گذشتہ دو ہفتوں کے درمیان اس چینل سے ستر ممبران کم ہوئے ہیں، احباب سے گذارش ہے کہ اس چینل کو زیادہ سے زیادہ متعارف کرنے کی کوشش کریں۔ عبد المتین منیری ۔ اڈمن علم وکتاب چینل
*وفیات مورخہ: 27/مارچ*
1986ء ڈاکٹڑ محمد عبد الحی عارفی۔ خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی
1898ء سر سید احمد خان۔ بانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
1999ء شاکر علی جعفری۔ ،
2011ء شریف احمد۔ مولانا قاری
2008ء عبد الغنی محتشم۔ صدر انجمن حامی مسلمین بھٹکل
1983ء عبدالبشیر آذری۔ پروفیسر ،
1992ء علی عباس زیدی، ابن حیدر۔ ،
1994ء لیاقت درانی۔ ،
2019ء محمد سعید وستانی۔ مولانا
1974ء نصرت عبداللہ ہارون۔ لیڈی
1966ء نواب سرمحمد یامین خان۔ ،
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1986ء ڈاکٹڑ محمد عبد الحی عارفی۔ خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی
1898ء سر سید احمد خان۔ بانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
1999ء شاکر علی جعفری۔ ،
2011ء شریف احمد۔ مولانا قاری
2008ء عبد الغنی محتشم۔ صدر انجمن حامی مسلمین بھٹکل
1983ء عبدالبشیر آذری۔ پروفیسر ،
1992ء علی عباس زیدی، ابن حیدر۔ ،
1994ء لیاقت درانی۔ ،
2019ء محمد سعید وستانی۔ مولانا
1974ء نصرت عبداللہ ہارون۔ لیڈی
1966ء نواب سرمحمد یامین خان۔ ،
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*سید حسن برماور۔ ایک دل درد مند رکھنے والا انسان (2)*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
۱۹۷۰ ء دہائی میں تلاش معاش کے لئے خلیجی ممالک کے دروازے اہل وطن پر جب کھل گئے، تو سنہ ۱۹۷۷ ء میں آپ نے سعودی عرب کا رخ کیا، جس میں آپ کو اپنے ماموں زاد بھائی محمد اسماعیل اکرمی کا تعاون رہا، پہلے آپ نے مقامی عرب سلیمان دلالی کے ریسٹورنٹ میں کچھ عرصہ کام کیا، پھر الخوبر میں مرحوم محمد اسماعیل کیپا سائب کے اسٹور سے تجارتی اشیاء کپڑے وغیرہ لے کر الجبیل میں چھوٹا موٹا کاروبار شروع کیا، کچھ عرصہ بعد ایک مقامی عرب محمد الحمری کی شراکت میں یہیں پر وھائٹ شاپ کے نام سے دکان شروع کی، جس میں آپ کے عزیز محمد اسماعیل اکرمی بھی آپ کے شریک رہے۔
قسمت نے یاوری کی تجارت خوب چمکی، آٹھ دس سال تک خوب ترقی ہوتی رہی ، اور ہن برسنے لگا،اور آپ سعودی عرب میں بھٹکل کے قدیم اور بڑے تاجر کیپا سائب کی طرف منسوب ہوکردھاکلو کیپا (چھوٹا کیپا ) مشہور ہوگئے، اس دوران آپ نے (۱۳) کپڑوں کی دکانیں قائم کیں، پھر حالات نے پلٹا کھایا ، کچھ عراق ایران جنگ کا بھی اثر تھا، آہستہ آہستہ تمام دکانیں بند ہوگئیں، پھر آپ نے جدہ میں کاروبار شروع کیا، ۱۹۹۴ء میں ایک دو سال کے لئے دبی میں بھی سید تبریز برماور مرحوم کے ساتھ ایک تجارتی آفس قائم کیا تھا، اس طرح ۱۹۹۷ء تک لشتم پشتم جدہ ودبی میں کاردبار چلتا رہا، یہاں تک آپ نے بھٹکل میں مستقل اقامت اختیار کی۔ اور اپنی زندگی خدمت خلق کے لئے وقف کردی۔اور یہاں پر آپ نے اپنی جد وجہد او رکوششوں اور قربانیوں کے انمول نشان ثبت کئے۔
گھر واپسی۔ سماجی خدمات
یہا ں اسلامک ویلفیر سوسائٹی آپ کی توجہات کا خصوصی مرکز رہی، ۱۹۸۸۔۱۹۸۹ء میں جب اسے مالی بحران کا سامنا ہوا، تو آپ نے خطیر عطیہ کے ذریعے اسے مستحکم ہونے میں بڑی مدد کی۔ شمس انگلش اسکول بھی آپ کی سخاوت کا شاہد رہا، ان اداروں سے آپ کی دوسری نسل وابستہ ہے۔
مجلس اصلاح وتنطیم کے کاموں میں بھی آپ کی دلچسپی رہی، آپ نے آرٹی ای کے قانون کا بہترین استعمال کرتے ہوئے، سرکاری اداروں میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور بد انتظامیوں کو اجاگر کرنے میں قابل قدر کوششیں کیں۔
جب بھٹکل ریلوے نظام سے جڑ گیا، اور کوکن ریلوے کا آغاز ہوا ، اور ڈپارٹمنٹ سے بھٹکل کے ساتھ سوتیلے پن کا اظہار ہونے لگا، تو کئی ایک بڑے روٹس کی اہم ٹرینوں کو یہاں روکنے اور مسافرین کو سہولت بخشنے کے لئے قابل قدر خدمات انجام دیں۔
وہ مجلس ملیہ نوائط کالونی ، عثمانیہ مسجد، اور مسجد عمر الجابری کی انتظامیہ سے بھی وابستہ رہے۔جامعہ آباد میں واقع مسجد ابراہیم کی تعمیر میں آپ کا وافر حصہ رہا، آپ کا ارادہ ایک دینی تعلیمی ادارے کے قیام کا بھی تھا، جس کے لئے سعدا محمد جفری کے نام سے منسوب ایک عمارت بھی وقف کی تھی۔
آپ کا زندگی بھر جماعت اسلامی سے جذباتی لگاؤ رہا، جب وہ باہر رہے تب بھی جماعت کے بڑے پروگراموں اوراجتماعات میں سفر کرکے شرکت کا اہتمام کرتے تھے، اور جب جماعت کی اہم شخصیات بھٹکل تشریف لاتیں تو ان کی میزبانی زیادہ تر آپ ہی کے حصے میں آتی تھی۔
وہ دل کے صاف تھے، جوبات دل میں آتی بلارو رعایت اس کا اظہار کرتے تھے۔ جس سے جہاں ان کے چاہنے والے پیدا ہوئے وہے، وہیں کئی ایک نے ان سے فاصلہ رکھنے میں ہی عافیت سمجھی۔
ذاتی تعلق خاطر۔ چند واقعات
اس ناچیز سے آپ کا مخلصانہ تعلق رہا، میری اہلیہ کے ساتھ اپنی ایک سگی بہن کی طرح پیش آتے تھے، اور غمی خوشی کے تمام موقعوں پر پابندی سے یاد کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے اڑوس پڑوس کے خاندان والوں کی خوب خبر گیری کی، انہیں معاشی طور پر اوپر اٹھانے اور ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کا زندگی کے آخری لمحات تک اہتمام کیا۔
اس ناچیز کو عالم اسلام کے حالات سے سن شعور کے آغاز ہی سے دلچسپی تھی، ۱۹۷۵ء میں جب جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تدریس سے وابستگی ہوئی تو، عالم عرب کے مجلات کی فراہمی کی کوششیں کرنے کا موقعہ ملا، ۱۹۷۶ء میں جب مصر سے اخوان کے مجلہ الدعوۃ کا (۲۳) سال بعد استاد عمر التلمسانی اور صالح عشماوی کی ادارت میں از سر نو اجراء ہوا تو اس کے پہلے شمارے سے اپنے نام یہ مجلہ جاری کرنے میں کامیابی ہوگئی۔
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
۱۹۷۰ ء دہائی میں تلاش معاش کے لئے خلیجی ممالک کے دروازے اہل وطن پر جب کھل گئے، تو سنہ ۱۹۷۷ ء میں آپ نے سعودی عرب کا رخ کیا، جس میں آپ کو اپنے ماموں زاد بھائی محمد اسماعیل اکرمی کا تعاون رہا، پہلے آپ نے مقامی عرب سلیمان دلالی کے ریسٹورنٹ میں کچھ عرصہ کام کیا، پھر الخوبر میں مرحوم محمد اسماعیل کیپا سائب کے اسٹور سے تجارتی اشیاء کپڑے وغیرہ لے کر الجبیل میں چھوٹا موٹا کاروبار شروع کیا، کچھ عرصہ بعد ایک مقامی عرب محمد الحمری کی شراکت میں یہیں پر وھائٹ شاپ کے نام سے دکان شروع کی، جس میں آپ کے عزیز محمد اسماعیل اکرمی بھی آپ کے شریک رہے۔
قسمت نے یاوری کی تجارت خوب چمکی، آٹھ دس سال تک خوب ترقی ہوتی رہی ، اور ہن برسنے لگا،اور آپ سعودی عرب میں بھٹکل کے قدیم اور بڑے تاجر کیپا سائب کی طرف منسوب ہوکردھاکلو کیپا (چھوٹا کیپا ) مشہور ہوگئے، اس دوران آپ نے (۱۳) کپڑوں کی دکانیں قائم کیں، پھر حالات نے پلٹا کھایا ، کچھ عراق ایران جنگ کا بھی اثر تھا، آہستہ آہستہ تمام دکانیں بند ہوگئیں، پھر آپ نے جدہ میں کاروبار شروع کیا، ۱۹۹۴ء میں ایک دو سال کے لئے دبی میں بھی سید تبریز برماور مرحوم کے ساتھ ایک تجارتی آفس قائم کیا تھا، اس طرح ۱۹۹۷ء تک لشتم پشتم جدہ ودبی میں کاردبار چلتا رہا، یہاں تک آپ نے بھٹکل میں مستقل اقامت اختیار کی۔ اور اپنی زندگی خدمت خلق کے لئے وقف کردی۔اور یہاں پر آپ نے اپنی جد وجہد او رکوششوں اور قربانیوں کے انمول نشان ثبت کئے۔
گھر واپسی۔ سماجی خدمات
یہا ں اسلامک ویلفیر سوسائٹی آپ کی توجہات کا خصوصی مرکز رہی، ۱۹۸۸۔۱۹۸۹ء میں جب اسے مالی بحران کا سامنا ہوا، تو آپ نے خطیر عطیہ کے ذریعے اسے مستحکم ہونے میں بڑی مدد کی۔ شمس انگلش اسکول بھی آپ کی سخاوت کا شاہد رہا، ان اداروں سے آپ کی دوسری نسل وابستہ ہے۔
مجلس اصلاح وتنطیم کے کاموں میں بھی آپ کی دلچسپی رہی، آپ نے آرٹی ای کے قانون کا بہترین استعمال کرتے ہوئے، سرکاری اداروں میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور بد انتظامیوں کو اجاگر کرنے میں قابل قدر کوششیں کیں۔
جب بھٹکل ریلوے نظام سے جڑ گیا، اور کوکن ریلوے کا آغاز ہوا ، اور ڈپارٹمنٹ سے بھٹکل کے ساتھ سوتیلے پن کا اظہار ہونے لگا، تو کئی ایک بڑے روٹس کی اہم ٹرینوں کو یہاں روکنے اور مسافرین کو سہولت بخشنے کے لئے قابل قدر خدمات انجام دیں۔
وہ مجلس ملیہ نوائط کالونی ، عثمانیہ مسجد، اور مسجد عمر الجابری کی انتظامیہ سے بھی وابستہ رہے۔جامعہ آباد میں واقع مسجد ابراہیم کی تعمیر میں آپ کا وافر حصہ رہا، آپ کا ارادہ ایک دینی تعلیمی ادارے کے قیام کا بھی تھا، جس کے لئے سعدا محمد جفری کے نام سے منسوب ایک عمارت بھی وقف کی تھی۔
آپ کا زندگی بھر جماعت اسلامی سے جذباتی لگاؤ رہا، جب وہ باہر رہے تب بھی جماعت کے بڑے پروگراموں اوراجتماعات میں سفر کرکے شرکت کا اہتمام کرتے تھے، اور جب جماعت کی اہم شخصیات بھٹکل تشریف لاتیں تو ان کی میزبانی زیادہ تر آپ ہی کے حصے میں آتی تھی۔
وہ دل کے صاف تھے، جوبات دل میں آتی بلارو رعایت اس کا اظہار کرتے تھے۔ جس سے جہاں ان کے چاہنے والے پیدا ہوئے وہے، وہیں کئی ایک نے ان سے فاصلہ رکھنے میں ہی عافیت سمجھی۔
ذاتی تعلق خاطر۔ چند واقعات
اس ناچیز سے آپ کا مخلصانہ تعلق رہا، میری اہلیہ کے ساتھ اپنی ایک سگی بہن کی طرح پیش آتے تھے، اور غمی خوشی کے تمام موقعوں پر پابندی سے یاد کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے اڑوس پڑوس کے خاندان والوں کی خوب خبر گیری کی، انہیں معاشی طور پر اوپر اٹھانے اور ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کا زندگی کے آخری لمحات تک اہتمام کیا۔
اس ناچیز کو عالم اسلام کے حالات سے سن شعور کے آغاز ہی سے دلچسپی تھی، ۱۹۷۵ء میں جب جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تدریس سے وابستگی ہوئی تو، عالم عرب کے مجلات کی فراہمی کی کوششیں کرنے کا موقعہ ملا، ۱۹۷۶ء میں جب مصر سے اخوان کے مجلہ الدعوۃ کا (۲۳) سال بعد استاد عمر التلمسانی اور صالح عشماوی کی ادارت میں از سر نو اجراء ہوا تو اس کے پہلے شمارے سے اپنے نام یہ مجلہ جاری کرنے میں کامیابی ہوگئی۔
❤1
وہ زمانہ آڈیو کیسٹوں کا تھا، مجلۃ الدعوۃ میں شیخ عبد الحمید کشک، محمد متعال الجبری، حسن ایوب،جیسے مصری خطیبوں کے کیسٹوں کے اشتہارات چھپتے تھے، جنہیں دیکھ کر اردو میں بھی ایسے دعوتی اور تحریکی کیسٹوں کے اجراء کی خواہش ہوتی تھی، جب ۱۹۷۹ء کے وسط میں تلاش معاش کے لئے ہمارا دبی جانا ہوا تو پہلے روز سے وہاں کے ایک ایسے ادارے سے تعلق ہوگیا ، جہاں ہفتہ وار دینی ودعوتی پروگرام منعقد ہوتے تھے،یہاں آنے والے مشاہیر علماء و داعیان حق کے خطبات بالمشافہ سننے کا موقعہ ملتا تھا، اس زمانے میں مصر کے شیخ عبد الحمید کشک کی بڑی شہرت تھی، قاہرہ میں ا ن کے جمعہ خطبات سننے کے لئے لوگ مسجد میں فجر کی نماز سے بیٹھ کر انتظار کرتے تھے، ان کے خطبات کے کیسٹ خوشبو کی طرح پھیلتے تھے، دبی میں آپ کے خطبات اسی روز پہنچتے، اور ان کی سیکڑوں کاپیاں بکتیں، ہمارے دبی پہنچنے کے تھوڑے عرصہ قبل ہمارے کرم فرما صدیق محمد جعفری مرحوم کی کوششوں سے الراس میں واقع دبی کے اولین مدرسہ الاحمدیۃ کی قدیم عمارت میں دار المطالعہ لئے ایک کمرہ مل گیا تھا، جس میں مقامی اور ہندوپاک کے روزنامے، ہفت روزے، اور مجلات آتے تھے، ایک کتب خانہ بھی تھا جس میں سینکڑوں کتابیں پائی جاتی تھیں،یہ جمعیت تربیت اسلامی کے نام سے موسوم تھا، اور اس کے ماتحت ہفتہ وار درس قرآن، اجتماعی مطالعہ، تقسیم فطرہ اور مختلف تحریکی و دعوتی سرگرمیاں ہوتی تھی، ۱۹۸۰ء میں اس کی نظامت کا بار اس ناچیز کے کاندھوں پر پڑا، جو آٹھ سال تک جاری رہا۔
ہماری سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے، اس وقت کے اوقاف دبی کے ڈائرکٹر جنرل شیخ عبد الجبار محمد الماجد مرحوم نے جمعیت کو سرکاری اجازت نامہ مرحمت فرمایا، جس کی بنیاد پر وزارۃ الاعلام والثقافہ سے بھی لائسنس مل گیا۔ اس طرح ہماری ایک دیرینہ خواہش پوری ہوگئی، اور ۱۹۸۰ء میں سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا محمد یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی دعاؤں سے پیغام اسلام کیسٹ سیریز کے نام سے آڈیو کیسٹوں کا اپنی نوعیت کا اولین سلسلہ شروع ہوا، اس کا آغاز ہم نے مولانا سید ابو الاعلی مودودی ؒ کی پنجاب یونیورسٹی کی تقریر سیرت کا پیغام سے کیا تھا، اس زمانے میں ہمارے تعلقات مولانا خلیل احمد حامدی ، سابق ناظم دار العروبہ، و ادارہ معارف اسلامی لاہور سے مستحکم ہوئے، حامدی مرحوم کو ہمارا کیسٹوں کا سلسلہ بہت پسند آیا، اور لاہور جاکر الابلاغ لمیٹڈ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جہاں سے مولانا مودودی کے مزید کیسٹوں کی اشاعت ہوئی، جس میں ایک طرح سے ہماری جمعیت کا بھی تعاون رہا، اور ایک معاہدے کے تحت، الابلاغ کے کیسٹ ہمیں موصول ہوتے، جن کی کاپیاں ہم بناتے، اور ہر کاپی پر ایک درہم رایلٹی دیتے، ان پر الابلاغ کے اوریجنل غلاف اور اسٹیکر استعمال کرتے۔
وہ زمانہ ویڈیو کیسٹوں کا تھا، جو وی سی آر پر چلتے تھے،۱۹۸۱ء میں ہم لوگوں نے پیغام اسلام ویڈیو سیریز کا آغاز کیا، اس کا آغاز بھی مولانا مودودی کے اکلوتے ویڈیو انٹرویو " داعی الی اللہ کے اوصاف " سے کیا تھا، جسے ہمیں مصاحبہ کار ڈاکٹر انیس احمد نے اس زمانے میں اہتمام سے بھیجا تھا۔
سید حسن مرحوم کے لئے یہ سب چیزیں بڑی دلچسپی کی تھیں، اسکے لئے آپ نے ایک بڑا قیمتی ویڈیو کیمرہ لیا تھا، جو وطن میں ہمارے بہت کام آتا تھا، اس کے ذریعہ آپ نے بنگلور میں منعقدہ یس آئی او کے پہلے کل ہند اجتماع کی ریکارڈنگ بھی محفوظ کی تھی۔
ہمارا مزاج پہلے سے ان چیزوں کے حصول ان کی ترتیب و ایڈیٹنگ تک محدود تھا، ان کی ترویج و اشاعت کی ذمہ داری دوسرے احباب کرتے تھے، لہذا ہم نے ابتدا ہی سے ویڈیو وغیرہ سے وابستہ تنازعات سے خود کو دور رکھا، کوئی عالم دین راضی ہوا تو اس کی ویڈیو بنالی، ورنہ آڈیو ریکارڈنگ ہی پر اکتفا کیا۔
ہماری سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے، اس وقت کے اوقاف دبی کے ڈائرکٹر جنرل شیخ عبد الجبار محمد الماجد مرحوم نے جمعیت کو سرکاری اجازت نامہ مرحمت فرمایا، جس کی بنیاد پر وزارۃ الاعلام والثقافہ سے بھی لائسنس مل گیا۔ اس طرح ہماری ایک دیرینہ خواہش پوری ہوگئی، اور ۱۹۸۰ء میں سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا محمد یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی دعاؤں سے پیغام اسلام کیسٹ سیریز کے نام سے آڈیو کیسٹوں کا اپنی نوعیت کا اولین سلسلہ شروع ہوا، اس کا آغاز ہم نے مولانا سید ابو الاعلی مودودی ؒ کی پنجاب یونیورسٹی کی تقریر سیرت کا پیغام سے کیا تھا، اس زمانے میں ہمارے تعلقات مولانا خلیل احمد حامدی ، سابق ناظم دار العروبہ، و ادارہ معارف اسلامی لاہور سے مستحکم ہوئے، حامدی مرحوم کو ہمارا کیسٹوں کا سلسلہ بہت پسند آیا، اور لاہور جاکر الابلاغ لمیٹڈ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جہاں سے مولانا مودودی کے مزید کیسٹوں کی اشاعت ہوئی، جس میں ایک طرح سے ہماری جمعیت کا بھی تعاون رہا، اور ایک معاہدے کے تحت، الابلاغ کے کیسٹ ہمیں موصول ہوتے، جن کی کاپیاں ہم بناتے، اور ہر کاپی پر ایک درہم رایلٹی دیتے، ان پر الابلاغ کے اوریجنل غلاف اور اسٹیکر استعمال کرتے۔
وہ زمانہ ویڈیو کیسٹوں کا تھا، جو وی سی آر پر چلتے تھے،۱۹۸۱ء میں ہم لوگوں نے پیغام اسلام ویڈیو سیریز کا آغاز کیا، اس کا آغاز بھی مولانا مودودی کے اکلوتے ویڈیو انٹرویو " داعی الی اللہ کے اوصاف " سے کیا تھا، جسے ہمیں مصاحبہ کار ڈاکٹر انیس احمد نے اس زمانے میں اہتمام سے بھیجا تھا۔
سید حسن مرحوم کے لئے یہ سب چیزیں بڑی دلچسپی کی تھیں، اسکے لئے آپ نے ایک بڑا قیمتی ویڈیو کیمرہ لیا تھا، جو وطن میں ہمارے بہت کام آتا تھا، اس کے ذریعہ آپ نے بنگلور میں منعقدہ یس آئی او کے پہلے کل ہند اجتماع کی ریکارڈنگ بھی محفوظ کی تھی۔
ہمارا مزاج پہلے سے ان چیزوں کے حصول ان کی ترتیب و ایڈیٹنگ تک محدود تھا، ان کی ترویج و اشاعت کی ذمہ داری دوسرے احباب کرتے تھے، لہذا ہم نے ابتدا ہی سے ویڈیو وغیرہ سے وابستہ تنازعات سے خود کو دور رکھا، کوئی عالم دین راضی ہوا تو اس کی ویڈیو بنالی، ورنہ آڈیو ریکارڈنگ ہی پر اکتفا کیا۔
❤2
لیکن مرحوم کا یہ مزاج نہیں تھا، وہ ان کی ترویج میں بڑے جذباتی ہوجاتے تھے، ۱۹۸۷ء کی بات ہے، مرحوم کو خواہش ہوئی کہ مولانا مودودی کے ویڈیو کی بھٹکل میں نمائش ہونی چاہئے، اور آپ نے شمس نرسری اسکول ، بستی روڈ میں عامۃ الناس کے لئے اس ویڈیو کی نمائش کا پروگرام کیا، اور اس کا اعلان رکشا کے ذریعہ پورے شہر میں اس کا اعلان عام بھی کردیا، قاضی جماعت المسلمین بھٹکل کے سامنے کسی نے اس کی شکایت کردی، اور جماعت کی کمیٹی نے اس ناچیز کو سمن جاری کردیا ، جواب دہی کی اس مجلس میں محترم قاضی صاحب کے ساتھ ، جناب محتشم عبد الغنی (قائد قوم ، سابق صدر انجمن حامی مسلمین بھٹکل) ، اور مولانا عبد العزیز خلیفہ ندوی ( نائب مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماءلکھنو) جیسی موقر شخصیات موجود تھیں۔ میں نے ان حضرات سے بارہا کہا کہ اس ویڈیو کی ترتیب تو میری ہے، لیکن اس کی بھٹکل میں نمائش کے اعلان سے میرا تعلق نہیں ہے، لیکن جماعت نے میری بات نہیں سنی، اور ، مجھ ہی پر اسے روکنے کی ذمہ داری ڈالی، اس وقت میں نے کمیٹی سامنے سے چند ایسے سخت سوالات پیش کئے تھے جن کی عام طور پر وضاحت ممکن نہیں ہوا کرتی، لیکن جماعت کا احترام کرتے ہوئے اس پروگرام کو روکنے کے لئے کوشش کرنے کی ذمہ داری لے لی، اس وقت میرے سرپرست اور تایا الحاج محی الدین منیری مرحوم منی پال اسپتال میں داخل تھے، وہ مثانے کے کینسر کا علاج کررہے تھے، میرا خیال تھا کہ انہیں اس واقعہ کا علم نہیں ہے، لیکن انہوں نے خود سے استفسار کیا، اور کہا کہ آپ کو جواب دینا ان حضرات کے بس کی بات نہیں، اور پھر نصیحت کی کہ جماعتی پلیٹ فارم پر بڑوں کے سامنے اس طرح جوابات نہیں دینے چاہئیں ، بڑوں کے مرتبے اور ادب کا خیال رکھنا چاہئے۔ منیری صاحب کا پھر اصرار بڑھتا رہا کہ میں کسی نظریاتی تنظیم سے وابستہ رہ کر خود کو محدود نہ رکھوں، بلکہ آزاد رہ کر سب سے تعاون جاری رکھوں، اس کے بعد ساتھیوں سے چند ایسی شکایتیں پیش آئیں، جنہوں نے آٹھ سال کی نظامت کے بعد جمعیت سے علحدگی پر مجبورہمیں مجبور کیا، اپنی ساری محنت تیار کردہ مواد بھی چھوڑ دیا، جمعیت بھی ایک دو سال بعد ختم ہوگئی، اور تقریبا دس بارہ سال تک ہم نے آڈیو اور ویڈیو میں دلچسپی محدود کردی۔ مرحوم سے تعلقات میں چند دنوں تک سردمہری رہی، پھر حالات پرانی ڈگر پر آگئے، تعلق و روابط میں وہی بے ساختگی اور محبت لوٹ آئی، مرحوم کی شخصیت ایسی تھی کے اختلافات رائے کے باوجود ان سے نباہ کرنا اور اپنی بات کرنا ممکن ہوتا تھا۔
یاد پڑتا ہے کہ اس کے چند دنوں بعد ہم لوگوں کی ایک پکنک ہوئی تھی، جس میں مولانا مقبول احمد کوبٹے (حال مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل ) وغیرہ شریک تھے، جامعہ آباد کے پڑوسی قصبے تینکگنڈی کے بالمقابل ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جسے کوٹٹا گوڑو کKotta Gudo کہتے ہیں، یہاں سپاٹ میدان اور کم اونچائی کی چٹانوں کے علاوہ کوئی سایہ دار جگہ نہیں پائی جاتی ہے، رات دس بجے کے بعد جب گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، تو اچانک بادلوں کے ٹکرانے کی کڑاکے دار گھن گرج اور آنکھوں کو چکاچوند کرنے وا لی بجلیوں کے ساتھ تیز ہواؤں کے ساتھ بارش برسنے لگی، جو دو تین گھنٹوں تک مسلسل جاری رہی، سامنے نہ سر چھپانے کی جگہ تھی نہ کوئی آسرا، اگر یہ موسم سمندر کے بجائے کسی دریا میں ہوتا، تو جزیرہ پانی میں ڈوب گیا ہوتا، ایک قیامت کا منظر تھا، جو دلوں کو دہلا رہا تھا، ذہن میں زندگی میں سرزد ہونے والے اور انہونے گناہ یاد آرہے تھے، اس وقت مرحوم نے بہت دیر تک رو رو کر اور ڈھاریں مار مار کر جو اجتماعی دعائیں کی تھیں، تیس سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود نظروں سے اوجھل نہیں ہوئیں۔دل ملامت کررہا ہے کہ جس فرد کو ہم نے تند وتیز سمجھا تھا، وہ اندر سے کتنا نرم ، ناریل کے گودے کی مانند ملائم تھا۔
مرحوم اب اس دربار میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپس کوئی نہیں لوٹتا، اب ان کی زندگی پورا حساب وہیں پر ہوگا، اللہ کی ذات بہت غفور رحیم ہے، یقین ہے کہ ان کے حسنات سیئات پر غالب ہونگے، اور انہیں نیک اعمال کی بہترین جزاء ملے گی۔ ان کی یاد مد توں آئے گی، اور ان شاء اللہ بلند درجات کی دعاء کے لئے ہاتھ بلند ہوتے رہیں گے ، ان شاء اللہ
WA: 00919008175269
2026-03-26
Https://telegram.me/ilmokitab
یاد پڑتا ہے کہ اس کے چند دنوں بعد ہم لوگوں کی ایک پکنک ہوئی تھی، جس میں مولانا مقبول احمد کوبٹے (حال مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل ) وغیرہ شریک تھے، جامعہ آباد کے پڑوسی قصبے تینکگنڈی کے بالمقابل ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جسے کوٹٹا گوڑو کKotta Gudo کہتے ہیں، یہاں سپاٹ میدان اور کم اونچائی کی چٹانوں کے علاوہ کوئی سایہ دار جگہ نہیں پائی جاتی ہے، رات دس بجے کے بعد جب گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، تو اچانک بادلوں کے ٹکرانے کی کڑاکے دار گھن گرج اور آنکھوں کو چکاچوند کرنے وا لی بجلیوں کے ساتھ تیز ہواؤں کے ساتھ بارش برسنے لگی، جو دو تین گھنٹوں تک مسلسل جاری رہی، سامنے نہ سر چھپانے کی جگہ تھی نہ کوئی آسرا، اگر یہ موسم سمندر کے بجائے کسی دریا میں ہوتا، تو جزیرہ پانی میں ڈوب گیا ہوتا، ایک قیامت کا منظر تھا، جو دلوں کو دہلا رہا تھا، ذہن میں زندگی میں سرزد ہونے والے اور انہونے گناہ یاد آرہے تھے، اس وقت مرحوم نے بہت دیر تک رو رو کر اور ڈھاریں مار مار کر جو اجتماعی دعائیں کی تھیں، تیس سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود نظروں سے اوجھل نہیں ہوئیں۔دل ملامت کررہا ہے کہ جس فرد کو ہم نے تند وتیز سمجھا تھا، وہ اندر سے کتنا نرم ، ناریل کے گودے کی مانند ملائم تھا۔
مرحوم اب اس دربار میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپس کوئی نہیں لوٹتا، اب ان کی زندگی پورا حساب وہیں پر ہوگا، اللہ کی ذات بہت غفور رحیم ہے، یقین ہے کہ ان کے حسنات سیئات پر غالب ہونگے، اور انہیں نیک اعمال کی بہترین جزاء ملے گی۔ ان کی یاد مد توں آئے گی، اور ان شاء اللہ بلند درجات کی دعاء کے لئے ہاتھ بلند ہوتے رہیں گے ، ان شاء اللہ
WA: 00919008175269
2026-03-26
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
تمدنی زندگی میں مہمان نوازی کی اہمیت
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
موجودہ نظامِ تمدن میں گو مہمانی کی زحمت، ہوٹلوں اور ریسٹرانوں نے اپنے سر لے لی ہے۔ مگر گذشتہ نظامِ تمدن میں اس کی جگہ نہایت اہم تھی اور اب بھی مہمان نوازی مشرقی تمدن کے خمیر میں داخل ہے اور مغربی تمدن نے بھی اس کی رسمی حیثیت کو باقی رکھا ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی وقت کسی کا مہمان ہوتا ہے، اس لیے کہنا چاہیے کہ سوسائٹی کے نظام میں اس کی حیثیت مبادلۂ اخلاق کی ہے۔ آج ہم اپنے مہمان کے ساتھ نیک سلوک اور عزت کا برتاؤ کریں گے تو کل وہ ہمارے ساتھ کرے گا۔ گذشتہ مذاہب کے اخلاق میں مہمان نوازی کی تعلیم کا ذکر، خصوصیت کے ساتھ نہیں، لیکن اہلِ عرب میں مہمان کا بہت بڑا حق سمجھا جاتا تھا۔ مہمان کی خدمت اور حفاظت، میزبان اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اسلام آیا تو اس نے اس فرض کی اہمیت کو اور بڑھایا۔
(سیرت النبی ﷺ، جلد ششم، صفحہ: ١٦٢/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
موجودہ نظامِ تمدن میں گو مہمانی کی زحمت، ہوٹلوں اور ریسٹرانوں نے اپنے سر لے لی ہے۔ مگر گذشتہ نظامِ تمدن میں اس کی جگہ نہایت اہم تھی اور اب بھی مہمان نوازی مشرقی تمدن کے خمیر میں داخل ہے اور مغربی تمدن نے بھی اس کی رسمی حیثیت کو باقی رکھا ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی وقت کسی کا مہمان ہوتا ہے، اس لیے کہنا چاہیے کہ سوسائٹی کے نظام میں اس کی حیثیت مبادلۂ اخلاق کی ہے۔ آج ہم اپنے مہمان کے ساتھ نیک سلوک اور عزت کا برتاؤ کریں گے تو کل وہ ہمارے ساتھ کرے گا۔ گذشتہ مذاہب کے اخلاق میں مہمان نوازی کی تعلیم کا ذکر، خصوصیت کے ساتھ نہیں، لیکن اہلِ عرب میں مہمان کا بہت بڑا حق سمجھا جاتا تھا۔ مہمان کی خدمت اور حفاظت، میزبان اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اسلام آیا تو اس نے اس فرض کی اہمیت کو اور بڑھایا۔
(سیرت النبی ﷺ، جلد ششم، صفحہ: ١٦٢/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤4👍2
*غلطی ہائے مضامین*
*مقتول غالبؔ کے مزار والی گلی*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
حافظ غلام سرور صاحب کراچی میں بیٹھے بیٹھے یا لیٹے لیٹے پنجاب میں مقیم ایک سابق آئی جی پولیس کی خودنوشت کا مطالعہ کررہے تھے۔ پڑھتے پڑھتے یکایک چونک اُٹھے۔ ہوا یوں کہ سبک دوش آئی جی صاحب نے یکے بعد دیگرے کئی افراد کے قتل کا ذکر کرنے کے بعد لکھ دیا کہ ’’اتنے قتلوں کے بعد…‘‘ اب حافظ صاحب ڈر کے مارے ریٹائرڈ آئی جی صاحب سے تو کچھ پوچھتے نہیں، ہم سے پوچھتے ہیں:
’’کیا قتل کی جمع قتلوں درست ہے؟ اگر نہیں، تو قتل کی جمع کیا ہوگی؟‘‘
صاحب! ہم نے تو صرف ’قتلے‘ کی جمع ’قتلوں‘ سنا ہے۔’قتلہ‘ (یا قتلا) قاش، پھانک، پارچے اور کھانے کی کسی چیز کے تراشے ہوئے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ اس کی تصغیر یا تانیث کے طور پر ’قتلی‘ بھی استعمال ہوتی ہے۔ مثلاً آلو کا قتلہ، گوشت کے قتلے اور برفی کی قتلی۔ شب برأت کے حلوے بھی اکثر ’قتلوں‘ ہی کی صورت میں تیار کیے جاتے ہیں۔ تو جناب!… ’’اتنے قتلوں کے بعد‘‘… اب ہم مزید کون سا قتلہ آپ کی خدمت میں پیش کریں؟
رہا یہ سوال کہ قتل کی جمع کیا ہوگی؟ تو اِس کا جواب بہت آسان ہے کہ ہمیں نہیں معلوم۔ ہم نے قتل کی جمع کبھی کسی سے سنی، نہ کہیں پڑھی۔ ہاں دوہرے قتل اور تہرے قتل کی خبریں ضرور پڑھا کرتے تھے۔ حربی اور غیر حربی کی تمیز کیے بغیر اگر کوئی سب کو قتل کرنا شروع کردے تو یہ ’قتلِ عام‘ کہلاتا ہے، جیسا کہ میرؔ کے زمانے میں فوجی ٹوپی اوڑھ کر گوروں نے عاشق و معشوق سب کو بلا امتیاز قتل کر ڈالا تھا:
کوئی عاشق نظر نہیں آتا
ٹوپی والوں نے قتلِ عام کیا
اُنھیں گورے ٹوپی والوں کے ہاتھوں قتلِ عام تو آج بھی برپا ہے۔ مٹھی بھر یہود کی خاطر براعظم یورپ اور براعظم امریکا کی مسیحی عسکری طاقتیں مسلمانوں کے بھرے پُرے شہروں میں آباد بچوں اور بچیوں کا ہر روز قتلِ عام کررہی ہیں، بقول حکیم مومن خان مومنؔ:
کرتا ہے قتلِ عام وہ اغیار کے لیے
دس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے
ہاں تو،کوشش ہو رہی تھی قتل کی جمع جاننے کی۔ اُردو اور عربی لغات چھان مارنے کے باوجود نہ جان پائے، تو ہم نے خود اجتہاد کرکے قتل کی جمع بنانے کی ایک حقیر سی کوشش کر ڈالی۔ قبر کی جمع قبور اور رسم کی جمع رسوم کے وزن پر قتل کی جمع ’قتول‘ تجویز کی۔ مگر معلوم ہوا کہ عربی میں ’قتول‘ اُس شخص کو کہتے ہیں جو بہت قتل کرتا ہو۔بہت قتل کرنے والے کوتو ’قتّال‘ بھی کہا جاتا ہے اور بہت قتل کرنے والی کو ’قتّالہ‘۔ ہمارے ہاں قتّال کو تو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،مگر قتّالہ کو محبوبہ بنا لیا جاتا ہے۔ اُس قتّالہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے مقتولین اپنے آپ کو تو اُس کا ’قتیل‘ قرار دیتے ہیں، مگرخود اُس کو خونیں قاتل قرار دینے کو تیار نہیں۔ ذوقؔ کو اسی بات پر تو اعتراض تھا:
ترے قتیل بتاتے نہیں تجھے قتّال
جب اُن سے پوچھو اجل ہی کا نام لیتے ہیں
قانون میں قتل کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک قتلِ عَمَد یعنی ارادہ کرکے، جان بوجھ کر،دیدہ و دانستہ اور بغض و عداوت سے کسی کو مار ڈالنا۔ دوسرا قتلِ شبہۂ عمد یعنی دو افراد لڑ رہے ہوں اور ایک کے ہاتھوں دوسرا قتل ہوجائے توشبہہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس نے جان بوجھ کر مارا ہوگا۔ تیسرا قتلِ خطا یعنی ارادے کے بغیر، محض غلطی سے کوئی شخص مارا جائے، مثلاً پتھر پھینکا، کسی کو جا لگا اور وہ مرگیا، سڑک پر کوئی گاڑی کے نیچے آکر دم توڑ گیا، یا شکار کے لیے کسی جانور کو نشانہ بنایا مگر انسان اُس کی زد میں آگیا وغیرہ وغیرہ۔چوتھا قتل ’دفاعی قتل ‘ کہلاتا ہے۔ کوئی شخص کسی حملہ آور سے اپنی جان بچانے کی کوشش میں اُسے مار ڈالے تو ذاتی دفاع کے لیے کیا جانے والا یہ قتل اکثر قانونی نظاموں میں جائز سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی مسلح ڈاکو کسی کے گھر میں گھس کر اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی کوشش کرے تو اُس کو مار ڈالنا دفاعی قتل ہوگا اور قتلِ برحق ہوگا۔
قتل سے متعلق کئی محاورے اور تراکیب اُردو میں بھی رائج ہیں۔بھلے زمانوں میں جب لڑائی فقط لڑنے والوں کے درمیان ہوتی تھی، دُوبدو اور دست بدست، تو اُس وقت کی خوں ریز جنگ کو ’قِتال‘ کہا جاتا تھا۔ اب تو دُور ہی سے قتلِ عام ہوجاتا ہے۔ قتل و خوں ریزی کے مقابلے کو ’مقاتلہ‘ بھی کہتے ہیں۔ جب یہ مقابلے ہوتے تھے تب میدانِ جنگ کو ’مقتل‘ کہا جاتا تھا۔ آج شہری آبادیوں کے گلی کوچے ہی نہیں گھر بھی مقتل بنے ہوئے ہیں۔مقتل کے لیے ’قتل گاہ‘ کی ترکیب بھی رائج ہے۔ عدالت سے کسی کو قتل کرنے کے احکام جاری ہوجائیں تو آج کل اس دستاویز کو ‘Death Warrant’ کہنے کا رواج ہے، مگر اس کے لیے محبوب علی خان آصفؔ نے اپنے مشہور شعر میں ’قتل نامہ‘ جیسی بلیغ ترکیب استعمال کی ہے، یہ شعر فیضؔ صاحب نے بھی اپنی ایک غزل میں نقل کیا ہے،بلکہ پوری غزل ہی اس شعر کی تضمین ہے:
لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی
*مقتول غالبؔ کے مزار والی گلی*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
حافظ غلام سرور صاحب کراچی میں بیٹھے بیٹھے یا لیٹے لیٹے پنجاب میں مقیم ایک سابق آئی جی پولیس کی خودنوشت کا مطالعہ کررہے تھے۔ پڑھتے پڑھتے یکایک چونک اُٹھے۔ ہوا یوں کہ سبک دوش آئی جی صاحب نے یکے بعد دیگرے کئی افراد کے قتل کا ذکر کرنے کے بعد لکھ دیا کہ ’’اتنے قتلوں کے بعد…‘‘ اب حافظ صاحب ڈر کے مارے ریٹائرڈ آئی جی صاحب سے تو کچھ پوچھتے نہیں، ہم سے پوچھتے ہیں:
’’کیا قتل کی جمع قتلوں درست ہے؟ اگر نہیں، تو قتل کی جمع کیا ہوگی؟‘‘
صاحب! ہم نے تو صرف ’قتلے‘ کی جمع ’قتلوں‘ سنا ہے۔’قتلہ‘ (یا قتلا) قاش، پھانک، پارچے اور کھانے کی کسی چیز کے تراشے ہوئے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ اس کی تصغیر یا تانیث کے طور پر ’قتلی‘ بھی استعمال ہوتی ہے۔ مثلاً آلو کا قتلہ، گوشت کے قتلے اور برفی کی قتلی۔ شب برأت کے حلوے بھی اکثر ’قتلوں‘ ہی کی صورت میں تیار کیے جاتے ہیں۔ تو جناب!… ’’اتنے قتلوں کے بعد‘‘… اب ہم مزید کون سا قتلہ آپ کی خدمت میں پیش کریں؟
رہا یہ سوال کہ قتل کی جمع کیا ہوگی؟ تو اِس کا جواب بہت آسان ہے کہ ہمیں نہیں معلوم۔ ہم نے قتل کی جمع کبھی کسی سے سنی، نہ کہیں پڑھی۔ ہاں دوہرے قتل اور تہرے قتل کی خبریں ضرور پڑھا کرتے تھے۔ حربی اور غیر حربی کی تمیز کیے بغیر اگر کوئی سب کو قتل کرنا شروع کردے تو یہ ’قتلِ عام‘ کہلاتا ہے، جیسا کہ میرؔ کے زمانے میں فوجی ٹوپی اوڑھ کر گوروں نے عاشق و معشوق سب کو بلا امتیاز قتل کر ڈالا تھا:
کوئی عاشق نظر نہیں آتا
ٹوپی والوں نے قتلِ عام کیا
اُنھیں گورے ٹوپی والوں کے ہاتھوں قتلِ عام تو آج بھی برپا ہے۔ مٹھی بھر یہود کی خاطر براعظم یورپ اور براعظم امریکا کی مسیحی عسکری طاقتیں مسلمانوں کے بھرے پُرے شہروں میں آباد بچوں اور بچیوں کا ہر روز قتلِ عام کررہی ہیں، بقول حکیم مومن خان مومنؔ:
کرتا ہے قتلِ عام وہ اغیار کے لیے
دس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے
ہاں تو،کوشش ہو رہی تھی قتل کی جمع جاننے کی۔ اُردو اور عربی لغات چھان مارنے کے باوجود نہ جان پائے، تو ہم نے خود اجتہاد کرکے قتل کی جمع بنانے کی ایک حقیر سی کوشش کر ڈالی۔ قبر کی جمع قبور اور رسم کی جمع رسوم کے وزن پر قتل کی جمع ’قتول‘ تجویز کی۔ مگر معلوم ہوا کہ عربی میں ’قتول‘ اُس شخص کو کہتے ہیں جو بہت قتل کرتا ہو۔بہت قتل کرنے والے کوتو ’قتّال‘ بھی کہا جاتا ہے اور بہت قتل کرنے والی کو ’قتّالہ‘۔ ہمارے ہاں قتّال کو تو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،مگر قتّالہ کو محبوبہ بنا لیا جاتا ہے۔ اُس قتّالہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے مقتولین اپنے آپ کو تو اُس کا ’قتیل‘ قرار دیتے ہیں، مگرخود اُس کو خونیں قاتل قرار دینے کو تیار نہیں۔ ذوقؔ کو اسی بات پر تو اعتراض تھا:
ترے قتیل بتاتے نہیں تجھے قتّال
جب اُن سے پوچھو اجل ہی کا نام لیتے ہیں
قانون میں قتل کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک قتلِ عَمَد یعنی ارادہ کرکے، جان بوجھ کر،دیدہ و دانستہ اور بغض و عداوت سے کسی کو مار ڈالنا۔ دوسرا قتلِ شبہۂ عمد یعنی دو افراد لڑ رہے ہوں اور ایک کے ہاتھوں دوسرا قتل ہوجائے توشبہہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس نے جان بوجھ کر مارا ہوگا۔ تیسرا قتلِ خطا یعنی ارادے کے بغیر، محض غلطی سے کوئی شخص مارا جائے، مثلاً پتھر پھینکا، کسی کو جا لگا اور وہ مرگیا، سڑک پر کوئی گاڑی کے نیچے آکر دم توڑ گیا، یا شکار کے لیے کسی جانور کو نشانہ بنایا مگر انسان اُس کی زد میں آگیا وغیرہ وغیرہ۔چوتھا قتل ’دفاعی قتل ‘ کہلاتا ہے۔ کوئی شخص کسی حملہ آور سے اپنی جان بچانے کی کوشش میں اُسے مار ڈالے تو ذاتی دفاع کے لیے کیا جانے والا یہ قتل اکثر قانونی نظاموں میں جائز سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی مسلح ڈاکو کسی کے گھر میں گھس کر اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی کوشش کرے تو اُس کو مار ڈالنا دفاعی قتل ہوگا اور قتلِ برحق ہوگا۔
قتل سے متعلق کئی محاورے اور تراکیب اُردو میں بھی رائج ہیں۔بھلے زمانوں میں جب لڑائی فقط لڑنے والوں کے درمیان ہوتی تھی، دُوبدو اور دست بدست، تو اُس وقت کی خوں ریز جنگ کو ’قِتال‘ کہا جاتا تھا۔ اب تو دُور ہی سے قتلِ عام ہوجاتا ہے۔ قتل و خوں ریزی کے مقابلے کو ’مقاتلہ‘ بھی کہتے ہیں۔ جب یہ مقابلے ہوتے تھے تب میدانِ جنگ کو ’مقتل‘ کہا جاتا تھا۔ آج شہری آبادیوں کے گلی کوچے ہی نہیں گھر بھی مقتل بنے ہوئے ہیں۔مقتل کے لیے ’قتل گاہ‘ کی ترکیب بھی رائج ہے۔ عدالت سے کسی کو قتل کرنے کے احکام جاری ہوجائیں تو آج کل اس دستاویز کو ‘Death Warrant’ کہنے کا رواج ہے، مگر اس کے لیے محبوب علی خان آصفؔ نے اپنے مشہور شعر میں ’قتل نامہ‘ جیسی بلیغ ترکیب استعمال کی ہے، یہ شعر فیضؔ صاحب نے بھی اپنی ایک غزل میں نقل کیا ہے،بلکہ پوری غزل ہی اس شعر کی تضمین ہے:
لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی
❤4
محضر اُس کاغذ کو کہتے ہیں جس پر عدالت کی مہر اور دستخط ہو۔ کوئی بھی دستخط شدہ دستاویز محضر کہی جا سکتی ہے۔متعدد افراد کے دستخطوں سے پیش کی جانے والی درخواست بھی محضر ہوتی ہے۔ویسے ’محضر‘ کے لفظی معنی ہیں ’حاضر ہونے کی جگہ‘۔ اسی وجہ سے تھانہ کچہری بھی ’محضر خانہ ‘ تھا۔ خیر یہ باتیں تو محض ’محضر‘ کے ضمن میں بر سبیلِ تذکرہ آگئی ہیں۔ آج کا موضوع توقتل و قاتل و مقتول و قتیل ہی ہے۔
محبوب کے ہاتھوں قتل ہو جانا ہمارے شاعروں کا محبوب مشغلہ ہے۔اِس قتل کے لیے بڑی تیاری کی جاتی ہے۔ غالبؔ کہتے ہیں:
آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا؟
چچا کا کفن باندھنا تو خیر اپنے لواحقین و پسماندگان کو بازار کی بھاگ دوڑ سے بچانے کے لیے تھا، مگر تیغ باندھ کر کیوں گئے؟ شاید محبوب کو بھاگ دوڑ سے بچانے کے لیے کہ اب محبوب یہ عذر مقتول کو نہیں پیش کر سکتا تھا کہ میرے کنے تیغ تو ہئی نہیں، کا ہے سے قتل کروں؟
عام آدمی قتل ہوجائے تو دنیا کے تمام مشاغل اور ہر قسم کے جھنجھٹ سے آزاد ہوجاتا ہے۔کچھ کرنے کے قابل رہتا ہے نہ کچھ کرپاتا ہے۔ مگر شاعر ایسی ڈھیٹ شے ہے کہ قتل ہوجانے کے بعد بھی شعر کہتا رہتا ہے، باز نہیں آتا۔میر تقی میرؔ مقتول ہوئے تو محبوب سے دست بستہ درخواست کی کہ اب وہ غصہ تھوک کر اُن کی لاش اُٹھوانے میں ورثا کی مدد کرے:
قتل کیے پر غصہ کیا ہے؟ لاش مری اُٹھوانے دو
جان سے ہم بھی جاتے رہے ہیں تم بھی آؤ، جانے دو
چچا غالبؔ مابعدِ قتل اپنے محبوب کی پشیمانی پر ہائے مارتے ہوئے پائے گئے:
کی مرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
یہی نہیں، پریشان و پشیمان محبوب کو مقتول نے اپنی تدفین کے ضمن میں بھی ایک مخلصانہ مشورے سے نواز ڈالا۔ اُسے مشورہ دیا کہ
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتل
میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے؟
غالباًشاعریہ نہیں چاہتاتھا کہ کوچۂ محبوب کو’’ مقتول غالبؔ کے مزار والی گلی‘‘ کہا جائے۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
Https://telegram.me/ilmokitab
محبوب کے ہاتھوں قتل ہو جانا ہمارے شاعروں کا محبوب مشغلہ ہے۔اِس قتل کے لیے بڑی تیاری کی جاتی ہے۔ غالبؔ کہتے ہیں:
آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا؟
چچا کا کفن باندھنا تو خیر اپنے لواحقین و پسماندگان کو بازار کی بھاگ دوڑ سے بچانے کے لیے تھا، مگر تیغ باندھ کر کیوں گئے؟ شاید محبوب کو بھاگ دوڑ سے بچانے کے لیے کہ اب محبوب یہ عذر مقتول کو نہیں پیش کر سکتا تھا کہ میرے کنے تیغ تو ہئی نہیں، کا ہے سے قتل کروں؟
عام آدمی قتل ہوجائے تو دنیا کے تمام مشاغل اور ہر قسم کے جھنجھٹ سے آزاد ہوجاتا ہے۔کچھ کرنے کے قابل رہتا ہے نہ کچھ کرپاتا ہے۔ مگر شاعر ایسی ڈھیٹ شے ہے کہ قتل ہوجانے کے بعد بھی شعر کہتا رہتا ہے، باز نہیں آتا۔میر تقی میرؔ مقتول ہوئے تو محبوب سے دست بستہ درخواست کی کہ اب وہ غصہ تھوک کر اُن کی لاش اُٹھوانے میں ورثا کی مدد کرے:
قتل کیے پر غصہ کیا ہے؟ لاش مری اُٹھوانے دو
جان سے ہم بھی جاتے رہے ہیں تم بھی آؤ، جانے دو
چچا غالبؔ مابعدِ قتل اپنے محبوب کی پشیمانی پر ہائے مارتے ہوئے پائے گئے:
کی مرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
یہی نہیں، پریشان و پشیمان محبوب کو مقتول نے اپنی تدفین کے ضمن میں بھی ایک مخلصانہ مشورے سے نواز ڈالا۔ اُسے مشورہ دیا کہ
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتل
میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے؟
غالباًشاعریہ نہیں چاہتاتھا کہ کوچۂ محبوب کو’’ مقتول غالبؔ کے مزار والی گلی‘‘ کہا جائے۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
جلوہ ہائے پابہ رکاب ( 50 )۔۔۔ جہاں دن میں دو بار بارہ بجتے ہیں
ڈاکٹر ف عبد الرحیم
میں جامعہ اسلامیہ میں پڑھانے کی غرض سے 1969 میں مدینہ منورہ پہنچا۔ میں یہاں رات کے وقت پہنچا تھا۔ دوسرے دن صبح ایک صاحب سے وقت پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس وقت بارہ (12) بجے ہیں۔ میں سمجھ نہیں پایا۔ ابھی تو صبح کا وقت ہے، چھ ساڑھے چھ بجے کا وقت ہونا چاہئے۔ میں نے دوبارہ پوچھا، تو اس نے وہی بات بتائی اور اپنی گھڑی بھی دکھائی۔
کچھ دیر بعد سعودی عرب میں رہنے والے ایک ہندوستانی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں ایک مختلف نظام توقیت رائج ہے۔ یہ نظام «توقیت غروبی» کہلاتا ہے۔ یہاں اذان مغرب 12 بجے ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر دن اذان کے وقت میں کچھ منٹوں کا فرق ہوتا ہے، کبھی آگے، کبھی پیچھے۔ اس کا تعلق غروب آفتاب سے ہے۔ لیکن یہاں کا نظام یہ ہے کہ ہر دن اذان مغرب کے ساتھ ہی ہر شخص اپنی گھڑی کا وقت 12 بجے سیٹ کر لیتا ہے اور منٹوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ نظام توقیت دنیاوی امور کو چلانے کے لیے مناسب نہیں ہے۔ غروب آفتاب کا وقت مختلف جگہوں پر الگ الگ ہوتا ہے۔ سعودی عرب کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کے درمیان تقریباً آدھ گھنٹے کا فرق ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب کے مختلف شہروں میں یکساں وقت نہیں ہو سکتا۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ عالمی نظام توقیت سے یہ جڑ نہیں سکتا۔
ہم لوگوں کو اس نظام توقیت کی وجہ سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔ جامعہ اسلامیہ کے طلبہ کو اس نظام کے سمجھنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ اس کی وجہ سے غلط فہمیاں بہت ہوتی تھی۔ ایک بار ایک نیا امریکی طالب علم آیا۔ اس کا ٹیسٹ لیا جانا تھا۔ مدیر نے اس سے دوسرے دن بارہ
بجے آنے کو کہا۔ وہ آیا بارہ بجے مگر دنیا میں رائج نظام کے مطابق، یعنی دوپہر کے وقت۔ مدیر اس پر بہت بگڑے۔ اس نے ان کو اپنی گھڑی دکھائی۔ لیکن وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ افہام تفہیم کے بعد وہ اس کے ٹیسٹ لینے پر راضی ہوئے۔
دراصل اس وقت سعودیہ میں عالمی نظام توقیت متعارف ہو رہا تھا۔ پڑھے لکھے سعودیوں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن پرانے لوگ نئے نظام کو سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ لیکن تبدیلی دبے پاؤں آ رہی تھی، اور کچھ دنوں میں:
عہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیل
اب وہ پرانی توقیت بھولی بسری بات بن کر رہ گئی۔
انھیں دنوں میں ایک بنگالی ڈاکٹر آئے ہوئے تھے۔ ان کو غروبی توقیت سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔ وہ وقت سمجھ نہیں پاتے تھے جس کی وجہ سے کافی غلطیاں سرزد ہوئیں۔ اب انہوں نے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ وہ تبدیلی کی آہٹ سن نہیں پائے۔ اگر سنتے تو رک جاتے۔ وہ یہ کہہ کر لوٹ گئے: ”میں ایسی جگہ رہ نہیں سکتا جہاں دن میں دو بار بارہ بجتے ہیں“۔
Https://telegram.me/ilmokitab
ڈاکٹر ف عبد الرحیم
میں جامعہ اسلامیہ میں پڑھانے کی غرض سے 1969 میں مدینہ منورہ پہنچا۔ میں یہاں رات کے وقت پہنچا تھا۔ دوسرے دن صبح ایک صاحب سے وقت پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس وقت بارہ (12) بجے ہیں۔ میں سمجھ نہیں پایا۔ ابھی تو صبح کا وقت ہے، چھ ساڑھے چھ بجے کا وقت ہونا چاہئے۔ میں نے دوبارہ پوچھا، تو اس نے وہی بات بتائی اور اپنی گھڑی بھی دکھائی۔
کچھ دیر بعد سعودی عرب میں رہنے والے ایک ہندوستانی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں ایک مختلف نظام توقیت رائج ہے۔ یہ نظام «توقیت غروبی» کہلاتا ہے۔ یہاں اذان مغرب 12 بجے ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر دن اذان کے وقت میں کچھ منٹوں کا فرق ہوتا ہے، کبھی آگے، کبھی پیچھے۔ اس کا تعلق غروب آفتاب سے ہے۔ لیکن یہاں کا نظام یہ ہے کہ ہر دن اذان مغرب کے ساتھ ہی ہر شخص اپنی گھڑی کا وقت 12 بجے سیٹ کر لیتا ہے اور منٹوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ نظام توقیت دنیاوی امور کو چلانے کے لیے مناسب نہیں ہے۔ غروب آفتاب کا وقت مختلف جگہوں پر الگ الگ ہوتا ہے۔ سعودی عرب کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کے درمیان تقریباً آدھ گھنٹے کا فرق ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب کے مختلف شہروں میں یکساں وقت نہیں ہو سکتا۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ عالمی نظام توقیت سے یہ جڑ نہیں سکتا۔
ہم لوگوں کو اس نظام توقیت کی وجہ سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔ جامعہ اسلامیہ کے طلبہ کو اس نظام کے سمجھنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ اس کی وجہ سے غلط فہمیاں بہت ہوتی تھی۔ ایک بار ایک نیا امریکی طالب علم آیا۔ اس کا ٹیسٹ لیا جانا تھا۔ مدیر نے اس سے دوسرے دن بارہ
بجے آنے کو کہا۔ وہ آیا بارہ بجے مگر دنیا میں رائج نظام کے مطابق، یعنی دوپہر کے وقت۔ مدیر اس پر بہت بگڑے۔ اس نے ان کو اپنی گھڑی دکھائی۔ لیکن وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ افہام تفہیم کے بعد وہ اس کے ٹیسٹ لینے پر راضی ہوئے۔
دراصل اس وقت سعودیہ میں عالمی نظام توقیت متعارف ہو رہا تھا۔ پڑھے لکھے سعودیوں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن پرانے لوگ نئے نظام کو سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ لیکن تبدیلی دبے پاؤں آ رہی تھی، اور کچھ دنوں میں:
عہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیل
اب وہ پرانی توقیت بھولی بسری بات بن کر رہ گئی۔
انھیں دنوں میں ایک بنگالی ڈاکٹر آئے ہوئے تھے۔ ان کو غروبی توقیت سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔ وہ وقت سمجھ نہیں پاتے تھے جس کی وجہ سے کافی غلطیاں سرزد ہوئیں۔ اب انہوں نے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ وہ تبدیلی کی آہٹ سن نہیں پائے۔ اگر سنتے تو رک جاتے۔ وہ یہ کہہ کر لوٹ گئے: ”میں ایسی جگہ رہ نہیں سکتا جہاں دن میں دو بار بارہ بجتے ہیں“۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
👍2❤1
ٹیلگرام پر علمی ، ادبی مواد، کتابوں اور صوتیاب کا چینل، جس میں شرکت روزانہ آپ کے علم و معلومات میں اضافہ کا باعث ہوگی، لنک پر کلک کرکے چینل کے ممبر بنیں، اور دوست و احباب میں اسے فورورڈ کریں۔ https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
احباب سے گذارش ہے کہ مذکورہ بالا پیغام اور اس چینل کے مضامین زیادہ سے زیادہ احباب میں شیر کریں، گذشتہ ایک ماہ سے ممبران کی تعداد میں مسلسل کمی محسوس ہورہی ہے۔
وفیات مورخہ: 28/مارچ
1909ء ابو ھدی صیادی۔ سلطان عبد الحمید الثانی کے شامی شیخ
1963ء اصطفا لکھنوی (محمد اسطفا خان)۔ ،
2006ء بنسی لال۔ جدید ہریانہ کے معمار
1981ء تہورحسین اثر بدایونی۔ مولانا مفتی ،
2002ء ٹکا خان۔ فوجی جنرل
2006ء روبینہ بدر۔ ٹی وی گلوکارہ
1971ء سید اکبر مسعود۔ ،
2008ء شیخ عبدالقادر۔ جسٹس (ر) ،
2025ء عابد رضا بیدار۔ سابق ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری پٹنہ
2018ء عالم فخری۔ مورخ
1890ء عبد اللہ جیراج پوری۔ مولانا، حکیم
1990ء لودھی ، ایچ یو۔ ،
1889ء محمد عباس شوستری۔ لکھنوی شیعہ مجتہد
1990ء محمد قاسم مشوری۔ سندھی سجادہ نشین
2024ء مختار انصاری۔ بھارتی سیاست دان
2009ء شبیر احمد۔ مولانا
1967ء ناصح رضوی (سید محمد ابراہیم)۔ شاعر
1988ء ہمدم علیگ (محمد احمد صدیقی)۔ شاعر
Https://telegram.me/ilmokitab
1909ء ابو ھدی صیادی۔ سلطان عبد الحمید الثانی کے شامی شیخ
1963ء اصطفا لکھنوی (محمد اسطفا خان)۔ ،
2006ء بنسی لال۔ جدید ہریانہ کے معمار
1981ء تہورحسین اثر بدایونی۔ مولانا مفتی ،
2002ء ٹکا خان۔ فوجی جنرل
2006ء روبینہ بدر۔ ٹی وی گلوکارہ
1971ء سید اکبر مسعود۔ ،
2008ء شیخ عبدالقادر۔ جسٹس (ر) ،
2025ء عابد رضا بیدار۔ سابق ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری پٹنہ
2018ء عالم فخری۔ مورخ
1890ء عبد اللہ جیراج پوری۔ مولانا، حکیم
1990ء لودھی ، ایچ یو۔ ،
1889ء محمد عباس شوستری۔ لکھنوی شیعہ مجتہد
1990ء محمد قاسم مشوری۔ سندھی سجادہ نشین
2024ء مختار انصاری۔ بھارتی سیاست دان
2009ء شبیر احمد۔ مولانا
1967ء ناصح رضوی (سید محمد ابراہیم)۔ شاعر
1988ء ہمدم علیگ (محمد احمد صدیقی)۔ شاعر
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
*وفیات مورخہ: 29/مارچ*
1699ء محمد باقر مجلسی۔ مصنف بحار الانوار
1934ء غلام محدم شملوی۔ مولانا
1966ء قاضی محمد فرید۔ پروفیسر ،
1979ء بشیر احمد ڈار۔
1984ء سردار علی صابری۔ ،
1986ء صادق دہلوی (سمیع احمد)۔ ،
1990ء سراج الدین احمد۔ ،
1992ء کرنل بشیر حسین زیدی۔
1993ء لیاقت قریشی۔ ،
1998ء سید محمد منظر کریم۔ ،
2001ء سعید امرت۔ ،
2002ء لطیف کپاڈیا۔ ٹی وی اداکار
2003ء محشر اجمیری۔ ،
2005ء محمد زکوٰۃ قلزم حیاتی۔ مولانا
Https://telegram.me/ilmokitab
1699ء محمد باقر مجلسی۔ مصنف بحار الانوار
1934ء غلام محدم شملوی۔ مولانا
1966ء قاضی محمد فرید۔ پروفیسر ،
1979ء بشیر احمد ڈار۔
1984ء سردار علی صابری۔ ،
1986ء صادق دہلوی (سمیع احمد)۔ ،
1990ء سراج الدین احمد۔ ،
1992ء کرنل بشیر حسین زیدی۔
1993ء لیاقت قریشی۔ ،
1998ء سید محمد منظر کریم۔ ،
2001ء سعید امرت۔ ،
2002ء لطیف کپاڈیا۔ ٹی وی اداکار
2003ء محشر اجمیری۔ ،
2005ء محمد زکوٰۃ قلزم حیاتی۔ مولانا
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
قرآن حکیم، معدنِ ہدایت و معرفت
حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں:
قرآن کی حیثیت، ایک معدن کی سی ہے، جس کے اندر جتنی گہرائی سے غور و خوص کیا جائے، اتنے ہی خزانے اس میں سے نکلتے ہیں۔ اسی لیے اللّٰه تعالیٰ نے اس میں تدبر کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ اس لیے فرمایا ہے، تاکہ لوگ قرآنِ حکیم کے پوشیدہ خزانوں سے استفادہ کرسکیں، ائمہ و فقہاء اس سے احکام استنباط کرسکیں اور علماء ان احکام کا ماخذ سمجھ سکیں اور عوام الناس بھی اگر اس میں غور و فکر کریں تو اللّٰه تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور وحدانیت اپنے اندر سمو سکیں۔
(تعمیرِ افکار، فروری ٢٠٢٦ء، صفحہ: ٨)
https://telegram.me/muniri
حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں:
قرآن کی حیثیت، ایک معدن کی سی ہے، جس کے اندر جتنی گہرائی سے غور و خوص کیا جائے، اتنے ہی خزانے اس میں سے نکلتے ہیں۔ اسی لیے اللّٰه تعالیٰ نے اس میں تدبر کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ اس لیے فرمایا ہے، تاکہ لوگ قرآنِ حکیم کے پوشیدہ خزانوں سے استفادہ کرسکیں، ائمہ و فقہاء اس سے احکام استنباط کرسکیں اور علماء ان احکام کا ماخذ سمجھ سکیں اور عوام الناس بھی اگر اس میں غور و فکر کریں تو اللّٰه تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور وحدانیت اپنے اندر سمو سکیں۔
(تعمیرِ افکار، فروری ٢٠٢٦ء، صفحہ: ٨)
https://telegram.me/muniri
Telegram
Abdul Mateen Muniri
❤1
وفیات مورخہ: 30/مارچ
1925ء عبدالرزاق خان۔ حاجی ،
1952ء محسن امین آملی۔
1959ء محمد علی حبیب۔ ،
1960ء جمیل مردم بک (سوریا)۔ شامی سیاست دان
1975ء سید محمد بیدری۔ ،
1987ء احسان الہی ظہیر۔ مولانا، خطیب
1991ء بلقیس جمال بریلوی۔ ،
1998ء شہاب الدین دسنوی۔
2002ء آنند بخشی۔ گیت کار
2002ء صہبا لکھنوی (سید شرافت علی)۔
2011ء روشن عطاء۔ ،
2011ء لیاقت سولجر (لیاقت علی)۔ ،
2020ء عبد القادر جونیجو (سندھی)۔
Https://telegram.me/ilmokitab
1925ء عبدالرزاق خان۔ حاجی ،
1952ء محسن امین آملی۔
1959ء محمد علی حبیب۔ ،
1960ء جمیل مردم بک (سوریا)۔ شامی سیاست دان
1975ء سید محمد بیدری۔ ،
1987ء احسان الہی ظہیر۔ مولانا، خطیب
1991ء بلقیس جمال بریلوی۔ ،
1998ء شہاب الدین دسنوی۔
2002ء آنند بخشی۔ گیت کار
2002ء صہبا لکھنوی (سید شرافت علی)۔
2011ء روشن عطاء۔ ،
2011ء لیاقت سولجر (لیاقت علی)۔ ،
2020ء عبد القادر جونیجو (سندھی)۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
سچی باتیں (21؍اکتوبر 1940ء)۔۔۔ جنگوں میں فیصلہ کن چیز
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
ہ’’کہا جاتا ہے کہ جنگ میں اعلیٰ فیصلہ کن چیز لڑنے والوں کی ہمت ہے، اورتجربہ نے ثابت کردیا ہے کہ یہ قول دوسرے بہت سے مقولوں سے کہیں زیادہ صحیح ہے‘‘۔ یہ ایک انگریز اخبار نے حال میں اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا، اور آگے پھر لکھا ، کہ ’’سامان کی فراوانی، اسلحہ کی تیزی اور جگمگاہٹ اور قواعدداں فوج کی کثرت تعداد، ان سب چیزوں کا بھی اثر ضرور پڑتاہے، مگر مختص جنگوں میں۔ طویل ومسلسل جنگ میں اعلیٰ اہمیت کی چیز ہے ہمت، ہمت افراد واشخاص کی بھی، اور ہمت مختلف طبقات اور ساری قوم کی بھی‘‘۔ لیکن یہ ہمت پیدا اور قائم کیونکر ہو؟ (خلاصہ اُسی انگریز روزنامہ کا چل رہاہے)۔ ہمت کا تعلق دین واخلاق سے ہے ، اور
’’مبصرین متفقہ طور پر کہہ رہے ہیں، کہ مغربی تمدن کی اخلاقی بنیادوں کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں، مطلق العنانی ، بے دینی اور بے قیدی یہ تینوں چیزیں کوئی تین پشتوں سے مغربی معاشرہ میں گھُن لگاچکی ہیں، اور ابھی تک اس کا کوئی بدل پیدا نہیں ہوسکاہے‘‘۔
یہ چیز جسے دنیا ہمت کے نام سے پکارتی ہے، اور جس کی قدر آج پھر معلوم ہوئی ہے، جیسی کہ ہرزمانہ میں معلوم ہوتی رہی ہے، مذہب نے اس کا نام ’’صبر‘‘ رکھاہے۔ اور صبر کی فضیلتوں سے قرآن کی آیتیں لبریز ہیں۔ اللہ کی نصرت صابروں کے ساتھ رہتی ہے۔ صبر اگر درجۂ اوسط میں بھی ہو تو سو صابر دوسو کی تعداد پر، اور ہزار صابر دوہزار کی جماعت پر غالب آسکتے ہیں۔ اور صبر اگر درجۂ اعلیٰ میں ہوتا تو سوصابر، ایک ہزار کے مقابلہ کے لئے کافی ہیں! یہ قرآنی تشریحات اور خدائی وعدے ہیں۔ اور صبر پیداکرنے والی، صبر بڑھانے والی چیز جو ہے وہ ایمان کی قوت اور مضبوطی ہے۔ جس نسبت سے ایمان قوی ہوگا، اُسی درجہ میں صبر بھی اعلیٰ ہوگا۔ آخرت کا استحضار ہمہ وقتی ہوگا۔ موت محض انتقال مکانی کا نام رہ جائے گا۔ رضائے الٰہی کی جنت کا تخیل ’’قال‘‘ نہیں’’حال‘‘ بن کر رہے گا۔اور تشکیک کی پیدا کی ہوئی بیماری، تشویش قلب وتذبذب ہے، اور ’’روشن خیالی‘‘ کی پیدا وار بے عملی اور بدعملی سے نجات رہے گی۔
’’روشن خیال‘‘ وتشکیک دوست فرانس ، قلب وروح کی انھیں بیماریوں کی نذر ہوکر ختم ہوگیا……بیماریاں جنھیں فخر کے ساتھ پالاگیاتھا!……برطانیہ کی قسمت اچھی تھی، عین وقت پر سنبھل گیا۔ اسلام کی ساری عبادتوں میں ، انفرادی عبادتوں میں بھی اور اجتماعی عبادتوں میں بھی، روزانہ عبادتوں میں بھی اور سالانہ عبادتوں میں بھی یہ ہمت افزائی اور تقویت صبروالا پہلوکہیں بھی نظرانداز نہیں ہونے پایاہے۔ روزانہ پانچ پانچ وقت کی نمازیں ، پھر نمازوں کی جماعتیں، مسجدوں کی حاضری، حج کا سالانہ اجتماع، اور اس اجتماع کے موقع پر مختلف تقریبیں،زکوٰۃ کی پابندیاں، اس کی تاکید، یہ سب اپنی اپنی جگہ پر اسی سبق کی درسگاہیں ہیں،مستقل ، اور مستمر عسکر اسلامی کے Moraleکو قائم کرنے کی تدبیریں ہیں، اور سب سے بڑھ چڑھ کر رمضان کا پوراماہ مبارک۔دن دن بھر بے آب ودانہ رہ کر سارے کام کاج کئے جانا، رات کو لمبی لمبی رکعتیں تراویح وتہجدکی پڑھے جانا، شب قدر کی تلاش میں رات رات بھر جاگتے رہنا، یہ بے مثل وبے مثال نظم، نظام، مجاہدہ روحانی، جسمانی، انفرادی واجتماعی کی یہ بے نظیر تنظیم، اپنا جواب دنیا کس مذہب، کس تمدن میں رکھتی ہے؟……اور آج ابلیس کی ہر ضرب کتنے مختلف اور خوشنما ناموں سے، اسی تنظیم پر ہے! کہ جس وقت کسی فوج کا Moraleتوڑدیا، پھر اُسے زیر کرلینا، اُس کی صفوں کو زیروزبر کرڈالنا کام ہی کتنی دیر کا رہ جاتاہے؟
Https://telegram.me/ilmokitab
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
ہ’’کہا جاتا ہے کہ جنگ میں اعلیٰ فیصلہ کن چیز لڑنے والوں کی ہمت ہے، اورتجربہ نے ثابت کردیا ہے کہ یہ قول دوسرے بہت سے مقولوں سے کہیں زیادہ صحیح ہے‘‘۔ یہ ایک انگریز اخبار نے حال میں اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا، اور آگے پھر لکھا ، کہ ’’سامان کی فراوانی، اسلحہ کی تیزی اور جگمگاہٹ اور قواعدداں فوج کی کثرت تعداد، ان سب چیزوں کا بھی اثر ضرور پڑتاہے، مگر مختص جنگوں میں۔ طویل ومسلسل جنگ میں اعلیٰ اہمیت کی چیز ہے ہمت، ہمت افراد واشخاص کی بھی، اور ہمت مختلف طبقات اور ساری قوم کی بھی‘‘۔ لیکن یہ ہمت پیدا اور قائم کیونکر ہو؟ (خلاصہ اُسی انگریز روزنامہ کا چل رہاہے)۔ ہمت کا تعلق دین واخلاق سے ہے ، اور
’’مبصرین متفقہ طور پر کہہ رہے ہیں، کہ مغربی تمدن کی اخلاقی بنیادوں کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں، مطلق العنانی ، بے دینی اور بے قیدی یہ تینوں چیزیں کوئی تین پشتوں سے مغربی معاشرہ میں گھُن لگاچکی ہیں، اور ابھی تک اس کا کوئی بدل پیدا نہیں ہوسکاہے‘‘۔
یہ چیز جسے دنیا ہمت کے نام سے پکارتی ہے، اور جس کی قدر آج پھر معلوم ہوئی ہے، جیسی کہ ہرزمانہ میں معلوم ہوتی رہی ہے، مذہب نے اس کا نام ’’صبر‘‘ رکھاہے۔ اور صبر کی فضیلتوں سے قرآن کی آیتیں لبریز ہیں۔ اللہ کی نصرت صابروں کے ساتھ رہتی ہے۔ صبر اگر درجۂ اوسط میں بھی ہو تو سو صابر دوسو کی تعداد پر، اور ہزار صابر دوہزار کی جماعت پر غالب آسکتے ہیں۔ اور صبر اگر درجۂ اعلیٰ میں ہوتا تو سوصابر، ایک ہزار کے مقابلہ کے لئے کافی ہیں! یہ قرآنی تشریحات اور خدائی وعدے ہیں۔ اور صبر پیداکرنے والی، صبر بڑھانے والی چیز جو ہے وہ ایمان کی قوت اور مضبوطی ہے۔ جس نسبت سے ایمان قوی ہوگا، اُسی درجہ میں صبر بھی اعلیٰ ہوگا۔ آخرت کا استحضار ہمہ وقتی ہوگا۔ موت محض انتقال مکانی کا نام رہ جائے گا۔ رضائے الٰہی کی جنت کا تخیل ’’قال‘‘ نہیں’’حال‘‘ بن کر رہے گا۔اور تشکیک کی پیدا کی ہوئی بیماری، تشویش قلب وتذبذب ہے، اور ’’روشن خیالی‘‘ کی پیدا وار بے عملی اور بدعملی سے نجات رہے گی۔
’’روشن خیال‘‘ وتشکیک دوست فرانس ، قلب وروح کی انھیں بیماریوں کی نذر ہوکر ختم ہوگیا……بیماریاں جنھیں فخر کے ساتھ پالاگیاتھا!……برطانیہ کی قسمت اچھی تھی، عین وقت پر سنبھل گیا۔ اسلام کی ساری عبادتوں میں ، انفرادی عبادتوں میں بھی اور اجتماعی عبادتوں میں بھی، روزانہ عبادتوں میں بھی اور سالانہ عبادتوں میں بھی یہ ہمت افزائی اور تقویت صبروالا پہلوکہیں بھی نظرانداز نہیں ہونے پایاہے۔ روزانہ پانچ پانچ وقت کی نمازیں ، پھر نمازوں کی جماعتیں، مسجدوں کی حاضری، حج کا سالانہ اجتماع، اور اس اجتماع کے موقع پر مختلف تقریبیں،زکوٰۃ کی پابندیاں، اس کی تاکید، یہ سب اپنی اپنی جگہ پر اسی سبق کی درسگاہیں ہیں،مستقل ، اور مستمر عسکر اسلامی کے Moraleکو قائم کرنے کی تدبیریں ہیں، اور سب سے بڑھ چڑھ کر رمضان کا پوراماہ مبارک۔دن دن بھر بے آب ودانہ رہ کر سارے کام کاج کئے جانا، رات کو لمبی لمبی رکعتیں تراویح وتہجدکی پڑھے جانا، شب قدر کی تلاش میں رات رات بھر جاگتے رہنا، یہ بے مثل وبے مثال نظم، نظام، مجاہدہ روحانی، جسمانی، انفرادی واجتماعی کی یہ بے نظیر تنظیم، اپنا جواب دنیا کس مذہب، کس تمدن میں رکھتی ہے؟……اور آج ابلیس کی ہر ضرب کتنے مختلف اور خوشنما ناموں سے، اسی تنظیم پر ہے! کہ جس وقت کسی فوج کا Moraleتوڑدیا، پھر اُسے زیر کرلینا، اُس کی صفوں کو زیروزبر کرڈالنا کام ہی کتنی دیر کا رہ جاتاہے؟
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
سچی باتیں کے عنوان سے مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ کے ہفت روزہ سچ، صدق، صدق جدید لکھنو میں شائع شدہ یہ مضامین ان پرچوں میں اشاعت کے پچاسی (۸۵) سال بعد پہلی بار شائع ہورہے ہیں، سچی باتیں کے عنوان سے جو مختصر مجموعے ابتک شائع ہوئے ہیں ان میں یہ شامل نہیں ہیں،اتنا طویل عرصہ گذرنے کے باجود یہ اب بھی زندہ ہیں، علم وکتاب گروپ کے لنک کے ساتھ انہیں زیادہ سے زیادہ احباب کو فورورڈ کرنے کی گذارش ہے۔
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب چینل
Https://telegram.me/ilmokitab
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب چینل
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
افسانہ نگاری، انسانی زندگی کا عکس
سندھی ادیب، مولانا غلام محمد گرامی مرحوم لکھتے ہیں:
انسان اور اس کی سماجی زندگی کے ہر پہلو کی جتنی ترجمانی، افسانے میں ہوسکتی ہے، اتنی نہ شاعری میں ممکن ہے اور نہ ہی تاریخ میں۔ افسانہ، انسان کے کسی نہ کسی جذباتی عمل اور ردِ عمل کی ایسی سادہ اور سہل تصویر پیش کرتا ہے، جس سے پڑھنے والے کا ذہن، ہر حال میں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جوں جوں اس تاثر کا سلسلہ وسیع ہوتا جاتا ہے، انسانی زندگی کے بہت سے حصے اور شعبے اس کی گرفت میں آتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ قاری خود کو اس معاشرے کا ایسا جزو سمجھنے لگتا ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے گویا یہ تمام حالات خود اس پر بیت رہے ہیں۔ اس لیے ایسا کہنا بھی کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ فرد اور معاشرے کو اگر کوئی صنف، اپنے فن کی اپنائیت کی ڈوری میں باندھ سکتی ہے تو وہ ہے، افسانہ نگاری۔
(سہ ماہی مہران، ٢_١٩٦٨، صفحہ: ٧٠/ترجمہ و مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
سندھی ادیب، مولانا غلام محمد گرامی مرحوم لکھتے ہیں:
انسان اور اس کی سماجی زندگی کے ہر پہلو کی جتنی ترجمانی، افسانے میں ہوسکتی ہے، اتنی نہ شاعری میں ممکن ہے اور نہ ہی تاریخ میں۔ افسانہ، انسان کے کسی نہ کسی جذباتی عمل اور ردِ عمل کی ایسی سادہ اور سہل تصویر پیش کرتا ہے، جس سے پڑھنے والے کا ذہن، ہر حال میں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جوں جوں اس تاثر کا سلسلہ وسیع ہوتا جاتا ہے، انسانی زندگی کے بہت سے حصے اور شعبے اس کی گرفت میں آتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ قاری خود کو اس معاشرے کا ایسا جزو سمجھنے لگتا ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے گویا یہ تمام حالات خود اس پر بیت رہے ہیں۔ اس لیے ایسا کہنا بھی کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ فرد اور معاشرے کو اگر کوئی صنف، اپنے فن کی اپنائیت کی ڈوری میں باندھ سکتی ہے تو وہ ہے، افسانہ نگاری۔
(سہ ماہی مہران، ٢_١٩٦٨، صفحہ: ٧٠/ترجمہ و مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
وفیات مورخہ: 31/مارچ
1934ء نذیر الدین احمد جعفری بنارسی۔ مولانا
1966ء ظفر نیازی۔ ،
1977ء اختر اورینوی۔ پروفیسر ، ادیب ونقاد
1977ء سید محمد فاروق بخاری۔
1982ء شاہ محمد جعفر پھلواروی ندوی۔ مولانا ،
1987ء محمد طاہر پنج پیری۔ شیخ القرآن مولانا
1991ء قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی۔ مولانا
1996ء محمد بہجت اثری۔ عراقی لغوی ومحقق
2001ء کالی داس گپتا رضا۔ ماہر غالبیات
2002ء صہا لکھنوی۔ ،
2011ء ظفیر الدین مفتاحی۔ مولانا مفتی ،
2019ء جمیل احمد سکر وڈوی۔ مولانا
2020ء عبد الحمید خدام۔ صدر سوریہ
Https://telegram.me/ilmokitab
1934ء نذیر الدین احمد جعفری بنارسی۔ مولانا
1966ء ظفر نیازی۔ ،
1977ء اختر اورینوی۔ پروفیسر ، ادیب ونقاد
1977ء سید محمد فاروق بخاری۔
1982ء شاہ محمد جعفر پھلواروی ندوی۔ مولانا ،
1987ء محمد طاہر پنج پیری۔ شیخ القرآن مولانا
1991ء قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی۔ مولانا
1996ء محمد بہجت اثری۔ عراقی لغوی ومحقق
2001ء کالی داس گپتا رضا۔ ماہر غالبیات
2002ء صہا لکھنوی۔ ،
2011ء ظفیر الدین مفتاحی۔ مولانا مفتی ،
2019ء جمیل احمد سکر وڈوی۔ مولانا
2020ء عبد الحمید خدام۔ صدر سوریہ
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri