کہتے ہیں کہ اٹک کا یہ نام اکبر بادشاہ نے رکھا تھا، نام رکھنے کا اسے بڑا شوق تھا، کسی جگہ کا خوبصورت منظر دیکھ کر اس کے منہ سے بےساختہ واہ نکلی اس مقام کا نام واہ رکھ دیا گیا، پھر چلتے چلتے اس کا قافلہ دریائے سندھ کے کنارے پہنچ کر اٹک گیا ، وہ جگہ اٹک کہلائی، پھر قافلہ خیر سے پار اتر گیا، وہ مقام خیرآباد کہلایا۔(جرنیلی سڑک ۴۰)
انتخاب :محمد رضی قاسمی
انتخاب :محمد رضی قاسمی
مولانا حبیب الرحمٰن خان شروانی علیہ الرحمہ کے معمولاتِ رمضان
سید معین الدین شاہجہانپوری مرحوم، اپنے مضمون، "اعتراف" میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
رمضان المبارک میں شروانی صاحب، اپنی کوٹھی کے احاطہ میں ہمیشہ بہترین حافظوں سے دو قرآن، جماعت کے ساتھ سنتے اور حافظوں کو نہایت معقول نذرانے اور خلعت دیتے۔ جماعت میں ان سے بائیں ہاتھ کو میری جگہ مقرر تھی، وہ عموماً عطر میں ایسے بسے ہوتے تھے کہ تیز خس کے عطر کی خوشبو سے جماعت مہک جاتی اور کبھی مجھ کو چھینکیں آنے لگتیں، یہی حالت افطار کے موقعوں پر ہوتی اور افطار کے جلسہ میں سب سے زیادہ بشاش وہی ہوتے، رمضان کا فریضہ وہ نہایت اہتمام اور خوشی سے ادا کرتے، وہ نہ تمباکو کھاتے ہیں، نہ حقہ پیتے ہیں۔
(معارف، دسمبر ۱۹۵۰ء صفحہ: ۴۴۷)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
سید معین الدین شاہجہانپوری مرحوم، اپنے مضمون، "اعتراف" میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
رمضان المبارک میں شروانی صاحب، اپنی کوٹھی کے احاطہ میں ہمیشہ بہترین حافظوں سے دو قرآن، جماعت کے ساتھ سنتے اور حافظوں کو نہایت معقول نذرانے اور خلعت دیتے۔ جماعت میں ان سے بائیں ہاتھ کو میری جگہ مقرر تھی، وہ عموماً عطر میں ایسے بسے ہوتے تھے کہ تیز خس کے عطر کی خوشبو سے جماعت مہک جاتی اور کبھی مجھ کو چھینکیں آنے لگتیں، یہی حالت افطار کے موقعوں پر ہوتی اور افطار کے جلسہ میں سب سے زیادہ بشاش وہی ہوتے، رمضان کا فریضہ وہ نہایت اہتمام اور خوشی سے ادا کرتے، وہ نہ تمباکو کھاتے ہیں، نہ حقہ پیتے ہیں۔
(معارف، دسمبر ۱۹۵۰ء صفحہ: ۴۴۷)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*اسلاف امت کے اقوال*
*قسط: 27*
*٢٧/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*حضرت علي بن أبي طالب رضي الله عنه*
*حضرت علي بن أبي طالب رمضان کے آخری دنوں میں لوگوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اپنے روزوں کو استغفار اور صدقہ کے ذریعے مکمل کرو، کیونکہ بندہ نہیں جانتا کہ اس کے اعمال قبول ہوئے یا نہیں۔*
*(لطائف المعارف)*
*امام حسن بصري رحمه الله*
*امام حسن بصري رمضان کے اختتام پر فرمایا کرتے تھے کہ مومن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ رمضان میں عبادت کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں اس کا عمل رد نہ ہو جائے۔*
*(حلية الأولياء)*
*امام عبد الله بن مبارك رحمه الله*
*امام عبدالله بن مبارك رمضان کے آخری دنوں میں دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہمیں رمضان کے بعد بھی نیکیوں پر قائم رکھ، کیونکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ رمضان کے بعد بھی بندہ اللہ کی اطاعت پر باقی رہے۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
Https://telegram.me/ilmokitab
*قسط: 27*
*٢٧/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*حضرت علي بن أبي طالب رضي الله عنه*
*حضرت علي بن أبي طالب رمضان کے آخری دنوں میں لوگوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اپنے روزوں کو استغفار اور صدقہ کے ذریعے مکمل کرو، کیونکہ بندہ نہیں جانتا کہ اس کے اعمال قبول ہوئے یا نہیں۔*
*(لطائف المعارف)*
*امام حسن بصري رحمه الله*
*امام حسن بصري رمضان کے اختتام پر فرمایا کرتے تھے کہ مومن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ رمضان میں عبادت کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں اس کا عمل رد نہ ہو جائے۔*
*(حلية الأولياء)*
*امام عبد الله بن مبارك رحمه الله*
*امام عبدالله بن مبارك رمضان کے آخری دنوں میں دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہمیں رمضان کے بعد بھی نیکیوں پر قائم رکھ، کیونکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ رمضان کے بعد بھی بندہ اللہ کی اطاعت پر باقی رہے۔*
*(سير أعلام النبلاء)*
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
وقت کی قدر و قیمت
دنیا میں جو وقت بھی مل جائے، وہ نہایت غنیمت ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کو ضایع نہ ہونے دینا چاہیے، یہ زمانہ کھیتی کا ہے، اس کا ہر ہر سکنڈ، ہیرے اور زمرد سے زیادہ قیمتی ہے، جس قدر بھی ہو اس کو ذکرِ الہٰی میں صَرف کیجیے۔
شیخ الاسلام حضرت الاقدس مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللّٰه علیہ
(مکتوبات شیخ الاسلام، جلد، ۱/صفحہ: ۴۱۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
دنیا میں جو وقت بھی مل جائے، وہ نہایت غنیمت ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کو ضایع نہ ہونے دینا چاہیے، یہ زمانہ کھیتی کا ہے، اس کا ہر ہر سکنڈ، ہیرے اور زمرد سے زیادہ قیمتی ہے، جس قدر بھی ہو اس کو ذکرِ الہٰی میں صَرف کیجیے۔
شیخ الاسلام حضرت الاقدس مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللّٰه علیہ
(مکتوبات شیخ الاسلام، جلد، ۱/صفحہ: ۴۱۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
*اسلاف امت کا رمضان*
*قسط:28*
*٢٧/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*إمام مطرف بن عبد الله رحمه الله*
*امام مطرف بن عبد الله فرمایا کرتے تھے کہ میں اس بات کی زیادہ فکر کرتا ہوں کہ میرا عمل قبول ہوا یا نہیں، بجائے اس کے کہ میں زیادہ عمل کر لوں۔ رمضان کے بعد وہ قبولیت کی دعا میں لگے رہتے تھے۔*
*(لطائف المعارف)*
*إمام مالك بن دينار رحمه الله*
*امام مالك بن دينار رمضان کے بعد لوگوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اگر تمہارا رمضان اچھا گزرا ہے تو اس کا اثر باقی سال میں بھی ظاہر ہونا چاہیے، کیونکہ نیکی کی علامت یہ ہے کہ اس کے بعد مزید نیکی نصیب ہو۔*
*(حلية الأولياء)*
*إمام الفضيل بن عياض رحمه الله*
*فضيل بن عياض فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ صرف متقین کے اعمال قبول کرتا ہے، اس لیے بندے کو عمل سے زیادہ اس کی قبولیت کی فکر کرنی چاہیے، خاص طور پر رمضان کے بعد۔*
*(حلية الأولياء)*
Https://telegram.me/ilmokitab
*قسط:28*
*٢٧/ رمضان ١٤٤٧ ه*
*إمام مطرف بن عبد الله رحمه الله*
*امام مطرف بن عبد الله فرمایا کرتے تھے کہ میں اس بات کی زیادہ فکر کرتا ہوں کہ میرا عمل قبول ہوا یا نہیں، بجائے اس کے کہ میں زیادہ عمل کر لوں۔ رمضان کے بعد وہ قبولیت کی دعا میں لگے رہتے تھے۔*
*(لطائف المعارف)*
*إمام مالك بن دينار رحمه الله*
*امام مالك بن دينار رمضان کے بعد لوگوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اگر تمہارا رمضان اچھا گزرا ہے تو اس کا اثر باقی سال میں بھی ظاہر ہونا چاہیے، کیونکہ نیکی کی علامت یہ ہے کہ اس کے بعد مزید نیکی نصیب ہو۔*
*(حلية الأولياء)*
*إمام الفضيل بن عياض رحمه الله*
*فضيل بن عياض فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ صرف متقین کے اعمال قبول کرتا ہے، اس لیے بندے کو عمل سے زیادہ اس کی قبولیت کی فکر کرنی چاہیے، خاص طور پر رمضان کے بعد۔*
*(حلية الأولياء)*
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤4
غیر رمضان میں بھی ہمت سے کام لینا چاہیے
حضرت الاقدس مولانا مفتی محمد حسن امرتسری رحمۃ اللّٰه علیہ سے ایک صاحب کی اہلیہ محترمہ نے دریافت کیا: رمضان شریف میں ہمت اور شوق ہوتا ہے، کوئی گھڑی ضایع کرنے کو دل نہیں چاہتا، مگر غیر رمضان میں یہ حالت نہیں رہتی۔ فرمایا: رمضان شریف کی برکت بھی ہے اور بعض اوقات کیفیتِ شوق کا ظہور ہوتا ہے، اصل تو اعمال ہیں۔ کیفیت ہو یا نہ ہو۔ غیر رمضان میں بھی ہمت سے کام لینا چاہیے۔
(احسن السوانح، صفحہ: ۲۷۸/۷۹)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
حضرت الاقدس مولانا مفتی محمد حسن امرتسری رحمۃ اللّٰه علیہ سے ایک صاحب کی اہلیہ محترمہ نے دریافت کیا: رمضان شریف میں ہمت اور شوق ہوتا ہے، کوئی گھڑی ضایع کرنے کو دل نہیں چاہتا، مگر غیر رمضان میں یہ حالت نہیں رہتی۔ فرمایا: رمضان شریف کی برکت بھی ہے اور بعض اوقات کیفیتِ شوق کا ظہور ہوتا ہے، اصل تو اعمال ہیں۔ کیفیت ہو یا نہ ہو۔ غیر رمضان میں بھی ہمت سے کام لینا چاہیے۔
(احسن السوانح، صفحہ: ۲۷۸/۷۹)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤20
آپ کا ایک React ہمارا حوصلہ بنتا ہے، اس لیے ہر پوسٹ پر رئیکٹ لازمی کیا کریں♥️❤️👍
اڈمن علم و کتاب
اڈمن علم و کتاب
❤13👍5👌2
🌙*کیرالہ میں نظر آیا عید کا چاند: بھٹکل میں قاضی صاحبان نے جمعہ کو عیدا لفطر ہونے کا کیا اعلان*
👇👇👇👇👇👇👇
https://bit.ly/4dvMaBO
👇👇👇👇👇👇👇
https://bit.ly/4dvMaBO
Bhatkallys
Eid in Bhatkal on Friday
*حفاظتِ قرآن کا مفہوم*
اس وعدۂ حفاظت میں قرآن کے حفظ و بقا، اشاعت و فروغ، تلاوت کیے جانے، پڑھے اور سمجھے جانے، متروک و ازکار رفتہ، ناقابلِ عمل، ناقابلِ فہم اور نقشِ طاقِ نسیان ہو جانے کی پوری نفی موجود ہے، اس لیے کہ عربی کا بلیغ لفظ "حفظ" بڑے وسیع آفاق اور عمیق معانی رکھتا ہے۔
[مطالعہ قرآن کے اصول و مبادی، ص 136/ط: مکتبہ اسلام لکھنو]
اس وعدۂ حفاظت میں قرآن کے حفظ و بقا، اشاعت و فروغ، تلاوت کیے جانے، پڑھے اور سمجھے جانے، متروک و ازکار رفتہ، ناقابلِ عمل، ناقابلِ فہم اور نقشِ طاقِ نسیان ہو جانے کی پوری نفی موجود ہے، اس لیے کہ عربی کا بلیغ لفظ "حفظ" بڑے وسیع آفاق اور عمیق معانی رکھتا ہے۔
[مطالعہ قرآن کے اصول و مبادی، ص 136/ط: مکتبہ اسلام لکھنو]
❤1
*غلطی ہائے مضامین*
*بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
رمضان کے آخری عشرے میں اُٹھائے جانے والے ایک حلف کا تلفظ روزے کی حالت میں سن کر ہماری بھی وہ حالت ہوئی جو ہمارے صوبے کے گورنر صاحب کی گورنری کا حلف اُٹھاتے وقت ہوئی ہوگی۔ بھلا کیسی حالت؟ اس مختصر سوال کا مسکت جواب جونؔ ایلیا مرحوم پہلے ہی دے گئے ہیں، جو آج بھی ’حسبِ حال‘ ہے۔ فرمایا:
کوئی حالت نہیں، یہ حالت ہے
یہ تو آشوب ناک صورت ہے
ہمارے ہاں حلف اُٹھانے کی جو آشوب ناک صورت رائج ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ ’’اے کَلّے بندے دا کَم نئیں‘‘ یعنی اکیلا چنا اپنے بل بوتے پر آپ حلف اُٹھا کر بھاڑ نہیں پھاڑ سکتا۔ ایک طاقتور شخص حلف اُٹھواتا ہے تب جاکر دوسرا نحیف و نزار شخص حلف اُٹھا پاتا ہے۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ اوّل الذکر شخص حلف کی عبارت پڑھ پڑھ کر بولتا چلا جاتا ہے اور ثانی الذکر شخص رٹُّو طوطا (یا توتا) بنا اُسے دُہراتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے پہلے شخص کو دوسرے شخص کا مسیحا جانیے۔ مسیحا کے ہاتھوں جو ہوتا ہے وہ نیچے ناسخؔ کے شعر میں آتا ہے۔
خوشی کی خبر یہ ہے کہ اِس اچانک اور غیر مترقبہ گورنری کا حلف اُردو میں لیا گیا اور اُردو میں دیا گیا۔ تاہم اُردو ذریعۂ تعلیم کا خاتمہ ’’بالانگریزی‘‘ ہوجانے کے باعث اُردو کی عام مانوس تراکیب سے ناواقفیت اب ہمارے خواص میں بھی عام ہوتی جارہی ہے۔ یہ ناواقفیت ترقی کرتے کرتے بھلا کس اعلیٰ ترین درجے تک جا پہنچی ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ حلف لینے والی اعلیٰ ترین شخصیت نے حلف کی تحریری اُردو عبارت کے مطابق گورنری کے فرائض کی ’’کما حُقّہ‘‘ انجام دہی کا ذکر کیا تو گورنر صاحب نے بھی اُنھیں کا اعلیٰ ترین نَیچہ تھام کر ’’کما حُقّہ‘‘ کے الفاظ دُہرا دیے۔ کم از کم ’’اُردوگو‘‘ گورنر صاحب سے تو ہمیں ایسی حُقّۃ نوشی کی اُمید نہ تھی۔ ممکن ہے کہ اُنھوں نے جان بوجھ کر یہ حُقّہ گُڑگُڑایا ہو، تاکہ حلف کی قید سے آزاد رہ کر اپنا پورا دور گورنری حُقہ گُڑگُڑاتے ہوئے ہی گزار دیں۔
حُقّہ کسے کہتے ہیں؟ صاحب! حُقّہ یوں تو زیورات،جواہرات اور عطریات رکھنے کی ڈبیا کو بھی کہتے ہیں، جیسا کہ رندؔ نے کہا:
بُوئے عطر آئی دماغِ جاں معطّر ہو گیا
زُلفیں تیری کیا کُھلیں، حُقّے کھلے عطّار کے
مگر عام لوگ جس شے کو حقہ کہتے ہیں وہ عطار کا حقہ نہیں، نواب زادہ نصراللہ خاں مرحوم والا حقہ ہے۔ تعریف کے مطابق چلم، پانی سے بھرے ہوئے ظرف اور ایک نالی یا ایک سے زائد نالیوں پر مشتمل ایک قدیم آلہ حُقّہ کہلاتا ہے جو تمباکو نوشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ چلم میں انگارے دہکا کر ان انگاروں کے اوپر تمباکو دھر دیا جاتا ہے یا تمباکو رکھ کر اُس پر دہکتے ہوئے انگارے دھر دیے جاتے ہیں۔ حُقّہ سُلگ اُٹھتا ہے۔ حقے کی نال یا نالیاں حقے کی نَے کہلاتی ہیں۔ نَے کا وہ سرا جو منہ میں لے کر گُڑگُڑایا جاتا ہے نَیچہ کہلاتا ہے۔ نیچہ تھام کر کش لیتے ہیں تو تمباکو کا دھواں پانی سے گزر کر (یا یوں کہیے کہ فلٹر ہوکر) پینے والے کے منہ میں جاتا ہے اور ناک سے خارج کیا جاتا ہے۔ یہ دھواں پہلی بار حقہ پینے والے کا حلق کڑواہٹ سے بھر دیتا ہے اور پیٹ میں پہنچتے ہی ایک غیبی گھونسا رسید کرتا ہے۔
حقہ پیتے ہوئے، حقے سے’’گُڑگُڑ گُڑگُڑ‘‘ کی جو آواز نکلتی ہے اُس آواز کی بنا پر انگریزوں نے ہمارے حقے کو “Hubble-bubble” کا نام دے ڈالا۔ جب کہ جناب امام بخش ناسخؔ اِس گُڑ گُڑاہٹ کو ’’حضرتِ والا‘‘کا معجزہ قرار دیتے ہیں:
حُقّہ جو ہے حضورِ مُعلّیٰ کے ہاتھ میں
گویا کہ کہکشاں ہے ثریا کے ہاتھ میں
ناسخؔ یہ سب بجا ہے، ولیکن تُو عرض کر
بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں
کہا جاتا ہے کہ حقے کا آبائی وطن ہندوستان ہے، مگر یہ منہ در منہ چلتے چلتے ایران، ترکستان اور عربستان سمیت دنیا کے بہت سے خطوں میں جا پہنچا۔ اُردو میں حقے سے متعلق کئی محاورے مستعمل ہیں مثلاً ’’حقہ بھرنا‘‘یعنی چلم میں تمباکو رکھ کر آگ بھرنا، مراد یہ کہ پینے کے لیے حقہ تیار کردینا۔ ’’حقہ پینا‘‘ یعنی حقے کے کش لگانا۔ ’’حقہ تازہ کرنا‘‘ یعنی حقے کا پانی بدلنا اور نَے وغیرہ کو تر کرنا۔ حقہ لے کر چلنے کے لیے جو ملازم رکھا جاتا وہ ’’حُقّہ بردار‘‘ کہلاتا۔ مجازاً کسی حاکم یا کسی افسر کے خوشامدی اور چاپلوس مصاحب کو بھی ’حُقّہ بردار‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ گاؤں، دیہات میں برادریوں کی جوبیٹھک بنتی ہے اُس میں بالعموم ایک ہی حقہ تمام حاضرین میں پھرایا اور گردش کروایا جاتا ہے۔ لوگ ایک ایک کش لگاکر حقہ آگے بڑھا دیتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے جب کسی کو برادری سے نکالا جاتا ہے، مقاطعہ یا بائیکاٹ کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ’’اُس کا حقہ پانی بند کردیا گیا‘‘۔ ویسے ’’حقہ پانی کرنا‘‘ کسی کی خاطر تواضع اور میزبانی کرنا ہے۔ مگر’’ حقہ پانی بند کرنا‘‘ مقاطعہ کرنا ہے، کیوں کہ پھر اُسے برادری کی کسی محفل یا کسی تقریب میں آکر حقہ نوشی کا حق نہیں رہتا۔
*بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
رمضان کے آخری عشرے میں اُٹھائے جانے والے ایک حلف کا تلفظ روزے کی حالت میں سن کر ہماری بھی وہ حالت ہوئی جو ہمارے صوبے کے گورنر صاحب کی گورنری کا حلف اُٹھاتے وقت ہوئی ہوگی۔ بھلا کیسی حالت؟ اس مختصر سوال کا مسکت جواب جونؔ ایلیا مرحوم پہلے ہی دے گئے ہیں، جو آج بھی ’حسبِ حال‘ ہے۔ فرمایا:
کوئی حالت نہیں، یہ حالت ہے
یہ تو آشوب ناک صورت ہے
ہمارے ہاں حلف اُٹھانے کی جو آشوب ناک صورت رائج ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ ’’اے کَلّے بندے دا کَم نئیں‘‘ یعنی اکیلا چنا اپنے بل بوتے پر آپ حلف اُٹھا کر بھاڑ نہیں پھاڑ سکتا۔ ایک طاقتور شخص حلف اُٹھواتا ہے تب جاکر دوسرا نحیف و نزار شخص حلف اُٹھا پاتا ہے۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ اوّل الذکر شخص حلف کی عبارت پڑھ پڑھ کر بولتا چلا جاتا ہے اور ثانی الذکر شخص رٹُّو طوطا (یا توتا) بنا اُسے دُہراتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے پہلے شخص کو دوسرے شخص کا مسیحا جانیے۔ مسیحا کے ہاتھوں جو ہوتا ہے وہ نیچے ناسخؔ کے شعر میں آتا ہے۔
خوشی کی خبر یہ ہے کہ اِس اچانک اور غیر مترقبہ گورنری کا حلف اُردو میں لیا گیا اور اُردو میں دیا گیا۔ تاہم اُردو ذریعۂ تعلیم کا خاتمہ ’’بالانگریزی‘‘ ہوجانے کے باعث اُردو کی عام مانوس تراکیب سے ناواقفیت اب ہمارے خواص میں بھی عام ہوتی جارہی ہے۔ یہ ناواقفیت ترقی کرتے کرتے بھلا کس اعلیٰ ترین درجے تک جا پہنچی ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ حلف لینے والی اعلیٰ ترین شخصیت نے حلف کی تحریری اُردو عبارت کے مطابق گورنری کے فرائض کی ’’کما حُقّہ‘‘ انجام دہی کا ذکر کیا تو گورنر صاحب نے بھی اُنھیں کا اعلیٰ ترین نَیچہ تھام کر ’’کما حُقّہ‘‘ کے الفاظ دُہرا دیے۔ کم از کم ’’اُردوگو‘‘ گورنر صاحب سے تو ہمیں ایسی حُقّۃ نوشی کی اُمید نہ تھی۔ ممکن ہے کہ اُنھوں نے جان بوجھ کر یہ حُقّہ گُڑگُڑایا ہو، تاکہ حلف کی قید سے آزاد رہ کر اپنا پورا دور گورنری حُقہ گُڑگُڑاتے ہوئے ہی گزار دیں۔
حُقّہ کسے کہتے ہیں؟ صاحب! حُقّہ یوں تو زیورات،جواہرات اور عطریات رکھنے کی ڈبیا کو بھی کہتے ہیں، جیسا کہ رندؔ نے کہا:
بُوئے عطر آئی دماغِ جاں معطّر ہو گیا
زُلفیں تیری کیا کُھلیں، حُقّے کھلے عطّار کے
مگر عام لوگ جس شے کو حقہ کہتے ہیں وہ عطار کا حقہ نہیں، نواب زادہ نصراللہ خاں مرحوم والا حقہ ہے۔ تعریف کے مطابق چلم، پانی سے بھرے ہوئے ظرف اور ایک نالی یا ایک سے زائد نالیوں پر مشتمل ایک قدیم آلہ حُقّہ کہلاتا ہے جو تمباکو نوشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ چلم میں انگارے دہکا کر ان انگاروں کے اوپر تمباکو دھر دیا جاتا ہے یا تمباکو رکھ کر اُس پر دہکتے ہوئے انگارے دھر دیے جاتے ہیں۔ حُقّہ سُلگ اُٹھتا ہے۔ حقے کی نال یا نالیاں حقے کی نَے کہلاتی ہیں۔ نَے کا وہ سرا جو منہ میں لے کر گُڑگُڑایا جاتا ہے نَیچہ کہلاتا ہے۔ نیچہ تھام کر کش لیتے ہیں تو تمباکو کا دھواں پانی سے گزر کر (یا یوں کہیے کہ فلٹر ہوکر) پینے والے کے منہ میں جاتا ہے اور ناک سے خارج کیا جاتا ہے۔ یہ دھواں پہلی بار حقہ پینے والے کا حلق کڑواہٹ سے بھر دیتا ہے اور پیٹ میں پہنچتے ہی ایک غیبی گھونسا رسید کرتا ہے۔
حقہ پیتے ہوئے، حقے سے’’گُڑگُڑ گُڑگُڑ‘‘ کی جو آواز نکلتی ہے اُس آواز کی بنا پر انگریزوں نے ہمارے حقے کو “Hubble-bubble” کا نام دے ڈالا۔ جب کہ جناب امام بخش ناسخؔ اِس گُڑ گُڑاہٹ کو ’’حضرتِ والا‘‘کا معجزہ قرار دیتے ہیں:
حُقّہ جو ہے حضورِ مُعلّیٰ کے ہاتھ میں
گویا کہ کہکشاں ہے ثریا کے ہاتھ میں
ناسخؔ یہ سب بجا ہے، ولیکن تُو عرض کر
بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں
کہا جاتا ہے کہ حقے کا آبائی وطن ہندوستان ہے، مگر یہ منہ در منہ چلتے چلتے ایران، ترکستان اور عربستان سمیت دنیا کے بہت سے خطوں میں جا پہنچا۔ اُردو میں حقے سے متعلق کئی محاورے مستعمل ہیں مثلاً ’’حقہ بھرنا‘‘یعنی چلم میں تمباکو رکھ کر آگ بھرنا، مراد یہ کہ پینے کے لیے حقہ تیار کردینا۔ ’’حقہ پینا‘‘ یعنی حقے کے کش لگانا۔ ’’حقہ تازہ کرنا‘‘ یعنی حقے کا پانی بدلنا اور نَے وغیرہ کو تر کرنا۔ حقہ لے کر چلنے کے لیے جو ملازم رکھا جاتا وہ ’’حُقّہ بردار‘‘ کہلاتا۔ مجازاً کسی حاکم یا کسی افسر کے خوشامدی اور چاپلوس مصاحب کو بھی ’حُقّہ بردار‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ گاؤں، دیہات میں برادریوں کی جوبیٹھک بنتی ہے اُس میں بالعموم ایک ہی حقہ تمام حاضرین میں پھرایا اور گردش کروایا جاتا ہے۔ لوگ ایک ایک کش لگاکر حقہ آگے بڑھا دیتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے جب کسی کو برادری سے نکالا جاتا ہے، مقاطعہ یا بائیکاٹ کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ’’اُس کا حقہ پانی بند کردیا گیا‘‘۔ ویسے ’’حقہ پانی کرنا‘‘ کسی کی خاطر تواضع اور میزبانی کرنا ہے۔ مگر’’ حقہ پانی بند کرنا‘‘ مقاطعہ کرنا ہے، کیوں کہ پھر اُسے برادری کی کسی محفل یا کسی تقریب میں آکر حقہ نوشی کا حق نہیں رہتا۔
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
حق کسے کہتے ہیں؟ حق کا مطلب سچائی، صداقت، انصاف اور راست بازی ہے۔ حق باطل کی ضد ہے۔ حق حق ہے اور باطل باطل۔ بالکل ٹھیک اور بالکل درست کے معنوں میں بھی ’حق‘ بولا جاتا ہے، جیسے’’ تمھارا کہنا حق ہے ‘‘۔ ’حق‘ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام بھی ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کو حق تعالیٰ بھی کہا جاتا ہے۔ بحرؔ کہتے ہیں:
پھر مجھے کیا غم کسی بے درد کی بے داد کا
حق تعالیٰ سننے والا ہے اگر فریاد کا
کوئی شخص مرجاتا ہے تو وہ اللہ کے حضور حاضر ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ ’’وہ شخص جاں بحق‘‘ ہوگیا۔
’حق‘ کا ایک مطلب ’مفاد‘ بھی ہے۔ کوئی بات کسی کے مفاد میں ہو تو کہا جاتا ہے کہ ’’یہ تمھارے حق میں بہتر ہے‘‘۔ اسی طرح کوئی چیز سرکار کے مفاد میں ہو تو وہ ’’بحقِ سرکار ضبط‘‘ کرلی جاتی ہے۔ حق کا ایک اور مطلب ہے کسی شخص کا حصہ، اُس کا اختیار یا بزبانِ انگریزی اُس کا ‘Right’ جیسے کہا جائے کہ ’’یہ اُس کا حق ہے‘‘۔ مراد ہے کسی شخص کا استحقاق اور دعویٰ۔ علاوہ ازیں صلے، بدلے اور معاوضے کو بھی ’حق‘ کہا جاتا ہے۔ مثلاً حقِ محنت، حقِ خدمت اور حقِ نمک وغیرہ۔میر انیسؔ کہتے ہیں:
غازی ستم گروں سے وفا کر کے مر گئے
حقِ نمک جو تھا وہ ادا کر کے مر گئے
اپنا فرض پورا کرنا یاخدمت وغیرہ جس طرح کرنی چاہیے اُس طرح کرنے کو ’’حق ادا کرنا‘‘ کہتے ہیں۔غالبؔ کا مشہور شعر ہے:
جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
’’کسی فرض کو اس طرح ادا کرنا جیسے ادا کرنا چاہیے‘‘ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اُردو میں بھی عربی ترکیب رائج ہے ’’کَمَا حَقَّہٗ‘‘۔ عربی میں حق کے بعد ’ہ‘ لگا کر اُس پر اُلٹا پیش ڈال دیتے ہیں اور پڑھتے ہیں ’’حَقَّ ہُو‘‘ جس کا مطلب ہے ’’اُس کا حق‘‘۔عربی کے لفظ ’’کَما‘‘ کا مطلب ہے جیسا۔ ’’او کما قال‘‘ کا مطلب ہے’’ یا جیسا کہا، جیسا فرمایا‘‘۔ اس طرح’’کَمَا حَقَّہٗ‘‘ کا مطلب ہوا ’’جیسا کہ اس کا حق ہے‘‘۔
Https://telegram.me/ilmokitab
پھر مجھے کیا غم کسی بے درد کی بے داد کا
حق تعالیٰ سننے والا ہے اگر فریاد کا
کوئی شخص مرجاتا ہے تو وہ اللہ کے حضور حاضر ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ ’’وہ شخص جاں بحق‘‘ ہوگیا۔
’حق‘ کا ایک مطلب ’مفاد‘ بھی ہے۔ کوئی بات کسی کے مفاد میں ہو تو کہا جاتا ہے کہ ’’یہ تمھارے حق میں بہتر ہے‘‘۔ اسی طرح کوئی چیز سرکار کے مفاد میں ہو تو وہ ’’بحقِ سرکار ضبط‘‘ کرلی جاتی ہے۔ حق کا ایک اور مطلب ہے کسی شخص کا حصہ، اُس کا اختیار یا بزبانِ انگریزی اُس کا ‘Right’ جیسے کہا جائے کہ ’’یہ اُس کا حق ہے‘‘۔ مراد ہے کسی شخص کا استحقاق اور دعویٰ۔ علاوہ ازیں صلے، بدلے اور معاوضے کو بھی ’حق‘ کہا جاتا ہے۔ مثلاً حقِ محنت، حقِ خدمت اور حقِ نمک وغیرہ۔میر انیسؔ کہتے ہیں:
غازی ستم گروں سے وفا کر کے مر گئے
حقِ نمک جو تھا وہ ادا کر کے مر گئے
اپنا فرض پورا کرنا یاخدمت وغیرہ جس طرح کرنی چاہیے اُس طرح کرنے کو ’’حق ادا کرنا‘‘ کہتے ہیں۔غالبؔ کا مشہور شعر ہے:
جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
’’کسی فرض کو اس طرح ادا کرنا جیسے ادا کرنا چاہیے‘‘ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اُردو میں بھی عربی ترکیب رائج ہے ’’کَمَا حَقَّہٗ‘‘۔ عربی میں حق کے بعد ’ہ‘ لگا کر اُس پر اُلٹا پیش ڈال دیتے ہیں اور پڑھتے ہیں ’’حَقَّ ہُو‘‘ جس کا مطلب ہے ’’اُس کا حق‘‘۔عربی کے لفظ ’’کَما‘‘ کا مطلب ہے جیسا۔ ’’او کما قال‘‘ کا مطلب ہے’’ یا جیسا کہا، جیسا فرمایا‘‘۔ اس طرح’’کَمَا حَقَّہٗ‘‘ کا مطلب ہوا ’’جیسا کہ اس کا حق ہے‘‘۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
في مثل هذه الليلةِ، ليلةِ عيدِ الفطر 1 شوال سنةَ 256هـ:
توفي أميرُ المؤمنين، وحافظُ حديثِ رسولِ ربِّ العالمين
النابغةُ الأُعجوبة الذكي، والإمامُ المجتهد التقي
أبو عبد الله محمدُ بنُ إسماعيلَ البخاري
رحمه الله تعالى، وجزاه عنا وعن سُنةِ نبينا صلّى الله عليه وسلَّم خيرَ الجزاء ..
توفي أميرُ المؤمنين، وحافظُ حديثِ رسولِ ربِّ العالمين
النابغةُ الأُعجوبة الذكي، والإمامُ المجتهد التقي
أبو عبد الله محمدُ بنُ إسماعيلَ البخاري
رحمه الله تعالى، وجزاه عنا وعن سُنةِ نبينا صلّى الله عليه وسلَّم خيرَ الجزاء ..
❤2
لیلۃ الجائزہ، انعام کی رات
حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی صاحب رحمۃ اللّٰه علیہ، "لیلۃ الجائزہ" کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
وقت کے قدر شناس، آج کی شب کو بھی خالی نہیں جانے دیتے۔ رمضان کی ایک ایک رات، دولتوں سے مالا مال تھی۔ حدیث میں آتا ہے کہ وہی نعمتیں، شبِ عید تک پھیلا دی جاتی ہیں۔ اللّٰه اللّٰه! جب بندہ نواز یوں لٹانے پر آئے تو بندہ مانگنے میں کیوں کوئی کسر اٹھا رکھے۔ آج کی رات، رات ہے دعاؤں کی، مناجاتوں کی، روحانیت کی، ربّانیت کی۔ اِدھر سے عبودیت کی، اُدھر سے ربوبیت کی۔ فضائے کائنات میں ہر ہر میٹر پر، ہر ہر WAVE LENTH پر بارش ہوئی، رات بھر لطف و نوازش کی، عطا و بخشش کی۔
(نشریاتِ ماجد، صفحہ: ۳۸/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی صاحب رحمۃ اللّٰه علیہ، "لیلۃ الجائزہ" کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
وقت کے قدر شناس، آج کی شب کو بھی خالی نہیں جانے دیتے۔ رمضان کی ایک ایک رات، دولتوں سے مالا مال تھی۔ حدیث میں آتا ہے کہ وہی نعمتیں، شبِ عید تک پھیلا دی جاتی ہیں۔ اللّٰه اللّٰه! جب بندہ نواز یوں لٹانے پر آئے تو بندہ مانگنے میں کیوں کوئی کسر اٹھا رکھے۔ آج کی رات، رات ہے دعاؤں کی، مناجاتوں کی، روحانیت کی، ربّانیت کی۔ اِدھر سے عبودیت کی، اُدھر سے ربوبیت کی۔ فضائے کائنات میں ہر ہر میٹر پر، ہر ہر WAVE LENTH پر بارش ہوئی، رات بھر لطف و نوازش کی، عطا و بخشش کی۔
(نشریاتِ ماجد، صفحہ: ۳۸/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤4
اسلام کی عید کا مفہوم
علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللّٰه علیہ لکھتے ہیں:
اسلام کی عید، خوشی و مسرت کی عید ہے، شکرانہ کی عید ہے، تکبیر و تہلیل کی عید ہے، سجدۂ عبودیت کی عید ہے، مگر کس خوشی کے واقعہ کے لیے؟ کس مسرت کے پیغام کے لیے؟ اس واقعہ، مسرت اور پیغامِ خوشی کے لیے کہ خدائے واحد نے اپنے موحدوں کو اپنے پیام سے سرفراز فرمایا، اس ظلمت کدہ میں ان کو نور بخشا، بت پرستی، ستارہ پرستی، مخلوق پرستی اور دوسری ہر قسم کی باطل پرستیوں کی ضلالت سے نکال کر توحید کی ہدایت عطا فرمائی۔
شذراتِ سلیمانی/حصہ: دوم/صفحہ: ۳۳۱/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللّٰه علیہ لکھتے ہیں:
اسلام کی عید، خوشی و مسرت کی عید ہے، شکرانہ کی عید ہے، تکبیر و تہلیل کی عید ہے، سجدۂ عبودیت کی عید ہے، مگر کس خوشی کے واقعہ کے لیے؟ کس مسرت کے پیغام کے لیے؟ اس واقعہ، مسرت اور پیغامِ خوشی کے لیے کہ خدائے واحد نے اپنے موحدوں کو اپنے پیام سے سرفراز فرمایا، اس ظلمت کدہ میں ان کو نور بخشا، بت پرستی، ستارہ پرستی، مخلوق پرستی اور دوسری ہر قسم کی باطل پرستیوں کی ضلالت سے نکال کر توحید کی ہدایت عطا فرمائی۔
شذراتِ سلیمانی/حصہ: دوم/صفحہ: ۳۳۱/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤4👍4
ایمان ہی اعمال کی بنیاد ہے
علامہ سید سلیمان ندویؒ نے فرمایا:
ایمان ہی ہمارے تمام اعمال کی اساس ہے۔ جس کے بغیر ہر عمل بے بنیاد ہے، وہ ہماری سیرابی کا اصلی سرچشمہ ہے، جس کے فقدان سے ہمارے کاموں کی حقیقت، سراب سے زیادہ نہیں رہتی۔ کیونکہ وہ دیکھنے میں تو کام معلوم ہوتے ہیں، مگر روحانی اثر و فائدے سے خالی اور بے نتیجہ ہوتے ہیں۔ خدا کے وجود کا اقرار اور اس کی رضامندی کا حصول، ہمارے اعمال کی غرض و غایت ہے۔ یہ نہ ہو تو ہمارے تمام کام، بے نظام اور بے مقصد ہوکر رہ جائیں، وہ ہمارے دل کا نور ہے، وہ نہ ہو تو پوری زندگی تیرہ و تاریک نظر آئے اور ہمارے تمام کاموں کی بنیاد، ریا، نمائش، جاہ پسندی، خود غرضی اور شہرت طلبی وغیرہ کے دلی جذبات اور پست محرکات کے سوا کچھ اور نہ رہ جائے۔
(علامہ سید سلیمان ندویؒ کے چند نادر خطبات و رسائل کا مجموعہ، صفحہ: ٧٦/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
علامہ سید سلیمان ندویؒ نے فرمایا:
ایمان ہی ہمارے تمام اعمال کی اساس ہے۔ جس کے بغیر ہر عمل بے بنیاد ہے، وہ ہماری سیرابی کا اصلی سرچشمہ ہے، جس کے فقدان سے ہمارے کاموں کی حقیقت، سراب سے زیادہ نہیں رہتی۔ کیونکہ وہ دیکھنے میں تو کام معلوم ہوتے ہیں، مگر روحانی اثر و فائدے سے خالی اور بے نتیجہ ہوتے ہیں۔ خدا کے وجود کا اقرار اور اس کی رضامندی کا حصول، ہمارے اعمال کی غرض و غایت ہے۔ یہ نہ ہو تو ہمارے تمام کام، بے نظام اور بے مقصد ہوکر رہ جائیں، وہ ہمارے دل کا نور ہے، وہ نہ ہو تو پوری زندگی تیرہ و تاریک نظر آئے اور ہمارے تمام کاموں کی بنیاد، ریا، نمائش، جاہ پسندی، خود غرضی اور شہرت طلبی وغیرہ کے دلی جذبات اور پست محرکات کے سوا کچھ اور نہ رہ جائے۔
(علامہ سید سلیمان ندویؒ کے چند نادر خطبات و رسائل کا مجموعہ، صفحہ: ٧٦/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤4
*سید حسن برماور۔ ایک دل درد مند رکھنے والا انسان (1)*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) *
آج مورخہ ۲۵ مارچ بعد نماز عشاء تنظیم ملیہ مسجد میں جناب سید حسن برماور کی نماز جنازہ ادا ہوئی،اور آپ کا جسد خاکی قریب ہی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ کاروار ضلع کی یہ وسیع ترین مسجد مصلیان سے ایسے کھچا کچھ بھری ہوئی تھی کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، اور جو مرحوم کی بندگان خدا میں مقبولیت کی نشاندہی کررہی تھی ، کیا بعید کہ اس بارگاہ عالی میں مرحوم کی مقبولیت اس سے کہیں زیادہ ہو، جہاں ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے، اور جہاں کی مقبولیت اس دنیا جہاں کی تمام مقبولیتوں کے سامنے پر کاہ کی اہمیت نہیں رکھتی ۔
مرحوم نے اس دنیائے فانی میں زندگی کی (۷۳) بہاریں دیکھیں، آپ نے سنہ ۱۹۵۳ء میں اس دنیا میں آنکھیں کھولیں تھی، انہیں دیکھنے اور جاننے والے گواہ ہیں کہ ان کی زندگی اتنے سارے اچھے کاموں سے بھری پڑی تھی، جوبارگاہ خداوندی میں درجات کی بلندی اور مغفرت کا سبب بن سکتے ہیں۔ آخر نیک کام ہی تو ایک انسان کو جنت الفردوس کا حقدار بناتے ہیں، اور دنیا میں یہ اچھے اعمال ہی اس دائمی سفرمیں زاد راہ بن جاتے ہیں۔
مرحوم کی اس ناچیز سے کب شناسائی ہوئی تھی یہ بتانا مشکل ہے، آپ نے سلطانی محلہ میں اپنے خاندانی سید کاکو ہاؤس میں آنکھیں کھولیں تھی، یہ میرے خالو سید شاہ الحمید برماور کا بھی خاندانی مکان تھا، اس زمانے کے رواج کے مطابق اس ایک گھر میں کئی سارے خاندان آباد تھے، جن میں دنیاوی لحاظ سے مالداراور خوش حال تو کوئی نہیں تھا، لیکن محنت سے روزی کما کرعزت کی چادر ڈھانپنے والے کئی ایک تھے، ان میں سید حسن کا خاندان بہت ہی تنگ دست تھا، آپ کے والد سید اسماعیل برماور ممبئی میں محنت مزدوری کرکے گھر پالتے تھے، وہ سید حسن کے اس دنیا میں آنکھیں کھولنے اور سن شعور کو پہونچنے سے پہلے ہی اس دنیا کو داغ مفارقت دے گئے تھے،آپ نے اپنے پیچھے دو بیٹیاں ، ایک فرزند اور بیوہ شہر بانو اکرمی کو چھوڑا۔یہ بیوہ جناب عبد القادر باشاہ اکرمی خلفو( سابق امام وخطیب جامعہ مسجد بھٹکل ، والد ماجد مولانا محمد صادق اکرمی ندوی) اور جناب سعید اکرمی ( والد مولانا محمد ناصر اکرمی) کی ہمشیرہ اور سید نطہر برماور ( والد سید سمیع اللہ برماور ) کی عزیز تھیں،ان قرابت داروں نے صلہ رحمی کا حق ادا کرنے کی بساط بھر کوششیں کیں۔ اس طرح آپ کا بچپن داغ یتیمی کی نذر ہوگیا ہے، بچپن کا یہی احساس تھا جس نے انہیں اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں کا ہمدرد اور بہی خواہ بنا دیا، اور حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے جس طرح صلہ رحمی، اپنوں اور غیروں سے ہمدردی اور ان کے مدد کو اپنی زندگی کا شعار بنایا تھا ،اس کی مثال ہمارے معاشرے میں شاذ ونادر ہی مل سکے گی۔
خاندانی پس منظر۔ سید کاکو سادات
یہاں یہ بتانا مناسب ہوگا کہ بھٹکل کی نوائط برادری میں سادات کے جو خاندان پائے جاتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نسب بغداد (عراق) سے تشریف لانے والے بزرگ سید ابراہیم بغداد ی سے ملتا ہے، سید حسن برماور کا نسبی تعلق انہی بزرگ کی سید کاکو شاخ سے ملتا تھا ۔جوکہ آپ کے فرزند سید عثمان سے چلی تھی۔
مشہور محقق ڈاکٹر وکٹر دیسوزا نے اپنی تحقیقی کتاب نوائط آف کینرا کی تصنیف کے زمانے میں قوم کے ایک بزرگ سید عمر برماور مرحوم ( سابق جنرل سکریٹری مجلس اصلاح وتنطیم بھٹکل) سے ملاقات کرکے ان کا جو نسب نامہ حاصل کیا تھا، اس کا خلاصہ اپنی کتاب میں یوں بیان کیا ہے۔
" مندرجہ ذیل ایک شجرہ نسب ہے جسے بھٹکل کے ان سید خاندانوں میں سے ایک نے محفوظ کیا ہے جو اپنا سلسلہ نسب سید ابراہیم بغدادی سے جوڑتے ہیں۔ یہ شجرہ مجھے برماور سید عمر بن سید حسن بن سید علی بن سید محی الدین بن سید حسین بن سید محمد بن سیدکاکو احمد برماور بن سیدکاکو سید حسین بن سیدکاکو سید عثمان بن سیدکاکو سید علی بن سیدکاکو سید عثمان بن سید ابراہیم بغدادی نے دکھایا تھا۔ یہ شجرہ سید ابراہیم بغدادی کا مکمل نسب نامہ بھی دکھاتا ہے جو خود نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے۔
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) *
آج مورخہ ۲۵ مارچ بعد نماز عشاء تنظیم ملیہ مسجد میں جناب سید حسن برماور کی نماز جنازہ ادا ہوئی،اور آپ کا جسد خاکی قریب ہی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ کاروار ضلع کی یہ وسیع ترین مسجد مصلیان سے ایسے کھچا کچھ بھری ہوئی تھی کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، اور جو مرحوم کی بندگان خدا میں مقبولیت کی نشاندہی کررہی تھی ، کیا بعید کہ اس بارگاہ عالی میں مرحوم کی مقبولیت اس سے کہیں زیادہ ہو، جہاں ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے، اور جہاں کی مقبولیت اس دنیا جہاں کی تمام مقبولیتوں کے سامنے پر کاہ کی اہمیت نہیں رکھتی ۔
مرحوم نے اس دنیائے فانی میں زندگی کی (۷۳) بہاریں دیکھیں، آپ نے سنہ ۱۹۵۳ء میں اس دنیا میں آنکھیں کھولیں تھی، انہیں دیکھنے اور جاننے والے گواہ ہیں کہ ان کی زندگی اتنے سارے اچھے کاموں سے بھری پڑی تھی، جوبارگاہ خداوندی میں درجات کی بلندی اور مغفرت کا سبب بن سکتے ہیں۔ آخر نیک کام ہی تو ایک انسان کو جنت الفردوس کا حقدار بناتے ہیں، اور دنیا میں یہ اچھے اعمال ہی اس دائمی سفرمیں زاد راہ بن جاتے ہیں۔
مرحوم کی اس ناچیز سے کب شناسائی ہوئی تھی یہ بتانا مشکل ہے، آپ نے سلطانی محلہ میں اپنے خاندانی سید کاکو ہاؤس میں آنکھیں کھولیں تھی، یہ میرے خالو سید شاہ الحمید برماور کا بھی خاندانی مکان تھا، اس زمانے کے رواج کے مطابق اس ایک گھر میں کئی سارے خاندان آباد تھے، جن میں دنیاوی لحاظ سے مالداراور خوش حال تو کوئی نہیں تھا، لیکن محنت سے روزی کما کرعزت کی چادر ڈھانپنے والے کئی ایک تھے، ان میں سید حسن کا خاندان بہت ہی تنگ دست تھا، آپ کے والد سید اسماعیل برماور ممبئی میں محنت مزدوری کرکے گھر پالتے تھے، وہ سید حسن کے اس دنیا میں آنکھیں کھولنے اور سن شعور کو پہونچنے سے پہلے ہی اس دنیا کو داغ مفارقت دے گئے تھے،آپ نے اپنے پیچھے دو بیٹیاں ، ایک فرزند اور بیوہ شہر بانو اکرمی کو چھوڑا۔یہ بیوہ جناب عبد القادر باشاہ اکرمی خلفو( سابق امام وخطیب جامعہ مسجد بھٹکل ، والد ماجد مولانا محمد صادق اکرمی ندوی) اور جناب سعید اکرمی ( والد مولانا محمد ناصر اکرمی) کی ہمشیرہ اور سید نطہر برماور ( والد سید سمیع اللہ برماور ) کی عزیز تھیں،ان قرابت داروں نے صلہ رحمی کا حق ادا کرنے کی بساط بھر کوششیں کیں۔ اس طرح آپ کا بچپن داغ یتیمی کی نذر ہوگیا ہے، بچپن کا یہی احساس تھا جس نے انہیں اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں کا ہمدرد اور بہی خواہ بنا دیا، اور حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے جس طرح صلہ رحمی، اپنوں اور غیروں سے ہمدردی اور ان کے مدد کو اپنی زندگی کا شعار بنایا تھا ،اس کی مثال ہمارے معاشرے میں شاذ ونادر ہی مل سکے گی۔
خاندانی پس منظر۔ سید کاکو سادات
یہاں یہ بتانا مناسب ہوگا کہ بھٹکل کی نوائط برادری میں سادات کے جو خاندان پائے جاتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نسب بغداد (عراق) سے تشریف لانے والے بزرگ سید ابراہیم بغداد ی سے ملتا ہے، سید حسن برماور کا نسبی تعلق انہی بزرگ کی سید کاکو شاخ سے ملتا تھا ۔جوکہ آپ کے فرزند سید عثمان سے چلی تھی۔
مشہور محقق ڈاکٹر وکٹر دیسوزا نے اپنی تحقیقی کتاب نوائط آف کینرا کی تصنیف کے زمانے میں قوم کے ایک بزرگ سید عمر برماور مرحوم ( سابق جنرل سکریٹری مجلس اصلاح وتنطیم بھٹکل) سے ملاقات کرکے ان کا جو نسب نامہ حاصل کیا تھا، اس کا خلاصہ اپنی کتاب میں یوں بیان کیا ہے۔
" مندرجہ ذیل ایک شجرہ نسب ہے جسے بھٹکل کے ان سید خاندانوں میں سے ایک نے محفوظ کیا ہے جو اپنا سلسلہ نسب سید ابراہیم بغدادی سے جوڑتے ہیں۔ یہ شجرہ مجھے برماور سید عمر بن سید حسن بن سید علی بن سید محی الدین بن سید حسین بن سید محمد بن سیدکاکو احمد برماور بن سیدکاکو سید حسین بن سیدکاکو سید عثمان بن سیدکاکو سید علی بن سیدکاکو سید عثمان بن سید ابراہیم بغدادی نے دکھایا تھا۔ یہ شجرہ سید ابراہیم بغدادی کا مکمل نسب نامہ بھی دکھاتا ہے جو خود نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے۔
❤1
جس خاندان کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اپنا سلسلہ نسب سید ابراہیم بغدادی کے بیٹے سید کاکو کے ذریعے جوڑتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے سیدکاکو بھی کہا جاتا ہے۔ خاندانی نام 'برماور' آباؤ اجداد میں سے ایک بزرگ سید احمد کے ذریعے حاصل ہوا جن کے جنوبی کناڑا میں 'برماور' نامی جگہ پر تجارتی تعلقات تھے۔ لہذا، برماور خاندان محض سیدکاکو خاندان کی ایک شاخ ہے۔ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ برماور کا خاندانی نام استعمال کرنے والے لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو سید نہیں ہیں۔ وہ سیدکاکو کے خاندانی اصل سے تعلق رکھنے والے برماور خاندانوں سے الگ ہیں۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ سیدمحی الدین اور سیدکاظمی کے خاندانی سلسلے سید ابراہیم بغدادی کے دو دیگر بیٹوں محی الدین اور کاظم سے نکلے ہیں۔ اس طرح ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ چاروں خاندانی سلسلے یعنی برماور، سیدکاکو، سیدمحی الدین اور سیدکاظمی ایک ہی جگہ پر جمع ہو جاتے ہیں"۔
(THE NAVAYATS OF KANARA p.91)
سید کاکو برماور کے خاندانی مکانات مسجد سلطانی کے بائیں طرف اب بھی واقع ہیں، مشہور ہے کہ سلطنت خداداد میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کی والدہ کا تعلق بھٹکل سے تھا، اور سلطان شہید نے یہ مسجد اپنی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے تعمیر کی تھی، اور اس کے اخراجات کے لئے جائدادیں وقف کی تھی، اور مسجد کی ذمہ داری اسی سید کاکو خاندان کے بزرگوں کو سونپی تھی۔ اور سلطان کے حکم سے جو سند عنایت کی تھی وہ وثیقہ کے نام سے مشہور ہے، یہ وثیقہ فارسی زبان میں لکھا ہے، اور خاندان میں ابتک محفوظ چلا آرہا ہے، اس کا اردو ترجمہ نفع عام کے لئے پیش خدمت ہے۔
نقلِ سندِ مسجدِ سلطانی
منشور فیض گنجور ظل اللہ الملک المنان ٹیپو سلطان بادشاہ غازی خلد اللہ ملکہ و سلطانہ
حال و مستقبل کے بھٹکل و شرالی تعلقہ کے والیوں اور قلعہ داروں کے نام یہ تحریر ہے کہ سید احمد کو سلطانی مسجد کی تعمیر کے لیے تاکید کی جائے، اور اس کی تیاری کے لیے ایک ہزار روپیہ نقد اور زمین کے لیے حیدری ہون (سکہ کا نام) بطور انعام برائے خرچِ مسجدِ موصوف منظور کی گئی ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ بغیر کسی عذر و حیلہ کے مسجد سے متصل قابلِ کاشت زمین دے دیں اور بڑے پتھر پر مسجد کا نام انعام کی زمین کی مقدار بقیدِ سال و تاریخ چسپاں کی جائے، اور نقش کیا ہوا یہ پتھر سیادت پناہ سید احمد کو دے دیا جائے، اور ہمیشہ کے لیے یہ بات مؤکد طور پر جان لیں کہ مذکورہ مسجد میں مسلمان جمع ہو کر اتفاق کے ساتھ نمازِ پنجگانہ و عیدین ادا کریں گے، اور دینِ متین کی تقویت اور سلطنتِ خداداد کی ترقی و استحکام کے لیے دعا کرتے رہیں گے، اور آئندہ کبھی بھی کوئی مسجدِ سلطانی کی انعام والی زمین پر اعتراض نہ کرنے پائے۔ اس باب میں سخت تاکید کی جائے اور قدغن عائد کی جائے۔
مرقوم ۲۶ ماہ خسروی سال سحر ۱۲۲۱ھ (یعنی ۲۶ رجب ۱۲۰۷ھ مطابق ۹ مارچ ۱۷۹۳ء)
بخط محمد حامد سعید
جدو جہد زندگی
جب یہ ناچیز جامع مسجد میں مکتب جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا طالب علم تھا تو اس دوران سید حسن برماور کا داخلہ مکتب جامعہ میں ہوا تھا، گھریلو حالات ایسے نہیں تھے، کہ یکسوئی سے تعلیم جاری رکھ پاتے، غالبا مکتب پنچم پہنچتے پہنچتے مکتبی تعلیم کو خیر باد کہا۔ ابھی عمر دس بارہ سال کی تھی کہ تلاش معاش میں بنگلور چلے گئے، جہاں مختصر عرصہ اہل بھٹکل کی ایک دکان وھائٹ ہاوس میں گزارا۔ یہاں بھی جب دل نہیں لگا تو کام چھوڑ کرکچھ عرصہ بے کاری میں گذارا، پھر انہیں آپ کے ماموں اپنی سرپرستی میں چنئی لے گئے جہاں آپ نے کچھ عرصہ شمس الدین باشا پٹیل مرحوم کی دربار لنگی میں گذارا۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ جماعت اسلامی ہند حلقہ ٹمل ناڈو کے امیر مولانا عبد العزیز مرحوم تھے، جو کہ چوٹی کے خطیب اور متحرک شخصیت تھے، اس وقت پٹیل باشاہ صاحب کے انتقال کے بعد دربار لنگی اور دل پسند رومال کا کاروبار آپ کے فرزند عبد الرحمن سائب شابندری پٹیل صاحب دیکھ رہے تھے، کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مشہور نو مسلم عالم حدیث ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن الاعظمی ۔ (سابق صدر شعبہ حدیث مدینہ یونیورسٹی) اسلام میں داخل ہونے کے بعد امتحان و ابتلاء میں پڑ گئے تھے ، اور پولیس اور دشمنوں سے چھپ چھپاتے پھر رہے تھے، اس دوران کچھ عرصہ اس کمپنی کو آپ کی میزبانی اور نگہبانی کا شرف حاصل ہوا تھا، عبد الرحمن سائب پٹیل صاحب جماعت اسلامی کی فکر کے حامل تھے(ماشاء اللہ بقید حیات ہیں)، مولانا مودودی سے ۱۹۶۰ء کی دہائی میں دوران حج ملاقات کا بھی شرف آپ کو حاصل ہوا تھا۔ بھٹکل میں مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی سابق امیر جماعت اسلامی ہند، اور مولانا سید حامد حسین ، سکریٹری جماعت جیسی اہم شخصیات آپ ہی کے توسط سے بھٹکل تشریف لائی تھیں۔
(THE NAVAYATS OF KANARA p.91)
سید کاکو برماور کے خاندانی مکانات مسجد سلطانی کے بائیں طرف اب بھی واقع ہیں، مشہور ہے کہ سلطنت خداداد میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کی والدہ کا تعلق بھٹکل سے تھا، اور سلطان شہید نے یہ مسجد اپنی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے تعمیر کی تھی، اور اس کے اخراجات کے لئے جائدادیں وقف کی تھی، اور مسجد کی ذمہ داری اسی سید کاکو خاندان کے بزرگوں کو سونپی تھی۔ اور سلطان کے حکم سے جو سند عنایت کی تھی وہ وثیقہ کے نام سے مشہور ہے، یہ وثیقہ فارسی زبان میں لکھا ہے، اور خاندان میں ابتک محفوظ چلا آرہا ہے، اس کا اردو ترجمہ نفع عام کے لئے پیش خدمت ہے۔
نقلِ سندِ مسجدِ سلطانی
منشور فیض گنجور ظل اللہ الملک المنان ٹیپو سلطان بادشاہ غازی خلد اللہ ملکہ و سلطانہ
حال و مستقبل کے بھٹکل و شرالی تعلقہ کے والیوں اور قلعہ داروں کے نام یہ تحریر ہے کہ سید احمد کو سلطانی مسجد کی تعمیر کے لیے تاکید کی جائے، اور اس کی تیاری کے لیے ایک ہزار روپیہ نقد اور زمین کے لیے حیدری ہون (سکہ کا نام) بطور انعام برائے خرچِ مسجدِ موصوف منظور کی گئی ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ بغیر کسی عذر و حیلہ کے مسجد سے متصل قابلِ کاشت زمین دے دیں اور بڑے پتھر پر مسجد کا نام انعام کی زمین کی مقدار بقیدِ سال و تاریخ چسپاں کی جائے، اور نقش کیا ہوا یہ پتھر سیادت پناہ سید احمد کو دے دیا جائے، اور ہمیشہ کے لیے یہ بات مؤکد طور پر جان لیں کہ مذکورہ مسجد میں مسلمان جمع ہو کر اتفاق کے ساتھ نمازِ پنجگانہ و عیدین ادا کریں گے، اور دینِ متین کی تقویت اور سلطنتِ خداداد کی ترقی و استحکام کے لیے دعا کرتے رہیں گے، اور آئندہ کبھی بھی کوئی مسجدِ سلطانی کی انعام والی زمین پر اعتراض نہ کرنے پائے۔ اس باب میں سخت تاکید کی جائے اور قدغن عائد کی جائے۔
مرقوم ۲۶ ماہ خسروی سال سحر ۱۲۲۱ھ (یعنی ۲۶ رجب ۱۲۰۷ھ مطابق ۹ مارچ ۱۷۹۳ء)
بخط محمد حامد سعید
جدو جہد زندگی
جب یہ ناچیز جامع مسجد میں مکتب جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا طالب علم تھا تو اس دوران سید حسن برماور کا داخلہ مکتب جامعہ میں ہوا تھا، گھریلو حالات ایسے نہیں تھے، کہ یکسوئی سے تعلیم جاری رکھ پاتے، غالبا مکتب پنچم پہنچتے پہنچتے مکتبی تعلیم کو خیر باد کہا۔ ابھی عمر دس بارہ سال کی تھی کہ تلاش معاش میں بنگلور چلے گئے، جہاں مختصر عرصہ اہل بھٹکل کی ایک دکان وھائٹ ہاوس میں گزارا۔ یہاں بھی جب دل نہیں لگا تو کام چھوڑ کرکچھ عرصہ بے کاری میں گذارا، پھر انہیں آپ کے ماموں اپنی سرپرستی میں چنئی لے گئے جہاں آپ نے کچھ عرصہ شمس الدین باشا پٹیل مرحوم کی دربار لنگی میں گذارا۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ جماعت اسلامی ہند حلقہ ٹمل ناڈو کے امیر مولانا عبد العزیز مرحوم تھے، جو کہ چوٹی کے خطیب اور متحرک شخصیت تھے، اس وقت پٹیل باشاہ صاحب کے انتقال کے بعد دربار لنگی اور دل پسند رومال کا کاروبار آپ کے فرزند عبد الرحمن سائب شابندری پٹیل صاحب دیکھ رہے تھے، کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مشہور نو مسلم عالم حدیث ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن الاعظمی ۔ (سابق صدر شعبہ حدیث مدینہ یونیورسٹی) اسلام میں داخل ہونے کے بعد امتحان و ابتلاء میں پڑ گئے تھے ، اور پولیس اور دشمنوں سے چھپ چھپاتے پھر رہے تھے، اس دوران کچھ عرصہ اس کمپنی کو آپ کی میزبانی اور نگہبانی کا شرف حاصل ہوا تھا، عبد الرحمن سائب پٹیل صاحب جماعت اسلامی کی فکر کے حامل تھے(ماشاء اللہ بقید حیات ہیں)، مولانا مودودی سے ۱۹۶۰ء کی دہائی میں دوران حج ملاقات کا بھی شرف آپ کو حاصل ہوا تھا۔ بھٹکل میں مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی سابق امیر جماعت اسلامی ہند، اور مولانا سید حامد حسین ، سکریٹری جماعت جیسی اہم شخصیات آپ ہی کے توسط سے بھٹکل تشریف لائی تھیں۔
اس زمانے میں عبد الرحمن سائب پٹیل نے اپنی کمپنی میں ہفت وار درس قرآن کے انعقاد کا اہتمام کیا تھا، جس میں مولانا عبد العزیز صاحب (پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ آپ کے درس وتقاریر سے اہلیان بھٹکل واطراف بہت متاثر ہوتے تھے۔ سید حسن مرحوم کوبھی انہی دروس نے جماعت اسلامی سے محبت، اور دین کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا تھا، جو آپ کے دم واپسیں تک برابر قائم ودائم رہا۔ (جاری)
WA: 00919008175269
Https://telegram.me/ilmokitab
WA: 00919008175269
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
**تذکیر*: ماہ رمضان المبارک اور عید الفطر کی تعطیلات کے وقفہ کے بعد آپ کی یہ بزم علم وکتاب حسب سابق اپنی سابقہ ترتیب کے مطابق فعال ہورہی ہے، آپ حضرات سے گذارش ہے کہ اسے سنجیدہ، معیاری اور مفید تر بنانے میں متعاون ہوں، اس سے استفادہ بھی کریں، اور اپنی ذات کو بھی دوسروں کے لئے مفید بنانے کے لئے کوشاں ہوں۔
آپ کی تھوڑی سی توجہ اس بزم کو ایک تحریک میں بدل سکتی ہے،بس عزم و ارادہ اور اللہ تعالی سے توفیق کی ضرورت ہے۔
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب
Https://telegram.me/ilmokitab
آپ کی تھوڑی سی توجہ اس بزم کو ایک تحریک میں بدل سکتی ہے،بس عزم و ارادہ اور اللہ تعالی سے توفیق کی ضرورت ہے۔
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
ان شاء اللہ وقتا فوقتا گھنٹے دو گھنٹے کے لئے اس چینل میں پیغامات کی ترسیل کی اجازت دینے کا ارادہ ہے، اس دوران آپ حضرات اپنے تاثرات اور مفید آراء سے نوازتے رہیں۔ شکریہ ۔ عبد المتین منیری۔ اڈمن علم وکتاب چینل