علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
رمضان المبارک، نیکیوں کا موسمِ بہار

مولانا محمد عمیر الصدیق دریابادی ندوی مدظلہ لکھتے ہیں:

اسلام کے سارے نظام فکر و عمل میں تقویٰ اور خیر کی لازمی شمولیت کی گواہی کے لیے قرآن اور صاحب قرآن کا ہر حرف اور ہر جنبش کافی ہے۔ نماز، حج، انفاق فی سبیل اللّٰه جیسی بنیادی عبادتوں کا مقصد اور ماحصل، یہی تقویٰ اور خیر ہے۔ لیکن روزوں کے بیان کو جس طرح لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ اور لَعَلَّھُمۡ یَتَّقُوۡنَ کی ابتداء اور انتہاء میں محصور کیا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے اور غالباً اسی لیے روزوں کے مہینے یعنی نیکیوں کے موسمِ بہار، رمضان کے نصیب میں قرآن جیسی عظیم ترین نعمت رکھ دی گئی اور فخریہ جملہ خود قرآن کی زبان سے ادا کرایا گیا کہ "شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ" یہی نہیں، اسی موسمِ بہار کی ایک رات کو وہ اعزاز بخشا گیا، جو لیل و نہار کے خالق نے پوری کائنات کی تاریخ میں کسی اور وقت اور ساعت کی قسمت میں نہیں لکھا، کہ یہ قدر و برکت کی وہ رات ہے، جو ہزار مہینوں سے برتر ہے۔ ظاہر ہے یہ ہزار مہینے نیکیوں، اطاعتوں اور عبادتوں سے معمور ہونے کی شان رکھنے والے ہی ہوسکتے ہیں۔ اسی ایک رات میں قرآن کے جیسے عظیم تحفہ کا اعلان، رمضان کی شان اور پہچان کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے والا اعلان ہی کیا جائے گا۔ یہ موسمِ بہار، اب رخصت ہونے کو ہے، لیکن مغفرت، رحمت، جہنم سے چھٹکارہ، خیر، ہدایت، استجابت، شب قدر، لیلہ مبارکہ، اعتکاف، تراویح، قیام لیل، قرآن، ہدایت پر توفیق اعلان کبریائی، شکر، کیسے کیسے جلوے اس موسمِ بہار کے طفیل، اہلِ ایمان کی قسمت کا حصہ بنتے رہے، تقویٰ اور خیر کی طلب میں گزرے یہ دن، آئندہ موسمِ بہار کے لیے بے قرار کردینے والے ہوں، یہی تمنا اور یہی دعا، ہر دل اور ہر زبان کی ہونی چاہیے۔ ایامِ معدودات کو پانے کی خوشی کا اظہار، لفظ عید سے یہی پیغام دیتا ہے کہ ایک بار پھر یہ فصلِ بہار پھر سے گزرے اور ہم کہہ سکیں کہ گزر چکی ہے یہ فصلِ بہار ہم پر بھی۔

(پندرہ روزه، تعمیرِ حیات، ۲۰-۲۵ مارچ ٢٠٢٦ء صفحہ: ٦/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
دو گھنٹے کے لئے پیغامات کی ترسیل کے لئے چینل کھول دیا گیا ہے۔اگر کچھ مشورے ہوں تو ممبران آگاہ کرسکتے ہیں۔ عبد المتین منیری
Please open Telegram to view this post
VIEW IN TELEGRAM
*اسلاف امت کا رمضان*

*قسط: 22*

*٢٢/ رمضان ١٤٤٧ ه‍*

*إمام سفيان بن عيينة رحمه الله*

*امام سفيان بن عيينة فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری عشرے میں عبادت کو بڑھا دینا چاہیے، کیونکہ یہی وہ راتیں ہیں جن میں لیلۃ القدر کی تلاش کی جاتی ہے۔ وہ ان دنوں میں زیادہ وقت قرآن، دعا اور قیام اللیل میں گزارتے تھے۔*

*(لطائف المعارف)*

*إمام محمد بن منكدر رحمه الله*

*امام محمد بن منكدر رمضان کے آخری عشرے میں راتوں کو عبادت میں گزارنے کے لیے مشہور تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ چند راتیں مومن کے لیے بہت قیمتی ہیں، اس لیے انہیں غفلت میں نہیں گزارنا چاہیے۔*

*(حلية الأولياء)*

*إمام ثابت بناني رحمه الله*

*امام ثابت بناني رمضان میں نماز اور تلاوت میں بہت مشغول رہتے تھے، اور خاص طور پر آخری عشرے میں مسجد سے تعلق اور بھی بڑھا دیتے تھے تاکہ لیلۃ القدر کی برکت حاصل ہو۔*

*(سير أعلام النبلاء)*
مولانا سید محمد ثانی حسنی کا کلام
*غلطی ہائے مضامین*

*حفیظؔ کے شعر میں اُسی بُڑھیا کا ذکر ہے*

*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*

محفلِ اقبالؔ سجی ہوئی تھی۔ تقریب کے آغاز میں اُردو کے ایک گراں قدر و ’گزیٹڈ‘ استاد اُٹھے اور گرج گرج کر اقبالؔ کی نظم ’شکوہ‘ سنانے لگے۔ ابھی پہلا ہی مصرع پڑھا تھا کہ ہم نے سر پیٹ لیا۔ حالاں کہ موقع ’سرپیٹ دینے‘ کا تھا۔ مصرع انھوں نے اس طرح پڑھا:

کیوں زیاں کار بنوں ’’سُودے فراموش‘‘ رہوں

آج کل معنی جانے بغیر ہی پڑھنے اور بولنے کا رواج عام ہے۔ لسانی لطیفے اسی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں۔ بہت عام ہوتی جارہی ہے یہ وبا کہ جہاں دو الفاظ جُڑے دیکھے جھٹ اُن میں سے پہلے کو زیر کردیا۔ دو ہی پر کیا منحصر؟ تین الفاظ ساتھ ہوں تو تینوں میں سے شروع کے دو الفاظ سوچے سمجھے بغیر ہی زیر کردیے جاتے ہیں۔ ’سرے تسلمیے خم‘ پر ہم پہلے ہی مفصل کالم لکھ چکے ہیں۔ چند برس پہلے کی بات ہے، ایک واعظِ شعلہ بیاں خود تو منبر پر جلوہ افروز تھے، مگر مقتدیوں کو ’جہادے فی سبیل اللہ‘ پر بھیجا چاہتے تھے۔ خانقاہ سے باہر نکل کر خود انھیں رسمِ شبّیری ادا کرتے ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ دوسری مسجد کے ایک مقتدی نے بھی یہی غلطی کی۔ ہمیں مطلع فرمایا کہ مولوی صاحب مسلکی اور فرقہ وارانہ جذبات اُبھار اُبھار کرفرزندانِ امت کو ’فسادے فی سبیل اللہ‘ پر اُکسا رہے تھے۔ حضرت صاحب خود تو مسجد سے نکل کر حجرے میں مقید ہوجاتے ہیں۔ بازار میں پہنچیں تو پتا چلے کہ معاشرے میں کوئی سنّی سُپر اِسٹور ہے نہ کوئی شیعہ پرچون فروش۔ شہر میں بریلوی بازار ہے نہ دیوبندی مارکیٹ۔ کوئی وہابی کارخانہ ہے نہ اہلِ حدیث اسپتال۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب نولکّھا بازار کے برابر والی گلی میں ہم نے کبھی ’’بدعت توڑ آئرن ورکس‘‘ ضرور دیکھا تھا۔ پَرکارخانہ بند ہوگیا، بدعتیں بند نہ ہوئیں۔ کہیں لوہے کے لٹھ سے بدعتیں بند ہوا کرتی ہیں؟

البتہ ہم اپنی بقراطی بند کرکے پڑھنے، لکھنے اور بولنے والوں کو ایک آسان سی پہچان بتائے دیتے ہیں۔ دو الفاظ میں سے جب پہلے لفظ کے آخری حرف پر زیر لگایا جاتا ہے تو یہ زیر ’کا،کی،کے‘کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم ان دونوں الفاظ کے درمیان ’کا،کی یا کے‘ لگائیں گے تو الفاظ کی ترتیب اُلٹ جائے گی۔ مثلاً ’دردِدل‘ میں درد کے آخری ’د‘ کے نیچے جو زیر لگایا گیا ہے، وہ ’کا‘ کے معنی ادا کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔ اگرہم زیر ہٹاکر اُس کی جگہ ’کا‘ استعمال کرنا چاہیں گے تو الفاظ کی ترتیب اُلٹ کر ’دل کا درد‘ کہیں گے۔ اسی طرح ’نگاہِ شوق‘ کو ’شوق کی نگاہ‘ اور ’حالاتِ سفر‘ کو ’سفرکے حالات‘ کہا جائے گا۔ پس جب ہم ’جہاد فی سبیل اللہ‘ یا ’فساد فی سبیل اللہ‘ بولیں گے تو جہاد اور فساد کے دال کو زیر نہیں لگائیں گے۔ اسی طرح ’سُود فراموش‘ میں بھی سود کے دال تلے زیر نہیں لگے گا۔ ’سُود فراموش‘ ( نفع یا فائدہ بھلا دینے والا) ویسی ہی ایک صفت ہے، جیسی ’احسان فراموش‘۔ اپنے کسی ایسے (قریبی) رشتے دارکو جوآپ کا احسان بھلا بیٹھا ہو، آپ ’احسانے فراموش‘ نہیں کہتے پھرتے۔ تو پھر ’سُودے فراموش‘ کیوں کہیں؟ زیر لگانے کی عادت ہی پڑ گئی ہو تو اور بات ہے۔ مذکورہ اُستاد نے، ممکن ہے کہ ’زیاں کار‘ (نقصان کے کام کرنے والا) کے نون غُنّہ پر بھی عادتاً زیر لگانے کی کوشش کی ہو، مگر شاید کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔

ایک اسم کی دوسرے اسم سے نسبت، لگاؤ، ملکیت یا تعلق بیان کیا جائے تو قواعد کی زبان میں اسے ’اِضافت‘ کہتے ہیں۔ جیسے دریا کا پانی یا شراب کا پیالہ۔ فارسی میں ’آبِ دریا‘ اور ’جامِ شراب‘۔ اِضافت کا مطلب نسبت، تعلق، جوڑ، ملکیت اور میل ہے۔ اصطلاحاً دو الفاظ کے درمیان نسبت یا تعلق ظاہر کرنے کی علامت ہی ’اِضافت‘ ہے۔ اردو میں ’کا، کی، کے‘ وغیرہ استعمال ہوتا ہے اور فارسی میں زیر، ہمزہ یا ’ئے‘۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اگر دونوں الفاظ میں سے پہلا لفظ ہائے مختفی پر ختم ہو یعنی اُس ’ہ‘ پر جس کی آواز پوری نہیں نکلتی تو زیر یا کسرہ لگانے کے بجائے ہمزہ لگایا جاتا ہے۔ مثلاً سایۂ دیوار، ناقۂ لیلیٰ اور خانۂ خدا وغیرہ۔ ہائے ہَوّز کی آواز پوری نکلے تو زیر ہی لگایا جائے گا، جیسے راہِ حق، نگہِ شوق یاآہِ سرد۔ پہلا لفظ’ی‘ پر ختم ہو تو ہمزہ نہیں کسرہ آئے گا۔ لہٰذا ماہیِ بے آب کو ماہی ٔ بے آب اور آزادیِ وطن کو آزادی ٔ وطن لکھنا غلط ہے۔ اگرپہلا لفظ الف پر ختم ہو تو’ئے‘ لگایا جائے گا، مثلاً فضائے بدر، نوائے وقت اوردانائے راز وغیرہ۔ بعض لوگ ہمزہ کے بغیر ’ے‘ لگانے کے قائل ہیں، جن میں ’باباے اُردو‘ مولوی عبدالحق بھی شامل ہیں۔ نسبت یا تعلق دو افراد یا دوچیزوں میں بھی ہوسکتا ہے اورتین چیزوں میں بھی۔ تین سے زائد کو اضافت سے جوڑنا معیوب گردانا جاتا ہے۔ مثلاً ’سرِ وادیِ طورِ سینا‘ میں چار الفاظ جوڑ دیے گئے ہیں۔ یہ عیب ہے۔ اضافت سے جوڑ کر بنائے جانے والے مرکب الفاظ ’مرکبِ اضافی‘ کہے جاتے ہیں۔
👍1
زیر یا ہمزہ کی مدد سے جن دو الفاظ میں نسبت قائم کی جاتی ہے، ضروری سمجھا جاتا ہے کہ دونوں الفاظ فارسی کے ہوں۔ ہندی اور فارسی کا مرکب جائز نہیں سمجھا جاتا۔ مثلاً گُلِ لالہ کی جگہ ’پھولِ لالہ‘ استعمال کرنا معیوب ہوگا۔ اسی طرح عربی اور فارسی کا مرکب بنانا بھی عموماً درست نہیں گردانا جاتا۔ جیسے ’راہِ مستقیم‘ یا ’صراطِ راست‘۔ ان کی جگہ صراطِ مستقیم اور راہِ راست بولنا ہی درست ہوگا۔ تاہم اردو میں بہت سی مستثنیات ہیں، جو رائج ہوچکی ہیں اور انھیں قبول کرلیا گیا ہے۔ مثلاً ہندی اور فارسی کا امتزاج ’لبِ سڑک‘ اور’موسمِ برسات‘ وغیرہ۔ اسی طرح عربی اور فارسی کے مرکبات بھی رائج ہیں، مثلاً ’شبِ قدر‘ اور’روزِ قیامت‘ وغیرہ جن کی عربی ترکیب لیلۃ القدر اور یوم القیامہ ہے۔

فقط ایک سُودے فراموش ہی نہیں اور بھی کئی مرکب الفاظ غلط طور پر اضافت لگاکر غلط بولے جارہے ہیں۔ مثلاً ’سرے ورق‘ (درست: سَرْ- ورق)، پسے نوشت (درست: پَس- نوشت)، پسے منظر(درست:پَس- منظر)، پیشے امام (درست: پیش- امام)، پیشے منظر (درست:پیش- منظر) اور گرامیے قدر (درست:گرامی-قدر) وغیرہ۔

اوپر جو مثالیں دی گئی ہیں ان کا شمار بھی اِضافت میں ہوتا ہے، مگر انھیں ’اِضافتِ مقلوب‘ کہتے ہیں (دیکھیے یہاں اضافت کے ’ت‘ پر بھی زیر یعنی اضافت ہے) ’مقلوب‘کا مطلب ہے: بالعکس، برعکس، بدلا ہوا، اُلٹا کیا ہوا یا اوندھا کیا ہوا۔ در اصل ان مثالوں میں الفاظ کی ترتیب اُلٹ دی گئی ہے۔ پس منظر اصل میں ’منظرِ پس‘ تھا یعنی پیچھے کا منظر جسے انگریزی میں Backgroundکہتے ہیں۔ اسی طرح پس نوشت بھی ’نوشتۂ پس‘ تھا یعنی سب کچھ لکھنے کے پیچھے لکھی جانے والی بات۔ شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں نے ایک لفظ ’پیرزن‘ پڑھا ہوگا (پِیر-زن) یہ لفظ بھی ’زنِ پیر‘ یعنی بوڑھی عورت تھا۔ حفیظ ؔ جالندھری کی ایک نظم کا ایک شعر ہے:

اگر کوہ کن کو جوئے شیر دینا
تو پھر پیر زن کو بھی تدبیر دینا

قصۂ شیریں فرہاد میں مذکور ہے کہ جب فرہاد پہاڑ کاٹ کر نہر کھودنے لگا تو اس کو کامیاب ہوتے دیکھ کر بادشاہ کو تشویش ہوئی۔ آخر ایک بڑھیا نے ترکیب بتائی کہ فرہاد کو جاکر اطلاع دی جائے کہ جس کے لیے تم اتنا کشٹ اٹھا رہے ہو وہ تو چل بسی۔ یہ سنتے ہی فرہاد نے بسولے سے اپنا سر پھوڑ کر خود بھی جان دے دی۔ حفیظؔ کے مندرجہ بالا شعر کے دوسرے مصرعے میں اُسی بڑھیا کا ذکر ہے۔ مگر فرہاد کی اس خودکُشی پر چچا غالبؔ نے بڑی لعن طعن کی۔ چچا کے خیال میں فرہاد کو تو خبر سن کر فوت ہوجانا چاہیے تھا۔ پَر وہ تو رسم و رواج، پابندیوں اور اسبابِ بیرونی کے نشے کا نشئی نکلا۔ مرنے کے لیے بسولا مار کر سر پھوڑنے کی رسم ادا کرنی پڑی۔ عشق سچا ہوتا تو سنتے ہی مرجاتا۔ چچا نے کہا:

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کَن اسدؔ
سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

دوسرے مصرعے کے ’سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود‘ میں دو اضافتیں استعمال ہوئی ہیں۔ مراد ہے: رسوم و قیود کے نشے میں ٹُن۔

پروفیسر ڈاکٹر غازی علم الدین مرحوم کا ایک بیش قیمت مضمون ’’اضافتِ مقلوب اور ہماری نافہمی‘‘ اس موضوع پر نہایت جامع تحریر ہے۔ جن لوگوں کو مزید مطالعے سے دلچسپی ہو، وہ اس مضمون کو ضرور پڑھیں۔
Https://telegram.me/ilmokitab
❤2
*اسلاف امت کا رمضان*

*قسط: 23*

*٢٣/ رمضان ١٤٤٧ ه‍*

*إمام محمد بن إدريس شافعي رحمه الله*

*امام محمد بن إدريس شافعي رمضان کے آخری عشرے میں عبادت اور قرآن کی تلاوت میں بہت زیادہ مشغول ہو جاتے تھے۔ روایت ہے کہ وہ رمضان میں کثرت سے قرآن ختم کرتے اور آخری عشرے میں عبادت میں اور زیادہ اضافہ کر دیتے تھے تاکہ لیلۃ القدر کی برکت حاصل ہو۔*

*(حلية الأولياء، سير أعلام النبلاء)*

*إمام أحمد بن حنبل رحمه الله*

*امام أحمد بن حنبل رمضان کے آخری عشرے میں زیادہ تر وقت مسجد میں گزارتے تھے اور قیام اللیل، دعا اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ ان دنوں میں دنیاوی مصروفیات کم کر دیتے تھے۔*

*(سير أعلام النبلاء)*

*إمام إسحاق بن راهويه رحمه الله*

*إسحاق بن راهويه رمضان کے آخری عشرے میں عبادت کو اور بڑھا دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہی وہ راتیں ہیں جن میں بندے کو لیلۃ القدر کی تلاش کرنی چاہیے۔*

*(سير أعلام النبلاء)*
❤2
عبادت کا حقیقی مفہوم

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ. (ذاریات: ٥٦) اس آیت پاک میں عبادت کا وه تنگ مفہوم نہیں ہے، جو عام طور سے سمجھا جاتا ہے، بلکہ وہ تمام نیک اعمال اور اچھے کاموں تک وسیع ہے، جن کے کرنے کا مقصد، خدا کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار، اس کی اطاعت اور اس کی خوش نودی کی طلب ہو۔ اس وسعت کے اندر، انسان کی پوری زندگی کے کام داخل ہیں، جن کے بحسن و خوبی انجام دینے کے لیے اس کی خلقت ہوئی ہے۔ یہ روحانیت کا وه راز ہے، جو صرف محمد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعہ سے دنیا کو معلوم ہوا۔

علامہ سید سلیمان ندویؒ

(سیرت النبی صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم، جلد، پنجم، صفحہ: ٣٦/٣٧)
❤1👌1
*اسلاف امت کا رمضان*

*قسط:24*

*٢٤/ رمضان ١٤٤٧ ه‍*

*إمام حسن بصري رحمه الله*
*امام حسن بصري رمضان کے آخری عشرے میں عبادت میں بہت زیادہ مشغول ہو جاتے تھے۔ روایت ہے کہ وہ راتوں کو قیام اور دعا میں گزارتے اور لوگوں کو بھی ترغیب دیتے کہ ان راتوں کو غفلت میں نہ گزاریں کیونکہ انہی میں لیلۃ القدر ہے۔*

*(حلية الأولياء)*

*إمام أيوب سختياني رحمه الله*

*امام أيوب سختياني رمضان کے آخری عشرے میں مسجد سے خاص تعلق رکھتے تھے اور زیادہ وقت قرآن کی تلاوت اور نماز میں گزارتے تھے۔ وہ ان راتوں کو بہت قیمتی سمجھتے تھے۔*

*(سير أعلام النبلاء)*

*إمام مسروق بن أجدع رحمه الله*

*امام مسروق بن أجدع رمضان میں کثرت سے نماز پڑھتے تھے اور خاص طور پر آخری عشرے میں پوری رات عبادت میں گزارتے تھے تاکہ لیلۃ القدر کی برکت حاصل ہو۔*

*(حلية الأولياء)*

Https://telegram.me/ilmokitab
تزکیۂ نفس کیا ہے؟

علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا:

تزکیۂ نفس کا نام، تصوف ہے۔ روح کو کینہ، ہوا و حرص، غصّہ سے، آپس کی رنجش اور طمع وغیره امراض سے پاک کرنے کا نام، طریقت ہے۔ جس طرح جسمانی بیماریاں ہوتی ہیں، اسی طرح روح کو بھی قسم قسم کے امراض لاحق ہوتے ہیں۔ جسم کے طبیب، ڈاکٹر حکیم ہیں اور روح کے معالج، انبیاء اور اولیاء ہیں۔ فرق صرف مادہ اور روح کا ہے۔ درخت میں تازگی اور بالیدگی کی قوت ہوتی ہے۔ جس کے بغیر وہ بیکار ہے، نہ بڑھ سکتا ہے، نہ پتہ اور شاخیں قائم رہ سکتی ہیں۔ اسی قوت کا نام، روح ہے۔ نماز ہم بھی پڑھتے ہیں، مگر ہماری نماز اور عارف کی نماز میں بہت فرق ہے۔ گو دیکھنے میں وہ ہماری طرح رکوع اور سجود کرتا ہے، مگر باطن میں نماز اس کی کچھ اور ہی چیز ہے۔ آیت اور تلاوت تو وہ ہماری ہی طرح کرتا ہے، مگر وہ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ کا پورا عامل ہوتا ہے۔ وہ شریعت سے ایک اندرونی جدا طریقہ ہے۔ شریعت بیرونی محافظ ہے۔ اور آپ نے سنا ہوگا:

"محتسب را درون خانہ چہ کار"

(خطباتِ شبلیؒ، نو دریافت، صفحہ: ١٠٩/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
یوم پیدائش 15 مارچ پر خاص

کاشی رام اور اردو

معصوم مرادآبادی

بہوجن سماج پارٹی کے بانی کاشی رام اس اعتبار سے ایک مظلوم شخصیت کہے جاسکتے ہیں کہ ان پر سب سے کم لکھا گیا ہے۔حالانکہ ان کی سیاسی جدوجہد اس لائق تھی کہ انھیں ہندوستانی سیاست کا رخ موڑنے والا ایک قائد قرار دیا جاتا اور ان کی سیاسی جدوجہد کو تحقیق کا موضوع بنایا جاتا،مگر بدقسمتی یہ رہی کہ ان کی سیاسی وراثت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آئی جو کسی نظریہ یا سوچ کے مقابلے عیش وعشرت کے طلب گار تھے اور دولت اکھٹا کرنا ہی ان کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کاشی رام کی سیاسی کمائی رائیگاں چلی گئی اور کوئی اسے سنبھال نہیں سکا۔ اگر ان کی وراثت با شعور اور بالغ نظر لوگ سنبھالتے تو آج کاشی رام ہندوستانی سیاست کا محور ہوتے ۔
میں نے جب نوّے کی دہائی میں صحافت کے میدان میں قدم رکھا تو یہ زمانہ کاشی رام کی سیاست کے عروج کا زمانہ تھا اور سیاسی مبصرین یہ پیشین گوئیاں کر رہے تھے کہ ہندوستان کے سیاسی مطلع پر ایک نیا سیاسی طوفان کروٹیں لے رہا ہے۔رام مندرکی خونی تحریک اپنے شباب پر تھی۔ ایسے میں ملائم سنگھ یادو نے کاشی رام سے اتحاد کرکے ایک نیا سیاسی تجربہ کیا۔ انھوں نے دلت، یادو اور مسلم ووٹ کے اتحاد سے فسطائی ایجنڈے پر زبردست چوٹ کی۔میں اس زمانے میں جب الیکشن کی رپورٹنگ کرنے اترپردیش کے مختلف شہروں میں گیا تو اس وقت کا سب سے مقبول نعرہ تھا ”ملے ملائم۔کاشی رام۔ ہوا ہوئے جے شری رام۔“اس نعرے نے اتنا کام کیا کہ بی جے پی بری طرح چناؤ ہارگئی اور ملائم سنگھ کے سر پہ وزیراعلیٰ کا تاج رکھا گیا۔اسی زمانے میں یہاں دہلی کے ایوان غالب میں ملائم سنگھ اور کاشی رام کوان کی غیر معمولی کامیابی کے بعد ایک استقبالیہ دیا گیا، جس کے کرتا دھرتا اردو کے ایک صحافی تھے اور ان کی نگاہ آنے والے راجیہ سبھا چناؤ پر تھی۔ اس استقبالیہ کے سبب وہ اپنی راجیہ سبھا سیٹ پکی کرنا چاہتے تھے۔ جب ان کی مرادپوری نہیں ہوئی تو انھوں نے اپنے ویکلی اخبار کے پہلے صفحے پر ایک مضمون لکھ مارا جس کا عنوان تھا ”اب مسلمان کیا کریں؟“ اخبار مارکیٹ میں آنے کے بعد ایک سینئر صحافی نے مجھے فون کرکے کہا کہ اس مضمون کی سرخی یوں ہونی چاہئے تھی ”اب میں کیا کروں؟“
مجھے کاشی رام کے عرو ج کے زمانے میں کئی بار ان سے انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ پہلا انٹرویو قرول باغ کے رگھوبیر پورہ میں واقع ان کے چھوٹے سے فلیٹ میں ریکارڈ کیا۔ وہ تازہ تازہ کسی پدیاترا سے واپس آئے تھے۔ انٹرویو کے دوران وہ ایک لکڑی کی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ پاؤں میں تکلیف ہوئی تو انھوں نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھ لیا۔ میں نے دیکھا کہ ان کے پیر کا تلوہ بری طرح زخمی تھا۔ ایڑیاں پھٹی ہوئی تھیں۔ پاؤں کی کھال جگہ جگہ سے ادھڑی ہوئی تھی اور اس میں خراشیں صاف نظر آرہی تھیں۔ یہ ان پدیاتراؤں کا نتیجہ تھا جو وہ دلتوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کررہے تھے۔میں نے اس سے پہلے کسی سیاستداں کو اپنے مشن کے لیے زخمی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔وہ چمڑے کی معمولی چپل پہنے ہوئے تھے۔کاشی رام اپنی پیدل یاتراؤں کے لیے مشہور تھے۔ان یاتراؤں کا دائرہ ملک کے کسی ایک خطے تک محدود نہیں تھا۔ 1994 میں جب میں کیرل کے سفر پر گیا تو میں نے کالی کٹ میں ان کے پوسٹر اور بینر لگے ہوئے دیکھے، جو وہاں کی مقامی زبان میں لکھے ہوئے تھے۔ کاشی رام کی پدیاترا کیرل پہنچنے والی تھی اور یہ ان کے استقبال کی تیاری تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جنوبی ہند کی دور دراز ریاست میں بھی کاشی رام کے چاہنے والے موجود تھے۔
کاشی رام سے میرے تعلق کی ایک بنیاد اردوزبان بھی تھی۔ کاشی رام اچھی اردو جانتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ نوٹنگ بھی اردو میں کیا کرتے تھے۔
کاشی رام کی پیدائش15مارچ 1934 کو غیر منقسم پنجاب کے روپ نگر ضلع کے خواص پور میں ہوئی تھی۔ان کی ابتدائی تعلیم پنجاب کے جس مکتب میں ہوئی تھی، وہاں کا ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ یہ غیرمنقسم پنجاب کا وہ دور تھا جب وہاں اردو ہی رابطے کی زبان تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آنجہانی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی ابتدائی تعلیم ایک اردو مکتب میں حاصل کی تھی اور ان کے کام کاج کی زبان بھی اردو تھی۔ کاشی رام کی اردو دانی کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں نے ان کے انٹرویو کی اشاعت والا اخبارہفتہ وار”نئی دنیا“ ان کو دیا۔ انھوں نے ایک ہی نشست میں پورا انٹرویو پڑھ لیا۔ صرف ایک بات کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ میں نے یہ بات یوں نہیں بلکہ یوں کہی تھی۔
کاشی رام کا انتقال 9/اکتوبر2006کو ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ انھیں آخری زمانے میں یرغمال بنالیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے رشتے داروں سے بھی نہیں ملنے دیا جاتا تھا۔ کاشی رام کی زندگی ان تمام لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے جو دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقوں میں بیداری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو بھی اسی راہ پر ڈالنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سرکاری ملازمت کے دوران انھوں نے 1971
❤1
میں بام سیف بنائی تو اس میں مسلمانوں کو بھی شامل کیا تھا۔سنگھرش کے دنوں میں کئی مسلم لیڈر ان کے رابطے میں بھی آئے اور ان کے ساتھ اسٹیج بھی شیئر کئے، لیکن یہ سفر زیادہ کامیاب نہیں رہا۔ میرے نزدیک اس کا بڑا سبب مسلم لیڈران کی عجلت پسندی تھی۔وہ اگر کاشی رام کا ساتھ دیتے اور ان کے ساتھ ایک باعزت معاہدہ کرتے تو آج فرقہ پرست طاقتوں کو یہ عرو ج حاصل نہیں ہوتا۔ مسلمانوں نے ایسے سیاسی عناصر کا ساتھ دیا جو اندرون خانہ فرقہ پرستوں سے ملے ہوئے تھے اور جذباتی نعروں کے ذریعہ مسلمانوں کا سیا سی استحصال کررہے تھے۔ یہ صورتحال آج بھی برقرار ہے اور مسلمان بدترین سیاسی استحصال کا شکار ہیں۔
کاشی رام نے شروع میں ریپلکن پارٹی آف انڈیا (آرپی آئی)کی حمایت کی تھی، لیکن انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ اس کی وابستگی کی وجہ سے وہ اس سے بددل ہوگئے تھے۔ اسی وجہ سے انھوں نے1971میں ایس سی، ایس ٹی، اوبی سی اور مائنارٹی کرمچاری سنگھ قائم کیا جو 1978میں بام سیف بنا۔ یہ ایک ایسی تنظیم تھی جس کا مقصد ایس سی، ایس ٹی، اقلیتوں اور دیگر طبقوں کے تعلیم یافتہ لوگوں کو امبیڈکر وادی اصولوں کی حمایت پر رضا مند کرنا تھا۔اس کے بعد1981 میں کاشی رام نے دلتوں اور استحصال زدہ سماج کی جدوجہد کے لیے ایک اور تنظیم ڈی ایس فور بنائی۔ یہیں سے انھوں نے دلت ووٹ کو یکجا کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا جس کا نتیجہ1984میں بہوجن سماج پارٹی کے قیام کی صورت میں سامنے آیا۔اس سے قبل انھوں نے1982میں اپنی کتاب ”چمچہ یگ“ لکھی جس میں جگجیون رام، رام ولاس پاسوان اور رام داس اٹھاولے جیسے دلت لیڈروں کے لیے’چمچہ‘ لفظ کا استعمال کیا تھا۔ ان کی دلیل تھی کہ دلتوں کو اپنے نظریہ سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے خود اپنے سماج کی ترقی کے لیے سیاسی طورپر کام کرنا چاہئے۔ مگرخود کاشی رام کے سیاسی وارثوں نے بھی اس پر عمل نہیں کیا اور آج ان کی پارٹی ان ہی عناصر کو تقویت پہنچارہی ہے جنھوں نے بہوجن سماج کا سب سے زیادہ سیاسی اور سماجی استحصال کیا ہے۔
Https://telegram.me/ilmokitab
" ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس کی تحقیق یہ ہے کہ ایک تو صلاة الليل ہے اور ایک تہجد ہے، صلاة الليل عشاء کے بعد کی تمام نوافل کو عام ہے، اور تہجد نوافل بعد النوم( سونے کے بعد) کے ساتھ خاص ہے، غرض صلاة الليل قبل از نوم ( سونے سے پہلے) ہے، اور تہجد بعد النوم ہے، ان کی ایک مشترک فضیلت ہے، اور ایک خاص فضیلت تہجد کی ہے، مگر صلاة الليل قائم مقام تہجد کے ہوجاتی ہے " ۔
( ملفوظات حکیم الامت، جلد نمبر: 7، صفحہ نمبر: 27) .
Https://telegram.me/ilmokitab
*مانگے کا اجالا*:*سوچنے کا ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے*
ابھی کل ہی ہمارے ایک مہربان دوست نے بےحد جذباتی ہو کر رندھے گلے سے فرمایا:
"ان نام نہاد مسلم ممالک کو چاہیے کہ اپنی سرزمین، اپنے اڈوں اور فضائی حدود استعمال کرنے کی امریکہ (یا از-رائیل) کو اجازت نہ دیں۔ یہ بزدل مسلم ممالک اپنے اپنے ملک کی مضبوط فوج تیار کریں، اور ایران کی طرح اپنے دفاعی نظام کو اپ گریڈ کریں"۔

ہمارا موقف جو ہے ۔۔۔ بس فی الوقت ٹھنڈے دل سے پڑھیے اور بعد افطار جب ذہن و دل پرسکون ہو جائیں تو غور و فکر کیجیے۔

ممالک کی معاشی، سیاسی، خارجی و داخلی پالیسیوں پر تبصرہ کرنا، عام آدمی کے بس کی بات ہی نہیں، ان ماہرین کے بھی بس کی بات نہیں جو بین الاقوامی سیاست، خارجہ پالیسیوں کے اصول و ضوابط اور ممالک کے اثاثوں کے اعداد و شمار کا مطالعہ کیے بغیر محض جذباتی بیانات کے سہارے مشورے داغتے اور معصوم عوام کے اذہان کو بھٹکاتے ہیں۔
اس ضمن میں ایک موٹی سی مثال خود اپنے ہی گھر کی لینی چاہیے۔ گھر کے دونوں سربراہ یعنی میاں/بیوی ہی بہتر جانتے ہیں کہ ان کے گھر کے لیے کیا ضروری ہے کیا نہیں۔ کوئی کوئی اپنے گھر کی حفاظت کے لیے مسلح واچ مین رکھتا ہے، کوئی کیمرے لگاتا ہے اور کوئی صرف دروازہ ہمیشہ مقفل رکھنا کافی سمجھتا ہے۔۔۔ اب کوئی مجھ جیسا مفت کا مشورہ دینے والا اٹھے اور گھر والا/والی کو مشورہ دے کہ۔۔۔ آپ کے گھر میں یہ اتنے قیمتی صوفے کیوں ہیں؟ یہ مہنگی کراکری کیوں ہے؟ یہ آرام دہ مسہریاں کیوں ہیں؟ کولر/اے۔سی کیوں ہے؟ ان سب کے بجائے پہلے اپنے گھر کی حفاظت کیجیے، گھر پر مسلح واچ مین کو تنخواہ پر رکھیے ۔۔۔ تو ایسا مشورہ کتنا حق بجانب کہلائے گا؟
خیر، اب ایک دوسرے طریقے سے جائزہ لیجیے۔

خلیجی خطہ چھ ممالک پر مشتمل ہے یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین۔
سال 2025 کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، ان چھ ممالک میں کام کرنے اور پیسہ کما کر اپنے خاندان کو داخلی و معاشی استحکام دینے اور اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے، سالانہ یہ تعداد جاتی/کماتی ہے:
(نوٹ: اعداد و شمار "عین مطابق" نہیں بلکہ "تقریباً" سمجھے جائیں۔ کرنسی امریکی ڈالر ہے)۔
ملک / افرادی قوت / زر مبادلہ صرف خلیجی ممالک سے / زر مبادلہ تمام ممالک سے
انڈیا / 85 لاکھ / 50 بلین / 135 بلین
پاکستان / 40 لاکھ / 20 بلین / 38 بلین
بنگلہ دیش / 55 لاکھ / 12 بلین / 26 بلین
یعنی ۔۔۔
ہندوستانی افرادی قوت غیرممالک سے اپنے ملک کو جو مجموعی زرمبادلہ (135 بلین ڈالر) بھیجتی ہے، اس کا 37 فیصد حصہ خلیجی ممالک سے جاتا ہے۔
پاکستانی افرادی قوت غیرممالک سے اپنے ملک کو جو مجموعی زرمبادلہ (38 بلین ڈالر) بھیجتی ہے، اس کا 52.6 فیصد حصہ خلیجی ممالک سے جاتا ہے۔
بنگلہ دیشی افرادی قوت غیرممالک سے اپنے ملک کو جو مجموعی زرمبادلہ (26 بلین ڈالر) بھیجتی ہے، اس کا 46 فیصد حصہ خلیجی ممالک سے جاتا ہے۔

اب ان کا موازنہ خلیج فارس کے دونوں ممالک ایران و عراق سے کیجیے۔ ایک بات یاد رہے، ایران/عراق کو جانے والی (سالانہ) افرادی قوت میں سب شامل ہیں، یعنی، طلبہ، تاجر اور کام کرنے والے ملازمین۔
ملک / افرادی قوت (برائے ایران+عراق) / زر مبادلہ صرف ایران و عراق سے / زر مبادلہ تمام ممالک سے
انڈیا / 25 ہزار (عراق کو: 18 ہزار) / 5000 / 135 بلین
پاکستان / 15 ہزار (صرف عراق کو، ایران کو صفر) / 5000 / 38 بلین
بنگلہ دیش / 10 ہزار (صرف عراق کو، ایران کو صفر) / 1000 / 26 بلین

یعنی۔۔۔
انڈیا کو ایران/عراق سے جو زرمبادلہ ہندوستانیوں کی طرف سے بھیجا جاتا ہے، وہ مجموعی زرمبادلہ کا محض ایک فیصد ہے۔
پاکستان کو ایران/عراق سے جو زرمبادلہ پاکستانیوں کی طرف سے بھیجا جاتا ہے، وہ مجموعی زرمبادلہ کا محض دو فیصد ہے۔
بنگلہ دیش کو ایران/عراق سے جو زرمبادلہ بنگلہ دیشیوں کی طرف سے بھیجا جاتا ہے، وہ مجموعی زرمبادلہ کا محض ایک فیصد ہے۔

اب یہ فیصلہ تو ہمیں خود کرنا چاہیے کہ ۔۔۔ تینوں برصغیری ممالک کے باشندگان کی خدمت کرنے اور ان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے خلیجی ممالک کا حصہ زیادہ ہے یا ایران/عراق کا؟
پھر بھی ہم مسلمان ایسی بےغیرت اور بےحس جذباتی قوم ہے کہ غیروں کے پروپگنڈہ کی زد میں آ کر نہ صرف اپنی عقل کو مقفل کرتی ہے بلکہ اپنے محسنین پر تبرا بھیجنے سے تک باز نہیں آتی۔
اگر مسلمان دنیا بھر میں رسوا ہو رہے ہیں تو بےشک اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔۔۔ اور انہی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہی ذہنی غلاظت، جذباتیت اور تبرا بازی بھی ہے۔

---
پس نوشت:
---
راقم کی بالا باتیں پڑھ کر ایک واقفکار نے تبصرہ کیا کہ:
"ہم محنت کر رہے ہیں تو اس کا مناسب معاوضہ لے رہے ہیں ۔۔۔ خلیجی ممالک کوئی بھیک نہیں دے رہے ہم کو"۔
اب ایسی معصومیت پر قربان نہ ہوا جائے تو اور کیا ہو؟
کیوں بھائی کیوں؟ آپ محنت کرنے خلیجی ممالک ہی کیوں جا رہے ہیں؟ کیوں ایران نہیں جاتے؟ کیوں اسرائیل نہیں جاتے؟ کیوں افریقی پسماندہ ممالک کو نہیں جاتے؟ یا پھر اپنے ملک میں ہی کیوں محنت نہیں کرتے؟
وجہ صاف ظاہر ہے۔
آپ کو امن چاہیے، انصاف چاہیے، "مناسب معاوضہ" چاہیے، خوشحالی چاہیے، سکون چاہیے، مناسب اوقات کی نوکری چاہیے۔۔۔
اور یہ سب چیزیں خلیجی ممالک میں ہی ملتی ہیں ۔۔۔ اور پھر جب یہ سب مل جائے تو آپ محسنین کو مشورہ دیتے ہیں کہ ۔۔۔ یہ یہ کرو یارو، اپنے ملک کو فوجی لحاظ سے مضبوط کرو۔
کمال ہے ۔۔۔ واقعی کمال کی سوچ

- مکرم نیاز، حیدرآباد دکن۔ بروز اتوار، 14/مارچ 2026ء
- https://telegram.me/ilmokitab
👍2
*اسلاف امت کا رمضان*

*قسط:25*

*٢٥/ رمضان ١٤٤٧ ه‍*


*حضرت عبد الله بن عمر رضي الله عنهما*

*حضرت عبدالله بن عمر رضي الله عنهما رمضان کے آخری دنوں میں صدقۂ فطر ادا کرنے کا خاص اہتمام کرتے تھے اور اسے عید سے ایک یا دو دن پہلے ادا کر دیا کرتے تھے تاکہ مستحقین کو عید کے دن سہولت ہو۔*

*صحیح البخاری (باب صدقة الفطر قبل العيد)*


*حضرت عبد الله بن عباس رضي الله عنهما*

*حضرت عبدالله بن عباس رضي الله عنهما رمضان کے آخری ایام میں لوگوں کو صدقۂ فطر کی اہمیت یاد دلاتے اور فرماتے کہ یہ روزوں کی کمی کو پورا کرنے اور مسکینوں کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے۔*

*(سنن أبي داود،ابن ماجه)*

*حضرت عمر بن عبد العزيز رحمه الله*

*حضرت عمر بن عبدالعزيز رحمه الله رمضان کے آخری دنوں میں صدقہ و خیرات میں اضافہ کر دیتے تھے اور لوگوں کو بھی تاکید کرتے تھے کہ عید سے پہلے محتاجوں کی مدد کریں تاکہ سب مسلمان خوشی میں شریک ہو سکیں۔*

*(الطبقات الكبرى، سير أعلام النبلاء)*

Https://telegram.me/ilmokitab
❤1👍1