے اور اس کا سہرا گاندھی جی کے نظریہ عدم تشدد کے سر ہے۔ لیکن بہت سے مبصرین کی رائے ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے حصول میں اور کئی محرکات شامل تھے:

اول: تو دوسری عالم گیر جنگ کے بعد برطانیہ کی معیشت اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ اسے اتنی بڑی نوآبادی کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔

دوم: امریکہ اور یورپ کا برطانیہ پرشدید سیاسی دباؤ تھا کہ وہ ہندوستان اور اپنی دوسری نوآبادیوں کو آزادی دے۔

سوم: ہندوستان میں فرقہ وارانہ کشمکش اور کشیدگی اس سطح پر پہنچ گئی تھی کہ برطانوی راج کو اس پر قابو پانا بہت مشکل ہوگیا تھا۔
❤1👍1
چوتھی وجہ سب سے اہم تھی جس سے برطانوی راج ہل کر رہ گیا تھا اور وہ تھی فروری سن 46 میں ہندوستان کی بحری بغاوت۔ یہ بغاوت بمبئی سے شروع ہوئی اور اس نے کراچی، کلکتہ اور دوسری بندرگاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بحری فوج کے 78جہازوں کے بیس ہزار بحری فوجیوں نے اس بغاوت میں حصہ لیا۔ اس بغاوت کو فرو کرنے کے لیے آخرکار برطانوی راج نے ہندوستان کے سیاست دانوں کی مدد حاصل کی۔
آصف جیلانی کے تاثر کو قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ کی اس عبارت سے مزید تقویت ملتی ہے کہ" سارا برٹش انڈیا خانہ جنگی کی مہلک لپیٹ میں گھرا ہوا تھا۔ اس بڑھتے ہوئے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے وائسرائے کے وسائل خوفناک حد تک محدود تھے۔ جنگِ عظیم کی وجہ سے اعلیٰ انتظامی سروسز میں انگریز افسروں کی تعداد پہلے سے نصف رہ گئی تھی۔ برٹش گورنمنٹ کے "سٹیل فریم" (آئی سی ایس) میں پانچ سو سے بھی کم انگریز افسر تھے۔ ان کی اکثریت بھی آزادی سے پہلے ریٹائر ہو کر گھر واپس جانے کے لیے پر تول رہی تھی۔ ہندوستان پر برٹش ایمپائر کا سایہ قائم رکھنے کے لیے ان لوگوں نے بڑے بڑے معرکے سر کیے تھے۔ لیکن اب ایمپائر کا سایہ ڈھل رہا تھا۔ اب محض ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی قتال و جدال میں کوئی نمایاں حصہ لینے میں انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ہندوستان کی مسلح افواج میں بھی برٹش افسروں کی تعداد گیارہ ہزار سے گھٹ کر فقط چار ہزار رہ گئی تھی۔ گورافوج کے یونٹ بھی بڑی سرعت سے انگلستان واپس جا رہے تھے۔ کیونکہ جنگ کے بعد ملک کی تعمیر نو کے لیے برطانیہ کو اپنی افرادی قوت کام پر لگانے کی شدید ضرورت تھی۔ سول اور ملٹری وسائل کی اس تقلیل و تخفیف کے پیشِ نظر برصغیر کے بگڑتے ہوئے حالات پر کنٹرول رکھنا وائسرائے کے بس کا روگ نہ تھا۔ عوامی سطح پر کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ سیاسی سطح پر عبوری حکومت میں مسلم لیگ اور کانگریسی گروپوں کی باہمی کشمکش اور چپقلش روز بروز تلخ سے تلخ تر ہو رہی تھی انتظامی سطح پر غیر جانبدار اور مؤثر وسائل سراسر ناکافی تھے۔ ان تمام حقائق کا جائزہ لے کر لارڈ ویول اس نتیجے پر پہنچا، کہ برطانیہ کے لیے ہندوستان پر مزید حکومت کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اس نے برٹش گورنمنٹ کے پاس پرزور سفارش کی کہ برصغیر کا اقتدار مقامی لوگوں کو
منتقلی کر کے برطانیہ کو جلد از جلد اپنی اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔(شہاب نامہ ۔ 280۔281)
آج ہندوستانی مسلمان جن حالات تک پہنچے ہیں، مسلم قیادت کو ان اسباب کا درک ہونا چاہئے، آج سوسال بعد محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کا پہیہ پھر اپنی اصل کی طرف لوٹ رہا ہے، ماضی میں جو غلطیاں ہوگئیں ان پر آنسو بہانے اور کسی کو مورد الزام لگانے کا کوئی فائدہ نہیں، لیکن اس سے ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے ان سے بچ سکتے ہیں ، اس کے لئے ہمیں اپنی تاریخ کو منقبت کے انداز میں پڑھنے کے بجائے، سنجیدہ ، تحقیقی اور غیر جانب دارانہ انداز سے اس کا مطالعہ اور تجزیہ کرکے سابقہ غلطیوں کو دہرائے بغیر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
2026-08-25
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1👍1
*جلوہ ہائے پابہ رکاب ( ۵۷)۔۔۔ ہندی تلوار*
*از: ڈاکٹر ف عبد الرحیم*
میں جن دنوں سوڈان کی ام درمان یونیورسٹی میں پڑھا رہا تھا اس وقت ملک کے صدر اسماعیل الازہری تھے۔ ہماری یونیورسٹی کے مدیر ڈاکٹر کامل باقر سے ان کے اچھے روابط تھے۔
1967ء میں صدر ازہری کا ہندوستانی دورہ عمل میں آیا۔ اس دورے میں ان کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی جانا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ان کی جو تقریر ہوگی اس میں ہندوستان کے ساتھ عربوں کے تعلقات کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں بتائیں۔ چنانچہ ہمارے مدیر کے ذریعہ مجھ سے اس بارے میں رابطہ کیا۔ میں نے ان کو کچھ دلچسپ باتیں بتائیں تھیں جن کو انھوں نے اپنی علی گڑھ والی تقریر میں شامل کیا تھا۔ میں یہاں ان باتوں کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں:
عربوں کے ہندوستان سے قدیم روابط تھے۔ عربوں میں ہندوستان کی تلوار بہت مشہور تھی، جو عربی میں المُهَنَّد کے نام سے جانی جاتی تھی، یعنی ہندوستان میں تیار کردہ تلوار۔ عرب شعراء نے اپنے اشعار میں اس کا خوب ذکر کیا ہے۔ چنانچہ جاہلی شاعر طرفہ بن العبد کہتا ہے:
وَظُلْمُ ذَوِي الْقُرْبَىٰ أَشَدُّ مَضَاضَةً
عَلَى الْمَرْءِ مِنْ وَقْعِ الْحُسَامِ الْمُهَنَّدِ
یعنی: انسان پر اپنے رشتہ داروں کی طرف سے ہونے والا ظلم و ستم ہندوستان کی تلوار کی کاٹ سے زیادہ دردناک ہوتا ہے۔
صحابی رسول حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ اپنے نعتیہ قصیدہ البردہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فرماتے ہیں:
إِنَّ الرَّسُوْلَ لَسَيْفٌ يُسْتَضَاءُ بِهِ
مُهَنَّدٌ مِنْ سُيُوْفِ اللهِ مَسْلُوْلُ
یعنی: رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی کھنچی ہوئی ہندی تلوار ہیں جس کی چمک سے ماحول روشن ہو جا رہا ہے۔
جاہلی شاعر عَنْتَرَة بن شَدَّاد ہندوستانی تلوار کو «الحُسَامُ الهِنْدُوَانِي» کے نام سے یاد کرتے ہوئے کہتا ہے:
خُلِقَ الرُّمْحُ لِكَفِّي وَالحُسَامُ الهِنْدُوَانِي
یعنی: نیزہ اور ہندوستانی تلوار جیسے ہتھیار میرے ہی ہاتھ کے لیے بنے ہیں۔
جاہلی شاعر اَلأَعْشَى کہتا ہے:
في فِتْيَةٍ كَسُيُوْفِ الهِنْدِ قَدْ عَلِمُوْا
أنْ لَيْسَ يَدْفَعُ عَنْ ذِي الحِيْلَةِ الحِيَلُ
یعنی: میں ایسے نوجوانوں کے ساتھ (میکدے گیا ہوں) جو ہندی تلوار کی طرح تیز ہیں، اور اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ تدبیر سے تقدیر ٹل نہیں سکتی۔
دوسرے مصرع کی ایک اور روایت یوں ہے:
أَنَّ هَالِكٌ كُلَّ مَنْ يَحْفَى وَيَنْتَعِلُ
یعنی: اور اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ ہر انسان کو مرنا ہے خواہ وہ ننگے پیر چلتا ہو یا جوتے پہنتا ہو۔
میں نے اسماعیل الازہری صاحب کو یہ بات بھی بتائی تھی کہ قرآن شریف میں جنت کی لذتوں کو بیان کرنے میں جو الفاظ مستعمل ہوئے ہیں ان میں سے تین الفاظ ہندوستانی نژاد کے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
1- المِسْكُ (مشک):
ارشاد باری ہے: ﴿يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ ﴿٢٥﴾ خِتَامُهُ مِسْكٌ﴾
[المطففین: 25-26] یعنی: ان کو ایسی شراب خالص پلائی جائے گی جس پر مہر لگی ہو گی۔
اس کی مہر مشک کی ہو گی۔
2- الزَّنْجَبِيْلُ (ادرک / سونٹھ):
ارشاد باری ہے: ﴿وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلاً ﴿١٧﴾﴾ [الدھر: 17] یعنی:
اور وہاں ان کو ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہو گی۔
3- الكافور (کافور):
ارشاد باری ہے: ﴿إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ﴿٥﴾﴾
[الدھر: 5]۔
یعنی: نیک لوگ ایسے جام سے مشروبات پیئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہو گی۔
ان آیات کریمہ میں مستعمل ہونے والے پہلے دو لفظ یعنی «مِسْكٌ» اور
«زَنْجَبِيل» سنسکرت کے ہیں، اور تیسرا لفظ «کافور» جنوبی ہند کی زبان تمل سے ہے۔
یہ سب الفاظ عربی زبان میں داخل ہو کر عربی رنگ میں رنگ گئے تھے جنہیں عرب اپنی
زبان میں استعمال کرتے تھے۔
صدر اسماعیل الازہری نے علی گڑھ میں اسی موضوع پر تقریر کی تھی جو بہت پسند کی
گئی۔

❧☙
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ:اگسٹ /27*
1897ء عبد الغفار نشر مہدانوی۔ مولانا
1945ء نکلس، آر اے۔ انگریز مستشرق، مترجم مثنوی مولانا روم
1961ء فانی بدایونی، شوکت علی۔ شاعر
1963ء عنایت اللہ مشرقی۔ علامہ بانی خاکسار تحریک
1963ء نظر حیدرآبادی (حامد اختر)۔ شاعر
1967ء مسعود علی ندوی۔ مولانا، ناظم دار المصنفین اعظم گڑھ
1971ء ایم اے ایچ صدیقی (محمد عبدالحمید)۔ ڈاکٹر ،
1972ء محمد عثمان کلکتوی (سید)۔ قاضی
1976ء محمد اویس ندوی نگرامی۔ استاد تفسیر دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
1982ء سید ابن حسن شاد۔ ،
1994ء عبد المنعم صالح العلي (محمد احمد الراشد)۔ عراقی مفکر
1998ء قیام الدین احمد۔ ڈاکٹر ، پٹنہ یونیورسٹی، مورخ
2000ء قمر جمیل (قمر احمد فاروقی )۔ شاعر ،
2008ء جعفر بلوچ۔
2015ء ظفر حسین مرزا۔ جسٹس (ر) ،
2019ء نند کشور وکرم۔ ادیب
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
آج اردو کے شاعر نظر حیدر آبادی کا یوم وفات ہے، آپ کی رحلت مورخہ: ۲۷ / اگست ۱۹۶۳ء کو ہوئی تھی، اس مناسبت سے آپ کی آواز میں کلام پیش خدمت ہے:
اس دور انقلاب میں
کلام وآواز: نظر حیدر آبادی

https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=daur-e-inqulab, Daur e Inqulab
مزید کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=nazar-hyderabadi&t=
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
*وفیات مورخہ:اگسٹ /28*
1913ء عبد الجبار غزنوی۔ مولانا، سلفی عالم دین
1984ء محمد نجیب۔ کرنل، صدر مصر
1987ء احمد جمال پاشا۔ ادیب
1994ء عبد اللہ درخواستی۔
1997ء صدیق احمد باندوی۔ مولانا قاری
2000ء کلیم عثمانی۔
2002ء شفیع محمد جمن۔ گلوکار سندھ ،
2013ء محمد اسحاق۔
2015ء بشریٰ فاروقی۔ کوہ پیما ،
2016ء محمد شفیع قریشی (عباسی)۔ بھارتی سیاست دان، گورنر
2017ء عبدالناصر۔ مولانا

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*غلطی ہائے مضامین۔۔۔فریاد سے معمور ہیں ہم*
* احمد حاطب صدیقی - August 28, 2026*


کئی احباب نے توجہ دلائی کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اکثر ’مامور‘ کو ’معمور‘ لکھ دیتے ہیں۔ حکم دیا کہ اِس پر بھی کچھ لکھیے۔ صاحب کیا لکھیں؟ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ کو زبان و بیان کی غلطیوں سے معمور رہنے پر مامور کردیا گیا ہے۔ ان کا تو وہی حال ہے کہ ’’سارے جہاں کا جائزہ، اپنی ’زباں‘ سے بے خبر‘‘۔ ممکن ہے کسی نے اُنھیں دھمکا دیا ہو کہ

’’میاں! درست اُردو لکھو گے یا بولو گے توتمھیں پیسے نہیں ملیں گے‘‘۔ یعنی دولت کا دروازہ تم پر ’معمور‘ ہوجائے گا۔

صاحبو! ’مامور‘ اور’معمور‘ ہم معنی نہیں ہیں۔ ’مامور‘ کے معنی متعین اور مقررکے ہیں۔ ’مامور کرنا‘ متعین کرنا، مقرر کرنا یا کوئی کام سپرد کرنا ہے۔ کسی عہدے یا کسی ذمے داری پر تعینات کرنا ہے۔ جب کہ ’معمور‘ بالکل الگ لفظ ہے۔

’معمور‘ کے مختلف معانی ہیں۔ اُردو میں اس لفظ کا سب سے زیادہ استعمال جن معنوں میں ہوتا ہے وہ ہیں لبریز، بھرا ہوا، مملو یا پُر۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اقبالؔ نے خدا کے حضور شکوۂ اربابِ وفا اور خوگرِ حمد کا گلہ پیش کرنے سے قبل یہ عذر بھی پیش کیا تھا کہ

ساز خاموش ہیں، فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

سورۂ طور کی آیت نمبر چار میں ’’بیت المعمور‘‘ کا ذکر آیا ہے۔ ’بیت المعمور‘ فرشتوں کا خانۂ کعبہ ہے۔ ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے عین اوپر واقع ہے۔ روایات کے مطابق بیت المعمور سے کوئی چیز گرائی جائے تو وہ سیدھی آکر زمین پر واقع خانۂ کعبہ کی چھت پرگرے گی۔ ’’بیت المعمور‘‘ کی وجہِ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ ہر وقت فرشتوں سے بھرا اور آباد رہتا ہے۔ اس قدر پُرہجوم کہ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3207 کے مطابق اس میں ستّر ہزار فرشتے بیک وقت عبادت کررہے ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ جو فرشتہ اس میں سے نکل جاتا ہے اُس کو دوبارہ داخل ہونے کا موقع نصیب نہیں ہوتا۔ فرشتوں کے حرم کی طرح ہمارا کعبہ بھی ’بیت المعمور‘ ہے کہ ہمہ وقت زائرین سے بھرا رہتا ہے۔

’بھرے ہوئے‘ کے معنوں میں نعت کے اس شعر میں لفظ ’معمور‘ کا استعمال دیکھیے۔ نہیں معلوم کہ شعر ہے کس کا، مگر ہے بہت اعلیٰ:

نور سے معمور سینہ
مہبطِ وحیِ سکینہ

(دوسرے مصرعے کا مطلب ہے:’’سکون پہنچانے والی وحی کے نزول کامقام‘‘)

معمور کے ایک اور معنی ہیں، مزیّن یا آراستہ۔اقبالؔ اپنی والدہ مرحومہ کی تربت پر یہ دُعا کرتے نظر آتے ہیں:

مثلِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا

اسی طرح ’’شمع اور شاعر‘‘ میں اقبالؔ پیش گوئی کرتے ہیں:

شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے

معمور کے ایک اور معنی بند یا مقفل ہونے کے ہیں۔ میر تقی میرؔ کہتے ہیں:

قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب
دروازہ شیرہ خانے کا معمور ہوگیا

میر انیسؔ بھی ہمیں یہی خبر دیتے ہیں :’’تھے شہر کے دروازے سرِ شام سے معمور‘‘۔

معمور کے سب سے بھرپور معنی ہیں آباد، بسا ہوا، مسکونہ یا لوگوں سے بھرا ہوا۔ اِنھیں معنوں میں اس زمین اور اِس دنیا کو بھی ’معمورہ‘ کہا جاتا ہے۔ معمورہ سے مراد ہے بھری پُری بستی۔ بہادر شاہ ظفر اپنی ایک غزل میں ؔخالقِ حقیقی کو مختلف مشورے دینے کے بعد اسی غزل کے مقطعے میں یہ سخن گسترانہ مشورہ بھی دے کے فارغ ہوگئے کہ

روز معمورۂ دُنیا میں خرابی ہے ظفرؔ
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا

اُدھر علامہ اقبالؔ اپنی نظم ’’شکوہ‘‘ میں خدا کے حضور اُمت کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے عرض پرداز ہیں کہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے چھڑاکر انھیں ایک اللہ کا بندہ بنانے کے لیے بس مسلمان ہی دنیا بھر میں مارے مارے پھرے، ورنہ:

اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی

یہود و نصاریٰ نے اس معمورے کے باسیوں سے جو سلوک کیا اُس کا تعلق بھی لفظ ’معمور‘ ہی سے ہے، اس کا ذکر آخر میں۔ یہاں ’معمور‘ کا جو تعلق رہنے، بسنے اور آباد ہونے سے ہے، ان معنوں میں ’معمور‘ کے خاندان کے بہت سے الفاظ اُردو میں آباد ہیں۔ مثلاًرہنے کے لیے جو جگہ بنائی جاتی ہے اُسے ’عمارت‘ کہتے ہیں۔ عمارت بنانا ’تعمیر‘ کرنا ہے۔ تعمیر کرنے والا ’معمار‘ ہے۔ ان تعمیرات میں رہنے بسنے والا ’عامر‘ کہلاتا ہے جو خیبر پختون خوا میں رہ کر عامر خان ہوجاتا ہے۔ ’عامر‘ کا ایک مطلب بھر دینے والا اور مالامال کردینے والا بھی ہے۔ اسی وجہ سے شاہوں اور سلاطین کا خزانہ ’خزانۂ عامرہ‘ کہلاتا تھا۔ مراد تھی بھرا پُرا اور مالامال کردینے والا خزانہ۔ ہمارے ہاں کے ناموں میں سے ایک نام عمار بھی ہے۔ ’عمّار‘ مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے تاعمر قوی الایمان، بُردبار، صاحبِ وقار اوراَمر و نہی پر برقرار رہنے والا۔

دُنیا میں رہنے بسنے کے لیے جو مہلت دی گئی ہے وہ عُمر کہلاتی ہے۔ فنا ؔ نظامی کانپوری عمر اور زندگی کا فرق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں:
عمر چھوٹی ملی شمع کو
زندگی خوب صورت ملی

جس کی عمر زیادہ ہوجائے وہ ’معمّر‘کہلانے لگتا ہے۔ کسی آباد مکان کا قصد کرنے کو ’عُمرہ‘ کہا جاتا ہے۔ کعبۃ اللہ ہر وقت آباد رہتا ہے، اسی وجہ سے اُس کی زیارت اور طواف و سعی کرنے کو اصطلاحاً عُمرہ کہتے ہیں۔ حج کرنے والا حاجی اور عمرہ کرنے والا ’معتمر‘ہوتا ہے۔

اب آخری بات۔ آبادی کو ’عُمران‘ کہا جاتا ہے۔ رہنے، بسنے، سماجیات اور معاشرت سے متعلق جو چیز ہو وہ ’عُمرانی‘ قرار پاتی ہے۔ انسان کی مدنی (یعنی شہری) زندگی، اُس کی تاریخ، ارتقا اور کیفیات سے متعلق علم کو ’علمِ عُمرانیات‘(Sociology) کہتے ہیں۔ کوئی قوم زبردستی کسی قوم کی زمین پر قابض ہوکر رہنے بسنے اوراپنا مقبوضہ علاقہ بڑھانے لگے تو وہ قوم ’استعمار‘(Colonizer) ہوتی ہے۔ اُس کی ہر چیز ’استعماری‘ (Colonial)کہلاتی ہے اورہر حکمتِ عملی ’استعماریت‘۔ گو اُردو میں ‘Colony’کے لیے ’نوآبادی‘ کا لفظ موجود ہے تاہم ’کالونی‘ کا لفظ بھی اُردو نے قبول کرلیا ہے۔ ’استعمار‘ سے آزادی کے باوجود وطنِ عزیز میں نئی نئی کالونیاںبنتی رہتی ہیں۔ پورا وطن ہی ’کالونی‘ بن گیا ہے۔ یہ بھی بتاتے چلیں کہ کالونی کے لیے ’مُستعمِرہ‘ کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ اس کی جمع ’مستعمرات‘ ہے۔ چوں کہ ’کالونی‘ کہنا مُستعمِرہ کہنے کی بہ نسبت سہل تھا، لہٰذا سہولت پسندوں نے استعماریت کی مزاحمت کے بجائے استعمار کی ’کالونی‘ بن جانا ہی قبول کرلیا۔
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B