علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمان حلال جانوروں کو مزید حلال کرنے کے لیے انھیں اللہ کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں۔ اسلامی طریقے سے ذبیحہ کرنے کے اِس عمل کو بھی اُردو میں ’حلال کرنا‘ کہا جاتا ہے۔اکثر وکیل صاحبان اپنے مؤکلوں کو ’’حلال کرکے کھاتے‘‘ ہیں۔

پرندوں کے بازوؤں کو بھی ’کُندا‘ کہا جاتا ہے۔ پرندے اُڑنے سے پہلے اپنے پروں کو سمیٹ کر دونوں بازوؤں کو اُڑنے کی غرض سے جنبش دیتے ہیں۔ اس عمل کو ’پَر تولنا‘ کہا جاتا ہے۔ پر تولنے کے لیے ’کُندا تولنا‘ کی ترکیب بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔مثلاً اگرکوئی لکھنؤ جانے کا قصد کرتا تو کہا جاتا کہ ’’وہ لکھنؤ جانے کے لیے کُندے تول رہے ہیں‘‘۔ وغیرہ وغیرہ

خالص سونے کے لیے اُردو میں لفظ ’کُندن‘ مستعمل ہے، مگر یہ فارسی لفظ کُندہ سے مشتق نہیں ہے، ہندی لفظ ہے۔ مسدسِ حالیؔ میں مولانا الطاف حسین حالیؔ کی جو مشہور نعت ہے’’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا‘‘ اسی نعت میں مولانا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی ہستی وہ ہستی ہے جس نے ناکارہ ، اَن گھڑ اور اُجڈ لوگوں کو تربیت دے کر خالص سونے جیسے قیمتی افراد میں تبدیل کر دیا:

مَسِ خام کو جس نے کُندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

’مسِ خام‘ کچ دھات کو کہتے ہیں۔کان سے نکلنے والی وہ دھات جس میں طرح طرح کی چیزوں کی آمیزش اور ملاوٹ ہوتی ہے۔ ’کُندن بنانا‘ اُردو کا عام محاورہ ہے۔ اس سے مراد ہے بے میل کُچیل، بالکل خالص ہوجانا۔کہا جاتا ہے کہ انسان مشکلات اور مصائب کی بھٹی سے گزر کر کُندن بن جاتا ہے۔ ناخالص سونے کو بھٹی میں تپاکر اس سے میل کُچیل الگ کیا جاتا ہے تو خالص سونا ہاتھ آتا ہے۔

یہاں ایک وضاحت ضرروی ہے۔ ’ک‘ پر زبر کے ساتھ جو ’کَندہ‘ ہے وہ پتھر یا دھات پر نقش و نگار کا ہونا ہے۔ ’کَندہ کرنا‘ نقاشی کا عمل ہے۔ ’کَندہ کار‘ نقش کھودنے یا نقاشی کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ ’کَندہ کاری‘ نقاشی کرنے یا پتھر اور دھات پر نقوش کھودنے کو کہتے ہیں۔ کُندہ اور کَندہ میں تلفظ کا جو فرق ہے، اس کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ جہنم کے کُندے اپنے آپ کو جہنم کے نقش و نگار نہ سمجھنے لگیں۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل کراچی
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*قرآننا*
*نشید الفلاح*
*لنک بھٹکلیس ڈاٹ کام*
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=quranuna, Quranuna
1970ء کی دہائی کے آغاز میں آڈیو کیسٹوں کا رواج ہونے لگا تھا۔ اور یہ عشرہ نصف تک پہنچتے پہنچتے کیسٹ ہر خاص وعام کی دسترس میں ہونے لگے تھے، بیسویں صدی کا ستر اور اسی کا عشرہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ یہ اسلامی تحریکات کا سنہرا دور شمار ہوتا ہے، اس دوران جتنی آزادی ان تحریکات کو مصر اور عالم عرب میں حاصل ہوئی تھی اس سے پہلے یا بعد میں نہ مل سکی، ستر کےابتدائی نصف دور میں شاہ فیصل بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ سعودی عرب کے حکمران رہے،اور مصرکے صدر محمد انور السادات ایک مکمل عشرے تک فرماں روا رہے۔
مصر میں یہ شیخ عبد الحمید کشک جیسے خطیبوں کا دور عروج ہے، جن کے خطبات جمعہ سننے لئے لوگ نماز فجر سے مسجد میں انتظار میں لگے رہتے تھے، اور اس کے لئے سڑکیں بند رہتی تھیں، کہتے ہیں مصر کی مٹی میں اللہ تعالی نے خطابت کا عنصر چھپا رکھا ہے، اور نیل کا پانی قوت لسانی عطا کرتا ہے، کشک اپنی مثال آپ تھے، ہمارے خیال میں سر زمین مصر کی تاریخ نے کشک جیسا مقبول خطیب نہیں دیکھا، اس زمانے میں آپ کے خطبات کے کیسٹ جنگل کی آگ کی طرح عالم اسلام میں پھیلتے تھے۔
اسی دور میں ایران کا عظیم الشان انقلاب بھی کیسٹوں کا مرہون منت رہا، خمینی کی تقاریر اور پیغامات کیسٹوں ہی کے ذریعہ پھیلتے تھے، اور کوئی سنسر اور پابندی ان کے پھیلاؤ کے اڑے نہ آسکا تھا۔
اس زمانے تک خلیجی ممالک کے خطیبوں کی کوئی نمایاں حیثیت نہیں تھی، لیکن بشار الاسد کی حکمرانی میں شام کا شہر حماۃ قتل عام کی نذر ہوا، اور یہاں جنگیز خان اور ہولاکو کی داستان خون آشام دہرا ئی گئی تو اچانک خلیج کی سرزمیں سے ایک عظیم خطیب کا طلوع ہوا، کویت کے شیخ احمد القطان ۱۹۸۲ء میں حماۃ کے قتل عام پر اپنی جوشیلی تقریر سے راتوں رات مقبولیت کے بام عروج تک پہنچ گئے، اور ان کی تقریر نے لاکھوں کروڑوں کی آنکھیں نم کردیں، اور عالم عرب کے چپے چپے پر بسنے والے مسلمانوں کے دلوں کو غم وغصہ سے بھر دیا۔ یہ بھی کیسٹ کا فیضان تھا۔
شام کے بلبل خوش نوا ابو مازن کا تذکرہ اس بزم میں آچکا ہے، ایسے کئی سارے بلبل خوش نوا عالم عرب میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے، یوٹیوب اور ریلس کے انقلاب سے پہلے انہوں نے فضاؤوں کو تحریکی اور پرجوش نغموں سے بھر دیا تھا، اورانہیں بچے بچے کی زبان پر انہیں رائج کردیا تھا، آج چالیس سال بعد قومی حافظے سے یہ نام مٹ چکے ہیں۔ کیوں کہ ان میں کئی سارے انٹرنٹ پر دستیاب نہیں ہیں، اورنئی نسلوں کا ذوق سماعت بھی کچھ بدل چکا ہے۔
ہمارے آڈیو ارکائیوز میں ان میں سے کئی ایک گہر پارے محفوظ ہیں، آئندہ ہماری کوشش ہوگی کہ انہیں تلاش کرکے وقتا فوقتا ہمارے سامعین کی نذر کرتے رہیں۔ تاکہ گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را کا فریضہ انجام دیا جاسکے۔
ہماری خواہش ہوگی کہ ان میں سے ہرایک پر آپ کے ریکٹ کے ذریعے ہمیں اس سلسلے کو جاری رکھنے کی تحریک ملتی رہے۔ کیوں کہ کوئی صحراء میں مسلسل آذان نہیں دے سکتا۔
اس سنہرے سلسلے میں ہم آج آپ کی خدمت میں اس دور کے ایک مقبول کیسٹ *نشيد الفلاح* کی نظمیں پیش کررہے ہیں۔ اس کسیٹ کی جملہ نظمیں یکجا حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=nasheedul-falah&t=
شکریہ
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤9
*وفیات مورخہ: 18/اپریل*
1914ء جمال الدین القاسمی۔ شامی عالم، مفسر قرآن
1937ء بیگم نشاط النساء موہانی۔ اہلیہ حسرت موہانی
1938ء نجم الحسن امرہوی۔ شیعہ مجتھد
1962ء غلام محی الدین۔ ڈاکٹر ، صوفی
1978ء عبدالحمید صدیقی۔ مدیر ترجمان القرآن
1990ء صلاح الدین سی اے۔ پروفیسر ،
1998ء جوہر غوری (وسیم احمد خان)۔ ،
2000ء سید علی محمد رضوی۔ نعت خواں
2001ء تانی بیگم (خورشید ارشاد بیگم)۔ ،
2001ء خورشید بانو۔ گلوکار
2001ء سلمیٰ زین نورانی۔ ،
2002ء شہاب الدین ندوی۔ مولانا، بانی فرقانیہ اکیڈمی بنگلور
2008ء امداد نظامی۔
2012ء قاضی حمید اللہ خان۔ اسلامی اسکالر
2019ء جمیل جالبی۔ ڈاکٹر ، محقق

https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
Begum Hasrat Mohani By Ziauddin Ahmad barney.pdf
994.2 KB
بیگم نشاط النساء موہانی (وفات ۱۸ اپریل ۱۹۳۷ء) تحریر: ضیاء الدین احمد برنی
❤1
*وفیات مورخہ: 18/اپریل*
1970ء امتیاز علی تاج۔ ادیب، ڈرامہ نگار
1974ء افسر میرٹھی۔ حامد اللہ۔ بچوں کے ادیب ،
1974ء ایوب خان۔ صدر پاکستان
1985ء عبد الماجد ندوی عظیم آبادی۔ مولانا، ریڈیو جدہ، مصنف معلم الانشاء
1989ء فیض الغنی۔ پروفیسر ،
2006ء حسین انجم (سید محمد حسین کاظمی)۔ ،
2007ء خلیل فرحت کارنجوی۔ شاعر
2009ء صبیح الدین احمد۔ جسٹس ،
2011ء ڈاکڑ محمد زاہد خاں۔
2012ء محمد مصطفی بھیسا نوی۔
2016ء عبد اللہ بن صالح عثیمین۔ مورخ سعودی عرب

Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
Imtiaz Al Taj By Maqbul jahngir.pdf
1.1 MB
امتیاز علی تاج (وفات ۱۹ اپریل ۱۹۷۰ء) تحریر : مقبول جہانگیر
ایمان، حسنِ عمل کی بنیاد

علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:

بظاہر عقل، ہمارے ہر کام کے لیے ہم کو رہنما نظر آتی ہے، لیکن غور سے دیکھو کہ ہماری عقل بھی آزاد نہیں، وہ ہمارے دلی یقین، ذہنی رجحانات اور اندرونی جذبات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، اس لیے اس پا بہ زنجیر عقل کے ذریعہ ہم اپنے دلی خیالات، ذہنی رجحانات اور اندرونی جذبات پر قابو نہیں پاسکتے۔ اگر پاسکتے ہیں تو اپنے صحیح دلی یقینیات اور چند مضبوط دماغی و ذہنی تصورات کے ذریعہ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک نے ایمان کا ذکر، ہمیشہ عملِ صالح کے ذکر سے پہلے لازمی طور سے کیا ہے اور ایمان کے بغیر کسی عمل کو قبول کے قابل نہیں سمجھا ہے کہ ایمان کے عدم سے دل کے ارادہ اور خصوصاً اس مخلصانہ ارادہ کا بھی عدم ہوجاتا ہے، جس پر حسنِ عمل کا دار و مدار ہے۔

(سیرت النبی ﷺ، جلد چہارم، صفحہ: ۲۴۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
-الحل الوحيد لقضية فلسطين بمحضر ولي العهد الملكي بالأردن
عربی خطاب: مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ
لنک بھٹکلیس ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=al-hal-al-waheed-li-qazayat-falasteen, Al Hal Al Waheed Li Qazayat Falasteen
لنک عربی تقاریر
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=arabic-speeches&s=&t=
*وفیات مورخہ: 20/اپریل*
1909ء منشی عبد الکریم۔ ملازم ملکہ وکٹوریۃ
1961ء بیگم عائشہ باوانی۔ صاحب خیر خاتون
1967ء اخگر فیروزپوری، نند کشور۔ ،
1970ء اصغر علی۔ ،
1970ء شکیل بدایونی، شکیل احمد۔ شاعر ،
1970ء محمد فاضل بن عاشور۔ تونسی عالم دین ومصنف
1971ء علوی بن عباس المالکی۔ مدرس الحرم المکی
1975ء ابو بکر احمد حلیم۔ وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی
1986ء سید سبط حسن۔ ادیب، نقاد ،
1998ء ظفر اللہ خاں۔ وزیر خارجہ پاکستان
2005ء ثانیہ حسین۔ ،
2005ء فیروزخان۔ کھلاڑی ،
2009ء حمیدہ اختر حسین رائے پوری۔ ادیبہ
2010ء محبوب الرحمن از هری۔ مولانا، مصنف المحاورۃ العربیۃ
2021ء سلطان اختر عظیم آبادی (سلطان اشرف)۔
2021ء شیبر احمد۔ مولانا مفتی
2021ء نصیر پرواز۔

Https://telegram.me/ilmokitab
الصین لنا والعرب لنا
چین وعرب ہمارا
علامہ اقبال کے مقبول عام ترانے کا عربی ترجمہ
ابو ایاد (خالد جابر) کی خوبصورت آواز میں ۔
یہ ریکارڈنگ بھی آج سے تیس سال قبل بہت مقبول تھی۔
لنک بھٹکلیس ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=al-seenu-lana, Al Seenu Lana
کلام شاعر بہ زبان شاعر
شکیل بدایونی
وفات ( ۲۰/اپریل ۱۹۷۰ء)
شوق ستم جنوں کی حدوں سے
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=zouq-e-sitam-junun, Zouq E Sitam Junun
شاعر کا مزید کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=shakil-badayuni&t=
*کیا ہم مسلمان ہیں (٤١) عرفانِ حق کی وجد آفرینیاں (چوتھی اور آخری قسط)*
*تحریر: شمس نوید عثمانی*
دنیا صرف یہ منظر دیکھ رہی تھی کہ سعد ؓ کی تلوار کسریٰ کے سنہرے محلاّت اور تاج و تخت پر کوندتی لہراتی خلافتِ اسلامیہ کے نقشے میں نت نئے شہروں کا اضافہ کر رہی ہے _ دولت کا سیلاب عجم سے عرب کی طرف رواں دواں کا ہے لیکن سعد ؓ خود اپنے اندر جھانک کر یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ جوں جوں یہ جہاد کے فرائض کا بوجھ ہلکا ہوتا جا رہا ہے ان کا وجود فقر و استغناء کی ایک نرالی تڑپ میں ڈھلتا جارہا ہے ۔ دولت کے خزانے ان کے قدموں میں ڈھیر ہو رہے ہیں _ محلّات اور قلعوں کے آہنی دروازے ان کے سامنے کُھل رہے ہیں _ اقتدار و شکوہ کے پرچم ان کی شخصیت پر لہرا رہے ہیں ، لیکن ان تمام فاتحانہ کارناموں کے ساتھ ساتھ خدا کا خوف اور آخرت کی درد بھری یا دان کی پُوری زندگی کو دنیا سے دُور _ بہت دُور تیزی سے کھینچے لیے جارہی ہے۔ یہی تھا وہ سوزِ دروں جس نے شمشیر و سناں سے بھی بڑا کام کیا _ ہتھیاروں نے صرف عجم کی زمین جیتی تھی اور اس سوز نے آتش پرستوں کے سینوں میں توحید کی آگ کوٹ کوٹ کر بھردی۔ زمین فتح ہو جانے کے بعد دلوں کی دنیا پر فتح پائی سعد ؓ کے _ ہتھیاروں کی گھن گرج دیکھ کر عجمی سپاہ نے ہتھیار ڈالے تھے اور سعد ؓ کے مومنانہ سوز و گداز کو دیکھ کر ان لوگوں نے خدائے واحد کے قدموں پر بے تابانہ سر ڈال دیے _ بڑے بڑے سردار حق کی شہادت دیتے ہوئے اسلام کی طرف والہانہ جوش سے بڑھے
ویلم کی چار ہزار سپاہ نے یکایک ایک ساتھ اسلام کی عظمت کے سامنےسر جُھکا دیا۔
سعد ؓ کی رُوح میں دولتِ دنیا سے بے پروائی اور دولت دل کی بڑھتی ہوئی تڑپ اس طرح بڑھی کہ ان کے رگ وپے سے پُھوٹ نکلی _ ماحول میں سرایت کر گئی _ آنکھوں سے نظر آنے لگی ۔ دنیا نے ایک دن یہ حیرت ناک منظر بھی دیکھ لیا کہ امیر المومنین حضرت عمر ؓ کا ایک فرستادہ کوفہ میں داخل ہوا اور سعد ؓ کے قصر کا بیرونی ڈیوڑھی کو آگ لگا کر چلا گیا _ اور سعد ؓ _ وہی سعد اطاعت عجز کے ساتھ ٹھنڈے دل اور کُھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے رہے جنھوں نے ایرانی سلطنت کی بساط اُلٹی تھی اور جنھوں نے اس کو فہ کو آباد کر کے قصر کے آگے یہ ڈیوڑھی محض اس لیے تعمیر کی تھی کہ بازار کے شور و غل سے محفوظ و مامون رہ سکیں _ لیکن جس کو امیر المومنین ؓ نے محض اس دُور اندیشانہ مصلحت سے نذرِ آتش کرا دینا ضروری سمجھا کہ کہیں یہ ڈیوڑھی حاکم اور محکوم قوم کے درمیان انصاف و عدل کی راہ میں حائل نہ ہو جائے ۔ حق وانصاف کی ہر ہلکی سے ہلکی بعید سے بعید مصلحت سعد ؓ کو اپنی فاتحانہ ، مجاہدانہ جد و جہد کی پوری عمر سے بھی زیادہ پیاری تھی _ اُنھوں نے خندہ پیشانی سے اس مصلحت کو سینے سے لگا لیا اور ذاتی عزت وجاہ کے ہر جائز سے جائز مطالبہ سے کنارہ کش ہو گئے _ یہی نہیں ہوا بلکہ یہ بھی ہوا کہ کوفہ کے کچھ ذاتی مخالفوں نے محض بر بنائے اختلاف بارگاہِ خلافت میں حضرت سعد ؓ کے خلاف یہ شکایت بھیجی کہ " وہ نماز ٹھیک طریقے سے نہیں پڑھاتے _ !" سعد ؓ نے اس شکایت کو کمال صبر و تحمل سے سُنا۔ بارگاہِ خلافت سے اس شکایت کی چھان بین کے لیے حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کوفہ میں آئے اور گھر گھر مسجد مسجد اس شکایت کے ذیل میں عوام کے بیانات قلم بند کرتے رہے ۔ سعد ؓ نے عدل وانصاف کی اس تمام کاروائی کو بھی خدا کے ایک بندۂ عاجز کی شان سے دیکھا اور سُنا _ پھر بارگاہِ خلافت کے صرف ایک اشارے پر ان تمام علاقوں کی حکمرانی سے دست بردار ہو گئے ، جن کو اُنھوں نے خونِ دل و جگر سے جیتا اور آباد کیا تھا _ وہی مجاہد جو اپنے عظیم کام اور عمل کے ساتھ سپہ سالاری اور حکمرانی کی بلندیوں تک پہنچا تھا جب خدا نے چاہا کہ وہ ان بلندیوں کو قربان کر دے۔ تو دنیا نے دیکھا کہ اس نے اپنی پوری زندگی اسلام کے قدموں پر ڈال دی اور سلطنت و حکومت کے تخت سے اُٹھ کر فقر و غنا کے گوشے میں سمٹ گیا ۔ ان کی زندگی میں جہاد اور جہادِ نفس کی یہ بے پناہ عظمت وہ شے تھی جس کو حضرت عمر ؓ بن خطاب نے اس وقت خراجِ عقیدت پیش کیا جب وہ قاتلانہ گھاؤ کھائے ہوئے بسترِ شہادت پر لہو میں نہائے ہوئے لیٹے تھے ۔ انھوں نے اعلان فرمایا کہ " میں نے سعد ؓ کو ہرگز کسی بددیانتی کے شاخسانے میں معطّل نہیں کیا تھا ۔" یہ کہا اور خلافت کے لائق صحابہ ؓ کی فہرست میں حضرت سعد ؓ ابن ابی وقاص کا نام نامی شامل کرکے دنیا کو بتایا کہ یہ ہستی صرف کوفہ کی حکمرانی ہی نہیں ، بلکہ پُوری خلافتِ اسلامیہ پر راج کرنے کے قابل تھی ۔
لیکن حضرت سعد ؓ نے جب زمانے کے یہ تیور دیکھے کہ اسلام کے ہر اُفق سے خطرناک فتنوں کی طغیانی سر اُٹھا رہی ہے اور خطرہ ہے کہ مسلمانوں کا خون ان اختلافات کی بھینٹ نہ چڑھ جائے تو وہ تاج وتخت کی پیش کش سے دامن بچا کر فقر و غنا کی تنہائیوں میں سمٹتے چلے گئے یہاں تک کہ خود ان کے صاحب زادے پُکار اُٹھے:
" "ابا جان _! یہ کیا ہو رہا ہے آپ کو _ ! آپ جنگل میں اُونٹ چرائیں اور _ لوگ تاج و تخت کے لیے قسمت آزمائیں ! "خاموش! جوش کے ساتھ حضرت سعد نے بیٹے کے سینے پر ہاتھ مارا "میں نے خُدا کے رسول ﷺ سے سُنا ہے کہ خُدا مستغنی اور پرہیزگار بندے کو پیار کرتا ہے _ " پھر کسی نے چھیڑا تو خلوت گزینی کے راز پر سے یُوں نقاب اُٹھایا کہ "میں نے رسولِ خُدا ﷺ سے سُنا ہے کہ عنقریب میرے بعد ایک فتنہ برپا ہوگا جس میں سونے والا بیٹھنے والے سے بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے اور کھڑا ہونے والا چلنے والے اچھا ہو گا ۔"
اس طرح وہ تلوار جس نے عرب و عجم کی خون ریز لڑائیوں میں کفرو شرک کے سر قلم کیے تھے خونِ مومن کے تصوّر سے لرزہ براندام ہو کر ہمیشہ کے لیے نیام میں چلی گئی اور وہ عظیم مجاہد جس کی ستّر سال سے زیادہ طویل زندگی کا ہر سانس جنگ و جہاد کے معرکہ زاروں میں بیتا تھا آخر دنیا کے دار الامتحان سے کامیابی کے ساتھ دور نکل کر قبر کی راہ سے گزرتا ہوا اپنے خالق و پروردگار سے اس طرح جا ملا کہ اس کے جسم پر جنگِ بدر کا وہ بوسیدہ اُونی کپڑا کفن کی شکل میں لپٹا ہوا تھا جو اللہ کے رسول ﷺ نے تبرّک کے طور پر ان کو عطا کیا تھا _ ان کے وہ ہاتھ رحمت خداوندی کے لیے پھیلے ہُوئے تھے جنھوں نے دولت دنیا کے خزانوں کو جیتے جی لُٹا دیا تھا اور ان کے دِل میں خُدا اور خُدا کے رسول ﷺ کے سوا کِسی کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔


ہم سے تاریخ سوال کرتی ہے کہ یہ جہاد و ایثار کی داستانیں تمہاری ہیں ۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ اب یہ داستا نیں لکھنا تو کیا ان کو پڑھنا بھی ہمیں نہیں آتا _ پڑھ کر سوچنا اور تڑپنا بھی یاد نہیں رہا ہم کو _ ! اپنے مستقبل کی تاریکی میں ٹھوکریں کھاتے ہوئے ہم خود اپنے ماضی کی اس روشنی سے دُور سے دُور تر ہوتے جا رہے ہیں _ بُجھے ہوئے دِل، بے نور آنکھیں اور چکرائے ہوئے دماغ لیے ہوئے آخر ہم کِدھر بہتے چلے جارہے یں _ ؟ تاریکیوں کے طوفانی تھپیڑے حملہ کرتے ہوئے چیختے ہیں "کیا تم مسلمان ہو _؟" دنیا ہماری تباہی پر قہقیہ لگا کر پوچھتی ہے "کیا یہ مسلمان ہیں _ ؟لیکن وائے بر حالِ ما
کہ ہم خود اب بھی یہ سوچنے کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ "کیا ہم مسلمان ہیں ___؟"
***
Https://telegram.me/ilmokitab
سچی باتیں (18؍نومبر 1940ء) نئے دور کا ہسٹریا
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
(اس کالم کو زیادہ سے زیادہ عام کریں)


بھوت ، پریت، خبیث، آسیب، چڑیل، کے آپ قائل ہوں یا نہ ہوں، واقف توبہرحال ان کے ناموں سے اور کارناموں سے ہوں گے۔ فلاں پر ’’شیخ سدّو‘‘ آگئے، اور وہ کھیلنے لگا۔ فلاں پر ’’لونا چماری‘‘ کا اثر ہوگیا۔ فلاں کو’’ کلوا بیر‘‘ نے دبالیا۔ فلاں کو آسیبی خلل ہوگیا۔ فلاں پر جنّات آگئے، فلاں پر پریوں کا سایہ ہوگیا۔ یہ چیزیں کس کے علم میں نہیں؟کون ان سے باخبر نہیں؟ اس کے بعد وہ انسان اپنے آپ میں کہاں۔ اب وہ چیزہی کوئی اور۔ اچھا خاصہ، بھلا چنگا انسان، اور جہاں اُس پر کوئی آنے لگا، اُس کے سرپر کوئی سوار ہوگیا، بس وہ اپنے قابو میں نہیں۔ اَول فَول بکے گا، دیوانوں کی طرح دوڑے گا،مارے گا، آنکھیں نکالے گا، دانت پیسے گا، بے وجہ روئے گا، بلاوجہ ہنسے گا، اور جب تک یہ جنون کا دَورہ طاری رہے گا، وہ اپنے آپ میں نہ رہے گا ۔ ہوگا کچھ اور نظرآئے گا کچھ……اسباب طبّی وطبیعی جو کچھ بھی ہوں، علامات وآثار کا خلاصہ بس یہی ہے۔
جن اور بھوت، آسیب وخبیث کے افسانے پارینہ ہوچکے۔ اصطلاحیں پُرانی ہوگئیں۔
اس دَور میں جام اور ہے مے اور ہے جم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور۔
اب ’’آسیبی خلل‘‘ نئے نئے ناموں سے پڑنے لگے۔ لوگوں کے دماغ ، فیشن ایبل اصطلاحوں کے ماتحت بگڑنے لگے۔ بدحواسیاں، خود فراموشیاں، خود بیزاریاں سب وہی۔ لیبل، سب پر نئی جگمگاتی روشنی کے لگے ہوئے۔ٹھپّے سب کے جھلجھلاتے ہوئے۔ ایک صاحب کہتے ہیں کہ ’’ترقی‘‘ ہم مسلمان جبھی کرسکتے ہیں، جب بے تکلف سودی کاروبار شروع کردیں، اور بینک کھولنے لگیں۔ دوسرے فرماتے ہیں، کہ جب تک ہم اپنی عورتوں کا مردوں کے دوش بدوش، سینہ بسینہ لاکھڑا نہ کریں گے، ترقی کے دَور میں کسی قوم سے بازی لے ہی نہیں جاسکتے۔ تیسرے صاحب کا ارشاد ہے کہ اصل چیز دولت کی صحیح تقسیم ہے، جب تک سوشلزم کی بنیاد پر ملت کی ازسرِ نوتنظیم نہیں کرتے، ہم مسلمان پنپ نہیں سکتے۔چوتھی سمت سے صدابلند ہوتے ہے کہ قومی فلاں کا راز’’منع حمل‘‘ ہے، سلسلۂ توالد بند کرو، اور اپنی عورتوں کو آزادی کا سانس لینے کا موقع دو۔ ایک اور صاحب کی تبلیغ ہے کہ زندہ رہنا ہے ،تو زندہ قوموں کا رسم الخط اختیار کرو، اپنے نستعلیق ونسخ پر خط نسخ کھینچ دو، اور لاطینی حروف بائیں سے داہنی طرف لکھنے شروع شروع کردو۔ ایک اور بزرگ کا وعظ ہے کہ ہمیں روایاتِ حدیث نے تباہ کرڈالا، مسلمان بنے رہنا اور اسلام پر قائم رہناہے، تو بخاری اور مسلم کے دفتروں کو آگ لگادو!……یہ سب اگر طبّی اصطلاح میں ’’ہسٹیریا‘‘ نہیں تو اور کیاہے؟ خوش اعتقادوں کی زبان میں اگر آسیب زدگی نہیں تو اور کیاہے؟
یہ ملؔ اور مالتھنؔ،مزدکؔ، اور مارکسؔ، دَورِ نو کے نئے عفریت جس طرح افراد کے سرپر آجاتے ہیں، اُسی آسانی کے ساتھ قوموں اور جماعتوں کو بھی پچھاڑ دیتے ہیں۔ اور ’’روشن خیالی‘‘ اور ’’تجدد نوازی‘‘ ’’سوشلزم‘‘ اور ’’کمیونزم‘‘ کی بیماریاں جس طرح افراد واشخاص کو توڑدیتی ہیں، اسی طرح یہ وبائیں پوری آباد یوں کی آبادیوں میں بھی پھوٹ پڑتی ہیں، اور دیکھتے دیکھتے قوم کی قوم کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہیں۔ ترکیہ ان بَلاؤں کا شکار ہوچکا، مصر ان کے آگے جھک گیا، ایرانؔ ان میں مبتلا ہوچکا، عراقؔ، شامؔ، فلسطینؔ، سب میں ان کے قدم جم چکے، ہندوستانؔ اُن کی زد سے کب تک باہر رہ سکتاتھا۔اس پر ان کے دھاوے ہوئے، باربار ہوئے، اور ہورہے ہیں، ہر بار پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ، پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ، اور ان حملوں اور پیش قدمیوں کے نقیب آج کون کون ہیں؟ کوئی اور نہیں، آپ ہی کے بڑے بڑے اخبارات ورسائل، آپ ہی کی قوم کے فلاں لیڈر، اور ایڈیٹر۔ پریس، اور ریڈیو اور سنیما۔

Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
*وفیات مورخہ: 21/اپریل*
1672ء عبد اللہ قطب شاہ۔ حکمران گولکنڈہ
1865ء مقبول احمد۔
1908ء قاضی عبد الوحید فردوسی عظیم آبادی۔ ناقد ندوۃ العلماء لکھنو، مولانا
1938ء محمد اقبال۔ علامہ، ڈاکٹر
1971ء اختر تلہری (سید اختر علی)۔ شاعر
1971ء محمد علی جالندھری۔ امیر مجلس تٖحفظ ختم نبوت ملتان
1972ء علیم اختر مظفر نگری۔ شاعر
1972ء محمد عبد العلیم صدیقی۔ مبلغ اسلام ،
1980ء سید امیر حیدرمنصرم رضوی۔ ،
1980ء مصطفی علی ہمدانی۔ براڈکاسٹر
1986ء شمشیر علی فلسفی۔ مولانا ،
1989ء محمد چراغ۔ شیخ الحدیث، مولانا
1989ء محمد علی لطفی علیگڑھی۔
1990ء محمد علی شیخ۔
1991ء سید محمد علی۔
1995ء واحد بخش سیال چشتی صابری۔ صوفی
1996ء جوہر دودایوف۔ شیشانی مجاہد
1997ء جہاں آراء سعید۔ ،
2002ء محمد نبی محمدی۔ امیر حرکت انقلاب اسلامی افغانستان
2006ء سراج الدین مظاہری۔ مولانا
2009ء اقبال بانو۔ گلوکارہ
2011ء محمد باقر حسین۔ مولانا
2013ء شکنتلا دیوی۔ انسانی کیلکولیٹر
2021ء سید اقبال علی۔
2021ء شاہد علی خان۔ مدیر کتاب نما دہلی
2021ء محمد صابر۔
2021ء مولا بخش۔
2021ء وحید الدین خان۔ مولانا، مفکر،مصنف مذہب اور جدید چیلیج
2024ء روئیداد خان۔ سول سرونٹ
2025ء سرمد جلال عثمانی۔ قانون دان


Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
کھرے کھوٹے (ماہنامہ تجلی) : مولانا عامر عثمانی

کتاب الرسالہ

تصنیف: امام شافعی رحمہ اللّٰہ
ترجمہ: مولانا مفتی محمد امجد علی
ناشر: محمد سعید اینڈ سنز تاجرانِ کتب قرآن محل(مولوی مسافر خانہ) کراچی، سائز متوسط، صفحات ۳۵۲، کاغذ سفید، کتابت اچھی، طباعت مجروح مگر غنیمت، قیمت مجلد ساڑھے دس روپے۔

اس کتاب کا اندازِ نگارش تحریری سے زیادہ تقریری ہے، فاضل مترجم نے مقدمے میں امام رازی کے جو الفاظ نقل کئے ہیں ان سے تو کسی کو یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ امام شافعی نے یہ کتاب تصنیفی انداز میں ہی لکھی ہوگی لیکن مقدمے کے اختتام پر مترجم کے نوٹ نے اصل صورتحال واضح کر دی ہے؛

"کتاب الرسالہ درحقیقت امام شافعی کے تقریری نوٹس کا ایک مجموعہ ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مجلسوں میں موصوف نے اپنے شاگرد ربیع بن سلیمان کو تحریر کرایا ہے، اسی وجہ سے بعض مباحث بار بار تکراری شکل میں موجود پائے جاتے ہیں، نیز عبارت کا طرز کتابی نہیں ہے بلکہ تقریری ہے"(ص ۲۴)

کم و بیش یہی بات مصطفی البانی نے بھی ابن عبد البر کے حوالے سے کتاب الرسالہ کے مقدمے میں لکھی ہے، اچھا ہی ہوا کہ مقدمہ نگاروں نے اس صورتحال کو واضح کر دیا ورنہ اس کتاب کے قارئین کے لئے ہمیشہ یہ سوال معمہ بنا رہتا کہ امام شافعی کا قلم ان کی دوسری تصانیف کے مقابلے میں اس تصنیف میں اتنا مختلف کیوں ہے اور عبارتوں میں جگہ جگہ اغلاق، ژولیدگی اور در و بست کا ڈھیلا پن کیوں پایا جاتا ہے؟ اصل عربی نسخہ ہماری نظر سے گزرا ہے واقعہ یہ ہے کہ اس کی زبان امام شافعی کی معروف زبان سے کہیں زیادہ مشکل اور پر شکن ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ کتاب بول کر لکھوائی گئی ہے اور اندازِ تقریر خاصہ نمایاں ہو گیا ہے، فاضل مترجم تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اتنی مشکل کتاب کا اتنا اچھا ترجمہ کر لیا، اصول فقہ کے عمیق و دقیق مطالب کا سمجھنا یوں بھی آسان نہیں، پھر زبان و بیان کا مشکل ہونا الگ ایک آزمائش، اس کے باوجود یہ اردو ترجمہ اتنا اچھا ہے کہ بلا مبالغہ رشک انگیز کہا جا سکتا ہے، بعض غیر ذمہ دار مترجمین کی طرح اگر بے سمجھے ترجمہ کر ڈالا جاتا تو کتاب چیستاں بن کر رہ جاتی، موصوف کا ترجمہ نہ صرف اسلوب کے لحاظ سے خوب ہے بلکہ اس کا بھی مظہر ہے کہ وہ سمجھ کر کیا گیا ہے۔

جہاں تک مطالب کا تعلق ہے یہ کتاب فقہی اصول و قواعد کے بیش بہا موتیوں کا خزینہ ہے، امام شافعی عام شہرت کے مطابق اصول فقہ کے بانی اور موجد ہوں یا نہ ہوں اس میں کلام نہیں کہ فقہی اصول و ضوابط کو ایک منظم اور مدون علم کی حیثیت سے سجا بنا کر پیش کرنے کا سہرا سب سے پہلے انہی کے سر بندھا اور شاید یہی کتاب ہے جس نے ان کی غیر معمولی علمی اور فقہی صلاحیتوں کو حقیقتِ ثانیہ کی حیثیت دینے میں سنگِ بنیاد کا کام کیا، اس میں اگرچہ بعض بحثیں مختصر اور تشنہ ہیں، بعض مقامات ابہام و اغلاق سے آلودہ ہو گئے ہیں مگر زیادہ مباحث بڑے جامع اور سیر حاصل ہیں، خصوصاً وہ جن میں بعض دیگر فقہاء امام شافعی سے قدرے مختلف رائے رکھتے ہیں۔

کتاب کے مضامین کا اندازہ ان عنوانات سے ہوگا؛ سنت کی پیروی فرض ہے، ناسخ و منسوخ، عللِ احادیث، اختلافِ حدیث، خبر واحد، اجماع، قیاس، اجتہاد وغیرہ ذلک۔

یہ تو ظاہر ہے کہ فقہائے احناف امام شافعی کے جملہ افکار و آراء سے کلی اتفاق نہیں کر سکتے، اگر اصول و کلیات میں کامل اتفاق رائے ہوتا تو فروع و جزویات میں قدم قدم پر اختلاف کیوں نظر آتا لیکن یہ کتاب فقہاء احناف کے لئے بھی ایک بیش قیمت تحفہ ہے کیونکہ اس کا بڑا حصہ ایسا ہی ہے جس سے فقہ کے کسی بھی اسکول کو اختلاف نہیں ہے، علاوہ ازیں ہمیں تو یہ بھی خوش گمانی ہے کہ کتاب الرسالہ کو پورے غور اور توجہ سے پڑھا جائے تو ذہن پر ایک قسم کی جلا آتی ہے اور روح کو بالیدگی کا احساس ہوتا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔

عام لوگوں کے لئے اس ترجمے کا مطالعہ یہ احساس کرنے کے لیے بڑا مفید ہوگا کہ قرآن و حدیث کے مصادر و مخازن سے قوانین کا استنباط و استخراج کتنا پر شکوہ، صبر آزما، فراست طلب اور دشوار کام ہے، یہ نہیں کہ جس نے قرآن و حدیث کے دو بول پڑھ لئے مسائلِ شرعیہ میں رائے زنی کا حق دار ہوگیا، آج کل یہ فتنہ بہت عام ہے کہ واجبی علم و فہم سے تہی دامن لوگ نہایت بے تکلفی سے اپنے فقیہ ہونے کا جھنڈا اٹھا لیتے ہیں حالانکہ فقاہت تو دور کی چیز ہے؛ اصول فقہ کا صرف علم ہی ایک کارِ دشوار ہے اور اس دشواری کو محنت اور سعی سے حل کر لیا جائے تو اس سے بھی مشکل مرحلہ ان اصولوں کے ذہنی استحضار، ان کے استعمال کے صحیح طریق اور ان کی نزاکتوں پر فہم و ادراک کی گرفت کا ہے، یہ میسر نہ ہو تو علم بھی اجتہاد اور تفقہ کے لئے کافی نہیں، سچ پوچھئے تو اسے علم کہنا بھی مشکل ہے بلکہ معلومات کہنا صحیح ہوگا، کتب حدیث ہوں یا کتب اصول؛ جو بھی کتابیں اردو میں ترجمہ ہو کر آرہی ہیں ان کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ عام اردو دان بھی ان کے ذریعے فقیہ اور مجتہد بننے کی کوشش کرے بلکہ مقصد اور مفاد فقط یہ ہے کہ
عوام کو حدیث اور فقہ کی عظمت، گہرائی، نزاکت اور جلالت کا علم و احساس ہو اور وہ سمجھ لیں کہ کسی بھی مسئلے میں فقہائے سلف کی آرا قرآن و حدیث کے محض سرسری اور سطحی مطالعے پر مبنی نہیں بلکہ بڑی کنج کاوی، بحث و نظر اور عرق ریزی کے بعد پیش کی گئی ہیں۔

فاضل مترجم کی سعی کو مشکور قرار دینے کے بعد ہم چند ایسے نقائص کی بھی نشاندہی کر دیں جنہیں اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں درست ہو جانا چاہئے! یہ ایک ناخوشگوار فریضہ ہے مگر فریضہ تو فریضہ ہی ٹھیرا۔

کتابت و طباعت بحیثیتِ مجموعی بہت اچھی ہے مگر تصحیح شایانِ شان نہ ہو سکی، غضب ہے کہ آیات قرآنیہ تک میں معتد بہ غلطیاں نظر آئیں، مثلا صفحہ ۶۹ پر سورۂ حج کی ۷۳ ویں آیت میں کئی غلطیاں ہیں ؛ (یسلبھم کی باء پر فتح دیا گیا ہے حالانکہ سکون ہونا چاہیے۔ یستنقذوہ کے قاف پر فتح دے دیا گیا ہے حالانکہ زیر ضروری تھا۔ ضُعفٌ کے عوض ضَعُفَ درست ہوتا)

صفحہ ۸۳ پر من یعصّ کا مَن مِن بن گیا۔ صفحہ ۸۷ پر سورۂ نور کی ۶۳ بھی آیت کا آخری فقرہ غلط چھپ گیا (إن تصبْھم فتنة أو يصبهم عذاب أليم) حالانکہ درست ہوں ہے؛
اَن تُصيبَھم فتنة أو يصبهم عذاب أليم.

صفحہ ۱۰۶ اصلحا کا لام مفتوح ہونا چاہئے نہ کہ مکسور۔ صفحہ ۱۱۹ پر بأربعة کی تا پر خواہ مخواہ دو زیر چھپ گئے حالانکہ ایک کافی تھا، استقصاء مقصود نہیں، یہ چند نمونے ہیں، استقصاء خود ناشر کو اگلے ایڈیشن کے وقت کرنا چاہئے!

صفحہ ۲۹ پر ایک فقرہ شاید خطائے کتابت ہی کی وجہ سے لایعنی ہو کر رہ گیا ہے؛

"اور جو مر گیا اس کے قول و عمل سے بھی اللہ کے بیان کے مطابق تھا وہ اپنی سزا کو پہنچا"

ظاہر ہے اس میں الٹ پلٹ ہو گئی ہے۔

صفحہ ۱۲۲ پر کتب علیکم الصیام الآیہ کا ترجمہ بھی شاید تصحیح و کتابت ہی کا نخچیر ہوا۔

"یعنی تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے (امتوں) کے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، اس موقع پر تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ) متقی بن جاؤ، تھوڑے دنوں کے روزے رکھ لیا کرو"

یہ ترجمہ اتنا غیر معیاری ہے کہ اسے ہم فاضل مترجم سے منسوب کرنا قرینِ قیاس تصور نہیں کرتے، کاتب ہی کے سر ڈالے دیتے ہیں!

صفحہ ۱۶۵ پر وکفی اللہ المؤمنین القتال کا ترجمہ؛

"اللہ تعالیٰ مؤمنین کے حق میں جنگ سے کافی ہو گیا"

اردو اسلوب بیان سے مطابقت نہیں رکھتا، یہاں کتابت کے سہو کی تاویل مشکل ہے۔

صفحہ ۱۴۱ پر ایک حاشیہ ہے مگر اس کا نمبر متن میں پڑھنے سے رہ گیا، اب کوئی بھی ایسا شخص جس کے سامنے اصل عربی کتاب نہ ہو پتہ نہیں چلا سکتا کہ یہ کیسا اور کہاں کا حاشیہ ہے۔

صفحہ ۲۲۸ پر؛ "اور یہ عیب کذب بھی نہیں تصور کیا جاتا، تاہم اس کی حدیث کو رد کر دیں"

یہاں "تاہم" کتابت کا سہو ہے، "کہ ہم" لکھا گیا ہوگا۔

صفحہ ۱۵۱ پر "سنت" کے آگے بریکٹ میں سنت جاریہ کا لفظ نظر پڑا، گو کہ مترجم کا ذہن صاف ہی معلوم ہوتا ہے مگر یہ لفظ بعض فنکاروں کی شیشہ گری نے ایک باطل مفہوم سے ملوث کر دیا ہے اس لیے ترجمے میں اس کا نہ آنا آنے سے بہتر ہوتا۔

صفحہ ۲۸۵ پر بیع مخابرہ کے الفاظ شاید بے خیالی کا ثمرہ ہیں، حاشیے میں بیع مخابرہ کی تعریف مترجم نے نجانے کہاں سے نقل کی ہوگی، اگر وہاں بھی بیع کا لفظ موجود ہو تو حیرتناک ہے، مخابرہ بیع کے قبیل سے نہیں، وہ تو لغۃ اور اصطلاحا دونوں سطح پر کاشت کے ایک ایسے معاملے کے لیے مستعمل ہے جسے خرید و فروخت کے زیر عنوان نہیں رکھا جا سکتا۔

صفحہ ۲۲۸ پر تدلیس کی تعریف حاشیے پر دیتے ہوئے ذرا اور غور و فکر کی ضرورت تھی، اس تعریف میں حدثنی اور سمعتُ کے جو الفاظ مثالا دیے گئے ہیں ان کی تردید تو خود اسی صفحے کی اس عبارت سے ہو جاتی ہے، امام شافعی فرماتے ہیں؛

"لہذا ہم اس کے قائل ہو گئے کہ مدلس کی حدیث ہم اس وقت تک قبول نہ کریں گے جس وقت تک وہ یہ عبارت استعمال نہ کرے (حدثنی یا سمعتُ)

اس سے صاف ظاہر ہے کہ مدلس جب حدثنی اور سمعتُ کے الفاظ استعمال کرتا ہے تو امام شافعی اس میں تدلیس کا گمان نہیں کرتے بلکہ یہ روایت سندِ متصل کی حیثیت سے قبول کر لیتے ہیں، یہی حال اکثر علماء اصول کا ہے، حدثنا اور اخبرنا اور سمعنا (یا سمعتُ) جیسے الفاظ کو وہ اس بنا پر مقبول اور لائی کے استناد قرار دیتے ہیں کہ ان میں ایہام نہیں ہے بلکہ سماع و اتصال کی دلالت ہے، لہذا مترجم کا تدلیس کی تعریف میں یہ کہنا کہ حدثنی اور سمعتُ سماع کا وہم پیدا کرتے ہیں؛ درست نہیں، سماع و اتصال کا وہم تو عن فلان اور إن فلانا اور قال فلان جیسے الفاظ سے ہوتا ہے نہ کہ حدثنی اور سمعتُ جیسے مقتضیِ اتصال الفاظ سے، اسی لیے امام شافعی نے بھی اپنا مسلک یہی بتایا کہ مدلس کی وہ حدیث ہم قبول کر لیں گے جو حدثنی اور سمعتُ سے بیان ہوئی ہو۔
تدلیس کو اخ الکذب بھی کہا گیا ہے اور دیگر الفاظ سے بھی اس کے مذمت کی گئی ہے، کوئی اسے حلال نہیں کہتا، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حدثنی اور سمعتُ کے الفاظ اگر تدلیس کی مثال میں درست ہوں تو امام شافعی یا دیگر علماء حق ان الفاظ کے ذریعے کی ہوئی روایت کسی مدلس سے قبول کر لیں، خلاصہ یہ ہے کہ اگلے ایڈیشن میں تجویز کی ان مثالوں کو نکال دینا چاہئے، ویسے یہ ہم اعتراف کریں گے کہ فاضل مترجم کے دیے ہوئے حواشی مجموعی طور پر بہت مفید اور بر محل ہیں۔

صفحہ ۵۲ پر لفظ "شطر" کے استعمال کے سلسلے میں امام صاحب نے چند اشعار پیش کیے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے؛
ان العسیر بھا واء مخامرھا
فشطرھا بصر العینین مسحور

واء اور مخامر تو خیر کتابت کی غلطی ہے (صحیح داء اور یُخامر ہے) مگر ہمیں شبہ ہے کہ شعر کا ترجمہ فاضل مترجم نے زیادہ امعانِ نظر کے ساتھ نہیں کیا، ان کا ترجمہ یہ ہے؛

"نر سے بدکنے والی اونٹنی کس بیماری میں مبتلا ہے چنانچہ جب نظر اس کی طرف جاتی ہے تو مسحور ہو جاتی ہے"

اس ترجمے میں ایک تو سوالیہ انداز محل نظر ہے، دوسرے مخامرھا کا ترجمہ نظر نہیں آتا، تیسرے مسحور کا مفہوم محتاجِ وضاحت رہا، نظر کا مسحور ہو جانا محلِ مداح میں بولا جاتا ہے محلِ ذم میں نہیں، اگر ہم یوں کہیں کہ فلاں شے کو دیکھ کر ہماری نظر مسحور ہو گئی تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ شے کسی نہ کسی حیثیت سے ہمارے دل میں کُھپ گئی اور بہت پسند آئی، یہاں اس کے برعکس نہ کچھ گوار تاثر کا ذکر ہے، ایسی اونٹنی جس کے اندر بیماری سرایت کر گئی ہو ایسی چیز کہاں ہے جو نظروں کے لیے مسحور کن ہو، ہمارے سامنے اس وقت عربی نسخہ نہیں مگر یاد پڑتا ہے کہ یہ مسحور نہیں محسور ہوگا، محسور البصر تھکی ہوئی نگاہ والے کو کہتے ہیں، جب خود بصر کو موصوف بنایا گیا تو مطلب یہ نکلا کہ چونکہ یہ اونٹنی غیر معمولی طور پر بیمار ہے اس لیے اس کی طرف دیکھنے میں نگاہوں پر خوش گوار اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ تھکاوٹ اور بوجھل پن محسوس کرتی ہیں، کسی اور بھی اہل علم سے تبادلۂ خیال کرکے اس شعر کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا چاہیے۔

تبصرے کا خلاصہ یہ ہے کہ داغ تو چاند میں بھی ہیں، یہ رفیع المرتبہ کتاب بے داغ کیسے رہتی مگر ان معمولی داغوں سے اس کی قدر و قیمت نہیں گھٹتی امید ہے ناشر اگلے ایڈیشن کو نگاہِ ثانی کے بعد پیش کریں گے۔

ماہنامہ تجلی، مئی ۱۹۶۹ء

انتخاب: معاویہ محب الله
Https://telegram.me/ilmokitab
بات سے بات: ائمہ مدرسین و تجارت
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)

دو روز قبل اس بزم علم وکتاب میں علماء و اہل علم کی تجارت سے وابستگی اور ان کی خوشحالی سے متعلق ایک بحث چلی تھی، جس میں مولانا نور الحسن کاندھلوی دامت برکاتھم جیسے بزرگوں نے بھی اظہار خیال کیا تھا، اور ہمارے کئی ایک اکابر کے اسوہ پر روشنی ڈالی تھی۔ برسبیل تذکرہ اس تعلق سے چند باتیں ہمارے ذہن میں یاد آرہی ہیں۔
۱۹۷۹ء میں جب اس ناچیز کا تلاش معاش میں دبی جانا ہوا تھا، تو ابتدا ہی میں جن بزرگوں کی شفقت نصیب ہوئی تھی ،ان میں ایک مصری بزرگ تھے شیخ عبد البدیع صقر رحمۃ اللہ علیہ ، جنہیں(12) سال تک مکتب الارشاد میں شیخ حسن البناء شہید کی رفاقت حاصل ہوئی تھی۔
شیخ صقر ایک بات ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ عہد شاہی میں مصر کے عیسائی وزیر اعظم بطرس غالی(مقتول 1910ء) نے اپنے ہم مذہب لوگوں کو وصیت کی تھی کہ مصر میں آپ کی تعداد بہت کم ہے،لہذا سیاست میں اپنی توانیاں صرف کرنے کے بجائے تعلیم اور تجارت پر توجہ مرکوز کریں، آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، تعداد میں کم ہونے کے باوجود آپ کا دبدبہ باقی رہے گا۔ اور مصری قبطی ایک صدی سے زیادہ عرصے سے اپنے رہنما کی وصیت دانتوں سے دبائے ہوئے ہیں، اس طرح قبطی مصر میں تعداد میں کم ہونے کے باوجود طاقت ور رہیں ہیں۔
ہم اڑوس پڑوس میں اگر نظر دوڑائیں تو نظر آئے گا، کہ داؤدی بوہرہ، سلیمانی بوہرہ، پارسی، اسماعیلی خوجے، قادیانی،بہائی، اپنی تعلیم اور تجارت کے بل بوتے پر اپنی تعداد کے مقابلے میں کئی گنا طاقت ور ہیں۔
اس طرح ہم نے بعض خلیجی ممالک میں دیکھا ہے کہ بوہری، اسماعیلی، عیسائی، سندھی وغیرہ لینے کے بجائے دینے کی پوزیشن میں ہیں، جس نے انہیں حکومت میں بہت رسوخ اور عزت دیا ہے، کبھی کبھار تو ہم مسلمان ان کے مقابلے میں خود کو بے وقعت محسوس کرنے لگتے ہیں۔
چند روز قبل خان بہادر مولوی محمد حسین یم اے سی آئی ای ریٹائرڈ ششن جج کا آج سے ایک صدی پیشتر ۱۹۱۳ء میں شائع کردہ سفرنامہ ابن بطوطہ نظر سے گذرا۔ اس میں مترجم نے ابن بطوطہ کے دور کا تجزیہ کرتے ہوئے جو نتیجہ نکالا ہے وہ حیران کن ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
"یہ ہجری کی آٹھویں صدی اور تاریخ مسیحی کی چودہویں صدی تھی۔ یہ صدی دنیا کی تاریخ میں ایک نہایت اہم عصر ہے کیونکہ جیسا کہ اس صدی کو اسلامی تہذیب کے تنزل کا شروع کہہ سکتے ہیں، اسی طرح یہ صدی یورپ کی تہذیب کی ترقی کا آغاز سمجھی جاتی ہے اور اگر غور کیا جائے تو یہ دونوں باتیں لازم و ملزوم تھیں ۔۔۔ اس زمانہ میں تہذیب کی کنجی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلی جاتی تھی اور تماشا یہ تھا کہ ان کو نہ یہ پتہ لگا کہ کنجی ہاتھ سے نکلی جاتی ہے اور نہ یہ پتا لگا کہ وہ کنجی کیا چیز ہے۔۔۔۔
یورپ میں دین مسیحی کے عروج اور دخول میں اور تہذیب کے آغاز میں چودہ سو سال کا وقفہ ہے۔ کوئی احمق سے احمق منطقی ان دونوں واقعات کو علت اور معلول قرار نہیں دے سکتا۔ اس کے برخلاف اسلامی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ تھوڑے دن کے اندر اس نے عرب کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر ان کے گھروں اور درباروں اور مجلسوں میں اس تہذیب اور تعلیم کو جگہ دی جس کو مسیحی دین کے تعصب اور تنگرانی نے یونان اور اطالیہ سے چوٹی پکڑ کر نکال دیا تھا۔ باوجو دیکہ پہلی صدی میں چالیس سال تک بد قسمت خانہ جنگی نے ان کو فرصت نہ لینے دی اور پانچویں اور چھٹی اور ساتویں صدی میں یورپ کے جاہل جہادیوں نے ایک طرف اور چینی تاتار کے اجہل مغلوں اور ترکوں کے جہان سوز حملوں نے دوسری طرف سے ان کو اچھی طرح سے سانس نہ لینے دیا اور تہذیب کی ترقی کو روکے رکھا، لیکن ان دونوں مصیبتوں کو وہ جھیل گئے، اگرچہ ان میں سے طاقت کچھ عرصہ کے لیے جاتی رہی مگر چونکہ تہذیب پھر بھی باتی تھی اور اس لیے طاقت کے پھر واپس آ جانے کی قوی امید تھی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آٹھویں نویں اور دسویں صدی میں طاقت تو پہلے سے بھی زیادہ عود کر آئی لیکن تہذیب اور علوم کی تحصیل کا شوق گھٹتا گیا۔۔۔اسلامی ممالک کی تہذیب کی ترقی اور تنزل کا اصلی باعث کیا تھا اور اس تہذیب کی کنجی کیا تھی۔ اس کا جواب ایک بہت چھوٹا لفظ ہے یعنی تجارت۔۔۔ہ تجارت سے بڑھ کر تہذیب کے پھیلانے کا ذریعہ کوئی اور پیشہ دنیا میں نہیں ہو سکتا۔۔۔