تجارت کی ترقی غیر ملکیوں سے ارتباط خیالات کا مبادلہ اور خیالات کی توسیع علوم کی ترقی ترقی کا شوق شوق میں ایک کا دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرنا اور اس غرض کے حاصل کرنے کے لیے نئے نئے ایجاد اور دریافت میں سعی کرنا ایسے مسلسل واقعات ہیں کہ ایک سے دوسرا بطور علت و معلول کے خود بخود پیدا ہوتا چلا جاتا ہے اور اسی لیے میں نے تجارت کو تہذیب کی کنجی کہا ہے۔۔۔اس زمانہ میں اسلامی قافلے اور جہاز قرطبہ سے لے کر چین کے مشرقی ساحل تک تمام سمندر اور خشکی کو اپنا جولان گاہ سمجھتے تھے اور کوئی اور قوم ان کا مقابلہ کرنے والی نہ تھی۔۔۔جس قدر مسلمان مصنف جغرافیہ پر لکھنے والے اور بڑے بڑے سیاح گزرے ہیں، وہ سب آٹھویں صدی تک ختم ہو جاتے ہیں"۔
ہم نے سفرنامہ کے مقدمے کی طویل عبارتوں سے چند اقتباسات پیش کئے ہیں، جو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ جب تک خلافت اسلامیہ عربوں کے ہاتھوں میں رہی ، دور عباسی تک سلطنت اور تجارت قدم سے قدم ملا کر چلتے رہے، لیکن جب خلافت اور سلطنت ترکوں اور مغلوں کے پاس آئی تو پھر مسلمانوں نے تجارت کو چھوڑدیا، ان کے یہاں اب ملک گیری اور فتوحات کا غلبہ ہوا۔عثمانیوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح اور سقوط اندلس کے بعد سنہ ۱۴۹۸ء کے تلاش ہند کے مشن کی کامیابی کے بعد یورپ نے عالمی تجارت پر قبضہ کا جو سلسلہ شروع کیاپانچ سو سال بعد بھی وہ تھمتا ہوا نظر نہیں آتا، سامراجی نظام سے آزاد ہونے کے باوجود تجارتی مصالح اور مفادات نے عالم اسلام کو دو ر غلامی سے زیادہ پابند کردیاہے۔ اور تجارتی مفادات کی بیڑیاں دور غلامی کے طوق سلاسل سے زیادہ مضبوط لگتی ہیں۔
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، ہماری ناقص رائے میں علماء دین کو معاشرے میں وقار حاصل کرکے دین کو سربلند کرنا ہے تو ان میں عزت نفس پیدا کرنا ضروری ہے، یہ عزت نفس اس وقت تک انہیں نہیں مل سکتی جب تک کہ یہ اہل ز ر کے عطیات، ہدایا، زکات و صدقات اور احسان مندیوں سے آزاد نہ ہوں۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ یہ اپنی محنت سے اپنی و اہل وعیال کو دوسروں کا دست نگر بنائے بغیر خود سے ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہ بن جائیں۔ اس کے لئے ایک منصوبہ بند طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔ جو فی الحال دور دور تک نظر نہیں آتا۔مدارس اور دینی مراکز سے یہ امید رکھنا کہ وہ اتنی تنخواہیں دیں گے جن سے مدرسین کی ضروریات زندگی پوری ہوں، تو یہ کھیلنے کے لئے مانگے چاند والی بات ہوگی ۔
یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے ہر ایک کو یکساں صلاحیتیں نہیں دی ہیں، اوراگر سب کی یکساں صلاحیتیں ہو ں تو دنیا کا کام کیسے چلے، کیونکہ دنیا چلانے کےلئے حافظ، عالم، سائنس داں، جغرافیہ داں، صنعت کار ، تاجر اور ملازم و محاسب سبھوں کی ضرورت ہے، دنیا کا کاروبار اس وقت صحیح چلتا ہے جب کہ دھنک کے ساتوں رنگ موجود ہوں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے ان میں باہمی ربط وتعاون ہو۔ لہذا علماء و فارغین میں جو تجارت اور صنعت کاری کی صلاحیت رکھتے ہوں ، اور جو صرف ملازمت کرسکتے ہوں، ان میں تال میل ہو، اور آپس میں افہام وتفہیم سے چھوٹی موٹی تجارت ہو، لیکن یہاں سوال امانت داری کا آتا ہے، اس کی ضمانت کہاں سے لائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اچھے سے اچھے پروجکٹ اور منصوبے تھوڑی ہی مدت بعد دم توڑدیتے ہیں۔ اور ناکامیابی اور مایوسی ڈیرہ کرنے لگتی ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل ٹھنڈے دل سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم خود اپنی برادری کی باہمی خیر خواہی اور تعاون کی بنیاد پر ترقی وبہبود کے لئے سوچنے اور مختلف صلاحیتوں کو یکجا کرکے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ مدارس کی روز بروز گرتی صورت حال سے چھٹکارا مشکل ہوگا۔
یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ برصغیر میں جب فاتحین کے گھوڑوں کی ٹاپوں کے ساتھ اسلام در خیبر کے راستے داخل ہوا، تو ان کے مزاج میں جہانگیری اور حکمرانی تھی، زمین داری ان کے مزاج کو بھاتی تھی،ملک زراعتی تھا، تجارت ان میں پنپ نہ سکی، لہذا بر صغیر کی جب آزادی ہوئی تو زمینداری کے ہاتھوں سے نکلنے کی وجہ سے مسلمانوں کا بڑا طبقہ مختصر عرصہ میں قلاش ہوگیا، لیکن بد قسمتی سے زمینیں ہاتھوں سے نکلنے کے باجود زمیندارنہ مزاج کی جو سماجی و معاشرتی خرابیاں تھی ان کے خوں سے نہ نکل سکیں۔ اس کا نتیجہ سامنے ہے، ہمارے مدارس اور تعلیمی ادارے زمیندارانہ انداز ہی سے چلتے ہیں، اقرباء پروری، اور خاندانی قبضوں کی جو شکایتیں روز بروز ہمارے کانوں میں پڑتی ہیں آخر یہ کیا ہیں؟۔ اداروں پر باپ کے بعد بیٹے کے قبضے کے تذکرے تو روز سننے میں آتے ہیں، لیکن قوم کی اکثریت کا مزاج باپ کی جگہ بیٹے اور پوتے کو قبول کرنے کا ہوگیاہے۔ لہذا جو لو گ اداروں میں موسساتی نظام، دستور وغیرہ کی بات کرتے ہیں ان کی آواز صدا بہ صحراء ثابت ہوتی ہے۔ انہیں سپورٹ کرنے والے نہیں ملتے۔
ہم نے سفرنامہ کے مقدمے کی طویل عبارتوں سے چند اقتباسات پیش کئے ہیں، جو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ جب تک خلافت اسلامیہ عربوں کے ہاتھوں میں رہی ، دور عباسی تک سلطنت اور تجارت قدم سے قدم ملا کر چلتے رہے، لیکن جب خلافت اور سلطنت ترکوں اور مغلوں کے پاس آئی تو پھر مسلمانوں نے تجارت کو چھوڑدیا، ان کے یہاں اب ملک گیری اور فتوحات کا غلبہ ہوا۔عثمانیوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح اور سقوط اندلس کے بعد سنہ ۱۴۹۸ء کے تلاش ہند کے مشن کی کامیابی کے بعد یورپ نے عالمی تجارت پر قبضہ کا جو سلسلہ شروع کیاپانچ سو سال بعد بھی وہ تھمتا ہوا نظر نہیں آتا، سامراجی نظام سے آزاد ہونے کے باوجود تجارتی مصالح اور مفادات نے عالم اسلام کو دو ر غلامی سے زیادہ پابند کردیاہے۔ اور تجارتی مفادات کی بیڑیاں دور غلامی کے طوق سلاسل سے زیادہ مضبوط لگتی ہیں۔
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، ہماری ناقص رائے میں علماء دین کو معاشرے میں وقار حاصل کرکے دین کو سربلند کرنا ہے تو ان میں عزت نفس پیدا کرنا ضروری ہے، یہ عزت نفس اس وقت تک انہیں نہیں مل سکتی جب تک کہ یہ اہل ز ر کے عطیات، ہدایا، زکات و صدقات اور احسان مندیوں سے آزاد نہ ہوں۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ یہ اپنی محنت سے اپنی و اہل وعیال کو دوسروں کا دست نگر بنائے بغیر خود سے ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہ بن جائیں۔ اس کے لئے ایک منصوبہ بند طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔ جو فی الحال دور دور تک نظر نہیں آتا۔مدارس اور دینی مراکز سے یہ امید رکھنا کہ وہ اتنی تنخواہیں دیں گے جن سے مدرسین کی ضروریات زندگی پوری ہوں، تو یہ کھیلنے کے لئے مانگے چاند والی بات ہوگی ۔
یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے ہر ایک کو یکساں صلاحیتیں نہیں دی ہیں، اوراگر سب کی یکساں صلاحیتیں ہو ں تو دنیا کا کام کیسے چلے، کیونکہ دنیا چلانے کےلئے حافظ، عالم، سائنس داں، جغرافیہ داں، صنعت کار ، تاجر اور ملازم و محاسب سبھوں کی ضرورت ہے، دنیا کا کاروبار اس وقت صحیح چلتا ہے جب کہ دھنک کے ساتوں رنگ موجود ہوں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے ان میں باہمی ربط وتعاون ہو۔ لہذا علماء و فارغین میں جو تجارت اور صنعت کاری کی صلاحیت رکھتے ہوں ، اور جو صرف ملازمت کرسکتے ہوں، ان میں تال میل ہو، اور آپس میں افہام وتفہیم سے چھوٹی موٹی تجارت ہو، لیکن یہاں سوال امانت داری کا آتا ہے، اس کی ضمانت کہاں سے لائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اچھے سے اچھے پروجکٹ اور منصوبے تھوڑی ہی مدت بعد دم توڑدیتے ہیں۔ اور ناکامیابی اور مایوسی ڈیرہ کرنے لگتی ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل ٹھنڈے دل سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم خود اپنی برادری کی باہمی خیر خواہی اور تعاون کی بنیاد پر ترقی وبہبود کے لئے سوچنے اور مختلف صلاحیتوں کو یکجا کرکے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ مدارس کی روز بروز گرتی صورت حال سے چھٹکارا مشکل ہوگا۔
یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ برصغیر میں جب فاتحین کے گھوڑوں کی ٹاپوں کے ساتھ اسلام در خیبر کے راستے داخل ہوا، تو ان کے مزاج میں جہانگیری اور حکمرانی تھی، زمین داری ان کے مزاج کو بھاتی تھی،ملک زراعتی تھا، تجارت ان میں پنپ نہ سکی، لہذا بر صغیر کی جب آزادی ہوئی تو زمینداری کے ہاتھوں سے نکلنے کی وجہ سے مسلمانوں کا بڑا طبقہ مختصر عرصہ میں قلاش ہوگیا، لیکن بد قسمتی سے زمینیں ہاتھوں سے نکلنے کے باجود زمیندارنہ مزاج کی جو سماجی و معاشرتی خرابیاں تھی ان کے خوں سے نہ نکل سکیں۔ اس کا نتیجہ سامنے ہے، ہمارے مدارس اور تعلیمی ادارے زمیندارانہ انداز ہی سے چلتے ہیں، اقرباء پروری، اور خاندانی قبضوں کی جو شکایتیں روز بروز ہمارے کانوں میں پڑتی ہیں آخر یہ کیا ہیں؟۔ اداروں پر باپ کے بعد بیٹے کے قبضے کے تذکرے تو روز سننے میں آتے ہیں، لیکن قوم کی اکثریت کا مزاج باپ کی جگہ بیٹے اور پوتے کو قبول کرنے کا ہوگیاہے۔ لہذا جو لو گ اداروں میں موسساتی نظام، دستور وغیرہ کی بات کرتے ہیں ان کی آواز صدا بہ صحراء ثابت ہوتی ہے۔ انہیں سپورٹ کرنے والے نہیں ملتے۔
❤1
ہمیں ان مسائل کے کسی ایک پہلو کودیکھنے کے بجائے، ایک وحدت کے طور پر تمام امور پر جامعیت کے ساتھ سوچنے اور ان کے لئے لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے، اور سب سے پہلے اپنے بگڑے ہوئے قومی مزاج کو سدھارنے کی فکر کرنی چاہئے، واللہ ولی التوفیق۔
2026-04-21
WhatsApp: +919008175269
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
2026-04-21
WhatsApp: +919008175269
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
👍3
شاہد علی خاں کی پانچویں برسی
معصوم مرادآبادی
آج مکتبہ جامعہ کے سابق جنرل منیجر شاہد علی خاں کی پانچویں برسی ہے۔ انھوں نے 21 اپریل 2021 کو وفات پائی ۔ میں نے ان کے انتقال پر ایک مختصر تعزیتی مضمون لکھا تھا جو آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔ ملاحظہ فرمائیں
آج(21 اپریل 2021) صبح کی اولین ساعتوں میں شاہد علی خاں کا نام بھی مرحومین کی مسلسل طویل ہوتی جارہی اس فہرست میں شامل ہو گیا جسے دیکھ کر ہر ہر شخص حیران ہے۔ وہ کچھ عرصہ سے بیمار ضرور تھے لیکن گفتگو میں اس بات کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ انھیں اپنے مالک حقیقی سے ملنے کی کوئی جلدی ہے۔ حالانکہ وہ عمر طبعی کو پہنچ چکے تھے اور صحت کے مسائل نے انھیں گھر کی چاردیواری میں سمیٹ کر رکھ دیا تھا۔سماعت کمزور ہوجانے کی وجہ سے اونچی آواز میں گفتگو کرتے تھے ،لیکن لہجہ وہی نرم اور گداز رہتا تھا جو ان کی خاص پہچان تھی۔ یادداشت بھی کمزور ہوگئی تھی لیکن اپنے چاہنے والوں کو دور سے پہچان لیتے تھے ۔ وہ کھرے پٹھان تھے اور ان کا وطنی تعلق میری طرح غیور روہیلہ پٹھانوں کے اس قبیلے سے تھا جو روہیلکھنڈ کے اضلاع بریلی، رامپور اور مرادآباد وغیرہ میں پھیلا ہوا ہے۔
شاہد علی خاں نہ کوئی ادیب تھے، نہ شاعر اور نہ صحافی مگر ملک کا کوئی ایسا سرکردہ قلم کار نہیں تھا جو ان کی دسترس میں نہ ہو۔ وہ بہت غیر ت دار انسان تھے اور اسی غیرت نے انھیں مکتبہ جامعہ سے مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا۔ وہی مکتبہ جس کو چارچاند لگانے میں انھوں نے اپنی ساری عمر لگادی تھی۔ مکتبہ جامعہ کے بغیر شاہد علی خاں اور شاہد علی خاں کے بغیر مکتبہ جامعہ کا تصور ہی محال تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ مکتبہ سے ان کی علیحدگی کے بعد اس ادارے کی جان ہی نکل گئی۔ پچھلے دنوں جب مکتبہ جامعہ کی زبوں حالی پر میں نے ایک مضمون لکھا تو وہ اس بات پر ناراض ہوگئے کہ اس مضمون میں ان کو مکتبہ سے علیحدہ کرنے کی بات کیوں لکھی گئی ہے۔ وہ تو خود مستعفی ہوئے تھے۔ میں نے اس سہو کے لئے ان سے معذرت کی اور معاملہ رفع دفع ہوا۔ حالانکہ طویل تعلقات کے دوران وہ کبھی مجھ سے ناراض نہیں ہوئے اور مجھے ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھا۔ جب بھی میری کوئی نئی کتاب آتی تو مبارکباد کا پہلا فون شاہد علی خاں کی طرف سے آتا تھا۔ وہ کہتے" میاں کتاب اولاد کی طرح ہوتی ہے۔" وہ اپنے چھوٹوں کے ساتھ بڑی محبت اور شفقت کا سلوک کرتے تھے ۔ ان کے پاس بیٹھ کر کسی گھنے سایہ دار درخت کی چھاؤں کا احساس ہوتا تھا ۔ انھوں نے نہ جانے کتنے لوگوں کو صاحب کتاب بنایا۔
جس زمانے میں وہ مکتبہ جامعہ کے جنرل منیجر تھے تو میں نے انھیں بارہا پرانی دہلی کے گلی کوچوں میں کبھی کاغذی، کبھی پریس ، کبھی فلم میکروں، کبھی ٹائیٹل ڈیزائنروں اور کبھی بائنڈروں کے ساتھ ماتھا پچی کرتے ہوئے دیکھا۔ حالانکہ یہ کام ان کے ماتحتوں کا تھا مگر مکتبہ کا جنرل منیجر ہونے کے باوجود وہ سب کام خود ہی کرتے تھے تاکہ رنگ چوکھا آئے۔ انھوں نے مکتبہ جامعہ سے بڑوں اور بچوں کے لئے اتنی ارزان قیمت پر کتابیں چھاپیں جن کا آ ج کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔
ان کی پوری زندگی کتابوں کے درمیان گزری ۔ انھوں نے ہزاروں کتابوں کی زلفین سنواریں اور ان میں چارچاند لگائے۔ ان کی بیش بہا خدمات کا ثبوت نصیر الدین ازہر کی مرتب کردہ وہ قیمتی کتاب ہے جس میں اردو ہر بڑے ادیب نے ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ کتاب کانام ہے " شاہد علی خاں: ایک فرد ،ایک ادارہ "
شاہد علی خاں کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمہ جہت صلاحیتوں کے انسان تھے ۔ وہ مکتبہ جامعہ کے معیاری جریدے " کتاب نما " کے بھی ایڈیٹر تھے اور انھوں نے اس کے لئے مجھ سے اردو صحافت پر باصرار مہمان اداریہ لکھوایا تھا جو وہ ہر شمارے کے لئے کسی سرکردہ ادیب یا صحافی سے لکھواتے تھے۔
وہ ایک نہایت سرگرم انسان تھے اور ان کا دل ہمیشہ کتابوں میں لگتا تھا ۔ مکتبہ جامعہ سے مستعفی ہونے کے بعد وہ گھر نہیں بیٹھے بلکہ انھوں نے " نئی کتاب" کے نام سے نہ صرف ایک ادبی جریدہ نکالا بلکہ اسی نام سے ایک مکتبہ بھی قائم کیا جہاں وہ روزانہ بیٹھتے تھے اور اسی طرح محفل جمتی تھی جیسی کہ بمبئی میں مکتبہ جامعہ کی شاخ میں جمتی تھی ۔ بمبئ میں انھوں نے اچھا خاصا وقت گزارا تھا اور وہاں کے سبھی بڑے ادیب اور شاعر ان سے ملنے آتے تھے ۔ افسوس کہ ان کے جنازے میں مکتبہ جامعہ کے محض دو لوگوں نے شرکت کی۔
اپنے محسن شاہد علی خاں کو خراج عقیدت کے طور پر یہ چند بے ترتیب جملے لکھتے وقت مجھے اپنے کرم فرما محترم اظہر عنایتی کا یہ شعر یاد آرہا ہے۔
راستو، کیا ہوئے وہ لوگ جو آتے جاتے
میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہیئے
معصوم مرادآبادی
آج مکتبہ جامعہ کے سابق جنرل منیجر شاہد علی خاں کی پانچویں برسی ہے۔ انھوں نے 21 اپریل 2021 کو وفات پائی ۔ میں نے ان کے انتقال پر ایک مختصر تعزیتی مضمون لکھا تھا جو آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔ ملاحظہ فرمائیں
آج(21 اپریل 2021) صبح کی اولین ساعتوں میں شاہد علی خاں کا نام بھی مرحومین کی مسلسل طویل ہوتی جارہی اس فہرست میں شامل ہو گیا جسے دیکھ کر ہر ہر شخص حیران ہے۔ وہ کچھ عرصہ سے بیمار ضرور تھے لیکن گفتگو میں اس بات کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ انھیں اپنے مالک حقیقی سے ملنے کی کوئی جلدی ہے۔ حالانکہ وہ عمر طبعی کو پہنچ چکے تھے اور صحت کے مسائل نے انھیں گھر کی چاردیواری میں سمیٹ کر رکھ دیا تھا۔سماعت کمزور ہوجانے کی وجہ سے اونچی آواز میں گفتگو کرتے تھے ،لیکن لہجہ وہی نرم اور گداز رہتا تھا جو ان کی خاص پہچان تھی۔ یادداشت بھی کمزور ہوگئی تھی لیکن اپنے چاہنے والوں کو دور سے پہچان لیتے تھے ۔ وہ کھرے پٹھان تھے اور ان کا وطنی تعلق میری طرح غیور روہیلہ پٹھانوں کے اس قبیلے سے تھا جو روہیلکھنڈ کے اضلاع بریلی، رامپور اور مرادآباد وغیرہ میں پھیلا ہوا ہے۔
شاہد علی خاں نہ کوئی ادیب تھے، نہ شاعر اور نہ صحافی مگر ملک کا کوئی ایسا سرکردہ قلم کار نہیں تھا جو ان کی دسترس میں نہ ہو۔ وہ بہت غیر ت دار انسان تھے اور اسی غیرت نے انھیں مکتبہ جامعہ سے مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا۔ وہی مکتبہ جس کو چارچاند لگانے میں انھوں نے اپنی ساری عمر لگادی تھی۔ مکتبہ جامعہ کے بغیر شاہد علی خاں اور شاہد علی خاں کے بغیر مکتبہ جامعہ کا تصور ہی محال تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ مکتبہ سے ان کی علیحدگی کے بعد اس ادارے کی جان ہی نکل گئی۔ پچھلے دنوں جب مکتبہ جامعہ کی زبوں حالی پر میں نے ایک مضمون لکھا تو وہ اس بات پر ناراض ہوگئے کہ اس مضمون میں ان کو مکتبہ سے علیحدہ کرنے کی بات کیوں لکھی گئی ہے۔ وہ تو خود مستعفی ہوئے تھے۔ میں نے اس سہو کے لئے ان سے معذرت کی اور معاملہ رفع دفع ہوا۔ حالانکہ طویل تعلقات کے دوران وہ کبھی مجھ سے ناراض نہیں ہوئے اور مجھے ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھا۔ جب بھی میری کوئی نئی کتاب آتی تو مبارکباد کا پہلا فون شاہد علی خاں کی طرف سے آتا تھا۔ وہ کہتے" میاں کتاب اولاد کی طرح ہوتی ہے۔" وہ اپنے چھوٹوں کے ساتھ بڑی محبت اور شفقت کا سلوک کرتے تھے ۔ ان کے پاس بیٹھ کر کسی گھنے سایہ دار درخت کی چھاؤں کا احساس ہوتا تھا ۔ انھوں نے نہ جانے کتنے لوگوں کو صاحب کتاب بنایا۔
جس زمانے میں وہ مکتبہ جامعہ کے جنرل منیجر تھے تو میں نے انھیں بارہا پرانی دہلی کے گلی کوچوں میں کبھی کاغذی، کبھی پریس ، کبھی فلم میکروں، کبھی ٹائیٹل ڈیزائنروں اور کبھی بائنڈروں کے ساتھ ماتھا پچی کرتے ہوئے دیکھا۔ حالانکہ یہ کام ان کے ماتحتوں کا تھا مگر مکتبہ کا جنرل منیجر ہونے کے باوجود وہ سب کام خود ہی کرتے تھے تاکہ رنگ چوکھا آئے۔ انھوں نے مکتبہ جامعہ سے بڑوں اور بچوں کے لئے اتنی ارزان قیمت پر کتابیں چھاپیں جن کا آ ج کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔
ان کی پوری زندگی کتابوں کے درمیان گزری ۔ انھوں نے ہزاروں کتابوں کی زلفین سنواریں اور ان میں چارچاند لگائے۔ ان کی بیش بہا خدمات کا ثبوت نصیر الدین ازہر کی مرتب کردہ وہ قیمتی کتاب ہے جس میں اردو ہر بڑے ادیب نے ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ کتاب کانام ہے " شاہد علی خاں: ایک فرد ،ایک ادارہ "
شاہد علی خاں کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمہ جہت صلاحیتوں کے انسان تھے ۔ وہ مکتبہ جامعہ کے معیاری جریدے " کتاب نما " کے بھی ایڈیٹر تھے اور انھوں نے اس کے لئے مجھ سے اردو صحافت پر باصرار مہمان اداریہ لکھوایا تھا جو وہ ہر شمارے کے لئے کسی سرکردہ ادیب یا صحافی سے لکھواتے تھے۔
وہ ایک نہایت سرگرم انسان تھے اور ان کا دل ہمیشہ کتابوں میں لگتا تھا ۔ مکتبہ جامعہ سے مستعفی ہونے کے بعد وہ گھر نہیں بیٹھے بلکہ انھوں نے " نئی کتاب" کے نام سے نہ صرف ایک ادبی جریدہ نکالا بلکہ اسی نام سے ایک مکتبہ بھی قائم کیا جہاں وہ روزانہ بیٹھتے تھے اور اسی طرح محفل جمتی تھی جیسی کہ بمبئی میں مکتبہ جامعہ کی شاخ میں جمتی تھی ۔ بمبئ میں انھوں نے اچھا خاصا وقت گزارا تھا اور وہاں کے سبھی بڑے ادیب اور شاعر ان سے ملنے آتے تھے ۔ افسوس کہ ان کے جنازے میں مکتبہ جامعہ کے محض دو لوگوں نے شرکت کی۔
اپنے محسن شاہد علی خاں کو خراج عقیدت کے طور پر یہ چند بے ترتیب جملے لکھتے وقت مجھے اپنے کرم فرما محترم اظہر عنایتی کا یہ شعر یاد آرہا ہے۔
راستو، کیا ہوئے وہ لوگ جو آتے جاتے
میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہیئے
❤1
*وفیات مورخہ: 22/اپریل*
1943ء منشی محمد احتشام علی کاکوروی۔ معتمد مال ندوۃ العلماء لکھنو
1947ء شاہ محی الدین پھلواروی۔ مولانا ،
1952ء فقیر محمد چشتی امرتشری۔
1955ء کرنل عبدالرحمٰن۔ ڈاکٹر ،
1965ء جامی بدایونی (مولانا محمد عبدالجامع)۔ ،
1975ء انیس احمد اصلاحی۔
1980ء محمد حبیب اللہ، قادری۔ ،
1990ء اشرف صبوحی دہلوی (سید ولی اشرف)۔ ،
1994ء رچرڈ نکسن۔ صدر یو یس اے
1994ء محمد ایوب بھاگل پوری۔
1999ء زیڈ اے سلہری (ضیاء الدین احمد)۔
2011ء معین اختر۔ مزاحیہ اداکار
2012ء ماسٹر منظور۔ سندھی گلوکار
2014ء اظہار الحسن برنی۔ ،
2014ء عبد القادر گروال۔ سربراہ حکومت افغانستان
2015ء امیتاز عالم حنفی، محمد۔ ،
2016ء ملک زاده منظور احمد۔ ڈاکٹر، ناظم مشاعرہ
2021ء احسان اللہ فہد۔
2021ء سید جمال احسن گیلانی۔
2024ء رخسار ناظم آبادی۔
2024ء عبد المجید الزندانی۔ یمنی داعی ومفکر
Https://telegram.me/ilmokitab
1943ء منشی محمد احتشام علی کاکوروی۔ معتمد مال ندوۃ العلماء لکھنو
1947ء شاہ محی الدین پھلواروی۔ مولانا ،
1952ء فقیر محمد چشتی امرتشری۔
1955ء کرنل عبدالرحمٰن۔ ڈاکٹر ،
1965ء جامی بدایونی (مولانا محمد عبدالجامع)۔ ،
1975ء انیس احمد اصلاحی۔
1980ء محمد حبیب اللہ، قادری۔ ،
1990ء اشرف صبوحی دہلوی (سید ولی اشرف)۔ ،
1994ء رچرڈ نکسن۔ صدر یو یس اے
1994ء محمد ایوب بھاگل پوری۔
1999ء زیڈ اے سلہری (ضیاء الدین احمد)۔
2011ء معین اختر۔ مزاحیہ اداکار
2012ء ماسٹر منظور۔ سندھی گلوکار
2014ء اظہار الحسن برنی۔ ،
2014ء عبد القادر گروال۔ سربراہ حکومت افغانستان
2015ء امیتاز عالم حنفی، محمد۔ ،
2016ء ملک زاده منظور احمد۔ ڈاکٹر، ناظم مشاعرہ
2021ء احسان اللہ فہد۔
2021ء سید جمال احسن گیلانی۔
2024ء رخسار ناظم آبادی۔
2024ء عبد المجید الزندانی۔ یمنی داعی ومفکر
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
مولانا قاضی محمد شبیر (قاضی شہر منکی) کی یاد میں
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج مورخۃ ۲۱ / اپریل علی الصبح بھٹکل کے مضافاتی قصبے منکی سے مولانا قاضی محمد شبیر صاحب کے انتقال کی خبر نے دل کو ملول کردیا۔ گزشتہ کافی عرصے سے پیرانہ سالی کے امراض نے انہیں صاحب فراش کردیا تھا، گذشتہ ۱۸ رمضان المبارک کو آپ کی عیادت کے لئے احباب کے ساتھ جانا ہوا تھا، جسم میں اٹھنے بیٹھنے کی سکت نہیں تھی، جسم ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن گیا تھا، لیکن ہوش وحواس ابھی باقی تھے، ایک طویل عرصہ بعد انہوں نے ہمیں دیکھا تھا، پر بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہمیں پہچاننے میں انہیں کوئی دشواری ہوئی ہو۔ آواز دھیمی تھی، جو آسانی سے سمجھ میں آجاتی تھی۔ شناسا چہروں کو دیکھ کر ان کی خوشی ومسرت کا احساس ہورہا تھا،اآپ نے اس دنیائے فانی کی (۸۴) بہارییں دیکھیں۔
یاد پڑتا ہے کہ مولانا کو پہلے پہل کوئی ساٹھ سال قبل استاد الجیل مولانا عبد الحمید ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس دیکھا تھا،۱۹۶۳ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت اور پھر دو سال ممبئی میں امامت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد آپ نےاب منکی قصبے کو مستقل مستقر بنایا تھا،اس وقت وہ مولانا ندوی علیہ الرحمۃ سے سے ملنے جامع مسجد بھٹکل آیا کرتے تھے۔جہاں اس وقت جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی تعلیمی درجات لگتے تھے۔ پرانی جامع مسجد میں جہاں وضو کے لئے حوض بنا ہوا تھا، اس کے بائیں طرف ایک چوڑی لکڑی سے بنی سیڑھی اوپر کو جاتی تھی، جس پر چڑھنے کے بعد دائیں طرف ایک ہال ہوا کرتا تھا،جس میں مولانا ندوی کا درجہ لگتا تھا، مولانا کلاسوں میں نہیں جاتے تھے بلکہ طلبہ مولانا کے پاس یہاں آیا کرتے تھے،مولانا جہاں بیٹھتے تھے اس کے دائیں طرف ایک چھوٹا سا کمرہ ہوا کرتا تھا، جس میں جماعت المسلمین کا آفس تھا۔
مولانا شبیر صاحب کا یہ عنفوان شباب تھے، عمر تیئیس چوبیس کے پیٹھے میں رہی ہوگی، گورا چٹھا رنگ، نازک اندام بدن ، دھان پان جسم، ڈاڑھی صرف ٹھوڑی پر نکلی ہوئی، جو دیکھنے میں بڑی بھلی لگتی تھی۔
مولانا کا تعلق منکی کے قاضی گھرانے سے تھا، اسی گھرانے کے افراد ایک طویل زمانے سے پڑوسی قصبے مرڈیشور اور ولکی میں بھی منصب قضا پر چلے آرہے ہیں، سنا ہے کہ اسی خاندان کے ایک فرد قاضی بھٹکل مولانا ابوبکر خطیبی اوپا خلفو سے قبل بھٹکل کی قاضی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے،
قاضی شبیر کے والد ماجد کا انتقال کم عمری میں ہوگیا تھا، آپ کی ابتدائی تعلیم اس وقت کے نظام کے مطابق منکی کے قدیم دینی مکتب انجمن نصرۃ المسلمین منکی میں ہوئی تھی ۔ جس کے پرانے اساتذہ میں ملا عبد القادر خلفو کا ذکر آتا ہے۔
یہاں سے آپ کے چچا علی باپو اسماعیل صاحب نے جنہوں نے بعد میں اپنی دختر آپ سے بیاہی تھی، آپکو مزید تعلیم کے لئے ممبئی لے گئے، جہاں دوٹانکی میں قائم مدرسہ امدادیہ میں آپ کا داخلہ ہوا۔ ممبئی میں آپ کے ایک اور چچا علی باپو باپصاحب کا نل بازار میں ناریل اور کھوپرے کا کاروبار تھا۔
۱۹۶۱ء میں آپ کی امدادیہ سے فراغت ہوئی، جہاں سے آپ کو چچا علی باپو صاحب نے دار العلوم دیوبند بھیج دیا، جہاں سے ۱۹۶۳ء میں آپ کی فراغٹ ہوئی۔ ممبئی میں فراغت کے بعد دوسال قاضی عطاء اللہ مرگھے کے تعاون سے ایک شافعی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دئے، اور ۱۹۶۵ء میں اپنے وطن منکی تشریف لے آئے، جہاں آپ نے مادر علمی انجمن نصرۃ المسلمین میں تدریسی خدمات انجام دیں، اس وقت جماعت المسلمین منکی نے آپ کو قاضی شہر مقرر کیا، اس وقت انجمن کا نام بدل کر مدرسہ رحمانیۃ رکھا گیا تھا،یہاں آپ نے مسلسل نو سال خدمت انجام دی۔ جہاں آپ کے ہاتھوں ایک نسل دینی تعلیم سے آراستہ ہوئی۔اس زمانے میں پرائمری اسکول صبح ساڑھے دس بجے چھوٹ جاتے تھے، یہاں سے بچے آپ کے پاس رحمانیہ آتے اور بارہ ساڑھے بارہ بجے تک قرآن اور دینی تعلیم سے آراستہ ہوتے ۔ اس طرح ایک نسل آپ کی تعلیم وتربیت سے مزین ہوئی۔
۱۹۷۵ء کے بعد آپ نے دوبارہ ممبئی کا رخ کیا، جہاں آپ نے دوبارہ ایک مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے شروع کئے ، اس دوران امارات کے شہر العین کے ایک بڑے تاجر عبد الرحمن زرعونی کو جو شہر کے انفراسٹرکچر کی تعمیرات سے وابستہ تھے، اورجس وقت شہر میں گھروں میں پائپوں سے پانی کی سپلائی شروع نہیں ہوئی تھی، ٹنکروں سے گھر گھر پانی سپلائی کرتے تھے، آپ کے پیچھے نمازیں پڑھنے کا موقعہ ملا، آپ کی خوبصورت تلاوت ، اور امامت کے روائیتی انداز سے اتنے متاثر ہوئے کہ ۱۹۸۰ء میں اصرار کرکے العین کے قلب شہر میں واقع اپنی تعمیر کردہ جامع مسجد میں امامت کی ذمہ داری پر فائز کردیا، جہاں آپ نے ۱۹۹۵ ء میں آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی وجہ سے سبکدوشی اختیار کی۔
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج مورخۃ ۲۱ / اپریل علی الصبح بھٹکل کے مضافاتی قصبے منکی سے مولانا قاضی محمد شبیر صاحب کے انتقال کی خبر نے دل کو ملول کردیا۔ گزشتہ کافی عرصے سے پیرانہ سالی کے امراض نے انہیں صاحب فراش کردیا تھا، گذشتہ ۱۸ رمضان المبارک کو آپ کی عیادت کے لئے احباب کے ساتھ جانا ہوا تھا، جسم میں اٹھنے بیٹھنے کی سکت نہیں تھی، جسم ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن گیا تھا، لیکن ہوش وحواس ابھی باقی تھے، ایک طویل عرصہ بعد انہوں نے ہمیں دیکھا تھا، پر بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہمیں پہچاننے میں انہیں کوئی دشواری ہوئی ہو۔ آواز دھیمی تھی، جو آسانی سے سمجھ میں آجاتی تھی۔ شناسا چہروں کو دیکھ کر ان کی خوشی ومسرت کا احساس ہورہا تھا،اآپ نے اس دنیائے فانی کی (۸۴) بہارییں دیکھیں۔
یاد پڑتا ہے کہ مولانا کو پہلے پہل کوئی ساٹھ سال قبل استاد الجیل مولانا عبد الحمید ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس دیکھا تھا،۱۹۶۳ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت اور پھر دو سال ممبئی میں امامت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد آپ نےاب منکی قصبے کو مستقل مستقر بنایا تھا،اس وقت وہ مولانا ندوی علیہ الرحمۃ سے سے ملنے جامع مسجد بھٹکل آیا کرتے تھے۔جہاں اس وقت جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی تعلیمی درجات لگتے تھے۔ پرانی جامع مسجد میں جہاں وضو کے لئے حوض بنا ہوا تھا، اس کے بائیں طرف ایک چوڑی لکڑی سے بنی سیڑھی اوپر کو جاتی تھی، جس پر چڑھنے کے بعد دائیں طرف ایک ہال ہوا کرتا تھا،جس میں مولانا ندوی کا درجہ لگتا تھا، مولانا کلاسوں میں نہیں جاتے تھے بلکہ طلبہ مولانا کے پاس یہاں آیا کرتے تھے،مولانا جہاں بیٹھتے تھے اس کے دائیں طرف ایک چھوٹا سا کمرہ ہوا کرتا تھا، جس میں جماعت المسلمین کا آفس تھا۔
مولانا شبیر صاحب کا یہ عنفوان شباب تھے، عمر تیئیس چوبیس کے پیٹھے میں رہی ہوگی، گورا چٹھا رنگ، نازک اندام بدن ، دھان پان جسم، ڈاڑھی صرف ٹھوڑی پر نکلی ہوئی، جو دیکھنے میں بڑی بھلی لگتی تھی۔
مولانا کا تعلق منکی کے قاضی گھرانے سے تھا، اسی گھرانے کے افراد ایک طویل زمانے سے پڑوسی قصبے مرڈیشور اور ولکی میں بھی منصب قضا پر چلے آرہے ہیں، سنا ہے کہ اسی خاندان کے ایک فرد قاضی بھٹکل مولانا ابوبکر خطیبی اوپا خلفو سے قبل بھٹکل کی قاضی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے،
قاضی شبیر کے والد ماجد کا انتقال کم عمری میں ہوگیا تھا، آپ کی ابتدائی تعلیم اس وقت کے نظام کے مطابق منکی کے قدیم دینی مکتب انجمن نصرۃ المسلمین منکی میں ہوئی تھی ۔ جس کے پرانے اساتذہ میں ملا عبد القادر خلفو کا ذکر آتا ہے۔
یہاں سے آپ کے چچا علی باپو اسماعیل صاحب نے جنہوں نے بعد میں اپنی دختر آپ سے بیاہی تھی، آپکو مزید تعلیم کے لئے ممبئی لے گئے، جہاں دوٹانکی میں قائم مدرسہ امدادیہ میں آپ کا داخلہ ہوا۔ ممبئی میں آپ کے ایک اور چچا علی باپو باپصاحب کا نل بازار میں ناریل اور کھوپرے کا کاروبار تھا۔
۱۹۶۱ء میں آپ کی امدادیہ سے فراغت ہوئی، جہاں سے آپ کو چچا علی باپو صاحب نے دار العلوم دیوبند بھیج دیا، جہاں سے ۱۹۶۳ء میں آپ کی فراغٹ ہوئی۔ ممبئی میں فراغت کے بعد دوسال قاضی عطاء اللہ مرگھے کے تعاون سے ایک شافعی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دئے، اور ۱۹۶۵ء میں اپنے وطن منکی تشریف لے آئے، جہاں آپ نے مادر علمی انجمن نصرۃ المسلمین میں تدریسی خدمات انجام دیں، اس وقت جماعت المسلمین منکی نے آپ کو قاضی شہر مقرر کیا، اس وقت انجمن کا نام بدل کر مدرسہ رحمانیۃ رکھا گیا تھا،یہاں آپ نے مسلسل نو سال خدمت انجام دی۔ جہاں آپ کے ہاتھوں ایک نسل دینی تعلیم سے آراستہ ہوئی۔اس زمانے میں پرائمری اسکول صبح ساڑھے دس بجے چھوٹ جاتے تھے، یہاں سے بچے آپ کے پاس رحمانیہ آتے اور بارہ ساڑھے بارہ بجے تک قرآن اور دینی تعلیم سے آراستہ ہوتے ۔ اس طرح ایک نسل آپ کی تعلیم وتربیت سے مزین ہوئی۔
۱۹۷۵ء کے بعد آپ نے دوبارہ ممبئی کا رخ کیا، جہاں آپ نے دوبارہ ایک مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے شروع کئے ، اس دوران امارات کے شہر العین کے ایک بڑے تاجر عبد الرحمن زرعونی کو جو شہر کے انفراسٹرکچر کی تعمیرات سے وابستہ تھے، اورجس وقت شہر میں گھروں میں پائپوں سے پانی کی سپلائی شروع نہیں ہوئی تھی، ٹنکروں سے گھر گھر پانی سپلائی کرتے تھے، آپ کے پیچھے نمازیں پڑھنے کا موقعہ ملا، آپ کی خوبصورت تلاوت ، اور امامت کے روائیتی انداز سے اتنے متاثر ہوئے کہ ۱۹۸۰ء میں اصرار کرکے العین کے قلب شہر میں واقع اپنی تعمیر کردہ جامع مسجد میں امامت کی ذمہ داری پر فائز کردیا، جہاں آپ نے ۱۹۹۵ ء میں آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی وجہ سے سبکدوشی اختیار کی۔
یہاں ہمیں مولانا کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا، کیونکہ ۱۹۷۹ء میں ملازمت کی تلاش میں میرا دبی جانا ہوا، تو ہمارے کمرے کے ساتھیوں عبد لحق دامدا فقیہ، اور ثناء اللہ دامدافقیہ نے العین میں اپنا کاروبار شروع کیا تھا، قریبی عزیز عبید اللہ رکن الدین کی بھی وہاں پر کپڑے کی دکان تھی، اس زمانے میں العین باغات کا شہر تھا، یہاں گھومنے پھرنے اور تفریح کی جگہیں تھی امارات میں کہیں اور نہیں پائی جاتی تھیں، لہذا مہینے دومہینے میں العین کا چکر لگ جایا کرتا تھا، مولانا کی مسجد کی پہلی منزل، جس کی اونچائی کچھ کم تھی اور نماز کے لئے استعمال نہیں ہوتی تھی، مہمانوں کا بہترین مسکن تھی، مولانا کا بھی یہی مسکن تھا۔ یہاں مولانا کی خوش مزاجی اور اعلی مہمان نوازی کا خوب لطف آتا تھا، مولانا حقیقی معنوں میں بڑے با اخلاق اور ملنسار تھے، ہمارا یقین ہے کہ مولانا کی زندگی میں آپ کی ذات سے کسی کو شاید ہی کوئی تکلیف پہنچی ہو، مولانا نے اپنے تینوں لڑکوں کو وہاں پر عربی سرکاری اسکولوں میں تعلیم دی، امارات میں یہ بہت ہی نایاب مثال ہے۔
۱۹۹۵ء سے انتقال تک آپ نے اپنے وطن عزیز کی خدمت کی آپ مدرسہ رحمانیہ منکی کے ناظم اعلی رہے، اور قصبے کے لوگ آپ کی رہنمائی اور مشوروں سے فیض یاب ہوتے رہے، آج منکی ایک قابل مثال بستی ہے، یہاں پر مولانا قاضی شکیل احمد اور ان کے رفقاء منظم طور پر بہترین دینی و اجتماعی خدمات انجام دے رہے ہیں، قاضی شبیر کی دعائیں اور رہنمائیاں ہمیشہ ان کے ساتھ رہی ہیں۔
مولانا قاضی محمد شبیر صاحب ایک طبعی عمر گذار کر اپنے رب کی طرف لوٹ گئے ، ہمیں بھی اسی طرح ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانا ہے، مولانا جس باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے، اس کی یادیں اور محبتیں ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالی مرحوم کے نیک کاموں کو قبول کرے، اور انہیں اعلی علیین میں جگہ دے۔ آمین
2026-04-21
Https://telegram.me/ilmokitab
۱۹۹۵ء سے انتقال تک آپ نے اپنے وطن عزیز کی خدمت کی آپ مدرسہ رحمانیہ منکی کے ناظم اعلی رہے، اور قصبے کے لوگ آپ کی رہنمائی اور مشوروں سے فیض یاب ہوتے رہے، آج منکی ایک قابل مثال بستی ہے، یہاں پر مولانا قاضی شکیل احمد اور ان کے رفقاء منظم طور پر بہترین دینی و اجتماعی خدمات انجام دے رہے ہیں، قاضی شبیر کی دعائیں اور رہنمائیاں ہمیشہ ان کے ساتھ رہی ہیں۔
مولانا قاضی محمد شبیر صاحب ایک طبعی عمر گذار کر اپنے رب کی طرف لوٹ گئے ، ہمیں بھی اسی طرح ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانا ہے، مولانا جس باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے، اس کی یادیں اور محبتیں ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالی مرحوم کے نیک کاموں کو قبول کرے، اور انہیں اعلی علیین میں جگہ دے۔ آمین
2026-04-21
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
دو سال قبل سنہ 2024ء کو آج ہی کی تاریخ کو استامبول میں *شیخ عبد المجید بن عزیز الزندانی* کی (82) سال کی عمر میں وفات ہوئی تھی۔ آپ کی پیدائش سنہ 1942 یمن کے شہر إب میں ہوئی تھی، آپ ایک عظیم داعی اور خطیب تھے، یمن کی دینی، اجتماعی، اور سیاسی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔
یمن میں ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے مصر کا رخ کیا، جہاں آپ نے عین شمس یونیورسٹی سے فارمیسی کی اور ازہر شریف سے دینی علوم حاصل کئے، یہاں آپ کے ملاقات مشہور اسلامی شاعر محمد محمود الزبیری سے ہوئی، جن سے متاثر ہوکر آپ نے اسلامی تحریک سے وابستہ اختیار کی،اور مختلف حالات نے آپ کو تعلیم چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور کیا۔ آپ یہاں مختلف دینی وسیاسی مناصب پر فائز رہے۔ 1978ء میں آپ نے سعودی عرب کا رخ کیا، اور یہاں کے بڑے علماء سے علم دین کی تکمیل کی، جس کی تکمیل ازہر میں نہ ہوسکی تھی۔
یہاں آپ نے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ میں یمن کے علماء کی نمائندگی کی اور قرآن و حدیث کے اعجاز اور ان کی حقانیت کو عصر حاضر کے سائنسی معیارات کے مطابق ثابت کرنے کے لئے "الھیئۃ العالمیۃ للاعجاز العلمی فی القرآن الکریم و السنۃ النبویۃ" قائم کی، اور اس کے جنرل سکریٹری اور آنریری صدر کے منصب پر فائز رہے، جس کے ماتحت اس موضوع پر عالمی سیمنار منعقد ہوتے ہیں، جن میں چوٹی کے سائنسدان ، ڈاکٹر شریک ہوتے ہیں، اور علمی مقالات کے ذریعہ جدید علوم کے مطابق قرآن و حدیث کی حقانیت کے دلائل کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
اس ناچیز کو حکومت دبی کے ماتحت منعقدہ ان سیمیناروں کو دیکھنے اور اس میں شریک سائنس دانوں، علمائے طبیعیات، ڈاکٹروں وغیرہ کوبراہ راست سننے کا موقعہ ملا ہے۔
اس موضوع پر بولنا یوں تو آج کے زمانے میں ایک فیشن بن گیا ہے، اور دین سے محبت رکھنے والے نوجوان تعلیم یافتہ نوجوانوں کی دلچسپی اور ان میں شہرت پانے کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں اس موضوع کا جو حق شیخ عبد المجید زندانی نے ادا کیا، یہ کسی کا حصہ نہ بن سکا۔ کیونکہ زندانی مرحوم نے اسے صرف سائنس اور طبیعیات کے ایک خشک موضوع تک محدود نہیں رکھا ، بلکہ اس میں دعوت و تحریک کا تڑکہ خوب لگایا، مرحوم بنیادی طور پر ایک سائنسی علوم کے واقف کار سے زیادہ داعی اور مبلغ تھے۔ ہمیں آپ کو سنہ 1980ء کی دہائی میں شارجہ میں شیخ عبد اللہ علی المحمود کے دیوان میں اس موضوع پر سننے کا موقعہ ملا تھا جس کی ویڈیو بھی ہم نے اس وقت بنائی تھی، پھر 1990ء کی دہائی میں بھی سننے کا موقعہ ملا تھا۔ جس میں ہم نے خاص طور پر یہ بات محسوس کی کہ پراجکٹر کے ذریعہ قرآن وحدیث اور سائنس کے حقائق دکھانے اور بولنے کے بعد اپنے خطاب کا اختتام جن پانچ دس منٹ کے کلمات سے وہ کرتے تھے، وہ دل کو گداز کردیتے تھے، اور خشک علمی باتیں سننے کے بات ان چند کلمات سے دل کی جو عجیب کیفیت ہوتی تھی، یہ بات ہم نے اسلام اور سائنس پر بات کرنے والوں میں سے کسی میں بھی نہیں دیکھی۔ اللہ آپ کے حسنات کو قبول کرے۔ احباب کی دلچسپی کے لئے شیخ زندانی کی الاعجاز فی الجبال کے موضوع پر ایک عربی خطاب منسلک ہے۔ جو مندرجہ ذیل لنک سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
https://drive.google.com/file/d/1vZ0NyER-BbxpxqCkdbpIm6UEaQRCJNhE/view?usp=sharing
عبد المتین منیری۔
یمن میں ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے مصر کا رخ کیا، جہاں آپ نے عین شمس یونیورسٹی سے فارمیسی کی اور ازہر شریف سے دینی علوم حاصل کئے، یہاں آپ کے ملاقات مشہور اسلامی شاعر محمد محمود الزبیری سے ہوئی، جن سے متاثر ہوکر آپ نے اسلامی تحریک سے وابستہ اختیار کی،اور مختلف حالات نے آپ کو تعلیم چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور کیا۔ آپ یہاں مختلف دینی وسیاسی مناصب پر فائز رہے۔ 1978ء میں آپ نے سعودی عرب کا رخ کیا، اور یہاں کے بڑے علماء سے علم دین کی تکمیل کی، جس کی تکمیل ازہر میں نہ ہوسکی تھی۔
یہاں آپ نے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ میں یمن کے علماء کی نمائندگی کی اور قرآن و حدیث کے اعجاز اور ان کی حقانیت کو عصر حاضر کے سائنسی معیارات کے مطابق ثابت کرنے کے لئے "الھیئۃ العالمیۃ للاعجاز العلمی فی القرآن الکریم و السنۃ النبویۃ" قائم کی، اور اس کے جنرل سکریٹری اور آنریری صدر کے منصب پر فائز رہے، جس کے ماتحت اس موضوع پر عالمی سیمنار منعقد ہوتے ہیں، جن میں چوٹی کے سائنسدان ، ڈاکٹر شریک ہوتے ہیں، اور علمی مقالات کے ذریعہ جدید علوم کے مطابق قرآن و حدیث کی حقانیت کے دلائل کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
اس ناچیز کو حکومت دبی کے ماتحت منعقدہ ان سیمیناروں کو دیکھنے اور اس میں شریک سائنس دانوں، علمائے طبیعیات، ڈاکٹروں وغیرہ کوبراہ راست سننے کا موقعہ ملا ہے۔
اس موضوع پر بولنا یوں تو آج کے زمانے میں ایک فیشن بن گیا ہے، اور دین سے محبت رکھنے والے نوجوان تعلیم یافتہ نوجوانوں کی دلچسپی اور ان میں شہرت پانے کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں اس موضوع کا جو حق شیخ عبد المجید زندانی نے ادا کیا، یہ کسی کا حصہ نہ بن سکا۔ کیونکہ زندانی مرحوم نے اسے صرف سائنس اور طبیعیات کے ایک خشک موضوع تک محدود نہیں رکھا ، بلکہ اس میں دعوت و تحریک کا تڑکہ خوب لگایا، مرحوم بنیادی طور پر ایک سائنسی علوم کے واقف کار سے زیادہ داعی اور مبلغ تھے۔ ہمیں آپ کو سنہ 1980ء کی دہائی میں شارجہ میں شیخ عبد اللہ علی المحمود کے دیوان میں اس موضوع پر سننے کا موقعہ ملا تھا جس کی ویڈیو بھی ہم نے اس وقت بنائی تھی، پھر 1990ء کی دہائی میں بھی سننے کا موقعہ ملا تھا۔ جس میں ہم نے خاص طور پر یہ بات محسوس کی کہ پراجکٹر کے ذریعہ قرآن وحدیث اور سائنس کے حقائق دکھانے اور بولنے کے بعد اپنے خطاب کا اختتام جن پانچ دس منٹ کے کلمات سے وہ کرتے تھے، وہ دل کو گداز کردیتے تھے، اور خشک علمی باتیں سننے کے بات ان چند کلمات سے دل کی جو عجیب کیفیت ہوتی تھی، یہ بات ہم نے اسلام اور سائنس پر بات کرنے والوں میں سے کسی میں بھی نہیں دیکھی۔ اللہ آپ کے حسنات کو قبول کرے۔ احباب کی دلچسپی کے لئے شیخ زندانی کی الاعجاز فی الجبال کے موضوع پر ایک عربی خطاب منسلک ہے۔ جو مندرجہ ذیل لنک سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
https://drive.google.com/file/d/1vZ0NyER-BbxpxqCkdbpIm6UEaQRCJNhE/view?usp=sharing
عبد المتین منیری۔
*حاصل مطالعہ*
*قسط: ١*
*ختم نبوت کے عقیدے کی اہمیت علامہ اقبال کی نظر میں*
فرمایا: علامہ اقبال نے قادیانیوں کے سلسلے میں ایک بات فرمائی ہے، بڑے پتے کی بات ہے۔ انہوں نے کہا: دین کی بقا قرآن مجید اور حدیث شریف سے ہے اور امت کی بقا ختم نبوت کے عقیدے سے ہے۔ اگر علامہ اقبال ان کی حمایت کرتے تو یہ تحریک اسی وقت بڑا زور پکڑتی اور اس کو بڑی تقویت حاصل ہوتی، اور لمحہ بھر میں پھیل جاتی، ان کے لیے ایک بڑی دلیل ہاتھ آ جاتی، مگر وہ اس کے سخت مخالف تھے۔
*مولانا ثناء اللہ امرتسری کا مرزا قادیانی سے مباہلہ*
فرمایا: مولانا ثناء اللہ امرتسری پوری زندگی بڑی شدت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے رہے، گویا وہ اسی کے لیے وقف تھے، حتی کہ مباہلہ کیا کہ ہم میں سے جو حق پر نہیں، باطل پر ہے وہ مر جائے، اور جو حق پر ہے وہ زندہ رہے، مرزا غلام احمد قادیانی تو چند دنوں میں مر گیا اور مولانا اس کے بعد چالیس سال تک زندہ رہے، ہم نے بھی ان سے ملاقات کی ہے۔
*کتاب "قادیانیت" کی تالیف*
فرمایا: ہم نے ایک کتاب قادیانیت جو لکھی، حضرت مولانا عبدالقادر صاحب رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے لکھی، حضرت ہی کی برکت تھی کہ صرف چوبیس دنوں میں کتاب پوری ہوئی، ایک کمرے میں کتابیں مہیا کر دی گئی تھیں، ہم اسی میں دن بھر مشغول رہتے تھے، نہ کھانے کی فکر تھی نہ کسی اور چیز کا ہوش تھا، بس نماز کے لیے نکلتے، موضوع ہمارے مذاق کے بالکل موافق نہیں تھا، ہمیں موضوعات میں صرف دو چیزوں میں لطف آتا ہے، ایک جس میں معلومات ہو، خصوصا تاریخی معلومات، دوسرے وہ جس میں ادبیت ہو اور یہ موضوع دونوں سے خالی بالکل خشک۔
*قادیانی فتنے کی خطرناکی*
فرمایا: ہم نے پوری تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، لیکن اس سے بڑا اور خطرناک کوئی فتنہ نہیں ہوا، یہ انتہائی خبیث ترین فتنہ ہے، عربی میں اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں تھی، حضرت اس کی شدید ضرورت محسوس کرتے تھے، لاہور میں مذاکرات اسلامی میں شرکت کے لیے کچھ عرب حضرات آئے ہوئے تھے، ان میں معروف دوالیبی بھی تھے، انہوں نے اس کے لیے بہت سے لوگوں سے درخواست کی، مگر کوئی تیار نہیں ہوا، ہمارے حضرت کو اس کی خبر ملی، انہوں نے کہا علی میاں آئیں تو اس سے لپٹ لیں گے۔
مولانا ندر الحفیظ صاحب نے عرض کیا: آپ نے اس پر ایک مقالہ بھی لکھا تھا
القاديانيه ثورة على الرسالة المحمدية؟
فرمایا: ہاں، یہاں ہندوستان میں کچھ حلقوں کی طرف سے ان کی تائید شروع ہو گئی تھی، اور اخبارات بھی اس مسئلے کو اٹھا رہے تھے، کہ اقلیت میں ہیں ان کے لیے رعایت ہونی چاہیے، عربی اخبارات میں کوئی اس قسم کی باتیں آنے لگی تھی، تب ہم نے یہ مقالہ لکھا تھا۔
فرمایا: سب سے پہلے مرزا صاحب نے جس کتاب میں صراحت سے نبوت کا دعوی کیا ان کی ایک عربی کی کتاب تھی، جس کا نام انہوں نے تحفة الندوة رکھا، انہوں نے تقریبا 80 رسالے ندوے کی مخالفت میں لکھے، ہم نے ایک کتاب لکھی تو مرزا صاحب کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود کو بھی جو اس وقت زندہ تھے، ایک کتاب بھیجی اور اس کے سرورق پر لکھا، بجواب تحفة الندوة تاخیر کی معذرت کے ساتھ۔
ہم نے کتاب کا نام القادياني والقاديانية رکھا ہے، ان کو اس پر تعجب ہوا، انہوں نے لکھا اگر ہم کوئی کتاب لکھیں اور الندوی والندویة رکھیں تو مولانا برا نہیں مانیں گے؟ ہم نے کہا: نہیں۔
پھر آخر میں طلبہ سے مخاطب ہو کر فرمایا ہماری یہ کتاب اردو میں یا عربی میں آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے، قادیانیت سے واقف رہنا چاہیے، کہیں بھی اس سے واسطہ پڑ سکتا ہے، اس لیے چوکنا رہنا چاہیے۔
*(مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللّٰہ)*
*مجالس حسنہ*
*صفحہ نمبر (١٣٤- ١٣٦)*
*ترتیب و پیشکش: ابنائے جامعہ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل*
*قسط: ١*
*ختم نبوت کے عقیدے کی اہمیت علامہ اقبال کی نظر میں*
فرمایا: علامہ اقبال نے قادیانیوں کے سلسلے میں ایک بات فرمائی ہے، بڑے پتے کی بات ہے۔ انہوں نے کہا: دین کی بقا قرآن مجید اور حدیث شریف سے ہے اور امت کی بقا ختم نبوت کے عقیدے سے ہے۔ اگر علامہ اقبال ان کی حمایت کرتے تو یہ تحریک اسی وقت بڑا زور پکڑتی اور اس کو بڑی تقویت حاصل ہوتی، اور لمحہ بھر میں پھیل جاتی، ان کے لیے ایک بڑی دلیل ہاتھ آ جاتی، مگر وہ اس کے سخت مخالف تھے۔
*مولانا ثناء اللہ امرتسری کا مرزا قادیانی سے مباہلہ*
فرمایا: مولانا ثناء اللہ امرتسری پوری زندگی بڑی شدت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے رہے، گویا وہ اسی کے لیے وقف تھے، حتی کہ مباہلہ کیا کہ ہم میں سے جو حق پر نہیں، باطل پر ہے وہ مر جائے، اور جو حق پر ہے وہ زندہ رہے، مرزا غلام احمد قادیانی تو چند دنوں میں مر گیا اور مولانا اس کے بعد چالیس سال تک زندہ رہے، ہم نے بھی ان سے ملاقات کی ہے۔
*کتاب "قادیانیت" کی تالیف*
فرمایا: ہم نے ایک کتاب قادیانیت جو لکھی، حضرت مولانا عبدالقادر صاحب رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے لکھی، حضرت ہی کی برکت تھی کہ صرف چوبیس دنوں میں کتاب پوری ہوئی، ایک کمرے میں کتابیں مہیا کر دی گئی تھیں، ہم اسی میں دن بھر مشغول رہتے تھے، نہ کھانے کی فکر تھی نہ کسی اور چیز کا ہوش تھا، بس نماز کے لیے نکلتے، موضوع ہمارے مذاق کے بالکل موافق نہیں تھا، ہمیں موضوعات میں صرف دو چیزوں میں لطف آتا ہے، ایک جس میں معلومات ہو، خصوصا تاریخی معلومات، دوسرے وہ جس میں ادبیت ہو اور یہ موضوع دونوں سے خالی بالکل خشک۔
*قادیانی فتنے کی خطرناکی*
فرمایا: ہم نے پوری تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، لیکن اس سے بڑا اور خطرناک کوئی فتنہ نہیں ہوا، یہ انتہائی خبیث ترین فتنہ ہے، عربی میں اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں تھی، حضرت اس کی شدید ضرورت محسوس کرتے تھے، لاہور میں مذاکرات اسلامی میں شرکت کے لیے کچھ عرب حضرات آئے ہوئے تھے، ان میں معروف دوالیبی بھی تھے، انہوں نے اس کے لیے بہت سے لوگوں سے درخواست کی، مگر کوئی تیار نہیں ہوا، ہمارے حضرت کو اس کی خبر ملی، انہوں نے کہا علی میاں آئیں تو اس سے لپٹ لیں گے۔
مولانا ندر الحفیظ صاحب نے عرض کیا: آپ نے اس پر ایک مقالہ بھی لکھا تھا
القاديانيه ثورة على الرسالة المحمدية؟
فرمایا: ہاں، یہاں ہندوستان میں کچھ حلقوں کی طرف سے ان کی تائید شروع ہو گئی تھی، اور اخبارات بھی اس مسئلے کو اٹھا رہے تھے، کہ اقلیت میں ہیں ان کے لیے رعایت ہونی چاہیے، عربی اخبارات میں کوئی اس قسم کی باتیں آنے لگی تھی، تب ہم نے یہ مقالہ لکھا تھا۔
فرمایا: سب سے پہلے مرزا صاحب نے جس کتاب میں صراحت سے نبوت کا دعوی کیا ان کی ایک عربی کی کتاب تھی، جس کا نام انہوں نے تحفة الندوة رکھا، انہوں نے تقریبا 80 رسالے ندوے کی مخالفت میں لکھے، ہم نے ایک کتاب لکھی تو مرزا صاحب کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود کو بھی جو اس وقت زندہ تھے، ایک کتاب بھیجی اور اس کے سرورق پر لکھا، بجواب تحفة الندوة تاخیر کی معذرت کے ساتھ۔
ہم نے کتاب کا نام القادياني والقاديانية رکھا ہے، ان کو اس پر تعجب ہوا، انہوں نے لکھا اگر ہم کوئی کتاب لکھیں اور الندوی والندویة رکھیں تو مولانا برا نہیں مانیں گے؟ ہم نے کہا: نہیں۔
پھر آخر میں طلبہ سے مخاطب ہو کر فرمایا ہماری یہ کتاب اردو میں یا عربی میں آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے، قادیانیت سے واقف رہنا چاہیے، کہیں بھی اس سے واسطہ پڑ سکتا ہے، اس لیے چوکنا رہنا چاہیے۔
*(مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللّٰہ)*
*مجالس حسنہ*
*صفحہ نمبر (١٣٤- ١٣٦)*
*ترتیب و پیشکش: ابنائے جامعہ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل*
❤2
سنہ ۱۹۸۸ء مشاعرہ بہ یاد گار فیض میں پیش کردہ ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد کا پیش کردہ کلام https://youtu.be/tFo3-x0rMRc?si=4Oyka1tDuyQoWb78
یوم وفات 22 اپریل پر خصوصی
ملک زادہ منظور احمد کی یاد میں
معصوم مرادآبادی
”ماہ وسال کی گرد چہرے پر جم رہی ہے۔ شریانوں میں دوڑتے ہوئے گرم خون کی چہچہاہٹ مدھم ہوگئی ہے۔ بالوں کی سفیدی کو خضاب کی کرشمہ سازی نے چھپا رکھا ہے۔ آنکھوں کی بینائی کمزور پڑچکی ہے۔ عمر باسٹھ برس کے کچھ اوپر ہے مگر دنیا کو دیکھنے اور برتنے کا حوصلہ ہنوز دل میں باقی ہے۔ زندگی کی ناہمواریوں کے خلاف جہاد کرنے کو جی چاہتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ استحصال کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ عیاریوں کا پردہ فاش کیاجائے۔ مگر خاموش ہوں، مصلحتوں کی زنجیر میں پیر جکڑ گئے ہیں۔ اشعار میں دل کی بھڑاس ضرور نکالتا ہوں مگر اب لہجے میں وہ تیور اور استقامت باقی نہیں ہے جو پہلے تھی۔ شعلہ نوا استعارات اور کنایات کی راکھ میں دبتا چلاجارہا ہے۔“
ممتاز شاعر ملک زادہ منظور احمد نے ان تاثرات کا اظہار اپنی دلچسپ آپ بیتی ’رقص شرر‘ کے ابتدائی صفحات میں اب سے 25برس پہلے کیا تھا۔ ان کے دل میں بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود دنیا کو برتنے کا جو حوصلہ موجود تھا، اس نے چوتھائی صدی تک ان کا ساتھ دیااور ان کے لہجے میں آخری دم تک وہ گھن گرج باقی رہی جو انہیں اپنے ہم عصر شاعروں اور دانشوروں میں ممتاز حیثیت عطا کرتی ہے۔ گزشتہ 22اپریل 2016 کو عین نماز جمعہ کے وقت جب انہوں نے اپنی جان، جانِ آفریں کے سپردکی توان کی عمر87 برس تھی۔ وہ اردو زبان اور تہذیب کا ایک ایسا جیتا جاگتا نمونہ تھے کہ ان کے پاس دیرتک بیٹھنے کو جی چاہتا تھا۔ جن لوگوں نے اردو زبان کی چاشنی، شعری رچاؤ اور تہذیبی بوقلمونی کے قصے کتابوں میں پڑھے ہیں، وہ ان کی خوشبو ملک زادہ صاحب کی شخصیت اور گفتگو میں محسوس کرتے تھے۔ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے ایسے نازک وقت میں آنکھیں موندھی ہیں جب اردو زبان اور تہذیب کے سامنے خود کو بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔ وہ دبستان لکھنؤ کے ایسے آخری نمائندہ ادیب، شاعر اور دانشور تھے جس نے اپنی جاگتی آنکھوں سے اردو زبان وتہذیب کے عروج و زوال کو دیکھا تھا۔ اپنے نصف صدی سے زیادہ کے شعری اور ادبی سفر میں انہوں نے ان تمام قدروں کو سینے سے لگائے رکھا جو اردوزبان اور تہذیب کا خاصہ ہیں۔ وہ اردو کو محض ایک زبان اور ذریعہ اظہار نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے نزدیک اردو ایک تہذیب اور طرز زندگی کا بھی نام تھا۔ انہوں نے تمام زندگی اعلیٰ انسانی اور ادبی قدروں کی پاسداری کی اور کبھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ آخری وقت تک اردو زبان کا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔انہیں نظم اور نثر دونوں پر یکساں عبور حاصل تھا۔ جہاں ایک طرف ان کا شعری سرمایہ شعروسخن کے میدان میں ان کے بلند مرتبے کا گواہ ہے وہیں دوسری طرف ان کی دلچسپ اور دلنشین آب بیتی’رقص شرر‘ اردو نثر پر ان کی بہترین گرفت کی آئینہ دار ہے۔
ملک زادہ منظور احمد نے اپنی علمی اور ادبی خدمات سے اردو کو جلا بخشی اور ملک کی سب سے بڑی ریاست میں دم توڑتی ہوئی اردو زبان کو نئی زندگی عطا کرنے کی عملی جدوجہد بھی کی۔ انہوں نے اردو رابطہ کمیٹی کے پرچم تلے اس زبان کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کی جدوجہد بھی کی۔ اردو رابطہ کمیٹی کے صدر ممتاز افسانہ نگار رام لال تھے اور ملک زادہ منظور احمد اس کے جنرل سکریٹری۔ 1988میں اردو رابطہ کمیٹی کی عظیم الشان کانفرنس لکھنؤ میں منعقد ہوئی تھی جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس میں اردو کے اکابرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہی کانفرنس ان سے قلبی تعلق کا وسیلہ بنی۔ وہ راقم الحروف کی ادارت میں گزشتہ چوتھائی صدی سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ اخبار ’خبردار‘ کے مستقل قاری تھے اور اکثر اپنی تحریریں اشاعت کے لئے روانہ کرتے تھے۔
ملک زادہ منظور احمد کی یاد میں
معصوم مرادآبادی
”ماہ وسال کی گرد چہرے پر جم رہی ہے۔ شریانوں میں دوڑتے ہوئے گرم خون کی چہچہاہٹ مدھم ہوگئی ہے۔ بالوں کی سفیدی کو خضاب کی کرشمہ سازی نے چھپا رکھا ہے۔ آنکھوں کی بینائی کمزور پڑچکی ہے۔ عمر باسٹھ برس کے کچھ اوپر ہے مگر دنیا کو دیکھنے اور برتنے کا حوصلہ ہنوز دل میں باقی ہے۔ زندگی کی ناہمواریوں کے خلاف جہاد کرنے کو جی چاہتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ استحصال کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ عیاریوں کا پردہ فاش کیاجائے۔ مگر خاموش ہوں، مصلحتوں کی زنجیر میں پیر جکڑ گئے ہیں۔ اشعار میں دل کی بھڑاس ضرور نکالتا ہوں مگر اب لہجے میں وہ تیور اور استقامت باقی نہیں ہے جو پہلے تھی۔ شعلہ نوا استعارات اور کنایات کی راکھ میں دبتا چلاجارہا ہے۔“
ممتاز شاعر ملک زادہ منظور احمد نے ان تاثرات کا اظہار اپنی دلچسپ آپ بیتی ’رقص شرر‘ کے ابتدائی صفحات میں اب سے 25برس پہلے کیا تھا۔ ان کے دل میں بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود دنیا کو برتنے کا جو حوصلہ موجود تھا، اس نے چوتھائی صدی تک ان کا ساتھ دیااور ان کے لہجے میں آخری دم تک وہ گھن گرج باقی رہی جو انہیں اپنے ہم عصر شاعروں اور دانشوروں میں ممتاز حیثیت عطا کرتی ہے۔ گزشتہ 22اپریل 2016 کو عین نماز جمعہ کے وقت جب انہوں نے اپنی جان، جانِ آفریں کے سپردکی توان کی عمر87 برس تھی۔ وہ اردو زبان اور تہذیب کا ایک ایسا جیتا جاگتا نمونہ تھے کہ ان کے پاس دیرتک بیٹھنے کو جی چاہتا تھا۔ جن لوگوں نے اردو زبان کی چاشنی، شعری رچاؤ اور تہذیبی بوقلمونی کے قصے کتابوں میں پڑھے ہیں، وہ ان کی خوشبو ملک زادہ صاحب کی شخصیت اور گفتگو میں محسوس کرتے تھے۔ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے ایسے نازک وقت میں آنکھیں موندھی ہیں جب اردو زبان اور تہذیب کے سامنے خود کو بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔ وہ دبستان لکھنؤ کے ایسے آخری نمائندہ ادیب، شاعر اور دانشور تھے جس نے اپنی جاگتی آنکھوں سے اردو زبان وتہذیب کے عروج و زوال کو دیکھا تھا۔ اپنے نصف صدی سے زیادہ کے شعری اور ادبی سفر میں انہوں نے ان تمام قدروں کو سینے سے لگائے رکھا جو اردوزبان اور تہذیب کا خاصہ ہیں۔ وہ اردو کو محض ایک زبان اور ذریعہ اظہار نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے نزدیک اردو ایک تہذیب اور طرز زندگی کا بھی نام تھا۔ انہوں نے تمام زندگی اعلیٰ انسانی اور ادبی قدروں کی پاسداری کی اور کبھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ آخری وقت تک اردو زبان کا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔انہیں نظم اور نثر دونوں پر یکساں عبور حاصل تھا۔ جہاں ایک طرف ان کا شعری سرمایہ شعروسخن کے میدان میں ان کے بلند مرتبے کا گواہ ہے وہیں دوسری طرف ان کی دلچسپ اور دلنشین آب بیتی’رقص شرر‘ اردو نثر پر ان کی بہترین گرفت کی آئینہ دار ہے۔
ملک زادہ منظور احمد نے اپنی علمی اور ادبی خدمات سے اردو کو جلا بخشی اور ملک کی سب سے بڑی ریاست میں دم توڑتی ہوئی اردو زبان کو نئی زندگی عطا کرنے کی عملی جدوجہد بھی کی۔ انہوں نے اردو رابطہ کمیٹی کے پرچم تلے اس زبان کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کی جدوجہد بھی کی۔ اردو رابطہ کمیٹی کے صدر ممتاز افسانہ نگار رام لال تھے اور ملک زادہ منظور احمد اس کے جنرل سکریٹری۔ 1988میں اردو رابطہ کمیٹی کی عظیم الشان کانفرنس لکھنؤ میں منعقد ہوئی تھی جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس میں اردو کے اکابرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہی کانفرنس ان سے قلبی تعلق کا وسیلہ بنی۔ وہ راقم الحروف کی ادارت میں گزشتہ چوتھائی صدی سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ اخبار ’خبردار‘ کے مستقل قاری تھے اور اکثر اپنی تحریریں اشاعت کے لئے روانہ کرتے تھے۔
عام طورپر ہمارے شعراء اپنی تمام ترتوجہ اپنی نرگسی شخصیت کی تعمیر اور تدوین پر صرف کرتے ہیں اور اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ مشاعروں کے عوض حاصل ہونے والی شہرت اور عوامی مقبولیت سے وہ اپنے گردوپیش کو بارونق بناتے ہیں۔ بڑے بڑے اعزازات حاصل کرکے سکہ رائج الوقت بننے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن ملک زادہ صاحب نے مشاعروں کے حوالے سے شہرت اور مقبولیت حاصل کی تھی، اس کا استعمال انہوں نے اردو تحریک کو توانائی بخشنے کے لئے کیا۔ مشاعروں کی نظامت کے حوالے سے انہوں نے جو گراں قدر خدمات انجام دیں اور اس فن میں جو ملکہ حاصل کیا، وہ کسی دوسرے شاعر کا حصہ نہیں بن سکا۔ انہوں نے نظامت کے فن کو بام عروج پر پہنچایا۔ وہ جس مشاعرے کی نظامت کا فریضہ انجام دیتے تھے، اس کی کامیابی یقینی تصور کی جاتی تھی۔ وہ مشاعرے کے سامعین کو جہاں اردوزبان وتہذیب کی تسبیح میں پروئے رکھتے تھے، وہیں شعرائے کرام کو بھی اس بات پر مجبور کرتے تھے کہ وہ شعر وسخن کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ نظامت کے دوران جو نپے تلے اور تراشیدہ جملے ان کی زبان سے ادا ہوتے تھے، وہ مشاعرہ ختم ہونے کے بعد ایسے ہی زبان زدخاص وعام ہوجاتے تھے، جیسا کہ اس مشاعرے کے مقبول اشعار۔ ان کے لہجے میں جو ایک خاص قسم کی گھن گرج تھی اس سے مشاعرے کا پورا پنڈال گونجتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا گویا اردو زبان اور تہذیب کا جادوگر سامعین سے ہم کلام ہے۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے کہ انہوں نے پورے پچاس برس دہلی میں بزم شنکر وشاد کے مشاعرے کی نظامت کا فریضہ انجام دیا اور اپنے انتقال سے ڈیڑھ ماہ پیشتر یعنی 5مارچ 2016 کو وہ اسی آب وتاب کے ساتھ اس مشاعرے میں آخری بار شریک ہوئے۔ ہرچند کہ ان کے اعضاء جواب دینے لگے تھے اور ان کا جسم کمزور ہڈیوں کا ایک ہار محسوس ہوتا تھا لیکن ان کی جاگتی آنکھوں اور بیدار ذہن میں ماضی، حال اور مستقبل کے سارے مناظر کروٹیں بدلتے رہتے تھے۔ پروفیسر وسیم بریلوی کے بقول:
”انہوں نے شعری روایات کو نئی زندگی اور مشاعروں کے آداب کو نئی بلندی عطا کی۔ ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے پچاس سالہ سفر میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنی زبان سے کوئی کمزور جملہ ادا کیا ہو۔“
مشاعروں کی نظامت کے حوالے سے خود اپنے بارے میں ملک زادہ منظور احمد کی رائے یہ تھی:
”مجھے اس بات پر فخر ہے کہ آزادی وطن کے بعد میری شناخت کا امتیازی پہلو مشاعرہ اور مشاعروں میں شعراء کا تعارف کرانا رہا ہے۔“
(شہر ادب: صفحہ94)
ملک زادہ منظور احمد نے محض شہرت، دولت اور ثروت کے لئے مشاعروں کی دنیا آباد نہیں کی تھی۔ وہ خانہ بدوش قسم کے شاعر بھی نہیں تھے وہ اس معاملے میں اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ وہ اچھے اور معیاری مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ اپنے ہم عصر شاعروں اور ادیبوں کے علاوہ وہ اپنے جونیئر شعراء اور ادیبوں کے ساتھ یکساں محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ ان کے اندر نہ تو احساس برتری تھا اور نہ ہی وہ اپنے چھوٹوں پر اپنے بڑا ہونے کا رعب دکھاتے تھے بلکہ عاجزی انکسار اور ملائمیت کے ساتھ پیش آنا ان کا وطیرہ تھا۔
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ ان کی پیدائش 17اکتوبر 1929کو ضلع فیض آباد کے گاؤں ’بھدہنڑ‘ میں ہوئی تھی۔ وہ اپنے پیدائشی گاؤں کے نام کو غیر شاعرانہ تصور کرتے تھے۔
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے تاریخ، انگریزی اور اردو میں ایم اے کرنے کے بعد”مولانا ابوالکلام آزاد: فکروفن“کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور پہلے پہل 1951میں مہاراج گنج کے ایک کالج میں لیکچرر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں گورکھ پور اور پھر اعظم گڑھ کے شبلی کالج میں 1953سے 1964تک انگریزی کے لیکچرر رہے۔ وہ فراق گورکھپوری کے بعد اردو کے غالباً دوسرے شاعر تھے جنہیں انگریزی پر بھی اردو جیسا ہی عبور حاصل تھا۔ وہ گورکھپور یونیورسٹی میں 1964سے 1968تک اردو کے لیکچرر رہے لیکن انہوں نے درس وتدریس کے میدان میں سب سے زیادہ طویل عرصہ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں گزارا، جہاں انہوں نے 1968 سے 1990 تک لیکچرر، ریڈر اور پروفیسر کی خدمات انجام دیں۔ ملک زادہ صاحب کو مختلف نوعیت کے تقریباً 90ایوارڈوں سے سرفراز کیاگیا۔ جن میں دوحہ کا عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ بھی شامل ہے۔انہیں آخری ایوارڈ دسمبر 2015 میں غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی نے عطا کیا تھا۔
”انہوں نے شعری روایات کو نئی زندگی اور مشاعروں کے آداب کو نئی بلندی عطا کی۔ ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے پچاس سالہ سفر میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنی زبان سے کوئی کمزور جملہ ادا کیا ہو۔“
مشاعروں کی نظامت کے حوالے سے خود اپنے بارے میں ملک زادہ منظور احمد کی رائے یہ تھی:
”مجھے اس بات پر فخر ہے کہ آزادی وطن کے بعد میری شناخت کا امتیازی پہلو مشاعرہ اور مشاعروں میں شعراء کا تعارف کرانا رہا ہے۔“
(شہر ادب: صفحہ94)
ملک زادہ منظور احمد نے محض شہرت، دولت اور ثروت کے لئے مشاعروں کی دنیا آباد نہیں کی تھی۔ وہ خانہ بدوش قسم کے شاعر بھی نہیں تھے وہ اس معاملے میں اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ وہ اچھے اور معیاری مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ اپنے ہم عصر شاعروں اور ادیبوں کے علاوہ وہ اپنے جونیئر شعراء اور ادیبوں کے ساتھ یکساں محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ ان کے اندر نہ تو احساس برتری تھا اور نہ ہی وہ اپنے چھوٹوں پر اپنے بڑا ہونے کا رعب دکھاتے تھے بلکہ عاجزی انکسار اور ملائمیت کے ساتھ پیش آنا ان کا وطیرہ تھا۔
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ ان کی پیدائش 17اکتوبر 1929کو ضلع فیض آباد کے گاؤں ’بھدہنڑ‘ میں ہوئی تھی۔ وہ اپنے پیدائشی گاؤں کے نام کو غیر شاعرانہ تصور کرتے تھے۔
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے تاریخ، انگریزی اور اردو میں ایم اے کرنے کے بعد”مولانا ابوالکلام آزاد: فکروفن“کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور پہلے پہل 1951میں مہاراج گنج کے ایک کالج میں لیکچرر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں گورکھ پور اور پھر اعظم گڑھ کے شبلی کالج میں 1953سے 1964تک انگریزی کے لیکچرر رہے۔ وہ فراق گورکھپوری کے بعد اردو کے غالباً دوسرے شاعر تھے جنہیں انگریزی پر بھی اردو جیسا ہی عبور حاصل تھا۔ وہ گورکھپور یونیورسٹی میں 1964سے 1968تک اردو کے لیکچرر رہے لیکن انہوں نے درس وتدریس کے میدان میں سب سے زیادہ طویل عرصہ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں گزارا، جہاں انہوں نے 1968 سے 1990 تک لیکچرر، ریڈر اور پروفیسر کی خدمات انجام دیں۔ ملک زادہ صاحب کو مختلف نوعیت کے تقریباً 90ایوارڈوں سے سرفراز کیاگیا۔ جن میں دوحہ کا عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ بھی شامل ہے۔انہیں آخری ایوارڈ دسمبر 2015 میں غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی نے عطا کیا تھا۔
متعدد طلباء نے انہیں تحقیق کا موضوع بنایا۔ ناگپور یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو”پروفیسر ملک زادہ منظور احمد شخصیت اور کارنامے‘‘ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی گئی۔وہ یوپی اردو اکیڈمی کے صدر اور فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چیئرمین کے علاوہ قومی اردو کونسل اور پرسار بھارتی کے بھی ممبر رہے۔ انہوں نے پاکستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ایران، بحرین، مسقط، قطر، کناڈا، امریکہ، نیپال جیسے ملکوں میں متعدد مشاعروں میں شرکت کی۔ ان کی شائع شدہ دس کتابوں میں کالج گرل (ناول) اردو کا مسئلہ، شہر سخن، مولانا ابوالکلام آزاد: فکر وفن(پی ایچ ڈی کا مقالہ) مولانا آزاد الہلال کے آئینے میں، ’غبار خاطر کا تنقیدی مطالعہ، رقص شرر (خود نوشت) انتخاب غزلیات اور’شعر وادب‘ شامل ہیں۔ انہوں نے ماہنامہ ’امکان‘ کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی شائع کیا۔ جس کے اداریے بڑے فکر انگیز ہوا کرتے تھے۔
اردو رابطہ کمیٹی کی یہ تحریک محض کوئی رسمی تحریک نہیں تھی بلکہ اس کی پشت پر اخلاص اور محبت کا بوجھ تھا۔ انٹرویو کے دوران ملک زادہ صاحب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اس وقت اردو والوں نے بغیر لڑائی کے ہی ہار مان لی ہے۔ ادھر برسوں سے اترپردیش اور دہلی میں کوئی تحریک نہیں ہے۔ وہ جمہوری طریقوں سے اردو زبان کا کھویا ہوا وقار بحال کرانے کے طرف دار تھے۔ ان کاکہنا تھا کہ”آزادی وطن کے بعد جب ہم ماہ وسال کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو ہمارے ملک میں اردو زبان کا مسئلہ قدم قدم پر الجھتا ہوا نظر آتاہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے رجعت پرست عناصر نے منظم طورپر عوام سے اردو زبان کے رشتے کو کاٹنے کے لئے ایک سازش کرلی ہو۔“انہیں اردو میں اچھے ادب کی تخلیق نہ ہونے کا بھی شکوہ تھا۔ ان کاکہنا تھا ”تقسیم ملک کے سانحہ نے اچھے ادب کی تخلیق کے لئے بہت سے عنوانات فراہم کردیئے تھے مگر وہ نسل رفتہ رفتہ ختم ہوتی جارہی تھی جو اس اعلیٰ درجے کے ادب سے استفادہ کرسکتی تھی۔اگر کسی زبان میں 30-35سال تک اچھے ادب کی تخلیق نہ ہو تو یہ کوئی بہت بڑا المیہ نہیں ہوتا۔ سانحہ یہ ہوتا ہے کہ اچھا ادب تو تخلیق ہوتا رہے مگر اس کے پڑھنے والے ختم ہوجائیں۔ ہمارے عہد کا اولین تقاضہ یہ تھا کہ ہم بادمخالف کی زد پر اردو زبان کے چراغ کو روشن رکھتے تاکہ اس کی روشنی میں ادب کی اعلیٰ وارفع قدروں کی شناخت ہوسکتی۔“
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے علمی ادبی اور شعری میدان میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اس کے مطابق ان کی پذیرائی نہیں کی گئی۔ غالباً اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو کسی ادبی گروہ کا حصہ تھے اور نہ ہی انہیں حاشیہ برداری پر یقین تھا۔ بلکہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں پر بھروسہ رکھتے تھے۔ معروف شاعر منور رانا نے ملک زادہ منظور احمد کے انتقال کو ایک عہد کا خاتمہ قرار دیتے ہوئے درست کہا ہے کہ ”ملک زادہ منظور احمد نے جیسا اردوادب اردو والوں کو دیا ہے، اس کا اعتراف نہ ہونا ہماری بے حسی کو ظاہرکرتاہے۔“
اردو رابطہ کمیٹی کی یہ تحریک محض کوئی رسمی تحریک نہیں تھی بلکہ اس کی پشت پر اخلاص اور محبت کا بوجھ تھا۔ انٹرویو کے دوران ملک زادہ صاحب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اس وقت اردو والوں نے بغیر لڑائی کے ہی ہار مان لی ہے۔ ادھر برسوں سے اترپردیش اور دہلی میں کوئی تحریک نہیں ہے۔ وہ جمہوری طریقوں سے اردو زبان کا کھویا ہوا وقار بحال کرانے کے طرف دار تھے۔ ان کاکہنا تھا کہ”آزادی وطن کے بعد جب ہم ماہ وسال کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو ہمارے ملک میں اردو زبان کا مسئلہ قدم قدم پر الجھتا ہوا نظر آتاہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے رجعت پرست عناصر نے منظم طورپر عوام سے اردو زبان کے رشتے کو کاٹنے کے لئے ایک سازش کرلی ہو۔“انہیں اردو میں اچھے ادب کی تخلیق نہ ہونے کا بھی شکوہ تھا۔ ان کاکہنا تھا ”تقسیم ملک کے سانحہ نے اچھے ادب کی تخلیق کے لئے بہت سے عنوانات فراہم کردیئے تھے مگر وہ نسل رفتہ رفتہ ختم ہوتی جارہی تھی جو اس اعلیٰ درجے کے ادب سے استفادہ کرسکتی تھی۔اگر کسی زبان میں 30-35سال تک اچھے ادب کی تخلیق نہ ہو تو یہ کوئی بہت بڑا المیہ نہیں ہوتا۔ سانحہ یہ ہوتا ہے کہ اچھا ادب تو تخلیق ہوتا رہے مگر اس کے پڑھنے والے ختم ہوجائیں۔ ہمارے عہد کا اولین تقاضہ یہ تھا کہ ہم بادمخالف کی زد پر اردو زبان کے چراغ کو روشن رکھتے تاکہ اس کی روشنی میں ادب کی اعلیٰ وارفع قدروں کی شناخت ہوسکتی۔“
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے علمی ادبی اور شعری میدان میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اس کے مطابق ان کی پذیرائی نہیں کی گئی۔ غالباً اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو کسی ادبی گروہ کا حصہ تھے اور نہ ہی انہیں حاشیہ برداری پر یقین تھا۔ بلکہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں پر بھروسہ رکھتے تھے۔ معروف شاعر منور رانا نے ملک زادہ منظور احمد کے انتقال کو ایک عہد کا خاتمہ قرار دیتے ہوئے درست کہا ہے کہ ”ملک زادہ منظور احمد نے جیسا اردوادب اردو والوں کو دیا ہے، اس کا اعتراف نہ ہونا ہماری بے حسی کو ظاہرکرتاہے۔“
ساقی نامہ
کلام: علامہ اقبال
ہمارے دوست مولانا نظام الدین ندوی صاحب کی آواز میں چالیس سال قبل رکارڈ کردہ کلام
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=saqi-nama, Saqi Nama
کلام: علامہ اقبال
ہمارے دوست مولانا نظام الدین ندوی صاحب کی آواز میں چالیس سال قبل رکارڈ کردہ کلام
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=saqi-nama, Saqi Nama
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
مسلمانوں کے زوال کا اصل سبب اور ترقی کی تدبیر
علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا:
مسلمانوں کے زوال کا اصل سبب، ان کی بے دینی ہے۔ اگر وہ صحیح معنوں میں اسلامی ضابطہ پر عمل پیرا رہتے تو آج اس پس ماندگی سے دوچار نہ ہوتے۔ ان میں نہ قوتِ علمیہ باقی ہے، نہ طاقتِ سپہ گری۔ ان کی ترقی کی واحد تدبیر یہی ہے کہ انہیں اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا جائے اور جدید علوم فنون سکھائے جائیں اور انگریزی تعلیم لازم کردی جائے۔ اس خصوص میں یہ امر، از بس ضروری ہے کہ ہماری تعلیم، ہمارے ہی ہاتھوں میں رہے۔ غیروں پر تکیہ نہ کیا جائے اور ہم اپنی طرزِ زندگی، قدیم و جدید تعلیم کے مرکب سانچے میں ڈھالیں۔ جدید علوم و فنون سے طلبہ کو بے شمار فوائد حاصل ہوں گے اور ہماری درس گاہوں سے قابل افراد نکلیں گے۔ جس کے سبب سے ہماری قوم، دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا مقابلہ کرسکے گی۔
(خطباتِ شبلی، نو دریافت، صفحہ: ۱۲۵/٢٦/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا:
مسلمانوں کے زوال کا اصل سبب، ان کی بے دینی ہے۔ اگر وہ صحیح معنوں میں اسلامی ضابطہ پر عمل پیرا رہتے تو آج اس پس ماندگی سے دوچار نہ ہوتے۔ ان میں نہ قوتِ علمیہ باقی ہے، نہ طاقتِ سپہ گری۔ ان کی ترقی کی واحد تدبیر یہی ہے کہ انہیں اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا جائے اور جدید علوم فنون سکھائے جائیں اور انگریزی تعلیم لازم کردی جائے۔ اس خصوص میں یہ امر، از بس ضروری ہے کہ ہماری تعلیم، ہمارے ہی ہاتھوں میں رہے۔ غیروں پر تکیہ نہ کیا جائے اور ہم اپنی طرزِ زندگی، قدیم و جدید تعلیم کے مرکب سانچے میں ڈھالیں۔ جدید علوم و فنون سے طلبہ کو بے شمار فوائد حاصل ہوں گے اور ہماری درس گاہوں سے قابل افراد نکلیں گے۔ جس کے سبب سے ہماری قوم، دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا مقابلہ کرسکے گی۔
(خطباتِ شبلی، نو دریافت، صفحہ: ۱۲۵/٢٦/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
2026-04-22 Yadoun Ka Safar 81+82.pdf
206.4 KB
یادوں کا سفر (81+82) تحریر: اخلاق احمد دہلوی
کلام شاعر بہ زبان شاعر
عزیز حامد مدنی
وفات (23 اپریل 1991ء)
تازہ ہوا بہار کی
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=taza-hawa-bahar-ki, Taza hawa Bahar ki
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
عزیز حامد مدنی
وفات (23 اپریل 1991ء)
تازہ ہوا بہار کی
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=taza-hawa-bahar-ki, Taza hawa Bahar ki
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
وفیات مورخہ: 23/اپریل
1505ء محمد جونپوری۔ بانی مہدوی تحریک
1774ء رحمت خان روہیلہ۔ آخری روہیل سردار
1908ء قاسم امین۔ قائد آزادی نسوان مصر
1984ء محمد یوسف بجلی والا۔ ،
1990ء سیف الدین ولیکا بھائی۔ ،
1991ء عزیز حامد مدنی۔ شاعر
1992ء ستیہ جیت رے۔ فلم ساز
2007ء عبدالقیوم چترالی۔ مولانا ،
2008ء ایم کے بیگ۔ ،
2009ء عقیل ترابی۔ شیعہ ذاکر ،
2013ء ملا عمر۔ امیر طالبان افغانستان
2015ء شیخ عبدالقدوس۔ ،
2016ء شارق اجمیری (شفیق الدین)۔
Https://telegram.me/ilmokitab
1505ء محمد جونپوری۔ بانی مہدوی تحریک
1774ء رحمت خان روہیلہ۔ آخری روہیل سردار
1908ء قاسم امین۔ قائد آزادی نسوان مصر
1984ء محمد یوسف بجلی والا۔ ،
1990ء سیف الدین ولیکا بھائی۔ ،
1991ء عزیز حامد مدنی۔ شاعر
1992ء ستیہ جیت رے۔ فلم ساز
2007ء عبدالقیوم چترالی۔ مولانا ،
2008ء ایم کے بیگ۔ ،
2009ء عقیل ترابی۔ شیعہ ذاکر ،
2013ء ملا عمر۔ امیر طالبان افغانستان
2015ء شیخ عبدالقدوس۔ ،
2016ء شارق اجمیری (شفیق الدین)۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
*جلوہ ہائے پابہ رکاب ( ۵۰)۔۔۔ میرے یمنی ملازم کی عجیب عربی *
*ڈاکٹر ف عبد الرحیم*
جن دنوں میں مدینہ منورہ کے رباط بھوپال میں رہتا تھا، اس وقت رباط کا نگران ایک یمنی تھا جس کا نام عبد اللہ تھا۔ دراصل اس کا تعلق عدن سے تھا۔ یاد رہے ان دنوں عدن پر برٹش راج تھا، اور بہت سارے ہندوستانی نوکر شاہی وہاں متعین تھے۔ ہندوستانی تاجر پیشہ لوگ اور مزدور بھی وہاں اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے عدن کی عربی میں بہت سارے اردو اور ہندی الفاظ رائج ہو چکے تھے۔ جسے عدن کے عرب عربی الفاظ سمجھ کر بولتے تھے۔ ہمارے نگران عبد اللہ کی زبان میں بھی اس کی بہت سی مثالیں ملتی تھیں۔
سعودی عرب میں ڈول کے لیے سطل کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہ صحیح عربی لفظ ہے اور بعض قدیم شعراء کے کلام میں مستعمل ہوا ہے۔ ایک دن عبد اللہ نے سعودی عربی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: سعودی ڈول کو سطل کہتے ہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی عربی لفظ ہے، یہاں کے لوگ عربی نہیں جانتے۔ میں نے کہا: تو آپ کے یہاں سطل کی جگہ کیا بولتے ہیں؟ اس نے بڑے فخر کے ساتھ کہا: ہم صحیح عربی لفظ بولتے ہیں۔ عدن میں یہ «بالطي» (بالٹی) کہلاتا ہے۔
مجھے ہنسی آگئی۔ اس نے ہنسنے کا سبب پوچھا تو میں نے بتایا: یہ ہندی لفظ ہے، لیکن اسے یقین نہیں آیا۔ یاد رہے یہ لفظ ہندی بالٹی کی معرب صورت ہے۔ یہ لفظ دراصل پرتگالی لفظ baldi سے ماخوذ ہے۔ گوا میں پرتگالیوں کی حکومت کے دوران کچھ پرتگالی الفاظ اردو اور ہندی میں داخل ہوئے جن کی کچھ مثالیں حسب ذیل ہیں: چابی، گرجا، پگار (یعنی تنخواہ)، نیلام، آیا، فیتہ، کاجہ وغیرہ۔
ایک بار میں نے عبد اللہ سے پوچھا: تمہارے والد کیا کرتے ہیں؟ اس نے سینہ چوڑا کر کے کہا: «هو نوكر عند الانگریز» یعنی وہ انگریز کے یہاں نوکری کرتے ہیں۔
ایک بار عبد اللہ نے بتایا کہ ہم سمندر میں سیر کے لیے نکلتے ہیں تو «نركب سفينة تمشي بالانجيل»— میں پہلے پہل سمجھ نہیں پایا کہ یہاں «انجیل» سے کیا مراد ہے۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ انگریزی لفظ engine کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ سمندر میں موٹر بوٹ کے ذریعہ جاتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں میری آمد کے ابتدائی دور میں میرا ایک یمنی ملازم تھا، اس کا نام غالب تھا۔ وہ یمن کے وسطی خطے کا تھا۔ اس کی عربی بہت اچھی تھی جس میں عربی کے کچھ قدیم الفاظ بھی شامل تھے۔ جب وہ فلیٹ کا کرایہ وصول کرنے آتا تو کہتا: «یا عبدو ،وف الكراء» — لفظ «وفی» کے معنی ہیں: حساب چکانا۔ یہ لفظ قرآن شریف میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کافروں کی مثال ایک پیاسے شخص کی سی ہے جو سراب کو پانی سمجھ کر وہاں پہنچتا ہے، تو وہاں کچھ نہیں پاتا، البتہ وہ وہاں اللہ کو موجود پاتا ہے جو اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں: {وَوَجَدَ اللَّهَ عِندَهُ فَوَفَّهُ حِسَابَهُ} [النور: 39]
ایک دن میں نے غالب سے کہا کہ اس کمرے سے دوا لے آؤ۔ وہ دوات لے کر آیا۔ میں نے اسے اپنا مطلب سمجھایا تو اس نے کہا: غلطی تم نے کی۔ علاج کی چیز کو دِوا کہتے ہیں۔ اور اس نے دال کو زیر دے کر پڑھا۔ میں نے لغت کی کتابوں میں اس لفظ کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ لفظ «دواء» زبر اور زیر دونوں کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ اکثر عرب ممالک میں یہ زبر کے ساتھ مشہور ہے اور یمن میں زیر کے ساتھ۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*ڈاکٹر ف عبد الرحیم*
جن دنوں میں مدینہ منورہ کے رباط بھوپال میں رہتا تھا، اس وقت رباط کا نگران ایک یمنی تھا جس کا نام عبد اللہ تھا۔ دراصل اس کا تعلق عدن سے تھا۔ یاد رہے ان دنوں عدن پر برٹش راج تھا، اور بہت سارے ہندوستانی نوکر شاہی وہاں متعین تھے۔ ہندوستانی تاجر پیشہ لوگ اور مزدور بھی وہاں اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے عدن کی عربی میں بہت سارے اردو اور ہندی الفاظ رائج ہو چکے تھے۔ جسے عدن کے عرب عربی الفاظ سمجھ کر بولتے تھے۔ ہمارے نگران عبد اللہ کی زبان میں بھی اس کی بہت سی مثالیں ملتی تھیں۔
سعودی عرب میں ڈول کے لیے سطل کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہ صحیح عربی لفظ ہے اور بعض قدیم شعراء کے کلام میں مستعمل ہوا ہے۔ ایک دن عبد اللہ نے سعودی عربی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: سعودی ڈول کو سطل کہتے ہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی عربی لفظ ہے، یہاں کے لوگ عربی نہیں جانتے۔ میں نے کہا: تو آپ کے یہاں سطل کی جگہ کیا بولتے ہیں؟ اس نے بڑے فخر کے ساتھ کہا: ہم صحیح عربی لفظ بولتے ہیں۔ عدن میں یہ «بالطي» (بالٹی) کہلاتا ہے۔
مجھے ہنسی آگئی۔ اس نے ہنسنے کا سبب پوچھا تو میں نے بتایا: یہ ہندی لفظ ہے، لیکن اسے یقین نہیں آیا۔ یاد رہے یہ لفظ ہندی بالٹی کی معرب صورت ہے۔ یہ لفظ دراصل پرتگالی لفظ baldi سے ماخوذ ہے۔ گوا میں پرتگالیوں کی حکومت کے دوران کچھ پرتگالی الفاظ اردو اور ہندی میں داخل ہوئے جن کی کچھ مثالیں حسب ذیل ہیں: چابی، گرجا، پگار (یعنی تنخواہ)، نیلام، آیا، فیتہ، کاجہ وغیرہ۔
ایک بار میں نے عبد اللہ سے پوچھا: تمہارے والد کیا کرتے ہیں؟ اس نے سینہ چوڑا کر کے کہا: «هو نوكر عند الانگریز» یعنی وہ انگریز کے یہاں نوکری کرتے ہیں۔
ایک بار عبد اللہ نے بتایا کہ ہم سمندر میں سیر کے لیے نکلتے ہیں تو «نركب سفينة تمشي بالانجيل»— میں پہلے پہل سمجھ نہیں پایا کہ یہاں «انجیل» سے کیا مراد ہے۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ انگریزی لفظ engine کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ سمندر میں موٹر بوٹ کے ذریعہ جاتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں میری آمد کے ابتدائی دور میں میرا ایک یمنی ملازم تھا، اس کا نام غالب تھا۔ وہ یمن کے وسطی خطے کا تھا۔ اس کی عربی بہت اچھی تھی جس میں عربی کے کچھ قدیم الفاظ بھی شامل تھے۔ جب وہ فلیٹ کا کرایہ وصول کرنے آتا تو کہتا: «یا عبدو ،وف الكراء» — لفظ «وفی» کے معنی ہیں: حساب چکانا۔ یہ لفظ قرآن شریف میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کافروں کی مثال ایک پیاسے شخص کی سی ہے جو سراب کو پانی سمجھ کر وہاں پہنچتا ہے، تو وہاں کچھ نہیں پاتا، البتہ وہ وہاں اللہ کو موجود پاتا ہے جو اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں: {وَوَجَدَ اللَّهَ عِندَهُ فَوَفَّهُ حِسَابَهُ} [النور: 39]
ایک دن میں نے غالب سے کہا کہ اس کمرے سے دوا لے آؤ۔ وہ دوات لے کر آیا۔ میں نے اسے اپنا مطلب سمجھایا تو اس نے کہا: غلطی تم نے کی۔ علاج کی چیز کو دِوا کہتے ہیں۔ اور اس نے دال کو زیر دے کر پڑھا۔ میں نے لغت کی کتابوں میں اس لفظ کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ لفظ «دواء» زبر اور زیر دونوں کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ اکثر عرب ممالک میں یہ زبر کے ساتھ مشہور ہے اور یمن میں زیر کے ساتھ۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤4
جلوہ ہائے پابہ رکاب ( 53)۔۔۔ ندوہ کا اسی سالہ جشن
از: ڈاکٹر ف عبد الرحیم
1975ء میں ندوۃ العلماء کا اسی سالہ جشن منعقد ہوا تھا جس میں عرب و عجم سے کئی وفود نے شرکت کی اور بے شمار قد آور علماء و فضلاء نے اس میں حصہ لیا۔ مصر سے شیخ الازہر تشریف لائے تھے۔ مدینہ منورہ کے جامعہ اسلامیہ کی طرف سے ایک سہ رکنی وفد تشکیل دی گئی تھی جس میں شیخ جابر الجزائری مرحوم، شیخ حماد الانصاری مرحوم اور راقم الحروف شامل تھے۔ ہم لوگ بمبئی اور دہلی ہوتے ہوئے لکھنؤ پہنچے۔
ان دنوں یوپی کے وزیر اعلیٰ بہو گنا صاحب تھے، وہ علی میاں مرحوم کی بڑی عزت کرتے تھے۔ کانفرنس کی تیاری کے دوران وہ کئی بار ندوہ تشریف لے گئے اور تیاری کا جائزہ لیتے رہے۔ کانفرنس کے پہلے دن انہوں نے وفود کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت کا انتظام اپنی سرکاری رہائش گاہ پر کیا تھا۔
علی میاں مرحوم نے بتایا کہ بہو گنا جی وفود کی نقل و حرکت کے لیے سرکاری گاڑیاں مہیا کرنا چاہتے تھے۔ علی میاں مرحوم نے کہا کہ میں احباب سے مشورہ کر کے بتاؤں گا۔ پھر انہوں نے لکھنؤ کے عمائدین کو بلایا اور ان کے سامنے یہ بات رکھی۔ عمائدین نے متفقہ طور پر کہا کہ آپ ان سے معذرت کر دیں۔ وفود کی خدمت کے لیے ہماری گاڑیاں حاضر ہیں۔ آپ جتنی گاڑیاں چاہیں ہم حاضر کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایسا ہی ہوا۔ وفود نے نوٹ کیا ان کی گاڑی چلانے والے وردی پہنے ہوئے شوفر نہیں تھے بلکہ ایسے لوگ تھے جن کے لباس اور شکل و صورت سے سیادت و نجابت ٹپکتی تھی۔ وفود کی رہائش کا بندوبست لکھنؤ کے مشہور Carlton ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ وفد فجر کی نماز ہوٹل کے دالان میں باجماعت ادا کرتے تھے اور یہ عمل شعائر اسلامی کا ایک عظیم الشان
منظر پیش کرتا تھا اور غیر مسلم دور کھڑے ہو کر اس پر شکوہ منظر کو دیکھتے تھے۔
کانفرنس سے پہلے کچھ اخباروں نے لکھا تھا کہ علی میاں نے عربوں کو ان سے پیسے بٹورنے کے لیے جمع کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مولانا اس بات سے کافی رنجیدہ تھے۔ ان کی صدارتی تقریر میں اس رنج کی خفیف سی جھلک نظر آتی تھی۔ آپ نے کہا کہ میں عربوں کو اس لیے لے آیا ہوں تاکہ ہم نے ان سے پندرہ سو سال پہلے جو سبق سیکھا تھا اس کا آموختہ سنائیں ۔ میری تو خواہش ہے کہ میری موت اس حالت میں ہو کہ چراغ بے روغنی سے بجھا ہوا ہو۔ اسی سلسلے میں انھوں نے یہ بات بھی کہی کہ دنیا میں مجھے اگر کوئی شخص خرید سکتا تھا تو وہ شاہ فیصل مرحوم کی ذات تھی۔ یہ ایک چونکا دینے والی بات تھی۔ میرے ساتھ والی کرسی میں سعودی سفیر عزت مآب یوسف الفوزان تشریف فرما تھے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا کی اس بات کا کیا مطلب ہے؟ میں نے کہا کہ شاہ فیصل مرحوم کا ہر قول و عمل اسلام کی خدمت اور اس کی سربلندی کی خاطر ہوتا تھا۔ تو ایک ایسی شخصیت کے ہاتھوں بکنا گویا اسلام کی خدمت اور اس کی سربلندی کے لیے بکنے کے مترادف ہے۔ سعودی سفیر اس بات سے مطمئن ہو گئے۔
اس کانفرنس میں دلچسپی کا کچھ سامان بھی تھا۔ پہلے دن دوپہر کے کھانے کے بعد جناب عبودی صاحب سے ہماری ملاقات ہوئی ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ کے پہلے جنرل سکریٹری تھے اور اس وقت وہ ریاض کے مرکز الدعوة کے صدر تھے۔ عربوں کو ہندوستانی کھانے سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے۔ جزائری صاحب نے عبودی صاحب سے کہا کہ ہماری پلیٹ میں تھوڑا سا چاول تھا اور بیچ میں بہت ساری مرچ۔ عبودی صاحب نے کہا: یہ ویسے بھی ٹھیک ہے لیکن میری پلیٹ مرچ سے بھری ہوئی تھی اور بیچ میں تھوڑا سا چاول رکھا ہوا تھا۔
ہندوستان کے سفر سے پہلے ہمارے وفد نے شیخ جابر الجزائری کو وفد کا امیر منتخب کیا۔ اس کے بعد شیخ حماد الانصاری صاحب ان سے مخاطب ہوتے تو کہتے: ”یا أمير المؤمنين» یعنی اے دو مومنوں کے امیر۔ اور سفر سے واپسی کے بعد کہتے: «يا
أميرنا المخلوع» یعنی اے ہمارے معزول شدہ امیر۔
ہندوستان کے سفر سے پہلے شیخ الجزائری نے مجھ سے کہا کہ پتا نہیں ہندوستان میں جُبن ملے گا یا نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے ساتھ جُبن لے لیں۔ میں نے کہا: شیخ جُبن کی دو قسمیں ہیں: ایک کاٹھ کا دل ہے اور دوسری کا معدہ۔ یاد رہے کہ عربی میں «جُبن» کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے: ایک پنیر اور دوسری بزدلی۔ بزدل کو جبان کہتے ہیں اور بزدلی کو جُبن۔
Https://telegram.me/ilmokitab
از: ڈاکٹر ف عبد الرحیم
1975ء میں ندوۃ العلماء کا اسی سالہ جشن منعقد ہوا تھا جس میں عرب و عجم سے کئی وفود نے شرکت کی اور بے شمار قد آور علماء و فضلاء نے اس میں حصہ لیا۔ مصر سے شیخ الازہر تشریف لائے تھے۔ مدینہ منورہ کے جامعہ اسلامیہ کی طرف سے ایک سہ رکنی وفد تشکیل دی گئی تھی جس میں شیخ جابر الجزائری مرحوم، شیخ حماد الانصاری مرحوم اور راقم الحروف شامل تھے۔ ہم لوگ بمبئی اور دہلی ہوتے ہوئے لکھنؤ پہنچے۔
ان دنوں یوپی کے وزیر اعلیٰ بہو گنا صاحب تھے، وہ علی میاں مرحوم کی بڑی عزت کرتے تھے۔ کانفرنس کی تیاری کے دوران وہ کئی بار ندوہ تشریف لے گئے اور تیاری کا جائزہ لیتے رہے۔ کانفرنس کے پہلے دن انہوں نے وفود کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت کا انتظام اپنی سرکاری رہائش گاہ پر کیا تھا۔
علی میاں مرحوم نے بتایا کہ بہو گنا جی وفود کی نقل و حرکت کے لیے سرکاری گاڑیاں مہیا کرنا چاہتے تھے۔ علی میاں مرحوم نے کہا کہ میں احباب سے مشورہ کر کے بتاؤں گا۔ پھر انہوں نے لکھنؤ کے عمائدین کو بلایا اور ان کے سامنے یہ بات رکھی۔ عمائدین نے متفقہ طور پر کہا کہ آپ ان سے معذرت کر دیں۔ وفود کی خدمت کے لیے ہماری گاڑیاں حاضر ہیں۔ آپ جتنی گاڑیاں چاہیں ہم حاضر کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایسا ہی ہوا۔ وفود نے نوٹ کیا ان کی گاڑی چلانے والے وردی پہنے ہوئے شوفر نہیں تھے بلکہ ایسے لوگ تھے جن کے لباس اور شکل و صورت سے سیادت و نجابت ٹپکتی تھی۔ وفود کی رہائش کا بندوبست لکھنؤ کے مشہور Carlton ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ وفد فجر کی نماز ہوٹل کے دالان میں باجماعت ادا کرتے تھے اور یہ عمل شعائر اسلامی کا ایک عظیم الشان
منظر پیش کرتا تھا اور غیر مسلم دور کھڑے ہو کر اس پر شکوہ منظر کو دیکھتے تھے۔
کانفرنس سے پہلے کچھ اخباروں نے لکھا تھا کہ علی میاں نے عربوں کو ان سے پیسے بٹورنے کے لیے جمع کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مولانا اس بات سے کافی رنجیدہ تھے۔ ان کی صدارتی تقریر میں اس رنج کی خفیف سی جھلک نظر آتی تھی۔ آپ نے کہا کہ میں عربوں کو اس لیے لے آیا ہوں تاکہ ہم نے ان سے پندرہ سو سال پہلے جو سبق سیکھا تھا اس کا آموختہ سنائیں ۔ میری تو خواہش ہے کہ میری موت اس حالت میں ہو کہ چراغ بے روغنی سے بجھا ہوا ہو۔ اسی سلسلے میں انھوں نے یہ بات بھی کہی کہ دنیا میں مجھے اگر کوئی شخص خرید سکتا تھا تو وہ شاہ فیصل مرحوم کی ذات تھی۔ یہ ایک چونکا دینے والی بات تھی۔ میرے ساتھ والی کرسی میں سعودی سفیر عزت مآب یوسف الفوزان تشریف فرما تھے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا کی اس بات کا کیا مطلب ہے؟ میں نے کہا کہ شاہ فیصل مرحوم کا ہر قول و عمل اسلام کی خدمت اور اس کی سربلندی کی خاطر ہوتا تھا۔ تو ایک ایسی شخصیت کے ہاتھوں بکنا گویا اسلام کی خدمت اور اس کی سربلندی کے لیے بکنے کے مترادف ہے۔ سعودی سفیر اس بات سے مطمئن ہو گئے۔
اس کانفرنس میں دلچسپی کا کچھ سامان بھی تھا۔ پہلے دن دوپہر کے کھانے کے بعد جناب عبودی صاحب سے ہماری ملاقات ہوئی ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ کے پہلے جنرل سکریٹری تھے اور اس وقت وہ ریاض کے مرکز الدعوة کے صدر تھے۔ عربوں کو ہندوستانی کھانے سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے۔ جزائری صاحب نے عبودی صاحب سے کہا کہ ہماری پلیٹ میں تھوڑا سا چاول تھا اور بیچ میں بہت ساری مرچ۔ عبودی صاحب نے کہا: یہ ویسے بھی ٹھیک ہے لیکن میری پلیٹ مرچ سے بھری ہوئی تھی اور بیچ میں تھوڑا سا چاول رکھا ہوا تھا۔
ہندوستان کے سفر سے پہلے ہمارے وفد نے شیخ جابر الجزائری کو وفد کا امیر منتخب کیا۔ اس کے بعد شیخ حماد الانصاری صاحب ان سے مخاطب ہوتے تو کہتے: ”یا أمير المؤمنين» یعنی اے دو مومنوں کے امیر۔ اور سفر سے واپسی کے بعد کہتے: «يا
أميرنا المخلوع» یعنی اے ہمارے معزول شدہ امیر۔
ہندوستان کے سفر سے پہلے شیخ الجزائری نے مجھ سے کہا کہ پتا نہیں ہندوستان میں جُبن ملے گا یا نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے ساتھ جُبن لے لیں۔ میں نے کہا: شیخ جُبن کی دو قسمیں ہیں: ایک کاٹھ کا دل ہے اور دوسری کا معدہ۔ یاد رہے کہ عربی میں «جُبن» کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے: ایک پنیر اور دوسری بزدلی۔ بزدل کو جبان کہتے ہیں اور بزدلی کو جُبن۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
*وفیات مورخہ: 24/اپریل*
1905ء محمد محسن کاکوروی۔ نعت گو شاعر
1959ء بدرالدین اللہ دیا۔ استاد بابو
1962ء خواجہ عبدالرشید شمیم پانی پتی۔ ،
1967ء اسلام احمد سیفی شعلہ۔ ،
1984ء محمد شفیع اوکاڑوی۔ مولانا ، خطیب پاکستان
1990ء موسیٰ یوسف داگیا۔ ،
1999ء نواب عزیز الہی خاں۔
2003ء شہزادی (نسرین بلوچ)۔ ،
2010ء عبداللہ اکبر۔ ،
2015ء سبین محمود۔ ،
2016ء ظفر اسحاق انصاری۔ ڈائرکٹر ادارہ تحقیقات اسلامی ۔ اسلام آباد
2019ء عباسی مدنی۔ سربراہ الجبهة الإسلامية للإنقاذ- الجزائر
2021ء قاری عبد الوہاب۔
2021ء مسعود عالم۔
2021ء نبی احمد۔
2024ء محمد علی اثر۔ ادیب
Https://telegram.me/ilmokitab
1905ء محمد محسن کاکوروی۔ نعت گو شاعر
1959ء بدرالدین اللہ دیا۔ استاد بابو
1962ء خواجہ عبدالرشید شمیم پانی پتی۔ ،
1967ء اسلام احمد سیفی شعلہ۔ ،
1984ء محمد شفیع اوکاڑوی۔ مولانا ، خطیب پاکستان
1990ء موسیٰ یوسف داگیا۔ ،
1999ء نواب عزیز الہی خاں۔
2003ء شہزادی (نسرین بلوچ)۔ ،
2010ء عبداللہ اکبر۔ ،
2015ء سبین محمود۔ ،
2016ء ظفر اسحاق انصاری۔ ڈائرکٹر ادارہ تحقیقات اسلامی ۔ اسلام آباد
2019ء عباسی مدنی۔ سربراہ الجبهة الإسلامية للإنقاذ- الجزائر
2021ء قاری عبد الوہاب۔
2021ء مسعود عالم۔
2021ء نبی احمد۔
2024ء محمد علی اثر۔ ادیب
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri