2026-02-11 Yadoun ka safar 83+84.pdf
155.9 KB
یادوں کا سفر (83+84) اخلاق احمد دہلوی
*شیخ علال الفاسی*
آج مورخہ 13 مئی افریقی عرب ملک مغرب (مراکش) کے مایہ نام عالم دین اور مجاہد آزادی اور سیاسی رہنما شیخ علال الفاسی کی یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات 13 مئي 1974ء ہوئی تھی۔ آپ کی کتاب "مقاصد الشریعۃ ومکارمھا" ان ابتدائی کتابوں میں ہے، جس نے دور حاضر میں اصول فقہ کے ایک اہم شعبہ مقاصد الشریعہ کو اجاگر کیا، جس سے فقہ واصول فقہ کے علماء و طلبہ کے لئے یہ دلچسپی کا اہم موضوع بن گیا۔ یوم وفات کی مناسبت سے شیخ علال الفاسی کو یاد کرتے ہوئے، آپ کی ایک نادر آڈیو لنک اس کالم کے آخر میں منسلک ہے۔ ویڈیو علاحدہ علم وکتاب گروپ پر پیش کی جاری ہے۔
علال الفاسی (حالات زندگی)
(1326 - 1394ھ = 1908 - 1974ء)
علال (یا محمد علال) بن عبد الواحد بن عبد السلام بن علال بن عبد اللہ بن المجذوب الفاسی الفہری:
مراکش کے ایک عظیم قومی رہنما، بلند پایہ خطیب اور مایہ ناز عالم دین تھے۔ وہ فاس میں پیدا ہوئے اور جامعہ قرویین سے تعلیم حاصل کی۔
سیاسی و علمی جدوجہد
• انہوں نے ایک ایسے مدرسے کے قیام میں حصہ لیا جس نے مراکش کی ابتدائی بیداری کے ہراول دستے تیار کیے۔
• فرانسیسی استعمار کی مخالفت:
1928ء جب فرانسیسی حکام نے فاس شہر کا پانی فرانسیسی کسانوں کے ایک گروہ کو دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔
1930ء: "ظہیر بربری" کے اجراء پر انہوں نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں پورا مراکش سراپا احتجاج بن گیا۔ حکام نے انہیں گرفتار کیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور "تازہ" شہر جلاوطن کر دیا۔
(“ظہیرِ بربری” مراکش میں فرانسیسی استعمار کے دور کا ایک مشہور فرمان تھا، جو 16 مئی 1930 کو جاری کیا گیا۔ اس فرمان کا مقصد بربر (امازیغ علاقوں میں عدالتی نظام کو اسلامی شریعت سے الگ کرکے مقامی قبائلی رسم و رواج کے مطابق چلانا تھا)۔
• 1931ء: وہ واپس فاس آئے تو ان پر تدریس کی پابندی لگا دی گئی۔
• 1936ء: انہوں نے پہلی مزدور یونین (لیبر یونین) کی بنیاد رکھی۔
• 1937ء: ایک خفیہ تنظیم "کتلہ العمل الوطنی" (نیشنل ایکشن بلاک) قائم کرنے میں مدد دی، جو بعد میں "الحزب الوطنی" (نیشنل پارٹی) کے نام سے ظاہر ہوئی۔
قید و بند اور جلاوطنی
• انہیں گیبون جلاوطن کر دیا گیا (1937-1941ء)۔
• بعد ازاں کانگو منتقل کر دیا گیا (1941-1946ء)۔
• رہائی کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر "حزب الاستقلال" کی بنیاد رکھی۔ اس دوران انہوں نے فرانس، قاہرہ اور مختلف عالمی دارالحکومتوں کے دورے کیے تاکہ مراکش کی آزادی کے لیے حمایت حاصل کر سکیں، جبکہ اپنی جماعت سے ان کا رابطہ مسلسل قائم رہا۔
• 1949ء: مراکش واپسی پر فرانسیسیوں نے انہیں داخلے سے روک دیا، چنانچہ وہ "طنجہ" میں مقیم ہو گئے جو اس وقت بین الاقوامی انتظامیہ کے زیرِ اثر تھا۔
• 1953ء: سلطان محمد پنجم کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے انقلاب کی کال دی۔
آزادی کے بعد کی خدمات
مراکش کی آزادی کے بعد وہ اپنی جماعت کے بلا شرکتِ غیرے سربراہ بنے۔ انہوں نے ایک مدت تک وزیر مملکت برائے اسلامی امور کے طور پر خدمات انجام دیں، پھر پارلیمنٹ میں "پرامن اپوزیشن" کا راستہ اختیار کیا۔ وہ سلطان محمد خامس اور ان کے صاحبزادے شاہ حسن ثانی کے دور میں شاہی خاندان کے وفادار رہے۔ انہوں نے فیکلٹی آف لا (کلیہ الحقوق) میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔
نمایاں تصانیف
ان کی مشہور کتابوں میں درج ذیل شامل ہیں:
1. ھنا القاہرہ: (یہ ان کی ان تقاریر کا مجموعہ ہے جو انہوں نے ریڈیو قاہرہ سے نشر کیں)۔
2. النقد الذاتی: (خود احتسابی)۔
3. المغرب العربی منذ الحرب العالمیہ الاولیٰ: (پہلی جنگ عظیم کے بعد سے عالمِ عرب کا مغرب)۔
4. دفاع عن الشریعہ: (شریعت کا دفاع)۔
5. مقاصد الشریعہ الاسلامیہ ومکارمہا: (اسلامی شریعت کے مقاصد اور اس کی خوبیاں)۔
6. الحمایہ الاسبانیہ فی المغرب: (تاریخی اور قانونی نقطہ نظر سے مراکش میں ہسپانوی تحفظ/اقتدار)۔
وفات: انہیں دل کا دورہ پڑا اور انتقال کے بعد انہیں رباط منتقل کر دیا گیا۔ عبد الکریم غلاب نے ان کی زندگی پر "ملامح من شخصیہ علال الفاسی" (علال الفاسی کی شخصیت کے خدوخال) کے نام سے کتاب لکھی۔
(ماخذ۔ الاعلام للزرکلی ۔ تصرف کے ساتھ)
عبد المتین منیری
WA:00919741136475
لنک آڈیو شیخ محمد علال الفاسی رحمہ اللہ
حدیث الظلم
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=hadisus-zulm, Hadisus Zulm
آج مورخہ 13 مئی افریقی عرب ملک مغرب (مراکش) کے مایہ نام عالم دین اور مجاہد آزادی اور سیاسی رہنما شیخ علال الفاسی کی یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات 13 مئي 1974ء ہوئی تھی۔ آپ کی کتاب "مقاصد الشریعۃ ومکارمھا" ان ابتدائی کتابوں میں ہے، جس نے دور حاضر میں اصول فقہ کے ایک اہم شعبہ مقاصد الشریعہ کو اجاگر کیا، جس سے فقہ واصول فقہ کے علماء و طلبہ کے لئے یہ دلچسپی کا اہم موضوع بن گیا۔ یوم وفات کی مناسبت سے شیخ علال الفاسی کو یاد کرتے ہوئے، آپ کی ایک نادر آڈیو لنک اس کالم کے آخر میں منسلک ہے۔ ویڈیو علاحدہ علم وکتاب گروپ پر پیش کی جاری ہے۔
علال الفاسی (حالات زندگی)
(1326 - 1394ھ = 1908 - 1974ء)
علال (یا محمد علال) بن عبد الواحد بن عبد السلام بن علال بن عبد اللہ بن المجذوب الفاسی الفہری:
مراکش کے ایک عظیم قومی رہنما، بلند پایہ خطیب اور مایہ ناز عالم دین تھے۔ وہ فاس میں پیدا ہوئے اور جامعہ قرویین سے تعلیم حاصل کی۔
سیاسی و علمی جدوجہد
• انہوں نے ایک ایسے مدرسے کے قیام میں حصہ لیا جس نے مراکش کی ابتدائی بیداری کے ہراول دستے تیار کیے۔
• فرانسیسی استعمار کی مخالفت:
1928ء جب فرانسیسی حکام نے فاس شہر کا پانی فرانسیسی کسانوں کے ایک گروہ کو دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔
1930ء: "ظہیر بربری" کے اجراء پر انہوں نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں پورا مراکش سراپا احتجاج بن گیا۔ حکام نے انہیں گرفتار کیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور "تازہ" شہر جلاوطن کر دیا۔
(“ظہیرِ بربری” مراکش میں فرانسیسی استعمار کے دور کا ایک مشہور فرمان تھا، جو 16 مئی 1930 کو جاری کیا گیا۔ اس فرمان کا مقصد بربر (امازیغ علاقوں میں عدالتی نظام کو اسلامی شریعت سے الگ کرکے مقامی قبائلی رسم و رواج کے مطابق چلانا تھا)۔
• 1931ء: وہ واپس فاس آئے تو ان پر تدریس کی پابندی لگا دی گئی۔
• 1936ء: انہوں نے پہلی مزدور یونین (لیبر یونین) کی بنیاد رکھی۔
• 1937ء: ایک خفیہ تنظیم "کتلہ العمل الوطنی" (نیشنل ایکشن بلاک) قائم کرنے میں مدد دی، جو بعد میں "الحزب الوطنی" (نیشنل پارٹی) کے نام سے ظاہر ہوئی۔
قید و بند اور جلاوطنی
• انہیں گیبون جلاوطن کر دیا گیا (1937-1941ء)۔
• بعد ازاں کانگو منتقل کر دیا گیا (1941-1946ء)۔
• رہائی کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر "حزب الاستقلال" کی بنیاد رکھی۔ اس دوران انہوں نے فرانس، قاہرہ اور مختلف عالمی دارالحکومتوں کے دورے کیے تاکہ مراکش کی آزادی کے لیے حمایت حاصل کر سکیں، جبکہ اپنی جماعت سے ان کا رابطہ مسلسل قائم رہا۔
• 1949ء: مراکش واپسی پر فرانسیسیوں نے انہیں داخلے سے روک دیا، چنانچہ وہ "طنجہ" میں مقیم ہو گئے جو اس وقت بین الاقوامی انتظامیہ کے زیرِ اثر تھا۔
• 1953ء: سلطان محمد پنجم کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے انقلاب کی کال دی۔
آزادی کے بعد کی خدمات
مراکش کی آزادی کے بعد وہ اپنی جماعت کے بلا شرکتِ غیرے سربراہ بنے۔ انہوں نے ایک مدت تک وزیر مملکت برائے اسلامی امور کے طور پر خدمات انجام دیں، پھر پارلیمنٹ میں "پرامن اپوزیشن" کا راستہ اختیار کیا۔ وہ سلطان محمد خامس اور ان کے صاحبزادے شاہ حسن ثانی کے دور میں شاہی خاندان کے وفادار رہے۔ انہوں نے فیکلٹی آف لا (کلیہ الحقوق) میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔
نمایاں تصانیف
ان کی مشہور کتابوں میں درج ذیل شامل ہیں:
1. ھنا القاہرہ: (یہ ان کی ان تقاریر کا مجموعہ ہے جو انہوں نے ریڈیو قاہرہ سے نشر کیں)۔
2. النقد الذاتی: (خود احتسابی)۔
3. المغرب العربی منذ الحرب العالمیہ الاولیٰ: (پہلی جنگ عظیم کے بعد سے عالمِ عرب کا مغرب)۔
4. دفاع عن الشریعہ: (شریعت کا دفاع)۔
5. مقاصد الشریعہ الاسلامیہ ومکارمہا: (اسلامی شریعت کے مقاصد اور اس کی خوبیاں)۔
6. الحمایہ الاسبانیہ فی المغرب: (تاریخی اور قانونی نقطہ نظر سے مراکش میں ہسپانوی تحفظ/اقتدار)۔
وفات: انہیں دل کا دورہ پڑا اور انتقال کے بعد انہیں رباط منتقل کر دیا گیا۔ عبد الکریم غلاب نے ان کی زندگی پر "ملامح من شخصیہ علال الفاسی" (علال الفاسی کی شخصیت کے خدوخال) کے نام سے کتاب لکھی۔
(ماخذ۔ الاعلام للزرکلی ۔ تصرف کے ساتھ)
عبد المتین منیری
WA:00919741136475
لنک آڈیو شیخ محمد علال الفاسی رحمہ اللہ
حدیث الظلم
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=hadisus-zulm, Hadisus Zulm
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤2
وفیات مورخہ: 14/مئی
1852ء مومن خان مومن۔ شاعر
1943ء اللہ بخش سومرو۔
1959ء کاکا محمد اسمٰعیل مدراسی۔ معتمد دارا لسلام عمر آباد
1973ء عبد الصمد رحمانی۔ نائب امیر شریعت بہار واڑیسہ
1976ء قاری احمد پیلی بھیتی۔ مولانا، حکیم ،
1977ء جمشید انصاری۔ ٹی وی اداکار
1980ء بیکس مراد آبادی (رحمت اللہ خاں)۔ شاعر
1980ء سید سبط علی صبا۔
1990ء رفیق خاور (محمد رفیق حسین)۔ ماہر لسانیات
1997ء قاضی زاہد الحسینی۔ مولانا
2004ء شاہ اقبال احمد ردولوی۔
2008ء سردار احمد خان۔ پروفیسر ،
2010ء فہیم ردولوی۔ ،
2010ء محمد اقبال سلطانی۔ صوفی ،
2020ء خالد محمود۔ علامہ، جج شریعہ کورٹ پاکستان
2021ء فاروق قیصر۔ ٹی وی اداکار، کالم نگار
Https://telegram.me/ilmokitab
1852ء مومن خان مومن۔ شاعر
1943ء اللہ بخش سومرو۔
1959ء کاکا محمد اسمٰعیل مدراسی۔ معتمد دارا لسلام عمر آباد
1973ء عبد الصمد رحمانی۔ نائب امیر شریعت بہار واڑیسہ
1976ء قاری احمد پیلی بھیتی۔ مولانا، حکیم ،
1977ء جمشید انصاری۔ ٹی وی اداکار
1980ء بیکس مراد آبادی (رحمت اللہ خاں)۔ شاعر
1980ء سید سبط علی صبا۔
1990ء رفیق خاور (محمد رفیق حسین)۔ ماہر لسانیات
1997ء قاضی زاہد الحسینی۔ مولانا
2004ء شاہ اقبال احمد ردولوی۔
2008ء سردار احمد خان۔ پروفیسر ،
2010ء فہیم ردولوی۔ ،
2010ء محمد اقبال سلطانی۔ صوفی ،
2020ء خالد محمود۔ علامہ، جج شریعہ کورٹ پاکستان
2021ء فاروق قیصر۔ ٹی وی اداکار، کالم نگار
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
اللّٰه بخش سومرو شہید، تاریخ کا وہ امر کردار، جسے بھلا دیا گیا
۱۱/۱۲ اپریل ٢٠٢٦ء کو دہلی میں نیشنل ہسٹری کانفرنس میں جناب ششی تھرور صاحب نے بیان کرتے ہوئے کہا:
ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام کوئی یک رخا نہیں تھا اور نہ ہی اسلامی تصورات صرف ایک ہی قسم کے تھے۔ تقسیم کے لمحے تک مختلف روابط اور تعاملات رہے۔ کیا آپ کہیں گے کہ اسلام اور انڈین ہسٹری میں اسلام کے کردار کے بارے میں جناح کے خیالات وہی تھے، جو مولانا آزاد کے تھے؟ یا افسوسناک طور پر فراموش کیے گئے اللّٰه بخش کے، جو سندھ کے وزیر اعلیٰ تھے، جنہوں نے جب ۱۹۴۳ء میں دہلی میں خطاب کیا تھا تو ان کے پاس جناح سے تین گنا بڑا مجمع تھا۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہر برادری کے اندر بھی دوسرے خیالات موجود ہیں اور میں یہ خاص طور پر اس لیے کہتا ہوں، کیونکہ حالیہ برسوں میں پسند کی تشریح ہماری تاریخ نویسی میں ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
(اے این آئی نیوز (ANI News) ١١ اپریل ٢٠٢٦ء)
https://telegram.me/ilmokitab
۱۱/۱۲ اپریل ٢٠٢٦ء کو دہلی میں نیشنل ہسٹری کانفرنس میں جناب ششی تھرور صاحب نے بیان کرتے ہوئے کہا:
ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام کوئی یک رخا نہیں تھا اور نہ ہی اسلامی تصورات صرف ایک ہی قسم کے تھے۔ تقسیم کے لمحے تک مختلف روابط اور تعاملات رہے۔ کیا آپ کہیں گے کہ اسلام اور انڈین ہسٹری میں اسلام کے کردار کے بارے میں جناح کے خیالات وہی تھے، جو مولانا آزاد کے تھے؟ یا افسوسناک طور پر فراموش کیے گئے اللّٰه بخش کے، جو سندھ کے وزیر اعلیٰ تھے، جنہوں نے جب ۱۹۴۳ء میں دہلی میں خطاب کیا تھا تو ان کے پاس جناح سے تین گنا بڑا مجمع تھا۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہر برادری کے اندر بھی دوسرے خیالات موجود ہیں اور میں یہ خاص طور پر اس لیے کہتا ہوں، کیونکہ حالیہ برسوں میں پسند کی تشریح ہماری تاریخ نویسی میں ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
(اے این آئی نیوز (ANI News) ١١ اپریل ٢٠٢٦ء)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
وفیات مورخہ: 15/مئی
1920ء وحید الزماں حیدرآبادی۔ مصنف لغات الحدیث
1966ء محمد ناصر موسوی۔ ،
1974ء صمدانی نقوی (غلام صمدانی)۔ ،
1979ء ذاکر علی مجددی رہتکی۔ ،
1981ء سلیم گاہندری، محمد اقبال۔ نفیس اکیڈمی کراچی
1984ء مجید شاہد (عبدالمجید )۔
1985ء امان اللہ پھلواروی۔ شاہ
1985ء شاہ امان اللہ پھلواروی۔ ،
1988ء مبین الحق صدیقی۔ ،
1989ء غلام رسول شاہ ۔ حکیم
1991ء حبیب الرحمٰن۔ پروفیسر ،
2004ء مفتی زین العابدین۔ عالم دین، تبلیغی جماعت
2008ء ابو الخیر کشفی۔ ڈاکٹر ادیب وشاعر
2008ء افضل الدین اقبال۔ پروفیسر ،
2013ء رفیق احمد نقش۔ ماہر غالبیات
2018ء صوفی محمد سرور۔ شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور
2021ء محمد سلمان۔ حافظ
2023ء شعیب ہاشمی۔ ڈرامہ نویس، ماہر تعلیم
Https://telegram.me/ilmokitab
1920ء وحید الزماں حیدرآبادی۔ مصنف لغات الحدیث
1966ء محمد ناصر موسوی۔ ،
1974ء صمدانی نقوی (غلام صمدانی)۔ ،
1979ء ذاکر علی مجددی رہتکی۔ ،
1981ء سلیم گاہندری، محمد اقبال۔ نفیس اکیڈمی کراچی
1984ء مجید شاہد (عبدالمجید )۔
1985ء امان اللہ پھلواروی۔ شاہ
1985ء شاہ امان اللہ پھلواروی۔ ،
1988ء مبین الحق صدیقی۔ ،
1989ء غلام رسول شاہ ۔ حکیم
1991ء حبیب الرحمٰن۔ پروفیسر ،
2004ء مفتی زین العابدین۔ عالم دین، تبلیغی جماعت
2008ء ابو الخیر کشفی۔ ڈاکٹر ادیب وشاعر
2008ء افضل الدین اقبال۔ پروفیسر ،
2013ء رفیق احمد نقش۔ ماہر غالبیات
2018ء صوفی محمد سرور۔ شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور
2021ء محمد سلمان۔ حافظ
2023ء شعیب ہاشمی۔ ڈرامہ نویس، ماہر تعلیم
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
" دعوت کے درمیان اور دعوت کے بعد برابر یہ سوچتا رہا، کہ دولت کا استعمال انسان کس بیدردی سے کرتا ہے، امیر وغریب کا فرق تو فطری ہے، اسلام نے اسے مٹایا نہیں، پوری طرح جائز رکھا ہے، بعض انبیاءِ سابقین سے قطع نظر، خود ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں میں لکھ پتی بھی گزرے ہیں، اور فاقہ کش بھی، امیر کو پورا حق ہے کہ اپنے دولت سے فائدہ اٹھائے، اور اچھے اچھے کھانے کھائے، لیکن اسراف کا سوال بہر حال رکھا ہوا ہے، اور اعتدال وتوازن بڑی نعمت ہیں، آدمی خود اچھا کھا کر بہتوں کو اس میں شریک کرسکتا ہے اور بہتوں کو اسی طرح کا اچھا یا اس سے کچھ کم اچھا کھلاسکتا ہے، یہ کیا کہ خود تو اتنا اچھا کھالیا کہ اس کی تیاری ہی میں سیکڑوں ہزاروں پھنک گئے، اور سیکڑوں ہزاروں بھائی بند ایسے رہ گئے، جنھیں ان کھانوں کی خوشبو تک نصیب نہ ہوئی! اس کا نام بشریت نہیں، یہ بشریت کے حدود سے تجاوز کر جانا ہے، 30، 35 سال کی بات ہے، مہاراجہ صاحب محمود آباد مرحوم کے ہاں ایک دعوت بڑی دھوم سے ہوئی تھی ( غالبا ان کے یوپی کے ہوم ممبر ہونے پر) اس وقت بھی، برابر یہی سوچتا رہا تھا کہ کھانا بچ کر جتنی مقدار میں جارہا ہے، یہ آخر ہوگا کیا؟ اسی کو اگر تقسیم کردیا جاتا تو دو چار گھر نہیں، ایک آدھ محلہ کے لئے کافی ہوجاتا، اسلام یقینا راہبوں، سنیاسیوں اور ترکِ دنیا کرنے والوں کا مذہب نہیں، لیکن دوسرے طرف وہ مسرفوں اور شکم پرستوں کا بھی مذہب نہیں، کھاؤ اور کھلاؤ، جتنا کھاؤ اتنا کھلاؤ بھی، اس تعلیم پر عمل اگر عام ہوجائے، تو آج کتنی رنجشوں، کتنی خانہ جنگیوں کا خاتمہ ہوجائے، اور یہ عمل کچھ بھی دشوار نہیں، فطرتِ انسانی کی پکار خود اسی جانب ہے، کسی شدید مجاہدہ کی حاجت ہی اس کے لئے نہیں، قارون شامت کے مارے کو اہلِ حق نے جب نصیحت کی، تو یہ نہیں کہا کہ تو دولتِ دنیا پر یکسر لات ماردے، بلکہ یہ کہا کہ :
ولا تنس نصيبك من الدنيا، وأحسن كما أحسن الله إليك ( سورة القصص، آیت 77، پارہ 20)
" دنیا میں جو تیرا حصہ ہے، اسے بھلا نہ دے، ہاں بس اتنا کر کہ جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ حسنِ سلوک کیا ہے، تو بھی دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا رہ " ۔
( ڈھائی ہفتہ پاکستان میں
یا
مبارک سفر
از مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ تعالی ) ۔
Https://telegram.me/ilmokitab
ولا تنس نصيبك من الدنيا، وأحسن كما أحسن الله إليك ( سورة القصص، آیت 77، پارہ 20)
" دنیا میں جو تیرا حصہ ہے، اسے بھلا نہ دے، ہاں بس اتنا کر کہ جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ حسنِ سلوک کیا ہے، تو بھی دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا رہ " ۔
( ڈھائی ہفتہ پاکستان میں
یا
مبارک سفر
از مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ تعالی ) ۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤3👍1
*غلطی ہائے مضامین*
*کیا آتشِ نمرود میں عشق خود کودا تھا؟*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
ان کالموں میں عموماً ’غلطی ہائے مضامین‘ ہی کی درستی کی جاتی ہے، مگر کبھی کبھی ’غلطی ہائے مفاہیم‘ کی درستی کی فرمائش بھی آجاتی ہے۔ کوئی مضائقہ نہیں۔ مفہوم کی غلط فہمی بھی مضمون کی نافہمی سے ہوتی ہے۔ چناں چہ لاہور سے جناب محمداعظم فرمائش کرتے ہیں:
’’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق۔ ایک مذہبی اسکالر کی طرف سے اس شعر پر اعتراض آیا ہے، جس سے سماجی ذرائع ابلاغ میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہے۔ اگر ممکن ہو تو رہنمائی فرمائیں۔ معترض کا کہنا ہے کہ ابراہیم ؑ خود تھوڑا ہی کودے تھے، اُنھیں تو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ لہٰذا یہ بات ہی غلط ہے جو علامہ اقبالؔ نے اس شعر میں باندھی ہے‘‘۔
جن ’مذہبی اسکالر‘ صاحب نے اقبالؔ کے اس شعر پر اعتراض فرمایا ہے، اُن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اُن کو ’مذہبی دانشوری‘ جہیز میں ملی ہے۔ اُن کی شہرت بھی اپنی نہیں، اپنے سسر کی مرہونِ منت ہے۔ واللہ اعلم۔ سسر کا ذکر آگیا ہے تو بتاتے چلیں کہ سسر کو اُردو میں خُسر بھی کہا جاتا ہے، اور خُسر عربی میں خسارے کو کہتے ہیں۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِی خُسْرِ۔
خسارے کے بعد نفعے کی بات بھی کہتے چلیں۔ جس علم و فن سے آگہی نہ ہو، اُس پر کوئی حکم لگادینا قطعاً غیر علمی رویہ ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4774 میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ کا ایک قول نقل ہوا ہے۔ یہ قول ہر اُس شخص کو ہر وقت پیشِ نظر رکھنا چاہیے، جسے ’عالم‘ ہونے یا ’عالم‘ بننے کا دعویٰ ہو۔ سیدنا ابن مسعودؓ کے اُس قول کا اُردو میں مفہوم یہ ہے کہ
’’یہ کہنا بھی ’علم‘ ہی ہے کہ میں نہیں جانتا‘‘۔
اقبالؔ کو جاننے اور اُن کے اشعار کو سمجھنے کے لیے شاعری کی مبادیات کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ اقبالؔ کی استعمال کردہ لفظیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔ اقبال کے شارح کو معلوم ہونا چاہیے کہ ’چراغِ مصطفویؐ‘ سے اقبالؔ کی کیا مراد ہے اور’شرارِ بولہبی‘ وہ کسے کہتے ہیں۔
’عشق‘ بھی اقبالؔ کے اکثر اشعار میں محض عشق نہیں ’ایمانِ کامل‘ کا استعارہ ہے اور’مظاہرِ ایمان‘ کی علامت۔ ’ایمان‘ کے مقابلے میں ’عقل پرستی‘ کو اقبالؔ سختی سے رد کرتے ہیں۔ کالم میں زیادہ گنجائش نہیں، نمونے کے چند اشعار دیکھ لیجے کہ اقبالؔ ’عشق‘ کسے کہتے ہیں:
صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبرِ حسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا
عشق تمام مصطفیؐ، عقل تمام بولہب
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
شیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی
تو ہے زُنّاریِ بت خانۂ ایّام ابھی
تو اقبالؔ کی اصل منزل ’ایمان‘ ہے۔ فلسفی ہونے کے باوجود اقبالؔ ایمان پر ’عقل‘ کی بالادستی قبول نہیں کرتے:
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے
عقل کی دوڑ تو بس ’حواسِ خمسہ‘ تک ہے۔ اس سے آگے کا اسے کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔ اورعقل اکثر اپنے اِس عجز کا اظہار کرتی رہتی ہے کہ ’یہ بات سمجھ میں آئی نہیں‘۔ عقلیت پسندی یا عقلیت پرستی کے گنبد میں قید رہنے والے ’ایمان‘ کے مظاہر کو حیرت اور اچنبھے سے دیکھتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ عقل تو اسے تسلیم نہیں کرتی۔ عقلاً یہ محال ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ارے بھائی! ’معجزہ‘ تو کہتے ہی اُس مظاہرے کو ہیں جوعقل پرستوں کی عقلِ عاجز کو مزید عاجز کرکے رکھ دیتا ہے۔ بقول مولانا ظفرؔ علی خان:
وہ جنس نہیں ایمان، جسے لے آئیں دُکانِ فلسفہ سے
ڈھونڈے سے ملے گی عاقِل کو، یہ قرآں کے سیپاروں میں
عقل کے عجز کا یہی مظاہرہ اقبالؔ کے مصرعے ’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق‘ کی ’عقلی تعبیر‘ کرتے ہوئے بھی کیا گیا ہے۔ کتنا سطحی اوربچکانہ اعتراض ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام آتشِ نمرود میں خود کہاں کودے تھے، انھیں تو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ ’’ارے بھئی کیوں پھینکا گیا تھا؟‘‘ کسی کم عقل بچے سے بھی پوچھیے تو یہی جواب دے گا:
’’کیوں کہ آپؑ نے مشرکین کے معبود پاش پاش کردیے تھے‘‘۔
بتوں کو پاش پاش کردینے کا یہی عمل تو خطرات میں کودنے کے مترادف تھا۔ وہاں کوئی ’عقل پِیٹا‘ موجودہوتا تو ضرور عقل دیتا کہ
’’اے ابنِ آزر! بت پرست طاقتور ہیں، بااختیار ہیں، برسراقتدار ہیں، اُن سے اِس وقت’پنگا‘ لینا خلافِ عقل ہوگا۔ تم اکیلے ہو، کہیں الگ، کسی گوشے میں بیٹھ کر ’اللہ اللہ‘ کرتے رہو۔ ریاست کی ’رِٹ‘ کو چیلنج نہ کرو۔ تم نبی ہو، سیاست کرنا تمھارا کام نہیں ہے‘‘۔ وغیرہ
*کیا آتشِ نمرود میں عشق خود کودا تھا؟*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
ان کالموں میں عموماً ’غلطی ہائے مضامین‘ ہی کی درستی کی جاتی ہے، مگر کبھی کبھی ’غلطی ہائے مفاہیم‘ کی درستی کی فرمائش بھی آجاتی ہے۔ کوئی مضائقہ نہیں۔ مفہوم کی غلط فہمی بھی مضمون کی نافہمی سے ہوتی ہے۔ چناں چہ لاہور سے جناب محمداعظم فرمائش کرتے ہیں:
’’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق۔ ایک مذہبی اسکالر کی طرف سے اس شعر پر اعتراض آیا ہے، جس سے سماجی ذرائع ابلاغ میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہے۔ اگر ممکن ہو تو رہنمائی فرمائیں۔ معترض کا کہنا ہے کہ ابراہیم ؑ خود تھوڑا ہی کودے تھے، اُنھیں تو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ لہٰذا یہ بات ہی غلط ہے جو علامہ اقبالؔ نے اس شعر میں باندھی ہے‘‘۔
جن ’مذہبی اسکالر‘ صاحب نے اقبالؔ کے اس شعر پر اعتراض فرمایا ہے، اُن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اُن کو ’مذہبی دانشوری‘ جہیز میں ملی ہے۔ اُن کی شہرت بھی اپنی نہیں، اپنے سسر کی مرہونِ منت ہے۔ واللہ اعلم۔ سسر کا ذکر آگیا ہے تو بتاتے چلیں کہ سسر کو اُردو میں خُسر بھی کہا جاتا ہے، اور خُسر عربی میں خسارے کو کہتے ہیں۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِی خُسْرِ۔
خسارے کے بعد نفعے کی بات بھی کہتے چلیں۔ جس علم و فن سے آگہی نہ ہو، اُس پر کوئی حکم لگادینا قطعاً غیر علمی رویہ ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4774 میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ کا ایک قول نقل ہوا ہے۔ یہ قول ہر اُس شخص کو ہر وقت پیشِ نظر رکھنا چاہیے، جسے ’عالم‘ ہونے یا ’عالم‘ بننے کا دعویٰ ہو۔ سیدنا ابن مسعودؓ کے اُس قول کا اُردو میں مفہوم یہ ہے کہ
’’یہ کہنا بھی ’علم‘ ہی ہے کہ میں نہیں جانتا‘‘۔
اقبالؔ کو جاننے اور اُن کے اشعار کو سمجھنے کے لیے شاعری کی مبادیات کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ اقبالؔ کی استعمال کردہ لفظیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔ اقبال کے شارح کو معلوم ہونا چاہیے کہ ’چراغِ مصطفویؐ‘ سے اقبالؔ کی کیا مراد ہے اور’شرارِ بولہبی‘ وہ کسے کہتے ہیں۔
’عشق‘ بھی اقبالؔ کے اکثر اشعار میں محض عشق نہیں ’ایمانِ کامل‘ کا استعارہ ہے اور’مظاہرِ ایمان‘ کی علامت۔ ’ایمان‘ کے مقابلے میں ’عقل پرستی‘ کو اقبالؔ سختی سے رد کرتے ہیں۔ کالم میں زیادہ گنجائش نہیں، نمونے کے چند اشعار دیکھ لیجے کہ اقبالؔ ’عشق‘ کسے کہتے ہیں:
صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبرِ حسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا
عشق تمام مصطفیؐ، عقل تمام بولہب
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
شیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی
تو ہے زُنّاریِ بت خانۂ ایّام ابھی
تو اقبالؔ کی اصل منزل ’ایمان‘ ہے۔ فلسفی ہونے کے باوجود اقبالؔ ایمان پر ’عقل‘ کی بالادستی قبول نہیں کرتے:
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے
عقل کی دوڑ تو بس ’حواسِ خمسہ‘ تک ہے۔ اس سے آگے کا اسے کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔ اورعقل اکثر اپنے اِس عجز کا اظہار کرتی رہتی ہے کہ ’یہ بات سمجھ میں آئی نہیں‘۔ عقلیت پسندی یا عقلیت پرستی کے گنبد میں قید رہنے والے ’ایمان‘ کے مظاہر کو حیرت اور اچنبھے سے دیکھتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ عقل تو اسے تسلیم نہیں کرتی۔ عقلاً یہ محال ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ارے بھائی! ’معجزہ‘ تو کہتے ہی اُس مظاہرے کو ہیں جوعقل پرستوں کی عقلِ عاجز کو مزید عاجز کرکے رکھ دیتا ہے۔ بقول مولانا ظفرؔ علی خان:
وہ جنس نہیں ایمان، جسے لے آئیں دُکانِ فلسفہ سے
ڈھونڈے سے ملے گی عاقِل کو، یہ قرآں کے سیپاروں میں
عقل کے عجز کا یہی مظاہرہ اقبالؔ کے مصرعے ’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق‘ کی ’عقلی تعبیر‘ کرتے ہوئے بھی کیا گیا ہے۔ کتنا سطحی اوربچکانہ اعتراض ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام آتشِ نمرود میں خود کہاں کودے تھے، انھیں تو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ ’’ارے بھئی کیوں پھینکا گیا تھا؟‘‘ کسی کم عقل بچے سے بھی پوچھیے تو یہی جواب دے گا:
’’کیوں کہ آپؑ نے مشرکین کے معبود پاش پاش کردیے تھے‘‘۔
بتوں کو پاش پاش کردینے کا یہی عمل تو خطرات میں کودنے کے مترادف تھا۔ وہاں کوئی ’عقل پِیٹا‘ موجودہوتا تو ضرور عقل دیتا کہ
’’اے ابنِ آزر! بت پرست طاقتور ہیں، بااختیار ہیں، برسراقتدار ہیں، اُن سے اِس وقت’پنگا‘ لینا خلافِ عقل ہوگا۔ تم اکیلے ہو، کہیں الگ، کسی گوشے میں بیٹھ کر ’اللہ اللہ‘ کرتے رہو۔ ریاست کی ’رِٹ‘ کو چیلنج نہ کرو۔ تم نبی ہو، سیاست کرنا تمھارا کام نہیں ہے‘‘۔ وغیرہ
مگر اُس نوجوان نے جس کا نام ابراہیم ؑ تھا اور جس نے ہر معبودِ باطل سے منہ موڑ کر صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کی طرف اپنے آپ کو یکسو کرلیا تھا، تن تنہا وقت کے نمرود سے بھی ’پنگا‘ لے لیا۔جب ’بت شکنی کے جرم‘ میں آپؑ کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا اور اُس نے پوچھا:
’’تُو ہمارے باپ دادا کے دین کی مخالفت کیوں کرتا ہے اور مجھ کو رب ماننے سے کیوں انکار کرتا ہے؟‘‘
توسیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
’’میں صرف ایک اللہ کو اپنا رب مانتا ہوں۔ کسی کو اُس کا شریک نہیں ٹھہراتا۔ ساری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق و مالک وہی ہے۔تیرا رب بھی وہی ہے‘‘۔
نمرود نے کہا:’
’اگر میرے علاوہ کوئی رب ہے تو اُس کی کوئی ایسی صفت بیان کرجو مجھ میں نہ ہو‘‘۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
’’میرا رب وہ ہے جو لوگوں کو زندگی بخشتا ہے اور وہی لوگوں کو موت دیتا ہے‘‘۔
نمرود نے کہا:
’’یہ کام تو میں بھی کرتا ہوں۔میں بھی لوگوں کو زندگی بخشتا ہوں اور لوگوں کو موت دیتا ہوں‘‘۔
اب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اُس ’عقل مند‘کو زندگی اور موت کا فلسفہ سمجھانے میں وقت برباد کرنے کے بجائے فرمایا:
’’اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، (اگر تُو رب ہے تو) تُو اسے مغرب سے نکال کر دکھا دے‘‘۔
یہ سنتے ہی وہ کافر بھونچکا رہ گیا، اُس کے ہوش اُڑ گئے، ہکا بکا اور لاجواب ہو گیا۔تواس ’پنگے‘ کا کیا نتیجہ نکلنا تھا؟ کابینہ نے فیصلہ کیا:
’’اگر تم اپنے دیوتاؤں کی مدد کرنا چاہتے ہو توآگ کاایک الاؤ بھڑکاؤ اوراس کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو‘‘۔
اس فیصلے پر بھی، عشقِ الٰہی کی مثال بن جانے والے خلیل اللہ ؑ نے ’عقل کے خلاف‘ ہی کام کیا۔کوئی مصالحت کی نہ کسی مصلحت سے کام لیا، کوئی معافی نامہ لکھا نہ اُس نمرود سے جان کی امان چاہی، بلکہ اپنے ایمان پر ڈٹے رہے، آخر:
’’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق‘‘
Https://telegram.me/ilmokitab
’’تُو ہمارے باپ دادا کے دین کی مخالفت کیوں کرتا ہے اور مجھ کو رب ماننے سے کیوں انکار کرتا ہے؟‘‘
توسیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
’’میں صرف ایک اللہ کو اپنا رب مانتا ہوں۔ کسی کو اُس کا شریک نہیں ٹھہراتا۔ ساری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق و مالک وہی ہے۔تیرا رب بھی وہی ہے‘‘۔
نمرود نے کہا:’
’اگر میرے علاوہ کوئی رب ہے تو اُس کی کوئی ایسی صفت بیان کرجو مجھ میں نہ ہو‘‘۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
’’میرا رب وہ ہے جو لوگوں کو زندگی بخشتا ہے اور وہی لوگوں کو موت دیتا ہے‘‘۔
نمرود نے کہا:
’’یہ کام تو میں بھی کرتا ہوں۔میں بھی لوگوں کو زندگی بخشتا ہوں اور لوگوں کو موت دیتا ہوں‘‘۔
اب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اُس ’عقل مند‘کو زندگی اور موت کا فلسفہ سمجھانے میں وقت برباد کرنے کے بجائے فرمایا:
’’اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، (اگر تُو رب ہے تو) تُو اسے مغرب سے نکال کر دکھا دے‘‘۔
یہ سنتے ہی وہ کافر بھونچکا رہ گیا، اُس کے ہوش اُڑ گئے، ہکا بکا اور لاجواب ہو گیا۔تواس ’پنگے‘ کا کیا نتیجہ نکلنا تھا؟ کابینہ نے فیصلہ کیا:
’’اگر تم اپنے دیوتاؤں کی مدد کرنا چاہتے ہو توآگ کاایک الاؤ بھڑکاؤ اوراس کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو‘‘۔
اس فیصلے پر بھی، عشقِ الٰہی کی مثال بن جانے والے خلیل اللہ ؑ نے ’عقل کے خلاف‘ ہی کام کیا۔کوئی مصالحت کی نہ کسی مصلحت سے کام لیا، کوئی معافی نامہ لکھا نہ اُس نمرود سے جان کی امان چاہی، بلکہ اپنے ایمان پر ڈٹے رہے، آخر:
’’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق‘‘
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
👍1
*وفیات مورخہ: 16/مئی*
1926ء محمد وحید الدین۔ آخری خلیفہ عثمانی
1953ء خورشید احمد چشتی۔ پروفیسر ،
1983ء سکندر علی وجد۔ شاعر
1983ء سکندر علی وجد۔ شاعر
1985ء سید اعجاز علی۔ خان بہادر ،
2000ء غلام علی اوکاڑوی۔ شیخ القرآن (بریلوی مکتب فکر)
2005ء ابرار الحق حقی (ہردوئی)۔ حضرت مولانا شاہ، خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی
2006ء مجیب اللہ ندوی۔ مولانا ، بانی جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ
2009ء موہنی حمید۔ ریڈیو اناونسر
2013ء انوار احمد۔ ،
2019ء جمیل نقش۔ مصور
2021ء نسیم ولی خان۔ قائد عوامی نیشنل پارٹی
Https://telegram.me/ilmokitab
1926ء محمد وحید الدین۔ آخری خلیفہ عثمانی
1953ء خورشید احمد چشتی۔ پروفیسر ،
1983ء سکندر علی وجد۔ شاعر
1983ء سکندر علی وجد۔ شاعر
1985ء سید اعجاز علی۔ خان بہادر ،
2000ء غلام علی اوکاڑوی۔ شیخ القرآن (بریلوی مکتب فکر)
2005ء ابرار الحق حقی (ہردوئی)۔ حضرت مولانا شاہ، خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی
2006ء مجیب اللہ ندوی۔ مولانا ، بانی جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ
2009ء موہنی حمید۔ ریڈیو اناونسر
2013ء انوار احمد۔ ،
2019ء جمیل نقش۔ مصور
2021ء نسیم ولی خان۔ قائد عوامی نیشنل پارٹی
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
دہلوی تہذیب کے نمائندہ ڈاکٹر فیروز دہلوی کا انتقال
سہیل انجم
نئی دہلی۔ ذاکر حسین کالج نئی دہلی کے سابق استاد، متعدد کتابوں کے مصنف اور دہلوی تہذیب کے نمائندہ ڈاکٹر فیروز دہلوی کا آج دہلی میں انتقال ہو گیا۔ وہ 84 سال کے تھے اور لاولد تھے۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین ہفتے کی صبح دس بجے دہلی گیٹ قبرستان میں ہوگی۔
وہ ایک عرصے سے صاحب فراش تھے۔ کچھ دنوں قبل ان کو دل کا دورہ پڑا تھا اور انھیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ پھر وہ اپنے گھر آگئے تھے۔ وہ دہلی کی تاریخ، زبان اور تہذیب پر اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ یوں تو انھوں نے متعدد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ لیکن انھیں ”میر مہدی مجروح“ اور ”لندن کی ایک رات کا خصوصی مطالعہ و تجزیہ“ پر فخر تھا۔ انھیں ادبی خدمات کے لیے متعدد ایوارڈ حاصل ہوئے تھے جن میں دہلی اردو اکادمی کا پنڈت دتا تریا کیفی ایوارڈ قابل ذکر ہے۔ متعدد ادیبوں اور صحافیوں نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ بزرگ صحافی مودود صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر فیروز دہلوی کا انتقال دہلی تاریخ و تہذیب کا زبردست خسارہ ہے۔ ان کے شاگرد اور ذاکر حسین کالج میں استا پروفیسر مظہر احمد نے کہا کہ وہ مجھے اپنے بیٹے کی طرح مانتے تھے۔ میں نے ان کی ترغیب پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔ سینئر صحافی سہیل انجم نے کہا کہ دہلی کی تاریخ کے بارے میں ان سے اکثر و بیشتر ہونے والی گفتگو سے میرے معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔
https://telegram.me/ilmokitab
سہیل انجم
نئی دہلی۔ ذاکر حسین کالج نئی دہلی کے سابق استاد، متعدد کتابوں کے مصنف اور دہلوی تہذیب کے نمائندہ ڈاکٹر فیروز دہلوی کا آج دہلی میں انتقال ہو گیا۔ وہ 84 سال کے تھے اور لاولد تھے۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین ہفتے کی صبح دس بجے دہلی گیٹ قبرستان میں ہوگی۔
وہ ایک عرصے سے صاحب فراش تھے۔ کچھ دنوں قبل ان کو دل کا دورہ پڑا تھا اور انھیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ پھر وہ اپنے گھر آگئے تھے۔ وہ دہلی کی تاریخ، زبان اور تہذیب پر اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ یوں تو انھوں نے متعدد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ لیکن انھیں ”میر مہدی مجروح“ اور ”لندن کی ایک رات کا خصوصی مطالعہ و تجزیہ“ پر فخر تھا۔ انھیں ادبی خدمات کے لیے متعدد ایوارڈ حاصل ہوئے تھے جن میں دہلی اردو اکادمی کا پنڈت دتا تریا کیفی ایوارڈ قابل ذکر ہے۔ متعدد ادیبوں اور صحافیوں نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ بزرگ صحافی مودود صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر فیروز دہلوی کا انتقال دہلی تاریخ و تہذیب کا زبردست خسارہ ہے۔ ان کے شاگرد اور ذاکر حسین کالج میں استا پروفیسر مظہر احمد نے کہا کہ وہ مجھے اپنے بیٹے کی طرح مانتے تھے۔ میں نے ان کی ترغیب پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔ سینئر صحافی سہیل انجم نے کہا کہ دہلی کی تاریخ کے بارے میں ان سے اکثر و بیشتر ہونے والی گفتگو سے میرے معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
حضرت مولانا ابرار الحق حقی رحمۃ اللہ خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخ وفات مورخہ ۱۶ مئی ۲۰۰۵ء، کی مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک مجلس کی ریکارڈنگ پیش خدمت ہے۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=majlis-dubai-majlis-01, Majlis Dubai Majlis 01
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=majlis-dubai-majlis-01, Majlis Dubai Majlis 01
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
حاصل مطالعہ: ١٠
سکون حاصل کرنے کا راستہ
یہ پیسہ یہ ساز و سامان یہ مال و دولت جو کچھ جمع کر رہے ہو، یہ بذاتِ خود راحت دینے والی چیز نہیں ہے، راحت پیسے سے خریدی نہیں جا سکتی، وہ محض اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ جب تک قناعت پیدا نہیں ہوگی، اور جب تک یہ خیال پیدا نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ حلال طریقے سے جتنا مجھے دے رہے ہیں، اسی سے میرا کام چل رہا ہے، اس وقت تک سکون حاصل نہیں ہوگا، ورنہ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس دولت بے حساب ہے لیکن ایک لمحہ کا سکون نہیں، ایک لمحہ کا قرار نہیں، رات کو نیند نہیں آتی، یہ سب دنیا کی دوڑ کا نتیجہ ہے، اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ: دنیا کے معاملے میں اپنے سے اونچے کو نہ دیکھو کہ وہ کہاں جا رہا ہے، بلکہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھو کیونکہ ان کے مقابلے میں جس میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں رکھا ہے، اس کے ذریعے تمہیں قرار آئے گا، تمہیں راحت ملے گی اور سکون حاصل ہوگا۔ لیکن دین کے معاملے میں اپنے سے اونچے کو دیکھو، کیوں؟ اس لئے کہ اس کے ذریعے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوگا، اور آگے بڑھنے کی بےتابی پیدا ہوگی، لیکن یہ بے تابی بڑی لذیذ بے تابی ہے، اور اس کے مقابلے میں دنیا جمع کرنے کی بے تابی اور بے چینی تکلیف دہ ہے، وہ پریشان کن ہے، وہ راتوں کی نیند اڑا دیتی ہے، وہ بھوک اڑا دیتی ہے،
لیکن دین کے لیے جو بےتابی میں رہے وہ بڑی مزیدار ہے بڑی لذیذ ہے۔ اگر انسان ساری عمر اسی بے تابی میں رہے تب بھی وہ لذت میں رہے گا، راحت اور سکون میں رہے گا، لیکن ہماری ساری زندگی کا پہیہ الٹا چل رہا ہے، اللہ تعالی اس فکر کو درست فرمائے، ہمارے دلوں کو درست فرمائے، جو راستہ اللہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے اس پر اللہ تعالی ہمیں چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب)
اصلاحی خطبات
جلد اول، صفحہ (٧٣- ٧٤)
ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی
سکون حاصل کرنے کا راستہ
یہ پیسہ یہ ساز و سامان یہ مال و دولت جو کچھ جمع کر رہے ہو، یہ بذاتِ خود راحت دینے والی چیز نہیں ہے، راحت پیسے سے خریدی نہیں جا سکتی، وہ محض اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ جب تک قناعت پیدا نہیں ہوگی، اور جب تک یہ خیال پیدا نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ حلال طریقے سے جتنا مجھے دے رہے ہیں، اسی سے میرا کام چل رہا ہے، اس وقت تک سکون حاصل نہیں ہوگا، ورنہ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس دولت بے حساب ہے لیکن ایک لمحہ کا سکون نہیں، ایک لمحہ کا قرار نہیں، رات کو نیند نہیں آتی، یہ سب دنیا کی دوڑ کا نتیجہ ہے، اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ: دنیا کے معاملے میں اپنے سے اونچے کو نہ دیکھو کہ وہ کہاں جا رہا ہے، بلکہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھو کیونکہ ان کے مقابلے میں جس میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں رکھا ہے، اس کے ذریعے تمہیں قرار آئے گا، تمہیں راحت ملے گی اور سکون حاصل ہوگا۔ لیکن دین کے معاملے میں اپنے سے اونچے کو دیکھو، کیوں؟ اس لئے کہ اس کے ذریعے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوگا، اور آگے بڑھنے کی بےتابی پیدا ہوگی، لیکن یہ بے تابی بڑی لذیذ بے تابی ہے، اور اس کے مقابلے میں دنیا جمع کرنے کی بے تابی اور بے چینی تکلیف دہ ہے، وہ پریشان کن ہے، وہ راتوں کی نیند اڑا دیتی ہے، وہ بھوک اڑا دیتی ہے،
لیکن دین کے لیے جو بےتابی میں رہے وہ بڑی مزیدار ہے بڑی لذیذ ہے۔ اگر انسان ساری عمر اسی بے تابی میں رہے تب بھی وہ لذت میں رہے گا، راحت اور سکون میں رہے گا، لیکن ہماری ساری زندگی کا پہیہ الٹا چل رہا ہے، اللہ تعالی اس فکر کو درست فرمائے، ہمارے دلوں کو درست فرمائے، جو راستہ اللہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے اس پر اللہ تعالی ہمیں چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب)
اصلاحی خطبات
جلد اول، صفحہ (٧٣- ٧٤)
ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی
*حضرت مولانا ابر ار الحق حقی رحمۃ اللہ علیہ اور بھٹکل*
*تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)*
*قسط (1)*
*مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ سنہ 1977ء میں سرپرستان جامعہ حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ سے لکھنو اور ہردوئی میں ملاقات کرکے آرہے تھے تو مولانا ابرار الحقؒ نے آپ کے ساتھ اشرف المدارس ہردوئی سے تکمیل حفظ کرنے والے ایک تجربہ کار مسترشد پیہانی کے حافظ کبیر الدین صاحب کو ہدایت کی کہ مولانا شہباز صاحب کے ساتھ تین ماہ کے لئے بھٹکل ہوآئیں، اور وہاں پر حفظ قرآن کا درجہ منظم کرنے کی کوشش کریں۔*
مکمل مضمون پڑھیے اس لنک پر
https://links.fikrokhabar.com/05549b9a
*تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)*
*قسط (1)*
*مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ سنہ 1977ء میں سرپرستان جامعہ حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ سے لکھنو اور ہردوئی میں ملاقات کرکے آرہے تھے تو مولانا ابرار الحقؒ نے آپ کے ساتھ اشرف المدارس ہردوئی سے تکمیل حفظ کرنے والے ایک تجربہ کار مسترشد پیہانی کے حافظ کبیر الدین صاحب کو ہدایت کی کہ مولانا شہباز صاحب کے ساتھ تین ماہ کے لئے بھٹکل ہوآئیں، اور وہاں پر حفظ قرآن کا درجہ منظم کرنے کی کوشش کریں۔*
مکمل مضمون پڑھیے اس لنک پر
https://links.fikrokhabar.com/05549b9a
فکرو خبر نیوز
حضرت مولانا ابر ار الحق حقی رحمۃ اللہ
یہ تحریر 1969ء سے شروع ہونے والے ان واقعات کا احاطہ کرتی ہے جب حضرت مولانا ابرار الحق حقیؒ پہلی بار بھٹکل تشریف لائے۔ مضمون میں جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی ابتدائی منزلوں، اکابرینِ
❤1
وفیات مورخہ: 19/مئی
1817ء انشاء اللہ خان انشاء۔
1936ء مار ما ڈیوک پکتھال۔ مترجم قرآن
1936ء محمد مار ماڈیوک پکتھال۔ مترجم قرآن
1958ء جادو ناتھ سرکار۔ بنگالی مورخ
1973ء حسن مامون ۔ شیخ الازہر
1974ء محمد عبد الجلیل فریدی۔ ڈاکٹر، بانی مسلم مجلس یوپی
2001ء انتظار حسین ۔ ادیب
2008ء اقبال مہدی (سید اقبال مہدی نقوی)۔ ،
2010ء ماجد حسین رضوی۔ ،
2012ء بیگم اختر بیگانہ۔ ،
2018ء برنارڈ لویس۔ برطانوی مستشرق
2018ء صدیق فتح پوری۔ شاعر
2020ء سعید احمد پالنپوری۔ مولانا مفتی ، شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند
Https://telegram.me/ilmokitab
1817ء انشاء اللہ خان انشاء۔
1936ء مار ما ڈیوک پکتھال۔ مترجم قرآن
1936ء محمد مار ماڈیوک پکتھال۔ مترجم قرآن
1958ء جادو ناتھ سرکار۔ بنگالی مورخ
1973ء حسن مامون ۔ شیخ الازہر
1974ء محمد عبد الجلیل فریدی۔ ڈاکٹر، بانی مسلم مجلس یوپی
2001ء انتظار حسین ۔ ادیب
2008ء اقبال مہدی (سید اقبال مہدی نقوی)۔ ،
2010ء ماجد حسین رضوی۔ ،
2012ء بیگم اختر بیگانہ۔ ،
2018ء برنارڈ لویس۔ برطانوی مستشرق
2018ء صدیق فتح پوری۔ شاعر
2020ء سعید احمد پالنپوری۔ مولانا مفتی ، شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
*حضرت مولانا ابر ار الحق حقی رحمۃ اللہ علیہ اور بھٹکل*
قسط (2)
*تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)*
حضرت جب بھٹکل تشریف لاتے تھے تو یہاں کی فضاؤں میں ایک عجیب روحانی ماحول کا احساس ہوتا تھا، آپ ناریل کی مانند تھے جس کا خول سخت ہوتا ہے۔ لیکن اندرون میٹھا ملائم گودا اورقدرتی شربت ہوتا ہے۔ آپ جب آتے------
*مزید پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں👇👇👇*
https://links.fikrokhabar.com/f0a77a52
قسط (2)
*تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)*
حضرت جب بھٹکل تشریف لاتے تھے تو یہاں کی فضاؤں میں ایک عجیب روحانی ماحول کا احساس ہوتا تھا، آپ ناریل کی مانند تھے جس کا خول سخت ہوتا ہے۔ لیکن اندرون میٹھا ملائم گودا اورقدرتی شربت ہوتا ہے۔ آپ جب آتے------
*مزید پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں👇👇👇*
https://links.fikrokhabar.com/f0a77a52
فکرو خبر نیوز
حضرت مولانا ابر ار الحق حقی رحمۃ اللہ
تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل) قسط (2) حضرت جب بھٹکل تشریف لاتے تھے تو یہاں کی فضاؤں میں ایک عجیب روحانی ماحول کا احساس ہوتا تھا، آپ ناریل کی مانند تھے جس کا خول سخت ہوتا
عہدِ خلافت میں حج کا سیاسی و عدالتی کردار
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
مسلمان، ڈیڑھ سو برس تک، جب تک، ایک نظمِ حکومت یا خلافت کے ماتحت رہے، یہ حج کا موسم، ان کی سیاسی اور تنظیمی ادارہ کا سب سے بڑا عنصر رہا۔ یہ وہ زمانہ ہوتا تھا، جس میں امورِ خلافت کے تمام اہم معاملات طے پاتے تھے، اسین سے لے کر سندھ تک، مختلف ملکوں کے حکام اور والی جمع ہوتے تھے۔ اور خلیفہ کے سامنے مسائل پر بحث کرتے تھے۔ اور طریقِ عمل طے کرتے تھے اور مختلف ملکوں کی رعایا آکر اگر اپنے والیوں اور حاکموں سے کچھ شکایتیں ہوتی تھیں۔ تو ان کو خلیفہ کی عدالت میں پیش کرتی تھی۔ اور انصاف پاتی تھی۔
(سیرت النبی ﷺ، جلد پنجم/صفحہ: ۲۰۸/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:
مسلمان، ڈیڑھ سو برس تک، جب تک، ایک نظمِ حکومت یا خلافت کے ماتحت رہے، یہ حج کا موسم، ان کی سیاسی اور تنظیمی ادارہ کا سب سے بڑا عنصر رہا۔ یہ وہ زمانہ ہوتا تھا، جس میں امورِ خلافت کے تمام اہم معاملات طے پاتے تھے، اسین سے لے کر سندھ تک، مختلف ملکوں کے حکام اور والی جمع ہوتے تھے۔ اور خلیفہ کے سامنے مسائل پر بحث کرتے تھے۔ اور طریقِ عمل طے کرتے تھے اور مختلف ملکوں کی رعایا آکر اگر اپنے والیوں اور حاکموں سے کچھ شکایتیں ہوتی تھیں۔ تو ان کو خلیفہ کی عدالت میں پیش کرتی تھی۔ اور انصاف پاتی تھی۔
(سیرت النبی ﷺ، جلد پنجم/صفحہ: ۲۰۸/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
💯1
علامہ محمد البشیر الابراہیمی۔ عظیم مجاہد الجزائری تحریک آزادی
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج مورخہ ۲۰/ مئی جزائری مجاہد و جلیل القدر عالم دین علامہ محمد بن بشیر بن الابراہیمی کا یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات سنہ ۱۹۶۵ء میں ہوئی تھی ۔
"علامہ ابراہیمی فقہ، شریعت، زبان اور ادب کے عالم تھے، اور ایک ایسے جادو بیاں (فصیح و بلیغ) خطیب اور عظیم شاعر تھے جو اپنے الفاظ کی فصاحت و بلاغت سے منبروں کو ہلا کر رکھ دیتے تھے، اور اپنی شاعری کی طاقت سے جذبات کو ابھارتے تھے۔ جب وہ خطبہ دیتے تو اپنی گرج میں حملہ آور شیراور اپنے جوش و خروش میں ابلتے ہوئے آتش فشاں کی مانند ہوتے، جو دلوں کو موہ لیتے اور کانوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے۔ وہ کلمہِ حق کے ساتھ گرجتے تھے اور دلیل کی طاقت، واضح ثبوت، الفاظ کی فصاحت اور بیان کی شیرینی کے ساتھ اسلام کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔"(محمدعبد اللہ العقیل)
آپ کو الجزائر کے علماء کی انجمن (جمعية العلماء المسلمين الجزائريين) کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ وہ قسنطینہ کے علاقے میں واقع سطیف (اصطیف) کے قصبے کے ریغہ قبیلے میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی، یہ قبیلہ اولاد ابراہیم (ابن یحییٰ بن مساہل) کے نام سے مشہور ہے۔ انہوں نے مشرق کے سفر (1911ء) کے دوران فقہ اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ وہ 1917ء تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے، جہاں آپ کو شیخ ابن بادیس (عبد الحمید بن محمد) کی رفاقت حاصل ہوئی، مدینہ منورہ کی اس رفاقت کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ
اور وہ مدینہ منورہ میں اپنے بھائی شیخ عبدالحمید بن بادیس سے اپنی ملاقات کے بارے میں کہتے ہیں: «ہم ہر رات مسجدِ نبوی میں عشاء کی آخری فرض نماز ادا کرتے تھے، اور پھر میرے گھر کی طرف نکل جاتے تھے۔ چناچہ میں رات کے آخری پہر تک شیخ ابن بادیس کے ساتھ تنہائی میں رات کی گفتگو (راز و نیاز) کرتا، پھر ہم مسجد کھلنے پر نمازِ فجر کے لیے سب سے پہلے داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوتے، اور پھر اگلی رات تک کے لیے جدا ہو جاتے۔ یہ سلسلہ ان تین مہینوں کے اختتام تک جاری رہا جو شیخ نے مدینہ منورہ میں گزارے تھے۔ اور یہ مسلسل راتوں کی گفتگو ان ذرائع کی منصوبہ بندی کے لیے تھی جن کے ذریعے الجزائر میں بیداری پیدا کی جائے، اور ان جامع تحریکوں کے لیے مفصل پروگرام وضع کیے جائیں جو اس وقت ہمارے ذہنوں میں محض کچھ تصورات کی شکل میں گھوم رہے تھے۔ پھر نیت کی اچھائی اور اللہ کی توفیق سے، انہوں نے چند سالوں بعد اسے حقیقت کا روپ دے دیا۔ اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ سنہ 1913 عیسوی کی وہی راتیں تھیں جن میں 'جمعیت العلماء المسلمین الجزائریین' (الجزائر کے مسلم علماء کی انجمن) کی پہلی بنیاد رکھی گئی تھی، جو سنہ 1931 عیسوی سے پہلے دنیا کے سامنے ظاہر نہ ہو سکی تھی»۔"
مدینہ منورہ کے اسی قیام کے دوران آپ کے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ سے تعلقات قائم کرنے اور فیض حاصل کرنے کا موقعہ ملا، حضرت مدنی نے آپ کو حدیث کی سند اجازت بھی عطا کی تھی۔ اور اپنے وطن میں رہ کر فرانسیسی سامراج کے خلاف جدو جہد کی تحریک پیدا کی تھی۔ شمالی افریقہ میں فرانسیسی اور اطالوی سامراج کا غلبہ تھا، یہ برطانوی سامراج سے کئی گنا زیادہ سنگدل اور بے درد سامراج تھا، اور شمال افریقہ الجزائر، تونس، اور لیبیا کی جد وجہاد آزادی برصغیر سے کئی گنا ظالم تھا۔
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج مورخہ ۲۰/ مئی جزائری مجاہد و جلیل القدر عالم دین علامہ محمد بن بشیر بن الابراہیمی کا یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات سنہ ۱۹۶۵ء میں ہوئی تھی ۔
"علامہ ابراہیمی فقہ، شریعت، زبان اور ادب کے عالم تھے، اور ایک ایسے جادو بیاں (فصیح و بلیغ) خطیب اور عظیم شاعر تھے جو اپنے الفاظ کی فصاحت و بلاغت سے منبروں کو ہلا کر رکھ دیتے تھے، اور اپنی شاعری کی طاقت سے جذبات کو ابھارتے تھے۔ جب وہ خطبہ دیتے تو اپنی گرج میں حملہ آور شیراور اپنے جوش و خروش میں ابلتے ہوئے آتش فشاں کی مانند ہوتے، جو دلوں کو موہ لیتے اور کانوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے۔ وہ کلمہِ حق کے ساتھ گرجتے تھے اور دلیل کی طاقت، واضح ثبوت، الفاظ کی فصاحت اور بیان کی شیرینی کے ساتھ اسلام کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔"(محمدعبد اللہ العقیل)
آپ کو الجزائر کے علماء کی انجمن (جمعية العلماء المسلمين الجزائريين) کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ وہ قسنطینہ کے علاقے میں واقع سطیف (اصطیف) کے قصبے کے ریغہ قبیلے میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی، یہ قبیلہ اولاد ابراہیم (ابن یحییٰ بن مساہل) کے نام سے مشہور ہے۔ انہوں نے مشرق کے سفر (1911ء) کے دوران فقہ اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ وہ 1917ء تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے، جہاں آپ کو شیخ ابن بادیس (عبد الحمید بن محمد) کی رفاقت حاصل ہوئی، مدینہ منورہ کی اس رفاقت کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ
اور وہ مدینہ منورہ میں اپنے بھائی شیخ عبدالحمید بن بادیس سے اپنی ملاقات کے بارے میں کہتے ہیں: «ہم ہر رات مسجدِ نبوی میں عشاء کی آخری فرض نماز ادا کرتے تھے، اور پھر میرے گھر کی طرف نکل جاتے تھے۔ چناچہ میں رات کے آخری پہر تک شیخ ابن بادیس کے ساتھ تنہائی میں رات کی گفتگو (راز و نیاز) کرتا، پھر ہم مسجد کھلنے پر نمازِ فجر کے لیے سب سے پہلے داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوتے، اور پھر اگلی رات تک کے لیے جدا ہو جاتے۔ یہ سلسلہ ان تین مہینوں کے اختتام تک جاری رہا جو شیخ نے مدینہ منورہ میں گزارے تھے۔ اور یہ مسلسل راتوں کی گفتگو ان ذرائع کی منصوبہ بندی کے لیے تھی جن کے ذریعے الجزائر میں بیداری پیدا کی جائے، اور ان جامع تحریکوں کے لیے مفصل پروگرام وضع کیے جائیں جو اس وقت ہمارے ذہنوں میں محض کچھ تصورات کی شکل میں گھوم رہے تھے۔ پھر نیت کی اچھائی اور اللہ کی توفیق سے، انہوں نے چند سالوں بعد اسے حقیقت کا روپ دے دیا۔ اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ سنہ 1913 عیسوی کی وہی راتیں تھیں جن میں 'جمعیت العلماء المسلمین الجزائریین' (الجزائر کے مسلم علماء کی انجمن) کی پہلی بنیاد رکھی گئی تھی، جو سنہ 1931 عیسوی سے پہلے دنیا کے سامنے ظاہر نہ ہو سکی تھی»۔"
مدینہ منورہ کے اسی قیام کے دوران آپ کے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ سے تعلقات قائم کرنے اور فیض حاصل کرنے کا موقعہ ملا، حضرت مدنی نے آپ کو حدیث کی سند اجازت بھی عطا کی تھی۔ اور اپنے وطن میں رہ کر فرانسیسی سامراج کے خلاف جدو جہد کی تحریک پیدا کی تھی۔ شمالی افریقہ میں فرانسیسی اور اطالوی سامراج کا غلبہ تھا، یہ برطانوی سامراج سے کئی گنا زیادہ سنگدل اور بے درد سامراج تھا، اور شمال افریقہ الجزائر، تونس، اور لیبیا کی جد وجہاد آزادی برصغیر سے کئی گنا ظالم تھا۔
❤1
1921ء تک آپ دمشق میں مقیم رہے، پھر الجزائر واپس آگئے جہاں ان کے دوست ابن بادیس (عبد الحمید بن محمد) کی تحریک سرگرم ہو چکی تھی اور ان کے تقریباً ایک ہزار شاگرد بن چکے تھے۔ 1931ء میں انہوں نے "جمعیت العلماء" قائم کی جس کی صدارت ابن بادیس نے سنبھالی اور الابراہیمی ان کے نائب مقرر ہوئے۔ انہیں 1940ء میں وھران کے صحرا کی طرف جلاوطن کر دیا گیا، اور قید خانے پہنچنے کے ایک ہفتے بعد ہی ابن بادیس کا انتقال ہو گیا، جس پر جمعیت کے ارکان نے الابراہیمی کو اس کا صدر منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ 1940ء سے 1943ء تک "آفلو" قید خانے میں رہے اور پھر رہا کر دیے گئے۔ انہوں نے ایک ہی سال میں 73 مدارس ومکاتب قائم کیے جن کا مقصد عربی زبان کی ترویج تھا۔ انہوں نے سامراجی حکام کی مسلمانوں کے تعلیمی نظام میں مداخلت سے بچنے کے لیے ان مدارس اور مرکز کو حفظ قرآن کریم کو اجاگر کیا۔ جزائری عوام مدارس کی تعمیر کے لیے اس قدر ٹوٹ پڑے کہ ان کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی۔ 1945ء میں انہیں فوجی جیل میں ڈال کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پھر رہا ہونے کے بعد انہوں نے الجزائر کے مختلف حصوں کے دورے کیے تاکہ مدارس اور مکاتب کے قیام کی سرگرمیوں کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ پھر 1952ء میں وہ قاہرہ میں مقیم ہو گئے۔1952ء مصر میں فوجی انقلاب میں شاہی حکومت کا تختہ الٹ دیا، انقلاب کے آغاز میں اخوان المسلمین انقلابیوں کے ساتھ تھی۔ لیکن پھر ان میں اختلافات انتہا کو پہنچ گئے۔ مصر کی انقلابی حکومت نے الجزائر کی تحریک آزادی کا بھر پور ساتھ دیا تھا، یکم نومبر ۱۹۵۴ء کو الجزائر میں تحریک آزادی کا شرارہ پھوٹا تھا، جو ۵ /جولائی ۱۹۶۲ء اس کی فرانس سے آزادی پر منتج ہوا۔ الابراہیمی نے اخوان اور مصر کی انقلابی حکومت میں مصالحت کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن جب انہیں اس میں کامیابی نہ ہوسکی تو پھر آپ نے مصر چھوڑ دیا، اس دوران آپ نے تحریک آزادی کے لئے تعاون حاصل کرنے کے لئے ہندوستان اور دیگر ممالک کا دورہ کیا۔ الجزائر کی تحریک آزادی کی کامیابی کے بعد وہ وطن واپس آئے، لیکن انہیں وہاں کام کرنے کی کوئی گنجائش نہ ملی، چنانچہ وہ گوشہ نشین ہو گئے یہاں تک کہ وفات پا گئے۔ وہ قاہرہ، دمشق اور بغداد کے عرب علمی اداروں کے رکن تھے۔
وہ شاعری بھی کرتے تھے، اس میں سے ایک (رزمیہ نظم) تاریخِ اسلام، جزائری معاشرے اور سامراج سے متعلق ہے، یہ 36 ہزار اشعار پر مشتمل تھا۔ وہ الجزائر کے اخبار "البصائر" میں اپنے مضامین شائع کرتے تھے اور اس کے چیف ایڈیٹر بھی تھے، ان مضامین کو "عیون البصائر" (مطبوعہ) نامی کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔ وہ فی البدہیہ تقریر کرنے والے فصیح و بلیغ خطباء میں سے تھے۔
آپ کی تحریروں کا مجموعہ آثار الامام محمد البشیر الابراہیمی کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوچکا ہے، آپ کے مجلہ البصائر کی فائل کتب خانہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں دستیاب ہے۔
نوجوانوں کے سلسلے میں آپ فرماتے تھے کہ " امت کے نوجوان اس کی زندگی میں نیا خون ہیں، اس لیے واجب ہے کہ اس خون کو فساد کی آمیزشوں سے محفوظ رکھا جائے، اور یہ ضروری ہے کہ ان میں پاکیزگی، فضیلت اور خیر کی جھلک نظر آئے۔ یہ ہراول دستے امت کی امیدوں کو اسی وقت پورا کر سکتے ہیں جب وہ خود کو علم کے لیے وقف کر دیں، اس کے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کریں، پھر مکمل تیاری اور ساز و سامان کے ساتھ میدانِ عمل کی طرف پیش قدمی کریں، علم کی رہنمائی میں قیادت سنبھالیں، اور علم کے ضابطوں کے تحت بہتر انتظام و انصرام کریں۔ یوں وہ اپنی امت کے لیے جہالت کا بدلہ علم سے، فقر کا بدلہ خوشحالی سے، کمزوری کا بدلہ طاقت سے، اور غلامی کا بدلہ آزادی سے لیں۔ اور حق کے میدانوں سے مکار دجالوں کے بچے کھچے اثرات کا، سیاست اور نمائندگی کے میدان سے دلالوں اور سوداگروں کا، اور قیادت کے افق سے شعبدہ بازوں اور ان پڑھ لوگوں کا صفایا کر دیں"۔
اور فرانسیسی سامراج کے بارے میں ان کا فرمان تھا کہ ""بے شک فرانس اس بات سے جاہل رہا یا اس نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا کہ اہل جزائر، دیگر عرب بیٹوں کی طرح، ایسے معزز لوگوں کی پشت سے ہیں جو ذلت کو ناپسند کرتے ہیں اور ظلم پر صبر نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ذلت اور رسوائی کی زندگی پر عزت و وقار کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
اور میں سچے ایمان کے ساتھ یہ یقین رکھتا ہوں کہ ایک مسلمان قوم میں استعمار (نوآبادیاتی نظام) کے قائم رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے؛ کیونکہ اس دین کے اصول، اس کی تعلیمات اور اس کی ہدایات، آزادی کے لیے بہترین ستون اور ذلت و ناانصافی کے خلاف انقلاب کا سب سے مضبوط محرک ہیں۔
وہ شاعری بھی کرتے تھے، اس میں سے ایک (رزمیہ نظم) تاریخِ اسلام، جزائری معاشرے اور سامراج سے متعلق ہے، یہ 36 ہزار اشعار پر مشتمل تھا۔ وہ الجزائر کے اخبار "البصائر" میں اپنے مضامین شائع کرتے تھے اور اس کے چیف ایڈیٹر بھی تھے، ان مضامین کو "عیون البصائر" (مطبوعہ) نامی کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔ وہ فی البدہیہ تقریر کرنے والے فصیح و بلیغ خطباء میں سے تھے۔
آپ کی تحریروں کا مجموعہ آثار الامام محمد البشیر الابراہیمی کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوچکا ہے، آپ کے مجلہ البصائر کی فائل کتب خانہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں دستیاب ہے۔
نوجوانوں کے سلسلے میں آپ فرماتے تھے کہ " امت کے نوجوان اس کی زندگی میں نیا خون ہیں، اس لیے واجب ہے کہ اس خون کو فساد کی آمیزشوں سے محفوظ رکھا جائے، اور یہ ضروری ہے کہ ان میں پاکیزگی، فضیلت اور خیر کی جھلک نظر آئے۔ یہ ہراول دستے امت کی امیدوں کو اسی وقت پورا کر سکتے ہیں جب وہ خود کو علم کے لیے وقف کر دیں، اس کے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کریں، پھر مکمل تیاری اور ساز و سامان کے ساتھ میدانِ عمل کی طرف پیش قدمی کریں، علم کی رہنمائی میں قیادت سنبھالیں، اور علم کے ضابطوں کے تحت بہتر انتظام و انصرام کریں۔ یوں وہ اپنی امت کے لیے جہالت کا بدلہ علم سے، فقر کا بدلہ خوشحالی سے، کمزوری کا بدلہ طاقت سے، اور غلامی کا بدلہ آزادی سے لیں۔ اور حق کے میدانوں سے مکار دجالوں کے بچے کھچے اثرات کا، سیاست اور نمائندگی کے میدان سے دلالوں اور سوداگروں کا، اور قیادت کے افق سے شعبدہ بازوں اور ان پڑھ لوگوں کا صفایا کر دیں"۔
اور فرانسیسی سامراج کے بارے میں ان کا فرمان تھا کہ ""بے شک فرانس اس بات سے جاہل رہا یا اس نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا کہ اہل جزائر، دیگر عرب بیٹوں کی طرح، ایسے معزز لوگوں کی پشت سے ہیں جو ذلت کو ناپسند کرتے ہیں اور ظلم پر صبر نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ذلت اور رسوائی کی زندگی پر عزت و وقار کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
اور میں سچے ایمان کے ساتھ یہ یقین رکھتا ہوں کہ ایک مسلمان قوم میں استعمار (نوآبادیاتی نظام) کے قائم رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے؛ کیونکہ اس دین کے اصول، اس کی تعلیمات اور اس کی ہدایات، آزادی کے لیے بہترین ستون اور ذلت و ناانصافی کے خلاف انقلاب کا سب سے مضبوط محرک ہیں۔
بلا شبہ، دین ہمیں اتحاد، تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیتا ہے، اور ہم پر لڑنا اور جدوجہد کرنا اس وقت فرض کرتا ہے جب بھی ہمیں یہ خوف ہو کہ ہماری آزادی چھین لی جائے گی اور ہماری عزت پامال کر دی جائے گی۔ پس استعمار کا بقا ان عظیم اصولوں کے ساتھ کیسے ممکن ہو سکتا ہے جو دین نے مقرر کیے ہیں؟"
آپ کے رفیق شیخ عبد الحمید بن بادیس کا آپ کے بارے میں کہنا تھا کہ "مجھے اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جس نے شیخ الابراہیمی جیسے جلیل القدر انسان کو جنم دیا ہو، جس کے لئے ممکن ہی نہیں کہ وہ دین کے معاملے میں گمراہ ہو جائے، یا دنیا میں رسوا ہو جائے، یا سامراج کے سامنے سرنگوں ہو جائے۔"
شیخ محمد البشیر الابراہیمی کے یوم وفات کی مناسبت سے یاد کرتے ہوئے، بطور نمونہ اردو آڈیو ڈاٹ کام سے آپ کی ایک عربی تقریر کی لنک پیش خدمت ہے۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=al-arabiya-wal-istimar, Al Arabiya Wal Istimar
WA:00919741136475
آپ کے رفیق شیخ عبد الحمید بن بادیس کا آپ کے بارے میں کہنا تھا کہ "مجھے اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جس نے شیخ الابراہیمی جیسے جلیل القدر انسان کو جنم دیا ہو، جس کے لئے ممکن ہی نہیں کہ وہ دین کے معاملے میں گمراہ ہو جائے، یا دنیا میں رسوا ہو جائے، یا سامراج کے سامنے سرنگوں ہو جائے۔"
شیخ محمد البشیر الابراہیمی کے یوم وفات کی مناسبت سے یاد کرتے ہوئے، بطور نمونہ اردو آڈیو ڈاٹ کام سے آپ کی ایک عربی تقریر کی لنک پیش خدمت ہے۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=al-arabiya-wal-istimar, Al Arabiya Wal Istimar
WA:00919741136475
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤1
*وفیات مورخہ: 21/مئی*
1829ء میر اکبر علی خان، آصف جاہ سوم۔ نظام حیدرآباد
1948ء محمد اقبال۔ علامہ، ڈاکٹر،محمد ، والد داؤد رہبر
1962ء عبدالشکور فاروقی لکھنوی۔ مولانا، بانی دار المبلغین لکھنو
1969ء نریش کمار شاد۔ شاعر
1985ء قاضی شمس الدین۔ شیخ الحدیث جامعہ صدیقیہ گوجرانوالہ
1991ء راجیو گاندھی۔ وزیر اعظم ہند
1991ء سیف زلفی (سید محمد ذوالفقار حسین)۔
2002ء قاری اجمل خان لاہوری۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان
2016ء اختر محمد منصور۔ جانشین ملا عمر
2019ء محمود انصاری۔
2021ء محمد عثمان منصور پوری۔ مولانا، سید، نائب مہتمم دار العلوم دیوبند
Https://telegram.me/ilmokitab
1829ء میر اکبر علی خان، آصف جاہ سوم۔ نظام حیدرآباد
1948ء محمد اقبال۔ علامہ، ڈاکٹر،محمد ، والد داؤد رہبر
1962ء عبدالشکور فاروقی لکھنوی۔ مولانا، بانی دار المبلغین لکھنو
1969ء نریش کمار شاد۔ شاعر
1985ء قاضی شمس الدین۔ شیخ الحدیث جامعہ صدیقیہ گوجرانوالہ
1991ء راجیو گاندھی۔ وزیر اعظم ہند
1991ء سیف زلفی (سید محمد ذوالفقار حسین)۔
2002ء قاری اجمل خان لاہوری۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان
2016ء اختر محمد منصور۔ جانشین ملا عمر
2019ء محمود انصاری۔
2021ء محمد عثمان منصور پوری۔ مولانا، سید، نائب مہتمم دار العلوم دیوبند
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri