علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
سورۃ الکھف
تلاوت: قاری ذکی داغستانی (قاری حجاز)
پیشکش: اردو آڈیو ڈاٹ کام

https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=018-al-kahaf, 018- Al Kahaf
(*کل ہم نے مولانا عبد الرحمن نگرامی ندوی پر مولانا عبد الماجد دریابادی کی تحریر ارسال کی تھی، اس پر علم وکتاب پر ہوا ایک مذاکرہ*)
پورے سو سال ہوگئے۔ تعبیرات ماجدی سے آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ کیا مولانا نگرامی کی بہت کم عمر ہوئی؟ یہ مضمون کس کتاب کا حصہ ہے؟ جواب سے نوازئیے۔
(مولانا ارشد قاسمی)
یہ انشائے ماجدی کا حصہ ہے، اور اسی مضمون میں مرقوم ہے کہ مرحوم کی عمر بوقت انتقال ستائیس یا اٹھائیس سال تھی، انشائے ماجدی مولانا کی ادبی تحریروں کا مجموعہ ہے۔
(مولانا عبید اختر رحمانی)
ستائیس اٹھائیس جو لکھا تھا بس اسی کی تصدیق مطلوب تھی۔ جزاکم اللہ خیراً پروفیسر صاحب۔
(مولانا ارشد قاسمی)
مولانا عبد الماجد دریابادی نے اپنے معاصرین پر بہت کچھ لکھا ہے، محمد علی ذاتی ڈائری کے چند اوراق، اور حکیم الامت اپنے دورکی دو عظیم شخصیات رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر، اور حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ پر ہیں، اردو لٹریچر میں اس پائے کی سوانحی کتب شاذ ونادر پائی جاتی ہیں، اور اگر میں کہوں کہ ان کی تعداد ہاتھ کی انگلیوں سے زیادہ نہ ہوتو شاید مبالغہ نہ ہو۔
یہ شخصیات پر مستقل کتابیں ہیں، ان کے علاوہ دواور مجموعے ہیں، ایک ہے معاصرین، جس میں آپ نے شخصیات پر مختصر مضامین لکھے ہیں، اور چوتھا مجموعہ وفیات ماجدی یا نثری مرثئے ہیں، ذاتی ڈائری کے چند اوراق اور وفیات ماجدی اردو نثر کے شاہکار شمار ہوتے ہیں، کیونکہ یہ مضامین مولانا کی محبوب شخصیات کے انتقال کے تاثر میں فورا لکھے گئے تھے اور اس وقت سلسلہ وار سچ لکھنو میں شائع ہوئے تھے۔
مولانا کی زندگی میں آپ کے مضامین کے جو مجموعے شائع ہوتے تھے، ان میں منطقی ترتیب کا زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا تھا، عموما ان مضامین کو حیدرآباد دکن کے آپ کے ایک معتقد غلام رشید دستگیر صاحب سچ اور صدق سے جمع کرکے ادارہ ادبیات اردو حیدرآباد دکن سے شائع کرتے تھے،یہی ادارہ پاکستان جاکر نفیس اکیڈمی بناا، بعد میں یہی مجموعے صدق بکڈپو سے شائع ہونے لگے۔ مولانا دریابادی کے انتقال کے بعد مولانا کے مضامین کو مناسب انداز سے مرتب کرنے کی چند کوششیں ہوئیں، لیکن ادب وفکر کے ان شاہکاروں کا قرض اب بھی باقی ہے۔
محمد علی ذاتی ڈائری کے چند اوراق ۱۹۴۳ء میں غلام رشید دستگیر نے پہلے پہل شائع کیا تھا، یہ مجموعہ (۱۸۶) صفحات پر مشتمل تھا، نظر ثانی اور اضافوں کے بعد یہ مجموعہ دو جلدوں میں پھر دار المصنفین سے شائع ہوا تھا۔
ہماری رائے میں اس کتاب کے پہلے ایڈیشن سے قاری کے دل پر جو تاثر دل پر بیٹھتا ہے، ویسا دوسرے ایڈیشن سے نہیں ہو پاتا، کیونکہ پہلے ایڈیشن میں مصنف جذبات اور تاثر کے تابع ہوگئے ہیں، ان مضامین میں آمد ہی آمد ہے۔ ان مضامین کو نثر میں شاعری سے آپ تعبیر کرسکتے ہیں۔
آج نصف صدی سے زیادہ عرصہ گذرنے کے باوجود اس مجموعے کے مضامین کا تاثراس ناچیز کے ذہن میں اب بھی محفوظ ہے، نہ جانے کہاں کہاں ان سے گذرتے ہوئے آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے تھے۔ مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی وفات کے ذکر پرہوا تاثر اب بھی یاد ہے، ممکن ہے اب ایسا نہ ہو۔
یہ مجموعہ ہمیں بھٹکل کی مرحوم قدیم صدیق فری لائبریری سے ملا تھا۔ اللہ سب کی مغفرت کرے۔

عبد المتین منیری (اڈمن علم وکتاب)
2026-03-06
مولانا کے لکھے ادبی تبصروں کا مجموعہ ”تبصرات ماجدی“ بھی اہمیت کا حامل ہے جس کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ اس مجموعے میں جوش ملیح آبادی کی خود نوشت ”یادوں کی بارات“ اور شورش کا شمیری کی ”اس بازار میں“ پر مو لانا کے تبصرے ادب و انشا کے ایسے شاہکار ہیں گویا انھیں لکھ کر قلم توڑ دیا گیا ہو اور اب ایسے تبصرے لکھنا کسی اور سے ممکن نہیں۔
مولانا کے جوش کی اس کتاب پر تبصرے سے قبل مولانا ماہر القادری نے بھی شان دار تبصرہ لکھا تھا جسے پڑھ کر مولانا دریابادی نے بے حد پسند کیا تھا۔
( محمد راشد شیخ۔ مصنف ومحقق)
*تبصرات ماجدی کا یہ سلسلہ آپ کی اس بزم میں مسلسل جاری ہے، ابتک مولانا (170) کتابوں پر تبصرے یہاں پوسٹ ہوچکے ہیں۔ ہمارے احباب کو یہاں پوسٹ ہونے والے ان قیمتی سلسلوں پر خاموشی سے نہیں گذرنا چاہئے*
(عبد المتین منیری)
❤2
قادیانیت کے سلسلے میں مولانا دریابادی کے موقف پر ماہر القادری اور مولانا دریابادی میں بہت سخت دوریاں پیدا ہوگئی تھی، لیکن جب جوش پر ماہر صاحب کا مضمون آیا تو مولانا دریابادی سے گلے شکوے دور ہوگئے تھے۔ اس زمانے کے دینی مجلات میں مولانا دریابادی کے صدق لکھنو، مولانا عامر عثمانی کے تجلی دیوبند، اور ماہر القادری کے فاران کراچی میں کتابوں پر جو تبصرے آتے تھے ان کا جواب نہیں تھا، یہ حضرات کتابیں پڑھ کر تبصرہ کرتے تھے، اور ان تبصروں سے ادبی وعلمی معرکوں کا سلسلہ شروع ہوتا تھا، جو قارئین کو لطف دیتا تھا، اور علمی وفکری دنیا میں تموج پیدا ہوتا تھا۔ اور مدتوں بحثیں ہوتی تھیں، اور مختلف علمی ادبی وفکری پہلو اجاگر ہوتے تھے، اب چاروں طرف ایک جمود کا احساس ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اب ہم نے سوچنا بند کردیا ہے۔
ناانصافی ہوگی اگر ان میں مولانا سعید احمد اکبرآبادی کے برہان کا تذکرہ نہ ہو، مولانا کے کتابوں پر تبصرے بھی بڑے بے لاگ ہوتے تھے، ہماری اس بزم کے رکن مولانا زین العابدین صاحب نے بڑی محنت سے برہان کے ان تبصروں کو جمع کیا ہے، اس کی پہلی جلد (۸۵۴) صفحات پر مشتمل ہے، لیکن ابھی اس کی اشاعت کی گھڑی نہیں آئی، اور یہ قیمتی مجموعہ ناشرین کی بے قدری کا شکار ہورہا ہے۔
ہماری خواہش ہوتی ہے کہ مولانا دریابادی، مولانا عامر عثمانی، ماہر القادری اور مولانا سعید احمد اکبرآبادی کے تبصرہ کتب یہاں پر تسلسل کے ساتھ قارئین کی نذر کئے جائیں، تاکہ ہمارے احباب کو متنوع کتابوں کا علم حاصل ہو، اور انہیں ان کی تلاش وجستجو ہو، اس میں یہ ناچیز بھی شریک ہو۔ لیکن احباب سے جیسی تحریک اور تعاون ملنا چاہئے نہیں مل پارہا ہے۔ اب ہم بار بار گذارشات ہی کرسکتے ہیں۔
(عبد المتین منیری۔ اڈمن علم وکتاب)
❤8
حقیقتِ اسلام

حضرت مولانا عبدالباری ندوی رحمۃ اللّٰه علیہ لکھتے ہیں:

مسلمان ہونے کی حقیقت بھی صرف یہی ہے کہ انسان اپنے کو حیوان نہیں، انسان سمجھ کر اپنی انسانیت کی تکمیل و تربیت کے لیے اس رب العالمین کی تربیتی ہدایات کے بے چون و چرا اپنے کو حوالہ کردے، جس کی ربوبیت و پروردگاری، دن رات، ادنیٰ سے ادنی مخلوقات تک میں مشاہدہ کر رہا ہے، یہی معنیٰ ہیں: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کے عہد و اقرار کے، کہ اللّٰه کے سوا کسی غیر کو دین و دنیا کے کسی چھوٹے بڑے نفع و ضرر کے معاملہ میں الہٰ و معبود یا رب نہ ٹھہرایا جائے۔ یہی اسلام کی صراطِ مستقیم یا عین اسلام ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ. (سورۂ مریم: ٣٦)

(نظامِ صلاح و اصلاح، صفحہ: ٢١)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
👍2❤1
www.urduaudio.com
موت کیا ہے؟
بیان وآواز: حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب ؒ
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=mout-kiya-hai, Mout Kiya Hai
مزید تقاریر کی لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=qari-muhammed-tayyab&t=
www.urduaudio.com
موت کیا ہے؟
بیان وآواز: حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب ؒ
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=mout-kiya-hai, Mout Kiya Hai
مزید تقاریر کی لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=qari-muhammed-tayyab&t=
*وفیات مورخہ: 07/مارچ*
1806ء باقر آگاہ نائظی ویلوری۔ علامہ، محقق
1970ء شمیم رائے پوری (مظفر حسین)۔ شاعر
1972ء یوسف ظفر۔ ،
1978ء ظفر الہدیٰ۔ ڈاکٹر ،
1982ء عبد الرحمن بیصار۔ شیخ الازہر
1984ء محمد صدر الحق۔ ڈاکٹر ،
1985ء عیش ٹونکی (احمد میاں)۔ ،
1988ء محمد احمد دہمان۔ شامی محقق
1999ء شکیل احمد ضیاء۔ ،
2000ء بیگم طاہر آغا اعجاز حسین۔ ،
2004ء بیدل حیدری۔
2004ء بیگم دولت خانم ہدایت اللہ۔ ،
2013ء قیصر سلیم۔ ،
2017ء سید سجاد علی شاہ۔ چیف جسٹس پاکستان
2022ء رفیق تارڑ ۔ صدر پاکستان

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ سابق مہتمم دار العلوم دیوبند کے ریکارڈ شدہ خطبات و بیانات کی اشاعت کا سلسلہ از سر نو اردو آڈیو ڈاٹ کام پر شروع کیا جارہا ہے، یہ بیانات پچاس ساٹھ سال پرانے ہیں، اور ان کی آواز صاف کرنے میں کافی وقت لگتا ہے، احباب اگر ان کی اشاعت میں دلچسپی لیں تو اس نادر علمی ذخیرے پر محنت کرنے کی تحریک ہوگی۔ شکریہ
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب
❤8🥰1
سیرتِ عائشہؓ، مسلم خواتین کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ

علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:

ایک مسلمان عورت کے لیے سیرتِ عائشہ رضی اللّٰه عنہا میں اس کی زندگی کے تمام تغیرات، انقلابات اور مصائب، شادی، رخصتی، سسرال، شوہر، سوکن، لاولدی، بیوگی، غربت، خانہ داری، رشک و حسد، غرض اس کے ہر موقع اور ہر حالت کے لیے تقلید کے قابل نمونے موجود ہیں۔ پھر علمی، عملی، اخلاقی ہر قسم کے گوہرِ گراں مایہ سے پاک زندگی مالا مال ہے۔ اس لیے سیرتِ عائشہ رضی اللّٰه عنہا اس کے لیے ایک آئینہ ہے، جس میں صاف طور پر یہ نظر آئے گا کہ ایک مسلمان عورت کی زندگی کی حقیقی تصویر کیا ہے؟

(سیرتِ عائشہؓ، صفحہ: ۱۴/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤4
*غلطی ہائے مضامین۔۔۔ میاں! تم سیاست نہ کرو، مسجد میں بیٹھو اور اللہ اللہ کرو*
*احمد حاطب صدیقی*

صاحبو! لفظ ’’سیاست‘‘ بھی اب ہوتے ہوتے اُن الفاظ میں شامل ہوتا جارہا ہے جن کے معنی و مفاہیم امتدادِ زمانہ سے اُلٹ گئے ہیں۔ ہمارے ملک کے ’نام نہاد‘ سیاست دانوں کی نظر میں سیاست ایسی چیز ہے جو فریقِ مخالف کرے تو بہت ہی بُری چیز ہوتی ہے۔
یہاں ہم احتیاطاً ’نام نہاد‘ کے معنی بھی بتاتے چلیں۔ یہ کوئی بُرا کلمہ نہیں ہے، بلکہ اچھا بننے کی تلقین کرنے والا کلمہ ہے۔ ’نہاد‘کے معنی ہیں سرشت، مزاج، طبیعت، خلقت، عادت وغیرہ۔ اچھی طبیعت اور اچھی طینت رکھنے والے لوگ ’نیک نہاد‘ ہوتے ہیں، اور اس کے برعکس عادت و مزاج رکھنے والے ’بد نہاد‘۔ ’نام نہاد‘ سے مراد وہ ہے جو اس نام سے موسوم ہو، جو اِس نام کا ہو اور جو بس نام ہی کا ہو، کام کا نہ ہو۔
اب اِس قسم کے فقرے خود ’سیاست دانوں‘ کی زبان سے سن کر سوچنا پڑتا ہے کہ ان نصیحتوں پر لوگ ہنسیں یا روئیں؟ فرماتے ہیں:
’’قومی مفاد پر سیاست نہ کی جائے‘‘… ’’ملکی حالات پر سیاست نہ کی جائے‘‘… اور ’’عوامی مفادات پر سیاست نہ کی جائے‘‘۔
بھائی! پھر کس بات پر سیاست کی جائے؟ اور اگر سیاست ایسی ہی’’ لعنتی‘‘ چیز ہے، تو سائیں! پھر سیاست کی ہی کیوں جائے؟ تم بھی گھر بیٹھ کے … اللہ ہی اللہ کیا کرو، دُکھ نہ کسی کو دیا کرو۔
عرض ہم یہ کررہے تھے کہ نام نہاد سیاست دانوں کی نظر میں اب ’سیاست‘ کے معنی ہیں: ریشہ دوانی، جوڑ توڑ، چال بازی، جائزو ناجائز ہر طریقے سے حصولِ اقتدار، تحفظِ مفادات، ہوس کی امیری، ہوس کی وزیری، دھوکا، فریب، جھوٹ، سازش اور مکارانہ طور طریقے۔
ستم تو یہ ہے کہ سیاست کا یہ تصور اب اُن لوگوں کے ذہنوں میں بھی پیدا ہوگیا ہے، جن سے ایسی توقع نہیں تھی۔ برسوں پہلے (بلکہ پچھلی صدی) کی بات ہے، کالم نگار نے ایک نہایت سنجیدہ، بُردبار، دِین دار اور سمجھ دار سیاسی رہنما کے ایک مشہور بیان کا ذکر کرکے عرض کیا
’’آپ نے اپنا یہ عہد پورا نہیں کیا‘‘۔
تو جواب سن کر جی دھک سے رہ گیا۔اُنھوں نے بڑے سرسری انداز میں فرما دیا تھا کہ ’’وہ تو ایک سیاسی بیان تھا‘‘۔
ہمیں یقین ہے کہ وہ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 34 سے ضرور واقف ہوں گے، جس میں ہر کلمہ گو (مسلمان) کو حکم دیا گیا ہے:
’’وعدے پورے کیا کرو، بے شک وعدوںکے بارے میں تم سے باز پُرس ہوگی‘‘۔
شاید اسی وجہ سے لوگ اصرار کیا کرتے ہیں کہ ’’اسلام کو سیاست میں نہ لاؤ‘‘۔ ایسی بھی کیا سیاست کہ لیڈر اپنی لیڈری چمکانے کو جھوٹے وعدے ہی نہ کرسکے۔ سچ کہا تھا اقبالؔنے’’…اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر‘‘۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ لفظ ’سیاست‘ کے مفاہیم بدلتے جارہے ہیں۔ ورنہ سیاست تو عبادت تھی کہ خدمتِ خلق بھی عبادت ہی تو ہے۔ بقول مولانا حالیؔ:
ہاں یہی مقصد، یہی منزل ہے جس کے واسطے
آئے ہیں دنیا میں سب نوبت بہ نوبت انبیا
’سیاست‘ کا لفظ عربی مصدر ’’سَاسَ یَسُوسُ‘‘ سے مشتق ہے۔ لُغوی مطلب ہے دیکھ بھال کرنا، خیال رکھنا اور سدھانا۔ تربیت دینا، سکھانا، راہ پر لانا، مانوس کرنا یا اپنے آپ سے کسی جانور کو ہِلا لینا۔ ان تمام اُمور کے ماہر کو ’سائس‘ یا ’سائیس‘ کہا گیا۔ سائیس کا کام ہاتھی گھوڑے سدھانے تک محدود نہیں۔ وہ مکمل ماہرِ نفسیات ہوتا ہے۔ اس کام کو ہرگز حقیر نہ جانیے۔ اچھا سائیس وہی ہوتا ہے جو جانوروں کی عادات، اُن کی فطرت، ان کی جبلت اور ان کی نفسیات کا خوب اچھی طرح علم رکھتا ہو۔ ان پر حکم چلا سکتا ہو۔ یہ ہنر جانتا ہو کہ کس وقت کس جانور سے کس طرح پیش آنا ہے۔ بِدکا ہوا جانور کیسے قابو میں آئے گا اور سست جانور کس ترکیب سے تیزگام ہوجائے گا۔ مثل مشہور ہے کہ ’’علمِ سئیسی علمِ دریاؤ‘‘۔ یعنی سائیس بننے کا علم دریاؤں کی طرح گہرا علم ہے۔ سو یہی علم اور سائیس کے یہی وظائف ’سیاست‘ کہے گئے۔
چوں کہ قوموں کی پیشوائی کرنے والوں میں بھی ان صفات کی موجودگی ضروری سمجھی گئی، چناں چہ عوام کی تربیت، ان کی راہ نمائی، ان کی دیکھ بھال، ان کی نفسیات کو سمجھ کر ان سے برتاؤ کرنا اور ان کی حفاظت و نگہبانی وغیرہ بھی ایک سائیسی عمل یعنی ’سیاست‘ کہلایا۔ گویا سیاسی رہنما کو محض ’’مہابکُّو‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔ دانا، زیرک، معاملہ فہم، مُدَبِّر اور ماہر نفسیات ہونا چاہیے، تب ہی وہ اپنی قوم کی اچھی رہنمائی کرسکتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت 247کی رُو سے قومی رہنما کو ’’بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْم‘‘ ہونا چاہیے، یعنی اس میں دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی صلاحیتیں اور اہلیتیں فراوانی کے ساتھ ہوں۔ اسی آیت سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ دولت مند ہونا معیار ِرہبری نہیں ہے۔
خلفائے راشدینؓ اپنے آپ کو اُمت کا چرواہا (راعٍ یا راعی) کہا کرتے تھے۔ چرواہے میں وہی صفات ہوتی ہیں جو ’سائیس‘ میں ہوتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ کچھ انبیا کو نبوت ملنے سے پہلے چرواہے کا کام سونپا گیا۔ اسی لفظ ’راعٍ‘ سے ’رعیت‘ اور ’رعایا‘ کے الفاظ بنے۔ عربوں کے ہاں قومیت یا ملکی حقوق کے لیے ’’رَعَویّہ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ’راعٍ‘ نگراں اور نگہباںکے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اس حدیثِ پاک کے الفاظ دیکھیے:’’کُلُّکُمْ رَاعٍٍ وَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ‘‘۔ ’’تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور اُس سے اُس کی رعیت کے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی‘‘۔ یعنی جس طرح قومی رہنماؤں سے قوم کے حقوق کی ادائی کا پوچھا جائے گا اسی طرح ہر شخص سے اس کے زیرنگرانی یا ماتحت رہنے والے افراد کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ مطلب یہ کہ ’سیاست‘ محض کھیل اور دل لگی نہیں ہے۔ یہاں اگر اپنی سیاست لڑا کر کسی ترکیب سے بچ بھی نکلے تو وہاں دھر لیے جائیں گے۔ وہاں سے بھلا کس ولایت کو بھاگیں گے؟ کون ’سیاسی پناہ‘ دے گا؟
انسانی تمدن نے ترقی کی تو ’سیاست‘ کے مذکورہ بالا معنوں میں بڑی وسعت آگئی۔ ملکی معاملات اورملکی انتظامات کی دیکھ بھال کا عمل بھی ’سیاست‘ کے معنوں میں شامل ہوگیا۔ حکمرانی، حکمتِ عملی، اُمورِ مملکت کی انجام دہی، قوم کی نگہبانی اور افرادِ قوم کے لیے شہری سہولتوں کی فراہمی وغیرہ وغیرہ سب ’سیاست‘ کے اجزا بن گئے اور ان تمام اُمور سے متعلق علم کو ’علمِ سیاسیات‘ کہا گیا۔
اہلِ مغرب نے جب اپنے ہاں ’’بے خدا سیاست‘‘ کی ثقافت رائج کی تو پوری دنیا میں سیاست کے معانی ہی الٹ کر رکھ دیے۔ مذہبی اور اخلاقی پابندیاں جو سیاست کو ناانصافی، ظلم اور درندگی سے روکتی تھیں، پامال کر ڈالی گئیں۔ مغرب میں تو بقولِ اقبالؔ، ہوا یوں کہ
سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
چلی کچھ نہ پیر کلیسا کی پیری
یوں اپنے اجتماعی معاملات سے خدا کو دیس نکالا دے کر سیاستِ افرنگ خود ہی خدا بن بیٹھی اور خدائی فیصلے کرنے لگی۔ حرام کو حلال کیا اور حلال کو حرام ٹھہرا دیا۔ اقبالؔ خدا کے حضور ’ابلیس کی عرض داشت‘ پیش کرتے ہوئے ابلیس کی زبان سے کہلواتے ہیں:
جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہِ افلاک
ہمارے جمہوری اربابِ سیاست بھی سیاست کو دین سے دور رکھنے کی وکالت کرتے ہیںتا کہ جو جی میں آئے کریں۔بقول اقبالؔ:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
سودیکھ لیجے کہ، چنگیزی رہ گئی ہے۔ اسی چنگیزی کو قائم و دائم رکھنے کے لیے نام نہاد سیاست دان نیک نہاد لوگوں سے کہا کرتے ہیں:
’’میاں! تم سیاست نہ کرو،تم تو بس مسجد میں بیٹھو اور اللہ اللہ کرو‘‘۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
*اسلاف امت کا رمضان*

*قسط: 16*

*١٦/ رمضان ١٤٤٧*

*حضرت عبد الله بن عباس رضي الله عنهما*

*حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما رمضان المبارک میں خاص طور پر سخاوت اور خیرات میں بہت بڑھ جاتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی رمضان میں بہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے، اور ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب جبرائیل علیہ السلام رمضان میں قرآن کا دور کرنے آتے تو آپ ﷺ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی زیادہ ہو جاتی تھی۔ ابن عباسؓ خود بھی اس مہینے میں صدقہ اور عبادت میں اضافہ کرتے تھے۔*

*(صحیح البخاری، سير أعلام النبلاء)*

*حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما*

*عبدالله بن عمرو بن العاص رمضان میں عبادت اور تلاوتِ قرآن کا خاص اہتمام کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ وقت قرآن اور ذکر میں گزاریں۔*

*(الطبقات الكبرى)*

*حضرت عامر الشعبي رحمہ اللہ*

*حضرت عامر الشعبي رمضان میں علم کی مجالس کم کر دیتے اور فرماتے تھے کہ یہ مہینہ قرآن اور عبادت کا مہینہ ہے، اس لیے اس میں تلاوت اور قیام کو بڑھانا چاہیے۔*

*(لطائف المعارف)*
*سچی باتیں (29؍اپریل 1940ء) ۔۔۔ انسانی علم کی بے بسی*
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ*

امریکی اور یورپی، بیسیوں فضلائے عصر اور ماہرین فن کی لکھی ہوئی ، اور سرجان ہیمرٹن کی مرتب کی ہوئی ، ضخیم ’یونیورسل ہسٹری آف دی ورلڈ‘‘ علوم وفنون پر گویا تحقیق جدید کا آخر ی لفظ ہے۔ آخری جلد میں ختم کلام کے قریب ایک مستقل باب ہے ’’جدید فلسفۂ سائنس‘‘ (نیو فلاسفی آف سائنس) ، ایک مادّیت نواز کے قلم سے۔ اول سے آخرتک پڑھنے کے قابل۔ سوچنے سمجھنے کے قابل۔ اس کے آخر میں ارشاد ہوتاہے:-
’’موجودہ علوم فلسفیہ نے اگرچہ بہت سے قدیم مابعد الطبیعاتی مسائل کی گتھیاں کھول دی ہیں، تاہم اس سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم آخری مسائل کے حل کے کچھ بھی قریب آگئے ہیں۔ فطرت کاعلم جوں جوں ہمیں زائد ہوتاجاتاہے، اپنا جہل بھی ہم پر زیادہ منکشف ہوتاجاتاہے‘‘۔ (جلد 8، ص: 5012)
لیجئے ، جس سائنس کا اتنا غلغلہ تھا، کہ اس نے فطرت کے سارے اسرار ایک ایک کرکے بے نقاب کرڈالے ہیں، اور مذہب کی دھجیاں بکھیر دی ہیں، اس کی کائنات کُل اتنی نکلی! حشرونشر، حوروملک، جنت ودوزخ، کا عدم وجود’’ثابت‘‘ کردینا، ان کی نفی پر کوئی دلیل قائم کردینا الگ رہا، اس فریب کو تو ابھی زمان ومکاں، حدوث وقدم، مادّہ وروح، ہی کے پُرانے چکّروں اور اُلجھاوؤں سے فرصت نصیب نہیں!
اعترافِ عجز ابھی ختم نہیں ہوا، اور آگے چلئے:-
’’ہر مسئلہ جو حل ہوتاہے، وہ نئے نئے مسائل کاآغاز کردیتاہے، جو پہلے کبھی خیال وگمان میں بھی نہیں آئے ہوتے ہیں۔ نامعلوم (یا مغیبات) کا دائرہ غیرمحدود ہے، بہ خلاف اس کے معلوم (یا مشہودات) کادائرہ وسیع کتنا بھی ہو، بہرحال محدود ہی ہے۔ بنیادی مسائل کے حل کے لحاظ سے ہم آج بھی وہیں ہیں جہاں طالیسؔ، اور فیثاغورثؔ تھے۔ بنیادی مسائل کی تلاش ہی ایک مریض ذہنیت کی علامت ہے‘‘۔ (ایضًا)
ہزارہا سال کی فلسفیانہ کاوشوں اور عقلی موشگافیوں کا ماحصل، اور پوری ایک صدی کی حیرت انگیز سائنسی ترقیوں کا نتیجہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا؟ بے بسی کا اعتراف خود فلسفہ کے ماہروں اور سائنس کے اُستادوں کی زبان سے سُن لیا؟……یہ کتنا مختلف ہے اُن دعوؤں سے، جو ابھی کوئی پچاس برس اُدھر، کس زوروشور سے کئے جارہے تھے، کہ سائنس نے ’’ثابت کردیا ہے‘‘ کہ نہ عرش کوئی چیز ہے نہ کُرسی، نہ جنت کا وجود ہے نہ دوزخ کا، اور (نعوذ باللہ) نہ اللہ میاں کوئی چیز ہیں، نہ رسالت ونبوت!
اور یہ آواز کتنی مشابہ ومماثل ہے اُس سبق کے جو ساڑھے تیرہ سو برس پہلے دیاگیاتھا، اور کیسی دلنشیں شرح ہے اُس متن کی جو صدیوں پیشتر سنادیا گیاتھا، کہ
وما أوتیتم من العلم الّا قلیلا۔
علم بشری کی کُل بساط وکائنات ہی کیا ہے؟ اور یہ نئی حکمتِ ، کس طرح لفظ بہ لفظ ، حرف بہ حرف، ہماری پُرانی شاعری کی ترجمانی کررہی ہے کہ
فلسفی سرِ حقیت نتوانست کشود
گشت رازِ دگر آں راز کہ افشامی کرد!
فطرت کے قوانین چمکے، اور جھوٹ کھُل گیا ملؔکا، اور ہکسلیؔ کا، اور اگسٹؔ کا ،وما وعد الشیطان الاغرورًااور اُس برے فریبئے کے وعدے تو جھوٹ نکلنے ہی تھے۔
اور فطرت کے مالک وحاکم نے سچا کردکھایا، ابو حامد غزالیؒ کو، اور ولی اللہ دہلویؒ کو اور اشرف علی تھانویؒ کو……صرف ہنسے جانے کے قابل، صرف روئے جانے کے قابل، صرف ترس کھائے جانے کے قابل ہے اُن بیچاروں کا حال جو اِدھر اُدھر سے کچھ باتیں سُن سُنا کر، آج بھی اپنی ’’نیچریت‘‘ اور ’’روشن خیالی‘‘ کو کوئی فخر کی چیز سمجھ رہے ہیں، پچاس ساٹھ سال قبل کے آموختہ کو رٹے جاتے ہیں، اور اُترے ہوئے ڈھول کو دنوں ہاتھوں سے پیٹے چلے جارہے ہیں!
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤4
*اسلاف امت کا رمضان*

*قسط:18*

*١٨/ رمضان ١٤٤٧ ه‍*


*إمام وكيع بن الجراح رحمه الله*

*إمام وكيع بن الجراح کے بارے میں ان کے شاگرد بیان کرتے ہیں کہ وہ رمضان میں رات کی نماز (تراویح) میں قرآنِ مجید کی طویل قراءت کرتے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ رمضان میں قیام اللیل اور تلاوت دونوں میں خاص اضافہ کر دیتے تھے۔*

*(سير أعلام النبلاء)*

*إمام حماد بن زيد رحمه الله*

*حماد بن زيد رمضان کے مہینے میں لوگوں کو افطار کرانے کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ وہ روزہ داروں کو جمع کرتے، انہیں کھانا کھلاتے اور اسے بڑی عبادت سمجھتے تھے۔*

*(حلية الأولياء)*

*إمام أبو بكر بن عياش رحمه الله*

*ابو بكر بن عياش کے بارے میں آتا ہے کہ وہ رمضان میں تقریباً چالیس سال تک ہر تین دن میں قرآن مجید ختم کرتے تھے۔ ان کا زیادہ وقت نماز اور تلاوت میں گزرتا تھا۔*

*(سير أعلام النبلاء)*

*ترتیب و پیشکش: ابنائے جامعہ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل*
❤1
معیارِ عقل اور حقائقِ آخرت

مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں:

ہمارے زمانہ کے بعض لوگ، جب کسی حدیث میں کسی ایسے عمل پر، جس کو وہ معمولی اور آسان سمجھتے ہیں، کسی بڑے ثواب کا وعدہ دیکھتے ہیں تو انہیں اس کے بارے میں شکوک اور شبہات ہوتے ہیں۔ یہ شکوک، دراصل اللّٰه تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کی وسعتوں کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ "مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ". اصل بات یہ ہے کہ اعمال کے اُخروی نتائج، یعنی ثواب اور عذاب کی مقدار اور اس کی تفصیلات کے بارہ میں انسانی ذہن بالکل عاجز ہے۔ "بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ". (آخرت کے بارے میں سب کا علم عاجز ہے) بلکہ اللّٰه و رسول جو کچھ فرمائیں، ہمارا کام، بس اس پر ایمان لانا ہے۔ ہاں! ثبوت، مستند طریقہ سے ہونا چاہیے۔ ورنہ اگر ہم ان چیزوں میں بھی اپنی بیمار عقلوں اور اپنے مائوف ذہنوں کو معیار بنائیں گے تو دین کی بہت سی بنیادی اور مسلّم حقیقتیں، ہمارے نزدیک، مشکوک اور مشتبہ ہوجائیں گی۔ مثلاً: ایمان کے نتیجہ میں ہمیشہ اور ابدالآباد تک جنت میں عیش کرنا اور کفر و شرک کے نتیجہ میں ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں جلنا، وہ حقیقت ہے، جس کو قرآن مجید نے سیکڑوں جگہ بیان فرمایا ہے۔ لیکن کتنے احمق اور یورپ زدہ لوگ ہیں، جن کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ایمان اور کفر کے انجام میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے۔ بہرحال جس عمل کا جو ثواب، یا جو عذاب، صحیح اور مستند طریقہ سے معلوم ہوجائے، اس پر یقین کرکے اس ثواب کے حاصل کرنے یا اس عذاب سے بچنے کی فکر کرنا چاہیے، ایمانی طریقہ کار یہی ہے۔

(ماہنامہ الفرقان لکھنؤ، مئی ۱۹۵۲ء، صفحہ: ۳۰/۳۱/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤6
*اسلاف امت کا رمضان*

*قسط: 20*

*٢٠/ رمضان ١٤٤٧ ه‍*

*إمام سفيان الثوري رحمه الله*

*امام سفيان الثوري جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو وہ دنیاوی مشاغل بالکل کم کر دیتے اور زیادہ تر وقت مسجد میں عبادت، دعا اور قرآن کی تلاوت میں گزارتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ دن ہیں جن میں اللہ کی رحمتیں خاص طور پر نازل ہوتی ہیں اور لیلۃ القدر کی تلاش کرنی چاہیے۔*

*(لطائف المعارف)*

*إمام الأوزاعي رحمه الله*

*امام أوزاعي آخری عشرے میں عبادت کا خاص اہتمام کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ زیادہ وقت مسجد میں گزاریں۔ وہ فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری دن انسان کی سال بھر کی محنت کا حاصل ہوتے ہیں، اس لیے ان میں عبادت بڑھا دینی چاہیے۔*

*(سير أعلام النبلاء)*

*إمام مالك بن أنس رحمه الله*

*امام مالك بن أنس رمضان کے آخری عشرے میں عبادت میں مزید اضافہ کر دیتے تھے اور تلاوتِ قرآن میں خاص انہماک اختیار کرتے تھے۔ ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ اس وقت ان کا زیادہ وقت مسجد اور عبادت میں گزرتا تھا۔*

*(لطائف المعارف)*
عشرہ اواخر کی وجہ سے اس چینل کی سرگرمیاں محدود کی گئی ہیں، ان شاء اللہ عید کے بعد سرگرمیاں حسب سابق جاری رہیں گی، لہذا انتظار کریں، گروپ سے نہ نکلیں۔
❤3
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
جو حضرات ماہ مبارک میں واٹس اپ ٹیلگرام اور سوشل میڈیا چھوڑ کر عید کے بعد ہمارے چینل علم وکتاب میں شمولیت کے خواہشمند ہیں وہ ہماری لنک محفوظ کریں۔
عبد المتین منیری
https://telegram.me/muniri