وفیات مورخہ: 07/مئی
1951ء میاں عبد العزیز فلک پیما۔ ادیب، سیاست دان
1961ء سید عبد العلی حسنی۔ ڈاکٹر، ناظم ندوۃ العلماء لکھنو
1966ء مہر تقوی جے پوری (سید محمد خورشید علی)۔ ،
1978ء ابراہیم یوسف گارڈی۔ سیٹھ
1980ء شاہ احمد سلیمان۔ ،
1987ء حافظ محمد الله۔ مولانا ،
1995ء خلیق احمد نذیری۔ ،
1996ء انجم شیرازی (سید حامد علی شاہ )۔ ،
1998ء محمد عثمان رمز۔ پروفیسر ،
2011ء سید طاہر میاں۔
2018ء محمد اسجد قاسمی۔ مولانا
2021ء سید محمد حمزه حسنی ندوی۔ ناظر دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
2021ء شاداب احمد خان۔
2021ء عنبر بہرائچی( محمد ادریس)۔ شاعر
2021ء محمد شکیل صمدانی۔ قانون داں
2023ء یاسین اختر مصباحی۔ نائب صدر ال انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
Https://telegram.me/ilmokitab
1951ء میاں عبد العزیز فلک پیما۔ ادیب، سیاست دان
1961ء سید عبد العلی حسنی۔ ڈاکٹر، ناظم ندوۃ العلماء لکھنو
1966ء مہر تقوی جے پوری (سید محمد خورشید علی)۔ ،
1978ء ابراہیم یوسف گارڈی۔ سیٹھ
1980ء شاہ احمد سلیمان۔ ،
1987ء حافظ محمد الله۔ مولانا ،
1995ء خلیق احمد نذیری۔ ،
1996ء انجم شیرازی (سید حامد علی شاہ )۔ ،
1998ء محمد عثمان رمز۔ پروفیسر ،
2011ء سید طاہر میاں۔
2018ء محمد اسجد قاسمی۔ مولانا
2021ء سید محمد حمزه حسنی ندوی۔ ناظر دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
2021ء شاداب احمد خان۔
2021ء عنبر بہرائچی( محمد ادریس)۔ شاعر
2021ء محمد شکیل صمدانی۔ قانون داں
2023ء یاسین اختر مصباحی۔ نائب صدر ال انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Dr Syed Abadul Ali Hasani By Abdul Majid Daryabadi.pdf
1.4 MB
آج ڈاکٹر سید عبد العلی حسنی ؒ سابق ناظم ندوۃ العلماء لکھنو کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۷/ مئی ۱۹۶۱ء کو ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے ڈاکٹر صاحب پر لکھا ہوا مولانا عبد الماجد دریابادی کا خاکہ علم وکتاب میں پیش خدمت ہے۔
آپ کے اس علم و کتاب چینل کے مواد اور لنک سے زیادہ سے زیادہ احباب کو متعارف کروائیں۔ Leave a comment میں کلک کر کے آپ علم و کتاب گروپ کے خود بخود ممبر بن جاتے ہیں۔ جس کے بعد آپ گروپ میں اپنے پیغامات پوسٹ کر سکتے ہیں
مولانا ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنیؒ کی مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے لیے نصیحت
مولانا سید محمد طلحہ صاحبؒ کو ایک خط میں مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے لیے، جب ان کی عمر ١٦ سال تھی، ان کے بڑے بھائی مولانا ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنیؒ نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ان پر یہ نقش کردیجیے کہ موجودہ تمدن کی آب و تاب، سطحی اور کھوکھلی ہے اور ہمارے آباء کرام کا طریقہ ہمارے لیے ہمیشہ قابلِ تقلید رہے گا، خواہ ہم کتنی ہی علمی و اقتصادی ترقی نہ کرلیں، خدا کا شکر ہے کہ ہمارے اسلاف ذاتی کمالات (نہ کہ اضافی) سیرت اور تقویٰ میں ایسے تھے، جن کی نظیر، اللّٰه تعالیٰ نے نہیں پیدا کی۔ ہماری بدنصیبی ہوگی، اگر ہم ان سے بے خبر رہیں اور ان کے اتباع سے محروم رہ جائیں۔ ان کو بتادیجیے کہ اُن کی عملی زندگی، ہمارے منتہائے تخیّل سے بھی بدرجہا بلند تھی۔ ہمارا مطمحِ نظر ابھی اس سے بہت پست ہے۔ آدمیت، علم و دولت و تہذیب سے بہت اونچی چیز ہے۔
(ماہنامہ: الفرقان لکھنؤ، جون ١٩٦١ء، صفحہ: ٧١/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
مولانا سید محمد طلحہ صاحبؒ کو ایک خط میں مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے لیے، جب ان کی عمر ١٦ سال تھی، ان کے بڑے بھائی مولانا ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنیؒ نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ان پر یہ نقش کردیجیے کہ موجودہ تمدن کی آب و تاب، سطحی اور کھوکھلی ہے اور ہمارے آباء کرام کا طریقہ ہمارے لیے ہمیشہ قابلِ تقلید رہے گا، خواہ ہم کتنی ہی علمی و اقتصادی ترقی نہ کرلیں، خدا کا شکر ہے کہ ہمارے اسلاف ذاتی کمالات (نہ کہ اضافی) سیرت اور تقویٰ میں ایسے تھے، جن کی نظیر، اللّٰه تعالیٰ نے نہیں پیدا کی۔ ہماری بدنصیبی ہوگی، اگر ہم ان سے بے خبر رہیں اور ان کے اتباع سے محروم رہ جائیں۔ ان کو بتادیجیے کہ اُن کی عملی زندگی، ہمارے منتہائے تخیّل سے بھی بدرجہا بلند تھی۔ ہمارا مطمحِ نظر ابھی اس سے بہت پست ہے۔ آدمیت، علم و دولت و تہذیب سے بہت اونچی چیز ہے۔
(ماہنامہ: الفرقان لکھنؤ، جون ١٩٦١ء، صفحہ: ٧١/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤3
سہ ماہی اردو بک ریویو۔ دہلی
شمارہ جنوری۔ فروی۔ مارچ 2026
ایڈیٹر: عارف اقبال
لنک علم وکتاب لائبریری
https://archive.org/download/urdubookreview_202604/Urdu%20Book%20Review%202026-01.pdf
شمارہ جنوری۔ فروی۔ مارچ 2026
ایڈیٹر: عارف اقبال
لنک علم وکتاب لائبریری
https://archive.org/download/urdubookreview_202604/Urdu%20Book%20Review%202026-01.pdf
*مانگے کا اجالا*۔۔۔ اے حمید لکھتے ہیں ۔
” "نقوش" کا ناولٹ نمبر نیا نیا شائع ہوا تھا جس میں منٹو صاحب کا ناولٹ ” پیاری، اشفاق احمد کا مہمان بہار اور میرا جہاں برف گرتی ہے“ بھی شامل تھا۔ ٹی ہاؤس میں گرم خوشبو دار چائے کے دور چلتے اور نقوش کے ناولٹ نمبر پر خوب بخشیں ہوتیں۔ اشفاق احمد ایک نئے افسانہ نگار کی حیثیت سے آسمان ادب پر روشن ستارہ بن کر اُبھر رہا تھا۔ اس کے شروع شروع کے افسانے پڑھ کر ہی میں اس کا مداح بن گیا۔ دو چار سطروں میں ہی کچھ ایسی مہارت اور چابکدستی سے قلم چلاتا کہ کردار اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ پورے کا پورا نمودار ہو کر سامنے آ جاتا۔ منظر نگاری اور ماحول کی عکاسی میں اشفاق احمد بڑا حقیقت پسند ہے۔ خواہ مخواہ کی رومان نگاری اور الفاظ کا ضیاع اس کے افسانوں میں کہیں نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ بڑی دل میں اُتر جانے والی طنز کرتا ہے۔ اس کا مزاح خاص پنجابی اور دو آبے کا ہے۔ کردار نگاری میں تو اشفاق احمد گوگول اور گورکی کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ سعادت حسن منٹو کے بعد کردار نگاری کی یہ عظمت میرے ذاتی خیال میں سوائے اشفاق احمد کے اور کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ شاید یہی وجہ ہے تھی کہ منٹو صاحب اشفاق احمد کو مجھ سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ نقوش کے لیے باغ جناح میں ہمارا ایک گروپ فوٹو لیا جانے لگا تو منٹو صاحب نے اشفاق احمد کو خاص طور پر اپنے پاس کھڑا کیا تھا اور مجھے اس پر بڑا رشک آیا تھا۔ مہمان بہار، بابا اور گڈریا اردو ادب کے ہمیشہ زندہ رہنے والے افسانے ہیں۔
کاش میں بھی گڈریا ایسا کوئی افسانہ لکھ سکتا۔ “
” "نقوش" کا ناولٹ نمبر نیا نیا شائع ہوا تھا جس میں منٹو صاحب کا ناولٹ ” پیاری، اشفاق احمد کا مہمان بہار اور میرا جہاں برف گرتی ہے“ بھی شامل تھا۔ ٹی ہاؤس میں گرم خوشبو دار چائے کے دور چلتے اور نقوش کے ناولٹ نمبر پر خوب بخشیں ہوتیں۔ اشفاق احمد ایک نئے افسانہ نگار کی حیثیت سے آسمان ادب پر روشن ستارہ بن کر اُبھر رہا تھا۔ اس کے شروع شروع کے افسانے پڑھ کر ہی میں اس کا مداح بن گیا۔ دو چار سطروں میں ہی کچھ ایسی مہارت اور چابکدستی سے قلم چلاتا کہ کردار اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ پورے کا پورا نمودار ہو کر سامنے آ جاتا۔ منظر نگاری اور ماحول کی عکاسی میں اشفاق احمد بڑا حقیقت پسند ہے۔ خواہ مخواہ کی رومان نگاری اور الفاظ کا ضیاع اس کے افسانوں میں کہیں نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ بڑی دل میں اُتر جانے والی طنز کرتا ہے۔ اس کا مزاح خاص پنجابی اور دو آبے کا ہے۔ کردار نگاری میں تو اشفاق احمد گوگول اور گورکی کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ سعادت حسن منٹو کے بعد کردار نگاری کی یہ عظمت میرے ذاتی خیال میں سوائے اشفاق احمد کے اور کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ شاید یہی وجہ ہے تھی کہ منٹو صاحب اشفاق احمد کو مجھ سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ نقوش کے لیے باغ جناح میں ہمارا ایک گروپ فوٹو لیا جانے لگا تو منٹو صاحب نے اشفاق احمد کو خاص طور پر اپنے پاس کھڑا کیا تھا اور مجھے اس پر بڑا رشک آیا تھا۔ مہمان بہار، بابا اور گڈریا اردو ادب کے ہمیشہ زندہ رہنے والے افسانے ہیں۔
کاش میں بھی گڈریا ایسا کوئی افسانہ لکھ سکتا۔ “
سہ ماہی اسلام اور عصر جدید ۔ شمارہ اکتوبر۔ نومبر دسمبر ۲۰۲۵ء ۔ مدیر : ڈاکٹر محمد مشتاق تیجاوری https://archive.org/download/Islamaurasrjadid/Islam%20Aur%20Asr%20Jadeed%202025-10.pdf
ازمۃ ھذا العصر الحقیقیۃ
بیان وآواز: مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ
لنک بھٹکلیس ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=azmatu-hazal-asr-al-haqiqiyah, Azmatu hazal asr al haqiqiyah
مزید عربی تقاریر کے لئے
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=syed-abul-hasan-nadwi&t=
بیان وآواز: مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ
لنک بھٹکلیس ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=azmatu-hazal-asr-al-haqiqiyah, Azmatu hazal asr al haqiqiyah
مزید عربی تقاریر کے لئے
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=syed-abul-hasan-nadwi&t=
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
* مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟*(۴ )
از: عبد المتین منیری (بھٹکل)
*ہم مطالعہ کیوں کریں*؟:
قوت حافظہ کے متعلق جو باتیں ابھی بیان ہوئیں، اس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ کسی انسان کا جب تک کسی چیز کو یاد رکھنے کا عزم مصمم نہ ہو اور انہیں یاد رکھنے کے لئے قوانین قدرت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو پھر پڑھی ہوئی چیز کا ہمیشہ ذہن میں محفوظ رہنا ضروری نہیں،لہٰذا ایک تاجر کی طرح اپنے سرمایہ کی حفاظت اور ترقی کی فکر کرنا ، ایک فطری تقاضہ ہے۔ جب ہم مطالعہ کی افادیت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اس سلسلے کی مزید چند باتیں معلوم ہوتی ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں کہ:
۔مطالعہ علم کی کنجی ہے۔
۔مطالعہ سے دنیا و آخرت میں انسان کی سربلندی ہوتی ہے۔
۔مطالعہ گزرے زمانے کی اقوام کے حالات جاننے کا ایک ذریعہ ہے۔
۔مطالعہ قوم وملت کے دشمنوں کی چالوں کو جاننے کا آلہ ہے۔
۔مطالعہ بور نہ کرنےوالا ساتھی ہے، اس سے روح کی تسکین ہوتی ہے۔
۔مطالعہ خالی اوقات کے استعمال کامفیدذریعہ ہے۔
۔ مطالعہ اجر عظیم اور بہت ثواب پانے کا سبب ہے۔
مطالعہ سے مستفید ہونے کے پیشگی اصول:
۔ اخلاصث…مطالعہ کا واضح ہدف و مقصدث…اہل علم سے مشورہ و استفسارث…مطالعہ کی ترتیبث…یہ کہ ہر چیز پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی۔ ث…مطالعہ استفادہ اور سیدھی راہ پر استقامت کے لئے ہے۔ ث…مطالعہ ایک جہاد ہے صرف خواہش اورچاہت نہیں ہے۔ ث…مطالعہ کسی کام کی صلاحیت اور ارادہ کا نام ہے۔ ث…مطالعہ فن اور مہارت کا نام ہے۔
*مطالعہ کی راہ میں حائل رکاوٹیں:*
۔ دنیا کی ترغیبات میں مشغولیت، جن میں اب موبائل اور سوشل میڈیا کی مصروفیت سرفہرست آگئی ہے۔
۔ہمت اور حوصلہ میں کمی۔
۔ کور فہمی۔
*مطالعہ میں غلطیاں سرزد ہونے کے اسباب*:
۔جہالت۔
۔ مطالعہ میں تیز رفتاری
۔ ناسمجھی اور کور فہمی۔
۔…مضمون کی خرابی۔
…زبان و الفاظ پر عبور کی کمی۔
*مطالعہ کتب سے دور رہنے کے اسباب:*
۔مطالعہ سے جلد بور ہونا اور صبر وبرداشت کی کمی اور کسی کام کو جم کر کرنے کی عادت کا نہ ہونا۔
۔مطالعہ کی قدرو قیمت اور فضیلت نہ جاننا۔
۔کتاب اور موضوع کتاب کا طویل ہونا۔
۔ مطالعہ کی ابتدا میں غلطی،آسان کتابوں سے پہلے قدیم امہات الکتب سے اپنے مطالعہ کا آغاز کرنا۔
۔ کتاب کی زبان اور مضمون کا معیار سمجھ سے بلند ہونا۔
۔ کتاب میں مکرر استعمال ہونے والی اصطلاحات سے لاعلمی۔
۔دوست واحباب اور ہم جولیوں میں مطالعہ پر ابھارنے والوں کی کمی۔
۔ مفید کتابوں کی جگہ دبلے پتلے اخبارات اور پرچوں میں دلچسپی لینا۔
۔مطالعتی زندگی کی ابتدا میں اس کے لائق افراد سے مشورہ نہ کرنا، یا جو اس کے لائق نہیں ہیں ان سے مشورہ لینا۔
۔ زبان وبیان کے قواعد سے لاعلمی اور اسالیب بیان سے ناواقفیت۔
۔ مطالعہ سے بدکنا اور اپنی فکر کو مرکوز نہ رکھنا۔
۔ پست حوصلگی اور نیچ چیزوں کو پسند کرنا۔
۔ لہو ولعب میں پڑنا۔
۔ موبائل انٹرنٹ سوشل میڈیا ، میوزک اورویڈیو زسے چمٹے رہنا۔
Https://telegram.me/ilmokitab
از: عبد المتین منیری (بھٹکل)
*ہم مطالعہ کیوں کریں*؟:
قوت حافظہ کے متعلق جو باتیں ابھی بیان ہوئیں، اس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ کسی انسان کا جب تک کسی چیز کو یاد رکھنے کا عزم مصمم نہ ہو اور انہیں یاد رکھنے کے لئے قوانین قدرت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو پھر پڑھی ہوئی چیز کا ہمیشہ ذہن میں محفوظ رہنا ضروری نہیں،لہٰذا ایک تاجر کی طرح اپنے سرمایہ کی حفاظت اور ترقی کی فکر کرنا ، ایک فطری تقاضہ ہے۔ جب ہم مطالعہ کی افادیت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اس سلسلے کی مزید چند باتیں معلوم ہوتی ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں کہ:
۔مطالعہ علم کی کنجی ہے۔
۔مطالعہ سے دنیا و آخرت میں انسان کی سربلندی ہوتی ہے۔
۔مطالعہ گزرے زمانے کی اقوام کے حالات جاننے کا ایک ذریعہ ہے۔
۔مطالعہ قوم وملت کے دشمنوں کی چالوں کو جاننے کا آلہ ہے۔
۔مطالعہ بور نہ کرنےوالا ساتھی ہے، اس سے روح کی تسکین ہوتی ہے۔
۔مطالعہ خالی اوقات کے استعمال کامفیدذریعہ ہے۔
۔ مطالعہ اجر عظیم اور بہت ثواب پانے کا سبب ہے۔
مطالعہ سے مستفید ہونے کے پیشگی اصول:
۔ اخلاصث…مطالعہ کا واضح ہدف و مقصدث…اہل علم سے مشورہ و استفسارث…مطالعہ کی ترتیبث…یہ کہ ہر چیز پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی۔ ث…مطالعہ استفادہ اور سیدھی راہ پر استقامت کے لئے ہے۔ ث…مطالعہ ایک جہاد ہے صرف خواہش اورچاہت نہیں ہے۔ ث…مطالعہ کسی کام کی صلاحیت اور ارادہ کا نام ہے۔ ث…مطالعہ فن اور مہارت کا نام ہے۔
*مطالعہ کی راہ میں حائل رکاوٹیں:*
۔ دنیا کی ترغیبات میں مشغولیت، جن میں اب موبائل اور سوشل میڈیا کی مصروفیت سرفہرست آگئی ہے۔
۔ہمت اور حوصلہ میں کمی۔
۔ کور فہمی۔
*مطالعہ میں غلطیاں سرزد ہونے کے اسباب*:
۔جہالت۔
۔ مطالعہ میں تیز رفتاری
۔ ناسمجھی اور کور فہمی۔
۔…مضمون کی خرابی۔
…زبان و الفاظ پر عبور کی کمی۔
*مطالعہ کتب سے دور رہنے کے اسباب:*
۔مطالعہ سے جلد بور ہونا اور صبر وبرداشت کی کمی اور کسی کام کو جم کر کرنے کی عادت کا نہ ہونا۔
۔مطالعہ کی قدرو قیمت اور فضیلت نہ جاننا۔
۔کتاب اور موضوع کتاب کا طویل ہونا۔
۔ مطالعہ کی ابتدا میں غلطی،آسان کتابوں سے پہلے قدیم امہات الکتب سے اپنے مطالعہ کا آغاز کرنا۔
۔ کتاب کی زبان اور مضمون کا معیار سمجھ سے بلند ہونا۔
۔ کتاب میں مکرر استعمال ہونے والی اصطلاحات سے لاعلمی۔
۔دوست واحباب اور ہم جولیوں میں مطالعہ پر ابھارنے والوں کی کمی۔
۔ مفید کتابوں کی جگہ دبلے پتلے اخبارات اور پرچوں میں دلچسپی لینا۔
۔مطالعتی زندگی کی ابتدا میں اس کے لائق افراد سے مشورہ نہ کرنا، یا جو اس کے لائق نہیں ہیں ان سے مشورہ لینا۔
۔ زبان وبیان کے قواعد سے لاعلمی اور اسالیب بیان سے ناواقفیت۔
۔ مطالعہ سے بدکنا اور اپنی فکر کو مرکوز نہ رکھنا۔
۔ پست حوصلگی اور نیچ چیزوں کو پسند کرنا۔
۔ لہو ولعب میں پڑنا۔
۔ موبائل انٹرنٹ سوشل میڈیا ، میوزک اورویڈیو زسے چمٹے رہنا۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤5
وفیات مورخہ: 08/مئی
1133ء خواجہ قطب الدین مودود چشتی۔
1748ء ملا نظام الدین ( نظام الدین محمد انصاری سہالوی)۔ بانی درس نظامی
1903ء سید محمود۔ جسٹس، فرزند سر سید احمد خان
1963ء محمد رفیق ابراہیم۔ ،
1978ء محمد جمیل عارفی۔ ،
1988ء چودھری جلال الدین محمد اکبر۔
1989ء سید ظفر حسن نقوی امروہوی۔ مولانا ،
1989ء نصر اللہ جان۔ مولانا ،
1990ء محمود علی تھانوی۔ مولانا ،
1998ء نعمان خان ندوی بھو پالی۔ مولانا
1999ء عبداللہ کچھی۔ ،
1999ء نصیر احمد جلال آبادی۔ مولانا
2001ء پریم دھون۔ نغمہ نگار
2003ء ابن فرید۔ ڈاکٹر ، ادیب، نقاد
2005ء صادق الاسلام۔ ،
2011ء زخمی کانپوری۔ ،
2011ء فیصل المولوی۔ لبنانی داعی
2021ء عنبر بہرائچی (محمد ادریس)۔ شاعر
ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
Https://telegram.me/ilmokitab
1133ء خواجہ قطب الدین مودود چشتی۔
1748ء ملا نظام الدین ( نظام الدین محمد انصاری سہالوی)۔ بانی درس نظامی
1903ء سید محمود۔ جسٹس، فرزند سر سید احمد خان
1963ء محمد رفیق ابراہیم۔ ،
1978ء محمد جمیل عارفی۔ ،
1988ء چودھری جلال الدین محمد اکبر۔
1989ء سید ظفر حسن نقوی امروہوی۔ مولانا ،
1989ء نصر اللہ جان۔ مولانا ،
1990ء محمود علی تھانوی۔ مولانا ،
1998ء نعمان خان ندوی بھو پالی۔ مولانا
1999ء عبداللہ کچھی۔ ،
1999ء نصیر احمد جلال آبادی۔ مولانا
2001ء پریم دھون۔ نغمہ نگار
2003ء ابن فرید۔ ڈاکٹر ، ادیب، نقاد
2005ء صادق الاسلام۔ ،
2011ء زخمی کانپوری۔ ،
2011ء فیصل المولوی۔ لبنانی داعی
2021ء عنبر بہرائچی (محمد ادریس)۔ شاعر
ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
*بات سے بات: تاریخ کی دھیمی آنچ*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
آج بزم علم وکتاب کے بزرگ ممبر جناب محمد حسین ذو القرنین صاحب نے "برما اور بھارت کے مسلمان" کے عنوان سے ایک مضمون پوسٹ کیا ہے"، جو ایک باشعور مسلمان کو سوچ اور فکر میں ڈالنے والا ہے۔ طوالت سے بچنے کے لئے اس کے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
🌷جب کوئی قوم ’’خطرہ‘‘ قرار دے دی جائے تو اس کے خلاف ہر جرم کو ’’ضروری اقدام‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔
۔۔۔ اس پوری تباہی میں دنیا کی خاموشی سب سے خوفناک کردار تھی۔ ظلم اپنے قدم اس وقت مضبوطی سے جماتا ہے جب دنیا تماشائی بنی رہے، اور متاثرہ قوم اپنے اندر بھی ایسی منتشر ہو کہ کوئی اجتماعی آواز نہ اٹھ سکے۔۔۔
۔۔۔ قوموں کی شناخت پر پہلا وار ہمیشہ کاغذ پر ہوتا ہے۔ کسی کے کاغذ مشکوک قرار دے دیے جائیں تو اس کا اگلا قدم ووٹر لسٹ سے نام کا غائب ہونا ہوتا ہے، پھر اس کے بعد حقِ شہریت پر سوال اٹھتا ہے، اور آخر میں یہ سوال الزام میں بدل جاتا ہے۔۔۔
🔺ایک بڑی اکثریت کے لیے اگر لاکھوں نام ریکارڈ سے غائب بھی ہو جائیں، تو وقت کے ساتھ کوئی نہ کوئی قانونی دروازہ کھول کر انہیں ’’سہولت‘‘ فراہم کی جا سکتی ہے۔ لیکن اقلیتوں کے لیے سوالات سخت ہوتے ہیں، ثبوت مشکل ہوتے ہیں، اور ہر نتیجہ زیادہ تباہ کن۔ اس لیے کہ طاقتور نظام ہمیشہ کمزوروں کو پہلے آزماتا ہے، پھر انہیں مشقِ ستم بناتا ہے۔
میانمار کا سانحہ ان لوگوں کے لیے نہیں تھا جو طاقتور تھے، بلکہ ان کے لیے تھا جنہوں نے آنے والے خطرے کو بہت دیر میں سمجھا۔
دنیا میں طاقت کا مزاج بدل چکا ہے، اور ریاستیں اب قانون کے ذریعے ظلم کرتی ہیں، گولی سے پہلے قلم چلتا ہے، اور قید سے پہلے شناخت چھینی جاتی ہے۔۔۔
اپنی اجتماعی شناخت، اپنے حقوق، اپنے کاغذات، اور اپنی سماجی وحدت کو مضبوط کرنا کوئی سیاسی عمل نہیں— یہ بقا کی جدوجہد ہے۔۔۔
جو قوم بکھر جائے وہ تاریخ کی کتابوں میں محض ایک ’’باب‘‘ بن کر رہ جاتی ہے۔۔۔
اس پر ہمارے ایک معززر رکن نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : "لوگ مسلمانوں کو مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرتے ہیں، مگر کوئی منصوبہ یا لائحۂ عمل کوئی قلمکار پیش نہیں کرتا، صرف کمفیوژن تخلیق کرتا ہے، اور امت کی طرف سے سرد مہری، اور اس کی پکار پر لبیک نہ کہنے کا شکوہ کرتا ہے"
اس پر جناب ذو القرنین صاحب نے جو تبصرہ کیا ہےاس کا اقتباس پیش خدمت ہے:
پندرہ روزہ جریدہ دلت وائس میں اس کے مدیر راج شیکھر شٹی کا ایک مضمون شائع ہوا تھا کہ آر ایس ایس نے ایک وفد اسپین بھیجا ہے کہ وہاں سے اسلام کے استیصال کی حکمت عملی کا مطالعہ کرکے یہ بتائے کہ یہاں اس کی تطبیق کیسے ہو سکتی ہے۔ ہمارے اکثر اہل خرد نے اسے دیوانے کی بڑ سمجھا۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہی تھا موجودہ حالات سے موازنہ کرکے دیکھ لیجئے۔
ہم نے گروپ پر ہونے والی پوری بحث کو طوالت کے خوف سے نقل نہیں کیا ہے، عاقل کے لئے اشارہ کافی ہے۔
اس بحث پر ہمیں ایک عظیم دانشور سید محمد حامد صاحب ( سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ) کی ایک بات آئی جو آپ نے آج سے تیس سال قبل ایک نجی گفتگو میں فرمائی تھی کہ انہیں ایک سندھی ہندو نے بتایا تھا کہ دنیا کی تمام اقلیتیں اپنے حقوق پانے کے لئے اکثریت سے دوگنی سہ گنی محنت کرتی ہیں، کیونکہ اکثریت کے پاس حکومتی وسائل ہوتے ہیں، ان کے پاس ووٹ کی قوت ہوتی ہے، انہیں اپنے حقوق پانے اور سہولتیں حاصل کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنی نہیں پڑتی ، لیکن اس کے بالمقابل اقلیت کے پاس نہ حکومتی وسائل ہوتے ہیں نہ سیاسی قوت ، لیکن ہندوستان کی مسلم اقلیت دنیا کی واحد اقلیت ہے جو اکثریت کے مقابلے میں سست اور مسابقت کے میدان میں کام چور واقع ہوئی ہے۔
اگر ہم اپنے ملک کی اقلیتوں پر نظر دوڑائیں تو محسوس ہوگا اسماعیلی، سلیمانی بوہرہ، داودی بوہرہ، پارسی، اور دوسری اقوام میں برہمن، سندھی کیمونیٹیس وغیرہ کو اپنے حقوق کا مکمل شعور ہوتا ہے، انہوں نے اپنی توجہ تنظیم ، تجارت اور تعلیم پر مرکوز کی ہے، تعلیم کے میدانوں میں انہوں نے خاص طور پر وکالت، قانون اور حساب کی آڈٹ کے میدانوں کو خاص طور پر اپنایا ہے، اور اس میں بڑا نام کمایا ہے۔ اس کے مقابلے میں زرا ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا کیا حال ہے؟اور ہم میں اجتماعی اور انفرادی شعور کتنا ہے؟
آسام ، اور بنگال کے انتخابات نے خاص طور پر بتادیا ہے کہ اس وقت قوم مسلم کی اپنے وطن میں سب بڑی ترجیح کیا ہونی چاہئے؟۔ دوسرے بڑے بڑے کام اور منصوبوں کو چھوڑئے، ملت کی تنظیموں اور قیادتوں سے شکایت کے لئے بہت وقت پڑا ہے، لیکن جس طرح کاغذی دستاویزات کی بنیاد پر اپنی زمین اور ووٹ کے حق سے محروم کیا جارہا ہے، اس کے بعد میانمار، فلسطین ، اور اسپین کی داستانوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو پھر اپنی سرزمین سے محروم برادران قوم کی تعداد شاید میانمار ، فلسطین اور اسپین سے بڑھ جائے۔ اور جب بات ہاتھ سے نکال
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
آج بزم علم وکتاب کے بزرگ ممبر جناب محمد حسین ذو القرنین صاحب نے "برما اور بھارت کے مسلمان" کے عنوان سے ایک مضمون پوسٹ کیا ہے"، جو ایک باشعور مسلمان کو سوچ اور فکر میں ڈالنے والا ہے۔ طوالت سے بچنے کے لئے اس کے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
🌷جب کوئی قوم ’’خطرہ‘‘ قرار دے دی جائے تو اس کے خلاف ہر جرم کو ’’ضروری اقدام‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔
۔۔۔ اس پوری تباہی میں دنیا کی خاموشی سب سے خوفناک کردار تھی۔ ظلم اپنے قدم اس وقت مضبوطی سے جماتا ہے جب دنیا تماشائی بنی رہے، اور متاثرہ قوم اپنے اندر بھی ایسی منتشر ہو کہ کوئی اجتماعی آواز نہ اٹھ سکے۔۔۔
۔۔۔ قوموں کی شناخت پر پہلا وار ہمیشہ کاغذ پر ہوتا ہے۔ کسی کے کاغذ مشکوک قرار دے دیے جائیں تو اس کا اگلا قدم ووٹر لسٹ سے نام کا غائب ہونا ہوتا ہے، پھر اس کے بعد حقِ شہریت پر سوال اٹھتا ہے، اور آخر میں یہ سوال الزام میں بدل جاتا ہے۔۔۔
🔺ایک بڑی اکثریت کے لیے اگر لاکھوں نام ریکارڈ سے غائب بھی ہو جائیں، تو وقت کے ساتھ کوئی نہ کوئی قانونی دروازہ کھول کر انہیں ’’سہولت‘‘ فراہم کی جا سکتی ہے۔ لیکن اقلیتوں کے لیے سوالات سخت ہوتے ہیں، ثبوت مشکل ہوتے ہیں، اور ہر نتیجہ زیادہ تباہ کن۔ اس لیے کہ طاقتور نظام ہمیشہ کمزوروں کو پہلے آزماتا ہے، پھر انہیں مشقِ ستم بناتا ہے۔
میانمار کا سانحہ ان لوگوں کے لیے نہیں تھا جو طاقتور تھے، بلکہ ان کے لیے تھا جنہوں نے آنے والے خطرے کو بہت دیر میں سمجھا۔
دنیا میں طاقت کا مزاج بدل چکا ہے، اور ریاستیں اب قانون کے ذریعے ظلم کرتی ہیں، گولی سے پہلے قلم چلتا ہے، اور قید سے پہلے شناخت چھینی جاتی ہے۔۔۔
اپنی اجتماعی شناخت، اپنے حقوق، اپنے کاغذات، اور اپنی سماجی وحدت کو مضبوط کرنا کوئی سیاسی عمل نہیں— یہ بقا کی جدوجہد ہے۔۔۔
جو قوم بکھر جائے وہ تاریخ کی کتابوں میں محض ایک ’’باب‘‘ بن کر رہ جاتی ہے۔۔۔
اس پر ہمارے ایک معززر رکن نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : "لوگ مسلمانوں کو مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرتے ہیں، مگر کوئی منصوبہ یا لائحۂ عمل کوئی قلمکار پیش نہیں کرتا، صرف کمفیوژن تخلیق کرتا ہے، اور امت کی طرف سے سرد مہری، اور اس کی پکار پر لبیک نہ کہنے کا شکوہ کرتا ہے"
اس پر جناب ذو القرنین صاحب نے جو تبصرہ کیا ہےاس کا اقتباس پیش خدمت ہے:
پندرہ روزہ جریدہ دلت وائس میں اس کے مدیر راج شیکھر شٹی کا ایک مضمون شائع ہوا تھا کہ آر ایس ایس نے ایک وفد اسپین بھیجا ہے کہ وہاں سے اسلام کے استیصال کی حکمت عملی کا مطالعہ کرکے یہ بتائے کہ یہاں اس کی تطبیق کیسے ہو سکتی ہے۔ ہمارے اکثر اہل خرد نے اسے دیوانے کی بڑ سمجھا۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہی تھا موجودہ حالات سے موازنہ کرکے دیکھ لیجئے۔
ہم نے گروپ پر ہونے والی پوری بحث کو طوالت کے خوف سے نقل نہیں کیا ہے، عاقل کے لئے اشارہ کافی ہے۔
اس بحث پر ہمیں ایک عظیم دانشور سید محمد حامد صاحب ( سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ) کی ایک بات آئی جو آپ نے آج سے تیس سال قبل ایک نجی گفتگو میں فرمائی تھی کہ انہیں ایک سندھی ہندو نے بتایا تھا کہ دنیا کی تمام اقلیتیں اپنے حقوق پانے کے لئے اکثریت سے دوگنی سہ گنی محنت کرتی ہیں، کیونکہ اکثریت کے پاس حکومتی وسائل ہوتے ہیں، ان کے پاس ووٹ کی قوت ہوتی ہے، انہیں اپنے حقوق پانے اور سہولتیں حاصل کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنی نہیں پڑتی ، لیکن اس کے بالمقابل اقلیت کے پاس نہ حکومتی وسائل ہوتے ہیں نہ سیاسی قوت ، لیکن ہندوستان کی مسلم اقلیت دنیا کی واحد اقلیت ہے جو اکثریت کے مقابلے میں سست اور مسابقت کے میدان میں کام چور واقع ہوئی ہے۔
اگر ہم اپنے ملک کی اقلیتوں پر نظر دوڑائیں تو محسوس ہوگا اسماعیلی، سلیمانی بوہرہ، داودی بوہرہ، پارسی، اور دوسری اقوام میں برہمن، سندھی کیمونیٹیس وغیرہ کو اپنے حقوق کا مکمل شعور ہوتا ہے، انہوں نے اپنی توجہ تنظیم ، تجارت اور تعلیم پر مرکوز کی ہے، تعلیم کے میدانوں میں انہوں نے خاص طور پر وکالت، قانون اور حساب کی آڈٹ کے میدانوں کو خاص طور پر اپنایا ہے، اور اس میں بڑا نام کمایا ہے۔ اس کے مقابلے میں زرا ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا کیا حال ہے؟اور ہم میں اجتماعی اور انفرادی شعور کتنا ہے؟
آسام ، اور بنگال کے انتخابات نے خاص طور پر بتادیا ہے کہ اس وقت قوم مسلم کی اپنے وطن میں سب بڑی ترجیح کیا ہونی چاہئے؟۔ دوسرے بڑے بڑے کام اور منصوبوں کو چھوڑئے، ملت کی تنظیموں اور قیادتوں سے شکایت کے لئے بہت وقت پڑا ہے، لیکن جس طرح کاغذی دستاویزات کی بنیاد پر اپنی زمین اور ووٹ کے حق سے محروم کیا جارہا ہے، اس کے بعد میانمار، فلسطین ، اور اسپین کی داستانوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو پھر اپنی سرزمین سے محروم برادران قوم کی تعداد شاید میانمار ، فلسطین اور اسپین سے بڑھ جائے۔ اور جب بات ہاتھ سے نکال
❤1
جائے تو پھر سر پیٹنے کے علاوہ کچھ نہ بچ پائے۔
قومیت کے ثبوت کے لئے دستاویزات کی فراہمی کا مسئلہ ایسا ترپ کا پتہ ہے کہ اس میں دوسروں کی ہمدردیاں شاید ہی مل سکیں، کیونکہ دوسرے کئی سارے ممالک میں یہ قوانین اپنی شدت میں ہمارے ملک سے زیادہ سخت ہیں، اور کئی سارے مسلم ممالک ایسے ہیں جہاں لوگ عشروں سے بغیر سفری دستاویزات کے جینے پر مجبور ہیں۔ کئی ممالک میں پچاس اور ساٹھ سال کی عمر تک پہنچنے کے باوجود ہزارہا ہزارہا کی تعداد میں "بدون" ہونے کی خبریں آپ تک پہنچتی رہتی ہونگی۔ ایسے میں کسی سے مدد کی توقع رکھنی بے کار ہے۔ ان حالات میں اپنے حقوق کی حفاظت اور مادر وطن میں عزت کے ساتھ سر ڈھانپ کر جینے کے لئے خود ہیں شعور پیدا کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔
ابھی تک محسوس ہورہا ہے کہ بعض ریاستوں میں ہماری جماعتوں نے کچھ کام کیا ہے، لیکن عام طور پر ہمارے عوام میں ابھی تک احساس ذمہ داری، سرکاری دستاویزات اور کاغذات کے ذریعہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے انتھک بھاگ ڈور اور کوششوں کا شعور ابھی بیدار نہیں ہوا ہے۔ خود کی فکر کرنے کے بجائے دوسروں سے شکایت کرنے کے ہم خوگر بن گئے ہیں، اس عادت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے خیال میں " تاریخ کی دھیمی آنچ" نامی اس کالم میں ایک ہی حساس مسئلہ پر توجہ دی گئی ہے، اس سے بے توجہی کے ہولناک نتائج کو " مگر کوئی منصوبہ یا لائحۂ عمل کوئی قلمکار پیش نہیں کرتا، صرف کنفیوژن تخلیق کرتا ہے" کہ کر کم نہیں کیا جاسکتا ، یہ مسئلہ ہر ایک کا اپنا مسئلہ ہے، یہ ذمہ داری صرف جماعتوں اور ملی قیادت کی نہیں ہے، انفرادی اور اجتماعی شعور اور اس کے لئے بھاگ ڈور کی ضرورت ہے،اس میں اگر سستی اور کاہلی دکھائی گئی تو پھر وہ دن شاید دور نہیں جب یہ آگ سب کو جھلسادے۔ اور اس کی آنچ کی تپش سے کوئی محفوظ نہ رہے۔ اللہ اس دن سے ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین۔
2026-05-07
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
قومیت کے ثبوت کے لئے دستاویزات کی فراہمی کا مسئلہ ایسا ترپ کا پتہ ہے کہ اس میں دوسروں کی ہمدردیاں شاید ہی مل سکیں، کیونکہ دوسرے کئی سارے ممالک میں یہ قوانین اپنی شدت میں ہمارے ملک سے زیادہ سخت ہیں، اور کئی سارے مسلم ممالک ایسے ہیں جہاں لوگ عشروں سے بغیر سفری دستاویزات کے جینے پر مجبور ہیں۔ کئی ممالک میں پچاس اور ساٹھ سال کی عمر تک پہنچنے کے باوجود ہزارہا ہزارہا کی تعداد میں "بدون" ہونے کی خبریں آپ تک پہنچتی رہتی ہونگی۔ ایسے میں کسی سے مدد کی توقع رکھنی بے کار ہے۔ ان حالات میں اپنے حقوق کی حفاظت اور مادر وطن میں عزت کے ساتھ سر ڈھانپ کر جینے کے لئے خود ہیں شعور پیدا کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔
ابھی تک محسوس ہورہا ہے کہ بعض ریاستوں میں ہماری جماعتوں نے کچھ کام کیا ہے، لیکن عام طور پر ہمارے عوام میں ابھی تک احساس ذمہ داری، سرکاری دستاویزات اور کاغذات کے ذریعہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے انتھک بھاگ ڈور اور کوششوں کا شعور ابھی بیدار نہیں ہوا ہے۔ خود کی فکر کرنے کے بجائے دوسروں سے شکایت کرنے کے ہم خوگر بن گئے ہیں، اس عادت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے خیال میں " تاریخ کی دھیمی آنچ" نامی اس کالم میں ایک ہی حساس مسئلہ پر توجہ دی گئی ہے، اس سے بے توجہی کے ہولناک نتائج کو " مگر کوئی منصوبہ یا لائحۂ عمل کوئی قلمکار پیش نہیں کرتا، صرف کنفیوژن تخلیق کرتا ہے" کہ کر کم نہیں کیا جاسکتا ، یہ مسئلہ ہر ایک کا اپنا مسئلہ ہے، یہ ذمہ داری صرف جماعتوں اور ملی قیادت کی نہیں ہے، انفرادی اور اجتماعی شعور اور اس کے لئے بھاگ ڈور کی ضرورت ہے،اس میں اگر سستی اور کاہلی دکھائی گئی تو پھر وہ دن شاید دور نہیں جب یہ آگ سب کو جھلسادے۔ اور اس کی آنچ کی تپش سے کوئی محفوظ نہ رہے۔ اللہ اس دن سے ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین۔
2026-05-07
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ: 09/مئی*
1963ء محمد یحییٰ۔ حکیم ، ہمدرد
1973ء نور احمد بدخشانی۔ مولانا ،
1984ء خواجہ آشکار حسین وفا سنبھلی۔ ،
1989ء زخمی امروہوی (سید انوار احمد نقوی)۔ ،
1998ء طلعت محمود۔ گلوکار
1999ء یٰسین شاہ بخاری تاجی۔ ،
2005ء سید اظہار حیدررضوی۔ ،
2011ء جمیل عظیم آبادی۔
2013ء ابوالکلام۔ انجینیر ،
2013ء سید شہنشاہ حسین۔ ،
2020ء عبد الحمید ہزاروی۔ شیخ القرآن، جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ
2021ء ادیبہ نذیر (طلعت صدییق)۔
Https://telegram.me/ilmokitab
1963ء محمد یحییٰ۔ حکیم ، ہمدرد
1973ء نور احمد بدخشانی۔ مولانا ،
1984ء خواجہ آشکار حسین وفا سنبھلی۔ ،
1989ء زخمی امروہوی (سید انوار احمد نقوی)۔ ،
1998ء طلعت محمود۔ گلوکار
1999ء یٰسین شاہ بخاری تاجی۔ ،
2005ء سید اظہار حیدررضوی۔ ،
2011ء جمیل عظیم آبادی۔
2013ء ابوالکلام۔ انجینیر ،
2013ء سید شہنشاہ حسین۔ ،
2020ء عبد الحمید ہزاروی۔ شیخ القرآن، جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ
2021ء ادیبہ نذیر (طلعت صدییق)۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
شیخ فیصل مولوی (وفات ۸/ مئی ۲۰۱۱ء) لبنان کے ایک عظیم داعی و فقیہ
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج مورخہ ۸/ مئی شیخ فیصل مولوی کی یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات سنہ ۲۰۱۱ء بیروت لبنان میں ہوئی تھی۔
فیصل مولوی ایک فقیہ ، قاضی اور مفکر تھے، آپ کی زندگی تحریک اور دعوت میں گذری.
لبنان دور عثمانی تک بنیادی طور پر ملک شام ہی کا حصہ تھا، لیکن اس پر فرانسیسی سامراج نے قبضہ کرکے جاتے جاتے اس پر عیسائی مارونی فرقہ کو حاوی کردیا، اور اختیارات مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر بانٹ دئے، اس وقت سے یہاں دستوری طور پر صدر مارونی، وزیر اعظم سنی اور اسپیکر اثنا عشری شیعہ پر تقسیم طے ہے، ان کے علاوہ یہاں اسماعیلی درزی اور علوی فرقوں کے گڑھ بھی پائے جاتے ہیں، طرابلس سنی اکثریتی علاقہ ہے، اندازا لبنان میں سنی مسلمانوں کا تناسب پینتیس فیصد کے قریب ہے، ایران کے خمینی انقلاب کے بعد مارونی عیسائیوں کے ساتھ ساتھ ایران کی پشت پناہ حزب اللہ نے دینی اور معاشرتی طور سنی مسلمانوں کو ر بہت کمزور کردیا ہے۔حافظ الاسد اور بشار الاسد کے دور میں بھی ان کی پوزیشن اور زیادہ کمزور ہوگئی، اور ان کے ہاتھوں چوٹی کے سنی قائدین کو شہید کرکے انہیں سیاسی اور معاشرتی طورپر یتیم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ مارونی اور شیعہ ملیشیا کا غلبہ تھا، سنی مسلمانوں کے پاس جانی مالی دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا۔
ان پر آشوب حالات میں جن شخصیات نے لبنان کے مسلمانوں کی رہنمائی میں اپنی زندگیاں صرف کیں ان میں ایک اہم نام شیخ فیصل مولوی کا ہے۔
آپ کی ولادت سنہ ۱۹۴۱ء طرابلس ۔ لبنان میں ہوئی تھی، سنہ ۱۹۶۷ء میں آپ نے الجامعۃ اللبنانیۃ کے کلیۃ الحقوق سے بی اے مکمل کیا، اور دوسرے ہی سال جامعۃ دمشق کے بڑے ہی معتبر کلٰیۃ الشریعۃ سے بھی تکمیل کی۔ جس کے بعد آپ نے فرانس کی سوربون یونیورسٹی سے ڈپلوما حاصل کیا۔
۱۹۶۸ء میں آپ شرعی قاضی مقرر ہوئے۔ پھر بیروت کی اعلی شرعی عدالت میں ایڈوئیزر مقرر ہوئے، جس عہدے پر آپ ۱۹۹۶ء تک فائز رہے۔۱۹۸۰ تا ۱۹۸۵ء آپ کا قیام یورپ میں رہا ۔
مارچ ۱۹۹۷ء میں آپ نے برطانیہ میں المجلس الاوربی للافتاء والبحوث کے قیام میں حصہ لیا۔
۱۹۹۰ء میں چاتیوں چینون (فرانس ) فرانس میں مسلم بچوں کی شرعی تعلیم کے لئے الکلیۃ الاوربیۃ للدراسات الاسلامیہ قائم کیا۔
۱۹۵۵ء سے آپ کی تحریک اسلامی سے وابستگی تھی، استاد فتحی یکن کی ۱۹۹۲ء میں وفات کے بعد آپ کو الجماعۃ الاسلامیہ کا سربراہ منتخب کیا۔
آپ نے (۱) المفاہیم الاساسیۃ للدعوۃ الاسلامیۃ فی بلاد الغرب (۲) الاسس الشرعیۃ للعلاقات بین المسلمین وغیر المسلمین جیسے اہم دعوتی موضوعات پر کتابین، اور فقہی موضوعات پر مضامین یادگار چھوڑے۔
بنیادی طور پر آپ ایک داعی اور مفکر تھے، آپ کی تقریریں بڑی فکر انگیز ہوا کرتی تھیں۔
فرانس منتقل ہونے سے قبل ۱۹۸۰ء میں آپ کی تقریر سننے اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ ہمارے ساتھ کئی ایک عرب ممالک کی اہم علمی دعوتی اور شخصیات آفس میں کام کرتی تھیں، لبنان کی شخصیات میں شیخ محمد عمر الداعوق رحمۃ اللہ علیہ ، اور شیخ مالک الشعار تھے۔ اول الذکر لبنان کی پہلی دعوتی جماعۃ عباد الرحمن کے بانی تھے، اور لبنان کے دعوتی اور علمی حلقوں میں ایک باپ کی طرح احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔۱۹۵۶ء میں جب مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے لبنان کا دور ہ کیا تھا، تو آپ شیخ محمد عمر الداعوق ؒ ہی کے مہمان تھے، جس کا تذکرہ مذکرات السائح فی الشرق الاوسط میں موجود ہے۔
اسی طرح شیخ الشعار بعد میں اپنے وطن منتقل ہوئے اور طرابلس کے قاضی ہوکر ابھی چند ماہ قبل اپنے منصب جلیلہ سے کبر سنی کی وجہ سے سبکدوش ہوئے ہیں ۔ ہماری دعوت پر بھٹکل بھی تشریف لائے تھے، اور جامع مسجد میں خطبہ بھی دیا تھا۔ لبنانی اہل علم اور دانشور ان سے ملنے ضرور آتے تھے۔
فیصل مولوی کو کئی بار سننے کا موقعہ ملا، آپ کی باتیں منطقی اور دل کو چھو لینے والی ہوتی تھیں، اللہ تعالی نے وجاہت خوبصورتی اور علم اور طلاقت لسانی سے بھر پور نوازا تھا، آج سے چھیالیس سال قبل کہی ہوئی ان کی بات اب تک ذہن سے محو نہیں ہوئی ہے کہ ہم عالم اسلام کے اتحاد کی بات کرتے ہیں، لیکن یاد رہے کہ "عالم اسلام کا صرف اتحاد مقصود نہیں ہے، اتحاد کا حق کو بلند کرنے کے لئے اور صحیح اصولوں پر ہونا بھی ضروری ، اگر یہ اپنےہی باشندوں پر ظلم اور ان کی حق تلافی کے لئے متحد ہوجائیں، تو یہ ناقابل قبول ہے"
اللہ مرحوم کی مغفرت کرے، اور ان کے اعمال حسنہ کو قبول کرے۔
2026-05-09
Https://telegram.me/ilmokitab
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج مورخہ ۸/ مئی شیخ فیصل مولوی کی یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات سنہ ۲۰۱۱ء بیروت لبنان میں ہوئی تھی۔
فیصل مولوی ایک فقیہ ، قاضی اور مفکر تھے، آپ کی زندگی تحریک اور دعوت میں گذری.
لبنان دور عثمانی تک بنیادی طور پر ملک شام ہی کا حصہ تھا، لیکن اس پر فرانسیسی سامراج نے قبضہ کرکے جاتے جاتے اس پر عیسائی مارونی فرقہ کو حاوی کردیا، اور اختیارات مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر بانٹ دئے، اس وقت سے یہاں دستوری طور پر صدر مارونی، وزیر اعظم سنی اور اسپیکر اثنا عشری شیعہ پر تقسیم طے ہے، ان کے علاوہ یہاں اسماعیلی درزی اور علوی فرقوں کے گڑھ بھی پائے جاتے ہیں، طرابلس سنی اکثریتی علاقہ ہے، اندازا لبنان میں سنی مسلمانوں کا تناسب پینتیس فیصد کے قریب ہے، ایران کے خمینی انقلاب کے بعد مارونی عیسائیوں کے ساتھ ساتھ ایران کی پشت پناہ حزب اللہ نے دینی اور معاشرتی طور سنی مسلمانوں کو ر بہت کمزور کردیا ہے۔حافظ الاسد اور بشار الاسد کے دور میں بھی ان کی پوزیشن اور زیادہ کمزور ہوگئی، اور ان کے ہاتھوں چوٹی کے سنی قائدین کو شہید کرکے انہیں سیاسی اور معاشرتی طورپر یتیم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ مارونی اور شیعہ ملیشیا کا غلبہ تھا، سنی مسلمانوں کے پاس جانی مالی دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا۔
ان پر آشوب حالات میں جن شخصیات نے لبنان کے مسلمانوں کی رہنمائی میں اپنی زندگیاں صرف کیں ان میں ایک اہم نام شیخ فیصل مولوی کا ہے۔
آپ کی ولادت سنہ ۱۹۴۱ء طرابلس ۔ لبنان میں ہوئی تھی، سنہ ۱۹۶۷ء میں آپ نے الجامعۃ اللبنانیۃ کے کلیۃ الحقوق سے بی اے مکمل کیا، اور دوسرے ہی سال جامعۃ دمشق کے بڑے ہی معتبر کلٰیۃ الشریعۃ سے بھی تکمیل کی۔ جس کے بعد آپ نے فرانس کی سوربون یونیورسٹی سے ڈپلوما حاصل کیا۔
۱۹۶۸ء میں آپ شرعی قاضی مقرر ہوئے۔ پھر بیروت کی اعلی شرعی عدالت میں ایڈوئیزر مقرر ہوئے، جس عہدے پر آپ ۱۹۹۶ء تک فائز رہے۔۱۹۸۰ تا ۱۹۸۵ء آپ کا قیام یورپ میں رہا ۔
مارچ ۱۹۹۷ء میں آپ نے برطانیہ میں المجلس الاوربی للافتاء والبحوث کے قیام میں حصہ لیا۔
۱۹۹۰ء میں چاتیوں چینون (فرانس ) فرانس میں مسلم بچوں کی شرعی تعلیم کے لئے الکلیۃ الاوربیۃ للدراسات الاسلامیہ قائم کیا۔
۱۹۵۵ء سے آپ کی تحریک اسلامی سے وابستگی تھی، استاد فتحی یکن کی ۱۹۹۲ء میں وفات کے بعد آپ کو الجماعۃ الاسلامیہ کا سربراہ منتخب کیا۔
آپ نے (۱) المفاہیم الاساسیۃ للدعوۃ الاسلامیۃ فی بلاد الغرب (۲) الاسس الشرعیۃ للعلاقات بین المسلمین وغیر المسلمین جیسے اہم دعوتی موضوعات پر کتابین، اور فقہی موضوعات پر مضامین یادگار چھوڑے۔
بنیادی طور پر آپ ایک داعی اور مفکر تھے، آپ کی تقریریں بڑی فکر انگیز ہوا کرتی تھیں۔
فرانس منتقل ہونے سے قبل ۱۹۸۰ء میں آپ کی تقریر سننے اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ ہمارے ساتھ کئی ایک عرب ممالک کی اہم علمی دعوتی اور شخصیات آفس میں کام کرتی تھیں، لبنان کی شخصیات میں شیخ محمد عمر الداعوق رحمۃ اللہ علیہ ، اور شیخ مالک الشعار تھے۔ اول الذکر لبنان کی پہلی دعوتی جماعۃ عباد الرحمن کے بانی تھے، اور لبنان کے دعوتی اور علمی حلقوں میں ایک باپ کی طرح احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔۱۹۵۶ء میں جب مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے لبنان کا دور ہ کیا تھا، تو آپ شیخ محمد عمر الداعوق ؒ ہی کے مہمان تھے، جس کا تذکرہ مذکرات السائح فی الشرق الاوسط میں موجود ہے۔
اسی طرح شیخ الشعار بعد میں اپنے وطن منتقل ہوئے اور طرابلس کے قاضی ہوکر ابھی چند ماہ قبل اپنے منصب جلیلہ سے کبر سنی کی وجہ سے سبکدوش ہوئے ہیں ۔ ہماری دعوت پر بھٹکل بھی تشریف لائے تھے، اور جامع مسجد میں خطبہ بھی دیا تھا۔ لبنانی اہل علم اور دانشور ان سے ملنے ضرور آتے تھے۔
فیصل مولوی کو کئی بار سننے کا موقعہ ملا، آپ کی باتیں منطقی اور دل کو چھو لینے والی ہوتی تھیں، اللہ تعالی نے وجاہت خوبصورتی اور علم اور طلاقت لسانی سے بھر پور نوازا تھا، آج سے چھیالیس سال قبل کہی ہوئی ان کی بات اب تک ذہن سے محو نہیں ہوئی ہے کہ ہم عالم اسلام کے اتحاد کی بات کرتے ہیں، لیکن یاد رہے کہ "عالم اسلام کا صرف اتحاد مقصود نہیں ہے، اتحاد کا حق کو بلند کرنے کے لئے اور صحیح اصولوں پر ہونا بھی ضروری ، اگر یہ اپنےہی باشندوں پر ظلم اور ان کی حق تلافی کے لئے متحد ہوجائیں، تو یہ ناقابل قبول ہے"
اللہ مرحوم کی مغفرت کرے، اور ان کے اعمال حسنہ کو قبول کرے۔
2026-05-09
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
*غلطی ہائے مضامین*
*کاش کوئی چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا آئے*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
پرسوں پرلے روز کی بات ہے، ایک سیاسی رہنما کی طرف سے ایک سوال آیا:
’’سان چڑھانا کسے کہتے ہیں؟‘‘
سوال سنتے ہی سوچوں کے سنّاٹے میں ایک صدا گونج اُٹھی:
’’چھری، چاقو، قینچی تیز کرالو‘‘۔
یہ صدا ہمارے سدا جھگڑنے والے سیاست دانوں کے لیے کتنی پُرکشش ہوگی، اس کا ہمیں اندازہ نہیں ہے، لیکن کچھ عرصہ پہلے تک ہماری گلیوں میں یہ پُکار ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور گونجا کرتی تھی۔ اب بھی عید الاضحیٰ کے موقعے پر کبھی کبھار اور کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی پُکارنے والا سفید پوش محلّوں کے گلی کوچوں میں یہ صدا لگاتا ہوا نکل ہی آتا ہے کہ
’’چھری، چاقو، قینچی تیز کرالو‘‘۔
گلی گلی گھوم کر اپنا ہنر دکھانے اور حق حلال کی روزی کمانے کا یہ سلسلہ اب ہمارے گلی کوچوں سے شاید ختم ہوتا جارہا ہے۔ یہ ہنر بھی ختم ہورہا ہے۔ ہوتے ہوتے بہت سے ہنر ختم ہوگئے۔ کس کس کا گلہ کیجیے، کس کس کو روئیے۔ صاحبو! یہ جو جدید دور ہے اس میں بقولِ شاعر:
اوج پر ہے کمالِ بے ہنری
باکمالوں میں گِھر گیا ہوں میں
چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا ہنرمند پہلے پہل تو اپنے کندھے پر سائیکل کے بہت بڑے پہیے جیسی مشین اُٹھائے، نگر نگر اور ڈگر ڈگر پھرتا تھا مارا مارا۔ اُس دُکھیا کا اِس دنیا میں یہی تھا ایک سہارا۔ جس گھر سے کام مل جاتا اُس کے آگے ڈیرا ڈال دیتا۔ مشین کندھے سے اُتارتا، پہیے کو پیڈل سے چلاتا اور ایک گول پتھر گردشِ ایام کی طرح پوری تیز رفتاری سے گھومنے لگتا۔ اب وہ چھری، چاقو، قینچی باری باری اُس گول پتھر سے رگڑتا، چنگاریاں نکلتیں اور دم بھر میں اوزار کی دھار اتنی تیز ہوجاتی کہ اُنگلی لگاؤ تو اُنگلی کٹ جائے، خون کی تللی بندھ جائے۔
بعد کو یہ گھومنے والا گول پتھر بڑی ہنرمندی سے خود سائیکل پر جَڑ دیا گیا۔ کندھے آزاد ہوگئے۔ سائیکل ہی کے پیڈل سے مشین کے پیڈل کا کام بھی لیا جانے لگا۔ مگر اب ہوتا یہ تھا کہ جب تک گھر سے نکلو، یہ ہنرمند اپنی سائیکل چلاتے ہوئے کہیں اور نکل چکا ہوتا۔ دُور کسی اور گلی سے، بلکہ ’کسی اور کی‘ گلی سے اُس کی سُریلی صدا آرہی ہوتی:
’’چھری، چاقو، قینچی تیز کرا لو!‘‘
کُرنڈ کا بنا ہوا وہ گول پتھر جس کے گھومتے سرے پر رکھ کر اوزار و ہتھیارکی کُند دھار تیز کی جاتی ہے ’’سان‘‘ کہلاتا ہے۔ ’کُرنڈ‘ ایک خاص قسم کا معدنی پتھر ہوتا ہے۔ انتہائی سخت۔ مگر دیکھنے میں یوں لگتا ہے جیسے جمی ہوئی بھربھری ریت سے بنایا گیا ہے۔ ’سان‘ کے علاوہ اس پتھر کو ’سنگِ صیقل‘ اور ’فَساں‘ بھی کہتے ہیں۔ اقبالؔ کا یہ مشہور مصرع تو آپ کو یاد ہی ہوگا،
’’خودی ہے تیغ، فَساں لا الٰہ الا اللہ‘‘
یعنی خودی تلوار ہے اور ’لاالٰہ الااللہ‘ اس تلوار کی دھار تیز کرنے والی ’سان‘ ہے۔ جو لوگ اقبالؔ کے اس مصرعے کو پڑھتے ہوئے ’’تیغے فِساں‘‘ پڑھتے ہیں، وہ ’فَساں‘ کا تلفظ ہی نہیں بگاڑتے، اس مصرعے کا مفہوم بھی غارت کردیتے ہیں۔
پہلوانِ سخن شیخ امام بخش ناسخؔ، اِس گھومتے پتھر کو نہیں بلکہ اپنے محبوب کی گردش کرتی ہوئی آنکھوں کو، ’’سان‘‘ کہتے سنائی دیتے ہیں:
تیز ہر دم کرتی ہے تیغِ نگاہِ یار کو
چشم کی گردش ہوئی ہے سان اِس تلوار کو
سان چڑھانا، سان پر چڑھانا، سان رکھنا، سان پر رکھنا، سان دھرنا اور سان لگانا سمیت اُردو کے کئی محاوروں کو سان لگی ہوئی ہے۔ ان سب کا لفظی مطلب ایک ہی ہے: کسی اوزار کی دھار کو تیز کرنا یعنی ’سان‘ نامی پتھر پر رگڑ کر اوزار کی کاٹنے کی صلاحیت کو بڑھانا، چمکانا اور کاٹ کو تیز کرنا۔ مگر ’سان پر چڑھانا‘ کے مجازی معنوں میں کسی کی صلاحیتوں کو جلا بخشنا بھی لیا جاتا ہے اور کسی غریب کو ’رگڑا دینا‘ بھی، مثلاً:
’’بدھو میاں کے نکھٹو پن اور کاہلی کا یہ علاج کیا گیا کہ اُن کی شادی کرکے اُن کو سان پر چڑھا دیا گیا‘‘۔
’سان پر رکھنا‘ کے معنی ’باڑھ پر رکھنا‘ یا ’باڑھ دینا‘ بھی بتائے جاتے ہیں۔ ’باڑھ‘ دراصل دھار کو کہا جاتا ہے۔ امیرؔ مینائی کہتے ہیں:
مشکل آساں نہ ہوئی تیرے گنہگاروں کی
حیف منہ موڑ گئی باڑھ بھی تلواروں کی
مگر ’باڑھ‘ کے اور بھی کئی معانی ہیں۔ ندی یا دریا وغیرہ کا چڑھ جانا۔ طغیانی۔ حد یا کنارہ۔ کھیت وغیرہ کے احاطے کی کانٹوں یا کسی خاص پودے کی جھاڑیوں سے جو حد بندی کرتے ہیں اُسے بھی ’باڑھ‘ کہتے ہیں اور حد بندی کے عمل کو ’باڑھ باندھنا‘۔ بڑھوتری، بالیدگی، نمو اور اضافے کو بھی ’باڑھ‘ کہا جاتا ہے۔ ’باڑھ پر آنا‘ نشانے پر یا زَد پر آنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ کئی بندوقوں سے ایک ساتھ ’فیر‘ کرنے کو باڑھ مارنا کہتے ہیں۔ اُردو میں اب تو ’فائر کرنا‘ ہی لکھا اور بولا جانے لگا ہے، مگر پہلے ’فیر کرنا‘ لکھتے اور بولتے تھے۔ ظفرؔ کا شعر ہے:
غضب ہے توپ پر عاشق کو رکھ کر
فرنگی زاد تیرا فیر کرنا
*کاش کوئی چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا آئے*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
پرسوں پرلے روز کی بات ہے، ایک سیاسی رہنما کی طرف سے ایک سوال آیا:
’’سان چڑھانا کسے کہتے ہیں؟‘‘
سوال سنتے ہی سوچوں کے سنّاٹے میں ایک صدا گونج اُٹھی:
’’چھری، چاقو، قینچی تیز کرالو‘‘۔
یہ صدا ہمارے سدا جھگڑنے والے سیاست دانوں کے لیے کتنی پُرکشش ہوگی، اس کا ہمیں اندازہ نہیں ہے، لیکن کچھ عرصہ پہلے تک ہماری گلیوں میں یہ پُکار ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور گونجا کرتی تھی۔ اب بھی عید الاضحیٰ کے موقعے پر کبھی کبھار اور کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی پُکارنے والا سفید پوش محلّوں کے گلی کوچوں میں یہ صدا لگاتا ہوا نکل ہی آتا ہے کہ
’’چھری، چاقو، قینچی تیز کرالو‘‘۔
گلی گلی گھوم کر اپنا ہنر دکھانے اور حق حلال کی روزی کمانے کا یہ سلسلہ اب ہمارے گلی کوچوں سے شاید ختم ہوتا جارہا ہے۔ یہ ہنر بھی ختم ہورہا ہے۔ ہوتے ہوتے بہت سے ہنر ختم ہوگئے۔ کس کس کا گلہ کیجیے، کس کس کو روئیے۔ صاحبو! یہ جو جدید دور ہے اس میں بقولِ شاعر:
اوج پر ہے کمالِ بے ہنری
باکمالوں میں گِھر گیا ہوں میں
چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا ہنرمند پہلے پہل تو اپنے کندھے پر سائیکل کے بہت بڑے پہیے جیسی مشین اُٹھائے، نگر نگر اور ڈگر ڈگر پھرتا تھا مارا مارا۔ اُس دُکھیا کا اِس دنیا میں یہی تھا ایک سہارا۔ جس گھر سے کام مل جاتا اُس کے آگے ڈیرا ڈال دیتا۔ مشین کندھے سے اُتارتا، پہیے کو پیڈل سے چلاتا اور ایک گول پتھر گردشِ ایام کی طرح پوری تیز رفتاری سے گھومنے لگتا۔ اب وہ چھری، چاقو، قینچی باری باری اُس گول پتھر سے رگڑتا، چنگاریاں نکلتیں اور دم بھر میں اوزار کی دھار اتنی تیز ہوجاتی کہ اُنگلی لگاؤ تو اُنگلی کٹ جائے، خون کی تللی بندھ جائے۔
بعد کو یہ گھومنے والا گول پتھر بڑی ہنرمندی سے خود سائیکل پر جَڑ دیا گیا۔ کندھے آزاد ہوگئے۔ سائیکل ہی کے پیڈل سے مشین کے پیڈل کا کام بھی لیا جانے لگا۔ مگر اب ہوتا یہ تھا کہ جب تک گھر سے نکلو، یہ ہنرمند اپنی سائیکل چلاتے ہوئے کہیں اور نکل چکا ہوتا۔ دُور کسی اور گلی سے، بلکہ ’کسی اور کی‘ گلی سے اُس کی سُریلی صدا آرہی ہوتی:
’’چھری، چاقو، قینچی تیز کرا لو!‘‘
کُرنڈ کا بنا ہوا وہ گول پتھر جس کے گھومتے سرے پر رکھ کر اوزار و ہتھیارکی کُند دھار تیز کی جاتی ہے ’’سان‘‘ کہلاتا ہے۔ ’کُرنڈ‘ ایک خاص قسم کا معدنی پتھر ہوتا ہے۔ انتہائی سخت۔ مگر دیکھنے میں یوں لگتا ہے جیسے جمی ہوئی بھربھری ریت سے بنایا گیا ہے۔ ’سان‘ کے علاوہ اس پتھر کو ’سنگِ صیقل‘ اور ’فَساں‘ بھی کہتے ہیں۔ اقبالؔ کا یہ مشہور مصرع تو آپ کو یاد ہی ہوگا،
’’خودی ہے تیغ، فَساں لا الٰہ الا اللہ‘‘
یعنی خودی تلوار ہے اور ’لاالٰہ الااللہ‘ اس تلوار کی دھار تیز کرنے والی ’سان‘ ہے۔ جو لوگ اقبالؔ کے اس مصرعے کو پڑھتے ہوئے ’’تیغے فِساں‘‘ پڑھتے ہیں، وہ ’فَساں‘ کا تلفظ ہی نہیں بگاڑتے، اس مصرعے کا مفہوم بھی غارت کردیتے ہیں۔
پہلوانِ سخن شیخ امام بخش ناسخؔ، اِس گھومتے پتھر کو نہیں بلکہ اپنے محبوب کی گردش کرتی ہوئی آنکھوں کو، ’’سان‘‘ کہتے سنائی دیتے ہیں:
تیز ہر دم کرتی ہے تیغِ نگاہِ یار کو
چشم کی گردش ہوئی ہے سان اِس تلوار کو
سان چڑھانا، سان پر چڑھانا، سان رکھنا، سان پر رکھنا، سان دھرنا اور سان لگانا سمیت اُردو کے کئی محاوروں کو سان لگی ہوئی ہے۔ ان سب کا لفظی مطلب ایک ہی ہے: کسی اوزار کی دھار کو تیز کرنا یعنی ’سان‘ نامی پتھر پر رگڑ کر اوزار کی کاٹنے کی صلاحیت کو بڑھانا، چمکانا اور کاٹ کو تیز کرنا۔ مگر ’سان پر چڑھانا‘ کے مجازی معنوں میں کسی کی صلاحیتوں کو جلا بخشنا بھی لیا جاتا ہے اور کسی غریب کو ’رگڑا دینا‘ بھی، مثلاً:
’’بدھو میاں کے نکھٹو پن اور کاہلی کا یہ علاج کیا گیا کہ اُن کی شادی کرکے اُن کو سان پر چڑھا دیا گیا‘‘۔
’سان پر رکھنا‘ کے معنی ’باڑھ پر رکھنا‘ یا ’باڑھ دینا‘ بھی بتائے جاتے ہیں۔ ’باڑھ‘ دراصل دھار کو کہا جاتا ہے۔ امیرؔ مینائی کہتے ہیں:
مشکل آساں نہ ہوئی تیرے گنہگاروں کی
حیف منہ موڑ گئی باڑھ بھی تلواروں کی
مگر ’باڑھ‘ کے اور بھی کئی معانی ہیں۔ ندی یا دریا وغیرہ کا چڑھ جانا۔ طغیانی۔ حد یا کنارہ۔ کھیت وغیرہ کے احاطے کی کانٹوں یا کسی خاص پودے کی جھاڑیوں سے جو حد بندی کرتے ہیں اُسے بھی ’باڑھ‘ کہتے ہیں اور حد بندی کے عمل کو ’باڑھ باندھنا‘۔ بڑھوتری، بالیدگی، نمو اور اضافے کو بھی ’باڑھ‘ کہا جاتا ہے۔ ’باڑھ پر آنا‘ نشانے پر یا زَد پر آنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ کئی بندوقوں سے ایک ساتھ ’فیر‘ کرنے کو باڑھ مارنا کہتے ہیں۔ اُردو میں اب تو ’فائر کرنا‘ ہی لکھا اور بولا جانے لگا ہے، مگر پہلے ’فیر کرنا‘ لکھتے اور بولتے تھے۔ ظفرؔ کا شعر ہے:
غضب ہے توپ پر عاشق کو رکھ کر
فرنگی زاد تیرا فیر کرنا
’فساں‘ کے معنی تو سنگِ صیقل کے ہیں، یعنی وہ پتھر جس پر رگڑ کر چھری، چاقو، قینچی تیز کی جاتی ہے، تلوار کو دھار دی جاتی ہے اور چمکایا جاتا ہے۔ مگر نون غنّہ کے ساتھ بولا جانے والا ’ساں‘ اور ہی معنی رکھتا ہے۔ ’ساں‘ کے معنی ہیں: مانند، مثل، طرز اور روش۔ ’بساں‘ یا ’بسان‘ کا مطلب ہوا: ’کی طرح، کی مانند، کے مثل، کی طرز پر یا کی روش کے مطابق‘۔ انشا اللہ خان انشاؔ، بیٹھ کر یا لیٹ کر ٹکر ٹکر دیکھ رہے تھے:
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
مگراُن کا اپنا حال یہ تھا کہ راہ چلتے مسافروں کے پاؤں کے نشانات کی طرح کسی راہ پر سُست یا سُت پڑے ہوئے تھے:
بسانِ نقشِ پائے رہرواں کوئے تمنا میں
نہیں اُٹھنے کی طاقت، کیا کریں؟ لاچار بیٹھے ہیں
آج کے کالم کا سوال ایک سیاسی رہنما کی طرف سے آیا تھا۔ سو، جب ہم انشا اللہ خان انشا کے اس شعر تک پہنچے تو خیال آیا کہ یہ شعر تو نیرنگی ِسیاستِ دوراں کی عکاسی کررہا ہے۔ ارے، یہی حال تو اِس وقت ہماری ملتِ اسلامیہ کے سیاسی رہنماؤں کا ہے۔ اِن بِچاروں میں بھی ’’نہیں اُٹھنے کی طاقت، کیا کریں؟‘‘ کہ جو کتاب اُنھیں اُن کی بیٹھک سے اُٹّھک کرا سکتی ہے، ذلت کی پستیوں سے عزت و عظمت کی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے، اُس کو بس بغل میں دابے، بے بسی سے فرشِ خاک پر گرے یا پڑے ہوئے ہیں۔ بقول پروینؔ شاکر:
ہماری بے جہتی کا کوئی جواز نہیں
یہ دُکھ تو اُن کا ہے جن کی کوئی کتاب نہ ہو
اب مفسدانِ عالَم میں سے جو بھی اُٹھتا ہے وہ باقی دنیا کو چھوڑ کر صرف ان ہی کی طرف لپکتا چلا آتا ہے اور انھیں روند کر چلا جاتا ہے۔ بلکہ ایک بد دماغ روندنے والا تو جاتے جاتے ان کے لیے غلیظ زبان اور نازیبا الفاظ بھی استعمال کرجاتا ہے۔ مگر سب کچھ سننے کے باوجود یہ اپنی اپنی جگہ اور اپنے اپنے کوئے تمنا میں ’’لاچار بیٹھے‘‘ رہتے ہیں۔ غیرت اور حمیت کے ہتھیار کُند ہوچکے ہیں۔ شاید یہ بھی منتظر ہیں کہ کہیں سے کوئی چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا آئے اور آکر انھیں سان پر چڑھائے۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
Https://telegram.me/ilmokitab
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
مگراُن کا اپنا حال یہ تھا کہ راہ چلتے مسافروں کے پاؤں کے نشانات کی طرح کسی راہ پر سُست یا سُت پڑے ہوئے تھے:
بسانِ نقشِ پائے رہرواں کوئے تمنا میں
نہیں اُٹھنے کی طاقت، کیا کریں؟ لاچار بیٹھے ہیں
آج کے کالم کا سوال ایک سیاسی رہنما کی طرف سے آیا تھا۔ سو، جب ہم انشا اللہ خان انشا کے اس شعر تک پہنچے تو خیال آیا کہ یہ شعر تو نیرنگی ِسیاستِ دوراں کی عکاسی کررہا ہے۔ ارے، یہی حال تو اِس وقت ہماری ملتِ اسلامیہ کے سیاسی رہنماؤں کا ہے۔ اِن بِچاروں میں بھی ’’نہیں اُٹھنے کی طاقت، کیا کریں؟‘‘ کہ جو کتاب اُنھیں اُن کی بیٹھک سے اُٹّھک کرا سکتی ہے، ذلت کی پستیوں سے عزت و عظمت کی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے، اُس کو بس بغل میں دابے، بے بسی سے فرشِ خاک پر گرے یا پڑے ہوئے ہیں۔ بقول پروینؔ شاکر:
ہماری بے جہتی کا کوئی جواز نہیں
یہ دُکھ تو اُن کا ہے جن کی کوئی کتاب نہ ہو
اب مفسدانِ عالَم میں سے جو بھی اُٹھتا ہے وہ باقی دنیا کو چھوڑ کر صرف ان ہی کی طرف لپکتا چلا آتا ہے اور انھیں روند کر چلا جاتا ہے۔ بلکہ ایک بد دماغ روندنے والا تو جاتے جاتے ان کے لیے غلیظ زبان اور نازیبا الفاظ بھی استعمال کرجاتا ہے۔ مگر سب کچھ سننے کے باوجود یہ اپنی اپنی جگہ اور اپنے اپنے کوئے تمنا میں ’’لاچار بیٹھے‘‘ رہتے ہیں۔ غیرت اور حمیت کے ہتھیار کُند ہوچکے ہیں۔ شاید یہ بھی منتظر ہیں کہ کہیں سے کوئی چھری، چاقو، قینچی تیز کرنے والا آئے اور آکر انھیں سان پر چڑھائے۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
*حاصل مطالعہ: ٦*
*صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے زیادہ دین کو جاننے والا کون؟*
لیکن جہاں تک دین کا تعلق ہے، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، تابعین رحمہم اللہ اور تبع تابعین رحمہم اللہ دین کو سب سے زیادہ جاننے والے، دین کو خوب سمجھنے والے اور دین پر عمل کرنے والے تھے۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ان سے زیادہ دین کو جانتا ہوں،یا ان سے زیادہ دین کا ذوق رکھتا ہوں، یا ان سے زیادہ عبادت گزار ہوں تو حقیقت میں وہ شخص پاگل ہے، وہ دین کی فہم نہیں رکھتا۔
*(مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب)*
*اصلاحی خطبات*
*جلد اول، صفحہ (٥١)*
*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
*صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے زیادہ دین کو جاننے والا کون؟*
لیکن جہاں تک دین کا تعلق ہے، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، تابعین رحمہم اللہ اور تبع تابعین رحمہم اللہ دین کو سب سے زیادہ جاننے والے، دین کو خوب سمجھنے والے اور دین پر عمل کرنے والے تھے۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ان سے زیادہ دین کو جانتا ہوں،یا ان سے زیادہ دین کا ذوق رکھتا ہوں، یا ان سے زیادہ عبادت گزار ہوں تو حقیقت میں وہ شخص پاگل ہے، وہ دین کی فہم نہیں رکھتا۔
*(مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب)*
*اصلاحی خطبات*
*جلد اول، صفحہ (٥١)*
*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
❤2
*وفیات مورخہ: 10/مئی*
2020ء اطہر شاہ خان جیدی۔ شاعر، ڈرامہ نویس
1938ء اکبرشاہ خاں نجیب آبادی۔ مورخ
2010ء آصف علی۔ مجاہد آزادی، سیاست دان
1973ء تاج محمد تاج کنجاہی، بابو۔ ،
2025ء خرم ذکی۔
1918ء سید احمد دہلوی۔ منشی، مصنف فرہنگ آصفیہ
1919ء طالب علی (لاتور، مہاراشٹر)۔ مولانا
2002ء عبدالطیف اعظمی۔ ادیب
2012ء علی محمد تاجی قوال۔ ،
2012ء علیم عثمانی۔
2002ء کیفی اعظمی (سید اطہر حسین رضوی)۔ شاعر
1974ء محمد علی۔
2001ء محمود ریاض۔ وزیر خارجہ مصر
1936ء مختار احمد انصاری۔ ڈاکٹر ، بانی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی
1937ء مصطفی صادق الرافعی۔ عربی ادیب
ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
Https://telegram.me/ilmokitab
2020ء اطہر شاہ خان جیدی۔ شاعر، ڈرامہ نویس
1938ء اکبرشاہ خاں نجیب آبادی۔ مورخ
2010ء آصف علی۔ مجاہد آزادی، سیاست دان
1973ء تاج محمد تاج کنجاہی، بابو۔ ،
2025ء خرم ذکی۔
1918ء سید احمد دہلوی۔ منشی، مصنف فرہنگ آصفیہ
1919ء طالب علی (لاتور، مہاراشٹر)۔ مولانا
2002ء عبدالطیف اعظمی۔ ادیب
2012ء علی محمد تاجی قوال۔ ،
2012ء علیم عثمانی۔
2002ء کیفی اعظمی (سید اطہر حسین رضوی)۔ شاعر
1974ء محمد علی۔
2001ء محمود ریاض۔ وزیر خارجہ مصر
1936ء مختار احمد انصاری۔ ڈاکٹر ، بانی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی
1937ء مصطفی صادق الرافعی۔ عربی ادیب
ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
مولانا اکبر شاہ خاں نجیب آبادی(وفیات برہان)
ہماری مرثیہ خوانی ناتمام رہے گی اگراس موقع پر ہم نے ایک اورذات گرامی یعنی مولانا اکبر شاہ خاں نجیب آبادی کا ذکر نہ کیا۔مولانا ہندوستان کے مشہور مورخ تھے لیکن جدید طرز کے نہیں بلکہ قدیم طرز کے، وہ راسخ و مضبوط اسلامی عقیدت کی رہنمائی میں تاریخ کی قابل قدر خدمات انجام دینی چاہتے تھے۔ اُن کی تصنیفات ’آئینہ حقیقت نما‘، ’تاریخ اسلام‘، ’مقدمہ تاریخ ہند‘، ’نظامِ سلطنت‘،’حجۃ الاسلام‘،’فصل الخطاب‘ اور’معیار العلماء‘ وغیرہ یہ سب اُن کے مذہبی جوش و دینی عقیدت کی شاہد عدل ہیں۔مرحوم نہایت فقیرانہ زندگی بسرکرتے تھے۔ ان کا اثاثہ بیت صرف ایک عظیم الشان کتب خانہ تھا جس میں فارسی کی زیادہ اورعربی کی کم، تاریخ کی نادر قلمی کتابیںموجود ہیں۔ مرحوم انتہا درجہ کے خوددار اورغیور تھے، انھوں نے اپنی تمام عمر انتہائی افلاس وعسرت کے ساتھ ایک گوشہ گمنام میں گزاری اورکبھی گوارا نہ کیا کہ ارباب ثروت کے آستانہائے عظمت و غرور پر جبہ سائی کرکے علم کی متاع لازوال کو رسوا و ذلیل کریں حالانکہ اگر وہ چاہتے توامارت و ریاست کی دکان پر اپنے مذہبی تقدس اورعلم کی فاتحہ پڑھنے والوں کی طرح ہزاروں روپے ماہوار کماسکتے تھے۔آں مرحوم ہوبہو اسلامی اخلاق کامجسمہ تھے، نہایت متواضع، حلیم و بردبار، صاف باطن، مروت کیش، بزرگوں کاادب اورچھوٹوں پرشفقت کرنے والے۔
اپنے والدین کے اس درجہ اطاعت گزار اورفرمانبردار تھے کہ اس قدر علم و فضل کے باوجود اپنے تئیں والدین کاادنیٰ سے ادنیٰ خادم تصور کرتے تھے،عربی میں عُمَلَّس والدین کی اطاعت میںضرب المثل ہے ۔کہاجاتا ہے ھواَبَرُّ من عُمَلَّسْ۔ ہماری رائے میں اگر عُمَلَّسْ کی بجائے مولانا کانام رکھ دیاجائے تو بالکل بجا درست ہے۔
افسوس ہے کہ نوماہ کی طویل علالت کے بعد ہماری بزمِ علم وفضل کایہ لعل شب چراغ بھی ۱۰/مئی ۱۹۳۸ء کوقیامت تک کے لیے گُل ہوگیا۔امطراللہ علیہ شاَبیب الرحمۃ والغفران واسکنہ فی فرادیس الجنان۔ [جولائی ۱۹۳۸ء]
ہماری مرثیہ خوانی ناتمام رہے گی اگراس موقع پر ہم نے ایک اورذات گرامی یعنی مولانا اکبر شاہ خاں نجیب آبادی کا ذکر نہ کیا۔مولانا ہندوستان کے مشہور مورخ تھے لیکن جدید طرز کے نہیں بلکہ قدیم طرز کے، وہ راسخ و مضبوط اسلامی عقیدت کی رہنمائی میں تاریخ کی قابل قدر خدمات انجام دینی چاہتے تھے۔ اُن کی تصنیفات ’آئینہ حقیقت نما‘، ’تاریخ اسلام‘، ’مقدمہ تاریخ ہند‘، ’نظامِ سلطنت‘،’حجۃ الاسلام‘،’فصل الخطاب‘ اور’معیار العلماء‘ وغیرہ یہ سب اُن کے مذہبی جوش و دینی عقیدت کی شاہد عدل ہیں۔مرحوم نہایت فقیرانہ زندگی بسرکرتے تھے۔ ان کا اثاثہ بیت صرف ایک عظیم الشان کتب خانہ تھا جس میں فارسی کی زیادہ اورعربی کی کم، تاریخ کی نادر قلمی کتابیںموجود ہیں۔ مرحوم انتہا درجہ کے خوددار اورغیور تھے، انھوں نے اپنی تمام عمر انتہائی افلاس وعسرت کے ساتھ ایک گوشہ گمنام میں گزاری اورکبھی گوارا نہ کیا کہ ارباب ثروت کے آستانہائے عظمت و غرور پر جبہ سائی کرکے علم کی متاع لازوال کو رسوا و ذلیل کریں حالانکہ اگر وہ چاہتے توامارت و ریاست کی دکان پر اپنے مذہبی تقدس اورعلم کی فاتحہ پڑھنے والوں کی طرح ہزاروں روپے ماہوار کماسکتے تھے۔آں مرحوم ہوبہو اسلامی اخلاق کامجسمہ تھے، نہایت متواضع، حلیم و بردبار، صاف باطن، مروت کیش، بزرگوں کاادب اورچھوٹوں پرشفقت کرنے والے۔
اپنے والدین کے اس درجہ اطاعت گزار اورفرمانبردار تھے کہ اس قدر علم و فضل کے باوجود اپنے تئیں والدین کاادنیٰ سے ادنیٰ خادم تصور کرتے تھے،عربی میں عُمَلَّس والدین کی اطاعت میںضرب المثل ہے ۔کہاجاتا ہے ھواَبَرُّ من عُمَلَّسْ۔ ہماری رائے میں اگر عُمَلَّسْ کی بجائے مولانا کانام رکھ دیاجائے تو بالکل بجا درست ہے۔
افسوس ہے کہ نوماہ کی طویل علالت کے بعد ہماری بزمِ علم وفضل کایہ لعل شب چراغ بھی ۱۰/مئی ۱۹۳۸ء کوقیامت تک کے لیے گُل ہوگیا۔امطراللہ علیہ شاَبیب الرحمۃ والغفران واسکنہ فی فرادیس الجنان۔ [جولائی ۱۹۳۸ء]