امام صاحبؒ کی راتیں اس ہمسائے کی رندانہ ہاؤ ہو سے بُری طرح درہم برہم ہوا کرتیں۔ لیکن وہ صبر کرتے۔ مسلسل صبر کرتے رہے ۔ موچی نے ذرا احساس نہ کیا کہ وہ امامؒ کی علمی مصروفیات اور عبادتِ نیم شبی میں کس بُری طرح خلل انداز ہو رہا ہے۔ لیکن اتنا بُرا پڑوسی جب ایک رات شراب نوشی کے الزام میں دھر لیا گیا اور دوسری شب اس کی سماعت خراش ہاؤ ہو امام صاحبؒ کو سنائی نہ دی تو وہ بے چین ہو گئے فوراً صُورتِ حال معلوم کی ــــ موچی کی گرفتاری کی خبر معلوم ہوتے ہی حقوق ہمسائیگی کا مومنانہ جذبہ بیدار ہوا اور وہی شاہی دربار جہاں بُلایا جانا اپنے لیے عار سمجھتے تھے از خود وہاں تشریف لے گئے ــــ بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ امامؒ کا خیر مقدم کیا گیا۔
مام صاحبؒ نے فرمایا " میرے محلّے میں جو موچی رہتا تھا کو توال نے اس غریب کو گرفتار کرلیا ہے میں اس کی رہائی کی سفارش کے لیے حاضر ہوا ہُوں۔"
یہ سنتے ہی حاکمِ وقت نے داروغہ جیل کو موچی کی رہائی کا فرمان جاری کر دیا اور امام صاحبؒ اپنے پڑوسی کو قید و بند سے نکال کر اپنے ساتھ لے کرخوش خوش روانہ ہوئے ۔
"دیکھو بھئی" امام صاحبؒ نے موچی کو اس کے مخصوص شعر کی یاد دلاتے ہوئے کہا "دیکھو ! ہم نے تمہیں ضائع نہیں ہونے دیا!"
"نہیں" موچی نے احسان و تشکر کی نمناکیوں کے ساتھ کہا ” نہیں ! آپ نے تو حقِ ہمسایگی ادا کر دیا۔ “ اخلاقِ مومنانہ کا یہ تیرِ نیم کش موچی کے دل میں ترازو ہو گیا اور اُس نے مے پرستی سے توبہ کر کے علمی و عملی زندگی کو سینے سے لگا لیا۔
ـــــــــــــ
(جاری)
Https://telegram.me/ilmokitab
مام صاحبؒ نے فرمایا " میرے محلّے میں جو موچی رہتا تھا کو توال نے اس غریب کو گرفتار کرلیا ہے میں اس کی رہائی کی سفارش کے لیے حاضر ہوا ہُوں۔"
یہ سنتے ہی حاکمِ وقت نے داروغہ جیل کو موچی کی رہائی کا فرمان جاری کر دیا اور امام صاحبؒ اپنے پڑوسی کو قید و بند سے نکال کر اپنے ساتھ لے کرخوش خوش روانہ ہوئے ۔
"دیکھو بھئی" امام صاحبؒ نے موچی کو اس کے مخصوص شعر کی یاد دلاتے ہوئے کہا "دیکھو ! ہم نے تمہیں ضائع نہیں ہونے دیا!"
"نہیں" موچی نے احسان و تشکر کی نمناکیوں کے ساتھ کہا ” نہیں ! آپ نے تو حقِ ہمسایگی ادا کر دیا۔ “ اخلاقِ مومنانہ کا یہ تیرِ نیم کش موچی کے دل میں ترازو ہو گیا اور اُس نے مے پرستی سے توبہ کر کے علمی و عملی زندگی کو سینے سے لگا لیا۔
ـــــــــــــ
(جاری)
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*مشاہدات و تاثرات (قسط 3)*
*انٹرویو: جناب عبد الحمید دامودی*
ذاتی مشاہدات انی گذشتہ صدی سے بھٹکلی معاشرا سلسلات ایک یادگار انٹرویو چی تیسری قسط۔
لنک
https://www.youtube.com/watch?v=W-BtMP1_VQs
*انٹرویو: جناب عبد الحمید دامودی*
ذاتی مشاہدات انی گذشتہ صدی سے بھٹکلی معاشرا سلسلات ایک یادگار انٹرویو چی تیسری قسط۔
لنک
https://www.youtube.com/watch?v=W-BtMP1_VQs
YouTube
Abdul Hameed Damudi Interview 03
جناب عبد الحمید دامودی مرحوم کی یاد داشتوں پر مبنی انٹرویو کی تیسری قسط
❤1
Mr Sid
*مسلمانوں کی مذہبی حمیت* ✍🏻... مولانا غلام رسول مہر لیکن مسلمانوں کے جوش ایمانی اور حُبِّ بیت اللہ کی یہ حالت ہے کہ کسی تکلیف کی پروا نہیں کرتے ؛بلکہ سفر حج میں تکلیف کے ذکر کو بھی گناہ سمجھتے ہیں، ہر شخص کی زبان سے یہی سنا جاتا ہے کہ اس سفر میں جتنی تکلیفیں…
*حج بیت اللہ عشق و محبت کا سفر*
اللہ تعالٰی شانہ نے یوں تو ہر عبادت کے لیے قدم قدم پر رحمت و عنایت اور اجر وثواب کے وعدے فرمائے ہیں، نماز و زکوۃ اور روزہ واعتکاف وغیرہ سب پر جنت اور جنت کی بیش بہا نعمتوں کے وعدے ہیں؛ لیکن تمام عبادات میں حج بیت اللہ کی شان سب سے نرالی ہے، حج گو یا دبستان عبدیت کا آخری نصاب ہے، جس کی تکمیل پر بارگاہ عالی سے رضا و خوشنودی کی آخری سند عطا کی جاتی ہے، کتنے عجیب انداز سے فرمایا گیا ہے : والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة . ترجمہ: ”اور حج مبرور کا بدلہ تو بس جنت ہی ہے۔“
گویا حج مبرور ایک ایسی عالی شان عبادت ہے کہ بجز جنت کے اس کا اور کیا بدلہ ہو سکتا ہے، حج مبرور جس کا بدلہ صرف جنت ہی ہوسکتی ہے اس کی تشریح یہ ہے کہ اس میں گناہ کی آلودگی اور ریاکاری کا شائبہ نہ ہو، یعنی تمام سفر حج میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے آدمی بچے اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حج کیا جائے، بلا شبہ اس شرط کا نبھانا بھی بہت مشکل ہے اور صرف اللہ تعالی کی توفیق اور اس کے فضل ہی سے یہ مشکل مرحلہ طے ہوسکتا ہےـ
حج کی ظاہری صورت بھی عجیب و غریب ہے اور اس میں غضب کی جاذبیت ہے، قدم قدم پر عشق و محبت کی پُر بہار منزلیں طے ہوتی ہیں ، سب سے بڑے دربار کی حاضری کا قصد ہے، دل میں دیار محبوب کی آرزوئیں مچلتی ہیں ، سفر طویل ہے، حلال و طیب توشہ سفر کا اہتمام کیا جارہا ہے، نیک اور صالح رفیق کی خواہش ہو رہی ہے، چشمِ پُرنم کے ساتھ عزیز و اقارب سے رخصت ہو رہے ہیں، لین دین کا حساب بے باق کیا جار ہے، حق حقوق کی معافی طلب کی جارہی ہے ، کوشش یہ ہے کہ اس دربار میں حاضر ہوں تو کسی کا معمولی حق بھی گردن پر نہ ہو
لیجئے! روانگی کا وقت آیا، غسل کرلیجئے اور دو سفید نئی چادریں پہن لیجئے ، گویا
انسان خود اپنے ارادہ و اختیار سے سفر آخرت پر روانہ ہو رہا ہے،پہلے غسل سے بدن کے ظاہری میل کچیل کو صاف کرتا ہے اور پھر کفن کی چادریں اوڑھ کر دوگانۂ احرام ادا کرتا ہے، اس طرح گویا توبہ وانابت سے دل کے میل کچیل سے اپنے باطن کو پاک صاف کرتا ہے اور ظاہری و باطنی نظافت کے ساتھ شاہی دربار میں نذرانۂ عشق و محبت پیش کرنے کا عہد کرلیتا ہے ـ
ارحم الراحمین نے دعوت دے کر بلایا ہے اور شاہی دربار سے بلاوا آیا ہے، یہ فوراً بیت اللہ الحرام کے شوقِ دیدار میں اس دعوت پر لبيك اللهم لبيك ميں حاضر ہوں (اے میرے اللہ میں حاضر ہوں ) کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مستانہ وار سوئے منزل روانہ ہوجاتا ہے۔
یہ اس والہانہ و عاشقانہ عبادت کی ابتدا ہے، زیب وزینت کے تمام مظاہر ختم ، راحت و آسائش کے تمام تقاضے فراموش ، نہ سر پر ٹوپی، نہ پاؤں میں ڈھب کا جوتا، نہ بدن پر ڈھنگ کا کپڑا، دیوانہ وار رواں دواں،منازلِ عشق طے کرتا ہوا جارہا ہے، دیار محبوب کی دُھن میں بادہ پیمائی ہو رہی ہے :
؎ در بیابانها از شوقِ کعبه خواهی زد قدم
سرزنشها گر کند خار مغیلان غم مخور
پہنچتے ہی مرکز تجلیات کعبہ پر نظر پڑی، تو بے ساختہ دارِ محبوب کا طواف کرتا ہے، بار بار چکر لگاتا ہے، حجر اسود جو ”يمين الله في الأرض“ کی حیثیت رکھتا ہے، اس کو چومتا ہے، آنکھوں سے لگاتا ہے، ملتزم سے چمٹتا ہے، زار و قطار روتا ہے، گو یا زبان حال سے کہتا ہے :
؎ نازم بچشم خود که روی تو دیده است
رفتم بیائے خویش که بکویت رسیده است
هزار بار بوسه زنم من دست خویش را
که بدامنت گرفته بسویم کشیده است
اس بے خود عاشق زار کو جو قلبِ تپاں اور جگرِ سوزاں لے کر آیا تھا، پہلی مہمانی کے طور پر آب زمزم کا تحفۂ شیریں پیش کیا جاتا ہے، جس سے تسکین قلب بھی ہوگی اور جگر کی پیاس بھی بجھے گی اور حکم ہوتا ہے کہ جتنا پانی پیا جاسکے پی لے، خوب دل ٹھنڈا کرلے، کوئی کسر نہ چھوڑ، یہاں سے فارغ ہو کر ”صفا و مروہ“ کے درمیان چکر لگاتا ہے، پھر منٰی پہنچتا ہے، پھر اس کے آگے عرفات کا رخ کرتا ہے، آج وادئ عرفات سچ مچ ہنگامۂ محشر کا منظر پیش کر رہی ہے، حیرت انگیز اجتماع ہے، رنگا رنگ مختلف شکلیں،مختلف زبانیں، بوقلموں مناظر، یہ سب رب العالمین کے دربارِ قدس کے مہمان ہیں، یہ شاہی دربار میں عبدیت و بندگی، ضُعف و بے کسی ، عجز و درماندگی اور ذلت و مسکنت کا نذرانہ پیش کریں گے اور رضا و مغفرت،فضل و احسان اور انعام واکرام کے گوہر مقصود سے جھولیاں بھر کرلے جائیں گے ، اپنے لیے، اپنے اعزہ واقارب اور دوست احباب کے لیے جو کچھ مانگیں گے نقد ملے گا ،زوال ہوا تو ہر چہار طرف سے آہ و بکا کا شور پر پا ہوا، اس کی آواز بھی اس حیرت انگیز طوفانِ گریہ وزاری میں ڈوب گئی، شام تک کا سارا وقت اس عالمِ تحیر میں گزارتا ہے،کبھی خوب رو روکر مانگتا ہے،کبھی « لبيك اللهم لبيك » کا نعرہ لگاتا ہے، کبھی تکبیر کی گونج سے زمزمہ آراء ہوتا،کبھی تحلیل سے نغمہ سرا ہوتا ہے، کبھی ˝ لا إله إلا الله وحده لا شريك له˝ سے وحدانيت وربوبیت کی صدائیں بلند کرتا ہے، عابد و معبود کا تعلق کتنا دل
محدث العصر،حضرت مولانا محمد یوسف بؔنوریؒاللہ تعالٰی شانہ نے یوں تو ہر عبادت کے لیے قدم قدم پر رحمت و عنایت اور اجر وثواب کے وعدے فرمائے ہیں، نماز و زکوۃ اور روزہ واعتکاف وغیرہ سب پر جنت اور جنت کی بیش بہا نعمتوں کے وعدے ہیں؛ لیکن تمام عبادات میں حج بیت اللہ کی شان سب سے نرالی ہے، حج گو یا دبستان عبدیت کا آخری نصاب ہے، جس کی تکمیل پر بارگاہ عالی سے رضا و خوشنودی کی آخری سند عطا کی جاتی ہے، کتنے عجیب انداز سے فرمایا گیا ہے : والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة . ترجمہ: ”اور حج مبرور کا بدلہ تو بس جنت ہی ہے۔“
گویا حج مبرور ایک ایسی عالی شان عبادت ہے کہ بجز جنت کے اس کا اور کیا بدلہ ہو سکتا ہے، حج مبرور جس کا بدلہ صرف جنت ہی ہوسکتی ہے اس کی تشریح یہ ہے کہ اس میں گناہ کی آلودگی اور ریاکاری کا شائبہ نہ ہو، یعنی تمام سفر حج میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے آدمی بچے اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حج کیا جائے، بلا شبہ اس شرط کا نبھانا بھی بہت مشکل ہے اور صرف اللہ تعالی کی توفیق اور اس کے فضل ہی سے یہ مشکل مرحلہ طے ہوسکتا ہےـ
حج کی ظاہری صورت بھی عجیب و غریب ہے اور اس میں غضب کی جاذبیت ہے، قدم قدم پر عشق و محبت کی پُر بہار منزلیں طے ہوتی ہیں ، سب سے بڑے دربار کی حاضری کا قصد ہے، دل میں دیار محبوب کی آرزوئیں مچلتی ہیں ، سفر طویل ہے، حلال و طیب توشہ سفر کا اہتمام کیا جارہا ہے، نیک اور صالح رفیق کی خواہش ہو رہی ہے، چشمِ پُرنم کے ساتھ عزیز و اقارب سے رخصت ہو رہے ہیں، لین دین کا حساب بے باق کیا جار ہے، حق حقوق کی معافی طلب کی جارہی ہے ، کوشش یہ ہے کہ اس دربار میں حاضر ہوں تو کسی کا معمولی حق بھی گردن پر نہ ہو
لیجئے! روانگی کا وقت آیا، غسل کرلیجئے اور دو سفید نئی چادریں پہن لیجئے ، گویا
انسان خود اپنے ارادہ و اختیار سے سفر آخرت پر روانہ ہو رہا ہے،پہلے غسل سے بدن کے ظاہری میل کچیل کو صاف کرتا ہے اور پھر کفن کی چادریں اوڑھ کر دوگانۂ احرام ادا کرتا ہے، اس طرح گویا توبہ وانابت سے دل کے میل کچیل سے اپنے باطن کو پاک صاف کرتا ہے اور ظاہری و باطنی نظافت کے ساتھ شاہی دربار میں نذرانۂ عشق و محبت پیش کرنے کا عہد کرلیتا ہے ـ
ارحم الراحمین نے دعوت دے کر بلایا ہے اور شاہی دربار سے بلاوا آیا ہے، یہ فوراً بیت اللہ الحرام کے شوقِ دیدار میں اس دعوت پر لبيك اللهم لبيك ميں حاضر ہوں (اے میرے اللہ میں حاضر ہوں ) کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مستانہ وار سوئے منزل روانہ ہوجاتا ہے۔
یہ اس والہانہ و عاشقانہ عبادت کی ابتدا ہے، زیب وزینت کے تمام مظاہر ختم ، راحت و آسائش کے تمام تقاضے فراموش ، نہ سر پر ٹوپی، نہ پاؤں میں ڈھب کا جوتا، نہ بدن پر ڈھنگ کا کپڑا، دیوانہ وار رواں دواں،منازلِ عشق طے کرتا ہوا جارہا ہے، دیار محبوب کی دُھن میں بادہ پیمائی ہو رہی ہے :
؎ در بیابانها از شوقِ کعبه خواهی زد قدم
سرزنشها گر کند خار مغیلان غم مخور
پہنچتے ہی مرکز تجلیات کعبہ پر نظر پڑی، تو بے ساختہ دارِ محبوب کا طواف کرتا ہے، بار بار چکر لگاتا ہے، حجر اسود جو ”يمين الله في الأرض“ کی حیثیت رکھتا ہے، اس کو چومتا ہے، آنکھوں سے لگاتا ہے، ملتزم سے چمٹتا ہے، زار و قطار روتا ہے، گو یا زبان حال سے کہتا ہے :
؎ نازم بچشم خود که روی تو دیده است
رفتم بیائے خویش که بکویت رسیده است
هزار بار بوسه زنم من دست خویش را
که بدامنت گرفته بسویم کشیده است
اس بے خود عاشق زار کو جو قلبِ تپاں اور جگرِ سوزاں لے کر آیا تھا، پہلی مہمانی کے طور پر آب زمزم کا تحفۂ شیریں پیش کیا جاتا ہے، جس سے تسکین قلب بھی ہوگی اور جگر کی پیاس بھی بجھے گی اور حکم ہوتا ہے کہ جتنا پانی پیا جاسکے پی لے، خوب دل ٹھنڈا کرلے، کوئی کسر نہ چھوڑ، یہاں سے فارغ ہو کر ”صفا و مروہ“ کے درمیان چکر لگاتا ہے، پھر منٰی پہنچتا ہے، پھر اس کے آگے عرفات کا رخ کرتا ہے، آج وادئ عرفات سچ مچ ہنگامۂ محشر کا منظر پیش کر رہی ہے، حیرت انگیز اجتماع ہے، رنگا رنگ مختلف شکلیں،مختلف زبانیں، بوقلموں مناظر، یہ سب رب العالمین کے دربارِ قدس کے مہمان ہیں، یہ شاہی دربار میں عبدیت و بندگی، ضُعف و بے کسی ، عجز و درماندگی اور ذلت و مسکنت کا نذرانہ پیش کریں گے اور رضا و مغفرت،فضل و احسان اور انعام واکرام کے گوہر مقصود سے جھولیاں بھر کرلے جائیں گے ، اپنے لیے، اپنے اعزہ واقارب اور دوست احباب کے لیے جو کچھ مانگیں گے نقد ملے گا ،زوال ہوا تو ہر چہار طرف سے آہ و بکا کا شور پر پا ہوا، اس کی آواز بھی اس حیرت انگیز طوفانِ گریہ وزاری میں ڈوب گئی، شام تک کا سارا وقت اس عالمِ تحیر میں گزارتا ہے،کبھی خوب رو روکر مانگتا ہے،کبھی « لبيك اللهم لبيك » کا نعرہ لگاتا ہے، کبھی تکبیر کی گونج سے زمزمہ آراء ہوتا،کبھی تحلیل سے نغمہ سرا ہوتا ہے، کبھی ˝ لا إله إلا الله وحده لا شريك له˝ سے وحدانيت وربوبیت کی صدائیں بلند کرتا ہے، عابد و معبود کا تعلق کتنا دل
❤2
Mr Sid
*مسلمانوں کی مذہبی حمیت* ✍🏻... مولانا غلام رسول مہر لیکن مسلمانوں کے جوش ایمانی اور حُبِّ بیت اللہ کی یہ حالت ہے کہ کسی تکلیف کی پروا نہیں کرتے ؛بلکہ سفر حج میں تکلیف کے ذکر کو بھی گناہ سمجھتے ہیں، ہر شخص کی زبان سے یہی سنا جاتا ہے کہ اس سفر میں جتنی تکلیفیں…
ربا ہے؟ اور بندگی وسرافگندگی کا یہ منظر کس قدر حیرت افزا ہے؟
آفتاب غروب ہوا اور اس دشت پیمانے بوریا بستر باندھ ”مزدلفہ“ کا رخ کیا ،شب بیداری وہاں ہوگی، مغرب و عشا کی نماز وہاں پڑھی جائے گی،اظہار آداب بندگی میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے تو وہاں نکالی جائے گی،کبھی رکوع و سجود ہے،کبھی وقوف و قیام ہے،کبھی تہلیل و تکبیر ہے،کبھی تسبیح و تلبیہ ہے،
گریہ وزاری ، دعا ومناجات اور تضرُّع و ابتِہال کا نصاب پورا ہوا تو کامیابی و کامرانی کی نعمت سے سرشار ہوکر وہاں سے ”منیٰ“ کو چلا ، دشمن انسانیت، عدو مبین، راندۂ بارگاہ ”ابلیس لعین“ کی سرکوبی کے لیے ”جمرہ“ کی رمی کی ، خلیل و ذبیح ( على نبينا عليهم الصلاة والسلام) کی سنتِ قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی دی اور رضائے محبوب کے لیے جان و مال کے ایثار و قربانی کا عہد تازہ کر لیا۔
وہاں سے بارگاہ قدس کے مرکز انوار کی زیارت کو چلا اور طواف کعبہ کے انوار و برکات سے دیدہ و دل کی تسکین کا سامان کیا۔
الغرض اس عاشقانہ و والہانہ عبادت میں دیوانہ وار ایثار و قربانی اور عبدیت و فنائیت کا ریکارڈ قائم کرلیتا ہے اور تجلیاتِ ربانی کے انوار و برکات سے سراپا نور بن جاتا ہے اور رحمت و رضوان کے تحفوں سے مالا مال ہو کر اور استحقاق جنت کی آخری سند لے کر اپنے وطن کو واپس لوٹتا ہے، اس طرح بندہ بندگی کا ثبوت دے کر جنت ورضوان الٰہی کی نعمتوں سے سرفرازی کے تمغے وصول کرلیتا ہے،
”والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة“ کے آخری انعام سے مطمئن ہوجاتا ہے۔
دیکھئے کس انداز سے عشق و محبت کی منزلیں طے کی گئیں اور کس کس طرح شاباشوں سے نوازا گیا ، یہ اس عاشقانہ و عارفانہ عبادت کا بہت ہی مختصر سا نقشہ ہے۔
(ماہ نامہ دار التقوٰی، لاہور، ذوالقعدہ، ١٤٤٧ھـ، مئی، ٢٠٢٦ء، صفحہ: ۲۳)
آفتاب غروب ہوا اور اس دشت پیمانے بوریا بستر باندھ ”مزدلفہ“ کا رخ کیا ،شب بیداری وہاں ہوگی، مغرب و عشا کی نماز وہاں پڑھی جائے گی،اظہار آداب بندگی میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے تو وہاں نکالی جائے گی،کبھی رکوع و سجود ہے،کبھی وقوف و قیام ہے،کبھی تہلیل و تکبیر ہے،کبھی تسبیح و تلبیہ ہے،
گریہ وزاری ، دعا ومناجات اور تضرُّع و ابتِہال کا نصاب پورا ہوا تو کامیابی و کامرانی کی نعمت سے سرشار ہوکر وہاں سے ”منیٰ“ کو چلا ، دشمن انسانیت، عدو مبین، راندۂ بارگاہ ”ابلیس لعین“ کی سرکوبی کے لیے ”جمرہ“ کی رمی کی ، خلیل و ذبیح ( على نبينا عليهم الصلاة والسلام) کی سنتِ قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی دی اور رضائے محبوب کے لیے جان و مال کے ایثار و قربانی کا عہد تازہ کر لیا۔
وہاں سے بارگاہ قدس کے مرکز انوار کی زیارت کو چلا اور طواف کعبہ کے انوار و برکات سے دیدہ و دل کی تسکین کا سامان کیا۔
الغرض اس عاشقانہ و والہانہ عبادت میں دیوانہ وار ایثار و قربانی اور عبدیت و فنائیت کا ریکارڈ قائم کرلیتا ہے اور تجلیاتِ ربانی کے انوار و برکات سے سراپا نور بن جاتا ہے اور رحمت و رضوان کے تحفوں سے مالا مال ہو کر اور استحقاق جنت کی آخری سند لے کر اپنے وطن کو واپس لوٹتا ہے، اس طرح بندہ بندگی کا ثبوت دے کر جنت ورضوان الٰہی کی نعمتوں سے سرفرازی کے تمغے وصول کرلیتا ہے،
”والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة“ کے آخری انعام سے مطمئن ہوجاتا ہے۔
دیکھئے کس انداز سے عشق و محبت کی منزلیں طے کی گئیں اور کس کس طرح شاباشوں سے نوازا گیا ، یہ اس عاشقانہ و عارفانہ عبادت کا بہت ہی مختصر سا نقشہ ہے۔
(ماہ نامہ دار التقوٰی، لاہور، ذوالقعدہ، ١٤٤٧ھـ، مئی، ٢٠٢٦ء، صفحہ: ۲۳)
❤1
*میرا پہلا سفر حج*
*(بھٹکل کے الحاج محی الدین منیری مرحوم کی زبانی آپ کے پہلے سفر حج کی داستان)*
*از : مولانا عبد المتین منیری*
*خداکی شان دیکھئے ، یہ سب اتنی عجلت میں ہوا کہ سفرِ حج سے قبل وطن جاکر اہلِ وعیال سے ملنے کی بھی فرصت نہ ملی۔ مجبوراً والدہ سے ٹیلگرام کے ذریعہ اجاز ت طلب کرنی پڑی کہ زندگی میں ایک سنہرا موقعہ نصیب ہوا ہے ۔ اس وقت مجھے احمد جانی کی بات باربار یاد آئی کہ منیری ! محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کرنا جلدی بلاوا آئے گا۔ اور سچ مچ بلاوا آگیا۔*
مکمل مضمون پڑھیے اس لنک پر
https://links.fikrokhabar.com/da73d6a2
*(بھٹکل کے الحاج محی الدین منیری مرحوم کی زبانی آپ کے پہلے سفر حج کی داستان)*
*از : مولانا عبد المتین منیری*
*خداکی شان دیکھئے ، یہ سب اتنی عجلت میں ہوا کہ سفرِ حج سے قبل وطن جاکر اہلِ وعیال سے ملنے کی بھی فرصت نہ ملی۔ مجبوراً والدہ سے ٹیلگرام کے ذریعہ اجاز ت طلب کرنی پڑی کہ زندگی میں ایک سنہرا موقعہ نصیب ہوا ہے ۔ اس وقت مجھے احمد جانی کی بات باربار یاد آئی کہ منیری ! محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کرنا جلدی بلاوا آئے گا۔ اور سچ مچ بلاوا آگیا۔*
مکمل مضمون پڑھیے اس لنک پر
https://links.fikrokhabar.com/da73d6a2
فکرو خبر نیوز
میرا پہلا سفر حج (بھٹکل کے الحاج محی الدین
جب ایک ہندوستانی تنظیم کی خدمت دیکھ کر سعودی شہزادے نے مکہ کے تمام برف کارخانے منیٰ منتقل کر دیے؛ پڑھیں بھٹکل کے منیری صاحب کی آپ بیتی
❤1
وفیات مورخہ: 24/مئی
1953ء عبد الرحمن صدیقی۔ خلافتی لیڈر
1966ء نیاز فتح پوری (نیاز محمد خان)۔ مدیر نگار لکھنو
1967ء مسرور حسین ۔ ائیر کموڈور ،
1970ء منور لکھنوی، بشیشور پرشاد۔ شاعر
1981ء ظفر مسعود۔ ،
1983ء محمد زکریا کاندھلوی۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا
1985ء سعید احمد اکبر آبادی۔ مولانا، مدیر برہان دہلی
1987ء سید منورعلی شاہ۔ ،
1993ء نسیم عثمانی۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1998ء صائمہ خیری۔ ،
1999ء اقبال صفی پوری (اقبال احمد خلیلی)۔ شاعر
2000ء مجروح سلطانپوری (اسرار الحسن خان)۔ شاعر
2004ء عبدالجلیل خاں کرت پوری۔ حکیم
2005ء سعید خان رنگیلا۔ مزاحیہ اداکار
2007ء صفات اللہ مئو۔ مولانا
2010ء منصور سعید۔ ،
2011ء بدر الحسن معلم۔ صدر مجلس اصلاح وتنطیم بھٹکل
2011ء حاکم علی زرداری۔ والد آصف علی زرداری
2011ء خیام قادری۔ ،
2013ء محمد الیاس۔
2021ء میر محمد سومرو۔ سندھی عالم ، محقق
2022ء فہمیدہ عتیق۔
2025ء قاضی صلاح الدین ایوب۔ سر قاضی چنئی
ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
Https://telegram.me/ilmokitab
1953ء عبد الرحمن صدیقی۔ خلافتی لیڈر
1966ء نیاز فتح پوری (نیاز محمد خان)۔ مدیر نگار لکھنو
1967ء مسرور حسین ۔ ائیر کموڈور ،
1970ء منور لکھنوی، بشیشور پرشاد۔ شاعر
1981ء ظفر مسعود۔ ،
1983ء محمد زکریا کاندھلوی۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا
1985ء سعید احمد اکبر آبادی۔ مولانا، مدیر برہان دہلی
1987ء سید منورعلی شاہ۔ ،
1993ء نسیم عثمانی۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
1998ء صائمہ خیری۔ ،
1999ء اقبال صفی پوری (اقبال احمد خلیلی)۔ شاعر
2000ء مجروح سلطانپوری (اسرار الحسن خان)۔ شاعر
2004ء عبدالجلیل خاں کرت پوری۔ حکیم
2005ء سعید خان رنگیلا۔ مزاحیہ اداکار
2007ء صفات اللہ مئو۔ مولانا
2010ء منصور سعید۔ ،
2011ء بدر الحسن معلم۔ صدر مجلس اصلاح وتنطیم بھٹکل
2011ء حاکم علی زرداری۔ والد آصف علی زرداری
2011ء خیام قادری۔ ،
2013ء محمد الیاس۔
2021ء میر محمد سومرو۔ سندھی عالم ، محقق
2022ء فہمیدہ عتیق۔
2025ء قاضی صلاح الدین ایوب۔ سر قاضی چنئی
ترتیب وپیشکش: عبد المتین منیری
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
Mr Sid
ربا ہے؟ اور بندگی وسرافگندگی کا یہ منظر کس قدر حیرت افزا ہے؟ آفتاب غروب ہوا اور اس دشت پیمانے بوریا بستر باندھ ”مزدلفہ“ کا رخ کیا ،شب بیداری وہاں ہوگی، مغرب و عشا کی نماز وہاں پڑھی جائے گی،اظہار آداب بندگی میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے تو وہاں نکالی جائے…
از: *نواب مصطفی خان شیفتہ*
تعجب ہے کہ با وجودیکہ انسان کو خداوند تعالیٰ نے نفس ناطقہ کی شناخت کی طاقت عطا فرمائی ہے ؛لیکن اس نے اپنی پیدائش کے شیش محل کو پتہر سے توڑ رکھا ہے اور اپنی ہمت کے باغیچے میں لوہے کے دروازے لگا رکھے ہیں، افسوس ہے کہ گلزار سے نکل کر قفس میں پڑکر ایسا خوش ہے کہ گویا اسکا آشیانہ کسی بلند شاخ پر ہے، اور وطن سے سفر میں آکر ایسا خرم و خنداں ہے کہ گویا اسکا نشیمن کسی قصر و کاخ پر ہے، اسکا قصد اپنے اصل کی طرف لوٹنے اور ارادہ اپنے وطن اصلی میں واپسی کا نہیں ہے، یہ کام ضرور مشکل اور بلا شبہ نہایت اہم ہے، انسان ذرہ سے کم نہیں ہے، اسکو زیبا نہیں ہے کہ اپنے شیشۂ عزت کو پتہر سے توڑ کر ضایع کردے ۔ اسکو اپنی عزت ہلکے پتہر سے ضائع نہیں کرنی چاہئے! انسان وجود میں ”سپند“ سے بڑھا ہوا ہے، اسکو اتنی غیرت آنی چاہئے کہ اس کے جسم میں آگ کا شعلہ بھڑک اُٹھے، اُسکو نامردوں کی طرح بیٹھا نہیں رہنا چاہئے، بلکہ ترکوں کی طرح مستعد ہو جانا چاہئے اور جو شخص کہ اسکا ہارج ہو اس سے مثل دشمن کے لڑنا چاہے! اسکو دشمن کا اندیشہ نہ کرنا چاہئے؛ کیونکہ دوست مہربان ہے بزدلی نہیں کرنی چاہئے! یہی آزمائش کا وقت ہے،جبکہ انسان کے ساتھ فرشتہ موجود ہے تو اس کو شیطان کے وسوسوں سے کیا ڈر؟ جب ”خضر“ انسان کا رہبر ہے تو شیطانی نیرنگی سے اس کو کیا خطر؟
میں ایک تمثیل بیان کرتا ہوں؛ کیونکہ ہر ایک بات بذریعہ تمثیل کے خوب سمجھ میں آتی ہے، کیا ایسا مسافر کہ جسکے ساتھ لشکر سلطانی ہو، راہزن سے ڈرسکتا ہے؟ ہرگز نہیں!! بلکہ راہزن اس سے خود ڈرتا ہے، اے مرد! راستہ کو بہت طویل مت خیال کر! اور ان لوگون کے کہنے پر دھیان نہ دے کہ جنہوں نے کبہی قدم گھر سے باہر نہیں نکالا ہے! کیا تیرے گوش زد یہ بات نہیں ہوئی ہے کہ فلاں شخص منزل مقصود کو پہنچ گیا اور فلان شخص کو کوچہ یار میں باریابی ہوگئی، کیا خوب فرمایا ہے کہ وصول کی راہ صرف دو قدم ہے یعنی اُٹھانا اور رکھنا، جب انسان حلقۂ ما سوا سے نکل جاتا ہے تو اسکا قدم روح افزا باغ وحدت میں پڑتا ہے،پس اب تو کیا عذر پیش کرسکتا ہے؟ اور کیا حیلہ پیدا کرسکتا ہے۔ اے عزیز! حیلہ چھوڑ،اور سامان سفر فراہم کر! اور جمعیت خاطر کے ساتھ سفر شروع کر! اور وطن اصلی کی طرف رجوع ہو! لامکان میں پہنچ کر قیام کر!اورساحتِ قدس میں چہل قدمی کر! خداوند تعالٰی کے عجائبات قدرت پر آنکھ کہول ۔ میں دیکھتا ہوں کہ میری بات کا سننے والوں پر اثر نہیں ہوتا۔ اور کوئی شخص اس پر کان نہیں دھرتا۔ کوئی میری اس گفتگو سے ناخوش ہوتا ہے اور کوئی ناک بھوں چڑھاتا ہے؛ اس لئے میرا دل چاہتا ہے کہ میں زبان اپنی بند کرلوں اور سکوت سے کام لوں۔ لیکن یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا، بقول اس شعر کے:
نوارا تلخ تر میزن چو ذوق نغمہ کم یابی+
حُدی را تیز تر میخوان چو محمل را گراں بینی
اس لیے میں پھر اُسی راہ پر چلتا ہوں، یاخدا! کسی در مند سوختہ جان کو میرے راستہ میں بھیج دے تاکہ وہ گرم آنسوں بہائے اور آہ سرد کھینچے ؛کیونکہ مجھ جیسے گنہگار کا آلودہ دامن سوائے ایسے پانی کے دھویا نہیں جاسکتا اور سوائے ایسی آگ کے خشک نہیں ہوسکتا، اے برادر! اگرچہ یہ تقریر میں نے تجھکو مخاطب کرکے کی ہے لیکن کیا تو نے نہیں سمجھا کہ در اصل اس کا مخاطب کون ہے؟ اس تمام تقریر سے جو کہ غیر کے پردے میں کی گئی ہے سوائے اپنے نفس کی ملامت کے اور کوئی خواہش میری نہین ہے ،استغفرالله ثم استغفراللہ یہان غیر و بیگانہ کا کیا کام ،اس چمن میں غیر و بیگانہ مثل سیمرغ و عنقاء کے لاپتہ ہیں اور سوائے ایک ذات واحد کے کسی اور کا وجود نہیں ہے، جو لوگ کہ خمِ توحید سے سرمست ہیں ان کے نزدیک بادہ و جام میں کوئی فرق نہیں ہے اور جو لوگ شراب توفیق سے مدہوش ہیں وہ پیالہ و شراب مین کوئی تمیز نہین کرتے ”رق الزجاج ورق الخمر فاشتهہ الدہر“ سبحان الله!!
یہ مین نے کونسا مضمون چھیڑ دیا اور کس ڈبے کی مہر کھول دی! اس قسم کی گفتگو کرنے کی اجازت سوائے اُن لوگوں کے کہ جن کو سراے محرمیت سے لگاؤ ہو اجازت نہیں ہے پس مناسب یہ ہے کہ وہی پہلی بات شروع کروں تا کہ زلف سخن درہم نہ ہوجائے، عشق الہی کی آگ بھڑک رہی ہے اور تو ایسی آگ سے کہ جو خس و خاشاک سے بھڑکائی جاتی ہے عشق پیدا کرنا چاہتا ہے، مجاز سے حقیقت کی طرف رخ نہیں کرتا اور ظاہر سے باطن کی طرف نہیں آتا، تیری نگاہ میں زلف و رخ ویسے ہی ہیں جیسے کہ وہ بظاہر دکھلائی دیتے ہیں۔ اور تو ان چیزوں سے اور کوئی عقدہ نہیں کھول سکتا۔ تاکہ تم کو معلوم ہو سکے کہ ان میں کیا عجائبات ہیں، خاک تیرہ سے اس قسم کے عجیب و غریب نقش پیدا کرنے اور ناچیز مٹی سے اس قسم کے نادر رنگ آمیزی کرنے کو عیش وعشرت پر تو منحصر کرتا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تیرا پیر لغزش نہ کرے اور تو بلندی سے پستی میں نہ گرے اس وقت نہ کسی حکیم کا علاج اور نہ کسی جادوگر کا منتر تیرے کام آئے گا۔
تعجب ہے کہ با وجودیکہ انسان کو خداوند تعالیٰ نے نفس ناطقہ کی شناخت کی طاقت عطا فرمائی ہے ؛لیکن اس نے اپنی پیدائش کے شیش محل کو پتہر سے توڑ رکھا ہے اور اپنی ہمت کے باغیچے میں لوہے کے دروازے لگا رکھے ہیں، افسوس ہے کہ گلزار سے نکل کر قفس میں پڑکر ایسا خوش ہے کہ گویا اسکا آشیانہ کسی بلند شاخ پر ہے، اور وطن سے سفر میں آکر ایسا خرم و خنداں ہے کہ گویا اسکا نشیمن کسی قصر و کاخ پر ہے، اسکا قصد اپنے اصل کی طرف لوٹنے اور ارادہ اپنے وطن اصلی میں واپسی کا نہیں ہے، یہ کام ضرور مشکل اور بلا شبہ نہایت اہم ہے، انسان ذرہ سے کم نہیں ہے، اسکو زیبا نہیں ہے کہ اپنے شیشۂ عزت کو پتہر سے توڑ کر ضایع کردے ۔ اسکو اپنی عزت ہلکے پتہر سے ضائع نہیں کرنی چاہئے! انسان وجود میں ”سپند“ سے بڑھا ہوا ہے، اسکو اتنی غیرت آنی چاہئے کہ اس کے جسم میں آگ کا شعلہ بھڑک اُٹھے، اُسکو نامردوں کی طرح بیٹھا نہیں رہنا چاہئے، بلکہ ترکوں کی طرح مستعد ہو جانا چاہئے اور جو شخص کہ اسکا ہارج ہو اس سے مثل دشمن کے لڑنا چاہے! اسکو دشمن کا اندیشہ نہ کرنا چاہئے؛ کیونکہ دوست مہربان ہے بزدلی نہیں کرنی چاہئے! یہی آزمائش کا وقت ہے،جبکہ انسان کے ساتھ فرشتہ موجود ہے تو اس کو شیطان کے وسوسوں سے کیا ڈر؟ جب ”خضر“ انسان کا رہبر ہے تو شیطانی نیرنگی سے اس کو کیا خطر؟
میں ایک تمثیل بیان کرتا ہوں؛ کیونکہ ہر ایک بات بذریعہ تمثیل کے خوب سمجھ میں آتی ہے، کیا ایسا مسافر کہ جسکے ساتھ لشکر سلطانی ہو، راہزن سے ڈرسکتا ہے؟ ہرگز نہیں!! بلکہ راہزن اس سے خود ڈرتا ہے، اے مرد! راستہ کو بہت طویل مت خیال کر! اور ان لوگون کے کہنے پر دھیان نہ دے کہ جنہوں نے کبہی قدم گھر سے باہر نہیں نکالا ہے! کیا تیرے گوش زد یہ بات نہیں ہوئی ہے کہ فلاں شخص منزل مقصود کو پہنچ گیا اور فلان شخص کو کوچہ یار میں باریابی ہوگئی، کیا خوب فرمایا ہے کہ وصول کی راہ صرف دو قدم ہے یعنی اُٹھانا اور رکھنا، جب انسان حلقۂ ما سوا سے نکل جاتا ہے تو اسکا قدم روح افزا باغ وحدت میں پڑتا ہے،پس اب تو کیا عذر پیش کرسکتا ہے؟ اور کیا حیلہ پیدا کرسکتا ہے۔ اے عزیز! حیلہ چھوڑ،اور سامان سفر فراہم کر! اور جمعیت خاطر کے ساتھ سفر شروع کر! اور وطن اصلی کی طرف رجوع ہو! لامکان میں پہنچ کر قیام کر!اورساحتِ قدس میں چہل قدمی کر! خداوند تعالٰی کے عجائبات قدرت پر آنکھ کہول ۔ میں دیکھتا ہوں کہ میری بات کا سننے والوں پر اثر نہیں ہوتا۔ اور کوئی شخص اس پر کان نہیں دھرتا۔ کوئی میری اس گفتگو سے ناخوش ہوتا ہے اور کوئی ناک بھوں چڑھاتا ہے؛ اس لئے میرا دل چاہتا ہے کہ میں زبان اپنی بند کرلوں اور سکوت سے کام لوں۔ لیکن یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا، بقول اس شعر کے:
نوارا تلخ تر میزن چو ذوق نغمہ کم یابی+
حُدی را تیز تر میخوان چو محمل را گراں بینی
اس لیے میں پھر اُسی راہ پر چلتا ہوں، یاخدا! کسی در مند سوختہ جان کو میرے راستہ میں بھیج دے تاکہ وہ گرم آنسوں بہائے اور آہ سرد کھینچے ؛کیونکہ مجھ جیسے گنہگار کا آلودہ دامن سوائے ایسے پانی کے دھویا نہیں جاسکتا اور سوائے ایسی آگ کے خشک نہیں ہوسکتا، اے برادر! اگرچہ یہ تقریر میں نے تجھکو مخاطب کرکے کی ہے لیکن کیا تو نے نہیں سمجھا کہ در اصل اس کا مخاطب کون ہے؟ اس تمام تقریر سے جو کہ غیر کے پردے میں کی گئی ہے سوائے اپنے نفس کی ملامت کے اور کوئی خواہش میری نہین ہے ،استغفرالله ثم استغفراللہ یہان غیر و بیگانہ کا کیا کام ،اس چمن میں غیر و بیگانہ مثل سیمرغ و عنقاء کے لاپتہ ہیں اور سوائے ایک ذات واحد کے کسی اور کا وجود نہیں ہے، جو لوگ کہ خمِ توحید سے سرمست ہیں ان کے نزدیک بادہ و جام میں کوئی فرق نہیں ہے اور جو لوگ شراب توفیق سے مدہوش ہیں وہ پیالہ و شراب مین کوئی تمیز نہین کرتے ”رق الزجاج ورق الخمر فاشتهہ الدہر“ سبحان الله!!
یہ مین نے کونسا مضمون چھیڑ دیا اور کس ڈبے کی مہر کھول دی! اس قسم کی گفتگو کرنے کی اجازت سوائے اُن لوگوں کے کہ جن کو سراے محرمیت سے لگاؤ ہو اجازت نہیں ہے پس مناسب یہ ہے کہ وہی پہلی بات شروع کروں تا کہ زلف سخن درہم نہ ہوجائے، عشق الہی کی آگ بھڑک رہی ہے اور تو ایسی آگ سے کہ جو خس و خاشاک سے بھڑکائی جاتی ہے عشق پیدا کرنا چاہتا ہے، مجاز سے حقیقت کی طرف رخ نہیں کرتا اور ظاہر سے باطن کی طرف نہیں آتا، تیری نگاہ میں زلف و رخ ویسے ہی ہیں جیسے کہ وہ بظاہر دکھلائی دیتے ہیں۔ اور تو ان چیزوں سے اور کوئی عقدہ نہیں کھول سکتا۔ تاکہ تم کو معلوم ہو سکے کہ ان میں کیا عجائبات ہیں، خاک تیرہ سے اس قسم کے عجیب و غریب نقش پیدا کرنے اور ناچیز مٹی سے اس قسم کے نادر رنگ آمیزی کرنے کو عیش وعشرت پر تو منحصر کرتا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تیرا پیر لغزش نہ کرے اور تو بلندی سے پستی میں نہ گرے اس وقت نہ کسی حکیم کا علاج اور نہ کسی جادوگر کا منتر تیرے کام آئے گا۔
❤2
Mr Sid
ربا ہے؟ اور بندگی وسرافگندگی کا یہ منظر کس قدر حیرت افزا ہے؟ آفتاب غروب ہوا اور اس دشت پیمانے بوریا بستر باندھ ”مزدلفہ“ کا رخ کیا ،شب بیداری وہاں ہوگی، مغرب و عشا کی نماز وہاں پڑھی جائے گی،اظہار آداب بندگی میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے تو وہاں نکالی جائے…
اس خطرناک موقع سے ڈرتا رہ، اور اپنی آنکھ سے دوئی کا پردہ ہٹا! اب وقت یہ ہے کہ سجدہ شکر سے سر نہ اٹھاؤں، نسیم لطف کی جنبش نے میری بصیرت کے پردہ کا وہ گوشہ اُٹھا دیا تو معلوم ہوا کہ میں نے
ہیچ کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور سراب کو سمندر جانا ہے، شیطان پر فرشتے کا گمان کیا ہے،اور ذرے کو پہاڑ سمجھا ہے۔ اس علم سے میری جان پر لرزہ آگیا اور اس قدر پشیمانی ہوئی کہ اپنے آپے سے باہر ہوگیا اور گریہ طاری ہوگیا۔ جب مایوسی کی نوبت یہاں تک پہونچی تو لا تقنطوا کی مہربانی کا لخلخہ میرے دماغ میں پہونچا اور بیہوشی جاتی رہی،جب ہوش میں آیا تو اپنے کو مثلِ اس مرغ گم کردہ آشیاں کے پایا کہ جسکا نشیمن باغ میں ہو اور وہان پہونچنے کی خواہش میں بےتاب ہو کر چکر لگاتاہو اور اپنے کو مثل اس پرند کے دیکھا کہ صیاد جس کی گہات میں لگاہو اور ہر قدم پر دانہ و دام اس کی گرفتاری کے لئے اس نے پھیلایا ہو۔ دام کی تکلیف اور قفس کی زحمت برداشت کرچکا تھا اس سماں کے دیکھتے ہی حواس جاتے رہے اور نعرہ ہائے دل خراش شروع کئے اسی اثناء میں مرغان حرم کی آواز میرے کان مین پہونچی کہ اس طرف کیوں نہیں آتا اور کس واسطے چند روز ہمارے ساتھ نہیں رہتا ؛تاکہ بلاخوف و خطر گرفتاری کے اپنے آشیانہ کا نشان تلاش کرسکے اور سراغ اپنے نشمین کا پاسکے، اس آواز سے دل ٹھکانے ہوگیا اور اس طرف تیز تیز روانہ ہوا خیر خواہی کے خیال سے یہ قصد کیا کہ واقعات سفر کو ضبط تحریر میں لاؤں اور منزلوں کے نام اور دیگر حالات قلمبند کروں ؛تاکہ اگر کوئی ایسا خوش نصیب ہو کہ اس سفر کا قصد کرے تو بلانیت راہ بر اس منزل میں چل سکے اور منزل مقصود تک پہونچے ۔ یہ صرف خلق کی خیراندیشی کا باعث تھا کہ میں نے اس بار کو اپنے سرلیا،ورنہ میری آزاد طبیعت کب اس امر کو گوارا کرتی، یہ خلق کی خیر خواہی کا باعث ہے؛ کہ میں نے کوئے دوست کا پتہ دیا ،کوئی شخص اپنے محبوب کے مکان کا پتہ کب دیتا ہے؟ بقول شعر
تا در ہست از پیم نیایند
برداشته ام نشانه ها را
اور رقابت پسند کرتا پس جیسا کہ میں نے یاروں کے طریقے کے برخلاف ان کے لئے
شرکت کرنے کا سامان مہیا کردیا میں امید کرتا ہوں کہ انصاف پسند لوگ میرے لئے بھی اپنے ساتھ خاتمہ بخیر ہونے کی دعاکریں گے! چونکہ میرا منشاء سخن آرائی سے نہ تھا اور رنگینی عبارت میرے خیال سے بہت دور تھی ؛لہذا میں نے اس سفرنامہ میں اس نمائشی آرائش کو داخل نہیں کیا۔ اور اسی طرح چونکہ میرا روئے سخن خاص و عام کی طرف ہے میں نے بہت دقیق مسائل لانا مناسب نہیں سمجھا اور اس کتاب کا نام ”برہ آورد“ رکھا۔
اس سفرنامہ کو میں نے تین گفتار پر تقسیم کیا ہے۔
گفتار اول -
ذکر ان واقعات کا کہ جو روانگی شاہجہان آباد سے بمبئی پہونچنے تک پیش آئے۔
گفتار دویم
اسمیں چند سخن ہیں، سخن اول - سمندر کے سفر کی کیفیت بمبئی کی روانگی سے حدیدہ پہونچنے تک
سخن دویم: حالات روانگی حدیدہ سے اور ٹوٹنا کشتی کا اور پہونچنا ایک جزیرہ میں اور وہاں قیام کرنا اور ایسے سخت مقام سے بہ عنایت ایزدی نہایت آسانی سے نکلنا اور مکہ معظمہ پہونچنا
سخن سوئم: ذکر مناسک حج، اسمین کئی ایک باب اور فصلیں ہیں ـ
سخن چہارم: ذکر مکہ معظمہ اور وہاں کے چھوٹے بڑے ہر قسم کے باشندوں کا حالـ
سخن پنجم: حالات روانگی مکہ معظمہ سے اور پہونچنا مدینہ منورہ میں اور قیام اس مبارک شهر میں،
سخن ششم :در باب آداب زیارت و ذکر مزارات مبارک و مساجد متبرک و چاہ ہائے مکرم و مقامات بزرگ ـ
سخن هفتم: ذکر مدینہ طیبہ اور وہاں کے باشندون کا
سخن ہشتم: واپسی مدینہ سے بطحی کو
سخن نہم :روانگی مکہ سے طائف کو اور واپسی مکہ کوـ
سخن دہم: رخصت مکہ معظمہ سے اور روانہ ہونا بقصد وطن اور پہونچنا جدہ میں، حالات سفر دریا اور پہنچنا بمبئی کا۔
گفتار سویم ۔ وقت روانگی بمبئی سے شاہجہان آباد تک پہونچنے کا حال ـ
( سفر نامۂ حجاز، صفحہ: 5-6-7-8-9 ، طبع: آگرہ پریس، آگرہ)
ہیچ کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور سراب کو سمندر جانا ہے، شیطان پر فرشتے کا گمان کیا ہے،اور ذرے کو پہاڑ سمجھا ہے۔ اس علم سے میری جان پر لرزہ آگیا اور اس قدر پشیمانی ہوئی کہ اپنے آپے سے باہر ہوگیا اور گریہ طاری ہوگیا۔ جب مایوسی کی نوبت یہاں تک پہونچی تو لا تقنطوا کی مہربانی کا لخلخہ میرے دماغ میں پہونچا اور بیہوشی جاتی رہی،جب ہوش میں آیا تو اپنے کو مثلِ اس مرغ گم کردہ آشیاں کے پایا کہ جسکا نشیمن باغ میں ہو اور وہان پہونچنے کی خواہش میں بےتاب ہو کر چکر لگاتاہو اور اپنے کو مثل اس پرند کے دیکھا کہ صیاد جس کی گہات میں لگاہو اور ہر قدم پر دانہ و دام اس کی گرفتاری کے لئے اس نے پھیلایا ہو۔ دام کی تکلیف اور قفس کی زحمت برداشت کرچکا تھا اس سماں کے دیکھتے ہی حواس جاتے رہے اور نعرہ ہائے دل خراش شروع کئے اسی اثناء میں مرغان حرم کی آواز میرے کان مین پہونچی کہ اس طرف کیوں نہیں آتا اور کس واسطے چند روز ہمارے ساتھ نہیں رہتا ؛تاکہ بلاخوف و خطر گرفتاری کے اپنے آشیانہ کا نشان تلاش کرسکے اور سراغ اپنے نشمین کا پاسکے، اس آواز سے دل ٹھکانے ہوگیا اور اس طرف تیز تیز روانہ ہوا خیر خواہی کے خیال سے یہ قصد کیا کہ واقعات سفر کو ضبط تحریر میں لاؤں اور منزلوں کے نام اور دیگر حالات قلمبند کروں ؛تاکہ اگر کوئی ایسا خوش نصیب ہو کہ اس سفر کا قصد کرے تو بلانیت راہ بر اس منزل میں چل سکے اور منزل مقصود تک پہونچے ۔ یہ صرف خلق کی خیراندیشی کا باعث تھا کہ میں نے اس بار کو اپنے سرلیا،ورنہ میری آزاد طبیعت کب اس امر کو گوارا کرتی، یہ خلق کی خیر خواہی کا باعث ہے؛ کہ میں نے کوئے دوست کا پتہ دیا ،کوئی شخص اپنے محبوب کے مکان کا پتہ کب دیتا ہے؟ بقول شعر
تا در ہست از پیم نیایند
برداشته ام نشانه ها را
اور رقابت پسند کرتا پس جیسا کہ میں نے یاروں کے طریقے کے برخلاف ان کے لئے
شرکت کرنے کا سامان مہیا کردیا میں امید کرتا ہوں کہ انصاف پسند لوگ میرے لئے بھی اپنے ساتھ خاتمہ بخیر ہونے کی دعاکریں گے! چونکہ میرا منشاء سخن آرائی سے نہ تھا اور رنگینی عبارت میرے خیال سے بہت دور تھی ؛لہذا میں نے اس سفرنامہ میں اس نمائشی آرائش کو داخل نہیں کیا۔ اور اسی طرح چونکہ میرا روئے سخن خاص و عام کی طرف ہے میں نے بہت دقیق مسائل لانا مناسب نہیں سمجھا اور اس کتاب کا نام ”برہ آورد“ رکھا۔
اس سفرنامہ کو میں نے تین گفتار پر تقسیم کیا ہے۔
گفتار اول -
ذکر ان واقعات کا کہ جو روانگی شاہجہان آباد سے بمبئی پہونچنے تک پیش آئے۔
گفتار دویم
اسمیں چند سخن ہیں، سخن اول - سمندر کے سفر کی کیفیت بمبئی کی روانگی سے حدیدہ پہونچنے تک
سخن دویم: حالات روانگی حدیدہ سے اور ٹوٹنا کشتی کا اور پہونچنا ایک جزیرہ میں اور وہاں قیام کرنا اور ایسے سخت مقام سے بہ عنایت ایزدی نہایت آسانی سے نکلنا اور مکہ معظمہ پہونچنا
سخن سوئم: ذکر مناسک حج، اسمین کئی ایک باب اور فصلیں ہیں ـ
سخن چہارم: ذکر مکہ معظمہ اور وہاں کے چھوٹے بڑے ہر قسم کے باشندوں کا حالـ
سخن پنجم: حالات روانگی مکہ معظمہ سے اور پہونچنا مدینہ منورہ میں اور قیام اس مبارک شهر میں،
سخن ششم :در باب آداب زیارت و ذکر مزارات مبارک و مساجد متبرک و چاہ ہائے مکرم و مقامات بزرگ ـ
سخن هفتم: ذکر مدینہ طیبہ اور وہاں کے باشندون کا
سخن ہشتم: واپسی مدینہ سے بطحی کو
سخن نہم :روانگی مکہ سے طائف کو اور واپسی مکہ کوـ
سخن دہم: رخصت مکہ معظمہ سے اور روانہ ہونا بقصد وطن اور پہونچنا جدہ میں، حالات سفر دریا اور پہنچنا بمبئی کا۔
گفتار سویم ۔ وقت روانگی بمبئی سے شاہجہان آباد تک پہونچنے کا حال ـ
( سفر نامۂ حجاز، صفحہ: 5-6-7-8-9 ، طبع: آگرہ پریس، آگرہ)
❤1
سفرِ حج، تسلیم و رضا سکھاتا ہے
مولانا عبدالماجد دریابادی رحمۃ اللّٰه علیہ لکھتے ہیں:
ہر گمراہی کی بنیاد، انسان کے اس جذبہ پر ہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب پر حکمران دیکھنا چاہتا ہے۔ اسلام اسی باطل پرستی کی تصحیح کے لیے ہے، اسلام کے معنیٰ اپنی مرضی کو اپنے پیدا کرنے والے کی مرضی کے محکوم کردینے کے ہیں اور فریضۂ حج، اسی مقصد کی تکمیل کا ایک آلہ ہے، پھر اگر راستہ میں کچھ اُمور ناخوشگوار پیش آئیں تو ان پر بے صبری کا اظہار کتنی بڑی محرومی اور بدنصیبی ہے۔ دنیا میں کسی کے ساتھ ذرا سا دل کا لگاؤ پیدا ہوجاتا ہے، پھر دیکھیے کہ اس کی گلی کا ہر کانٹا کس طرح پھول بن جاتا ہے، پس وہ، جو سب محبوبوں کا محبوب ہے اور سب کی محبتوں کا تاجدار ہے، اگر اس کی راہ میں کوئی بات خلافِ مزاج یا خلافِ توقع پیش آئے تو وہ بات ہی ایسی کیا ہوسکتی ہے؟ جس کے چرچے زبانوں پر لائے جائیں اور جس کے تذکرے اخبارات کے کالموں میں پھیلائے جائیں۔
(سفرِ حجاز، صفحہ: ۳۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
مولانا عبدالماجد دریابادی رحمۃ اللّٰه علیہ لکھتے ہیں:
ہر گمراہی کی بنیاد، انسان کے اس جذبہ پر ہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب پر حکمران دیکھنا چاہتا ہے۔ اسلام اسی باطل پرستی کی تصحیح کے لیے ہے، اسلام کے معنیٰ اپنی مرضی کو اپنے پیدا کرنے والے کی مرضی کے محکوم کردینے کے ہیں اور فریضۂ حج، اسی مقصد کی تکمیل کا ایک آلہ ہے، پھر اگر راستہ میں کچھ اُمور ناخوشگوار پیش آئیں تو ان پر بے صبری کا اظہار کتنی بڑی محرومی اور بدنصیبی ہے۔ دنیا میں کسی کے ساتھ ذرا سا دل کا لگاؤ پیدا ہوجاتا ہے، پھر دیکھیے کہ اس کی گلی کا ہر کانٹا کس طرح پھول بن جاتا ہے، پس وہ، جو سب محبوبوں کا محبوب ہے اور سب کی محبتوں کا تاجدار ہے، اگر اس کی راہ میں کوئی بات خلافِ مزاج یا خلافِ توقع پیش آئے تو وہ بات ہی ایسی کیا ہوسکتی ہے؟ جس کے چرچے زبانوں پر لائے جائیں اور جس کے تذکرے اخبارات کے کالموں میں پھیلائے جائیں۔
(سفرِ حجاز، صفحہ: ۳۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
*وفیات مورخہ: 25/مئی*
1968ء الطاف حسین۔ ایڈیٹر ڈان کراچی ،
1977ء عرشی بھوپالی (سید معین الدین)۔
1978ء عبد المجید سندھی (سابق جیٹھ آنند)۔ کارکن ریشمی رومال تحریک، تحریک خلافت
1989ء فیض بھرتپوری (سید فرزند حسن)۔ ،
1994ء ضمیر بدایونی (ضمیرالحسنین)۔ ،
1995ء احمد بن راشد آل مبارک۔ سعودی شاعر وادیب
2007ء خلیل زہاوی۔ عراقی خطاط
2008ء عبدالرحمٰن حیاتی۔ مولانا قاری
2011ء سید محمد حسن ہاشمی۔ ،
2023ء احمد کمال ۔ پاکستانی سفارت کار
Https://telegram.me/ilmokitab
1968ء الطاف حسین۔ ایڈیٹر ڈان کراچی ،
1977ء عرشی بھوپالی (سید معین الدین)۔
1978ء عبد المجید سندھی (سابق جیٹھ آنند)۔ کارکن ریشمی رومال تحریک، تحریک خلافت
1989ء فیض بھرتپوری (سید فرزند حسن)۔ ،
1994ء ضمیر بدایونی (ضمیرالحسنین)۔ ،
1995ء احمد بن راشد آل مبارک۔ سعودی شاعر وادیب
2007ء خلیل زہاوی۔ عراقی خطاط
2008ء عبدالرحمٰن حیاتی۔ مولانا قاری
2011ء سید محمد حسن ہاشمی۔ ،
2023ء احمد کمال ۔ پاکستانی سفارت کار
Https://telegram.me/ilmokitab
Mr Sid
اس خطرناک موقع سے ڈرتا رہ، اور اپنی آنکھ سے دوئی کا پردہ ہٹا! اب وقت یہ ہے کہ سجدہ شکر سے سر نہ اٹھاؤں، نسیم لطف کی جنبش نے میری بصیرت کے پردہ کا وہ گوشہ اُٹھا دیا تو معلوم ہوا کہ میں نے ہیچ کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور سراب کو سمندر جانا ہے، شیطان پر فرشتے…
*پیش لفظ*
✍🏻... مولانا حاجی رفیع الدین صاحب، فؔاروقی، مرادآبادیؒ
(سن تحریر: ۱۲۰۱ھ)
(مترجم) مولانا نسیم احمد صاحب، فؔریدیؒ
بعد حمد و صلاۃ! محررِ سطور رفیع الدین کہتا ہے کہ: مجھ کو عنفوانِ سن شعور سے تمنائے زیارت حرمین تھی اور شوقِ دیدار غالب تھا، بشارات واشارات حصول مطلب کے سلسلے میں پاتا تھا؛ لیکن کچھ موانع در پیش تھے اور علائق سد راه ____ اس بنا پر یہ آرزو دل کی دل ہی میں رہتی تھی ۔ ایک مدت کے بعد جب خدائے بے نیاز کا ارادہ متوجہ ہوا تو رفتہ رفتہ موانع برطرف، اور علائق منقطع ہوتے چلے گئے اور اس دار فانی سے وابستگی کے اسباب برہم اور موجباتِ افسردگی ودل سردی فراہم ہوگئے۔
دیدۂ بصیرت کو خواب غفلت سے بیداری حاصل ہوئی اور مستلذات فانیہ کی جانب سے توجہ ہٹ گئی، اب اپنے حال پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ عمر عزیز طلب آمال وامانئ دنیا میں ضائع ہوچکی ہے، بار گناہ کے پہاڑ گردن پر آپڑے ہیں اور آفتابِ عمر لب بام آگیا ہے ۔
رباعي
یک نیمه عمر در بطالت بگذشت +
یک نیمه به تشویر و خجالت بگذشت
عمر یکہ از ورے جہانے آزرد+
بنگر بچہ حیلہ و چہ حالت بگذشت
نہ تمتعت ز دنیا نہ ز دیں نصیب مظہر
بفنونِ بے کمالی، چہ قدر کمال داری؟
(مرزا مظہر جان جاناں)
بعد شدتِ حسرت و حیرت اور بعد ندامت و پشیمانی اسکے سوا اور کوئی چارۂ کار نظر نہ آیا کہ دل کو یار و دیار سے جدا کرکے وادئی غربت میں قدم رکھا جائے اور شفیع المذنبین،رحمۃ للعالمین،سید ابرار،محمد مختار صلی اللہ علیہ وسلم کی درگاہ کی طرف توجہ کی جائے، اور اپنے درد کی دوا اُن کے ”دار الشفائے “ رحمت کاملہ و شفاعت شاملہ سے چاہی جائے!
اس قصد کے بعد ہواجِس نفسانی اور تسویلاتِ شیطانی، مزاحمت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور سفر کی مشکلات کو سامنے لا کھڑا کیا؛ لیکن اللہ کی اعانت و نصرت سے یہ بات پیدا ہوگئی کہ جب دل میں زادِ راہ کا خطرہ آتا تھا تو کہتا تھا کہ: ”جو شخص خانۂ ارحم الراحمین اور روضۂ جناب رحمۃ للعالمین کی جانب متوجہ ہو اس کو اسباب ظاہر پر نظر رکھنا اور مسبب الاسباب سے غافل رہنا، انتہائی کوتاہ نظری ہے۔“
فإن الزاد اقبح كُلِّ شي
إذ كان الوفود على الكريم
(جب آدمی ایک کریم کے دربار میں حاضر ہو رہا ہو، تو زاد راہ کی فکر سے بری کوئی چیز نہیں) جب نظر ضعف بدن پر پڑتی تھی تو کہتا تھا کہ: کچھ غم نہیں ہے ۔ (اور یہ آیت یاد آتی تھی {مَنْ يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهاجِراً إلى اللهِ وَرَسُوله }الآیۃ، (جو شخص اپنے گھر سے اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلا، اس کا اجر اللہ کے ذمہ واجب ہوگیا۔)
چو حکم ضرورت بود کابروئے
بر یزند باری براں خاک کوئے
جب سفر کے رنج و مصائب کا ہراس ہوتا تھا تو دل میں خود کو مخاطب کرکے کہتا تھا: یاد کر! تونے سعئ باطل میں عمر بھر کس قدر خونِ جگر پیا ہے اور کس قدر رنج جھیلے ہیں، اور آخر کار پشیمانی حاصل کی اور شربتِ ناکامی نوش کیا ہے، شاید اسی مقدس سفر کے رنج و مصائب سے ان گناہوں کا کفارہ ہوجائے۔
حدیث شریف میں آیا ہے۔ حُفَّتِ الجَنَّةُ بالمكاره وحُفَّتِ النار بالشهوات (جنت کی راہ میں ناگواریاں ہیں اور دوزخ کے آگے سبز باغ )
در بیابان گر به طواف کعبه خواهی زد قدم
سرزنش ها گر کند خار مغیلان غم مخور
جب مہلت طلبی اس بات کی طالب ہوتی تھی کہ ابھی کچھ اور توقف کرو پھر چلے جانا تو میں جواب میں کہتا تھا۔
صد ہزاراں دے دریں سودا مرا امروز شد+
نیست صبرم بعد ازیں کـ اِمروز را فردا کُنم
خواهم از سودائے پا بوشش نهم سرور جهاں
یا بپائش سر نہم یا سر در ایں سودا کنم
آرزوئے جنت المأوٰی بدر کردم زسر
جفتم این بسکه بر خاک درش مأویٰ کنم
الحمد للہ کہ کریم کارساز نے دستگیری فرمائی اور قید ایں و آں سے رہا کرکے نفس و شیطان کے ہاتھ میں سے نکالا اور اپنے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےگھر کی طرف رہنمائی فرمائی،
اب داعیہ شوق باعث ہے اس امر کا کہ جو کچھ سوانحِ سفر اور منازل و مراحل بحر و بر کا مشاہدہ اور معائنہ کروں اور جن مواضع متبرکہ اور اماکن مشترفہ کی زیارت کروں اور جن علماء اور صلحائے عصر کی ملاقات سے فائز ہوں یہ سب کوائف و حالات نیز دیگر عجائبِ حکایات اور نوادر روایات اور فوائدِ متفرقہ کہ کسی معتبر و ثقہ سے سنے یا کسی کتاب میں دیکھے ہوں ان کو قید کتابت میں لے آؤں____ غرض اس تحریر سے یہ ہے کہ اس فقیرِ ہے نام ونشان کی یہ ایک نشانی برائے یاران و عزیزان باقی رہ جائے اور ان دونوں عظیم الشان آستانوں کے شوق کی محرِّک ہو- زادهما الله شرفا و تعظیما -
اور اگر بمقتضائے بختِ ناساز اس فقیر کو ان مواطن نور و سرور (حرمین) سے دوری پیش آجائے تو ان اوراق کے مطالعہ سے ان حالات کو یاد کرکے فراق حرمین میں آہ وزاری کر لیا کرے۔
✍🏻... مولانا حاجی رفیع الدین صاحب، فؔاروقی، مرادآبادیؒ
(سن تحریر: ۱۲۰۱ھ)
(مترجم) مولانا نسیم احمد صاحب، فؔریدیؒ
بعد حمد و صلاۃ! محررِ سطور رفیع الدین کہتا ہے کہ: مجھ کو عنفوانِ سن شعور سے تمنائے زیارت حرمین تھی اور شوقِ دیدار غالب تھا، بشارات واشارات حصول مطلب کے سلسلے میں پاتا تھا؛ لیکن کچھ موانع در پیش تھے اور علائق سد راه ____ اس بنا پر یہ آرزو دل کی دل ہی میں رہتی تھی ۔ ایک مدت کے بعد جب خدائے بے نیاز کا ارادہ متوجہ ہوا تو رفتہ رفتہ موانع برطرف، اور علائق منقطع ہوتے چلے گئے اور اس دار فانی سے وابستگی کے اسباب برہم اور موجباتِ افسردگی ودل سردی فراہم ہوگئے۔
دیدۂ بصیرت کو خواب غفلت سے بیداری حاصل ہوئی اور مستلذات فانیہ کی جانب سے توجہ ہٹ گئی، اب اپنے حال پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ عمر عزیز طلب آمال وامانئ دنیا میں ضائع ہوچکی ہے، بار گناہ کے پہاڑ گردن پر آپڑے ہیں اور آفتابِ عمر لب بام آگیا ہے ۔
رباعي
یک نیمه عمر در بطالت بگذشت +
یک نیمه به تشویر و خجالت بگذشت
عمر یکہ از ورے جہانے آزرد+
بنگر بچہ حیلہ و چہ حالت بگذشت
نہ تمتعت ز دنیا نہ ز دیں نصیب مظہر
بفنونِ بے کمالی، چہ قدر کمال داری؟
(مرزا مظہر جان جاناں)
بعد شدتِ حسرت و حیرت اور بعد ندامت و پشیمانی اسکے سوا اور کوئی چارۂ کار نظر نہ آیا کہ دل کو یار و دیار سے جدا کرکے وادئی غربت میں قدم رکھا جائے اور شفیع المذنبین،رحمۃ للعالمین،سید ابرار،محمد مختار صلی اللہ علیہ وسلم کی درگاہ کی طرف توجہ کی جائے، اور اپنے درد کی دوا اُن کے ”دار الشفائے “ رحمت کاملہ و شفاعت شاملہ سے چاہی جائے!
اس قصد کے بعد ہواجِس نفسانی اور تسویلاتِ شیطانی، مزاحمت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور سفر کی مشکلات کو سامنے لا کھڑا کیا؛ لیکن اللہ کی اعانت و نصرت سے یہ بات پیدا ہوگئی کہ جب دل میں زادِ راہ کا خطرہ آتا تھا تو کہتا تھا کہ: ”جو شخص خانۂ ارحم الراحمین اور روضۂ جناب رحمۃ للعالمین کی جانب متوجہ ہو اس کو اسباب ظاہر پر نظر رکھنا اور مسبب الاسباب سے غافل رہنا، انتہائی کوتاہ نظری ہے۔“
فإن الزاد اقبح كُلِّ شي
إذ كان الوفود على الكريم
(جب آدمی ایک کریم کے دربار میں حاضر ہو رہا ہو، تو زاد راہ کی فکر سے بری کوئی چیز نہیں) جب نظر ضعف بدن پر پڑتی تھی تو کہتا تھا کہ: کچھ غم نہیں ہے ۔ (اور یہ آیت یاد آتی تھی {مَنْ يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهاجِراً إلى اللهِ وَرَسُوله }الآیۃ، (جو شخص اپنے گھر سے اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلا، اس کا اجر اللہ کے ذمہ واجب ہوگیا۔)
چو حکم ضرورت بود کابروئے
بر یزند باری براں خاک کوئے
جب سفر کے رنج و مصائب کا ہراس ہوتا تھا تو دل میں خود کو مخاطب کرکے کہتا تھا: یاد کر! تونے سعئ باطل میں عمر بھر کس قدر خونِ جگر پیا ہے اور کس قدر رنج جھیلے ہیں، اور آخر کار پشیمانی حاصل کی اور شربتِ ناکامی نوش کیا ہے، شاید اسی مقدس سفر کے رنج و مصائب سے ان گناہوں کا کفارہ ہوجائے۔
حدیث شریف میں آیا ہے۔ حُفَّتِ الجَنَّةُ بالمكاره وحُفَّتِ النار بالشهوات (جنت کی راہ میں ناگواریاں ہیں اور دوزخ کے آگے سبز باغ )
در بیابان گر به طواف کعبه خواهی زد قدم
سرزنش ها گر کند خار مغیلان غم مخور
جب مہلت طلبی اس بات کی طالب ہوتی تھی کہ ابھی کچھ اور توقف کرو پھر چلے جانا تو میں جواب میں کہتا تھا۔
صد ہزاراں دے دریں سودا مرا امروز شد+
نیست صبرم بعد ازیں کـ اِمروز را فردا کُنم
خواهم از سودائے پا بوشش نهم سرور جهاں
یا بپائش سر نہم یا سر در ایں سودا کنم
آرزوئے جنت المأوٰی بدر کردم زسر
جفتم این بسکه بر خاک درش مأویٰ کنم
الحمد للہ کہ کریم کارساز نے دستگیری فرمائی اور قید ایں و آں سے رہا کرکے نفس و شیطان کے ہاتھ میں سے نکالا اور اپنے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےگھر کی طرف رہنمائی فرمائی،
اب داعیہ شوق باعث ہے اس امر کا کہ جو کچھ سوانحِ سفر اور منازل و مراحل بحر و بر کا مشاہدہ اور معائنہ کروں اور جن مواضع متبرکہ اور اماکن مشترفہ کی زیارت کروں اور جن علماء اور صلحائے عصر کی ملاقات سے فائز ہوں یہ سب کوائف و حالات نیز دیگر عجائبِ حکایات اور نوادر روایات اور فوائدِ متفرقہ کہ کسی معتبر و ثقہ سے سنے یا کسی کتاب میں دیکھے ہوں ان کو قید کتابت میں لے آؤں____ غرض اس تحریر سے یہ ہے کہ اس فقیرِ ہے نام ونشان کی یہ ایک نشانی برائے یاران و عزیزان باقی رہ جائے اور ان دونوں عظیم الشان آستانوں کے شوق کی محرِّک ہو- زادهما الله شرفا و تعظیما -
اور اگر بمقتضائے بختِ ناساز اس فقیر کو ان مواطن نور و سرور (حرمین) سے دوری پیش آجائے تو ان اوراق کے مطالعہ سے ان حالات کو یاد کرکے فراق حرمین میں آہ وزاری کر لیا کرے۔
❤1
Mr Sid
اس خطرناک موقع سے ڈرتا رہ، اور اپنی آنکھ سے دوئی کا پردہ ہٹا! اب وقت یہ ہے کہ سجدہ شکر سے سر نہ اٹھاؤں، نسیم لطف کی جنبش نے میری بصیرت کے پردہ کا وہ گوشہ اُٹھا دیا تو معلوم ہوا کہ میں نے ہیچ کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور سراب کو سمندر جانا ہے، شیطان پر فرشتے…
حضرت واہب جل جلالہ سے التجا ہے کہ وہ آخر دم تک مجاورت حرم رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کا موقع عنایت فرمائے اور اگر اس کے علمِ قدیم میں اس بار وطن کی طرف رجوع کرنا مقدر ہو تو پھر دوبارہ توفیق معاودت و مجاورت مدینہ طیبہ نصیب فرمائے! وانه على كل شي قدير - وصلى الله على سيدنا ومولانا محمد و آله واصحابه وسلم تسليما كثيراـ
( ہندوستان کا سب سے پہلا سفر نامۂ حجاز، ماہ نامہ: الفرقان، لکھنؤ، ماہ: شوال1380ھ، اپریل: 1961)صفحہ: 6)
( ہندوستان کا سب سے پہلا سفر نامۂ حجاز، ماہ نامہ: الفرقان، لکھنؤ، ماہ: شوال1380ھ، اپریل: 1961)صفحہ: 6)
عبدالمجید سندھی کبوتر نما ہے
مولانا شوکت علی مرحوم لکھتے ہیں:
میری پہلی ملاقات شیخ (عبدالمجید سندھی) صاحب سے سنہ ۱۹۱۴ء میں بمبئی شہر کے تاج محل ہوٹل میں ہوئی تھی، جہاں وہ ایک نفیس، دبلے پتلے نوجوان، ہمارے پرانے ساتھی رئیس غلام محمد بھرگڑی کے پرائیویٹ سیکریٹری تھے۔ اس وقت رئیس بمبئی صوبائی کونسل کے ممبر تھے۔ بی اماں کہتی تھیں کہ بچے دو طرح کے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک: چوزہ نما اور دوسرے کبوتر نما۔ چوزہ نما شروع میں تو بہت خوبصورت اور پیارے لگتے ہیں، ان پر گوشت پوست زیادہ ہوتا ہے اور وہ موٹے اور گول مٹول ہوتے ہیں، لیکن جب وہ عمر میں آگے بڑھتے ہیں تو ان کے بال اور ان کا موٹاپا گھٹنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ دبلے اور نازک اندام ہوجاتے ہیں۔ ان کے برعکس، کبوتر نما بچے بنا بالوں کے ہوتے ہیں اور حسین بھی نہیں ہوتے۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں، وہ خوبصورت ہوتے جاتے ہیں اور مجسمِ حسن بن جاتے ہیں۔ عبدالمجید کبوتر نما ہے۔
(سندھی پبلیکیشن، شیخ عبدالمجید سندھی نمبر، فروری مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ: ۴۳/اردو پیشکش طارق علی عباسی)
مولانا شوکت علی مرحوم لکھتے ہیں:
میری پہلی ملاقات شیخ (عبدالمجید سندھی) صاحب سے سنہ ۱۹۱۴ء میں بمبئی شہر کے تاج محل ہوٹل میں ہوئی تھی، جہاں وہ ایک نفیس، دبلے پتلے نوجوان، ہمارے پرانے ساتھی رئیس غلام محمد بھرگڑی کے پرائیویٹ سیکریٹری تھے۔ اس وقت رئیس بمبئی صوبائی کونسل کے ممبر تھے۔ بی اماں کہتی تھیں کہ بچے دو طرح کے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک: چوزہ نما اور دوسرے کبوتر نما۔ چوزہ نما شروع میں تو بہت خوبصورت اور پیارے لگتے ہیں، ان پر گوشت پوست زیادہ ہوتا ہے اور وہ موٹے اور گول مٹول ہوتے ہیں، لیکن جب وہ عمر میں آگے بڑھتے ہیں تو ان کے بال اور ان کا موٹاپا گھٹنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ دبلے اور نازک اندام ہوجاتے ہیں۔ ان کے برعکس، کبوتر نما بچے بنا بالوں کے ہوتے ہیں اور حسین بھی نہیں ہوتے۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں، وہ خوبصورت ہوتے جاتے ہیں اور مجسمِ حسن بن جاتے ہیں۔ عبدالمجید کبوتر نما ہے۔
(سندھی پبلیکیشن، شیخ عبدالمجید سندھی نمبر، فروری مارچ ۱۹۷۳ء صفحہ: ۴۳/اردو پیشکش طارق علی عباسی)
Mr Sid
حضرت واہب جل جلالہ سے التجا ہے کہ وہ آخر دم تک مجاورت حرم رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کا موقع عنایت فرمائے اور اگر اس کے علمِ قدیم میں اس بار وطن کی طرف رجوع کرنا مقدر ہو تو پھر دوبارہ توفیق معاودت و مجاورت مدینہ طیبہ نصیب فرمائے! وانه على كل شي قدير - وصلى…
*منیٰ ،عرفات اور مزدلفہ میں حاضری*
✍🏻 مولانا حاجی رفیع الدین صاحب، فؔاروقی، مرادآبادیؒ
(مترجم) مولانا نسیم احمد صاحب، فؔریدیؒ
۵ ذی الحجہ ۱۲۰۱ھ کو زمزم شریف پر غسل کرکے زیر میزاب رحمت احرام باندھا، ۷ ذی الحجہ کی شب میں سعئ صفا و مروہ سے فراغت حاصل ہوئی، یوم الترویہ(۸ ذی الحجہ) میں جمعہ کے دن نماز جمعہ مسجد الحرام میں پڑھ کر منیٰ کو روانگی ہوئی، بوقت عصر منیٰ میں پہونچنا ہوا، تھوڑے سے حاجیوں کے علاوہ تمام حُجاج اسی روز عرفات کو روانہ ہو جاتے ہیں اور منیٰ کی شب گزاری (جو کہ سنت ہے) ترک کر دیتے ہیں، اؔحقر نے منیٰ میں مسجد خیف کے اندر رات گزاری،صبح کو عرفات روانہ ہوا اور بعد ادائے نماز ظہر و عصر بجمع تقدیم (در مسجد ابراہیم) متوجہ جبل رحمت ہوا اور ایک چبوترے پر متصل شام تک وقوف کیا ۔
اس وقت عجیب حال مشاہدے میں آیا کہ: جم غفیرِ صغیر کبیر، غنی و فقیر کا (جن کا شمار سوائے علیم وخبیر کوئ نہیں جانتا) اس موقف میں حاضر اور دست بہ دعا تھا،آنکھیں گریہ و زاری میں اور دل بیقراری میں تھے۔ وہ عرصہ قیامت کا ایک نمونہ تھا،اور عرفات سے مسجد الحرام کو لوٹنا اہل قیامت کا محشر سے جنت دار السلام میں لوٹنے کے مشابہ تھا۔ بعد غروب شمس عرفات سے روانہ ہو کر مزدلفہ میں رہا،مغرب کو عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھا اور یوم النحر کی چاشت میں منیٰ پہونچا ،بعد رمی و ذبح و حلق____ برائے طوافِ زیارت حرم شریف آیا، بعد از طواف ، داخلۂ خاص سے بھی مشرف ہوا ۔ اس دن شؔیبی (صاحب المفتاح) دروازۂ کعبہ کھولتے ہیں، بعض لوگوں سے حق المفتاح لیتے ہیں اور ان کو اندرون بیت اللہ پہونچاتے ہیں۔ فؔقیر ظہر و عصر مسجد الحرام میں پڑھ کر منیٰ واپس آگیا اور روز نفر ۱۲ ذی الحجہ کو بعد رمئ جمار، منیٰ سے روانہ ہوا، اور مُحَصَّب میں اس جگہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی تھی نماز عصر پڑھی،محصب میں اب ایک مسجد ہے اور صحن مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محل نزول تھا ، وہاں ایک علامت بنا دی ہے، اس جگہ نزول و توقف سنت ہے۔ نمازِ شام مسجد الحرام میں آکر پڑھی اور دو صالح آدمیوں سے بہ نیابت والدین حج کرایاـ
اور خود بھی از طرف والدین اور بعض دیگر ذوی الحقوق کی طرف سے طواف ہائے مکرر اور عمرے کیے ـ
( ہندوستان کا سب سے پہلا سفر نامۂ حجاز، بحوالہ: ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، صفحہ: 44،ماہ: شوال: 1380،اپریل: 1961)
✍🏻 مولانا حاجی رفیع الدین صاحب، فؔاروقی، مرادآبادیؒ
(مترجم) مولانا نسیم احمد صاحب، فؔریدیؒ
۵ ذی الحجہ ۱۲۰۱ھ کو زمزم شریف پر غسل کرکے زیر میزاب رحمت احرام باندھا، ۷ ذی الحجہ کی شب میں سعئ صفا و مروہ سے فراغت حاصل ہوئی، یوم الترویہ(۸ ذی الحجہ) میں جمعہ کے دن نماز جمعہ مسجد الحرام میں پڑھ کر منیٰ کو روانگی ہوئی، بوقت عصر منیٰ میں پہونچنا ہوا، تھوڑے سے حاجیوں کے علاوہ تمام حُجاج اسی روز عرفات کو روانہ ہو جاتے ہیں اور منیٰ کی شب گزاری (جو کہ سنت ہے) ترک کر دیتے ہیں، اؔحقر نے منیٰ میں مسجد خیف کے اندر رات گزاری،صبح کو عرفات روانہ ہوا اور بعد ادائے نماز ظہر و عصر بجمع تقدیم (در مسجد ابراہیم) متوجہ جبل رحمت ہوا اور ایک چبوترے پر متصل شام تک وقوف کیا ۔
اس وقت عجیب حال مشاہدے میں آیا کہ: جم غفیرِ صغیر کبیر، غنی و فقیر کا (جن کا شمار سوائے علیم وخبیر کوئ نہیں جانتا) اس موقف میں حاضر اور دست بہ دعا تھا،آنکھیں گریہ و زاری میں اور دل بیقراری میں تھے۔ وہ عرصہ قیامت کا ایک نمونہ تھا،اور عرفات سے مسجد الحرام کو لوٹنا اہل قیامت کا محشر سے جنت دار السلام میں لوٹنے کے مشابہ تھا۔ بعد غروب شمس عرفات سے روانہ ہو کر مزدلفہ میں رہا،مغرب کو عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھا اور یوم النحر کی چاشت میں منیٰ پہونچا ،بعد رمی و ذبح و حلق____ برائے طوافِ زیارت حرم شریف آیا، بعد از طواف ، داخلۂ خاص سے بھی مشرف ہوا ۔ اس دن شؔیبی (صاحب المفتاح) دروازۂ کعبہ کھولتے ہیں، بعض لوگوں سے حق المفتاح لیتے ہیں اور ان کو اندرون بیت اللہ پہونچاتے ہیں۔ فؔقیر ظہر و عصر مسجد الحرام میں پڑھ کر منیٰ واپس آگیا اور روز نفر ۱۲ ذی الحجہ کو بعد رمئ جمار، منیٰ سے روانہ ہوا، اور مُحَصَّب میں اس جگہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی تھی نماز عصر پڑھی،محصب میں اب ایک مسجد ہے اور صحن مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محل نزول تھا ، وہاں ایک علامت بنا دی ہے، اس جگہ نزول و توقف سنت ہے۔ نمازِ شام مسجد الحرام میں آکر پڑھی اور دو صالح آدمیوں سے بہ نیابت والدین حج کرایاـ
اور خود بھی از طرف والدین اور بعض دیگر ذوی الحقوق کی طرف سے طواف ہائے مکرر اور عمرے کیے ـ
( ہندوستان کا سب سے پہلا سفر نامۂ حجاز، بحوالہ: ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، صفحہ: 44،ماہ: شوال: 1380،اپریل: 1961)
❤2
وفیات مورخہ: 26/مئی
1702ء زیب النساء۔ دختر اورنگ زیب عالمگیر، شاعرہ
1883ء عبد القادر الجزائری۔ امیر، مجاہد جنگ آزادی الجزائر
1890ء نواب صدیق حسن خان۔ مفسر، محدث ، مصنف
1908ء مرزا غلام احمد قادیانی۔ متنبی گذاب
1927ء گرامی ( شیخ غلام قادر گرامی)۔ فارسی شاعر
1955ء محمد ناظم۔ ڈاکٹر ،
1978ء احمد ولی الدین۔ ،
1980ء غلام اللہ خان۔ شیخ القرآن، مولانا
1990ء عشرت علی۔ دادا ،
1998ء سردار محمد خان۔ فرہنگ نویس
2006ء ریاض الحق ریاض۔ ،
2006ء محمد عمر الداعوق۔ لبنانی داعی، بانی جماعۃ عباد الرحمن
2009ء سید ممتاز سعید۔ ،
2009ء محمد سرور۔ ڈاکٹر ،
2013ء محمد اصفہانی۔ مرزا ،
2015ء حیات نظامی۔ ،
2021ء خالد سعید۔
2021ء مفتی عبدالرزاق خان۔ مولانا مفتی بھوپال
https://telegram.me/ilmokitab
1702ء زیب النساء۔ دختر اورنگ زیب عالمگیر، شاعرہ
1883ء عبد القادر الجزائری۔ امیر، مجاہد جنگ آزادی الجزائر
1890ء نواب صدیق حسن خان۔ مفسر، محدث ، مصنف
1908ء مرزا غلام احمد قادیانی۔ متنبی گذاب
1927ء گرامی ( شیخ غلام قادر گرامی)۔ فارسی شاعر
1955ء محمد ناظم۔ ڈاکٹر ،
1978ء احمد ولی الدین۔ ،
1980ء غلام اللہ خان۔ شیخ القرآن، مولانا
1990ء عشرت علی۔ دادا ،
1998ء سردار محمد خان۔ فرہنگ نویس
2006ء ریاض الحق ریاض۔ ،
2006ء محمد عمر الداعوق۔ لبنانی داعی، بانی جماعۃ عباد الرحمن
2009ء سید ممتاز سعید۔ ،
2009ء محمد سرور۔ ڈاکٹر ،
2013ء محمد اصفہانی۔ مرزا ،
2015ء حیات نظامی۔ ،
2021ء خالد سعید۔
2021ء مفتی عبدالرزاق خان۔ مولانا مفتی بھوپال
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
آفتاب غروب ہوا، قرینۂ وثوق میں دل کہتا ہے کہ: آج خاکیوں کی رسائی افلاکیوں تک ہوگئی ہوگی،ان ساکنان خطۂ خاک پر کروبیوں اور آسمانی مخلوق رشک کرتے ہوں گے،ان کی زبانوں پر آبشاری نغمے، بدن پر آبی قطرات،آنکھوں سے برستے محسوسات،قلوب میں امڈتے جذبات،اوج فلک تک پہونچنے والی سسکیوں،چٹانوں کو چٹخادینے والے غلغلے،زلزلہ انگیز آہ و بکاء،تضرع و ابتہال، عاجزی و گریہ وزاری،تپتی سنگی سلوں پر بیٹھ کر عمرِ رفتہ کی خطاؤں پر توبہ و انابت،اقرارِ جرم، اشکہائے ندامت پر رحمت ربانی سایہ فگن ہوگئی ہوگی،خاک خشک نمناک مٹی سے بدل گئی ہوگی،دخول جنت بریں کا پروانہ واھب العطایا نے مرحمت فرمادیا ہوگاـ
حج مبارک!ے آہوان حرم
حج مبارک!ے آہوان حرم
❤2
*نہ کچھ کام آئے جناب منیری*
*(بھٹکل کے الحاج محی الدین منیری مرحوم کے عازمین حج بیت اللہ کی خدمت سے وابستہ چند واقعات۔ مولانا عبد المتین منیری)*
*شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا جب بھی حج کا سفرہوتا۔ صابو صدیق مسافر خانہ ضرور تشریف لاتے ، میری ان سے ملاقاتیں رہتیں ، ان کی مجالس میں اٹھنا بیٹھنا ہوتا۔ آپ کے ایک خلیفہ تھے مولانا عبدالمنان صاحب۔ دہلی میں کوئی دینی مدرسہ چلاتے تھے۔ ایک مرتبہ جب حضرت مدنی ؒ سفرِ حج پر جانے لگے تو انہیں بھی حضرت کی معیت میں سفر کا شوق چراّیا۔ ان کی زبان میں بڑی روانی تھی ، عربی اور اردو دونوں زبانوں میں یہ شعر کہتے تھے۔ ایسا چرب زبان شخص اپنی عمر میں میں نے کم ہی دیکھا ہے۔ انہوں نے جہاز کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلے تھے*
مزید پڑھیے اس لنک پر
https://links.fikrokhabar.com/1e7311a9
*(بھٹکل کے الحاج محی الدین منیری مرحوم کے عازمین حج بیت اللہ کی خدمت سے وابستہ چند واقعات۔ مولانا عبد المتین منیری)*
*شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا جب بھی حج کا سفرہوتا۔ صابو صدیق مسافر خانہ ضرور تشریف لاتے ، میری ان سے ملاقاتیں رہتیں ، ان کی مجالس میں اٹھنا بیٹھنا ہوتا۔ آپ کے ایک خلیفہ تھے مولانا عبدالمنان صاحب۔ دہلی میں کوئی دینی مدرسہ چلاتے تھے۔ ایک مرتبہ جب حضرت مدنی ؒ سفرِ حج پر جانے لگے تو انہیں بھی حضرت کی معیت میں سفر کا شوق چراّیا۔ ان کی زبان میں بڑی روانی تھی ، عربی اور اردو دونوں زبانوں میں یہ شعر کہتے تھے۔ ایسا چرب زبان شخص اپنی عمر میں میں نے کم ہی دیکھا ہے۔ انہوں نے جہاز کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلے تھے*
مزید پڑھیے اس لنک پر
https://links.fikrokhabar.com/1e7311a9
فکرو خبر نیوز
نہ کچھ کام آئے جناب منیری (بھٹکل کے الحاج
شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا جب بھی حج کا سفرہوتا۔ صابو صدیق مسافر خانہ ضرور تشریف لاتے ، میری ان سے ملاقاتیں رہتیں ، ان کی مجالس میں اٹھنا بیٹھنا ہوتا۔ آپ کے ایک خلیفہ
شیخ محمد عمر الداعوق ۔ لبنان میں اولین اسلامی تحریک کے بانی
تحریر : عبد المتین منیری
) تاریخ وفات 26 / مئی کی مناسبت سے ایک تحریر(
1979ء میں جب تلاش معاش کے لئے پہلے پہل دبی جانا ہوا تو دو ماہ بعد غالبا جولائی پندرھویں تھی، ہمارا وزارۃ العدل والشؤون الاسلامیہ والاوقاف کے آفس پہلی مرتبہ جانا ہوا تھا، اس زمانے میں متحدہ عرب امارات کی وزارتوں کے آفس بور سعید میں جہاں جامع بور سعید واقع ہے اس کے قبلہ رخ پرسات منزلہ دو لمبی رہائشی ٹائپ کی دو عمارتوں میں ہوا کرتے تھے، ان میں سے ہر دو عمارت میں کوئی چھ بلاک ہوا کرتے تھے، اس عمارت کو اس زمانے میں مبنی الوزارات کہا جاتا تھا۔ وزارۃ الھجرۃ والجوازات، وزارۃ العمل والشؤون الاجتماعیۃ، وزارۃ الاشغال، وزارۃ الاعلام، وزارۃ التربیۃ والتعلیم سب یہیں پر واقع تھیں،دائیں جانب کے پہلے بلاک کی دو منزلوں میں وزارۃ الھجرۃ تھی، تو اس سے اوپر تیسری اور چوتھی منزل میں وزارۃ الاوقاف تھی ، جہاں وزیر کا آفس تھا، اسی کو لگ کر نماز کے لئے ایک ہال تھا۔یہیں پر پہلی مرتبہ ظہر کی نماز میں امامت کرتے شیخ محمد عمر الداعوق کو ہم نے دیکھا تھا، گورا چٹھا رنگ، طویل قامت، ڈاڑھی اور بڑے سلیقے سے کٹے ہوئے، سفید عربی لباس، جس میں کہیں کوئی سلوٹ نظر نہیں آتی تھی ۔ نماز کے بعد مختصر درس ہوا، جو بڑے سہل اور آسان اور محبت بھرے انداز میں تھا، زندگی میں کئی ساری بڑی بڑی اور اہم شخصیات کو دیکھنا نصیب ہوا، لیکن ایسی نستعلیق خوبصورت جاذب نظر اور دل کو چھو لینے والی شخصیت شاذو نادر ہی دیکھنے کو ملی۔ اس زمانے میں آپ وزارۃالاوقاف میں بحیثیت واعظ فرائض انجام دیتے تھے، دبی کا ٹیلی ویژن صبح کا پروگرام تلاوت کے بعد آپ کے درس سے شروع ہوتا تھا۔ اور شیخ صاحب کی شخصیت عرب خاص وعام میں بڑی چہیتی بن گئی تھی، اس روز کے بعد سنہ ۱۹۹۹ء تک تقریبا روزانہ آپ کے پیچھے نماز ظہر پڑھنے کا موقعہ نصیب ہوا، اس دوران آپ کی شخصیت کو قریب سے جاننے کا موقعہ ملا۔
ہم نے دیکھا کہ اگر وہ چاہتے تو ان پر ہن برس سکتا تھا، بانی امارات شیخ زاید رحمۃ اللہ کے کئی ایک بچوں کے آپ اتالیق رہےتھے ، ریڈیو اور ٹی وی سے ان کی ماہانہ لاکھوں کی آمدنی ہوسکتی تھی، وہ ماذون شرعی تھی، نکاح پڑھوانے سے بھی بہت ساری آمدنی ممکن تھی، لیکن ان ذرائع آمدنی کو انہوں نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا، نکاح پڑھوانے کا اجازت نامہ انہوں نے نوجوان شیخ مالک الشعار کو سونپ دیا، جو طرابلس ، لبنان سے تعلق رکھتے تھے،اور اوقاف میں ایک طویل عرصہ تک ہمارے ساتھ رہے تھے، پھر اپنے وطن میں منصب قضاء پر فائز رہے، وہاں دینی وا صلاحی میدانوں میں بڑی خدمت کی۔ شیخ صاحب کے پیچھے ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کا تانتا لگا رہتا تھا، ان کے ہاتھ قرض خواہوں کے لئے ہمیشہ کشادہ رہتے تھے، اس کے لئے انہوں نے ایک اقرار نامہ بنایا تھا، جس پر قرض خواہ اور دو گواہوں کے دستخط ہوتے تھے۔ اس طرح وہ قرض دینے کے لئے قرآن کے احکامات کی اتباع کرتے تھے، وزارت میں مصلی سے متصل ایک کمرہ تھا، جس میں وہ زیادہ تر آرام کرتے تھے،اس کمرہ کو انہوں نے عجوبہ روزگار بنا دیا تھا۔ بغیر بجلی روازہ کھلنے اور دوسری ضروریات پوری ہونے کا آٹو میٹنک نظام بنادیا تھا۔
شیخ داعوق کی پیدا ئش سنہ 1910ء میں بیروت کے ایک معروف خاندان میں ہوئی تھی، یہ خاندان اندلس اور مراکش سے ہجرت کرتا ہوا،لبنان تک پہنچا تھا۔ آپ کے جد امجد نے وسط بیروت میں زاویۃ المغاربۃ ( مراکشی خانقاہ) کی تعمیر میں حصہ لیا تھا، آپ کے خاندان میں کئی بڑے سیاست دان اور تاجر پیدا ہوئے، ان میں انیسویں صدی کے عثمانی دور کے احمد الداعوق ہیں، جو بازار باشی کے لقب سے معروف ہوئے۔ 1918ء میں لبنان سے عثمانیوں کے نکل جانے کے بعد عمرمحمد الداعوق بیروت کے میئر اور جمعٰیۃ المقاصد الخیریۃ کے صدر بنے، اسی طرح فرانسیسی دور میں احمد الداعوق ، وزیر اعظم بنے۔
تعلیم : مکتبی تعلیم کے بعد آپ نے ٹیکنکل تعلیم حاصل کی، اور مدرسۃ الصنائع المھنیہ سے ڈگری حاصل کی۔ اور انجینیر محمد الداعوق کے نام سے جانے پہچانے لگے۔ دینی تعلیم کے لئے آپ نے شیخ سعدی یاسین الصباغ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ اور خود سے مطالعہ کرکے بھی اپنی دینی تعلیمی پیاس بجھائی۔
اس وقت فلسطین انگریزی تسلط میں آگیا تھا، اور وہاں کاریگروں کی بڑی مانگ ہوگئی تھی، تو آپ نے وہاں پر لیتھ مشین کا ایک جدید کارخانہ قائم کیا، آپ کا وہاں کاروں کی ریپیرنگ کا ایک گیریج بھی تھا۔ لیکن جب 1947ء میں فلسطین پر افتاد پڑی، اور تباہی وبربادی کے بادل منڈلانے لگے تو آپ اسے چھوڑ چھاڑ کر لبنان واپس آگئے۔ یہاں آپ نے دعوتی اور اصلاحی سرگرمیوں کا آغاز کردیا،
دعوت و تبلیغ:
تحریر : عبد المتین منیری
) تاریخ وفات 26 / مئی کی مناسبت سے ایک تحریر(
1979ء میں جب تلاش معاش کے لئے پہلے پہل دبی جانا ہوا تو دو ماہ بعد غالبا جولائی پندرھویں تھی، ہمارا وزارۃ العدل والشؤون الاسلامیہ والاوقاف کے آفس پہلی مرتبہ جانا ہوا تھا، اس زمانے میں متحدہ عرب امارات کی وزارتوں کے آفس بور سعید میں جہاں جامع بور سعید واقع ہے اس کے قبلہ رخ پرسات منزلہ دو لمبی رہائشی ٹائپ کی دو عمارتوں میں ہوا کرتے تھے، ان میں سے ہر دو عمارت میں کوئی چھ بلاک ہوا کرتے تھے، اس عمارت کو اس زمانے میں مبنی الوزارات کہا جاتا تھا۔ وزارۃ الھجرۃ والجوازات، وزارۃ العمل والشؤون الاجتماعیۃ، وزارۃ الاشغال، وزارۃ الاعلام، وزارۃ التربیۃ والتعلیم سب یہیں پر واقع تھیں،دائیں جانب کے پہلے بلاک کی دو منزلوں میں وزارۃ الھجرۃ تھی، تو اس سے اوپر تیسری اور چوتھی منزل میں وزارۃ الاوقاف تھی ، جہاں وزیر کا آفس تھا، اسی کو لگ کر نماز کے لئے ایک ہال تھا۔یہیں پر پہلی مرتبہ ظہر کی نماز میں امامت کرتے شیخ محمد عمر الداعوق کو ہم نے دیکھا تھا، گورا چٹھا رنگ، طویل قامت، ڈاڑھی اور بڑے سلیقے سے کٹے ہوئے، سفید عربی لباس، جس میں کہیں کوئی سلوٹ نظر نہیں آتی تھی ۔ نماز کے بعد مختصر درس ہوا، جو بڑے سہل اور آسان اور محبت بھرے انداز میں تھا، زندگی میں کئی ساری بڑی بڑی اور اہم شخصیات کو دیکھنا نصیب ہوا، لیکن ایسی نستعلیق خوبصورت جاذب نظر اور دل کو چھو لینے والی شخصیت شاذو نادر ہی دیکھنے کو ملی۔ اس زمانے میں آپ وزارۃالاوقاف میں بحیثیت واعظ فرائض انجام دیتے تھے، دبی کا ٹیلی ویژن صبح کا پروگرام تلاوت کے بعد آپ کے درس سے شروع ہوتا تھا۔ اور شیخ صاحب کی شخصیت عرب خاص وعام میں بڑی چہیتی بن گئی تھی، اس روز کے بعد سنہ ۱۹۹۹ء تک تقریبا روزانہ آپ کے پیچھے نماز ظہر پڑھنے کا موقعہ نصیب ہوا، اس دوران آپ کی شخصیت کو قریب سے جاننے کا موقعہ ملا۔
ہم نے دیکھا کہ اگر وہ چاہتے تو ان پر ہن برس سکتا تھا، بانی امارات شیخ زاید رحمۃ اللہ کے کئی ایک بچوں کے آپ اتالیق رہےتھے ، ریڈیو اور ٹی وی سے ان کی ماہانہ لاکھوں کی آمدنی ہوسکتی تھی، وہ ماذون شرعی تھی، نکاح پڑھوانے سے بھی بہت ساری آمدنی ممکن تھی، لیکن ان ذرائع آمدنی کو انہوں نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا، نکاح پڑھوانے کا اجازت نامہ انہوں نے نوجوان شیخ مالک الشعار کو سونپ دیا، جو طرابلس ، لبنان سے تعلق رکھتے تھے،اور اوقاف میں ایک طویل عرصہ تک ہمارے ساتھ رہے تھے، پھر اپنے وطن میں منصب قضاء پر فائز رہے، وہاں دینی وا صلاحی میدانوں میں بڑی خدمت کی۔ شیخ صاحب کے پیچھے ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کا تانتا لگا رہتا تھا، ان کے ہاتھ قرض خواہوں کے لئے ہمیشہ کشادہ رہتے تھے، اس کے لئے انہوں نے ایک اقرار نامہ بنایا تھا، جس پر قرض خواہ اور دو گواہوں کے دستخط ہوتے تھے۔ اس طرح وہ قرض دینے کے لئے قرآن کے احکامات کی اتباع کرتے تھے، وزارت میں مصلی سے متصل ایک کمرہ تھا، جس میں وہ زیادہ تر آرام کرتے تھے،اس کمرہ کو انہوں نے عجوبہ روزگار بنا دیا تھا۔ بغیر بجلی روازہ کھلنے اور دوسری ضروریات پوری ہونے کا آٹو میٹنک نظام بنادیا تھا۔
شیخ داعوق کی پیدا ئش سنہ 1910ء میں بیروت کے ایک معروف خاندان میں ہوئی تھی، یہ خاندان اندلس اور مراکش سے ہجرت کرتا ہوا،لبنان تک پہنچا تھا۔ آپ کے جد امجد نے وسط بیروت میں زاویۃ المغاربۃ ( مراکشی خانقاہ) کی تعمیر میں حصہ لیا تھا، آپ کے خاندان میں کئی بڑے سیاست دان اور تاجر پیدا ہوئے، ان میں انیسویں صدی کے عثمانی دور کے احمد الداعوق ہیں، جو بازار باشی کے لقب سے معروف ہوئے۔ 1918ء میں لبنان سے عثمانیوں کے نکل جانے کے بعد عمرمحمد الداعوق بیروت کے میئر اور جمعٰیۃ المقاصد الخیریۃ کے صدر بنے، اسی طرح فرانسیسی دور میں احمد الداعوق ، وزیر اعظم بنے۔
تعلیم : مکتبی تعلیم کے بعد آپ نے ٹیکنکل تعلیم حاصل کی، اور مدرسۃ الصنائع المھنیہ سے ڈگری حاصل کی۔ اور انجینیر محمد الداعوق کے نام سے جانے پہچانے لگے۔ دینی تعلیم کے لئے آپ نے شیخ سعدی یاسین الصباغ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ اور خود سے مطالعہ کرکے بھی اپنی دینی تعلیمی پیاس بجھائی۔
اس وقت فلسطین انگریزی تسلط میں آگیا تھا، اور وہاں کاریگروں کی بڑی مانگ ہوگئی تھی، تو آپ نے وہاں پر لیتھ مشین کا ایک جدید کارخانہ قائم کیا، آپ کا وہاں کاروں کی ریپیرنگ کا ایک گیریج بھی تھا۔ لیکن جب 1947ء میں فلسطین پر افتاد پڑی، اور تباہی وبربادی کے بادل منڈلانے لگے تو آپ اسے چھوڑ چھاڑ کر لبنان واپس آگئے۔ یہاں آپ نے دعوتی اور اصلاحی سرگرمیوں کا آغاز کردیا،
دعوت و تبلیغ:
بیروت واپسی پر آپ نے اپنی دعوتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے لوگوں سے گفتگو شروع کی، انہیں اللہ کی اطاعت اور دین کی طرف لوٹنے کی ترغیب دی، اور انہیں آپس میں اتحاد و یکجہتی کی دعوت دی تاکہ ان کا وہ حشر نہ ہو جو فلسطین کے لوگوں کا ہوا تھا۔ وہ دعوت کے لیے ہر موقع، ہر منبر اور ہر فورم کا استعمال کرتے تھے۔
بیروت کے علاقے "طریق الجدیدة" میں واقع مسجد امام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور تجارتی مرکز (ڈاؤن ٹاؤن) میں واقع "المسجد العمری" میں ان کے باقاعدہ دروس ہوا کرتے تھے۔
لبنان میں "جماعتِ عباد الرحمن" کا قیام:
جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ ان کی دعوت کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور مثبت ردعمل دے رہے ہیں، تو انہوں نے بیروت میں اپنے بھائیوں کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر ایک جماعت قائم کرنے کا سوچا، اور یوں "جماعت عباد الرحمن" کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اچھے اخلاق کو پھیلانا اور نوجوانوں کی تربیت کرنا تھا۔ سنہ 1951ء میں انہوں نے حکومت سے اس کا باقاعدہ لائسنس حاصل کیا اور "البسطة الفوقا" کے علاقے میں اس کا مرکز کھولا، اور یوں آپ لبنان میں "جماعت عباد الرحمن" کے قائد اور روحِ رواں بن گئے۔
اس وقت سے جماعت کے نوجوانوں نے بیروت اور دیگر شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں پھیلنا شروع کر دیا، وہ لوگوں میں خطابات کرتے، انہیں اللہ کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے، اور انہیں ہر ممکن سماجی خدمات اور مدد فراہم کرتے۔
ساٹھ کی دہائی میں، نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر، انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار چھوڑ دیا اور خود کو مکمل طور پر دعوت کے لیے وقف کر دیا۔
اس مرحلے پر ان کی سرگرمیاں کئی گنا بڑھ گئیں؛ جیسے مساجد میں خطبے دینا، فورمز اور ریڈیو پر گفتگو کرنا، رسالوں کے لیے لکھنا، اور کھیلوں کے دورے اور اسکاؤٹ کیمپوں کا انعقاد کرنا۔
شیخ محمد عمر الداعوق منظم جماعت قائم رکرکے دعوتی و تحریکی کام کا آغاز کرنےو الے لبنان کے پہلے داعی تھے، ابھی لبنان میں اخوان کی تحریک کا آغاز نہیں ہوا تھا، شیخ کی دعوت کا میدان اصلاح معاشرہ اور دعوت دین تک محدود تھا، آپ کو سیاسی کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس زمانے میں تونس ، الجزائر، یمن ، مصر وغیرہ دنیا بھر کی تحریکی ودینی شخصیات لبنان میں آپ ہی کی مہمان ہوتی تھی، ان میں سے ایک ہم مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ کی شخصیت بھی تھی جنہوں نے اپنے سفرنامے شرق اوسط کی ڈائری میں اپریل 1956ء میں لبنان میں آپ کی شخصیت کے بارے میں یوں تاثرات بیان کئے ہیں۔
ایک پیکر دعوت شخصیت شیخ ابوعمر لبنانی: کچھ تعارف
بیروت کے علاقے "طریق الجدیدة" میں واقع مسجد امام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور تجارتی مرکز (ڈاؤن ٹاؤن) میں واقع "المسجد العمری" میں ان کے باقاعدہ دروس ہوا کرتے تھے۔
لبنان میں "جماعتِ عباد الرحمن" کا قیام:
جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ ان کی دعوت کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور مثبت ردعمل دے رہے ہیں، تو انہوں نے بیروت میں اپنے بھائیوں کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر ایک جماعت قائم کرنے کا سوچا، اور یوں "جماعت عباد الرحمن" کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اچھے اخلاق کو پھیلانا اور نوجوانوں کی تربیت کرنا تھا۔ سنہ 1951ء میں انہوں نے حکومت سے اس کا باقاعدہ لائسنس حاصل کیا اور "البسطة الفوقا" کے علاقے میں اس کا مرکز کھولا، اور یوں آپ لبنان میں "جماعت عباد الرحمن" کے قائد اور روحِ رواں بن گئے۔
اس وقت سے جماعت کے نوجوانوں نے بیروت اور دیگر شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں پھیلنا شروع کر دیا، وہ لوگوں میں خطابات کرتے، انہیں اللہ کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے، اور انہیں ہر ممکن سماجی خدمات اور مدد فراہم کرتے۔
ساٹھ کی دہائی میں، نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر، انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار چھوڑ دیا اور خود کو مکمل طور پر دعوت کے لیے وقف کر دیا۔
اس مرحلے پر ان کی سرگرمیاں کئی گنا بڑھ گئیں؛ جیسے مساجد میں خطبے دینا، فورمز اور ریڈیو پر گفتگو کرنا، رسالوں کے لیے لکھنا، اور کھیلوں کے دورے اور اسکاؤٹ کیمپوں کا انعقاد کرنا۔
شیخ محمد عمر الداعوق منظم جماعت قائم رکرکے دعوتی و تحریکی کام کا آغاز کرنےو الے لبنان کے پہلے داعی تھے، ابھی لبنان میں اخوان کی تحریک کا آغاز نہیں ہوا تھا، شیخ کی دعوت کا میدان اصلاح معاشرہ اور دعوت دین تک محدود تھا، آپ کو سیاسی کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس زمانے میں تونس ، الجزائر، یمن ، مصر وغیرہ دنیا بھر کی تحریکی ودینی شخصیات لبنان میں آپ ہی کی مہمان ہوتی تھی، ان میں سے ایک ہم مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ کی شخصیت بھی تھی جنہوں نے اپنے سفرنامے شرق اوسط کی ڈائری میں اپریل 1956ء میں لبنان میں آپ کی شخصیت کے بارے میں یوں تاثرات بیان کئے ہیں۔
ایک پیکر دعوت شخصیت شیخ ابوعمر لبنانی: کچھ تعارف
اب کچھ ابوعمر کے بارے میں بھی سنتے چلے۔ ابوعمر لبنان کے وہ مخلص داعی ہیں جس نے دعوت اسلامی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے، وہ پیکر دعوت ہیں، ہمہ وقت یہی فکر ان پر غالب رہتی ہے۔ پیکر دعوت کہہ کر میں نے سب کچھ کہہ دیا۔ لبنان وہ شہر ہے جس کو بعض اہل نظر (لبنانی دوستوں سے معذرت کے ساتھ) مشرق عربی میں فحاشی کا اڈہ کہتے ہیں، لبنان ہی وہ شہر ہے جس کو مغرب نے اپنے زہر و غلاظت کو بلاد عربیہ میں پھیلانے کا مرکز بنایا ہے، یہاں دعوت اسلامی استقامت و حسن اخلاق کی کتنی شدید ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعوت کو پھیلانے نو جوانوں کی تربیت ان کا ذہن بنانے اور یہاں کے فساد و بگاڑ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ایسے شخص کو منتخب فرمایا جو نہ عالم ہے نہ دینی ماحول کا پروردہ، وہ ایک ماہر میکا نک انجینیر ہے جو ایک بڑی کمپنی میں کام کرتا ہے، اس مرد صالح کو لوگ عمر داعوق کے نام سے یاد کرتے ہیں ، داعوق لبنان کا ایک خوشحال مسلم گھرانہ ہے، دعوت کے اس عظیم کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک انجینیر کو منتخب فرمایا کسی عالم کو نہیں ” ﴿وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ﴾ “ (تمہارا رب جو چاہے پیدا کرتا ہے اور منتخب فرماتا ہے) ” ﴿لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ “ ”وہ جو کچھ بھی کرے اس کا کوئی محاسبہ نہیں کرسکتا اس کے ماسوا سے محاسبہ ہوگا ، استاذ ابوعمر ہم کو اپنے گھر لے گئے وہیں عشاء پڑھی اور رات کا کھانا بھی کھایا۔ ہم ”جماعۃ عباد الرحمن“ کی عملی سرگرمی ورزشی مشقوں اور ان کے کیمپوں کی تصویروں سے باخبر ہوئے ، میں نے سمندر میں ان کے فن پیراکی و جمپنگ کو دیکھا، دوڑنے اور ہائی جمپ اور دیگر قسم قسم کی ورزشوں اور اسکاوٹنگ کو دیکھا جو ہمت و خطر پسندی اور نظم و ڈسپلن میں کسی بڑی سے بڑی اسکاوٹنگ تنظیم سے کم نہیں۔ یہ سب کچھ نماز باجماعت کی پابندی اور اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی اور کیمپوں میں دینی درس و مقالات کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ اس سرگرمی میں شرکت کرنے اور کیمپوں میں وقت گزارنے والے نوجوانوں کی تعداد کبھی کبھی پانچ سو تک پہونچ جاتی ہے، اس جماعت کی اپنی مخصوص موٹریں ہیں جو اس کے اراکین کو ان مقامات پر جہاں کیمپ لگتا ہے پہنچاتی ہیں۔ ہم نے جو کچھ دیکھا سنا اس سے مسرور و شادماں ہوٹل واپس آئے اور پورا دن بلکہ رات کا بھی کچھ حصہ چلنے پھرنے اور ملاقات میں گزارنے کے بعد اطمینان کی رات گزاری۔
اس مرحلے پر ان کی سرگرمیاں کئی گنا بڑھ گئیں؛ جیسے مساجد میں خطبے دینا، فورمز اور ریڈیو پر گفتگو کرنا، رسالوں کے لیے لکھنا، اور کھیلوں کے دورے اور اسکاؤٹ کیمپوں کا انعقاد کرنا۔
شيخ اسماعیل بن سعد بن اسماعیل العتیق کہتے ہیں: "شیخ فتحی یکن، بیروت میں شیخ عمر الداعوق کی سربراہی میں کام کرنے والے 'عباد الرحمن' گروپ کا حصہ تھے۔ شیخ عمر الداعوق، جیسا کہ وہ خود اپنے بارے میں بتاتے تھے، روایتی معنی میں بڑے عالم دین نہیں تھے، بلکہ وہ حکمرانوں اور امراء سے مدد لے کر اسلام کی خدمت کرنے کا رجحان رکھتے تھے۔ انہوں نے شاہ سعود (رحمہ اللہ) سے اپنے اور اپنی جماعت کے لیے ایک مسجد اور ایک مرکز بنانے کی درخواست کی، جس کے ذریعے وہ خواتین کی کچھ سرگرمیاں چلا سکیں۔ بادشاہ نے مسجد اور مرکز بنا کر 'عباد الرحمن' گروپ کی مدد کرنے کی منظوری دے دی۔ اس بات پر سیاسی سوچ رکھنے والے نوجوانوں کا شیخ عمر الداعوق سے اختلاف ہو گیا، کیونکہ وہ بادشاہوں سے مدد لینے کو اپنے کام کو قابو کرنے کی کوشش سمجھتے تھے۔ چنانچہ شیخ فتحی یکن کی سربراہی میں 'جمعية الأخلاق' (اخلاق سوسائٹی) بنی جو بعد میں 'الجماعة الإسلامية' (اسلامک گروپ) کے نام میں تبدیل ہو گئی اور انہوں نے 'الشہاب' کے نام سے ایک سیاسی اخبار بھی نکالا۔"
اس نئی جماعت کی سرگرمیاں صیدا اور طرابلس تک پھیل گئیں۔ پھر داعیوں کے ایک گروپ (جن میں فتحی یکن اور ابراہیم المصری شامل تھے) نے محسوس کیا کہ اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے، چنانچہ "الجماعت الاسلامیہ" طرابلس میں عام اسلامی سیاسی عمل کی طرف مائل ہو گئی۔
آپ کی جماعت عباد الرحمن کی سرگرمیوں کے محدود ہونے اور اس کی جگہ دوسری جماعتوں کے لینے کا یہ بھی سبب بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بیروت میں 1948ء میں اسرائیل کے ہاتھوں مسلمانوں کی شکست کے بعد، "جماعت عباد الرحمن" کی بنیاد رکھی تھی ۔ اور 1951ء میں انہوں نے جماعت عباد الرحمن کی طرف سے لبنانی کتائب پارٹی کے سربراہ پیار الجمیل (Pierre Gemayel) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کی رو سے اخلاقی اقدار و اصولوں کی ترویج اور لبنان پر بیرونی جارحیت کو روکنے کے لیے مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین تعاون طے پایا تھا۔ اس معاہدے کو اسلامی اور عیسائی دونوں حلقوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور اس کے نتیجے میں ان کی تحریک کی مقبولیت اور پھیلاؤ میں کمی آ گئی۔
خلیج کی طرف ہجرت:
اس مرحلے پر ان کی سرگرمیاں کئی گنا بڑھ گئیں؛ جیسے مساجد میں خطبے دینا، فورمز اور ریڈیو پر گفتگو کرنا، رسالوں کے لیے لکھنا، اور کھیلوں کے دورے اور اسکاؤٹ کیمپوں کا انعقاد کرنا۔
شيخ اسماعیل بن سعد بن اسماعیل العتیق کہتے ہیں: "شیخ فتحی یکن، بیروت میں شیخ عمر الداعوق کی سربراہی میں کام کرنے والے 'عباد الرحمن' گروپ کا حصہ تھے۔ شیخ عمر الداعوق، جیسا کہ وہ خود اپنے بارے میں بتاتے تھے، روایتی معنی میں بڑے عالم دین نہیں تھے، بلکہ وہ حکمرانوں اور امراء سے مدد لے کر اسلام کی خدمت کرنے کا رجحان رکھتے تھے۔ انہوں نے شاہ سعود (رحمہ اللہ) سے اپنے اور اپنی جماعت کے لیے ایک مسجد اور ایک مرکز بنانے کی درخواست کی، جس کے ذریعے وہ خواتین کی کچھ سرگرمیاں چلا سکیں۔ بادشاہ نے مسجد اور مرکز بنا کر 'عباد الرحمن' گروپ کی مدد کرنے کی منظوری دے دی۔ اس بات پر سیاسی سوچ رکھنے والے نوجوانوں کا شیخ عمر الداعوق سے اختلاف ہو گیا، کیونکہ وہ بادشاہوں سے مدد لینے کو اپنے کام کو قابو کرنے کی کوشش سمجھتے تھے۔ چنانچہ شیخ فتحی یکن کی سربراہی میں 'جمعية الأخلاق' (اخلاق سوسائٹی) بنی جو بعد میں 'الجماعة الإسلامية' (اسلامک گروپ) کے نام میں تبدیل ہو گئی اور انہوں نے 'الشہاب' کے نام سے ایک سیاسی اخبار بھی نکالا۔"
اس نئی جماعت کی سرگرمیاں صیدا اور طرابلس تک پھیل گئیں۔ پھر داعیوں کے ایک گروپ (جن میں فتحی یکن اور ابراہیم المصری شامل تھے) نے محسوس کیا کہ اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے، چنانچہ "الجماعت الاسلامیہ" طرابلس میں عام اسلامی سیاسی عمل کی طرف مائل ہو گئی۔
آپ کی جماعت عباد الرحمن کی سرگرمیوں کے محدود ہونے اور اس کی جگہ دوسری جماعتوں کے لینے کا یہ بھی سبب بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بیروت میں 1948ء میں اسرائیل کے ہاتھوں مسلمانوں کی شکست کے بعد، "جماعت عباد الرحمن" کی بنیاد رکھی تھی ۔ اور 1951ء میں انہوں نے جماعت عباد الرحمن کی طرف سے لبنانی کتائب پارٹی کے سربراہ پیار الجمیل (Pierre Gemayel) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کی رو سے اخلاقی اقدار و اصولوں کی ترویج اور لبنان پر بیرونی جارحیت کو روکنے کے لیے مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین تعاون طے پایا تھا۔ اس معاہدے کو اسلامی اور عیسائی دونوں حلقوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور اس کے نتیجے میں ان کی تحریک کی مقبولیت اور پھیلاؤ میں کمی آ گئی۔
خلیج کی طرف ہجرت: