سچی باتیں (22؍اپریل 1940ء)۔۔۔ انسان کی بے بسی
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
اگرآپ کی گھڑی چلتے چلتے بند ہوجائے ،یا وقت غلط دینے لگے، تو کوئی صورت بجز گھڑی ساز کی مدد کے، اُس کی اصلاح کی ہے؟ سائیکل اگر تھوڑی بہت کبھی ٹوٹ ٹاٹ جائے، تو جب تک سائیکل ساز ہی مرمت نہ کرے، آپ مجبور محض رہیں گے یا نہیں؟ موٹر کار کا کوئی پُرزہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے، نکل جائے، گھِس جائے، تو جب تک موٹر ساز ہی کا ہاتھ نہ لگے، آپ کی ساری عقل وذہانت بیکار رہے گی یا نہیں؟ ……یہ سب معمولی مشینیں ہیں، انسان ہی کی ایجاد کی ہوئی، آپ ہی کے بھائی بندوں کی بنائی ہوئی، لیکن ان کی ترتیب میں، ترکیب میں، بناوٹ میں، صناعت میں، ذرا سا بھی فرق پڑجاتاہے، تو انسان کا علم وفضل ، عقل کی رسائی اور فکر کی فلک پیمائی سب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، تاوقتیکہ کسی ماہر فن کی، ماہرخصوصی کی خدمات اعانت نہ حاصل کرلی جائیں۔ بشر کی یہ محتاجی اور بے بسی ، بشری صنعتوں اور صناعتوں ہی سے متعلق روزمرہ کا تجربہ ہے، اور ہروقت کا مشاہدہ۔
پھر جسم انسانی تو خالق کائنات کی کاریگری کا نمونہ ہے، اور حُسن صنعت کا وہ معجزہ کہ جہاں تک انسانی ادراک اور بشری عقل پہونچ بھی نہ پائے ۔ اس صناع اعظم کی کاریگری میں ادنیٰ سی ادنی دخل دینے کی ہمت وجرأت کسی مخلوق میں، یا ساری مخلوق میں مل کر بھی ہوسکتی ہے؟ جسم انسانی میں قدرتی نظام کا قائم کیا ہوا ایک ریشہ بھی اگر جگہ سے بے جگہ ہوجائے، تو کس کی مجال ہے کہ اس میں ہاتھ لگاسکے؟ خاک کے بنے ہوئے پُتلے الگ رہے، نور کے بنے ہوئے فرشتے تک اُس کی بارگاہ میں کس نیاز وشکستگی کے ساتھ اپنے جہل اور اپنے عجز کا اعتراف کرتے ہیں:-
سبحانک لا علم لنا الا ما علّمتنا انک أنت العزیز الحکیم۔
ہر قسم کے عیب اور نقصان سے پاک اور بالاتر توآپ ہی کی ذات ہے، اے ہمارے مالک ومولا! ہمیں علم ہی کیا، ہمیں علم سے واسطہ ہی کیا۔ ہاں آپ ہی نے اپنے فضل وکرم سے تھوڑا بہت علم جو ہمیں عطا کردیاہے ، تو اس کی بات ہی اور ہے۔ اختیار والے اور حکمت والے تو صرف آپ ہی ہیں، کہ جس کے لئے جتنا علم قرین مصلحت ہوتاہے، اُس سے اُسے محروم نہیں رکھتے!
یہ محض اُسی کا لطف بے پایاں اور کرم بے حساب ہے کہ اُس نے انسان کو بھی کچھ قدرے قلیل دخل دواسازی اور جرّاحی میں دے دیا، اور اس سے انسان اِس قابل ہوگیا، کہ اُس کی مشیّت اور قانون تکوینی کے ماتحت کچھ علاج معالجہ انسانوں کا کرلینے لگا، ورنہ اس کی کیا بساط تھی، کہ خدائی مشین کے کسی چھوٹے سے چھوٹے پُرزے سے متعلق ہی طبع آزمائی کرسکے!
مریض اسپتال میں داخل ہوتاہے۔ خلق کا عضلہ پانی کے داخلہ کوبند کرچکاہے۔ پیاس سے تڑپ رہاہے۔ ایک گھونٹ پانی کا نہیں اُترپاتاہے۔ تیماردارون کو لَو ڈاکٹر سے لگی ہوئی۔ جاہل اور غافل انسان !اپنی عقل وتدبیر پر نازاں اور اپنے فنّی تجربہ پر مغرور ڈاکٹر فورًا تدبیر شروع کردیتے ہیں۔ نلکی کے ذریعہ سے پانی اتارنا چاہتے ہیں۔ ناک کا سوراخ ، یہ سوراخ وہ سوراخ، خداجانے کتنی کوششیں کرڈالنے اور بالآخر تھک چکتے ہیں!جب مشیت پانی کی راہ بند کردے، تو کوئی بھی دروازہ اس کے لئے کھولا جاسکتاہے؟ مریض وہیں طبیب کے سامنے جاں بحق ہوجاتاہے، الزام طبیب کے سرآتاہے۔ نادان انسان! گویا زندگی اور صحت، طبیب کے نسخوں اور سرجری کے آلات کی محکوم ہے!……شکایت اس کی کیوں کیجئے، کہ اتنے مریض جانبر نہ ہوئے۔ شکر اس کا کیجئے کہ آخر اتنے مریض تو شفایاف ہوگئے!یہ محض اُسی کی کریمی اوراُسی کی ستّاری ہے، جو فلاں سرجن جنرل اور فلاں حاذق الملک بنے نظرآرہے ہیں، ورنہ انسان بیچارہ کی یہ مجال بھی تھی، کہ خدائی مشین کے کسی چھوٹے سے چھوٹے ، حقیر سے حقیر، خلل میں بھی دخل دے سکے!
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
اگرآپ کی گھڑی چلتے چلتے بند ہوجائے ،یا وقت غلط دینے لگے، تو کوئی صورت بجز گھڑی ساز کی مدد کے، اُس کی اصلاح کی ہے؟ سائیکل اگر تھوڑی بہت کبھی ٹوٹ ٹاٹ جائے، تو جب تک سائیکل ساز ہی مرمت نہ کرے، آپ مجبور محض رہیں گے یا نہیں؟ موٹر کار کا کوئی پُرزہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے، نکل جائے، گھِس جائے، تو جب تک موٹر ساز ہی کا ہاتھ نہ لگے، آپ کی ساری عقل وذہانت بیکار رہے گی یا نہیں؟ ……یہ سب معمولی مشینیں ہیں، انسان ہی کی ایجاد کی ہوئی، آپ ہی کے بھائی بندوں کی بنائی ہوئی، لیکن ان کی ترتیب میں، ترکیب میں، بناوٹ میں، صناعت میں، ذرا سا بھی فرق پڑجاتاہے، تو انسان کا علم وفضل ، عقل کی رسائی اور فکر کی فلک پیمائی سب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، تاوقتیکہ کسی ماہر فن کی، ماہرخصوصی کی خدمات اعانت نہ حاصل کرلی جائیں۔ بشر کی یہ محتاجی اور بے بسی ، بشری صنعتوں اور صناعتوں ہی سے متعلق روزمرہ کا تجربہ ہے، اور ہروقت کا مشاہدہ۔
پھر جسم انسانی تو خالق کائنات کی کاریگری کا نمونہ ہے، اور حُسن صنعت کا وہ معجزہ کہ جہاں تک انسانی ادراک اور بشری عقل پہونچ بھی نہ پائے ۔ اس صناع اعظم کی کاریگری میں ادنیٰ سی ادنی دخل دینے کی ہمت وجرأت کسی مخلوق میں، یا ساری مخلوق میں مل کر بھی ہوسکتی ہے؟ جسم انسانی میں قدرتی نظام کا قائم کیا ہوا ایک ریشہ بھی اگر جگہ سے بے جگہ ہوجائے، تو کس کی مجال ہے کہ اس میں ہاتھ لگاسکے؟ خاک کے بنے ہوئے پُتلے الگ رہے، نور کے بنے ہوئے فرشتے تک اُس کی بارگاہ میں کس نیاز وشکستگی کے ساتھ اپنے جہل اور اپنے عجز کا اعتراف کرتے ہیں:-
سبحانک لا علم لنا الا ما علّمتنا انک أنت العزیز الحکیم۔
ہر قسم کے عیب اور نقصان سے پاک اور بالاتر توآپ ہی کی ذات ہے، اے ہمارے مالک ومولا! ہمیں علم ہی کیا، ہمیں علم سے واسطہ ہی کیا۔ ہاں آپ ہی نے اپنے فضل وکرم سے تھوڑا بہت علم جو ہمیں عطا کردیاہے ، تو اس کی بات ہی اور ہے۔ اختیار والے اور حکمت والے تو صرف آپ ہی ہیں، کہ جس کے لئے جتنا علم قرین مصلحت ہوتاہے، اُس سے اُسے محروم نہیں رکھتے!
یہ محض اُسی کا لطف بے پایاں اور کرم بے حساب ہے کہ اُس نے انسان کو بھی کچھ قدرے قلیل دخل دواسازی اور جرّاحی میں دے دیا، اور اس سے انسان اِس قابل ہوگیا، کہ اُس کی مشیّت اور قانون تکوینی کے ماتحت کچھ علاج معالجہ انسانوں کا کرلینے لگا، ورنہ اس کی کیا بساط تھی، کہ خدائی مشین کے کسی چھوٹے سے چھوٹے پُرزے سے متعلق ہی طبع آزمائی کرسکے!
مریض اسپتال میں داخل ہوتاہے۔ خلق کا عضلہ پانی کے داخلہ کوبند کرچکاہے۔ پیاس سے تڑپ رہاہے۔ ایک گھونٹ پانی کا نہیں اُترپاتاہے۔ تیماردارون کو لَو ڈاکٹر سے لگی ہوئی۔ جاہل اور غافل انسان !اپنی عقل وتدبیر پر نازاں اور اپنے فنّی تجربہ پر مغرور ڈاکٹر فورًا تدبیر شروع کردیتے ہیں۔ نلکی کے ذریعہ سے پانی اتارنا چاہتے ہیں۔ ناک کا سوراخ ، یہ سوراخ وہ سوراخ، خداجانے کتنی کوششیں کرڈالنے اور بالآخر تھک چکتے ہیں!جب مشیت پانی کی راہ بند کردے، تو کوئی بھی دروازہ اس کے لئے کھولا جاسکتاہے؟ مریض وہیں طبیب کے سامنے جاں بحق ہوجاتاہے، الزام طبیب کے سرآتاہے۔ نادان انسان! گویا زندگی اور صحت، طبیب کے نسخوں اور سرجری کے آلات کی محکوم ہے!……شکایت اس کی کیوں کیجئے، کہ اتنے مریض جانبر نہ ہوئے۔ شکر اس کا کیجئے کہ آخر اتنے مریض تو شفایاف ہوگئے!یہ محض اُسی کی کریمی اوراُسی کی ستّاری ہے، جو فلاں سرجن جنرل اور فلاں حاذق الملک بنے نظرآرہے ہیں، ورنہ انسان بیچارہ کی یہ مجال بھی تھی، کہ خدائی مشین کے کسی چھوٹے سے چھوٹے ، حقیر سے حقیر، خلل میں بھی دخل دے سکے!
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
قاری ذکی داغستانی
تلاوت
سورۃ الاعراف آیت : 095 تا الأعراف 09
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=006_anaam-095-aaraf-09_01, 006_Anaam 095- Aaraf 09_01
تلاوت
سورۃ الاعراف آیت : 095 تا الأعراف 09
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=006_anaam-095-aaraf-09_01, 006_Anaam 095- Aaraf 09_01
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤1
الحل الوحيد لقضية فلسطين
بمحضر ولي العهد الأردني
محاضرة الشيخ ابو الحسن على الحسني الندوي رحمه الله
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=al-hal-al-waheed-li-qazyat-falastin, Al Hal Al Waheed Li qazyat Falastin
بمحضر ولي العهد الأردني
محاضرة الشيخ ابو الحسن على الحسني الندوي رحمه الله
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=al-hal-al-waheed-li-qazyat-falastin, Al Hal Al Waheed Li qazyat Falastin
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
*اسلاف امت کا رمضان*
*قسط:12*
*١٢/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*امام محمد زاہد بن عمر رحمۃ اللہ علیہ کا معمول*
*شیخ محمد زاہد بن عمر رحمۃ اللہ علیہ حرمین شریفین کے علماء میں سے تھے، ان کو مسجدِ نبوی میں درس وتدریس کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ علمی مشغولیات کے باوجود رمضان میں کثرت سے تلاوت کرتے تھے، اور ہر رات نماز میں ختمِ قرآن کرتے تھے، ان کے مضبوط حفظِ قرآن کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس زمانے کے حفاظ کی ایک جماعت نے ان پر اعتراض کیا کہ ایک ہی رات میں ختمِ قرآن کرنے سے الفاظ کی درست ادائیگی نہیں ہوتی ہوگی، لہٰذا انہوں نے اپنا ایک آدمی شیخ محمد زاہدؒ کے پیچھے کھڑا کیا کہ اگر شیخ کی تجوید وترتیل، الفاظ یا کسی دسرے اعتبار سے کوئی بھی غلطی ہو تو وہ بیان کرے، ہر ایک غلطی بیان کرنے پر اس کو ایک مخصوص رقم دی جائے گی، چنانچہ وہ شخص شیخ محمد زاہدؒ کے پیچھے کھڑا ہوا، شیخ نے رات کو مکمل قرآن پاک ختم کیا، لیکن ان کی ایک غلطی بھی وہ شخص نہ نکال سکا۔*
*خلاصہ کلام یہ ہےکہ ہمارے اسلاف کو تلاوتِ قرآن کے ساتھ خصوصی شغف تھا، اور رمضان المبارک میں تو تلاوت کا معمول اور بڑھ جاتا تھا، اور دیگر نفلی عبادات پر تلاوتِ قرآن کو ترجیح دیتے تھے، لہٰذا ہم سب مسلمانوں کو چاہیے کہ تلاوتِ قرآن کا معمول بنائیں، اور بالخصوص رمضان المبارک میں کثرت سے تلاوت کریں۔*
*(أعلام من أرض النبوۃ)*
*امام محمود بن ابی بکر جزری رحمۃ اللہ علیہ کا معمول*
*محمود بن ابی بکر جزری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق شافعی مسلک سے تھا۔ متعدد علوم وفنون میں کمال اور مہارت حاصل کی تھی، لیکن بعد میں سلوک وتصوف کی طرف زیادہ مائل ہونے لگے، اور زیادہ وقت عبادات وغیرہ میں خرچ کرتے تھے، تلاوت ِقرآن کے ساتھ انہیں بہت شغف تھا، اور ماہِ رمضان میں اور زیادہ ذوق وشوق سے تلاوت کرتے تھے، چنانچہ ماہِ مبارک میں ہر روز دو ختمِ قرآن کرتے تھے،* *جیساکہ سوانح نگار اُن سے متعلق لکھتے ہیں:*
*’’وکانت لہ مناقب کثيرۃ وأشياء عجيبۃ في ذٰلک وکان يصوم يوماً ويفطر يوماً ويختلي في رمضان في مکان يختم القرآن مرۃً بالليل ومرۃً بالنہار۔‘‘*
*ترجمہ: ’’ان کے بہت مناقب اور اس سلسلے میں حیرت انگیز اشیاء ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور رمضان میں ایک مکان میں خلوت اختیار کرتے، جہاں وہ ایک مرتبہ دن کو اور ایک مرتبہ رات کو ختمِ قرآن کرتے تھے۔‘‘*
*(سلک الدرر في أعيان القرن الثاني عشر)*
*قسط:12*
*١٢/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*امام محمد زاہد بن عمر رحمۃ اللہ علیہ کا معمول*
*شیخ محمد زاہد بن عمر رحمۃ اللہ علیہ حرمین شریفین کے علماء میں سے تھے، ان کو مسجدِ نبوی میں درس وتدریس کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ علمی مشغولیات کے باوجود رمضان میں کثرت سے تلاوت کرتے تھے، اور ہر رات نماز میں ختمِ قرآن کرتے تھے، ان کے مضبوط حفظِ قرآن کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس زمانے کے حفاظ کی ایک جماعت نے ان پر اعتراض کیا کہ ایک ہی رات میں ختمِ قرآن کرنے سے الفاظ کی درست ادائیگی نہیں ہوتی ہوگی، لہٰذا انہوں نے اپنا ایک آدمی شیخ محمد زاہدؒ کے پیچھے کھڑا کیا کہ اگر شیخ کی تجوید وترتیل، الفاظ یا کسی دسرے اعتبار سے کوئی بھی غلطی ہو تو وہ بیان کرے، ہر ایک غلطی بیان کرنے پر اس کو ایک مخصوص رقم دی جائے گی، چنانچہ وہ شخص شیخ محمد زاہدؒ کے پیچھے کھڑا ہوا، شیخ نے رات کو مکمل قرآن پاک ختم کیا، لیکن ان کی ایک غلطی بھی وہ شخص نہ نکال سکا۔*
*خلاصہ کلام یہ ہےکہ ہمارے اسلاف کو تلاوتِ قرآن کے ساتھ خصوصی شغف تھا، اور رمضان المبارک میں تو تلاوت کا معمول اور بڑھ جاتا تھا، اور دیگر نفلی عبادات پر تلاوتِ قرآن کو ترجیح دیتے تھے، لہٰذا ہم سب مسلمانوں کو چاہیے کہ تلاوتِ قرآن کا معمول بنائیں، اور بالخصوص رمضان المبارک میں کثرت سے تلاوت کریں۔*
*(أعلام من أرض النبوۃ)*
*امام محمود بن ابی بکر جزری رحمۃ اللہ علیہ کا معمول*
*محمود بن ابی بکر جزری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق شافعی مسلک سے تھا۔ متعدد علوم وفنون میں کمال اور مہارت حاصل کی تھی، لیکن بعد میں سلوک وتصوف کی طرف زیادہ مائل ہونے لگے، اور زیادہ وقت عبادات وغیرہ میں خرچ کرتے تھے، تلاوت ِقرآن کے ساتھ انہیں بہت شغف تھا، اور ماہِ رمضان میں اور زیادہ ذوق وشوق سے تلاوت کرتے تھے، چنانچہ ماہِ مبارک میں ہر روز دو ختمِ قرآن کرتے تھے،* *جیساکہ سوانح نگار اُن سے متعلق لکھتے ہیں:*
*’’وکانت لہ مناقب کثيرۃ وأشياء عجيبۃ في ذٰلک وکان يصوم يوماً ويفطر يوماً ويختلي في رمضان في مکان يختم القرآن مرۃً بالليل ومرۃً بالنہار۔‘‘*
*ترجمہ: ’’ان کے بہت مناقب اور اس سلسلے میں حیرت انگیز اشیاء ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور رمضان میں ایک مکان میں خلوت اختیار کرتے، جہاں وہ ایک مرتبہ دن کو اور ایک مرتبہ رات کو ختمِ قرآن کرتے تھے۔‘‘*
*(سلک الدرر في أعيان القرن الثاني عشر)*
❤2
*وفیات مورخہ: 03/مارچ*
1707ء اور نگ زیب عالمگیر۔ مغل شہنشاہ
1957ء ایوب احمد کرمانی۔ ،
1960ء بدیع الزماں سعید نورسی ترکی۔ ترکی مفکر ومصلح
1964ء حسن شاہد سہروردی۔ ،
1971ء میاں بشیر احمد۔ ،
1972ء عبداللہ اسمٰعیل ابراہیم چندریگر۔ وزیر اعظم پاکستان
1980ء سید عبدالواحد معینی (ایس اے واحد)۔ ،
1982ء فراق گورکھپوری (رگوپتی سہائے گورکھپوری)۔ شاعر
1987ء عبدالطیف، حاجی۔ ،
1990ء رضیہ لطیف انصاری۔ ڈاکٹر ،
1995ء شیخ انوار الحق ۔ چیف جسٹس پاکستان
1996ء امانت اللہ معروفی اعظمی۔ مولانا
2011ء ایرج افشار۔
2012ء لطف اللہ خان۔ آواز خزانہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1707ء اور نگ زیب عالمگیر۔ مغل شہنشاہ
1957ء ایوب احمد کرمانی۔ ،
1960ء بدیع الزماں سعید نورسی ترکی۔ ترکی مفکر ومصلح
1964ء حسن شاہد سہروردی۔ ،
1971ء میاں بشیر احمد۔ ،
1972ء عبداللہ اسمٰعیل ابراہیم چندریگر۔ وزیر اعظم پاکستان
1980ء سید عبدالواحد معینی (ایس اے واحد)۔ ،
1982ء فراق گورکھپوری (رگوپتی سہائے گورکھپوری)۔ شاعر
1987ء عبدالطیف، حاجی۔ ،
1990ء رضیہ لطیف انصاری۔ ڈاکٹر ،
1995ء شیخ انوار الحق ۔ چیف جسٹس پاکستان
1996ء امانت اللہ معروفی اعظمی۔ مولانا
2011ء ایرج افشار۔
2012ء لطف اللہ خان۔ آواز خزانہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*اسلاف امت کا رمضان*
*قسط:13*
*١٣/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*امام فضيل بن عياض رحمہ اللہ*
*فضيل بن عياض رمضان میں قرآن سنتے وقت بہت روتے اور کہتے کہ یہ مہینہ اپنے نفس کے محاسبہ کا وقت ہے۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
*امام سفيان بن عيينة رحمہ اللہ*
*امام سفيان بن عيينة رمضان میں قرآن کی طرف خاص توجہ دیتے اور کہتے کہ جب روزہ دار دعا کرتا ہے تو قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہے۔*
*(تفسير الطبري)*
*امام أوزاعي رحمہ اللہ*
*امام اوزاعي رمضان میں کم گفتگو کرتے، زیادہ ذکر اور تلاوت میں مشغول رہتے اور فرماتے کہ یہ مہینہ عمل کا ہے، بحث و مباحثہ کا نہیں۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
*ترتیب و پیشکش: ابنائے جامعہ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل*
*قسط:13*
*١٣/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*امام فضيل بن عياض رحمہ اللہ*
*فضيل بن عياض رمضان میں قرآن سنتے وقت بہت روتے اور کہتے کہ یہ مہینہ اپنے نفس کے محاسبہ کا وقت ہے۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
*امام سفيان بن عيينة رحمہ اللہ*
*امام سفيان بن عيينة رمضان میں قرآن کی طرف خاص توجہ دیتے اور کہتے کہ جب روزہ دار دعا کرتا ہے تو قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہے۔*
*(تفسير الطبري)*
*امام أوزاعي رحمہ اللہ*
*امام اوزاعي رمضان میں کم گفتگو کرتے، زیادہ ذکر اور تلاوت میں مشغول رہتے اور فرماتے کہ یہ مہینہ عمل کا ہے، بحث و مباحثہ کا نہیں۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
*ترتیب و پیشکش: ابنائے جامعہ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل*
❤3
*وفیات مورخہ: 05/مارچ*
1731ء عبد الغنی النابلسی۔ شامی عالم دین
1899ء عبد الحق خیر آبادی۔ عالم ومحقق
1953ء جوزف اسٹالن۔ سوویت حکمران
1963ء شفیق جونپوری۔ شاعر
1965ء حسن شہید سہروردی۔ مصنف شاعر
1966ء فخری ماتری (سید فخر الدین)۔ صحافی
1967ء محمد مصدق۔ ایرانی انقلابی لیڈر
1984ء جی الانا (غلام علی الانا)۔ تاجر
1984ء غلام علی الانا (جی الانا)۔ تاجر
1986ء طاہر احمد الزواوی۔ لغت نویس لیبیا
1996ء خندکار مشتاق احمد۔ صدر بنگلہ دیش
2002ء جام ممتاز حسین ڈہرل۔ ،
2010ء امینہ اسلمی۔ بین الاقوامی مسلم خواتین ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر
2011ء محمد احمد مدنی۔
2014ء محمد عالم مختارجق۔ ادیب ومحقق
2015ء شیدا چینی۔
2016ء حسن الترابی ۔ سواڈنی قائد تحریک
2018ء جام ساقی ۔ سندھی سیاست دان
2022ء مسعود اختر۔ ٹی وی اداکار
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1731ء عبد الغنی النابلسی۔ شامی عالم دین
1899ء عبد الحق خیر آبادی۔ عالم ومحقق
1953ء جوزف اسٹالن۔ سوویت حکمران
1963ء شفیق جونپوری۔ شاعر
1965ء حسن شہید سہروردی۔ مصنف شاعر
1966ء فخری ماتری (سید فخر الدین)۔ صحافی
1967ء محمد مصدق۔ ایرانی انقلابی لیڈر
1984ء جی الانا (غلام علی الانا)۔ تاجر
1984ء غلام علی الانا (جی الانا)۔ تاجر
1986ء طاہر احمد الزواوی۔ لغت نویس لیبیا
1996ء خندکار مشتاق احمد۔ صدر بنگلہ دیش
2002ء جام ممتاز حسین ڈہرل۔ ،
2010ء امینہ اسلمی۔ بین الاقوامی مسلم خواتین ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر
2011ء محمد احمد مدنی۔
2014ء محمد عالم مختارجق۔ ادیب ومحقق
2015ء شیدا چینی۔
2016ء حسن الترابی ۔ سواڈنی قائد تحریک
2018ء جام ساقی ۔ سندھی سیاست دان
2022ء مسعود اختر۔ ٹی وی اداکار
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
Syed Fakhruddin Matri By Nasrullah Khan.pdf
997.8 KB
سید فخر ماتری (وفات ۵ مارچ) تحریر: نصر اللہ خان
قرآنی لفظ "تختانون" کی لغوی و تفسیری تحقیق
مولانا محمد اویس نگرامی ندویؒ اپنے مقالہ: "علامہ سید سلیمان ندویؒ اور علومِ قرآن" میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
قرآن مجید کے مسائل کے سوا اُس کے لغات، مصادر اور نحوی ترکیبوں پر بھی سید صاحب کافی توجہ فرماتے تھے اور اس سے مفہوم کی تعیین میں بڑی مدد لیتے تھے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو: شروع اسلام میں دستور تھا کہ روزہ کے دنوں میں راتوں کو بھی میاں بیوی الگ رہتے تھے، بعض طبائع کو اس میں زحمت محسوس ہوتی تھی، اس لیے قرآن مجید نے اس میں آسانی پیدا فرمادی اور یہ قید، صرف دن کے لیے باقی رہ گئی۔ سورۂ بقرہ میں اسی مضمون کے بیان کے موقع پر فرمایا: "عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ". (سورۂ بقرۃ: ۱۸۷) خدا جانتا تھا کہ تم اپنے نفس سے خیانت کرتے تھے۔ سید صاحب فرماتے تھے کہ خیانت کے سلسلہ میں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس خیانت کا تعلق، جماعت سے تھا، دوسری بات یہ ہے کہ اس طرز ادا سے استمرار کا مفہوم بھی پیدا ہوتا ہے، تو کیا یہ سمجھا جائے کہ ایک جماعت میں یہ خیانتِ نفس جاری تھی؟ خود ہی ارشاد فرمایا کہ میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ لفظ "تختانون" "اختیان" سے ہے۔ اور اختیان کے معنیٰ خیانت کرنے کے نہیں، بلکہ خیانت کی خواہش پیدا ہونے کے ہیں، مطلب یہ ہوا کہ یہ حکم، بعض طبائع کے لیے پراز مشقت تھا، اس لیے ان کے دلوں میں وساوسِ نفسانی پیدا ہوتے تھے، اگرچہ وہ اس پر عمل نہ کرتے ہوں۔ اپنی اس تحقیق کے ظاہر فرمانے کے بعد سید صاحب نے فرمایا کہ کتابوں میں اس کو تلاش کرو، بالآخر امام راغب کی مفردات میں بعینہٖ یہی بات مل گئی اور سید صاحب بیحد خوش ہوئے!
(ماہنامہ الفرقان لکھنؤ، مارچ ۱۹۵۴ء، صفحہ: ۲۲/۲۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
مولانا محمد اویس نگرامی ندویؒ اپنے مقالہ: "علامہ سید سلیمان ندویؒ اور علومِ قرآن" میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
قرآن مجید کے مسائل کے سوا اُس کے لغات، مصادر اور نحوی ترکیبوں پر بھی سید صاحب کافی توجہ فرماتے تھے اور اس سے مفہوم کی تعیین میں بڑی مدد لیتے تھے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو: شروع اسلام میں دستور تھا کہ روزہ کے دنوں میں راتوں کو بھی میاں بیوی الگ رہتے تھے، بعض طبائع کو اس میں زحمت محسوس ہوتی تھی، اس لیے قرآن مجید نے اس میں آسانی پیدا فرمادی اور یہ قید، صرف دن کے لیے باقی رہ گئی۔ سورۂ بقرہ میں اسی مضمون کے بیان کے موقع پر فرمایا: "عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ". (سورۂ بقرۃ: ۱۸۷) خدا جانتا تھا کہ تم اپنے نفس سے خیانت کرتے تھے۔ سید صاحب فرماتے تھے کہ خیانت کے سلسلہ میں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس خیانت کا تعلق، جماعت سے تھا، دوسری بات یہ ہے کہ اس طرز ادا سے استمرار کا مفہوم بھی پیدا ہوتا ہے، تو کیا یہ سمجھا جائے کہ ایک جماعت میں یہ خیانتِ نفس جاری تھی؟ خود ہی ارشاد فرمایا کہ میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ لفظ "تختانون" "اختیان" سے ہے۔ اور اختیان کے معنیٰ خیانت کرنے کے نہیں، بلکہ خیانت کی خواہش پیدا ہونے کے ہیں، مطلب یہ ہوا کہ یہ حکم، بعض طبائع کے لیے پراز مشقت تھا، اس لیے ان کے دلوں میں وساوسِ نفسانی پیدا ہوتے تھے، اگرچہ وہ اس پر عمل نہ کرتے ہوں۔ اپنی اس تحقیق کے ظاہر فرمانے کے بعد سید صاحب نے فرمایا کہ کتابوں میں اس کو تلاش کرو، بالآخر امام راغب کی مفردات میں بعینہٖ یہی بات مل گئی اور سید صاحب بیحد خوش ہوئے!
(ماہنامہ الفرقان لکھنؤ، مارچ ۱۹۵۴ء، صفحہ: ۲۲/۲۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤4
محمد عالم مختار حق مرحوم
از محمد راشد شیخ
مورخہ ۵؍مارچ ۲۰۱۴ء کی شام راقم الحروف حسبِ معمول دفتر سے گھر کی جانب جارہا تھا کہ شام ساڑھے چھ بجے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ دیکھا تو لاہور سے کال تھی۔ سننے پر علم ہوا دوسری جانب سے محمد عا لم مختار حق صاحب ہم کلام تھے۔گفتگو میں وہی ان کی شریں گفتاری، وہی شفقت، وہی نرم مزاجی اور گفتگو کا وہی مہذب انداز جو میں گزشتہ 18 برسوں سے سن رہا تھا اور دیکھ رہا تھا۔ محمد عالم صاحب نے فون دراصل اس مقصد سے کیا تھا کہ اس روز انہیں راقم کی تازہ تالیف ’’ڈاکٹر محمد حمید اللہ۔ حیات، خدمات، مکتوبات‘‘ کا نسخہ مل چکا تھا اور وہ کتاب کی رسید دے رہے تھے۔ ساتھ ہی حسب معمول راقم کی ناچیز علمی کاوشوں کے لیے تحسین آمیز اور حوصلہ افزا کلمات ادا کر رہے تھے۔ راقم نے جب ان کی صحت کے حوالے سے استفسار کیا تو فرمایا : الحمد للہ پہلے سے اب بہتر ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے فون بند کرنے سے قبل وہی جملہ کہا جو ہمیشہ کہتے تھے یعنی ’’اچھا جی۔ فی امان للہ‘‘۔میرے یہ بے جان الفاظ ان کے اس جملے ’’اچھا جی۔فی امان اللہ ‘‘ کی پوری کیفیت بیان نہیں کرسکتے۔یوں سمجھیں کہ اس مختصر جملے میں ان کی ساری محبت،شفقت اور اپنائیت سمٹ کر یکجا ہو جاتی تھی۔
کیا خبر تھی کہ یہ راقم الحروف کی محمد عالم صاحب سے آخری گفتگو ہے کیونکہ اس گفتگو کے تقریباً چھ گھنٹے بعد ہی انہوں نے رات تقریباً ایک بجے بڑے سکون اور اطمینان سے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اس عارضی دنیا سے ناتا توڑ کر اس جہان میں پہنچ گئے جہاں ہم سب کوایک نہ ایک روز پہنچنا ہے۔انتقال کے وقت ان کی عمر تقریباً ۸۳ برس ہو چکی تھی ۔ اگلے روز ان کی تدفین محلے کی اسی مسجد کے پہلو میں ہوئی جس میں وہ ایک عرصے سے اعزازی طور پر امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ یہ وہی مسجد ہے جس میں ان کی اقتدا میں راقم الحروف کو متعدد مرتبہ نماز پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مورخہ۶؍مارچ ۲۰۱۴ء کی صبح جب محمد عالم صاحب کے بڑے صاحب زادے محبوب عالم صاحب نے یہ اطلاع دی کہ گزشتہ رات محمد عالم صاحب انتقال فرما گئے تو یقین نہ آیا کہ ایک روز قبل ہی ان سے مفصل گفتگو ہوئی تھی اور گفتگو سے کہیں یہ اندازہ نہ ہوا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے۔لیکن قضا و قدر کے فیصلے ہمارے گمانوں اور اندازوںسے بالا تر ہیں۔ یہاں ہر انسان ایک خاص مدت تک مقیم ہے اور اسے یہاں سے جانا اسی وقت ہے جو وقت اللہ نے اس کے مقدر میں پہلے سے لکھ دیا ہے۔
محمد عالم مختار حق صاحب سے راقم الحروف کا اولین تعارف اردو زبان و ادب کے نامور محقق جناب مشفق خواجہ مرحوم کے توسط سے تقریباً ۲۰۰۴ء میں ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب راقم اپنی تالیف ’’تذکرہ خطاطین‘‘ کے لیے نوادر خطاطی کی جمع آوری میں مصروف تھا۔ اس کتاب کے لیے مشفق خواجہ صاحب نے بھی استاد محمد یوسف دہلوی کی خطاطی کے دو نمونوں کے عکس پیش کیے تھے۔ خطاطی کے ان نمونوں کے اصل خواجہ صاحب کے پاس محفوظ تھی اور ان کی اجازت سے راقم نے یوسف دہلوی صاحب سے متعلق مذکورہ کتاب کے متعلقہ باب میں انہیں شائع کیا تھا۔ خواجہ صاحب کے انتقال کے بعد آج تک پتہ نہ چلا کہ خطاطی کے یہ خوبصورت نمونے آخر گئے تو کہاں گئے؟ انہی دنوںراقم خواجہ صاحب کے گھر اتوار کی نشست میں بھی عموماً شرکت کرتا تھا۔ ایک روز خواجہ صاحب نے فرمایا کہ کیا آپ محمد عالم مختار حق صاحب سے واقف ہیں جنہوں نے عبدالمجید پرویں رقم کی خطاطی پر تحقیق کی ہے؟ راقم کے انکار پر خواجہ صاحب نے فرمایا کہ آپ محمد عالم صاحب کو میرے حوالے سے حکیم محمد موسیٰ امرتسری 55۔ ریلوے روڈ لاہور کے پتے پر لکھیں۔ وہ آپ کو ضرور جواب دیں گے۔ اس کے بعد راقم نے محمد عالم صاحب کو خط لکھا اور دریافت کیا کہ عبدالمجید پرویں رقم کے نوادر خطاطی پر مضمون کہاں چھپا ہے اور اس کا طریقہ حصول کیا ہے؟ چند روز بعد ہی محمد عالم صاحب کا مفصل خط آیا اور ساتھ ہی ان کے مضمون ’’نوادرِ پروین رقم‘‘ کی فوٹو کاپی بھی۔ معلوم ہوا ان کا یہ تحقیقی مضمون ماہنامہ الرشید لاہور بابت اپریل ۱۹۹۵ ء اور جولائی ۱۹۹۶ ء کے شماروں میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مضمون کے ان صفحات کو پا کر بے حد خوشی ہوئی کیونکہ ان صفحات میں محمد عالم صاحب نے عبدالمجید پرویںرقم کے نوادر خطاطی پر اس قدر عمدہ تحقیق کی تھی کہ برصغیر پاک و ہند کے کسی خطاط کے نوادرِ خطاطی پر ایسا تحقیقی کام نظر نہ آیا۔ عبدالمجید پرویں رقم(۱۹۰۱ء۔۱۹۴۶ء) نہ صرف لاہوری طرز نستعلیق کے بانی اور تھے بلکہ وہ علامہ اقبال کی تمام کتابوں کے کاتب بھی تھے اور علامہ اقبال انہیں لاہور کے تمام کاتبوں پر فوقیت دیتے تھے۔ ’’نوادر پروین رقم‘‘ میں محمد عالم مختار حق صاحب نے عبدالمجید پرویں رقم کے نوادر پر اپنی چالیس سالہ تحقیقات کے نتائج بڑی عمدگی سے پیش کیے تھے۔ اس مضمون سے پتہ چلا کہ عبدالمجید پرویں رقم نے کون کون سے قطعات لکھے، کون کون سی رباعیات لکھیں، ان کی کتابت کردہ مکمل کتب کون کون سی ہیں،
از محمد راشد شیخ
مورخہ ۵؍مارچ ۲۰۱۴ء کی شام راقم الحروف حسبِ معمول دفتر سے گھر کی جانب جارہا تھا کہ شام ساڑھے چھ بجے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ دیکھا تو لاہور سے کال تھی۔ سننے پر علم ہوا دوسری جانب سے محمد عا لم مختار حق صاحب ہم کلام تھے۔گفتگو میں وہی ان کی شریں گفتاری، وہی شفقت، وہی نرم مزاجی اور گفتگو کا وہی مہذب انداز جو میں گزشتہ 18 برسوں سے سن رہا تھا اور دیکھ رہا تھا۔ محمد عالم صاحب نے فون دراصل اس مقصد سے کیا تھا کہ اس روز انہیں راقم کی تازہ تالیف ’’ڈاکٹر محمد حمید اللہ۔ حیات، خدمات، مکتوبات‘‘ کا نسخہ مل چکا تھا اور وہ کتاب کی رسید دے رہے تھے۔ ساتھ ہی حسب معمول راقم کی ناچیز علمی کاوشوں کے لیے تحسین آمیز اور حوصلہ افزا کلمات ادا کر رہے تھے۔ راقم نے جب ان کی صحت کے حوالے سے استفسار کیا تو فرمایا : الحمد للہ پہلے سے اب بہتر ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے فون بند کرنے سے قبل وہی جملہ کہا جو ہمیشہ کہتے تھے یعنی ’’اچھا جی۔ فی امان للہ‘‘۔میرے یہ بے جان الفاظ ان کے اس جملے ’’اچھا جی۔فی امان اللہ ‘‘ کی پوری کیفیت بیان نہیں کرسکتے۔یوں سمجھیں کہ اس مختصر جملے میں ان کی ساری محبت،شفقت اور اپنائیت سمٹ کر یکجا ہو جاتی تھی۔
کیا خبر تھی کہ یہ راقم الحروف کی محمد عالم صاحب سے آخری گفتگو ہے کیونکہ اس گفتگو کے تقریباً چھ گھنٹے بعد ہی انہوں نے رات تقریباً ایک بجے بڑے سکون اور اطمینان سے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اس عارضی دنیا سے ناتا توڑ کر اس جہان میں پہنچ گئے جہاں ہم سب کوایک نہ ایک روز پہنچنا ہے۔انتقال کے وقت ان کی عمر تقریباً ۸۳ برس ہو چکی تھی ۔ اگلے روز ان کی تدفین محلے کی اسی مسجد کے پہلو میں ہوئی جس میں وہ ایک عرصے سے اعزازی طور پر امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ یہ وہی مسجد ہے جس میں ان کی اقتدا میں راقم الحروف کو متعدد مرتبہ نماز پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مورخہ۶؍مارچ ۲۰۱۴ء کی صبح جب محمد عالم صاحب کے بڑے صاحب زادے محبوب عالم صاحب نے یہ اطلاع دی کہ گزشتہ رات محمد عالم صاحب انتقال فرما گئے تو یقین نہ آیا کہ ایک روز قبل ہی ان سے مفصل گفتگو ہوئی تھی اور گفتگو سے کہیں یہ اندازہ نہ ہوا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے۔لیکن قضا و قدر کے فیصلے ہمارے گمانوں اور اندازوںسے بالا تر ہیں۔ یہاں ہر انسان ایک خاص مدت تک مقیم ہے اور اسے یہاں سے جانا اسی وقت ہے جو وقت اللہ نے اس کے مقدر میں پہلے سے لکھ دیا ہے۔
محمد عالم مختار حق صاحب سے راقم الحروف کا اولین تعارف اردو زبان و ادب کے نامور محقق جناب مشفق خواجہ مرحوم کے توسط سے تقریباً ۲۰۰۴ء میں ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب راقم اپنی تالیف ’’تذکرہ خطاطین‘‘ کے لیے نوادر خطاطی کی جمع آوری میں مصروف تھا۔ اس کتاب کے لیے مشفق خواجہ صاحب نے بھی استاد محمد یوسف دہلوی کی خطاطی کے دو نمونوں کے عکس پیش کیے تھے۔ خطاطی کے ان نمونوں کے اصل خواجہ صاحب کے پاس محفوظ تھی اور ان کی اجازت سے راقم نے یوسف دہلوی صاحب سے متعلق مذکورہ کتاب کے متعلقہ باب میں انہیں شائع کیا تھا۔ خواجہ صاحب کے انتقال کے بعد آج تک پتہ نہ چلا کہ خطاطی کے یہ خوبصورت نمونے آخر گئے تو کہاں گئے؟ انہی دنوںراقم خواجہ صاحب کے گھر اتوار کی نشست میں بھی عموماً شرکت کرتا تھا۔ ایک روز خواجہ صاحب نے فرمایا کہ کیا آپ محمد عالم مختار حق صاحب سے واقف ہیں جنہوں نے عبدالمجید پرویں رقم کی خطاطی پر تحقیق کی ہے؟ راقم کے انکار پر خواجہ صاحب نے فرمایا کہ آپ محمد عالم صاحب کو میرے حوالے سے حکیم محمد موسیٰ امرتسری 55۔ ریلوے روڈ لاہور کے پتے پر لکھیں۔ وہ آپ کو ضرور جواب دیں گے۔ اس کے بعد راقم نے محمد عالم صاحب کو خط لکھا اور دریافت کیا کہ عبدالمجید پرویں رقم کے نوادر خطاطی پر مضمون کہاں چھپا ہے اور اس کا طریقہ حصول کیا ہے؟ چند روز بعد ہی محمد عالم صاحب کا مفصل خط آیا اور ساتھ ہی ان کے مضمون ’’نوادرِ پروین رقم‘‘ کی فوٹو کاپی بھی۔ معلوم ہوا ان کا یہ تحقیقی مضمون ماہنامہ الرشید لاہور بابت اپریل ۱۹۹۵ ء اور جولائی ۱۹۹۶ ء کے شماروں میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مضمون کے ان صفحات کو پا کر بے حد خوشی ہوئی کیونکہ ان صفحات میں محمد عالم صاحب نے عبدالمجید پرویںرقم کے نوادر خطاطی پر اس قدر عمدہ تحقیق کی تھی کہ برصغیر پاک و ہند کے کسی خطاط کے نوادرِ خطاطی پر ایسا تحقیقی کام نظر نہ آیا۔ عبدالمجید پرویں رقم(۱۹۰۱ء۔۱۹۴۶ء) نہ صرف لاہوری طرز نستعلیق کے بانی اور تھے بلکہ وہ علامہ اقبال کی تمام کتابوں کے کاتب بھی تھے اور علامہ اقبال انہیں لاہور کے تمام کاتبوں پر فوقیت دیتے تھے۔ ’’نوادر پروین رقم‘‘ میں محمد عالم مختار حق صاحب نے عبدالمجید پرویں رقم کے نوادر پر اپنی چالیس سالہ تحقیقات کے نتائج بڑی عمدگی سے پیش کیے تھے۔ اس مضمون سے پتہ چلا کہ عبدالمجید پرویں رقم نے کون کون سے قطعات لکھے، کون کون سی رباعیات لکھیں، ان کی کتابت کردہ مکمل کتب کون کون سی ہیں،
ان کے قلم معز رقم میں کون کون سی کتابوں اور اخبارات و رسائل کے سرورق موجود ہیں اور ان کی پتھروں پر خطاطی کن کن عمارتوں، مساجد اور مقابر پر محفوظ ہے۔ اس مضمون کے اندر ہی محمد عالم صاحب نے عبدالمجید پرویں رقم کی خطاطی کے کئی خوبصورت نمونے بھی شائع فرمائے تھے۔ ان میں سے کئی راقم نے پہلی مرتبہ دیکھے تھے جنہیں دیکھ کر آنکھیں روشن ہو گئیں۔ اس مضمون کے مطالعے کے بعد راقم نے محمد عالم صاحب کو مفصل خط لکھا جس میں نہ صرف مضمون کی پسندیدگی کا ذکر تھا بلکہ اس حوالے سے چند گزارشات بھی۔جواباً بعد محمد عالم صاحب کا عنایت نامہ موصول ہوا جس میں انہوں نے راقم کے خط کے حوالے سے یہ حوصلہ افزا کلمات لکھے تھے کہ اس قدر باریک بینی سے اس مضمون کو کسی اور نے نہیں پڑھا ۔ انہی دنوں ایک خط میںراقم نے لکھا کہ عبدالمجید پرویں رقم کے شاگرد اور بزم پرویں رقم کے بانی حاجی محمد اعظم منور رقم سے راقم کی ان کے دفتر واقع ذوالقرنین چیمبرز گنپت روڈ لاہورمیں متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور میرے پاس حاجی صاحب کے چند خطوط بھی محفوظ ہیں۔ اس کے جواب میں محمد عالم صاحب نے یہ خوش کن اطلاع دی کہ حاجی صاحب مرحوم ان کے بڑے بھائی تھے اور مذکورہ خطوط کی فوٹو کاپی انہیں فراہم کروں۔ راقم نے خطوط کی فوٹو کاپی فراہم کر دی جس پر جوابی خط میں انھوں نے مسرت کا اظہار فرمایا۔
کچھ ہی عرصے بعد لاہور جاناہوا تو محمد عالم صاحب سے فون پر گفتگو ہوئی۔ جب میں نے ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو فرمایا کہ بند روڈ پربائیں جانب ایک مسجد کے ساتھ سڑک جھگیاں شہاب دین (موجودہ شہاب ٹائون) کی جانب جاتی ہے۔ اس سڑک پر دائیں جانب مسجد آئے گی جہاں کسی سے بھی ان کے بارے میں معلوم کروں تو گھر کا پتا بتا دیا جائے گا۔ راقم چوک یتیم خانہ سے بند روڈ کی مسجد پہنچا جہاں سے جھگیاں شہاب دین کی مسجد تک ٹانگے میں سفرکیا۔ یہ سفر اس لحاظ سے یادگار رہا کہ بند روڈ سے جھگیاں شہاب دین تک یہ سڑک کچی اور غیر ہموار تھی اس لیے ٹانگہ کبھی ایک طرف جھکتا تو کبھی دوسری طرف۔ دوسری بات یہ نوٹ کی کہ سڑک کے دونوں طرف لکڑی کی کئی دکانیں نظر آئیں جہاں فرنیچر اور لکڑی پر آرائشی کام نظر آیا۔علاقے میں کسی حد تک دیہات کی جھلک بھی نظر آئی۔ جھگیاں شہاب دین کی مسجد سے محمد عالم صاحب کے گھر کا پتا چلا جو نزدیک ہی واقع ہے۔ یہ سادہ اور متوسط طبقے کے افراد کا رہائشی علاقہ ہے جس میں اب یہ تبدیلی آچکی ہے کہ کچی سڑک پکی بن چکی ہے۔ کچھ ہی دیر بعد گیٹ پر ایک باریش، چھریرے بند کے سفید شلوار قمیص اور جناح کیپ میں ملبوس بزرگ تشریف لائے۔ علیک سلیک کے بعد پتہ چلا کہ آپ ہی محمد عالم مختار حق صاحب ہیں۔ ان سے اولین ملاقات میں یہ تاثر قائم ہوا کہ وہ ایک محبت اور شفقت کرنے والے بزرگ ہیں جن کے مزاج میں بناوٹ اور تکلف بالکل نہیں بلکہ فطری محبت، اپنائیت، خوش اخلاقی اورمہمان نوازی ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ وہ راقم کو اپنے گھر میں لے گئے جس کے سادہ اینٹوں والے صحن سے گزر کر ہم ان کے کتب خانے میں پہنچے۔ کتب خانے میں پہنچ کر عجب منظر نظر آیا۔ زمین سے چھت تک کتابوں سے بھرے کئی ریک جن میں سلیقے سے کتابین رکھی گئی تھیں۔ اس دوران راقم نے عبدالمجید پرویں رقم مرحوم کی خطاطی اور ان کے نوادر کے حوالے سے گفتگو کی۔ محمد عالم صاحب نے بڑی شفقت سے پرویںرقم کے خطاطی کے کئی ایسے نمونے دکھائےجو راقم نے اس سے قبل نہیں دیکھے تھے اور جنھیں دیکھ کر راقم پر ایک عالم سرخوشی طاری ہوگئی۔ محمد عالم صاحب سے ملاقات کے دوران یہ تاثر ملا کہ علمی معاملات اور علمی فیض رسانی کے حوالے سے وہ بڑے وسیع القلب واقع ہوئے ہیں اور آئندہ زندگی میں جیسے جیسے ان سے تعلقات بڑھے یہ تاثر بھی قوی سے قوی تر ہوتا گیا۔ ابھی ہم پرویں رقم کے نوادر کی زیارت ہی کر رہے تھے کہ نماز عشاء کا وقت ہو گیا۔ وہ مجھے لے کر اس مسجد تک گئے جہاں سے میںنے ان کے گھر کا پتا دریافت کیا تھا۔ میں سمجھا تھاکہ وہ نماز پڑھیں گے لیکن یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ انہوں نے نماز کی امامت کی اور بعد نماز دوبارہ گھر لے آئے۔ بعد میں پتا چلا کہ اس مسجد میں طویل عرصے سے محمد عالم صاحب اعزازی طور پر امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور علمی اور تحقیقی کاموں کے ساتھ ساتھ توشۂ آخرت بھی جمع کر رہے ہیں۔
کچھ ہی عرصے بعد لاہور جاناہوا تو محمد عالم صاحب سے فون پر گفتگو ہوئی۔ جب میں نے ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو فرمایا کہ بند روڈ پربائیں جانب ایک مسجد کے ساتھ سڑک جھگیاں شہاب دین (موجودہ شہاب ٹائون) کی جانب جاتی ہے۔ اس سڑک پر دائیں جانب مسجد آئے گی جہاں کسی سے بھی ان کے بارے میں معلوم کروں تو گھر کا پتا بتا دیا جائے گا۔ راقم چوک یتیم خانہ سے بند روڈ کی مسجد پہنچا جہاں سے جھگیاں شہاب دین کی مسجد تک ٹانگے میں سفرکیا۔ یہ سفر اس لحاظ سے یادگار رہا کہ بند روڈ سے جھگیاں شہاب دین تک یہ سڑک کچی اور غیر ہموار تھی اس لیے ٹانگہ کبھی ایک طرف جھکتا تو کبھی دوسری طرف۔ دوسری بات یہ نوٹ کی کہ سڑک کے دونوں طرف لکڑی کی کئی دکانیں نظر آئیں جہاں فرنیچر اور لکڑی پر آرائشی کام نظر آیا۔علاقے میں کسی حد تک دیہات کی جھلک بھی نظر آئی۔ جھگیاں شہاب دین کی مسجد سے محمد عالم صاحب کے گھر کا پتا چلا جو نزدیک ہی واقع ہے۔ یہ سادہ اور متوسط طبقے کے افراد کا رہائشی علاقہ ہے جس میں اب یہ تبدیلی آچکی ہے کہ کچی سڑک پکی بن چکی ہے۔ کچھ ہی دیر بعد گیٹ پر ایک باریش، چھریرے بند کے سفید شلوار قمیص اور جناح کیپ میں ملبوس بزرگ تشریف لائے۔ علیک سلیک کے بعد پتہ چلا کہ آپ ہی محمد عالم مختار حق صاحب ہیں۔ ان سے اولین ملاقات میں یہ تاثر قائم ہوا کہ وہ ایک محبت اور شفقت کرنے والے بزرگ ہیں جن کے مزاج میں بناوٹ اور تکلف بالکل نہیں بلکہ فطری محبت، اپنائیت، خوش اخلاقی اورمہمان نوازی ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ وہ راقم کو اپنے گھر میں لے گئے جس کے سادہ اینٹوں والے صحن سے گزر کر ہم ان کے کتب خانے میں پہنچے۔ کتب خانے میں پہنچ کر عجب منظر نظر آیا۔ زمین سے چھت تک کتابوں سے بھرے کئی ریک جن میں سلیقے سے کتابین رکھی گئی تھیں۔ اس دوران راقم نے عبدالمجید پرویں رقم مرحوم کی خطاطی اور ان کے نوادر کے حوالے سے گفتگو کی۔ محمد عالم صاحب نے بڑی شفقت سے پرویںرقم کے خطاطی کے کئی ایسے نمونے دکھائےجو راقم نے اس سے قبل نہیں دیکھے تھے اور جنھیں دیکھ کر راقم پر ایک عالم سرخوشی طاری ہوگئی۔ محمد عالم صاحب سے ملاقات کے دوران یہ تاثر ملا کہ علمی معاملات اور علمی فیض رسانی کے حوالے سے وہ بڑے وسیع القلب واقع ہوئے ہیں اور آئندہ زندگی میں جیسے جیسے ان سے تعلقات بڑھے یہ تاثر بھی قوی سے قوی تر ہوتا گیا۔ ابھی ہم پرویں رقم کے نوادر کی زیارت ہی کر رہے تھے کہ نماز عشاء کا وقت ہو گیا۔ وہ مجھے لے کر اس مسجد تک گئے جہاں سے میںنے ان کے گھر کا پتا دریافت کیا تھا۔ میں سمجھا تھاکہ وہ نماز پڑھیں گے لیکن یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ انہوں نے نماز کی امامت کی اور بعد نماز دوبارہ گھر لے آئے۔ بعد میں پتا چلا کہ اس مسجد میں طویل عرصے سے محمد عالم صاحب اعزازی طور پر امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور علمی اور تحقیقی کاموں کے ساتھ ساتھ توشۂ آخرت بھی جمع کر رہے ہیں۔
❤1
اس اولین ملاقات کے بعد متعددبار ان کے گھر جانے، ان سے ملاقاتیں کرنے اور ان کی علمی گفتگو سے مستفید ہونے کے مواقع ملے۔ ہمیشہ ان کا محبت آمیز اور شفقت آمیز رویہ دیکھا۔ کوئی واقعہ ایسا یاد نہیں جب انہوںنے اپنے اس محبت آمیز رویے میں تبدیلی کی ہو۔ ہر موقع پر وہ بڑی خوش دلی سے استقبال کرتے، محبت سے گھر کے اندر لے جاتے، اپنی لائبریری بڑے شوق سے دکھاتے، اگر نئی کتابیں آئی ہوتیں وہ دکھاتے، اگر راقم کتابوں کے حوالے سے کچھ عرض کرتا تو اسے وہیں نوٹ کر لیتے۔ اگر کسی کتاب یا مضمون کا عکس درکار ہوتا تو بڑی فراخ دلی سے فراہم کرتے۔ خط و کتابت کے دوران اگر کوئی علمی استفسارکیا جاتا تو مفصل جواب لکھتے، اگر ان کی کوئی نئی کتاب شائع ہوتی تو دستخطی نسخہ روانہ فرماتے۔ مختصراً یہ کہ اپنی محبت، شفقت اور عنایات کی بارشیں برساتے۔ راقم الحروف کا یہ معمول رہا کہ لاہور میں قیام کے دوران کئی مرتبہ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور کراچی میں ہوتا تو فون پر رابطہ رکھتا۔ اگر لاہور سے کسی کتاب کی ضرورت ہوتی تو ان سے گزارش کرتا اور وہ ہمیشہ فراہم کرتے۔فون پر بھی ان کا وہی محبت اور شفقت آمیز لہجہ ہوتا اور عموماً ایسا ہوتا کہ وہ فون کی ابتدا میں کافی دیر تک پنجابی زبان میں گفتگو کرتے اور اس کے بعد اردو کی باری آتی۔
یوںمحمد عالم صاحب سے ملاقاتیں اور روابط جاری تھے کہ مورخہ ۲۱؍فروری ۲۰۰۵ء کو کراچی میں مشفق خواجہ صاحب کا انتقال ہوا۔ اس واقعے سے پوری دنیا میں خواجہ صاحب کے چاہنے والوں میں سوگواری کی فضا طاری ہوگئی۔اگلے روز راقم جنازے میں شریک تھا۔ محمد عالم صاحب کے خواجہ صاحب سے طویل عرصے تک قریبی تعلقات رہے اور خواجہ صاحب بھی ان کے خلوص اور جذبہء خیر خواہی سے بڑے متاثر تھے ۔خواجہ صاحب کے انتقا ل کے بعد محمد عالم صاحب نے حق دوستی یوں ادا کیا کہ پہلے اپنے نام خواجہ صاحب کے خطوط ’’مشفق نامے ‘‘ کے نام سے شایع کرائے اور اس کے بعد خواجہ صاحب پر لکھے گئے مضامین کو مرتب کر کے ’’مشفق من خواجہ ء من ‘‘ کے نام سے شایع کرایا۔جس روز خواجہ صاحب کی تدفین ہوئی اسی شام محمد عالم صاحب کا لاہور سے فون آیاجو خواجہ صاحب کی وفات پر بہت ملول تھے اور دیر تک ان کی باتیں کرتے رہے اور راقم سے جنازے کی تفصیلات معلوم کرتے رہے۔
محمد عالم صاحب سے انہی ملاقاتوں کے دوران علم ہوا کہ نامور محقق مولانا غلام رسول مہر سے ان کے بہت قریبی تعلقات رہے ہیں اور مہر صاحب کے خطوط و تحریروں کا بڑا ذخیرہ ان کے پاس محفوظ ہے جس میں بڑی تعداد میں وہ خطوط ہیں جو خود محمد عالم صاحب کے نام ہیں۔ مزید دریافت کرنے پر انہوں نے یہ دلچسپ اطلاع دی کہ ان کا طویل عرصے تک معمول رہا کہ جب وہ مہر صاحب سے ملنے جاتے تو ایک سوالنامہ مہرصاحب کی میز پر رکھ دیتے۔ اس دوران مہر صاحب اپنے علمی کام بھی انجام دیتے رہتے اور سوالنامے کے جوابات بھی لکھ کر رکھ دیتے۔ یہ سلسلہ طویل عرصے تک چلتا رہا اور یوں مہر صاحب کے ان جوابی خطوط کا بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا۔ بعد میں محمد عالم صاحب نے ان خطوط کو ’’گنجینۂ مہر‘‘ کے عنوان سے مرتب کیاا ور یہ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی سے دو جلدوں میں۔۔۔۔۔۔۔میں شائع ہوئے۔ محمد عالم صاحب سے مسلسل ملاقاتوں کے دوران یہ بھی علم ہوا کہ وہ پروف ریڈنگ کے فن میں بھی بڑی مہارت رکھتے ہیں اور طویل عرصے سے معروف رسالے ’’نقوش‘‘ کی پروف ریڈنگ اعزازی طور پر کر رہے ہیں۔ یہ بھی علم ہوا کہ مدیر نقوش محمد طفیل مرحوم سے آپ کے قریبی تعلقات تھے اور وہ آپ سے علمی معاملات میں مشورے بھی کرتے اور محمد عالم صاحب کے قیمتی کتب خانے سے استفادہ بھی کرتے تھے۔اس کے علاوہ وہ بہت سے علمی اداروں کے لیے بلا معاوضہ کام کر رہے تھے جس میں مشفق خواجہ صاحب کا ادارہ مکتبہء اسلوب بھی شامل تھا۔اس ادارے اور مشفق خواجہ صاحب کے ذاتی پرچے ’’تخلیقی ادب ‘‘ کے لیے کتابت محمد عالم صاحب ہی لاہور سے کر ا کے کراچی بھیجتے تھے۔
یوںمحمد عالم صاحب سے ملاقاتیں اور روابط جاری تھے کہ مورخہ ۲۱؍فروری ۲۰۰۵ء کو کراچی میں مشفق خواجہ صاحب کا انتقال ہوا۔ اس واقعے سے پوری دنیا میں خواجہ صاحب کے چاہنے والوں میں سوگواری کی فضا طاری ہوگئی۔اگلے روز راقم جنازے میں شریک تھا۔ محمد عالم صاحب کے خواجہ صاحب سے طویل عرصے تک قریبی تعلقات رہے اور خواجہ صاحب بھی ان کے خلوص اور جذبہء خیر خواہی سے بڑے متاثر تھے ۔خواجہ صاحب کے انتقا ل کے بعد محمد عالم صاحب نے حق دوستی یوں ادا کیا کہ پہلے اپنے نام خواجہ صاحب کے خطوط ’’مشفق نامے ‘‘ کے نام سے شایع کرائے اور اس کے بعد خواجہ صاحب پر لکھے گئے مضامین کو مرتب کر کے ’’مشفق من خواجہ ء من ‘‘ کے نام سے شایع کرایا۔جس روز خواجہ صاحب کی تدفین ہوئی اسی شام محمد عالم صاحب کا لاہور سے فون آیاجو خواجہ صاحب کی وفات پر بہت ملول تھے اور دیر تک ان کی باتیں کرتے رہے اور راقم سے جنازے کی تفصیلات معلوم کرتے رہے۔
محمد عالم صاحب سے انہی ملاقاتوں کے دوران علم ہوا کہ نامور محقق مولانا غلام رسول مہر سے ان کے بہت قریبی تعلقات رہے ہیں اور مہر صاحب کے خطوط و تحریروں کا بڑا ذخیرہ ان کے پاس محفوظ ہے جس میں بڑی تعداد میں وہ خطوط ہیں جو خود محمد عالم صاحب کے نام ہیں۔ مزید دریافت کرنے پر انہوں نے یہ دلچسپ اطلاع دی کہ ان کا طویل عرصے تک معمول رہا کہ جب وہ مہر صاحب سے ملنے جاتے تو ایک سوالنامہ مہرصاحب کی میز پر رکھ دیتے۔ اس دوران مہر صاحب اپنے علمی کام بھی انجام دیتے رہتے اور سوالنامے کے جوابات بھی لکھ کر رکھ دیتے۔ یہ سلسلہ طویل عرصے تک چلتا رہا اور یوں مہر صاحب کے ان جوابی خطوط کا بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا۔ بعد میں محمد عالم صاحب نے ان خطوط کو ’’گنجینۂ مہر‘‘ کے عنوان سے مرتب کیاا ور یہ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی سے دو جلدوں میں۔۔۔۔۔۔۔میں شائع ہوئے۔ محمد عالم صاحب سے مسلسل ملاقاتوں کے دوران یہ بھی علم ہوا کہ وہ پروف ریڈنگ کے فن میں بھی بڑی مہارت رکھتے ہیں اور طویل عرصے سے معروف رسالے ’’نقوش‘‘ کی پروف ریڈنگ اعزازی طور پر کر رہے ہیں۔ یہ بھی علم ہوا کہ مدیر نقوش محمد طفیل مرحوم سے آپ کے قریبی تعلقات تھے اور وہ آپ سے علمی معاملات میں مشورے بھی کرتے اور محمد عالم صاحب کے قیمتی کتب خانے سے استفادہ بھی کرتے تھے۔اس کے علاوہ وہ بہت سے علمی اداروں کے لیے بلا معاوضہ کام کر رہے تھے جس میں مشفق خواجہ صاحب کا ادارہ مکتبہء اسلوب بھی شامل تھا۔اس ادارے اور مشفق خواجہ صاحب کے ذاتی پرچے ’’تخلیقی ادب ‘‘ کے لیے کتابت محمد عالم صاحب ہی لاہور سے کر ا کے کراچی بھیجتے تھے۔
محمد عالم صاحب نے اپنی ذاتی محنت اور کوشش سے اپنے گھر میں بڑا نادر اور بے مثل کتب خانہ قائم کیا۔ یہ کتب خانہ کیا ہے گویا علم کی ایک ایسی سبیل ہے جس سے وہ گزشتہ نصف صدی سے تشنگانِ علم کو سیراب کر رہے تھے۔ اس کتب خانے میں کئی کتب مولانا غلام رسول مہر کے کتب خانے کی ہیں جو مولانا مہر نے خود محمد عالم صاحب کو پیش کی تھیں۔ مولانا مہر کے کتب خانے سے عبدالمجید پرویں رقم کی تمام چیزیں بھی اب محمد عالم صاحب کے کتب خانے کی زینت بن چکی ہیں ۔یہ تمام چیزیں بھی مہر صاحب نے انھیں دی تھیں۔ ذاتی کتب خانے تو اور بھی ہوںگے لیکن اس کتب خانے کی خاص بات یہ ہے کہ اس سے فیض اٹھانے والوں کو کبھی محمد عالم صاحب نے انکار نہیں کیا بلکہ ان کی فیاضی اور علم دوستی کی یہ نادر مثال ہے کہ وہ خود اس کتب خانے کی نادر کتابیں، رسائل، نوادر خطاطی و دیگر چیزیں یہاں آنے والون کو بخوشی دکھاتے بھی تھے اور اگر ضرورت ہو تو ان کے عکس بھی فراہم کرتے تھے۔ ایک دفعہ راقم الحروف ان کے ساتھ اسی بے مثل کتب خانے میں بیٹھا تھا کہ دوران گفتگو انہوں نے کتب خانے کے بارے میںعجیب بات سنائی۔ فرمانے لگے کہ مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کے بعد اس کتب خانے کا کیا ہو گا؟میںاس سوال کا یہ جواب دیتا ہوں کہ آخر لوگ انتقال کر کے دنیا سے جاتے ہی رہتے ہیں لیکن ان کی زندگی میں کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کے بعد آپ کے بنگلے کا کیا ہو گا، کوٹھی کا کیا ہو گا، کار اور دیگر چیزوں کا کیا ہو گا؟ یہ بات کتابوں کے بارے میں ہی کیوں پوچھی جاتی ہے؟
عموماً دیکھا گیا ہے کہ لکھنے پڑھنے والے لوگ دینی فرائض کے معاملے میں سست واقع ہوتے ہیں لیکن محمد عالم صاحب دینی فرائض پر بڑی سختی اور سنجیدگی سے عمل کرتے ۔وہ محلے کی مسجد میں اعزازی طور پر امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ انہوں نے نصف صدی تک نہ اس مسجد کو چھوڑا اور نہ مسجد نے انہیں چھوڑا اور انتقال کے بعد بھی آخری آرام گاہ اسی مسجد سے متصل ملی۔اس کے علاوہ ماہ رمضان المبارک میں بھی ان کے معمولات میں اضافہ ہوجاتا او ر اپنا وقت خوب عبادات میں صرف کرتے تھے۔لیکن اس سب کے باوجود ان کی دین داری دوسروں کے لیے باعثِ زحمت نہیں بلکہ ایک طرح سے باعث رحمت تھی۔وہ ان خاصان خدا میں تھے جو دین میں اخلاق کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور زندگی کے ہر پہلو پر اخلاقی رویے کو ترک نہیںکرتے۔وہ نہ تو کبھی اپنی دین داری اور عبادات کا ذکر کرتے او ر نہ ہی دوسروں کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے تھے۔ان کی شخصیت میں غرور زہد نام کی بھی نہیں تھا،وہی غرورِ زہد جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہاتھا:
غرورِ زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگانِ خدا پر زباں دراز کرے
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا،یہ مختصر مضمون محمد عالم صاحب سے راقم کے ذاتی تعلقات اور چشم دید واقعات پر مبنی ہے ۔یہاں ان کی علمی اور تحقیقی کارناموں کی تفصیل تحریر کرنا ممکن نہیں ۔البتہ یہاں ہم ان کی مطبوعہ کتب کی ایک مختصر فہرست پیش کرتے ہیں:
۱۔خطوطِ مہر
۲۔اقبالیات ِ مہر
۳۔گنجینہء مہر(۲ جلدیں)
۴۔مشفقِ من خواجہء ما
۵۔مشفق نامے
۶۔فکرِ فاروقی
۷۔مکتوبات ڈاکٹر مختار الدین احمد بنام پیرزاد ہ اقبال احمد فاروقی
۸۔نگارشات ِ ڈاکٹر محمد حمید اللہ (۳جلدیں)
۹۔نذرِ شمس
عموماً دیکھا گیا ہے کہ لکھنے پڑھنے والے لوگ دینی فرائض کے معاملے میں سست واقع ہوتے ہیں لیکن محمد عالم صاحب دینی فرائض پر بڑی سختی اور سنجیدگی سے عمل کرتے ۔وہ محلے کی مسجد میں اعزازی طور پر امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ انہوں نے نصف صدی تک نہ اس مسجد کو چھوڑا اور نہ مسجد نے انہیں چھوڑا اور انتقال کے بعد بھی آخری آرام گاہ اسی مسجد سے متصل ملی۔اس کے علاوہ ماہ رمضان المبارک میں بھی ان کے معمولات میں اضافہ ہوجاتا او ر اپنا وقت خوب عبادات میں صرف کرتے تھے۔لیکن اس سب کے باوجود ان کی دین داری دوسروں کے لیے باعثِ زحمت نہیں بلکہ ایک طرح سے باعث رحمت تھی۔وہ ان خاصان خدا میں تھے جو دین میں اخلاق کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور زندگی کے ہر پہلو پر اخلاقی رویے کو ترک نہیںکرتے۔وہ نہ تو کبھی اپنی دین داری اور عبادات کا ذکر کرتے او ر نہ ہی دوسروں کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے تھے۔ان کی شخصیت میں غرور زہد نام کی بھی نہیں تھا،وہی غرورِ زہد جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہاتھا:
غرورِ زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگانِ خدا پر زباں دراز کرے
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا،یہ مختصر مضمون محمد عالم صاحب سے راقم کے ذاتی تعلقات اور چشم دید واقعات پر مبنی ہے ۔یہاں ان کی علمی اور تحقیقی کارناموں کی تفصیل تحریر کرنا ممکن نہیں ۔البتہ یہاں ہم ان کی مطبوعہ کتب کی ایک مختصر فہرست پیش کرتے ہیں:
۱۔خطوطِ مہر
۲۔اقبالیات ِ مہر
۳۔گنجینہء مہر(۲ جلدیں)
۴۔مشفقِ من خواجہء ما
۵۔مشفق نامے
۶۔فکرِ فاروقی
۷۔مکتوبات ڈاکٹر مختار الدین احمد بنام پیرزاد ہ اقبال احمد فاروقی
۸۔نگارشات ِ ڈاکٹر محمد حمید اللہ (۳جلدیں)
۹۔نذرِ شمس
محمد عالم صاحب نے ان کے علاوہ کئی اور کتب تصنیف و تالیف کیں۔ان کتب میں راقم کو سب سے زیادہ ’’گنجینہء مہر ‘‘ پسند ہے ۔یہ کتا ب کہنے کو تو مولانا غلام رسول مہر کے خطوط بنام محمد عالم مختا حق صاحب ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ علم و ادب کا نادر خزینہ اپنے اند ر سموئے ہوئے ہیں۔سونے پر سہاگہ مولانا مہر کے خطوط پر محمد عالم صاحب کے قیمتی اور معلومات افزا حواشی ہیں ۔محمد عالم صاحب کا دور آخر کا اہم کارنامہ عالم اسلا م کے نامور محقق اور عالم ڈاکٹر محمد حمید اللہ مرحوم کی منتشر تحریروں کی ’’نگارشات ڈاکٹر محمد حمید اللہ ‘‘ کے عنوان سے تین جلدوں میں جمع آوری اور ترتیب ہے۔یہ کام انھوں نے جس محنت اور دل سوزی سے کیا راقم اس کا گواہ ہے۔ان کتب کے حوالے سے اکثر راقم سے فون پر گفتگو کرتے اور ڈاکٹر محمد حمید اللہ مرحوم کی تحریروں کے حصول کے لیے کوشاں رہتے۔الحمد للہ ان کتب میں شامل ڈاکٹر صاحب کی کئی تحریریں راقم کی فراہم کردہ ہیں جس کا ذکر بڑی محبت سے کتابوں میں کرتے۔ان کی بڑی خواہش تھی کہ اس سلسلے کی چوتھی جلد بھی مرتب کریں لیکن اس بات پر افسوس کا اظہار فرماتے کہ مزید تحریریں دستیاب نہیں ہورہیں۔زندگی کے آخری ایّام میں فون پر اکثر اس موضوع پر ضرور گفتگو فرماتے اور مشورے بھی کرتے۔ایک اور اہم موضوع جس پر وہ کئی دہائیوں سے محنت کر رہے تھے، وہ ہے نوادر عبدالمجید پرویں رقم پر مشتمل کتاب کی اشاعت۔وہ دل سے خواہش مند تھے کہ یہ کتاب جلد از جلد شایع ہوجائے کیونکہ پوری دنیا میں عبدالمجید پرویں رقم کی خطاطی کے نمونوں کا سب سے بڑا ذخیرہ انھوں نے ہی جمع کر لیا تھا۔ جب ۲۰۱۴میں سیّد نفیس الحسینی ؒ (سیّد نفیس رقم )کے حالات زندگی اور نوادر خطاطی پر جب راقم کی کتاب ’’ارمغانِ نفیس‘‘ کی ابتدائی کاپیاں پریس سے آئیں تو کتاب کا ایک نسخہ محمد عالم صاحب کی خدمت میںبھی روانہ کیا ۔حسب عادت انھوں نے فون پر اس کی اطلاع دی اور بلند الفاظ میں راقم کی محنت کی داد دی۔اس کے بعد ہی انھوں نے اپنے ایک صاحب زادے کی ذمہ داری لگائی کہ نوادر پرویں رقم کی باری باری اسکییننگ کریں۔اس کے بعد ان کا پروگرام تھا کہ ان نوادر کو کتابی شکل میں شایع کیا جائے۔محمد عالم صاحب تو اب اس دنیا سے جا چکے لیکن قوی امید ہے کہ ان کے لائق فرزند خصوصاً محبوب عالم صاحب (جو گزشتہ تقریباً چالیس برسوں سے ان کے مشیر و معاون علمی بھی تھے)ان کی اس خواہش کی تکمیل کا سامان کریں گے۔
محمد عالم مختار حق جیسے بزرگوں کے انتقال کے بعد اکثریہ خیال آیا کہ یوں تووطن ِعزیز پاکستان میں شہروں کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن علمی اور تحقیق ذوق رکھنے والے اورنو واردانِ علم و تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنے والے اور ان کی ہرممکن مدد کرنے والے اتنے بھی نہیں کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر شمارکیے جاسکیں۔محمد عالم مختار حق صاحب کی وفات راقم کا ذاتی صدمہ ہے ۔پہلے جب بھی ہم لاہور جاتے تھے تو یہی طے کر کے جاتے تھے کہ لاہور میں خواہ قیام مختصر ہو یا طویل ،دو بزرگوں کی خدمت میں حاضری اور ان سے ملاقات ضرور کریں گے ۔ان میں پہلے بزر یعنی سیّد نفیس الحسینی ؒ مورخہ ۵؍فروری ۲۰۰۸ء کو دنیا سے کوچ کر گئے اورپھر ۵؍مارچ ۲۰۱۴ء کو محمد عالم مختار حق صاحب بھی چلے گئے۔اب بھی لاہور میں بزرگوں اور احباب کی کمی نہیں لیکن ان بزرگوں کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکتا ۔ساتھ ہی جب ان کی یاد آتی ہے تو بے اختیار ناصر کاظمی کے درج ذیل اشعار یاد آجاتے ہیں:
بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں
میں جن کو ڈھونڈتا ہوں کہاں ہیں وہ آدمی
میٹھے تھے جن کے پھل وہ شجر کٹ کٹا گئے
ٹھنڈی تھی جس کی چھائوں وہ دیوار گِر گئی
وہ شاعروں کا شہر وہ لاہور بجھ گیا
اُگتے تھے جس میں شعر وہ کھیتی ہی جل گئی
دعائے اللہ تعالیٰ محمد عالم مختار حق صاحب کو اعلیٰ علییّن میں جگہ عطا فرمائے اور ہمیں ان کی نیکیوں کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
محمد عالم مختار حق جیسے بزرگوں کے انتقال کے بعد اکثریہ خیال آیا کہ یوں تووطن ِعزیز پاکستان میں شہروں کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن علمی اور تحقیق ذوق رکھنے والے اورنو واردانِ علم و تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنے والے اور ان کی ہرممکن مدد کرنے والے اتنے بھی نہیں کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر شمارکیے جاسکیں۔محمد عالم مختار حق صاحب کی وفات راقم کا ذاتی صدمہ ہے ۔پہلے جب بھی ہم لاہور جاتے تھے تو یہی طے کر کے جاتے تھے کہ لاہور میں خواہ قیام مختصر ہو یا طویل ،دو بزرگوں کی خدمت میں حاضری اور ان سے ملاقات ضرور کریں گے ۔ان میں پہلے بزر یعنی سیّد نفیس الحسینی ؒ مورخہ ۵؍فروری ۲۰۰۸ء کو دنیا سے کوچ کر گئے اورپھر ۵؍مارچ ۲۰۱۴ء کو محمد عالم مختار حق صاحب بھی چلے گئے۔اب بھی لاہور میں بزرگوں اور احباب کی کمی نہیں لیکن ان بزرگوں کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکتا ۔ساتھ ہی جب ان کی یاد آتی ہے تو بے اختیار ناصر کاظمی کے درج ذیل اشعار یاد آجاتے ہیں:
بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں
میں جن کو ڈھونڈتا ہوں کہاں ہیں وہ آدمی
میٹھے تھے جن کے پھل وہ شجر کٹ کٹا گئے
ٹھنڈی تھی جس کی چھائوں وہ دیوار گِر گئی
وہ شاعروں کا شہر وہ لاہور بجھ گیا
اُگتے تھے جس میں شعر وہ کھیتی ہی جل گئی
دعائے اللہ تعالیٰ محمد عالم مختار حق صاحب کو اعلیٰ علییّن میں جگہ عطا فرمائے اور ہمیں ان کی نیکیوں کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
❤1
سید شہاب الدین کی یاد میں
معصوم مرادآبادی
ہندوستانی مسلمانوں کے ایک اہم اور بے باک رہنما سید شہاب الدین نے 4/مارچ2017 کو عین فجر کے وقت داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ پچھلے کافی عرصے سے سانس کی بیماری میں مبتلا تھے لیکن اس کے باوجود ملت کیلئے ا ن کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ وہ پابندی سے دفتر بھی آتے تھے اور ضروری خط وکتابت کا اپنا محبوب کام انجام دیتے تھے۔ راقم نے کوئی 30 برس ان کو بہت قریب سے دیکھا، ان کے درجنوں انٹرویوز لئے اور سیکڑوں ملاقاتیں کیں۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل و مصائب سے شہ رگ کی طرح قریب تھے اور انہیں حل کرنے کی جدوجہد ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ وہ دیگر قائدین کی طرح محض زبانی جمع خرچ اور تقریروں پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ مسائل کو حکومت کے دروازے تک پہنچاتے تھے اور صاحبانِ اقتدار کو ہر سوال کا جواب دینے پر مجبور کرتے تھے۔ انہوں نے انتہائی سرگرم اور بامقصد زندگی بسر کی۔ محنت ِ شاقہ کو اپنا شعار بنایا اور اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔
مسلم قائد کے طورپر سید شہاب الدین کا عروج مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک سے ہوا۔شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہندوستانی مسلمانوں میں ہیجان پیدا کردیا تھا جس کے نتیجے میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک نے زبردست مقبولیت حاصل کی۔ یوں تو اس تحریک کی باگ ڈور مسلم پرسنل لا بورڈ کے ہاتھوں میں تھی لیکن سید شہاب الدین اس تحریک کے ایک اہم قائد تھے اور انہیں عوامی اجتماعات میں سننے کیلئے لاکھوں لوگ جمع ہوتے تھے۔ آزادی کے بعد شاید ہی کسی قائد نے مرکزی سطح پر اتنی عوامی مقبولیت حاصل کی ہو۔
سید شہاب الدین کی پیدائش 4نومبر1935 کو ہوئی تھی انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔انہوں نے آئی ایف ایس آفیسر کے طورپر اپنا کیریر شروع کیا اور کئی ملکوں میں سفارتی خدمات انجام دیں۔ایمرجنسی کے بعد وہ ملازمت سے استعفیٰ دے کر سیاست میں آگئے۔ کہاجاتا ہے کہ انہیں سیاست میں شامل ہونے کیلئے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے آمادہ کیا تھا حالانکہ سید شہاب الدین نے ہمیشہ اس کی تردید کی۔ مجموعی طورپر ان کا سیاسی سفر کامیاب رہا۔ وہ تین مرتبہ لوک سبھا کے ممبر چنے گئے اور اپنی کارکردگی سے انہوں نے گہری چھاپ چھوڑی۔ ممبرپارلیمنٹ کے طور پر سب سے زیادہ خط وکتابت کرنے والے اور مسائل کو ایوان میں اٹھانے والے شاید وہ اکیلے مسلم لیڈر تھے۔ انہیں سابق وزرائے اعظم، وی پی سنگھ اور چندر شیکھر کا قرب حاصل رہا لیکن انہوں نے وی پی سنگھ کی سیاست کو کبھی پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ راقم کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے یہ تاریخی جملہ کہاتھا کہ”میں وی پی سنگھ کی شرافت کا قائل ہوں، سیاست کا نہیں۔“
جنتاپارٹی کی سرگرم سیاست سے لے کر انصاف پارٹی کے قیام تک انہوں نے سیاست کے میدان میں کئی کھٹے میٹھے تجربات کئے۔ اپنے اصولوں اور نظریات کے معاملے میں وہ بے لچک ثابت ہوئے تھے اور اکثر لوگوں سے ان کی’’ان بن“ ہوجایا کرتی تھی۔ مسلم قائدین میں بہت کم لوگ ان کے خیرخواہ تھے کیونکہ سبھی انہیں اپنے لئے خطرہ تصور کرتے تھے۔ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک کا اختتام پارلیمنٹ سے مسلم مطلقہ بل پاس ہونے کی صورت میں ہوا تو لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا لیکن اطمینان کا یہ عرصہ بہت مختصر ثابت ہوا کیونکہ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک کے بطن سے ایک ایسے تنازع نے جنم لیا جس نے ہندوستانی سیاست کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ مسلم پرسنل لا کی تحریک ختم ہونے کے بعد ملک میں رام جنم بھومی مکتی آندولن نے رفتار پکڑلی۔ مسلم مطلقہ بل کی منظوری کو جہاں ایک طرف مسلم قیادت نے اپنی بڑی کامیابی تصور کیا، وہیں فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں نے حکومت پر یہ الزام عائد کیاکہ اس نے مسلم بنیاد پرستوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔
کہاجاتا ہے کہ بابری مسجد کو عام پوجا پاٹ کیلئے کھولنے کا فیصلہ اسی داغ کو دھونے کیلئے کیاگیا تھا۔ بابری مسجد کا تالا کھلتے ہی مسلمانوں میں غم وغصے کی زبردست لہر دوڑ گئی۔ اس غصے کو تھامنے کیلئے لکھنو میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی قائم ہوئی اور اس کے تحت بابری مسجد کی بازیابی کیلئے زبردست تحریک چھیڑ دی گئی۔ دہلی میں اس تحریک کے رہنماؤں میں سلطان صلاح الدین اویسی، شاہی امام سید عبداللہ بخاری، سید شہاب الدین اور جاوید حبیب پیش پیش تھے۔ بعد کو سید شہاب الدین نے بابری مسجد تحریک رابطہ کمیٹی کے نام سے ایک علیحدہ کمیٹی بنائی جس نے تحریک کو مرکزی سطح پر آگے بڑھایا۔اس تحریک کا نقطہ عروج 30مارچ 1987 کو ہونے والا بوٹ کلب مارچ تھا جس میں پانچ لاکھ فرزندان توحید نے حصہ لے کر بابری مسجد کی بازیابی کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ سید شہاب الدین اس مارچ کے اہم منتظمین میں شامل تھے۔ اسی کے اسٹیج پر مسلم قائدین میں اختلافات بھی سامنے آئے اور یہ تحریک باہمی اختلافات کی طرف بڑھی۔
معصوم مرادآبادی
ہندوستانی مسلمانوں کے ایک اہم اور بے باک رہنما سید شہاب الدین نے 4/مارچ2017 کو عین فجر کے وقت داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ پچھلے کافی عرصے سے سانس کی بیماری میں مبتلا تھے لیکن اس کے باوجود ملت کیلئے ا ن کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ وہ پابندی سے دفتر بھی آتے تھے اور ضروری خط وکتابت کا اپنا محبوب کام انجام دیتے تھے۔ راقم نے کوئی 30 برس ان کو بہت قریب سے دیکھا، ان کے درجنوں انٹرویوز لئے اور سیکڑوں ملاقاتیں کیں۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل و مصائب سے شہ رگ کی طرح قریب تھے اور انہیں حل کرنے کی جدوجہد ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ وہ دیگر قائدین کی طرح محض زبانی جمع خرچ اور تقریروں پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ مسائل کو حکومت کے دروازے تک پہنچاتے تھے اور صاحبانِ اقتدار کو ہر سوال کا جواب دینے پر مجبور کرتے تھے۔ انہوں نے انتہائی سرگرم اور بامقصد زندگی بسر کی۔ محنت ِ شاقہ کو اپنا شعار بنایا اور اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔
مسلم قائد کے طورپر سید شہاب الدین کا عروج مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک سے ہوا۔شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہندوستانی مسلمانوں میں ہیجان پیدا کردیا تھا جس کے نتیجے میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک نے زبردست مقبولیت حاصل کی۔ یوں تو اس تحریک کی باگ ڈور مسلم پرسنل لا بورڈ کے ہاتھوں میں تھی لیکن سید شہاب الدین اس تحریک کے ایک اہم قائد تھے اور انہیں عوامی اجتماعات میں سننے کیلئے لاکھوں لوگ جمع ہوتے تھے۔ آزادی کے بعد شاید ہی کسی قائد نے مرکزی سطح پر اتنی عوامی مقبولیت حاصل کی ہو۔
سید شہاب الدین کی پیدائش 4نومبر1935 کو ہوئی تھی انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔انہوں نے آئی ایف ایس آفیسر کے طورپر اپنا کیریر شروع کیا اور کئی ملکوں میں سفارتی خدمات انجام دیں۔ایمرجنسی کے بعد وہ ملازمت سے استعفیٰ دے کر سیاست میں آگئے۔ کہاجاتا ہے کہ انہیں سیاست میں شامل ہونے کیلئے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے آمادہ کیا تھا حالانکہ سید شہاب الدین نے ہمیشہ اس کی تردید کی۔ مجموعی طورپر ان کا سیاسی سفر کامیاب رہا۔ وہ تین مرتبہ لوک سبھا کے ممبر چنے گئے اور اپنی کارکردگی سے انہوں نے گہری چھاپ چھوڑی۔ ممبرپارلیمنٹ کے طور پر سب سے زیادہ خط وکتابت کرنے والے اور مسائل کو ایوان میں اٹھانے والے شاید وہ اکیلے مسلم لیڈر تھے۔ انہیں سابق وزرائے اعظم، وی پی سنگھ اور چندر شیکھر کا قرب حاصل رہا لیکن انہوں نے وی پی سنگھ کی سیاست کو کبھی پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ راقم کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے یہ تاریخی جملہ کہاتھا کہ”میں وی پی سنگھ کی شرافت کا قائل ہوں، سیاست کا نہیں۔“
جنتاپارٹی کی سرگرم سیاست سے لے کر انصاف پارٹی کے قیام تک انہوں نے سیاست کے میدان میں کئی کھٹے میٹھے تجربات کئے۔ اپنے اصولوں اور نظریات کے معاملے میں وہ بے لچک ثابت ہوئے تھے اور اکثر لوگوں سے ان کی’’ان بن“ ہوجایا کرتی تھی۔ مسلم قائدین میں بہت کم لوگ ان کے خیرخواہ تھے کیونکہ سبھی انہیں اپنے لئے خطرہ تصور کرتے تھے۔ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک کا اختتام پارلیمنٹ سے مسلم مطلقہ بل پاس ہونے کی صورت میں ہوا تو لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا لیکن اطمینان کا یہ عرصہ بہت مختصر ثابت ہوا کیونکہ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک کے بطن سے ایک ایسے تنازع نے جنم لیا جس نے ہندوستانی سیاست کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ مسلم پرسنل لا کی تحریک ختم ہونے کے بعد ملک میں رام جنم بھومی مکتی آندولن نے رفتار پکڑلی۔ مسلم مطلقہ بل کی منظوری کو جہاں ایک طرف مسلم قیادت نے اپنی بڑی کامیابی تصور کیا، وہیں فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں نے حکومت پر یہ الزام عائد کیاکہ اس نے مسلم بنیاد پرستوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔
کہاجاتا ہے کہ بابری مسجد کو عام پوجا پاٹ کیلئے کھولنے کا فیصلہ اسی داغ کو دھونے کیلئے کیاگیا تھا۔ بابری مسجد کا تالا کھلتے ہی مسلمانوں میں غم وغصے کی زبردست لہر دوڑ گئی۔ اس غصے کو تھامنے کیلئے لکھنو میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی قائم ہوئی اور اس کے تحت بابری مسجد کی بازیابی کیلئے زبردست تحریک چھیڑ دی گئی۔ دہلی میں اس تحریک کے رہنماؤں میں سلطان صلاح الدین اویسی، شاہی امام سید عبداللہ بخاری، سید شہاب الدین اور جاوید حبیب پیش پیش تھے۔ بعد کو سید شہاب الدین نے بابری مسجد تحریک رابطہ کمیٹی کے نام سے ایک علیحدہ کمیٹی بنائی جس نے تحریک کو مرکزی سطح پر آگے بڑھایا۔اس تحریک کا نقطہ عروج 30مارچ 1987 کو ہونے والا بوٹ کلب مارچ تھا جس میں پانچ لاکھ فرزندان توحید نے حصہ لے کر بابری مسجد کی بازیابی کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ سید شہاب الدین اس مارچ کے اہم منتظمین میں شامل تھے۔ اسی کے اسٹیج پر مسلم قائدین میں اختلافات بھی سامنے آئے اور یہ تحریک باہمی اختلافات کی طرف بڑھی۔
❤2
بابری مسجد تحریک میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب سید شہاب الدین نے یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔ اس اپیل پر مسلم قیادت میں مزید اختلافات ابھر آئے اور سب نے سید شہاب الدین کو یہ کال واپس لینے پر مجبور کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ نیشنل میڈیا نے سید شہاب الدین کی امیج ایک علیحدگی پسند مسلم قائد کے طورپر پیش کی۔ انہیں میڈیا سے دوسرا مورچہ اپنے انگریزی ماہنامے ”مسلم انڈیا“ کے حوالے سے لینا پڑا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ”مسلم انڈیا“ کی اصطلاح’’ہندو انڈیا“ کے تصور کو جنم دیتی ہے، لہٰذا اس میگزین کا نام تبدیل کیاجانا چاہئے لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اس رسالے کے کچھ شمارے اردو میں بھی شائع ہوئے لیکن وہ جلد ہی قارئین کی بے حسی کی نذر ہوگئے۔ خود انگریزی ’مسلم انڈیا‘کا بھی یہی حشر ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ’’مسلم انڈیا“ کی فائلیں آزاد ہندوستان میں مسلم مسائل اور مصائب کا ایک اہم دستاویز ہیں اور جب بھی کوئی آزاد ہندوستان میں مسلم تحریکات اور مسائل پر قلم اٹھائے گا وہ ”مسلم انڈیا“ سے استفادہ کئے بغیر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوپائے گا۔ سید شہاب الدین کو آزاد ہندوستان میں مسلم قائد کے طور پرجو مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی وہ شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہو لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا لوگ انہیں فراموش کرتے چلے گئے۔ یہی ہماری ملت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ آخری زمانے میں ان کی حالت کافی بگڑگئی تھی لیکن انہوں نے اپنے ہوش وحواس کی برقراری تک خود کو ملت کیلئے وقف رکھا اور اسی جدوجہد میں جان ہاردی۔
❤1
سید شہاب الدین مرحوم کے تذکرہ کے ساتھ ملت کے کئی زخم ذہن میں تازہ ہوگئے ہیں، سید شہاب الدین بڑے باصلاحیت اور پڑھے لکھے انسان تھے، بابری مسجد کے قضئے اور پھر بوٹ کلب پر پانچ لاکھ کے مجمعے کے بعد ان کی شبیہ ملت میں متنازع بن گئی تھی۔
ہماری سید شہاب الدین کے مجلے مسلم انڈیا کو اس زمانے میں تلاش کرکے پڑھنے کی کوشش ہوتی تھی ، ایسے دستایزی معیار کے مجلات اردو صحافت میں شاذ ونادر ہی ملتے ہیں۔
شاہ بانو کیس اور بابری مسجد کی شہادت کے زمانے میں سید شہاب الدین کی شبیہ ایک کٹر مسلم قومیت کے نمائندہ کی حیثیت سے ابھری تھی، لیکن اس زمانے میں مولانا ضیاء الدین بخاری مرحوم کی زبانی ہم نے سنا تھا کہ سید شہاب الدین کٹر نیشنلست تھے، آپ نے بنگلہ دیش کی آزادی پر خوشی کے اظہار کے لئے ایک بڑی پارٹی رکھی تھی، جس میں بڑے بڑے قوم پرستوں کو دعوت دی گئی تھی، شاید اسی کو دیکھ کر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے آپ کو سیاست میں آنے کا مشورہ دیا تھا، بخاری صاحب کا کہنا تھا، کہ اس وقت کی سعودی حکومت کے علم میں جب یہ بات آئی تو حکومت ہند کی طرف سے آپ کا نام حکومت ہند سے بحیثیت سفیر تجویز ہونے کے باوجود اسے رد کیا گیا تھا۔
کہتے ہیں کہ تحریک خلافت نے برادران وطن کو بڑے بڑے جلوس اکٹھے کرنے کی راہ دکھائی تھی، پھر مسلمانوں نے ایک لاکھ کا مجمع اکٹھا کیا تو انہوں نے دس لاکھ کا، ممبئی میں تحریک خلافت کے سرپرستی میلاد کا جلوس نکلنے لگا، تو پھر گنپتی کے جلوس میں جان آگئی، اور وہ بھی تسلسل کے ساتھ جلوس سے کئی گنا بڑا نکلنے لگا۔
بابری مسجد پر سید شہاب الدین اور سید احمد بخاری کی قیادت میں جلوس نکالا تھا ، کہتے ہیں کہ بنارس میں مخالفین نے اس سے دس گنا بڑا جلوس نکالا۔ اور یہ مسئلہ جذبات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ مرحوم ایک باصلاحیت قائد تھے، ان کے اخلاص میں بھی شک نہیں کیا جاسکتا، لیکن انہوں نے ملت کے سلگتے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں جو راہ اپنائی، اس کی درستگی کے سلسلے میں آراء منقسم ہیں۔
عبد المتین منیری
ہماری سید شہاب الدین کے مجلے مسلم انڈیا کو اس زمانے میں تلاش کرکے پڑھنے کی کوشش ہوتی تھی ، ایسے دستایزی معیار کے مجلات اردو صحافت میں شاذ ونادر ہی ملتے ہیں۔
شاہ بانو کیس اور بابری مسجد کی شہادت کے زمانے میں سید شہاب الدین کی شبیہ ایک کٹر مسلم قومیت کے نمائندہ کی حیثیت سے ابھری تھی، لیکن اس زمانے میں مولانا ضیاء الدین بخاری مرحوم کی زبانی ہم نے سنا تھا کہ سید شہاب الدین کٹر نیشنلست تھے، آپ نے بنگلہ دیش کی آزادی پر خوشی کے اظہار کے لئے ایک بڑی پارٹی رکھی تھی، جس میں بڑے بڑے قوم پرستوں کو دعوت دی گئی تھی، شاید اسی کو دیکھ کر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے آپ کو سیاست میں آنے کا مشورہ دیا تھا، بخاری صاحب کا کہنا تھا، کہ اس وقت کی سعودی حکومت کے علم میں جب یہ بات آئی تو حکومت ہند کی طرف سے آپ کا نام حکومت ہند سے بحیثیت سفیر تجویز ہونے کے باوجود اسے رد کیا گیا تھا۔
کہتے ہیں کہ تحریک خلافت نے برادران وطن کو بڑے بڑے جلوس اکٹھے کرنے کی راہ دکھائی تھی، پھر مسلمانوں نے ایک لاکھ کا مجمع اکٹھا کیا تو انہوں نے دس لاکھ کا، ممبئی میں تحریک خلافت کے سرپرستی میلاد کا جلوس نکلنے لگا، تو پھر گنپتی کے جلوس میں جان آگئی، اور وہ بھی تسلسل کے ساتھ جلوس سے کئی گنا بڑا نکلنے لگا۔
بابری مسجد پر سید شہاب الدین اور سید احمد بخاری کی قیادت میں جلوس نکالا تھا ، کہتے ہیں کہ بنارس میں مخالفین نے اس سے دس گنا بڑا جلوس نکالا۔ اور یہ مسئلہ جذبات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ مرحوم ایک باصلاحیت قائد تھے، ان کے اخلاص میں بھی شک نہیں کیا جاسکتا، لیکن انہوں نے ملت کے سلگتے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں جو راہ اپنائی، اس کی درستگی کے سلسلے میں آراء منقسم ہیں۔
عبد المتین منیری
*اسلاف امت کا رمضان*
*قسط:15*
*١٥/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*أمير المؤمنين حضرت علي بن أبي طالب رضي الله عنه*
*امیر المومنین حضرت علي بن أبي طالب رمضان المبارک میں راتوں کو عبادت میں گزارنے کے لیے معروف تھے۔ آثار میں آتا ہے کہ آپؓ قیامِ لیل میں طویل قراءت فرماتے اور قرآن کی آیات پر تدبر کرتے ہوئے روتے تھے۔ رمضان میں آپؓ کا حال اور بھی زیادہ خشوع و خضوع والا ہو جاتا تھا۔ آپ لوگوں کو بھی نماز اور قرآن کی طرف متوجہ کرتے تھے۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
*حضرت عبد الله بن عمر رضي الله عنهما*
*حضرت عبدالله بن عمر رمضان میں خاص اہتمام کرتے تھے کہ افطار کے وقت مساکین کو ساتھ بٹھائیں۔ اگر کوئی یتیم یا مسکین موجود نہ ہوتا تو خود بھی کھانے میں رغبت کم رکھتے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ رمضان کو عبادت، تلاوت اور صدقہ کے ساتھ گزاریں، اور رات کے قیام میں خشوع نمایاں ہوتا تھا۔*
*(مصنف ابن ابی شیبہ)*
*ترتیب و پیشکش: ابنائے جامعہ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل*
*قسط:15*
*١٥/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*أمير المؤمنين حضرت علي بن أبي طالب رضي الله عنه*
*امیر المومنین حضرت علي بن أبي طالب رمضان المبارک میں راتوں کو عبادت میں گزارنے کے لیے معروف تھے۔ آثار میں آتا ہے کہ آپؓ قیامِ لیل میں طویل قراءت فرماتے اور قرآن کی آیات پر تدبر کرتے ہوئے روتے تھے۔ رمضان میں آپؓ کا حال اور بھی زیادہ خشوع و خضوع والا ہو جاتا تھا۔ آپ لوگوں کو بھی نماز اور قرآن کی طرف متوجہ کرتے تھے۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
*حضرت عبد الله بن عمر رضي الله عنهما*
*حضرت عبدالله بن عمر رمضان میں خاص اہتمام کرتے تھے کہ افطار کے وقت مساکین کو ساتھ بٹھائیں۔ اگر کوئی یتیم یا مسکین موجود نہ ہوتا تو خود بھی کھانے میں رغبت کم رکھتے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ رمضان کو عبادت، تلاوت اور صدقہ کے ساتھ گزاریں، اور رات کے قیام میں خشوع نمایاں ہوتا تھا۔*
*(مصنف ابن ابی شیبہ)*
*ترتیب و پیشکش: ابنائے جامعہ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل*
👍1
*اسلاف امت کا رمضان*
*قسط:14*
*١٤/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*امام يحيى بن أبي كثير رحمہ اللہ*
*يحيى بن أبي كثير رمضان میں دعا کیا کرتے تھے: “اللهم سلمني إلى رمضان، وسلم لي رمضان، وتسلمه مني متقبلاً” یعنی اے اللہ! مجھے رمضان تک سلامت پہنچا، رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ اور اسے مجھ سے قبول فرما۔*
*(لطائف المعارف)*
*امام محمد بن سيرين رحمہ اللہ*
*محمد بن سيرين رمضان میں قرآن کی تلاوت میں اضافہ کرتے اور فرماتے تھے کہ یہ مہینہ دل کی اصلاح اور محاسبۂ نفس کا ہے۔ وہ تجارت اور دیگر مصروفیات کم کر دیتے تھے۔*
*(مصنف ابن ابی شیبہ)*
*إمام إسحاق بن راهويه رحمه الله*
*إسحاق بن راهويه رمضان میں قیامِ لیل کا خاص اہتمام کرتے اور طویل قراءت فرماتے تھے۔ ان کے شاگرد بیان کرتے ہیں کہ وہ اس مہینے میں علم سے زیادہ عبادت کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے اور مسجد میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
*قسط:14*
*١٤/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*امام يحيى بن أبي كثير رحمہ اللہ*
*يحيى بن أبي كثير رمضان میں دعا کیا کرتے تھے: “اللهم سلمني إلى رمضان، وسلم لي رمضان، وتسلمه مني متقبلاً” یعنی اے اللہ! مجھے رمضان تک سلامت پہنچا، رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ اور اسے مجھ سے قبول فرما۔*
*(لطائف المعارف)*
*امام محمد بن سيرين رحمہ اللہ*
*محمد بن سيرين رمضان میں قرآن کی تلاوت میں اضافہ کرتے اور فرماتے تھے کہ یہ مہینہ دل کی اصلاح اور محاسبۂ نفس کا ہے۔ وہ تجارت اور دیگر مصروفیات کم کر دیتے تھے۔*
*(مصنف ابن ابی شیبہ)*
*إمام إسحاق بن راهويه رحمه الله*
*إسحاق بن راهويه رمضان میں قیامِ لیل کا خاص اہتمام کرتے اور طویل قراءت فرماتے تھے۔ ان کے شاگرد بیان کرتے ہیں کہ وہ اس مہینے میں علم سے زیادہ عبادت کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے اور مسجد میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
❤1👍1
*وفیات مورخہ: 06/مارچ*
1875ء مرزا دبیر (سلامت علی)۔ مرثیہ نگار شاعر
1897ء پنڈت لیکھ رام۔ آریہ مناظر
1926ء عبد الرحمن ندوی نگرامی۔ مولانا ،
1955ء محمد اعزاز علی امروہوی۔ مولانا ، شیخ الادب
1964ء احمد اسحاق۔ ،
1964ء محمد احمد عثمانی۔ پروفیسر ،
1985ء مختار حسین نقشبندی جماعتی۔ ،
1990ء انور سید (سید انور حسین)۔ لیفٹننٹ کمانڈر ،
1991ء محمود فاروقی۔ ،
1996ء حسین عادل کھتری۔ جسٹس (ر) ،
1998ء شاہد حسن قاسمی۔ مولانا
1999ء امام علی نازش۔ کامریڈ
2002ء محمد اقبال حسینی نعیمی۔ مولانا ،
2004ء عبداللہ مراد بلوچ۔ ،
2009ء ابوالمجاہد زاہد۔
2009ء قیصر بھوپالی (سعید احمد خان)۔ ،
2015ء شیدا چینی (یونگ وانگ لیو)۔ چینی اردو ادیب
2025ء افتخار احمد سروہی۔ ایڈمرل، یاد داشت نگار
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1875ء مرزا دبیر (سلامت علی)۔ مرثیہ نگار شاعر
1897ء پنڈت لیکھ رام۔ آریہ مناظر
1926ء عبد الرحمن ندوی نگرامی۔ مولانا ،
1955ء محمد اعزاز علی امروہوی۔ مولانا ، شیخ الادب
1964ء احمد اسحاق۔ ،
1964ء محمد احمد عثمانی۔ پروفیسر ،
1985ء مختار حسین نقشبندی جماعتی۔ ،
1990ء انور سید (سید انور حسین)۔ لیفٹننٹ کمانڈر ،
1991ء محمود فاروقی۔ ،
1996ء حسین عادل کھتری۔ جسٹس (ر) ،
1998ء شاہد حسن قاسمی۔ مولانا
1999ء امام علی نازش۔ کامریڈ
2002ء محمد اقبال حسینی نعیمی۔ مولانا ،
2004ء عبداللہ مراد بلوچ۔ ،
2009ء ابوالمجاہد زاہد۔
2009ء قیصر بھوپالی (سعید احمد خان)۔ ،
2015ء شیدا چینی (یونگ وانگ لیو)۔ چینی اردو ادیب
2025ء افتخار احمد سروہی۔ ایڈمرل، یاد داشت نگار
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1