[4/6, 9:17 AM] Abdul Mateen Muniri: مولانا عبداللہ مغیثی اور ملّی کونسل
معصوم مرادآبادی
آل انڈیا ملی کونسل کے صدر اور ممتاز عالم دین مولانا عبداللہ مغیثی گزشتہ رات میرٹھ کے ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں انتقال فرماگئے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر تقریباً 90 برس تھی۔ وہ کئی سال سے مختلف عوارض میں مبتلا تھے۔ مولانا مغیثی ضلع میرٹھ کے اجراڑہ قصبے میں واقع ایک بڑے مدرسے گلزارحسینہ کے مہتمم تھے اور علاقہ میں اپنی دینی اور ملی سرگرمیوں کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔انھوں نے معربی یوپی کے کئی اضلاع میں دینی مدارس کا جال پھیلایا اور درجنوں مدرسو ں کی سرپرستی کی۔وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کے بھی رکن تھے اور اس کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے دور دراز کا سفر کیا کرتے تھے۔ ان کے دست راست مولانا آس محمد گلزارقاسمی ہمیشہ ان کے ہم سفر رہتے تھے۔
میں ذاتی طورپر مولانا عبداللہ مغیثی کو برسوں سے جانتا تھا۔وہ مجھ سے بڑی شفقت فرماتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب برسوں پہلے ایک گروپ نے جمعیۃ العلماء سے ٹوٹ کر ملی جمعیۃ تشکیل دی تھی تو مولانا مغیثی اس کے قافلہ سالاروں میں تھے۔دیگر اکابرین میں مولانا وحید الزماں کیرانوی، مولانا سیداحمد ہاشمی اور دیگر افراد شامل تھے۔ اس سلسلہ کا عظیم الشان جلسہ دہلی گیٹ کے پاس ہوا تھا اور مولانا مغیثی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے نمایاں لوگوں میں شامل تھے۔ جب اخباری فوٹو گرافر تصویریں لے رہے تھے تو انھوں نے اپنے چہرے پر رومال ڈال لیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارے علمائے کرام صحیح معنوں میں تصویر کشی کو حرام سمجھتے تھے۔
مولانا مغیثی کی اصل سرگرمیاں آل انڈیا ملی کونسل کی صدارت سے شروع ہوئیں جس کے وہ عرصہ دراز سے صدر تھے۔ ملی کونسل کے بانی ڈاکٹر منظورعالم ان کے بہت قدردان تھے، لیکن جیسے جیسے ڈاکٹر منظورعالم کی بیماری کی وجہ سے ان کی گرفت ملی کونسل پر کمزور ہوئی تو مولانا مغیثی کو دیوار سے لگانے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ مجھے یاد ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب ملی کونسل نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کو استقبالیہ دیا تو اس تقریب کی صدارت کے لیے مولانا مغیثی اپنی بیماری اورآزاری کے باوجود دہلی تشریف لائے۔مگر مجھے یہ جان کر تعجب ہوا کہ اگلے روز جب اس استقبالیہ جلسے کی روداد اخبارات میں شائع ہوئی تو اس میں کہیں بھی مولانا مغیثی کا نام نہیں تھا۔ پروگرام کی خبر ملی کونسل کے دفتر سے پریس ریلیز کی صورت میں بھیجی گئی تھی۔ یہ مولانا عبداللہ مغیثی کے ساتھ ملی کونسل کے نئے ارباب اقتدارکا سلوک تھا، جسے دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔
مولانا عبداللہ مغیثی مظلوم ملت کے ان قائدین میں شامل تھے، جن کا کوئی سیاسی یا نجی ایجنڈا نہیں تھا۔ وہ مخلصانہ طورپر ملی امور میں سرگرم رہے اور کبھی کسی منفعت کا تعاقب نہیں کیا۔ ان کا کردار ان کے قد کی طرح بلند تھا۔ وہ ہمارے معاصر بزرگوں کی آخری کڑی تھے۔ ان کا انتقال جہاں ملی قیادت کا نقصان ہے تووہیں مجھے ذاتی طورپر اپنے ایک کرم فرما کے بچھڑجانے کا غم ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے جواررحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل۔آمین
[4/6, 9:24 AM] Abdul Mateen Muniri: محترمی و مشفقی معصوم مراد آبادی صاحب کی تحریروں کا پرانا گرویدہ ہونے کے باوجود مولانا عبداللہ مغیثی صاحب کے متعلق اُن کی اس تحریر پر سخت حیران ہوں. مجھے گزشتہ دس برسوں میں مسلسل ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب سے قریب رہنے کا موقع ملا ہے. اس دس سال کی مدت میں آل انڈیا ملّی کونسل کا کوئی اجلاس ایسا نہیں گزرا جس میں مجھے شرکت کا موقع نہ ملا ہو. ڈاکٹر منظور عالم صاحب کے کونسل کے جنرل سکریٹری ہونے کی حیثیت سے بالکل آخری وقت تک اُن کے پاس آنے والی کونسل کے افراد کی ہر چھوٹی بڑی اطلاع اور اس پر ڈاکٹر صاحب کا ردعمل بھی میرے علم میں ہے. اس ایک دہائی میں مَیں نے کبھی نہ دیکھا اور نہ محسوس کیا کہ مولانا مغیثی کو "دیوار سے لگانے" کی کوشش کی گئی ہو. بالکل آخری وقت میں ایک اجلاس کی پریس ریلیز میں اُن کا نام نہ ہونا، اتنے بڑے الزام کی دلیل کیسے بن سکتا ہے؟ جب کہ اس بڑے سیاسی اجلاس کی صدارت انھی سے کرائی گئی ہو.
مولانا کے صاحب زادے برادرِ مکرم مولانا عبدالملک مغیثی @Malik Mughaisi اس بزم میں موجود ہیں. امید ہے کہ وہ کچھ دن بعد اس سلسلے میں ضرور اظہار خیال کریں گے، تاکہ جو غلط ہو وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرلے.
اللہ تعالیٰ مولانا مغیثی کو دامنِ رحمت میں رکھے، معصوم مرادآبادی صاحب اور ہمارے دوسرے بزرگانِ علم و ادب کو عافیت کے ساتھ سلامت رکھے. آمین
[4/6, 9:25 AM] Abdul Mateen Muniri: معصوم مرادآبادی صاحب کی تحریر پر عزیز من اجمل فاروق کا مناقشہ اس لحاظ سے تو قابل اعتبار ہے کہ ڈاکٹر منظور عالم صاحب کے آخری ایام میں جتنی قربت اجمل میاں کو رہی وہ کسی اور کو (یا کم از کم گروپ سے وابستہ کسی دوسرے شخص کو) نہیں رہی ڈاکٹر صاحب مرحوم ملت کے بہی خواہوں میں
معصوم مرادآبادی
آل انڈیا ملی کونسل کے صدر اور ممتاز عالم دین مولانا عبداللہ مغیثی گزشتہ رات میرٹھ کے ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں انتقال فرماگئے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر تقریباً 90 برس تھی۔ وہ کئی سال سے مختلف عوارض میں مبتلا تھے۔ مولانا مغیثی ضلع میرٹھ کے اجراڑہ قصبے میں واقع ایک بڑے مدرسے گلزارحسینہ کے مہتمم تھے اور علاقہ میں اپنی دینی اور ملی سرگرمیوں کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔انھوں نے معربی یوپی کے کئی اضلاع میں دینی مدارس کا جال پھیلایا اور درجنوں مدرسو ں کی سرپرستی کی۔وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کے بھی رکن تھے اور اس کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے دور دراز کا سفر کیا کرتے تھے۔ ان کے دست راست مولانا آس محمد گلزارقاسمی ہمیشہ ان کے ہم سفر رہتے تھے۔
میں ذاتی طورپر مولانا عبداللہ مغیثی کو برسوں سے جانتا تھا۔وہ مجھ سے بڑی شفقت فرماتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب برسوں پہلے ایک گروپ نے جمعیۃ العلماء سے ٹوٹ کر ملی جمعیۃ تشکیل دی تھی تو مولانا مغیثی اس کے قافلہ سالاروں میں تھے۔دیگر اکابرین میں مولانا وحید الزماں کیرانوی، مولانا سیداحمد ہاشمی اور دیگر افراد شامل تھے۔ اس سلسلہ کا عظیم الشان جلسہ دہلی گیٹ کے پاس ہوا تھا اور مولانا مغیثی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے نمایاں لوگوں میں شامل تھے۔ جب اخباری فوٹو گرافر تصویریں لے رہے تھے تو انھوں نے اپنے چہرے پر رومال ڈال لیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارے علمائے کرام صحیح معنوں میں تصویر کشی کو حرام سمجھتے تھے۔
مولانا مغیثی کی اصل سرگرمیاں آل انڈیا ملی کونسل کی صدارت سے شروع ہوئیں جس کے وہ عرصہ دراز سے صدر تھے۔ ملی کونسل کے بانی ڈاکٹر منظورعالم ان کے بہت قدردان تھے، لیکن جیسے جیسے ڈاکٹر منظورعالم کی بیماری کی وجہ سے ان کی گرفت ملی کونسل پر کمزور ہوئی تو مولانا مغیثی کو دیوار سے لگانے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ مجھے یاد ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب ملی کونسل نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کو استقبالیہ دیا تو اس تقریب کی صدارت کے لیے مولانا مغیثی اپنی بیماری اورآزاری کے باوجود دہلی تشریف لائے۔مگر مجھے یہ جان کر تعجب ہوا کہ اگلے روز جب اس استقبالیہ جلسے کی روداد اخبارات میں شائع ہوئی تو اس میں کہیں بھی مولانا مغیثی کا نام نہیں تھا۔ پروگرام کی خبر ملی کونسل کے دفتر سے پریس ریلیز کی صورت میں بھیجی گئی تھی۔ یہ مولانا عبداللہ مغیثی کے ساتھ ملی کونسل کے نئے ارباب اقتدارکا سلوک تھا، جسے دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔
مولانا عبداللہ مغیثی مظلوم ملت کے ان قائدین میں شامل تھے، جن کا کوئی سیاسی یا نجی ایجنڈا نہیں تھا۔ وہ مخلصانہ طورپر ملی امور میں سرگرم رہے اور کبھی کسی منفعت کا تعاقب نہیں کیا۔ ان کا کردار ان کے قد کی طرح بلند تھا۔ وہ ہمارے معاصر بزرگوں کی آخری کڑی تھے۔ ان کا انتقال جہاں ملی قیادت کا نقصان ہے تووہیں مجھے ذاتی طورپر اپنے ایک کرم فرما کے بچھڑجانے کا غم ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے جواررحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل۔آمین
[4/6, 9:24 AM] Abdul Mateen Muniri: محترمی و مشفقی معصوم مراد آبادی صاحب کی تحریروں کا پرانا گرویدہ ہونے کے باوجود مولانا عبداللہ مغیثی صاحب کے متعلق اُن کی اس تحریر پر سخت حیران ہوں. مجھے گزشتہ دس برسوں میں مسلسل ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب سے قریب رہنے کا موقع ملا ہے. اس دس سال کی مدت میں آل انڈیا ملّی کونسل کا کوئی اجلاس ایسا نہیں گزرا جس میں مجھے شرکت کا موقع نہ ملا ہو. ڈاکٹر منظور عالم صاحب کے کونسل کے جنرل سکریٹری ہونے کی حیثیت سے بالکل آخری وقت تک اُن کے پاس آنے والی کونسل کے افراد کی ہر چھوٹی بڑی اطلاع اور اس پر ڈاکٹر صاحب کا ردعمل بھی میرے علم میں ہے. اس ایک دہائی میں مَیں نے کبھی نہ دیکھا اور نہ محسوس کیا کہ مولانا مغیثی کو "دیوار سے لگانے" کی کوشش کی گئی ہو. بالکل آخری وقت میں ایک اجلاس کی پریس ریلیز میں اُن کا نام نہ ہونا، اتنے بڑے الزام کی دلیل کیسے بن سکتا ہے؟ جب کہ اس بڑے سیاسی اجلاس کی صدارت انھی سے کرائی گئی ہو.
مولانا کے صاحب زادے برادرِ مکرم مولانا عبدالملک مغیثی @Malik Mughaisi اس بزم میں موجود ہیں. امید ہے کہ وہ کچھ دن بعد اس سلسلے میں ضرور اظہار خیال کریں گے، تاکہ جو غلط ہو وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرلے.
اللہ تعالیٰ مولانا مغیثی کو دامنِ رحمت میں رکھے، معصوم مرادآبادی صاحب اور ہمارے دوسرے بزرگانِ علم و ادب کو عافیت کے ساتھ سلامت رکھے. آمین
[4/6, 9:25 AM] Abdul Mateen Muniri: معصوم مرادآبادی صاحب کی تحریر پر عزیز من اجمل فاروق کا مناقشہ اس لحاظ سے تو قابل اعتبار ہے کہ ڈاکٹر منظور عالم صاحب کے آخری ایام میں جتنی قربت اجمل میاں کو رہی وہ کسی اور کو (یا کم از کم گروپ سے وابستہ کسی دوسرے شخص کو) نہیں رہی ڈاکٹر صاحب مرحوم ملت کے بہی خواہوں میں
تھے اور ہمیشہ ملت کو متحرک و متحد رکھنے کے لئے "پس پردہ" جو کوششیں کرتے تھے (انہیں میں آل انڈیا ملی کونسل اور فقہ اسلامی انڈیا کا قیام بھی ھے ان دونوں تنظیموں کو انہوں نے ہی قائم کیا انہیں ملت کا ایک بہترین پلیٹ فارم بنایا ملت کے بہترین افراد کو وابستہ کیا اور کبھی اپنی رائے کو بالا نہیں رکھا) یہ وہ چیزیں ہیں جو ان کے اخلاص کو ثابت کرتی ہیں یقینی طور پر ان کے مخلص ہونے میں ذرا بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا' لیکن جہاں تک "دیوار سے لگانے" کی بات ہے اس میں کوئ دو راۓ نہیں کہ ہر تنظیم و تحریک میں ایسے افراد کی تعداد زیادہ ہے جو محض "حاسدانہ جذبات" کے حصول کی خاطر ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے اسمیں عالم وجاہل کی کوئ تخصیص نہیں ایسے حضرات "رفیقانہ انداز" میں "رقیبانہ مقاصد" کی تکمیل کی خاطر کیا کیا کھیل کھیلتے ہیں اور جب کوئ مخلص ان کی سازشوں کا شکار ہوجاتا ہے تو اس میں کتنے خوش ہوتے ہیں اس سے ہر خاص وعام واقف ھے' پوری ملت کو آج تباہی کے دہانے پر پہنچا نے میں ایسے منافقین کا بڑا اہم کردار ہے ۔
جہاں تک مولانا عبداللہ مغیثی صاحب مرحوم کا تعلق ھے راقم انہیں کم وبیش پچاس سال سے زیادہ عرصے سے جانتا ہے یہ وہ زمانہ تھا جب وہ جمعیۃ علماء ہند کے وفادار اور مخلص سپہ سالاروں میں تھے' اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت کی جمعیۃ کے "قائد" کو "قیادت کا چولا اڑھانے" انہیں "شیخ زماں" تسلیم کرانے' اس تنظیم کو مغربی اتر پردیش میں نہ صرف متعارف کرانے' بلکہ اس کے قائد کو "پیر طریقت" بنانے'جمعیۃ کو مضبوط تنظیم بنانے میں اس سے بھی آگے بڑھ کر دارالعلوم دیوبند کو اسی تنظیم کے زیر اثر لانے میں مولانا عبداللہ مغیثی اور ان کے زیر اثر افراد کی مخلصانہ کوششوں کا خاص دخل ھے تو بیجا نہیں ہوگا' لیکن جس تنظیم کے لئے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا اسی میں شامل افراد نے انہیں "دیوار سے لگادیا" اور اسکی وہ قیادت جو مستقل طور پر مولانا کو "اندھ بھکتی" سے باہر نکلنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی اس نے اپنی کسی راۓ سے اختلاف کے نتیجے میں انہیں باہر کا راستہ دکھادیا اس کے پس پشت جو عوامل کار فرما تھے وہ اسی قبیل سے تعلق رکھتے تھے جو کسی کو "دیوار سے لگانے" کی خاطر استعمال کۓ جاتے ہیں
اس وقت میں ایک ذاتی صدمہ (٣/اپریل کو برادر نسبتی کی ریاض سعود عربیہ میں اچانک حادثہ ء وفات اور ابھی تک وہاں تدفین نہ ہونے) کی وجہ سے زیادہ لکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں بس اتنا ضرور ہے کہ مولانا عبد اللہ مغیثی مرحوم سادہ لوح' سادہ مزاج' سادگی پسند مخلص ایسے فرد تھے جن کی سادگی سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور جب مفادات حاصل ہوگۓ تو انہیں "دودھ کی مکھی" کی طرح نکال دیا' اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے مرحوم کی مخلصانہ کوششوں کو قبول فرمائے' ان کی مغفرت فرمائے' جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے' جملہ پسماندگان کو صبر جمیل اور ملت اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین ۔ عبید اقبال عاصم علی گڑھ ٦/اپریل٢٠٢٦
[4/6, 9:26 AM] Abdul Mateen Muniri: عزیزم اجمل فاروق صاحب سے مودبانہ گزارش ہے کہ میری تحریر کو دوبارہ غور سے پڑھیں ۔ میں نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جب تک ملی کونسل پر ڈاکٹر منظور عالم کی گرفت مضبوط تھی مولانا مغیثی کی بہت قدر و منزلت ہوئی لیکن ان کے صاحب فراش ہونے کے بعد صورتحال بدل گئی ۔
میں نے 2024 کے جس استقبالیہ کا ذکر کیا ہے اس کی پریس ریلیز ملی کونسل کے ریکارڈ میں محفوظ ہوگی۔ ذرا یہ پتہ لگانے کی زحمت فرمائیں کہ اس پروگرام کے صدر کے طور پر ایک ایسے صاحب کا نام کیوں دیا گیا جو صف سامعین میں بیٹھ کر اسے کنٹرول کررہے تھے جبکہ کرسی صدارت پر مولانا مغیثی موجود تھے ۔ میں اس کا عینی شاہد ہوں ۔
آخری بات یہ ہے کہ میں تحریر میں کسی غلو کا طرف دار نہیں ہوں اور جو کچھ لکھتا ہوں پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھتا ہوں ۔ میں مولانا مغیثی سے پچھلے چالیس برس سے واقف تھا ۔
معصوم مرادآبادی
جہاں تک مولانا عبداللہ مغیثی صاحب مرحوم کا تعلق ھے راقم انہیں کم وبیش پچاس سال سے زیادہ عرصے سے جانتا ہے یہ وہ زمانہ تھا جب وہ جمعیۃ علماء ہند کے وفادار اور مخلص سپہ سالاروں میں تھے' اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت کی جمعیۃ کے "قائد" کو "قیادت کا چولا اڑھانے" انہیں "شیخ زماں" تسلیم کرانے' اس تنظیم کو مغربی اتر پردیش میں نہ صرف متعارف کرانے' بلکہ اس کے قائد کو "پیر طریقت" بنانے'جمعیۃ کو مضبوط تنظیم بنانے میں اس سے بھی آگے بڑھ کر دارالعلوم دیوبند کو اسی تنظیم کے زیر اثر لانے میں مولانا عبداللہ مغیثی اور ان کے زیر اثر افراد کی مخلصانہ کوششوں کا خاص دخل ھے تو بیجا نہیں ہوگا' لیکن جس تنظیم کے لئے انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا اسی میں شامل افراد نے انہیں "دیوار سے لگادیا" اور اسکی وہ قیادت جو مستقل طور پر مولانا کو "اندھ بھکتی" سے باہر نکلنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی اس نے اپنی کسی راۓ سے اختلاف کے نتیجے میں انہیں باہر کا راستہ دکھادیا اس کے پس پشت جو عوامل کار فرما تھے وہ اسی قبیل سے تعلق رکھتے تھے جو کسی کو "دیوار سے لگانے" کی خاطر استعمال کۓ جاتے ہیں
اس وقت میں ایک ذاتی صدمہ (٣/اپریل کو برادر نسبتی کی ریاض سعود عربیہ میں اچانک حادثہ ء وفات اور ابھی تک وہاں تدفین نہ ہونے) کی وجہ سے زیادہ لکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں بس اتنا ضرور ہے کہ مولانا عبد اللہ مغیثی مرحوم سادہ لوح' سادہ مزاج' سادگی پسند مخلص ایسے فرد تھے جن کی سادگی سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور جب مفادات حاصل ہوگۓ تو انہیں "دودھ کی مکھی" کی طرح نکال دیا' اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے مرحوم کی مخلصانہ کوششوں کو قبول فرمائے' ان کی مغفرت فرمائے' جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے' جملہ پسماندگان کو صبر جمیل اور ملت اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین ۔ عبید اقبال عاصم علی گڑھ ٦/اپریل٢٠٢٦
[4/6, 9:26 AM] Abdul Mateen Muniri: عزیزم اجمل فاروق صاحب سے مودبانہ گزارش ہے کہ میری تحریر کو دوبارہ غور سے پڑھیں ۔ میں نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جب تک ملی کونسل پر ڈاکٹر منظور عالم کی گرفت مضبوط تھی مولانا مغیثی کی بہت قدر و منزلت ہوئی لیکن ان کے صاحب فراش ہونے کے بعد صورتحال بدل گئی ۔
میں نے 2024 کے جس استقبالیہ کا ذکر کیا ہے اس کی پریس ریلیز ملی کونسل کے ریکارڈ میں محفوظ ہوگی۔ ذرا یہ پتہ لگانے کی زحمت فرمائیں کہ اس پروگرام کے صدر کے طور پر ایک ایسے صاحب کا نام کیوں دیا گیا جو صف سامعین میں بیٹھ کر اسے کنٹرول کررہے تھے جبکہ کرسی صدارت پر مولانا مغیثی موجود تھے ۔ میں اس کا عینی شاہد ہوں ۔
آخری بات یہ ہے کہ میں تحریر میں کسی غلو کا طرف دار نہیں ہوں اور جو کچھ لکھتا ہوں پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھتا ہوں ۔ میں مولانا مغیثی سے پچھلے چالیس برس سے واقف تھا ۔
معصوم مرادآبادی
مولانا مفتی عبد اللہ مغیثی کی رحلت پر معصوم مرادآبادی کی تحریر پر مولانا شاہ اجمل فاروق اور ڈاکٹر عبید اقبال عاصم کا مذاکرہ۔
❤4
لحاظ کرنے والے کو مزید دبانے کا مرض
ایک سلسلۂ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ جو لحاظ کرتا ہے اور دبتا ہے، اس کو اور دبایا جاتا ہے، یہ بات نہیں رہی کہ جو اپنا لحاظ کرے، اس کا لحاظ کرنا چاہیے۔ چھوٹوں میں بڑوں میں یہ مرض عام ہوگیا ہے کہ جو کوئی لحاظ کرے، ادب کرے، اسی کو پیستے ہیں۔
(ملفوظات حکیم الامت، جلد ۱، ملفوظ نمبر: ۲۰۱/صفحہ: ۱۸۹)
Https://telegram.me/ilmokitab
ایک سلسلۂ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ جو لحاظ کرتا ہے اور دبتا ہے، اس کو اور دبایا جاتا ہے، یہ بات نہیں رہی کہ جو اپنا لحاظ کرے، اس کا لحاظ کرنا چاہیے۔ چھوٹوں میں بڑوں میں یہ مرض عام ہوگیا ہے کہ جو کوئی لحاظ کرے، ادب کرے، اسی کو پیستے ہیں۔
(ملفوظات حکیم الامت، جلد ۱، ملفوظ نمبر: ۲۰۱/صفحہ: ۱۸۹)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
👍3❤2
*وفیات مورخہ: ۸/اپریل*
1949ء جدن بائی۔ مغنیہ
1952ء طفیل حسن رضوی امروہوی۔ حکیم ،
1956ء ابوالنذر رضوی امروہوی۔ مولانا ،
1977ء جاوید اختر صدیقی۔ ،
1982ء سید جلال الدین چشتی۔ ،
1983ء حسن احمد مینائی۔ ،
1986ء جے اے رحیم ، جلال الدین عبدالرحیم۔ ،
1991ء حبیب الرحمٰن صدیقی، کاندھلوی۔ مولانا ، قاری
1997ء عرش صدیقی۔ شاعر
2004ء سید فرید الوحیدی ۔ مولانا
2011ء مختار احمد قاسمی۔ مولانا
2013ء اختر پیامی (سید سعید اختر)۔ ،
2021ء بشری متین۔ وائس چانسلر لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی
2025ء تاج حیدر۔ پاکستانی سیاست دان
Https://telegram.me/ilmokitab
1949ء جدن بائی۔ مغنیہ
1952ء طفیل حسن رضوی امروہوی۔ حکیم ،
1956ء ابوالنذر رضوی امروہوی۔ مولانا ،
1977ء جاوید اختر صدیقی۔ ،
1982ء سید جلال الدین چشتی۔ ،
1983ء حسن احمد مینائی۔ ،
1986ء جے اے رحیم ، جلال الدین عبدالرحیم۔ ،
1991ء حبیب الرحمٰن صدیقی، کاندھلوی۔ مولانا ، قاری
1997ء عرش صدیقی۔ شاعر
2004ء سید فرید الوحیدی ۔ مولانا
2011ء مختار احمد قاسمی۔ مولانا
2013ء اختر پیامی (سید سعید اختر)۔ ،
2021ء بشری متین۔ وائس چانسلر لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی
2025ء تاج حیدر۔ پاکستانی سیاست دان
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
Bai Jaddan Bai By Shoukat Hasimiocr.pdf
4.8 MB
بائی جدن بائی (وفات : ۰۸ / اپریل ۱۹۴۹ء) تحریر شوکت ہاشمی
*وفیات مورخہ: 9/اپریل*
1882ء وحید الہ آبادی۔
1943ء زلیخا بیگم ۔ اہلیہ مولانا ابو الکلام آزاد
1973ء ذیشان بدایونی (ذیشان فاطمہ )۔ نعت گو شاعرہ
1980ء محمد باقر الصدر۔ عراقی شیعہ عالم دین
1987ء سید محمد حسن نقوی مغموم۔ ،
1996ء ثناء الحق صدیقی۔ مولوی
2002ء مقبول اے شیخ۔ ،
2004ء سید وزیر حسن جعفری۔ ،
2004ء محمد یحیٰی عثمانی ۔ مولانا
2012ء مریم فاروقی۔ ،
2013ء منظور احمد خان نیازی۔ استاد
2015ء عبدالحکیم بوترابی۔ پروفیسر ،
2021ء نجیب احمد (محمد طفیل احمد)۔
Https://telegram.me/ilmokitab
1882ء وحید الہ آبادی۔
1943ء زلیخا بیگم ۔ اہلیہ مولانا ابو الکلام آزاد
1973ء ذیشان بدایونی (ذیشان فاطمہ )۔ نعت گو شاعرہ
1980ء محمد باقر الصدر۔ عراقی شیعہ عالم دین
1987ء سید محمد حسن نقوی مغموم۔ ،
1996ء ثناء الحق صدیقی۔ مولوی
2002ء مقبول اے شیخ۔ ،
2004ء سید وزیر حسن جعفری۔ ،
2004ء محمد یحیٰی عثمانی ۔ مولانا
2012ء مریم فاروقی۔ ،
2013ء منظور احمد خان نیازی۔ استاد
2015ء عبدالحکیم بوترابی۔ پروفیسر ،
2021ء نجیب احمد (محمد طفیل احمد)۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
لغو باتوں سے اعراض، سلامتی کی راہ
حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
زبان، انسان کو اظہارِ مطلب کے لیے ملی ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ پہلے مطلب، یعنی گفتگو کا مقصد و معنیٰ درست اور صحیح ہوں، پھر ان کے اظہار کا طریقہ مناسب ہو اور یہ دونوں باتیں، "الإعراض عن اللغو" میں داخل ہیں۔ اگر کوئی مخاطب ایسا ہو، جو ان دو باتوں میں سے کسی ایک میں کمی کرے تو اسلام کی ہدایت ہے کہ ایسے جاہل کا جواب بھی تلخ نہ دیا جائے اور اپنی سلامت روی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا. (الفرقان: ٦٣) اور جب نا سمجھ ان کو خطاب کریں تو وہ جواب میں سلامتی کی بات کہیں۔
(سیرت النبی ﷺ، جلد ششم، صفحہ: ۴۰۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
زبان، انسان کو اظہارِ مطلب کے لیے ملی ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ پہلے مطلب، یعنی گفتگو کا مقصد و معنیٰ درست اور صحیح ہوں، پھر ان کے اظہار کا طریقہ مناسب ہو اور یہ دونوں باتیں، "الإعراض عن اللغو" میں داخل ہیں۔ اگر کوئی مخاطب ایسا ہو، جو ان دو باتوں میں سے کسی ایک میں کمی کرے تو اسلام کی ہدایت ہے کہ ایسے جاہل کا جواب بھی تلخ نہ دیا جائے اور اپنی سلامت روی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔ وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا. (الفرقان: ٦٣) اور جب نا سمجھ ان کو خطاب کریں تو وہ جواب میں سلامتی کی بات کہیں۔
(سیرت النبی ﷺ، جلد ششم، صفحہ: ۴۰۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*تذکیر: رمضان مبارک، تعطیلات اور مختلف اسباب سے آپ کی اس بزم علم وکتاب کی فعالیت میں کافی کمی آگئی ہے،ہمیں ایک نئے حوصلے اور عزم کے ساتھ اسے از سرنومتحرک اور مفید کرنا ہے، اس کے لئے آپ سب کی فعالیت مطلوب ہے۔ امید کہ احباب اس میں اپنی بھر پور شراکت کا ثبوت دیں گے، اور اس کے نیک مقاصد کے حصول کے لئے کوششیں کریں گے۔ اللہ کی توفیق ہمارے ساتھ ہو۔ شکریہ*
*عبد المتین منیری*
*اڈمن علم وکتاب*
*عبد المتین منیری*
*اڈمن علم وکتاب*
👍4
شوکت تھانوی۔۔۔ تحریر: ابو الحسن نغمی ۔۔۔ آواز: محمد ضیاء محی الدین لنک https://drive.google.com/file/d/1OLL19DqUfYml_Ff9cwe2bSZThv939o2t/view?usp=sharing
في صُحْبَةِ الشَّيْخَيْنِ
شَيْخِ الإِسْلَام مُصْطَفَى صَبْرِي
وَوَكِيلِهِ الإِمَامِ مُحَمَّد زَاهِد الكَوْثَرِيِّ
شَهَادَاتٌ عَلَى عَصْرِ التَّغْرِيب
تُنْشَرُ بِالعَرَبِيَّةِ لِأَوَّلِ مَرَّةٍ
مِنْ مُذَكِّرَاتِ تِلْمِيذِهِمَا الأَدِيبِ وَالْمُفَكِّرِ الإِسْلَامِيِّ
عَلِي عُلُوِي قُورُوجُو
(١٩٢٢ - ٢٠٠٢م)
تَرْجَمَة وَتَعْلِيق
الدُّكْتور إِياد أُسَامَة عَمَّار
تَقْدِيم
الشَّيْخ الدُّكْتور إِحْسَان شَنْ أُوجَاق
مُؤَسِّسِ مَرْكَزِ الدِّرَاسَاتِ العِلْمِيَّةِ وَالفِكْرِيَّةِ
مَدِينَة صَامْسُون – تُرْكِيَا
لنک
https://bit.ly/3NQoSfO
علم وکتاب لائبریری
https://bit.ly/41nCmCS
شَيْخِ الإِسْلَام مُصْطَفَى صَبْرِي
وَوَكِيلِهِ الإِمَامِ مُحَمَّد زَاهِد الكَوْثَرِيِّ
شَهَادَاتٌ عَلَى عَصْرِ التَّغْرِيب
تُنْشَرُ بِالعَرَبِيَّةِ لِأَوَّلِ مَرَّةٍ
مِنْ مُذَكِّرَاتِ تِلْمِيذِهِمَا الأَدِيبِ وَالْمُفَكِّرِ الإِسْلَامِيِّ
عَلِي عُلُوِي قُورُوجُو
(١٩٢٢ - ٢٠٠٢م)
تَرْجَمَة وَتَعْلِيق
الدُّكْتور إِياد أُسَامَة عَمَّار
تَقْدِيم
الشَّيْخ الدُّكْتور إِحْسَان شَنْ أُوجَاق
مُؤَسِّسِ مَرْكَزِ الدِّرَاسَاتِ العِلْمِيَّةِ وَالفِكْرِيَّةِ
مَدِينَة صَامْسُون – تُرْكِيَا
لنک
https://bit.ly/3NQoSfO
علم وکتاب لائبریری
https://bit.ly/41nCmCS
❤3
*وفیات مورخہ: 10/اپریل*
1726ء مخدوم ابو القاسم نقش بندی ٹھٹوی۔
1726ء مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹوی ۔ سندھی بزرگ
1923ء نظر لکھنوی، منشی نوبت رائے۔ شاعر
1931ء جبران خلیل جبران ۔ مھجری ادیب
1950ء دین محمد وفائی۔ اہل حدیث خلافتی عالم دین
1975ء محمود حسین خان۔ ڈاکٹر، ماہر تعلیم ، وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی
1983ء دوارکا داس شعلہ۔
1983ء محمد ذاکرحسین۔ ،
1983ء محمد واصل رحمانی۔ حافظ
1984ء نازش پرتاب گڑھی (محمد احمد)۔ شاعر
1988ء سعید پپلی بھیتی (احمد سعید خان)۔ ،
1990ء مشیر الحق بحری آبادی ندوی۔ ڈاکٹر ، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی
1993ء پیر سید صلاح الدین جیلانی۔ ،
1995ء مرار جی ڈیسائی۔ وزیر اعظم ہند
1996ء محمد حسن۔ ،
2004ء شبیہ عباس جارچوی۔ ادیب و افسانہ نگار
2012ء عبدالمعبود بھاگل پوری۔ مولانا
2017ء عبدالغنی بلگرامی۔ مولانا
Https://telegram.me/ilmokitab
1726ء مخدوم ابو القاسم نقش بندی ٹھٹوی۔
1726ء مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹوی ۔ سندھی بزرگ
1923ء نظر لکھنوی، منشی نوبت رائے۔ شاعر
1931ء جبران خلیل جبران ۔ مھجری ادیب
1950ء دین محمد وفائی۔ اہل حدیث خلافتی عالم دین
1975ء محمود حسین خان۔ ڈاکٹر، ماہر تعلیم ، وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی
1983ء دوارکا داس شعلہ۔
1983ء محمد ذاکرحسین۔ ،
1983ء محمد واصل رحمانی۔ حافظ
1984ء نازش پرتاب گڑھی (محمد احمد)۔ شاعر
1988ء سعید پپلی بھیتی (احمد سعید خان)۔ ،
1990ء مشیر الحق بحری آبادی ندوی۔ ڈاکٹر ، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی
1993ء پیر سید صلاح الدین جیلانی۔ ،
1995ء مرار جی ڈیسائی۔ وزیر اعظم ہند
1996ء محمد حسن۔ ،
2004ء شبیہ عباس جارچوی۔ ادیب و افسانہ نگار
2012ء عبدالمعبود بھاگل پوری۔ مولانا
2017ء عبدالغنی بلگرامی۔ مولانا
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
علم و کتاب ٹیلگرام چینل پر میسیج کے نیچے
Leave a comment
پر کلک کرنے کے بعد آپ علم و کتاب ٹیلگرام گروپ کے ممبر بن جاتے ہیں۔
اور آپ گروپ میں اپنے پیغامات اور تاثرات پوسٹ کر سکتے ہیں
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب
Https://telegram.me/ilmokitab
Leave a comment
پر کلک کرنے کے بعد آپ علم و کتاب ٹیلگرام گروپ کے ممبر بن جاتے ہیں۔
اور آپ گروپ میں اپنے پیغامات اور تاثرات پوسٹ کر سکتے ہیں
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
💯1
ڈاکٹر مشیر الحق بحری آبادی
وفات : ۱۰ اپریل ۱۹۹۰
تحریر: ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی
وفات : ۱۰ اپریل ۱۹۹۰
تحریر: ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی
❤1
انٹرنٹ پرشخصیات پر منتخب اور نادر ادبی خاکوں اور معیاری کتابوں کے لئے ویزٹ کریں
علم وکتاب لائبریری
لنک
https://bit.ly/3O8c98i
علم وکتاب لائبریری
لنک
https://bit.ly/3O8c98i
علماءِ خیر آبادی کی تصانیف و مؤلفات اور مولانا فضل حق خیر آبادی کے مکتوبات
کا ایک نادر روزگار، بڑا اور اہم مجموعہ
(علمائے کاندھلہ کے علمی خزانہ میں)
تالیف
نور الحسن راشد کاندھلوی
صفحات : 154 قیمت : 500 روپے
ناشر : دارالاسلام لاہور
رابطہ : 03219425765
تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد سہیل شفیق
خیرآباد (ضلع سیتاپور، یوپی) برصغیر کی ایک قدیم اور ممتاز علمی بستی ہے، جہاں صدیوں تک اہلِ علم و فضل نے علمی خدمات انجام دیں۔ خصوصاً مولانا فضل امام خیرآبادی (م: 1825ء) اور ان کے جلیل القدر فرزند مولانا فضل حق خیرآبادی (م: 1861ء) نے اس روایت کو غیر معمولی رفعت عطا کی، جس کے اثرات برصغیر کی علمی تاریخ میں نمایاں ہیں۔
اگرچہ اس خانوادے پر متعدد تحریریں موجود ہیں، تاہم اس کے علمی ورثے، بالخصوص تصانیف، حواشی اور مکتوبات کا کوئی جامع اور منظم تعارف سامنے نہیں آسکا تھا۔ پیشِ نظر کتاب اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ اور قابلِ قدر کوشش ہے۔
جناب نورالحسن راشد کاندھلوی نے اس کتاب میں خانوادۂ خیرآباد کے علمی آثار کا ایک نہایت اہم، معتمد اور نسبتاً وسیع ذخیرہ پیش کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خانوادے کی بہت سی علمی باقیات اب بھی غیر دریافت شدہ ہیں۔
خیرآباد اور کاندھلہ کے علمی خانوادوں کے مابین صدیوں پر محیط تعلقِ تعلیم و تلمذ خصوصاً مولانا فضل حق خیرآبادی اور مولانا نورالحسن کاندھلوی (م: 1868ء) کے درمیان تعلقِ خاطر نے اس علمی ذخیرے کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ تسلسل برصغیر کی علمی تاریخ میں ایک منفرد مثال ہے۔
کتاب کا نمایاں حصہ مولانا فضل حق خیرآبادی کے ان نادر مکتوبات پر مشتمل ہے جو مولانا نورالحسن کاندھلوی کے نام لکھے گئے۔ فاضل مولف نے ان کے ساتھ دونوں اکابر کے حالات اور زمانی تعیین بھی فراہم کی ہے، جس سے مکتوبات کے پس منظر کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ مزید برآں، مواد کو منطق و فلسفہ، عربی ادب، فارسی تحریرات اور دیگر علمی موضوعات کے تحت منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب علمائے خیرآباد کے علمی ورثے کی بازیافت اور تعارف کی ایک اہم کاوش ہے، جو تحقیق کے نئے امکانات کو روشن کرتی ہے۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
Https://telegram.me/ilmokitab
کا ایک نادر روزگار، بڑا اور اہم مجموعہ
(علمائے کاندھلہ کے علمی خزانہ میں)
تالیف
نور الحسن راشد کاندھلوی
صفحات : 154 قیمت : 500 روپے
ناشر : دارالاسلام لاہور
رابطہ : 03219425765
تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد سہیل شفیق
خیرآباد (ضلع سیتاپور، یوپی) برصغیر کی ایک قدیم اور ممتاز علمی بستی ہے، جہاں صدیوں تک اہلِ علم و فضل نے علمی خدمات انجام دیں۔ خصوصاً مولانا فضل امام خیرآبادی (م: 1825ء) اور ان کے جلیل القدر فرزند مولانا فضل حق خیرآبادی (م: 1861ء) نے اس روایت کو غیر معمولی رفعت عطا کی، جس کے اثرات برصغیر کی علمی تاریخ میں نمایاں ہیں۔
اگرچہ اس خانوادے پر متعدد تحریریں موجود ہیں، تاہم اس کے علمی ورثے، بالخصوص تصانیف، حواشی اور مکتوبات کا کوئی جامع اور منظم تعارف سامنے نہیں آسکا تھا۔ پیشِ نظر کتاب اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ اور قابلِ قدر کوشش ہے۔
جناب نورالحسن راشد کاندھلوی نے اس کتاب میں خانوادۂ خیرآباد کے علمی آثار کا ایک نہایت اہم، معتمد اور نسبتاً وسیع ذخیرہ پیش کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خانوادے کی بہت سی علمی باقیات اب بھی غیر دریافت شدہ ہیں۔
خیرآباد اور کاندھلہ کے علمی خانوادوں کے مابین صدیوں پر محیط تعلقِ تعلیم و تلمذ خصوصاً مولانا فضل حق خیرآبادی اور مولانا نورالحسن کاندھلوی (م: 1868ء) کے درمیان تعلقِ خاطر نے اس علمی ذخیرے کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ تسلسل برصغیر کی علمی تاریخ میں ایک منفرد مثال ہے۔
کتاب کا نمایاں حصہ مولانا فضل حق خیرآبادی کے ان نادر مکتوبات پر مشتمل ہے جو مولانا نورالحسن کاندھلوی کے نام لکھے گئے۔ فاضل مولف نے ان کے ساتھ دونوں اکابر کے حالات اور زمانی تعیین بھی فراہم کی ہے، جس سے مکتوبات کے پس منظر کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ مزید برآں، مواد کو منطق و فلسفہ، عربی ادب، فارسی تحریرات اور دیگر علمی موضوعات کے تحت منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب علمائے خیرآباد کے علمی ورثے کی بازیافت اور تعارف کی ایک اہم کاوش ہے، جو تحقیق کے نئے امکانات کو روشن کرتی ہے۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
2026-02-07 Yadoun Ka Safar 79+80.pdf
133.5 KB
یادوں کا سفر 79+80 اخلاق احمد دہلوی