علم و کتاب
7.99K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
بیت اللہ کی مرکزیت:

✍🏻... مولانا غلام رسول مہر

یہ ہے مرکزیت، اسے کہتے ہیں اُمت کو ایک مقام سے وابستہ کرنا، دنیا کا کون سا مذہب ہے جس نے اپنے پیروؤں کے دل میں مرکز کے ساتھ عقیدت، شیفتگی اور عشق کے ایسے گہرے عمیق اور کبھی افسردہ نہ ہونے والے جذبات پیدا کیے اور دنیا کا کون سا مقام ہے جس نے گزشتہ ساڑھے تیرہ سو سال کی مدت میں اتنے بندگانِ خدا کو اپنی طرف کھینچا؟
حجاز ریویرا نہیں، کشمیر نہیں ، لوزان نہیں کہ لوگ سیر و تفریح کے لیے خود بخود کھنچے آئیں؛ بلکہ ہر اعتبار سے تکالیف و مصائب کا مرقع پیش کرتا ہے؛ گرمی بے پناہ، تمازت آفتاب جسم سوز، پانی کم یاب سبزی و روئیدگی ناپید ، درخت مفقود، جسمانی آسائش وراحت کے سامان بے حد قلیل ، لیکن اسلام کے حلقہ بگوش اپنی راحت و آسایش کی زندگیاں چھوڑ کر جماعتوں اور قافلوں کی شکل میں اُدھر جا رہے ہیں۔ ہر سمت سے، ہر ملک سے جارہے ہیں۔ مسلمان آج وہ نہیں رہے جو تیرہ سو سال پہلے تھے؛ لیکن حرمین شریفین کے ساتھ ان کا عشق اب تک شباب پر ہے اور ان شاء اللہ تا قیام قیامت شباب پر رہے گا۔

ان حقایق کو سامنے رکھ کر، اُس ذات بابرکت کے علو منزلت کا اندازہ کیجیے، جو کائنات انسانیت کے فرزندان توحید کو وادی غیر ذی زرع کے ساتھ اس ہر طرح دائما وابستہ کر دینے کا موجب بنی۔ صلی الله علیه وآله واصحابه وسلم تسليما كثيرا كثيرا

یکم مئی ۱۹۳۰ء ( جدہ سے تقریباً بیس گھنٹے کے سفر پر )


(*سفر نامۂ حجاز، صفحہ: 62، طبع: یادگار لائبریری، گوجرانوالہ*)

ناقل: محمد عدنان وقار صدیقی
❤2
Mr Sid
بیت اللہ کی مرکزیت: ✍🏻... مولانا غلام رسول مہر یہ ہے مرکزیت، اسے کہتے ہیں اُمت کو ایک مقام سے وابستہ کرنا، دنیا کا کون سا مذہب ہے جس نے اپنے پیروؤں کے دل میں مرکز کے ساتھ عقیدت، شیفتگی اور عشق کے ایسے گہرے عمیق اور کبھی افسردہ نہ ہونے والے جذبات پیدا کیے…
*مسلمانوں کی مذہبی حمیت*

✍🏻... مولانا غلام رسول مہر

لیکن مسلمانوں کے جوش ایمانی اور حُبِّ بیت اللہ کی یہ حالت ہے کہ کسی تکلیف کی پروا نہیں کرتے ؛بلکہ سفر حج میں تکلیف کے ذکر کو بھی گناہ سمجھتے ہیں، ہر شخص کی زبان سے یہی سنا جاتا ہے کہ اس سفر میں جتنی تکلیفیں پیش آئیں اتنا ہی ثواب زیادہ ہوگا، تکالیف کے ہجوم میں اس نوع کے مذاکرات سُن کر اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات اپنے پیروؤں اور حلقہ بگوشوں کی ذہنیتوں میں کتنا بڑا انقلاب پیدا کر چکی ہے۔ تیرہ سو سال گزر چکے ہیں ، اس دوران صدہا حکومتیں قائم ہوئیں اور مٹیں ، صدہا مقامات پر اسلام کا علَم نصب ہوا اور اُکھڑا۔ صدہا ممالک میں مسلمان توحید کا پیغام لے کر گئے ۔ کامران ہوئے اور کئی ملکوں میں اُن کی فاتحیت مفتوحیت میں بدل گئی، لیکن بیت اللہ الحرام کی شمع جہاں افروز پر پروانگی کا عالم اب بھی وہی ہے، جو آج سے تیرہ سو سال پہلے تھا۔ شمال ، جنوب، مشرق،مغرب، ہر طرف سے کلمہ گویانِ توحید کھنچے چلے آتے ہیں۔

مراکش، الجزائر، مصر، سوڈان، ترکی، تاتار، افغانستان، ایران، ہندوستان، جاوا، یمن، نجد، شام، فلسطین، سمالی لینڈ ، حضرَموت، مسقط، عراق، غرض کہ کون سا مقام ہے جہاں کے فرزندانِ توحید ہزاروں کی تعداد میں ہر سال بیت اللہ شریف نہیں آتے۔
یہ سلسلہ خلافت راشدہ کے عہدِ یُمن و برکت و امن میں قائم رہا۔ تو بعد کے مختلف ادوار بدامنی و قتل و غارت میں بھی جاری رہا اور اب سلطان کے عہد امن و راحت میں بھی جاری ہے۔ جب جہاز چھ چھ مہینے میں ہندوستان سے حجاز پہنچتے تھے، اُس وقت بھی جاری تھا اور اب کہ چھ یا آٹھ دن میں پہنچ جاتے ہیں اب بھی جاری ہے۔ سمندر طوفانوں سے لبریز ہوں یا ان سطح پر سکون عام طاری ہو، جانوں کا خطرہ ہو یا امن ہو ، گردنیں کٹتی ہوں یا خون بہتے ہوں یا جانوں کے علاوہ اموال کی محفوظیت کا بھی یہ عالم ہو کہ ایک حَبَّہ بھی ضائع نہ ہوسکے ، زیارت وحج کا سلسلہ نہ رکا ہے نہ رک سکے گا۔

قرامطہ نے اپنے عہد تسلط میں حج کو روکنے کے لیے بہت کچھ کیا، طاہر قرامطی نے صرف ایک حج کے موقع پر تیس ہزار فرزندان توحید کو حرم میں شہید کردیا۔
زم زم کو لاشوں سے بھر دیا۔ حجر اسود کو اکھاڑ کر اپنے دارالحکومت میں لے گیا۔ لیکن مسلمان اس حالت میں بھی بکثرت بیت اللہ شریف جاتے رہے۔


( سفر نامہ حجاز، صفحہ: 61، طبع: یادگار لائبریری، گوجرانوالہ)
*غلطی ہائے مضامین*
 
*ایک درد ناک کالم*
 
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
 
اِک مردِ بے درد نے پوچھا ہے کہ ’’درد اُٹھنا میں یہ ’اُٹھنا‘ کیا ہے؟‘‘
عرض ہے کہ جسم کے کسی حصے میں اچانک تکلیف شروع ہوجائے تو اس کیفیت کے اظہار کے لیے ’درد اُٹھنا‘ بولا جاتا ہے۔ اُٹھنا ’محاورہ‘ ہے۔ محاورے میں حقیقی معنی نہیں لیے جاتے، مجازی معنی لیے جاتے ہیں۔ عموماً فعل ہی کی کوئی قسم استعمال کی جاتی ہے، لیکن مُراد وہ فعل نہیں ہوتا، کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ عام بول چال میں ہم بہت سے محاورے استعمال کرتے ہیں، مگر ان کے لفظی معنی کبھی نہیں لیتے۔ مثلاً:
 
’’میں گھر میں داخل ہوا تو بچوں نے آسمان سر پر اُٹھا رکھا تھا‘‘۔
(سامان تو سر پر اُٹھا سکتے تھے، بچوں نے آسمان کیسے سر پر اُٹھالیا؟)
 
’’ارے پڑوسی کا لڑکا تو میرے سر پر چڑھا جارہا تھا‘‘۔
(لڑکا سچ مُچ آپ کے چٹیل سر پر چڑھ گیا ہوتا تو فوراً پھسل کر گِرپڑا ہوتا!)
 
’’اُن کے کمرے میں داخل ہوا تو اُستادِ محترم مجھے دیکھتے ہی باغ باغ ہوگئے‘‘۔
آپ نے اُن کے کمرے میں داخل ہوکر کچھ اچھا نہیں کیا۔ داخل نہ ہوتے تو استادِ محترم حسب ِسابق انسان کے انسان ہی رہتے۔ بیٹھے بٹھائے’گاندھی گارڈن‘ نہ بن گئے ہوتے
 
خیر، یہ تو لفظوں کی جُگالی تھی۔ جُگت بازی سے باہرآکرجائزہ لیجے تو پہلے محاورے سے مراد لی جاتی ہے ’’اُدّھم مچانا‘‘۔ دوسرے محاورے کا مفہوم ہے ’’بدتمیزی اور گستاخی کرنا‘‘۔ اور تیسرے محاورے کا مطلب ہے ’’خوشی سے کِھل اُٹھنا‘‘۔
 
اُردو میں اور بھی بہت سے ایسے محاورے ہیں جن میں افعال اپنے اصل معنوں میں نہیں لیے جاتے۔ دیکھیے کھانا، پینا اور مارنا ایسے افعال ہیں جن کا مفہوم بچہ بچہ سمجھتا ہے۔ مگر ’غم کھانا‘ یا ’غصہ پینا‘ اور ’ڈینگ مارنا‘ میں مذکور ’افعال‘ اپنے حقیقی معنوں میں نہیں لیے گئے ہیں۔
 
’درد اُٹھنا‘ میں بھی ’اُٹھنا‘ مجازی معنوں میں لیا جاتا ہے۔ اُن معنوں میں جو سوال کے بعد کی پہلی سطر میں بتادیے گئے ہیں۔ اُستاد شعرا کبھی کبھی محاوروں کے الفاظ سے کھیلتے ہیں اور اشعار میں حسن پیدا کردیتے ہیں۔ اُستاد امیرؔ مینائی نے اس محاورے میں درد کے اُٹھنے سے فائدہ اُٹھایا اور خود اُٹھ کر اس پر حُسن کا جاسوس ہونے کا الزام لگایا۔ کہاکہ درد ایک جاسوس ہے اور ہدف یا نشانے کی نشان دہی پر مامور ہے۔ حُسن کا مشغلہ اپنے شکار پر ناز و انداز کے تیروں کی بوچھار کرنا ہے۔ تیر کو ’ناوک‘ کہا جاتا ہے، اداؤں کو ’ناز‘ کہہ لیجے۔ کہہ لیا؟ اچھا تو اب حضرتِ امیرؔ کا یہ شعر بھی پڑھ لیجے:
 
ناوکِ ناز سے مشکل ہے بچانا دل کا
درد اُٹھ اُٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانا دل کا
 
طبیب صاحبان درد کو ’نعمت‘ قرار دیتے ہیں۔ درد نہ ہو تو کیسے پتا چلے کہ تکلیف کہاں ہے؟ چوٹ لگے اور درد نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ جسم بے حس ہوگیا۔ درد محسوس نہ کرنا جسمانی بے حسی کے علاوہ جذباتی بے حسی کی بھی علامت ہے۔ یہ بے حسی آج کل ہماری امت کے ہر طاقتور فرد میں نظر آتی ہے۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ تو ایسے بے حس شخص کو خدا کی رحمت سے بھی محروم قرار دیتے ہیں:
 
خدا رحم کرتا نہیں اُس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
 
جب کہ شان الحق حقی درد محسوس کرنے کی صلاحیت کو انسان کے صاحبِ احساس ہونے کی علامت جانتے ہیں:
 
حیف وہ وقت کہ احساس کے قابل نہ رہوں
درد اُٹھتا ہے تو کچھ جان میں جاں آتی ہے
 
درد اُٹھتا ہی نہیں، کبھی کبھار چمک بھی اُٹھتا ہے۔ سو،ایک درد مند شاعر کا درد بھرا شعر ہے:
 
اِن اندھیروں میں تو ہر درد چمک اُٹھتا ہے
کن اُجالوں میں کسک دل کی چھپائی جائے
 
(یہ شاعر ہم خود ہیں) دلچسپ بات یہ ہے کہ ’درد‘ کے حروف کو سیدھا پڑھیں یا اُلٹا’ درد‘ تو ’درد‘ ہی رہے گا۔ ’درد ہونا‘ کے ایک معنی رحم کرنا اور ترس کھانا یا ترس آنا بھی ہیں۔ مثال کے طور پر:
’’اے حکمرانو! کیا تمھارے دل میں غریبوں کا کچھ بھی درد نہیں؟‘‘
ذوقؔ کو گلہ تھا:
 
دردِ دل سے لوٹتا ہوں، میرا کس کو درد ہے
ہوں میں حرفِ درد، جس پہلو سے اُلٹو درد ہے
 
ایک بار درد اُٹھ جائے توبار بار ہوتا ہے۔ کبھی کم، کبھی زیادہ۔ درد کو دُکھ کے معنوں میں بھی لیا جاتا ہے۔ کسی بات کا دُکھ ہو تو منہ سے کڑوی کسیلی باتیں بھی نکل جاتی ہیں۔ بعد کو معافی مانگنی پڑتی ہے:
 
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سِوا ہوتا ہے
 
غالبؔ کے برعکس پروفیسر اقبالؔ عظیم اچھی قوتِ برداشت رکھتے تھے، اُنھوں نے ’تلخ نوائی‘ سے گریز کیا۔ معافی مانگنے سے بچ گئے:
 
چپ رہتے تو دم گھٹتا اور درد سِوا ہوتا
کچھ منہ سے نکل جاتا تو کوئی خفا ہوتا
یہ سوچ کے ہم پھر بھی بیٹھے رہے محفل میں
ہم اُٹھ کے چلے آتے تو اور بُرا ہوتا
 
درد کا دوا سے گہر ا تعلق ہے۔ درد ہوتا ہی اس لیے ہے کہ دوا کی جائے۔ سو، ہر دردمند کو فکر رہتی ہے کہ
’’آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟‘‘
ہم جو جمعے کے جمعے ’می نویس و می نویس و می نویس‘ کیے جاتے ہیں تو ہمارے تمام درد آشنا اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کالم اصلاً اُن لوگوں کا درد بٹانے کو لکھے جاتے ہیں جن کے دل میں قومی زبان کا درد ہے۔ قومی زبان قوم کا سرمایہ ہے، قوم کی شناخت ہے۔ قومی پرچم اور قومی ترانے کی طرح قومی زبان بھی قابلِ احترام ہے۔ قومی زبان کی توہین پر بھی سزا واجب ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنے دستور میں اُردو زبان کو قومی زبان قرار دیا ہے۔ قوم و وطن سے محبت کے دعوے داروں کو جاننا چاہیے کہ ہر سطح پر قومی زبان کا استعمال حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ بدیسی زبان میں گٹ پٹ کوئی قابلِ فخرکام نہیں، شرم و ندامت کا سبب بننے والی حرکت ہے۔ چین سے سبق لیجے۔ ’انگریزی گو‘ صدر ٹرمپ کے آگے چینیوں نے چہک چہک کرچینی زبان بولی۔ ٹرمپ صاحب کچھ بھی ’چُوں چاں‘ نہ کرسکے۔
 
ہمارے ہاں سرکاری سطح پر تو بڑی دردناک صورتِ حال ہے۔ مگر عوامی سطح پر اور علمی و ادبی سطح پر ہماری قومی زبان خوب پھل پُھول رہی ہے۔ ہر قسم کے سماجی ذرائع ابلاغ پر، حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی اُردو کی پیش قدمیاں جاری و ساری ہیں۔ کاش ہمارے ملک کا عدالتی نظام، تعلیمی نظام، قانون سازی کا نظام اور تمام تر سرکاری نظام چلانے والے حکام بھی قوم کا درد محسوس کریں۔ غلامی کے سجدوں کا داغ سرکاری پیشانی پر دیکھ کر قوم کو جو دُکھ محسوس ہوتا ہے،کاش وہی دُکھ وہ خود بھی محسوس کریں۔ سرکار دربار میں ہر ہر سطح پر فرنگی راج رائج رکھنے والے ایک ایک فرد سے کہنے کا جی چاہتا ہے کہ انگریزی زبان کی جگہ قومی زبان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے ، اے کاش!
 
تیرے بھی دل میں درد ہو، تیرا بھی چہرہ زرد ہو
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ: 23/مئی*
1933ء  نظم طباطبائی ( سید حیدر علی)۔ 
1937ء  محبوب عالم۔  مدیر پیسہ اخبار لاپور
1943ء  حامد رضا خان۔  بریلوی عالم دین
1948ء  محمد سہول عثمانی بھاگل پوری۔  مولانا مفتی
1959ء  م حسن لطیفی (محمد حسن)۔ 
1960ء  گاما پہلوران (غلام محمد بخش بٹ)۔  رستم زماں
1990ء  شوکت کمال۔   ،
1991ء  عبدالمجید ندوی۔  مولانا
1992ء  حافظ امام خاں میواتی۔ 
1992ء  محمد مجید زبیری۔ 
2002ء  علی امام۔   ،
2003ء  سید محسن علی۔   ،
2024ء  سید حسن سقاف۔  صدر خلیفہ جماعت بھٹکل
   https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
کیا ہم مسلمان ہیں (٤١)  سورج چھپ گیا.... روشنی باقی ہے (چوتھی  قسط)
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
 
ایک بار کچھ لوگ ملنے کے لیے آئے ۔ اُن میں ایک شخص کی خستہ حالی دیکھی نہ جاتی تھی۔ جب یہ سب لوگ اُٹھ کر جانے لگے تو امام صاحبؒ نے اس مفلوک الحال شخص کو روک لیا اور جائے نماز کی طرف اشارہ کرکے اس کے نیچے سے دس ہزار درہم کی تھیلی اُٹھالینے کو کہا۔
"میں ...... میں ...... تو دولت مند ہوں۔" اس شخص نے گھبرا کر جواب دیا "مجھے اس کی ضرورت نہیں۔" حسّاس ترین اور فیّاض ترین امامؒ نے قدرے نا خوش گواری کے ساتھ فرمایا " تو صُورت توایسی نہ بنانی چاہیے کہ دوسروں کو افلاس کا شبہ ہو ۔"
 
ـــــــــــــــ
 
ایک مرتبہ کسی بیمار کی مزاج پرسی کو تشریف لے جارہے تھے کہ راہ میں اپنا ایک مقروض نظر آیا جو کِترا کر نِکلا جا رہا تھا۔ امام صاحبؒ نے اس کو آواز دی اور اس طرح کترا جانے کی وجہ پوچھی ۔
"مَیں آپ کا دس ہزار درہم کا مقروض ہوں ؟" اس شخص نے ندامت سے کہا، " آپ کو دیکھ کر شرم کے بوجھ سے آنکھ نہیں اُٹھتی تھی ــــ اِس لیے ......"
اس شرم و حیا اور ضمیر کی ٹیسں کومحسوس کرتے ہی امام صاحبؒ کانپ اُٹھے اور اعلان کیا:
"میں نے وہ رقم معاف کردی ۔ جاؤ اب تمہیں اس کی ادائیگی کی کوئی فکر نہ کرنی چاہیے۔"
 
 ـــــــــــــــ
 
درس کے درمیان میں کسی نے کوئی مسئلہ دریافت کیا ۔ امام صاحبؒ نے مناسب جواب دیا ۔ سائل نے کہا کہ "حسن بصریؒ نے تو اس مسئلے میں کچھ اور کہا ہے۔ " امام صاحبؒ نے نہایت متانت کے ساتھ فرمایا ۔ ”ہاں حسن نے غلطی کی۔"  اس حلقہ میں کوئی شخص حسن بصریؒ کا عقیدت مند بھی بیٹھا ہوا تھا۔ امام صاحب کی یہ بات سُن کر اس کو فرطِ عقیدت میں طرارہ آگیا اور جامے سے باہر ہو کر بولا "او ابن الفاحشہ ! تو حسن کو خطا کار ٹھہراتا ہے ـــــ" امامؒ کی شان یہ فحش گالی سُن کر تمام مجلس میں ہل چل سی پڑ گئی ، چہرے تمتما گئے اور جذبات کے پیمانے چھلکنے لگے ۔ مگر سامنے وقت کا یہ جلیل القدر امام صبرو سکون کا مجسمہ بنا بیٹھا تھا ۔ آخر جب فضا پُر سکون ہوئی تو صبر و استقلال اور علم و تحمّل کے پہاڑ سے یہ دل نشیں، متین اور پُر سوز آواز آئی ، "وہاں ـــــ حسن نے اس معاملے میں غلطی کی ۔ عبداللہ ابن مسعودؓ نے جو روایت کی ہے وہ اقرب الی الصواب ہے ۔"
 
ــــــــــــ
 
یزید بن کمیت نے ایک بار کا یہ آنکھوں دیکھا حال بیان کیا کہ میں امامؒ کے درس میں خود موجود تھا جب کہ ایک شخص نے امامؒ سے بے ادبی اور دریدہ دہنی کے ساتھ بات چیت شروع کی ۔ اس شخص کے تیور جوں جوں بگڑ رہے تھے امام صاحبؒ کی متانت اور نرم گفتاری میں اضافہ ہورہا تھا ۔ بات بڑھتی گئی اور آخر اس شخص نے امامؒ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ـــــ ان کو "زندیق “ کے ہولناک خطاب سے گھائل کر دیا ۔ یہ بات اس شخص سے کہی گئی تھی جس نے زبان سے کبھی کسی کی آبرو پر حملہ نہیں کیا تھا ۔ لیکن یہ زخم کھانے کے بعد بھی امام نے اس سے زیادہ کچھ بھی تو نہ کہا " خدا تمہاری مغفرت کرے ـــــ وہ خوب جانتا ہے کہ میری نسبت تم نے جو لفظ کہا ہے وہ صحیح نہیں ہے ۔"
امام صاحبؒ خود فرمایا کرتے تھے کہ " مَیں نے کسی پر لعنت نہیں بھیجی۔ کسی سے انتقام نہیں لیا۔ کسی مسلمان یا ذمّی کو نہیں ستایا ۔ کسی سے فریب اور بد عہدی نہیں کی ۔"
 ایک بار حلقۂ درس میں ایک نو عمر لڑکے نے امام صاحبؒ کے جواب کو سُنا اور کہہ بیٹھا "ابو حنیفہؒ ! تم نے غلط جواب دیا۔" بڑے بڑے علماء اس درس میں شریک تھے۔ لڑکے کی اس شوخی پر بھڑک اُٹھے ۔ ابو الخطاب جرجانی نے جلال کے عالم میں پوری مجلس کو لتاڑتے ہوئے کہا ـــــ  "تمہاری بے غیرتی کی حد ہوگئی ـــــ ایک لونڈا امام کی شان میں جو مُنہ میں آتا ہے بک دیتا ہے مگر تمہاری رگِ حمیت نہیں پھڑکتی!"
وہی ابو حنیفہؒ جنھوں نے لڑکے کی اس گستاخی کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سُنا تھا اور کچھ نہ کہا تھا جرجانی کے اس طرزِ گفتگو پر برہم ہو گئے اور کہا "ان لوگوں پر کوئی الزام نہیں آتا ـــــ میں اس جگہ بیٹھا ہوں تو اسی لیے بیٹھا ہوں کہ لوگ آزادانہ میری غلطیاں ثابت کریں اور میں تحمل کے ساتھ ان کو سُنوں بھی  ــــ"
 
 
امام صاحبؒ کے مکان سے متصل ایک رند منش موچی کا گھر تھا۔ رات ہوتی تو وہ اپنے راگ رنگ سے آسمان سر پر اُٹھا لیتا اور اکثر یہ شعر لہرایا کرتا:
" "لوگوں نے مجھ کو ہاتھ سے کھو دیا ـــــ اور کیسے بڑے شخص کو کھو دیا جو جنگ اور رخنہ بندی کے دن کام آتا ــــ
❤1
امام صاحبؒ کی راتیں اس ہمسائے کی رندانہ ہاؤ ہو سے بُری طرح درہم برہم ہوا کرتیں۔ لیکن وہ صبر کرتے۔ مسلسل صبر کرتے رہے ۔ موچی نے ذرا احساس نہ کیا کہ وہ امامؒ کی علمی مصروفیات اور عبادتِ نیم شبی میں کس بُری طرح خلل انداز ہو رہا ہے۔ لیکن اتنا بُرا پڑوسی جب ایک رات شراب نوشی کے الزام میں دھر لیا گیا اور دوسری شب اس کی سماعت خراش ہاؤ ہو امام صاحبؒ کو سنائی نہ دی تو وہ بے چین ہو گئے فوراً صُورتِ حال معلوم کی ــــ موچی کی گرفتاری کی خبر معلوم ہوتے ہی حقوق ہمسائیگی کا مومنانہ جذبہ بیدار ہوا اور وہی شاہی دربار جہاں بُلایا جانا اپنے لیے عار سمجھتے تھے از خود وہاں تشریف لے گئے ــــ بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ امامؒ کا خیر مقدم کیا گیا۔
مام صاحبؒ نے فرمایا " میرے محلّے میں جو موچی رہتا تھا کو توال نے اس غریب کو گرفتار کرلیا ہے میں اس کی رہائی کی سفارش کے لیے حاضر ہوا ہُوں۔"
  یہ سنتے ہی حاکمِ وقت نے داروغہ جیل کو موچی کی رہائی کا فرمان جاری کر دیا اور امام صاحبؒ اپنے پڑوسی کو قید و بند سے نکال کر اپنے ساتھ لے کرخوش خوش روانہ ہوئے ۔
"دیکھو بھئی" امام صاحبؒ نے موچی کو اس کے مخصوص شعر کی یاد دلاتے ہوئے کہا "دیکھو ! ہم نے تمہیں ضائع نہیں ہونے دیا!"
  "نہیں" موچی نے احسان و تشکر کی نمناکیوں کے ساتھ کہا ” نہیں ! آپ نے تو حقِ ہمسایگی ادا کر دیا۔ “ اخلاقِ مومنانہ کا یہ تیرِ نیم کش موچی کے دل میں ترازو ہو گیا اور اُس نے مے پرستی سے توبہ کر کے علمی و عملی زندگی کو سینے سے لگا لیا۔
ـــــــــــــ
(جاری)
Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
*مشاہدات و تاثرات (قسط 3)*
*انٹرویو: جناب عبد الحمید دامودی*
ذاتی مشاہدات انی گذشتہ صدی سے بھٹکلی معاشرا سلسلات  ایک یادگار انٹرویو چی تیسری قسط۔
لنک
https://www.youtube.com/watch?v=W-BtMP1_VQs
❤1
Mr Sid
*مسلمانوں کی مذہبی حمیت* ✍🏻... مولانا غلام رسول مہر لیکن مسلمانوں کے جوش ایمانی اور حُبِّ بیت اللہ کی یہ حالت ہے کہ کسی تکلیف کی پروا نہیں کرتے ؛بلکہ سفر حج میں تکلیف کے ذکر کو بھی گناہ سمجھتے ہیں، ہر شخص کی زبان سے یہی سنا جاتا ہے کہ اس سفر میں جتنی تکلیفیں…
*حج بیت اللہ عشق و محبت کا سفر*

محدث العصر،حضرت مولانا محمد یوسف بؔنوریؒ

اللہ تعالٰی شانہ نے یوں تو ہر عبادت کے لیے قدم قدم پر رحمت و عنایت اور اجر وثواب کے وعدے فرمائے ہیں، نماز و زکوۃ اور روزہ واعتکاف وغیرہ سب پر جنت اور جنت کی بیش بہا نعمتوں کے وعدے ہیں؛ لیکن تمام عبادات میں حج بیت اللہ کی شان سب سے نرالی ہے، حج گو یا دبستان عبدیت کا آخری نصاب ہے، جس کی تکمیل پر بارگاہ عالی سے رضا و خوشنودی کی آخری سند عطا کی جاتی ہے، کتنے عجیب انداز سے فرمایا گیا ہے : والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة . ترجمہ: ”اور حج مبرور کا بدلہ تو بس جنت ہی ہے۔“

گویا حج مبرور ایک ایسی عالی شان عبادت ہے کہ بجز جنت کے اس کا اور کیا بدلہ ہو سکتا ہے، حج مبرور جس کا بدلہ صرف جنت ہی ہوسکتی ہے اس کی تشریح یہ ہے کہ اس میں گناہ کی آلودگی اور ریاکاری کا شائبہ نہ ہو، یعنی تمام سفر حج میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے آدمی بچے اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حج کیا جائے، بلا شبہ اس شرط کا نبھانا بھی بہت مشکل ہے اور صرف اللہ تعالی کی توفیق اور اس کے فضل ہی سے یہ مشکل مرحلہ طے ہوسکتا ہےـ
حج کی ظاہری صورت بھی عجیب و غریب ہے اور اس میں غضب کی جاذبیت ہے، قدم قدم پر عشق و محبت کی پُر بہار منزلیں طے ہوتی ہیں ، سب سے بڑے دربار کی حاضری کا قصد ہے، دل میں دیار محبوب کی آرزوئیں مچلتی ہیں ، سفر طویل ہے، حلال و طیب توشہ سفر کا اہتمام کیا جارہا ہے، نیک اور صالح رفیق کی خواہش ہو رہی ہے، چشمِ پُرنم کے ساتھ عزیز و اقارب سے رخصت ہو رہے ہیں، لین دین کا حساب بے باق کیا جار ہے، حق حقوق کی معافی طلب کی جارہی ہے ، کوشش یہ ہے کہ اس دربار میں حاضر ہوں تو کسی کا معمولی حق بھی گردن پر نہ ہو
لیجئے! روانگی کا وقت آیا، غسل کرلیجئے اور دو سفید نئی چادریں پہن لیجئے ، گویا
انسان خود اپنے ارادہ و اختیار سے سفر آخرت پر روانہ ہو رہا ہے،پہلے غسل سے بدن کے ظاہری میل کچیل کو صاف کرتا ہے اور پھر کفن کی چادریں اوڑھ کر دوگانۂ احرام ادا کرتا ہے، اس طرح گویا توبہ وانابت سے دل کے میل کچیل سے اپنے باطن کو پاک صاف کرتا ہے اور ظاہری و باطنی نظافت کے ساتھ شاہی دربار میں نذرانۂ عشق و محبت پیش کرنے کا عہد کرلیتا ہے ـ
ارحم الراحمین نے دعوت دے کر بلایا ہے اور شاہی دربار سے بلاوا آیا ہے، یہ فوراً بیت اللہ الحرام کے شوقِ دیدار میں اس دعوت پر لبيك اللهم لبيك ميں حاضر ہوں (اے میرے اللہ میں حاضر ہوں ) کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مستانہ وار سوئے منزل روانہ ہوجاتا ہے۔

یہ اس والہانہ و عاشقانہ عبادت کی ابتدا ہے، زیب وزینت کے تمام مظاہر ختم ، راحت و آسائش کے تمام تقاضے فراموش ، نہ سر پر ٹوپی، نہ پاؤں میں ڈھب کا جوتا، نہ بدن پر ڈھنگ کا کپڑا، دیوانہ وار رواں دواں،منازلِ عشق طے کرتا ہوا جارہا ہے، دیار محبوب کی دُھن میں بادہ پیمائی ہو رہی ہے :

؎ در بیابانها از شوقِ کعبه خواهی زد قدم

سرزنشها گر کند خار مغیلان غم مخور

پہنچتے ہی مرکز تجلیات کعبہ پر نظر پڑی، تو بے ساختہ دارِ محبوب کا طواف کرتا ہے، بار بار چکر لگاتا ہے، حجر اسود جو ”يمين الله في الأرض“ کی حیثیت رکھتا ہے، اس کو چومتا ہے، آنکھوں سے لگاتا ہے، ملتزم سے چمٹتا ہے، زار و قطار روتا ہے، گو یا زبان حال سے کہتا ہے :

؎ نازم بچشم خود که روی تو دیده است

رفتم بیائے خویش که بکویت رسیده است

هزار بار بوسه زنم من دست خویش را

که بدامنت گرفته بسویم کشیده است

اس بے خود عاشق زار کو جو قلبِ تپاں اور جگرِ سوزاں لے کر آیا تھا، پہلی مہمانی کے طور پر آب زمزم کا تحفۂ شیریں پیش کیا جاتا ہے، جس سے تسکین قلب بھی ہوگی اور جگر کی پیاس بھی بجھے گی اور حکم ہوتا ہے کہ جتنا پانی پیا جاسکے پی لے، خوب دل ٹھنڈا کرلے، کوئی کسر نہ چھوڑ، یہاں سے فارغ ہو کر ”صفا و مروہ“ کے درمیان چکر لگاتا ہے، پھر منٰی پہنچتا ہے، پھر اس کے آگے عرفات کا رخ کرتا ہے، آج وادئ عرفات سچ مچ ہنگامۂ محشر کا منظر پیش کر رہی ہے، حیرت انگیز اجتماع ہے، رنگا رنگ مختلف شکلیں،مختلف زبانیں، بوقلموں مناظر، یہ سب رب العالمین کے دربارِ قدس کے مہمان ہیں، یہ شاہی دربار میں عبدیت و بندگی، ضُعف و بے کسی ، عجز و درماندگی اور ذلت و مسکنت کا نذرانہ پیش کریں گے اور رضا و مغفرت،فضل و احسان اور انعام واکرام کے گوہر مقصود سے جھولیاں بھر کرلے جائیں گے ، اپنے لیے، اپنے اعزہ واقارب اور دوست احباب کے لیے جو کچھ مانگیں گے نقد ملے گا ،زوال ہوا تو ہر چہار طرف سے آہ و بکا کا شور پر پا ہوا، اس کی آواز بھی اس حیرت انگیز طوفانِ گریہ وزاری میں ڈوب گئی، شام تک کا سارا وقت اس عالمِ تحیر میں گزارتا ہے،کبھی خوب رو روکر مانگتا ہے،کبھی « لبيك اللهم لبيك » کا نعرہ لگاتا ہے، کبھی تکبیر کی گونج سے زمزمہ آراء ہوتا،کبھی تحلیل سے نغمہ سرا ہوتا ہے، کبھی ˝ لا إله إلا الله وحده لا شريك له˝ سے وحدانيت وربوبیت کی صدائیں بلند کرتا ہے، عابد و معبود کا تعلق کتنا دل
❤2
Mr Sid
*مسلمانوں کی مذہبی حمیت* ✍🏻... مولانا غلام رسول مہر لیکن مسلمانوں کے جوش ایمانی اور حُبِّ بیت اللہ کی یہ حالت ہے کہ کسی تکلیف کی پروا نہیں کرتے ؛بلکہ سفر حج میں تکلیف کے ذکر کو بھی گناہ سمجھتے ہیں، ہر شخص کی زبان سے یہی سنا جاتا ہے کہ اس سفر میں جتنی تکلیفیں…
ربا ہے؟ اور بندگی وسرافگندگی کا یہ منظر کس قدر حیرت افزا ہے؟

آفتاب غروب ہوا اور اس دشت پیمانے بوریا بستر باندھ ”مزدلفہ“ کا رخ کیا ،شب بیداری وہاں ہوگی، مغرب و عشا کی نماز وہاں پڑھی جائے گی،اظہار آداب بندگی میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے تو وہاں نکالی جائے گی،کبھی رکوع و سجود ہے،کبھی وقوف و قیام ہے،کبھی تہلیل و تکبیر ہے،کبھی تسبیح و تلبیہ ہے،
گریہ وزاری ، دعا ومناجات اور تضرُّع و ابتِہال کا نصاب پورا ہوا تو کامیابی و کامرانی کی نعمت سے سرشار ہوکر وہاں سے ”منیٰ“ کو چلا ، دشمن انسانیت، عدو مبین، راندۂ بارگاہ ”ابلیس لعین“ کی سرکوبی کے لیے ”جمرہ“ کی رمی کی ، خلیل و ذبیح ( على نبينا عليهم الصلاة والسلام) کی سنتِ قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی دی اور رضائے محبوب کے لیے جان و مال کے ایثار و قربانی کا عہد تازہ کر لیا۔
وہاں سے بارگاہ قدس کے مرکز انوار کی زیارت کو چلا اور طواف کعبہ کے انوار و برکات سے دیدہ و دل کی تسکین کا سامان کیا۔

الغرض اس عاشقانہ و والہانہ عبادت میں دیوانہ وار ایثار و قربانی اور عبدیت و فنائیت کا ریکارڈ قائم کرلیتا ہے اور تجلیاتِ ربانی کے انوار و برکات سے سراپا نور بن جاتا ہے اور رحمت و رضوان کے تحفوں سے مالا مال ہو کر اور استحقاق جنت کی آخری سند لے کر اپنے وطن کو واپس لوٹتا ہے، اس طرح بندہ بندگی کا ثبوت دے کر جنت ورضوان الٰہی کی نعمتوں سے سرفرازی کے تمغے وصول کرلیتا ہے،
”والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة“ کے آخری انعام سے مطمئن ہوجاتا ہے۔
دیکھئے کس انداز سے عشق و محبت کی منزلیں طے کی گئیں اور کس کس طرح شاباشوں سے نوازا گیا ، یہ اس عاشقانہ و عارفانہ عبادت کا بہت ہی مختصر سا نقشہ ہے۔

(ماہ نامہ دار التقوٰی، لاہور، ذوالقعدہ، ١٤٤٧ھـ، مئی، ٢٠٢٦ء، صفحہ: ۲۳)
❤1
*میرا پہلا سفر حج*
*(بھٹکل کے الحاج محی الدین منیری مرحوم کی زبانی آپ کے پہلے سفر حج کی داستان)*

*از : مولانا عبد المتین منیری*

*خداکی شان دیکھئے ، یہ سب اتنی عجلت میں ہوا کہ سفرِ حج سے قبل وطن جاکر اہلِ وعیال سے ملنے کی بھی فرصت نہ ملی۔ مجبوراً والدہ سے ٹیلگرام کے ذریعہ اجاز ت طلب کرنی پڑی کہ زندگی میں ایک سنہرا موقعہ نصیب ہوا ہے ۔ اس وقت مجھے احمد جانی کی بات باربار یاد آئی کہ منیری ! محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کرنا جلدی بلاوا آئے گا۔ اور سچ مچ بلاوا آگیا۔*

مکمل مضمون پڑھیے اس لنک پر

https://links.fikrokhabar.com/da73d6a2
❤1
وفیات مورخہ: 24/مئی
1953ء  عبد الرحمن صدیقی۔  خلافتی لیڈر
1966ء  نیاز فتح پوری (نیاز محمد خان)۔  مدیر نگار لکھنو
1967ء  مسرور حسین ۔  ائیر کموڈور ،
1970ء  منور لکھنوی، بشیشور پرشاد۔  شاعر
1981ء  ظفر مسعود۔   ،
1983ء  محمد زکریا کاندھلوی۔  حضرت شیخ الحدیث مولانا
1985ء  سعید احمد اکبر آبادی۔  مولانا، مدیر برہان دہلی
1987ء  سید منورعلی شاہ۔   ،
1993ء  نسیم عثمانی۔  ڈاکٹر ، پروفیسر
1998ء  صائمہ خیری۔   ،
1999ء  اقبال صفی پوری (اقبال احمد خلیلی)۔  شاعر
2000ء  مجروح سلطانپوری (اسرار الحسن خان)۔  شاعر
2004ء  عبدالجلیل خاں کرت پوری۔  حکیم
2005ء  سعید خان رنگیلا۔  مزاحیہ اداکار
2007ء  صفات اللہ مئو۔  مولانا
2010ء  منصور سعید۔   ،
2011ء  بدر الحسن معلم۔  صدر مجلس اصلاح وتنطیم  بھٹکل
2011ء  حاکم علی زرداری۔  والد آصف علی زرداری
2011ء  خیام قادری۔   ،
2013ء  محمد الیاس۔ 
2021ء  میر محمد سومرو۔  سندھی عالم ، محقق
2022ء  فہمیدہ عتیق۔ 
2025ء  قاضی صلاح الدین ایوب۔  سر قاضی چنئی
 
ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
Mr Sid
ربا ہے؟ اور بندگی وسرافگندگی کا یہ منظر کس قدر حیرت افزا ہے؟ آفتاب غروب ہوا اور اس دشت پیمانے بوریا بستر باندھ ”مزدلفہ“ کا رخ کیا ،شب بیداری وہاں ہوگی، مغرب و عشا کی نماز وہاں پڑھی جائے گی،اظہار آداب بندگی میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے تو وہاں نکالی جائے…
از: *نواب مصطفی خان شیفتہ*

تعجب ہے کہ با وجودیکہ انسان کو خداوند تعالیٰ نے نفس ناطقہ کی شناخت کی طاقت عطا فرمائی ہے ؛لیکن اس نے اپنی پیدائش کے شیش محل کو پتہر سے توڑ رکھا ہے اور اپنی ہمت کے باغیچے میں لوہے کے دروازے لگا رکھے ہیں، افسوس ہے کہ گلزار سے نکل کر قفس میں پڑکر ایسا خوش ہے کہ گویا اسکا آشیانہ کسی بلند شاخ پر ہے، اور وطن سے سفر میں آکر ایسا خرم و خنداں ہے کہ گویا اسکا نشیمن کسی قصر و کاخ پر ہے، اسکا قصد اپنے اصل کی طرف لوٹنے اور ارادہ اپنے وطن اصلی میں واپسی کا نہیں ہے، یہ کام ضرور مشکل اور بلا شبہ نہایت اہم ہے، انسان ذرہ سے کم نہیں ہے، اسکو زیبا نہیں ہے کہ اپنے شیشۂ عزت کو پتہر سے توڑ کر ضایع کردے ۔ اسکو اپنی عزت ہلکے پتہر سے ضائع نہیں کرنی چاہئے! انسان وجود میں ”سپند“ سے بڑھا ہوا ہے، اسکو اتنی غیرت آنی چاہئے کہ اس کے جسم میں آگ کا شعلہ بھڑک اُٹھے، اُسکو نامردوں کی طرح بیٹھا نہیں رہنا چاہئے، بلکہ ترکوں کی طرح مستعد ہو جانا چاہئے اور جو شخص کہ اسکا ہارج ہو اس سے مثل دشمن کے لڑنا چاہے! اسکو دشمن کا اندیشہ نہ کرنا چاہئے؛ کیونکہ دوست مہربان ہے بزدلی نہیں کرنی چاہئے! یہی آزمائش کا وقت ہے،جبکہ انسان کے ساتھ فرشتہ موجود ہے تو اس کو شیطان کے وسوسوں سے کیا ڈر؟ جب ”خضر“ انسان کا رہبر ہے تو شیطانی نیرنگی سے اس کو کیا خطر؟

میں ایک تمثیل بیان کرتا ہوں؛ کیونکہ ہر ایک بات بذریعہ تمثیل کے خوب سمجھ میں آتی ہے، کیا ایسا مسافر کہ جسکے ساتھ لشکر سلطانی ہو، راہزن سے ڈرسکتا ہے؟ ہرگز نہیں!! بلکہ راہزن اس سے خود ڈرتا ہے، اے مرد! راستہ کو بہت طویل مت خیال کر! اور ان لوگون کے کہنے پر دھیان نہ دے کہ جنہوں نے کبہی قدم گھر سے باہر نہیں نکالا ہے! کیا تیرے گوش زد یہ بات نہیں ہوئی ہے کہ فلاں شخص منزل مقصود کو پہنچ گیا اور فلان شخص کو کوچہ یار میں باریابی ہوگئی، کیا خوب فرمایا ہے کہ وصول کی راہ صرف دو قدم ہے یعنی اُٹھانا اور رکھنا، جب انسان حلقۂ ما سوا سے نکل جاتا ہے تو اسکا قدم روح افزا باغ وحدت میں پڑتا ہے،پس اب تو کیا عذر پیش کرسکتا ہے؟ اور کیا حیلہ پیدا کرسکتا ہے۔ اے عزیز! حیلہ چھوڑ،اور سامان سفر فراہم کر! اور جمعیت خاطر کے ساتھ سفر شروع کر! اور وطن اصلی کی طرف رجوع ہو! لامکان میں پہنچ کر قیام کر!اورساحتِ قدس میں چہل قدمی کر! خداوند تعالٰی کے عجائبات قدرت پر آنکھ کہول ۔ میں دیکھتا ہوں کہ میری بات کا سننے والوں پر اثر نہیں ہوتا۔ اور کوئی شخص اس پر کان نہیں دھرتا۔ کوئی میری اس گفتگو سے ناخوش ہوتا ہے اور کوئی ناک بھوں چڑھاتا ہے؛ اس لئے میرا دل چاہتا ہے کہ میں زبان اپنی بند کرلوں اور سکوت سے کام لوں۔ لیکن یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا، بقول اس شعر کے:

نوارا تلخ تر میزن چو ذوق نغمہ کم یابی+
حُدی را تیز تر میخوان چو محمل را گراں بینی

اس لیے میں پھر اُسی راہ پر چلتا ہوں، یاخدا! کسی در مند سوختہ جان کو میرے راستہ میں بھیج دے تاکہ وہ گرم آنسوں بہائے اور آہ سرد کھینچے ؛کیونکہ مجھ جیسے گنہگار کا آلودہ دامن سوائے ایسے پانی کے دھویا نہیں جاسکتا اور سوائے ایسی آگ کے خشک نہیں ہوسکتا، اے برادر! اگرچہ یہ تقریر میں نے تجھکو مخاطب کرکے کی ہے لیکن کیا تو نے نہیں سمجھا کہ در اصل اس کا مخاطب کون ہے؟ اس تمام تقریر سے جو کہ غیر کے پردے میں کی گئی ہے سوائے اپنے نفس کی ملامت کے اور کوئی خواہش میری نہین ہے ،استغفرالله ثم استغفراللہ یہان غیر و بیگانہ کا کیا کام ،اس چمن میں غیر و بیگانہ مثل سیمرغ و عنقاء کے لاپتہ ہیں اور سوائے ایک ذات واحد کے کسی اور کا وجود نہیں ہے، جو لوگ کہ خمِ توحید سے سرمست ہیں ان کے نزدیک بادہ و جام میں کوئی فرق نہیں ہے اور جو لوگ شراب توفیق سے مدہوش ہیں وہ پیالہ و شراب مین کوئی تمیز نہین کرتے ”رق الزجاج ورق الخمر فاشتهہ الدہر“ سبحان الله!!
یہ مین نے کونسا مضمون چھیڑ دیا اور کس ڈبے کی مہر کھول دی! اس قسم کی گفتگو کرنے کی اجازت سوائے اُن لوگوں کے کہ جن کو سراے محرمیت سے لگاؤ ہو اجازت نہیں ہے پس مناسب یہ ہے کہ وہی پہلی بات شروع کروں تا کہ زلف سخن درہم نہ ہوجائے، عشق الہی کی آگ بھڑک رہی ہے اور تو ایسی آگ سے کہ جو خس و خاشاک سے بھڑکائی جاتی ہے عشق پیدا کرنا چاہتا ہے، مجاز سے حقیقت کی طرف رخ نہیں کرتا اور ظاہر سے باطن کی طرف نہیں آتا، تیری نگاہ میں زلف و رخ ویسے ہی ہیں جیسے کہ وہ بظاہر دکھلائی دیتے ہیں۔ اور تو ان چیزوں سے اور کوئی عقدہ نہیں کھول سکتا۔ تاکہ تم کو معلوم ہو سکے کہ ان میں کیا عجائبات ہیں، خاک تیرہ سے اس قسم کے عجیب و غریب نقش پیدا کرنے اور ناچیز مٹی سے اس قسم کے نادر رنگ آمیزی کرنے کو عیش وعشرت پر تو منحصر کرتا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تیرا پیر لغزش نہ کرے اور تو بلندی سے پستی میں نہ گرے اس وقت نہ کسی حکیم کا علاج اور نہ کسی جادوگر کا منتر تیرے کام آئے گا۔
❤2
Mr Sid
ربا ہے؟ اور بندگی وسرافگندگی کا یہ منظر کس قدر حیرت افزا ہے؟ آفتاب غروب ہوا اور اس دشت پیمانے بوریا بستر باندھ ”مزدلفہ“ کا رخ کیا ،شب بیداری وہاں ہوگی، مغرب و عشا کی نماز وہاں پڑھی جائے گی،اظہار آداب بندگی میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے تو وہاں نکالی جائے…
اس خطرناک موقع سے ڈرتا رہ، اور اپنی آنکھ سے دوئی کا پردہ ہٹا! اب وقت یہ ہے کہ سجدہ شکر سے سر نہ اٹھاؤں، نسیم لطف کی جنبش نے میری بصیرت کے پردہ کا وہ گوشہ اُٹھا دیا تو معلوم ہوا کہ میں نے
ہیچ کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور سراب کو سمندر جانا ہے، شیطان پر فرشتے کا گمان کیا ہے،اور ذرے کو پہاڑ سمجھا ہے۔ اس علم سے میری جان پر لرزہ آگیا اور اس قدر پشیمانی ہوئی کہ اپنے آپے سے باہر ہوگیا اور گریہ طاری ہوگیا۔ جب مایوسی کی نوبت یہاں تک پہونچی تو لا تقنطوا کی مہربانی کا لخلخہ میرے دماغ میں پہونچا اور بیہوشی جاتی رہی،جب ہوش میں آیا تو اپنے کو مثلِ اس مرغ گم کردہ آشیاں کے پایا کہ جسکا نشیمن باغ میں ہو اور وہان پہونچنے کی خواہش میں بےتاب ہو کر چکر لگاتاہو اور اپنے کو مثل اس پرند کے دیکھا کہ صیاد جس کی گہات میں لگاہو اور ہر قدم پر دانہ و دام اس کی گرفتاری کے لئے اس نے پھیلایا ہو۔ دام کی تکلیف اور قفس کی زحمت برداشت کرچکا تھا اس سماں کے دیکھتے ہی حواس جاتے رہے اور نعرہ ہائے دل خراش شروع کئے اسی اثناء میں مرغان حرم کی آواز میرے کان مین پہونچی کہ اس طرف کیوں نہیں آتا اور کس واسطے چند روز ہمارے ساتھ نہیں رہتا ؛تاکہ بلاخوف و خطر گرفتاری کے اپنے آشیانہ کا نشان تلاش کرسکے اور سراغ اپنے نشمین کا پاسکے، اس آواز سے دل ٹھکانے ہوگیا اور اس طرف تیز تیز روانہ ہوا خیر خواہی کے خیال سے یہ قصد کیا کہ واقعات سفر کو ضبط تحریر میں لاؤں اور منزلوں کے نام اور دیگر حالات قلمبند کروں ؛تاکہ اگر کوئی ایسا خوش نصیب ہو کہ اس سفر کا قصد کرے تو بلانیت راہ بر اس منزل میں چل سکے اور منزل مقصود تک پہونچے ۔ یہ صرف خلق کی خیراندیشی کا باعث تھا کہ میں نے اس بار کو اپنے سرلیا،ورنہ میری آزاد طبیعت کب اس امر کو گوارا کرتی، یہ خلق کی خیر خواہی کا باعث ہے؛ کہ میں نے کوئے دوست کا پتہ دیا ،کوئی شخص اپنے محبوب کے مکان کا پتہ کب دیتا ہے؟ بقول شعر

تا در ہست از پیم نیایند

برداشته ام نشانه ها را

اور رقابت پسند کرتا پس جیسا کہ میں نے یاروں کے طریقے کے برخلاف ان کے لئے
شرکت کرنے کا سامان مہیا کردیا میں امید کرتا ہوں کہ انصاف پسند لوگ میرے لئے بھی اپنے ساتھ خاتمہ بخیر ہونے کی دعاکریں گے! چونکہ میرا منشاء سخن آرائی سے نہ تھا اور رنگینی عبارت میرے خیال سے بہت دور تھی ؛لہذا میں نے اس سفرنامہ میں اس نمائشی آرائش کو داخل نہیں کیا۔ اور اسی طرح چونکہ میرا روئے سخن خاص و عام کی طرف ہے میں نے بہت دقیق مسائل لانا مناسب نہیں سمجھا اور اس کتاب کا نام ”برہ آورد“ رکھا۔

اس سفرنامہ کو میں نے تین گفتار پر تقسیم کیا ہے۔

گفتار اول -

ذکر ان واقعات کا کہ جو روانگی شاہجہان آباد سے بمبئی پہونچنے تک پیش آئے۔

گفتار دویم

اسمیں چند سخن ہیں، سخن اول - سمندر کے سفر کی کیفیت بمبئی کی روانگی سے حدیدہ پہونچنے تک

سخن دویم: حالات روانگی حدیدہ سے اور ٹوٹنا کشتی کا اور پہونچنا ایک جزیرہ میں اور وہاں قیام کرنا اور ایسے سخت مقام سے بہ عنایت ایزدی نہایت آسانی سے نکلنا اور مکہ معظمہ پہونچنا

سخن سوئم: ذکر مناسک حج، اسمین کئی ایک باب اور فصلیں ہیں ـ

سخن چہارم: ذکر مکہ معظمہ اور وہاں کے چھوٹے بڑے ہر قسم کے باشندوں کا حالـ

سخن پنجم: حالات روانگی مکہ معظمہ سے اور پہونچنا مدینہ منورہ میں اور قیام اس مبارک شهر میں،

سخن ششم :در باب آداب زیارت و ذکر مزارات مبارک و مساجد متبرک و چاہ ہائے مکرم و مقامات بزرگ ـ

سخن هفتم: ذکر مدینہ طیبہ اور وہاں کے باشندون کا

سخن ہشتم: واپسی مدینہ سے بطحی کو

سخن نہم :روانگی مکہ سے طائف کو اور واپسی مکہ کوـ

سخن دہم: رخصت مکہ معظمہ سے اور روانہ ہونا بقصد وطن اور پہونچنا جدہ میں، حالات سفر دریا اور پہنچنا بمبئی کا۔

گفتار سویم ۔ وقت روانگی بمبئی سے شاہجہان آباد تک پہونچنے کا حال ـ

( سفر نامۂ حجاز، صفحہ: 5-6-7-8-9 ، طبع: آگرہ پریس، آگرہ)
❤1
سفرِ حج، تسلیم و رضا سکھاتا ہے

مولانا عبدالماجد دریابادی رحمۃ اللّٰه علیہ لکھتے ہیں:

ہر گمراہی کی بنیاد، انسان کے اس جذبہ پر ہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب پر حکمران دیکھنا چاہتا ہے۔ اسلام اسی باطل پرستی کی تصحیح کے لیے ہے، اسلام کے معنیٰ اپنی مرضی کو اپنے پیدا کرنے والے کی مرضی کے محکوم کردینے کے ہیں اور فریضۂ حج، اسی مقصد کی تکمیل کا ایک آلہ ہے، پھر اگر راستہ میں کچھ اُمور ناخوشگوار پیش آئیں تو ان پر بے صبری کا اظہار کتنی بڑی محرومی اور بدنصیبی ہے۔ دنیا میں کسی کے ساتھ ذرا سا دل کا لگاؤ پیدا ہوجاتا ہے، پھر دیکھیے کہ اس کی گلی کا ہر کانٹا کس طرح پھول بن جاتا ہے، پس وہ، جو سب محبوبوں کا محبوب ہے اور سب کی محبتوں کا تاجدار ہے، اگر اس کی راہ میں کوئی بات خلافِ مزاج یا خلافِ توقع پیش آئے تو وہ بات ہی ایسی کیا ہوسکتی ہے؟ جس کے چرچے زبانوں پر لائے جائیں اور جس کے تذکرے اخبارات کے کالموں میں پھیلائے جائیں۔

(سفرِ حجاز، صفحہ: ۳۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://telegram.me/ilmokitab
❤2
*وفیات مورخہ: 25/مئی*
1968ء  الطاف حسین۔  ایڈیٹر ڈان کراچی ،
1977ء  عرشی بھوپالی (سید معین الدین)۔ 
1978ء  عبد المجید سندھی (سابق جیٹھ آنند)۔  کارکن ریشمی رومال تحریک، تحریک خلافت
1989ء  فیض بھرتپوری (سید فرزند حسن)۔   ،
1994ء  ضمیر بدایونی (ضمیرالحسنین)۔   ،
1995ء  احمد بن راشد آل مبارک۔  سعودی شاعر وادیب
2007ء  خلیل زہاوی۔  عراقی خطاط
2008ء  عبدالرحمٰن حیاتی۔  مولانا قاری
2011ء  سید محمد حسن ہاشمی۔   ،
2023ء  احمد کمال ۔  پاکستانی سفارت کار
 
Https://telegram.me/ilmokitab
Mr Sid
اس خطرناک موقع سے ڈرتا رہ، اور اپنی آنکھ سے دوئی کا پردہ ہٹا! اب وقت یہ ہے کہ سجدہ شکر سے سر نہ اٹھاؤں، نسیم لطف کی جنبش نے میری بصیرت کے پردہ کا وہ گوشہ اُٹھا دیا تو معلوم ہوا کہ میں نے ہیچ کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور سراب کو سمندر جانا ہے، شیطان پر فرشتے…
*پیش لفظ*

✍🏻... مولانا حاجی رفیع الدین صاحب، فؔاروقی، مرادآبادیؒ

(سن تحریر: ۱۲۰۱ھ)

(مترجم) مولانا نسیم احمد صاحب، فؔریدیؒ



بعد حمد و صلاۃ! محررِ سطور رفیع الدین کہتا ہے کہ: مجھ کو عنفوانِ سن شعور سے تمنائے زیارت حرمین تھی اور شوقِ دیدار غالب تھا، بشارات واشارات حصول مطلب کے سلسلے میں پاتا تھا؛ لیکن کچھ موانع در پیش تھے اور علائق سد راه ____ اس بنا پر یہ آرزو دل کی دل ہی میں رہتی تھی ۔ ایک مدت کے بعد جب خدائے بے نیاز کا ارادہ متوجہ ہوا تو رفتہ رفتہ موانع برطرف، اور علائق منقطع ہوتے چلے گئے اور اس دار فانی سے وابستگی کے اسباب برہم اور موجباتِ افسردگی ودل سردی فراہم ہوگئے۔

دیدۂ بصیرت کو خواب غفلت سے بیداری حاصل ہوئی اور مستلذات فانیہ کی جانب سے توجہ ہٹ گئی، اب اپنے حال پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ عمر عزیز طلب آمال وامانئ دنیا میں ضائع ہوچکی ہے، بار گناہ کے پہاڑ گردن پر آپڑے ہیں اور آفتابِ عمر لب بام آگیا ہے ۔
رباعي

یک نیمه عمر در بطالت بگذشت +
یک نیمه به تشویر و خجالت بگذشت

عمر یکہ از ورے جہانے آزرد+
بنگر بچہ حیلہ و چہ حالت بگذشت

نہ تمتعت ز دنیا نہ ز دیں نصیب مظہر
بفنونِ بے کمالی، چہ قدر کمال داری؟

(مرزا مظہر جان جاناں)

بعد شدتِ حسرت و حیرت اور بعد ندامت و پشیمانی اسکے سوا اور کوئی چارۂ کار نظر نہ آیا کہ دل کو یار و دیار سے جدا کرکے وادئی غربت میں قدم رکھا جائے اور شفیع المذنبین،رحمۃ للعالمین،سید ابرار،محمد مختار صلی اللہ علیہ وسلم کی درگاہ کی طرف توجہ کی جائے، اور اپنے درد کی دوا اُن کے ”دار الشفائے “ رحمت کاملہ و شفاعت شاملہ سے چاہی جائے!
اس قصد کے بعد ہواجِس نفسانی اور تسویلاتِ شیطانی، مزاحمت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور سفر کی مشکلات کو سامنے لا کھڑا کیا؛ لیکن اللہ کی اعانت و نصرت سے یہ بات پیدا ہوگئی کہ جب دل میں زادِ راہ کا خطرہ آتا تھا تو کہتا تھا کہ: ”جو شخص خانۂ ارحم الراحمین اور روضۂ جناب رحمۃ للعالمین کی جانب متوجہ ہو اس کو اسباب ظاہر پر نظر رکھنا اور مسبب الاسباب سے غافل رہنا، انتہائی کوتاہ نظری ہے۔“

فإن الزاد اقبح كُلِّ شي
إذ كان الوفود على الكريم

(جب آدمی ایک کریم کے دربار میں حاضر ہو رہا ہو، تو زاد راہ کی فکر سے بری کوئی چیز نہیں) جب نظر ضعف بدن پر پڑتی تھی تو کہتا تھا کہ: کچھ غم نہیں ہے ۔ (اور یہ آیت یاد آتی تھی {مَنْ يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهاجِراً إلى اللهِ وَرَسُوله }الآیۃ، (جو شخص اپنے گھر سے اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلا، اس کا اجر اللہ کے ذمہ واجب ہوگیا۔)

چو حکم ضرورت بود کابروئے
بر یزند باری براں خاک کوئے

جب سفر کے رنج و مصائب کا ہراس ہوتا تھا تو دل میں خود کو مخاطب کرکے کہتا تھا: یاد کر! تونے سعئ باطل میں عمر بھر کس قدر خونِ جگر پیا ہے اور کس قدر رنج جھیلے ہیں، اور آخر کار پشیمانی حاصل کی اور شربتِ ناکامی نوش کیا ہے، شاید اسی مقدس سفر کے رنج و مصائب سے ان گناہوں کا کفارہ ہوجائے۔

حدیث شریف میں آیا ہے۔ حُفَّتِ الجَنَّةُ بالمكاره وحُفَّتِ النار بالشهوات (جنت کی راہ میں ناگواریاں ہیں اور دوزخ کے آگے سبز باغ )

در بیابان گر به طواف کعبه خواهی زد قدم

سرزنش ها گر کند خار مغیلان غم مخور

جب مہلت طلبی اس بات کی طالب ہوتی تھی کہ ابھی کچھ اور توقف کرو پھر چلے جانا تو میں جواب میں کہتا تھا۔

صد ہزاراں دے دریں سودا مرا امروز شد+
نیست صبرم بعد ازیں کـ اِمروز را فردا کُنم

خواهم از سودائے پا بوشش نهم سرور جهاں

یا بپائش سر نہم یا سر در ایں سودا کنم

آرزوئے جنت المأوٰی بدر کردم زسر

جفتم این بسکه بر خاک درش مأویٰ کنم

الحمد للہ کہ کریم کارساز نے دستگیری فرمائی اور قید ایں و آں سے رہا کرکے نفس و شیطان کے ہاتھ میں سے نکالا اور اپنے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےگھر کی طرف رہنمائی فرمائی،
اب داعیہ شوق باعث ہے اس امر کا کہ جو کچھ سوانحِ سفر اور منازل و مراحل بحر و بر کا مشاہدہ اور معائنہ کروں اور جن مواضع متبرکہ اور اماکن مشترفہ کی زیارت کروں اور جن علماء اور صلحائے عصر کی ملاقات سے فائز ہوں یہ سب کوائف و حالات نیز دیگر عجائبِ حکایات اور نوادر روایات اور فوائدِ متفرقہ کہ کسی معتبر و ثقہ سے سنے یا کسی کتاب میں دیکھے ہوں ان کو قید کتابت میں لے آؤں____ غرض اس تحریر سے یہ ہے کہ اس فقیرِ ہے نام ونشان کی یہ ایک نشانی برائے یاران و عزیزان باقی رہ جائے اور ان دونوں عظیم الشان آستانوں کے شوق کی محرِّک ہو- زادهما الله شرفا و تعظیما -
اور اگر بمقتضائے بختِ ناساز اس فقیر کو ان مواطن نور و سرور (حرمین) سے دوری پیش آجائے تو ان اوراق کے مطالعہ سے ان حالات کو یاد کرکے فراق حرمین میں آہ وزاری کر لیا کرے۔
❤1
Mr Sid
اس خطرناک موقع سے ڈرتا رہ، اور اپنی آنکھ سے دوئی کا پردہ ہٹا! اب وقت یہ ہے کہ سجدہ شکر سے سر نہ اٹھاؤں، نسیم لطف کی جنبش نے میری بصیرت کے پردہ کا وہ گوشہ اُٹھا دیا تو معلوم ہوا کہ میں نے ہیچ کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور سراب کو سمندر جانا ہے، شیطان پر فرشتے…
حضرت واہب جل جلالہ سے التجا ہے کہ وہ آخر دم تک مجاورت حرم رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کا موقع عنایت فرمائے اور اگر اس کے علمِ قدیم میں اس بار وطن کی طرف رجوع کرنا مقدر ہو تو پھر دوبارہ توفیق معاودت و مجاورت مدینہ طیبہ نصیب فرمائے! وانه على كل شي قدير - وصلى الله على سيدنا ومولانا محمد و آله واصحابه وسلم تسليما كثيراـ


( ہندوستان کا سب سے پہلا سفر نامۂ حجاز، ماہ نامہ: الفرقان، لکھنؤ، ماہ: شوال1380ھ، اپریل: 1961)صفحہ: 6)
عبدالمجید سندھی کبوتر نما ہے

مولانا شوکت علی مرحوم لکھتے ہیں:

میری پہلی ملاقات شیخ (عبدالمجید سندھی) صاحب سے سنہ ۱۹۱۴ء میں بمبئی شہر کے تاج محل ہوٹل میں ہوئی تھی، جہاں وہ ایک نفیس، دبلے پتلے نوجوان، ہمارے پرانے ساتھی رئیس غلام محمد بھرگڑی کے پرائیویٹ سیکریٹری تھے۔ اس وقت رئیس بمبئی صوبائی کونسل کے ممبر تھے۔ بی اماں کہتی تھیں کہ بچے دو طرح کے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک: چوزہ نما اور دوسرے کبوتر نما۔ چوزہ نما شروع میں تو بہت خوبصورت اور پیارے لگتے ہیں، ان پر گوشت پوست زیادہ ہوتا ہے اور وہ موٹے اور گول مٹول ہوتے ہیں، لیکن جب وہ عمر میں آگے بڑھتے ہیں تو ان کے بال اور ان کا موٹاپا گھٹنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ دبلے اور نازک اندام ہوجاتے ہیں۔ ان کے برعکس، کبوتر نما بچے بنا بالوں کے ہوتے ہیں اور حسین بھی نہیں ہوتے۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں، وہ خوبصورت ہوتے جاتے ہیں اور مجسمِ حسن بن جاتے ہیں۔ عبدالمجید کبوتر نما ہے۔

(سندھی پبلیکیشن، شیخ عبدالمجید سندھی نمبر، فروری مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ: ۴۳/اردو پیشکش طارق علی عباسی)
Mr Sid
حضرت واہب جل جلالہ سے التجا ہے کہ وہ آخر دم تک مجاورت حرم رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کا موقع عنایت فرمائے اور اگر اس کے علمِ قدیم میں اس بار وطن کی طرف رجوع کرنا مقدر ہو تو پھر دوبارہ توفیق معاودت و مجاورت مدینہ طیبہ نصیب فرمائے! وانه على كل شي قدير - وصلى…
*منیٰ ،عرفات اور مزدلفہ میں حاضری*


✍🏻 مولانا حاجی رفیع الدین صاحب، فؔاروقی، مرادآبادیؒ

(مترجم) مولانا نسیم احمد صاحب، فؔریدیؒ

۵ ذی الحجہ ۱۲۰۱ھ کو زمزم شریف پر غسل کرکے زیر میزاب رحمت احرام باندھا، ۷ ذی الحجہ کی شب میں سعئ صفا و مروہ سے فراغت حاصل ہوئی، یوم الترویہ(۸ ذی الحجہ) میں جمعہ کے دن نماز جمعہ مسجد الحرام میں پڑھ کر منیٰ کو روانگی ہوئی، بوقت عصر منیٰ میں پہونچنا ہوا، تھوڑے سے حاجیوں کے علاوہ تمام حُجاج اسی روز عرفات کو روانہ ہو جاتے ہیں اور منیٰ کی شب گزاری (جو کہ سنت ہے) ترک کر دیتے ہیں، اؔحقر نے منیٰ میں مسجد خیف کے اندر رات گزاری،صبح کو عرفات روانہ ہوا اور بعد ادائے نماز ظہر و عصر بجمع تقدیم (در مسجد ابراہیم) متوجہ جبل رحمت ہوا اور ایک چبوترے پر متصل شام تک وقوف کیا ۔

اس وقت عجیب حال مشاہدے میں آیا کہ: جم غفیرِ صغیر کبیر، غنی و فقیر کا (جن کا شمار سوائے علیم وخبیر کوئ نہیں جانتا) اس موقف میں حاضر اور دست بہ دعا تھا،آنکھیں گریہ و زاری میں اور دل بیقراری میں تھے۔ وہ عرصہ قیامت کا ایک نمونہ تھا،اور عرفات سے مسجد الحرام کو لوٹنا اہل قیامت کا محشر سے جنت دار السلام میں لوٹنے کے مشابہ تھا۔ بعد غروب شمس عرفات سے روانہ ہو کر مزدلفہ میں رہا،مغرب کو عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھا اور یوم النحر کی چاشت میں منیٰ پہونچا ،بعد رمی و ذبح و حلق____ برائے طوافِ زیارت حرم شریف آیا، بعد از طواف ، داخلۂ خاص سے بھی مشرف ہوا ۔ اس دن شؔیبی (صاحب المفتاح) دروازۂ کعبہ کھولتے ہیں، بعض لوگوں سے حق المفتاح لیتے ہیں اور ان کو اندرون بیت اللہ پہونچاتے ہیں۔ فؔقیر ظہر و عصر مسجد الحرام میں پڑھ کر منیٰ واپس آگیا اور روز نفر ۱۲ ذی الحجہ کو بعد رمئ جمار، منیٰ سے روانہ ہوا، اور مُحَصَّب میں اس جگہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی تھی نماز عصر پڑھی،محصب میں اب ایک مسجد ہے اور صحن مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محل نزول تھا ، وہاں ایک علامت بنا دی ہے، اس جگہ نزول و توقف سنت ہے۔ نمازِ شام مسجد الحرام میں آکر پڑھی اور دو صالح آدمیوں سے بہ نیابت والدین حج کرایاـ
اور خود بھی از طرف والدین اور بعض دیگر ذوی الحقوق کی طرف سے طواف ہائے مکرر اور عمرے کیے ـ


( ہندوستان کا سب سے پہلا سفر نامۂ حجاز، بحوالہ: ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، صفحہ: 44،ماہ: شوال: 1380،اپریل: 1961)
❤2