علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
*وفیات مورخہ: 15/اپریل*
1845ء مہاراجا چندو لال۔
1880ء محمد قاسم نانوتوی۔ حجۃ الاسلام ، بانی دار العلوم دیوبند
1970ء منظر عالم۔ ،
1980ء جان پال سارتر۔ فرانسیسی مفکر
1985ء مونس جلیلی (مونس احمد)۔ ،
1990ء حسنین محمد مخلوف۔ مفتی اعظم مصر، مصنف صفوۃ البیان
1990ء ریاض حسین مضطر زیدی۔ ،
1990ء ضمیر احمد اعظمی۔ مولانا
1990ء مضرزیدی (ریاض حسین )۔ ،
1993ء گوپال متل۔ مدیر تحریک دہلی
1993ء مفتی شوکت علی فہمی۔ مدیر دین دنیا دہلی
1994ء ریحان عمر فاروقی۔ ،
1995ء قاری عبدالحفیظ خان قادری۔ مولانا ،
1995ء وحید الزماں کیرانوی۔ مولانا ، مصنف القاموس الوحید
2000ء ذیشان حیدر جوادی۔ ،
2004ء عرفان صدیقی۔ شاعر
2004ء فرید الوحیدی۔ مولانا
2007ء ڈبلیو زیڈ احمد (وحید الدین ضیاء الدین احمد)۔ ہدایت کار
2007ء سید حسین شاہ راشد۔ ،
2013ء فضل کریم۔ صاحبزادہ، سربراہ مرکزی جمعیت علمائے پاکستان
2017ء مختار مسعود۔ ادیب، بیروکریٹ
2022ء معروف شاہ شیرازی۔ مصنف، مترجم

Https://telegram.me/ilmokitab
*رہنمائے کتب: تفسیر صفوۃ البیان لمعانی القرآن الکریم*
*تحریر: عبد المتین منیری*
*نام کتاب: صفوۃ البیان لمعانی القرآن الکریم*
*مصنف: شیخ حسنین محمد مخلوف *
صفحات: (836)
ایڈیشن: نواں۔ 1438ھ۔2017ء
ناشر: ابوظبی
(ڈون لوڈ لنک کالم کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں)
یہ تفسیر چودھویں صدی ہجری کی تفسیری تصنیفات میں شمار ہوتی ہے، مصنف کا نام حسنین بن الشیخ محمد حسنین مخلوف العدوی ہے۔ آپ کی پیدائش ہفتہ کے دن 16 رمضان 1307ھ بمطابق 6 مئی 1890ء کو قاہرہ کے علاقے "باب الفتوح" میں ہوئی۔ آپ کے والد شیخ محمد حسنین مخلوف جامعہ ازہر کے ڈائریکٹر تھے، جنہوں نے آپ کی خصوصی نگہداشت اور پرورش کی۔ آپ نے جامعہ ازہر کے صحن میں قرآن کریم حفظ کیا اور 10 سال کی عمر میں اسے مکمل کر لیا۔ آپ نے شیخ القراء محمد علی خلف الحسینی سے تجوید سیکھی، پھر 11 سال کی عمر میں طالب علم کے طور پر ازہر میں داخلہ لیا۔
آپ نے مختلف علوم کی تعلیم اپنے وقت کے جید علماء سے حاصل کی، جن میں آپ کے والد، شیخ محمد الطوخی،لشیخ یوسف الدجوی، شیخ محمد بخیت المطيعی اور شیخ عبداللہ دراز شامل ہیں۔ جب "مدرسة القضاء الشرعی" (اسلامی قانون کے اسکول) کے دروازے ازہر کے طلباء کے لیے کھلے، تو آپ نے وہاں داخلہ لیا۔ یہ ادارہ صرف انتہائی ذہین طلباء کا انتخاب کرتا تھا۔ آپ نے 1332ھ (جون 1914ء) میں 24 سال کی عمر میں وہاں سے "العالمیہ" کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کے امتحانی بورڈ میں شیخ الجامعہ سلیم البشری اور مفتیِ مصر شیخ بکری الصدفی جیسے اکابرین شامل تھے۔
مناصب اور ذمہ داریاں:
فراغت کے بعد آپ نے دو سال تک جامعہ ازہر میں رضاکارانہ طور پر درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ 1916ء میں آپ کو قنا کی شرعی عدالت میں قاضی مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد آپ دیروط، قاہرہ اور طنطا کی عدالتوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے، یہاں تک کہ 1941ء میں اسکندریہ کی کلی شرعی عدالت کے صدر مقرر ہوئے۔ 1942ء میں آپ کو وزارتِ انصاف میں شرعی انسپکشن کا سربراہ بنایا گیا۔ اس دوران آپ نے کئی اصلاحی منصوبوں میں حصہ لیا، جیسے شرعی عدالتوں کے قوانین کی اصلاح۔
30 جنوری 1946ء کو آپ کو مفتیِ دیارِ مصر مقرر کیا گیا، اور آپ 1950ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ 1948ء میں آپ جامعہ ازہر کی "کبار علماء کونسل" کے رکن بنے۔ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ فارغ نہیں بیٹھے بلکہ مسجدِ امام حسینؑ میں روزانہ درس دینا شروع کیا اور فتاویٰ کے اجراء کا سلسلہ جاری رکھا۔ 26 فروری 1952ء کو آپ کو دوبارہ مصر کا مفتیِ اعظم مقرر کیا گیا اور آپ اکتوبر 1954ء تک اس عہدے پر رہے۔ اس دوران آپ کے جاری کردہ تقریباً 8588 فتاویٰ دار الافتاء کے ریکارڈ میں درج ہیں۔
بعد ازاں، آپ ایک طویل عرصے تک جامعہ ازہر کی "فتویٰ کمیٹی" کے سربراہ رہے، مجمع البحوث الاسلامیہ کے رکن منتخب ہوئے، اور رابطہ عالم اسلامی (سعودی عرب) کے بانی ارکان میں شامل رہے۔ آپ نے مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی کے قیام میں بھی حصہ لیا اور سعودی عرب کی سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بھی رہے۔
تصانیف اور تحقیقی کام:
عدالتی مصروفیات اور درس و تدریس کی وجہ سے آپ کو تصنیف و تالیف کا کم وقت ملا، لیکن اس کے باوجود آپ نے نہایت مفید کتابیں چھوڑیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
• حکم الإسلام فی الرفق بالحیوان: (اسلام میں جانوروں کے ساتھ نرمی کا حکم - آپ کی پہلی تصنیف)۔
• اسماء اللہ الحسنیٰ والآیات القرآنیہ: (اللہ کے نام اور ان سے متعلق قرآنی آیات)۔
• صفوة البيان لمعانی القرآن: (قرآن کریم کی مشہور تفسیر)۔
• فتاویٰ شرعیہ وبحوث إسلامیہ: (شرعی فتاویٰ اور اسلامی تحقیقات)۔
• المواريث فی الشریعہ الإسلامیہ: (اسلامی قانونِ وراثت)۔
• اس کے علاوہ آپ نے "بلوغ السول" اور "نصائح دینیہ" جیسی کتب کی تحقیق و تعلیق بھی کی۔
علمی مقام اور اعزازات:
آپ کی علمی وسعت اور حق گوئی کی وجہ سے علمی اور سرکاری حلقوں میں آپ کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ کو دو بار "علمی اعزازی لباس" (کسوة التشريفة العلمية) سے نوازا گیا۔ 1982ء میں آپ کو سماجی علوم میں "اسٹیٹ تعریفی ایوارڈ" اور "تمغہ برائے فنون و علوم (درجہ اول)" دیا گیا۔ عالمی سطح پر آپ کی خدمات کے اعتراف میں 1983ء میں آپ کو شاہ فیصل عالمی ایوارڈ (برائے خدمتِ اسلام) سے نوازا گیا۔
وفات:
شیخ حسنین مخلوف نے ایک طویل عمر پائی اور 100 سال سے زائد تک دین کی خدمت کی۔ آپ نے علم کی شمع روشن کرنے کے لیے کئی عرب ممالک کے سفر کیے۔ بالآخر 19 رمضان 1410ھ بمطابق 15 اپریل 1990ء کو آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
تفسیر صفوۃ البیان کے مقدمے میں مصنف نے اس کی تالیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "بہت سے طالب علموں نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ میں قرآن کریم کی ایک ایسی تفسیر لکھوں جس کی عبارت واضح اور فہم قریب ہو، اور جو صرف ان آیات اور مفردات کی تفسیر تک محدود ہو جن کی وضاحت ضروری ہے۔ ایسی کتاب جو طویل ضخیم کتب کے مطالعے سے بے نیاز کر دے، جن میں مباحث کی کثرت اور اقوال کی فراوانی کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے قرآنی معانی کا استخراج مشکل ہو جاتا ہے جو ان کے اسلوب اور اصطلاحات سے واقف نہیں ہیں۔ اسی طرح یہ ان مختصرات سے بھی بے نیاز کر دے جن کا سمجھنا ذہنوں پر گراں گزرتا ہے اور جن کے اشارات واضح نہیں ہوتے۔ پس میں نے اپنی کمزوری اور اس مقام کی دشواری کے باوجود اللہ تعالیٰ سے استخارہ کیا اور اس کی طاقت و قوت سے مدد مانگتے ہوئے اسے لکھنا شروع کیا، وہی بہترین مددگار ہے، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔ میں اس کی بارگاہ میں التجا کرتا ہوں کہ وہ مجھے درستی کی توفیق عطا فرمائے اور ہر اس چیز سے بچائے جو قابلِ مذمت و عیب ہو، اور حساب کے دن میری لغزشوں کو معاف فرمائے"۔
پھر مؤلف نے ذکر کیا کہ" انہوں نے قرآن کے غریب مفردات کی جامع وضاحت سے آغاز کیا اور ساتھ ہی ان بعض آیات کو بھی بیان کیا جن میں وہ الفاظ آئے تھے۔ پھر انہوں نے اپنی تحریر پر نظر ثانی کی تو محسوس کیا کہ اس انداز میں دیگر آیات کی تفسیر کی بھی شدید ضرورت ہے، چنانچہ انہوں نے ان کی بھی تفسیر کی اور یوں ان سب کے مجموعے سے یہ کتاب مکمل ہوئی"۔ مؤلف کہتے ہیں: "میں نے قرآن کے مفردات کی جامع تشریح سے آغاز کیا، جو لغوی لغت کی ترتیب کے بجائے ترتیبِ نزولی (قرآنی ترتیب) کے مطابق ہے تاکہ تلاوت یا سماعت کے دوران آسانی سے معنی معلوم کیے جا سکیں، ساتھ ہی ان بعض آیات کے مفہوم کو بھی واضح کیا جن میں یہ الفاظ شامل تھے"۔
اور جب میں نے اس پر دوبارہ غور کیا تو میں نے محسوس کیا کہ دیگر آیات کی تفسیر کی بھی اشد ضرورت ہے اسی نہج پر جس کا میں نے ارادہ کیا تھا، اگرچہ وہ 'غریب القرآن' (مشکل الفاظ) پر مشتمل نہ ہوں؛ چنانچہ میں نے ان کی تفسیر کو بھی اس میں شامل کر دیا جس کا میں نے آغاز کیا تھا، اور ان تمام کے مجموعے سے یہ تفسیر مکمل ہو گئی»
جو شخص اس تفسیر کو مصنف کی اس رہنمائی کی روشنی میں مطالعہ کرتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ تفسیر وسعت کے بغیر معانی بیان کرنے کے گرد گھومتی ہے؛ مصنف نے اپنی کتاب کے مقدمے میں صراحت کی ہے کہ وہ قرآن کریم کی ایک ایسی تفسیر لکھنا چاہتے تھے جس کی عبارت واضح ہو اور وہ صرف ان آیات اور الفاظ کی تفسیر پر منحصر ہو جن کی تفسیر ناگزیر ہے، تاکہ یہ طویل کتابوں کے مطالعے سے بے نیاز کر دے؛ چنانچہ مصنف نے اپنی پوری تفسیر میں احکام، ہدایات اور ان چیزوں میں وسعت اختیار کیے بغیر جو معنی سے بالاتر ہیں، معانی کے بیان اور ان پر کلام کرنے کی پابندی کی ہے۔
مصنف اپنی تفسیر میں ایک ہی معنی پر قائم رہتے اور اسے اپنے اسلوب میں پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں؛ چنانچہ مصنف ایک مخصوص معنی بیان کرتے ہیں جس پر وہ تفسیر کرتے ہیں اور اسے اپنے انداز اور طریقے سے پیش کرتے ہیں، اور یہ ماقبل سے واضح ہے، لیکن کبھی کبھار اور شاذ و نادر وہ ایک سے زیادہ معنی بھی پیش کرتے ہیں۔۔۔۔ ہماری ذاتی رائے میں
شیخ مخلوف کی اس تفسیر سے طلبہ علوم دینیہ کو بھر پور استفادہ کرنا چاہئے۔ اور اسے ہمیں اپنی میز پر سامنے رکھنا چاہئے۔
اس تفسیر میں مصنف نے کن مصادر ومراجع سے استفادہ کیا ہے ان کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن تفسیر پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس میں مندرجہ ذیل معتبر تفاسیر سے استفادہ کیا گیا ہے۔
١۔ جامع البيان عن تأويل آي القرآن، للطبري (وفات ٣١٠ھ).
٢- تفسير ابن أبي حاتم (وفات ٣٢٧ھ).
۳- تفسير القفّال (وفات ٣٦٥ھ).
۴- الوجيز، للواحدي (وفات ٤٦٨ھ)۔
۵- المحرّر الوجيز، لابن عطية (وفات ٥٤٦ھ).
٦- الكشاف، للزمخشري (وفات ٥٨٣ھ).
٧- مفاتيح الغيب، للرازي (وفات ٦٠٦ھ) ۔
٨- الجامع لأحكام القرآن، للقرطبي (وفات ٦٧١ھ).
٩- التسهيل لعلوم التنزيل، لابن جزي (وفات ٧٤١ھ).
١٠- لباب التأويل، للخازن (وفات ٧٤١ھ).
١١- البحر المحيط، لأبي حيان الأندلسي (وفات ٧٤٥ھ).
١٢- تفسير القرآن العظيم، لابن كثير (وفات ٧٧٤ھ).
١٣- نظم الدرر، للبقاعي (وفات ٨٨٥ھ). ١٤- روح المعاني، للألوسي (وفات ١٢٧٠ھ).
- کتاب کی اشاعتیں: کتاب کی پہلی اشاعت سنہ (١٣٧٥ھ- ١٩٥٧ء) میں (دار الكتاب العربي - قاہرہ) کے مطابع سے دو جلدوں میں ہوئی۔
پھر یہ کئی بار مصحف کے حاشیے پر ایک جلد میں طبع ہوئی، اور اس کی اشاعتوں میں سے ہیں: - دار الفکر، بیروت - لبنان، سنہ ١٩٧٠ء۔
- پندرہویں صدی ہجری کے آغاز کی تقریبات کی کمیٹی، متحدہ عرب امارات، ابوظبی ، پیشکش/ محمد عبد الرحمن بکر، سنہ ١٩٨١ء۔ - وزارت اوقاف و مذہبی امور، کویت، سنہ ١٩٨٧ء۔ - دار النمير، دمشق – شام۔
(اس تعارف میں مرصد تفسیر للدراسات القرآنیہ کے مضمون سے استفادہ کیا گیا ہے)
ڈون لوڈ لنک
https://bit.ly/4mrAS3Y
*مولانا محمد سالم قاسمی صاحب ؒ*

*’’ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی‘‘*

*ڈاکٹر عبید اقبال عاصم*

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی تیسری پشت کے فرزند اکبر خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحبؒ جن اوصاف و کمالات کا مجموعہ تھے اُن میںبہت سی وہبی ہیں جو یقینی طور پر مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی دعاء ’’رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا‘‘ کی قبولیت کا نتیجہ اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند کے ذریعہ دعائے نیم شبی ’’رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء‘‘ کاثمرہ معلوم ہوتا ہے۔ ان سب پر مستزاد اُن کے کریمانہ اخلاق جو دشمن کو بھی اُن کا دوست بنا دے، اُن کا فطری مسکراتا چہرہ، وسیع مطالعہ، حکیمانہ گفتگو، پُراثر خطاب، وہ کسبی دولتیں ہیںجن کو پانے کے لئے انہوں نے کچھ گھریلو ماحول، کچھ بزرگوں کی صحبت، اسلاف کے فیضانِ نظر اور اکابرین کے احوال و افکار سے متاثر ہو کر اپنی ذات میں اس طرح سمولیں کہ وہ اُن کا جزوِ ذات بن گئیں تھیں۔
حضرت مولانا محمد سالم صاحب اس عالمِ آب گل میں جنوری ۱۹۲۶ء مطابق جمادی الاخریٰ ۱۳۴۴ھ میں وجود میں آئے۔ دیوبند کے جس گھرانے میں آنکھیں کھولیں وہ علم و فضل کے اعتبار سے چندے آفتاب و چندے ماہتاب تھا، بچپن سے ہی دینی ذوق کے حامل اس بچہ کی تعلیم و تربیت کے لئے اس دارالعلوم دیوبند کا انتخاب کیا گیا جس کی ظاہری و باطنی تعمیر و ترقی میں والد محترم قاری محمد طیب صاحبؒ نے زندگی وقف کرکے اسے ایک تحریک کی شکل دینے میںقائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ ذہانت و فطانت رگ رگ میںسرایت کئے ہوئے تھی۔ معاملات و واقعات بتانے سے نہیں، صرف مشاہدے سے سمجھنے میں بچپن سے ہی درک حاصل تھا۔ بائیس سال کی عمر میںدولتِ حفظِ قرآن کریم و تجوید نیز مروّجہ درسِ نظامی کے نصاب سے ۱۹۴۸ء مطابق ۱۳۶۷ھ فراغت حاصل کی، آپ کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر اراکینِ شوریٰ نے آپ کو دارالعلوم دیوبند کی تدریس کے لئے منتخب کرلیا،جس سے آپ ضعیفی و پیرانہ سالی کے زمانے کو چھوڑ کر تاعمر وابستہ رہے۔ ۱۹۸۲ء تک دارالعلوم کی چہار دیواری میں آپ نے قال اللہ و قال الرسول کی صدائوں کو بلند رکھا اور وہاں کے حالات کے انتشار کے نتیجے میں دارالعلوم دیوبند سے اُن کے والد بزرگوار حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کو جس طریقہ سے دارالعلوم دیوبند سے باہر کی راہ دکھائی گئی اُس کے نتیجہ میں جن بلند پایہ اساتذۂ کرام کو بے سروسامانی کے عالم میں مادرِعلمی سے رشتے منقطع کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا اُن میں استاذ محترم کا نام سرفہرست ہے۔
مولانا موصوف نے ایسے موقع پر جس صبر و ہمت اور عزم و استقامت کا مظاہرہ کیا وہ تو اپنی جگہ، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ نے تخریب کا جواب دینے کے لئے تعمیری منصوبہ بنایا، قدم قدم پر مخالفتوں، مخاصمتوں، منافرتوں اور عداوتوں کے درمیان دارالعلوم دیوبند سے روحانی تعلق اور تحریک دیوبند سے حقیقی محبت کے اظہار کے لئے ایک دوسرے دارالعلوم کے قیام کا منصوبہ ہنسی کھیل نہیں تھا، جن لوگوں نے اُس وقت کے حالات کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے اُن میں بیشتر لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ہم جیسے صفِ آخیر کے اُس وقت کے جوان عمر افراد جو اَب عمر کے آخری مرحلے میں داخل ہورہے ہیں اُن ناپسندیدہ واقعات کے عینی شہادتیںفراہم کرنے کے لئے موجود ہیں جب معرکۂ حق و باطل سمجھے جانے والے اس مجاہدۂ کارزار میں حق پسندوں کو مغلوب، مظلوم اور معصوم حالت میں دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ 85 افراد کے اس قافلۂ امن میں کیسے کیسے متقی، ولی صفت، استقامت و عزیمت کے پہاڑ، صبر و وفا کے پیکر انسان تھے کہ جنہوں نے قاری محمد طیب صاحبؒ کو حق پر مانتے ہوئے اپنے روزگار کے مقابلے میں بے روزگاری کو ترجیح دی۔ ایسے حالات میں مردِ آہن مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نے جس حوصلہ اور پامردی کے ساتھ سالارِ قافلہ کا فریضہ ادا کیا اس کی نظیر شاید و باید ہی ملے گی اور پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ بادِ مخالف کی تندی اور حالات کا پوری طرح شعوری جائزہ لے کر حالات کا رخ موڑنے کی کوشش کی اور چند سالوں میں ہی دارالعلوم کے مماثل دوسرا دارالعلوم اس قصبہ دیوبند میں پختہ و ٹھوس بنیادوں پر کھڑا کردیا جو دارالعلوم کا جزوِ ثانی کہلاتا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا محمدسالم قاسمی کو اس کاروانِ عزیمت میں مولانا سید انظر شاہ صاحب، مولانا خورشید عالم صاحب، مولانا محمد نعیم صاحب، مولانا محمد اسلم صاحب رحمہم اللہ جیسے مخلص رفقائے سفر نے ہر ہر قدم پر بہت زیادہ تعاون دیا اور علمِ قیادت مولانا محمد سالم صاحب کے ہاتھ میں دے کر اپنے قول و فعل سے اس امر کا اعلان کیا کہ ادارہ سازی کا وصف اس خانوادے کے خون میں شامل ہے اور قدرت نے اس خاندان کو یہ صلاحیت ودیعت کی ہے کہ وہ اَن ہونی میں بہت سے ہونے والے کاموں کو انجام دیتے ہیں۔
کسی ادارے کی زندگی میںپینتیس سال کوئی اہمیت نہیں رکھتے لیکن دارالعلوم وقف نے محض 35 سال کی عمر میں ترقی کے جو مدارج طے کئے ہیں اور علمی ارتقاء کی جو نظیر پیش کی ہے دوسرے ادارے اس سے دوگنی عمر میں اس کے آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکے۔ بات صرف دارالعلوم دیوبند کی ہی نہیں رہی بلکہ ملت کو جب کبھی موصوف کی قیادت کی ضرورت ہوئی آپنے اس سے بھی دست کشی نہیں کی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اورآل انڈیا مسلم مجلس مشاورت وہ پلیٹ فارم ہیں جہاںآپ کی صدا پر ملت نے پوری توجہ دی اور جب جس قسم کی ضرورت پیش آئی آپ نے پیش قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان سنبھالا۔
بہرحال یہ اُس قائدانہ وصف کا ایک ہلکا سا خاکہ تھا جسے سمجھنا ضروری ہے، علاوہ ازیں مولانا کے اندر جو اوصاف پائے جاتے ہیں اُس میں ہر ہر وصف پر صفحات کے صفحات رنگین کئے جاسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خوش اخلاقی کے ساتھ ساتھ ایسا مسکراتا چہرہ عطا فرمایا تھا کہ جس کو دیکھ کر ہی بہت سے غم غلط ہوجاتے۔ بانوے سالہ حضرت مولانا موصوف کے چہرے پر انتقال کے وقت تک بھی جو شگفتگی، شادابی و شیفتگی پائی جاتی تھی اس کو دیکھ کر سامنے والے کو اطمینان حاصل ہوتاتھا، اس کی اصلیت پر غور کیا جائے تو اس کی بنیاد ’’اَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْب‘‘ میں پائی جاتی ہے۔
مولانا نے حال و قال کی وہ ظاہری مجلسیں میرے خیال میں کبھی نہیں لگائیں جو انسانوں کی بزرگی کی شہرت و تشہیر کا مبدأ و منبع ہوتی ہیں، البتہ اُن کی اپنی ذاتی نشست و برخاست میں احکامِ الٰہی کی پابندی اُن حضرات نے ہمیشہ محسوس کی جن کا مولانا کے ساتھ سفر و حضر میں سابقہ پڑاہو۔مولانا اور اُن کے گھرانے سے راقم کا تعلق اُس وقت سے ہے جب کہ بقول شخصے ’’دودھ کے دانت ٹوٹنے‘‘ کا عمل بھی شروع نہیں ہوا تھا۔ مولانا کے فرزند ارجمند برادر عزیز محمد عدنان قاسمی سے ہم درسی کے ساتھ ہم نشینی اور پھر اس سے بھی بڑھ کر ہمدمی کا تعلق الحمد للہ کم و بیش پچاس سال سے ہمہ دم ہے۔ مولانا موصوف نے ہم سب دوستوں کو عدنان میاں کی طرح عزیز رکھا۔ مولانا مرحوم کی شفقت و عنایت کے یہ معاملات کہ دوستانہ بے تکلفیوں میں کبھی عدنان میاں سے کسی خواہش کا اظہار کیا جاتا اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو اُس کے متعلق معلوم ہوجاتا تو وہ ہماری خواہش کی تکمیل بڑے خوشگوار موڈ میں کردیتے۔ ہم تمام دوست مولانا علیہ الرحمہ کو والد کے درجہ میں مانتے اور وہ ہمیں اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتے۔
حضرت مولانا استاذ محترم کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع اُس وقت میسر آیا جب دارالعلوم دیوبند کا قضیہ نامرضیہ پیش آیا۔ اُس وقت علماء کرام کا تقدّس جس طرح پامال کیا جارہا تھا اور ایک دوسرے کی مخالفتوں میں جو طوفانِ بدتمیزی کھڑا ہوا تھا اس کا تذکرہ نہایت دل خراش ہے۔ ان حالات میں مولانا محترم نے نہ صرف یہ کہ خود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنے تمام حمایتیوں کو ہمہ وقت بزرگوں کے احترام اور برداشت کی تعلیم دی۔ بہت سے مواقع ایسے آئے کہ ہم جیسے جذباتی جوانوں نے حضرت حکیم الاسلامؒ پر رکیک حملوں کا جواب دینے کے لئے کمرِ ہمت کسی لیکن مولانا نے عفو و درگذر سے کام لینے کی ایسی تلقین کی کہ سارے جوش و جذبات سرد ہوتے نظر آئے۔ بعد میں جب حالات نارمل ہوگئے اور مخالفتوں و اختلافات کا سیلاب تھما، بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا، تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں اکابرین نے مسلکِ دیوبند کی حفاظت و تحفظ کی خاطر تمام جھگڑوں و قضیوں کو دفن کرکے صلح پسندوں کی کوششیں کامیاب ہوئیں تو مولانا مرحوم کی ان دور اندشانہ تدابیر کے سربستہ راز کھلے۔ مولانا نے عفو و درگذر سے کام لینے کی تلقین ہی نہیں کی بلکہ ازخود عمل کرکے بھی دکھایا۔
یہ وقت نہ تو اُن حالات کے ذکر کرنے کا ہے اور نہ ہی اس پر کسی تبصرہ و تذکرہ کی تفصیلات کا۔ بات تھی اس وسیع الظرف انسان کی وسعتِ ظرفی کی کہ جس نے ان تمام مخالفتوں، اختلافات، نزاعات، قضایا، جھگڑوں و تشدّد کا مخصوص نشانہ بننے کے باوجود جب ۲۰۰۵ء میں ایک موقع آیا تو وسعتِ ظرفی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی اور تمام اختلافات کو نسیاً منسیاً کرکے دنیا کے سامنے اخلاص و للہیت کی ایک انوکھی مثال پیش کی۔
تمام جھگڑوں کو بہ یک قلم ایک ہی ملاقات میں ختم کردینے کا یہ واقعہ ایسا اتفاقی تھا کہ جس پر ہم جیسے بہت سے کم ظرفوں کو شرحِ صدر نہیں تھا۔کچھ وقت گذرنے کے بعد راقم نے حضرت کی خدمت میں ایک سفر کے دوران اس واقعہ پر جھگڑے کے دنوں میں پیش آمدہ واقعات کے باوجود حضرت کے اس فراخ دلانہ رویہ پر حیرت و استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے کیا تو تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد حضرت موصوف نے فرمایا کہ ’’عاصم میاں! کچھ کام آخرت کے لئے بھی چھوڑ دو‘‘ حقیقت یہ ہے کہ استاذِ محترم کے اس پُرمعانی جملے نے قضایا دارالعلوم کے زخموں پر مرہم کا کام کیا اوراس کے بعد ان نزاعی باتوں سے کوئی سروکار نہیں رہا اور کوشش یہ رہی کہ کسی طرح کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے اختلافات کو ہوا مل سکے۔ حضرت استاذِ محترم کے ساتھ زندگی کی جتنی بھی نشستیں میسر ہوئیں وہ سب ہمارے لئے نمونۂ عمل کا کام دیتی ہیں۔ سینکڑوں ملاقاتوںمیں ہر طریقہ کی ناصحانہ گفتگو، مشفقانہ اندازِ تربیت، دوستانہ لب و لہجہ، صغر نوازی کے جملہ اوصاف اور ان سب پر مستزاد محترم المقام کا بالقصد غیبت سے اجتناب ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے اکابرین کی ’’متاعِ گمشدہ‘‘ ہیں ، انہیں موصوف نے نہ صرف یہ کہ حفاظت سے رکھا بلکہ ان پر عمل کرکے ہمیں یہ بھی دکھلا دیا کہ ’’نئی نسل کی تعمیر کے لئے عالم دین، مرشد، مربی یا کسی رہنما میں کن اوصاف کا ہونا ضروری ہے۔‘‘
حضرت استاذ کی شخصیت کا ایک اورنمایاں وصف زبان اور وقت دونوں کی پابندی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے اجلاسِ صدسالہ میں کئی سال تک انتظامی معاملات میں مصروف رہے۔ اکثر و بیشتر علاقہ اور اس سے متصل شہروں، ملک کے مختلف صوبوں اور کبھی کبھی ملک سے باہر کے اسفار بھی پیش آئے لیکن دیوبند میں موجود رہتے ہوئے کبھی بھی آپ نے سبق پڑھانے سے عذر نہیں کیا اور ہمیشہ پورے گھنٹے پڑھائے۔ حضرت کے بارے میں طلبہ کو اتنا اعتماد اور یقین تھا کہ اگر کبھی (شاذ و نادر) گھنٹہ بجنے کے بعد پانچ منٹ تک مرحوم درسگاہ میں میںتشریف نہیں لاتے تو یہ یقین کرلیا جاتا کہ یا تو حضرت اچانک کسی سفر میں تشریف لے گئے ہیں یا خدانخواستہ علیل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے سبق پڑھانے سے قاصر ہیں، صرف پانچ منٹ کا انتظار کرنے کے بعد طلباء از خود چھٹی کرلیتے، یہ صرف درس میں ہی نہیں تھا بلکہ وقت کی پابندی آپ کے یومیہ معمولات میں شامل تھی، جس کا مشاہدہ کئی مرتبہ سفر کے دوران بھی ہوا حالاںکہ اس میں حضرت محترم کو اکثر و بیشتر اس لئے دشواری پیش آتی کہ جہاں تشریف لے جاتے وہ وقت کی پابندی کا التزام نہ کرتے۔
کئی سال قبل سہارنپور میں ایک اسکول کا پروگرام تھا، جس میں علی گڑھ سے راقم کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ رات میں دیوبند پہنچا، تو معلوم ہوا کہ حضرت بھی وہاں پر مدعوہیں، میں ملنے کے لئے گیا تو ازراہِ شفقت مجھے بھی حضرت نے ساتھ چلنے کے لئے کہا اور یہ بھی تاکید فرمائی کہ وہاں پروگرام دس بجے ہے ہمیں وقتِ مقررہ پر بہرحال پہنچنا ہے۔ میں نے دبے الفاظ میں عرض کیا کہ حضرت یہ تو ہندوستانی وقت ہے، دس بجے یہاں سے چلیں گے تو بھی کام چلے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ نہیں ہمیں وقت پر پہنچنا ہے۔ چنانچہ ہم اس انداز سے چلے کہ ٹھیک دس بجے اسکول میںپہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ ابھی تو منتظمین کی اکثریت بھی جلسہ گاہ میں نہیں پہنچی، حضرت کو بہت تکلیف ہوئی۔ اس بات پر منتظمین کو فہمائش بھی کی لیکن ہمارا مزاج ہی ایسا بن گیا ہے کہ ہم وقت کی قدر کرنا جانتے ہی نہیں۔
اتفاق سے تین چار سال بعد پھر اسی شہر سہارنپور میں اسی طریقہ کا معاملہ پیش آیا جس میں حضرت کو اور مجھے دونوں کو ہی سفر میںجاناتھا۔ میں دیوبند پہنچا تو پھر حضرت کے اصرار پر آپ کی معیت میں سہارنپور جانے کا حکم بہ تاکید وقت صادر ہوا۔ میں نے گذشتہ تین چار سال قبل وقت کی پابندی کے تعلق سے درج بالا واقعہ کی یاددہانی کرائی لیکن مولاناؒ نے پھر یہی فرمایا کہ ’’وقت وقت ہے۔‘‘ چنانچہ وقت متعینہ پر سہارنپور پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ ابھی تو منتظمین کا اتہ پتہ بھی نہیں ہے۔ کم و بیش ڈیڑھ دو گھنٹہ کا وقت مولانا نے کس کرب و بے چینی کے ساتھ گذارا اس کو تحریر میں لانا مشکل ہے۔
❤1
حقیقت یہ ہے کہ اس مختصر سی تحریر میں استاذ مرحوم کے اوصاف پر تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں ہے۔ بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ ’’استاذِ محترم کی شکل میں ہم جیسوں نے اُس عہد کا مطالعہ کیا ہے جو ہمارے اسلاف و اکابرین کا خاصہ تھا۔ ایک دن قبل ہی راقم نے مولانا مرحوم کی زیارت کی تھی، سانس کی نزاکت کو بھی محسوس کیا تھا اور یہ پتہ چل چکا تھا کہ مولانا موصوف عمر کے جس حصے اور صحت کے جس مرحلے میں داخل ہیں وہاں سے واپس آنا بظاہر ممکنات میں سے نہیں، بظاہر اس وقت امیدیں دم توڑتی نظر آرہی تھیں لیکن موصوف کے سینے سے نیچے نہ اترنے والی سانس کے پورے بدن میں پھیل کر ایک چست و درست اور تندرست و توانا جسم میں تبدیل ہونے کی آس باقی تھی اور لبوں پر یہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ موصوف کی عمر میں برکت اور صحت و سلامتی و تندرستی عطا فرمائے۔ اس دعاء کے ساتھ کہ ’’اَللّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلاَم وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَان‘‘
جس وقت یہ تحریر ترتیب دی جارہی تھی وہ اس دنیائے فانی میں مولانا کی زندگی کا آخری دن تھا اور یہ خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ موصوف کو عمر طویل عطا فرمائے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ہی فون پر دیوبند سے آنے والی اطلاع نے ’’کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذِی الْجَلاَلِ وَالْاِکْرَام‘‘ کی حقیقت کو بتادیا۔
❤1
*مولانا عامر عثمانیؒ*
*ڈاکٹر عبید اقبال عاصم، علی گڑھ*
اللہ تعالیٰ نے سرزمین دیوبند کو ہر دور میں ایسے شہہ پارے دئیے ہیں جنہوں نے علم و ادب،عمل و فضل، شعرو شاعری، سیاست و تہذیب ہر جگہ اپنے روشن نقوش ثبت کئے ہیں۔ الحمد للہ یہ سلسلہ جاری ہے، اللہ کرے قیامت تک جاری رہے اور اس میں اضافہ ہوتا رہے۔
بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اختتامیہ پر دیوبند کی قدآور علمی، سیاسی شخصیت شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے جس دن (۲۹؍نومبر ۱۹۲۰ء) دنیا سے رختِ سفر باندھا تو اللہ تعالیٰ نے اسی دن ’’امین الرحمن‘‘ کی شکل میں ایک نومولود دنیا میں بھیج کر اس کمی کو کافی حدتک پورا کردیا، جو بعد میں عامر عثمانی کے نام سے مشہور ہوئے۔
دارالعلوم دیوبند کے بانیوں میں ایک مولانا فضل الرحمن عثمانی کا نام نہایت عقیدت و احترام سے لیا جاتا ہے، وہ بذاتِ خود بھی اپنے عہد کے بلند پایہ عالمِ دین، عربی، فارسی و اردو کے قادر الکلام شاعر، علم و ادب کے شیدائی، متقی، خداترس، نیک صفت انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی ’’سحرگاہی آہوں‘‘ کو شرفِ قبولیت سے نوازا اور اُن کی اولاد میں بیش قیمت نگینے عطا کئے۔ دارالعلوم دیوبند کے اولین مفتی اعظم مفتی عزیز الرحمن عثمانی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم خامس مولانا حبیب الرحمن عثمانی، جمعیۃ علمائے اسلام کے صدر، شارح مسلم، ترجمہ شیخ الہند کے حاشیہ نگار علامہ شبیر احمد عثمانی، روحانی عملیات کے ماہر مولانا مطلوب الرحمن عثمانی، بزرگ عالم دین مولانا فیض الرحمن عثمانی رحمہم اللہ اجمعین وغیرہ ان کے سبھی فرزند اپنے عہد میں ہی نہیں بلکہ اب تک کسی نہ کسی حوالے سے برصغیر کی اسلامی، ادبی، مذہبی دنیا میں معروف ترین شخصیات میںشمار ہوتے ہیں، ابھی بھی اس ’’شجرِ پُربہار‘‘ کے ثمرات سے دنیا استفادہ کر رہی ہے۔
مولانا مطلوب الرحمن عثمانی کو اللہ تعالیٰ نے باصلاحیت اولاد سے نوازا، مولانا مطلوب الرحمن کے چھ بیٹوں مولانا عامر عثمانی، زبیر افضل عثمانی، عمر فاروق عثمانی، علی اکبر عثمانی، یوسف عثمانی اور چار بیٹیوں نائلہ عثمانی، اسماء عثمانی، عائشہ عثمانی اور خدیجہ نوید عثمانی کے والد ہونے کے باعث ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘ کی صفت سے متصف تھے۔تقریباً سبھی بہن بھائی مختلف النوع صلاحیتوں کے مالک تھے جن میں شعر و ادب سے لے کر شوقین مزاج کھیلوں تک سبھی چیزیں شامل تھیں، ان میں دو بھائیوں زبیرافضل عثمانی و عامر عثمانی ہمہ جہتی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ اول الذکر تقسیم ملک کے وقت ہندوستان سے ہجرت کرگئے۔ عامر عثمانی نے اپنا میدانِ عمل دیوبند کو ایک امتیازی شان کے ساتھ بنایا۔
۱۹۲۰ء میں جب کہ مولانا مطلوب الرحمن صاحب ضلع ہردوئی میں سرکاری ملازمت سے وابستہ تھے ان کے گھر میں امین الرحمن کا جنم ہوا، ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘ کے محاورے پر صادق آتے ہوئے ان کی فطری صلاحیتوں اور خداداد ذہانت سے یہ ظاہر ہونے لگا تھا کہ یہ بچہ اپنے خاندان کا نام روشن کرے گا۔
محض اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے امتیازی نمبروں کے ساتھ سند فضیلت حاصل کرکے دیوبند کی سماجی تحریکات میں حصہ لینا شروع کیا۔ شعر و ادب کا میدان ہو یا محفلِ علم و قلم، قصبے کے سیاسی و سماجی جلوس ہوں یا محلہ کی سطح کے خانگی کھیل کود کے ذوق کی آبیاری وہ ہر جگہ صفِ اوّل میں نظر آتے تھے۔
دارالعلوم دیوبند سے فضیلت کے بعد وہ معاش کے لئے مختلف میدانوںمیں ہاتھ پائوں مارتے رہے،زندگی کے سرد و گرم کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا، پرچون کی دوکان سے لے کر ’’پتنگ فروشی‘‘ تک ہر میدان میں قسمت آزمائی گئی، کامیابی نہیں ملی اور ملتی بھی کیوں جب کہ خلاّق عالم نے کاتبِ تقدیر کو اُن کی علمی و قلمی مخفی صلاحیتوں کو آشکار کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ بات شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ مولانا مرحوم نے ’’تجلّی‘‘ سے پہلے دارالعلوم دیوبندکے ترجمان ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ کی ادارت سے وابستہ ہونے کی کوشش کی تھی، جس میں انہیں کامیابی نہیں مل سکی، بالآخر انہوںنے اپنی قلمی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے ایک ماہنامہ ’’تجلّی‘‘ نکالنے کا فیصلہ کیا، جسے اللہ تعالیٰ نے بے انتہا قبولیت سے نوازا، اس کے ذریعہ ان کے افکار سے بھی قارئین کو شناسائی ہوئی،ان کی قرآن فہمی، حدیث پر گہری نظر کا بھی اندازہ ہوا، سیاست و سماج کے بنتے بگڑتے ماحول پر اُن کی سخت گرفت کا بھی پتہ چلا۔ شعر و ادب کے میدان میں ان کی فکری وسعتیںبھی سامنے آئیں۔ طنز و مزاح میں ان کا ظریفانہ انداز اور اس کے ذریعہ مذہب کے عنوان سے سماج کو گرفت میںلینے والے کرتب باز مُلاّئوں کی عقدہ کشائی ایسی چیزیں تھیں جنہوں نے اس مذہبی رسالے کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیااسی کی وساطت سے انہوں نے ’’مکتبہ تجلّی‘‘ شروع کیا جو مولانا مرحوم کے دیانت دارانہ، صاف ستھرے تجارتی اصولوں کو اپنانے کی وجہ سے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملکی سطح پر بہت زیادہ مقبول ہوا۔ رسالے اور مکتبہ نے ان کے لئے اکلِ حلال کے دروازے پوری طرح کھول دئیے۔ماہنامہ ’’تجلّی‘‘ کے منفرد انداز کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ مکتبہ ’’تجلّی‘‘ بھی ملک و بیرونِ ملک کے معیاری مذہبی کتب خانوں میں شمار ہونے لگا۔دیوبند کی مذہبی شناخت کو انہوں نے ایک نئے انداز سے پیش کیا۔ مذہبی عقیدت مندی جسے موجودہ دور میں ’’اندھ بھکتی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اس سے الگ ہٹ کر مرحوم نے بلا ’’خوف لومۃ لائم‘‘ جسے حق سمجھا اس کا برملا اعتراف کیا اور جسے غلط جانا اسے کسی کی بھی پرواہ کئے بنا نہایت جرأت و ہمت کے ساتھ غلط کہا، اس کی وجہ سے ان پر بہت سے الزامات بھی عائد ہوئے۔دیوبند کے ایک مذہبی طبقہ نے ان کی تحریروں کا بائیکاٹ کیا۔ عالمی شہرت یافتہ ادارے پر مسلّط ایک گروہ نے اُن کا معاشی و سماجی بائیکاٹ کیا لیکن مخالفین نہ تو اُن کی علمی، فکری، مدلل تحریروں کی کاٹ کر سکے اور نہ ہی عامر صاحب مرحوم کو اپنے نظریات سے ہٹا سکے۔
عامر عثمانی مرحوم نے ماہنامہ ’’تجلّی‘‘ کے ذریعہ جہاں اُس کی علمی حیثیت کو مستحکم و مضبوط کیا وہیں سماج میں پنپ رہے بدعقیدہ لوگوں کی برائیوں کو بھی منکشف کیا، جس کی وجہ سے اُن کا رسالہ نہ صرف یہ کہ اُن سے فکری عقیدت رکھنے والوں میں مقبول ہوا بلکہ وہ ان کے مخالفین میں بھی شہرت حاصل کئے رہا’’تجلّی‘‘ ہمہ جہت رسالہ تھا، جس کے ’’دستک‘‘، ’’آغازِ سخن‘‘، ’’تجلّی کی ڈاک‘‘، ’’تفہیم قرآن‘‘، ’’تفہیم حدیث‘‘، ’’کھرے کھوٹے‘‘ اور مشہور زمانہ طنز و مزاح سے بھرپور ’’مسجد سے میخانے تک‘‘ وغیرہ وغیرہ اس رسالے کے مستقل عنوانات تھے۔علاوہ ازیں غزلیں، قطعات اور رباعیات بھی قارئین کے شعری ذوق کو تسکین پہنچانے کے لئے موجود ہوتیں، جس سے قارئین محظوظ ہوتے۔حفیظ جالندھری مرحوم کی طرز پر مرحوم نے اسلامی تاریخ و سیرت کے واقعات کو منظوم ’’شاہنامہ اسلام‘‘ کی شکل میں رسالے کی معرفت قارئین تک پہنچا کر اپنی تاریخی معلومات و دینی و فکر کی داد وصول کی۔ رسالے کا بیشتر مواد بلکہ تقریباً تمام ہی مرحوم کا طبع زاد ہوتا،دوسرے مضمون نگاروں کا وہی مضمون شامل ہوتا جو تجلّی کے معیار کے مطابق ہوتا۔ یہی حال تجلی میںشائع ہونے والی منظوم اصنافِ سخن کا بھی تھا، البتہ اُن کے چچازاد بھائی مولانا شمس نوید عثمانی مرحوم کا مستقل عنوان ’’کیا ہم مسلمان ہیں‘‘ اکثر و بیشتر شامل رسالہ ہوتا۔رسالے کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ رسالہ پریس سے آتے ہی مارکیٹ سے غائب ہوجاتا، ماہنامہ تجلی کی اُس وقت کی اشاعت ہزاروں میں تھی، اس کے بیش بہا علمی نمبرات مثلاً پرسنل لاء نمبر، نکاح نمبر، طلاق نمبر وغیرہ وغیرہ تو دسیوں ہزار شائع ہوئے اور کہاں چلے گئے پتہ ہی نہیں چل سکا۔ بعض بعض نمبر کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہوتے اور وہ ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے۔
مرحوم کی تحریروں کی دھمک سرکاری دفاتر میں بھی محسوس کی جاتی تھی، جس کی وجہ سے وہ متعدد مرتبہ گرفت میںآئے لیکن اپنے قلم سے سمجھوتہ نہیں کرسکے، وہ اپنی ہی زبان میں ؎
وفا کے ایوانِ مرمریں پر، جلی قلم سے لکھا ہوا ہے
یہاںوہی سرفراز ہوگا جو سر کی بازی بھی ہار آئے
پر عمل پیرا رہے اور انہوں نے نہ تو دار و رسن کی کوئی پرواہ کی اور نہ ہی قید و بند کو خاطر میں لائے۔ عامر عثمانی مرحوم اپنی جس فکر کی تبلیغ کو اپنا مشن بنائے ہوئے تھے اس سے طاغوتی قوتوںکو تو فکر لاحق تھی ہی افسوس یہ کہ دیوبند کے کچھ مذہبی طبقے بھی انہیں اپنا فکری دشمن تصور کئے ہوئے تھے۔ دراصل اس طبقہ نے جن معروضات پر اپنے نظریات کی بنیاد رکھی تھی وہ عامر عثمانی مرحوم کی نظر میں سراسر باطل، سیاسی نظام پر مشتمل تھے۔ اسی فکری کشمکش نے عامر صاحب مرحوم کو بہت سی مشکلات میں مبتلا کیا لیکن انہوں نے حق کی اطاعت اور باطل کے خلاف اعلانِ جنگ کے وطیرہ کو نہیں چھوڑا۔
نومبر ۱۹۴۹ء میں جاری ہونے والا ماہنامہ ’’تجلّی‘‘ مولانا عامر عثمانی کی حیات تک پابندی سے جاری رہا، حقیقت یہ ہے کہ اردو ادب اسلامی کی تاریخ نہ تو ’’تجلّی‘‘ کے تذکرے کے بغیر مکمل ہوسکتی اور نہ ہی مولانا عامر عثمانی کے ذکر کے بغیر اس باب کو بند کیا جاسکتا ہے۔
ابھی وہ عمر کی پچپن بہاریں بھی نہ دیکھ پائے تھے، اس وقت تجلّی کی اشاعت کے پچیس سال ہی پورے ہو پائے تھے کہ مولانا عامر عثمانیؒ کا وقت موعود آن پہنچا اور وہ اپنی بیماری کی پرواہ کئے بنا ’’ قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا‘‘ پرعمل کرتے ہوئے اہل خانہ اور تمام اعزاء کے مشوروں کو درگزر کرکے پونا کے ایک مشاعرہ میںصرف اس وجہ سے شریک ہوئے کہ ان کے سامنے قولِ باری تعالیٰ ’’یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالاَ تَفْعَلُوْنَ‘‘ کی صداقت تھی، چوںکہ وہ پونا والوں سے مشاعرہ میں شرکت کا وعدہ کرچکے تھے، اپنے وعدے کی پاسداری کے لئے وہ اس مشاعرہ میں شریک ہوئے اور اسٹیج پر اپنی مشہور غزل ؎
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں ٭ کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوںمیں
پڑھتے ہوئے ۱۲؍اپریل ۱۹۷۵ء کی شب مشاعرے کے اسٹیج پر ہی جان کا نذرانہ جان آفرینی کے سامنے پیش کرکے دنیا ئے فانی سے رخصت ہوگئے لیکن اپنے انمٹ نقوش رہتی دنیا تک چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت کاملہ فرمائے اور انہیںجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
عامر عثمانی بظاہر ایک فرد کا نام تھا لیکن فی الحقیقت وہ ایک چلتی پھرتی انجمن کے مانند تھے۔ ایک تحریک تھی جو اُن کی فکر و تحریر میںسمائی ہوئی تھی، اللہ نے انہیں مؤمنانہ فراست ودیعت کی تھی، جس کا اظہار انہوںنے نثر و نظم دونوں ہی انداز پر کیا۔ جہاں اُن کی تحریریں مذہبی تبلیغ کا محرک سمجھی جاتی تھیں وہیں اُن کی شاعری داعیانہ فکر کی علمبردار، اللہ تعالیٰ نے اُن سے اس کم عمری میں بہت سے کام لئے۔ اردو ادب اسلامی میں ان کا نام قابلِ فخر افراد میں لیا جاتا ہے۔
مرحوم نے جہاں اپنی نثر میں انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے کبھی جابر و ظالم حکمراں کے سامنے جھکنا گوارا نہیں کیا اور ہمیشہ حق و صداقت کو اپنا شعار بنایا ایسے ہی شاعری میں بھی انہوں نے برملا سچی بات کہنا اپنا وطیرہ بنایا، خواہ اس کی زد حکومت کے ایوانوں پر پڑے یا ’’تہذیب‘‘ کے نام پر رائج ’’بدتہذیبی‘‘ کے مکروہ چہرے پر بلکہ ان کے پُرتاثیر کلام نے نئی نسل میں اسلامی حمیت و ملّی غیرت کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مرحوم کی بہت سی نظموں نے عالمی شہرت حاصل کی، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نہ سکت ہے ضبطِ غم کی نہ مجال اشکباری
یہ عجیب کیفیت ہے، نہ سکوں نہ بے قراری
اسی غزل کا درج ذیل شعر تحریکی جوانوں کے لئے پیغامِ عمل بن گیا۔
یہ قدم قدم بلائیں یہ سوادِ کوئے جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عشق و وفا کی راہ میں زیر قدم جب کانٹے آئے
کتنے ہی اربابِ عزیمت ساتھ میرا دے کے پچھتائے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس نے بتوںسے حکمِ بغاوت دیانہیں
ہوگا خدا کسی کا وہ میرا خدا نہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
درد بڑھتا رہا جتنے درماں کئے
پیاس بڑھتی رہی جتنے آنسو پئے
اور جب دامنِ ضبط چھٹنے لگا
ہم نے خوابوں کے جھوٹے سہارے لئے
جیسی نظمیں گزشتہ بچاس سالوںسے ایک خاص آہنگ اور جذبے کے ساتھ گنگنا کر نئی نسل کے تحریکی کاموں میں مہمیز کا کام دے رہی ہیں، تو ان کے کہے ہوئے بہت سے قطعات نے موجودہ حالات کے سیاسی منظر نامہ میں ضرب المثل کی شکل اختیار کرلی ہے، مثلاً:
کیوں ہوئے قتل ہم پر یہ الزام ہے، قتل جس نے کیا ہے وہی مدّعی
قاضیٔ وقت نے فیصلہ دے دیا، لاش کو نذرِ زنداں کیا جائے گا
اب عدالت میں یہ بحث چھڑنے کو ہے، یہ جو قاتل کو تھوڑی سی زحمت ہوئی
یہ جو خنجر میں ہلکا سا خم آگیا، اس کا تاوان کس سے لیا جائے گا
❤2
جیسا قطعہ انہوں نے اُس زمانے میں کہا تھا جب اکیسویں صدی کے موجودہ ہندوستانی سیاسی منظر نامے کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا عامر عثمانی علیہ الرحمہ کی فکری شاعری کا کینوس کتنا بلند تھا۔ یا اسی طرح:
یہ پُر فریب ستارے یہ بجلیوں کے چراغ، جوابِ جلوۂ خورشید ہو نہیں سکتے
شبِ فراق کا پہلا سا درد و غم ہے وہی، یہ اور بات ہے اب کھل کے رو نہیںسکتے
موجودہ حالات میں ملّت کی بے بسی کانظارہ پیش کرتا ہے۔ایک اور موقع پر ان کا کہا ہوا قطعہ:
روش روش پہ خار ہیں، بہار ہے دھواں دھواں
وہ ڈالیاں سلگ اٹھیں بنے تھے جن پہ آشیاں
مرے چمن کو ڈس لیا، چمن کے رنگ و بار نے
حقیقتاً حریف ہیں نہ آندھیاںنہ بجلیاں
موجودہ حالات کے منظر نامے میں مرحوم کی سچی پیشین گوئیاں ہیں، جن سے حالات کی سفاکی اور ظالموں کی چیرہ دستیوں کے سلسلے میں شاعر کے احساس کا پتہ چلتا ہے۔ یقینی طور پر یہ سب ایک حسّاس شاعر کے دل مضطرب پر گزری ہوئی کیفیات ہیں جن کا ادراک کرتے ہوئے اپنے احساسات کو شعری جامہ پہنا رہا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ مولانا کی شاعری میں حالات کی تبدیلی کا پختہ یقین بھی اسی عزم و حوصلہ کے ساتھ ملتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ:
بارہا سورج پہ ہوتا ہے گھٹائوں کا ہجوم
اور پھر بھی دن کی تابانی فنا ہوتی نہیں
یوں ہی خورشید محبت کی شعاعِ زر نگار
غم کی تاریکی میں اپنی روشنی کھوتی نہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اسی کے ساتھ ان کی شاعری میں اپنی قوم کے لئے پُرعزم ناصحانہ مشورے بھی جابجاملتے ہیں، مثلاً:
اگر مزار پہ سورج بھی لاکے رکھ دو گے
اجل نصیب نہ پائے گا روشنی کا سراغ
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں کارواں کتنے
جلا سکو تو جلائو صداقتوں کے چراغ
جابرانہ، ظالمانہ و غیرعادلانہ حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے وہ شاعری کے ذریعہ ایسا پیغام دیتے ہیں جس میں حالات کی ستم ظریفی کے بجائے تاریخی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ فرماتے ہیں ؎
ملک میںجب موجزن ہوتا ہے بحرِ انقلاب
بے نوا جیتے ہیں مرجاتے ہیں اہل تاج و تخت
آندھیوں میں جس طرح سبزہ فنا ہوتا نہیں
اور گر جاتے ہیں غش کھا کھا کے قد آور درخت
انہوںنے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی۔ حمد و نعت میں اُن کا اپناالگ ہی انداز ہے۔ اللہ رب العزت کی تعریف کرتے ہوئے بھی انہیں بے بس و بے کس ملت کی ’’متاعِ گم شدہ‘‘ کی بحالی کے لئے ان کی تڑپ کا جہاں یہ انداز ہے کہ ؎
یہ جانتا ہوں کہ کچھ نہیں ہے متاعِ علم و کمال میری
مگر یہ ہے تیری دسترس میں، خذف کو موتی کا رنگ دیدے
عروج آئے وہ پستیوں پر، بلندیاں بھی عرق عرق ہوں
خزاں کی ویران وسعتوں کو، بہار کا جل ترنگ دیدے
یہی شاعرانہ احساس جب بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نذرانۂ نعت پیش کرتا ہے تو اپنی فریاد ایک نئے اندازمیں پیش کرتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ:
تمہاری نعت کے قربان جان و دل لیکن
تمہاری نعت کے قابل کہاں زبان و قلم
قلم کی نوک پہ الفاظ تو بہت ہیں مگر
ثبوتِ صدق معانی کریں کہاں سے بہم
چڑھی ہوئی ہیں زباں پر کثافتوں کہ تہیں
پھر اس زبان سے کیسے تمہاری نعت کہیں
مولانا عامر عثمانی مرحوم کا ایک عظیم شاہکار ’’شاہنامۂ اسلام‘‘ ہے جو ’’تجلّی‘‘ کے ہر شمارے میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم و تاریخ اسلام کے واقعات کی منظوم مسلسل داستان ہے۔ یہ بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع ہوا۔ اس گراں قدر شہ پارے میں آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عقیدت کا نذرانہ جس انداز سے پیش کیا وہ اُن کے اخلاص و عقیدت کے ساتھ اللہ کی وحدانیت کا اعتراف کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ فرماتے ہیں کہ:
یہ جانتا ہوں بشر ہو خدا نہیں ہو تم
بشر ہزار بڑا ہو خدا نہیں ہوتا
مگر خدا جو بقید نظر بھی ہوسکتا
خدا گواہ تمہارے سوا نہیں ہوتا
عامر عثمانی صاحب مرحوم کے اس قطعہ کو اگر شیخ سعدی کے مشہور ومعروف قطعہ
لا یمکن الثاء کما کان حقہٗ ٭ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
کے تناظر میںدیکھا جائے تو دونوں کے خیالات کی یکسانیت ظاہر ہوجاتی ہے۔
دارالعلوم دیوبند سے کسبِ فیض کے باوجود وہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحبؒ (جن کے مذہبی نظریات سے دیوبند کے چند مقتدر پیشوا علماء بے انتہا اختلاف رکھتے تھے) کی فکر سے کافی حد تک اتفاق رکھتے تھے لیکن جہاں کہیں ضرورت محسوس کرتے اس پر نقد و جرح بھی کرتے۔البتہ جس طرح علماء کے ایک طبقہ نے دلائل سے بے پرواہ ہو کر ’’مخالفت برائے مخالفت‘‘ کا رویہ اپنایا اس سے وہ سخت نالاں تھے۔ حق گوئی و انصاف پسندی مولانا عامر عثمانی کی شان تھی۔ کسی کے علمی مرتبہ میں عقیدت کا چشمہ لگا کر ’’حد سے تجاوز کرنا‘‘ یا تعصب کی عینگ لگا کر حقائق سے منحرف ہونا ان کی جرأت و ہمت کو للکارنا تھا۔ اسی باعث ان کو دیوبند میں مولانا مودودی کا ہم نوا تصور کیا جاتا رہا حالاںکہ وہ جماعت اسلامی کے ابتدائی ممبر بھی نہیں تھے۔
ماہنامہ ’’تجلّی‘‘ کے علاوہ نثر و نظم دونوں ہی پیرایوں میں عامر صاحبؒ کی تصانیف منظرِ عام پر آئیں، ان میں کچھ تو وہی ہیںجو انہوں نے بذاتِ خود مستقل علمی مضامین و مقالات کی شکل میں مختلف اوقات میں تحریر کیں اور پھر انہیں یکجا کرکے کتابی شکل دیدی گئی، جن میں ’’تفہیم القرآن پر اعتراضات کی علمی کمزوریاں‘‘، ’’جماعت اسلامی کا جائزہ‘‘،’’تجلیاتِ صحابہؓ‘‘، ’’خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ‘‘، ’’شاہنامہ اسلام‘‘ وغیرہ کے علاوہ ’’تجلّی‘‘ کے خاص نمبرات ’’نکاح نمبر‘‘، ’’طلاق نمبر‘‘، ’’پرسنل لاء نمبر‘‘ وغیرہ بطورِ خاص قابل ذکر ہیں۔
مرحوم کے متعلقین و معتقدین نے مرحوم کی علمی، ادبی تحریروں و شعری سرمائے کو یکجا کرکے کتابی شکل میں شائع کیا، ان میں ’’مسجد سے میخانے تک‘‘، ’’یہ قدم قدم بلائیں‘‘ وغیرہ جیسی کئی تصانیف ہیں، جنہیں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بے نفس بندے کو قیدِ حیات سے اس وقت رہائی عطا فرمائی جب وہ وطن سے سیکڑوں میل دور حالتِ مسافرت میںتھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان کی مٹی ہی انہیں کھینچ کر پونا لے گئی تھی تو بے جا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عامر صاحب مرحوم کی مغفرت کاملہ فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام، ان کی علمی، ادبی، ملّی، اسلامی ہر قسم کی مخلصانہ خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور ان کی خطائوں و لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین
حقیقت یہ ہے کہ دیوبند کا نام ملک و بیرون ملک جن وجوہات سے جانا جاتا ہے ان میں دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ماہنامہ ’’تجلّی‘‘ اور اس کے مدیر مولانا عامر عثمانی بھی بطورِ خاص قابل ذکر ہیں۔
عامر صاحب مرحوم کی زندگی نے وفا نہیں کی اور وہ صرف پچپن سال ہی دنیائے فانی میں رہ سکے لیکن اس کم عمری میں انہوںنے اپنے عالی افکار اور بلند اقدار سے جو شہرت حاصل کی وہ ان سے کہیں زیادہ عمر پانے والے بیشتر افراد کو نہیں مل سکی۔ وہ مصنف، محقق، مفسر، محدث، ادیب، شاعر، انشاء پرداز، مزاح نگار، نقاد، مبصر، مترجم، فاضل سبھی کچھ تھے اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ عام انسانوں کی طرح دیوبند کی سرزمین پر اُس کسر نفسی کے ساتھ جیتے تھے جس طرح جینا چاہئے بلکہ بسا اوقات وہ عوام تو کجا خواص کو بھی یہ خیال نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ عالم دین ہیں۔ بچوں کے ساتھ بچوں کی طرح ہنسنا، کھیلناشام کو بلاناغہ دیوبند کی ایک سوڈے کی دوکان پر ایک ڈیڑھ گھنٹے بیٹھ کر سوڈا پینا، پتنگ بازی، شطرنج کے کھلاڑیوں، کبوتر اڑانے کا شوق رکھنے والے دسیوں کبوتر بازوں سے اس پرندے کی درجنوں اقسام پر بلاتکلف باتیں کرنا، گلّی ڈنڈا کھیلنے والے لڑکوں بلکہ معمر ترین افراد کے ساتھ گلّی ڈنڈا کھیلنا جیسے نہ جانے کتنے مشاغل تھے جن کو انجام دیتے ہوئے وہ سامنے والے کو یہ احساس ہی نہ ہونے دیتے کہ ان کا علم و عمل سے کوئی تعلق بھی ہے۔
۱۲؍اپریل ۱۹۷۵ء کی رات میںزندگی کی ساعتیں پوری کرنے کے بعدمرحوم نے اپنے ورثاء میں شریک حیات کے علاوہ چھ بیٹیاں اور تین بیٹے چھوڑے۔ مولانا مرحوم کی تین شادیاں ہوئیں، پہلی شادی ۱۹۴۱ء میں اس وقت ہوئی جب مولانا کی عمر اکیس سال سے بھی کم تھی، مولانا کی یہ اہلیہ کچھ ہی دنوں رفاقت میں رہیں چند سال بعد ایک مہلک مرض میں مبتلا ہو کر داغِ مفارقت دے گئیں۔ دوسری شادی ۱۹۵۲ء میں مستحسن فاروقی مرحوم کی ہمشیرہ سے ہوئی جن سے نباہ نہ ہونے کی وجہ سے ۱۹۵۵ء میں محترمہ نسیم فاطمہ مرحومہ سے تیسری شادی ہوئی۔ پہلی بیوی سے پیدا ہونے والی حبیبہ کم عمری میں ہی دادی کے ساتھ پاکستان چلی گئی تھیں۔ دوسری بیوی کی بیٹی بشریٰ رانی کا بیشتر وقت اپنی والدہ کے ساتھ ہی گزرا، محترمہ نسیم فاطمہ صاحبہ مرحومہ کے بطن سے سات بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے۔ مرحومہ بذاتِ خود بھی صبر و رضا کا پیکر تھیں۔ شوہر کی وفات کے بعد خانگی مسائل کو انہوں نے جس حسن و خوبی کے ساتھ حل کیا وہ ان کے تدبر و ہوشمندی کی علامت ہے۔ شوہر کی وفات کے بعد جوا ن بیٹے عکرمہ کی اچانک وفات پر انہوں نے جس صبر و سکون کا مظاہرہ کیا وہ ان کی مشیتِ خداوندی کو برضا و رغبت قبول کرنے کے ضمن میں آتا ہے۔
مولانا عامر عثمانی مرحوم کی نرینہ اولاد میں دانش عامری اور ابوسفیان عثمانی الحمد للہ حیات ہیں۔ اوّل الذکر میراث پدری ’’شاعری‘‘ کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں لیکن خرابی صحت کا شکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تندرستی و توانائی عطا فرمائے، آمین۔ ابوسفیان عثمانی صاحب نے اپنے والد مرحوم کے ’’سرمہ دُرِّ نجف‘‘ کو معاش سے وابستہ کیا۔ الحمد للہ اس کو پوری ایمانداری اور پائیداری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔
عامر صاحب مرحوم کی صاحبزادیوں میں سب سے بڑی محترمہ زینب ناہید صاحبہ ہیں جو مولانا کی حیات میں ہی ان کے ماموں زاد بھائی گوناگوں خداداد صلاحیتوں کے مالک، شعری، ادبی، صحافتی و سماجی حلقوں کی مقبول ترین شخصیت، عملیات کی دنیا میں انتہائی اعتبار و عقیدت کے درجہ پر فائز مولانا حسن الہاشمی صاحب (متوفی ۳؍نومبر۲۰۲۰ء) کی اہلیہ ہیں۔ عامر صاحب کی وفات کے بعد ان کی خانگی ذمہ داریوں کو نہایت سلیقے سے حسن صاحب مرحوم نے ہی انجام دیا۔ تجلّی کو سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی،’’اجتماع‘‘ کے ذریعہ قدم جمانے چاہے لیکن حالات نے یاوری نہ کی، مختلف النوع سماجی خدمات انجام دینے کے بعد ماہنامہ ’’طلسماتی دنیا‘‘ نے انہیںبلند مقام عطا کیا۔ تمام ترین سماجی، علمی و عملی مصروفیات کے باوجود وہ خاندانِ عامر کی کفالت سے بھی ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہیں ہوئے۔ ابھی حال ہی میں (۳؍نومبر ۲۰۲۰ء) کو اچانک دنیائے فانی سے رختِ سفر باندھ گئے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
دوسری صاحبزادی رقیہ خاتون کے فرض سے بھی مولانا مرحوم اپنی زندگی میں ہی فارغ ہوگئے تھے۔ ان کی شادی رئیس عثمانی صاحب ابن جناب صغیر احمد عثمانی صاحب مرحوم کے ساتھ ہوئی، جو محلہ ابوالمعالی دیوبند کے ہی رہنے والے تھے اور بسلسلۂ ملازمت درسگاہِ اسلامی رامپور میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کافی عرصہ وہاں سے وابستہ رہنے کے بعد چند سال قبل وطنِ مالوف واپس ہوگئے تھے۔ یہیں آکر دو سال قبل انتقال ہوگیا۔ تیسری بیٹی میمونہ عثمانی دیوبند میں تسلیم عثمانی سے منسوب ہیں۔چوتھی بیٹی فرزانہ بیگم مولانا مرحوم کے چچازاد بھائی معروف ادیب مسعود جاوید عثمانی صاحب مرحوم کے صاحبزادے مراد عثمانی مرحوم کے عقد میں گئیں۔ پانچویں بیٹی ریحانہ خاتون کی شادی خورجہ میں ڈاکٹر سمیع فاروقی صاحب کے ساتھ ہوئی۔ پانچویں بیٹی خولہ عثمانی ریاست رامپور میں ندیم صاحب کے عقد میں ہیں۔
ماشاء اللہ مولانا عامر عثمانی صاحب مرحوم کا خاندان بہر طور پھل پھول رہا ہے، لیکن ان کا کوئی متبادل تاہنوز نہیں بن سکا۔ عامر عثمانی مرحوم کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں:
کارزارِ ہستی میں عزّ و جاہ کی دولت
بھیک میں نہیں ملتی، آدمی کماتا ہے
٭٭٭
❤1
*علامہ اقبال کا ترانہ چین وعرب ہمارا*
علامہ اقبال کا ترانہ "چین و عرب ہمارا" برصغیر میں اردو کے ترانوں میں بہت مشہور ومقبول ترانہ ہے، لیکن ہمارا خیال ہے کہ بیسویں صدی کی پچاس تا ستر کی دہائی میں اس ترانے کا عربی ترجمہ اصل اردو ترانے سے زیادہ متداول تھا، اور یہ اسلامی تحریکات کی آواز بن گیا تھا، اس ترانے کو پہلے محمد حسن الاعظمی نے اردو نثر میں ترجمہ کیاتھا، پھر اسے ریڈیو مصر کے نابینا شاعر محمد صاوی شعلان نے نظم میں ڈھالا تھا، اور اعظمی صاحب نے سنہ ۱۹۴۰ء کی دہائی میں مصر میں قائم اپنی خود ساختہ جماعت جماعة الأخوة الإسلامية کا ، جس کے مرحوم سکریٹری بھی تھے، کلرک بھی تھے، ترانہ بنا دیا تھا، جب یہ نظم اخوان تک پہنچ گئی توپھر نوجونوانوں میں آگ کی طرح پھیل گئی۔
۱۹۷۰ء میں جب ریکارڈنگ کیسٹ عام ہونے لگے تو اس وقت شام کے ایک منشد ابو مازن (رضوان خلیل عنان) نے عربی زبان میں اسلامی نغموں نے تین کیسٹ ریکارڈ کئے، ان میں علامہ اقبال کا یہ ترانہ بھی تھا، جو اسلامی تحریکات کے توسط سے سنہ ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائی میں آگ کی طرح پھیل گیا تھا،ابو مازن مرحوم کی آوازمیں یہ ترانہ علم وکتاب کے احباب مندرجہ ذیل لنک سے سن سکتے ہیں:
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=al-seenu-lana-wal-urb-lana, Al Seenu Lana Wal Urb lana
عربی میں علامہ کے ترانے کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے:
النشيد الإسلامي
الصِّينُ لَنَا وَالْعُرْبُ لَنَا وَالْهِنْدُ لَنَا وَالْكُلُّ لَنَا
أَضْحَى الْإِسْلَامُ لَنَا دِينًا وَجَمِيعُ الْكَوْنِ لَنَا وَطَنَا
تَوْحِيدُ اللَّهِ لَنَا نُورٌ أَعْدَدْنَا الرُّوحَ لَهُ سَكَنَا
الْكَوْنُ يَزُولُ وَلَا تُمْحَى فِي الدَّهْرِ صَحَائِفُ سُؤْدُدِنَا
بُنِيَتْ فِي الْأَرْضِ مَعَابِدُهَا وَالْبَيْتُ الْأَوَّلُ كَعْبَتُنَا
هُوَ أَوَّلُ بَيْتٍ نَحْفَظُهُ بِحَيَاةِ الرُّوحِ وَيَحْفَظُنَا
فِي ظِلِّ السَّيْفِ تَرَبَّيْنَا وَبَنَيْنَا الْعِزَّ لِدَوْلَتِنَا
عَلَمُ الْإِسْلَامِ عَلَى الْأَيَّا مِ شِعَارُ الْمَجْدِ لِمِلَّتِنَا
بِهِلَالِ النَّصْرِ يُضِيءُ لَنَا وَيُمَثِّلُ خَنْجَرُ سَطْوَتِنَا
وَأَذَانُ الْمُسْلِمِ كَانَ لَهُ فِي الْغَرْبِ صَدًى مِنْ هِمَّتِنَا
قُولُوا لِسَمَاءِ الْكَوْنِ لَقَدْ طَاوَلْنَا النَّجْمَ بِرِفْعَتِنَا
يَا دَهْرُ لَقَدْ جَرَّبْتَ عَلَى نِيرَانِ الشِّدَّةِ عَزْمَتَنَا
طُوفَانُ الْبَاطِلِ لَمْ يُغْرِقْ فِي الْخَوْفِ سَفِينَةَ قُوَّتِنَا
يَا ظِلَّ حَدَائِقِ أَنْدَلُسٍ أَنَسِيتَ مَغَانِي عِشْرَتِنَا
وَعَلَى أَغْصَانِكَ أَوْكَارٌ عَمَرَتْ بِطَلائِعِ نَشْأَتِنَا
يَا دَجْلَةُ هَلْ سَجَّلْتِ عَلَى شَطَّيْكِ مَآثِرَ عِزَّتِنَا
أَمْوَاجُكِ تَرْوِي لِلدُّنْيَا وَتُعِيدُ جَوَاهِرَ سِيرَتِنَا
يَا أَرْضَ النُّورِ مِنَ الْحَرَمَيْـ ـنِ وَيَا مِيلادَ شَرِيعَتِنَا
رَوْضُ الْإِسْلامِ وَدَوْحَتُهُ في أَرْضِكِ رَوَّاهَا دَمُنَا
وَمُحَمَّدٌ كَانَ أَمِيرَ الرَّكْـ ـبِ يَقُودُ الْفَوْزَ لِنُصْرَتِنَا
إِنَّ اسْمَ مُحَمَّدٍ الْهَادِي رُوحُ الآمَالِ لِنَهْضَتِنَا
دَوَّتْ أُنْشُودَةُ «إِقْبَالٍ» جَرَسًا يَحْدُو فِيهِ الزَّمَنَا
لِيُعِيدَ قَوَافِلَنَا الأُولَى في الْمَجْدِ وَيَبْعَثَ أُمَّتَنَا

عبد المتین منیری
علم وکتاب
❤4
*وفیات مورخہ: 16/اپریل*
1534ء ابن کمال پاشا (احمد بن سلیمان رومی)۔ ترکی عالم دین
1561ء طاش کبری زادہ (احمد بن مصطفی)۔ ترکی مورخ
1940ء عبد الحمید بن بادیس۔ الجزائری مجاہد آزادی
1946ء مخمور اکبر آبادی (سید محمد محمود رضوی)۔ شاعر
1951ء آرزو لکھنوی (سید انور حسین)۔ شاعر
1960ء راشد برہانپوری (سید محمد مطیع اللہ )۔ ،
1963ء محمد میاں ابن موسیٰ سورتی۔ صاحب خیر تاجر
1967ء شہاب ملیح آبادی (التفات احمد خان)۔ ،
1976ء سید ابو بکر غزنوی۔ مجاہد آزادی، مولانا
1987ء شو ق عظیم آبادی (زین الدین فخری)۔ ،
1987ء قاری فتح محمد پانی پتی۔ مہاجر مدنی
1992ء افضل صدیقی (محمد افضل حسین)۔ ،
1993ء مالک رام۔ ادیب، محقق
2000ء علی محمد رضوی سچے بھائی۔ ،
2001ء محمد ربانی۔ وزیر اعظم افغانستان(طالبان)

Https://telegram.me/ilmokitab
*وفیات مورخہ: 17/اپریل*
1826ء نواب محمد صادق خان دوم ۔ نواب بہاولپور
1880ء احمد علی محدث سہارنپوری۔ محدث، محشی صحیح بخاری
1929ء سید نواب علی چودھری۔ نواب تنگیل مشرقی بنگال
1954ء رضا شاہ وارثی۔
1972ء محمد محمود حجازی۔ مصری مفسر قرآنک
1975ء رادھا کرشنن، ۔ سروپلے، ڈاکٹر، صدر ہند
1976ء محمد حسین زبیری۔ ،
1989ء فاضل زیدی (سید سبطِ حسن)۔ ڈاکٹر ،
1993ء تورگوت اوزال (ترکیہ)۔ وزیر اعظم ترکیہ
1994ء حسن اے شیخ۔ ،
1995ء سید مبارک حسین مسرور۔ ،
1999ء سحبان محمود۔ مولانا ،
2005ء عبدالرحیم تھے پوری۔ مولانا شاہ، خلیفہ حضرت شاہ وصی اللہ فتح پوری
2010ء محمد نقی۔ ،
2010ء ثروت جہاں ثروت۔ شاعرہ
2017ء ارشاد علی ندوی۔ مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل
2017ء قاری عطاء الرحمٰن دھامپوری۔
2023ء سید عبد الرحمن باطن۔ استاد ونائب صدر انجمن حامی مسلمین بھٹکل

Https://telegram.me/ilmokitab
بات سے بات۔۔۔ گڑے مردوں کو اکھاڑنا
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)


کل ہم نے تاریخ وفیات کی مناسبت سے موقر دانشور اور محقق مالک رام کے بارے میں ڈاکٹر گیان چند جین کا ایک مضمون پوسٹ کیا تھا۔ اس انتخاب میں چند عوامل کارفرما تھے۔
۔ ڈاکٹر جین نے اس مضمون میں جس موضوع کو چھیڑا تھا، اس سے متعلق کوئی اور مضمون ہماری نظر سے نہیں گذرا تھا۔
۔ یہ مضمون ڈاکٹر جین کے مجموعے " شخصیات و مشاہدات" سے لیا گیا تھا، فضلی سنز کراچی نے یہ مجموعہ سنہ ۲۰۰۰ء میں شائع کیا تھا، گذشتہ پچیس سالوں میں اس کا کوئی اور ایڈیشن شاید نہیں آیا۔ ہمارے خیال میں یہ ڈاکٹر جین کے نادر ترین مجموعوں میں سے ایک ہے۔ اور اس مجموعے کے کئی مضامین کہیں اور دستیاب نہیں ہیں۔
۔ آج سے کوئی تیس سال قبل دبی میں ہمارے ایک محترم بزرگ سے ملاقات ہوئی تھی، لوگوں نے بتایا تھا کہ آپ کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت حاصل ہے۔ اس وقت اس ناچیز کو مسجد بن دلموک الراس دبی میں آپ کا بیان رکھنے کا موقعہ ملا تھا۔
موصوف نے اس تقریر میں مالک رام کے اپنے دست مبارک پر داخل اسلام ہونے کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا تھا۔ چونکہ مالک رام کوئی غیر معروف شخصیت نہیں تھے، اور دخول اسلام کے واقعہ کی شہادت کسی اور ذریعے سے نہیں ملی تھی تو ہم نے اس واقعہ کی صداقت میں توقف کرنا مناسب سمجھا، اس موقف پر ہم اب بھی قائم ہیں، کیونکہ ہمارے خیال میں ایمان کا معاملہ ان کے اور ان کے رب سے متعلق ہے، ہمیں اس مسئلے میں پڑنے سے کوئی اہم دینی یا دنیوی فائدہ نظر نہیں آتا۔
البتہ ہماری رائے ہے کہ اغیار کے دخول اسلام کے واقعات کو بیان کرنے میں بڑی احتیاط برتنی چاہئے، کیونکہ ایسے مسائل میں ہمارے ہاتھ اور پاؤں ہی ہمارے خلاف گواہ بننے کے امکانات کبھی کبھار بڑھ جاتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک اپنی آنکھوں سے ہم نے دیکھ لی ہے۔
اس زمانے میں ہم نے چند مبلغین کی زبانی ہریانہ میوات اور دوسری جگہوں پر فوج در فوج دخول اسلام کے جو واقعات سنے، اور پھر وہاں کے مقامی افراد سے ان کی تصدیق کرنے کی کوشش کی تو بڑی مایوسی ہوئی تھی ۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان حضرات سے کچھ بھی کوششیں نہیں ہوئں، البتہ واقعات کے بیان میں مبالغہ آرائی ضرور ہوئی ہے، جس کا نقصان کسی ایک ذات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کی زد میں پوری امت مسلمہ آگئی ہے۔ کیونکہ اب معاملہ ایک فرد یا ذات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس سے پوری امت مسلمہ کو زخم لگ گئے ہیں ، اور کئی سارے مخلصین پر کام کرنے کی راہیں بند ہوگئی ہیں۔ اللہ محفوظ رکھے ایسا لگتا ہے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ٹیسیں مزید زیادہ محسوس ہونے لگیں گیں۔
یہ واقعات ہمیں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ہماری بزم کے محترم ڈاکٹر عبید عاصم اقبال صاحب کا ڈاکٹر گیان چند کے مضمون پر خوبصورت تبصرہ آیا ہے، البتہ آپ نے اپنے تبصرہ کا اختتام اس عبارت پر کیا ہے کہ" ان گڑے مردوں کو اکھاڑنے سے اب کوئ فائدہ نہیں"۔
ہماری رائے میں اس قسم کی سبھی باتین گڑے مردے اکھاڑنے میں شمار نہیں ہوتی ہیں، جب کوئی شخص عوام کو متاثر کرنے لگتا ہے، اور اس کا تعلق جماعتی زندگی اور اجتماعیت سے ہوجاتا ہے، تو اس کی زندگی کے جو واقعات عامۃ الناس یا ایک گروہ کو متاثر کرتے ہیں، تو یہ اس کی ذات تک محدود نہیں ہوتے۔ ان کے تذکرہ پر حرام غیبت اور اذکروا محاسن موتاکم کا اطلاق نہیں ہوتا۔
اگر ایسا ہوتا تو امت اسلامیہ کا قابل افتخار اور امتیازی فن جرح و تعدیل وجود ہی میں نہیں آتا،
در اصل امت کے عروج وزوال کے اسباب جاننے کے لئے جن علوم سے واقفیت ضروری ہے، ان میں علم تاریخ سر فہرست ہے۔ اور تاریخ جب منقبت کا پلندہ بن جائے، اور تاریخ پر اثر انداز ہونے والی شخصیات کے صرف ایک ہی مثبت رخ کو بیان کیا جائے، اور منفی پہلؤوں سے مکمل آنکھیں موند لی جائیں، تو پھرجن راہوں سے امت میں زوال آیا ہے، اور امت بیمار ہوگئی ہے، ایسی تاریخ امت کی بیماریوں کی تشخیص میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتی۔
2026-04-16
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ آپ نے اپنے تبصرے پر گراں قدر تحریر سے نوازا اس کے لئے شکر گزار ہوں ۔
"گڑے مردے اکھاڑنے" سے مطلب یہ تھاکہ جب "داعی ومبلغ اسلام" اور ان کے "حواریین" نے حضرت کی فتوحات میں مالک رام اور ملک کی ایک اور " بہت بڑی شخصیت" کے دنیا سے کنارہ کشی کرنے کے بعد "داعی اسلام"کے ہاتھوں پر بڑی تعداد میں اسلام قبول کرنے والوں کے ایسے واقعات کو"فتح عظیم" کا تذکرہ بڑی شان کے ساتھ عوامی مجلسوں میں کرنے کا اہتمام کیاتھا 'اس وقت ہم نے اپنے رابطہ میں آنے والے ایسے "اندھ بھکتوں "کو یہ مشورہ دیا تھا کہ "اول تو یہ بات ہی درست نہیں معلوم ہوتی' اگر ھے بھی تو مصلحتاً خاموشی اختیار کرنے اور خاموشی کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے" کیونکہ ١٩٨١میں میناکشی پورم میں کچھ ہریجنوں کے مذہب اسلام قبول کرنے' اسکی تشہیر میں اردو اخبارات کے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے نتائج ہمارے سامنے تھے'حقیقت یہ ہے کہ "ہندو احیاء پرستی" کی "نشأۃ ثانیہ" میں اس تشہیر نے اہم کردار ادا کیا ۔
اسی کے پیش نظر "داعی دین" کی کوششوں کو قابل قدر ماننے کے باوجود ہم اسی موقف پر قائم رہے کہ اس کا ڈھنڈورا پیٹنے سے کوئ فائدہ نہیں 'اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کےمقدر میں ہدایت لکھ دی ھے تو ان شاء اللہ وہ خود بھی اجر عظیم کا مستحق ہوگا اور "الدال علی الخیر کفاعلہ" کے بمصداق داعی کو بھی اس کا حصہ ملے گا یہ اخروی معاملات ہیں جنہیں وہیں کے لئے چھوڑ دینا چاہیے ۔
غالباً ان دنوں روزنامہ قومی آواز یا کسی رسالے میں اسی بحث کے ضمن میں راقم کا ایک مضمون بھی شائع ہوا تھا ۔
ملت کا مسئلہ بلکہ المیہ یہ ہے کہ کرنے کے کام تو ہم کرتے نہیں جس کا سب سے بہترین مظہر اخلاقیات اور معاملات ہیں اس میں تو ہم ہی نہیں ہمارے خواص کی اکثریت بھی ناکام ہیں ہم کام "براۓ نام" کرتے ہیں اور "حصول معاوضہ" کے لئے ایسے واقعات کو "مثالی" بنالیتے ہیں "پیراں نمی پرند مریداں می پرانند" کی فوج کے حصار میں محصور رہ کر مریدوں کو ایسے واقعات خوب بڑھا چڑھا کر پیش کر نے کے لئے"آلہ" بنالیتے ہیں' اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ "دشمنان اسلام" ا یسے واقعات کی آڑ لے کر مذہب اسلام کے خلاف محاذ آرا ہوکر ہمیں ہر محاذ پر شکست دے دیتے ہیں' اس لئے بہترائ اسی میں ہے کہ ہم اپنے اخلاق وعادات اور معاملات سے ہر کسی کو بطور خاص اپنے رابطے میں آنے والے "برادران وطن" کو متاثر کریں' اور ایسا ماحول بنانے کی کوشش کریں جس کو دیکھ کروہ از خود اپنی ہدایت کے طلب گار ہوں ۔ عبید اقبال عاصم علی گڑھ
❤1
*غلطی ہائے مضامین۔ جہنم کے کُندے۔۔۔. احمد حاطب صدیقی *

اسلام آباد کے ڈاکٹر مظہر عباس رضوی نہ صرف ماہرِ امراضِ اطفال ہیں، بلکہ ماہرِ امراضِ اضمحلال بھی ہیں۔ ہائیں؟ یہ ’اضمحلال‘ کون سا نیا اُردو مرض دریافت ہوگیا ہے؟ ارے صاحب یہ مرض تو آج کی ترقی یافتہ دنیا کے انسانوں کا عام مرض ہے۔ اضمحلال کا مطلب ہے سُستی، پَژ مردگی، تھکن، کاہلی، اُداسی، کمزوری اور ناطاقتی وغیرہ۔ چچا غالبؔ کی ناطاقتی، کمزوری اور بڑھاپے کے وقت کا مشہور شعر ہے:

مضمحل ہو گئے قویٰ غالبؔ
وہ عناصر میں اعتدال کہاں

اوپر مرضِ اضمحلال کی جتنی کیفیات بیان کی گئی ہیں ڈاکٹر مظہر عباس رضوی اُن کے علاج کے لیے پُرمزاح شاعری کرتے ہیں۔ اب سے دو برس پہلے ’’دخل در ماکولات‘‘ کے عنوان سے اُن کا ایک مجموعۂ کلام منظرعام پر آیا تھا، جو شگفتہ دسترخوانی شاعری پر مشتمل ہے۔ اس دسترخوان سے ایک کبابی شعر چکھ لیجے، جس کے دونوں مصرعوں میں کھانے کھلانے کا ذکر ہے، پھر آگے بڑھیے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے مریضانِ مضمحل کے لیے یومِ عید کا نسخہ تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں:ـ

نہ کھائیں اتنے بھی اب پیچ و تاب عید کے دن
کھلا دے زوجہ نہ چپلی کباب عید کے دن

آج سے چند روز قبل اِنھیں ڈاکٹر صاحب کا ایک مختصر پیغام اور ایک مختصر سوال موصول ہوا۔ اپنے پیغام میں اُنھوں نے کالم نگار کی توصیف (اپنی طبی زبان میں) کرتے ہوئے کہا:

’’آپ کے کیے گئے الفاظ کے پوسٹ مارٹم ہم بہت شوق سے پڑھتے ہیں‘‘۔

پھرایک غیر طبی سوال (گویاادبی زبان میں) کرتے ہوئے پوچھا:

’’ایک محاورہ ہے ’جہنم کے کندے‘۔ اس میں ’کندے‘ کا کیا مطلب ہے؟‘‘

سوال غیر طبی سہی، مگر ظاہر ہے کہ ایک ڈاکٹر کے لیے اس سوال کا جواب جاننا ضروری ہے،کیوں کہ آج کل جنت میں جانے والے ہوں یا جہنم میں جانے کے کوشاں، دونوں قسم کے مریضوں کو عبدالحمید عدمؔ کی روح سے معذرت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے وہاں جانا پڑتا ہے:

’’اُن کے مطب‘‘ کی راہ سے ہو کر نکل گیا
ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

صاحب! یہ اُردو زبان کا حسن ہے کہ اُس نے ہر زبان سے الفاظ لیے اور اُن کو اپنی زبان کے مزاج میں ڈھال کر استعمال کیا۔ مثلاً عربی لفظ ’صاحب‘ سے حرفِ ندا بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو ’صاحبو!‘ بنا لیا۔ فارسی مصدر ’تراشیدن‘ پسند آیا تو اس سے اُردو مصدر ’تراشنا‘ تراش لیا گیا۔ انگریزی لفظ ‘Boredom’ (بمعنی اُکتانا، بیزار ہونا یا دل اُچاٹ ہوجانا) قبول کیا تو ’بورڈَم‘ کا ’ڈَم‘ نکال کر اس کو ’بوریت‘ بنا لیا۔ بعینہٖ ’کُندہ‘ بھی فارسی لفظ ہے۔ مگر اُردو قاعدے کے موافق اس لفظ کی جمع ’کُندے‘ بنالی گئی ہے۔ ’کُندہ‘ کے معنی ہیں:کاٹھ۔ لکڑی کا لٹّھا۔ درخت کا تنا یا موٹی لکڑی کا سالم ٹکڑا۔ علاوہ ازیں لکڑی کا وہ موٹا ٹکڑا جس پر قصاب گوشت رکھ کر قیمہ بناتے ہیں، اُردو میں وہ بھی ’کُندہ‘ کہلاتا ہے۔ بندوق کا دستہ بھی کُندہ ہے اور وہ لکڑی بھی کُندہ کہی جاتی ہے جس میں سوراخ کرکے مجرموں کا پاؤں پھنسا دیتے ہیں۔ اس طرح ’کُندے‘ کے معنی ہوئے موٹی لکڑی کے ٹکڑے۔ ’جہنم کے کُندے‘ سے مراد ہے جہنم کا ایندھن، یعنی وہ لکڑیاں جو جہنم میں جلائی جائیں گی۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر24کی رُو سے انسان اور پتھر( کے بُت) ’جہنم کے کُندے‘ ہوں گے۔ مجازاً سیاہ کار اور بدکار انسانوں کے لیے غصے میں ’جہنم کے کُندے‘ کی ترکیب استعمال کی جاتی ہے۔ ایک محاورہ ’جہنم کے کُندے پڑنا‘ بھی ہے، جس کا مفہوم ہے جہنم کی مار پڑنا یا جہنم کی سزا ملنا۔ سخت اذیت میں مبتلا ہونے کے موقعے پر یہ محاورہ بولا جاتا ہے۔ ایک اور ترکیب ’کُندۂ ناتراش‘ ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے وہ لکڑی جو چھیلی یا تراشی نہ گئی ہو، جو بے ڈول اور اَن گھڑ ہو۔ مگر کُندۂ ناتراش کہہ کر وہ لوگ مراد لیے جاتے ہیں جن کی تربیت نہ ہوئی ہو، جو بدتہذیب اور بے تمیز ہوں، بے وقوف اور احمق ہوں، بے سلیقہ اور جاہل ہوں۔ ایسے لوگوں کی تو کُندی کرنے کو جی چاہتا ہے۔

لکڑی کی وہ موگری جس سے دھوبی یا دھوبن کپڑوں کو کوٹتی ہے ’کُندی‘ کہلاتی ہے۔ کپڑوں کے بجائے اگر اس سے انسانوں کو کُوٹا جائے تب بھی کُندی ہی کہلائے گی۔ مگر اس عمل کو اُردو محاورے کے مطابق ’کُندی کرنا‘ کہتے ہیں۔ مطلب مارنا پیٹنا اور زد و کوب کرنا۔

اُردو میں صرف’کُند‘ کا لفظ بھی بہت استعمال ہوتا ہے۔ کُند ضد ہے تُند کی۔ تیز بولنے والا ’تُند زبان‘ ہوتا ہے تو رُک رُک کر بولنے والا ’کُند زبان‘۔ جو شخص تیز دماغ نہ ہو، غبی یا ٹُھس ہو وہ ’کُند ذہن‘ ہوتا ہے۔ سست اور کاہل کو بھی کُند کہتے ہیں۔ جس چاقو یا چُھری کی دھار تیز نہ ہو اُسے کُند چاقو اور کُند چُھری کہتے ہیں۔ ’کُند چُھری سے ذبح کرنا‘ بھی محاورہ ہے، جو اذیت کے ساتھ مارنے یا بے رحمی سے ذبح کرنے کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ مراد ہے شدید ایذا دینا۔ داغؔ اپنے نئے نویلے کم سن محبوب کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں:

کچھ کچھ نگاہِ شرم میں تیزی بھی چاہیے
دل ہو گا ایسی کُند چُھری سے حلال کیا؟