چچا غالب کے نام پر پورے ملک کو اپریل فول بنایا گیا
شبستان دہلی ۔ غالب نمبر 1969 سے ماخوذ
منقول
شبستان دہلی ۔ غالب نمبر 1969 سے ماخوذ
منقول
اے آئی کے محور پر لڑی جانے والی جنگ
سہیل انجم
اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹلی جنس کی اہمیت انسانی زندگی میں اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ کوئی بھی شعبہ حیات ایسا نہیں ہے جس میں اس کا عمل ذحل نہ ہو۔ لیکن جس طرح ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اسی طرح اس کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک مفید ہے تو دوسرا مضر بلکہ تباہ کن۔ ابھی تک اے آئی کو ڈیجیٹل صورت گری کا ایک ٹول سمجھا جا رہا تھا لیکن اب تو جنگیں بھی مصنوعی ذہانت کے سہارے لڑی جا تی ہیں۔ اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت انسان کی حقیقی اور فطری ذہانت سے کہیں زیادہ موثر اور کارگر ہے۔ اس کا تازہ ترین مشاہدہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں کیا جا سکتا ہے۔ اس جنگ کے فریقین یعنی امریکہ اسرائیل اور ایران اس کے سہارے کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ حالانکہ اطلاعات کے مطابق اس میدان میں اسرائیل کو سبقت حاصل ہے۔ لیکن ایران بھی اگر ا س کے دوش بدوش نہیں تو بہت زیادہ پیچھے بھی نہیں ہے۔ اسرائیل نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا تجربہ غزہ میں کیا اور اب وہ ایران میں اس کا اعادہ کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے انگریزی روزنامہ ’عرب نیوز‘ میں زید ایم بلباگی کا ایک پر ازمعلومات مضمون شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے اس کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ یہاں یہ ذکر بے محل نہیں ہوگا کہ عالمی برادری کا ایک بہت بڑا حصہ یہ سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں دیگر ملکوں سے بہت پیچھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میدان میں وہ بھی نقوش پا ثبت کر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اے آئی جسے ابھی تک سائنس و ٹیکنالوجی کا ایک ٹول سمجھا جا رہا تھا اس میدان میں ہولناک تباہ کاریوں کا مرکزی کردار بن گیا ہے۔ یہ ایک جنگی ہتھیار کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت ایران کے خلاف جو جنگ ہو رہی ہے وہ اے آئی جنگ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ یہ انسانی ہاتھوں سے زیادہ کارگر اور موثر تو ہے ہی اس کی تباہ کاریاں بھی انسانی ہاتھوں سے ہونے والی تباہیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسرائیل کے پاس اے ائی سے چلنے والا ایک ایسا نظام ہے جو فضائی کارروائی کے دوران اپنے اہداف کو اچوک انداز میں نشانہ بناتا ہے۔ اس کا نام ’ہیبسورا‘ ہے۔ اسرائیلی ملٹری ذرائع کے مطابق یہ نظام ملٹری آپریشن کوانسانی قتل عام کی فیکٹری میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ایک تحقیق کار اینٹونی لوویسٹین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نظام جدید فنونِ جنگ کی اخلاقیات کی شکست و ریخت کا سامان بھی بن رہا ہے۔ اس نظام کو پہلے غزہ میں آزمایا گیا اور اب ایران میں آزمایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے سائبر آپریشن کے مطالعے سے مستقبل کی جنگوں کا ایک ایسا خوفناک منظر سامنے آتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اگر اسی طرح اے آئی کا بے محابہ استعمال ہوتا رہا تو مستقبل کی جنگیں ماضی کی تمام جنگوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوں گی۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ٹھکانے کی تلاش کے دوران اسرائیلی جنگی جہازوں نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کر لیا اور انھیں نگرانی نظام کو نشانہ بنانے والے ٹول میں بدل دیا۔ اس کی مدد سے ہی علی خامنہ ای کی آمد و رفت کی نگرانی کی جاتی رہی اور بالآخر ان کو نشانہ بند انداز میں ہلاک کر دیا گیا۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی غیر متوقع جنگی کامیابیوں کے پس پردہ اے آئی ہی کی کارفرمائی ہے۔ امریکی خفیہ محکمہ ایف بی آئی کے سابق اہل کاروں کے مطابق ایران خلیجی ملکوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اڈوں کو جس طرح نشانہ بنا رہا ہے اس میں رینسم ویئر یعنی کمپیوٹر وائرس کی مدد شامل ہے۔ اس کا ہائپر سونک فتح میزائل جس نے اسرائیل کی دفاعی قوت میں شگاف ڈال دیا اے آئی نظام سے لیس ہے۔ وہ اے آئی کا استعمال ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل رہنمائی اور جاسوسی کے لیے کر رہا اور اہداف کی نشاندہی اور نگرانی کو بہتر بنا رہا ہے۔ آج کے جدید فنونِ حرب میں صرف ہتھیار ہی اپنی اہلیت ثابت نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ پورا تنازع مصنوعی ذہانت کی انتھک پیش قدمی کی وجہ سے ایک نئی شکل و صورت اختیار کر گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس جدید جنگی دور کا ایک انکشافی پہلو یہ ہے کہ اس نے سیاسی بحران پیدا کرنے میں بھی ایک کردار ادا کیا ہے۔ اس کا مشاہدہ امریکہ میں ا س وقت کیا گیا جب امریکی محکمہ دفاع پنٹاگن نے ایک سرکردہ اے آئی کمپنی ’اینتھروپک‘ کو بلیک لسٹ کر دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ نے مصنوعی ذہانت کے عالمی مقابلے میں اپنے قائدانہ کردار کو یقینی بنانے کے لیے اربوں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
سہیل انجم
اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹلی جنس کی اہمیت انسانی زندگی میں اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ کوئی بھی شعبہ حیات ایسا نہیں ہے جس میں اس کا عمل ذحل نہ ہو۔ لیکن جس طرح ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اسی طرح اس کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک مفید ہے تو دوسرا مضر بلکہ تباہ کن۔ ابھی تک اے آئی کو ڈیجیٹل صورت گری کا ایک ٹول سمجھا جا رہا تھا لیکن اب تو جنگیں بھی مصنوعی ذہانت کے سہارے لڑی جا تی ہیں۔ اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت انسان کی حقیقی اور فطری ذہانت سے کہیں زیادہ موثر اور کارگر ہے۔ اس کا تازہ ترین مشاہدہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں کیا جا سکتا ہے۔ اس جنگ کے فریقین یعنی امریکہ اسرائیل اور ایران اس کے سہارے کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ حالانکہ اطلاعات کے مطابق اس میدان میں اسرائیل کو سبقت حاصل ہے۔ لیکن ایران بھی اگر ا س کے دوش بدوش نہیں تو بہت زیادہ پیچھے بھی نہیں ہے۔ اسرائیل نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا تجربہ غزہ میں کیا اور اب وہ ایران میں اس کا اعادہ کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے انگریزی روزنامہ ’عرب نیوز‘ میں زید ایم بلباگی کا ایک پر ازمعلومات مضمون شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے اس کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ یہاں یہ ذکر بے محل نہیں ہوگا کہ عالمی برادری کا ایک بہت بڑا حصہ یہ سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں دیگر ملکوں سے بہت پیچھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میدان میں وہ بھی نقوش پا ثبت کر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اے آئی جسے ابھی تک سائنس و ٹیکنالوجی کا ایک ٹول سمجھا جا رہا تھا اس میدان میں ہولناک تباہ کاریوں کا مرکزی کردار بن گیا ہے۔ یہ ایک جنگی ہتھیار کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت ایران کے خلاف جو جنگ ہو رہی ہے وہ اے آئی جنگ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ یہ انسانی ہاتھوں سے زیادہ کارگر اور موثر تو ہے ہی اس کی تباہ کاریاں بھی انسانی ہاتھوں سے ہونے والی تباہیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسرائیل کے پاس اے ائی سے چلنے والا ایک ایسا نظام ہے جو فضائی کارروائی کے دوران اپنے اہداف کو اچوک انداز میں نشانہ بناتا ہے۔ اس کا نام ’ہیبسورا‘ ہے۔ اسرائیلی ملٹری ذرائع کے مطابق یہ نظام ملٹری آپریشن کوانسانی قتل عام کی فیکٹری میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ایک تحقیق کار اینٹونی لوویسٹین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نظام جدید فنونِ جنگ کی اخلاقیات کی شکست و ریخت کا سامان بھی بن رہا ہے۔ اس نظام کو پہلے غزہ میں آزمایا گیا اور اب ایران میں آزمایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے سائبر آپریشن کے مطالعے سے مستقبل کی جنگوں کا ایک ایسا خوفناک منظر سامنے آتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اگر اسی طرح اے آئی کا بے محابہ استعمال ہوتا رہا تو مستقبل کی جنگیں ماضی کی تمام جنگوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوں گی۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ٹھکانے کی تلاش کے دوران اسرائیلی جنگی جہازوں نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کر لیا اور انھیں نگرانی نظام کو نشانہ بنانے والے ٹول میں بدل دیا۔ اس کی مدد سے ہی علی خامنہ ای کی آمد و رفت کی نگرانی کی جاتی رہی اور بالآخر ان کو نشانہ بند انداز میں ہلاک کر دیا گیا۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی غیر متوقع جنگی کامیابیوں کے پس پردہ اے آئی ہی کی کارفرمائی ہے۔ امریکی خفیہ محکمہ ایف بی آئی کے سابق اہل کاروں کے مطابق ایران خلیجی ملکوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اڈوں کو جس طرح نشانہ بنا رہا ہے اس میں رینسم ویئر یعنی کمپیوٹر وائرس کی مدد شامل ہے۔ اس کا ہائپر سونک فتح میزائل جس نے اسرائیل کی دفاعی قوت میں شگاف ڈال دیا اے آئی نظام سے لیس ہے۔ وہ اے آئی کا استعمال ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل رہنمائی اور جاسوسی کے لیے کر رہا اور اہداف کی نشاندہی اور نگرانی کو بہتر بنا رہا ہے۔ آج کے جدید فنونِ حرب میں صرف ہتھیار ہی اپنی اہلیت ثابت نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ پورا تنازع مصنوعی ذہانت کی انتھک پیش قدمی کی وجہ سے ایک نئی شکل و صورت اختیار کر گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس جدید جنگی دور کا ایک انکشافی پہلو یہ ہے کہ اس نے سیاسی بحران پیدا کرنے میں بھی ایک کردار ادا کیا ہے۔ اس کا مشاہدہ امریکہ میں ا س وقت کیا گیا جب امریکی محکمہ دفاع پنٹاگن نے ایک سرکردہ اے آئی کمپنی ’اینتھروپک‘ کو بلیک لسٹ کر دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ نے مصنوعی ذہانت کے عالمی مقابلے میں اپنے قائدانہ کردار کو یقینی بنانے کے لیے اربوں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
ا س جنگ کی رپورٹنگ میں بھی اے آئی کا خوب استعمال کیا جا رہا ہے اور متعدد میڈیا ادارے اس کی مدد سے حاصل شدہ خبریں نشر کر رہے ہیں۔ اے آئی کی مدد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ایرانی کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل میں کتنا جانی و مالی نقصان ہوا اور کتنے افردا زخمی ہوئے۔ اسی طرح ایران میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا اندازہ بھی مصنوعی ذہانت ہی لگا رہی ہے۔ ایک دور تھا جب ریکارڈوں کی تلاش میں اخبارات و دستاویزات کھنگالے جاتے تھے۔ ان کے اوراق پلٹے جاتے تھے اور گھنٹوں کی محنت کے بعد کچھ تفصیلات اور اعداد و شمار ہاتھ آتے تھے۔ لیکن آج مصنوعی ذہانت نے یہ کام اتناآسان کر دیا ہے کہ نہ اخباروں کی فائلیں پلٹنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی دماغ لگانے کی۔ بس چیٹ جی پی ٹی یا گروک یا پھر دوسرے اے آئی چیٹ بوٹ کے سامنے سوال اچھال دیجیے اور نتیجہ لمحوں میں آپ کے سامنے۔ اے آئی کے استعمال کا ایک زبردست مشاہدہ اس وقت کیا گیا جب کئی روز تک دنیا بھر میں اس خبر کے گردش کرنے کے بعد کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو ہلاک کر دیا گیا ہے، ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ان کے ایک ہاتھ میں چھ انگلیاں تھیں۔ جب دنیا بھر میں کہا جانے لگا کہ یہ تو اے آئی کا بنایا ہوا نیتن یاہو کا کلون ہے تو پھر وہ ایک کافی شاپ پر کافی پیتے نظر آئے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پنجے دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھو چھ نہیں پانچ ہی انگلیاں ہیں۔ لیکن اس کا بھی پوسٹ مارٹم کر دیا گیا اور اس ویڈیو کا تجزیہ کرکے بتایا گیا کہ یہ بھی اے آئی نمونہ ہے۔ اس کے بعد فوجی اہل کاروں کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے ان کی ایک ویڈیو جاری کی گئی۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے اس قدر استعمال کی وجہ سے ان خبروں کی صداقت مشکوک ہو گئی کہ نیتن یاہو زندہ ہیں۔ اب کسی کو ان کے زندہ ہونے پر یقین نہیں ہے۔ حالانکہ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ زندہ ہیں تو انھیں تلاش کرکے مار دیا جائے گا۔ ادھرسوشل میڈیا پر ایسی جعلی پوسٹس، ویڈیوز اور تصاویر کی بھرمار ہے جنھیں بہت سے لوگ سچ مان کر جنگ کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے اور انھیں آگے فارورڈ کر رہے ہیں۔ بہت سے صارفین نے ایسی تصاویر شیئر کیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکی اور اسرائیلی پائلٹوں کو دھوکہ دے کر ایران میں پینٹ کیے گئے نقلی طیاروں پر بمباری کروائی گئی۔ حالانکہ بعد میں یہ خبر جھوٹی ثابت ہوئی۔ یہ پوسٹس مختلف زبانوں میں ہزاروں بار شیئر کی گئیں۔ جبکہ یہ اے آئی کا کمال تھا اور اس میں ذرا بھی صداقت نہیں تھی۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی خبریں گردش میں ہیں۔ گویا اب مستقبل میں امن کی باتیں ہوں یا جنگ کی سب اے آئی کی محتاج ہوں گی۔گویا اب انسان کچھ نہیں ہے جو کچھ ہے اے آئی ہے۔ وہی ہیرو بھی ہے اور وہی ویلن بھی۔
موبائل:9818195929
Https://telegram.me/ilmokitab
موبائل:9818195929
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیے
(حضرت المخدوم مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی صاحب کے ساتھ ایک یادگار علمی مجلس)
از: طارق علی عباسی
ہمارے مخدوم بزرگ، حضرت الاقدس مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی صاحب مدظلہ اپنی شخصیت میں اپنے والد گرامی، پیکرِ اخلاص حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ سمیت دیگر کئی اکابر علماء و مشائخ کے تابندہ نقوش اور یادوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان سے ملنا اور گفتگو کرنا یا ان کی مجلس میں شریک ہونا، خمار بارہ بنکوی کے بقول: "اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیے" کا مصداق ہوتا ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب قبلہ ۹۳ برس کے ہیں، اللّٰه تعالیٰ انہیں عافیت کے ساتھ بقیدِ حیات رکھے۔
ہمارے استاذِ محترم حضرت الشیخ مولانا عبدالباقی ادریس السندی صاحب مدظلہ جزائے خیر کے مستحق ہیں کہ وہ ایسے گوہرِ نایاب اشخاص کو، چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں، ڈھونڈ نکالنے اور ان سے استفادہ کرنے میں پوری مہارت رکھتے ہیں۔ اسی غرض سے آج یکم اپریل ٢٠٢٦ء مطابق ۱۲ شوال المکرم ۱۴۴۷ھ بروز بدھ کی صبح، دس بجے کراچی میں مخدوم المحترم مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی صاحب کی رہائش گاہ پر "علمِ حدیث" کی تڑپ لے کر حاضر ہوئے۔ اس علمی سفر میں استاذ محترم کے ہمراہ مولانا مفتی عتیق الرحمٰن، مولانا محمد ابراھیم القرشی اور "گوگل میٹ" کے ذریعہ مولانا مفتی صفدر سمیع الدین مقبول (امریکی)، مولانا حسن بن طاہر (بریطانی) اور راقم شریکِ مجلس رہے۔
حضرت ڈاکٹر صاحب قبلہ کے پاس حصولِ اجازتِ حدیث کے لیے مولانا الاستاذ عبدالباقی ادریس السندی صاحب کی یہ دوسری حاضری تھی۔ تعارف اور رسمی ملاقات کے بعد قرأتِ حدیث و کتب کا دور چلا، جس کی ترتیب یوں رہی: الحديث المسلسل بالأولية، وأوائل وأواخر كتب الستة مع الموطأين، و أوائل وأواخر سنن الدارمي، ومسند أحمد، وأوائل وأواخر خیر الصحيفة فيما يتعلق بأبي حنيفة، لمولانا اشفاق الرحمٰن كاندهلوي رحمه اللّٰه-
دورانِ قرأتِ حدیث و کتب، حضرت ڈاکٹر صاحب قبلہ لغوی اور معنوی باریکیوں سے متعلق پوچھ گچھ کرتے رہے، یہی انداز ان کے والد گرامی سید الملت حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ کا بھی تھا، جس سے ندوہ کے طلبہ ڈرتے تھے۔ مولانا اشفاق الرحمٰن کاندھلویؒ کی کتاب پر استاذ محترم نے ڈاکٹر صاحب قبلہ کو اپنا تحقیقی کام دکھایا، جسے انہوں نے سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسے لوگوں کو آج کون جانتا ہے؟ آپ بڑا کام کر رہے ہیں، کرتے رہیے۔ مزید انہوں نے مولانا کاندھلوی سے وابستہ بھوپال سے ٹنڈو الہ یار تک کی پرانی یادوں کا تذکرہ بھی چھیڑا اور ٹنڈو الہ یار کی وجہِ تسمیہ بتلائی، علامہ سید سلیمان ندویؒ اور حضرت تھانویؒ کے عالمانہ تعلقات پر بڑی واضح گفتگو کی، علامہ خلیل عربؒ اور محترمہ عطیہ عربؒ سے اپنے تعلقات بیان کیے اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی محدثانہ یادداشت پر ایک واقعہ سنایا۔ نیز مولانا مفتی محمد حسن امرتسری، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا محمد مالک کاندھلوی، مولانا عبید اللّٰه اشرفی اور مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمۃ اللّٰه علیھم سے جڑی اپنی یادوں کو تازہ کیا۔ اس موقع پر خانقاہِ عالیہ قادریہ راشدیہ حسنیہ شاہپور چاکر (سندھ) سے شایع ہونے والے ماہنامہ: "پَیامِ حَسن" پر بھی اپنے تاثرات کا اظہار فرمایا۔ حضرت ڈاکٹر صاحب قبلہ کے تفصیلی ارشادات، آئندہ کے مضمون میں حاضرِ خدمت کیے جائیں گے۔ ان شاء اللّٰه تعالیٰ۔
Https://telegram.me/ilmokitab
(حضرت المخدوم مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی صاحب کے ساتھ ایک یادگار علمی مجلس)
از: طارق علی عباسی
ہمارے مخدوم بزرگ، حضرت الاقدس مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی صاحب مدظلہ اپنی شخصیت میں اپنے والد گرامی، پیکرِ اخلاص حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ سمیت دیگر کئی اکابر علماء و مشائخ کے تابندہ نقوش اور یادوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان سے ملنا اور گفتگو کرنا یا ان کی مجلس میں شریک ہونا، خمار بارہ بنکوی کے بقول: "اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیے" کا مصداق ہوتا ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب قبلہ ۹۳ برس کے ہیں، اللّٰه تعالیٰ انہیں عافیت کے ساتھ بقیدِ حیات رکھے۔
ہمارے استاذِ محترم حضرت الشیخ مولانا عبدالباقی ادریس السندی صاحب مدظلہ جزائے خیر کے مستحق ہیں کہ وہ ایسے گوہرِ نایاب اشخاص کو، چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں، ڈھونڈ نکالنے اور ان سے استفادہ کرنے میں پوری مہارت رکھتے ہیں۔ اسی غرض سے آج یکم اپریل ٢٠٢٦ء مطابق ۱۲ شوال المکرم ۱۴۴۷ھ بروز بدھ کی صبح، دس بجے کراچی میں مخدوم المحترم مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی صاحب کی رہائش گاہ پر "علمِ حدیث" کی تڑپ لے کر حاضر ہوئے۔ اس علمی سفر میں استاذ محترم کے ہمراہ مولانا مفتی عتیق الرحمٰن، مولانا محمد ابراھیم القرشی اور "گوگل میٹ" کے ذریعہ مولانا مفتی صفدر سمیع الدین مقبول (امریکی)، مولانا حسن بن طاہر (بریطانی) اور راقم شریکِ مجلس رہے۔
حضرت ڈاکٹر صاحب قبلہ کے پاس حصولِ اجازتِ حدیث کے لیے مولانا الاستاذ عبدالباقی ادریس السندی صاحب کی یہ دوسری حاضری تھی۔ تعارف اور رسمی ملاقات کے بعد قرأتِ حدیث و کتب کا دور چلا، جس کی ترتیب یوں رہی: الحديث المسلسل بالأولية، وأوائل وأواخر كتب الستة مع الموطأين، و أوائل وأواخر سنن الدارمي، ومسند أحمد، وأوائل وأواخر خیر الصحيفة فيما يتعلق بأبي حنيفة، لمولانا اشفاق الرحمٰن كاندهلوي رحمه اللّٰه-
دورانِ قرأتِ حدیث و کتب، حضرت ڈاکٹر صاحب قبلہ لغوی اور معنوی باریکیوں سے متعلق پوچھ گچھ کرتے رہے، یہی انداز ان کے والد گرامی سید الملت حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ کا بھی تھا، جس سے ندوہ کے طلبہ ڈرتے تھے۔ مولانا اشفاق الرحمٰن کاندھلویؒ کی کتاب پر استاذ محترم نے ڈاکٹر صاحب قبلہ کو اپنا تحقیقی کام دکھایا، جسے انہوں نے سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسے لوگوں کو آج کون جانتا ہے؟ آپ بڑا کام کر رہے ہیں، کرتے رہیے۔ مزید انہوں نے مولانا کاندھلوی سے وابستہ بھوپال سے ٹنڈو الہ یار تک کی پرانی یادوں کا تذکرہ بھی چھیڑا اور ٹنڈو الہ یار کی وجہِ تسمیہ بتلائی، علامہ سید سلیمان ندویؒ اور حضرت تھانویؒ کے عالمانہ تعلقات پر بڑی واضح گفتگو کی، علامہ خلیل عربؒ اور محترمہ عطیہ عربؒ سے اپنے تعلقات بیان کیے اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی محدثانہ یادداشت پر ایک واقعہ سنایا۔ نیز مولانا مفتی محمد حسن امرتسری، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا محمد مالک کاندھلوی، مولانا عبید اللّٰه اشرفی اور مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمۃ اللّٰه علیھم سے جڑی اپنی یادوں کو تازہ کیا۔ اس موقع پر خانقاہِ عالیہ قادریہ راشدیہ حسنیہ شاہپور چاکر (سندھ) سے شایع ہونے والے ماہنامہ: "پَیامِ حَسن" پر بھی اپنے تاثرات کا اظہار فرمایا۔ حضرت ڈاکٹر صاحب قبلہ کے تفصیلی ارشادات، آئندہ کے مضمون میں حاضرِ خدمت کیے جائیں گے۔ ان شاء اللّٰه تعالیٰ۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤6
Qazi Mujahidul Islam Qasimi By Khald Saifullah Rahmani.pdf
1.9 MB
مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی (وفات ۲ اپریل ۲۰۰۲ء) تحریر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
❤2
*وفیات مورخہ: ۲/ اپریل*
1949ء فیروز الدین ڈسکوی۔ مصنف فیروز اللغات
1965ء محمد یوسف کاندھلوی۔ مولانا ، حضرت جی
1971ء قیس بنارسی، منشی شیو مورت لال۔ ،
1976ء مہرالٰہی کلکتے والے، محمد۔ ،
1981ء نعت اللہ قادری، ابو معاویہ محمد۔ ،
1987ء یوسف ، ایس ایم۔ ،
2002ء قاضی مجاہد الاسلام قاسمی۔ مولانا ، صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ
2004ء تشنہ بلگرامی۔ ،
2006ء آذرنایاب بدایونی (غلام حامد حیدر صدیقی)۔ ،
2006ء عزیز الدین قریشی۔ ،
2009ء امتیاز احمد۔ مولانا مفتی
2010ء سید ذوالفقار احمد حسینی۔ مولانا ،
2011ء عبدالعزیز۔ مولانا، آندھرا پردیش
2012ء محمد اسلم مظاہری۔
2013ء ابراہیم زید کیلانی۔ اردنی وزیر اوقاف
2014ء مامون قاضی۔ جسٹس (ر) ،
2018ء ونی منڈیلا۔
2020ء سراج الحسن۔ امیر جماعت اسلامی ہند
2021ء محمد شفیق سلیمی۔
2023ء سید شہاب الدین سلفی فردوسی۔
Https://telegram.me/ilmokitab
1949ء فیروز الدین ڈسکوی۔ مصنف فیروز اللغات
1965ء محمد یوسف کاندھلوی۔ مولانا ، حضرت جی
1971ء قیس بنارسی، منشی شیو مورت لال۔ ،
1976ء مہرالٰہی کلکتے والے، محمد۔ ،
1981ء نعت اللہ قادری، ابو معاویہ محمد۔ ،
1987ء یوسف ، ایس ایم۔ ،
2002ء قاضی مجاہد الاسلام قاسمی۔ مولانا ، صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ
2004ء تشنہ بلگرامی۔ ،
2006ء آذرنایاب بدایونی (غلام حامد حیدر صدیقی)۔ ،
2006ء عزیز الدین قریشی۔ ،
2009ء امتیاز احمد۔ مولانا مفتی
2010ء سید ذوالفقار احمد حسینی۔ مولانا ،
2011ء عبدالعزیز۔ مولانا، آندھرا پردیش
2012ء محمد اسلم مظاہری۔
2013ء ابراہیم زید کیلانی۔ اردنی وزیر اوقاف
2014ء مامون قاضی۔ جسٹس (ر) ،
2018ء ونی منڈیلا۔
2020ء سراج الحسن۔ امیر جماعت اسلامی ہند
2021ء محمد شفیق سلیمی۔
2023ء سید شہاب الدین سلفی فردوسی۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
احباب سے گذارش ہے کہ اس چینل کے مستفیدین کی تعداد میں اضافہ اور اسے زیادہ سے زیادہ احباب میں متعارف کرنے میں دلچسپی لیں
منصب علماء (01)
خطاب حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ
آج سے (۳۷) سال قبل حضرت قاضی صاحب کے علماء و فارغین مدارس سے ہوا ایک نادر خطاب، اسے زیادہ سے زیادہ احباب میں شیر کرنے کی گذارش ہے۔
https://youtu.be/MQXVlDlWBPc?si=f8vf3JbgXjcg1NMO
خطاب حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ
آج سے (۳۷) سال قبل حضرت قاضی صاحب کے علماء و فارغین مدارس سے ہوا ایک نادر خطاب، اسے زیادہ سے زیادہ احباب میں شیر کرنے کی گذارش ہے۔
https://youtu.be/MQXVlDlWBPc?si=f8vf3JbgXjcg1NMO
YouTube
1 of 4 Qazi Mujahidul Islam Qasmi - Mansab Ulama
مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ و بانی اسلامک فقہ اکیڈمی سنہ 1989 میں علمائے دین کی خصوصی مجلس میں علمائے دین کے منصب اور مقام کے موضوع پر جو خطاب فرمایاتھا اس کا پہلا حصہ پیش خدمت ہے۔
مکمل اور مزید آڈیو…
مکمل اور مزید آڈیو…
امت کی نجات، کامل بندگی میں منحصر ہے
حضرت الاقدس مولانا سید زبیر احمد شاہ صاحب مدظلہ العالی (کربوغہ شریف والوں) نے ارشاد فرمایا:
مسلمانوں کی موجودہ حالت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پوری امت پر جو امانت اور ذمہ داری ہے، اجتماعی طور پر وہ ذمہ داری پوری نہیں ہو رہی، ادھورے دین پر عمل ہے، جس کی وجہ سے پِٹائی ہو رہی ہے۔ اگر ہم اس سے نکلنا چاہتے ہیں تو اللہ جل جلالہٗ کی کامل بندگی میں داخل ہونا پڑے گا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪. (البقرۃ: 208) یقین جانیے! اللہ تعالیٰ کی کامل بندگی کوئی مشکل نہیں اور اللہ کا کوئی حکم ایسا نہیں، جو انسان کی استطاعت سے باہر ہو: لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ. (البقرۃ: 286) آسان معاملہ ہے: یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘. (البقرۃ: 185) وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ. (الحج: 78) یہ ایک پاکیزہ دین ہے، جو امن والا معاشرہ قائم کرتا ہے، جہاں جان، مال اور عزت محفوظ ہو، جہاں غیبت، حسد، تکبر اور ریا نہ ہو، بلکہ عاجزی، ایثار اور ہمدردی ہو۔
(جامعہ دارالعلوم عیدگاہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بروز ہفتہ، ۹ شوال المکرم ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۸ مارچ ٢٠٢٦ء کو کیے گئے خطاب سے اقتباس، پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
حضرت الاقدس مولانا سید زبیر احمد شاہ صاحب مدظلہ العالی (کربوغہ شریف والوں) نے ارشاد فرمایا:
مسلمانوں کی موجودہ حالت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پوری امت پر جو امانت اور ذمہ داری ہے، اجتماعی طور پر وہ ذمہ داری پوری نہیں ہو رہی، ادھورے دین پر عمل ہے، جس کی وجہ سے پِٹائی ہو رہی ہے۔ اگر ہم اس سے نکلنا چاہتے ہیں تو اللہ جل جلالہٗ کی کامل بندگی میں داخل ہونا پڑے گا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪. (البقرۃ: 208) یقین جانیے! اللہ تعالیٰ کی کامل بندگی کوئی مشکل نہیں اور اللہ کا کوئی حکم ایسا نہیں، جو انسان کی استطاعت سے باہر ہو: لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ. (البقرۃ: 286) آسان معاملہ ہے: یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘. (البقرۃ: 185) وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ. (الحج: 78) یہ ایک پاکیزہ دین ہے، جو امن والا معاشرہ قائم کرتا ہے، جہاں جان، مال اور عزت محفوظ ہو، جہاں غیبت، حسد، تکبر اور ریا نہ ہو، بلکہ عاجزی، ایثار اور ہمدردی ہو۔
(جامعہ دارالعلوم عیدگاہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بروز ہفتہ، ۹ شوال المکرم ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۸ مارچ ٢٠٢٦ء کو کیے گئے خطاب سے اقتباس، پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
تحریر: ڈاکٹر تابشؒ
"میں یہاں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ جوں جوں میں عمر کی سیڑھیاں عبور کرتا جارہا ہوں، مجھ پر یہ بات بڑی شدت کے ساتھ منکشف ہوتی جارہی ہے کہ جماعتوں اور تنظیموں سے وابستہ ہو کر آدمی غیر شعوری طور پر دین سے دور ہوتا جاتا ہے۔
اس کے سامنے دین کی نہیں اس کی اپنی جماعت کی مصالح رہتی ہیں ۔ حتی کہ کذب و فریب سے بھی اُسے دریغ نہیں ہوتا ۔ وہ بس اپنی جماعت کے لیے ہوتا ہے، جماعت کے مخلصین کی فہرست میں اس کا نام نمایاں ہوتا ہے۔ اس خصوص میں کسی جماعت کا استثنا نہیں ہے۔ تمام جماعتیں اور تنظیمیں اس کا شکار ہیں ۔ مجھے اپنی اس سوچ پر کامل شرح صدر ہے۔"(تصوف یہ ہے ص:۶۷ط:مکتبہ النور دیوبند)
انتخاب : محمد رضی قاسمی
"میں یہاں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ جوں جوں میں عمر کی سیڑھیاں عبور کرتا جارہا ہوں، مجھ پر یہ بات بڑی شدت کے ساتھ منکشف ہوتی جارہی ہے کہ جماعتوں اور تنظیموں سے وابستہ ہو کر آدمی غیر شعوری طور پر دین سے دور ہوتا جاتا ہے۔
اس کے سامنے دین کی نہیں اس کی اپنی جماعت کی مصالح رہتی ہیں ۔ حتی کہ کذب و فریب سے بھی اُسے دریغ نہیں ہوتا ۔ وہ بس اپنی جماعت کے لیے ہوتا ہے، جماعت کے مخلصین کی فہرست میں اس کا نام نمایاں ہوتا ہے۔ اس خصوص میں کسی جماعت کا استثنا نہیں ہے۔ تمام جماعتیں اور تنظیمیں اس کا شکار ہیں ۔ مجھے اپنی اس سوچ پر کامل شرح صدر ہے۔"(تصوف یہ ہے ص:۶۷ط:مکتبہ النور دیوبند)
انتخاب : محمد رضی قاسمی
❤3👍2
آج علم و کتاب واٹس ایپ گروپ میں ایک سوال ہوا از جانب مفتی خالد نیموی صاحب
حج کے سفر ناموں میں سب سے مؤثر سفر نامہ آپ کے مطالعہ کی روشنی میں کون سا ہے؟
محمد عدنان کا جواب:
حج کا سفر، از: مفتی رضا انصاری فرنگی محلی
سفر حجاز، از: مولانا دریابادی
کاروان حجاز، از: ماہر القادری
شب جائے کہ من بودم، از: شورش کاشمیری
اپنے گھر سے بیت اللہ تک، از: مولانا سید علی ندوی
اس پر حضرت مولانا منیری صاحب (ایڈمن) کا جامع تبصرہ
ادب میں ہر ایک کا اپنا اپنا ذوق ہوتا ہے، کسی کو اپنے ذوق کا پابند نہیں کرسکتے، حج کے سفرناموں کا مطالعہ کئے کافی طویل عرصہ گذر گیا ہے، اس دوران کئی ایک سارے نئے سفرنامے آچکے ہیں، ہماری رائے میں اپنے اثر کے لحاظ سے حج کے موثر ترین سفرناموں کی ترتیب یوں ہونی چاہئے (۱) سفر حجاز از مولانا عبد الماجد دریابادی (۲) کاروان حجاز از ماہر القادری (۳) حج کا سفر از مفتی محمد رضا انصاری ۔ پس دیوار زنداں اور بوئے گل کی بلندیوں کو شورش کی دوسری کتابیں نہیں پہنچ سکیں، شورش ، نسیم حجازی اور ممتاز مفتی کے حج کے اسفار تقریبا ایک ہی زمرے میں آتے ہیں۔
عبد المتین منیری
حج کے سفر ناموں میں سب سے مؤثر سفر نامہ آپ کے مطالعہ کی روشنی میں کون سا ہے؟
محمد عدنان کا جواب:
حج کا سفر، از: مفتی رضا انصاری فرنگی محلی
سفر حجاز، از: مولانا دریابادی
کاروان حجاز، از: ماہر القادری
شب جائے کہ من بودم، از: شورش کاشمیری
اپنے گھر سے بیت اللہ تک، از: مولانا سید علی ندوی
اس پر حضرت مولانا منیری صاحب (ایڈمن) کا جامع تبصرہ
ادب میں ہر ایک کا اپنا اپنا ذوق ہوتا ہے، کسی کو اپنے ذوق کا پابند نہیں کرسکتے، حج کے سفرناموں کا مطالعہ کئے کافی طویل عرصہ گذر گیا ہے، اس دوران کئی ایک سارے نئے سفرنامے آچکے ہیں، ہماری رائے میں اپنے اثر کے لحاظ سے حج کے موثر ترین سفرناموں کی ترتیب یوں ہونی چاہئے (۱) سفر حجاز از مولانا عبد الماجد دریابادی (۲) کاروان حجاز از ماہر القادری (۳) حج کا سفر از مفتی محمد رضا انصاری ۔ پس دیوار زنداں اور بوئے گل کی بلندیوں کو شورش کی دوسری کتابیں نہیں پہنچ سکیں، شورش ، نسیم حجازی اور ممتاز مفتی کے حج کے اسفار تقریبا ایک ہی زمرے میں آتے ہیں۔
عبد المتین منیری
❤4
یادش بخیر ! عمر رفتہ کو آواز دیجیے تو بات یہی کوئی ستر ہ سال قبل کی ہے اور اگر غفلت شعار ی کام لیجیے تو کل کی بات ہے ،المعہد العالی الاسلامی سےفراغتکے بعد میری افتاد طبع کو دیکھتے ہوئے حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی نے شہر کے ایک موقر روزنامہ ’’ہمارا عوام‘‘میں کام کرنے کا مشورہ دیا،وہاں تقریباً ایک سال کام کیا ،بعد ازاں بنگلور کے لیے رخت سفر باندھا،بنگلور میں وجہ کشش یہ تھی کہ میرے بڑے بھائی وہیں تھے،اوراب تو بنگلور کے متوطن ہیں،بنگلور آنے کے کچھ عرصہ کے بعد ہی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہائر لرننگ میںمسجد نور کے پاس ملازمت ملی، ملازمت عربی سے اردو ترجمہ نگاری کی تھی، ادارے میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ ادارہ دراصل ینگ مسلم ڈائجسٹ کا ذیلی شعبہ ہےاورینگ مسلم ڈائجسٹ کے کرتادھرتا جناب اقبال ظہیر صاحب ہیں جو اس وقت تو سعودی عرب میں برسرملازمت ہیں لیکن دینی اورملی کاموںسے ان کو شوق اوررغبت ہے اوران کا یہی شوق پہلے ینگ مسلم ڈائجسٹ کی صورت میں ابھرکر سامنے آیا، یہ بھی معلوم ہواکہ عربی سے اردو کاکام اسلامک انسائیکلوپیڈیا کے پروجکٹ کے تحت کیاجارہاہےْ
چونکہ ایسے افراد کا ملنا جو عربی اور انگریزی بیک وقت دونوں زبانوں میں ماہر ہوں، نادرونایاب نہ سہی، مشکل ضرور ہے، لہذا اس مشکل کا حل یہ نکالاگیاکہ مدارس کے فارغین سے عربی کتابوں کے خلاصے یامضامین کے ترجمے کرالیے جائیں اور پھر کوئی انگریزی کا جاننے والا اسے انگریزی زبان میں منتقل کردے ،اسی ادارے میں اس وقت مشہور اردو ادیب ڈاکٹر راہی فدائی صاحب بھی ہمارے انچارج کے طورپر موجود تھے، وہ ہمارے تراجم کابغور جائزہ لیتے تھے، انہوں نے اس وقت میرے کیے کام کی تعریف بھی کی تھی، وجہ یہ تھی کہ میں لفظی ترجمہ کے بجائے ترجمانی سے کام لیتاتھا، اورمفہوم کا ترجمہ کرنابہتر سمجھتاتھا۔
بعدازاں کئی مرتبہ اقبال ظہیر صاحبکو ادارہ کے میٹنگ میں دیکھنے اورسننے کا اتفاق ہوا، اقبال ظہیر صاحب ہمارے کام سے تو خوش تھے ؛لیکن وہ چاہتے تھے کہ اس کو اور بہتر کیاجائے، اوراس کے لیے وہ ترغیب دیاکرتے تھے، میں نے وہاں محض سال بھر کام کیا، پھر روزنامہ سالار بنگلور میں آیا اوروہاں سے روزنامہ سہارا بنگلور میں آیا، اقبال ظہیر صاحب میں دینی تڑپ اورجذبہ تھا، اوراسی جذبہ کے تحت انہوں نے انگلش ماہنامہ نکالاتھا، اس سے ان کو کوئی مالی نفع ہواہو، اس کی توقع کم ہی ہے، چونکہ نہ پرچہ کا گیٹ اپ بہت اچھاتھا اور نہ اس کی طباعت بہت اچھی ہوتی تھی، بس پرچہ لشتم پشتم نکل جاتاتھا، اس کے مضامین کیسے ہوتے تھے، اس سے مجھے واقفیت نہیں ہے، ہاں یہ بات ہے کہ اس کی ادارت اور طباعت پر اقبال ظہیر صاحب کاہرمہینے خاصا خرچ ہوتاتھا۔
اب جب کہ وہ جوار رحمت میں پہنچ چکے ہیں تو اللہ سے دعاہے کہ وہ اپنے بندے سے فضل کا اورمہربانی کا حساب یسیر کا معاملہ فرمائے اور جنت کواس کا مسکن اورٹھکانہ بنائے،آمین۔ (مولانا عبید اختر رحمانی)
چونکہ ایسے افراد کا ملنا جو عربی اور انگریزی بیک وقت دونوں زبانوں میں ماہر ہوں، نادرونایاب نہ سہی، مشکل ضرور ہے، لہذا اس مشکل کا حل یہ نکالاگیاکہ مدارس کے فارغین سے عربی کتابوں کے خلاصے یامضامین کے ترجمے کرالیے جائیں اور پھر کوئی انگریزی کا جاننے والا اسے انگریزی زبان میں منتقل کردے ،اسی ادارے میں اس وقت مشہور اردو ادیب ڈاکٹر راہی فدائی صاحب بھی ہمارے انچارج کے طورپر موجود تھے، وہ ہمارے تراجم کابغور جائزہ لیتے تھے، انہوں نے اس وقت میرے کیے کام کی تعریف بھی کی تھی، وجہ یہ تھی کہ میں لفظی ترجمہ کے بجائے ترجمانی سے کام لیتاتھا، اورمفہوم کا ترجمہ کرنابہتر سمجھتاتھا۔
بعدازاں کئی مرتبہ اقبال ظہیر صاحبکو ادارہ کے میٹنگ میں دیکھنے اورسننے کا اتفاق ہوا، اقبال ظہیر صاحب ہمارے کام سے تو خوش تھے ؛لیکن وہ چاہتے تھے کہ اس کو اور بہتر کیاجائے، اوراس کے لیے وہ ترغیب دیاکرتے تھے، میں نے وہاں محض سال بھر کام کیا، پھر روزنامہ سالار بنگلور میں آیا اوروہاں سے روزنامہ سہارا بنگلور میں آیا، اقبال ظہیر صاحب میں دینی تڑپ اورجذبہ تھا، اوراسی جذبہ کے تحت انہوں نے انگلش ماہنامہ نکالاتھا، اس سے ان کو کوئی مالی نفع ہواہو، اس کی توقع کم ہی ہے، چونکہ نہ پرچہ کا گیٹ اپ بہت اچھاتھا اور نہ اس کی طباعت بہت اچھی ہوتی تھی، بس پرچہ لشتم پشتم نکل جاتاتھا، اس کے مضامین کیسے ہوتے تھے، اس سے مجھے واقفیت نہیں ہے، ہاں یہ بات ہے کہ اس کی ادارت اور طباعت پر اقبال ظہیر صاحب کاہرمہینے خاصا خرچ ہوتاتھا۔
اب جب کہ وہ جوار رحمت میں پہنچ چکے ہیں تو اللہ سے دعاہے کہ وہ اپنے بندے سے فضل کا اورمہربانی کا حساب یسیر کا معاملہ فرمائے اور جنت کواس کا مسکن اورٹھکانہ بنائے،آمین۔ (مولانا عبید اختر رحمانی)
❤3
وطن مستقل واپسی پر کئی ماہ گذررہے ہیں، لیکن ابھی تک دلجمعی کے ساتھ نظام العمل سیٹ نہیں ہوا ہے، جب آیا تھا تو مدارس سالانہ امتحانات کے ماحول میں داخل ہورہے تھے، پھر تعطیلات اور رمضان المبارک کی آمد آمد ہوئی، اور چھٹ پٹ ہمارے بھی کئی ایک اسفار درمیان میں نکل آئے، اب بھی دو چار روز کا ایک اور سفر ہے، امید ہے کہ اس کے بعد زندگی ان شاء اللہ معمول پر آجائے گی۔
اس دوران آپ کی اس بزم میں جیسی منظم شرکت ہونی چاہئے تھی نہ ہوسکی۔ زیادہ تر اپنی حاضری دینے کے لئے روازنہ وفیات ہی پر گذارا کرنا پڑا، دعا کریں مدارس کھلنے کے ساتھ ہی اس بزم کو مزید فعال اور مفید بنانے کے لئے ہم کچھ کرسکیں۔
آج ایک ویب سائٹ کے ذریعے جناب سید اقبال ظہیر صاحب کی رحلت کی خبر موصول ہوئی، دلی رنج ہوا کہ ایک بہت ہی مفید علمی شخصیت ہمارے درمیاں سے اٹھ گئی، انہوں نے انگریزی میں اسلامی انسائیکلوپیڈیا کا ایک منصوبہ شروع کیا تھا، اور اس کے لئے اپنی قیمتی پونجی لگادی تھی۔ معلوم نہیں اب اس کا کیا ہوگا، عام طور پر جب اس قسم کے بڑے منصوبہ نامکمل رہ جاتے ہیں تو پھر جو محنت اور سرمایہ صرف ہوا ہے وہ ضائع ہوجاتے ہیں۔ خدا کرنے سید اقبال ظہیر صاحب کے عمر بھر کے سرمائے کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
آپ کی ایک مرتبہ بھٹکل میں سرسری ملاقات ہوئی تھی، مولانا سید ابو الحسن ندوی اسلامک اکیڈمی اور بھٹکل کے ادارے دیکھنے ائے تھے۔
دوبارہ خاص طور پر ملنے ہمارے آفس آئے تھے، ہم نے انہیں ہمارے پاس موجود علمی ذخیرے دکھائے تھے، اور علمی مواد کی فراہمی میں اپنا تعاون پیش کیا تھا۔ اس وقت ہم نے انہیں بریل کی انسائیکلوپیڈیا آٖف اسلام کا سوفٹ ایڈیشن پیش کیا تھا، جس پر انہوں نے بہت زیادہ ممنونیت کا اظہار کیا تھا،اور ہم سے کہا تھا کہ آپ خلیج میں بیٹھ کر جو کام کرسکتے ہیں، وہ وطن میں آکر نہیں کرسکتے۔ اور انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے پروجکٹ کے لئے یہ انسائیکلوپیڈیا اہم ترین مرجع ہے، لیکن چونکہ اب اس کی اشاعت بند ہوگئی ہے، اور بریل پریس کو آرڈر دینے پر اس کی ڈیجیٹل کاپی ملتی ہے جس کی قیمت پچاس ہزار درہم یا بارہ تیرہ لاکھ روپئے بنتے ہیں، جو ان کی جیب پر بہت بھاری ہے۔
سید صاحب کی رحلت پر ہماری اس بزم کے معزز ممبر مولانا عبید اختر رحمانی صاحب نے آپ کی زندگی پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے پوشیدہ گوشوں سے خوب پردہ اٹھایا ہے، کبھی مولانا رحمانی صاحب کا طوطی اس بزم میں خوب چہکتا تھا، بڑی محنت سے لومۃ لائم کا خیال رکھے بغیر احوال حاضرہ پر روشنی ڈالتے تھے، لیکن اب کچھ خاموش ہوگئے ہیں، شاید اس بزم کے لئے جتنی محنت سے قلم اٹھایا تھا اس کی ویسی قدردانی نہیں ہوئی۔
امت کے لئے درد مندی کا اظہار کرنے والوں کا دل بہت حساس ہوتا ہے۔ اختلاف رائے کے باوجود ایسے دانشوروں کی تحریروں کی ہمت افزائی ہونی چاہئے۔ ہمیں اپنے آنکھ کان کھلے رکھنے چاہئیں۔ لیکن کیا کریں کہ جب سر ڈھانپنے کی کوشش کرتے ہیں تو پاؤں کھل جاتا ہے، اور پاؤں ڈھانکتے ہیں توسر ننگا ہو جاتا ہے۔
اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے لئےاپنے جذبات کو بہت کچھ کچلنا پڑتا ہے۔
مولانا عبید اختر صاحب کی تحریروں کا ہمیں انتظار رہے گا۔ شکریہ
عبد المتین منیری
اس دوران آپ کی اس بزم میں جیسی منظم شرکت ہونی چاہئے تھی نہ ہوسکی۔ زیادہ تر اپنی حاضری دینے کے لئے روازنہ وفیات ہی پر گذارا کرنا پڑا، دعا کریں مدارس کھلنے کے ساتھ ہی اس بزم کو مزید فعال اور مفید بنانے کے لئے ہم کچھ کرسکیں۔
آج ایک ویب سائٹ کے ذریعے جناب سید اقبال ظہیر صاحب کی رحلت کی خبر موصول ہوئی، دلی رنج ہوا کہ ایک بہت ہی مفید علمی شخصیت ہمارے درمیاں سے اٹھ گئی، انہوں نے انگریزی میں اسلامی انسائیکلوپیڈیا کا ایک منصوبہ شروع کیا تھا، اور اس کے لئے اپنی قیمتی پونجی لگادی تھی۔ معلوم نہیں اب اس کا کیا ہوگا، عام طور پر جب اس قسم کے بڑے منصوبہ نامکمل رہ جاتے ہیں تو پھر جو محنت اور سرمایہ صرف ہوا ہے وہ ضائع ہوجاتے ہیں۔ خدا کرنے سید اقبال ظہیر صاحب کے عمر بھر کے سرمائے کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
آپ کی ایک مرتبہ بھٹکل میں سرسری ملاقات ہوئی تھی، مولانا سید ابو الحسن ندوی اسلامک اکیڈمی اور بھٹکل کے ادارے دیکھنے ائے تھے۔
دوبارہ خاص طور پر ملنے ہمارے آفس آئے تھے، ہم نے انہیں ہمارے پاس موجود علمی ذخیرے دکھائے تھے، اور علمی مواد کی فراہمی میں اپنا تعاون پیش کیا تھا۔ اس وقت ہم نے انہیں بریل کی انسائیکلوپیڈیا آٖف اسلام کا سوفٹ ایڈیشن پیش کیا تھا، جس پر انہوں نے بہت زیادہ ممنونیت کا اظہار کیا تھا،اور ہم سے کہا تھا کہ آپ خلیج میں بیٹھ کر جو کام کرسکتے ہیں، وہ وطن میں آکر نہیں کرسکتے۔ اور انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے پروجکٹ کے لئے یہ انسائیکلوپیڈیا اہم ترین مرجع ہے، لیکن چونکہ اب اس کی اشاعت بند ہوگئی ہے، اور بریل پریس کو آرڈر دینے پر اس کی ڈیجیٹل کاپی ملتی ہے جس کی قیمت پچاس ہزار درہم یا بارہ تیرہ لاکھ روپئے بنتے ہیں، جو ان کی جیب پر بہت بھاری ہے۔
سید صاحب کی رحلت پر ہماری اس بزم کے معزز ممبر مولانا عبید اختر رحمانی صاحب نے آپ کی زندگی پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے پوشیدہ گوشوں سے خوب پردہ اٹھایا ہے، کبھی مولانا رحمانی صاحب کا طوطی اس بزم میں خوب چہکتا تھا، بڑی محنت سے لومۃ لائم کا خیال رکھے بغیر احوال حاضرہ پر روشنی ڈالتے تھے، لیکن اب کچھ خاموش ہوگئے ہیں، شاید اس بزم کے لئے جتنی محنت سے قلم اٹھایا تھا اس کی ویسی قدردانی نہیں ہوئی۔
امت کے لئے درد مندی کا اظہار کرنے والوں کا دل بہت حساس ہوتا ہے۔ اختلاف رائے کے باوجود ایسے دانشوروں کی تحریروں کی ہمت افزائی ہونی چاہئے۔ ہمیں اپنے آنکھ کان کھلے رکھنے چاہئیں۔ لیکن کیا کریں کہ جب سر ڈھانپنے کی کوشش کرتے ہیں تو پاؤں کھل جاتا ہے، اور پاؤں ڈھانکتے ہیں توسر ننگا ہو جاتا ہے۔
اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے لئےاپنے جذبات کو بہت کچھ کچلنا پڑتا ہے۔
مولانا عبید اختر صاحب کی تحریروں کا ہمیں انتظار رہے گا۔ شکریہ
عبد المتین منیری
❤4
*وفیات مورخہ: 3 اپریل*
1325ء نظام الدین اولیاء۔
1970ء سید حسن امام۔
1970ء سید حسن امام۔ ،
1980ء سرور بارہ بنکوی (سید سعید الرحمن)۔
1982ء سید نقی علی۔ ،
1986ء محمد کاظم شریعت مداری۔ آیۃ اللہ
1991ء عثمان علی، ایس۔ ،
1993ء حافظ محمد الیاس۔ ڈاکٹر ،
1999ء خواجہ صمد شاہ لدھیانوی۔
2005ء اسلم لاٹر (محمد اسلم صدیقی)۔ ،
2008ء انور سولنگی۔ ،
2020ء عبدالغفور انصاری۔
2021ء سید محمد ولی رحمانی۔ مولانا، امیر شریعت بہار واڑیسہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1325ء نظام الدین اولیاء۔
1970ء سید حسن امام۔
1970ء سید حسن امام۔ ،
1980ء سرور بارہ بنکوی (سید سعید الرحمن)۔
1982ء سید نقی علی۔ ،
1986ء محمد کاظم شریعت مداری۔ آیۃ اللہ
1991ء عثمان علی، ایس۔ ،
1993ء حافظ محمد الیاس۔ ڈاکٹر ،
1999ء خواجہ صمد شاہ لدھیانوی۔
2005ء اسلم لاٹر (محمد اسلم صدیقی)۔ ،
2008ء انور سولنگی۔ ،
2020ء عبدالغفور انصاری۔
2021ء سید محمد ولی رحمانی۔ مولانا، امیر شریعت بہار واڑیسہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
کلام شاعر بہ زبان شاعر
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
جب تک روشنی فکر ونظر باقی ہے
کلام و آواز: سرور بارہ بنکوی
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=jab-talak-roshini-e-fikro-nazar-baqi-hai, Jab Talak Roshini E Fikro Nazar Baqi Hai
سرور صاحب کی رحلت پر (46) سال گذررہے ہیں، آپ وفات ۳ اپریل ۱۹۸۰ء کو ہوئی تھی
مزید کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=surur-barabankvi&t=
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
جب تک روشنی فکر ونظر باقی ہے
کلام و آواز: سرور بارہ بنکوی
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=jab-talak-roshini-e-fikro-nazar-baqi-hai, Jab Talak Roshini E Fikro Nazar Baqi Hai
سرور صاحب کی رحلت پر (46) سال گذررہے ہیں، آپ وفات ۳ اپریل ۱۹۸۰ء کو ہوئی تھی
مزید کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=surur-barabankvi&t=
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤1
*غلطی ہائے مضامین*
*زانوئے‘تِل مِذ’ کیا ہوتا ہے؟*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
کراچی سے ایک عزیز طالب علم کا ایک صوتی سوال موصول ہوا ہے:
‘‘ایک محاورے کے متعلق وضاحت اور رہنمائی فرما دیں۔عام طور پراستعمال ہوتا ہے کہ زانوئے ‘تِل مِذ’ استوار کیے یا‘زانوئے تِل مِذ’ سیدھے کیے۔تو یہ صحیح محاورہ اصل میں ہے کیا؟ اس کا ماخذ کیا ہے؟ اور زانوئے ‘تِل مِذ’ کیا ہوتا ہے؟’’
بچے نے اچھا کیا کہ صوتی سوال کرلیا۔ اس طالب علم کا نام ہم دانستہ نہیں دے رہے ہیں۔ہمارے بچوں کو اپنی زبان کا املا اور تلفظ سیکھنے کا موقع تعلیمی اداروں میں ملتا ہے نہ اب ایسی علمی و ادبی محفلیں ہی باقی رہ گئی ہیں جن میں بزرگوں سے درست تلفظ سننے کا موقع ملے۔
عرض یہ ہے عزیزم! کہ آپ نے جس لفظ کا تلفظ ‘‘تِل مِذ’’ کیا ہے، اُس کا درست تلفظ ‘‘تَلَم مُذ’’ ہے۔ ‘ت’ اور ‘ل’دونوں پر زبر ہے، جب کہ میم پر تشدید اور پیش ہے:‘‘تَلَمُّذ’’۔عربی میں شاگردی کو کہتے ہیں اور تِلمیذ شاگرد کو۔ تلمیذ کی جمع ‘تلامیذ’ بھی ہے اور ‘تلامذہ’ بھی۔ شاگرد اگر ہدایت یافتہ ہو جائے یا ہدایت پا جائے تو ‘تلمیذِ رشید’ کہلانے لگتا ہے۔مگر ہم راولپنڈی اسلام آباد والے ایسا کہنے سے سختی سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھیے کہ ان حضرت کو کسی وجہ سے شیخ رشید کا شاگرد قرار دیا جا رہا ہے۔
ہاں تو عزیزِ من!زانوئے تَلَمُّذاستوار کیا جاتا ہے، نہ سیدھا کیا جاتا ہے، نہ طے کیا جاتا ہے، جیسا کہ بعض لوگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ محاورے کے مطابق ‘زانوئے تلمذ تَہ’ کیا جاتا ہے۔ ‘زانو’ کیا ہوتا ہے؟اپنا‘زانو’آپ تو جانتے اور پہچانتے ہی ہوں گے۔ انسان کی ٹانگ کا گھٹنوں سے اوپر والا حصہ ‘زانو’ کہلاتا ہے۔اسے ‘ران’ بھی کہتے ہیں۔ماں کے یا محبوب کے زانو کو تکیے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے کہ اس پر بہت میٹھی نیند آتی ہے۔محمد اصغر رازؔ کی تمنا تھی کہ
ملے زانوئے خاکِِ طیبہ تو اے رازؔ
وہ نیند آئے پھر نہ اُٹھے سر ہمارا
یہاں ایک اورتلفظ کی تصحیح ضروری ہے۔ وہ یہ کہ مدینہ منورہ کو ‘طے بہ’ کہا جاتا ہے، ‘طَی یَّبہ’ نہیں، جیسا کہ پچھلے برس بڑے بڑوں نے بڑے دھڑلّے سے ‘لشکرِ طیبہ’ کو بار بار ‘لشکرِ طیّبہ’ کہا۔ اصغر رازؔ جیسے خاکسار لوگ ‘زانوئے خاک’ ہی کو اپنا تکیہ بنا کر سو رہتے ہیں۔
امیرؔ مینائی کا زانو اُن کے محبوب کا تکیہ بن گیا، پھر بھی انھیں قلق ہی رہا:
اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پر
اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں
زانو پیٹنا یا زانو پر ہاتھ مارنا ، غم و غصے کا اظہار کرنے کی علامت ہے۔ جیسا کہ میرؔ انیس کے ایک مرثیے میں ملتا ہے:
چلّایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابنِ سعد
اے وا فضیحتا، یہ ہزیمت ظفر کے بعد
‘سر بہ زانو’ ہو کر بیٹھنا یعنی اپنے ہی زانوؤں میں اپنا سر دے بیٹھنا، فکر، پریشانی، ندامت اور شرمندگی کی علامت ہے۔ حالاں کہ دوسروں کا زانو ٹٹولنا شرم کی بات ہونی چاہیے۔میر تقی میرؔکہ بڑے دل جگر والے تھے، اپنے آپ کو حوصلہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں:
زانو پہ سر ہے اکثر، مت فکر اس قدر کر
دل کوئی لے گیا ہے، تو میرؔ ٹُک جگر کر
غالب ؔ کا خیال تھا کہ اُن کا سرکٹ گیا تو اچھا ہی ہوا۔نہ کٹتا توغم سے بے حس ہوجانے والا یہ سر کاندھوں پر بھلا کب تک دھرا رہتا؟
ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
اقبالؔ انسانی تاریخ کی مدت کو تاروں کی چمک کی مدت سے تشبیہ دیتے ہوئے رات بھرشوخ چنگاریوں کی طرح چمکنے والے اِن تاروں کی عمر پر اپنی عقل کو حیران و پریشان پاتے ہیں:
عقل جس سے سر بہ زانو ہے، وہ مدت ان کی ہے
سرگزشتِ نوعِ انساں ایک ساعت ان کی ہے
احمد فرازؔ اپنے محبوب تک اپنے یاروں کی خبر پہنچاتے ہوئے اُسے بتاتے ہیں:
اب کے کچھ ایسی سجی محفلِ یاراں جاناں
سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
کسی کے زانو پر سر رکھ کر اس کا تکیہ بنا کرسونے اور اپنے زانوؤں میں اپنا ہی سر دے کر پریشانی یا شرمندگی کا اظہار کرنے کے علاوہ زانوؤں کا جو سب سے اہم مصرف ہے وہ ہے کسی کے آگے ادب سے بیٹھنے کے لیے اپنے زانوؤں کو استعمال کرنا۔
دونوں گھٹنے موڑ کر یعنی ‘دو زانو’ ہو کر آپ اس طرح بیٹھ جائیں جس طرح نماز میں ‘التحیات’ پڑھتے وقت بیٹھتے ہیں تو اسے ‘زانو تَہ کر کے بیٹھنا’کہا جاتا ہے۔اس طرح سے بیٹھنے کو‘ ادب سے بیٹھنا’ قرار دیا جاتا ہے۔صحیحین میں تکرار کے ساتھ ایک حدیث ایسی بھی آئی ہے جو ‘حدیثِ جبریل’ کہی جاتی ہے۔اس حدیث میں بیان کردہ واقعات کا مفہوم ہمارے الفاظ میں کچھ یوں ہے کہ ایک روزایک اجنبی شخص مسجدِ نبویؐ کے اندرداخل ہوا۔مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگ اس اجنبی مسافر کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔کوئی اس شخص کو پہچانتا نہیں تھا۔لوگ دیکھ رہے تھے کہ یہ آدمی مدینہ منورہ کا رہنے والا نہیں ہے، کہیں باہر سے آیا ہے، مگر اس مسافر کے سفید کپڑے صاف ستھرے تھے اور سیاہ بال ایسے لگ رہے ہیں جیسے یہ شخص ابھی ابھی گھر سے نہا کر نکلا
*زانوئے‘تِل مِذ’ کیا ہوتا ہے؟*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
کراچی سے ایک عزیز طالب علم کا ایک صوتی سوال موصول ہوا ہے:
‘‘ایک محاورے کے متعلق وضاحت اور رہنمائی فرما دیں۔عام طور پراستعمال ہوتا ہے کہ زانوئے ‘تِل مِذ’ استوار کیے یا‘زانوئے تِل مِذ’ سیدھے کیے۔تو یہ صحیح محاورہ اصل میں ہے کیا؟ اس کا ماخذ کیا ہے؟ اور زانوئے ‘تِل مِذ’ کیا ہوتا ہے؟’’
بچے نے اچھا کیا کہ صوتی سوال کرلیا۔ اس طالب علم کا نام ہم دانستہ نہیں دے رہے ہیں۔ہمارے بچوں کو اپنی زبان کا املا اور تلفظ سیکھنے کا موقع تعلیمی اداروں میں ملتا ہے نہ اب ایسی علمی و ادبی محفلیں ہی باقی رہ گئی ہیں جن میں بزرگوں سے درست تلفظ سننے کا موقع ملے۔
عرض یہ ہے عزیزم! کہ آپ نے جس لفظ کا تلفظ ‘‘تِل مِذ’’ کیا ہے، اُس کا درست تلفظ ‘‘تَلَم مُذ’’ ہے۔ ‘ت’ اور ‘ل’دونوں پر زبر ہے، جب کہ میم پر تشدید اور پیش ہے:‘‘تَلَمُّذ’’۔عربی میں شاگردی کو کہتے ہیں اور تِلمیذ شاگرد کو۔ تلمیذ کی جمع ‘تلامیذ’ بھی ہے اور ‘تلامذہ’ بھی۔ شاگرد اگر ہدایت یافتہ ہو جائے یا ہدایت پا جائے تو ‘تلمیذِ رشید’ کہلانے لگتا ہے۔مگر ہم راولپنڈی اسلام آباد والے ایسا کہنے سے سختی سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھیے کہ ان حضرت کو کسی وجہ سے شیخ رشید کا شاگرد قرار دیا جا رہا ہے۔
ہاں تو عزیزِ من!زانوئے تَلَمُّذاستوار کیا جاتا ہے، نہ سیدھا کیا جاتا ہے، نہ طے کیا جاتا ہے، جیسا کہ بعض لوگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ محاورے کے مطابق ‘زانوئے تلمذ تَہ’ کیا جاتا ہے۔ ‘زانو’ کیا ہوتا ہے؟اپنا‘زانو’آپ تو جانتے اور پہچانتے ہی ہوں گے۔ انسان کی ٹانگ کا گھٹنوں سے اوپر والا حصہ ‘زانو’ کہلاتا ہے۔اسے ‘ران’ بھی کہتے ہیں۔ماں کے یا محبوب کے زانو کو تکیے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے کہ اس پر بہت میٹھی نیند آتی ہے۔محمد اصغر رازؔ کی تمنا تھی کہ
ملے زانوئے خاکِِ طیبہ تو اے رازؔ
وہ نیند آئے پھر نہ اُٹھے سر ہمارا
یہاں ایک اورتلفظ کی تصحیح ضروری ہے۔ وہ یہ کہ مدینہ منورہ کو ‘طے بہ’ کہا جاتا ہے، ‘طَی یَّبہ’ نہیں، جیسا کہ پچھلے برس بڑے بڑوں نے بڑے دھڑلّے سے ‘لشکرِ طیبہ’ کو بار بار ‘لشکرِ طیّبہ’ کہا۔ اصغر رازؔ جیسے خاکسار لوگ ‘زانوئے خاک’ ہی کو اپنا تکیہ بنا کر سو رہتے ہیں۔
امیرؔ مینائی کا زانو اُن کے محبوب کا تکیہ بن گیا، پھر بھی انھیں قلق ہی رہا:
اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پر
اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں
زانو پیٹنا یا زانو پر ہاتھ مارنا ، غم و غصے کا اظہار کرنے کی علامت ہے۔ جیسا کہ میرؔ انیس کے ایک مرثیے میں ملتا ہے:
چلّایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابنِ سعد
اے وا فضیحتا، یہ ہزیمت ظفر کے بعد
‘سر بہ زانو’ ہو کر بیٹھنا یعنی اپنے ہی زانوؤں میں اپنا سر دے بیٹھنا، فکر، پریشانی، ندامت اور شرمندگی کی علامت ہے۔ حالاں کہ دوسروں کا زانو ٹٹولنا شرم کی بات ہونی چاہیے۔میر تقی میرؔکہ بڑے دل جگر والے تھے، اپنے آپ کو حوصلہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں:
زانو پہ سر ہے اکثر، مت فکر اس قدر کر
دل کوئی لے گیا ہے، تو میرؔ ٹُک جگر کر
غالب ؔ کا خیال تھا کہ اُن کا سرکٹ گیا تو اچھا ہی ہوا۔نہ کٹتا توغم سے بے حس ہوجانے والا یہ سر کاندھوں پر بھلا کب تک دھرا رہتا؟
ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
اقبالؔ انسانی تاریخ کی مدت کو تاروں کی چمک کی مدت سے تشبیہ دیتے ہوئے رات بھرشوخ چنگاریوں کی طرح چمکنے والے اِن تاروں کی عمر پر اپنی عقل کو حیران و پریشان پاتے ہیں:
عقل جس سے سر بہ زانو ہے، وہ مدت ان کی ہے
سرگزشتِ نوعِ انساں ایک ساعت ان کی ہے
احمد فرازؔ اپنے محبوب تک اپنے یاروں کی خبر پہنچاتے ہوئے اُسے بتاتے ہیں:
اب کے کچھ ایسی سجی محفلِ یاراں جاناں
سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں
کسی کے زانو پر سر رکھ کر اس کا تکیہ بنا کرسونے اور اپنے زانوؤں میں اپنا ہی سر دے کر پریشانی یا شرمندگی کا اظہار کرنے کے علاوہ زانوؤں کا جو سب سے اہم مصرف ہے وہ ہے کسی کے آگے ادب سے بیٹھنے کے لیے اپنے زانوؤں کو استعمال کرنا۔
دونوں گھٹنے موڑ کر یعنی ‘دو زانو’ ہو کر آپ اس طرح بیٹھ جائیں جس طرح نماز میں ‘التحیات’ پڑھتے وقت بیٹھتے ہیں تو اسے ‘زانو تَہ کر کے بیٹھنا’کہا جاتا ہے۔اس طرح سے بیٹھنے کو‘ ادب سے بیٹھنا’ قرار دیا جاتا ہے۔صحیحین میں تکرار کے ساتھ ایک حدیث ایسی بھی آئی ہے جو ‘حدیثِ جبریل’ کہی جاتی ہے۔اس حدیث میں بیان کردہ واقعات کا مفہوم ہمارے الفاظ میں کچھ یوں ہے کہ ایک روزایک اجنبی شخص مسجدِ نبویؐ کے اندرداخل ہوا۔مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگ اس اجنبی مسافر کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔کوئی اس شخص کو پہچانتا نہیں تھا۔لوگ دیکھ رہے تھے کہ یہ آدمی مدینہ منورہ کا رہنے والا نہیں ہے، کہیں باہر سے آیا ہے، مگر اس مسافر کے سفید کپڑے صاف ستھرے تھے اور سیاہ بال ایسے لگ رہے ہیں جیسے یہ شخص ابھی ابھی گھر سے نہا کر نکلا
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤5
ہو۔ مطلب یہ کہ سفر کی کوئی علامت اس کے چہرے بشرے اور لباس سے ہویدا نہیں تھی۔بس یہی دیکھ دیکھ کر لوگ حیران ہو رہے تھے۔ وہ شخص آگے بڑھا ، نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی نشست گاہ تک پہنچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا اوراپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں زانوؤں پر دھر لیے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ صحابۂ کرامؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی محفل کا ہر مشاہدہ کس قدر باریک بینی سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ اس طرح سے بیٹھنے کے بعد وہ شخص آپؐ سے اسلام، ایمان، احسان اور قیامت وغیرہ سے متعلق سوالات کرنے لگا۔حدیث طویل ہے۔ ہر جواب سن کر وہ تصدیق بھی کرتا جاتا کہ آپؐ نے درست فرمایا۔ صحابہؓ کو مزید حیرت ہوتی کہ یہ شخص خود ہی سوال کرتا ہے اور خود ہی جواب کی تصدیق بھی کرتا جاتا ہے۔ جب وہ شخص رخصت ہو گیا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے صحابہ کرام کو بتایا کہ یہ جبریل (علیہ السلام) تھے ، جو تمھیں تمھارا دین سکھانے آئے تھے۔
دین سکھانے والی اسی حدیث سے امام بخاریؒ نے ایک اور سبق سیکھا ۔یہ سبق ہمیں بھی سکھایا۔ اس حدیث کے ابتدائی منظر سے اُنھوں نے یہ اُصول اخذ کیا کہ علم حاصل کرنے والے، یعنی شاگرد (یا تلمیذ) کواُستاد کے سامنے ادب سے دو زانو ہو کر بیٹھنا چاہیے ۔ اسی عمل کو ‘‘زانوئے تَلَمُّذ تَہ کرنا’’ کہاجاتا ہے اور یہی اندازِ نشست ‘زانوئے ادب تَہ کرنا’ بھی کہلاتا ہے۔یوسفیؔ صاحب نے کس کس کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا، اس کا ذکرتو ‘‘زرگزشت’’ میں مل جاتا ہے۔ مگر کسی کتاب میں اُنھوں نے ‘زانوئے تلذذ’ تہ کرنے کا بھی ذکر کیا ہے۔
حاصلِ کلام یہ کہ زانوئے تَلَمُّذ تَہ کرنے کے اصطلاحی معنی ہیں کسی کی شاگردی اختیار کرنا۔
٭٭
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
Https://telegram.me/ilmokitab
دین سکھانے والی اسی حدیث سے امام بخاریؒ نے ایک اور سبق سیکھا ۔یہ سبق ہمیں بھی سکھایا۔ اس حدیث کے ابتدائی منظر سے اُنھوں نے یہ اُصول اخذ کیا کہ علم حاصل کرنے والے، یعنی شاگرد (یا تلمیذ) کواُستاد کے سامنے ادب سے دو زانو ہو کر بیٹھنا چاہیے ۔ اسی عمل کو ‘‘زانوئے تَلَمُّذ تَہ کرنا’’ کہاجاتا ہے اور یہی اندازِ نشست ‘زانوئے ادب تَہ کرنا’ بھی کہلاتا ہے۔یوسفیؔ صاحب نے کس کس کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا، اس کا ذکرتو ‘‘زرگزشت’’ میں مل جاتا ہے۔ مگر کسی کتاب میں اُنھوں نے ‘زانوئے تلذذ’ تہ کرنے کا بھی ذکر کیا ہے۔
حاصلِ کلام یہ کہ زانوئے تَلَمُّذ تَہ کرنے کے اصطلاحی معنی ہیں کسی کی شاگردی اختیار کرنا۔
٭٭
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
مولانا شاہ محمد حلیم عطا سلونیؒ کا قرآنی ذوق اور لطیف مزاح
مولانا شاہ محمد حلیم عطا سلونیؒ کو قرآن مجید بڑا پختہ و مستحضر تھا، قرآنی ذوق کی وجہ سے برمحل آیات پڑھ کر لطیف مزاح بھی فرماتے تھے، اس حوالہ سے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں: ایک مرتبہ وہ دارالعلوم کے مہمان خانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے، ان کے رہنے اور سونے کی کوئی اور موزوں جگہ نہ تھی، مولانا سید سلیمان ندویؒ جو ہمیشہ مہمان خانہ میں ٹھہرتے تھے، تشریف لانے والے تھے، ان کی آمد آمد سن کر دفترِ اہتمام نے کئی بار اشارتًا پھر صراحتًا شاہ صاحبؒ سے کہا کہ وہ کہیں دوسری جگہ منتقل ہوجائیں، اس لیے کہ مہمان خانہ میں سید صاحبؒ اور ان کے رفقاء کا قیام رہے گا، شاہ صاحبؒ کو کسی قدر گرانی ہوئی، ایک دن ہم لوگوں سے فرمانے لگے کہ آج کل یہ آیت میرے حسبِ حال ہے: یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُهٗۙ وَهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ. (النمل ۱۸)
(پرانے چراغ، جلد ۱، صفحہ: ۳۳۷/۳۸)
Https://telegram.me/ilmokitab
مولانا شاہ محمد حلیم عطا سلونیؒ کو قرآن مجید بڑا پختہ و مستحضر تھا، قرآنی ذوق کی وجہ سے برمحل آیات پڑھ کر لطیف مزاح بھی فرماتے تھے، اس حوالہ سے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں: ایک مرتبہ وہ دارالعلوم کے مہمان خانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے، ان کے رہنے اور سونے کی کوئی اور موزوں جگہ نہ تھی، مولانا سید سلیمان ندویؒ جو ہمیشہ مہمان خانہ میں ٹھہرتے تھے، تشریف لانے والے تھے، ان کی آمد آمد سن کر دفترِ اہتمام نے کئی بار اشارتًا پھر صراحتًا شاہ صاحبؒ سے کہا کہ وہ کہیں دوسری جگہ منتقل ہوجائیں، اس لیے کہ مہمان خانہ میں سید صاحبؒ اور ان کے رفقاء کا قیام رہے گا، شاہ صاحبؒ کو کسی قدر گرانی ہوئی، ایک دن ہم لوگوں سے فرمانے لگے کہ آج کل یہ آیت میرے حسبِ حال ہے: یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُهٗۙ وَهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ. (النمل ۱۸)
(پرانے چراغ، جلد ۱، صفحہ: ۳۳۷/۳۸)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
🥰2👍1
امانت داری
بیان وآواز: حضرت مولانا محمد عبد اللہ مغیثی رحمت اللہ علیہ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=amanat-dari, Amanat Dari https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=abadullah-mughaisi&t=
بیان وآواز: حضرت مولانا محمد عبد اللہ مغیثی رحمت اللہ علیہ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=amanat-dari, Amanat Dari https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=abadullah-mughaisi&t=
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com