علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
خبر لیجے زباں بگڑی ۔۔۔ دل دھک سے بیٹھ گیا
اطہر علی ہاشمی
ہمارے ایک قاری نے انتباہ کیا ہے کہ آپ کی زبان بھی فلاں صاحب کی طرح بوجھل اور ثقیل ہوتی جارہی ہے جب کہ پہلے بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی تھی، اب تو آپ لغات میں الجھ جاتے ہیں۔
اگر ایسا ہی ہے تو معذرت۔ کیونکہ یہ سلسلہ تو ہم نے اس لیے شروع کیا ہے کہ اردو میں، خاص طور پر اخبارات میں، جو غلطیاں عام ہورہی ہیں ان کی نشاندہی کردی جائے۔ اب جیسے ہم نے پچھلے کالم میں’’کان۔ کن‘‘ کا حوالہ دیا تھا لیکن بلوچستان کے علاقے دکی میں کان کے اندر جو حادثہ پیش آیا اس پر تمام ٹی وی چینلز ’’کان کُنوں‘‘ کی ہلاکت کی خبر دے رہے تھے۔ کسی ایک نے بھی کن (کاف پر زبر) نہیں کہا۔ نوجوان صحافی خواہ اخبار میں ہوں یا ٹی وی چینلز پر، کبھی تو صحیح تلفظ کی طرف مائل ہوں گے۔ ہم تو خیر کیا، کئی بڑے ادیب تو تلفظ اور املا پر کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ہم ان ہی کے کام کو عام کررہے ہیں۔ لوگوں کی کوششوں کے اثرات نظر بھی آرہے ہیں۔ اخبارات میں دھماکا، دھوکا اور خورونوش وغیرہ لکھا جارہا ہے۔ بس ’پتہ‘ اب تک ’پتا‘ نہیں ہوا۔ ’کھلی چھٹی‘ بھی آہستہ آہستہ راہِ راست پر آکر ’کھلی چھوٹ‘ ہورہی ہے۔
ایک بڑے مؤقر اور معتبر ادبی رسالے ’’اجرا‘‘ میں تعزیت کے عنوان سے مدیر شہیر نے ایک جملہ لکھا ہے ’’خبر سنتے ہی دل دھک سے بیٹھ گیا‘‘۔ یہ محاورہ نہیں ہے۔ یا تو ’’دل دھک سے رہ گیا‘‘ یا ’’دل بیٹھ گیا‘‘ ہونا چاہیے تھا، دل یہ دو کام بیک وقت نہیں کرسکتا۔ دل دھک سے ہوجانا کا مطلب ہے اچانک صدمہ ہونا، صدمے سے دل پر چوٹ لگنا۔ خود ’’دھک‘‘ کا مطلب ہے: حیران، متحیر، صدمہ، خوف، ڈر (چھوٹی جوں یا لیکھ کو بھی کہتے ہیں)۔ دھک سے رہ جانے کا مطلب ہے: حیران رہ جانا۔ دل بیٹھ گیا کا مطلب تو واضح ہے، استادکا مصرع ہے:
گر بیٹھنے کا قصد کروں بیٹھ جائے دل
اخبارات میں ایک سرخی عموماً نظروں سے گزرتی ہے ’’ہر صورت فلاں کام کریں گے‘‘۔ یہاں صورت کے بعد ’’میں‘‘ ضروری ہے، یعنی ہر صورت میں۔ لیکن سرخیوں میں الفاظ کی قید بھی ہوتی ہے اس لیے ’’میں‘‘ عموماً نکال دیا جاتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ’’بہرصورت‘‘ لکھا جائے جس سے جگہ بھی نہیں گھرے گی اور مفہوم پورا ہوجائے گا۔ اب تو جب سے اردو کی خبر ایجنسیوں کا رواج ہوا ہے انہوں نے ’’فلاں کے بارے میں‘‘ سے دو الفاظ نکال پھینکے ہیں اور عموماً خبروں میں یہ ہوتا ہے ’’فلاں بارے‘‘۔ اس طرح ’کے‘ اور ’میں‘ کی بچت تو ہوگئی لیکن زبان خراب ہوگئی۔ پنجاب کے اخبارات میں تو یوں ہی چھپتا ہے البتہ ابھی کراچی کے اخبارات میں یہ مضحکہ خیزی عام نہیں ہوئی ہے، شاید ہوجائے۔ اخبارات کی زبان اور املا بگاڑنے میں اردو کی خبر ایجنسیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ وہاں شاید کوئی بتانے والا نہیں، جیسے برقی ذرائع ابلاغ میں اب کوئی زیڈ۔ اے۔ بخاری نہیں رہا۔
ایک تماشا تو ہندی کے ڈراموں، فلموں اور عام بول چال میں نظر آرہا ہے۔ پھول ’فول‘ اور پھر ’فر‘ ہوگیا۔ مزے کا ایک جملہ سننے میں آیا ’’فوفا، فوفی‘‘… کچھ غور کے بعد ادراک ہوا کہ یہ پھوپھا، پھوپھی ہے۔ بعید نہیں کہ یہ تبدیلی تحریر میں بھی آجائے۔ پرانی بھارتی فلمیں اور ڈرامے دیکھیں تو اداکار پھول کو پھول ہی کہتے سنائی دیں گے۔ کتنے ہی ہندو اردو کے بہت اچھے ادیب اور شاعر ہیں۔ اور وہی کیا، سکھوں میں بھی راجندر سنگھ بیدی، کنور مہندر سنگھ وغیرہ نام کما چکے ہیں۔ ان کا تلفظ بھی درست تھا۔ لیکن یہ بگاڑ اچانک آیا ہے اور اس کے اثرات بھارتی مسلمانوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کا تلفظ بھی بگڑ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلمان طالب علم اپنے اسکول میں اور اطراف میں جو سنیں گے وہی بولیں گے۔ ایک افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے کچھ مسلمان شاعر اور شاعرات شاعری تو اردو میں کررہے ہیں لیکن اردو لکھ نہیں سکتے۔ وہ اردو شاعری ہندی رسم الخط میں لکھتے ہیں۔ اور خاص بات یہ ہے کہ پھ، بھ، تھ، ڈھ وغیرہ ہندی ہی سے اردو میں آئے ہیں۔ پھوار پڑے یا پھوٹ، یہ ہندی ہی کے الفاظ ہیں۔ پھوک، پھوکا، پھوکٹ، پھوڑا وغیرہ اردو میں عام ہیں مگر اصل ان کی ہندی ہے۔ اور وہیں ’’پھ‘‘ کو ’ف‘ بنادیا گیا ہے۔ اب یہ شعر یوں پڑھا جائے گا:
فول لایا فول کو، فول کر میں نے کہا
فول کیوں لائے ہو صاحب، تم تو خود ہی فول ہو
❤2
کسی کی تعریف میں اسے پھول سے تشبیہ دی جائے تو ممدوح سمجھ نہیں پائے گا کہ اسے پھول کہا جارہا ہے یا فول (Fool) بنایا جارہا ہے۔ بھارت کے ایک معروف ادیب و شاعر نے اس پر اعتراض بھی کیا تھاکہ پھ کا تلفظ کیوں نہیں ادا کیا جارہا۔ بھارت میں پھ کا جو حشر ہوا ہے ایسا ہی کچھ ہم نے ’ق‘ کے ساتھ کیا ہے۔ اب وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ یہ کینچی (قینچی) والا کاف ہے یا کتے والا۔ اہلِ دکن نے اسے ’خ‘ بنا لیا اور حیرت انگیز طور پر سعودی عرب میں یہ گاف میں بدل گیا، جب کہ عربی میں گاف نہیں ہے۔ اہلِ مصر نے تو جیم کو گاف بنایا ہے۔ گمال عبدالناصر۔ اور اب یہ سعودی عرب میں پھیل گیا ہے۔ حرم شریف کے باہر سیارات (ٹیکسی) والے آواز لگا رہے ہوتے ہیں: ’’گدہ، گدہ‘‘۔ یعنی جدہ، جدہ۔ شکر ہے کہ صحیح عربی قرآن و احادیث میں محفوظ ہے۔ بنگالی بھائیوں نے ’ز‘ کو جیم سے اور جیم کو ’ز‘ سے بدل ڈالا۔ قرآن کریم پڑھانے والے ایک بنگالی مولوی اب بچوں کو ’’رب جدنی علما‘‘ پڑھا کر جاتے تھے۔
استاد جلیل مانک پوری کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ ڈھاکا میں مشاعرہ تھا۔ جلیل مانک پوری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک شاعر نے کہا ’’استاد یہ معلن (مع۔ لن) آپ کو ذلیل کہہ کر بلائے گا۔ جلیل مسکرائے اور کہا: نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ چنانچہ بنگالی اسٹیج سیکرٹری نے انہیں جلیل مانک پوری کہہ کر ہی بلایا۔ مشاعرے کے بعد دوستوں نے پوچھا کہ آپ ذلیل ہونے سے بچ گئے، مگر یہ کیسے ہوا؟ استاد نے کہا کہ جب شاعروں کی فہرست بن رہی تھی تو میں نے اپنا نام ’’ذلیل‘‘ لکھوایا تھا۔ بنگلا دیش کے کرکٹرز کے نام بھی اردو میں نہیں، انگریزی اخبارات میں بھی غلط چھپ رہے ہیں۔ نجم الحسن، نظم الحسن ہوجاتا ہے۔ اشرفل تو یوں بھی نامکمل نام ہے بلکہ نام ہی نہیں۔ یہ اشرف الاسلام وغیرہ ہے۔
آج کل سندھ کو سرسبز کرنے کے لیے ’’سبز باغ‘‘ لگائے یا دکھائے جارہے ہیں۔ ایک محاورہ ’’سبز قدم‘‘ کا بھی ہے۔ بہرحال اس حوالے سے محکمہ بلدیات حکومتِ سندھ نے کئی اخبارات کو بڑے بڑے اشتہارات بانٹے ہیں۔ ہم نہیں کہتے کہ اشتہارات کی رقم بھی سندھ حکومت کے اس عزم کی تکمیل پر صرف کی جا سکتی تھی۔ اشتہار میں ایک جملہ ہے ’’سرسبز و شاد آب سندھ‘‘
سنا ہے کہ اشتہاری کمپنیوں اور سرکاری اداروں میں کوئی کاپی رائٹر بھی ہوتا ہے، جو مضمون بناتا ہے۔ غالباً اسے تنخواہ نہیں ملی۔ شاداب میں الف پر مد نہیں ہے اور مد لگانے سے مطلب بھی بدل جاتا ہے، یعنی ’’شاد۔ پانی‘‘۔ شاد عموماً خوش کے معنوں میں آتا ہے جیسے شاد رہو، آباد رہو۔
اب یہ خوش پانی کیا ہے، غالباً خوش آب، جو پاکستان کا ایک شہر ہے۔ ائمہ کے الف پر کئی بار مد یعنی آئمہ چھپا ہوا دیکھا۔ ائمہ امام کی جمع ہے۔
زبان کی ثقالت کے حوالے سے فرائیڈے اسپیشل کے مدیر کا کہنا ہے کہ قارئین کی سطح بھی بلند کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ بات ان کی بھی صحیح ہے۔
27فروری2015ء
https://telegram.me/ilmokitab
❤1👌1
Audio
صور من حياة الصحابة -- عباد بن صامت رضي الله عنه بصوت المؤلف الدكتور عبد الرحمن رافت الباشا رحمه الله
❤5👍2
*آپ کا ایک React ہمارا حوصلہ بنتا ہے، اس لیے ہر پوسٹ پر رئیکٹ لازمی کیا کریں♥️❤️👍*
*اڈمن علم و کتاب*
سہ ماہی مجلہ اسلام اور عصر جدید
مدیر: ڈاکٹر محمد مشتاق تجاوری
ناشر: ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز
نئی دہلی
لنک علم وکتاب لائبریری
https://bit.ly/4citR0X
❤4
*وفیات مورخہ: 11/اپریل*
1827ء سچل سرمست۔ سندھی صوفی
1966ء انجمن آراء بیگم۔ ،
1974ء رفیع پیر۔
1980ء احتشام الحق تھانوی۔ مولانا ، خطیب پاکستان
1985ء انور خوجہ ۔ حکمران البانیا
1989ء احمد دین انجم۔ ،
1990ء نجیب اختر۔ ،
1996ء امتیاز راہی (امتیاز احمد)۔ ،
2000ء نیاز احمد۔ ،
2003ء یونس احمر (محمد یونس )۔ ،
2006ء افتخار بھٹی۔ علامہ ،
2006ء اکرم قادری۔ ،
2006ء حافظ محمد تقی۔ ،
2006ء فرید الحسنین کاظمی۔ صاحبزادہ ،
2006ء محمد حنیف بلو۔ حاجی
2006ء محمد عباس قادری۔ مولانا ، امیر پاکستان سنی تحریک
2012ء احمد بن بیلا ۔ صدر الجزائر
2020ء حفظ الرحمٰن پالن پوری۔ مولانا
2020ء وسیم احمد۔ شیخ الحدیث مولانا
2020ء وسیم احمد سنسار پوری۔ مولانا
2021ء سید وقار احمد رضوی۔
2021ء عابد اللہ انصاری غازی۔ ڈاکٹر، بانی اقرا فاؤنڈیشن شیکاگو

Https://telegram.me/ilmokitab
مولانا احتشام الحق تھانوی (وفات ۱۱ اپریل ۱۹۸۰ء) تحریر: کوثر نیازی
تشبہ ممنوع ہے، تشابہ جائز ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے: "مَن تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ". اس کی حکمت یہ ہے کہ اہلِ باطل سے امتیاز ہو، مگر تشابہ جائز ہے، تشبہ جائز نہیں۔ تشابہ وہ ہے، جو فطری ہو۔ اور تشبہ وہ ہے، جو قصد سے ہو۔

(ملفوظات حکیم الامت، ملفوظ نمبر: ۳۲۰، جلد ۳، صفحہ: ۲۰۷)

Https://telegram.me/ilmokitab
*وفیات مورخہ: 12/اپریل*
1892ء مقبول احمد۔
1933ء جنید نعمانی۔ مولوی
1941ء حسیب االله عظیم آبادی۔
1943ء سجاد حیدر بلدرم۔ ادیب
1958ء مبارک عظیم آبادی۔ شاعر
1974ء محمد ابوزہرہ۔ مصری فقیہ
1975ء عامر عثمانی۔ مولانا، مدیر تجلی دیوبند
1975ء محمود حسین۔ ڈاکٹر، شیخ الجامعہ کراچی
1981ء ابراہیم خلیل۔ ،
1992ء فیض امروہوی (سید مستفیض الحسن نقوی)۔ ،
1992ء ماتھر لکھنوی (وشوناتھ پرشاد)۔
2001ء نظیر صدیقی۔ ادیب
2008ء ذیشان ساحل۔ ادیب
2010ء اسرار احمد۔ پروفیسر
2011ء عبد العزیز حیدر آبادی۔ مولانا ،
2017ء محمد علی پرواز۔ نائطی شاعر
2018ء نسیم مرزا چنگیزی۔ مجاہد آزادی
2020ء احفاظ الرحمن جبلپوری۔ شاعر
2020ء حبیب اللہ (گنٹور)۔ مولانا
2020ء حفاظ الرحمن جبلپوری۔
2020ء عبدالرحیم فلاحی رویدروی۔ مولانا
2021ء راجا رشید محمود۔ نعت گو شاعر، نقاد
2021ء ضیاء شاہد۔ صحافی
2024ء فریاد آزر (سید فریاد علی)۔ شاعر

Https://telegram.me/ilmokitab
حدیث الصباح
بیان و آواز: شیخ محمد ابوزہرہ
وفات ( ۱۲/ اپریل ۱۹۷۴ء)
بیسویں صدی کے مصری عظیم فقیہ و مصنف شیخ محمد ابو زہرہ علیہ الرحمۃ کی تاریخ وفات کی مناسبت سے آپ کی ایک نادر عربی رکارڈنگ پیش خدمت ہے۔
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=hadisus-sabah, Hadisus Sabah
❤3
گذشتہ دو ماہ کے دوران اس علم وکتاب چینل کے ممبران کی تعداد تین سو تک گھٹ گئی ہے۔ احباب سے گذاش ہے کہ اسے پروموٹ کرنے میں دلچسپی لیں، اور زیادہ سے زیادہ احباب کو اس کا مواد لنک کے ساتھ شیر کریں، اور اس کی لنک عام کریں۔
شکریہ
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب
❤5
*وفیات مورخہ: 13/اپریل*
1917ء سید کرامت حسین۔ جسٹس (ر) ،
1966ء عبد السلام عارف۔ صدر جمہویہ عراق
1968ء آئی ائی قاضی ( امداد علی امام علی قاضی)۔ سندھی محقق
1971ء محمد شہاب الدین۔ چیف جسٹس پاکستان
1973ء بلراج ساہنی۔ اداکار
1993ء ابو ظفر زین ، سید۔ ادیب ، صحافی
1993ء سید ابوظفر زین۔
1997ء فارغ بخاری۔ شاعر
1997ء نصیر احمد ناصر۔ ڈاکٹر، شاعر ، مورخ
1999ء وصفی بہرائچی (عبد الرحمن خان)۔
2001ء انجم رومانی۔ شاعر
2005ء علی احمد جلیلی۔ شاعر
2005ء مقبول جلیس۔ ،
2006ء شاہد کلیم۔
2009ء قاضی محمد احمد خطیبی۔ قاضی جماعت المسلمین بھٹکل
2012ء وسیم فاضلی۔ پروفیسر ،
2014ء ماسڑ صلاالدین صدیقی۔ ماسٹر صلاح الدین صدیقی
2019ء جسیم الدین قاسمی پور نوی۔ مولانا قاری
2020ء بشیر جہانگیری۔ چیف جسٹس پاکستان
2023ء سید محمد رابع حسنی ندوی۔ مولانا، ناظم ندوۃ العلماء لکھنو
2025ء خورشید احمد۔ پروفیسر ، ماہر اسلامی اقتصادیات

Https://telegram.me/ilmokitab
مولانا محمد احمد خطیبی رحمۃ اللہ علیہ سابق قاضی جماعت المسلمین بھٹکل
(قاضی صاحب کی آج سے سترہ سال قبل مورخہ ۱۳ / اپریل ۲۰۰۹ء رحلت واقع ہوئی تھی، اس موقعہ پر لکھی گئی ایک تاثراتی تحریر)
*از: عبد المتین منیری۔ بھٹکل*

بالآخر سناونی آہی گئی اور ہمارے قاضی مولانا محمد احمد خطیبی صاحب جو عرف عام میں کوچوصاحب خلفو کے نام سے معروف تھے۱۲؍اپریل کو نصف شب کے وقت جب دنیا سوتی ہے خاموشی سے اپنے مالک حقیقی سے جاملے ، اناللہ وانا الیہ راجعون ، ہم سب کو اپنے رب کی طرف اسی طرح ایک دن لوٹ کر جانا ہے ۔
آپ کی پیدائش سنہ ۱۹۰۶ء بھٹکل میں ہوئی تھی،اس طرح رحلت کے وقت آپ کی عمر ۱۰۳ سال یعنی ایک صدی سے کچھ زیادہ بنتی ہے ،اللہ اگر طویل عمر دے اور اس کے ساتھ عمل صالح کا توشہ بھی ساتھ ہو تو یہ اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے آپ کو اس نعمت سے مالا مال کردیا تھا، آپکے معاصرین میں آپ جیسا عابد وزاہد دوسرا شخص شاید ہی رہا ہو۔یوں تو آپ نے عمر طبعی پائی اور جب وفات پائی تو کئی سال سے صاحب فراش تھے، لیکن آپ کی ذات بابرکت کے اٹھ جانے سے ایسا لگتا ہے کہ چلچلاتی دھوپ میں کوئی پرانا سایہ دار درخت گرگیا ہو، کیونکہ آپ میں اللہ نے ایسے اوصاف بھردئے تھے، جن کے وجود کی برکت سے قوم پر آنے والے بڑے بڑے عذاب ٹل جاتے ہیں۔ اور جب عذاب نازل ہوتے ہوئے سامنے نظر آنے لگتا ہے، ان جیسوں کو دیکھ کر رحمت خداوندی اس کے غضب پر غالب آجاتی ہے۔
قاضی صاحب کا نوائط قبیلہ کے اس خانوادے سے تعلق تھا جو گذشتہ چھ صدیوں سے شہر بھٹکل ، چنیی(مدراس) اور حیدرآباد کے علاقوں کواپنے علم وتقوی سے سیراب کرتا آرہاہے،اس خانوادہ کے جد امجد مخدوم فقیہ اسماعیل سکری رحمۃ اللہ علیہ تھے ،جن کے ہاتھوں بھٹکل کی جامع مسجد کی سنگ بنیاد سنہ۸۵۱ء میں رکھی گئی تھی ، تب سے بھٹکل میں جماعتی نظام اور محکمہ شرعیہ جاری و ساری ہوا،اس وقت سے جامع مسجد کے خطابت اور جماعت کی قضائت آپ ہی کی نسل میںجاری رہی، جو قاضی محمد احمد خطیبی عرف کوچو صاحب خلفو کے والد ماجد قاضی محمد ابوبکر خطیبی عرف اوپاخلفو کے اتحاد جماعت کے لئے سنہ ۱۹۵۴ء میں قربانی پیش کرتے ہوئے مستعفی ہونے تک تسلسل سے جاری و ساری رہا۔
جب قاضی صاحب نے اس دنیا میں آنکھ کھولی بھٹکل تعلیمی میدان میں بہت ہی پسماندہ تھا ، انجمن آپ کی آنکھوں کے سامنے قائم ہوا ، جہاں آپ نے داخلہ لے کر قوم کے اولین گریجویٹ اور انجمن کے صدر مدرس اسماعیل حسن صدیق مرحوم سے عصری تعلیم حاصل کی، جس کے بعد آپ نے دینی تعلیم اس وقت کے عظیم فقیہ مولانا قاضی شریف محی الدین اکرمی چیٖف قاضی جماعت المسلمین و نائب قاضی ممبئی سے حاصل کی ،قاضی شریف اکرمی کا معمول یہ تھا کہ اس دور کے دستور کے مطابق مغرب سے قبل کھانے سے فارغ ہوتے ، اور عشاء کے فورابعد سوجاتے اور نصف شب میں جگتے اور عبادتی اور علمی مصروفیات شروع کرتے، انہیں حافظہ کا یہ گر معلوم تھا کہ تھکن کی حالت میں یا نیند کے غلبہ کے وقت کا مطالعہ پانی پر لکھی تحریر جیسا ہے، نیند سے جگ کر چاق وچوبند حالت میں مطالعہ پتھر کی لکیر ہے، لہذا اپنے طلبہ کو تہجد کے وقت ہی تعلیم کے لئے بلاتے تھے، قاضی خطیبی نے بھی قاضی اکرمی سے رات کے ڈھائی بجے ان کے پاس جاکر جب کہ ابھی بھٹکل میں بجلی کا رواج نہیں ہوا تھا ، مٹی کے تیل سے چلنے والے چراغوں کی دھندلی روشنی میں دینی علم سیکھا،پھر آپ مدراس مدرسہ محمدیہ چلے گئے جہاں آپ نے وقت کے عظیم بزرگ مولانا قاضی حبیب اللہ چیف قاضی مدراس سے فیض حاصل کیا۔وطن واپسی پر جماعت المسلمین سے وابستہ ہوئے اور یہاں کے دفتری کاموں میں حصہ لیا اور قاضی اکرمی سے بھی فقہی مہارت حاصل کرتے رہے۔ اور اپنے والد ماجد کا جماعت کی ذمہ داریوں خطابت اور قضاء میں ہاتھ بٹایا۔آپ نے مولانا سید میراں خلفو اور مولانا قاضی اسماعیل اکرمی دھاکلو بھاؤ خلفو سے بھی استفادہ حاصل کیا
❤1
آپ کے والد قاضی محمد ابوبکر خطیبی مرحوم عرف اوپا خلفو اپنے والد خطیب حسن کے انتقال کے بعد ۱۷ سال کی عمر میں جامع مسجد کے منصب خطابت پر فائز ہوئے،قاضی بھٹکل قاضی عمر کے انتقال کے بعد خان صاحب محی الدین قاسمجی مرحوم کے اور عوامی اصرار پر آپ نے قضائت کا عہدہ سنبھالا،تقوی اور پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے،چال میں اتنی نرمی تھی کہ چونٹی بھی آپ کے قدموں کے نیچے آکر محفوظ رہتی تھی،لکڑی کاٹنے اور بکری چرانے جیسے مشغلہ کو بھی اپنایا ہوا تھا،آپ کو سرقاضی کی حیثیت سے ٹیپو سلطان کے عہد سے جاری وظیفہ سرکاری خزانے سے ملتا تھا،آپ ۶۵ سال تک منصب خطابت پر اور پچاس سال تک منصب قضاء پر فائز رہے۔ہم نے جب آنکھیں کھولیں تب قضائت کے ساتھ قاضی محلہ کی چھوٹی سی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے، صورت دھان پان سی ، لمبائی کوئی پانچ فٹ کے قریب ، پنڈلیوں سے قریب لمبا عربی کندورہ جیسا جبہ پہنتے ، سرپر صافہ بھی باندھنے کی عادت تھی، ۱۹۷۴ء میں اس دارفانی سے کوچ کیا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند اکبر قاضی محمد احمدخطیبی صاحب کو جماعت المسلمین نے قاضی بھٹکل منتخب کیا، آپ تا دم آخر ان منصب جلیلہ پر فائز رہے۔ آپ ابتدا سے بھٹکل میں تبلیغی جماعت کے امیر رہے، میونسپل کونسلر،اور جامعہ اسلامیہ بھٹکل وغیرہ اداروں کے مجلس شوری کے ممبر بھی رہے۔
اللہ نے آپ کو اپنے والد ماجد کی طرح صالحیت اور صلاحیت سے نوازا، دل کے سخی تھے،نکاح وغیرہ کے بعد جو ہدیہ ملتا عموما راستے ہی میں کسی محتاج کو دے آتے، آپ نے کئی ایسے خاندانوں کی خبرگیری کی جن کے سرپرست اور والد انہیں چھوڑ گئے تھے ، یا حالات نے انہیں اپنے اہل عیال سے مدتوں ملنے نہیں دیا تھا، جسم اپنے والد ماجد ہی کی طرح دھان پان تھا، جسم میں پھرتی تھی، اقرباء رشتہ داروں کی خبرگیر ی کرنے کے لئے ان کے گھروں کو پابندی سے جاتے، اپنی جاگیروں کی دیکھ بھال کے لئے میلوں پیدل چلتے، مہمانا ن نوازی میں ان کا جواب نہیں ، ہم جیسے خورد مذاق میں ان سے کہتے کہ سب جگہ لوگ قاضی صاحب کے پاس ہدئے و تحائف لے کر جاتے ہیں ، لیکن آپ واحد قاضی ہیں جن کے یہاں سے لوگ تحفے تحائف لے کر آتے ہیں، رواداری اور اقرباء کا خیال کوٹ کوٹ کاان میں بھر ا تھا، اپنے باغات کے موسمی پھل فروٹ اپنے دور دور کے خاندان والوں پر پابندی سے تقسیم کرتے،۔
فیصلوں میں بردباری اور سنجیدگی کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے ، میاں بیوی کے تنازعات میں طلاق تک نوبت نہ پہچنے کی ہر ممکن کوشش کرتے، دفتری امور میں نفاست کا خاص خیال رکھتے، نکاح نامے خود اپنے ہاتھ سے لکھتے، اس میں خوش خطی کا خاص خیال رکھتے۔ فن وراثت میں انہیں بڑا عبور حاصل تھا ۔
امر بالمعروف اور نہی المنکر کا فریضہ زندگی بھر ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا، کہیں بازار وغیرہ میں کسی خاتون کو غیر مہذب حالت میں تو وہیں اپنی رومال یا چھتری کا استعمال کرکے ڈانٹ دیتے، جسم دیکھنے میں پھول جیسا، لیکن رعب ایسا کہ بڑے بڑے پہلوان اپنی چالیں ان کے سامنے بھول جائیں۔
انہوں نے جس بھٹکل میں جنم لیا تھا وہ امن کا گہوارہ تھا، یہاں بسنے والی اقوام میں احترام اور رواداری کا چلن تھا، لیکن زندگی کے آخری ایام میں بابری مسجد کے سانحہ نے پورے ہندوستان کے سماجی اور معاشرتی نقشہ کو تہ و بالا کردیا، اس سے آخر بھٹکل کیونکر محفوظ رہتا ، فسادات کی چنگاری یہاں بھی پہنچی اور امن و آشتی کے اس گہوارے کو دشمن کی نظر لگ گئی ، اور کئی مہینوں تک یہ شہر جلتا رہا ، اس منظر کو وہ دیکھ نہ سکے ، ان کی قوت برداشت جواب دے گئی اور اس کا دل و دماغ پر ایسا اثر ہوا کہ اعضاء و جوارح ماوف ہوگئے، جسم نے طبعی حالت میں کام کرنا بند کردیا آہستہ آہستہ غیبوبت نے ان کا گھیرا کرلیا ، اور زندگی کا تھکا مارا یہ مسافر سترہ سال تک موت سے جنگ کرتے بالآخر زندگی کی بازی ہار گیا۔
آپ کے بھائیوں میں مولانا غزالی خطیبی تبلیغ و دعوت کی محنت کے تعلق سے دنیا بھر میں معروف ہیں، آپ کے فرزند خورد مولانا عبد الرب خطیبی جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے استاد اور نائب قاضی جماعت المسلمین کی حیثیت سے آباء واجداد کی وراثت سنبھالے ہوئے ہیں۔اللہ انہیں اور ان کے دوسرے بھائیوں اور قرابت داروں کو ان کے خاندان کے علم وتقوی کی وراثت کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
بیتی یادیں
انٹرویو: حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی
سابق ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ
مصاحبہ کار: عبد المتین منیری
آج ہمارے مشفق وبزرگ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا یوم وفات ہے، آج سے تین سال قبل مورخہ ۱۳ / اپریل ۲۰۲۳ء آپ نے اس دنیا کو داغ مفارقت دی تھی، آپ کی یادوں پر مشتمل ایک یادگار انٹرویو پیش خدمت ہے۔
https://youtu.be/3Bg7ZlblxDI?si=RXQbIKJlyDLp5DLq
افلاک سے آتا ہے
کلام : علامہ اقبال
لنک اردو اڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=aflak-say-aata-hai, Aflak Say Aata Hai
❤2
*وفیات مورخہ: 14/اپریل*
1962ء ایم وسویسوریا ۔ دیوان ریاست میسور، غیر منقسم ہندوستان کے اولین انجینیر
1969ء محمد مبین خطیب۔ مولانا ،
1994ء سلیم الزماں صدیقی۔ ڈاکٹر ، پاکستانی سائنس دان
2002ء والی آسی۔ شاعر
2005ء میر رضی میر۔ ،
2008ء منصور ے۔ ،
2010ء اسرار احمد۔ ڈاکٹر، بانی تنظیم اسلامی
2018ء محمد سالم قاسمی۔ مولانا، مہتمم وقف دار العلوم دیوبند

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
آج مورخہ ۱۵ اپریل سابق مفتی مصر شیخ حسین مخلوف رحمۃ اللہ علیہ کی برسی ہے، آپ کی وفات سنہ ۱۹۹۰ء میں ایک سوسال کی عمر میں وفات ہوئی تھی۔
اس مناسبت سے آپ کی ایک نادر ریکارڈنگ اردو اڈیو ڈاٹ کام کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔
*عنوان: صفات المتقین*
*بیان وآواز: شیخ حسنین محمد مخلوف*
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=sifatul-muttaqin, Sifatul Muttaqin
نوٹ: شیخ مخلوف کے حالات زندگی اور آپ کی تفسیر صفوۃ البیان لمعانی القرآن الکریم کے تعارف پر مستقل مضمون اور تفسیر کی لنک کا انتظار کریں۔
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B