علم و کتاب
7.98K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
ڈاکٹر احمد سجاد ۔ ایک عظیم ادبی ، تعلیمی وسماجی شخصیت
تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)


*مورخہ 26/ اپریل رانچی سے ڈاکٹر احمد سجاد صاحب کے اس دنیائے فانی سے کوچ کرنے کی خبر آئی ہے۔ آپ کی رحلت کے ساتھ بہار  اور جھارکنڈ کی ثقافتی تہذیبی اور ادبی تاریخ کا ایک سنہرا باب بند ہوگیا ہے۔ اب دور دور تک بہار و جھارکنڈ ہی کیا وطن عزیز  کے دوسرے علاقوں میں بھی اس نسل اور پائے کے دانشور اور اہل علم افراد نظر نہیں آتے جس کی نمائندگی ڈاکٹر احمد سجاد مرحوم کیا  کرتے تھے۔آپ نے عمر عزیز کے (87) سال اس دنیائے فانی میں گذارے،*

مکمل مضمون پڑھیے اس لنک پر

https://links.fikrokhabar.com/2a421eaa
وفیات مورخہ: 30/اپریل
1030ء محمود غزنوی۔
1945ء اڈولف ہٹلر۔ جرمن ڈکٹیٹر
1968ء فرحت دہلوی (پریم شنکر)۔ شاعر
1970ء مرغوب نقوی (سیدعلی اطہر)۔ ،
1973ء سید حامد جلالی۔ مولانا ،
1973ء ہاشم محمد بغدادی۔ عراقی خطاط
2000ء سید محسن علی۔ ،
2001ء عبدالرب عرفان۔ ڈاکٹڑ
2003ء اسماعیل درویش۔ ،
2014ء سرمد طارق۔
2018ء ادریس حسن لطیف۔ ایرمارشل
2020ء تسنیم انصاری (امانت حسین انصاری)۔
2021ء غفران احمد۔

Https://telegram.me/ilmokitab
مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور مولانا مجیب اللّٰه ندویؒ کے درمیان علمی تبادلہ اور تصحیحِ تلفظ

مولانا مجیب اللّٰه ندویؒ لکھتے ہیں:

راقم الحروف، تبع تابعین میں امام محمد بن حسن شیبانیؒ کے حالات لکھ رہا تھا، دارالمصنفین کے کتب خانہ میں امام محمدؒ کی "کتاب الآثار" موجود تھی، جس میں ان کے بارہ شیوخِ حدیث کا ذکر ہے، مگر ان کی کتاب الحج، جن میں ایک سو سے زیادہ شیوخ کا ذکر ہے ، یہاں موجود نہ تھی، سورت میں مولانا مفتی مہدی حسن صاحب مرحوم کے کتب خانہ میں کتاب نظر آئی تو میں نے نوٹ تیار کرنا شروع کردیا اور ان کے کتب خانہ کی دوسری کتابیں بھی دیکھتا رہا۔ مولانا محمد یوسف صاحب بنوری مرحوم اس وقت ڈابھیل میں موجود تھے اور سید صاحب کی آمد کا سن کر سورت آگئے تھے، میرا انہماک دیکھ کر مولانا نے مجھ سے دارالمصنفین کے کتب خانہ کے بارے میں پوچھنا شروع کیا کہ فلاں فلاں کتاب وہاں موجود ہے؟ میں ہاں یا نہیں میں جواب دیتا رہا۔ پھر یکایک انہوں نے پوچھا کہ آپ کے کتب خانہ میں بیضاوی کا متن ہے؟ میں اس اصطلاح سے اس سے پہلے واقف نہیں تھا، اس لیے جواب میں ہچکچایا۔ یہ بات حضرت سید صاحب کے سامنے ہورہی تھی، سید صاحب نے جب میری ہچکچاہٹ دیکھی تو فرمایا کہ یہ تو ان کے سینے میں بھی ہے، (میرے حفظ کی طرف اشارہ فرمایا) اتفاق کی بات کہ اسی مجلس میں مولانا کی زبان سے ابن خلّدون، تشدید کے ساتھ نکلا اور المخصّص لابن سِیدہ کو انہوں نے بالتشدید کہا۔ میں نے کہا کہ ابن خلدون تشدید کے بغیر پڑھا جاتا ہے اور اسی طرح ابن سیّدہ نہیں، بلکہ ابن سِیدہ ہے۔ ابن خلدون کے بارے میں میں نے عرض کیا: مغرب میں اس وزن پر بہت سے نام ہوتے تھے، مولانا نے فرمایا: جیسے؟ میں نے عرض کیا، فرحون، زیدون، سحنون وغیرہ، مولانا بنوری نے سید صاحب کی طرف رجوع کیا، سید صاحب نے مسکرا کر فرمایا کہ انہوں نے تو ارتجالاً آپ سے بدلہ چکالیا، مولانا یوسف صاحب مرحوم بڑے ذی علم آدمی تھے، ان کے مقابل میں میری کوئی حیثیت نہیں تھی، مگر ابھی وہ جوان تھے اور میں نوجوان، اس لیے یہ علمی لطیفہ پیش آیا۔ استاد محترم شاہ حلیم عطا صاحب مرحوم اور سید صاحب، ناموں کے صحیح تلفظ کا بڑا اہتمام فرماتے، یہ انہی کی صحبت کا اثر تھا۔

(مطالعہ سلیمانیؒ، صفحہ: ۴۹۹/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

Https://telegram.me/ilmokitab
❤4
وفیات مورخہ: 01/مئی
1883ء بطرس بستانی۔ لبنانی ادیب، مصنف محیط المحیط
1896ء ناصر الدین شاہ قاچار۔ شاہ ایران
1941ء حاجی معین الدین ندوی۔ مولانا ، مصنف تابعیں
1945ء جوزیف گوبلز۔ پروپیگنڈا منسٹر جرمنی
1960ء احسان الحق عشقی۔ بھیا ،
1979ء مرتضی مطہری۔ ایرانی مفکر
1982ء میر رسول بخش تالپور۔ بانی قومی عوامی تحریک
1993ء عظیم احمد طارق۔ لیڈر مہاجر قومی مومنٹ
2001ء اقبال محزوں (اقبال حسین خان)۔ ،
2002ء ولایت علی خان۔ استاد ،
2009ء حنیف فوق (محمد حنیف قریشی)۔ ادیب ومحقق
2010ء نظر ایٹوی (شمس الحق)۔ شاعر
2018ء فضیل جعفری۔ مدیر انقلاب ممبئی
2021ء محمد شہاب الدین۔ بھارتی سیاست داں
2024ء چودھری عبد الرشید۔ پاکستانی نژاد انگریز سیاست داں

Https://telegram.me/ilmokitab
*غلطی ہائے مضامین*

*"کالم" میں آ پڑی تھی سخن گسترانہ بات*

*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*

بات بہت معمولی سی تھی… سماجی ذرائع ابلاغ کے معمولات کے مطابق۔ یہ بات نظرانداز بھی کی جاسکتی تھی۔ مگر اِس بات کے پیچھے جو بات ہے اگر وہ بات نظرانداز نہ کی جائے، بلکہ اُس کی اصلاح کرلی جائے، تو صاحب! بات بن جائے۔

بات یہ ہے کہ ہر بات سے اختلاف کا اظہار کرنا ہماری اجتماعی عادتِ ثانیہ بن چکی ہے۔ اختلاف اگر دلیل سے کیا جائے تو باعثِ رحمت۔ عادتاً کیا جائے تو ہر فریق کے لیے نہ صرف زحمت ہی زحمت، بلکہ بسا اوقات معترض کے لیے وجہِ ذلت۔ آخر کیا ضروری ہے کہ بِن بولے نہ رہا جائے۔ بات کوئی بھی ہو، کچھ نہ کچھ لازماً ہی کہا جائے۔ اگر کہنے کو کچھ نہ ہو، تب بھی کم از کم اختلاف تو ضرور ہی کردیا جائے۔

ہمارا مشاہدہ ہے،آپ کا بھی ہوگا، کہ کسی بھی محفل میں بالعموم اور سماجی ذرائع ابلاغ پر بالخصوص، آپ کوئی بھی بات کہیے، مثلاً یہی کہ ’’ہمیشہ سچ بولو‘‘ توکہتے یا لکھتے ہی دسیوں تبصرے اس قول کی مخالفت میں آجائیں گے۔ اب آپ بیٹھے اپنا سر سہلاتے رہیے۔

ہمارے گزشتہ کالم کا مرکزی موضوع تو کچھ اور تھا۔ مگر برسبیلِ تذکرہ، بیچ کالم کے، ہم یہ بھی لکھ گئے تھے کہ

’صحت خوانی‘ انگریزی اصطلاح ‘Proof reading’کا نہایت بلیغ اور جامع اُردو ترجمہ ہے جو اُستادِ گرامی پروفیسر محمد اسحٰق جلالپوری مرحوم کے عطایا میں سے ہے۔ پروفیسر صاحب کشورِ پنجاب کے مشہور مقام کھیوڑہ کے قریب واقع جلال پور شریف سے تعلق رکھتے تھے۔ اُردو پر سند تھے۔ ماہرِ نصابیات تھے اور متعدد نصابی کتب کے مصنف… ’پروف ریڈنگ‘ میں مطبوعہ متن کی صحت ہی کا تو جائزہ لیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہماری نظر میں اس عمل کے لیے ’صحت خوانی‘ ہی موزوں ترین ترکیب ہے۔

جس نے بھی توجہ سے کالم پڑھا ہوگا، سمجھ گیا ہوگا کہ یہ اصطلاح کالم نگار کی وضع کردہ نہیں۔ نصابیات اور زبان و بیان کے ایک ماہر اُستاد کا عطیہ ہے۔ کالم نگار نے اِس اصطلاح کی موزونیت کے متعلق محض اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ہر شخص سے منوانے پر اصرار نہیں کیا۔

اب ایک مزے کی بات سنیے۔ ایک بزمِ سخن میں ایک زبان دان و بیان دان شخصیت نے کالم کے اصل موضوع کو چھوڑ کر صرف اس لفظ کو پکڑ لیا۔ شخصیت بھی وہ کہ دیارِ دل میں بہت احترام ہے جس کا۔ اُن کا تبصرہ دلچسپ و پُرمزاح ہے۔ سو، من و عن پیشِ خدمت ہے:

’’صحت خوانی… نہ بھائی نہیں، ہم کو تو یہ بھائی نہیں۔ سن کر ہی بیمار کی صحت کے لیے کی جانے والی قرآن خوانی، وظیفہ خوانی کا تصور آتا ہے۔ زندہ کی صحت خوانی۔ مردہ کی فاتحہ خوانی۔ نہ بھائی نہیں۔ نہ بھائی نہیں۔ مسودہ خوانی ہی رہنے دیں‘‘۔

رہے نام اللہ کا۔ ہماری کیا بساط کہ کسی اصطلاح کو رہنے دیں، کسی کو نہ رہنے دیں۔ اصطلاح وہی رائج رہتی ہے جو لوگوں کی زبان پر چڑھی رہے۔ کسی اصطلاح کو زباں زدِ خاص و عام کرنے کے ذرائع اور ہیں، مثلاً تعلیمی ادارے، نصابی و غیر نصابی کتب، رسائل و جرائد اور مطبوعہ و برقی ذرائع ابلاغ، وغیرہ۔ لوگ تکرار کے ساتھ جو اصطلاحات یا جو الفاظ پڑھتے اور سنتے ہیں، وہی اُن کی زبان پر چڑھتے ہیں۔

’اصطلاح سازی‘ کسی مخصوص علم، فن یا شعبۂ زندگی کے تصورات کے لیے نئے الفاظ وضع کرنے کا عمل ہے۔ جدید معلومات کو اپنی زبان میں منتقل کرنے کے لیے زبان پر مہارت رکھنے والوں کو یہ کام سونپا جاتا ہے۔ مگر ضروری نہیں کہ ہر نئی اصطلاح کے لیے نئے الفاظ وضع کیے جائیں۔ پہلے سے مروج الفاظ کو بھی کسی نئے مفہوم کی ادائی کے لیے مخصوص کیا جاسکتا ہے۔ دوسری زبان سے مستعار لی جانے والی اصطلاحات کا محض لفظی ترجمہ کردینا کافی نہیں۔ ’اصطلاح سازی‘ کرتے ہوئے اصل تصور اور اصل مفہوم کا منتقل ہونا ضروری ہے۔

یوں تو یہ کام افراد بھی کرتے رہے ہیں، مگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ اختیار مقتدر اداروں کو دیا جاتا ہے کہ وہ نئی اصطلاح وضع کریں اور حکماً رائج کروائیں۔ ایسی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں، مگر فی الحال صرف دو پر اکتفا کیجیے۔ جس چیز کو ہم اُردو میں بھی ’موبائل فون‘ کہتے ہیں، ایران میں اُسے ’گوشی‘ کہا جاتا ہے اور عرب دنیا میں ’جوّال‘۔ حیرت ہے کہ ان ممالک میں نئی اصطلاحات سے اختلاف کرنے والے کم ہیں اور انھیں جوں کا توں قبول کرلینے والے بکثرت۔ ہمیں تو اپنی زبان میں وضع کی جانے والی اصطلاحات سے فرداً فرداً اختلاف ہی رہتا ہے۔ ہاں سُود پر اُدھار دے دے کر ہمیں پالنے والے آقاؤں کی زبان میں اگر کوئی اصطلاح پیش کی جائے تو آنکھیں بند کرکے فوراً اُس سے سو فی صد اتفاق کرلیا جاتا ہے اور تکرار کے ساتھ استعمال کرنا بھی شروع کردیا جاتا ہے۔کسی کو اُس پر کوئی اعتراض نہیں سوجھتا۔
نئی اصطلاح وضع کرتے ہوئے اہلِ علم میں اختلافِ رائے ہونا فطری ہے۔ مگریہ اختلاف دلائل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ علمی دنیا میں کوئی نہیں کہتا کہ یہ اصطلاح مجھے بھائی نہیں یا میری بہن کو پسند آئی نہیں، سو اِسے دفع کرو۔ کسی تجویزکو رد کرنے کے لیے قابلِ قبول دلیل دی جاتی ہے۔ دلائل کے ساتھ وضع کی جانے والی اصطلاح قبول کرلی جاتی ہے۔ پھر بکثرت استعمال ہو تو زباں زدِ خاص و عام ہوجاتی ہے۔

ہر چند کہ ہم ’صحت خوانی‘ والی اصطلاح کو وضع کرنے کے نہیں، صرف پسند کرنے کے گنہگار ہوئے ہیں، مگر پسندیدگی کے لیے بھی تو کوئی نہ کوئی دلیل ہوگی جو پسندیدگی پر ’دال‘ ہوگی۔ آج کل تو ہر دال فقط مہنگائی پر’دال‘ ہے، خواہ مونگ کی دال ہو یا مسور کی دال:

ہم بد نصیب شعر و ادب کے نہیں قریب
ہم سے ندیمؔ دال کا آٹے کا بھاؤ پوچھ

دلیل یہ ہے کہ عوام میں ’صحت‘ کے ایک ہی معنی لیے جاتے ہیں: ’تَن درستی‘۔ (ہم حیران ہیں کہ لفظ’درستگی‘ کی ’درستی‘ کے حق میں دلیل دینے والے تن دُرستی کو ’تن درستگی‘ کیوں نہیں کہتے یا لکھتے؟)ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اکثر مساجد میں جمعے کے دن امام صاحبان کو بیماروں کے لیے ’دُعائے صحت‘ کی کئی کئی درخواستیں موصول ہوتی ہیں، لہٰذا عوام میں ’صحت ہونا‘ بھی بس شفا ہونے کے معنوں میں مستعمل ہے۔ مگر جو لوگ علم رکھتے ہیں، اُن سے پوچھا گیا تو پتا چلا کہ کسی بھی چیز کا عیب سے پاک ہونا، درست ہونا اور صحیح ہونا ’صحت‘ کہلاتا ہے۔ جیسے ’’مجھے اس واقعے کی صحت میں شبہہ ہے‘‘ (توکیا واقعی وہ واقعہ بیمار پڑ گیا تھا؟) فرہنگِ آصفیہ میں ’صحت‘ کے معنی ’درست املا‘ بھی دیے گئے ہیں اورنور اللغات میں صحت کے معنی ’تصحیح کرنا، صحیح کرنااور عیب سے پاک کرنا‘ بھی لکھے ہوئے ہیں۔ کتابوں کے آخر میں جو فہرستِ اغلاط دی جاتی ہے، اُس کو ’غلط نامہ‘ کہا جانے لگا، مگر پہلے اُسے بھی ’صحت نامہ‘ ہی کہا جاتا تھا، کیوں کہ اس میں غلطیوں کی تصحیح ہوا کرتی تھی۔

غلطیوں کی تصحیح ہی کے لیے ‘Proof reading’ کی جاتی ہے۔اس عمل میں صرف املا یا کتابت کی غلطیاں نہیں درست کی جاتیں۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کاتب نے اصل تحریر کا کوئی لفظ، کوئی سطر یا کوئی پیرا چھوڑ تو نہیں دیا؟ نقل بمطابق اصل ہے یا نہیں؟لہٰذا کسی کتاب یا کسی مضمون کی خواندگی کا عمل بطورِ خاص یہ جانچنے کے لیے کرنا کہ کاتب نے ’صحت‘ کے ساتھ کتابت کی ہے یا نہیں ’صحت خوانی‘ کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔ ورنہ کتاب خوانی، غزل خوانی ،خبر خوانی ،قصیدہ خوانی ، سوز خوانی ، قرآن خوانی ، فاتحہ خوانی،متن خوانی یا مسودہ خوانی میں سے کوئی بھی ’خوانی‘ غلطیاںپکڑنے یا متن کی دُرستی و صحت جانچنے کا مفہوم نہیں ادا کرتی۔ ہاں صرف ’پڑھنے‘ کا مفہوم سب میں ہے۔

مثلاً’مسودہ خوانی‘کو لے لیجے۔ ’اَسود‘ کالے یا سیاہ کو کہتے ہیں۔’ تسوید‘سیاہ کرنا ہوا، مراد : لکھنا یا تحریر کرنا۔ ’مسودہ‘ کا مطلب ہے، ’جو سیاہ کیا گیا‘۔ کاغذ کالاکریں تو مسودہ بنتا ہے۔ مگر یہ لفظی معنی ہیں۔ ’مسودہ‘ کے اصطلاحی معنی ہیں وہ پہلی تحریر جس کو سرسری طور پر لکھا گیا ہو ، صاف نہ کیا گیا ہو۔ صاف کرلیا جائے تو مسودہ ’مسودہ‘ نہیں رہتا، مُبَیّضہ‘ ہوجاتا ہے۔پس ’مسودہ خوانی‘ مسودہ پڑھنا ہے۔ طباعت کے لیے مسودے کی کتابت ہوتی ہے اورکتابت کیے ہوئے مواد کی صحت کو جانچنا ’صحت خوانی‘ ہے۔ بہر حال، یہ باتیں بس اس لیے لکھ دیں کہ

’’کالم‘‘ میں آ پڑی تھی سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے
Https://telegram.me/ilmokitab
بیتی یادیں (01)
انٹرویو: پروفیسر ڈاکٹر احمد سجاد (رانچی)
سابق صدر ادارہ ادب اسلامی ہند


دور حاضر کی مایہ ناز ادبی تعلیمی وفکر شخصیت کی سنہ 2006ء میں ریکارڈ شدہ یادگر ویڈیو گفتگو کا پہلا حصہ
مشاہدات پر مبنی ایک ایسی نادر دستاویز جس میں بہار کے شاندار ماضی کی تہذبیی وثقافتی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
https://youtu.be/5d7trrhekVM?si=27n3bgnQIdMKH0iT
*ترتیب وپیشکش : عبد المتین منیری*
بھٹکلیس ڈاٹ کام
WA: 00919741136475
❤2
*وفیات مورخہ: 02/مئی*
1896ء خواجہ محبوب اللہ محمد صدیق حسینی۔
1937ء حکیم عبدالمجید بنارسی۔ مولانا
1941ء ابراہیم طوقان۔ فلسطینی شاعر
1991ء پیرزادہ سید علی نظامی۔ ،
1991ء تسنیم مینائی (اسمٰعیل احمد)۔ شاعر
1995ء حسن عادل۔ ،
1998ء ابو بکر اصلاحی۔ مولانا
1999ء محمد علی زاہد۔
2001ء عبد الستار خان نیازی۔ مجاہد ملت، مولانا
2004ء سید مظہر علی۔ ،
2009ء عبدالسلام۔ ڈاکٹر ،
2014ء انوار احمد خان۔ ،
2015ء عبدالحمید کمالی۔ ڈاکٹر ،
2017ء خوامخواہ حیدر آبادی (غوث محی الدین احمد)۔ دکنی شاعر
2021ء محمد یوسف انصاری۔
2021ء نصرت علی۔

ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
WA: 00919741136475
https://telegram.me/ilmokitab
کھرے کھوٹے: مولانا عامر عثمانی

مسئلہ ختم نبوت علم و عقل کی روشنی میں

تالیف: مولانا محمد اسحاق سندیلوی ندوی، استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
طابع و ناشر: معین الدین احمد ندوی و اخوانہ، صفحات 188، لکھائی چھپائی غنیمت، کاغذ سفید، قیمت دو روپے پینتیس پیسے۔

جس طرح یہ طے ہیں کہ پورے عالم کو روشن کرنے والے ایک سورج کے بعد کسی دوسرے سورج کی ضرورت نہیں، جس طرح یہ طے ہے کہ آنکھیں دیکھیں گی اور کان سنیں گے اسی طرح یہ بھی مسلمات میں سے ہے کہ خاتم النبیین، سرورِ جن و انس محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا، نہ ذیلی نہ بروزی، نہ ضمنی نہ کسی اور قسم کا، نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے مقفل ہو چکا، اس قفل کی کنجی خالقِ کائنات کے پاس ہے اور قصرِ نبوت کی دیواریں اتنی بلند ہیں کہ انسان تو انسان اس کا طائرِ خیال بھی ان پر کمند ڈالنے کا قصور تک نہیں کر سکتا۔

مگر آدمی جہاں احسن تقویم ہے وہاں اسفل السافلین بھی ہے، ویسے شیطان جس کے کاسۂ سر میں نشیمن بنا لے وہ آدمی رہتا ہی کب ہے، وہ تو قرآن کے لفظوں میں جانور بلکہ جانور سے بھی بدتر ہو جاتا ہے، چنانچہ یہ جو آپ اسلام کی چودہ صدیوں میں وقتاً فوقتاً متعدد بناسپتی نبیوں کا ذکر سنتے آ رہے ہیں یہ مسخرے فی الاصل آدمی کب تھے، آدمی اگر فقط گوشت اور ہڈیوں کے مجموعے کا نام ہے تو سب سے بڑے آدمی ہاتھی اور بجار کہلانے چاہئیں، آدمی تو فقط دو تولہ بھیجے کا نام ہے، اس بھیجے کو شیطان اگر گوبر میں تبدیل کر دے تو آدمی حیوانِ ناطق تو ضرور کہلائے گا مگر انسانیت اس کو چھو کر بھی نہیں گزرے گی۔

واقعہ یہ ہے کہ خاورِ نبوت، مہبط قرآن، سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کسی نبی کی بعثت ممکن سمجھنا حماقت کی اتنی بڑی مقدار کا طالب ہے کہ جس کھوپڑی میں یہ مقدار جمع ہوگی وہاں بھیجے کے لیے شمہ برابر جگہ باقی ہی نہ بچے گی۔

ابھی ماضی قریب میں بھی ایک بلند بانگ نبی گزرے ہیں، تعجب ہے ان کے بعد کوئی اور نبی پیدا نہیں ہوا حالانکہ مسخرے پن کی تکمیل اسی صورت میں ہوئی کہ ان کی آنکھیں بند ہوتے ہی کوئی عورت دعوی نبوت لے کر اٹھتی، عورت کا دعوی نبوت مردوں سے زیادہ دلچسپ ہوتا، یقین نہ آئے تو ماضی بعید کی تاریخ اٹھا کر دیکھیے! ہمارا دعوی ہے کہ آج کے عورت زدہ دور میں اگر کوئی نو عمر اور قبول صورت عورت دعوی نبوت لے کر اٹھے تو وہ اس سے بڑی امت پیدا کر لے گی جتنی ماضی قریب کی ایک مرد پیغمبر نے پیدا کی ہے۔

خیر تفنن بر طرف! تقسیمِ ہند کے بعد اپنے بھارت میں قادیانیت کا غل غپاڑہ دب سا گیا تھا مگر اب کچھ دنوں سے پھر یہ فتنہ انگڑائیاں لیتا نظر آرہا ہے، اسی لئے زیرِ تبصرہ کتاب کو ہم بے وقت کی شہنائی نہیں کہہ سکتے بلکہ اسے علماء حق کے زندہ احساس کی علامت قرار دیں گے، ختم نبوت کا عقیدہ تو ام العقائد کی حیثیت رکھتا ہے، اسے بیچ سے نکال دیجئے اسلام کا توانا درخت زمین پر آ رہے گا، اس کی طرف سے مدافعت اور اس کی حفاظت علماء اسلام کا فرض ہے، یہی فرض مولانا محمد اسحاق صاحب نے اس کتابچے کی صورت میں نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا ہے، ان کا موضوع رد قادیانیت نہیں بلکہ عقیدہ ختم نبوت ہے مگر قدرتی بات ہے کہ بھرپور زد فتنۂ قادیان ہی پر پڑے گی، ویسے زد رفض و تشیع پر بھی پڑتی ہے، یہ مسالک بھی اپنی اصل کے اعتبار سے اسی فکری گمراہی کی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں جن کا ایک روپ فتنۂ قادیان ہے، حضور خاتم النبیین کے بعد کسی کو صاف لفظوں میں نبی مانئے یا نبی نہ کہئے مگر معصوم قرار دیجئے کوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوتا، پہلی صورت کو ارتداد کہیں گے اور دوسرے کو منافقت۔

فاضل مؤلف نے کتنی فکر انگیز بات فرمائی ہے؛

" عقیدۂ امامت بھی اس لیے اختراع کیا گیا کہ اس عقیدہ(عقیدہ ختم نبوت) کی دیوار میں رخنہ پیدا کر دیا جائے اور اس طرح آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثال عظمت کو دلوں سے مٹایا جائے، غالبا بارہ کا عدد بھی بنو اسرائیل کے بارہ نقباء و اسباط کی وجہ سے اختیار کیا گیا ہے اور عقیدۂ امامت کے یہودی الاصل ہونے کی غمازی کر رہا ہے"

واقعی بات پتے کی ہے، عقیدۂ امامت میں مفروضہ اماموں کی عصمت بھی بنیادی قدر کا درجہ رکھتی ہے اور عصمت ہی وہ وصفِ خاص ہے جو پیغمبر اور غیر پیغمبر کے درمیان خط امتیاز کھینچتا ہے، یہ خط مٹا دو پھر جتنے چاہے نبی چٹکی بجاتے بنا لو۔

اب ضروری ہے کہ نئی نبوتوں کے فتنوں پر علماء کڑی نظر رکھیں اور عامۃ المسلمین کو اس دامِ فریب سے بچانے کے لیے اپنے ممکنہ کوششوں سے دریغ نہ فرمائیں، اگر کوئی یہ کہے کہ اس طرح تو تم عوام سے عقائد کے آزادی چھین لینا چاہتے ہو، تمہیں کیا حق ہے کہ نئے نبیوں کے کاروبار میں ٹانگ اڑاؤ اور نئے صحابیوں کی دعوت و تبلیغ کی راہ میں سنگِ گراں بن جاؤ۔
تو ہم جواب دیں گے کہ عقائد کی آزادی پر ہمیں اعتراض نہیں ہے کوئی گروہ کتے اور خنزیر کو بھی پوجنے لگے یا ماوزی ننگ اور خرو شچیف کو پیغمبر ماننے لگے تو ہماری بلا سے ہمیں اعتراض اور دغا بازی پر ہے، جھوٹ اور مکر و دغا پر ہے، یہ پرلے سرے کی جعل سازی اور فریب کاری ہے کہ ایک گروہ مومن و مسلم نہ ہو مگر خود کو مومن و مسلم کہہ کر اپنے عقائد کا پروپیگنڈہ کرتا رہے، محمد عربی پر ہر طرح کی نبوت کا خاتمہ اسلام کے اساسی عقائد میں سے ہے بلکہ راس العقائد ہے، سر کاٹ دو آدمی مردہ کہلائے گا، جہاں کسی نے اس عقیدے سے بال برابر انحراف کیا دائرۂ اسلام سے خارج ہوا، اب اسے حق نہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہے، وہ اپنا نام جو چاہے رکھ سکتا ہے مگر مسلمان رکھ سکتا، رکھتا ہے تو دھوکہ دیتا ہے، کھلا فراڈ کرتا ہے، کیا دھوکہ بازی اور دروغ بافی جرم نہیں ہے، کیا ہم آزادیِ عقائد کے نام پر دجل و دغا کو بھی انگیز کر لیں گے۔

فاضل مؤلف نے بجا فرمایا ؛

"تعجب خیز ہے طرز عمل ان حضرات کا جو صحابہ کرام کے اس طرز عمل سے واقف ہوتے ہوئے بھی قادیانیوں کی حمایت فرماتے ہیں اور انہیں مسلمان کہتے ہیں، حد ہو گئی کہ یہ حضرات خود مرزا صاحب قادیانی کو باوجود ان کے کھلے ہوئے دعوی نبوت کے دائرۂ اسلام میں داخل سمجھتے ہیں اور اس کے لیے ان کی طرف سے عجیب و غریب تاویلات کرنے کی سعیِ لاحاصل کرتے ہیں" (صفحہ 12)

کاش وہ بعض بزرگ ان فتووں پر توجہ فرما سکیں جو قادیانیت کے معاملے میں عموما رواداری اور مفاہمت کا انداز اختیار کرتے رہے ہیں، رواداری اور مفاہمت اچھی چیزیں ہیں لیکن جب یہ دین و ملت کی اساسی اقدار پر قصاب کی چھری بن کر گریں تو ان کا نام بے حمیتی اور کمزوری رکھا جائے گا۔

حاصلِ تبصرہ یہ کہ پیشِ نظر کتاب اپنے موضوع کے لحاظ سے نہایت اہم اور اپنے مندرجات کے اعتبار سے بڑی وقیع ہے۔

ماہنامہ تجلی، مارچ، اپریل، 1964ء

ترتیب : معاویہ محب الله
❤1
*بیتی یادیں (02)*
*انٹرویو: پروفیسر ڈاکٹر احمد سجاد (رانچی)*
سابق صدر ادارہ ادب اسلامی ہند

دور حاضر کی مایہ ناز ادبی تعلیمی وفکر شخصیت کی سنہ 2006ء میں ریکارڈ شدہ یادگر ویڈیو گفتگو کا پہلا حصہ
مشاہدات پر مبنی ایک ایسی نادر دستاویز جس میں بہار کے شاندار ماضی کی تہذبیی وثقافتی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
https://youtu.be/UyzG4EkVs74?si=Wrw6ntllSOOh56b0

*ترتیب وپیشکش : عبد المتین منیری*
بھٹکلیس ڈاٹ کام
WA: 00919741136475
وفیات مورخہ: 03/مئی
1481ء سلطان محمد فاتح۔ فاتح قسطنطنیہ
1481ء محمد فاتح ۔ سلطان ترکی
1814ء عبد الله بن صباح بن جابر الصباح۔ امیر الکویت
1911ء سید علی بلگرامی۔ شمس العلماء، محقق، مترجم
1912ء نذیر احمد دہلوی۔ شمس العلماء، ڈپٹی ،
1930ء غلام نبی ربانی سوہدری۔ مولانا
1933ء طبا طبائی لکھنوی۔ مولانا ،
1933ء علی حیدر نظم طباطبانی۔ مولانا
1956ء حامد حسن۔ ،
1966ء لقمان ججی ابراہیم جی۔ ،
1968ء مختار آزاد۔ ،
1969ء ذاکر حسین۔ ڈاکٹر، صدر ہند
1969ء ضیاء الدین احمد برنی۔ ادیب
1971ء سمیع الزمان سراب۔ قاضی
1975ء مانی ناگپوری (بشیر خان)۔ شاعر
1977ء حمید دلوائی۔ یونیفارم سیول کوڈ کا حامی کارکن
1977ء محمد ابراہیم۔ ماسٹر
1981ء نرگس دت (فاطمہ رشید)۔ اداکارہ
1986ء سید محمد حفیظ زیدی۔ پروفیسر ،
1991ء محمد عبد الوہاب۔ مصری گلوکار
2010ء محمد عابد جابری۔ مراکشی مفکر
2021ء رتن سنگھ۔ ادیب
2021ء صقر عبد اللہ المری۔ وکیل وزارۃ العدل ۔ امارات
2021ء نور عالم خلیل الامینی۔ مولانا ، مدیر الداعی دیوبند
2025ء ساجد میر۔ سلفی عالم دین
2025ء سعد البریک۔ سعودی قانون داں

Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
موت کو محض ایک اندوہناک حادثہ سمجھنا در اصل علم و ادراک کی محدودیت کا نتیجہ ہے ؛ موت حقیقت میں فنا نہیں ؛ بل کہ بقا کا دروازہ ہے، جدائی نہیں؛ بل کہ ملاقات کی تمہید ہے، اختتام نہیں؛ بل کہ ابدی زندگی کا آغاز ہے، خسارہ نہیں ؛ بل کہ اصل کامیابی یا ناکامی کا اعلان ہے،
چنانچہ حقیقت کی اساس پر دیکھا جائے تو انسان کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ دنیا کو ” مقصد “ سمجھ لیتا ہے، حالاں کہ یہ محض ” وسیلہ “ ہے، اسی فکری مغالطے کی وجہ سے موت ایک سانحہ محسوس ہوتی ہےـ

(ندائے دار العلوم وقف، شوال، ذوقعدہ، ١٤٤٧ھ، ص: ٦)
بیتی یادیں (03)
انٹرویو: ڈاکٹر احمد سجاد (رانچی) ۔۔۔ سابق صدر ادارہ ادب اسلامی ہند
پیشکش: عبد المتین منیری
WA: 00919741136475
لنک بھٹکلیس یوٹیوب چینل

https://youtu.be/MnMGdDI0uik?si=k55odWLFXQJZxBnB
❤2
وفیات مورخہ: 04/مئی
1799ء ٹیپو سلطان شهید۔ حکمران سلطنت خدا داد میسور
1935ء سررحیم بخش۔ مولوی، حاجی
1935ء حاجی سر رحیم بخش ۔ مولوی
1935ء حاجی سررحیم بخش۔ مولوی
1940ء مہا راجہ سرکشن پرشاد۔ وزیر اعظم نظام حیدر آباد
1963ء شوکت تھانوی (محمد عمر)۔ مزاح نگار ادیب
1972ء فہیم الدین نوری۔ مدیر انجام کراچی
1975ء غلام احمد خاں، چودھری۔ کارکن تحریک آزادی
1988ء مارشل ٹیٹو۔ حکمران یوگوسلاویۃ
1989ء سید صادق حسین شاہ کاظمی۔ ۔
1997ء محمد منظور نعمانی۔ مولانا، مدیر الفرقان لکھنو
2001ء نصرت ،ایس اے۔ جسٹس (ر) ،
2002ء ابو تراب ظاہری۔ سعودی عالم دین
2005ء قاری شریف احمد گنگوہی۔ مہتمم اشرف العلوم گنگوہ

ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
WA:00919741136475
Https://telegram.me/ilmokitab
عیش پر لاکھوں اور علم پر چونی بھی گراں

شیخ محمد مصطفیٰ الاعظمی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے تھے: لوگوں کو اصل و نقل سے کوئی مطلب نہیں، بس سستی ہونی چاہیے۔ انھیں عیش و عشرت پر لاکھوں کا خرچ برداشت ہے، لیکن علم سیکھنے اور کتاب و سنت کے لیے سو روپئے مہنگے پڑتے ہیں۔

(معارف مئی ٢٠٢٦ء_ صفحہ: ۴۱)
Https://telegram.me/ilmokitab
Shaukat Thanwi By Kanahya Lal Kapur.pdf
1.9 MB
آج مورخ ۴/ مئی اردو کے نامور ادیب ومزاح نگار شوکت تھانوی کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات ۱۹۶۳ء میں ہوئی تھی۔
اس مناسبت سے ایک اور مزاح نگار کنہالال کپور کا شوکت تھانوی پر لکھا ہوا خاکہ علم وکتاب کی جانب سے پیش خدمت ہے۔
لنک علم وکتاب لائبریری
https://archive.org/download/shoukatthanvi/Shaukat%20Thanwi%20By%20Kanahya%20Lal%20Kapur.pdf
❤1
*وفیات مورخہ: 05/مئی*
1835ء شاہ محمد آفاق دہلوی۔ صوفی بزرگ
1951ء فضل الہی وزیر آبادی۔ اہل حدیث عالم دین، مجاہد آزادی
1962ء فدا یزدانی۔ ،
1965ء مہدی مچھلی شہری۔ شاعر
1968ء پرویز شاہدی۔ ادیب
1973ء ابراہیم قاسم۔ ،
1983ء سکندر علی وجد۔ شاعر
1990ء ابرار، قاضی۔ ،
1990ء منصور علی خان۔ ،
1992ء رفیق درد۔
1992ء عبدالحمید۔ ،
1993ء سید عنبر شاہ وارثی (حافظ عبدالعزیز)۔ پیر ،
1994ء محمد احسن قاسمی۔
1995ء سید سعید عمر تھانوی۔ ،
1997ء محمد منظور نعمانی۔ مولانا، مدیر الفرقان لکھنو
2002ء عبداللطیف اعظمی۔ ادیب
2006ء صابر براری (احمد مرزا قادری )۔ شاعر
2007ء عبد المجید بن عبد العزیز آل سعود۔ سعودی شہزادہ
2007ء نوشاد علی۔ موسیقار
2009ء سرفراز خاں صفدر۔ مولانا، شیخ الحدیث
2009ء قمر شہباز (قمر الدین)۔ سندھی ادیب
2010ء خواجہ خان محمد۔ امیر مجلس ختم نبوب
2011ء جمیل عظیم آبادی (محمد جمیل احسن )۔ ،
2012ء عبادالرحمٰن۔ مولانا
2015ء اقبال متین (سید مسیح الدین)۔ افسانہ نگار
2015ء خواجہ محمد حسن فاروقی چشتی چشتی نظامی قلندری۔ ۔
2017ء لیلا سیٹھ۔ بھارتی جج
2021ء اشرف صحرائی (محمد اشرف خان)۔ ۔

ترتیب وہیشکش: عبد المتین منیری
WA +9741136475
Https://telegram.me/ilmokitab
*إلي المنكسرة قلوبهم*

✍🏻... أدهم شرقاوي

حدیث میں ہے کہ: ” قیامت کے دن ابن آدم کے قدم جمے رہیں گے (وہ چل نہ سکے گا) جب تک وہ پانچ سوالوں کے جواب نہ دیدے، جن میں سے ایک سوال یہ بھی ہوگا کہ زندگی کے اوقات کہاں صرف کیے؟ “
یہ سوال صرف تمہاری عمر کے متعلق نہیں ہوگا؛ بل کہ ان زندگیوں کے بارے میں بھی ہوگا جن کو دنیا میں تم برباد کرکے آئے ہوں گے!
ہر اس جملے کے بارے میں ہوگا جو تم نے محبت کا دکھاوا کرکے کہا ہوگا،
ہر اس راہ کے بارے میں ہوگا جس پر تم کسی کے ساتھ چلے تو ہوں گے؛ لیکن دل میں یہ خواہش ہوگی کہ اس ساتھی کو منزل نہ ملے!
ہر اس ہاتھ کے متعلق سوال ہوگا جس کو بظاہر تم نے تھاما تو ہوگا؛ لیکن دل میں یہی خیال تھا کہ یہ ہاتھ وسط سفر میں چھوڑ دوں گا!
کسی کی اس صبح کے متعلق ہوگا جو تم نے اپنے ظلم کی وجہ سے تاریک بنادی ہوگی،

کسی کی اس رات کے متعلق ہوگا جو تمہارے دھوکے اور غداری کی وجہ سے روتے ہوئے اور بے چینی میں گزری ہوگی!
لوگوں کے ان قیمتی دنوں کے بارے میں بھی پوچھا جائےگا جو تمہاری جھوٹی تسلیوں اور جھوٹے وعدوں کی وجہ سے ضائع ہوگئے ہوں گے!

اور یہ سوال ہر اس شمع کے متعلق بھی ہوگا جس کو تم نے کسی کے دل میں روشن کرکے پھر بجھادیا ہوگا

تم ان معاملات کو ہلکا سمجھتے ہو جب کہ عند اللہ یہ بہت سنگین امر ہے،
❤5
بات سے بات: کارل بروکلمان
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)


آج کارل بروکلمان کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات 6 / مئی 1956ء کو ہوئی تھی۔ بروکلمان کا شمار ان نامور مستشرقین میں ہوتا ہے جنہوں نےعربی لٹریچر کو اپنے گرامایہ علمی و تحقیقی کاموں سے مالا مال کیا، اور علم وادب کی تاریخ میں گہرے نقوش چھوڑے۔
کارل بروكلمان (1868ء - 1956ء / 1285ھ - 1375ھ)
کارل بروكلمان ایک جرمن مستشرق (Orientalist) اور تاریخِ ادبِ عربی کے بہت بڑے عالم تھے۔
• پیدائش اور تعلیم: وہ جرمنی کے شہر 'روسٹوک' میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فلسفہ اور الہیات (Theology) میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے "نولڈیکے" (Nöldeke) اور دیگر اساتذہ سے عربی اور سامی زبانیں سیکھیں۔
• تدریس: انہوں نے کئی جرمن یونیورسٹیوں میں پڑھایا۔ ان کا حافظہ اتنا غضب کا تھا کہ وہ جو کچھ پڑھتے تھے، تقریباً وہ سب انہیں یاد ہو جاتا تھا۔ 1900ء میں برلن کے 'انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل لینگویجز' میں عربی کے استاد مقرر ہوئے اور مختلف جامعات میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
• عملی زندگی: 1935ء میں ریٹائر ہوئے، لیکن 1937ء میں دوبارہ یونیورسٹی کے ساتھ معاہدے پر کام شروع کیا۔ 1945ء میں وہ 'جرمن اورینٹل سوسائٹی' کی لائبریری کے منتظم (Librarian) بنے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال 'ہالہ' (Halle) شہر میں گزارے۔ وہ المجمع العلمی العربی (دمشق) اور جرمنی و دیگر ممالک کی کئی علمی انجمنوں کے رکن رہے۔
اہم علمی تصانیف:
1. تاريخ الأدب العربي (Geschichte der arabischen Litteratur): یہ ان کی سب سے اہم کتاب ہے جو جرمن زبان میں دو ضخیم جلدوں میں ہے، اور بعد میں اس کے تین جلدوں نمیں ضمیمے (Supplements) بھی شائع ہوئے۔
o عرب لیگ نے انہیں اس بات کی ذمہ داری دی تھی کہ وہ ان ضمیموں کو اصل کتاب میں شامل کر کے اس کا عربی میں ترجمہ کریں۔ انہوں نے کام شروع کیا اور تقریباً 30 صفحات کا بہترین عربی ترجمہ کیا جو آج بھی قاہرہ میں عرب لیگ کے پاس ان کے اپنے خوبصورت عربی خط میں محفوظ ہے۔ تاہم، بیماری اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے وہ اسے مکمل نہ کر سکے۔
o بعد میں عبدالحلیم النجار نے اس کے ترجمے کا کام شروع کیا، لیکن وہ بھی اس کی تکمیل سے پہلے وفات پا گئے (اس کے چھ حصے شائع ہو چکے ہیں)۔ الھیئۃ المصریہ العامہ سے اس ترجمے کی تکمیل کا سلسلہ کئی سال قبل شروع ہوا تھا، جس کی دس جلدیں اب تک شائع ہوچکی ہیں، اندازا یہ ترجمہ کتاب (600) سے زیادہ صفحات کی چودہ پندرہ جلدوں پر مشتمل ہوگا۔
2. تاريخ الشعوب الإسلامية (تاریخِ اقوامِ مسلم): یہ کتاب بیروت میں عربی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکی ہے۔
3. دیگر کام:
o برسلاو اور ہیمبرگ کے کتب خانوں میں موجود عربی مخطوطات کی فہرستیں تیار کیں۔
o جرمن زبان میں "عربی گرامر" پر کتاب لکھی۔
o سریانی زبان کی لغت اور گرامر مرتب کی۔
o کاشغری کی مشہور کتاب "دیوان لغات الترک" کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا۔
4. عربی کتب کی تدوین و اشاعت:
انہوں نے کئی اہم عربی کتابوں کے حصے مدون کر کے شائع کیے، جن میں ابن قتیبہ کی "عيون الأخبار"، ابن الجوزی کی "تلقيح فهوم أهل الآثار"، "طبقات ابن سعد" کا ایک حصہ، اور کسائی کا رسالہ "ما تلحن فيه العوام" شامل ہیں۔
بروکلمان کی کتابوں میں تاریخ الادب العربی اور تاریخ الشعوب الاسلامیہ
کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اول الذکر کتاب سب سے زیادہ شہرت حاصل ہے، لیکن اس کے منہج سے عدم واقفیت کی وجہ سے اس سے اہل علم کا اس سے استفادہ محدود ہے، اور ہمارے محدود علم میں اس کتاب کا نعم البدل عربی یا اردو زبان میں ابھی تک موجود نہیں، اور یہ قرض ابھی تک عربی لٹریچر کے علماء و محققین کاندھوں پرچلا آرہا ہے۔ تاریخ الشعوب الاسلامیہ بھی مصنف نے بڑی محنت سے لکھی ہے، لیکن مورخ کے اسلام پر ایمان نہ ہونے، اور اسلامی و یورپی تاریخ وتحقیق کے معیارات میں فرق کی وجہ سے جو غلطیاں ہوسکتی ہیں، وہ کتاب میں موجود ہیں۔ اور اس کتاب کی تنقید میں کئی ایک کتابیں آچکی ہیں،
ان شاء اللہ ہماری کوشش ہوگی کہ قریبی فرصت میں رہنمائے کتب کے تحت بروکلمان کی تاریخ الادب العربی کا تعارف اس بزم علم وکتاب میں پیش کیا جائے۔
عبد المتین منیری
WA:00919741136475
Https://telegram.me/ilmokitab
❤4