علم و کتاب
7.99K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
آج اردو زبان کے عظیم مورخ مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۱۰/ مئی ۱۹۳۸ ء کو ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے پر پروفیسر محمد ایوب قادری مرحوم کا آپ پر لکھا ہوا خاکہ پیش خدمت ہے۔
لنک علم وکتاب لائبریری
https://archive.org/download/akhbarshahkhan/Akbar%20Shah%20Kahn%20Najib%20Abadi%20By%20Ayyub%20Qadiri.pdf
آہ! ڈاکٹر مختار احمد انصاری مرحوم

حضرت العلامہ مولانا مفتی کفایت اللّٰه صاحب صدر جمعیۃ علمائے ہند کو فخرِ قوم و زعیمِ ملت ڈاکٹر مختار احمد صاحب انصاری مرحوم و مغفور کے حادثۂ ارتحال کی خبر، ایسے وقت ملی، جب کہ حضرت مفتی صاحب خود بسترِ علالت پر سخت تکلیف میں مبتلا تھے۔ ان ذاتی تعلقات کی بنا پر، جو حضرت مفتی صاحب قبلہ کو ڈاکٹر صاحب مرحوم کی ذات بابرکات سے تھے، آپ کی طبیعت پر اس اندوہناک خبر کا نہایت گہرا اثر ہوا اور اپنے صاحبزادے کو بلاکر، حسبِ ذیل پیغامِ تعزیت، اخبارات کے لیے ارشاد فرمایا:

ہر آنکہ زاد بنا چار بایدش نوشید
زجامِ دہر مئے کل من علیہا فان

ڈاکٹر مختار احمد انصاری کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ ہندوستان کا مخلص فدائی، قوم کا سچا شیدائی، آزادی وطن کا جانباز مجاہد، خلقِ خدا کا بے غرض ہمدرد و غم خوار تھا۔ اس کے قومی اور علمی کارنامے آفتاب سے زیادہ روشن ہیں۔ بلقان کے طبی وفد کے سلسلے میں انصاری کی مجاہدانہ اور مخلصانہ سرگرمیاں ہمیشہ صفحۂ عالم پر تاباں و درخشاں نظر آئیں گی۔ "محبّانِ ملک و ملت میں سے "انصاری" وہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت شیخ الہند قدس سرہ کی آواز: "مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰه" پر والہانہ لبّیک کہی تھی۔ انصاری نے اپنی تمام راحتوں، اپنے تمام جذبات کو صرف آرزوئے آزادی وطن اور جذبۂ حریت پر قربان کردیا تھا۔ اس کا وجود خلقِ خدا کے لیے مجسمہ رحمت اور پیکرِ خلوص تھا۔ وہ اپنے آباؤ اجداد، یعنی انصارِ رسول صلی اللّٰه علیہ وسلم کا سچا جانشین اور نمونہ تھا۔ تحریکِ حریت میں اس کا پُرخلوص ایثار اور باوجود ضعف و امراض کے مصائبِ قید و بند اٹھانا، انصاری کے لیے حیاتِ جاوید کا سرمایہ ہیں۔ سب سے بڑی خوبی انصاری کی پختہ کاری اور اولوالعزمی تھی، وہ جیسا اپنے دوستوں کا مخلص دوست تھا، ویسا ہی بے بس غریبوں کا مخلص ہمدرد اور مددگار تھا۔ اس کی علم دوستی، فیاضی، مکارم اخلاق اور ماہرانہ رائے نے اسے اکابرِ ملت کی صفِ اوّل میں کھڑا کردیا تھا۔ اس کی محبت عام تھی۔ وہ ہر ایک سے محبت کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی وفات سے ہندوستان کا ایک کامل الفن معالج، تشریح کا علمی و عملی ماہر، اخلاق و شرافت کا مجسمہ اور آزادیءِ وطن کا عاشق، ملت کا مستقل مزاج قائد، قوم کا مخلص ہمدرد و غم خوار، قومی مجلس کا صادق و وفادار خادم اور اہلِ علم کا قدر شناس جاتا رہا اور مستقبل قریب میں اس کے مثیل و قائم مقام کے پیدا ہونے کی امید بھی نہیں۔ میں درد بھرے دل سے محترمہ بیگم انصاری اور حضرت مولانا حکیم حافظ عبدالوھاب صاحب انصاری اور دیگر ارکانِ خاندان کی خدمت میں مخلصانہ تعزیت اور ہمدردی پیش کرتے ہوئے جناب باری سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کی قبر کو نورِ و رحمت و مغفرت سے بھر دے اور قوم کو آزادیءِ وطن کی راہ میں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

محمد کفایت اللّٰه

(سہ روزہ: الجمعۃ، دھلی، یوم شنبہ، ۲۴ صفر المظفر ۱۳۵۵ھ مطابق ١٦ مئی ١٩٣٦ء - صفحہ: ۴/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
*انقلاب 1857ء اور بجنور گزیٹیر1908ء :ایک مطالعہ*

انگریزی متن : Henry Rivers Nevill
ترجمہ وحواشی : مولانا برہان الدین صاحب برہان قاسمی بجنوری
تعداد صفحات: 132
تعارف نگار: محمد رضی قاسمی

برصغیر کی تاریخ میں انقلاب 1857ء ہمہ گیر اہمیت کا حامل ایک اہم واقعہ ہے، جس نے متحدہ ہندوستان پر سیاسی، مذہبی، تعلیمی، اقتصادی ہر لحاظ سے اپنے نقوش واثرات چھوڑے، ہندوستان کے مشہور ضلع "بجنور" کا بھی اس تحریک انقلاب میں نمایاں حصہ رہا ہے۔ اس سلسلے میں سرسید احمد خاں کی "سرکشئ بجنور" کے علاوہ "بجنور گزیٹیر1908ء" ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔
زیرِ نظر كتاب "بجنور گزیٹیر" كے پانچویں باب ’’ تاریخ ‘‘ كے ایک عنوان The mutiny (بغاوت) كا ترجمہ اور مترجم موصوف كی طرف سے اس پر مفید وبصیرت افروز حواشی ہیں۔
کتاب کا تعارف درج ذیل ہے:
كتاب كے دوسرے صفحے پر كتاب كی تفصیلات ہیں اور تیسرے صفحے سے دسویں صفحے تک حواشی كی فہرست اور دسویں صفحے پر متن كی فہرست ہے ‏، ص: 13‏، 14 پر برصغیركے مشہور محقق : حضرت مولانا نورالحسن راشد كاندھلوی مدظلہ كا ’’اظہارِ خیال‘‘ ہے ‏، اس میں انہوں نے 1857ء كی جنگ كی اہمیت‏، ضلع بجنور كی اس میں شركت ‏، سید احمد خاں كی كتا ب ’’سركشئ ضلع بجنور‘‘ كا ذكر اور مترجم ومحشی مولانا برہان الدین بجنوری كی محنت اور كتاب میں ان كے نہج كو بیان كركے ان كی محنت كی داد ‏، مباركباد اور ان كے روشن مستقبل كے لیے نیک خواہشات كا اظہار كیا ہے۔
ص: 15 سے مترجم موصوف كا "مقدمہ" شروع ہوتا ہے‏، اس كا پہلا عنوان ہے : ’’انقلاب 1857ء اور ضلع بجنور‘‘۔ اس عنوان كے تحت مترجم موصوف نے ضلع بجنور میں آغازِ انقلاب اور اس كی نوعیت كا تذكرہ كیا ہے اور پھر اس تحریک كے خاتمے تک جو واقعات پیش آئے ہیں، انہیں سرسید كی "سركشئ بجنور" سے نقل كیا ہے‏، نقل كرنے كا مقصد بہ قول مترجم ’’تاكہ گزیٹیر كے انتہائی مختصر متن كو سمجھنے میں مدد مل سكے‘‘۔ یہ 24 مختصر واقعات ہیں جو ص: 15 سے ص: 21 تک پھیلے ہوئے ہیں‏۔
پھر ص: 21 پر ایک سوالیہ عنوان ہے : ’’بجنور نے انقلاب میں حصہ كیوں لیا؟‘‘۔ اس سوال كے جواب میں دو صفحات میں دو وجہیں بیان كی گئی ہیں:
(1) اہلِ بجنور كی اپنے مذہب كے بارے میں حساسیت اور اسی وجہ سے انگریزوں كی مذہب بیزار سرگرمیوں كی بنا پر ان سے نفرت۔
(2) ضلع بجنور كے سب سے بااثر وباعظمت خانوادہ نواب نجیب الدولہ (جس كی سربراہی اس وقت نواب محمود خاں كررہے تھے) كے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر سے گہرے روابط اور وفادارانہ تعلق، جس كا نتیجہ انگریز كے خلاف كھڑا ہونا اور نواب صاحب كی آواز پر پورے ضلع كا گوش بر آواز ہوجانا۔
ص: 22 پر عنوان ہے: ’’انقلاب 1857ء كی تاریخ میں بجنور كی اہمیت كے اسباب ‘‘۔ اس عنوان كے تحت مترجم موصوف نے ’’گزیٹیر‘‘ اور "سرکشی" كے بیانات كی روشنی میں تین اسباب ذكر كیے ہیں۔
صفحہ 24 پر ایک عنوان ہے ’’ضلع بجنور كی تاریخ ِ انقلاب 1857ء كے مآخذ ‘‘۔ اس عنوان كے تحت مترجم ِ موصوف نے تین بنیادی مآخذ كا تذكرہ كیاہے۔
اسی صفحہ پر عنوان ہے : ’’گزیٹیر كیا ہے؟‘‘۔ اس كے تحت برطانوی حکومت کے شروع كردہ گزیٹیر کے نظام كا تعارف، اس كا پس ِ منظر اور اس كے مندرجات، ابواب ومشمولات كو بیان كیا ہے، پھر بجنور گزیٹیر كا تذ كرہ كیا گیا ہے‏، اور پھر مترجم ِ موصوف نے اس كے ایک باب كے ذیلی عنوان كا ترجمہ اور اس پر اپنے كام كا ذكر كیا ہے ‏۔
ص: 30 سے ص: 96 تک گزیٹیر كے متن كا ترجمہ اور اس پر جگہ جگہ مترجم كے حواشی ہیں، ص:97 سے 112 تک اصل انگریزی متن ہے اور دو صفحات میں 20 مآخذ ومراجع ہیں جن سے حواشی لكھنے میں استفادہ كیا گیا ہے، ص:115 سے 131 تک حروف تہجی كے اعتبار سے اشاریہ ہے، جس كو مولانا ثاقب عزیر بجنوری زید مجدہ نے ترتیب دیا ہے۔
اشاریہ صفحات نمبر کے لحاظ سے نہیں؛ بلکہ حاشیہ نمبر کے لحاظ سے مرتب کیا گیا ہے؛ (اس لیے اشاریے سے استفادے کے لیے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی نام کے سامنے لکھے نمبر کو حاشیہ نمبر سمجھا جائے نہ کہ صفحہ نمبر، حواشی کی فہرست بھی حاشیہ نمبر کے لحاظ سے مرتب کی گئی ہے؛ جب کہ اردو متن کی فہرست میں صفحہ نمبر کی رعایت کی گئی ہے، یہ ایک جدید طرز ہے؛ اس لیے بہت سے قارئین فہرست اور اشاریے میں حاشیہ نمبر کو صفحہ نمبر خیال کر سکتے ہیں؛ اسی لیے اس وضاحت کو فہرست اور اشاریے سے استفادے کے لیے پیش نظر رکھا جائے۔)
*ترجمہ :*
ترجمہ نہایت شستہ، سلیس اور بامحاورہ ہے، جس میں اصل متن کی روح کارفرما ہے، پڑھتے وقت اصل تصنیف معلوم ہوتی ہے، "ترجمہ پن" محسوس نہیں ہوتا اور یہی عمدہ ترجمہ کی پہچان ہے۔
❤1
*حواشی:*
كتاب پر مترجم كے تحریر كردہ حواشی بہت اہم، قیمتی ‏، سنجیدہ ‏، اور محشی کے طویل وعمیق مطالعہ كا نچوڑ ہیں اور ان سے محشی كی اس موضوع سے دلچسپی ‏، باریک بینی ‏، وسعتِ نظری، نقد وتبصرہ اور استنتاج واستخراج كی صلاحیت آشكارا ہوتی ہے‏۔
*حواشی میں کیا ہے؟*
اس كے جواب میں خود صاحبِ حواشی نے لكھاہے :"گزیٹیر" كے متن پر جو حواشی تحریر كیے گئے ہیں، ان میں بعض حواشی اجمال كی تفصیل كے لیے ہیں اور بعض ’’گزیٹیر‘‘ كے بیانات پر نقد كے لیے قائم كیے گیے ہیں، بعض مقامات پر ’’سركشئ ضلع بجنور‘‘ اور ’’گزیٹیر‘‘ كے اندراجات میں اختلاف پایا جاتا ہے، ایسے مواقع پر حاشیے میں توجہ دلاكر كسی ایك كو دلائل یا قرائن كی روشنی میں ترجیح دی گئی ہے۔ اگر ’’گزیٹیر‘‘ یا ’’سركشی‘‘ كے كسی اندراج میں كوئی فروگزاشت سامنے آئی، تو اس پر بھی گرفت كی گئی ہے"۔ (ص: ۲۹)
مزید برآں متن میں آنے والی شخصیات ومقامات كا نپے تلے انداز میں تعارف بھی كرایا گیا ہے، كہیں انگریزوں كے طرزِ عمل پر تنقید بھی كی گئی ہے، كہیں تاریخ نگار حضرات كے لیے مفید مشورے ہیں اور كہیں موقع كی مناسبت سے اہلِ ہند كو نصیحت وہدایات بھی ہیں‏، ایک سے زائد جگہ سرسید كی ’’سركشئ بجنور‘‘ (جس سے حواشی میں سب سے زیادہ مدد لی گئی ہے ) پر نقد وتبصرہ بھی ہے۔ سرسید کے ساتھ الطاف حسین حالی، ایچ آر نیول، پروفیسر ایوب قادری پر بھی مدلل نقد کیا گیا ہے۔
حواشی علمی اور تاریخی ہیں، لیكن اس كے باوجود زبان میں خشكی اور خشونت نہیں ہے ‏، بلكہ سلاست اور سادگی كے ساتھ ادبی چاشنی لیے ہوئے ہیں۔
محترم مترجم وحاشیہ نگار نے اس کتاب میں رموز واوقاف اور صحتِ املا کا بھر پور خیال رکھا ہے اور بیشتر اردو الفاظ پر اعراب بھی لگائے ہیں (جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف قاری سے، زیادہ خوش گمان نہیں ہیں 😄)
نیز كتاب ظاہری طباعت‏، عمدہ كاغذ اور معنی خیز ٹائٹل كے لحاظ سے بھی قابلِ دید ہے۔
یہ کتاب اپنے موضوع، اسلوب ِتحقیق، ترجمہ اور گراں قدر حواشی کے لحاظ سے ایک معیاری، علمی کاوش ہے، بنابریں راقم الحروف كا احساس یہ ہے كہ ہندوستان كی جنگِ آزادی، بہ طورِ خاص ضلع بجنور كی اس میں شركت كے حوالے سے جو شخص بھی آئندہ كام كرے گا، وہ اس مفید كتاب سے بے نیاز نہیں ہوسكتا۔
محترم حاشیہ نگار نے اپنے ایک حاشیہ میں ایک خوش کن اطلاع یہ بھی دی ہے کہ وہ تین ضخیم جلدوں کے بہ قدر "علماء بجنور" پر مواد فراہم کرچکے ہیں، جو ابھی طباعت نا آشنا ہے، موصوف مترجم کے علمی ذوق اور اپنے کام کے متعلق سنجیدگی اور لگن کے پیش نظر امید ہے کہ یہ کام بھی معیاری ہوگا اور علمی حلقوں میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔ (ان شاء اللہ)

نوٹ: كتاب كا پہلا ایڈیشن انقلاب 1857ء سے دلچسپی ركھنے، اور اس موضوع پر تحقیق کرنے والے اہلِ علم و قلم كے لیے ہی طبع كرایا گیا تھا، آئندہ اگر اہلِ علم اور صاحبِ ذوق حضرات دلچسپی لیں‏، تو اس مفید كتاب كا عمومی ایڈیشن شائع كیا جائے گا۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ‌‏)
ایڈوانس بكنگ كے لیے خواہشمند حضرات اس نمبر پر رابطہ كرسكتے ہیں:

مولانا ثاقب عزیر بجنوری:
+91 99177 21792




محمد رضی قاسمی
مئی 2026ء
*حواشی:*
كتاب پر مترجم كے تحریر كردہ حواشی بہت اہم، قیمتی ‏، سنجیدہ ‏، اور محشی کے طویل وعمیق مطالعہ كا نچوڑ ہیں اور ان سے محشی كی اس موضوع سے دلچسپی ‏، باریک بینی ‏، وسعتِ نظری، نقد وتبصرہ اور استنتاج واستخراج كی صلاحیت آشكارا ہوتی ہے‏۔
*حواشی میں کیا ہے؟*
اس كے جواب میں خود صاحبِ حواشی نے لكھاہے :"گزیٹیر" كے متن پر جو حواشی تحریر كیے گئے ہیں، ان میں بعض حواشی اجمال كی تفصیل كے لیے ہیں اور بعض ’’گزیٹیر‘‘ كے بیانات پر نقد كے لیے قائم كیے گیے ہیں، بعض مقامات پر ’’سركشئ ضلع بجنور‘‘ اور ’’گزیٹیر‘‘ كے اندراجات میں اختلاف پایا جاتا ہے، ایسے مواقع پر حاشیے میں توجہ دلاكر كسی ایك كو دلائل یا قرائن كی روشنی میں ترجیح دی گئی ہے۔ اگر ’’گزیٹیر‘‘ یا ’’سركشی‘‘ كے كسی اندراج میں كوئی فروگزاشت سامنے آئی، تو اس پر بھی گرفت كی گئی ہے"۔ (ص: ۲۹)
مزید برآں متن میں آنے والی شخصیات ومقامات كا نپے تلے انداز میں تعارف بھی كرایا گیا ہے، كہیں انگریزوں كے طرزِ عمل پر تنقید بھی كی گئی ہے، كہیں تاریخ نگار حضرات كے لیے مفید مشورے ہیں اور كہیں موقع كی مناسبت سے اہلِ ہند كو نصیحت وہدایات بھی ہیں‏، ایک سے زائد جگہ سرسید كی ’’سركشئ بجنور‘‘ (جس سے حواشی میں سب سے زیادہ مدد لی گئی ہے ) پر نقد وتبصرہ بھی ہے۔ سرسید کے ساتھ الطاف حسین حالی، ایچ آر نیول، پروفیسر ایوب قادری پر بھی مدلل نقد کیا گیا ہے۔
حواشی علمی اور تاریخی ہیں، لیكن اس كے باوجود زبان میں خشكی اور خشونت نہیں ہے ‏، بلكہ سلاست اور سادگی كے ساتھ ادبی چاشنی لیے ہوئے ہیں۔
محترم مترجم وحاشیہ نگار نے اس کتاب میں رموز واوقاف اور صحتِ املا کا بھر پور خیال رکھا ہے اور بیشتر اردو الفاظ پر اعراب بھی لگائے ہیں (جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف قاری سے، زیادہ خوش گمان نہیں ہیں 😄)
نیز كتاب ظاہری طباعت‏، عمدہ كاغذ اور معنی خیز ٹائٹل كے لحاظ سے بھی قابلِ دید ہے۔
یہ کتاب اپنے موضوع، اسلوب ِتحقیق، ترجمہ اور گراں قدر حواشی کے لحاظ سے ایک معیاری، علمی کاوش ہے، بنابریں راقم الحروف كا احساس یہ ہے كہ ہندوستان كی جنگِ آزادی، بہ طورِ خاص ضلع بجنور كی اس میں شركت كے حوالے سے جو شخص بھی آئندہ كام كرے گا، وہ اس مفید كتاب سے بے نیاز نہیں ہوسكتا۔
محترم حاشیہ نگار نے اپنے ایک حاشیہ میں ایک خوش کن اطلاع یہ بھی دی ہے کہ وہ تین ضخیم جلدوں کے بہ قدر "علماء بجنور" پر مواد فراہم کرچکے ہیں، جو ابھی طباعت نا آشنا ہے، موصوف مترجم کے علمی ذوق اور اپنے کام کے متعلق سنجیدگی اور لگن کے پیش نظر امید ہے کہ یہ کام بھی معیاری ہوگا اور علمی حلقوں میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔ (ان شاء اللہ)

نوٹ: كتاب كا پہلا ایڈیشن انقلاب 1857ء سے دلچسپی ركھنے، اور اس موضوع پر تحقیق کرنے والے اہلِ علم و قلم كے لیے ہی طبع كرایا گیا تھا، آئندہ اگر اہلِ علم اور صاحبِ ذوق حضرات دلچسپی لیں‏، تو اس مفید كتاب كا عمومی ایڈیشن شائع كیا جائے گا۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ‌‏)
ایڈوانس بكنگ كے لیے خواہشمند حضرات اس نمبر پر رابطہ كرسكتے ہیں:

مولانا ثاقب عزیر بجنوری:
+91 99177 21792




محمد رضی قاسمی
10مئی 2026ء
*سلامٌ علٰی إبراهیم*

✍🏻... محمد عمیر الصدیق دریابادی،ندوی

حج کا موسم تو شوال کا چاند نکلتے ہی شروع ہوگیا تھا، اب وہ دن بھی دور نہیں جب ”آہوان کعبۂ “حرم کے ارد گرد، بے خودی کے عالم میں کبھی ”صفا مروہ“ کی رہگزر پر اور کبھی ”منٰی“ کی وادی میں ، اور کبھی ”عرفات“ کے میدان میں ہوں گے، مناسک اپنی ترتیب سے سامنے آتے جائیں گے، ارکان پورے ہوتے جائیں گے، طواف کے چکر، گردش زمانہ کی ہر گتھی حل کرتے جائیں گے،یہ سب ہوگا تو اس لیے کہ ہر ایمان والے،ہر اسلام والے، ہر کلمہ گو کے لیے اور ہر اس شخص کے لیے جو اللہ پر یقین اور اس کے گھر کی تعظیم کی دولت لیے ہوئے ہو، یہ عمل مذہب ہی نہیں ؛ بلکہ انسانیت کی تاریخ کو محسوس کرنے کا عمل ہے۔

حج کی عبادت ظاہر ہے تمام عبادتوں کی طرح اللہ ہی کے لیے ہے: {وأتموا الحج و العمرة الله} یہ بھی سچائی ہے کہ حج کی عبادت، روزانہ والی نہیں ، مہینوں والی نہیں، سال والی نہیں، یہ تو پوری زندگی میں ایک بار کی فرضیت لیے اپنی اہمیت اور اپنی انفرادیت کو خود ہی بیان کرنے والی عبادت ہے۔ یہ انفرادیت آئی کہاں سے؟ اہلِ نظر؛ بل کہ اہل دل کہتے ہیں کہ: حج کا بڑا اور بنیادی مقصد کیا ہے؟ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے، کوئی عبادت برائیوں سے روکنے کی خصوصیت رکھتی ہے، کوئی نفس کی غلامی سے نکالنے والی ہے، کوئی انسانوں کی غم گساری ، خصوصا زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے، یہ مقاصد بالکل واضح ہیں ؛لیکن حج کا بنیادی مقصد، اہل نظر کی نظر میں یہ ہے کہ ”انسانی تاریخ کے ایسے موڑ پر جب وہ شرک و کفر کی عالم گیر گرفت کی فضا میں تھی اپنے رخ کو زمانہ کے دھاروں سے موڑ کر صرف ایک معبود کی جانب متوجہ کرنے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس طرح یاد کیا جائے کہ ان سے تعلق کی تجدید ہوجائے ، ان کی جماعت میں شامل ہو کر ملة أبيكم إبراهيم کی خلعت سے سرفراز ہوا جائے۔ “
حج کے عمل کے ذریعہ اس ذات والا صفات کو قلب و ذہن میں اتارا جائے جس نے اپنی ساری زندگی اپنے خالق کی معرفت اور محبت کے لیے اس طرح وقف کر دی کہ پھر اس خالق کے وجود میں کسی اور کے شریک ہونے کے تصور کا بھی امکان نہیں رہاـ
وما أنا من المشرکین (میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں) ، یہ نعرہ اپنی معنویت کے ساتھ ماننے والوں میں قیامت تک زندہ رہنے والا نعرہ بن گیا۔

حج کا ہر مقام یہ احساس اسی لیے دلاتا ہے کہ اے زائرینِ کعبہ ٹہرو! سمجھو کہ تم اپنے باپ کی ایک وراثت کے وارث ہو۔ حج اسی میراث کی حفاظت کا عملی اظہار ہے۔

ہمارے بزرگوں نے لکھا کہ حج کی سب سے نمایاں اور دلکش تصویر بلکہ وہ روح ہے جو عشق و سرمستی اور مٹنے اور قربان ہو جانے کے رنگوں سے روشن ہے۔

دیکھا جائے تو حج کے مناسک اور اس کی اداؤں میں ایک اضطراب ہے، بے چینی ہے، بے قراری ہے، جو اصلاً خلاصہ ہے حضرت ابراہیم کی پوری زندگی کی داستان کا،صنم تراش باپ سے محبت بھی اور صنم تراشی کے پیشہ سے نفرت بھی، اصنام سے گفتگو کی خواہش بھی اور ان کے بے جان، بے مقصد وجود کو پاش پاش کر دینے کی کوشش بھی ، پتھروں کو معبود کا درجہ دینے والوں کی عقل پر اف وتُف بھی ، اور پوری قوم کی نفرت کے شعلوں میں جسم و جاں پر آنچ نہ آنے دینے کی قوت بھی ، گھر، خاندان، عزیز و اقارب، وطن ، سب چھوڑنے کی ہمت بھی ، صرف ایک کی خاطر ہر غیر کو خیر باد کہنے کی جرأت بھی۔ بے آب و گیاہ پہاڑیوں کے ویران سناٹوں میں بیوی بچہ کو تنہا چھوڑ کر دنیا کو تج دینے کاعمل ، اور پھر میں تو اپنے رب کی راہوں کا مسافر ہوں ”إنی ذاهب الی ربی“ کا نعرہ مستانہ، کبر سنی میں اپنے چھوٹے چھوٹے دو بیٹوں کی دوری کو صرف ایک دوست کی خاطر برداشت کرنے کا جذبہ، کبھی چاند تاروں سے باتیں اور مباحثے اور کبھی خوابوں کی باتوں کو حقیقت کی روشنی میں سچ کرنے کا حوصلہ ،اپنے گھر کو بنانے سے بے نیاز ؛لیکن اپنے معبود کے گھر کی تعمیر کے لیے اپنے جسم و جاں کو قربان کر دینے اور مرنے کی تمنا،محبوب حقیقی کی طرف سے آزمائشوں پر آزمائشیں ، صرف دوستی، خلیلیت اور فدائیت کو پرکھنے کے لیے حتی کہ اس بیٹے کی جان کا سودا بھی جس نے خدا کے گھر کی تعمیر میں باپ کے ہاتھ بٹایا ، اب ان ہی ہاتھوں کے ذریعہ جگر گوشہ کو قربان کر دینے کی ناقابل یقین ہمت، زندگی کا ایسا امتحان کہ خود امتحان لینے والا کہہ دے کہ : {إن هذا لهو البلاء المبین} یہ تو بڑی کھلی آزمائش ہوگئی۔

حج واقعی صرف مظہر عبادت نہیں، میراث ابراہیم و اسماعیل ہے، ایسی یادگار، ایسی میراث جس میں مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے الفاظ میں جسم و عقل کی لگام ، دل اور جذبات کے حوالہ کردی جاتی ہے، اور عشاق ومحبین اور ان کے امام و پیشوا ابراہیم خلیل اللہ کی ہر ہر ادا کی نقل کی جاتی ہے۔ جہاں یہ سوچ ہر لمحہ ایک نئی تجدیدی شان سے ابھرتی ہے کہ براہیمی زندگی دراصل اسباب کو ارباب سمجھنے والوں کے خلاف مسبب الاسباب کی حقیقت کا اعلان ہے۔ یہ براہیمی زندگی دنیا کے ایسے ہی بت گروں اور بت پرستوں کے خلاف بغاوت ہے،
جو بتاتی ہے اور آج بھی اعلان کرتی ہے کہ :

آزر کا پیشہ خارا تراشی

کارِ خلیلاں خارا شگافی

حج کا موسم اسی لیے خاص ہے کہ یہ دنیا کے بت کدوں میں خدا کے پہلے گھر کی سالانہ زیارت ہی نہیں دین حنیفی کے قیام کی سالگرہ بھی ہے۔ اس سال گرہ میں دل کی زبان پر جاری نغمے {و ما أنا من المشرکین} اور {لم یک من المشرکین } کے قیامت تک گونجتے رہیں گے۔ حج حقیقتا توحید کی سلطنت میں لا الہ کی حکومت کا اعلان ہے۔

ہمارا دور عرصہ سے اپنے براہیم کی تلاش میں ہے، شاید کوئی حج ایسا بھی آئے جہاں تلاش کا یہ عمل اپنی کامیابی کا بھی اعلان کرے : سلام على إبراهيم، كذلك نجزى المحسنين، إنه من عبادنا المؤمنين ، یہی حج کا ماحصل ہے، یہی حج مبرور کا اشاریہ ہے۔

(پندرہ روزہ تعمیرِ حیات، لکھنؤ،۱۰ مئی ۲۰۲٦ءصفحہ: ۵)
☆☆☆
*وفیات مورخہ: 11/مئی*
1304ء  غازان خان۔  ساتواں ایلخانی حکمران
1758ء  صمصام الدولۃ شاہنواز خان۔  مغل مورخ
1918ء  سید احمد دہلوی۔  منشی، مصنف فرہنگ آصفیہ
1921ء  اختر امرتسری (عبدالرؤف خان)۔   ،
1937ء  پیر مہر علی شاہ۔  روحانی بزرگ
1974ء  مجید امجد (عبد المجيد)۔  شاعر
1980ء  حسن عظیم آبادی (سید حسن خان)۔   ،
1991ء  عالم تاب تشنہ (سید عالم تاب علی)۔   ،
1993ء  سید صبغۃ اللہ بختیاری۔  مولانا ، ناظم باقیات الصالحات ویلور
1998ء  ضیغم حمیدی (محمد ضیغم)۔   ،
1999ء  اقبال احمد ۔  ماہر سیاسیات
2001ء  شاہد کبیر (محمد اسرائیل)۔ 
2002ء  عابد ہ سلطانہ۔  شہزادی  بھوپال
2003ء  مشیر احمد پیش امام۔  بیرسٹر ،
2007ء  آبادی محمد نقوی زائر۔   ،
2010ء  ریاض الحق صدیقی۔   ،
2015ء  سید شاہد حسین۔   ،
2016ء  خندکر عبد اللہ جہانگیر۔  بنگلہ دیشی اسلامی اسکالر
2016ء  مطیع الرحمن نظامی۔  امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش
2019ء  شیخ چاند محمد۔  آسامی سیاست داں
2021ء  محمد شعیب ظہیر۔ 
2022ء  سردار علی حقانی۔ 
2022ء  شیرین ابوعاقلۃ۔  فلسطینی الجزیرۃ رپورٹر
 
HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB
*بات سے بات: مغلیہ دور میں سفر حج*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*

آج ہمارے محترم مفتی محمد ساجد کھجناوری صاحب نے علم وکتاب پر استفسار کیا ہے کہ:
شیخ احمد بن عبدالاحد فاروقی سرہندی رحمہ اللہ کے بارے میں شنید ہے کہ حج نہیں کیا جبکہ ایک روایت شاہ اورنگزیب عالم گیر قدس سرہ کے بارے میں بھی یہی ہے ، درست تحقیق کیا ہے؟
نفس مسئلہ کی تحقیق پر تو ان شاء اللہ ہمارے اہل علم مزید روشنی ڈالیں گے، لیکن اس سے مناسب چند باتوں کا تذکرہ یہاں آجائے تو کیا حرج ہے؟
قسطنطنیہ پر ترکوں کی فتح اور اندلس پر صلیبیوں کے قبضے کے بعد پاپائے روم نے اندلس کو دو سلطنتوں اسپین اور پرتگال پر تقسیم کیا تھا۔
چونکہ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد ترکوں اور ممالیک کے زیر تسلط مصر اور شام کی بندرگاہوں میں یورپی تاجروں سے تجارتی ٹیکسوں کی وصولیابی میں زور زبردستی اور ان میں بے پناہ اضافہ کی وجہ سے یورپ کی ہندوستانی اشیاء مسالہ جات وغیرہ کی تجارت ماند پڑگئی تھی، تو پاپائے روم نے پرتگال کو ذمہ داری دی کہ مسلم ملکوں سے گذرے بغیر ہندوستان سے یورپ کو ملانے والے تجارتی راستے کھوجے جائیں، اور مسلمانوں کی کلیدی بندرگاہوں پر قبضہ کرکے یہاں کی تجارت کو اپنے ماتحت لیا جائے ۔اس کوشش میں اسے تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی اس وقت ملی، جب پرتگالی جہازراں واسکوڈا گاما تلاش ہند کے سفر میں کامیاب ہوا۔ اور کوژیکوڈ کوژیکوڈ (کالیکٹ) ملبار کے ساحل کاپاٹ پر 20 مئی 1498ء کو اپنے بحری بیڑے کے ساتھ لنگر انداز ہوا۔ اس کے بعد مغرب اور یورپ کا تجارتی عروج شروع ہوگیا،جو پانچ سو سال سے تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، مسلم سلطنتوں کے زوال کا یہ نقطہ آغاز ہے۔
اپنے دوسرے سفر ستمبر 1502ء میں واسکوڈا گاما کے بارود اور ہتھیاروں سے لیس بحری بیڑے نے سلطنت وجے نگر کی باجگزار سب سے بڑی بندرگاہ بھٹکل پر حملہ کیا، اوریہاں پرپرتگالیوں کے ساتھ سامراجی تاریخ کا پہلا معاہدہ عمل میں آیا۔ بھٹکل سے نکلتے ہوئے کھلے سمندر میں اس کی نظر مکہ سے آنے والے حاجیوں کے ایک قافلہ پر پڑی ، جس پر اس نے حملہ کردیا، اورجہاز کے عملے سمیت سات سو عازمین حج بیت اللہ کو اس نے قتل کرنے کے بجائے،بے دردی سے آگ سے جلا کر ماردیا، اس خونین واقعہ کی تفصیل پرتگالی مورخ کاسپر کوریا نے ان الفاظ میں بیان کی ہے۔
"جب بیڑا (بھٹکل سے) کنانور کی طرف جا رہا تھا، تو ماؤنٹ ڈیلی تک پہنچنے سے پہلے ایک طوفانی ہوا نے جہاز "لیٹوآ ایسمرالڈا" کو جھٹکا دیا، جس سے اس کا مرکزی مستول ٹوٹ گیا، اس جہاز پر کپتان پيرو افونزو ڈی اگوئلر سوار تھا۔ مستول کے اوپر لگے نیزے جہاز کےعرشے پر گرے، جس سے چار آدمی ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے، اور ایک شخص آٹھ نیزوں سے چھلنی ہو گیا۔ اس وجہ سے، کپتان میجر(واسکوڈا گاما) نے مرابیا کی خلیج میں لنگر ڈالا، کیونکہ اس نے وہاں کئی مسلمانوں کی کشتیاں دیکھیں تاکہ ان سے ایک نیا مستول حاصل کیا جا سکے۔ اس نے خشکی پر بھی مستول تلاش کرنے کے لیے کارندے بھیجے، اور فوری ضرورت پورا کرنے کے لئے مسلمانوں نے اسے ایک مناسب مستول دے دیا۔ کپتان میجر نے اس کی ادائیگی کا حکم دیا، جس کے بعد جہاز کو کئی کاریگروں کی محنت سے چند دنوں میں دوبارہ تیار کر لیا گیا۔
جب وہ اس کام میں مصروف تھے،تو ایک دن صبح سویرے مکہ سے بہت سا سامان لے کر کوژیکوڈ (کالیکٹ) کو آنے والی ایک بڑی کشتی نظر آئی، جو سمندر میں گشت کر رہی تھی، وہ پرتگالی چھوٹے جہاز سے ٹکرا گئی۔ کشتی میں اس کا مالک سوار تھا، جو کوژیکوڈ (کالیکٹ) کا سب سے بڑا تاجر اور امیر ترین شخص تھا، یہ کشتی ماؤنٹ ڈیلی کی طرف جا رہی تھی۔ کیرویلز نے اس کے قریب آ کر اسے کپتان میجر کے پاس لنگر انداز ہونے پر مجبور کیا۔ کپتان میجر کو جب پتہ چلا کہ یہ کشتی کوژیکوڈ (کالیکٹ) کی ہے، تو اس نے لوٹ مار کا حکم دیا۔ عملے نے کشتی کو خالی کرنے میں پورا دن گزارا، یہاں تک کہ کشتی خالی ہو گئی۔ کپتان میجر نے بھی ایک ایک مسلمان کو پکڑ کر ہلاک کرنے سے منع کرکے اس کشتی میں آگ لگانے کا حکم دے دیا۔
❤5
جب کشتی کے کپتان نے یہ دیکھا، تو اس نے کپتان میجر کے سامنے پیش ہونے کی درخواست کی، کیونکہ یہ بہت ضروری تھا۔ کپتان میجر نے اسے بلانے کا حکم دیا۔ جب وہ حاضر ہوا، تو اس نے کہا: "جناب، ہمیں مارنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ہمیں زنجیروں میں جکڑ کر کوژیکوڈ (کالیکٹ) لے چلیں، اور اگر وہاں آپ کے جہازوں کو کالی مرچ اور دواؤں سے بھر نہیں دیا گیا، تو آپ ہمیں جلا سکتے ہیں۔ غور کریں کہ اتنی بڑی دولت کو ہماری جان کے عوض ضائع نہ کریں۔ جنگ میں ہتھیار ڈالنے والوں کو معاف کر دیا جاتا ہے، اور چونکہ ہم نے لڑائی نہیں کی، تو آپ بھی شائستگی کا مظاہرہ کریں۔
کپتان میجر نے جواب دیا: "تمہیں زندہ جلایا جائے گا، کیونکہ تم نے کوژیکوڈ (کالیکٹ) کے بادشاہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پرتگالی ایجنٹ اور لوگوں کو قتل کرے اور لوٹے۔ اور چونکہ تم کوژیکوڈ (کالیکٹ) میں اتنے طاقتور ہو کہ تم ہمارے جہازوں کو مفت میں مال سے بھرنے کا وعدہ کرتے ہو، تو میں کہتا ہوں کہ دنیا کی کسی چیز کے بدلے بھی تمہیں موت سے نہیں بچاؤں گا۔
اس نے مسلمان کو واپس کشتی میں بھیجنے اور اس میں آگ لگانے کا حکم دیا۔ کپتان میجر کے ساتھی کپتانوں نے اسے روکنے کی کوشش کی، کہا کہ اتنی بڑی دولت کو ضائع نہ کیا جائے، کیونکہ مسلماںوں کو مارنے سے کوژیکوڈ (کالیکٹ) پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ کپتان میجر نے جواب دیا: "دوستو، میں تمہاری بات سمجھتا ہوں، لیکن جو دشمن کی دولت کو اس کی موت پر ترجیح دیتے ہیں، وہ اپنی عزت اور زندگی دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بوڑھیاں کہتی ہیں کہ جو اپنے دشمن کو معاف کرتا ہے، وہ اس کے ہاتھوں مرتا ہے۔ اگر تم مسلمانوں کے وعدوں پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے صرف منطق پر غور کرو، تو تم خود ہی آگ لگانے کو تیار ہو جاؤ گے۔ اگر یہ رشوت ہمارے لیے ہوتی اور ہمیں ہندوستان میں رہنا ہوتا، تو شاید ہم خطرہ مول لیتے، لیکن یہ مسلمان اتنا طاقتور ہے کہ وہ بعد میں پرتگالیوں سے بدلہ لے سکتا ہے۔ اس لیے واضح ہے کہ اگر ہم اس رشوت کو قبول کریں، تو آنے والوں کو دوگنا قیمت چکانی پڑے گی۔ ہم لارڈ کے سامنے جوابدہ ہوں گے اگر ہم ان پر ایسا بوجھ ڈالیں۔ لہٰذا، میرا ضمیر مجھے اجازت نہیں دیتا کہ یہ دشمن زندہ رہے۔ ہم نے اس ملک میں دوستی کے ذریعے ہی کچھ حاصل کیا ہے۔ کوژیکوڈ (کالیکٹ) نے ہمارا بہت زیادہ نقصان کیا ہے، اور ہر طرح کی سزا کا مستحق ہے۔ اگر ہم اس کے مسلمانوں کو چھوڑ دیں گے، تو پورے خطے میں یہ بدنامی پھیل جائے گی کہ ہم نے اپنی عزت کو مال کے عوض فروخت کر دیا۔
اس کے بعد اس نے کشتی میں آگ لگانے کا حکم دیا۔ جب پرتگالی لوٹ مار کر رہے تھے، تومسلمانوں نے چھپائے ہوئے ہتھیار اٹھا لیے اور مرتے دم تک لڑے، جس سے کئی پرتگالی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ مسلمانوں نے کشتی کی رسی کاٹ دی تاکہ ساحل پر جا سکیں یا کسی اور جہاز سے ٹکرا کر اپنی جان مہنگی بیچیں۔ مسلح کشتیاں ان کے قریب آ گئیں، اور سات سو سے زائد مسلمانوں نے زبردست مزاحمت کی۔ وہ بہادر جنگجو تھے جو آگ کے عذاب کے بجائے تلوار سے مرنا پسند کرتے تھے۔
فرانسسکو ماریکوس نے جب مسلمانوں کی کشتی کو اپنے جہاز کے قریب دیکھا، تو اس نے رسی باندھنے کا حکم دیا۔ مسلمان بے خوفی سے جہاز پر چڑھ گئے اور اتنی بہادری سے لڑے کہ اگر کشتیوں میں اضافی فوج نہ آتی، تو وہ جہاز پر قبضہ کر لیتے۔ کپتان میجر اپنی چھوٹی کشتی میں آیا اور تمام لوگوں کو جہاز سے نکلنے کا حکم دیا۔ اس نے کشتیوں کو توپوں سے ڈبونے کا حکم دیا۔ مسلمان تیرتے رہ گئے، اور کشتیوں نے نیزوں سے انہیں مارنا شروع کر دیا۔ ایک مسلمان نے تیرتے ہوئے ایک نیزہ پکڑا اور ایک کشتی میں پھینک کر ایک ملاح کو ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ اتنا قابل ذکر تھا کہ میں نے اسے لکھ دیا۔
(The Three Voyages of Vasco Da Gama to india)
اس سفرمیں واسکوڈا گاما کوژیکوڈ (کالیکٹ) سے لوٹ مار کرتا ہوا کوچین پہنچا، جہاں سے واپسی پر اس نے بھٹکل کے بالمقابل نترانی جزیرہ پر اتر کر شہنشاہ پرتگال عمانویل کی زرہ اور خود ایک صلیب پر لٹکائی اور اعلان کیا کہ شہنشاہ پرتگال اب دنیا کے آٹھ بحر اعظموں کا بھی شہنشاہ ہے۔ اور اس کے پروانہ راہ داری کے بغیر بحیرہ عرب میں جہاز رانی نہیں ہوسکتی۔
1509ء میں گاما کے جانشین ڈالمیڈا نے کچھ (گجرات) کے قریب جزیرہ دیو پر قبضہ کرکے اسے پرتگالی کالونی میں تبدیل کیا۔ سنہ 1510ء میں تیسرے وائسرائے افونسو ڈلبوکیرک نے گوا پر قبضہ کرکے سوفیصد مسلم آبادی والے اس شہر میں اندلس کی داستان الم دہرا دی۔اور وہاں ایک مسلمان کو بھی باقی نہیں رہنے دیا۔
اس زمانے میں ہندوستان میں مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم تھیں۔
ایک طرف عادل شاہی تھی، تو دوسری طرف گجرات کی مظفر شاہی تھی ۔ تو تیسری طرف مغل سلطنت تھی۔ لیکن ان سبھی سلطنتوں کا ذریعہ آمدنی زراعت سے ملنے والے محصولات تھے یا پھر فوج کشی سے حاصل ہونے والا مال غنیمت ۔انہیں تجارت سے کوئی سروکار نہ تھا۔
گجرات کی تاریخ کے عظیم ترین حکمران محمود شاہ بیکڑا کے سامنے جب ساحلی علاقوں پرتگیزوں کی قزاقی اور لوٹ مار کی شکایت پیش ہوئی تو اس نےاسے ہلکے میں لیتے ہوئے اس نے کہا کہ ہم گھوڑے کی پیٹھ پر لڑنے والے بہادر لوگ ہیں، سمندری قزاقوں کو روکنے کا کام تو تاجروں کا ہے۔
زین الدین معبری نے تحفۃ المجاہدین لکھ کر عادل شاہی سلطان کے سامنے پیش کیا تو وہاں سے بھی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔
اس زمانے میں تجارتی بنیاد پر عربوں کی ایک سلطنت قائم تھی جو تاریخ میں سلطنت ھرمز العربیۃ کے نام سے جانی جاتی ہے، شمال میں اس کے ڈانڈے ایک طرف عراق کے بصرہ سے۔ اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں سے ملتے تھے تو جنوب میں عمان کی بندرگاہ قلہات سے،اور یمن کی بندرگاہ شحر سے۔ اور جنوب مشرق میں بھٹکل کی بندرگاہ سے۔اس کے وزیر اعظم خواجہ عطار قلہاتی کا بھائی خواجہ قیصر بھٹکل کی بندرگاہ پر اس کا نمائندہ تھا۔
اس سلطنت کا صدر مقام خلیج عرب کے دہانے پر واقع وہی ہرمز جزیرہ تھا جو آج کل بھی اپنی علاقائی اہمیت کے پیش نظر سرخیوں میں ہے۔
گوا پر قبضے کے پانچ سال بعد افونسو ڈلبوقرق نے 1515ء میں ہرمز پر قبضہ کیا اور یہاں کے حکمرانوں کو شہنشاہ عمانویل کا فرمان سنا یا کہ " چونکہ شاہِ پرتگال نے بھٹکل کی بندرگاہ کو توڑنے کا حکم دے دیا ہے۔۔۔۔ تو ہر وہ جہاز جو ہرمز کی طرف نہیں جا رہا ہوگا، اس کا سامان ضبط کر لیا جائے گا اور اس کے عملے کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔"
یہیں سے بھٹکل کے نوائط قبیلے کا ربط اپنے عرب آباء واجداد سے کٹ گیا۔ اور بحیرہ عرب کے ذریعہ حج کا راستہ بھی بند ہوگیا۔ اور اس کے لئے پرتگالی پروانہ راہداری شرط ہوگہا۔ اور حالت یہاں تک پہنچی کہ مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے سنہ 1576ء میں اپنی پھوپھی گلبدن بیگم اور بعض شاہی خواتین کو حج پر بھیجنے کے لئے پرتگیزوں سے جھک کر ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت اکبر نے گجرات میں پرتگیزی مفادات کو چھیڑنے سے گریز کرتے ہوئے دیو ، گوا اور بحر عرب کی جہاز رانی پر پرتگالی بالادستی کو قبول کیا۔ حالانکہ پانچ ہزار کلومیٹر دور سے آنے والے دو چار ہزار پرتگالیوں کے قبضے میں دیو کا چھوٹا سا جزیرہ اور گوا کا چھوٹا سا شہر تھا۔ اور اس کے چاروں طرف مسلم حکومتیں اس سے سو گنا بڑی بھی تھیں، اور طاقتور بھی۔
اس زمانے میں سفرحج باد بانی کشتیوں یا پیدل بری راستے سے ہوتا تھا، آنے جانے میں دو سال لگتے تھے۔ایک سربراہ سلطنت کےلئے اتنا عرصہ دار السلطنت سے دور رہ کر حکمرانی کرنا مشکل کام تھا۔
❤1
ویسے اورنگ عالمگیر کی زندگی جنگ کے میدان میں گذری تھی ، اس کی فتوحات کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ مفتوحہ علاقوں میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے خاطر خواہ توجہ نہیں دی، اس کی ساری توجہ سلطنت کا دائرہ وسیع کرنے پر تھی، لہذا اس نے مرہٹہ کے بالمقابل کھڑی دو مسلم سلطنتوں گولکنڈہ کی قطب شاہی اور احمد نگر کی نظام شاہی کا خاتمہ کردیا تھا، مورخین کا کہنا ہے کہ ان دو سلطنتوں کے خاتمہ کے بعد مرہٹوں کے حوصلے بڑھ گئے، دہلی تک پہنچنے کی ان کی رکاوٹ ختم ہوگئی، جس کے بعد انہوں نے دہلی و اطراف میں خون کی ہولی کھیلی، احمد شاہ ابدالی نے مرہٹہ خون ریزی کا خاتمہ تو کردیا، لیکن افغان فاتحین کے عمومی مزاج کے مطابق اس نے ہندوستان کو کوئی ٹھوس منظم حکومت نہیں دی۔ مرہٹوں کے کمزور ہونے کے بعد اب انگریزی تسلط کی راہ آسان ہوگئی ۔
مغلوں کے دور میں جہاں حج بیت اللہ کا سفر ایک مقدس عبادت تھی، تو دوسری طرف اس کا تڑی پار کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا، مغل حکمران جب کسی سردار سے ناراض ہوتے، یا پھر اس کی طاقت اور رسوخ سے خوف کھاتے تو پھر اس کے خطرے سے بچنے کے لئے اسے جاہ وجلال کے ساتھ حج بیت اللہ کے سفر پر بھیج دیتے تھے۔
اب اگر اس ماحول مین شیخ احمد سرہندی نے سفر حج نہ کیا ہو تو تعجب کی بات نہیں ہے۔ جہاں اس کا ایک سبب وسائل اور سفر میں امن وامان کی کمی مانع ہوسکتی تھی،تو وہیں دینی مصلحت بھی اس میں مضمر ہوسکتی ہے، کیونکہ وطن کے ان پرآشوب حالات میں دو سال وطن سے دوری دعوت واصلاح کے کام میں رکاوٹ بھی بن سکتا تھا۔
یہ ایک وسیع تحقیق طلب باب ہے، لیکن اس کے لئے چونٹی جس طرح دانہ دانہ شکر جمع کرتی ہے، اسی طرح دستاویزی معلومات کو اکٹھا کرنے اور ترتیب دینے کی ضرورت ہے، اس سلسلے کا کئی سارا نادر مواد ہمارے پاس موجود ہے، لیکن اس کی ترتیب وتدوین کافی محنت اور یکسوئی طلب ہے۔
2026-05-10
https;//telegram.me/ilmokitab
❤3
وطن کی تین قسمیں

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللّٰه علیہ لکھتے ہیں: میرے استاذِ محترم اور برادرِ مکرّم شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی رحمۃ اللّٰه علیہ نے ایک روز وطن پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہر شخص کے تین وطن ہیں: ایک جسمانی، دوسرا ایمانی، تیسرا روحانی وطن۔ جسمانی وہ جگہ ہے، جہاں وہ پیدا ہوا۔ وطنِ ایمانی مؤمن کا مدینہ طیبہ ہے، جہاں سے اس کو نورِ ایمانی ملا۔ وطنِ روحانی جنت ہے، جہاں عالمِ ارواح میں اس کا اصلی مستقر تھا اور پھر پھرا کر وہیں جانا ہے۔

(نقوش و تاثرات، صفحہ: ١٦/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

http://telegram.me/ilmokitab
❤4
وفیات مورخہ: 12/مئی
1898ء  حسن رضا۔ 
1930ء  سلطان جہاں بیگم۔  والی بھوپال ،
1960ء  علی سلمان آغا خان۔  والد پرنس کریم آغا خان
1972ء  شمس نظامی (شمس الحق نظامی)۔  پروفیسر ،
1978ء  ماہر القادری۔  مدیر فاران کراچی
1980ء  شیخ مختار۔  اداکار
1980ء  مشفی احمد بدایونی۔  مولوی ،
1984ء  عتیق الرحمن عثمانی۔  مولانا مفتی ، صدر آل انڈیا مجلس مشاورت
1985ء  ہدایت علی ( حاجی کلو)۔   ،
1986ء  محمد حسین صابری، میاں۔   ،
1989ء  عبدالصمد وانکانیری۔  مولانا
1999ء  سید ضمیر جعفری۔  ادیب وشاعر
2003ء  صدر الدین آغا خان۔  ہائی کمشنر برائے پناہ گزین
2003ء  موسیٰ غازی۔   ،
2005ء  مارٹن لنگس۔  نوملسل سیرت نگار
2006ء  مجیب اللہ ندوی۔  مولانا، بانی جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ
2007ء  پروین جاوید۔   ،
2013ء  حافظ سید محمد داؤد منصور پوری۔ 
2024ء  سلام بن رزاق۔ 
 
Https://telegram.me/ilmokitab
سچی باتیں (16؍دسمبر 1940ء)۔۔۔ محمد بن قاسم کے بعد کے حکمران

’’تاریخ ہند‘‘ کا مشہور انگریز مصنف الفنسٹن آپ کا دشمن ہے، دوست نہیں۔ لیکن بات اچھی اور سچی ممکن ہے کہ کبھی دشمن کی زبان سے بھی اداہوجائے۔ اوراُسے رد اس بنا پر نہیں کیاجاسکتا کہ اُسے پیش کرنے والی زبان دوست کی نہیں۔ سنئے وہ محمد بن قاسمؒ کی حیرت انگیز فتح مندیوں کے بعد، ہندوستان کے اندر رفتار اسلام کے قدم سُست پڑجانے کے با ب میں کیا کہتاہے:-
’’ان کی (ہندوستان کے مسلمان تاجداروں کی) حکومت کی روح رفتہ رفتہ بدلتی گئی۔ ان کے امیر اور سردار، پُرجوش دینی مبلّغوں کے بجائے، مہذب بادشاہ ہونے لگے، جنھیں دین کی تبلیغ سے کہیں زیادہ اہتمام اپنے خاندان کے اعزاز کا رہتاتھا۔ اور اسی نسبت سے رفتہ رفتہ وہ لوگ بجائے کھُرّے سپاہیوں کے عیش پسند اور’’شاندار رئیس‘‘ بن گئے، جن کے مشاغل ، جنگ کے علاوہ کچھ اور تھے اور جن کی دلچسپیاں فتح کے علاوہ کچھ اور تھیں۔(حضرت )عمرؓ کا یہ حال تھا کہ جب بیت المقدس اپنے لشکر کے پاس روانہ ہوئے ہیں، تو اپنا سامان اور سامانِ جنگ سب اُسی اپنے اونٹ پر لادے ہوئے تھے۔ اور (حضرت) عثمانؓ کا طریقہ یہ تھا، کہ شام کو جب سرکاری کام ختم ہوجاتا، تو چراغ بُجھادیتے، کہ قوم کے روپیہ کاتیل اپنے ذاتی صرف میں نہ آئے۔ لیکن ان کے بعد ابھی پورے سو برس بھی نہ گزرنے پائے تھے، کہ خلیفہ مہدی نے برف اور یخ پانچ پانچ سو اونٹوں پر لدوادیا! اورعباسی خلفاء کے ایک ایک دن کی شاہ خرچیاں مساوی انھیںخلفاء اربعہ کے جملہ مصارف کے! اسی طرح مامونؔ کے زمانہ میں فلاسفۂ یونان کی کتابوں کے ترجمے بھی اُسی روح سے بہت ہی دور تھے، جو (حضرت) عمرؓ کے تباہی کتبخانۂ اسکندریہ کے قصہ کے عقب میں تھی‘‘۔ (ص: 313)
ماضی کو چھوڑئیے ، حال کو لیجئے۔ آ ج بھی بعینہ وہی نقشہ قائم ہے یا نہیں؟ بلکہ اُس وقت سے کہیں زیادہ قوت وشدت کے ساتھ۔ تاجداروں،بادشاہوں کوالگ کیجئے۔ امراء کے تنعم اور عیش پسندیوں کا کیا عالم ہے؟ کوئی مناسبت اُن کے دسترخوان کی وسعتوں کو، اُن کے کھانے کی میز کی رنگارنگ نعمتوں کو سرور کائناتؐ کی نیم گرسنہ عادت مبارک سے، یا صدیقؓ وفاروقؓ کے فقروفاقہ سے، عثمانؓ وعلیؓ کے موٹے جھوٹے کھانوں سے ہے؟ اوربڑے امراء سے بھی قطع نظر کیجئے، اوسط درجہ کے سفید پوشوں کے ہاں وہ وہ تکلفات کھانوں کے ملتے ہیں، کہ عہد رسالت میں بڑے بڑے خوشحال صحابیوں کے حصہ میں بھی کبھی کیوں آئے ہوں گے؟ اور ایک کھانے ہی پر کیا موقوف ہے، عیش پسندی بلکہ عیش پرستی سے ہمارا کون سا گوشۂ زندگی خالی ہے؟ تکلفات اور حد سے بڑھے ہوئے تکلفات سے ہماری معاشرت کا کون سا شعبہ بچاہوا ہے؟ چند قدم پیدل ہم چل نہیں سکتے، برف کے بغیر جی ہم نہیں سکتے، چائے کے بغیر زندگی ہماری محال ہے، حقہ وپان، سگریٹ کے بغیر قدم ہم نہیں اُٹھا سکتے۔ دھوپ ہم نہیں سَہ سکتے، سنیما، تھیٹر، ریڈیو کے بغیر رات ہم نہیں بسر کرسکتے……تبلیغی زندگی، اللہ کے سپاہی کی زندگی، ہماری اس اختیار کی ہوئی زندگی سے کہیں بھی جوڑ کھاسکتی ہے؟
دوسرا فتنہ، اس عملی فتنہ سے بھی بڑھ کر قیامت خیز، عقلی واعتقادی فتنہ ہے۔ غیروں کے ’’علوم وفنون‘‘ سے مرعوبیت کا فتنہ! کل غلامی تھی ارسطو اور افلاطون کی، اقلیدس اور مجسطی کی، اور کوششیں یہ تھیں کہ اپنے ہاں کے ’’منقول‘‘ کو جلد سے جلد یونان کے ’’معقول‘‘ نامعقول سے مطابقت دے دی جائے! علوم ثابت میتھالوجی کو اندھوں کے ظن وتخمین کے ماتحت لے آیا جائے! روشنی کو کسی نہ کسی طرح تاریکی کے ہم رنگ کردکھایاجائے! اسی پر فخر تھا، اور یہ گویا ایک بڑی خدمتِ دین تھی!……کل یونان تھا، آج یورپ ہے۔ پہلے سے سوگُنی اور ہزار گُنی بڑھی ہوئی عقیدت کے ساتھ آج بھی سرگرمِ کوشش ہے،کہ ڈارون اور مل کی تعلیمات سے ہمارے بچّے اور ہمارے بوڑھے کہیں محروم نہ رہ جائیں۔ کارل مارکس اور لینن کا نقالی ہم نے ہوبہ ہو نہ کرلی، تو کچھ بھی نہ کیا! اور ساری ’’ترقیوں‘‘ اور ’’روشن خیالیوں‘‘ کا خلاصہ یہ آٹھہرا ہے ، کہ جسم کی جِلد، چہرہ کہ ہیئت ، اور لباس کی وضع سے لے کر دماغ کا ایک ایک ریشہ، قلب کی گہرائیوں کا ایک ایک گوشہ، روس یا امریکہ، برطانیہ یا فرانس، جرمنی یا اٹلی، بہرحال فرنگ زار ہی کے کسی نہ کسی خطّہ کا آئینہ ہوکر رہ جائے!
https://telegram.me/ilmokitab
❤2
اردو کے مایہ ناز شاعر *مولانا ماہر القادری* کا مورخہ 12 مئی 1978ء جدہ میں انتقال ہوا تھا، یوم وفات کی مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے اردو آڈیو ڈاٹ کام کی جانب سے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ بیتی یادوں پر مشتمل انٹرویو پانچ قسطوں میں پیش کیا جارہا ہے۔
قسط (اول)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=biti-yadain-01, Biti Yadain 01
قسط (دوم)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=biti-yadain-02, Biti Yadain 02

قسط (سوم)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=beeti-yadain-03, Beeti Yadain 03

قسط (چہارم)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=biti-yadain-04, Biti Yadain 04

قسط (پنجم)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=beeti-yadain-05, Beeti Yadain 05

علم وکتاب
❤1
اردو کے مایہ ناز مزاحیہ شاعر و ادیب سید ضمیر جعفری کی رحلت مورخہ : 12 مئی 1999ء کو ہوئی تھی، یوم وفات کی مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے، بھٹکل مسلم جماعت دبی کے مشاعرے میں پیش کردہ کلام پیش خدمت ہے۔
https://youtu.be/MoJ1AaYh7Qs?si=qEXC6yAG5ro9TnK3
❤1
ہم اور ہمارا معاشرتی رویہ

حضرت مولانا مجیب اللّٰه ندویؒ فرماتے ہیں:

ہمارے معاشرہ میں بہت کم لوگ ہیں، جن کے دل میں یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے، جو اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے پسند کرتا ہے، بلکہ آدمی اپنے لیے تو اچھا مکان، اچھی گاڑی، اچھا کھانا، اچھا کپڑا پسند کرتا ہے، مگر یہی سب کچھ، اپنے بھائی کے لیے پسند نہیں کرتا، بلکہ بسا اوقات اپنے بھائی کی ترقی سے اسے خوشی کے بجائے دردِ سر ہونے لگتا ہے۔ ایک آدمی اس حیثیت کا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلا سکے اور وہ دلاتا ہے۔ مگر ایسے کم لوگ ملیں گے، جو اپنے خاندان یا پڑوس کے غریب آدمی کے کسی بچے کے بارے میں بھی اس کے شوق کے مطابق تعلیم دلانے کا جذبہ رکھتے ہوں۔

(ماہنامہ جامعۃ الرشاد، ستمبر، اکتوبر ١٩٩٨ء/صفحہ: ٦٢/مطالعاتی پیشکش طارق علی عباسی)

https://telegram.me/ilmokitab
❤2💯1
*وفیات مورخہ: 13/مئی*
2012ء  اسلم شیخوپوری۔  مولانا ،
2007ء  بیگم قمر اصفہانی۔   ،
1998ء  حامد رضا خان قادری احمدی رشیدی۔   ،
2021ء  حبیب الرحمٰن اعظمی۔  مولانا ، محدث دار العلوم دیوبند
1951ء  حسرت موہانی (مولانا سید فضل الحسن)۔  امام المتغزلین ،
2022ء  خلیفہ بن زاید آل نہیان۔  صدر متحدہ عرب امارات
1988ء  رفیع احمد فدائی۔   ،
2008ء  سعد عبد اللہ سالم الصباح۔  امیر الکویت
2012ء  شاہ محمد میران۔ 
2021ء  صدیق محمد میراں۔  بھٹکلی سماجی کارکن
1986ء  عابد حشری۔   ،
2009ء  عبد الحنان قاسمی۔  مولانا ،
1999ء  عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز۔  مفتی اعظم سعودی عرب
1966ء  عبد المتعال صعیدی۔  ماہر لسانیات، لغت نویس
1993ء  عبدالمجید مجید کھام گاؤنوی۔   ،
1974ء  علال الفاسی۔  مراکشی مجاہد آزادی۔ بانی حزب الاستقلال
1940ء  کشن پرشاد شاد۔  سر، صدر المہام ریاست حیدرآباد دکن
2025ء  محمد ابراہیم حسن سنوار۔  مجاہد آزادی فلسطین
2017ء  محمد ازہر رانچی۔  مولانا
1978ء  محمد رفیع کالیہ، بابو۔   ،
2003ء  مشرف احمد۔  ڈاکٹر ،
1975ء  مضطر حیدری (دلاور حسین)۔   ،
1990ء  مقبول عامر۔ 
2007ء  منی باجی (پروین اختر)۔   ،
 
 https://telegram.me/ilmokitab
❤1