بڑے ثواب کی چھوٹی نیکیاں
حضرت الاقدس مولانا میاں سید اصغر حسین رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا: بزرگان کا یہ طریقہ تھا کہ اہلِ محلہ کی خبر گیری کرتے تھے، بے کسوں، محتاجوں کی ضروریات، سودا سلف لادیتے تھے۔ ہم سے تو یہ بھی دشوار ہے کہ اپنے کام کو جائیں تو دوسرے کا کام بھی کرادیں، یا کسی محتاج بے کس رانڈ بیوہ کا بازار کا کام کردیں۔ حالانکہ اللّٰه تعالیٰ نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت بڑا بڑا ثواب مقرر فرمادیا ہے۔ کسی کو راستہ بتلادیا، کسی کا بوجھ اٹھوا دیا۔ یہی صدقہ ہے، کیونکہ اللّٰه تعالیٰ کے خزانہ میں کمی نہیں۔ صرف ضرورت ہے، طلبِ صادق اور نیتِ خالص کی۔
(سوانح حیات، حضرت میاں صاحب محدث رحمۃ اللّٰه علیہ، صفحہ: ۵۵/۵٦/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
حضرت الاقدس مولانا میاں سید اصغر حسین رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا: بزرگان کا یہ طریقہ تھا کہ اہلِ محلہ کی خبر گیری کرتے تھے، بے کسوں، محتاجوں کی ضروریات، سودا سلف لادیتے تھے۔ ہم سے تو یہ بھی دشوار ہے کہ اپنے کام کو جائیں تو دوسرے کا کام بھی کرادیں، یا کسی محتاج بے کس رانڈ بیوہ کا بازار کا کام کردیں۔ حالانکہ اللّٰه تعالیٰ نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت بڑا بڑا ثواب مقرر فرمادیا ہے۔ کسی کو راستہ بتلادیا، کسی کا بوجھ اٹھوا دیا۔ یہی صدقہ ہے، کیونکہ اللّٰه تعالیٰ کے خزانہ میں کمی نہیں۔ صرف ضرورت ہے، طلبِ صادق اور نیتِ خالص کی۔
(سوانح حیات، حضرت میاں صاحب محدث رحمۃ اللّٰه علیہ، صفحہ: ۵۵/۵٦/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
*وفیات مورخہ: 25/اپریل*
1942ء آزاد انصاری (الطاف احمد)۔ شاعر
1951ء شیام چڈا۔ اداکار
1960ء امان الله خان ۔ شاہ افغانستان
1966ء میر سلطان خان۔
1973ء فواد شہاب۔ صدر لبنان
1982ء رخشاں ابدالی (سید محمد عثمان)۔ ،
1984ء مطلوب الحسن سید۔ سوانح نگار محمد علی جناح
1986ء حشمت علی یوسفی۔ ،
1991ء میکش اکبر آبادی (محمد علی شاہ)۔
1993ء محمد باقر۔ محقق، ماہر تعلیم
1995ء جی یم سید (غلام مرتضی)۔ جے سندھ تحریک
2001ء ابراہیم سامرائی۔ عراقی لغوی ادیب
2006ء سید نصیر حیدر۔ ،
2008ء حاجی محمد داؤد خاں ۔ بہرائچ
2011ء سید اکبر علی واحدی۔ ،
2021ء عبرت بہرائچی (عبد العزیز خان)۔
2021ء منظر عباس نقوی۔
2023ء پرکاش سنگھ بادل۔ وزیر اعلی پنجاب
2023ء سید امتیاز الدین۔ کالم نگار، حیدرآباد (دکن)
Https://telegram.me/ilmokitab
1942ء آزاد انصاری (الطاف احمد)۔ شاعر
1951ء شیام چڈا۔ اداکار
1960ء امان الله خان ۔ شاہ افغانستان
1966ء میر سلطان خان۔
1973ء فواد شہاب۔ صدر لبنان
1982ء رخشاں ابدالی (سید محمد عثمان)۔ ،
1984ء مطلوب الحسن سید۔ سوانح نگار محمد علی جناح
1986ء حشمت علی یوسفی۔ ،
1991ء میکش اکبر آبادی (محمد علی شاہ)۔
1993ء محمد باقر۔ محقق، ماہر تعلیم
1995ء جی یم سید (غلام مرتضی)۔ جے سندھ تحریک
2001ء ابراہیم سامرائی۔ عراقی لغوی ادیب
2006ء سید نصیر حیدر۔ ،
2008ء حاجی محمد داؤد خاں ۔ بہرائچ
2011ء سید اکبر علی واحدی۔ ،
2021ء عبرت بہرائچی (عبد العزیز خان)۔
2021ء منظر عباس نقوی۔
2023ء پرکاش سنگھ بادل۔ وزیر اعلی پنجاب
2023ء سید امتیاز الدین۔ کالم نگار، حیدرآباد (دکن)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
*مطالعہ کتب کیوں اور کس طرح(01)*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
پورے دس سال گذر رہے ہیں، طلبہ و اساتذہ میں ذوق مطالعہ اور کتب بینی کے فروغ کے لئے علم وکتاب کے نام سے ایک واٹس اپ گروپ کرنے کی اللہ تعالی نے توفیق دی تھی، اللہ تعالی نے اسے اتنی مقبولیت دی کہ اس میں برصغیر کے زیادہ تر معتبر دینی مراکز اور دارالعلوموں کے اساتذہ و مفتیان کرام کی قابل قدر تعداد جمع ہوگئی۔ اور اس گروپ کے بطن سے واٹس اپ، ٹیلگرام اور فیس بوک پر مزید کئی ایک گروپ اور چینل نکل آئے جن کا فیض ہنوز جاری ہے۔
اس گروپ کی ابتدا میں معروف ادیب ومصنف مولانا ابن الحسن عباسی مرحوم بھی اس میں شامل تھے، جنہیں اللہ تعالی نے بہت جلد اپنی بارگاہ میں بلا لیا، اور ہم ان سے خاطر خواہ فیض اٹھانے سے محروم رہے، مرحوم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں النخیل کے نام سے ایک علمی مجلہ جاری کیا تھا۔ ہماری بزم علم وکتاب سے جڑنے کے بعد انہیں خیال آیا کہ اس مجلہ کا ایک معیاری نمبر نکالنا چاہئے جس میں یادگار زمانہ شخصیات کا احوال مطالعہ درج ہو۔ یہ تحریک انہیں خاص طور پر علم وکتاب گروپ سے ملی تھی، آپ کی اچانک رحلت کے بعد ہمارے گروپ کے نوجوان عالم دین مولانا بشارت نواز (خانیوال) نے اس مشن کو جاری رکھا۔ اور مجلہ کا ایک یاد گار نمبر شائع کیا۔جو مسلسل طلبہ و اساتذہ علوم دینیہ کے لئے ایک مرجع بنا ہوا ہے۔
مدیر مجلہ کی خواہش تھی یہ عاجز اپنے مطالعتی تجربات و مشاہدات اور محسن کتابوں کے بارے میں کچھ لکھے، لیکن میری ملازمتی ذمہ داریاں کچھ ایسی تھیں مجھے اس وقت اس موضوع سے پہلوتہی اختیار کرنی پڑی۔ لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی، جس کے نتیجہ میں قلم برداشتہ کتب بینی پریہ مضمون تیار ہوگیا۔ جو اس عظیم نمبر کا مقدمہ بن گیا ۔خوش قسمتی سے قبولیت اس کے نصیب میں بھی آئی۔
النخیل کے اس نمبر کی اشاعت پر پانچ سال کا عرصہ گذر چکا ہے، اس دوران کئی بار خیال آیا کہ اس مضمون پر نظر ثانی کرکے مستقل کتاب کی شکل میں اسے طلبہ و اساتذہ کی نذر کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی زندگی میں جن کتابوں نے اثر ڈالا ہے ان کا بھی تعارف ہوجائے۔ النخیل اور پھر بحث ونظر میں اشاعت کے کافی عرصہ بعد افادیت کی غرض سے اسے قسطوار پیش کررہے، اس امید کہ ساتھ اس سلسلے میں اپنی آراء ، تبصروں اور رہنمائی سے ضرور نوازیں گے۔ شکریہ
عبد المتین منیری۔ اڈمن علم وکتاب
ہم کائنات کے جس کرہ ارضی پر رہتے ہیں ، بنانے والےنے اس کی اس طرح تخلیق کی ہے کہ یہ ابتدائے آفرینش سے اب تک یہ مسلسل گردش میں ہے، کرہ ارضی اگر حرکت میں نہ ہو تو دن اور رات نہ ہوں اور اگر سورج کائنات کے مدار میں آگے کی طرف نہ بڑھے تو ماہ وسال اورتاریخیں تبدیل نہ ہوں، نہ ہی گرما وسرما، بہار وخزاں کے موسموں سے لطف اندوزی ہو ، نہ ہی ان کے نتیجے میں اناج اور سبزہ ، پھل اور پھول میسر ہوں اور جب ان کی یہ حرکت بند ہوجائے، اس کرہ ارضی کی ساخت خالق کائنات نے ایسی بنائی ہے کہ وہ صرف آگے یا پیچھے کی طرف گردش کر سکتا ہے، ایک محور پرٹھہر نہیں سکتا، جب کرہ ارضی کی گردش رک جائے گی اور اس کی حرکت بند ہوجائے گی تو وہ گھڑی قیامت کی ہوگی،جب ساری کائنات تاراج ہوکرشکست ریخت کی شکار ہوجائے گی۔
یہ نظام کائنات صرف جمادات تک محدود نہیں ہے بلکہ کرہ ارضی پر بسنے والی اشرف المخلوقات کے ساتھ بھی یہی قانون لگا ہوا ہے، انسان کی بھی ذہنی اور فکری صلاحیتیں یا تو آگے جاسکتی ہیں یا پیچھے لیکن یہ ایک جگہ ٹھہر نہیں سکتیں، دنیا میں انسانی معاشرے کے وجود کے ساتھ،تاریخ انسانی میں پتھر کے زمانے سے آج تک انسان کی ذہنی اور فکری صلاحیتوں میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے، ایک انسان جب اس دنیا میں جنم لیتا ہے تو جب وہ فطری زندگی جیتا ہے تو بچپن سے جوانی تک اس کی ذہنی و جسمانی صلاحتیں فروغ پاتی رہتی ہیں لیکن جب جسم میں یہ صلاحیتیں آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہیں اور بڑھاپا چھا جاتا ہے توپھر یہاں سے بلا وا آجاتاہے۔ انسان جس معاشرے میں جیتا ہے ، اگر اس کو آگے بڑھانے، اس کو مزید کچھ دینے کے بارے میں نہ سوچے تو یہ دنیا ان تمام سہولیات سے محروم رہ جائے،جو آج تک انسانوں کی کھوج اور دریافت سے اسے ملتی آرہی ہیں،لہٰذا آئندہ آنے والوں کے لئے کچھ نیا دے جانے کا جذبہ اور اس کے لئے قربانی ہی نئی ایجادات کا سبب بنتی ہیں ۔ اگر یہ جذبہ نہ ہوتا تو آج بھی انسان بیل اور گدھے ہی کی پیٹھ پر بیٹھ کر ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتا رہے۔
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
پورے دس سال گذر رہے ہیں، طلبہ و اساتذہ میں ذوق مطالعہ اور کتب بینی کے فروغ کے لئے علم وکتاب کے نام سے ایک واٹس اپ گروپ کرنے کی اللہ تعالی نے توفیق دی تھی، اللہ تعالی نے اسے اتنی مقبولیت دی کہ اس میں برصغیر کے زیادہ تر معتبر دینی مراکز اور دارالعلوموں کے اساتذہ و مفتیان کرام کی قابل قدر تعداد جمع ہوگئی۔ اور اس گروپ کے بطن سے واٹس اپ، ٹیلگرام اور فیس بوک پر مزید کئی ایک گروپ اور چینل نکل آئے جن کا فیض ہنوز جاری ہے۔
اس گروپ کی ابتدا میں معروف ادیب ومصنف مولانا ابن الحسن عباسی مرحوم بھی اس میں شامل تھے، جنہیں اللہ تعالی نے بہت جلد اپنی بارگاہ میں بلا لیا، اور ہم ان سے خاطر خواہ فیض اٹھانے سے محروم رہے، مرحوم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں النخیل کے نام سے ایک علمی مجلہ جاری کیا تھا۔ ہماری بزم علم وکتاب سے جڑنے کے بعد انہیں خیال آیا کہ اس مجلہ کا ایک معیاری نمبر نکالنا چاہئے جس میں یادگار زمانہ شخصیات کا احوال مطالعہ درج ہو۔ یہ تحریک انہیں خاص طور پر علم وکتاب گروپ سے ملی تھی، آپ کی اچانک رحلت کے بعد ہمارے گروپ کے نوجوان عالم دین مولانا بشارت نواز (خانیوال) نے اس مشن کو جاری رکھا۔ اور مجلہ کا ایک یاد گار نمبر شائع کیا۔جو مسلسل طلبہ و اساتذہ علوم دینیہ کے لئے ایک مرجع بنا ہوا ہے۔
مدیر مجلہ کی خواہش تھی یہ عاجز اپنے مطالعتی تجربات و مشاہدات اور محسن کتابوں کے بارے میں کچھ لکھے، لیکن میری ملازمتی ذمہ داریاں کچھ ایسی تھیں مجھے اس وقت اس موضوع سے پہلوتہی اختیار کرنی پڑی۔ لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی، جس کے نتیجہ میں قلم برداشتہ کتب بینی پریہ مضمون تیار ہوگیا۔ جو اس عظیم نمبر کا مقدمہ بن گیا ۔خوش قسمتی سے قبولیت اس کے نصیب میں بھی آئی۔
النخیل کے اس نمبر کی اشاعت پر پانچ سال کا عرصہ گذر چکا ہے، اس دوران کئی بار خیال آیا کہ اس مضمون پر نظر ثانی کرکے مستقل کتاب کی شکل میں اسے طلبہ و اساتذہ کی نذر کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی زندگی میں جن کتابوں نے اثر ڈالا ہے ان کا بھی تعارف ہوجائے۔ النخیل اور پھر بحث ونظر میں اشاعت کے کافی عرصہ بعد افادیت کی غرض سے اسے قسطوار پیش کررہے، اس امید کہ ساتھ اس سلسلے میں اپنی آراء ، تبصروں اور رہنمائی سے ضرور نوازیں گے۔ شکریہ
عبد المتین منیری۔ اڈمن علم وکتاب
ہم کائنات کے جس کرہ ارضی پر رہتے ہیں ، بنانے والےنے اس کی اس طرح تخلیق کی ہے کہ یہ ابتدائے آفرینش سے اب تک یہ مسلسل گردش میں ہے، کرہ ارضی اگر حرکت میں نہ ہو تو دن اور رات نہ ہوں اور اگر سورج کائنات کے مدار میں آگے کی طرف نہ بڑھے تو ماہ وسال اورتاریخیں تبدیل نہ ہوں، نہ ہی گرما وسرما، بہار وخزاں کے موسموں سے لطف اندوزی ہو ، نہ ہی ان کے نتیجے میں اناج اور سبزہ ، پھل اور پھول میسر ہوں اور جب ان کی یہ حرکت بند ہوجائے، اس کرہ ارضی کی ساخت خالق کائنات نے ایسی بنائی ہے کہ وہ صرف آگے یا پیچھے کی طرف گردش کر سکتا ہے، ایک محور پرٹھہر نہیں سکتا، جب کرہ ارضی کی گردش رک جائے گی اور اس کی حرکت بند ہوجائے گی تو وہ گھڑی قیامت کی ہوگی،جب ساری کائنات تاراج ہوکرشکست ریخت کی شکار ہوجائے گی۔
یہ نظام کائنات صرف جمادات تک محدود نہیں ہے بلکہ کرہ ارضی پر بسنے والی اشرف المخلوقات کے ساتھ بھی یہی قانون لگا ہوا ہے، انسان کی بھی ذہنی اور فکری صلاحیتیں یا تو آگے جاسکتی ہیں یا پیچھے لیکن یہ ایک جگہ ٹھہر نہیں سکتیں، دنیا میں انسانی معاشرے کے وجود کے ساتھ،تاریخ انسانی میں پتھر کے زمانے سے آج تک انسان کی ذہنی اور فکری صلاحیتوں میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے، ایک انسان جب اس دنیا میں جنم لیتا ہے تو جب وہ فطری زندگی جیتا ہے تو بچپن سے جوانی تک اس کی ذہنی و جسمانی صلاحتیں فروغ پاتی رہتی ہیں لیکن جب جسم میں یہ صلاحیتیں آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہیں اور بڑھاپا چھا جاتا ہے توپھر یہاں سے بلا وا آجاتاہے۔ انسان جس معاشرے میں جیتا ہے ، اگر اس کو آگے بڑھانے، اس کو مزید کچھ دینے کے بارے میں نہ سوچے تو یہ دنیا ان تمام سہولیات سے محروم رہ جائے،جو آج تک انسانوں کی کھوج اور دریافت سے اسے ملتی آرہی ہیں،لہٰذا آئندہ آنے والوں کے لئے کچھ نیا دے جانے کا جذبہ اور اس کے لئے قربانی ہی نئی ایجادات کا سبب بنتی ہیں ۔ اگر یہ جذبہ نہ ہوتا تو آج بھی انسان بیل اور گدھے ہی کی پیٹھ پر بیٹھ کر ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتا رہے۔
❤2
مدرسوں ، دارالعلوموں، جامعات ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچوں کو اسی لئے تو داخل کیا جاتا ہے کہ ان کے علم وفہم کی صلاحیت میں اضافہ ہو، ان میں انسانی معاشرے کو مزید آگے لے جانے اور ترقی دلانے کی قابلیت پیدا ہو، یہ مدرسے اور جامعات ان میں علم وفہم کی ایک ایسی بنیاد فراہم کرتے ہیں ، جس پر انسانی معاشرہ کی ترقی کی بلندوبالاعمارت تعمیر کی جاسکتی ہے۔ ان تعلیم کے اداروں کا مقصد پختہ بنیاد فراہم کرنا ہے، اس پر شاندار عمارت تعمیر کرنےکی ذمہ داری طالب علم کی بنتی ہے جس کے لئے اساتذہ خون جگر دیتے اور اپنی خداداد صلاحیتیں نچھاور کرتے آرہے ہیں۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تعلیم گاہوں کا مقصد علم وفہم کی عمارت کی تعمیر نہیں بلکہ طالب علم کو ایک بنیاد فراہم کرنا ہے، اب یہ بات ایک طالب علم پر منحصر ہے کہ چودہ پندرہ سال کے دوران علم وفہم کی جو بنیاد اس کے دل ودماغ میں ڈالی گئی ہے ، اس پر وہ کیسی عمارت تعمیر کرتا ہے ؟ یا پھر وہ بنیاد ہی کو لے کر بیٹھ جاتا ہےاور اس پر مزید کسی تعمیر کا ارادہ دل سے نکال دیتا ہے؟
یہ قانون قدرت ہے، بنیاد پر کوئی تعمیر نہ ہو تو بادوباراں اور موسموں کے تھپیڑوں سے بوسیدہ ہوجاتی ہے، گارا لوہا اور سیمنٹ کی مناسب دیکھ ریکھ نہ ہونے کی وجہ سے گل سڑھ کر برباد ہوجاتا ہے ، پھر یہ بنیاد اس قابل نہیں رہتی کہ کوئی عمارت اس پر تعمیر ہوسکے۔ ایک فارغ التحصیل کا حال کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، اگر مزید طلب کا جذبہ اس میں نہ ہو تو اس کا علم بھی بوسیدہ بنیاد کی طرح ڈھ جاتا ہے، یہ منظر آپ روز دیکھتے ہوں گےکہ ایک فارغ التحصیل جس نے اپنے درجات میں بہت اعلیٰ نمبرات حاصل کئے، اول درجے پر کامیابی سے ہمکنار ہوا، اس میں مزید طلب اور جستجو کا مادہ نہیں رہا، نہ ہی پڑھنے پڑھانے سے واسطہ رہاتو اگروہ دیندار ہے تو چند سالوں میں اس کا علمی معیار اتنا رہ جاتا ہے، جتنا ایک چلہ یا چار مہینے تبلیغی جماعت میں دے آنے والے کا، اور اگر اس میں سوچنے کی صلاحیت موجود ہے تو وہ غور کرنے لگتا ہے کہ چار مہینہ جماعت میں جانے سے جو بولنے اور بیان کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی ہے، آخراتنی ہی صلاحیت حاصل کرنی تھی تو پھر مدرسے میں دن رات ایک کرکے، بھوکے پیاسے رہ کر کیوں چودہ پندرہ سال گذارے؟ نو دس سال میں یہ کام چل سکتا تھا، یہ وہ بات ہے جو ایک طالب علم اور فارغ التحصیل کو طلب اور جستجواور علم وفہم میں اضافے کی ضرورت اور اس کے حصول کے لئے مطالعہ کتب کی عادت کی اہمیت اور قدرت کے ودیعت کردہ قوت حافظہ کے قوانین و ضوابط جاننے کی اہمیت واشگاف کرتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف اللہ کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نشاندہی کی ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ: قرآن پاک کو خوب پابندی سے پڑھو اور یاد رکھو ،وہ بہت تیزی سے ذہن سے نکل جاتا ہے جیسے اونٹ اپنے نکیل میں سے تیزی سے نکل بھاگتا ہے۔ (مشکوٰۃ: ص:۱۹۰)
ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ: صاحب قرآن (جس کو قرآن کا کچھ حصہ یاد ہے) کی مثال نکیل پڑے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے، اگر مالک اونٹ کو پکڑے رہے، اس کی نگرانی کرتا رہے تو پاس رہے گا اور اگر چھوڑدیا تو بس بھاگ جائے گا۔ (مشکوٰۃ: ص:۱۹۰)
(جاری)
WA: 00919008175269
https://telegram.me/ilmokitab
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تعلیم گاہوں کا مقصد علم وفہم کی عمارت کی تعمیر نہیں بلکہ طالب علم کو ایک بنیاد فراہم کرنا ہے، اب یہ بات ایک طالب علم پر منحصر ہے کہ چودہ پندرہ سال کے دوران علم وفہم کی جو بنیاد اس کے دل ودماغ میں ڈالی گئی ہے ، اس پر وہ کیسی عمارت تعمیر کرتا ہے ؟ یا پھر وہ بنیاد ہی کو لے کر بیٹھ جاتا ہےاور اس پر مزید کسی تعمیر کا ارادہ دل سے نکال دیتا ہے؟
یہ قانون قدرت ہے، بنیاد پر کوئی تعمیر نہ ہو تو بادوباراں اور موسموں کے تھپیڑوں سے بوسیدہ ہوجاتی ہے، گارا لوہا اور سیمنٹ کی مناسب دیکھ ریکھ نہ ہونے کی وجہ سے گل سڑھ کر برباد ہوجاتا ہے ، پھر یہ بنیاد اس قابل نہیں رہتی کہ کوئی عمارت اس پر تعمیر ہوسکے۔ ایک فارغ التحصیل کا حال کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، اگر مزید طلب کا جذبہ اس میں نہ ہو تو اس کا علم بھی بوسیدہ بنیاد کی طرح ڈھ جاتا ہے، یہ منظر آپ روز دیکھتے ہوں گےکہ ایک فارغ التحصیل جس نے اپنے درجات میں بہت اعلیٰ نمبرات حاصل کئے، اول درجے پر کامیابی سے ہمکنار ہوا، اس میں مزید طلب اور جستجو کا مادہ نہیں رہا، نہ ہی پڑھنے پڑھانے سے واسطہ رہاتو اگروہ دیندار ہے تو چند سالوں میں اس کا علمی معیار اتنا رہ جاتا ہے، جتنا ایک چلہ یا چار مہینے تبلیغی جماعت میں دے آنے والے کا، اور اگر اس میں سوچنے کی صلاحیت موجود ہے تو وہ غور کرنے لگتا ہے کہ چار مہینہ جماعت میں جانے سے جو بولنے اور بیان کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی ہے، آخراتنی ہی صلاحیت حاصل کرنی تھی تو پھر مدرسے میں دن رات ایک کرکے، بھوکے پیاسے رہ کر کیوں چودہ پندرہ سال گذارے؟ نو دس سال میں یہ کام چل سکتا تھا، یہ وہ بات ہے جو ایک طالب علم اور فارغ التحصیل کو طلب اور جستجواور علم وفہم میں اضافے کی ضرورت اور اس کے حصول کے لئے مطالعہ کتب کی عادت کی اہمیت اور قدرت کے ودیعت کردہ قوت حافظہ کے قوانین و ضوابط جاننے کی اہمیت واشگاف کرتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف اللہ کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نشاندہی کی ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ: قرآن پاک کو خوب پابندی سے پڑھو اور یاد رکھو ،وہ بہت تیزی سے ذہن سے نکل جاتا ہے جیسے اونٹ اپنے نکیل میں سے تیزی سے نکل بھاگتا ہے۔ (مشکوٰۃ: ص:۱۹۰)
ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ: صاحب قرآن (جس کو قرآن کا کچھ حصہ یاد ہے) کی مثال نکیل پڑے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے، اگر مالک اونٹ کو پکڑے رہے، اس کی نگرانی کرتا رہے تو پاس رہے گا اور اگر چھوڑدیا تو بس بھاگ جائے گا۔ (مشکوٰۃ: ص:۱۹۰)
(جاری)
WA: 00919008175269
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤3
*وفیات مورخہ: 26/اپریل*
1221ء فرید الدین عطار۔ صوفی ادیب
1975ء عبدالشکور۔ میجر ،
1976ء سید سبط نبی نقوی۔ ،
1982ء سید محمد نبی میاں شاہجہانپوری۔ ،
1999ء شاہ عبدالحلیم جونپوری۔ مولانا، خلیفہ شاہ وصی اللہ فتح پوری
2002ء مصطفٰی کمال رضوی۔
2002ء نشاط ملک۔ ڈاکٹر ،
2003ء غزالی ایم زیڈ (محمد ابراہیم زین الدین غزالی )۔ ،
2005ء سید معین الحق۔
2005ء راہی شہابی (نفاست علی خان)۔
2008ء سید محمد انظر شاہ کشمیری۔ شیخ الحدیث مولانا
2014ء نقی، ایس ایم (شیخ محمد نقی )۔ ،
2017ء بہار الدین ریاض۔
2019ء محمد اطہر شاہ خاں۔ مولانا
2021ء محمد فرقان سنبھلی۔
2021ء منظور احتشام۔ صحافی
Https://telegram.me/ilmokitab
1221ء فرید الدین عطار۔ صوفی ادیب
1975ء عبدالشکور۔ میجر ،
1976ء سید سبط نبی نقوی۔ ،
1982ء سید محمد نبی میاں شاہجہانپوری۔ ،
1999ء شاہ عبدالحلیم جونپوری۔ مولانا، خلیفہ شاہ وصی اللہ فتح پوری
2002ء مصطفٰی کمال رضوی۔
2002ء نشاط ملک۔ ڈاکٹر ،
2003ء غزالی ایم زیڈ (محمد ابراہیم زین الدین غزالی )۔ ،
2005ء سید معین الحق۔
2005ء راہی شہابی (نفاست علی خان)۔
2008ء سید محمد انظر شاہ کشمیری۔ شیخ الحدیث مولانا
2014ء نقی، ایس ایم (شیخ محمد نقی )۔ ،
2017ء بہار الدین ریاض۔
2019ء محمد اطہر شاہ خاں۔ مولانا
2021ء محمد فرقان سنبھلی۔
2021ء منظور احتشام۔ صحافی
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
سچی باتیں (29؍اپریل 1940ء)۔۔۔ علم بشری کی بے بسی تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
امریکی اور یورپی، بیسیوں فضلائے عصر اور ماہرین فن کی لکھی ہوئی ، اور سرجان ہیمرٹن کی مرتب کی ہوئی ، ضخیم ’یونیورسل ہسٹری آف دی ورلڈ‘‘ علوم وفنون پر گویا تحقیق جدید کا آخر ی لفظ ہے۔ آخری جلد میں ختم کلام کے قریب ایک مستقل باب ہے ’’جدید فلسفۂ سائنس‘‘ (نیو فلاسفی آف سائنس) ، ایک مادّیت نواز کے قلم سے۔ اول سے آخرتک پڑھنے کے قابل۔ سوچنے سمجھنے کے قابل۔ اس کے آخر میں ارشاد ہوتاہے:-
’’موجودہ علوم فلسفیہ نے اگرچہ بہت سے قدیم مابعد الطبیعاتی مسائل کی گتھیاں کھول دی ہیں، تاہم اس سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم آخری مسائل کے حل کے کچھ بھی قریب آگئے ہیں۔ فطرت کاعلم جوں جوں ہمیں زائد ہوتاجاتاہے، اپنا جہل بھی ہم پر زیادہ منکشف ہوتاجاتاہے‘‘۔ (جلد 8، ص: 5012)
لیجئے ، جس سائنس کا اتنا غلغلہ تھا، کہ اس نے فطرت کے سارے اسرار ایک ایک کرکے بے نقاب کرڈالے ہیں، اور مذہب کی دھجیاں بکھیر دی ہیں، اس کی کائنات کُل اتنی نکلی! حشرونشر، حوروملک، جنت ودوزخ، کا عدم وجود’’ثابت‘‘ کردینا، ان کی نفی پر کوئی دلیل قائم کردینا الگ رہا، اس فریب کو تو ابھی زمان ومکاں، حدوث وقدم، مادّہ وروح، ہی کے پُرانے چکّروں اور اُلجھاوؤں سے فرصت نصیب نہیں!
اعترافِ عجز ابھی ختم نہیں ہوا، اور آگے چلئے:-
’’ہر مسئلہ جو حل ہوتاہے، وہ نئے نئے مسائل کاآغاز کردیتاہے، جو پہلے کبھی خیال وگمان میں بھی نہیں آئے ہوتے ہیں۔ نامعلوم (یا مغیبات) کا دائرہ غیرمحدود ہے، بہ خلاف اس کے معلوم (یا مشہودات) کادائرہ وسیع کتنا بھی ہو، بہرحال محدود ہی ہے۔ بنیادی مسائل کے حل کے لحاظ سے ہم آج بھی وہیں ہیں جہاں طالیسؔ، اور فیثاغورثؔ تھے۔ بنیادی مسائل کی تلاش ہی ایک مریض ذہنیت کی علامت ہے‘‘۔ (ایضًا)
ہزارہا سال کی فلسفیانہ کاوشوں اور عقلی موشگافیوں کا ماحصل، اور پوری ایک صدی کی حیرت انگیز سائنسی ترقیوں کا نتیجہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا؟ بے بسی کا اعتراف خود فلسفہ کے ماہروں اور سائنس کے اُستادوں کی زبان سے سُن لیا؟……یہ کتنا مختلف ہے اُن دعوؤں سے، جو ابھی کوئی پچاس برس اُدھر، کس زوروشور سے کئے جارہے تھے، کہ سائنس نے ’’ثابت کردیا ہے‘‘ کہ نہ عرش کوئی چیز ہے نہ کُرسی، نہ جنت کا وجود ہے نہ دوزخ کا، اور (نعوذ باللہ) نہ اللہ میاں کوئی چیز ہیں، نہ رسالت ونبوت!
اور یہ آواز کتنی مشابہ ومماثل ہے اُس سبق کے جو ساڑھے تیرہ سو برس پہلے دیاگیاتھا، اور کیسی دلنشیں شرح ہے اُس متن کی جو صدیوں پیشتر سنادیا گیاتھا، کہ
وما أوتیتم من العلم الّا قلیلا۔
علم بشری کی کُل بساط وکائنات ہی کیا ہے؟ اور یہ نئی حکمتِ ، کس طرح لفظ بہ لفظ ، حرف بہ حرف، ہماری پُرانی شاعری کی ترجمانی کررہی ہے کہ
فلسفی سرِ حقیت نتوانست کشود
گشت رازِ دگر آں راز کہ افشامی کرد!
فطرت کے قوانین چمکے، اور جھوٹ کھُل گیا ملؔکا، اور ہکسلیؔ کا، اور اگسٹؔ کاوما وعد الشیطان الاغرورًااور اُس برے فریبئے کے وعدے تو جھوٹ نکلنے ہی تھے۔
اور فطرت کے مالک وحاکم نے سچا کردکھایا، ابو حامد غزالیؒ کو، اور ولی اللہ دہلویؒ کو اور اشرف علی تھانویؒ کو……صرف ہنسے جانے کے قابل، صرف روئے جانے کے قابل، صرف ترس کھائے جانے کے قابل ہے اُن بیچاروں کا حال جو اِدھر اُدھر سے کچھ باتیں سُن سُنا کر، آج بھی اپنی ’’نیچریت‘‘ اور ’’روشن خیالی‘‘ کو کوئی فخر کی چیز سمجھ رہے ہیں، پچاس ساٹھ سال قبل کے آموختہ کو رٹے جاتے ہیں، اور اُترے ہوئے ڈھول کو دنوں ہاتھوں سے پیٹے چلے جارہے ہیں!
Https://telegram.me/ilmokitab
امریکی اور یورپی، بیسیوں فضلائے عصر اور ماہرین فن کی لکھی ہوئی ، اور سرجان ہیمرٹن کی مرتب کی ہوئی ، ضخیم ’یونیورسل ہسٹری آف دی ورلڈ‘‘ علوم وفنون پر گویا تحقیق جدید کا آخر ی لفظ ہے۔ آخری جلد میں ختم کلام کے قریب ایک مستقل باب ہے ’’جدید فلسفۂ سائنس‘‘ (نیو فلاسفی آف سائنس) ، ایک مادّیت نواز کے قلم سے۔ اول سے آخرتک پڑھنے کے قابل۔ سوچنے سمجھنے کے قابل۔ اس کے آخر میں ارشاد ہوتاہے:-
’’موجودہ علوم فلسفیہ نے اگرچہ بہت سے قدیم مابعد الطبیعاتی مسائل کی گتھیاں کھول دی ہیں، تاہم اس سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم آخری مسائل کے حل کے کچھ بھی قریب آگئے ہیں۔ فطرت کاعلم جوں جوں ہمیں زائد ہوتاجاتاہے، اپنا جہل بھی ہم پر زیادہ منکشف ہوتاجاتاہے‘‘۔ (جلد 8، ص: 5012)
لیجئے ، جس سائنس کا اتنا غلغلہ تھا، کہ اس نے فطرت کے سارے اسرار ایک ایک کرکے بے نقاب کرڈالے ہیں، اور مذہب کی دھجیاں بکھیر دی ہیں، اس کی کائنات کُل اتنی نکلی! حشرونشر، حوروملک، جنت ودوزخ، کا عدم وجود’’ثابت‘‘ کردینا، ان کی نفی پر کوئی دلیل قائم کردینا الگ رہا، اس فریب کو تو ابھی زمان ومکاں، حدوث وقدم، مادّہ وروح، ہی کے پُرانے چکّروں اور اُلجھاوؤں سے فرصت نصیب نہیں!
اعترافِ عجز ابھی ختم نہیں ہوا، اور آگے چلئے:-
’’ہر مسئلہ جو حل ہوتاہے، وہ نئے نئے مسائل کاآغاز کردیتاہے، جو پہلے کبھی خیال وگمان میں بھی نہیں آئے ہوتے ہیں۔ نامعلوم (یا مغیبات) کا دائرہ غیرمحدود ہے، بہ خلاف اس کے معلوم (یا مشہودات) کادائرہ وسیع کتنا بھی ہو، بہرحال محدود ہی ہے۔ بنیادی مسائل کے حل کے لحاظ سے ہم آج بھی وہیں ہیں جہاں طالیسؔ، اور فیثاغورثؔ تھے۔ بنیادی مسائل کی تلاش ہی ایک مریض ذہنیت کی علامت ہے‘‘۔ (ایضًا)
ہزارہا سال کی فلسفیانہ کاوشوں اور عقلی موشگافیوں کا ماحصل، اور پوری ایک صدی کی حیرت انگیز سائنسی ترقیوں کا نتیجہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا؟ بے بسی کا اعتراف خود فلسفہ کے ماہروں اور سائنس کے اُستادوں کی زبان سے سُن لیا؟……یہ کتنا مختلف ہے اُن دعوؤں سے، جو ابھی کوئی پچاس برس اُدھر، کس زوروشور سے کئے جارہے تھے، کہ سائنس نے ’’ثابت کردیا ہے‘‘ کہ نہ عرش کوئی چیز ہے نہ کُرسی، نہ جنت کا وجود ہے نہ دوزخ کا، اور (نعوذ باللہ) نہ اللہ میاں کوئی چیز ہیں، نہ رسالت ونبوت!
اور یہ آواز کتنی مشابہ ومماثل ہے اُس سبق کے جو ساڑھے تیرہ سو برس پہلے دیاگیاتھا، اور کیسی دلنشیں شرح ہے اُس متن کی جو صدیوں پیشتر سنادیا گیاتھا، کہ
وما أوتیتم من العلم الّا قلیلا۔
علم بشری کی کُل بساط وکائنات ہی کیا ہے؟ اور یہ نئی حکمتِ ، کس طرح لفظ بہ لفظ ، حرف بہ حرف، ہماری پُرانی شاعری کی ترجمانی کررہی ہے کہ
فلسفی سرِ حقیت نتوانست کشود
گشت رازِ دگر آں راز کہ افشامی کرد!
فطرت کے قوانین چمکے، اور جھوٹ کھُل گیا ملؔکا، اور ہکسلیؔ کا، اور اگسٹؔ کاوما وعد الشیطان الاغرورًااور اُس برے فریبئے کے وعدے تو جھوٹ نکلنے ہی تھے۔
اور فطرت کے مالک وحاکم نے سچا کردکھایا، ابو حامد غزالیؒ کو، اور ولی اللہ دہلویؒ کو اور اشرف علی تھانویؒ کو……صرف ہنسے جانے کے قابل، صرف روئے جانے کے قابل، صرف ترس کھائے جانے کے قابل ہے اُن بیچاروں کا حال جو اِدھر اُدھر سے کچھ باتیں سُن سُنا کر، آج بھی اپنی ’’نیچریت‘‘ اور ’’روشن خیالی‘‘ کو کوئی فخر کی چیز سمجھ رہے ہیں، پچاس ساٹھ سال قبل کے آموختہ کو رٹے جاتے ہیں، اور اُترے ہوئے ڈھول کو دنوں ہاتھوں سے پیٹے چلے جارہے ہیں!
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
کیا ہم مسلمان ہیں (٤١) سورج چھپ گیا.... روشنی باقی ہے (پہلی قسط)
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
بغداد میں وہ غیر معمول انسان مَوت کی میٹھی نیند سو رہا ہے جو کبھی کوفہ کا محض ایک بزاز تھا مگر بس علم و عمل کی بے نہایت برکت سے اس کی ابدی خواب گاه پر دنیا کے کج کلاہ سلاطین فرطِ ادب وعقیدت سے سر جُھکائے دیکھے گئے ۔ وہ علم و عمل کے اُفق سے کیسی شان سے اُبھرا تھا ! وہ جب کپڑوں کا ایک تاجر تھا تو آس پاس کی بستیوں ہی سے اس کے تھانوں کے خریدار آیا کرتے تھے ، مگر جب اس نے علمِ دین کا حلقہ قائم کیا تو خلافتِ عبّاسیہ اور خود اس کی علمی سلطنت کی سرحدیں ایک ہو کر رہ گئیں ۔ اس کے حلقۂ درس میں مکّہ ، مدینہ ، دمشق ، بصرہ ، رملہ ، مصر، یمن ، یمامه، بحرین، بغداد ، اہواز ، اصفہان ، استر آباد ، ہمدان ، نہاوند ، رے، قومس ، طبرستان، جرجان، نیشاپور ، سرخس، بخارا ، سمرقند ، ہرات ، ترمذ، خوارزم، سیستان ، مدائن ، موصل اور حمص جیسے بے شمار علمی مرکزوں کے روشن ترین چہرے اس کی آواز پر سراپا گوش دیکھے گئے۔ وہ ایک بہت بڑا آدمی تھا جس کی پذیرائی بھی ایک عظیم الشان پیمانے پر کی گئی اور مخالفت بھی۔ لیکن اس نقطے پر اس کے دوست اور دشمن دونوں ہم نوا ہو جاتے تھے کہ وہ ایک بہت بڑا انسان ہے ۔ وہ جدھر سے گزرتا تھا دنیا اس کے قدموں میں گری پڑتی تھی اور مخلوقِ خُدا پروانہ وار نِثار ہوتی نظر آتی تھی ۔ دیدہ و دل فرشِ راہ کیے جاتے تھے علمی حلقے اور فکر و نظر کے اسکول ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے آستانۂ علمی میں جذب ہورہے تھے ۔ اس کی علمی محفلوں میں وقت کے چیدہ چیدہ دل و دماغ ہجوم کرکے آتے تو سچ مچ تِل دَھرنے کو جگہ نہیں ملتی تھی ۔ شانے سے شانے چھلا کرتے تھے ۔ وہ جب اس دُنیا سے رخصت ہو کر آخرت کے بڑے سفر پر روانہ ہوا تو محسوس ہوتا تھا کہ انسانی آبادیوں نے ایک سیلِ رواں کی شکل اختیار کرلی ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا بغداد اُمنڈ آیا تھا اس کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے والوں کا جو پہلا ہجوم پہلی نمازِ جنازہ میں صف بستہ نظر آیا اس میں تقریباً پچاس ہزار انسانی سر شمار کیے گئے ۔ یہ ہجوم ہرلمحہ بڑھ رہا تھا ۔ ایک نمازِ جنازہ ختم نہ ہوتی تھی کہ دوسری کے لیے جوق در جوق آگے بڑھ آتے۔ چھ بار نمازِ جنازہ پڑھی گئی مگر آنے والوں کا سلسلہ تھا کہ جاری تھا ۔ میّت سپردِخاک کر دی گئی اور اس کے بعد بھی بیسں دِن تک لوگ آتے رہے اور نمازِ جنازہ ادا کرتے رہے ۔ اس نے وصیّت کہ تھی کہ میری لاش کو خیزان کے گورستان میں دفن کیا جائے کیوں کہ یہی وہ قطعۂ زمین تھا جس کے متعلق اس کو یقین تھا کہ وہ غصب کردہ جاگیر نہیں ہے ۔ جس نے عمر بھر دیانت پر جاں نثار کی تھی ۔ اس کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ اس کی لاش کِسی ایسی زمین کے حوالے ہو جس پر ظلم و سفّاکی کے سیاسی ہاتھوں نے چھاپہ مارا ہو۔ ســـہ١٥٠ ھ کی ایک شام کو یہ علم و عمل اور اخلاق و دیانت کا روشن سُورج زمین کے اندر جا چھپا ۔ مگر اس کی روشنی آج تک شرق و غرب اور شمال و جنوب میں چراغاں کیے ہوئے ہے ۔ اِنّا لِلّٰہ وَاِنّا اِلیہ رَاجِعُون ۔ اس کی میت کو غسل دیتے ہوئے ائمۂ وقت نے یہ نوائے شوق بلند کی تھی:
"خُدا کی قسم ! تم سب سے بڑے فقیہہ _ بڑے عابد بڑے زاہد تھے ۔ تم میں ساری کی ساری خوبیاں جمع تھیں۔ تم نے اپنے جانشینوں کو مایوس کر دیا کہ وہ تمہارے مرتبے کو پہنچ سکیں۔"
ہزار سال سے بھی زیادہ بیت گئے ۔ مگر یہ نوائے شوق چار دانگ عالم میں کروڑوں سینوں سے گونجتی ہوئی بلند ہو رہی ہے ۔ اے امام ابو حنیفہ ؒ___! اے امام اعظمؒ آپ کی خاک کے ہر ذرّے پر رحمت الہی کے آفتاب ضوفگن رہیں کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ علم دین ہوتا کیا ہے اور اس کی قیمت کس طرح ادا کی جاسکتی ہے
________
یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کوفہ کے وہی نوجوان نعمان ہی تو تھے جن کی پیشانی سے کوفہ کے جلیل القدر امام شعبی رحمہ اللہ نے علم وفضل کا نُور ٹپکتا ہوا دیکھ کر پُوچھا تھا:
"اے نوجوان کہاں جارہے ہو؟"
امام صاحب نے جواب میں بتایا تھا کہ فلاں سوداگر کے یہاں جا رہا ہوں۔ " نہیں نہیں ! " امام شعبیؒ نے فرمایا تھا " میرا مطلب یہ ہے کہ تم پڑھتے کِس سے ہو ؟ "
"کسی سے بھی نہیں !" امام ابو حنیفہ ؒنے یاس و تأسف کی مِلی جُلی آواز میں جواب دیا تھا ۔ اس پر امام شعبیؒ نے کوفہ کے اس نوجوان کی شخصیت پر گہری نظر ڈالی تھی اور کہا تھا "مجھ کو تم میں قابلیت کے جو ہر نظر آتے ہیں ___ علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو ۔"
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
بغداد میں وہ غیر معمول انسان مَوت کی میٹھی نیند سو رہا ہے جو کبھی کوفہ کا محض ایک بزاز تھا مگر بس علم و عمل کی بے نہایت برکت سے اس کی ابدی خواب گاه پر دنیا کے کج کلاہ سلاطین فرطِ ادب وعقیدت سے سر جُھکائے دیکھے گئے ۔ وہ علم و عمل کے اُفق سے کیسی شان سے اُبھرا تھا ! وہ جب کپڑوں کا ایک تاجر تھا تو آس پاس کی بستیوں ہی سے اس کے تھانوں کے خریدار آیا کرتے تھے ، مگر جب اس نے علمِ دین کا حلقہ قائم کیا تو خلافتِ عبّاسیہ اور خود اس کی علمی سلطنت کی سرحدیں ایک ہو کر رہ گئیں ۔ اس کے حلقۂ درس میں مکّہ ، مدینہ ، دمشق ، بصرہ ، رملہ ، مصر، یمن ، یمامه، بحرین، بغداد ، اہواز ، اصفہان ، استر آباد ، ہمدان ، نہاوند ، رے، قومس ، طبرستان، جرجان، نیشاپور ، سرخس، بخارا ، سمرقند ، ہرات ، ترمذ، خوارزم، سیستان ، مدائن ، موصل اور حمص جیسے بے شمار علمی مرکزوں کے روشن ترین چہرے اس کی آواز پر سراپا گوش دیکھے گئے۔ وہ ایک بہت بڑا آدمی تھا جس کی پذیرائی بھی ایک عظیم الشان پیمانے پر کی گئی اور مخالفت بھی۔ لیکن اس نقطے پر اس کے دوست اور دشمن دونوں ہم نوا ہو جاتے تھے کہ وہ ایک بہت بڑا انسان ہے ۔ وہ جدھر سے گزرتا تھا دنیا اس کے قدموں میں گری پڑتی تھی اور مخلوقِ خُدا پروانہ وار نِثار ہوتی نظر آتی تھی ۔ دیدہ و دل فرشِ راہ کیے جاتے تھے علمی حلقے اور فکر و نظر کے اسکول ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے آستانۂ علمی میں جذب ہورہے تھے ۔ اس کی علمی محفلوں میں وقت کے چیدہ چیدہ دل و دماغ ہجوم کرکے آتے تو سچ مچ تِل دَھرنے کو جگہ نہیں ملتی تھی ۔ شانے سے شانے چھلا کرتے تھے ۔ وہ جب اس دُنیا سے رخصت ہو کر آخرت کے بڑے سفر پر روانہ ہوا تو محسوس ہوتا تھا کہ انسانی آبادیوں نے ایک سیلِ رواں کی شکل اختیار کرلی ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا بغداد اُمنڈ آیا تھا اس کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے والوں کا جو پہلا ہجوم پہلی نمازِ جنازہ میں صف بستہ نظر آیا اس میں تقریباً پچاس ہزار انسانی سر شمار کیے گئے ۔ یہ ہجوم ہرلمحہ بڑھ رہا تھا ۔ ایک نمازِ جنازہ ختم نہ ہوتی تھی کہ دوسری کے لیے جوق در جوق آگے بڑھ آتے۔ چھ بار نمازِ جنازہ پڑھی گئی مگر آنے والوں کا سلسلہ تھا کہ جاری تھا ۔ میّت سپردِخاک کر دی گئی اور اس کے بعد بھی بیسں دِن تک لوگ آتے رہے اور نمازِ جنازہ ادا کرتے رہے ۔ اس نے وصیّت کہ تھی کہ میری لاش کو خیزان کے گورستان میں دفن کیا جائے کیوں کہ یہی وہ قطعۂ زمین تھا جس کے متعلق اس کو یقین تھا کہ وہ غصب کردہ جاگیر نہیں ہے ۔ جس نے عمر بھر دیانت پر جاں نثار کی تھی ۔ اس کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ اس کی لاش کِسی ایسی زمین کے حوالے ہو جس پر ظلم و سفّاکی کے سیاسی ہاتھوں نے چھاپہ مارا ہو۔ ســـہ١٥٠ ھ کی ایک شام کو یہ علم و عمل اور اخلاق و دیانت کا روشن سُورج زمین کے اندر جا چھپا ۔ مگر اس کی روشنی آج تک شرق و غرب اور شمال و جنوب میں چراغاں کیے ہوئے ہے ۔ اِنّا لِلّٰہ وَاِنّا اِلیہ رَاجِعُون ۔ اس کی میت کو غسل دیتے ہوئے ائمۂ وقت نے یہ نوائے شوق بلند کی تھی:
"خُدا کی قسم ! تم سب سے بڑے فقیہہ _ بڑے عابد بڑے زاہد تھے ۔ تم میں ساری کی ساری خوبیاں جمع تھیں۔ تم نے اپنے جانشینوں کو مایوس کر دیا کہ وہ تمہارے مرتبے کو پہنچ سکیں۔"
ہزار سال سے بھی زیادہ بیت گئے ۔ مگر یہ نوائے شوق چار دانگ عالم میں کروڑوں سینوں سے گونجتی ہوئی بلند ہو رہی ہے ۔ اے امام ابو حنیفہ ؒ___! اے امام اعظمؒ آپ کی خاک کے ہر ذرّے پر رحمت الہی کے آفتاب ضوفگن رہیں کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ علم دین ہوتا کیا ہے اور اس کی قیمت کس طرح ادا کی جاسکتی ہے
________
یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کوفہ کے وہی نوجوان نعمان ہی تو تھے جن کی پیشانی سے کوفہ کے جلیل القدر امام شعبی رحمہ اللہ نے علم وفضل کا نُور ٹپکتا ہوا دیکھ کر پُوچھا تھا:
"اے نوجوان کہاں جارہے ہو؟"
امام صاحب نے جواب میں بتایا تھا کہ فلاں سوداگر کے یہاں جا رہا ہوں۔ " نہیں نہیں ! " امام شعبیؒ نے فرمایا تھا " میرا مطلب یہ ہے کہ تم پڑھتے کِس سے ہو ؟ "
"کسی سے بھی نہیں !" امام ابو حنیفہ ؒنے یاس و تأسف کی مِلی جُلی آواز میں جواب دیا تھا ۔ اس پر امام شعبیؒ نے کوفہ کے اس نوجوان کی شخصیت پر گہری نظر ڈالی تھی اور کہا تھا "مجھ کو تم میں قابلیت کے جو ہر نظر آتے ہیں ___ علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو ۔"
❤5
لیکن جب علما ء کی صحبت میں بیٹھ کر یہ سعادت و صلاحیت کی پہلی کرن سُورج بن کر چمک اُٹھی تو علم کے احترام نے اپنے استاذِ جلیل حمادؓ کی زندگی بھر اتنی بات کو بھی سوء ادب سمجھا کہ وہ اپنے طور پر حلقۂ علمی قائم کرے ۔ جب تک استاد بقید حیات رہے مستقبل کے اس آفاقی امام نے خود کو طالب علم بنائے رکھا۔ استاد کی وفات کے بعد بھی ان کے صاحب زادے اور پھر ایک استاذ بھائی کے علمی حلقے ہی میں امام ابو حنیفہ ؒ زانو ے ادب تہہ کیے بیٹھے رہے۔ جانشین استاذ نے سفرِ حج کیا اور متفقہ طور پر امام ابو حنیفہ ؒ کو استاد مرحوم کی گدّی پر بٹھایا گیا تو علم و فضل کا یہ پہاڑ اس علوے مرتبت اور ذاتی عجز و انکسار کے درمیان ایک برگِ کاہ کی طرح تھر تھرا رہا تھا _ اسی زمانے میں انھوں نے یہ خواب دیکھا کہ میں رسُولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھود رہا ہُوں _ دماغ و دل پر چھایا ہوا احساسِ عجز ، خوف و خشیت کے زلزلے میں تبدیل ہو گیا اور محسوس کیا کہ یہ خواب میری علمی بے مائگی کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن جب ماہرین رویاء نے تعبیر دی کہ تم علمِ دین میں حیات تازہ کی رُوح پھونکو گے تو ان کے دل کو تسکین ہوئی اور وہ اس تعبیر کو حقیقت بنانے کے لیے سراپا علم و عمل بن کر آگے بڑھے ۔ تاریخ نے گواہی دی کہ یہ تعبیر برحق تھی اور امام ابو حنیفہ ؒ کا نام اور کام علمِ دین کی تاریخ میں ایک نقشِ دوام ثبت کر گیا ۔ ایسا نقش جو وقت کی کسی آندھی، کسی طوفان سے مٹنے والا نہیں ۔
(جاری)
Https://telegram.me/ilmokitab
(جاری)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
جددوا یاشباب
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=jaddidu-ya-shabab, Jaddidu Ya Shabab
نشید الفلاح
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=nasheedul-falah&t=#google_vignette
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=jaddidu-ya-shabab, Jaddidu Ya Shabab
نشید الفلاح
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=nasheedul-falah&t=#google_vignette
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
اسوہ حسنہ (۰۲)
بیان وآواز: حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
سابق شیخ الحدیث وقف دار العلوم دیوبند
(وفات 26-04-2008ء)
یوم وفات کی مناسب سے آپ کی آپ کا ایک بیان پیش خدمت ہے
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=uswah-e-hasanah-part-2, Uswah-E-Hasanah - Part 2
بیان وآواز: حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
سابق شیخ الحدیث وقف دار العلوم دیوبند
(وفات 26-04-2008ء)
یوم وفات کی مناسب سے آپ کی آپ کا ایک بیان پیش خدمت ہے
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=uswah-e-hasanah-part-2, Uswah-E-Hasanah - Part 2
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
*مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟۔۔۔(2)*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
ایک کامیاب تاجر وہی سمجھا جاتا ہے جو اپنے سرمایہ کو بڑھانے کی فکر میں ہو ، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر میں اسے نہیں بڑھاؤں گا تو پھر آج کا سرمایہ کل اپنی قدروقیمت کھودے گا، آج کاروبار کے لئے ایک لاکھ روپے حیثیت رکھتے ہیں لیکن کل کلاں ایک ملین کی قوت خرید آج کے ایک لاکھ سے کم ہوسکتی ہےتو کیا ایک فارغ التحصیل کو اپنا علمی سرمایہ بڑھانے کے لئے ایک تاجر جیسی فکر نہیں رکھنی چاہئے؟
انسان کے سینے میں علم ومعرفت کا دار ومدار اس کے قوت حافظہ پر ہوتا ہے اور اللہ تعالی نے انسان کےقوت حافظہ کی ساخت کچھ اس طرح رکھی ہے کہ مشہور ماہر نفسیات ولیم جیمز کے بقول :ایک انسان جو کچھ پڑھتا ہے، اس کے فورا بعد نصف سے کچھ زاید خیالات اس کے ذہن میں محفوظ رہتے ہیںاور باقی سب غائب ہوجاتے ہیں۔
ایک دوسرے ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ : ہر نئی بات جو ہم سیکھتے ہیں، اس کا زیادہ تر حصہ پہلے آٹھ گھنٹوں میں بھول جاتے ہیں اور باقی حصہ بعد کے تیس دنوں میں۔
یہ فطرت کا ایک عظیم احسان ہے کہ ہمیں سبھی کچھ یاد نہیں رہتا، بلکہ ہمارے تجربات و تخیلات کا ایک نہایت معمولی سا حصہ ہی ذہن میں محفوظ ہوتا ہے، ذرا تصور کریں کہ اگر ذہن میں پیدا ہونے والے دس خیالات روزانہ جمع ہوتے جائیں تو ہمارے دماغ کا کیا عالم ہو اور ہم کس قدر آشفتہ خیال اور پراگندہ دل ہوجائیں۔ صرف یاد رکھنا اللہ کی نعمت نہیں ہے ، بلکہ بھولنا بھی اس سے کم نعمت نہیں ہے، ذرا سوچیں کہ انسان کی نظر کے سامنے سے جو تکلیفیں،آلام ، اپنے چاہنے والوں کی موت ،جیسے حالات گزرتے ہیں، اگر ان سبھی چیزوں کی یاد، دل ودماغ میں تازہ رہے تو یہ زندگی کیا اجیرن نہ بن جائے گی؟لہٰذا قدرت نے یادداشت اور حافظہ کے لئے چند قوانین وضع کئے ہیں، جن کی اتباع سے حافظہ اللہ کی ایک نعمت عظیم بن جاتا ہے۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ ہمیں زیادہ ضرورت ایک مضبوط حافظے کی نہیں بلکہ اصل حاجت اس کی تنظیم کی ہے۔ بس ایک انسان کا مقصد یہ نہ ہو کہ ہر رطب و یابس ذہن میں محفوظ کرتا چلاجائے، اس معاملہ میں چناؤ اور انتخاب ایک ناگزیر ضرورت ہے، ہمیں زیادہ اہمیت اس میں طویل المیعاد مقاصد کودینی چاہئے ، جنہیں ذہن میں رکھ کر ہم بہت نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔
حافظے کے فطری قوانین:حافظے کے فطری قوانین بڑے سادہ ہیں، یہ فقط تین ہیں۔ ہر طریقہ یادداشت کی بنیاد انہی پر ہے، اختصاراً ان کے نام یہ ہیں:(۱) تاثر (۲) تکرار(۳) تلازم خیالات
۱)۔ حافظے کا پہلا اصول :تاثر:جب آپ کسی چیز کو ذہن میں محفوظ رکھنا چاہتے ہوں تو اس کا تاثر بڑا گہرا ، واضح اور دیرینہ ہونا چاہئے۔ اس کے لئے پوری توجہ کی ضرورت درکار ہوتی ہے، اس کے لئے آنکھ کے مشاہدے کی بڑی اہمیت ہے، آنکھ کا مشاہدہ یاد داشت کے لئے سب سے موثر ذریعہ ہے، کیونکہ ایک عام آدمی کا ذہن اس چیز کا ہزارواں حصہ بھی نہیں دیکھتا جسے آنکھیں دیکھتی ہیں۔ (ایڈیسن) جن لوگوں کو سینما ہال میں کوئی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو، وہ بتائیں گے کہ سناٹے میں جب ڈھائی تین گھنٹے کی فلم نگاہوں کے سامنے گھومتی ہے تو اس کے ختم ہونے پر پوری کہانی اور بہت سارے جملے ایک بار سننے ہی میں یاد ہوجاتے ہیں، یہی وقت اگر کسی کتاب کی ورق گردانی میں صرف کیا جائے تو اتنا یاد نہیں رہتا،لہٰذا اگر ایک کیمرا دھند میں تصویر نہیں اتار سکتا تو کیمرے پر کوئی الزام نہ لگائیںلیکن اپنے ذہن سے توقع رکھیں کہ وہ دھند لے تاثرات کو محفوظ رکھے ایسا نہیں ہوسکتا۔ ماہرین کے مطابق جو پٹھے آنکھوں سے ذہن کی طرف جاتے ہیں، وہ ان پٹھوں سے پچیس گنا زیادہ بڑے ہیںجو کانوں سے ذہن کی طرف جاتے ہیں۔ چینی کہاوت ہے: کسی چیز کو ایک بار دیکھنا ہزار بار سننے سےبہتر ہےلیکن یاداشت میں کانوں کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس کا تذکرہ صوتیات کے ذکرمیں دیکھیں۔
۲)۔ حافظے کا دوسرا اصول :تکرار:اس کا تجربہ حفاظ کرام کو خوب ہوتا ہے،زبان دانی کے لئے اشعار اور عبارتوں اور جملوں کے تکرار کی ضرورت زیادہ پڑتی ہےکیونکہ جو باتیں یاد رکھنے کی ہوتی ہیں ، انہیں باربار ذہن میں دہرانے، انہیں گفتگو میں استعمال کرنے ہی سے وہ حافظے کا حصہ بن پاتی ہیں۔ جو عبارت سمجھ کر یاد کی جائے ، وہ یاد ہونے میں بہ نسبت اس عبارت کے کم وقت لیتی ہے جو بغیر سمجھے اندھا دھند یاد کی جائے۔ سمجھ کر یاد کرنے سے عبارت جلد ذہن نشین ہوجاتی ہے۔ مشاہدہ ہے کہ فراغت کے بعد شعور کے ساتھ جو فارغین قرآن کریم حفظ کرتے ہیں، وہ بہ نسبت دوسروں کے اسے یاد کرنے میں کم وقت لیتے ہیں۔
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
ایک کامیاب تاجر وہی سمجھا جاتا ہے جو اپنے سرمایہ کو بڑھانے کی فکر میں ہو ، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر میں اسے نہیں بڑھاؤں گا تو پھر آج کا سرمایہ کل اپنی قدروقیمت کھودے گا، آج کاروبار کے لئے ایک لاکھ روپے حیثیت رکھتے ہیں لیکن کل کلاں ایک ملین کی قوت خرید آج کے ایک لاکھ سے کم ہوسکتی ہےتو کیا ایک فارغ التحصیل کو اپنا علمی سرمایہ بڑھانے کے لئے ایک تاجر جیسی فکر نہیں رکھنی چاہئے؟
انسان کے سینے میں علم ومعرفت کا دار ومدار اس کے قوت حافظہ پر ہوتا ہے اور اللہ تعالی نے انسان کےقوت حافظہ کی ساخت کچھ اس طرح رکھی ہے کہ مشہور ماہر نفسیات ولیم جیمز کے بقول :ایک انسان جو کچھ پڑھتا ہے، اس کے فورا بعد نصف سے کچھ زاید خیالات اس کے ذہن میں محفوظ رہتے ہیںاور باقی سب غائب ہوجاتے ہیں۔
ایک دوسرے ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ : ہر نئی بات جو ہم سیکھتے ہیں، اس کا زیادہ تر حصہ پہلے آٹھ گھنٹوں میں بھول جاتے ہیں اور باقی حصہ بعد کے تیس دنوں میں۔
یہ فطرت کا ایک عظیم احسان ہے کہ ہمیں سبھی کچھ یاد نہیں رہتا، بلکہ ہمارے تجربات و تخیلات کا ایک نہایت معمولی سا حصہ ہی ذہن میں محفوظ ہوتا ہے، ذرا تصور کریں کہ اگر ذہن میں پیدا ہونے والے دس خیالات روزانہ جمع ہوتے جائیں تو ہمارے دماغ کا کیا عالم ہو اور ہم کس قدر آشفتہ خیال اور پراگندہ دل ہوجائیں۔ صرف یاد رکھنا اللہ کی نعمت نہیں ہے ، بلکہ بھولنا بھی اس سے کم نعمت نہیں ہے، ذرا سوچیں کہ انسان کی نظر کے سامنے سے جو تکلیفیں،آلام ، اپنے چاہنے والوں کی موت ،جیسے حالات گزرتے ہیں، اگر ان سبھی چیزوں کی یاد، دل ودماغ میں تازہ رہے تو یہ زندگی کیا اجیرن نہ بن جائے گی؟لہٰذا قدرت نے یادداشت اور حافظہ کے لئے چند قوانین وضع کئے ہیں، جن کی اتباع سے حافظہ اللہ کی ایک نعمت عظیم بن جاتا ہے۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ ہمیں زیادہ ضرورت ایک مضبوط حافظے کی نہیں بلکہ اصل حاجت اس کی تنظیم کی ہے۔ بس ایک انسان کا مقصد یہ نہ ہو کہ ہر رطب و یابس ذہن میں محفوظ کرتا چلاجائے، اس معاملہ میں چناؤ اور انتخاب ایک ناگزیر ضرورت ہے، ہمیں زیادہ اہمیت اس میں طویل المیعاد مقاصد کودینی چاہئے ، جنہیں ذہن میں رکھ کر ہم بہت نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔
حافظے کے فطری قوانین:حافظے کے فطری قوانین بڑے سادہ ہیں، یہ فقط تین ہیں۔ ہر طریقہ یادداشت کی بنیاد انہی پر ہے، اختصاراً ان کے نام یہ ہیں:(۱) تاثر (۲) تکرار(۳) تلازم خیالات
۱)۔ حافظے کا پہلا اصول :تاثر:جب آپ کسی چیز کو ذہن میں محفوظ رکھنا چاہتے ہوں تو اس کا تاثر بڑا گہرا ، واضح اور دیرینہ ہونا چاہئے۔ اس کے لئے پوری توجہ کی ضرورت درکار ہوتی ہے، اس کے لئے آنکھ کے مشاہدے کی بڑی اہمیت ہے، آنکھ کا مشاہدہ یاد داشت کے لئے سب سے موثر ذریعہ ہے، کیونکہ ایک عام آدمی کا ذہن اس چیز کا ہزارواں حصہ بھی نہیں دیکھتا جسے آنکھیں دیکھتی ہیں۔ (ایڈیسن) جن لوگوں کو سینما ہال میں کوئی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو، وہ بتائیں گے کہ سناٹے میں جب ڈھائی تین گھنٹے کی فلم نگاہوں کے سامنے گھومتی ہے تو اس کے ختم ہونے پر پوری کہانی اور بہت سارے جملے ایک بار سننے ہی میں یاد ہوجاتے ہیں، یہی وقت اگر کسی کتاب کی ورق گردانی میں صرف کیا جائے تو اتنا یاد نہیں رہتا،لہٰذا اگر ایک کیمرا دھند میں تصویر نہیں اتار سکتا تو کیمرے پر کوئی الزام نہ لگائیںلیکن اپنے ذہن سے توقع رکھیں کہ وہ دھند لے تاثرات کو محفوظ رکھے ایسا نہیں ہوسکتا۔ ماہرین کے مطابق جو پٹھے آنکھوں سے ذہن کی طرف جاتے ہیں، وہ ان پٹھوں سے پچیس گنا زیادہ بڑے ہیںجو کانوں سے ذہن کی طرف جاتے ہیں۔ چینی کہاوت ہے: کسی چیز کو ایک بار دیکھنا ہزار بار سننے سےبہتر ہےلیکن یاداشت میں کانوں کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس کا تذکرہ صوتیات کے ذکرمیں دیکھیں۔
۲)۔ حافظے کا دوسرا اصول :تکرار:اس کا تجربہ حفاظ کرام کو خوب ہوتا ہے،زبان دانی کے لئے اشعار اور عبارتوں اور جملوں کے تکرار کی ضرورت زیادہ پڑتی ہےکیونکہ جو باتیں یاد رکھنے کی ہوتی ہیں ، انہیں باربار ذہن میں دہرانے، انہیں گفتگو میں استعمال کرنے ہی سے وہ حافظے کا حصہ بن پاتی ہیں۔ جو عبارت سمجھ کر یاد کی جائے ، وہ یاد ہونے میں بہ نسبت اس عبارت کے کم وقت لیتی ہے جو بغیر سمجھے اندھا دھند یاد کی جائے۔ سمجھ کر یاد کرنے سے عبارت جلد ذہن نشین ہوجاتی ہے۔ مشاہدہ ہے کہ فراغت کے بعد شعور کے ساتھ جو فارغین قرآن کریم حفظ کرتے ہیں، وہ بہ نسبت دوسروں کے اسے یاد کرنے میں کم وقت لیتے ہیں۔
٭ دو تکراروں کے درمیانی وقفے میں ہمارا شعور تلازم خیالات کو با اعتبار بنانے کی کوشش میں مصروف ہوتا ہے۔ ٭…اگر تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد ذہنی کاوش کی جائے تو اس طرح ذہن تھکتا نہیں۔ ٭…اعادہ کی ہر نشست کو اتنا طول ضرور دیں کہ آپ کا ذہن اس مضمون کے لئے پوری طرح تیار ہوجائے۔ ٭…اکتاہٹ اور تھکن کے آثار ظاہر ہوتے ہی رک جائیںلیکن اسے بہانہ بناکر اس مضمون سے گریز کی راہیں اختیار نہ کریں ، جس سے آپ بدکتے ہوں، حالانکہ وہ آپ کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ٭…جب آپ کے پاس کوئی مفید پروگرام نہ ہو تو پھر بےکار لمحات کو گزرے ہوئے واقعات و امور کے اعادے میں صرف کریں۔ ٭…جب تک کوئی بات اچھی طرح حفظ نہ ہوجائے ایک دن بھی اعادہ کا ناغہ نہ کریں۔
۳)۔ حافظے کا تیسرا اصول:تلازم خیالات:جو باتیں یاد کرنی ہوں انہیں اگلی پچھلی باتوں سے مربوط کیا جائے تو تادیر ذہن میں محفوظ رہتی ہیںاور ایک ہلکے سے اشارے سے یاد آجاتی ہیں، کیونکہ ہمارا ذہن درحقیقت خیالات کو جوڑنے والی مشین ہے۔ )ولیم جیمز(
ایک ہلکا سا اشارہ قوت حافظہ کی بے پناہ صلاحیتوں کو ایک خاص نقطے کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ کسی عبارت میں نئے الفاظ کے معنی، کسی لغت سے مراجعت کئے بغیر سیاق و سباق سے سمجھنے سے لگا سکتے ہیں۔ (جاری)
WA:00919008175269
https://telegram.me/ilmokitab
۳)۔ حافظے کا تیسرا اصول:تلازم خیالات:جو باتیں یاد کرنی ہوں انہیں اگلی پچھلی باتوں سے مربوط کیا جائے تو تادیر ذہن میں محفوظ رہتی ہیںاور ایک ہلکے سے اشارے سے یاد آجاتی ہیں، کیونکہ ہمارا ذہن درحقیقت خیالات کو جوڑنے والی مشین ہے۔ )ولیم جیمز(
ایک ہلکا سا اشارہ قوت حافظہ کی بے پناہ صلاحیتوں کو ایک خاص نقطے کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ کسی عبارت میں نئے الفاظ کے معنی، کسی لغت سے مراجعت کئے بغیر سیاق و سباق سے سمجھنے سے لگا سکتے ہیں۔ (جاری)
WA:00919008175269
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
نئے دور کا معمار۔ شمس نوید عثمانی تحریر: ڈاکٹر جاوید انجم لنک علم وکتاب لائبریری https://archive.org/download/shams-nawid-usmani/Shams%20Nawid%20Usmani.pdf
عباداتِ قلبی
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
ہر اچھے کام کے کرنے اور برائی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ضمیر کا احساس بیدار اور دل میں خیر و شر کی تمیز کے لیے خلش ہو، یہ "تقویٰ" ہے۔ پھر اس کام کو خدائے واحد کی رضامندی کے سوا ہر غرض و غایت سے پاک رکھا جائے، یہ "اخلاص" ہے۔ پھر اس کام کے کرنے میں صرف خدا کی نصرت پر بھروسہ رہے، یہ "توکل" ہے۔ اس کام میں رکاوٹیں اور دقتیں پیش آئیں یا نتیجہ مناسب حال برآمد نہ ہو تو دل کو مضبوط رکھا جائے اور خدا سے آس نہ توڑی جائے اور اس راہ میں اپنے برا چاہنے والوں کا بھی برا نہ چاہا جائے، یہ "صبر" ہے اور اگر کامیابی کی نعمت ملے تو اس پر مغرور ہونے کی بجائے اس کو خدا کا فضل و کرم سمجھا جائے اور جسم و جان اور زبان سے اس کا اقرار کیا جائے اور اس قسم کے کاموں کے کرنے میں اور زیادہ انہماک صرف کیا جائے، یہ "شکر" ہے۔
(سیرت النبی ﷺ، جلد پنجم، صفحہ: ۲۲۷/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
ہر اچھے کام کے کرنے اور برائی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ضمیر کا احساس بیدار اور دل میں خیر و شر کی تمیز کے لیے خلش ہو، یہ "تقویٰ" ہے۔ پھر اس کام کو خدائے واحد کی رضامندی کے سوا ہر غرض و غایت سے پاک رکھا جائے، یہ "اخلاص" ہے۔ پھر اس کام کے کرنے میں صرف خدا کی نصرت پر بھروسہ رہے، یہ "توکل" ہے۔ اس کام میں رکاوٹیں اور دقتیں پیش آئیں یا نتیجہ مناسب حال برآمد نہ ہو تو دل کو مضبوط رکھا جائے اور خدا سے آس نہ توڑی جائے اور اس راہ میں اپنے برا چاہنے والوں کا بھی برا نہ چاہا جائے، یہ "صبر" ہے اور اگر کامیابی کی نعمت ملے تو اس پر مغرور ہونے کی بجائے اس کو خدا کا فضل و کرم سمجھا جائے اور جسم و جان اور زبان سے اس کا اقرار کیا جائے اور اس قسم کے کاموں کے کرنے میں اور زیادہ انہماک صرف کیا جائے، یہ "شکر" ہے۔
(سیرت النبی ﷺ، جلد پنجم، صفحہ: ۲۲۷/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤3
*وفیات مورخہ: 27/اپریل*
823ء محمد بن عمر واقدی۔ سیرت نگار
1925ء احمد علی شوق قدوائی۔
1942ء عبد اللہ ہارون۔ سر
1947ء مرزا فرحت اللہ بیگ۔ مزاحیہ ادیب
1947ء مرزا فرحت اللہ بیگ۔ مزاحیہ ادیب
1962ء فضل الحق۔
1974ء اثر حیدرآبادی (صدیق احمد)۔ ،
1976ء نعیم ہاشمی۔
1985ء عبیید اللہ انور۔ مولانا،فرزند مولانا احمد علی لاہوری
1997ء سید محمد فاروق بخاری۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1997ء محمد فاروق نعمانی۔
1999ء عبد الحلیم جو نپوری۔ مولانا خلیفہ شاہ وصی اللہ فتح پوری
2003ء محمود قریشی۔ ،
2005ء ابراہیم سلیمان سیٹھ۔ صدر انڈین مسلم لیگ
2014ء جاوید قریشی۔
2017ء محمد جہانگیر تمیمی۔ ماہر اقبالیات
2017ء مقیم اثربیالوی۔
2020ء ظفر رشید بھٹی۔
2020ء محمد شریف۔ اڈمرل
2021ء مرغوب بنی حالی (غلام محمد گیری)۔ کشمیری شاعر
2024ء گل حماد فاروقی۔
Https://telegram.me/ilmokitab
823ء محمد بن عمر واقدی۔ سیرت نگار
1925ء احمد علی شوق قدوائی۔
1942ء عبد اللہ ہارون۔ سر
1947ء مرزا فرحت اللہ بیگ۔ مزاحیہ ادیب
1947ء مرزا فرحت اللہ بیگ۔ مزاحیہ ادیب
1962ء فضل الحق۔
1974ء اثر حیدرآبادی (صدیق احمد)۔ ،
1976ء نعیم ہاشمی۔
1985ء عبیید اللہ انور۔ مولانا،فرزند مولانا احمد علی لاہوری
1997ء سید محمد فاروق بخاری۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1997ء محمد فاروق نعمانی۔
1999ء عبد الحلیم جو نپوری۔ مولانا خلیفہ شاہ وصی اللہ فتح پوری
2003ء محمود قریشی۔ ،
2005ء ابراہیم سلیمان سیٹھ۔ صدر انڈین مسلم لیگ
2014ء جاوید قریشی۔
2017ء محمد جہانگیر تمیمی۔ ماہر اقبالیات
2017ء مقیم اثربیالوی۔
2020ء ظفر رشید بھٹی۔
2020ء محمد شریف۔ اڈمرل
2021ء مرغوب بنی حالی (غلام محمد گیری)۔ کشمیری شاعر
2024ء گل حماد فاروقی۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
ابراہیم سلیمان سیٹھ (وفات ۲۷ اپریل ۲۰۰۵ء) تحریر ثناء اللہ عمری
مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟۔۔۔(3) یاد داشت کے عام اصول…:
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
۔ اپنے ذہن کی توجہ اس امر پر مرکوز رکھئے کہ آپ ٹھیک یاد کرنے کا عزم رکھتے ہوں اور پھر اسے یاد کرنے کی کوشش بھی کیجئے۔
۔ جو چیز یاد کرنا مقصود ہو اس کے تجرباتی رد عمل کو مضبوط بنائیےاور جب یہ تجربہ جاری ہو تو اس پرغور کیجئے ، ہمہ تن گوش ہوکر اسے سنئے اور اس پر عمل و فکر کیجئے۔
۔ اد داشت کے فیصلہ کن اور اہم مراحل پر اپنے ذہن کو تروتازہ رکھنے کی فکر کیجئے، تاکہ آپ صحت کے ساتھ چیزوں کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھ سکیں اور آپ کی قوت حافظہ تھکنے نہ پائے۔
۔ ہم میں سے کوئی شخص بھی اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ اسے جو کچھ یاد کرنا مطلوب ہو، اسے پورے کا پورا ذہن میں محفوظ کرلے، ذہین سے ذہین انسان بھی کسی چیز کا جتنا حصہ یاد رکھتا ہے، اس سے زیادہ فراموش کردیتا ہے اور اسے جتنا کچھ یاد ہونے کا دعویٰ ہوتا ہے، اس میں سے بھی قریب قریب نصف قابل اعتماد نہیں ہوتا۔
۔ یاد کرنے کا بہترین وآسان، قابل اعتماد اور یقینی راستہ یہ ہے کہ کس چیز کو باربار دہرایا جائےاور جو چیزیں لکھنے کے قابل ہوں انہیں قرطاس پر محفوظ کر لیا جائے۔
۔ جب عمر پچاس برس سے تجاوز کرجائے تو پھر ضروری باتیں لکھ لی جائیں اور محض دماغ ہی پر بھروسہ نہ کیا جائے۔
۔ جن امور کو مستقبل میں پایہ تکمیل تک پہنچنا ہے، ان کا کیلنڈر یا ڈائری میں نوٹ کرنا نہایت ضروری ہے، اس کے علاوہ آپ کے سامنے نہ صرف ہفتے کے دنوں اور ماہ رواں کی تاریخوں کا ہر وقت موجود ہونا ضروری ہے، بلکہ آپ کا فرض ہے کہ کچھ ایسا انتظام بھی کریں جس سے مستقبل میں پیش آنے والی ذمہ داریوں کی پیشگی اطلاع بھی ہوتی رہے۔
۔ جس وقت آپ کو کسی چیز کا علم ہو، اسے وہیں نوٹ کرلیں، اس سے زیادہ بے احتیاطی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ آپ اسے اس وقت تو یاد کرنے کی کوشش کریں اور مستقبل میں لکھنے بیٹھیں۔ اگر بالفرض آپ کے پاس اس وقت ڈائری یا کیلنڈر موجود نہ ہو تو بھی آپ اسے کسی عام کاغذ پر نوٹ کرلیںاور جب اپنے دفتر یا گھر پہنچیں تو پہلی فرصت میں اس کو نوٹ بک میں درج کرنے کی کوشش کریں۔
۔ یہ خیال بنیادی طور پر غلط ہے کہ جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتا ہے وہ از خود ہمارے ذہن میں محفوظ بھی ہوتا چلا جاتا ہے، یہ محض خود فریبی ہے ، جب بھی کوئی چیز یاد کرنا مقصود ہو تو اس کے لئے ہمیں اپنے ذہنی اور فکری قوی کو حرکت دینا چاہئے۔
۔ اگر آپ اس بات کا ارادہ رکھتے ہیں کہ کوئی چیز آپ کے ذہن میں مدت تک محفوط رہے تو آپ اسے اس مقصد خاص کے تحت عزم بالجزم کے ساتھ یاد کرنے کی کوشش کریں۔
۔ آپ کسی شئی پر مسلسل آنکھیں گاڑ کر اپنی آنکھوں کو تھکا تو سکتے ہیں لیکن جب تک آنکھوں کی اس مشقت کے ساتھ ذہن بھی اسے قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو ، اس وقت تک آپ اسے ذہن میں محفوظ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔
۔ جب ہم کوئی مقصد متعین کرلیتے ہیں تو حافظے کے محرکات تیز تر ہوجاتے ہیں۔
۔ کچھ ایسے مقاصد کا تعین ضروری ہے جو مختلف چیزوں کو ذہن میں محفوظ کرنے کے لئے ایک وقتی غایت مہیاکرسکیں۔
۔ سوتے وقت آپ جو چاہیں مطالعہ فرمائیں لیکن یہ امید نہ رکھیں کہ آپ کی یاد داشتوں میں کچھ اضافہ ہوگا۔
*وہ امور جن کے بھول جانے کا امکان زیادہ قوی ہے…:
۔ نام و اشیاء اور افراد کے نام…نمبر اور تاریخیں۔
۔ناخوشگوار امور۔
۔ہمارے رجحانات اور نظریات کے متعلق غیر اہم حقائق۔
۔ایسے مضامین جنہیں حفظ کرتے ہوئے زیادہ توجہ نہ دی جائے۔
۔بے سوچے اور سمجھے ہوئے مضامین
۔اپنی ناکامیاں
۔جو مضامین حفظ کرنے کی نیت کے بغیر سمجھ میں آجائیں۔
حفظ کرنے کے بعد جن مضامین کے متعلق ہم ایک آدھ بار ہی سوچیں۔
۔وہ مضامین جن کا ادراک نہ کرسکیں۔
۔ایسے امورجنہیں ہم اس وقت ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں جب ہم صحت کی خرابی یا تھکاوٹ کی وجہ سے پریشان و مضمحل ہوں۔
*کم بھولنے والے مضامین…:*
۔ خوش گوار تجربات۔
۔سونے سے پہلے جن مسائل پر غور کیا جائے۔
۔وہ مضامین جو ہمیں قابلِ یاد داشت نظر آئیں۔
۔جنہیں ہم اچھی طرح جانگزیں ہونے کا موقعہ دیں۔
۔جن کا تذکرہ ہم اکثر کرتے رہیں۔
۔وہ طویل یا ادق مضامین جنہیں حفظ کرتے ہوئے ہم طوالت زمان و زیادہ دیر تک حفظ کرتے رہنے سے کام لیں۔
۔جن مسائل کے متعلق ہم اکثر سوچیں یا ان پر تبصرہ کرتے رہیں۔
۔وہ مضامین و حقائق جن سے ہم دلچسپی لیں۔
۔اپنی کامیابیاں۔
۔ایسے پرمغز مضامین جن سے ہم کچھ اخذ کریں۔
۔وہ یاد داشتیں جن کا رشتہ عضلاتی ہنر مندی سے ہو۔ ڈرائیونگ اور ٹائپنگ اس میں شامل ہے۔
۔جن چیزوں کو ہم اکثر استعمال کرتے ہیں۔
۔جنہیں یاد کرتے وقت ہمارے ذہن میں یہ احساس تھا کہ انہیں ہمیں ذہن میں محفوظ رکھنا ہے۔
(جاری)
Https://telegram.me/ilmokitab
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
۔ اپنے ذہن کی توجہ اس امر پر مرکوز رکھئے کہ آپ ٹھیک یاد کرنے کا عزم رکھتے ہوں اور پھر اسے یاد کرنے کی کوشش بھی کیجئے۔
۔ جو چیز یاد کرنا مقصود ہو اس کے تجرباتی رد عمل کو مضبوط بنائیےاور جب یہ تجربہ جاری ہو تو اس پرغور کیجئے ، ہمہ تن گوش ہوکر اسے سنئے اور اس پر عمل و فکر کیجئے۔
۔ اد داشت کے فیصلہ کن اور اہم مراحل پر اپنے ذہن کو تروتازہ رکھنے کی فکر کیجئے، تاکہ آپ صحت کے ساتھ چیزوں کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھ سکیں اور آپ کی قوت حافظہ تھکنے نہ پائے۔
۔ ہم میں سے کوئی شخص بھی اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ اسے جو کچھ یاد کرنا مطلوب ہو، اسے پورے کا پورا ذہن میں محفوظ کرلے، ذہین سے ذہین انسان بھی کسی چیز کا جتنا حصہ یاد رکھتا ہے، اس سے زیادہ فراموش کردیتا ہے اور اسے جتنا کچھ یاد ہونے کا دعویٰ ہوتا ہے، اس میں سے بھی قریب قریب نصف قابل اعتماد نہیں ہوتا۔
۔ یاد کرنے کا بہترین وآسان، قابل اعتماد اور یقینی راستہ یہ ہے کہ کس چیز کو باربار دہرایا جائےاور جو چیزیں لکھنے کے قابل ہوں انہیں قرطاس پر محفوظ کر لیا جائے۔
۔ جب عمر پچاس برس سے تجاوز کرجائے تو پھر ضروری باتیں لکھ لی جائیں اور محض دماغ ہی پر بھروسہ نہ کیا جائے۔
۔ جن امور کو مستقبل میں پایہ تکمیل تک پہنچنا ہے، ان کا کیلنڈر یا ڈائری میں نوٹ کرنا نہایت ضروری ہے، اس کے علاوہ آپ کے سامنے نہ صرف ہفتے کے دنوں اور ماہ رواں کی تاریخوں کا ہر وقت موجود ہونا ضروری ہے، بلکہ آپ کا فرض ہے کہ کچھ ایسا انتظام بھی کریں جس سے مستقبل میں پیش آنے والی ذمہ داریوں کی پیشگی اطلاع بھی ہوتی رہے۔
۔ جس وقت آپ کو کسی چیز کا علم ہو، اسے وہیں نوٹ کرلیں، اس سے زیادہ بے احتیاطی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ آپ اسے اس وقت تو یاد کرنے کی کوشش کریں اور مستقبل میں لکھنے بیٹھیں۔ اگر بالفرض آپ کے پاس اس وقت ڈائری یا کیلنڈر موجود نہ ہو تو بھی آپ اسے کسی عام کاغذ پر نوٹ کرلیںاور جب اپنے دفتر یا گھر پہنچیں تو پہلی فرصت میں اس کو نوٹ بک میں درج کرنے کی کوشش کریں۔
۔ یہ خیال بنیادی طور پر غلط ہے کہ جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتا ہے وہ از خود ہمارے ذہن میں محفوظ بھی ہوتا چلا جاتا ہے، یہ محض خود فریبی ہے ، جب بھی کوئی چیز یاد کرنا مقصود ہو تو اس کے لئے ہمیں اپنے ذہنی اور فکری قوی کو حرکت دینا چاہئے۔
۔ اگر آپ اس بات کا ارادہ رکھتے ہیں کہ کوئی چیز آپ کے ذہن میں مدت تک محفوط رہے تو آپ اسے اس مقصد خاص کے تحت عزم بالجزم کے ساتھ یاد کرنے کی کوشش کریں۔
۔ آپ کسی شئی پر مسلسل آنکھیں گاڑ کر اپنی آنکھوں کو تھکا تو سکتے ہیں لیکن جب تک آنکھوں کی اس مشقت کے ساتھ ذہن بھی اسے قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو ، اس وقت تک آپ اسے ذہن میں محفوظ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔
۔ جب ہم کوئی مقصد متعین کرلیتے ہیں تو حافظے کے محرکات تیز تر ہوجاتے ہیں۔
۔ کچھ ایسے مقاصد کا تعین ضروری ہے جو مختلف چیزوں کو ذہن میں محفوظ کرنے کے لئے ایک وقتی غایت مہیاکرسکیں۔
۔ سوتے وقت آپ جو چاہیں مطالعہ فرمائیں لیکن یہ امید نہ رکھیں کہ آپ کی یاد داشتوں میں کچھ اضافہ ہوگا۔
*وہ امور جن کے بھول جانے کا امکان زیادہ قوی ہے…:
۔ نام و اشیاء اور افراد کے نام…نمبر اور تاریخیں۔
۔ناخوشگوار امور۔
۔ہمارے رجحانات اور نظریات کے متعلق غیر اہم حقائق۔
۔ایسے مضامین جنہیں حفظ کرتے ہوئے زیادہ توجہ نہ دی جائے۔
۔بے سوچے اور سمجھے ہوئے مضامین
۔اپنی ناکامیاں
۔جو مضامین حفظ کرنے کی نیت کے بغیر سمجھ میں آجائیں۔
حفظ کرنے کے بعد جن مضامین کے متعلق ہم ایک آدھ بار ہی سوچیں۔
۔وہ مضامین جن کا ادراک نہ کرسکیں۔
۔ایسے امورجنہیں ہم اس وقت ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں جب ہم صحت کی خرابی یا تھکاوٹ کی وجہ سے پریشان و مضمحل ہوں۔
*کم بھولنے والے مضامین…:*
۔ خوش گوار تجربات۔
۔سونے سے پہلے جن مسائل پر غور کیا جائے۔
۔وہ مضامین جو ہمیں قابلِ یاد داشت نظر آئیں۔
۔جنہیں ہم اچھی طرح جانگزیں ہونے کا موقعہ دیں۔
۔جن کا تذکرہ ہم اکثر کرتے رہیں۔
۔وہ طویل یا ادق مضامین جنہیں حفظ کرتے ہوئے ہم طوالت زمان و زیادہ دیر تک حفظ کرتے رہنے سے کام لیں۔
۔جن مسائل کے متعلق ہم اکثر سوچیں یا ان پر تبصرہ کرتے رہیں۔
۔وہ مضامین و حقائق جن سے ہم دلچسپی لیں۔
۔اپنی کامیابیاں۔
۔ایسے پرمغز مضامین جن سے ہم کچھ اخذ کریں۔
۔وہ یاد داشتیں جن کا رشتہ عضلاتی ہنر مندی سے ہو۔ ڈرائیونگ اور ٹائپنگ اس میں شامل ہے۔
۔جن چیزوں کو ہم اکثر استعمال کرتے ہیں۔
۔جنہیں یاد کرتے وقت ہمارے ذہن میں یہ احساس تھا کہ انہیں ہمیں ذہن میں محفوظ رکھنا ہے۔
(جاری)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
علم وکتاب چینل کی مذکورہ بالا لنک زیادہ سے زیادہ شیر کریں۔
❤1